TheShia

الصحيفة السجادية - 42

Sahifa Sajjadiya 42: Upon Completing a Reading of the Qur'an

1 بند ماخذ: Sahifa al-Sajjadiya

یہ ترجمہ مشینی معاونت سے ہوا اور علمی نظرثانی کا منتظر ہے۔ اوپر کا عربی متن ہی معتبر ہے۔

اس متن کا مکمل تر نسخہ دستیاب ہے۔ اس میں زیادہ بند ہیں، مگر یہ صرف عربی اور انگریزی میں ہے۔
Completion of Quran · 138 بند →

  1. 1

    أَللَّهُمَّ إنَّكَ أَعَنْتَنِي عَلَى خَتْمِ كِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَهُ نُوراً وَجَعَلْتَهُ مُهَيْمِناً عَلَى كُلِّ كِتَاب أَنْزَلْتَهُ، وَفَضَّلْتَهُ عَلَى كُلِّ حَدِيث قَصَصْتَهُ، وَفُرْقاناً فَرَقْتَ بِهِ بَيْنَ حَلالِكَ وَحَرَامِكَ، وَقُرْآناً أَعْرَبْتَ بِهِ عَنْ شَرَائِعِ أَحْكَامِكَ، وَكِتَاباً فَصَّلْتَهُ لِعِبَادِكَ تَفْصِيلاً، وَوَحْياً أَنْزَلْتَهُ عَلَى نَبِيِّكَ مُحَمَّد صَلَوَاتُكَ عَلَيْهِ وَآلِهِ تَنْزِيلاً، وَجَعَلْتَهُ نُوراً نَهْتَدِي مِنْ ظُلَمِ الضَّلاَلَةِ وَالْجَهَـالَةِ بِـاتِّبَاعِـهِ، وَشِفَـاءً لِمَنْ أَنْصَتَ بِفَهْم التَّصْدِيقِ إلَى اسْتِمَاعِهِ، وَمِيزَانَ قِسْط لاَ يَحِيْفُ عَنِ الْحَقِّ لِسَانُهُ، وَنُورَ هُدىً لاَ يُطْفَأُ عَنِ الشَّاهِدِينَ بُرْهَانُهُ، وَعَلَمَ نَجَاة لاَ يَضِلُّ مَنْ أَمَّ قَصْدَ سُنَّتِهِ وَلاَ تَنَالُ أَيْدِي الْهَلَكَاتِ مَنْ تَعَلَّقَ بِعُرْوَةِ عِصْمَتِهِ، أَللَّهُمَّ فَإذْ أَفَدْتَنَا الْمعُونَةَ عَلَى تِلاَوَتِهِ، وَسَهَّلْتَ جَوَاسِيَ أَلْسِنَتِنَا بِحُسْنِ عِبَارَتِهِ، فَاجْعَلْنَا مِمَّنْ يَرْعَاهُ حَقَّ رِعَايَتِهِ، وَيَدِينُ لَكَ بِاعْتِقَادِ التَّسْلِيْمِ لِمُحْكَمِ آياتِهِ، وَيَفْزَعُ إلى الإِقْرَارِ بِمُتَشَابِهِهِ وَمُوضَحَاتِ بَيِّناتِهِ. أللَّهُمَّ إنَّكَ أَنْزَلْتَهُ عَلَى نَبِيِّكَ مُحَمَّد صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ مُجْمَلاً، وَأَلْهَمْتَهُ عِلْمَ عَجَائِبِهِ مُكَمَّلاً، وَوَرَّثْتَنَا عِلْمَهُ مُفَسَّراً، وَفَضَّلْتَنَا عَلَى مَنْ جَهِلَ عِلْمَهُ، وَقَوَّيْتَنَا عَلَيْهِ لِتَرْفَعَنَا فَوْقَ مَنْ لَمْ يُطِقْ حَمْلَهُ. أللَّهُمَّ فَكَمَا جَعَلْتَ قُلُوبَنَا لَهُ حَمَلَةً، وَعَرَّفْتَنَا بِرَحْمَتِكَ شَرَفَهُ وَفَضْلَهُ، فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّد الْخَطِيْبِ بِهِ، وَعَلَى آلِهِ الْخُزّانِ لَهُ، وَاجْعَلْنَا مِمَّنْ يَعْتَرِفُ بِأَنـَّهُ مِنْ عِنْدِكَ حَتَّى لاَ يُعَارِضَنَا الشَّكُّ فِي تَصْدِيقِهِ وَلاَ يَخْتَلِجَنَا الزَّيْغُ عَنْ قَصْدِ طَرِيقِهِ. