TheShia

نهج البلاغة — الخطب

نہج البلاغہ — خطبات

241 بند ماخذ: Nahj al-Balagha

اس متن کا صرف کچھ حصہ اردو میں دستیاب ہے۔ باقی بند انگریزی میں دکھائے جا رہے ہیں۔

یہ ترجمہ مشینی معاونت سے ہوا اور علمی نظرثانی کا منتظر ہے۔ اوپر کا عربی متن ہی معتبر ہے۔

اس صفحہ پر241
  1. خطبہ 1- معرفت باری تعالیٰ، زمین و آسمان اور آدمؑ کی خلقت، احکام و حج
  2. خطبہ 2- عرب قبل از بعثت، اہل بیتؑ کی فضیلت اور ایک جماعت کی منقصت
  3. خطبہ 3- (خطبہ شقشقیہ) خلفائے ثلاثہ کی حکومت کے بارے میں آپؑ کا نظریہ
  4. خطبہ 4- آپکیؑ کی دوررس بصیرت، یقین کامل اور موسیؑ کا خوفزدہ ہونا
  5. خطبہ 5- پیغمبرﷺ کے بعد جب ابو سفیان نے آپؑ کی بیعت کرنا چاہی
  6. خطبہ 6- طلحہ و زبیر کے تعاقب سےآپؑ کو روکا گیا تو اس موقع پر فرمایا
  7. خطبہ 7- منافقین کی حالت
  8. خطبہ 8- جب زبیر نے یہ کہا میں نے دل سے بیعت نہ کی تھی تو آپؑ نے فرما
  9. خطبہ 9- اصحاب جمل کا بوداپن
  10. خطبہ 10- طلحہ و زبیر کے بارے میں
  11. خطبہ 11- محمد بن حنفیہ کو آداب حرم کی تعلیم
  12. خطبہ 12- عمل کا کردار اور مدار نیت پر ہے۔
  13. خطبہ 13- بصرہ اور اہل بصرہ کی مذمت میں
  14. خطبہ 14- اہل بصرہ کی مذمت میں
  15. خطبہ 15- عثمان کی دی ہوئی جا گیریں جب پلٹا لیں تو فرمایا
  16. خطبہ 16- جب اہل مدینہ نے آپؑ کے ہاتھ پر بیعت کی تو فرمایا
  17. خطبہ 17- مسند قضا پر بیٹھنے والے نا اہلوں کی مذمت میں
  18. خطبہ 18- علماء کے مختلف الاراء ہونے کی مذمت اور تصویب کی رد
  19. خطبہ 19- اشعث بن قیس کی غداری و نفاق کا تذکرہ
  20. خطبہ 20- موت کی ہولناکی اور اس سے عبرت اندوزی
  21. خطبہ 21- دنیا میں سبکبار رہنے کی تعلیم
  22. خطبہ 22- قتل عثمان کا الزام عائد کرنے والوں کے بارے میں
  23. خطبہ 23- حسد سے باز رہنے اور عزیزو اقارب سے حسن سلوک کے بارے میں
  24. خطبہ 24- جنگ پر آمادہ کرنے کے لیے فرمایا
  25. خطبہ 25- بسر کے حملے کے بعد جنگ سے جی چرانے والوں سے فرمایا
  26. خطبہ 26- عرب قبل از بعثت اور پیغمبرﷺ کے بعد دنیا کی بے رخی
  27. خطبہ 27- جہاد پر برانگیختہ کرنےکے لیے فرمایا
  28. خطبہ 28- دنیا کی بے ثباتی اور زاد آخرت کی اہمیت کا تذکرہ
  29. خطبہ 29- جنگ کے موقعہ پر حیلے بہانے کرنے والوں کے متعلق فرمایا
  30. خطبہ 30- قتل عثمان کے سلسلے میں آپؑ کی روش
  31. خطبہ 31- جنگ جمل پہلے ابن عباس کو زبیر کے پاس جب بھیجنا
  32. خطبہ 32- دنیا کی مذمت اور اہل دنیا کی قسمیں
  33. خطبہ 33- جب جنگ جمل کے لیے روانہ ہوئے تو فرمایا
  34. خطبہ 34- اہل شام کے مقابلے میں لوگوں کو آمادۂ جنگ کرنے کے لیے فرمایا
  35. خطبہ 35- تحکیم کے بارے میں فرمایا
  36. خطبہ 36- اہل نہروان کو ان کے انجام سے مطلع کرنے کے لیے فرمایا
  37. خطبہ 37- اپنی استقامت دینی و سبقت ایمانی کے متعلق فرمایا
  38. خطبہ 38- شبہہ کی وجہ تسمیہ اور دوستان خدا و دشمنان خدا کی مذمت
  39. خطبہ 39- جنگ سے جی چرانے والوں کی مذمت میں
  40. خطبہ 40- خوارج کے قول «لاحکم الا للہ» کے جواب میں فرمایا
  41. خطبہ 41- غداری کی مذمت میں
  42. خطبہ 42- نفسانی خواہشوں اور لمبی امیدوں کے متعلق فرمایا
  43. خطبہ 43- جب ساتھیوں نے جنگ کی تیاری کے لیے کہا تو آپؑ نے فرمایا
  44. خطبہ 44- جب مصقلہ ابن ہبیرہ معاویہ کے پاس بھاگ گیا تو آپؑ نے فرمایا
  45. خطبہ 45- اللہ کی عظمت اور جلالت اور دنیا کی سبکی و بے وقاری کے متعلق
  46. خطبہ 46- جب شام کی جانب روانہ ہوئے تو فرمایا
  47. خطبہ 47- کوفہ پر وارد ہونے والی مصیبتوں کے متعلق فرمایا
  48. خطبہ 48- جب شام کی طرف روانہ ہوئے تو فرمایا
  49. خطبہ 49- اللہ کی عظمت و بزرگی کے بارے میں فرمایا
  50. خطبہ 50- حق و باطل کی آمیزش کے نتائج
  51. خطبہ 51- جب شامیوں نے آپؑ کے ساتھیوں پر پانی بند کر دیا تو فرمایا
  52. خطبہ 52- دنیا کے زوال وفنا اور آخرت کے ثواب و عتاب کے متعلق فرمایا
  53. خطبہ 53- گوسفند قربانی کے اوصاف
  54. خطبہ 54- آپؑ کے ہاتھ پر بیعت کرنے والوں کا ہجوم
  55. خطبہ 55- میدان صفین میں جہاد میں تاخیر پر اعتراض ہوا تو فرمایا
  56. خطبہ 56- میدان جنگ میں آپؑ کی صبر و ثبات کی حالت
  57. خطبہ 57- معاویہ کے بارے میں فرمایا
  58. خطبہ 58- خوارج کےبارے میں آپؑ کی پیشینگوئی
  59. خطبہ 59- خوارج کی ہزیمت کے متعلق آپؑ کی پیشینگوئی
  60. خطبہ 60- جب اچانک قتل کر دیے جانے سے ڈرایا گیا تو آپؑ نے فرمایا
  61. خطبہ 61- دنیا کی بے ثباتی کا تذکرہ
  62. خطبہ 62- دنیا کے زوال و فنا کے سلسلہ میں فرمایا
  63. خطبہ 63- صفات باری کا تذکرہ
  64. خطبہ 64- جنگ صفین میں تعلیم حرب کےسلسلے میں فرمایا
  65. خطبہ 65- سقیفہ بنی ساعدہ کی کاروائی سننے کے بعد فرمایا
  66. خطبہ 66- محمد بن ابی بکرکی خبر شہادت سن کر فرمایا
  67. خطبہ 67- اپنے اصحاب کی کجروی اور بے رخی کے بارے میں فرمایا
  68. خطبہ 68- شب ضربت سحر کے وقت فرمایا
  69. خطبہ 69- اہل عراق کی مذمت میں فرمایا
  70. خطبہ 70- پیغمبرﷺ پر درود بھیجنے کا طریقہ
  71. خطبہ 71- حسنینؑ کی طرف سے مروان کی سفارش کی گئی تو آپؑ نے فرمایا
  72. خطبہ 72- جب لوگوں نے عثمان کی بیعت کا ارادہ کیا تو آپؑ نے فرمایا
  73. خطبہ 73- قتل عثمان میں شرکت کا الزام آپؑ پر لگایا گیا تو فرمایا
  74. خطبہ 74- پند و نصیحت کے سلسلے میں فرمایا
  75. خطبہ 75- بنی امیہ کے متعلق فرمایا
  76. خطبہ 76- دعائیہ کلمات
  77. خطبہ 77- منجمین کی پیشینگوئی کی رد
  78. خطبہ 78- عورتوں کے فطری نقائص
  79. خطبہ 79- پند و نصیحت کے سلسلے میں فرمایا
  80. خطبہ 80- اہل دنیا کے ساتھ دنیا کی روش
  81. خطبہ 81- موت اور اس کے بعد کی حالت، انسانی خلقت کے درجات اور نصائح
  82. خطبہ 82- عمرو بن عاص کے بارے میں
  83. خطبہ 83- تنزیہ بازی اور پند و نصائح کے سلسلے میں فرمایا
  84. خطبہ 84- آخرت کی تیاری اور احکام شریعت کی نگہداشت کے سلسلے میں فرمایا
  85. خطبہ 85- دوستان خدا کی حالت اور علماء سوء کی مذمت میں فرمایا
  86. خطبہ 86- امت کے مختلف گروہوں میں بٹ جانے کے متعلق فرمایا
  87. خطبہ 87- بعثت سے قبل دنیا کی حالت پراگندگی اور موجودہ دور کے لوگ
  88. خطبہ 88- صفات باری اور پند و موعظت کےسلسلے میں فرمایا
  89. خطبہ 89- (خطبہ اشباح) آسمان و زمین کی خلقت
  90. خطبہ 90- جب آپؑ کے ہاتھ پر بیعت ہوئی تو فرمایا
  91. خطبہ 91- خوارج کی بیخ کنی اور اپنے علم کی ہمہ گیری و فتنہ بنی امیہ
  92. خطبہ 92- خداوند عالم کی حمد و ثناء اور انبیاء کی توصیف میں فرمایا
  93. خطبہ 93- بعثت کے وقت لوگوں کی حالت اور پیغمبرﷺ کی مساعی
  94. خطبہ 94- نبی کریم ﷺ کی مدح و توصیف میں فرمایا
  95. خطبہ 95- اپنے اصحاب کو تنبیہہ اور سرزنش کرتے ہوئے فرمایا
  96. خطبہ 96- بنی امیہ اور ان کے مظالم کے متعلق فرمایا
  97. خطبہ 97- ترکِ دینا اور نیرنگیٔ عالم کے سلسلہ میں فرمایا
  98. خطبہ 98- اپنی سیرت و کردار اور اہل بیتؑ کی عظمت کے سلسلہ میں فرمایا
  99. خطبہ 99- عبد الملک بن مروان کی تاراجیوں کے متعلق فرمایا
  100. خطبہ 100- بعد میں پیدا ہونے والے فتنوں کے متعلق فرمایا
  101. خطبہ 101- زہد و تقو یٰ اور اہل دنیا کی حالت کے متعلق فرمایا
  102. خطبہ 102- بعثت سے قبل لوگوں کی حالت اور پیغمبر ﷺکی تبلیغ و ہدایت
  103. خطبہ 103- پیغمبر اکرمﷺ کی مدح و توصیف اور فرائضِ امام کے سلسلہ میں
  104. خطبہ 104- شریعت اسلام کی گرانقدری اور پیغمبرﷺ کی عظمت کے متعلق فرمایا
  105. خطبہ 105- صفین میں جب حصہ لشکر کے قدم اکھڑنے کے جم گئے تو فرمایا
  106. خطبہ 106- پیغمبرﷺ کی توصیف اور لوگوں کے گوناگون حالات کے بارے میں
  107. خطبہ 107- خداوند عالم کی عظمت، ملائکہ کی رفعت ،نزع کی کیفیت اور آخرت
  108. خطبہ 108- فرائضِ اسلام اور علم وعمل کے متعلق فرمایا
  109. خطبہ 109- دنیا کی بے ثباتی کے متعلق فرمایا
  110. خطبہ 110- ملک الموت کے قبضِ رُوح کرنے کے متعلق فرمایا
  111. خطبہ 111- دنیا اور اہل دنیا کے متعلق فرمایا
  112. خطبہ 112- زہد و تقویٰ اور زادِ عقبیٰ کی اہمیت کے متعلق
  113. خطبہ 113- طلب باران کے سلسلہ میں فرمایا
  114. خطبہ 114- آخرت کی حالت اور حجاج ابن یوسف ثقفی کے مظالم کے متعلق
  115. خطبہ 115- خدا کی راہ میں جان و مال سے جہاد کرنے کے متعلق فرمایا
  116. خطبہ 116- اپنے دوستوں کی حالت اور اپنی اولیت کے متعلق فرمایا
  117. خطبہ 117- جب اپنے ساتھیوں کو دعوت جہاد دی اور وہ خاموش رہے تو فرمایا
  118. خطبہ 118- اہل بیتؑ کی عظمت اور قوانین شریعت کی اہمیت کے متعلق فرمایا
  119. خطبہ 119- تحکیم کے بارے میں آپؑ پر اعتراض کیا گیا تو فرمایا
  120. خطبہ 120- جب خوارج تحکیم کے نہ ماننے پر اڑ گئے تو احتجاجاً فرمایا
  121. خطبہ 121- جنگ کے موقع پر کمزور اور پست ہمتوں کی مدد کرنے کی سلسلہ میں
  122. خطبہ 122- میدان صفین میں فنونِ جنگ کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا
  123. خطبہ 123- تحکیم کو قبول کرنے کے وجوہ و اسباب
  124. خطبہ 124- بیت المال کی برابر کی تقسیم پر اعتراض ہوا تو فرمایا
  125. خطبہ 125- خوارج کے عقائد کے رد میں
  126. خطبہ 126- بصرہ میں ہونے والے فتنوں، تباہ کاریوں اور حملوں کے متعلق
  127. خطبہ 127- دنیا کی بے ثباتی اور اہل دنیا کی حالت
  128. خطبہ 128- حضرت ابوذر کو مدینہ بدر کیا گیا تو فرمایا
  129. خطبہ 129- خلافت کو قبول کرنے کی وجہ اور والی و حاکم کے اوصاف
  130. خطبہ 130- موت سے ڈرانے اور پند و نصیحت کے سلسلہ میں فرمایا
  131. خطبہ 131- خداوند ِعالم کی عظمت، قرآن کی اہمیت اور پیغمبرﷺ کی بعثت
  132. خطبہ 132- جب مغیرہ بن اخنس نے عثمان کی حمایت میں بولنا چاہا تو فرمایا
  133. خطبہ 133- غزوہ روم میں شرکت کے لیے مشورہ مانگا گیا تو فرمایا
  134. خطبہ 134- اپنی نیت کے اخلاص اور مظلوم کی حمایت کے سلسلہ میں فرمایا
  135. خطبہ 135- طلحہ و زبیر اور خونِ عثمان کے قصاص اور اپنی بیعت کے متعلق
  136. خطبہ 136- ظہورِ حضرت قائم علیہ السلام کے وقت دُنیا کی حالت
  137. خطبہ 137- شوریٰ کے موقع پر فرمایا
  138. خطبہ 138- غیبت اور عیب جوئی سے ممانعت کے سلسلہ میں فرمایا
  139. خطبہ 139- سُنی سُنائی باتوں کو سچا نہ سمجھنا چاہئے
  140. خطبہ 140- بے محل داد و دہش سے ممانعت اور مال کا صحیح مصرف
  141. خطبہ 141- طلبِ باران کے سلسلہ میں فرمایا
  142. خطبہ 142- اہل بیتؑ راسخون فی العلم ہیں اور وہی امامت وخلافت کے اہل ہیں
  143. خطبہ 143- دُنیا کی اہل دُنیا کے ساتھ روش اور بدعت و سنت کا بیان
  144. خطبہ 144- جب حضرت عمر نے غزوہ فارس کیلئے مشورہ لیا تو فرمایا
  145. خطبہ 145- بعثتِ پیغمبر کی غرض و غایت اور اُس زمانے کی حالت
  146. خطبہ 146- طلحہ وزبیر کے متعلق فرمایا
  147. خطبہ 147- موت سے کچھ قبل بطور وصیّت فرمایا
  148. خطبہ 148- حضرت حجتؑ کی غیبت اور پیغمبرﷺ کے بعد لوگوں کی حالت
  149. خطبہ 149- فتنوں میں لوگوں کی حالت اور ظلم اور اکل حرام سے اجتناب
  150. خطبہ 150- خداوند عالم کی عظمت و جلالت کا تذکرہ اور معرفت امام کے متعلق
  151. خطبہ 151- غفلت شعاروں، چوپاؤں، درندوں اور عورتوں کے عادات و خصائل
  152. خطبہ 152- اہل بیتؑ کی توصیف، علم وعمل کا تلازم اور اعمال کا ثمرہ
  153. خطبہ 153- چمگادڑ کی عجیب و غریب خلقت کے بارے میں
  154. خطبہ 154- حضرت عائشہ کے عناد کی کیفیت اور فتنوں کی حالت
  155. خطبہ 155- دُنیا کی بے ثباتی، پندو موعظت اور اعضاء و جوارح کی شہادت
  156. خطبہ 156- بعثت پیغمبرﷺ کا تذکرہ، بنی اُمیّہ کے مظالم اور ان کا انجام
  157. خطبہ 157- لوگوں کے ساتھ آپ کا حُسنِ سلوک اور ان کی لغزشوں سے چشم پوشی
  158. خطبہ 158- خداوندِعالم کی توصیف ،خوف ورجاء، انبیاءؑ کی زندگی
  159. خطبہ 159- دین اسلام کی عظمت اور دُنیا سے درس عبرت حاصل کرنے کی تعلیم
  160. خطبہ 160- حضرتؑ کو خلافت سے الگ رکھنے کے وجوہ
  161. خطبہ 161- اللہ کی توصیف، خلقت انسان اور ضروریات زندگی کی طرف رہنمائی
  162. خطبہ 162- امیرالمومنینؑ کا عثمان سے مکالمہ اور ان کی دامادی پر ایک نظر
  163. خطبہ 163- مور کی عجیب و غریب خلقت اور جنّت کے دلفریب مناظر
  164. خطبہ 164- شفقت و مہربانی اور ظاہر و باطن کی تعلیم اور بنی امیہ کا زوال
  165. خطبہ 165- حقوق و فرائض کی نگہداشت اور تمام معاملات میں اللہ سے خوف
  166. خطبہ 166- جب لوگوں نے قاتلین عثمان سے قصاص لینے کی فرمائش کی تو فرمایا
  167. خطبہ 167- جب اصحاب جمل بصرہ کی جانب روانہ ہوئے تو فرمایا
  168. خطبہ 168- اہل بصرہ سے تحقیق حال کے لئے آنے والے شخص سے فرمایا
  169. خطبہ 169- صفین میں جب دشمن سے دوبدو ہوکر لڑنے کا ارادہ کیا تو فرمایا
  170. خطبہ 170- جب آپؑ پر حرص کا الزام رکھا گیا تو اس کی رد میں فرمایا
  171. خطبہ 171- خلافت کا مستحق کون ہے اور ظاہری مسلمانوں سے جنگ کرنا
  172. خطبہ 172- طلحہ بن عبیداللہ کے بارے میں فرمایا
  173. خطبہ 173- غفلت کرنے والوں کو تنبیہ اور آپؑ کے علم کی ہمہ گیری
  174. خطبہ 174- پند دو موعظت، قرآن کی عظمت اور ظلم کی اقسام
  175. خطبہ 175- حکمین کے بارے میں فرمایا
  176. خطبہ 176- خداوند عالم کی توصیف، دُنیا کی بے ثباتی اور اسباب زوال نعمت
  177. خطبہ 177- جب پوچھا گیا کہ کیا آپؑ نے خدا کو دیکھا ہے تو فرمایا
  178. خطبہ 178- اپنے اصحاب کی مذمت میں فرمایا
  179. خطبہ 179- خوارج سے مل جانے کا تہیّہ کرنے والی جماعت سے فرمایا
  180. خطبہ 180- خداوند عالم کی تنزیہ و تقدیس اور قدرت کی کا ر فرمائی
  181. خطبہ 181- خداوند عالم کی توصیف، قرآن کی عظمت اور عذاب آخرت سے تخویف
  182. خطبہ 182- جب «لا حکم الا اللہ» کا نعرہ لگایا گیا تو فرمایا
  183. خطبہ 183- خداوند عالم کی عظمت و توصیف اور ٹڈی کی عجیب و غریب خلقت
  184. خطبہ 184- مسائل الٰہیات کے بُنیادی اُصول کا تذکرہ
  185. خطبہ 185- فتنوں کے ابھرنے اور رزقِ حلال کے ناپید ہو جانے کے بارے میں
  186. خطبہ 186- خداوند عالم کے احسانات، مرنے والوں کی حالت اور بے ثباتی دنیا
  187. خطبہ 187- پختہ اور متزلزل ایمان اور دعویٰ سلونی «قبل ان تفقدونی»
  188. خطبہ 188- تقویٰ کی اہمیت، ہولناکی قبر، اللہ، رسول اور اہل بیت کی معرفت
  189. خطبہ 189- خداوند عالم کی توصیف، تقویٰ کی نصیحت، دنیا اور اہل دنیا
  190. خطبہ 190- (خطبہ قاصعہ) جس میں ابلیس کی مذمت ہے۔
  191. خطبہ 191- متقین کے اوصاف اور نصیحت پذیر طبیعتوں پر موعظت کا اثر
  192. خطبہ 192- پیغمبر ﷺکی بعثت، قبائلِ عرب کی عداوت اور منافقین کی حالت
  193. خطبہ 193- خداوند عالم کی توصیف، تقویٰ کی نصیحت اور قیامت کی کیفیت
  194. خطبہ 194- بعثتِ پیغمبرؐ کے وقت دنیا کی حالت، دنیا کی بے ثباتی
  195. خطبہ 195- حضورﷺ کے ساتھ آپؑ کی خصوصیات اور حضور ﷺ کی تجہیز و تکفین
  196. خطبہ 196- خداوند عالم کے علم کی ہمہ گیری، تقویٰ کے فوائد
  197. خطبہ 197- نماز، زکوٰة اور امانت کے بارے میں فرمایا
  198. خطبہ 198- معاویہ کی غداری و فریب کاری اور غداروں کا انجام
  199. خطبہ 199- راہ ہدایت پر چلنے والوں کی کمی اور قوم ثمود کا تذکرہ
  200. خطبہ 200- جناب سیدہ سلام اللہ علیہا کے دفن کے موقع پر فرمایا
  201. خطبہ 201- دنیا کی بے ثباتی اور زاد آخرت مہیا کرنے کے لیے فرمایا
  202. خطبہ 202- اپنے اصحاب کو عقبیٰ کے خطرات سے متنبہ کرتے ہوئے فرمایا
  203. خطبہ 203- طلحہ و زبیر نے مشورہ نہ کرنے کا شکوہ کیا تو فرمایا
  204. خطبہ 204- صفین میں شامیوں پر شب و ستم کیا گیا تو فرمایا
  205. خطبہ 205- جب امام حسنؑ صفین کے میدان میں تیزی سے بڑھے تو فرمایا
  206. خطبہ 206- صفین میں لشکر تحکیم کے سلسلہ میں سرکشی پر اُتر آیا تو فرمایا
  207. خطبہ 207- علاء ابن زیاد حارثی کی عیادت کو موقع پر فرمایا
  208. خطبہ 208- اختلاف احادیث کے وجوہ و اسباب اور رواة حدیث کے اقسام
  209. خطبہ 209- خداوند عالم کی عظمت اور زمین و آسمان اور دریاؤں کی خلقت
  210. خطبہ 210- حق کی حمایت سے ہاتھ اٹھا لینے والوں کے بارے میں فرمایا
  211. خطبہ 211- خداوند عالم کی عظمت اور پیغمبرؐ کی توصیف و مدحت
  212. خطبہ 212- پیغمبرﷺ کی خاندانی شرافت اور نیکو کاروں کے اوصاف
  213. خطبہ 213- آپؑ کے دُعائیہ کلمات
  214. خطبہ 214- حکمران اور رعیّت کے باہمی حقوق کے بارے میں فرمایا
  215. خطبہ 215- قریش کے مظالم کے متعلق فر مایا اور بصرہ پر چڑھائی کے متعلق
  216. خطبہ 216- طلحہ اور عبد الرحمن بن عتاب کو مقتول دیکھا تو فرمایا
  217. خطبہ 217- متقی و پرہیزگار کے اوصاف
  218. خطبہ 218- ”الہاکم التکاثر حتی زرتم المقابر“ کی تلاوت کے وقت فرمایا
  219. خطبہ 219- ” رجال لا تلہیھم تجارة و لا بیع عن ذکر اللہ “ کی تلاوت کے وق
  220. خطبہ 220- ” یا اٴیھا الانسان ما غرّک بربک الکریم “ کی تلاوت کے وقت فرم
  221. خطبہ 221- ظلم و غصب سے کنارہ کشی، عقیل کی حالت فقر و احتیاج، اور اشعث
  222. خطبہ 222- آپؑ کے دُعائیہ کلمات
  223. خطبہ 223- دنیا کی بے ثباتی اور اہل قبور کی حالت بے چارگی
  224. خطبہ 224- آپؑ کے دُعائیہ کلمات
  225. خطبہ 225- انتشار و فتنہ سے قبل دنیا سے اٹھ جانے والوں کے متعلق فرمایا
  226. خطبہ 226- اپنی بیعت کے متعلق فرمایا
  227. خطبہ 227- تقویٰ کی نصیحت موت سے خائف رہنے اور زہد اختیار کرنے کے متعلق
  228. خطبہ 228- جب بصرہ کی طرف روانہ ہوئے تو فرمایا
  229. خطبہ 229- عبد اللہ ابن زمعہ نے آپؑ سے مال طلب کیا تو فرمایا
  230. خطبہ 230- جب جعدہ ابن ہبیرہ خطبہ نہ دے سکے تو فرمایا
  231. الخطبه 231 و من خطبه له عليه السلام خطبها بذي قار و هو متوجه إلى البصرة ذكرها الواقدي في كتاب الجمل
  232. الخطبه 232 و من كلام له عليه السلام كلم به عبد الله بن زمعة و هو من شيعته و ذلك أنه قدم عليه في خلافته يطلب منه مالا فقال عليه السلام:‏
  233. الخطبه 233 و من كلام له عليه السلام بعدَ أن أقدم أحدهم على الكلام فحصر
  234. الخطبه 234 و من كلام له عليه السلام و فیها ذکر علل اختلاف الناس رَوَى ذِعْلَبُ الْيَمَامِيُّ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ قُتَيْبَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ‏ مَالِكِ بْنِ دِحْيَةَ قَالَ كُنَّا عِنْدَ أَمِيرِ الْمُؤْمنِيِنَ عليه السلام وَ قَدْ ذُكِرَ عِ
  235. الخطبه 235 و من كلام له عليه السلام قالَهُ وَ هُوَ يَلِى غَسْلَ رَسُولِ اللّهِ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَ الِهِ وَ تَجْهِيزَهُ
  236. الخطبه 236 و من كلام له عليه السلام اقتص فيه ذكر ما كان منه بعد هجرة النبي صلى الله عليه واله ثم لحاقه به
  237. الخطبه 237 و من خطبه له عليه السلام في المُسارعة إلى العمل
  238. الخطبه 238 و من خطبه له عليه السلام في شأن الحكمين و ذم أهل الشام
  239. الخطبه 239 و من خطبه له عليه السلام يذكر فيها آل محمد عليهم السلام
  240. الخطبه 240 و من كلام له عليه السلام قاله لعبد الله بن عباس و قد جاءه برسالة من عثمان‏ و هو محصور يسأله فيها الخروج إلى ماله بينبع ليقل هتف الناس باسمه للخلافة بعد أن كان سأله مثل ذلك من قبل فقال عليه السلام
  241. الخطبه 241 و من كلام له عليه السلام يحث بِه أصحابَه على الجهاد
  1. خطبہ 1- معرفت باری تعالیٰ، زمین و آسمان اور آدمؑ کی خلقت، احکام و حج

    1

    اَلْحَمْدُ لِلّهِ اَلَّذِى لا يَبْلُغُ مِدْحَتَهُ الْقائِلُونَ وَ لا يُحْصِى نَعْماءَهُ الْعادُّونَ،ِ وَ لا يُودِّى حَقَّهُ الْمُجْتَهِدُونَ، اَلَّذِى لا يُدْرِكُهُ بُعْدُ الْهِمَمِ، وَ لا يَنالُهُ غَوْصُ الْفَطِنِ، اَلَّذِى لَيْسَ لِصِفَتِهِ حَدُّ مَحْدُوْدٌ، وَ لا نَعْتٌ مَوْجُودٌ، وَ لا وَقْتٌ مَعْدُودٌ وَ لا اَجَلٌ مَمْدُودٌ، فَطَرَ الْخَلائِقَ بِقَدْرَتِهِ، وَ نَشَرَ الرِّياحَ بِرَحْمَتِهِ، وَ وَتَّدَ بِالصُّخُورِ مَيَدانَ اَرْضِهِ. اَوَّلُ الدِّينِ مَعْرِفَتُهُ، وَ كَمالُ مَعْرِفَتِهِ التَّصْدِيقُ بِهِ وَ كَمالُ الْتَصْديقُ بِهِ تَوْحِيدِهِ، وَ کَمالُ تَوْحِيدِهِ الاِخْلاصُ لَهُ وَ كَمالُ الاِخْلاصِ لَهُ نَفْىُ الصِّفاتِ عَنْهُ، لِشَهادَهِ كُلِّ صِفَهٍ اَنَّها غَيْرُ الْمَوْصوفِ وَ شَهادَهِ كُلِ مَوْصوفٍ اَنَّهُ غَيْرُ الصِّفَهِ فَمَنْ وَصَفَ اَللّهَ سُبْحانَهُ فَقَدْ قَرَنَهُ وَ مَنْ قَرَنَهُ فَقَدْ ثَنّاهُ وَ مَنْ ثَنّاهُ فَقَدْ جَزَّاهُ، وَ مَنْ جَزَّاهُ فَقَدْ جَهْلَهُ، وَمَنْ جَهِلَهُ فَقَدْ أشَارَ إِلَيْهِ، وَ مَنْ أشَارَ إِلَيْهِ فَقَدْ حَدَّهُ، وَ مَنْ حَدَّهُ فَقَدْ عَدَّهُ، وَ مَنْ قالَ فِيمَ؟ فَقَدْ ضَمَّنَهُ، وَ مَنْ قالَ عَلامَ؟ فَقَدْ اءخْلى مِنْهُ. كائِنٌ لا عَنْ حَدَثٍ مَوْجُودٌ لا عَنْ عَدَمٍ، مَعَ كُلِّ شَى ء لا بِمُقارَنَهٍ، وَ غَيْرُ كُلِّ شَى ء لا بِمُزايَلَهٍ، فاعِلٌ لا بِمَعْنَى الْحَرَكاتِ وَ الآلَهِ، بَصِيرٌ اِذْ لا مَنْظورَ اِلَيْهِ مِنْ خَلْقِهِ، مُتَوَحِّدٌ اِذْ لا سَكَنَ يَسْتَانِسُ بِهِ وَ لا يَسْتَوْحِشُ لِفَقْدِهِ. خلق العالم اِنْشَاءَ الْخَلْقَ اِنْشاءً وَ اِبْتَدَاهُ ابْتِداءً، بِلا رَوِيَّهٍ اَجالَها. وَ لا تَجْرِبَهٍ اِسْتَفادَها، وَ لا حَرَكَهٍ اَحْدَثَها، وَ لا هَمامَهِ نَفْسٍ اضْطَرَبَ فيها، اَحالَ الاَشْياءَ لاَوْقاتِها، وَ لاَمَ بَيْنَ مُخْتَلِفاتِها، وَ غَرَّزَ غَرائِزَها وَ اَلْزَمَها اَشْباحَها عالِما بِها قَبْلَ اِبْتِدائِها مُحِيطا بِحُدودِها وَ اِنْتِهائِها، عارِفا بِقَرائِنِها وَ اَحْنائِها. ثُمَّ اِنْشاءَ سُبْحانَهُ فَتْقَ الاَجْواءِ وَ شَقَّ الاَرْجاءِ وَ سَكائِكَ الْهَواءِ، فَاَجْرى فِيها ماءً مِتَلاطِما تَيّارُهُ، مَتَراكِما زَخّارُهُ، حَمَلَهُ عَلى مَتْنِ الرِّيحِ الْعاصِفَهِ، وَ الزَّعْزَعِ الْقاصِفَهِ، فَاَمَرَها بِرَدِّهِ، وَ سَلَّطَها عَلى شَدِّهِ، وَ قَرَنَها الى حَدِّهِ، الْهَواءُ مِنْ تَحْتِها فَتِيْقٌ، وَ الْماءُ مِنْ فَوْقِها دَفِيقٌ، ثُمَّ اَنْشَاءَ سُبْحانَهُ رِيْحا اِعْتَقَمَ مَهَبَّها وَ ادامَ مُرَبَّها، اَعْصَفَ مَجْراها، وَ اَبْعَدَ مُنْشاه فَامَرَها بِتَصْفِيقِ الْماءِ الزَّخّارِ، وَ اِثارَهِ مَوْجِ الْبِحارِ. فَمَخَضَتْهُ مَخْضَ الْسِّقاءِ، وَ عَصَفَتْ بِهِ عَصْفَها بِالْفَضاءِ، تَرُدُّ اَوَّلَهُ عَلى آخِرِهِ، وَ ساجِيَهُ عَلى مائِرِهِ، حَتّى عَبَّ عُبابُهُ، وَرَمى بِالزَّبَدِ رُكامُهُ فَرَفَعَهُ فى هَواءٍ مُنْفَتِقٍ، وَ جَوٍّ مُنْفَهِقٍ، فَسَوّى مِنْهُ سَبْعَ سَماواتٍ جَعَلَ سُفْلاهُنَّ مَوْجا مَكْفوفا وَ عُلْياهُنَّ سَقْفا مَحْفوظا، وَ سَمُكا مَرْفوعا. بِغَيْرِ عَمَدٍ يَدْعَمُها، وَ لا دِسارٍ يَنْتَظِمُها، ثُمَّ زَيَّنَها بِزينَهٍ الْكَواكِبِ، وَ ضِياءِ الثَّواقِبِ، وَ اَجْرى فِيها سِراجا مُسْتَطِيرا، وَ قَمَرا مُنيرا، فى فَلَكٍ دائِرٍ، وَ سَقْفٍ سائِرٍ، وَ رَقِيمٍ مائِرٍ. عَجائِب خَلقَة المَلائکة ثُمَّ فَتَقَ ما بَيْنَ السَّماواتِ الْعُلى فَمَلَاَهُنَّ اَطْوارا مِنْ مَلائِكَتِهِ، مِنْهُمْ سُجودٌ لا يَرْكَعونَ، وَ رُكوعٌ لا يَنْتَصِبُونَ، وَ صافُّونَ لا يَتَزايَلُونَ، وَ مُسَبِّحُونَ لا يَسْاءَمُونَ، لا يَغْشاهُمْ نَوْمُ الْعُيُونِ، وَ لا سَهْوُ الْعُقوُلِ، وَ لا فَتْرَهُ الاَبْدانِ، وَ لا غَفْلَهُ النِّسْيانِ، وَ مِنْهُم اُمَناءُ عَلى وَحْيِهِ، وَ الْسِنَهٌ الى رُسُلِهِ، وَ مُخْتَلِفُونَ بِقَضائِهِ وَ امرِهِ، وَ مِنْهُمُ الْحَفَظَهُ لِعِبادِهِ، وَالسَّدَنَهُ لِاَبْوابِ جِنانِهِ. وَ مِنْهُمُ الثّابِتَهُ فِى الارَضِينَ السُّفْلى اقدامُهُمْ، وَالْمارِقَهُ مِنَ السَّماءِ الْعُلْيا اَعْناقُهُمْ،. وَالْخارِجَهُ مِنَ الْاقْطارِ ارْكانُهُمْ، وَالْمُناسِبَهُ لِقَوائِم الْعَرْشِ اكْتافُهُمْ، ناكِسَهٌ دُونَهُ اَبْصارُهُمْ، مُتَلَفَّعُونَ تَحْتَهُ بِاَجنِحَتِهِمْ، مَضْروبَهٌ بَيْنَهُمْ وَ بَيْنَ مَنْ دُونَهُمْ حُجُبُ الْعِزَّهِ وَ اَسْتارٌ الْقُدْرَهِ. لا يَتَوَهَّمُونَ رَبَّهُمْ بِالتَّصْوِيرِ، وَ لا يُجْرُونَ عَلَيْهِ صِفاتِ الْمَصْنُوعِيْنَ، وَ لا يَحُدُّونَهُ بِالْاَماكِنِ، وَ لا يُشِيروُنَ اِلَيْهِ بِالنَّظائِرِ مِنها فِى صِفَهِ خَلْقِ آدَمَ عَلَيْهِالسَّلامُ ثُمَّ جَمَعَ سُبْحانَهُ مِنْ حَزْنِ الْاَرْضِ وَ سَهْلِها، وَ عَذْبِها وَ سَبَخِها، تُرْبَهً سَنَّها بِالْماءِ حَتّى خَلَصَتْ، وَ لا طَها بِالْبَلَّهِ حَتّى لَزُبَتْ، فَجَبَلَ مِنْها صُورَهً ذاتَ احْناءٍ وَ وُصُولٍ وَ اعضاءٍ وَ فُصُولٍ. اجْمَدَها حَتّى اسْتَمْسَكَتْ، وَ اَصْلَدَها حَتّى صَلْصَلَتْ، لِوَقْتٍ مَعْدُودٍ، وَ اَجَلٍ مَعْلُومٍ. ثُمَّ نَفَخَ فِيها مِن رُوحِهِ فَمَثْلَتْ اِنْسانا ذا اَذْهانٍ يُجِيلُها، وَ فِكْرٍ يَتَصَرَّفُ بِها، وَ جَوارِحِ يَخْتَدِمُهاِ. وَ اَدَواتٍ يُقَلَّبُها، وَ مَعْرِفَهٍ يَفْرُقُ بِها بَيْنَ الْحَقِّ وَالْباطِلِ وَالْاَذْواقِ وَالْمَشامِّ وَالاَلْوانِ وَالْاَجْناسِ، مَعْجُونا بِطِينَهِ الاَلْوانِ الْمُخْتَلِفَهِ، وَ الْاَشْباهِ الْمُؤتَلِفَهِ، وَالاَضْدادِ الْمُتَعادِيَهِ وَالاَخْلاطِ الْمُتَبايِنَهِ، مِنَ الْحَرِّ وَالْبَرْدِ، وَالْبِلَّهِ وَالْجُمُودِ، وَاسْتَاْدَى اللّهُ سُبْحانَهُ الْمَلائِكَهَ وَدِيعَتَهُ لَدَيْهِمْ وَ عَهْدَ وَصِيَّتِهِ الَيْهِمْ، فِى الاَذْعانِ بِالسُّجودِ لَهُ وَالْخُشُوعِ لِتَكْرِمَتِه فَقالَ سُبْحانَهُ: «اِسْجِدُوا لِآدَم فَسَجَدوا الا اِبْليسَ » اعْتَرَتْهُ الْحَمِيَّهُ وَ غَلَبَتْ عَلَيهِ الشِّقْوَهُ وَ تَعَزَّزَ بِخَلْقَهِ النّارِ، وَاسْتَوْهَنَ خَلْقَ الصَّلْصالِ، فَاَعْطاهُ اللّهُ النَّظَرَهَ اسْتِحْقاقا لِلسَّخْطَهِ وَاسْتِتْماما لِلْبَليَّهِ، وَانْجازا لِلْعِدَهِ، فَقالَ: اِنَّكَ مَنَ الْمُنْظَرينَ الى يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعلوُمِ. ثُمَّ اَسْكَنَ سُبْحانَهُ آدَمَ دارا اَرْغَدَ فِيها عِيشَتَهُ، وَ آمَنَ فِيها مَحَلَّتَهُ، وَ حَذَّرَهُ ابْليسَ وَ عَداوَتَهُ، فَاغْتَرَّهُ عَدُوُّهُ نَفاسَهً عَلَيْهِ بِدارِ الْمُقامِ وَ مُرافَقَهِ الاَبْرارِ، فَباعَ الْيَقِينَ بِشَكِّهِ وَالْعَزِيمَهَ بِوَهْنِهِ. وَ اسْتَبْدَلَ بِالْجَذَلِ وَ جَلاً، وَ بِالاَغْتِرارِ نَدَما ثُمَّ بَسَطَ اللّهُ سُبْحانَهُ لَهُ فِى تَوْبَتِهِ، وَ لَقّاهُ كَلِمَهَ رَحْمَتِهِ، وَ وَعَدَهُ الْمَردَّ اِلى جَنَّتِهِ، فَاَهْبَطَهُ الى دارِ البَلِيَّهِ، وَ تَناسُلِ الذُّرِّيَّهِ. اختیار الانبیاء وَ اصْطَفى سُبْحانَهُ مِنْ وَلَدِهِ اَنْبِياءَ اَخَذَ عَلَى الْوَحى مِيثاقَهُمْ، وَ عَلى تَبْليغِ الرِّسالَهِ اَمانَتَهُمْ، لَمّا بَدَّلَ اَكْثَرُ خَلْقِهِ عَهْدَ اللّهِ اِلَيْهِمْ فَجَهِلوا حَقَّهُ، وَ اتَّخِذوا الاَنْدادَ مَعَهُ، وَ اجْتَبالَتْهُمُ الشِّياطِينُ عَنْ مَعْرِفَتِهِ، وَ اقْتَطَعَتْهُمْ عَنْ عِبادَتِهِ، فَبَعثَ فِيهِمْ رُسُلَهُ وَ واتَرَ الَيْهِمْ اَنْبياءَهُ لِيَسْتَاْدُوهُمْ مِيْثاقَ فِطْرَتِهِ، وَ يُذَكِّرُوهُمْ مَنْسِىَّ نِعْمَتِهِ، وَ يَحْتَجُّوا عَلَيْهِمْ بِالتَّبْلِيغِ، وَ يُثِيرُوا لَهُمْ دَفائِنَ الْعُقُولِ وَ يُرُوهُمْ آياتِ الْمُقْدِرَهِ. مِن سَقْفٍ فَوْقَهُم مَرْفُوعٍ، وَ مِهادٍ تَحْتَهُم مَوْضُوعٍ، وَ مَعايِشَ تُحْيِيهِمْ، وَ آجالٍ تُفْنِيهمْ، وَ اَوْصابٍ تُهْرِمُهُمْ، وَ اَحْداثٍ تَتابَعُ عَلَيْهِمْ، وَ لَمْ يُخْلِ سُبْحانَهُ خَلْقَهُ مِنْ نَبِي مُرْسَلٍ، اَوْ كِتابٍ مُنْزَلٍ، اوْ حُجَّهٍ لازِمَهٍ، اوْ مَحَجَّهٍ قائِمَهٍ، رُسُلُ لا تُقَصِّرُ بِهِمْ قِلَّهُ عَدَدِهِمْ، وَ لا كَثْرَهُ الْمُكَذَّبِينَ لَهُمْ، مِنْ سابِقٍ سُمِّىَ لَهُ مَنْ بَعْدَهُ، اَوْ غابِرٍ عَرَّفَهُ مَنْ قَبْلَهُ. فلسفة مبعث النبی عَلى ذلكَ نَسَلَتِ الْقُرونُ، وَ مَضَتِ الدُّهُورُ، وَ سَلَفَتِ الاَباءُ، وَ خَلَفَتِ الاَبْناءُ. الى اَنْ بَعثَ اللّهُ سُبْحانَهُ مُحَمَّدَا رَسُولَ اللّهِ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ لاِنْجازِ عِدَتِهِ، وَ تَمامِ نُبُوَتِهِ، مَاخُوذا عَلى النَّبيِّينَ مِيْثاقُهُ، مَشْهُورَهً سِماتُهُ، كَرِيما مِيلادُهُ. وَ اَهْلُ الاَرْضِ يَوْمَئِذٍ مِلَلٌ مُتَفَرِّقَهٌ، وَ اَهْواءٌ مُنَتِشرَهٌ وَ طَرائِقُ مُتشَتِّتَهٌ، بَيْنَ مُشْبِّهٍ لِلّهِ بِخَلْقِهِ، اوْ مُلْحِدٍ فِى اسْمِهِ اَوْ مُشِيرٍ الى غَيْرِهِ، فَهَداهُمْ بِهِ مِنَ الضَّلالَهِ، وَ اَنْقَذَهُمْ بِمَكانِهِ مِنَ الْجَهالَهِ. ثُمَّ اخْتارَ سُبْحانَهُ لِمُحمَّدٍ صَلّى اللّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ لِقاءَهُ، وَ رَضِىَ لَهُ ما عِنْدَهُ وَ اَكْرَمَهُ عَنْ دارِ الدُّنْيا وَ رَغِبَ بِهِ عَنْ مُقارَنَهِ الْبَلْوى . فَقَبَضَهُ الَيْهِ كَريما صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ، وَ خَلَّفَ فِيكُمْ ما خَلَّفَتِ الاَنْبِياءُ فِى اُمَمِها اِذْ لَمْ يَتْرُكُوهُمْ هَمَلا، بِغَيْرِ طَرِيق واضِحٍ، وَ لا عَلَمٍ قائِمٍ. القرآن و الاحکام الشریعة كِتابَ رَبِّكُمْ فِيكُمْ مُبَيِّنا حَلالَهُ وَ حَرامَهُ وَ فَرائِضَهُ وَ فَضائِلَهُ وَ ناسِخَهُ وَ مَنْسُوخَهُ، وَ رُخَصَهُ وَ عَزائِمَهُ، وَ خاصَّهُ وَ عامَّهُ، وَ عِبَرَهُ وَ اَمْثالَهُ، وَ مُرْسَلَهُ وَ مَحْدُودَهُ، وَ مَحْكَمَهُ وَ مُتَشابِهَهُ. مُفَسِّرا مُجْمَلَهُ وَ مُبَيِّنا غَوامِضَهُ، بَيْنَ مَاخُوذٍ ميثاقُ فِى عِلْمِهِ وَ مُوَسِّعٍ عَلَى الْعِبادِ فِى جَهْلِهِ وَ بَيْنَ مُثْبَتٍ فِى الْكِتابِ فَرْضُهُ، وَ مَعْلُومٍ فِى السُّنَّهِ نَسْخُهُ، وَ واجِبٍ فِى السُّنَّهِ اخْذُهُ، وَ مُرَخَّصٍ فِى الْكِتابِ تَرْكُهُ، وَ بَيْنَ واجِبٍ بوقته، وَ زائِلٍ فِى مُسْتَقْبَلِهِ، وَ مُبايِنٌ بَيْنً مَحارِمِهِ مِنْ كَبيرٍ اوْعَدَ عَلَيْهِ نيرانَهُ، اَوْ صَغِيرٍ ارْصَدَ لَهُ غُفْرانَهُ. وَ بَيْنَ مَقْبُولٍ فِى اَدْناهُ مُوَسَّع فِى اَقْصاهُ مِنْها فِى ذِكْرِ الْحَجِّ وَ فَرَضَ عَلَيْكُمْ حَجَّ بَيْتِهِ الَّذِى جَعَلَهُ قِبْلَهً لِلاَنامِ يَرِدُونَهُ وُرُودَ الاَنْعامِ وَ يَاْلَهُونَ الَيْهِ وُلوهَ الْحَمامِ جَعَلَهُ سُبْحانَهُ عَلامَهً لِتَواضُعِهِمْ لِعَظَمَتِهِ وَ اذْعانِهِمْ لِعِزَّتِهِ، وَ اخْتارَ مِنْ خَلْقِهِ سُمّاعا اَجابُوا الَيْهِ دَعْوَتَهُ، وَ صَدَّقوا كَلِمَتَهُ، وَ وَقَفُوا مَواقِفَ اَنْبِيائِهِ، وَ تَشَبَّهوا بِمَلائِكَتِهِ الْمُطِيفِينَ بِعَرْشِهِ، يُحْرِزُونَ الاَرْباحَ فِى مَتْجَرِ عِبادَتِهِ وَ يَتَبادَرونَ عِنْدَهُ مَوْعِدَ مَغْفِرَتِهِ، جَعَلَهُ سُبْحانَهُ وَ تَعالِى لِلاسْلامِ عَلَما وَ لِلْعائِذِينَ حَرَما، فَرَضَ حَجَّهُ وَ اَوْجَبَ حَقَّهُ وَ كَتَبَ عَلَيْكُمْ وِفادَتَهُ فَقالَ سُبْحانَهُ: "وَ لِلّهِ عَلَى النّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطاعَ اِلَيْهِ سَبِيلاً وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّهَ غَنِىُّ عَنِ الْعالَمِين"

    اس میں ابتدائے آفرینش زمین و آسمان اور پیدائش آدم علیہ السلام کا ذکر فرمایا ہے تمام حمد اس اللہ کیلئے ہے ، جس کی مدح تک بولنے والوں کی رسائی نہیں، جس کی نعمتوں کو گننے والے گن نہیں سکتے، نہ کوشش کرنے والے اس کا حق ادا کر سکتے ہیں، نہ بلند پرواز ہمتیں اسے پا سکتی ہیں، نہ عقل و فہم کی گہرائیاں اس کی تہ تک پہنچ سکتی ہیں۔ اس کے کمالِ ذات کی کوئی حد معین نہیں، نہ اس کیلئے توصیفی الفاظ ہیں، نہ اس (کی ابتدا) کیلئے کوئی وقت ہے جسے شمار میں لایا جا سکے، نہ اس کی کوئی مدت ہے جو کہیں پر ختم ہو جائے۔ اس نے مخلوقات کو اپنی قدرت سے پیدا کیا، اپنی رحمت سے ہواؤں کو چلایا اور تھرتھراتی ہوئی زمین پر پہاڑوں کی میخیں گاڑیں۔ دین کی ابتدا [۱] اس کی معرفت ہے، کمالِ معرفت اس کی تصدیق ہے، کمالِ تصدیق توحید ہے، کمالِ توحید تنزیہ و اخلاص ہے اور کمالِ تنزیہ و اخلاص یہ ہے کہ اس سے صفتوں کی نفی کی جائے، کیونکہ ہر صفت شاہد ہے کہ وہ اپنے موصوف کی غیر ہے اور ہر موصوف شاہد ہے کہ وہ صفت کے علاوہ کوئی چیز ہے۔ لہٰذا جس نے ذاتِ الٰہی کے علاوہ صفات مانے اس نے ذات کا ایک دوسرا ساتھی مان لیا اور جس نے اس کی ذات کا کوئی اور ساتھی مانا اس نے دوئی پیدا کی اور جس نے دوئی پیدا کی اس نے اس کیلئے جز بنا ڈالا اور جو اس کیلئے اجزا کا قائل ہوا وہ اس سے بے خبر رہا اور جو اس سے بے خبر رہا اس نے اسے قابلِ اشارہ سمجھ لیا اور جس نے اسے قابلِ اشارہ سمجھ لیا اس نے اس کی حد بندی کر دی اور جو اسے محدود سمجھا وہ اسے دوسری چیزوں ہی کی قطار میں لے آیا اور جس نے یہ کہا کہ ’’وہ کس چیز میں ہے‘‘؟ اس نے اسے کسی شے کے ضمن میں فرض کر لیا اور جس نے یہ کہا کہ ’’وہ کس چیز پر ہے؟‘‘ اس نے اور جگہیں اس سے خالی سمجھ لیں۔ وہ ہے ہوا نہیں، موجود ہے مگر عدم سے وجود میں نہیں آیا، وہ ہر شے کے ساتھ ہے نہ جسمانی اتصال کی طرح، وہ ہر چیز سے علیحدہ ہے نہ جسمانی دوری کے طور پر، وہ فاعل ہے لیکن حرکات و آلات کا محتاج نہیں، وہ اس وقت بھی دیکھنے والا تھا جب کہ مخلوقات میں کوئی چیز دکھائی دینے والی نہ تھی، وہ یگانہ ہے اس لئے کہ اس کا کوئی ساتھی ہی نہیں ہے کہ جس سے وہ مانوس ہو اور اسے کھو کر پریشان ہو جائے۔ اس نے پہلے پہل خلق کو ایجاد کیا بغیر کسی فکر کی جولانی کے اور بغیر کسی تجربہ کے جس سے فائدہ اٹھانے کی اسے ضرورت پڑی ہو اور بغیر کسی حرکت کے جسے اس نے پیدا کیا ہو اور بغیر کسی ولولہ اور جوش کے جس سے وہ بیتاب ہوا ہو۔ ہر چیز کو اس کے وقت کے حوالے کیا، بے جوڑ چیزوں میں توازن و ہم آہنگی پیدا کی، ہر چیز کو جداگانہ طبیعت اور مزاج کا حامل بنایا اور ان طبیعتوں کیلئے مناسب صورتیں ضروری قرار دیں۔ وہ ان چیزوں کو ان کے وجود میں آنے سے پہلے جانتا تھا، ان کی حد و نہایت پر احاطہ کئے ہوئے تھا اور ان کے نفوس و اعضاء کو پہچانتا تھا۔ پھر یہ کہ اس نے کشادہ فضا، وسیع اطراف و اکناف اور خلا کی وسعتیں خلق کیں اور ان میں ایسا پانی بہایا جس کے دریائے مواج کی لہریں طوفانی اور بحر زخار کی موجیں تہ بہ تہ تھیں، اسے تیز ہوا اور تند آندھی کی پشت پر لادا، پھر اسے پانی کے پلٹانے کا حکم دیا اور اسے اس کے پابند رکھنے پر قابو دیا اور اسے پانی کی سرحد سے ملا دیا۔ اس کے نیچے ہوا دور تک پھیلی ہوئی تھی اور اوپر پانی ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ پھر اللہ سبحانہ نے اس پانی کے اندر ایک ہوا خلق کی جس کا چلنا بانجھ (بے ثمر) تھا اور اسے اس کے مرکز پر قرار رکھا، اس کے جھونکے تیز کر دیئے اور اس کے چلنے کی جگہ دور و دراز تک پھیلا دی، پھر اس ہوا کو مامور کیا کہ وہ پانی کے ذخیرے کو تھپیٹرے دے اور بحر بے کراں کی موجوں کو اچھالے۔ اس ہوا نے پانی کو یوں متھ دیا جس طرح دہی کے مشکیزے کو متھا جاتا ہے اور اسے دھکیلتی ہوئی تیزی سے چلی جس طرح خالی فضا میں چلتی ہے اور پانی کے ابتدائی حصے کو آخری حصے پر اور ٹھہرے ہوئے کو چلتے ہوئے پانی پر پلٹانے لگی، یہاں تک کہ اس متلاطم پانی کی سطح بلند ہو گئی اور وہ تہ بہ تہ پانی جھاگ دینے لگا، اللہ نے وہ جھاگ کھلی ہوا اور کشادہ فضا کی طرف اٹھائی اور اس سے ساتوں آسمان پیدا کئے۔ نیچے والے آسمان کو رکی ہوئی موج کی طرح بنایا اور اوپر والے آسمان کو محفوظ چھت اور بلند عمارت کی صورت میں اس طرح قائم کیا کہ نہ ستونوں کے سہارے کی حاجت تھی، نہ بندھنوں سے جوڑنے کی ضرورت۔ پھر ان کو ستاروں کی سج دھج اور روشن تاروں کی چمک دمک سے آراستہ کیا اور ان میں ضوپاش چراغ اور جگمگاتا چاند رواں کیا جو گھومنے والے فلک، چلتی پھرتی چھت اور جنبش کھانے والی لوح میں ہے۔ پھر خداوند عالم نے بلند آسمانوں کے درمیان شگاف پیدا کئے اور ان کی وسعتوں کو طرح طرح کے فرشتوں سے بھر دیا۔ کچھ ان میں سر بسجود ہیں جو رکوع نہیں کرتے، کچھ رکوع میں ہیں جو سیدھے نہیں ہوتے، کچھ صفیں باندھے ہوئے ہیں جو اپنی جگہ نہیں چھوڑتے اور کچھ پاکیزگی بیان کر رہے ہیں جو اکتاتے نہیں، نہ ان کی آنکھوں میں نیند آتی ہے، نہ ان کی عقلوں میں بھول چوک پیدا ہوتی ہے، نہ ان کے بدنوں میں سستی و کاہلی آتی ہے، نہ ان پر نسیان کی غفلت طاری ہوتی ہے۔ ان میں کچھ تو وحی الٰہی کے امین، اس کے رسولوں کی طرف پیغام رسانی کیلئے زبانِ حق اور اس کے قطعی فیصلوں اور فرمانوں کو لے کر آنے جانے والے ہیں، کچھ اس کے بندوں کے نگہبان اور جنت کے دروازوں کے پاسبان ہیں، کچھ وہ ہیں جن کے قدم زمین کی تہ میں جمے ہوئے ہیں (اور ان کی گردنیں بلند ترین آسمانوں سے بھی باہر نکلی ہوئی ہیں) اور ان کے پہلو اطراف عالم سے بھی آگے بڑھ گئے ہیں، ان کے شانے عرش کے پایوں سے میل کھاتے ہیں، عرش کے سامنے ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہیں اور اس کے نیچے اپنے پروں میں لپٹے ہوئے ہیں اور ان میں اور دوسری مخلوق میں عزت کے حجاب اور قدرت کے سرا پردے حائل ہیں۔ وہ شکل و صورت کے ساتھ اپنے رب کا تصور نہیں کرتے، نہ اس پر مخلوق کی صفتیں طاری کرتے ہیں، نہ اسے محل و مکان میں گھرا ہوا سمجھتے ہیں، نہ اشباہ و نظائر سے اس کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ [آدم علیہ السلام کی تخلیق کے بارے میں فرمایا:] پھر اللہ نے سخت و نرم اور شیریں و شورہ زار زمین سے مٹی جمع کی، اسے پانی سے اتنا بھگویا کہ وہ صاف ہو کر نتھر گئی اور تری سے اتنا گوندھا کہ اس میں لس پیدا ہو گیا، اس سے ایک ایسی صورت بنائی جس میں موڑ ہیں اور جوڑ، اعضاء ہیں اور مختلف حصے، اسے یہاں تک سکھایا کہ وہ خود تھم سکی اور اتنا سخت کیا کہ وہ کھنکھنانے لگی۔ ایک وقت معین اور مدت معلوم تک اسے یونہی رہنے دیا۔ پھر اس میں روح پھونکی تو وہ ایسے انسان کی صورت میں کھڑی ہو گئی جو قوائے ذہنی کو حرکت دینے والا، فکری حرکات سے تصرف کرنے والا، اعضاء و جوارح سے خدمت لینے والا اور ہاتھ پیروں کو چلانے والا ہے اور ایسی شناخت کا مالک ہے جس سے حق و باطل میں تمیز کرتا ہے اور مختلف مزوں، بوؤں، رنگوں اور جنسوں میں فرق کرتا ہے۔ خود رنگا رنگ کی مٹی اور ملتی جلتی ہوئی موافق چیزوں اور مخالف ضدوں اور متضاد خلطوں سے اس کا خمیر ہوا ہے، یعنی گرمی، سردی، تری، خشکی کا پیکر ہے۔ پھر اللہ نے فرشتوں سے چاہا کہ وہ اس کی سونپی ہوئی ودیعت ادا کریں اور اس کے پیمانِ وصیت کو پورا کریں جو سجدۂ آدمؑ کے حکم کو تسلیم کرنے اور اس کی بزرگی کے سامنے تواضع و فروتنی کیلئے تھا۔ اس لئے اللہ نے کہا کہ: ’’آدم علیہ السلام کو سجدہ کرو، ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا‘‘، اسے عصبیت نے گھیر لیا، بدبختی اس پر چھا گئی، آگ سے پیدا ہونے کی وجہ سے اپنے کو بزرگ و برتر سمجھا، اور کھنکھناتی ہوئی مٹی کی مخلوق کو ذلیل جانا، اللہ نے اسے مہلت دی تاکہ وہ پورے طور پر غضب کا مستحق بن جائے اور (بنی آدمؑ) کی آزمائش پایۂ تکمیل تک پہنچے اور وعدہ پورا ہو جائے۔ چنانچہ اللہ نے اس سے کہا کہ: ’’تجھے وقت معین کے دن تک کی مہلت ہے‘‘۔ پھر اللہ نے آدم علیہ السلام کو ایسے گھر میں ٹھہرایا جہاں ان کی زندگی کو خوشگوار رکھا، انہیں شیطان اور اس کی عداوت سے بھی ہوشیار کر دیا، لیکن ان کے دشمن نے ان کے جنت میں ٹھہرنے اور نیکو کاروں میں مل جل کر رہنے پر حسد کیا اور آخر کار انہیں فریب دے دیا۔ آدم علیہ السلام نے یقین کو شک اور ارادے کے استحکام کو کمزوری کے ہاتھوں بیچ ڈالا، مسرت کو خوف سے بدل لیا اور فریب خوردگی کی وجہ سے ندامت اٹھائی۔ پھر اللہ نے آدم علیہ السلام کیلئے توبہ کی گنجائش رکھی، انہیں رحمت کے کلمے سکھائے، جنت میں دوبارہ پہنچانے کا ان سے وعدہ کیا اور انہیں دارِ ابتلا و محل افزائشِ نسل میں اتار دیا۔ اللہ سبحانہ نے ان کی اولاد سے انبیاء علیہم السلام چنے، وحی پر ان سے عہد و پیمان لیا، تبلیغ رسالت کا انہیں امین بنایا، جبکہ اکثر لوگوں نے اللہ کا عہد بدل دیا تھا، چنانچہ وہ اس کے حق سے بے خبر ہو گئے اوروں کو اس کا شریک بنا ڈالا، شیاطین نے اس کی معرفت سے انہیں روگرداں اور اس کی عبادت سے الگ کر دیا۔ اللہ نے ان میں اپنے رسولؑ مبعوث کئے اور لگاتار انبیاءؑ بھیجے تاکہ ان سے فطرت کے عہد و پیمان پورے کرائیں، اس کی بھولی ہوئی نعمتیں یاد دلائیں، پیغامِ ربانی پہنچا کر حجت تمام کریں، عقل کے دفینوں کو ابھاریں اور انہیں قدرت کی نشانیاں دکھائیں: یہ سروں پر بلند بام آسمان، ان کے نیچے بچھا ہوا فرشِ زمیں، زندہ رکھنے والا سامانِ معیشت، فنا کرنے والی اجلیں، بوڑھا کر دینے والی بیماریاں اور پے در پے آنے والے حادثات۔ اللہ سبحانہ نے اپنی مخلوق کو بغیر کسی فرستادہ پیغمبرؑ یا آسمانی کتاب یا دلیلِ قطعی یا طریق روشن کے کبھی یونہی نہیں چھوڑا۔ ایسے رسولؑ، جنہیں تعداد کی کمی اور جھٹلانے والوں کی کثرت درماندہ و عاجز نہیں کرتی تھی، ان میں کوئی سابق تھا جس نے بعد میں آنے والے کا نام و نشان بتایا، کوئی بعد میں آیا جسے پہلا پہچنوا چکا تھا۔ اسی طرح مدتیں گزر گئیں، زمانے بیت گئے، باپ داداؤں کی جگہ پر ان کی اولادیں بس گئیں۔ یہاں تک کہ اللہ سبحانہ نے ایفائے عہد و اِتمام نبوت کیلئے محمد ﷺ کو مبعوث کیا، جن کے متعلق نبیوں سے عہد و پیمان لیا جا چکا تھا، جن کے علاماتِ (ظہور) مشہور، محل ولادت مبارک و مسعود تھا۔ اس وقت زمین پر بسنے والوں کے مسلک جدا جدا، خواہشیں متفرق و پراگندہ اور راہیں الگ الگ تھیں۔ یوں کہ کچھ اللہ کو مخلوق سے تشبیہ دیتے، کچھ اس کے ناموں کو بگاڑ دیتے، کچھ اسے چھوڑ کر اوروں کی طرف اشارہ کرتے تھے۔ خداوند عالم نے آپؐ کی وجہ سے انہیں گمراہی سے ہدایت کی راہ پر لگایا اور آپ کے وجود سے انہیں جہالت سے چھڑایا۔ پھر اللہ سبحانہ نے محمد ﷺ کو اپنے لقاء و قرب کیلئے چنا، اپنے خاص انعامات آپؐ کیلئے پسند فرمائے اور دارِ دنیا کی بود و باش سے آپؐ کو بلند تر سمجھا اور زحمتوں سے گھری ہوئی جگہ سے آپؐ کے رخ کو موڑا اور دنیا سے با عزت آپؐ کو اٹھا لیا۔ حضرتؐ تم میں اسی طرح کی چیز چھوڑ گئے جو انبیاءؑ اپنی اُمتوں میں چھوڑتے چلے آئے تھے۔ اس لئے کہ وہ طریق واضح و نشانِ محکم قائم کئے بغیر یوں ہی بے قید و بند انہیں نہیں چھوڑتے تھے۔ پیغمبر ﷺ نے تمہارے پروردگار کی کتاب تم میں چھوڑی ہے۔ اس حالت میں کہ انہوں نے کتاب [۲] کے حلال و حرام، واجبات و مستحبات، ناسخ و منسوخ، رخص و عزائم، خاص و عام، عبر و امثال، مقید و مطلق، محکم و متشابہ کو واضح طور سے بیان کر دیا، مجمل آیتوں کی تفسیر کر دی، اس کی گتھیوں کو سلجھا دیا۔ اس میں کچھ آیتیں وہ ہیں جن کے جاننے کی پابندی عائد کی گئی ہے اور کچھ وہ ہیں کہ اگر اس کے بندے ان سے ناواقف رہیں تو مضائقہ نہیں۔ کچھ احکام ایسے ہیں جن کا وجوب کتاب سے ثابت ہے اور حدیث سے ان کے منسوخ ہونے کا پتہ چلتا ہے اور کچھ احکام ایسے ہیں جن پر عمل کرنا حدیث کی رُو سے واجب ہے لیکن کتاب میں ان کے ترک کی اجازت ہے۔ اس کتاب میں بعض واجبات ایسے ہیں جن کا وجوب وقت سے وابستہ ہے اور زمانہ آئندہ میں ان کا وجوب برطرف ہو جاتا ہے۔ قرآن کے محرمات میں بھی تفریق ہے: کچھ کبیرہ ہیں جن کیلئے آتش جہنم کی دھمکیاں ہیں اور کچھ صغیرہ ہیں جن کیلئے مغفرت کے توقعات پیدا کئے ہیں، کچھ اعمال ایسے ہیں جن کا تھوڑا سا حصہ بھی مقبول ہے اور زیادہ سے زیادہ اضافہ کی گنجائش رکھی ہے۔ [اسی خطبہ میں حج کے سلسلہ میں فرمایا:] اللہ نے اپنے گھر کا حج تم پر واجب کیا جسے لوگوں کا قبلہ بنایا ہے، جہاں لوگ اس طرح کھنچ کر آتے ہیں جس طرح پیاسے حیوان پانی کی طرف اور اس طرح وارفتگی سے بڑھتے ہیں جس طرح کبوتر اپنے آشیانوں کی جانب۔ اللہ جل شانہ نے اس کو اپنی عظمت کے سامنے ان کی فروتنی و عاجزی اور اپنی عزت کے اعتراف کا نشان بنایا ہے۔ اس نے اپنی مخلوق میں سے سننے والے لوگ چن لئے جنہوں نے اس کی آواز پر لبیک کہی اور اس کے کلام کی تصدیق کی، وہ انبیاء علیہم السلام کی جگہوں پر ٹھہرے، عرش پر طواف کرنے والے فرشتوں سے شباہت اختیار کی، وہ اپنی عبادت کی تجارت گاہ میں منفعتوں کو سمیٹتے ہیں اور اس کی وعدہ گاہ ِمغفرت کی طرف بڑھتے ہیں۔ اللہ سبحانہ نے اس گھر کو اسلام کا نشان (اور) پناہ چاہنے والوں کیلئے حرم بنایا ہے، اس کا حج فرض اور ادائیگی حق کو واجب کیا ہے اور اس کی طرف راہ نوردی فرض کر دی ہے۔ چنانچہ اللہ نے قرآن میں فرمایا:’’اللہ کا واجب الادا حق لوگوں پر یہ ہے کہ وہ خانہ کعبہ کا حج کریں جنہیں وہاں تک پہنچنے کی استطاعت ہو اور جس نے کفر کیا تو جان لے کہ اللہ سارے جہان سے بے نیاز ہے‘‘۔

  2. خطبہ 2- عرب قبل از بعثت، اہل بیتؑ کی فضیلت اور ایک جماعت کی منقصت

    2

    اَحْمَدُهُ اسْتِتْماما لِنِعْمَتِهِ، وَ اسْتِسْلاما لِعِزَّتِهِ، وَ اسْتِعْصاما مِنْ مَعْصِيَتِهِ، وَ اَسْتَعِينُهُ فاقَهً الى كِفايَتِهِ انَّهُ لا يَضِلُّ مَنْ هَداهُ وَ لا يَئِلُ مَنْ عاداهُ وَ لا يَفْتَقِرُ مَنْ كَفاهُ، فَانَّهُ اَرْجَحُ ما وُزِنَ وَ اَفْضَلُ ما خُزِنَ وَ اَشْهَدُ اَنْ لا الهَ الا اللّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ، شَهادَهً مُمْتَحَنا اخْلاصُها، مُعْتَقَدا مُصاصُهِّا، نَتَمَسَّكُ بِها اَبَدا ما ابْقانا، وَ نَدَّخِرُها لاَهاوِيلِ ما يَلْقانا فِانَّها عَزِيمَهُ الايمانِ، وَ فاتِحَهُ الاحْسانِ وَ مَرْضاهُ الرّحمنِ، وَ مَدْحَرَهُ الشِّيْطانِ. وَ اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدا عَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ، اَرْسَلَهُ بِالدِّينِ الْمَشْهُورِ، وَ الْعِلْمِ المَاثُورِ، وَ الْكِتابِ الْمَسْطُورِ، وَ النُّورِ السّاطِعِ، وَ الضِّياءِ اللامِعِ، وَ الْاَمْرِ الصّادِعِ، اِزاحَهً لِلشُّبُهاتِ وَ احْتِجاجا بِالبَيِّناتِ وَ تَحْذِيرا بِالْآياتِ، وَ تَخْوِيفا بِالمُثلاتِ وَ النّاسُ فِى فِتَنٍ انْجَذَمَ فِيها حَبْلُ الدّينِ وَ تَزَعْزَعَتْ سَوارِى الْيَقينِ، وَ اخْتَلَفَ النَّجْرُ وَ تَشَتَّتَ الْاَمْرُ، وَ ضاقَ الْمَخْرَجُ، وَ عَمِىَ الْمَصْدَرُ فَالْهُدى خامِلٌ، وَ الْعَمى شامِلٌ. عُصِىَ الرَّحْمنُ، وَ نُصِرَ الشَّيْطانُ، وَ خُذِلَ الْإیمانُ، فَانْهارَتْ دَعائِمُهُ، وَ تَنَكَّرَتْ مَعالِمُهُ، وَ دَرَسَتْ سُبُلُهُ، وَ عَفَتْ شُرُكُهُ. اَطاعُوا الشَّيْطانَ فسَلكُوا مَسالِكَهُ، و وَرَدُوا مَناهِلَهُ، بِهِمْ سارَتْ اَعْلامُهُ، وَ قامَ لِواؤُهُ، فِى فِتَنٍ داسَتْهُمْ بِاَخْفافِها، وَ وَطِئَتْهُمْ بِاَظْلافِها وَ قامَتْ عَلى سَنابِكِها، فَهُمْ فِيها تائِهُونَ حائِرونَ جاهِلُونَ مَفْتُونُونَ فِى خَيْرِ دارٍ وَ شَرِّ جِيرانٍ، نَوْمُهُمْ سُهُودٌ، وَ كُحْلُهُمْ دُمُوعٌ، بِاَرْضٍ عالِمُها مُلْجَمٌ . وَ جاهِلُها مُكْرَمٌ وَ مِنْها يَعْنِى آلَ النَّبِىَ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ وَ سَلَّم هُمْ مَوْضِعُ سِرِّهِ وَ لَجَاءُ اَمّرِهِ، وَ عَيْبَهُ عِلْمِهِ، وَ مَوئِلُ حُكْمِهِ، وَ كُهُوفُ كُتُبِهِ، وَ جِبالُ دِينِه بِهِمْ اَقامَ انْحِناءَ ظَهْرِهِ وَ اَذْهَبَ ارْتِعادَ فَرائِصِهِ. وَ مِنْهَا [فِي الْمُنَافِقِينَ‏] يَعْنِي قَوْماً آخَرِينَ‏: زَرَعُوا الْفُجُورَ، وَ سَقَوْهُ الْغُرُورَ، وَ حَصَدُوا الثُّبُورَ، منزلة آل محمد(ص) لا يُقاسُ بِآلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ مَنْ هذِهِ الامَّهِ اءَحَدٌ وَ لا يُسوَّى بِهِمْ مَنْ جَرَتْ نِعْمَتُهُمْ عَلَيْهِ اَبَدا، هُمْ اَساسُ الدِّينِ، وَ عِمادُ الْيَقينِ، إلَيْهِمْ يَفِىءُ الْغالِى ، وَ بِهِمْ يِلْحَقُ التّالِى وَ لَهُمْ خَصائِصُ حَقِّ الْوِلايَهِ، وَ فِيهِمْ الْوَصِيَّهُ وَ الْوِراثَهُ، الآنَ اذْ رَجَعَ الْحَقُّ الى اهلِهِ وَ نُقِلَ الى مُنتَقَلِهِ.

    صفین سے پلٹنے کے بعد فرمایا اللہ کی حمد و ثنا کرتا ہوں، اس کی نعمتوں کی تکمیل چاہنے، اس کی عزت و جلال کے آگے سر جھکانے اور اس کی معصیت سے حفاظت حاصل کرنے کیلئے اور اس سے مدد مانگتا ہوں اس کی کفایت و دستگیری کا محتاج ہونے کی وجہ سے۔ جسے وہ ہدایت کرے وہ گمراہ نہیں ہوتا، جسے وہ دشمن رکھے اسے کوئی ٹھکانا نہیں ملتا، جس کا وہ کفیل ہو وہ کسی کا محتاج نہیں رہتا۔ یہ (حمد اور طلب ِامداد) وہ ہے جس کا ہر وزن میں آنے والی چیز سے پلہ بھاری ہے اور ہر گنجِ گراں مایہ سے بہتر و برتر ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں جو یکتا و لاشریک ہے، ایسی گواہی جس کا خلوص پرکھا جا چکا ہے اور جس کا نچوڑ بغیر کسی شائبہ کے دل کا عقیدہ بن چکا ہے، زندگی بھر ہم اسی سے وابستہ رہیں گے اور اسی کو پیش آنے والے خطرات کیلئے ذخیرہ بنا کر رکھیں گے، یہی گواہی ایمان کی مضبوط بنیاد اور حسنِ عمل کا پہلا قدم اور اللہ کی خوشنودی کا ذریعہ اور شیطان کی دوری کا سبب ہے۔ اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے عبد اور رسول ہیں، جنہیں شہرت یافتہ دین، منقول شدہ نشان، لکھی ہوئی کتاب [۱] ، ضوفشاں نور، چمکتی ہوئی روشنی اور فیصلہ کن امر کے ساتھ بھیجا، تاکہ شکوک و شبہات کا ازالہ کیا جائے اور دلائل (کے زور) سے حجت تمام کی جائے، آیتوں کے ذریعے ڈرایا جائے اور عقوبتوں سے خوف زدہ کیا جائے۔ (اس وقت حالت یہ تھی کہ) لوگ ایسے فتنوں میں مبتلا تھے جہاں دین کے بندھن شکستہ، یقین کے ستون متزلزل، اصول مختلف اور حالات پراگندہ تھے، نکلنے کی راہیں تنگ و تار تھیں، ہدایت گمنام اور ضلالت ہمہ گیر تھی۔ (کھلے خزانوں) اللہ کی مخالفت ہوتی تھی اور شیطان کو مدد دی جا رہی تھی، ایمان بے سہارا تھا، چنانچہ اس کے ستون گر گئے، اس کے نشان تک پہچاننے میں نہ آتے تھے، اس کے راستے مٹ مٹا گئے، اور شاہرا ہیں اجڑ گئیں۔ وہ شیطان کے پیچھے لگ کر اس کی راہوں پر چلنے لگے اور اس کے گھاٹ پر اتر پڑے، انہی کی وجہ سے اس کے پھریرے ہر طرف لہرانے لگے تھے، ایسے فتنوں میں جو انہیں اپنے سموں سے روندتے اور اپنے کُھروں سے کچلتے تھے اور اپنے پنجوں کے بَل مضبوطی سے کھڑے ہوئے تھے۔ تو وہ لوگ ان میں حیران و سرگرداں، جاہل و فریب خوردہ تھے، ایک ایسے گھر میں جو خود اچھا [۲] ، مگر اس کے بسنے والے برے تھے، جہاں نیند کے بجائے بیداری اور سرمے کی جگہ آنسو تھے۔ اس سر زمین پر عالم کے منہ میں لگام تھی اور جاہل معزز و سرفراز تھا۔ [اسی خطبہ کا ایک حصہ جو اہل بیت نبی علیہم السلام سے متعلق ہے] وہ سرِ خدا کے امین اور اس کے دین کی پناہ گاہ ہیں، علمِ الٰہی کے مخزن اور حکمتوں کے مرجع ہیں، کتب (آسمانی) کی گھاٹیاں اور دین کے پہاڑ ہیں۔ انہی کے ذریعے اللہ نے اس کی پشت کا خم سیدھا کیا اور اس کے پہلوؤں سے ضعف کی کپکپی دور کی۔ [اسی خطبہ کا ایک حصہ جو دوسروں سے متعلق ہے] انہوں نے فسق و فجور کی کاشت کی، غفلت و فریب کے پانی سے اسے سینچا اور اس سے ہلاکت کی جنس حاصل کی۔ اس اُمت میں کسی کو آلِ محمد علیہم السلام پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ جن لوگوں پر ان کے احسانات ہمیشہ جاری رہے ہوں وہ ان کے برابر نہیں ہو سکتے۔ وہ دین کی بنیاد اور یقین کے ستون ہیں۔ آگے بڑھ جانے والے کو ان کی طرف پلٹ کر آنا ہے اور پیچھے رہ جانے والے کو ان سے آ کر ملنا ہے۔ حق ولایت کی خصوصیات انہی کیلئے ہیں اور انہی [۳] کے بارے میں (پیغمبرؐ کی) وصیت اور انہی کیلئے (نبیؐ کی) وراثت ہے۔ اب یہ وقت وہ ہے کہ حق اپنے اہل کی طرف پلٹ آیا اور اپنی صحیح جگہ پر منتقل ہو گیا۔

  3. خطبہ 3- (خطبہ شقشقیہ) خلفائے ثلاثہ کی حکومت کے بارے میں آپؑ کا نظریہ

    3

    أَمَا وَالله لَقَدْ تَقَمَّصَها فُلانٌ (ابْنُ اَبى قُحافَةَ) ، وَ اِنَّهُ لَيَعْلَمُ اَنَّ مَحَلّى مِنْها مَحَلُّ الْقُطْبِ مِنَ الرِّحى يَنْحَدِرُ عَنِّى السَّيلُ وَ لا يَرْقى اِلَىَّ الطَّيْرُ. فَسَدَلْتُ دُونَها ثَوْبَا وَ طَوَيْتُ عَنْها كَشْحا، وَ طَفِقْتُ ارْتَئى بَيْنَ انْ اَصُولَ بِيدٍ جَذّاءَ اوْ اصْبِرَ عَلَى طَخْيَهٍ عَمْياءَ يَهْرَمُ فِيهَا الْكَبِيرُ وَ يَشِيبُ فِيهَا الصَّغِيرُ، وَ يَكْدَحُ فِيها مُومِنٌ حَتّى يَلْقى رَبِّهُ، فَرَاَيْتُ اَنَّ الصَّبْرَ عَلى هاتا اَحْجى فَصَبْرَتُ وَ فِى الُعَيْنِ قَذىً، وَ فِى الْحَلْقِ شَجا، اَرى تُراثىِ نَهْبا حَتّى مَضَى الاَوَّلُ لِسَبِيلِهِ فَأَدْلَى بِهَا إِلَى فُلاِنٍ (ابْنِ الْخَطّابِ) بَعْدَهُ. (ثم تمثل بقول الاعشى) «شَتّانَ ما يَوْمِى عَلى كُوْرَها وَ يَوْمُ حَيّانَ اَخِى جابِرٍ» فَيا عَجَبا بَيْنا هُوَ يَسْتَقِيلُها فِى حَياتِهِ إذْ عَقَدَها لِآخَرَ بَعْدَ وَفاتِهِ، لَشَدَّ ما تَشَطَّرا ضَرْعَيْها، فَصَيَّرَها فِى حوْزَهٍ خَشْناءَ، يَغْلُظُ كَلْمُها وَ يَخْشُنُ مَسُّها، وَ يَكْثُرُ الْعِثارُ فيها، وَ الْاعْتِذارُ مِنْها فَصاحِبُها كَراكِبِ الصَّعْبَهِ إنْ اَشْنَقَ لَها خَرَمَ، وَ إنْ اسْلَسَ لَها تَقَحَّمَ، فَمُنِىَ النّاسُ لَعَمْرُ اللّهِ، بِخَبْطٍ وَ شِماسٍ، وَ تَلَوُّنٍ وَ اعْتِراضٍ، فَصَبَرْتُ عَلى طُولِ الْمُدَّهِ وَ شِدَّهِ الْمِحْنَهِ. حَتّى اذا مَضى لِسَبِيلِه، جَعَلَها فِى جَماعَهٍ زَعَمَ اَنِّى اَحَدُهُمْ، فَياللّهِ وَ لِلشُّورى ، مَتَى اعْتَرَضَ الرَّيْبُ فِىَّ مَعَ الْاَوَّلِ مِنْهُمْ حَتّى صِرْتُ اُقْرَنُ الى هذِهِ النَّظائِرِ لكِنِّى اَسْفَفْتُ اذْ اَسَفُّوا وَ طِرْتُ اذْ طارُواْ، فَصَغا رَجُلٌ مِنْهُمْ لِضِغْنِهِ، وَ مالَ الْآخَرُ لِصِهْرِهِ، مَعَ هَنٍ وَ هَنٍ. إلى اَنْ قامَ ثالِثُ الْقومِ نافِجا حِضْنَيْهِ بَيْنَ نَشِيلِهِ وَ مُعْتَلَفِهِ، وَ قامَ مَعَهُ بَنُو اَبِيهِ يَخْضِمُونَ مالَ اللّهِ خَضْمَه الابِلِ نِبْتَهَ الرَّبِيعِ، الى اَنِ انْتَكَثَ فَتْلُهُ، وَ اَجْهَزَ عَلَيْهِ عَمَلُهُ وَ كَبَتْ بِهِ بِطْنَتُهُ. فما راعَنِى الا وَ النّاسُ كَعُرْفِ الضَّبُع الَىَّ يَنْثالُونَ عَلَىَّ مِنْ كُلِّ جانِبٍ، حَتّى لَقَدْ وُطِىءَ الْحَسَنانِ، وَ شُقَّ عِطافِى ، مُجْتَمِعِينَ حَوْلِى كَرَبِيضَهِ الْغَنَم فَلَمّا نَهَضتُ بِالْامْرِ نَكَثَتْ طائِفَهٌ وَ مَرَقَتْ اُخْرى وَ قَسَطَ آخَرُونَ كَاَنَّهُمْ لَمْ يِسْمَعُوا اللّهَ سُبْحانَهُ يِقُولُ: "تِلْكَ الدّارُ الاخِرَهُ نَجْعَلُها لِلَّذِينَ لا يُرِيدُونَ عُلُوَّا فِى الْاَرْضِ وَ لا فَسادا وَ الْعاقِبَهُ لِلْمُتَّقِينَ"، بَلى وَ اللّهِ لَقَدْ سَمِعُوها وَ وَعَوْها، وَ لكِنَّهُمْ حَلِيَتِ الدُّنْيا فِى اَعْيُنِهِمْ وَ راقَهُم زِبرِجُها. اَما وَ الَّذِى فَلَقَ الحَبَّهَ، وَ بَرَاءَ النَّسَمَهَ لَوْلا حُضُورُ الْحاضِرِ وَ قِيامُ الْحُجَّهِ بِوُجُودِ النّاصِرِ، وَ ما اَخَذَ اللّهُ عَلَى الْعُلَماءِ اَنْ لا يُقارُّوا عَلى كِظَّهَ ظالِم وَ لا سَغَبِ مَظلُومٍ لاْلَقْيْتُ حَبْلَها عَلى غارِبها وَ لَسَقَيْتُ آخِرَها بِكَاْسِ اوَّلِها، وَ لالْفَيْتُمْ دُنْياكُمْ هذِهِ اَزْهَدَ عِنْدى مِنْ عَفْطَهِ عَنْزٍ قالُوا: وَ قامَ إلَيْهِ رَجُلُ مِنْ اَهْلِ السَّوادِ عِنْدَ بُلُوغِهِ الى هذَا الْمَوْضِعِ مِنْ خُطْبَتِهِ، فَناوَلَهُ كِتابا فَاَقْبَلَ يَنْظُرُ فِيهِ. (فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَتِهِ) قَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ يَا اَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَوِ اطَّرَدَتْ مَقالَتَكَ مِنْ حَيْثُ اَفْضَيْتَ فَقَالَ هَيْهَاتَ يَابْنَ عَبَّاسٍ تِلْكَ شِقْشِقَةٌ هَدَرَتْ ثُمَّ قَرَّت. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَوَاللَّهِ مَا اَسَفْتُ عَلَى كَلاَمٍ قَطُّ كَاَسَفِي أَلاَّ يكون اَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ (ع) بَلَغَ مِنْهُ حَيْثُ اَرَادَ. قال الشريف الرضي: قَوْلُهُ (ع) فِى هذِهِ الْخُطْبَهِ «كَراكِبِ الصَّعْبَةِ إنْ اَشْنَقَ لَها خَرَمْ وَ إِنْ اَسْلَسْ لَها تَقَحَّمَ» يُريدُ انَّهُ إذا شَدَّدَ عَلَيْها فِي جَذْبِ الْزَّمامِ وَ هِىَّ تُنازِعُهُ رَاْسَها خَرَمَ اَنْفَها و إِنْ اَرْخى لَها شَيْئَا مَعَ صُعُوبَتِها تَقَحَّمَتْ بِهِ فَلَمْ يَمْلِكْها، يُقالُ: اشْنَقَ الْنَاقَةَ إذا جَذَبَ رَاْسَها بِالزَّمامِ فَرَفَعَهُ وَ شَنَقَها اَيْضا. ذَكَرَ ذلِكَ ابْنُ السِّكَّيتِ فِي إصْلاحِ الْمَنْطِقِ وَ إِنَّما قالَ (ع) : «اَشْنَقَ لَها)» وَ لَمْ يَقُلْ «اَشْنَقَها» لانَّهُ جَعَلَهُ فِي مُقابَلَةِ قَوْلِهِ «اَسْلَسَ لَها » فَكَاَنَّهُ (ع) قالَ: إنْ رَفَعَ لَها رَاسَها بِمَعْنى اَمْسَكَهُ عَلَيْها بِالزَّمامِ