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِـهِ، وَاجْعَلْنَا مِمَّنْ يَعْتَصِمُ بِحَبْلِهِ، وَيَـأْوِي مِنَ الْمُتَشَـابِهَاتِ إلَى حِرْزِ مَعْقِلِهِ، وَيَسْكُنُ فِي ظِـلِّ جَنَاحِهِ، وَيَهْتَدِي بِضَوْءِ صَباحِهِ، وَيَقْتَدِي بِتَبَلُّج إسْفَارِهِ، وَيَسْتَصْبحُ بِمِصْباحِهِ، وَلا يَلْتَمِسُ ألْهُدَى فِي غَيْرِهِ. أللَّهُمَّ وَكَمَا نَصَبْتَ بِهِ مُحَمَّداً عَلَماً لِلدَّلالَةِ عَلَيْكَ، وَأَنْهَجْتَ بِآلِهِ سُبُلَ الرِّضَا إلَيْكَ. فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَاجْعَلِ القُرْآنَ وَسِيلَةً لَنَا إلَى أَشْرَفِ مَنَازِلِ الْكَرَامَةِ، وَسُلَّماً نَعْرُجُ فِيهِ إلَى مَحَلِّ السَّلامَةِ، وَسَبَباً نُجْزَى بِهِ النَّجاةَ فِي عَرْصَةِ الْقِيَامَةِ، وَذَرِيعَةً نُقْدِمُ بِهَا عَلَى نَعِيْمِ دَارِ الْمُقَامَةِ. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَاحْطُطْ بالْقُرْآنِ عَنَّا ثِقْلَ الأوْزَارِ، وَهَبْ لَنَا حُسْنَ شَمَائِلِ الأَبْرَارِ وَاقْفُ بِنَا آثَارَ الَّذِينَ قَامُوا لَكَ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَأَطْرَافَ النَّهَارِ حَتَّى تُطَهِّرَنَا مِنْ كُلِّ دَنَس بِتَطْهِيرِهِ، وَتَقْفُوَ بِنَا آثَارَ الَّذِينَ اسْتَضَـآءُوْا بِنُورِهِ، وَلَمْ يُلْهِهِمُ الأَمَلُ عَنِ الْعَمَـل فَيَقْطَعَهُمْ بِخُدَعِ غُرُورِهِ. أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ واجْعَلِ القُرْآنَ لنا فِي ظُلَمِ اللَّيالِي مُونِساً وَمِنْ نَزَغَاتِ الشَّيْطَانِ وَخَطَرَاتِ الْوَسَاوِسِ حَارِساً، وَلأقْدَامِنَا عَنْ نَقْلِهَا إلَى الْمَعَاصِيْ حَابِساً، وَلأِلْسِنَتِنَا عَنِ الْخَوْضِ فِي الباطِلِ مِنْ غَيْرِ مَا آفَة مُخْرِساً، وَلِجَوَارِحِنَا عَنِ اقْتِرَافِ الآثامِ زَاجِراً، وَلِمَا طَوَتِ الغَفْلَةُ عَنَّا مِنْ تَصَفُّحِ الاعْتِبَارِ نَاشِراً حَتَّى تُوصِلَ إلَى قُلُوبِنَا فَهْمَ عَجَائِبِهِ وَزَوَاجِرَ أَمْثَـالِهِ الَّتِي ضَعُفَتِ الْجِبَالُ الرَّوَاسِي عَلَى صَلاَبَتِهَا عَنِ احْتِمَالِهِ. اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَأَدِمْ بِالْقُرْانِ صَلاَحَ ظاهِرِنا، وَاحْجُبْ بِهِ خَطَراتِ الْوَسَاوِسِ عَنْ صِحَّةِ ضَمَائِرِنَا، وَاغْسِلْ بِهِ دَرَنَ قُلُوبِنَا وَعَلاَئِقَ أَوْزَارِنَا، وَاجْمَعْ بِهِ مُنْتَشَرَ أُمُورِنَا، وَأَرْوِ بِهِ فِي مَـوْقِفِ الْعَرْضِ عَلَيْكَ ظَمَأ هَوَاجِرِنَا، وَاكْسُنَا بِهِ حُلَلَ الأَمَانِ يَوْمَ الْفَزَعِ الأكْبَرِ فِي نشُورِنَا. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَاجْبُرْ بِالْقُرْآنِ خَلَّتَنَا مِنْ عَدَمِ الإمْلاَقِ، وَسُقْ إلَيْنَا بِهِ رَغَدَ الْعَيْشِ وَخِصْبَ سَعَةِ الأرْزَاقِ، وَجَنِّبْنَا بِهِ الضَّرَائِبَ الْمَذْمُومَةَ وَمَدَانِيَ الأخْلاَقِ، وَاعْصِمْنَا بِهِ مِنْ هُوَّةِ الكُفْرِ وَدَوَاعِـي النِّفَاقِ حَتَّى يَكُوْنَ لَنَا فِي الْقِيَامَةِ إلَى رِضْوَانِكَ وَجِنَانِكَ قَائِداً وَلَنَا فِي الدُّنْيا عَنْ سَخَطِكَ وَتَعَدِّي حُدُودِكَ ذَائِداً، وَلِمَا عِنْدَكَ بِتَحْلِيلِ حَلاَلِهِ وَتَحْرِيم حَرَامِهِ شَاهِداً. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَهَوِّنْ بِالْقُرْآنِ عِنْدَ الْمَوْتِ عَلَى أَنْفُسِنَا كَرْبَ السِّيَاقِ، وَجَهْدَ الأنِينِ، وَتَرادُفَ الْحَشَارِجِ إذَا بَلَغَتِ ألنُّفُوسُ التَّراقِيَ وَقِيلَ مَنْ رَاق وَتَجَلَّى مَلَكُ الْمَوْتِ لِقَبْضِهَا مِنْ حُجُبِ الْغُيُوبِ، وَرَمَاهَا عَنْ قَوْسِ الْمَنَايَا بِأَسْهُمِ وَحْشَةِ الْفِرَاقِ، وَدَافَ لَهَا مِنْ ذَعَافِ الْمَوْتِ كَأْساً مَسْمُومَةَ الْمَذَاقِ، وَدَنا مِنَّا إلَى الآخِرَةِ رَحِيلٌ وَانْطِلاَقٌ، وَصَارَتِ الأعْمَالُ قَلاَئِـدَ فِي الأَعْنَاقِ، وَكَانَتِ الْقُبُورُ هِيَ الْمَأوَى إلَى مِيقَاتِ يَوْمِ التَّلاَقِ. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَبَارِكْ لَنَا فِي حُلُولِ دَارِ البِلَى وَطُولِ الْمُقَامَـةِ بَيْنَ أَطْبَـاقِ الثَّـرى، وَاجْعَلِ القبُورَ بَعْدَ فِرَاقِ الدُّنْيَا خَيْرَ مَنَازِلِنَا، وَافْسَحْ لَنَا بِرَحْمَتِكَ فِي ضِيقِ مَلاَحِدِنَا، وَلا تَفْضَحْنَا فِي حَاضِرِي الْقِيَامَةِ بِمُوبِقَاتِ آثامِنَا، وَارْحَمْ بِالْقُرْانِ فِيْ مَوْقِفِ الْعَرْضِ عَلَيْكَ ذُلَّ مَقَامِنَا، وَثَبِّتْ بِهِ عِنْدَ اضْطِرَابِ جِسْرِ جَهَنَّمَ يَوْمَ الْمَجَازِ عَلَيْهَـا زَلَلَ أَقْدَامِنَا، وَنَوِّرْ بِهِ قَبْلَ الْبَعْثِ سُدَفَ قُبُورنا، وَنَجِّنَا بِهِ مِنْ كُلِّ كَرْب يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَشَدَائِدِ أَهْوَالِ يَوْمِ الطَّامَّةِ وَبَيِّضْ وُجُوهَنَا يَوْمَ تَسْوَدُّ وُجُوهُ الظَّلَمَةِ فِي يَوْمِ الْحَسْرَةِ وَالنَّدَامَةِ، وَاجْعَلْ لَنَا فِي صُدُورِ الْمُؤْمِنِينَ وُدّاً، وَلاَ تَجْعَلِ الْحَيَاةَ عَلَيْنَا نَكَداً. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ كَمَا بَلَّغَ رِسَالَتَكَ، وَصَدَعَ بِأَمْرِكَ، وَنَصَحَ لِعِبَادِكَ. أللَّهُمَّ اجْعَلْ نَبِيَّنا صَلَواتُكَ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَقْرَبَ النِّبِيِّينَ مِنْكَ مَجْلِساً، وَأَمْكَنَهُمْ مِنْكَ شَفَاعَةً، وَأَجَلَّهُمْ عِنْدَكَ قَدْراً، وَأَوْجَهَهُمْ عِنْدَكَ جَاهَاً. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِ مُحَمَّد وَشَرِّفْ بُنْيَانَهُ، وَعَظِّمْ بُرْهَانَهُ، وَثَقِّلْ مِيزَانَهُ، وَتَقَبَّلْ شَفَاعَتَهُ وَقَرِّبْ وَسِيلَتَهُ، وَبَيِّضْ وَجْهَهُ، وَأَتِمَّ نُورَهُ، وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ، وَأَحْيِنَا عَلَى سُنَّتِهِ، وَتَوَفَّنَا عَلَى مِلَّتِهِ، وَخُذْ بِنَـا مِنْهَاجَـهُ، وَاسْلُكْ بِنَا سَبِيلَهُ، وَاجْعَلْنَا مِنْ أَهْلِ طَاعَتِهِ، وَاحْشُرْنَا فِي زُمْرَتِهِ، وَأَوْرِدْنَا حَوْضَهُ، وَاسْقِنَا بِكَأسِهِ. أللَّهُمَّ وَصَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ صَلاةً تُبَلِّغُهُ بِهَا أَفْضَلَ مَا يَأْمُلُ مِنْ خَيْرِكَ وَفَضْلِكَ وَكَرَامَتِكَ إنَّكَ ذُوْ رَحْمَة وَاسِعَة وَفَضْل كَرِيم. أللَّهُمَّ اجْزِهِ بِمَا بَلَّغَ مِنْ رِسَالاتِكَ وَأَدَّى مِنْ آيَاتِكَ وَنَصَحَ لِعِبَادِكَ وَجَاهَدَ فِي سَبِيلِكَ أَفْضَلَ مَا جَزَيْتَ أَحَداً مِنْ مَلائِكَتِكَ الْمُقَرَّبِينَ وَأَنْبِيَائِكَ الْمُرْسَلِينَ الْمُصْطَفَيْنَ. وَالسَّلاَمُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ الطَّيِّبِينَ الطَّاهِرِينَ وَرَحْمَةُ الله وَبَرَكَاتُهُ.