    یہ خطبہ ’’ شقشقیہ‘‘ کے نام سے مشہور ہے خدا کی قسم! فرزند ابو قحافہ نے پیراہنِ خلافت [۲] پہن لیا، حالانکہ وہ میرے بارے میں اچھی طرح جانتا تھا کہ میرا خلافت میں وہی مقام ہے جو چکی کے اندر اس کی کیلی کا ہوتا ہے۔ میں وہ (کوہ بلند ہوں) جس پر سے سیلاب کا پانی گزر کر نیچے گر جاتا ہے اور مجھ تک پرندہ پر نہیں مار سکتا۔ (اس کے باوجود) میں نے خلافت کے آگے پردہ لٹکا دیا اور اس سے پہلو تہی کر لی اور سوچنا شروع کیا کہ اپنے کٹے ہوئے ہاتھوں سے حملہ کروں یا اس سے بھیانک تیرگی پر صبر کر لوں، جس میں سن رسیدہ بالکل ضعیف اور بچہ بوڑھا ہو جاتا ہے اور مومن اس میں جدوجہد کرتا ہوا اپنے پروردگار کے پاس پہنچ جاتا ہے۔ مجھے اس اندھیر پر صبر ہی قرینِ عقل نظر آیا۔ لہٰذا میں نے صبر کیا، حالانکہ آنکھوں میں (غبار اندوہ کی )خلش تھی اور حلق میں (غم و رنج کے) پھندے لگے ہوئے تھے۔ میں اپنی میراث کو لٹتے دیکھ رہا تھا۔ یہاں تک کہ پہلے نے اپنی راہ لی اور اپنے بعد خلافت ابنِ خطاب کو دے گیا۔ پھر حضرتؑ نے بطورِ تمثیل اعشیٰ کا یہ شعر پڑھا ’’کہاں یہ دن جو ناقہ کے پالان پر کٹتا ہے اور کہاں وہ دن جو حیان برادرِ جابر کی صحبت میں گزرتا تھا‘‘۔ تعجب ہے کہ وہ زندگی میں تو خلافت سے سبکدوش ہونا چاہتا تھا، لیکن اپنے مرنے کے بعد اس کی بنیاد دوسرے کیلئے استوار کرتا گیا۔ بے شک ان دونوں نے سختی کے ساتھ خلافت کے تھنوں کو آپس میں بانٹ لیا۔ اس نے خلافت کو ایک سخت و درشت محل میں رکھ دیا جس کے چرکے کاری تھے، جس کو چھو کر بھی درشتی محسوس ہوتی تھی، جہاں بات بات میں ٹھوکر کھانا اور پھر عذر کرنا تھا، جس کا اس سے سابقہ پڑے وہ ایسا ہے جیسے سرکش اونٹنی کا سوار کہ اگر مہار کھینچتا ہے تو (اس کی منہ زوری سے) اس کی ناک کا درمیانی حصہ ہی شگافتہ ہوا جاتا ہے (جس کے بعد مہار دینا ہی ناممکن ہو جائے گا) اور اگر باگ کو ڈھیلا چھوڑ دیتا ہے تو وہ اس کے ساتھ مہلکوں میں پڑ جائے گا۔ اس کی وجہ سے بقائے ایزد کی قسم! لوگ کجروی، سرکشی، متلون مزاجی اور بے راہ روی میں مبتلا ہو گئے۔ میں نے اس طویل مدت اور شدید مصیبت پر صبر کیا۔ یہاں تک کہ دوسرا بھی اپنی راہ لگا، اور خلافت [۴] کو ایک جماعت میں محدود کر گیا اور مجھے بھی اس جماعت کا ایک فرد خیال کیا۔ اے اللہ! مجھے اس شوریٰ سے کیا لگاؤ؟ ان میں سب سے پہلے کے مقابلہ ہی میں میرے استحقاق و فضیلت میں کب شک تھا جو اَب ان لوگوں میں مَیں بھی شامل کر لیا گیا ہوں۔ مگر میں نے یہ طریقہ اختیار کیا تھا کہ جب وہ زمین کے نزدیک ہو کر پرواز کرنے لگیں تو میں بھی ایسا ہی کرنے لگوں اور جب وہ اونچے ہو کر اڑنے لگیں تو میں بھی اسی طرح پرواز کروں (یعنی حتی الامکان کسی نہ کسی صورت سے نباہ کرتا رہوں [۵] )۔ ان میں سے ایک شخص تو کینہ و عناد کی وجہ سے مجھ سے منحرف ہو گیا اور دوسرا دامادی اور بعض ناگفتہ بہ باتوں کی وجہ سے ادھر جھک گیا۔ یہاں تک کہ اس قوم کا تیسرا شخص پیٹ پھلائے سرگین اور چارے کے درمیان کھڑا ہوا اور اس کے ساتھ اس کے بھائی بند اٹھ کھڑے ہوئے جو اللہ کے مال کو اس طرح نگلتے تھے جس طرح اونٹ فصل ربیع کا چارہ چرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ وقت آ گیا جب اس کی بٹی ہوئی رسی کے بل کُھل گئے اور اس کی بداعمالیوں نے اس کا کام تمام کر دیا اور شکم پری نے اسے منہ کے بل گرا دیا۔ اس وقت مجھے لوگوں کے ہجوم نے دہشت زدہ کر دیا جو میری جانب بجُّو کے ایال کی طرح ہر طرف سے لگاتار بڑھ رہا تھا، یہاں تک کہ عالم یہ ہوا کہ حسنؑ اور حسینؑ کچلے جا رہے تھے اور میری رِدا کے دونوں کنارے پھٹ گئے تھے۔ وہ سب میرے گرد بکریوں کے گلے کی طرح گھیرا ڈالے ہوئے تھے۔ مگر اس کے باوجود جب میں امر خلافت کو لے کر اٹھا تو ایک گروہ نے بیعت توڑ ڈالی اور دوسرا دین سے نکل گیا اور تیسرے گروہ نے فسق اختیار کر لیا۔ گویا انہوں نے اللہ کا یہ ارشاد سنا ہی نہ تھا کہ: ’’یہ آخرت کا گھر ہم نے ان لوگوں کیلئے قرار دیا ہے جو دنیا میں نہ (بے جا) بلندی چاہتے ہیں، نہ فساد پھیلاتے ہیں اور اچھا انجام پرہیز گاروں کیلئے ہے‘‘۔ ہاں ہاں خدا کی قسم! ان لوگوں نے اس آیت کو سنا تھا اور یاد کیا تھا، لیکن ان کی نگاہوں میں دنیا کا جمال کُھب گیا اور اس کی سج دھج نے انہیں لبھا دیا۔ دیکھو! اس ذات کی قسم جس نے دانے کو شگافتہ کیا اور ذی روح چیزیں پیدا کیں! اگر بیعت کرنے والوں کی موجودگی اور مدد کرنے والوں کے وجود سے مجھ پر حجت تمام نہ ہو گئی ہوتی اور وہ عہد نہ ہوتا جو اللہ نے علماء سے لے رکھا ہے کہ وہ ظالم کی شکم پری اور مظلوم کی گرسنگی پر سکون و قرار سے نہ بیٹھیں تو میں خلافت کی باگ ڈور اسی کے کندھے پر ڈال دیتا اور اس کے آخر کو اسی پیالے سے سیراب کرتا جس پیالے سے اس کے اوّل کو سیراب کیا تھا اور تم اپنی دنیا کو میری نظروں میں بکری کی چھینک سے بھی زیادہ ناقابلِ اعتنا پاتے۔ لوگوں کا بیان ہے کہ: جب حضرتؑ خطبہ پڑھتے ہوئے اس مقام تک پہنچے تو ایک عراقی باشندہ آگے بڑھا اور ایک نوشتہ حضرتؑ کے سامنے پیش کیا۔ آپؑ اسے دیکھنے لگے۔ جب فارغ ہوئے تو ابنِ عباس نے کہا: یا امیر المومنینؑ! آپؑ نے جہاں سے خطبہ چھوڑا تھا وہیں سے اس کا سلسلہ آگے بڑھائیں۔ حضرتؑ نے فرمایا کہ: اے ابن عباس! یہ تو ’’شقشقہ‘‘ (گوشت کا وہ نرم لوتھڑا جو اونٹ کے منہ سے مستی و ہیجان کے وقت نکلتا ہے) تھا جو اُبھر کر دب گیا۔ ابن عباس کہتے تھے کہ: مجھے کسی کلام کے متعلق اتنا افسوس نہیں ہوا جتنا اس کلام کے متعلق اس بنا پر ہوا کہ حضرت وہاں تک نہ پہنچ سکے جہاں تک وہ پہنچنا چاہتے تھے۔ علامہ رضیؒ کہتے ہیں کہ: خطبے کے ان الفاظ: « كَرَاكِبِ الصَّعْبَةِ، اِنْ اَشْنَقَ لَهَا خَرَمَ وَ اِنْ اَسْلَسَ لَهَا تَقَحَّمَ» سے مراد یہ ہے کہ سوار جب مہار کھینچنے میں ناقہ پر سختی کرتا ہے تو اس کھینچا تانی میں اس کی ناک زخمی ہوئی جاتی ہے اور اگر اس کی سرکشی کے باوجود باگ کو ڈھیلا چھوڑ دیتا ہے تو وہ اسے کہیں نہ کہیں گرا دے گی اور اس کے قابو سے باہر ہو جائے گی۔ «اَشْنَقَ النَّاقَةَ» اس وقت بولا جاتا ہے جب سوار باگوں کو کھینچ کر اس کے سر کو اوپر کی طرف اٹھائے۔ اور اسی طرح «شَنَّقَهَا» استعمال ہوتا ہے۔ ابن سکیت نے اصلاح المنطق میں اس کا ذکر کیا ہے۔ اور حضرتؑ نے اَشْنَقَهَا کے بجائے «اَشْنَقَ لَهَا» استعمال کیا ہے۔ چونکہ آپؑ نے یہ لفظ «اَسْلَسَ لَهَا» کے بالمقابل استعمال کیا ہے۔اور سلاست اسی وقت باقی رہ سکتی تھی جب ان دونوں لفظوں کا نہج استعمال ایک ہو۔ گویا حضرتؑ نے «اَشْنَقَ لَهَا» کو اِنْ رَّفَعَ لَهَا کی جگہ استعمال کیا ہے یعنی اس کی باگیں اوپر کی طرف اٹھا کر روک رکھے۔

  4. خطبہ 4- آپکیؑ کی دوررس بصیرت، یقین کامل اور موسیؑ کا خوفزدہ ہونا

    4

    بِنَا اهْتَدَيْتُمْ فِي الظَّلْمَاءِ وَ تَسَنَّمْتُمْ الْعَلْيَاءِ وَ بِنَا انفجرتم عَنِ السرار وُقِرَ سَمْعٌ لَمْ يَفْقَهِ الْوَاعِيَةَ وَ كَيْفَ يُرَاعِي النَّبْأَةَ مَنْ أَصَمَّتْهُ الصَّيْحَةُ ربط جَنَانٌ لَمْ يُفَارِقْهُ الْخَفَقَانُ مَازِلْتُ أَنْتَظِرُ بِكُمْ عَوَاقِبَ الْغَدْرِ وَ أَتَوَسَّمُكُمْ بِحِلْيَةِ الْمُغْتَرِّينَ سَتَرَنِي عَنْكُمْ جِلْبَابُ الدِّينِ وَ بَصَّرَنِيكُمْ صِدْقُ النِّيَّةِ أَقَمْتُ لَكُمْ عَلَى سَنَنِ الْحَقِّ فِي جَوَادِّ الْمَضَلَّةِ حَيْثُ تَلْتَقُونَ وَ لَا دَلِيلَ وَ تَحْتَفِرُونَ وَ لَا تُمِيهُونَ الْيَوْمَ أُنْطِقُ لَكُمُ الْعَجْمَاءَ ذَاتَ الْبَيَانِ عَزَبَ رَأْيُ امْرِئٍ تَخَلَّفَ عَنِّي مَا شَكَكْتُ فِي الْحَقِّ مُذْ أُرِيتُهُ لَمْ يُوجِسْ مُوسَى عليه السلام خِيفَةً عَلَى نَفْسِهِ بَلْ أَشْفَقَ مِنْ غَلَبَةِ الْجُهَّالِ وَ دُوَلِ الضَّلَالِ الْيَوْمَ توافقنا عَلَى سَبِيلِ الْحَقِّ وَ الْبَاطِلِ مَنْ وَثِقَ بِمَاءٍ لَمْ يَظْمَأْ

    ہماری وجہ سے تم نے (گمراہی) کی تیرگیوں میں ہدایت کی روشنی پائی اور رفعت و بلندی کی چوٹیوں پر قدم رکھا اور ہمارے سبب سے اندھیری راتوں کو اندھیاریوں سے صبح (ہدایت) کے اجالوں میں آ گئے۔ وہ کان بہرے ہو جائیں جو چلانے والے کی چیخ پکار کو نہ سنیں، بھلا وہ کیونکر میری کمزور اور دھیمی آواز کو سن پائیں گے جو اللہ و رسولؐ کی بلند بانگ صداؤں کے سننے سے بھی بہرے رہ چکے ہوں۔ ان دلوں کو سکون و قرار نصیب ہو جن سے خوفِ خدا کی دھڑکنیں الگ نہیں ہوتیں۔ میں تم سے ہمیشہ غدر و بیوفائی ہی کے نتائج کا منتظر رہا اور فریب خوردہ لوگوں کے سے رنگ ڈھنگ کے ساتھ تمہیں بھانپ لیا تھا۔ اگرچہ دین کی نقاب نے مجھ کو تم سے چھپائے رکھا، لیکن میری نیت کے صدق و صفا نے تمہاری صورتیں مجھے دکھا دی تھیں۔ میں بھٹکانے والی راہوں میں تمہارے لئے جادۀ حق پر کھڑا تھا جہاں تم ملتے ملاتے تھے مگر کوئی راہ دکھانے والا نہ تھا، تم کنواں کھودتے تھے مگر پانی نہیں نکال سکتے تھے۔ آج میں نے اپنی اس خاموش زبان کو جس میں بڑی بیان کی قوت ہے، گویا کیا ہے۔ اس شخص کی رائے کیلئے دوری ہو جس نے مجھ سے کنارہ کشی کی۔ جب سے مجھے حق دکھایا گیا ہے میں نے کبھی اس میں شک و شبہ نہیں کیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام [۱] نے اپنی جان کیلئے خوف کا لحاظ کبھی نہیں کیا، بلکہ جاہلوں کے غلبہ اور گمراہی کے تسلط کا ڈر تھا (اسی طرح میری اب تک کی خاموشی کو سمجھنا چاہئے)۔ آج ہم اور تم حق و باطل کے دوراہے پر کھڑے ہوئے ہیں، جسے پانی کا اطمینان ہو وہ پیاس نہیں محسوس کرتا، (اسی طرح میری موجودگی میں تمہیں میری قدر نہیں)۔

  5. خطبہ 5- پیغمبرﷺ کے بعد جب ابو سفیان نے آپؑ کی بیعت کرنا چاہی

    5

    أَيُّهَا النَّاسُ شُقُّوا أَمْوَاجَ الْفِتَنِ بِسُفُنِ النَّجَاةِ وَ عَرِّجُوا عَنْ طَرِيقِ الْمُنَافَرَةِ وَ ضَعُوا تِيجَانَ الْمُفَاخَرَةِ أَفْلَحَ مَنْ نَهَضَ بِجَنَاحٍ أَوِ اسْتَسْلَمَ فَأَرَاحَ هذا مَاءٌ آجن وَ لُقْمَةٌ يغص بِهَا آكِلُهَا وَ مُجْتَنِي الثَّمَرَةِ لِغَيْرِ وَقْتِ إِينَاعِهَا كَالزَّارِعِ بِغَيْرِ أَرْضِهِ فَإِنْ أَقُلْ يَقُولُوا حَرَصَ عَلَى الْمُلْكِ وَ إِنْ أَسْكُتْ يَقُولُوا جَزِعَ مِنَ الْمَوْتِ هَيْهَاتَ بَعْدَ اللَّتَيَّا وَ الَّتِي وَ اللَّهِ لَابْنُ أَبِي طَالِبٍ آنَسُ بِالْمَوْتِ مِنَ الطِّفْلِ بِثَدْيِ أُمِّهِ بَلِ انْدَمَجْتُ عَلَى مَكْنُونِ عِلْمٍ لَوْ بُحْتُ بِهِ لَاضْطَرَبْتُمْ اضْطِرَابَ الْأَرْشِيَةِ فِي الطَّوِيِّ الْبَعِيدَةِ

    جب رسول اللہ ﷺنے دنیا سے رحلت فرمائی تو عباس اور ابو سفیان ابن حرب [۱] نے آپؑ سے عرض کیا کہ ہم آپؑ کی بیعت کرنا چاہتے ہیں جس پر حضرتؑ نے فرمایا اے لوگو ! فتنہ و فساد کی موجوں کو نجات کی کشتیوں سے چیر کر اپنے کو نکال لے جاؤ، تفرقہ و انتشار کی راہوں سے اپنا رخ موڑ لو، فخر و مباہات کے تاج اتار ڈالو، صحیح طریقہ عمل اختیار کرنے میں کامیاب وہ ہے جو اٹھے تو پر وبال کے ساتھ اٹھے اور نہیں تو (اقتدار کی کرسی) دوسروں کیلئے چھوڑ بیٹھے اور اس طرح خلق خدا کو بد امنی سے راحت میں رکھے۔ یہ (اس وقت طلب ِخلافت کیلئے کھڑا ہونا) ایک گدلا پانی اور ایسا لقمہ ہے جو کھانے والے کے گلو گیر ہو کر رہے گا۔ پھلوں کو ان کے پکنے سے پہلے چننے والا ایسا ہے جیسے دوسروں کی زمین میں کاشت کرنے والا۔ اگر بولتا ہوں تو لوگ کہتے ہیں کہ یہ دنیوی سلطنت پر مٹے ہوئے ہیں اور چپ رہتا ہوں تو کہتے ہیں کہ موت سے ڈر گئے۔ افسوس! اب یہ بات جب کہ میں ہر طرح کے نشیب و فراز دیکھے بیٹھا ہوں۔ خدا کی قسم! ابو طالبؑ کا بیٹا موت سے اتنا مانوس ہے کہ بچہ اپنی ماں کی چھاتی سے اتنا مانوس نہیں ہوتا [۲] ۔ البتہ ایک علم پوشیدہ میرے سینے کی تہوں میں لپٹا ہوا ہے کہ اسے ظاہر کر دوں تو تم اسی طرح پیچ و تاب کھانے لگو جس طرح گہرے کنوؤں میں رسیاں لرزتی اور تھرتھراتی ہیں۔

  6. خطبہ 6- طلحہ و زبیر کے تعاقب سےآپؑ کو روکا گیا تو اس موقع پر فرمایا

    6

    وَ اللَّهِ لَا أَكُونُ كَالضَّبُعِ تَنَامُ عَلَى طُولِ اللَّدْمِ حَتَّى يَصِلَ إِلَيْهَا طَالِبُهَا وَ يَخْتِلَهَا رَاصِدُهَا وَ لَكِنِّي أَضْرِبُ بِالْمُقْبِلِ إِلَى الْحَقِّ الْمُدْبِرَ عَنْهُ وَ بِالسَّامِعِ الْمُطِيعِ الْعَاصِيَ الْمُرِيبَ أَبَداً حَتَّى يَأْتِيَ عَلَيَّ يَوْمِي فَوَاللَّهِ مَا زِلْتُ مَدْفُوعاً عَنْ حَقِّي مُسْتَأْثَراً عَلَيَّ مُنْذُ قَبَضَ اللَّهُ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ اله حَتَّى يَوْمِ النَّاسِ هَذَا

    جب آپؑ کو یہ مشورہ دیا گیا کہ آپ طلحہ و زبیر کا پیچھا نہ کریں اور ان سے جنگ کرنے کی نہ ٹھان لیں تو آپؑ نے فرمایا: [۱] خدا کی قسم! میں اس بجو کی طرح نہ ہوں گا جو لگاتار کھٹکھٹائے جانے سے سوتا ہوا بن جاتا ہے یہاں تک کہ اس کا طلبگار (شکاری) اس تک پہنچ جاتا ہے اور گھات لگا کر بیٹھنے والا اس پر اچانک قابو پا لیتا ہے، بلکہ میں تو حق کی طرف بڑھنے والوں اور گوش بر آواز اطاعت شعاروں کو لے کر ان خطا و شک میں پڑنے والوں پر اپنی تلوار چلاتا رہوں گا، یہاں تک کہ میری موت کا دن آ جائے۔ خدا کی قسم! جب سے اللہ نے اپنے رسولؐ کو دنیا سے اٹھایا، برابر دوسروں کو مجھ پر مقدم کیا گیا اور مجھے میرے حق سے محروم رکھا گیا۔

  7. خطبہ 7- منافقین کی حالت

    7

    اتَّخَذُوا الشَّيْطَانَ لِأَمْرِهِمْ مِلَاكاً وَ اتَّخَذَهُمْ لَهُ أَشْرَاكاً فَبَاضَ وَ فَرَّخَ فِي صُدُورِهِمْ وَ دَبَّ وَ دَرَجَ فِي حُجُورِهِمْ فَنَظَرَ بِأَعْيُنِهِمْ وَ نَطَقَ بِأَلْسِنَتِهِمْ فَرَكِبَ بِهِمُ الزَّلَلَ وَ زَيَّنَ لَهُمُ الْخَطَلَ فِعْلَ مَنْ قَدْ شَرِكَهُ الشَّيْطَانُ فِي سُلْطَانِهِ وَ نَطَقَ بِالْبَاطِلِ عَلَى لِسَانِهِ

    انہوں نے اپنے ہر کام کا کرتا دھرتا شیطان کو بنا رکھا ہے اور اس نے ان کو اپنا آلہ کار بنا لیا ہے۔ اس نے ان کے سینوں میں انڈے دیئے ہیں اور بچے نکالے ہیں اور انہی کی گود میں وہ بچے رینگتے اور اچھلتے کودتے ہیں۔ وہ دیکھتا ہے تو ان کی آنکھوں سے اور بولتا ہے تو ان کی زبانوں سے۔ اس نے انہیں خطاؤں کی راہ پر لگایا ہے اور بُری باتیں سجا کر ان کے سامنے رکھی ہیں، جیسے اس نے انہیں اپنے تسلط میں شریک بنا لیا ہو اور انہی کی زبانوں سے اپنے کلام باطل کے ساتھ بولتا ہو

  8. خطبہ 8- جب زبیر نے یہ کہا میں نے دل سے بیعت نہ کی تھی تو آپؑ نے فرما

    8

    يَزْعُمُ أَنَّهُ قَدْ بَايَعَ بِيَدِهِ وَ لَمْ يُبَايِعْ بِقَلْبِهِ فَقَدْ أَقَرَّ بِالْبَيْعَةِ وَ ادَّعَى الْوَلِيجَةَ فَلْيَأْتِ عَلَيْهَا بِأَمْرٍ يُعْرَفُ وَ إِلَّا فَلْيَدْخُلْ فِيمَا خَرَجَ مِنْهُ

    یہ کلام زبیر کے متعلق اس وقت فرمایا جبکہ حالات اسی قسم کے بیان کے مقتضی تھے: وہ ایسا ظاہر کرتا ہے کہ اس نے بیعت ہاتھ سے کر لی تھی مگر دل سے نہیں کی تھی۔ بہر صورت اس نے بیعت کا تو اقرار کر لیا، لیکن اس کا یہ اِدّعا کہ اس کے دل میں کھوٹ تھا تو اسے چاہیے کہ اس دعویٰ کیلئے کوئی دلیل واضح پیش کرے، ورنہ جس بیعت سے منحرف ہوا ہے اس میں واپس آئے۔

  9. خطبہ 9- اصحاب جمل کا بوداپن

    9

    وَ قَدْ أَرْعَدُوا وَ أَبْرَقُوا وَ مَعَ هَذَيْنِ الْأَمْرَيْنِ الْفَشَلُ وَ لَسْنَا نُرْعِدُ حَتَّى نُوقِعَ وَ لَا نُسِيلُ حَتَّى نُمْطِرَ

    وہ رعد کی طرح گرجے اور بجلی کی طرح چمکے، مگر ان دونوں باتوں کے باوجود بزدلی ہی دکھائی اور ہم جب تک دشمن پر ٹوٹ نہیں پڑتے گرجتے نہیں اور جب تک (عملی طور پر) برس نہیں لیتے (لفظوں کا) سیلاب نہیں بہاتے۔

  10. خطبہ 10- طلحہ و زبیر کے بارے میں

    10

    أَلَا وَ إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ جَمَعَ حِزْبَهُ وَ اسْتَجْلَبَ خَيْلَهُ وَ رجله وَ إِنَّ بصيرتى لمعي مَا لَبَّسْتُ عَلَى نَفْسِي وَ لَا لُبِّسَ عَلَيَّ وَ ايْمُ اللَّهِ لَأُفْرِطَنَّ لَهُمْ حَوْضاً أَنَا مَاتِحُهُ لَا يصدرون عَنْهُ وَ لَا يَعُودُونَ إِلَيْهِ

    شیطان نے اپنے گروہ کو جمع کر لیا ہے اور اپنے سوار و پیادے سمیٹ لئے ہیں۔ میرے ساتھ یقیناً میری بصیرت ہے نہ میں نے خود (جان بوجھ کر) کبھی اپنے کو دھوکا دیا اور نہ مجھے واقعی کبھی دھوکا ہوا۔ خدا کی قسم میں ان کیلئے ایک ایسا حوض چھلکاؤں گا جس کا پانی نکالنے والا میں ہوں، انہیں ہمیشہ کیلئے نکلنے یا (نکل کر) پھر واپس آنے کا کوئی امکان ہی نہ ہو گا۔

  11. خطبہ 11- محمد بن حنفیہ کو آداب حرم کی تعلیم

    11

    تَزُولُ الْجِبَالُ وَ لَا تَزُلْ عَضَّ عَلَى نَاجِذِكَ أَعِرِ اللَّهَ جُمْجُمَتَكَ تِدْ فِي الْأَرْضِ قَدَمَكَ ارْمِ بِبَصَرِكَ أَقْصَى الْقَوْمِ وَ غُضَّ بَصَرَكَ وَ اعْلَمْ أَنَّ النَّصْرَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ سُبْحَانَهُ

    جب جنگ جمل میں عَلم اپنے فرزند محمد بن حنفیہ کو دیا تو ان سے فرمایا: پہاڑ اپنی جگہ چھوڑ دیں مگر تم اپنی جگہ سے نہ ہٹنا، اپنے دانتوں کو بھینچ لینا، اپنا کاسۂ سر اللہ کو عاریت دے دینا، اپنے قدم زمین میں گاڑ دینا، لشکر کی آخری صفوں پر اپنی نظر رکھنا اور (دشمن کی کثرت و طاقت سے) آنکھوں کو بند کر لینا اور یقین رکھنا کہ مدد خدا ہی کی طرف سے ہوتی ہے۔

  12. خطبہ 12- عمل کا کردار اور مدار نیت پر ہے۔

    12

    فَقَالَ لَهُ عليه السلام أَ هَوَى أَخِيكَ مَعَنَا فَقَالَ نَعَمْ قَالَ فَقَدْ شَهِدَنَا وَ لَقَدْ شَهِدَنَا فِي عَسْكَرِنَا هَذَا أَقْوَامٌ فِي أَصْلَابِ الرِّجَالِ وَ أَرْحَامِ النِّسَاءِ سَيَرْعَفُ بِهِمُ الزَّمَانُ وَ يَقْوَى بِهِمُ الْإِيمَانُ

    جب خداوند عالم نے آپؑ کو جمل والوں پر غلبہ عطا کیا تو اس موقعہ پر آپؑ کے ایک صحابی نے آپؑ سے عرض کیا کہ میرا فلاں بھائی بھی یہاں موجود ہوتا تو وہ بھی دیکھتا کہ اللہ نے کیسی آپؑ کو دشمنوں پر فتح و کامرانی عطا فرمائی ہے تو حضرتؑ نے فرمایا کہ: ’’کیا تمہارا بھائی ہمیں دوست رکھتا ہے؟‘‘ اس نے کہا کہ ہاں، تو آپؑ نے فرمایا کہ: وہ ہمارے پاس موجود تھا بلکہ ہمارے اس لشکر میں وہ اشخاص بھی موجود تھے جو ابھی مردوں کی صلب اور عورتوں کے شکم میں ہیں۔ عنقریب زمانہ انہیں ظاہر کرے گا اور ان سے ایمان کو تقویت پہنچے گی۔

  13. خطبہ 13- بصرہ اور اہل بصرہ کی مذمت میں

    13

    كُنْتُمْ جُنْدَ الْمَرْأَةِ وَ أَتْبَاعَ الْبَهِيمَةِ رَغَا فَأَجَبْتُمْ وَ عُقِرَ فَهَرَبْتُمْ أَخْلَاقُكُمْ دِقَاقٌ وَ عَهْدُكُمْ شِقَاقٌ وَ دِينُكُمْ نِفَاقٌ وَ مَاؤُكُمْ زُعَاقٌ وَ الْمُقِيمُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ مُرْتَهَنٌ بِذَنْبِهِ وَ الشَّاخِصُ عَنْكُمْ مُتَدَارَكٌ بِرَحْمَةٍ مِنْ رَبِّهِ كَأَنِّي بِمَسْجِدِكُمْ كَجُؤْجُؤِ سَفِينَةٍ قَدْ بَعَثَ اللَّهُ عَلَيْهَا الْعَذَابَ مِنْ فَوْقِهَا وَ مِنْ تَحْتِهَا وَ غَرِقَ مَنْ فِي ضِمْنِهَا وَ فِي رِوَايَةٍ وَ ايْمُ اللَّهِ لتغرقن بَلْدَتُكُمْ حَتَّى كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مَسْجِدِهَا كَجُؤْجُؤِ سَفِينَةٍ أَوْ نَعَامَةٍ جَاثِمَةٍ وَ فِي رِوَايَةٍ كَجُؤْجُؤِ طَيْرٍ فِي لُجَّةِ بَحْرٍ وَ فِي رِوَايَةٍ بِلادُکُم اَنتَنُ بِلادِ اللهِ تُربَةً اَقرَبُها مِنَ الماءِ وَ اَبعَدُها مِنَ السَّماءِ وَ بِها تِسعَةُ اَعشارِ الشَّرِّ المُحتَبِسُ فیها بِذَنبِهِ وَ الخارِجُ بِعَفوِ اللهِ کَاَنِّی اَنظُرُ اِلی قَریَتِکُم قَد طَبَّقَها الماءُ حَتّی ما یُرَی اِلّا شُرَفُ المَسجِدِ کَاَنَّهُ جُوجُو طَیرٍ فی لُجَّةِ بَحرٍ

    اہل بصرہ کی مذمت میں تم ایک عورت کی سپاہ اور ایک چوپائے کے تابع تھے۔ وہ بلبلایا تو تم لبیک کہتے ہوئے بڑھے اور وہ زخمی ہوا تو تم بھاگ کھڑے ہوئے۔ تم پست اخلاق و عہد شکن ہو۔ تمہارے دین کا ظاہر کچھ ہے اور باطن کچھ۔ تمہاری سر زمین کا پانی تک شور ہے۔ تم میں اقامت کرنے والا گناہوں کے جال میں جکڑا ہوا ہے اور تم میں سے نکل جانے والا اپنے پروردگار کی رحمت کو پالینے والا ہے۔ وہ (آنے والا) منظر میری آنکھوں میں پھر رہا ہے، جبکہ تمہاری مسجد یوں نمایاں ہو گی جس طرح کشتی کا سینہ در آنحالیکہ اللہ نے تمہارے شہر پر اس کے اوپر اور اس کے نیچے سے عذاب بھیج دیا ہو گا اور وہ اپنے رہنے والوں سمیت ڈوب چکا ہو گا۔ [ایک اور روایت میں یوں ہے:] خدا کی قسم! تمہارا شہر غرق ہو کر رہے گا، اس حد تک کہ اس کی مسجد کشتی کے اگلے حصے یا سینے کے بل بیٹھے ہوئے شتر مرغ کی طرح گویا مجھے نظر آرہی ہے۔ [ایک اور روایت میں اس طرح ہے:] جیسے پانی کے گہراؤ میں پرندے کا سینہ۔ [ایک اور روایت میں اس طرح ہے:] تمہارا شہر اللہ کے سب شہروں سے مٹی کے لحاظ سے گندا اور بدبودار ہے۔ یہ (سمندر کے) پانی سے قریب اور آسمان سے دور ہے۔ برائی کے دس حصوں میں سے نو حصے اس میں پائے جاتے ہیں جو اس میں آ پہنچا وہ اپنے گناہوں میں اسیر ہے اور جو اس سے چل دیا عفو الٰہی اس کے شریک حال رہا۔ گویا میں اپنی آنکھوں سے اس بستی کو دیکھ رہا ہوں کہ سیلاب نے اسے اس حد تک ڈھانپ لیا ہے کہ مسجد کے کنگروں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا اور وہ یوں معلوم ہوتے ہیں جیسے سمندر کے گہراؤ میں پرندے کا سینہ۔

  14. خطبہ 14- اہل بصرہ کی مذمت میں

    14

    أَرْضُكُمْ قَرِيبَةٌ مِنَ الْمَاءِ بَعِيدَةٌ مِنَ السَّمَاءِ خَفَّتْ عُقُولُكُمْ وَ سَفِهَتْ حُلُومُكُمْ فَأَنْتُمْ غَرَضٌ لِنَابِلٍ وَ أُكْلَةٌ لِآكِلٍ وَ فَرِيسَةٌ لِصَائِلٍ

    یہ بھی اہلِ بصرہ کی مذمت میں ہے تمہاری زمین (سمندر کے) پانی سے قریب اور آسمان سے دور ہے۔ تمہاری عقلیں سبک اور دانائیاں خام ہیں۔ تم ہر تیر انداز کا نشانہ، ہر کھانے والے کا لقمہ اور ہر شکاری کی صید افگنیوں کا شکار ہو۔

  15. خطبہ 15- عثمان کی دی ہوئی جا گیریں جب پلٹا لیں تو فرمایا

    15

    وَ اللَّهِ لَوْ وَجَدْتُهُ قَدْ تُزُوِّجَ بِهِ النِّسَاءُ وَ مُلِكَ بِهِ الْإِمَاءُ لَرَدَدْتُهُ فَإِنَّ فِي الْعَدْلِ سَعَةً وَ مَنْ ضَاقَ عَلَيْهِ الْعَدْلُ فَالْجَوْرُ عَلَيْهِ أَضْيَقُ

    حضرت عثمان کی عطا کردہ جاگیریں جب مسلمانوں کو پلٹا دیں تو فرمایا خدا کی قسم! اگر مجھے ایسا مال بھی کہیں نظر آتا جو عورتوں کے مہر اور کنیزوں کی خریداری پر صرف کیا جا چکا ہوتا تو اسے بھی واپس پلٹا لیتا۔ چونکہ عدل کے تقاضوں کو پورا کرنے میں وسعت ہے اور جسے عدل کی صورت میں تنگی محسوس ہو اُسے ظلم کی صورت میں اور زیادہ تنگی محسوس ہو گی۔

  16. خطبہ 16- جب اہل مدینہ نے آپؑ کے ہاتھ پر بیعت کی تو فرمایا

    16

    ذِمَّتِي بِمَا أَقُولُ رَهِينَةٌ وَ أَنَا بِهِ زَعِيمٌ إِنَّ مَنْ صَرَّحَتْ لَهُ الْعِبَرُ عَمَّا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْمَثُلَاتِ حَجَزَتْهُ التَّقْوَى عَنْ تَقَحُّمِ الشُّبُهَاتِ أَلَا وَ إِن‏ بَلِيَّتَكُمْ قَدْ عَادَتْ كَهَيْئَتِهَا يَوْمَ بَعَثَ اللَّهُ نبيكم صلى الله عليه و اله وَ الَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ لَتُبَلْبَلُنَّ بَلْبَلَةً وَ لَتُغَرْبَلُنَّ غَرْبَلَةً وَ لَتُسَاطُنَّ سَوْطَ الْقِدْرِ حَتَّى يَعُودَ أَسْفَلُكُمْ أَعْلَاكُمْ وَ أَعْلَاكُمْ أَسْفَلَكُمْ وَ لَيَسْبِقَنَّ سَابِقُونَ كَانُوا قَصَّرُوا وَ لَيُقْصِرَنَّ سَبَّاقُونَ كَانُوا سَبَقُوا وَ اللَّهِ مَا كَتَمْتُ وَشْمَةً وَ لَا كَذَبْتُ كِذْبَةً وَ لَقَدْ نُبِّئْتُ بِهَذَا الْمَقَامِ وَ هَذَا الْيَوْمِ أَلَا وَ إِنَّ الْخَطَايَا خَيْلٌ شُمُسٌ حُمِلَ عَلَيْهَا أَهْلُهَا وَ خُلِعَتْ لُجُمُهَا فَتَقَحَّمَتْ بِهِمْ فِي النَّارِ أَلَا وَ إِنَّ التَّقْوَى مَطَايَا ذُلُلٌ حُمِلَ عَلَيْهَا أَهْلُهَا وَ أُعْطُوا أَزِمَّتَهَا فَأَوْرَدَتْهُمُ الْجَنَّةَ حَقٌّ وَ بَاطِلٌ وَ لِكُلٍّ أَهْلٌ فَلَئِنْ أَمِرَ الْبَاطِلُ لَقَدِيماً فَعَلَ وَ لَئِنْ قَلَّ الْحَقُّ فَلَرُبَّمَا وَ لَعَلَّ وَ لَقَلَّمَا أَدْبَرَ شَيْ‏ءٌ فَأَقْبَلَ قال السيد الشريف: إن في هذا الكلام الأدنى من مواقع الإحسان ما لا تبلغه مواقع الاستحسان و إن حظ العجب منه أكثر من حظ العجب به و فيه مع الحال التي وصفنا زوائد من الفصاحة لا يقوم بها لسان و لا يطلع فجها إنسان و لا يعرف ما أقول إلا من ضرب في هذه الصناعة بحق و جرى فيها على عرق وَ ما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ و من هذه الخطبة (و فيها يقسم الناس إلى ثلاثة أصناف‏) شُغِلَ مَنِ الْجَنَّةُ وَ النَّارُ أَمَامَهُ سَاعٍ سَرِيعٌ نَجَا وَ طَالِبٌ بَطِي‏ءٌ رَجَا وَ مُقَصِّرٌ فِي النَّارِ هَوَى الْيَمِينُ وَ الشِّمَالُ مَضَلَّةٌ وَ الطَّرِيقُ الْوُسْطَى هِيَ الْجَادَّةُ عَلَيْهَا بَاقِي الْكِتَابِ وَ آثَارُ النُّبُوَّةِ وَ مِنْهَا مَنْفَذُ السُّنَّةِ وَ إِلَيْهَا مَصِيرُ الْعَاقِبَةِ هَلَكَ مَنِ ادَّعَى وَ خابَ مَنِ افْتَرى افْتَرى مَنْ أَبْدَى صَفْحَتَهُ لِلْحَقِّ هَلَكَ وَ كَفَى بِالْمَرْءِ جَهْلًا أَنْ لَا يَعْرِفَ قَدْرَهُ لَا يَهْلِكُ عَلَى التَّقْوَى سِنْخُ أَصْلٍ وَ لَا يَظْمَأُ عَلَيْهَا زَرْعُ قَوْمٍ فَاسْتَتِرُوا فِي بُيُوتِكُمْ وَ أَصْلِحُوا ذاتَ بَيْنِكُمْ وَ التَّوْبَةُ مِنْ وَرَائِكُمْ وَ لَا يَحْمَدْ حَامِدٌ إِلَّا رَبَّهُ وَ لَا يَلُمْ لَائِمٌ إِلَّا نَفْسَهُ.

    جب مدینہ میں آپؑ کی بیعت ہوئی تو فرمایا میں اپنے قول کا ذمہ دار اور اس کی صحت کا ضامن ہوں۔ جس شخص کو اس کے دیدۂ عبرت نے گزشتہ عقوبتیں واضح طور سے دکھا دی ہوں، اسے تقویٰ شبہات میں اندھا دھند کودنے سے روک لیتا ہے۔ تمہیں جاننا چاہیے کہ تمہارے لئے وہی ابتلاآت پھر پلٹ آئے ہیں جو رسول ﷺ کی بعثت کے وقت تھے۔ اس ذات کی قسم جس نے رسول ﷺ کو حق و صداقت کے ساتھ بھیجا! تم بری طرح تہ و بالا کئے جاؤ گے اور اس طرح چھانٹے جاؤ گے جس طرح چھلنی سے کسی چیز کو چھانا جاتا ہے اور اس طرح خلط ملط کئے جاؤ گے جس طرح (چمچے سے) ہنڈیا، یہاں تک کہ تمہارے ادنیٰ اعلیٰ اور اعلیٰ ادنیٰ ہو جائیں گے جو پیچھے تھے آگے بڑھ جائیں گے اور جو ہمیشہ آگے رہتے تھے وہ پیچھے چلے جائیں گے۔ خدا کی قسم! میں نے کوئی بات پردے میں نہیں رکھی، نہ کبھی کذب بیانی سے کام لیا۔ مجھے اس مقام اور اس دن کی پہلے ہی سے خبر دی جا چکی ہے۔ معلوم ہونا چاہیے کہ گناہ ان سرکش گھوڑوں کے مانند ہیں جن پر ان کے سواروں کو سوار کر دیا گیا ہو اور باگیں بھی ان کی اتار دی گئی ہوں اور وہ لے جا کر انہیں دوزخ میں پھاند پڑیں۔ اور تقویٰ رام کی ہوئی سواریوں کے مانند ہے جن پر ان کے سواروں کو سوار کیا گیا ہو، اس طرح کہ باگیں ان کے ہاتھ میں دے دی گئی ہوں اور وہ انہیں (با اطمینان) لے جا کر جنت میں اتار دیں۔ ایک حق ہوتا ہے اور ایک باطل اور کچھ حق والے ہوتے ہیں، کچھ باطل والے۔ اب اگر باطل زیادہ ہو گیا تو یہ پہلے بھی بہت ہوتا رہا ہے اور اگر حق کم ہو گیا ہے تو بسا اوقات ایسا ہوا ہے اور بہت ممکن ہے کہ وہ اس کے بعد باطل پر چھا جائے۔ اگرچہ ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ کوئی چیز پیچھے ہٹ کر آگے بڑھے۔ علامہ رضیؒ فرماتے ہیں کہ: اس مختصر سے کلام میں واقعی خوبیوں کے اتنے مقام ہیں کہ احساس خوبی کا اس کے تمام گوشوں کو پا نہیں سکتا اور اس کلام سے حیرت و استعجاب کا حصہ پسندیدگی کی مقدار سے زیادہ ہوتا ہے۔ اس حالت کے باوجود جو ہم نے بیان کی ہے اس میں فصاحت کے اتنے بے شمار پہلو ہیں کہ جن کے بیان کرنے کا یارا نہیں، نہ کوئی انسان اس کی عمیق گہرائیوں تک پہنچ سکتا ہے۔ میری اس بات کو وہی جان سکتا ہے جس نے اس فن کا پورا پورا حق ادا کیا ہو اور اس کے رگ و ریشہ سے واقف ہو اور’’جاننے والوں کے سوا کوئی ان کو نہیں سمجھ سکتا‘‘۔ [اسی خطبے کا ایک حصہ یہ ہے:] جس کے پیشِ نظر دوزخ و جنت ہو، اس کی نظر کسی اور طرف نہیں اٹھ سکتی، جو تیز قدم دوڑنے والا ہے وہ نجات یافتہ ہے اور جو طلبگار ہو، مگر سست رفتار اسے بھی توقع ہو سکتی ہے، مگر جو (ارادةً) کو تاہی کرنے والا ہو اسے تو دوزخ ہی میں گرنا ہے۔دائیں بائیں گمراہی کی راہیں ہیں اور درمیانی راستہ ہی صراطِ مستقیم ہے۔ اس راستے پر اللہ کی ہمیشہ رہنے والی کتاب اور نبوت کے آثار ہیں۔ اسی سے شریعت کا نفاذ و اجرا ہوا اور اسی کی طرف آخر کار بازگشت ہے۔ جس نے (غلط) ادّعا کیا وہ تباہ و برباد ہوا اور جس نے افترا باندھا وہ ناکام و نامراد رہا ۔ جو حق کے مقابلے میں کھڑا ہوتا ہے تباہ ہو جاتا ہے اور انسان کی جہالت اس سے بڑھ کر کیا ہو گی کہ وہ اپنی قدر و منزلت کو نہ پہچانے ۔ وہ اصل و اساس، جو تقویٰ پر ہو برباد نہیں ہوتی اور اس کے ہوتے ہوئے کسی قوم کی کشت (عمل) بے آب و خشک نہیں رہتی۔ تم اپنے گھر کے گوشوں میں چھپ کر بیٹھ جاؤ، آپس کے جھگڑوں کی اصلاح کرو، توبہ تمہارے عقب میں ہے۔ حمد کرنے والا صرف اپنے پروردگار کی حمد کرے اور بھلا برا کہنے والا اپنے ہی نفس کی ملامت کرے۔

  17. خطبہ 17- مسند قضا پر بیٹھنے والے نا اہلوں کی مذمت میں

    17

    إنَّ أَبْغَضَ الْخَلَائِقِ إِلَى اللَّهِ رَجُلَانِ رَجُلٌ وَكَلَهُ اللَّهُ إِلَى نَفْسِهِ فَهُوَ جَائِرٌ عَنْ قَصْدِ السَّبِيلِ مَشْغُوفٌ بِكَلَامِ بِدْعَةٍ وَ دُعَاءِ ضَلَالَةٍ فَهُوَ فِتْنَةٌ لِمَنِ افْتَتَنَ بِهِ ضَالٌّ عَنْ هَدْيِ مَنْ كَانَ قَبْلَهُ مُضِلٌّ لِمَنِ اقْتَدَى بِهِ فِي حَيَاتِهِ وَ بَعْدَ وَفَاتِهِ حَمَّالٌ خَطَايَا غَيْرِهِ رَهْنٌ بِخَطِيئَتِهِ وَ رَجُلٌ قَمَشَ جَهْلًا مُوضِعٌ فِي جُهَّالِ الْأُمَّةِ غَارٌّ فِي أَغْبَاشِ الْفِتْنَةِ عَمٍ بِمَا فِي عَقْدِ الْهُدْنَةِ قَدْ سَمَّاهُ أَشْبَاهُ النَّاسِ عَالِماً وَ لَيْسَ بِهِ بَكَّرَ فَاسْتَكْثَرَ مِنْ جَمْعِ مَا قَلَّ مِنْهُ خَيْرٌ مِمَّا كَثُرَ حَتَّى إِذَا ارْتَوَى مِنْ مَاءٍ آجِنٍ وَ اكْتَنَزَ مِنْ غَيْرِ طَائِلٍ جَلَسَ بَيْنَ النَّاسِ قَاضِياً ضَامِناً لِتَخْلِيصِ مَا الْتَبَسَ عَلَى غَيْرِهِ فَإِنْ نَزَلَتْ بِهِ إِحْدَى الْمُبْهَمَاتِ هَيَّأَ لَهَا حَشْواً رَثًّا مِنْ رَأْيِهِ ثُمَّ قَطَعَ بِهِ فَهُوَ مِنْ لَبْسِ الشُّبُهَاتِ فِي مِثْلِ نَسْجَ الْعَنْكَبُوتِ لَا يَدْرِي أَصَابَ أَمْ أَخْطَأَ فَإِنْ أَصَابَ خَافَ أَنْ يَكُونَ قَدْ أَخْطَأَ وَ إِنْ أَخْطَأَ رَجَا أَنْ يَكُونَ قَدْ أَصَابَ جَاهِلٌ خَبَّاطُ جَهَالَاتٍ عَاشٍ رَكَّابُ عَشَوَاتٍ لَمْ يَعَضَّ عَلَى الْعِلْمِ بِضِرْسٍ قَاطِعٍ يُذْرِي الرِّوَايَاتِ إِذْرَاءَ الرِّيحِ الْهَشِيمِ لَا مَلِي‏ءٌ- وَ اللَّهِ- بِإِصْدَارِ مَا وَرَدَ عَلَيْهِ وَ لَا هُوَ أَهْلٌ لِمَا فُوِّضَ إِلَيْهِ لَا يَحْسَبُ الْعِلْمَ فِي شَيْ‏ءٍ مِمَّا أَنْكَرَهُ وَ لَا يَرَى أَنَّ مِنْ وَرَاءِ مَا بَلَغَ مِنْهُ مَذْهَباً لِغَيْرِهِ وَ إِنْ أَظْلَمَ عَلَيْهِ أَمْرٌ اكْتَتَمَ بِهِ لِمَا يَعْلَمُ مِنْ جَهْلِ نَفْسِهِ تَصْرُخُ مِنْ جَوْرِ قَضَائِهِ الدِّمَاءُ وَ تَعِجُّ مِنْهُ الْمَوَارِيثُ إِلَى اللَّهِ إِلَى اللَّهِ أَشْكُو مِنْ مَعْشَرٍ يَعِيشُونَ جُهَّالًا وَ يَمُوتُونَ ضُلَّالًا لَيْسَ فِيهِمْ سِلْعَةٌ أَبْوَرُ مِنَ الْكِتَابِ إِذَا تُلِيَ حَقَّ تِلَاوَتِهِ وَ لَا سِلْعَةٌ أَنْفَقُ بَيْعاً وَ لَا أَغْلَى ثَمَناً مِنَ الْكِتَابِ إِذَا حُرِّفَ عَنْ مَوَاضِعِهِ وَ لَا عِنْدَهُمْ أَنْكَرُ مِنَ الْمَعْرُوفِ وَ لَا أَعْرَفُ مِنَ الْمُنْكَرِ

    ان لوگوں کے بارے میں جو اُمت کے فیصلے چکانے کیلئے مسند قضا پر بیٹھ جاتے ہیں حالانکہ وہ اس کے اہل نہیں ہوتے: تمام لوگوں میں سب سے زیادہ خدا کے نزدیک مبغوض دو شخص [۱] ہیں: ایک وہ جسے اللہ نے اس کے نفس کے حوالے کر دیا ہو (یعنی اس کی بداعمالیوں کی وجہ سے اپنی توفیق سلب کر لی) جس کے بعد وہ سیدھی راہ سے ہٹا ہوا، بدعت کی باتوں پر فریفتہ اور گمراہی کی تبلیغ پر مٹا ہوا ہے۔ وہ اپنے ہوا خواہوں کیلئے فتنہ اور سابقہ لوگوں کی ہدایت سے برگشتہ ہے۔ وہ تمام ان لوگوں کیلئے جو اس کی زندگی میں یا اس کی موت کے بعد اس کی پیروی کریں، گمراہ کرنے والا ہے۔ وہ دوسروں کے گناہوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے اور خود اپنی خطاؤں میں جکڑا ہوا ہے۔ اور دوسرا شخص وہ ہے جس نے جہالت کی باتوں کو (اِدھر اُدھر سے) بٹور لیا ہے۔ وہ اُمت کے جاہل افراد میں دوڑ دھوپ کیا کرتا ہے اور فتنوں کی تاریکیوں میں غافل و مدہوش پڑا رہتا ہے اور امن و آشتی کے فائدوں سے آنکھ بند کر لیتا ہے۔ چند انسانی شکل و صورت سے ملتے جلتے ہوئے لوگوں نے اسے عالم کا لقب دے رکھا ہے، حالانکہ وہ عالم نہیں۔ وہ ایسی (بے سود) باتوں کے سمیٹنے کیلئے منہ اندھیرے نکل پڑتا ہے جن کا نہ ہونا ہونے سے بہتر ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ اس گندے پانی سے سیراب ہو لیتا ہے اور لا یعنی باتوں کو جمع کر لیتا ہے تو لوگوں میں قاضی بن کر بیٹھ جاتا ہے اور دوسروں پر مشتبہ رہنے والے مسائل کے حل کرنے کا ذمہ لے لیتا ہے۔ اگر کوئی الجھا ہوا مسئلہ اس کے سامنے پیش ہوتا ہے تو اپنی رائے سے اس کیلئے بھرتی کی فرسودہ دلیلیں مہیا کر لیتا ہے اور پھر اس پر یقین بھی کر لیتا ہے۔ اس طرح وہ شبہات کے الجھاؤ میں پھنسا ہوا ہے جس طرح مکڑی خود اپنے ہی جالے کے اندر۔ وہ خود یہ نہیں جانتا کہ اس نے صحیح حکم دیا ہے یا غلط۔ اگر صحیح بات بھی کہی ہو تو اسے یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں غلط نہ ہو اور غلط جواب ہو تو اسے یہ توقع رہتی ہے کہ شاید یہی صحیح ہو۔ وہ جہالتوں میں بھٹکنے والا جاہل اور اپنی نظر کے دھندلا پن کے ساتھ تاریکیوں میں بھٹکنے والی سواریوں پر سوار ہے۔ نہ اس نے حقیقت علم کو پرکھا نہ اس کی تہ تک پہنچا۔ وہ روایات کو اس طرح درہم و برہم کرتا ہے جس طرح ہوا سوکھے ہوئے تنکوں کو۔ خدا کی قسم! وہ ان مسائل کے حل کرنے کا اہل نہیں جو اس سے پوچھے جاتے ہیں۔ اور نہ اس منصب کے قابل ہے جو اسے سپرد کیا گیا ہے۔ جس چیز کو وہ نہیں جانتا اس چیز کو وہ کوئی قابلِ اعتنا علم ہی نہیں قرار دیتا اور جہاں تک وہ پہنچ سکتا ہے اس کے آگے یہ سمجھتا ہی نہیں کہ کوئی دوسرا پہنچ سکتا ہے اور جو بات اس کی سمجھ میں نہیں آتی اسے پی جاتا ہے، کیونکہ وہ اپنی جہالت کو خود جانتا ہے۔ (ناحق بہائے ہوئے) خون اس کے ناروا فیصلوں کی وجہ سے چیخ رہے ہیں اور غیر مستحق افراد کو پہنچی ہوئی میراثیں چلا رہی ہیں۔ اللہ ہی سے شکوہ ہے ان لوگوں کا جو جہالت میں جیتے ہیں اور گمراہی میں مر جاتے ہیں۔ ان میں قرآن سے زیادہ کوئی بے قیمت چیز نہیں، جبکہ اسے اس طرح پیش کیا جائے جیسا پیش کرنے کا حق ہے اور اس قرآن سے زیادہ ان میں کوئی مقبول اور قیمتی چیز نہیں، اس وقت جب کہ اس کی آیتوں کا بے محل استعمال کیا جائے۔ ان کے نزدیک نیکی سے زیادہ کوئی برائی اور برائی سے زیادہ کوئی نیکی نہیں۔