    دُعائے ختم القرآن: بارالٰہا ! تو نے اپنی کتاب کے ختم کرنے پر میری مدد فرمائی، وہ کتاب جسے تو نے نور بناکر اتارا، اور تمام کتب سماویہ پر اسے گواہ بنایا، اور ہر اس کلام پر جسے تو نے بیان فرمایا اسے فوقیت بخشی، اور (حق و باطل میں) حد فاصل قرار دیا، جس کے ذریعہ حلال و حرام الگ الگ کر دیا، وہ قرآن جس کے ذریعہ شریعت کے احکام واضح کئے، وہ کتاب جسے تو نے اپنے بندوں کیلئے شرح و تفصیل سے بیان کیا، اور وہ وحی (آسمانی) جسے اپنے پیغمبر محمدﷺ پر نازل فرمایا۔ جسے وہ نور بنایا جس کی پیروی سے ہم گمراہی و جہالت کی تاریکیوں میں ہدایت حاصل کرتے ہیں، اور اس شخص کیلئے اسے شفا قرار دیا جو اس پر اعتقاد رکھتے ہوئے اسے سمجھنا چاہے اور خاموشی کے ساتھ اسے سنے، اور وہ عدل و انصاف کا ترازو بنایا جس کا کانٹا حق سے ادھر ادھر نہیں ہوتا، اور وہ نورِ ہدایت قرار دیا جس کی دلیل و برہان کی روشنی (توحید و نبوت کی) گواہی دینے والوں کیلئے بجھتی نہیں، اور وہ نجات کا نشان بنایا کہ جو اس کے سیدھے طریقہ پر چلنے کا ارادہ کرے وہ گمراہ نہیں ہوتا، اور جو اس کی ریسمان کے بندھن سے وابستہ ہو، وہ (خوف و فقر و عذاب کی) ہلاکتوں کے دسترس سے باہر ہو جاتا ہے۔ بار الٰہا! جبکہ تو نے اس کی تلاوت کے سلسلہ میں ہمیں مدد پہنچائی، اور اس کی حسن ادائیگی کیلئے ہماری زبان کی گرہیں کھول دیں، تو پھر ہمیں ان لوگوں میں سے قرار دے جو اس کی پوری طرح حفاظت و نگہداشت کرتے ہوں، اور اس کی محکم آیتوں کے اعتراف و تسلیم کی پختگی کے ساتھ تیری اطاعت کرتے ہوں، اور متشابہ آیتوں اور روشن و واضح دلیلوں کے اقرار کے سایہ میں پناہ لیتے ہوں۔ اے اللہ! تو نے اسے اپنے پیغمبر محمدﷺ پر اجمال کے طور پر اتارا، اور اس کے عجائب و اسرار کا پورا پورا علم نہیں القا کیا، اور اس کے علم تفصیلی کا ہمیں وارث قرار دیا، اور جو اس کا علم نہیں رکھتے ان پر ہمیں فضیلت دی، اور اس کے مقتضیات پر عمل کرنے کی قوت بحشی، تاکہ جو اس کے حقائق کے متحمل نہیں ہو سکتے ان پر ہماری فوقیت و برتری ثابت کر دے۔ اے اللہ! جس طرح تو نے ہمارے دلوں کو قرآن کا حامل بنایا، اور اپنی رحمت سے اس کے فضل و شرف سے آگاہ کیا، یونہی محمدﷺ پر جو قرآن کے خطبہ خواں اور ان کی آلؑ پر جو قرآن کے خزینہ دار ہیں رحمت نازل فرما، اور ہمیں ان لوگوں میں سے قرار دے جو یہ اقرار کرتے ہیں کہ یہ تیری جانب سے ہے، تاکہ اس کی تصدیق میں ہمیں شک و شبہ لا حق نہ ہو، اور اس کے سیدھے راستہ سے روگردانی کا خیال بھی نہ آنے پائے۔ اے اللہ ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور ہمیں ان لوگوں میں سے قرار دے جو اس کی ریسمان سے وابستہ، اور مشتبہ امور میں اس کی محکم پناہ گاہ کا سہارا لیتے، اور اس کے پروں کے زیر سایہ منزل کرتے، اس کی صبح درخشاں کی روشنی سے ہدایت پاتے، اور اس کے نور کی درخشندگی کی پیروی کرتے، اور اس کے چراغ سے چراغ جلاتے ہیں، اور اس کے علاوہ کسی سے ہدایت کے طالب نہیں ہوتے۔ بار الٰہا! جس طرح تو نے اس قرآن کے ذریعہ محمدﷺ کو اپنی رہنمائی کا نشان بنایا ہے، اور ان کی آل علیہم السلام کے ذریعہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہیں آشکارا کی ہیں، یونہی محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور ہمارے لئے قرآن کو عزت و بزرگی کی بلند پایہ منزلوں تک پہنچنے کا وسیلہ، اور سلامتی کے مقام تک بلند ہونے کا زینہ، اور میدان حشر میں نجات کو جزا میں پانے کا سبب، اور محل قیام (جنت) کی نعمتوں تک پہنچے کا ذریعہ قرار دے۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور قرآن کے ذریعہ گناہوں کا بھاری بوجھ ہمارے سر سے اتار دے، اور نیکوکاروں کے اچھے خصائل و عادات ہمیں مرحمت فرما، اور ان لوگوں کے نقش قدم پر چلا جو تیرے لئے رات کے لمحوں اور صبح و شام ( کی ساعتوں ) میں اسے اپنا دستوار العمل بناتے ہیں، تاکہ اس کی تطہیر کے وسیلہ سے تو ہمیں ہر آلودگی سے پاک کر دے، اور ان لوگوں کے نقش قدم پر چلائے جنہوں نے اس کے نور سے روشنی حاصل کی ہے، اور امیدوں نے انہیں عمل سے غافل نہیں ہونے دیا کہ انہیں اپنے فریب کی نیزنگیوں سے تباہ کر دیں۔ اے اللہ ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور قرآن کو رات کی تاریکیوں میں ہمارا مونس، اور شیطان کے مفسدوں اور دل میں گزرنے والے وسوسوں سے نگہبانی کرنے، اور ہمارے قدموں کو نافرمانیوں کی طرف بڑھنے سے روک دینے والا، اور ہماری زبانوں کو باطل پیمائیوں سے بغیر کسی مرض کے گنگ کر دینے والا، اور ہمارے اعضاء کو ارتکاب گناہ سے باز رکھنے والا، اور ہماری غفلت و مدہوشی نے جس دفتر عبرت و پند اندوزی کو تہ کر رکھا ہے اسے پھیلانے والا قرار دے، تاکہ اس کے عجائب و رموز کی حقیقتوں اور اس کی متنبہ کرنے والی مثالوں کو کہ جنہیں اٹھانے سے پہاڑ اپنے استحکام کے باوجود عاجز آ چکے ہیں ہمارے دلوں میں اتار دے۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور قرآن کے ذریعہ ہمارے ظاہر کو ہمیشہ صلاح و رشد سے آراستہ رکھ، اور ہمارے ضمیر کی فطری سلامتی سے غلط تصورات کی دخل دراندازی کو روک دے، اور ہمارے دلوں کی کثافتوں اور گناہوں کی آلودگیوں کو دھو دے، اور اس کے ذریعہ ہمارے پراگندہ امور کی شیرازہ بندی کر، اور میدان حشر میں ہماری جھلستی ہوئی دوپہروں کی تپش و تشنگی بجھا دے، اور سخت خوف و ہراس کے دن جب قبروں سے اٹھیں تو ہمیں امن و عافیت کے جامے پہنا دے۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور قرآن کے ذریعہ فقر و احتیاج کی وجہ سے ہماری خستگی و بدحالی کا تدارک فرما، اور زندگی کی کشائش اور فراخ روزی کی آسودگی کا رخ ہماری جانب پھیر دے، اور بُرے عادات اور پست اخلاق سے ہمیں دور کر دے، اور کفر کے گڑھے (میں گرنے) اور نفاق انگیز چیزوں سے بچالے، تاکہ وہ ہمیں قیامت میں تیری خوشنودی و جنت کی طرف بڑھانے والا، اور دنیا میں تیری ناراضگی اور حدود شکنی سے روکنے والا ہو، اور اس امر پر گواہ ہو کہ جو چیز تیرے نزدیک حلال تھی اسے حلال جانا، اور جو حرام تھی اسے حرام سمجھا۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور اس قرآن کے وسیلہ سے موت کے ہنگام نزع کی اذیتوں، کراہنے کی سختیوں، اور جان کنی کی لگاتار ہچکیوں کو ہم پر آسان فرما، جبکہ جان گلے تک پہنچ جائے، اور کہا جائے کہ کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا ہے (جو کچھ تدراک