  18. خطبہ 18- علماء کے مختلف الاراء ہونے کی مذمت اور تصویب کی رد

    18

    تَرِدُ عَلَى أَحَدِهِمُ الْقَضِيَّةُ فِي حُكْمٍ مِنَ الْأَحْكَامِ فَيَحْكُمُ فِيهَا بِرَأْيِهِ‏ ثُمَّ تَرِدُ تِلْكَ الْقَضِيَّةُ بِعَيْنِهَا عَلَى غَيْرِهِ فَيَحْكُمُ فِيهَا بِخِلَافِهِ ثُمَّ يَجْتَمِعُ الْقُضَاةُ بِذَلِكَ عِنْدَ إِمَامِهِمُ الَّذِي اسْتَقْضَاهُمْ فَيُصَوِّبُ آرَاءَهُمْ جَمِيعاً وَ إِلَهُهُمْ وَاحِدٌ وَ نَبِيُّهُمْ وَاحِدٌ وَ كِتَابُهُمْ وَاحِدٌ اَفَأَمَرَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى بِالِاخْتِلَافِ فَأَطَاعُوهُ أَمْ نَهَاهُمْ عَنْهُ فَعَصَوْهُ أَمْ أَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ دِيناً نَاقِصاً فَاسْتَعَانَ بِهِمْ عَلَى إِتْمَامِهِ أَمْ كَانُوا شُرَكَاءَ لَهُ فَلَهُمْ أَنْ يَقُولُوا وَ عَلَيْهِ أَنْ يَرْضَى أَمْ أَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ دِيناً تَامّاً فَقَصَّرَ الرَّسُولُ صلى الله عليه و اله عَنْ تَبْلِيغِهِ وَ أَدَائِهِ وَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ يَقُولُ «ما فَرَّطْنا فِي الْكِتابِ مِنْ شَيْ‏ءٍ» وَ قَالَ «فِيهِ تِبْيَانُ كُلِّ شَيْ‏ءٍ» وَ ذَكَرَ أَنَّ الْكِتَابَ يُصَدِّقُ بَعْضُهُ بَعْضاً وَ أَنَّهُ لَا اخْتِلَافَ فِيهِ فَقَالَ سُبْحَانَهُ وَ لَوْ كانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلافاً كَثِيراً وَ إِنَّ الْقُرْآنَ ظَاهِرُهُ أَنِيقٌ وَ بَاطِنُهُ عَمِيقٌ لَا تَفْنَى عَجَائِبُهُ وَ لَا تَنْقَضِي غَرَائِبُهُ وَ لَا تُكْشَفُ الظُّلُمَاتُ إِلَّا بِهِ

    فتاویٰ میں علماء کے مختلف الآرا ہونے کی مذمت میں فرمایا جب ان میں سے کسی ایک کے سامنے کوئی معاملہ فیصلہ کیلئے پیش ہوتا ہے تو وہ اپنی رائے سے اس کا حکم لگا دیتا ہے۔ پھر وہی مسئلہ بعینہٖ دوسرے کے سامنے پیش ہوتا ہے تو وہ اس پہلے کے حکم کے خلاف حکم دیتا ہے۔ پھر یہ تمام کے تمام قاضی اپنے اس خلیفہ کے پاس جمع ہوتے ہیں جس نے انہیں قاضی بنا رکھا ہے تو وہ سب کی رایوں کو صحیح قرار دیتا ہے، حالانکہ ان کا اللہ ایک، نبی ایک اور کتاب ایک ہے۔ (انہیں غور تو کرنا چاہیے) کیا اللہ نے انہیں اختلاف کا حکم دیا تھا اور یہ اختلاف کر کے اس کا حکم بجا لاتے ہیں۔ یا اس نے تو حقیقتاً اختلاف سے منع کیا ہے اور یہ اختلاف کر کے عمداً اس کی نافرمانی کرنا چاہتے ہیں۔ یا یہ کہ اللہ نے دین کو ادھورا چھوڑ دیا تھا اور ان سے تکمیل کیلئے ہاتھ بٹانے کا خواہشمند ہوا تھا۔ یا یہ کہ اللہ کے شریک تھے کہ انہیں اس کے احکام میں دخل دینے کا حق ہو اور اس پر لازم ہو کہ وہ اس پر رضا مند رہے۔ یا یہ کہ اللہ نے تو دین کو مکمل اتارا تھا مگر اس کے رسول ﷺ نے اس کے پہنچانے اور ادا کرنے میں کوتاہی کی تھی۔ اللہ نے قرآن میں تو یہ فرمایا ہے کہ: ’’ہم نے کتاب میں کسی چیز کے بیان کرنے میں کوتاہی نہیں کی‘‘اور اس میں ہر چیز کا واضح بیان کیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ: قرآن کے بعض حصے بعض حصوں کی تصدیق کرتے ہیں اور اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ چنانچہ اللہ کا یہ ارشاد ہے کہ: ’’ اگر یہ قرآن اللہ کے علاوہ کسی اور کا بھیجا ہوا ہوتا تو تم اس میں کافی اختلاف پاتے‘‘ اور یہ کہ اس کا ظاہر خوش نما اور باطن گہرا ہے۔ نہ اس کے عجائبات مٹنے والے اور نہ اس کے لطائف ختم ہونے والے ہیں۔ ظلمت (جہالت) کا پردہ اسی سے چاک کیا جاتا ہے۔

  19. خطبہ 19- اشعث بن قیس کی غداری و نفاق کا تذکرہ

    19

    مَا يُدْرِيكَ مَا عَلَيَّ مِمَّا لِي عَلَيْكَ لَعْنَةُ اللَّهِ وَ لَعْنَةُ اللَّاعِنِينَ حَائِكُ ابْنُ حَائِكٍ مُنَافِقُ ابْنُ كَافِرٍ وَ اللَّهِ لَقَدْ أَسَرَكَ الْكُفْرُ مَرَّةً وَ الْإِسْلَامُ‏ أُخْرَى فَمَا فَدَاكَ مِنْ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا مَالُكَ وَ لَا حَسَبُكَ وَ إِنَّ امْرَأً دَلَّ عَلَى قَوْمِهِ السَّيْفَ وَ سَاقَ إِلَيْهِمُ الْحَتْفَ لَحَرِيٌّ أَنْ يَمْقُتَهُ الْأَقْرَبُ وَ لَا يَأْمَنَهُ الْأَبْعَدُ قال السيد الشريف: يُرِيدُ علیه السلام اَنَّهُ اُسِرَ فِي الْكُفْرِ مَرَةً، وَ فِي الاسْلامِ مَرَّةً. وَ اَمَا قَوْلُهُ عليه السلام دَلَّ عَلى قَوْمِهِ السَّيْفَ فَاَرادَ بِهِ حَديثا كانَ لِلاشْعَثِ مَعَ خالِدِ بْنِ الْوَليدِ بِاليَمامَةِ، غَرَّ فِيهِ قَوْمَهُ، وَ مَكَرَ بِهِمْ حَتَى اَوْقَعَ بِهِمْ خالِدْ، وَ كانَ قَوْمُهُ بَعْدَ ذلِكَ يُسَمُّونَهُ عُرْفَ النارِ، وَ هُوَ اسْمٌ لِلغادِرِ عِنْدَهُمْ.

    امیر المومنین علیہ السلام منبرِ کوفہ پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ اشعث ابنِ قیس [۱] نے آپؑ کے کلام پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ: یا امیر المومنینؑ! یہ بات تو آپؑ کے حق میں نہیں، بلکہ آپؑ کے خلاف پڑتی ہے تو حضرتؑ نے اسے نگاہِ غضب سے دیکھا اور فرمایا: تجھے کیا معلوم کہ کون سی چیز میرے حق میں ہے اور کون سی چیز میرے خلاف جاتی ہے۔ تجھ پر اللہ کی پھٹکار اور لعنت کرنے والوں کی لعنت ہو! تو جولاہے کا بیٹا جو لاہا اور کافر کی گود میں پلنے والا منافق ہے۔ تو ایک دفعہ کافروں کے ہاتھوں میں اور ایک دفعہ مسلمانوں کے ہاتھوں میں اسیر ہوا۔ لیکن تجھ کو تیرا مال اور حسب اس عار سے نہ بچا سکا اور جو شخص اپنی قوم پر تلوار چلوا دے اور اس کی طرف موت کو دعوت اور ہلاکت کا بلاوا دے، وہ اسی قابل ہے کہ قریبی اس سے نفرت کریں اور دور والے بھی اس پر بھروسا نہ کریں۔ سیّد رضیؒ فرماتے ہیں کہ: یہ ایک دفعہ کفر کے زمانہ میں اور ایک دفعہ اسلام کے زمانہ میں اسیر کیا گیا تھا۔ رہا حضرتؑ کا یہ ارشاد کہ: ’’جو شخص اپنی قوم پر تلوار چلوا دے‘‘ تو اس سے اس واقعہ کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جو اشعث کو خالد ابنِ ولید کے مقابلہ میں یمامہ میں پیش آیا تھا کہ جہاں اس نے اپنی قوم کو فریب دیا تھا اور ان سے چال چلی تھی، یہاں تک کہ خالد نے ان پر حملہ کردیا اور اس واقعہ کے بعد اس کی قوم والوں نے اس کا لقب ’’عرف النار‘‘ رکھ دیا اور یہ ان کے محاورہ میں غدار کیلئے بولا جاتا ہے۔

  20. خطبہ 20- موت کی ہولناکی اور اس سے عبرت اندوزی

    20

    فَإِنَّكُمْ لَوْ عَايَنْتُمْ مَا قَدْ عَايَنَ مَنْ مَاتَ مِنْكُمْ لَجَزِعْتُمْ وَ وَهِلْتُمْ وَ سَمِعْتُمْ وَ أَطَعْتُمْ وَ لَكِنْ مَحْجُوبٌ عَنْكُمْ مَا قَدْ عَايَنُوا وَ قَرِيبٌ مَا يُطْرَحُ الْحِجَابُ وَ لَقَدْ بُصِّرْتُمْ إِنْ أَبْصَرْتُمْ وَ أُسْمِعْتُمْ إِنْ سَمِعْتُمْ وَ هُدِيتُمْ إِنِ اهْتَدَيْتُمْ بِحَقٍّ أَقُولُ لَكُمْ لَقَدْ جَاهَرَتْكُمُ الْعِبَرُ وَ زُجِرْتُمْ بِمَا فِيهِ مُزْدَجَرٌ وَ مَا يُبَلِّغُ عَنِ اللَّهِ بَعْدَ رُسُلِ السَّمَاءِ إِلَّا الْبَشَرُ

    جن چیزوں کو تمہارے مرنے والوں نے دیکھا ہے اگر تم بھی انہیں دیکھ لیتے تو گھبرا جاتے اور سراسیمہ اور مضطرب ہو جاتے اور (حق کی بات) سنتے اور اس پر عمل کرتے، لیکن جو انہوں نے دیکھا ہے وہ ابھی تم سے پوشیدہ ہے اور قریب ہے کہ وہ پردہ اٹھا دیا جائے۔ اگر تم چشمِ بینا و گوشِ شنوا رکھتے ہو تو تمہیں سنایا اور دکھایا جا چکا ہے اور ہدایت کی طلب ہے تو تمہیں ہدایت کی جا چکی ہے۔ میں سچ کہتا ہوں کہ عبرتیں تمہیں بلند آواز سے پکار چکی ہیں اور دھمکانے والی چیزوں سے تمہیں دھمکایا جا چکا ہے۔ آسمانی رسولوں (فرشتوں) کے بعد بشر ہی ہوتے ہیں جو تم تک اللہ کا پیغام پہنچاتے ہیں۔ (اسی طرح میری زبان سے جو ہدایت ہو رہی ہے، درحقیقت اللہ کا پیغام ہے جو تم تک پہنچ رہا ہے)۔

  21. خطبہ 21- دنیا میں سبکبار رہنے کی تعلیم

    21

    فَإِنَّ الْغَايَةَ أَمَامَكُمْ وَ إِنَّ وَرَاءَكُمُ السَّاعَةَ تَحْدُوكُمْ تَخَفَّفُوا تَلْحَقُوا فَإِنَّمَا يُنْتَظَرُ بِأَوَّلِكُمْ آخِرُكُمْ قال السيد الشريف: إنَّ هذَا الْكَلامَ لَوْ وُزِنَ بَعْدَ كَلامِ اللّهِ سُبْحانَهُ، وَ بَعْدَ كَلامِ رَسُولِ اللّه (ص) بِكُلٍ كَلامٍ لَمالَ بِهِ راجحا وَ بَرَّزَ عَلَيْهِ سابِقا. فَاَمَا قَوْلُهُ عليه السلام تَخَفَّفُوا تَلْحَقُوا فما سُمِعَ كَلامُ اَقَلُّ مِنْهُ مَسْمُوعا وَ لا اَكْثَرُ مَحْصُولا، وَ ما اَبْعَدَ غَوْرَها مِنْ كَلِمَةٍ، وَاَنْقَعَ نُطْفَتَها مِنْ حِكْمَةٍ، وَ قَدْ نَبَّهْنا فِي كِتابِ الْخَصائِصِ عَلى عِظَمِ قَدْرِها وَ شَرَفِ جَوْهَرِها.

    تمہاری منزل مقصود تمہارے سامنے ہے۔ موت کی ساعت تمہارے عقب میں ہے جو تمہیں آگے کی طرف لے چل رہی ہے۔ ہلکے پھلکے رہو تاکہ آگے بڑھنے والوں کو پا سکو۔ تمہارے اگلوں کو پچھلوں کا انتظار کرایا جا رہا ہے (کہ یہ بھی ان تک پہنچ جائیں)۔ سیّد رضی فرماتے ہیں کہ: کلامِ خدا و رسولؐ کے بعد جس کلام سے بھی ان کلمات کا موازنہ کیا جائے تو حسن و خوبی میں ان کا پلہ بھاری رہے گا اور ہر حیثیت سے بڑھے چڑھے رہیں گے اور آپؑ کا یہ ارشاد کہ: «تَخَفَّفُوْاتَلْحَقُوْا» اس سے بڑھ کر تو کوئی جملہ سننے ہی میں نہیں آیا جس کے الفاظ کم ہوں اور معنی بہت ہوں۔ اللہ اکبر! کتنے اس کلمہ کے معنی بلند اور اس حکمت کا چشمہ صاف و شفاف ہے اور ہم نے اپنی کتاب خصائص میں اس فقرے کی عظمت اور اس کے معنی کی بلندی پر روشنی ڈالی ہے۔

  22. خطبہ 22- قتل عثمان کا الزام عائد کرنے والوں کے بارے میں

    22

    أَلَا وَ إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ ذَمَّرَ حِزْبَهُ وَ اسْتَجْلَبَ جَلَبَهُ لِيَعُودَ الْجَوْرُ إِلَى أَوْطَانِهِ وَ يَرْجِعَ الْبَاطِلُ إِلَى نِصَابِهِ وَ اللَّهِ مَا أَنْكَرُوا عَلَيَّ مُنْكَراً وَ لَا جَعَلُوا بَيْنِي وَ بَيْنَهُمْ نَصِفاً يذم عملهم وَ إِنَّهُمْ لَيَطْلُبُونَ حَقّاً هُمْ تَرَكُوهُ وَ دَماً هُمْ سَفَكُوهُ فَلَئِنْ كُنْتُ شَرِيكَهُمْ فِيهِ فَإِنَّ لَهُمْ لَنَصِيبَهُمْ مِنْهُ وَ لَئِنْ كَانُوا وَلُوهُ دُونِي فَمَا التَّبِعَةُ إِلَّا عِنْدَهُمْ وَ إِنَّ أَعْظَمَ حُجَّتِهِمْ لَعَلَى أَنْفُسِهِمْ يَرْتَضِعُونَ أُمّاً قَدْ فَطَمَتْ وَ يُحْيُونَ بِدْعَةً قَدْ أُمِيتَتْ يَا خَيْبَةَ الدَّاعِي مَنْ دَعَا وَ إِلَامَ أُجِيبَ وَ إِنِّي لَرَاضٍ بِحُجَّةِ اللَّهِ عَلَيْهِمْ وَ عِلْمِهِ فِيهِمْ التهديد بالحرب فَإِنْ أَبَوْا أَعْطَيْتُهُمْ حَدَّ السَّيْفِ وَ كَفَى بِهِ شَافِياً مِنَ الْبَاطِلِ وَ نَاصِراً لِلْحَقِّ وَ مِنَ الْعَجَبِ بَعْثَتُهُمْ إِلَيَّ أَنْ أَبْرُزَ لِلطِّعَانِ وَ أَنْ أَصْبِرَ لِلْجِلَادِ هَبِلَتْهُمُ الْهَبُولُ لَقَدْ كُنْتُ وَ مَا أُهَدَّدُ بِالْحَرْبِ وَ لَا أُرْهَبُ بِالضَّرْبِ وَ إِنِّي لَعَلَى يَقِينٍ مِنْ رَبِّي وَ غَيْرِ شُبْهَةٍ مِنْ دِينِي

    معلوم ہونا چاہیے کہ شیطان نے اپنے گروہ کو بھڑکانا شروع کر دیا اور اپنی فوجیں فراہم کر لی ہیں تاکہ ظلم اپنی انتہا کی حد تک اور باطل اپنے مقام پر پلٹ آئے۔ خدا کی قسم! انہوں نے مجھ پر کوئی سچا الزام نہیں لگایا اور نہ انہوں نے میرے اور اپنے درمیان انصاف برتا۔ وہ مجھ سے اس حق کا مطالبہ کرتے ہیں جسے خود ہی انہوں نے چھوڑ دیا اور اس خون کا عوض چاہتے ہیں جسے انہوں نے خود بہایا ہے۔ اب اگر اس میں مَیں ان کا شریک تھا تو پھر اس میں ان کا بھی تو حصہ نکلتا ہے اور اگر وہی اس کے مرتکب ہوئے ہیں، مَیں نہیں تو پھر اس کی سزا بھی صرف انہی کو بھگتنا چاہیے۔ جو سب سے بڑی دلیل وہ میرے خلاف پیش کریں گے وہ انہی کے خلاف پڑے گی۔ وہ اس ماں کا دودھ پینا چاہتے ہیں جس کا دودھ منقطع ہو چکا ہے اور مری ہوئی بدعت کو پھر سے زندہ کرنا چاہتے ہیں۔ اُف کتنا نامراد یہ (جنگ کیلئے) پکارنے والا ہے۔ یہ ہے کون جو للکارنے والا ہے اور کس مقصد کیلئے اس کی بات کو سنا جا رہا ہے اور میں تو اس سے خوش ہوں کہ ان پر اللہ کی حجت تمام ہو چکی ہے اور ہر چیز اس کے علم میں ہے۔ اگر ان لوگوں نے اطاعت سے انکار کیا تو میں تلوار کی باڑ ان کے سامنے رکھ دوں گا جو باطل سے شفا دینے اور حق کی نصرت کیلئے کافی ہے۔ حیرت ہے کہ وہ مجھے یہ پیغام بھیجتے ہیں کہ میں نیزہ زنی کیلئے میدان میں اتر آؤں اور تلواروں کی جنگ کیلئے جمنے پر تیار رہوں۔ رونے والیاں ان کے غم میں روئیں! مَیں تو ہمیشہ ایسا رہا کہ جنگ سے مجھے دھمکایا نہیں جا سکا اور شمشیر زنی سے خوفزدہ نہیں کیا جا سکا اور میں اپنے پروردگار کی طرف سے یقین کے درجہ پر فائز ہوں اور اپنے دین کی حقانیت میں مجھے کوئی شک نہیں ہے۔

  23. خطبہ 23- حسد سے باز رہنے اور عزیزو اقارب سے حسن سلوک کے بارے میں

    23

    أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ الْأَمْرَ يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ كَقَطْرِ الْمَطَرِ إِلَى كُلِّ نَفْسٍ بِمَا قُسِمَ لَهَا مِنْ زِيَادَةٍ أَوْ نُقْصَانٍ فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ لِأَخِيهِ غَفِيرَةً فِي أَهْلٍ أَوْ مَالٍ أَوْ نَفْسٍ فَلَا تَكُونَنَّ لَهُ فِتْنَةً فَإِنَّ الْمَرْءَ الْمُسْلِمَ مَا لَمْ يَغْشَ دَنَاءَةً تَظْهَرُ فَيَخْشَعُ لَهَا إِذَا ذُكِرَتْ وَ تغرى بِهَا لِئَامُ النَّاسِ كَانَ كَالْفَالِجِ الْيَاسِرِ الَّذِي يَنْتَظِرُ أَوَّلَ فَوْزَةٍ مِنْ قِدَاحِهِ تُوجِبُ لَهُ الْمَغْنَمَ وَ يُرْفَعُ عَنْهُ بِهَا الْمَغْرَمُ وَ كَذَلِكَ الْمَرْءُ الْمُسْلِمُ الْبَرِي‏ءُ مِنَ الْخِيَانَةِ يَنْتَظِرُ مِنَ اللَّهِ إِحْدَى الْحُسْنَيَيْن‏: إِمَّا دَاعِيَ اللَّهِ فَمَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ لَهُ وَ إِمَّا رِزْقَ اللَّهِ فَإِذَا هُوَ ذُو أَهْلٍ وَ مَالٍ وَ مَعَهُ دِينُهُ وَ حَسَبُهُ إِنَّ الْمَالَ وَ الْبَنِينَ حَرْثُ الدُّنْيَا وَ الْعَمَلَ الصَّالِحَ حَرْثُ الْآخِرَةِ وَ قَدْ يَجْمَعُهُمَا اللَّهُ لِأَقْوَامٍ فَاحْذَرُوا مِنَ اللَّهِ مَا حَذَّرَكُمْ مِنْ نَفْسِهِ وَ اخْشَوْهُ خَشْيَةً لَيْسَتْ بِتَعْذِيرٍ وَ اعْمَلُوا فِي غَيْرِ رِيَاءٍ وَ لَا سُمْعَةٍ فَإِنَّهُ مَنْ يَعْمَلْ لِغَيْرِ اللَّهِ يَكِلْهُ اللَّهُ إِلَى مَنْ عَمِلَ نَسْأَلُ اللَّهَ مَنَازِلَ الشُّهَدَاءِ وَ مُعَايَشَةَ السُّعَدَاءِ وَ مُرَافَقَةَ الْأَنْبِيَاءِ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَا يَسْتَغْنِي الرَّجُلُ وَ إِنْ كَانَ ذَا مَالٍ عَنْ عَشِيرَتِهِ وَ دِفَاعِهِمْ عَنْهُ بِأَيْدِيهِمْ وَ أَلْسِنَتِهِمْ وَ هُمْ أَعْظَمُ النَّاسِ حِيْطَةً مَنْ وَرَائِهِ وَ أَلَمُّهُمْ لِشَعَثِهِ وَ أَعْطَفُهُمْ عَلَيْهِ عِنْدَ نَازِلَةٍ إِذَا نَزَلَتْ بِهِ وَ لِسَانُ الصِّدْقِ يَجْعَلُهُ اللَّهُ لِلْمَرْءِ فِي النَّاسِ خَيْرٌ لَهُ مِنَ الْمَالِ يُوَرِّثُهُ غَيْرُهُ و منها أَلَا لَا يَعْدِلَنَّ أَحَدُكُمْ عَنِ الْقَرَابَةِ يَرَى بِهَا الْخَصَاصَةَ أَنْ يَسُدَّهَا بِالَّذِي لَا يَزِيدُهُ إِنْ أَمْسَكَهُ وَ لَا يَنْقُصُهُ إِنْ أَهْلَكَهُ وَ مَنْ يَقْبِضْ يَدَهُ عَنْ عَشِيرَتِهِ فَإِنَّمَا تُقْبَضُ مِنْهُ عَنْهُمْ يَدٌ وَاحِدَةٌ وَ تُقْبَضُ مِنْهُمْ عَنْهُ أَيْدٍ كَثِيرَةٌ وَ مَنْ تَلِنْ حَاشِيَتُهُ يَسْتَدِمْ مِنْ قَوْمِهِ الْمَوَدَّةَ قال السيد الشريف: الْغَفِيرَةُ هاهُنا الزِّيادِةُ وَالْكَثْرَةُ مِنْ قَوْلِهِمْ لِلْجَمْعِ الْكَثيرِ: الْجَمُ الْغَفيرُ، وَالْجَماءُ الْغَفيرُ، وَ يُرْوى عَفْوَةٌ مِنْ اَهْلٍ اَوْ مالٍ، والْعَفْوَةُ الخِيارُ مِنَ الشَّي ء، يُقالُ: اكَلْت عَفْوَة الطّعامِ اَي : خِيارَهُ. وَ ما اَحْسَنَ الْمَعْنى الّذي اَرادَهُ عليه السلام بِقَوْلِهِ "وَ مَنْ يَقْبِضْ يَدَهُ عَنْ عَشيرَتِهِ" إلى تَمامِ الْكَلامِ " فَإنَّ الْمُمْسِكْ خَيْرَهُ عَنْ عَشيرَتِهِ إنّما يُمْسِكُ نَفْعَ يَدٍ واحِدَةٍ " فَإذَا احْتاجَ إلى نُصْرَتِهِمْ واضْطَرَّ إلى مُرافَدَتِهِمْ قَعَدُوا عَنْ نَصْرِهِ، وَ تَثاقَلُوا عَنْ صَوْتِهِ، فَمُنِعَ تَرافُدَ الا يْدِي الْكَثِيْرَةِ وَ تَناهُضَ الاقْدامِ الْجَمَّةِ.

    ہر شخص کے مقسوم میں جو کم یا زیادہ ہوتا ہے، اسے لے کر فرمان قضا آسمان سے زمین پر اس طرح اترتے ہیں جس طرح بارش کے قطرات، لہٰذا اگر کوئی شخص اپنے کسی بھائی کے اہل و مال و نفس میں فراوانی و وسعت پائے تو یہ چیز اس کیلئے کبیدگی خاطر کا سبب نہ بنے۔ جب تک کوئی مرد مسلمان کسی ایسی ذلیل حرکت کا مرتکب نہیں ہوتا کہ جو ظاہر ہو جائے تو اس کے تذکرہ سے اسے آنکھیں نیچی کرنا پڑیں اور جس سے ذلیل آدمیوں کی جرأت بڑھے، وہ اس کامیاب جواری کے مانند ہے جو جوئے کے تیروں کا پانسہ پھینک کر پہلے مرحلے پر ہی ایسی جیت کا متوقع ہوتا ہے جس سے اسے فائدہ حاصل ہو اور پہلے نقصان ہو بھی چکا ہے تو وہ دور ہو جائے۔ اسی طرح وہ مسلمان جو بد دیانتی سے پاک دامن ہو، وہ دو اچھائیوں میں سے ایک کا منتظر رہتا ہے: یا اللہ کی طرف سے بلاوا آئے تو اس شکل میں اللہ کے یہاں کی نعمتیں ہی اس کیلئے بہتر ہیں اور یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے (دنیا کی) نعمتیں حاصل ہوں تو اس صورت میں اس کے مال بھی ہے اور اولاد بھی اور پھر اس کا دین اور عزتِ نفس بھی برقرار رہے۔ بیشک مال و اولاد دنیا کی کھیتی اور عمل صالح آخرت کی کشتِ زار ہے اور بعض لوگوں کیلئے اللہ ان دونوں چیزوں کو یکجا کر دیتا ہے۔ جتنا اللہ نے ڈرایا ہے اتنا اس سے ڈرتے رہو اور اتنا اس سے خوف کھاؤ کہ تمہیں عذر نہ کرنا پڑے۔ عمل بے ریا کرو اس لئے کہ جو شخص کسی اور کیلئے عمل کرتا ہے، اللہ اس کو اسی کے حوالہ کر دیتا ہے۔ ہم اللہ سے شہیدوں کی منزلت، نیکوں کی ہمدمی اور انبیاءؑ کی رفاقت کا سوال کرتے ہیں۔ اے لوگو! کوئی شخص بھی اگرچہ وہ مالدار ہو اپنے قبیلہ والوں اور اس امر سے کہ وہ اپنے ہاتھوں اور زبانوں سے اس کی حمایت کریں بے نیاز نہیں ہو سکتا اور وہی لوگ سب سے زیادہ اس کے پشت پناہ اور اس کی پریشانیوں کو دور کرنے والے اور مصیبت پڑنے کی صورت میں اس پر شفیق و مہربان ہوتے ہیں۔ اللہ جس شخص کا سچا ذکرِ خیر لوگوں میں برقرار رکھتا ہے تو یہ اس مال سے کہیں بہتر ہے جس کا وہ دوسروں کو وارث بنا جاتا ہے۔ [اسی خطبہ کا ایک جز یہ ہے] دیکھو تم میں سے اگر کوئی شخص اپنے قریبیوں کو فقر و فاقہ میں پائے تو ان کی احتیاج کو اس امداد سے دور کرنے میں پہلو تہی نہ کرے جس کے روکنے سے یہ کچھ بڑھ نہ جائے گا اور صرف کرنے سے اس میں کچھ کمی نہ ہو گی۔ جو شخص اپنے قبیلے کی اعانت سے ہاتھ روک لیتا ہے تو اس کا تو ایک ہاتھ رکتا ہے لیکن وقت پڑنے پر بہت سے ہاتھ اس کی مدد سے رُک جاتے ہیں۔ جو شخص نرم خو ہو وہ اپنی قوم کی محبت ہمیشہ باقی رکھ سکتا ہے۔ شریف رضیؒ فرماتے ہیں کہ: یہاں پر «الْغَفِيْرَةُ» کے معنی کثرت و زیادتی کے ہیں اور یہ عربوں کے قول: اَلْجَمُّ الْغَفِيْرُ، وَ الْجَمَّآءُ الْغَفِيْرُ : (اژدہام) سے ماخوذ ہے اور بعض روایتوں میں ’’غفیرہ‘‘ کے بجائے عَفْوَةً ہے اور عَفْوَةً کسی شے کے عمدہ اور منتخب حصہ کو کہتے ہیں۔ یوں کہا جاتا ہے: اَكَلْتُ عَفْوَةَ الطَّعَامِ یعنی میں نے منتخب اور عمدہ کھانا کھایا۔ «وَ مَنْ يَّقْبِضْ يَدَهٗ عَنْ عَشِيْرَتِهٖ» (تا آخر کلام) کے متعلق فرماتے ہیں کہ اس جملہ کے معنی کتنے حسین و دلکش ہیں۔ حضرتؑ کی مراد یہ ہے کہ جو شخص اپنے قبیلہ سے حسن سلوک نہیں کرتا تو اس نے ایک ہی ہاتھ کی منفعت کو روکا، لیکن جب ان کی امداد کی ضرورت پڑے گی اور ان کی ہمدردی و اعانت کیلئے لاچار و مضطر ہو گا تو وہ ان کے بہت سے بڑھنے والے ہاتھوں اور اٹھنے والے قدموں کی ہمدردیوں اور چارہ سازیوں سے محروم ہو جائے گا۔

  24. خطبہ 24- جنگ پر آمادہ کرنے کے لیے فرمایا

    24

    وَ لَعَمْرِي مَا عَلَيَّ مِنْ قِتَالِ مَنْ خَالَفَ الْحَقَّ وَ خَابَطَ الْغَيَّ مِنْ إِدْهَانٍ وَ لَا إِيهَانٍ فَاتَّقُوا اللَّهَ عِبَادَ اللَّهِ وَ فِرُّوا إِلَى اللَّهِ مِنَ اللَّهِ وَ امْضُوا فِي الَّذِي نَهَجَهُ لَكُمْ وَ قُومُوا بِمَا عَصَبَهُ بِكُمْ فَعَلِيٌّ ضَامِنٌ لِفَلْجِكُمْ آجِلًا إِنْ لَمْ تُمْنَحُوهُ عَاجِلًا

    مجھے اپنی زندگی کی قسم! میں حق کے خلاف چلنے والوں اور گمراہی میں بھٹکنے والوں سے جنگ میں کسی قسم کی رُو رعایت اور سستی نہیں کروں گا۔ اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو اور اس کے غضب سے بھاگ کر اس کے دامن رحمت میں پناہ لو، اللہ کی دکھائی ہوئی راہ پر چلو اور اس کے عائد کردہ احکام کو بجالاؤ (اگر ایسا ہو تو) علیؑ تمہاری نجات اخروی کا ضامن ہے، اگرچہ دنیوی کامرانی تمہیں حاصل نہ ہو۔

  25. خطبہ 25- بسر کے حملے کے بعد جنگ سے جی چرانے والوں سے فرمایا

    25

    مَا هِيَ إِلَّا الْكُوفَةُ أَقْبِضُهَا وَ أَبْسُطُهَا إِنْ لَمْ تَكُونِي إِلَّا أَنْتِ تَهُبُ‏ أَعَاصِيرُكِ فَقَبَّحَكِ اللَّهُ وَ تَمَثَّلَ بِقَوْلِ الشَّاعِرِ لَعَمْرُ أَبِيكَ الْخَيْرِ يَا عَمْرُو إِنَّنِي عَلَى وَضَرٍ مِنْ ذَا الْإِنَاءِ قَلِيلِ‏ ثُمَّ قَالَ عليه السلام: أُنْبِئْتُ بُسْراً قَدِ اطَّلَعَ الْيَمَنَ وَ إِنِّي وَ اللَّهِ لَأَظُنُّ أَنَّ هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ سَيُدَالُونَ مِنْكُمْ بِاجْتِمَاعِهِمْ عَلَى بَاطِلِهِمْ وَ تَفَرُّقِكُمْ عَنْ حَقِّكُمْ وَ بِمَعْصِيَتِكُمْ إِمَامَكُمْ فِي الْحَقِّ وَ طَاعَتِهِمْ إِمَامَهُمْ فِي الْبَاطِلِ وَ بِأَدَائِهِمُ الْأَمَانَةَ إِلَى صَاحِبِهِمْ وَ خِيَانَتِكُمْ وَ بِصَلَاحِهِمْ فِي بِلَادِهِمْ وَ فَسَادِكُمْ فَلَوِ ائْتَمَنْتُ أَحَدَكُمْ عَلَى قَعْبٍ لَخَشِيتُ أَنْ يَذْهَبَ بِعِلَاقَتِهِ اللَّهُمَّ إِنِّي قَدْ مَلِلْتُهُمْ وَ مَلُّونِي وَ سَئِمْتُهُمْ وَ سَئِمُونِي فَأَبْدِلْنِي بِهِمْ خَيْراً مِنْهُمْ وَ أَبْدِلْهُمْ بِي شَرّاً مِنِّي اللَّهُمَّ مُثْ قُلُوبَهُمْ كَمَا يُمَاثُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ أَمَا وَ اللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنَّ لِي بِكُمْ أَلْفَ فَارِسٍ مِنْ بَنِي فِرَاسِ بْنِ غَنْمٍ وَ تَمَثَّلَ بِقَوْلِ الشَّاعِرِ: هُنَالِكَ لَوْ دَعَوْتِ أَتَاكَ مِنْهُمْ فَوَارِسُ مِثْلُ أَرْمِيَةِ الْحَمِيمِ‏ ثُمَّ نَزَلَ عليه السلام مِنَ الْمِنْبَرِ قال السيد الشريف: الارْمِيِةُ جَمْعُ رَمِىَّ وَ هُوَ السَّحابُ، والْحَميمُ هاهُنا وَقْتُ الصَّيْفِ، و إنَّما خَصَّ الشاعِرُ سَحابَ الصَيْفِ بِالذِّكْرِ لانَّهُ اشَدُ جُفُولا وَ اَسْرَعُ خُفُوفا، لانَّهُ لا ماء فِيهِ، و إنَّما يَكُونَ السَحابُ ثَقيلَ الْسَيْرِ لامْتِلائِهِ بِالماءِ، وَ ذَلِكَ لا يَكُونَ فِي الا كْثَرِ إلا زَمانَ الشتاءِ، و إنَّما ارادَ الشاعِرُ وَصْفَهُمْ بالسُرْعَةِ إذا دُعُوا والاغاثَةِ إذا استُغِيثُوا، والْدَّلِيلُ عَلى ذلِكَ قَوْلُهُ:هُنالِكَ لَوْ دَعَوْتَ اَتاك مِنْهُمْ

    جب امیر المومنین علیہ السلام کو پے درپے یہ اطلاعات ملیں کہ معاویہ کے اصحاب (آپؑ کے مقبوضہ) شہروں پر تسلط جما رہے ہیں اور یمن کے عامل عبید اللہ ابنِ عباس اور سپہ سالارِ لشکر سعید ابن نُمران، بسر ابن ابی ارطات سے مغلوب ہو کر حضرتؑ کے پاس پلٹ آئے تو آپؑ اپنے اصحاب کی جہاد میں سستی اور رائے کی خلاف ورزی سے بد دل ہو کر منبر کی طرف بڑھے اور فرمایا: یہ عالم ہے اس کوفہ کا جس کا بندوبست میرے ہاتھ میں ہے۔ (اے شہر کوفہ!) اگر تیرا یہی عالم رہا کہ تجھ میں آندھیاں چلتی رہیں تو خدا تجھے غارت کرے!۔ [پھر آپؑ نے شاعر کا یہ شعر بطورِ تمثیل پڑھا] ’’اے عمرو! تیرے اچھے باپ کی قسم! مجھے تو اس برتن سے تھوڑی سی چکناہٹ ہی ملی ہے (جو برتن کے خالی ہونے کے بعد اس میں لگی رہ جاتی ہے)‘‘۔ [پھر آپؑ نے فرمایا] مجھے یہ خبر دی گئی ہے کہ بسر یمن پر چھا گیا ہے۔ بخدا! میں تو اب ان لوگوں کے متعلق یہ خیال کرنے لگا ہوں کہ وہ عنقریب سلطنت و دولت کو تم سے ہتھیا لیں گے، اس لئے کہ وہ (مرکز) باطل پر متحد و یکجا ہیں اور تم اپنے (مرکز) حق سے پراگندہ و منتشر۔ تم امرِ حق میں اپنے امام کے نافرمان اور وہ باطل میں بھی اپنے امام کے مطیع و فرمانبردار ہیں۔ وہ اپنے ساتھی (معاویہ) کے ساتھ امانت داری کے فرض کو پورا کرتے ہیں اور تم خیانت کرنے سے نہیں چوکتے۔ وہ اپنے شہروں میں امن بحال رکھتے ہیں اور تم شورشیں برپا کرتے ہو۔ میں اگر تم میں سے کسی کو لکڑی کے ایک پیالے کا بھی امین بناؤں تو یہ ڈر رہتا ہے کہ وہ اس کے کنڈے کو توڑ کر لے جائے گا۔ اے اللہ! وہ مجھ سے تنگ دل ہو چکے ہیں اور میں ان سے، وہ مجھ سے اُکتا چکے ہیں اور میں ان سے، مجھے ان کے بدلے میں اچھے لوگ عطا کر اور میرے بدلے میں انہیں کوئی اور بُرا حاکم دے۔ خدایا! ان کے دلوں کو اس طرح (اپنے غضب سے) پگھلا دے جس طرح نمک پانی میں گھول دیا جاتا ہے۔ خدا کی قسم! میں اس چیز کو دوست رکھتا ہوں کہ تمہارے بجائے میرے پاس بنی فراس ابن غنم کے ایک ہی ہزار سوار ہوتے ایسے (جن کا وصف شاعر نے یہ بیان کیا ہے کہ:) ’’اگر تم کسی موقعہ پر انھیں پکارو تو تمہارے پاس ایسے سوار پہنچیں جو تیز روی میں گرمیوں کے ابر کے مانند ہیں‘‘۔ اس کے بعد حضرتؑ منبر سے نیچے آتر آئے۔ سید رضیؒ کہتے ہیں کہ: اس شعر میں لفظ: ’’اُرمیہ‘‘ رمی کی جمع ہے، جس کے معنی اَبر کے ہیں اور ’’حمیم‘‘ کے معنی یہاں پر موسمِ گرم کے ہیں اور شاعر نے گرمیوں کے ابر کی تخصیص اس لئے کی ہے کہ وہ سریع السیر اور تیز رفتار ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ پانی سے خالی ہوتا ہے۔ اور ابر سست گام اس وقت ہوتا ہے جب اس میں پانی بھرا ہوا ہو اور ایسے ابر (ملک عرب میں) عموماً سردیوں میں اٹھتے ہیں۔ اس شعر سے شاعر کا مقصود یہ ہے کہ انہیں جب مدد کیلئے پکارا جاتا ہے اور ان سے فریاد رسی کی جاتی ہے تو وہ تیزی سے بڑھتے ہیں اور اس کی دلیل شعر کا پہلا مصرع ہے: «هُنَالِكَ، لَوْ دَعَوْتَ، اَتَاكَ مِنْهُمْ» : ’’اگر تم پکارو تو وہ تمہارے پاس پہنچ جائیں گے‘‘۔

  26. خطبہ 26- عرب قبل از بعثت اور پیغمبرﷺ کے بعد دنیا کی بے رخی

    26

    إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ مُحَمَّداً (صلى الله عليه و اله) نَذِيراً لِلْعَالَمِينَ وَ أَمِيناً عَلَى التَّنْزِيلِ وَ أَنْتُمْ مَعْشَرَ الْعَرَبِ عَلَى شَرِّ دِينٍ وَ فِي شَرِّ دَارٍ مُنِيخُونَ بَيْنَ حِجَارَةٍ خُشْنٍ وَ حَيَّاتٍ صُمٍّ تَشْرَبُونَ الْكَدِرَ وَ تَأْكُلُونَ الْجَشِبَ وَ تَسْفِكُونَ دِمَاءَكُمْ وَ تَقْطَعُونَ أَرْحَامَكُمْ الْأَصْنَامُ فِيكُمْ مَنْصُوبَةٌ وَ الْآثَامُ بِكُمْ مَعْصُوبَةٌ صفته قبل البيعة له فَنَظَرْتُ فَإِذَا لَيْسَ لِي مُعِينٌ إِلَّا أَهْلُ بَيْتِي فَضَنِنْتُ بِهِمْ عَنِ الْمَوْتِ وَ أَغْضَيْتُ عَلَى الْقَذَى وَ شَرِبْتُ عَلَى الشَّجَا وَ صَبَرْتُ عَلَى أَخْذِ الْكَظَمِ وَ عَلَى أَمَرَّ مِنْ طَعْمِ الْعَلْقَمِ و منها وَ لَمْ يُبَايِعْ حَتَّى شَرَطَ أَنْ يُؤْتِيَهُ عَلَى الْبَيْعَةِ ثَمَناً فَلَا ظَفِرَتْ يَدُ الْمَبَائِعِ وَ خَزِيَتْ أَمَانَةُ الْمُبْتَاعِ فَخُذُوا لِلْحَرْبِ أُهْبَتَهَ وَ أَعِدُّوا لَهَا عُدَّتَهَا فَقَدْ شَبَّ لَظَاهَا وَ عَلَا سَنَاهَا وَ اسْتَشْعِرُوا الصَّبْرَ فَإِنَّهُ أَدْعَى إِلَى النَّصْرِ

    اللہ تبارک و تعالیٰ نے محمد ﷺ کو تمام جہانوں کو (ان کی بد اعمالیوں سے) متنبہ کرنے والا اور اپنی وحی کا امین بنا کر بھیجا۔ اے گروہ عرب! اس وقت تم بد ترین دین پر اور بد ترین گھروں میں تھے، کھردرے پتھروں اور زہریلے سانپوں میں تم بود و باش رکھتے تھے، تم گدلا پانی پیتے اور موٹا جھوٹا کھاتے تھے، ایک دوسرے کا خون بہاتے اور رشتہ قرابت قطع کیا کرتے تھے۔ بت تمہارے درمیان گڑے ہوئے تھے اور گناہ تم سے چمٹے ہوئے تھے۔ [اسی خطبہ کا ایک حصہ یہ ہے] میں نے نگاہ اٹھا کر دیکھا تو مجھے اپنے اہل بیتؑ کے علاوہ کوئی اپنا معین و مدد گار نظر نہ آیا۔ میں نے انہیں موت کے منہ میں دینے سے بخل کیا۔ آنکھوں میں خس و خاشاک تھا مگر میں نے چشم پوشی کی، حلق میں پھندے تھے مگر میں نے غم و غصہ کے گھونٹ پی لئے اور گلو گرفتگی کے باوجود حنظل سے زیادہ تلخ حالات پر صبر کیا۔ [اسی خطبہ کا ایک جُز یہ ہے] اس نے اس وقت تک معاویہ کی بیعت نہیں کی جب تک یہ شرط اس سے منوانہ لی کہ وہ اس بیعت کی قیمت ادا کرے۔ اس بیعت کرنے والے کے ہاتھوں کو فتح و فیروز مندی نصیب نہ ہو اور خریدنے والے کے معاہدے کو ذلت و رسوائی حاصل ہو۔ (لو اب وقت آ گیا کہ) تم جنگ کیلئے تیار ہو جاؤ اور اس کیلئے ساز و سامان مہیا کرلو۔ اس کے شعلے بھڑک اٹھے ہیں اور لپٹیں بلند ہو رہی ہیں اور جامۂ صبر پہن لو کہ اس سے نصرت و کامرانی حاصل ہونے کا زیادہ امکان ہے۔

  27. خطبہ 27- جہاد پر برانگیختہ کرنےکے لیے فرمایا

    27

    أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ الْجِهَادَ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ فَتَحَهُ اللَّهُ لِخَاصَّةِ أَوْلِيَائِهِ وَ هُوَ لِبَاسُ التَّقْوَى وَ دِرْعُ اللَّهِ الْحَصِينَةُ وَ جُنَّتُهُ الْوَثِيقَةُ فَمَنْ تَرَكَهُ رَغْبَةً عَنْهُ أَلْبَسَهُ اللَّهُ ثَوْبَ الذُّلِّ وَ شَمِلَةُ الْبَلَاءُ وَ دُيِّثَ بِالصَّغَارِ وَ الْقَمَاءِ وَ ضُرِبَ عَلَى قَلْبِهِ بِالْإِسْهَابِ وَ أُدِيلَ الْحَقُّ مِنْهُ بِتَضْيِيعِ الْجِهَادِ وَ سِيمَ الْخَسْفَ وَ مُنِعَ النَّصْفَ أَلَا وَ إِنِّي قَدْ دَعَوْتُكُمْ إِلَى قِتَالِ هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ لَيْلًا وَ نَهَاراً وَ سِرّاً وَ إِعْلَاناً وَ قُلْتُ لَكُمُ اغْزُوهُمْ قَبْلَ أَنْ يَغْزُوكُمْ فَوَاللَّهِ مَا غُزِيَ قَوْمٌ قَطُّ فِي عُقْرِ دَارِهِمْ فَتَوَاكَلْتُمْ وَ تَخَاذَلْتُمْ حَتَّى شُنَّتْ عَلَيْكُمُ الْغَارَاتُ وَ مُلِكَتْ عَلَيْكُمُ الْأَوْطَانُ وَ هَذَا أَخُو غَامِدٍ قَدْ وَرَدَتْ خَيْلُهُ الْأَنْبَارَ وَ قَدْ قَتَلَ حَسَّانَ بْنَ حَسَّانَ الْبَكْرِيَّ وَ أَزَالَ خَيْلَكُمْ عَنْ مَسَالِحِهَا وَ لَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّ الرَّجُلَ مِنْهُمْ كَانَ يَدْخُلُ عَلَى الْمَرْأَةِ الْمُسْلِمَةِ وَ الْأُخْرَى الْمُعَاهَدَةِ فَيَنْتَزِعُ حِجْلَهَا وَ قُلْبَهَا وَ قَلَائِدَهَا وَ رِعَاثَهَا مَا تَمْتَنِعُ مِنْهُ إِلَّا بِالِاسْتِرْجَاع وَ الِاسْتِرْحَامِ ثُمَّ انْصَرَفُوا وَافِرِينَ مَا نَالَ رَجُلًا مِنْهُمْ كَلْمٌ وَ لَا أُرِيقَ لَهُ دَمٌ فَلَوْ أَنَّ امْرَأً مُسْلِماً مَاتَ مِنْ بَعْدِ هَذَا أَسَفاً مَا كَانَ بِهِ مَلُوماً بَلْ كَانَ بِهِ عِنْدِي جَدِيراً فَيَا عَجَباً عَجَباً وَ اللَّهِ يُمِيتُ الْقَلْبَ وَ يَجْلِبُ الْهَمَّ اجْتِمَاعُ هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ عَلَى بَاطِلِهِمْ وَ تَفَرُّقُكُمْ عَنْ حَقِّكُمْ فَقُبْحاً لَكُمْ وَ تَرَحاً حِينَ صِرْتُمْ غَرَضاً يُغَارُ عَلَيْكُمْ وَ لَا تُغِيرُونَ وَ تُغْزَوْنَ وَ لَا تَغْزُونَ وَ يُعْصَى اللَّهُ وَ تَرْضَوْنَ فَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِالسَّيْرِ إِلَيْهِمْ فِي أَيَّامِ الْحَرِّ قُلْتُمْ هَذِهِ حَمَارَّةُ أَمْهِلْنَا يُسَبِّخْ عَنَّا الْحَرُّ وَ إِذَا أَمَرْتُكُمْ بِالسَّيْرِ إِلَيْهِمْ فِي الشِّتَاءِ قُلْتُمْ هَذِهِ صَبَارَّةُ الْقُرِّ أَمْهِلْنَا يَنْسَلِخْ عَنَّا الْبَرْدُ كُلُّ هَذَا فِرَاراً مِنَ الْحَرِّ وَ الْقُرِّ فَإِذَا كُنْتُمْ مِنَ الْحَرِّ وَ الْقُرِّ تَفِرُّونَ فَأَنْتُمْ وَ اللَّهِ مِنَ السَّيْفِ أَفَرُّ يَا أَشْبَاهَ الرِّجَالِ وَ لَا رِجَالَ حُلُومُ الْأَطْفَال وَ عُقُولُ رَبَّاتِ الْحِجَال لَوَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَرَكُمْ وَ لَمْ أَعْرِفْكُمْ مَعْرِفَةً وَ اللَّهِ جَرَّتْ نَدَماً وَ أَعْقَبَتْ سَدَماً قَاتَلَكُمُ اللَّهُ لَقَدْ مَلَأْتُمْ قَلْبِي قَيْحاً وَ شَحَنْتُمْ صَدْرِي غَيْظاً وَ جَرَّعْتُمُونِي نُغَبَ التَّهْمَامِ أَنْفَاساً وَ أَفْسَدْتُمْ عَلَيَّ رَأْيِي بِالْعِصْيَانِ وَ الْخِذْلَانِ حَتَّى قَالَتْ قُرَيْشٌ إِنَّ ابْنَ أَبِي طَالِبٍ رَجُلٌ شُجَاعٌ وَ لَكِنْ لَا عِلْمَ لَهُ بِالْحَرْبِ لِلَّهِ أَبُوهُمْ وَ هَلْ أَحَدٌ مِنْهُمْ أَشَدُّ لَهَا مِرَاساً وَ أَقْدَمُ فِيهَا مَقَاماً مِنِّي لَقَدْ نَهَضْتُ فِيهَا وَ مَا بَلَغْتُ الْعِشْرِينَ وَ هَا أَنَا ذَا قَدْ ذَرَّفْتُ عَلَى السِّتِّينَ وَ لَكِنْ لَا رَأْيَ لِمَنْ لَا يُطَاعُ

    جہاد جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جسے اللہ نے اپنے خاص دوستوں کیلئے کھولا ہے۔ یہ پرہیز گاری کا لباس، اللہ کی محکم زرہ اور مضبوط سپر ہے۔ جو اس سے پہلو بچاتے ہوئے اسے چھوڑ دیتا ہے، خدا اسے ذلت و خواری کا لباس پہنا اور مصیبت و ابتلا کی ردا اوڑھا دیتا ہے اور ذلتوں اور خواریوں کے ساتھ ٹھکرا دیا جاتا ہے اور مدہوشی و غفلت کا پردہ اس کے دل پر چھا جاتا ہے اور جہاد کو ضائع و برباد کرنے سے حق اس کے ہاتھ سے لے لیا جاتا ہے، ذلت اسے سہنا پڑتی ہے اور انصاف اس سے روک لیا جاتا ہے۔ میں نے اس قوم سے لڑنے کیلئے رات بھی اور دن بھی، علانیہ بھی اور پوشیدہ بھی تمہیں پکارا اور للکارا اور تم سے کہا کہ قبل اس کے کہ وہ جنگ کیلئے بڑھیں تم ان پر دھاوا بول دو۔ خدا کی قسم! جن افرادِ قوم پر ان کے گھروں کے حدود کے اندر ہی حملہ ہو جاتا ہے وہ ذلیل و خوار ہوتے ہیں، لیکن تم نے جہاد کو دوسروں پرٹال دیا اور ایک دوسرے کی مدد سے پہلو بچانے لگے۔ یہاں تک کہ تم پر غارت گریاں ہوئیں اور تمہارے شہروں پر زبردستی قبضہ کر لیا گیا۔ اسی بنی غامد کے آدمی (سفیان ابنِ عوف) ہی کو دیکھ لو کہ اس کی فوج کے سوار (شہر) انبار کے اندر پہنچ گئے اور حسان ابن حسان بکری کو قتل کر دیا اور تمہارے محافظ سواروں کو سرحدوں سے ہٹا دیا اور مجھے تو یہ اطلاعات بھی ملی ہیں کہ اس جماعت کا ایک آدمی مسلمان اور ذمی عورتوں کے گھروں میں گھس جاتا تھا اور ان کے (پیروں سے) کڑے، (ہاتھوں سے) کنگن اور گلو بند اور گوشوارے اتار لیتا تھا اور ان کے پاس اس سے حفاظت کا کوئی ذریعہ نظر نہ آتا تھا۔ سوا اس کے کہ ﴿اِنَّا لِلهِ وَ اِنَّآ اِلَیْهِ رَاجِعُوْنَ﴾ کہتے ہوئے صبر سے کام لیں یا خوشامدیں کر کے اس سے رحم کی التجا کریں، پھر وہ لدے پھندے ہوئے پلٹ گئے۔ نہ کسی کے زخم آیا نہ کسی کا خون بہا۔ اب اگر کوئی مسلمان ان سانحات کے بعد رنج و ملال سے مر جائے تو اسے ملامت نہیں کی جا سکتی، بلکہ میرے نزدیک ایسا ہی ہونا چاہیے۔ اَلْعَجَبُ ثُمَّ الْعَجَبُ خدا کی قسم! ان لوگوں کا باطل پر ایکا کر لینا اور تمہاری جمعیت کا حق سے منتشر ہو جانا دل کو مردہ کر دیتا ہے اور رنج و اندوہ بڑھا دیتا ہے۔ تمہارا بُرا ہو! تم غم و حزن میں مبتلا رہو! تم تو تیروں کا از خود نشانہ بنے ہوئے ہو۔ تمہیں ہلاک و تاراج کیا جا رہا ہے مگر تمہارے قدم حملے کیلئے نہیں اٹھتے۔ وہ تم سے لڑ بھڑ رہے ہیں اور تم جنگ سے جى چراتے ہو۔ اللہ کی نافرمانیاں ہو رہی ہیں اور تم راضی ہو رہے ہو۔ اگر گرمیوں میں تمہیں ان کی طرف بڑھنے کیلئے کہتا ہوں تو تم یہ کہتے ہو کہ یہ انتہائی شدت کی گرمی کا زمانہ ہے، اتنی مہلت دیجئے کہ گرمی کا زور ٹوٹ جائے۔ اور اگر سردیوں میں چلنے کیلئے کہتا ہوں تو تم یہ کہتے ہو کہ کڑا کے کا جاڑا پڑ رہا ہے، اتنا ٹھہر جائیے کہ سردی کا موسم گزر جائے۔ یہ سب سردی اور گرمی سے بچنے کیلئے باتیں ہیں۔ جب تم سردی اور گرمی سے اس طرح بھاگتے ہو تو پھر خدا کی قسم! تم تلواروں کو دیکھ کر اس سے کہیں زیادہ بھاگو گے۔ اے مردوں کی شکل و صورت والے نامَردو! تمہاری عقلیں بچوں کی سی اور تمہاری سمجھ حجلہ نشین عورتوں کے مانند ہے۔ میں تو یہی چاہتا تھا کہ نہ تم کو دیکھتا، نہ تم سے جان پہچان ہوتی۔ ایسی شناسائی جو ندامت کا سبب اور رنج و اندوہ کا باعث بنی ہے۔ اللہ تمہیں مارے! تم نے میرے دل کو پیپ سے بھر دیا ہے اور میرے سینے کو غیظ و غضب سے چھلکا دیا ہے۔ تم نے مجھے غم و حزن کے جرعے پے در پے پلائے، نافرمانی کر کے میری تدبیر و رائے کو تباہ کر دیا، یہاں تک کہ قریش کہنے لگے کہ: علیؑ ہے تو مرد شجاع، لیکن جنگ کے طور طریقوں سے واقف نہیں۔ اللہ ان کا بھلا کرے! کیا ان میں سے کوئی ہے جو مجھ سے زیادہ جنگ کی مزاولت رکھنے والا اور میدانِ وغا میں میرے پہلے سے کارِ نمایاں کئے ہوئے ہو۔ میں تو ابھی بیس برس کا بھی نہ تھا کہ حرب و ضرب کیلئے اٹھ کھڑا ہوا اور اب تو ساٹھ سے بھی اوپر ہو گیا ہوں، لیکن اس کی رائے ہی کیا جس کی بات نہ مانی جائے۔