کرے)، اور ملک الموت غیب کے پردے چیر کر قبض روح کیلئے سامنے آئے، اور موت کی کمان میں فراق کی دہشت کے تیر جوڑ کر اپنے نشانہ کی زد پر رکھ لے، اور موت کے زہریلے جام میں زہر ہلاہل گھول دے، اور آخرت کی طرف ہمارا چل چلاؤ اور کوچ قریب ہو، اور ہمارے اعمال ہماری گردن کا طوق بن جائیں، اور قبریں روز حشر کی ساعت تک آرام گاہ قرار پائیں۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور کہنگی و بوسیدگی کے گھر میں اترنے، اور مٹی کی تہوں میں مدت تک پڑے رہنے کو ہمارے لئے مبارک کرنا، اور دنیا سے منہ موڑنے کے بعد قبروں کو ہمارا اچھا گھر بنانا، اور اپنی رحمت سے ہمارے لئے گور کی تنگی کو کشادہ کر دینا، اور حشر کے عام اجتماع کے سامنے ہمارے مہلک گناہوں کی وجہ سے ہمیں رسوا نہ کرنا، اور اعمال کے پیش ہونے کے مقام پر ہماری ذلت و خواری کی وضع پر رحم فرمانا، اور جس دن جہنم کے پل پر سے گزرنا ہو گا تو اس کے لڑکھڑانے کے وقت ہمارے ڈگمگاتے ہوئے قدموں کو جما دینا، (اور اس کے ذریعہ قیامت سے پہلے ہماری قبروں کی تاریکی کو روشنی میں بدل دے) اور قیامت کے دن ہمیں اس کے ذریعہ ہر اندوہ اور روز حشر کی سخت ہولناکیوں سے نجات دینا، اور جبکہ حسرت و ندامت کے دن ظالموں کے چہرے سیاہ ہوں گے ہمارے چہروں کو نورانی کرنا، اور مومنین کے دلوں میں ہماری محبت پیدا کر دے، اور زندگی کو ہمارے لئے دشوار گزار نہ بنا۔ اے اللہ! محمد ﷺ جو تیرے خاص بندے اور رسول ہیں ان پر رحمت نازل فرما جس طرح انہوں نے تیرا پیغام پہنچایا، تیری شریعت کو واضح طور سے پیش کیا اور تیرے بندوں کو پند و نصیحت کی۔ اے اللہ! ہمارے نبی ﷺ کو قیامت کے دن تمام نبیوں سے منزلت کے لحاظ سے مقرب تر، شفاعت کے لحاظ سے برتر، قدرو منزلت کے اعتبار سے بزرگ تر اور جاہ و مرتبت کے اعتبار سے ممتاز تر قرار دے۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور ان کے ایوان (عزو شرف) کو بلند، ان کی دلیل و برہان کو عظیم، اور ان کے میزان (عمل کے پلہ) کو بھاری کر دے، ان کی شفاعت کو قبول فرما، اور ان کی منزلت کو اپنے سے قریب کر، ان کے چہرے کو روشن، ان کے نور کو کامل اور ان کے درجہ کو بلند فرما، اور ہمیں انہی کے آئین پر زندہ رکھ، اور انہی کے دین پر موت دے، اور انہی کی شاہراہ پر گامزن کر، اور انہی کے راستہ پر چلا، اور ہمیں ان کے فرمانبرداروں میں سے قرار دے، اور ان کی جماعت میں محشور کر، اور ان کے حوض پر اتار، اور ان کے ساغر سے سیراب فرما۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر ایسی رحمت نازل فرما جس کے ذریعہ انہیں بہترین نیکی، فضل اور عزت تک پہنچا دے جس کے وہ امیدوار ہیں، اس لئے کہ تو وسیع رحمت اور عظیم فضل و احسان کا مالک ہے۔ اے اللہ! انہوں نے جو تیرے پیغامات کی تبلیغ کی، تیری آیتوں کو پہنچایا، تیرے بندوں کو پند و نصیحت کی اور تیری راہ میں جہاد کیا، ان سب کی انہیں جزا دے، جو ہر اس جزا سے بہتر ہو، جو تو نے مقرب فرشتوں اور برگزیدہ مرسل نبیوں کو عطا کی ہو، ان پر اور ان کی پاک و پاکیزہ آلؑ پر سلام ہو، اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں ان کے شامل حال ہوں۔

لنک کاپی ہو گیا

← لائبریری پر واپس