  28. خطبہ 28- دنیا کی بے ثباتی اور زاد آخرت کی اہمیت کا تذکرہ

    28

    أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ الدُّنْيَا قَدْ أَدْبَرَتْ وَ آذَنَتْ بِوَدَاعٍ وَ إِنَّ الْآخِرَةَ قَدْ أَقْبَلَتْ وَ أَشْرَفَتْ بِاطِّلَاعٍ أَلَا وَ إِنَّ الْيَوْمَ الْمِضْمَارَ وَ غَداً السِّبَاقَ‏ وَ السَّبْقَةُ الْجَنَّةُ وَ الْغَايَةُ النَّارُ أَفَلَا تَائِبٌ مِنْ خَطِيئَتِهِ قَبْلَ مَنِيَّتِهِ أَلَا عَامِلٌ لِنَفْسِهِ قَبْلَ يَوْمِ بُؤْسِهِ أَلَا وَ إِنَّكُمْ فِي أَيَّامِ أَمَلٍ مِنْ وَرَائِهِ أَجَلٌ فَمَنْ عَمِلَ فِي أَيَّامِ أَمَلِهِ قَبْلَ حُضُورِ أَجَلِهِ نَفَعَهُ عَمَلُهُ وَ لَمْ يَضْرُرْهُ أَجَلُهُ وَ مَنْ قَصَّرَ فِي أَيَّامِ أَمَلِهِ قَبْلَ حُضُورِ أَجَلِهِ فَقَدْ خَسِرَ عَمَلُهُ وَ ضَرَّهُ أَجَلُهُ أَلَا فَاعْمَلُوا فِي الرَّغْبَةِ كَمَا تَعْمَلُونَ فِي الرَّهْبَةِ أَلَا وَ إِنِّي لَمْ أَرَ كَالْجَنَّةِ نَامَ طَالِبُهَا وَ لَا كَالنَّارِ نَامَ هَارِبُهَا أَلَا وَ إِنَّهُ مَنْ لَا يَنْفَعُهُ الْحَقُّ يَضُرُّهُ الْبَاطِلُ وَ مَنْ لَا يَسْتَقِيمُ بِهِ الْهُدَى يَجُرُّ بِهِ الضَّلَالُ إِلَى الرَّدَى أَلَا وَ إِنَّكُمْ قَدْ أُمِرْتُمْ بِالظَّعْنِ وَ دُلِلْتُمْ عَلَى الزَّادِ وَ إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ الْهَوَى وَ طُولُ الْأَمَلِ فَتَزَوَّدُوا فِي الدُّنْيَا مِنَ الدُّنْيَا مَا تَحْرُزُونَ بِهِ أَنْفُسَكُمْ غَداً. قال السيد الشريف: إنَّه لَوْ كانَ كَلامُ يَاخُذُ بِالاعْناقِ إلى الزُّهْدِ فِي الْدُنْيا وَ يَضْطَرُّ إلى عَمَلِ الاخِرَةِ لَكانَ هذَا الْكَلامَ، وَ كَفى بِهِ قاطِعا لِعَلائِقِ الامالِ، وَ قادِحا زِنادَ الاتَّعاظِ والازْدِجارِ، وَ مِنْ اعْجَبِهِ قَوْلُهُ (ع) :"الا وَ إنَّ الْيَومَ الْمِضْمارَ وَ غَدَا السِّباقَ"، والسَّبْقَةُ الْجَنَّةُ وَالْغايَةُ النارُ" فإنَّ فيهِ مَعَ فَخامَةِ اللَّفْظِ وَ عَظِمَ قَدْرِ الْمَعنى وَ صادِقِ التَّمْثِيلِ وَ واقِع التَّشْبِيهِ سِرا عَجِيبا وَ مَعْنى لَطيفا وَ هُوَ قَوْلُهُ (ع) "والسَّبْقَةُ الْجَنَّةُ، والغايَةُ النارُ" فَخالَفَ بَيْنَ اللَّفْظَيْنِ لاختلافِ الْمَعْنَيَيْنِ، وَ لَمْ يَقُل : وَالسَّبْقَةُ النارُ، كَما قالَ وَالسَّبْقَةُ الجَنَّةُ، لانَّ الاسْتِباقَ إنّما يَكُونُ إلى اَمْرٍ مَحْبُوبٍ وَ غَرَضٍ مَطْلوبٍ، وَ هذِهِ صِفَةُ الْجَنَّةِ، وَ لَيْسَ هذا الْمَعْنى مَوْجودا فِي النارِ نَعوذُ بِاللّهِ مِنْها. فَلَمْ يَجُزْ اَنْ يَقُولَ والسَّبْقَةُ النارُ، بلْ قالَ: والْغايَةُ النارُ، لانَّ الْغايَةَ قَدْ يَنْتَهي إلَيها مَنْ لا يَسُرُه الانتهاءُ إليها، وَ مَنْ يَسُرُهُ ذلِكَ فَصَلَحَ اَنْ يُعَبَّرَ بِها عَنِ الامْرَيْنَ مَعا فَهِىَّ فِي هذَا الْمَوْضِعِ كِالْمَصيرِ وَالْمالِ، قالَ اللهُ تَعالى : قُلْ تَمَتَّعُوا فَإِنَّ مَصِيرَكُمْ إِلَى النّارِ، وَ لا يَجوزُ فِي هذَا الْمَوْضِعِ اَنْ يُقالَ سَبْقَتِكُمْ إلى النَارِ. فَتَاَمَّلْ ذلِكَ فَباطِنُهُ عَجيبُ وَ غَوْرُهُ بَعيدٌ لَطِيفٌ، وَ كَذلِكَ اكْثَرُ كَلامِهِ (ع) وَفِي بَعْضِ النُّسَخِ وَ قَدْ جاءَ فِي روايَةٍ اُخْرى : والسُّبْقَةُ الْجَنَّةُ بِضَمِّ السِّينِ، والسُّبْقَةُ عِنْدَهُم اسْمُ لِما يُجْعَلُ لِلْسابِق إذا سَبَقَ مِنْ مالٍ اَوْ عَرَضٍ، والْمَعْنيانِ مُتَقارِبانِ، لانَّ ذلِكَ لا يَكُونُ جَزاء عَلى فِعْلِ الامْرِ المَذْمومِ، وَ إنَّما يَكونُ جَزاء عَلى فِعْل الامرِ الْمَحمُ

    دنیا نے پیٹھ پھرا کر اپنے رخصت ہونے کا اعلان اور منزلِ عقبیٰ نے سامنے آ کر اپنی آمد سے آگاہ کر دیا ہے۔ آج کا دن تیاری کا ہے اور کل دوڑ کا ہو گا۔ جس طرف آگے بڑھنا ہے وہ تو جنت ہے اور جہاں کچھ اشخاص (اپنے اعمال کی بدولت بلا اختیار) پہنچ جائیں گے، وہ دوزخ ہے۔ کیا موت سے پہلے اپنے گناہوں سے توبہ کرنے والا کوئی نہیں؟اور کیا اس روزِ مصیبت کے آنے سے پہلے عمل (خیر) کرنے والا ایک بھی نہیں؟ تم امیدوں کے دور میں ہو جس کے پیچھے موت کا ہنگامہ ہے۔ تو جو شخص موت سے پہلے ان امیدوں کے دنوں میں عمل کر لیتا ہے تو یہ عمل اُس کیلئے سود مند ثابت ہوتا ہے اور موت اُس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی اور جو شخص موت سے قبل زمانہ امید و آرزو میں کوتاہیاں کرتا ہے تو وہ عمل کے اعتبار سے نقصان رسیدہ رہتا ہے اور موت اس کیلئے پیغامِ ضرر لے کر آتی ہے۔ لہٰذا جس طرح اس وقت جب ناگوار حالات کا اندیشہ ہو نیک اعمال میں منہمک ہوتے ہو، ویسا ہی اس وقت بھی نیک اعمال کرو جبکہ مستقبل کے آثار مسرت افزا محسوس ہو رہے ہوں۔ مجھے جنت ہی ایسی چیز نظر آتی ہے جس کا طلبگار سویا پڑا ہو اور جہنم ہی ایسی شے دکھائی دیتی ہے جس سے دور بھاگنے والا خواب غفلت میں محو ہو۔ جو حق سے فائدہ نہیں اٹھاتا اسے باطل کا نقصان و ضرر اٹھانا پڑے گا۔ جس کو ہدایت ثابت قدم نہ رکھے اسے گمراہی ہلاکت کی طرف کھینچ لے جائے گی۔ تمہیں کوچ کا حکم مل چکا ہے اور زادِ راہ کا پتہ دیا جا چکا ہے۔ مجھے تمہارے متعلق سب سے زیادہ دو ہی چیزوں کا خطرہ ہے: ایک خواہشوں کی پیروی اور دوسرے امیدوں کا پھیلاؤ۔ اس دنیا میں رہتے ہوئے اس سے اتنا زاد لے لو جس سے کل اپنے نفسوں کو بچا سکو۔ سیّد رضیؒ کہتے ہیں کہ: اگر کوئی کلام گردن پکڑ کر زہد دنیوی کی طرف لانے والا اور عمل اُخروی کیلئے مجبور و مضطر کر دینے والا ہو سکتا ہے تو وہ یہ کلام ہے جو امیدوں کے بندھنوں کو توڑنے اور وعظ و سرزنش سے اثر پذیری کے جذبات کو مشتعل کرنے کیلئے کافی و وافی ہے ۔ اس خطبے میں یہ جملہ: «اَلَا وَ اِنَّ الْیَوْمَ الْمِضْمَارَ وَ غَدًا السِّبَاقَ، وَ السَّبَقَةُ الْجَنَّةُ، وَ الْغَایَةُ النَّارُ» تو بہت ہی عجیب و غریب ہے۔ اس میں لفظوں کی جلالت، معنی کی بلندی، سچی تمثیل اور صحیح تشبیہ کے ساتھ عجیب اسرار اور باریک نکات ملتے ہیں۔ حضرتؑ نے اپنے ارشاد: «وَ السَّبَقَةُ الْجَنَّةُ وَ الْغَایَةُ النَّارُ» میں معنی مقصود کے الگ الگ ہونے کی وجہ سے دو جداگانہ لفظیں: ’’اَلسَّبَقَةُ وَ الْغَایَةُ‘‘ استعمال کی ہیں۔ جنت کے لئے لفظ ’’اَلسَّبَقَةُ‘‘ (بڑھنا) فرمائی ہے اور جہنم کے لئے یہ لفظ استعمال نہیں کی، کیونکہ ’’سبقت‘‘ اس چیز کی طرف کی جاتی ہے جو مطلوب و مرغوب ہو اور یہ بہشت ہی کی شان ہے اور دوزخ میں مطلوبیت و مرغوبیت کہاں کہ اس کی جستجو و تلاش میں بڑھا جائے (نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْھَا) ۔ چونکہ ’’اَلسَّبَقَةُ النَّارُ‘‘ کہنا صحیح و درست نہیں ہو سکتا تھا، اسی لئے «وَ الْغَایَةُ النَّارُ» فرمایا اور ’’غایت‘‘ صرف منزل منتہا کو کہتے ہیں، اس تک پہنچنے والے کو خواہ رنج و کوفت ہو یا شادمانی و مسرت، یہ ان دونوں معنوں کی ادائیگی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بہر صورت اسے مصیر و مآل (باز گشت) کے معنی میں سمجھنا چاہیے اور ارشاد قرآنی ہے: ﴿قُلْ تَمَتَّعُوْا فَاِنَّ مَصِيْرَكُمْ اِلَى النَّارِ۝﴾: (کہو کہ تم دنیا سے اچھی طرح حظ اٹھا لو آخر تو تمہاری باز گشت جہنم کی طرف ہے)۔ یہاں مَصِیْرَکُمْ کی بجائے سَبْقَتُكُمْ کہنا کسی طرح صحیح و درست نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس میں غور و فکر کرو اور دیکھو کہ اس کا باطن کتنا عجیب اور اس کا گہراؤ لطافتوں کو لئے ہوئے کتنی دور تک چلا گیا ہے اور حضرتؑ کا بیشتر کلام اسی انداز پر ہوتا ہے۔ [اور بعض نسخوں میں ہے کہ:] اور بعض روایتوں میں «وَ السُّبْقَةُ» بضم سین بھی آیا ہے اور السُّبْقَةُ اُس مال و متاع کو کہتے ہیں جو آگے نکل جانے والے کے لئے بطور انعام رکھا جاتا ہے۔ بہر صورت دونوں کے معنی قریب قریب یکساں ہیں۔ اس لئے کہ معاوضہ و انعام کسی قابل مذمت فعل پر نہیں ہوتا، بلکہ کسی اچھے اور لائق ستائش کارنامے کے بدلے ہی میں ہوتا ہے۔

  29. خطبہ 29- جنگ کے موقعہ پر حیلے بہانے کرنے والوں کے متعلق فرمایا

    29

    أَيُّهَا النَّاسُ الْمُجْتَمِعَةُ أَبْدَانُهُمْ الْمُخْتَلِفَةُ أَهْوَاؤُهُمْ كَلَامُكُمْ يُوهِي الصُّمَّ الصِّلَابَ وَ فِعْلُكُمْ يُطْمِعُ فِيكُمُ الْأَعْدَاءَ تَقُولُونَ فِي الْمَجَالِسِ كَيْتَ وَ كَيْتَ فَإِذَا جَاءَ الْقِتَالُ قُلْتُمْ حِيدِي حَيَادِ مَا عَزَّتْ دَعْوَةُ مَنْ دَعَاكُمْ وَ لَا اسْتَرَاحَ قَلْبُ مَنْ قَاسَاكُمْ أَعَالِيلُ بِأَضَالِيلَ لَا يَمْنَعُ الضَّيْمَ الذَّلِيلُ وَ لَا يُدْرَكُ الْحَقُّ إِلَّا بِالْجِدِّ أَيَّ دَارٍ بَعْدَ دَارِكُمْ تَمْنَعُونَ وَ مَعَ أَيِّ إِمَامٍ بَعْدِي تُقَاتِلُونَ الْمَغْرُورُ وَ اللَّهِ مَنْ غَرَرْتُمُوهُ وَ مَنْ فَازَ بِكُمْ فَازَ وَ اللَّهِ بِالسَّهْمِ الْأَخْيَبِ وَ مَنْ رَمَى بِكُمْ فَقَدْ رَمَى بِأَفْوَقَ نَاصِلٍ أَصْبَحْتُ وَ اللَّهِ لَا أُصَدِّقُ قَوْلَكُمْ وَ لَا أَطْمَعُ فِي نَصْرِكُمْ وَ لَا أُوعِدُ الْعَدُوَّ بِكُمْ مَا بَالُكُمْ مَا دَوَاؤُكُمْ مَا طِبُّكُمْ الْقَوْمُ رِجَالٌ أَمْثَالُكُمْ أَ قَوْلًا بِغَيْرِ عِلْمٍ وَ غَفْلةً مِنْ غَيْرِ وَرَعٍ وَ طَمَعاً فِي غَيْرِ حَقٍّ؟

    اے وہ لوگو جن کے جسم یکجا اور خواہشیں جُدا جُدا ہیں۔ تمہاری باتیں تو سخت پتھروں کو بھی نرم کر دیتی ہیں اور تمہارا عمل ایسا ہے کہ جو دشمنوں کو تم پر دندان آز تیز کرنے کا موقعہ دیتا ہے۔ اپنی مجلسوں میں تو تم کہتے پھرتے ہو کہ یہ کر دیں گے اور وہ کر دیں گے اور جب جنگ چھڑ ہی جاتی ہے تو تم اس سے پناہ مانگنے لگتے ہو۔ جو تم کو مدد کیلئے پکارے اس کی صدا بے وقعت اور جس کا تم جیسے لوگوں سے واسطہ پڑا ہو اس کا دل ہمیشہ بے چین ہے۔ حیلے حوالے ہیں غلط سلط اور مجھ سے جنگ میں تاخیر کرنے کی خواہشیں ہیں، جیسے نادہندہ مقروض اپنے قرض خواہ کو ٹالنے کی کوشش کرتا ہے۔ ذلیل آدمی ذلت آمیز زیادتیوں کی روک تھام نہیں کر سکتا اور حق تو بغیر کوشش کے نہیں ملا کرتا۔ اس گھر کے بعد اور کون سا گھر ہے جس کی حفاظت کرو گے؟ اور میرے بعد اور کس امام کے ساتھ ہو کر جہاد کرو گے؟ خدا کی قسم! جسے تم نے دھوکا دے دیا ہو اس کے فریب خوردہ ہونے میں کوئی شک نہیں اور جسے تم جیسے لوگ ملے ہوں تو اس کے حصہ میں وہ تیر آتا ہے جو خالی ہوتا ہے اور جس نے تم کو (تیروں کی طرح) دشمنوں پر پھینکا ہو اس نے گویا ایسا تیر پھینکا ہے جس کا سوفار ٹوٹ چکا ہو اور پیکان بھی شکستہ ہو۔ خدا کی قسم! میری کیفیت تو اب یہ ہے کہ نہ میں تمہاری کسی بات کی تصدیق کر سکتا ہوں اور نہ تمہاری نصرت کی مجھے آس باقی رہی ہے اور نہ تمہاری وجہ سے دشمن کو جنگ کی دھمکی دے سکتا ہوں۔ تمہیں کیا ہو گیا؟ تمہارا مرض کیا ہے؟ اور اس کا چارہ کیا ہے؟ اس قوم (اہل شام) کے افراد بھی تو تمہاری ہی شکل و صورت کے مرد ہیں۔ کیا باتیں ہی باتیں رہیں گی، جانے بُوجھے بغیر؟ اور صرف غفلت و مدہوشی ہے، تقویٰ و پرہیزگاری کے بغیر؟ (بلندی کی) حرص ہی حرص ہے، مگر بالکل ناحق؟۔

  30. خطبہ 30- قتل عثمان کے سلسلے میں آپؑ کی روش

    30

    لَوْ أَمَرْتُ بِهِ لَكُنْتُ قَاتِلًا أَوْ نَهَيْتُ عَنْهُ لَكُنْتُ نَاصِراً غَيْرَ أَنَّ مَنْ نَصَرَهُ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَقُولَ خَذَلَهُ مَنْ أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ وَ مَنْ خَذَلَهُ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَقُولَ نَصَرَهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي وَ أَنَا جَامِعٌ لَكُمْ أَمْرَهُ اسْتَأْثَرَ فَأَسَاءَ الْأَثَرَةَ وَ جَزِعْتُمْ فَأَسَأْتُمُ الْجَزَعَ وَ لِلَّهِ حُكْمٌ وَاقِعٌ فِي الْمُسْتَأْثِرِ وَ الْجَازِعِ

    قتل عثمان کی حقیقت کا انکشاف کرتے ہوئے فرمایا اگر مَیں ان کے قتل کا حکم دیتا تو البتہ ان کا قاتل ٹھہرتا اور اگر ان کے قتل سے (دوسروں کو) روکتا تو ان کا معاون و مددگار ہوتا (میں بالکل غیر جانبدار رہا)، لیکن حالات ایسے تھے کہ جن لوگوں نے ان کی نصرت و امداد کی وہ یہ خیال نہیں کرتے کہ ہم ان کی نصرت نہ کرنے والوں سے بہتر ہیں اور جن لوگوں نے ان کی نصرت سے ہاتھ اٹھا لیا وہ نہیں خیال کرتے کہ ان کی مدد کرنے والے ہم سے بہتر و برتر ہیں۔ میں حقیقت امر کو تم سے بیان کئے دیتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ انہوں نے (اپنے عزیزوں کی) طرفداری کی تو طرفداری بُری طرح کی اور تم گھبرا گئے تو بُری طرح گھبرا گئے اور (ان دونوں فریق کی) بے جا طرفداری کرنے والے اور گھبرا اٹھنے والے کے درمیان اصل فیصلہ کرنے والا اللہ ہے۔

  31. خطبہ 31- جنگ جمل پہلے ابن عباس کو زبیر کے پاس جب بھیجنا

    31

    لَا تَلْقَيَنَّ طَلْحَةَ فَإِنَّكَ إِنْ تَلْقَهُ تَجِدْهُ كَالثَّوْرِ عَاقِصاً قَرْنَهُ يَرْكَبُ الصَّعْبَ وَ يَقُولُ هُوَ الذَّلُولُ وَ لَكِنِ الْقَ الزُّبَيْرَ فَإِنَّهُ أَلْيَنُ عَرِيكَةً فَقُلْ لَهُ يَقُولُ لَكَ ابْنُ خَالِكَ عَرَفْتَنِي بِالْحِجَازِ وَ أَنْكَرْتَنِي بِالْعِرَاقِ فَمَا عَدَا مِمَّا بَدَا؟ قال السيد الشريف: هُوَ عليه السلام اَوَّلُ مَنْ سُمِعَتْ مِنْهُ هذِهِ الْكَلِمَةِ، اَعْنی "فَما عَدا مِما بِدا"

    جب جنگِ جمل شروع ہونے سے پہلے حضرتؑ نے ابن عباس کو زبیر کے پاس اس مقصد سے بھیجا کہ وہ انہیں اطاعت کی طرف پلٹائیں تو اس موقعہ پر ان سے فرمایا: طلحہ سے ملاقات نہ کرنا۔ اگر تم اس سے ملے تو تم اس کو ایک ایسا سرکش بیل پاؤ گے جس کے سینگ کانوں کی طرف مڑے ہوئے ہوں، وہ منہ زور سواری پر سوار ہوتا ہے اور پھر کہتا یہ ہے کہ یہ رام کی ہوئی سواری ہے، بلکہ تم زبیر سے ملنا۔ اس لئے کہ وہ نرم طبیعت ہے اور اس سے یہ کہنا کہ تمہارے ماموں زاد بھائی نے کہا ہے کہ تم حجاز میں تو جیسے مجھ سے جان پہچان رکھتے تھے اور یہاں عراق میں آ کر بالکل اجنبی بن گئے۔ آخر اس تبدیلی کا کیا سبب ہے؟ علامہ رضیؒ فرماتے ہیں کہ: اس کلام کا آخری جملہ «فَمَا عَدَا مِمَّا بَدَا» جس کا مطلب یہ ہے کہ ’’اس تبدیلی کا کیا سبب ہوا‘‘، سب سے پہلے آپؑ ہی کی زبان سے سنا گیا ہے۔

  32. خطبہ 32- دنیا کی مذمت اور اہل دنیا کی قسمیں

    32

    أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا قَدْ أَصْبَحْنَا فِي دَهْرٍ عَنُودٍ وَ زَمَنٍ كَنُودٍ يُعَدُّ فِيهِ الْمُحْسِنُ مُسِيئاً وَ يَزْدَادُ الظَّالِمُ فِيهِ عُتُوّاً لَا نَنْتَفِعُ بِمَا عَلِمْنَا وَ لَا نَسْأَلُ عَمَّا جَهِلْنَا وَ لَا نَتَخَوَّفُ قَارِعَةً حَتَّى تَحِلَّ بِنَا فَالَّنَاسُ عَلَى أَرْبَعَةِ أَصْنَافٍ مِنْهُمْ مَنْ لَا يَمْنَعُهُ الْفَسَادَ (فِي الْأَرْضِ) إِلَّا مَهَانَةُ نَفْسِهِ وَ كَلَالَةُ حَدِّهِ وَ نَضِيضُ وَفْرِهِ وَ مِنْهُمْ الْمُصْلِتُ لِسَيْفِهِ وَ الْمُعْلِنُ بِشَرِّه وَ الْمُجْلِبُ بِخَيْلِهِ وَ رَجْلِهِ قَدْ أَشْرَطَ نَفْسَهُ وَ أَوْبَقَ دِينَهُ لِحُطَامٍ يَنْتَهِزُهُ أَوْ مِقْنَبٍ يَقُودُهُ أَوْ مِنْبَرٍ يَفْرَعُهُ وَ لَبِئْسَ الْمَتْجَرُ أَنْ تَرَى الدُّنْيَا لِنَفْسِكَ ثَمَناً وَ مِمَّا لَكَ عِنْدَ اللَّهِ عِوَضاً وَ مِنْهُمْ مَنْ يَطْلُبُ الدُّنْيَا بِعَمَلِ الْآخِرَةِ وَ لَا يَطْلُبُ الْآخِرَةَ بِعَمَلِ الدُّنْيَا قَدْ طَامَنَ مِنْ شَخْصِهِ وَ قَارَبَ مِنْ خَطْوِهِ وَ شَمَّرَ مِنْ ثَوْبِهِ وَ زَخْرَفَ مِنْ نَفْسِهِ لِلْأَمَانَةِ وَ اتَّخَذَ سِتْرَ اللَّهِ ذَرِيعَةً إِلَى الْمَعْصِيَةِ وَ مِنْهُمْ مَنْ أَقْعَدَهُ عَنْ طَلَبِ الْمُلْكِ ضُئُولَةُ نَفْسِهِ وَ انْقِطَاعُ سَبَبِهِ فَقَصَرَتْهُ الْحَالُ عَلَى حَالِهِ فَتَحَلَّى بِاسْمِ الْقَنَاعَةِ وَ تَزَيَّنَ بِلِبَاسِ أَهْلِ الزَّهَادَةِ وَ لَيْسَ مِنْ ذَلِكَ فِي مَرَاحٍ وَ لَا مَغْدًى وَ بَقِيَ رِجَالٌ غَضَّ أَبْصَارَهُمْ ذِكْرُ الْمَرْجِعِ وَ أَرَاقَ دُمُوعَهُمْ خَوْفُ الْمَحْشَرِ فَهُمْ بَيْنَ شَرِيدٍ نَادٍّ وَ خَائِفٍ مَقْمُوعٍ وَ سَاكِتٍ مَكْعُومٍ وَ دَاعٍ مُخْلِصٍ وَ ثَكْلَانَ مُوجَعٍ قَدْ أَخْمَلَتْهُمُ التَّقِيَّةُ وَ شَمَلَتْهُمُ الذِّلَّةُ فَهُمْ فِي بَحْرٍ أُجَاجٍ أَفْوَاهُهُمْ ضَامِزَةٌ وَ قُلُوبُهُمْ قَرِحَةٌ قَدْ وَعَظُوا حَتَّى مَلُّوا وَ قُهِرُوا حَتَّى ذَلُّوا وَ قُتِلُوا حَتَّى قَلُّوا فَلْتَكُنِ الدُّنْيَا أَصْغَرَ فِى أَعْيُنِكُمْ مِنْ حُثَالَةِ الْقَرَظِ وَ قُرَاضَةِ الْجَلَمِ وَ اتَّعِظُوا بِمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ قَبْلَ أَنْ يَتَّعِظَ بِكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ وَ ارْفُضُوهَا ذَمِيمَةً فَإِنَّهَا قَدْ رَفَضَتْ مَنْ كَانَ أَشْغَفَ بِهَا مِنْكُمْ قال السيد الشريف: وَ هَذه الخُطبة رَبُّما نَسَبُها مِن لا عِلْمُ لَه إلى مُعاويةَ، وَ هِي مِنْ كَلام اميرالمؤمنين (ع) الّذي لا يَشك فِيه وَ اَين الذهب مَن الرَغام؟ وَ اين العذب مِن الاجاج؟ وَ قَدْ دَل عَلى ذلِك الدليل الخَريت ،َو نَقده الناقِد البَصير عمرو بن بَحر الجاحظ، فَإنهُ ذِكر هذِه الخطبة فِي كِتاب البيانِ وَالتبيين ، وَ ذِكر مِن نسَبَها إلى مُعاوية، ثُمّ قالَ: هى بِكلام عَلي (ع) اشبه ، وَ بِمذهبه في تَصنيف الناس وَ بالاخبار عَمّا هُم عَلَيه مِن القهر والاذلال وَ مَنْ التقية وَالْخَوف اليق قالَ: وَ مَتى وَجدنا مُعاوية فِي حال من الاحوال يَسلك فِي كَلامه مسلك الزهاد وَ مَذاهب العباد؟!

    اے لوگو! ہم ایک ایسے کج رفتار زمانہ اور ناشکر گزار دنیا میں پیدا ہوئے ہیں کہ جس میں نیکو کار کو خطا کار سمجھا جاتا ہے اور ظالم اپنی سرکشی میں بڑھتا ہی جاتا ہے۔ جن چیزوں کو ہم جانتے ہیں ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے اور جن چیزوں کو نہیں جانتے انہیں دریافت نہیں کرتے اور جب تک مصیبت آ نہیں جاتی ہم خطرہ محسوس نہیں کرتے۔ (اس زمانے کے) لوگ چار طرح کے ہیں: کچھ وہ ہیں جنہیں مفسدہ انگیزی سے مانع صرف ان کے نفس کا بے وقعت ہونا، ان کی دھار کا کند ہونا اور ان کے پاس مال کا کم ہونا ہے۔ اور کچھ لوگ وہ ہیں جو تلواریں سونتے ہوئے علانیہ شر پھیلا رہے ہیں اور انہوں نے اپنے سوار اور پیادے جمع کر رکھے ہیں۔ صرف کچھ مال بٹورنے، یا کسی دستہ کی قیادت کرنے، یا منبر پر بلند ہونے کیلئے انہوں نے اپنے نفسوں کو وقف کر دیا ہے اور دین کو تباہ و برباد کر ڈالا ہے۔ کتنا ہی بُرا سودا ہے کہ تم دنیا کو اپنے نفس کی قیمت اور اللہ کے یہاں کی نعمتوں کا بدل قرار دے لو۔ اور کچھ لوگ وہ ہیں جو آخرت والے کاموں سے دنیا طلبی کرتے ہیں اور یہ نہیں کرتے کہ دنیا کے کاموں سے بھی آخرت کا بنانا مقصود رکھیں۔ یہ اپنے اوپر بڑا سکون و وقار طاری رکھتے ہیں۔ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے ہیں اور دامنوں کو اوپر کی طرف سمیٹتے رہتے ہیں اور اپنے نفسوں کو اس طرح سنوار لیتے ہیں کہ لوگ انہیں امین سمجھ لیں۔ یہ لوگ اللہ کی پردہ پوشی سے فائدہ اٹھا کر اس کا گناہ کرتے ہیں۔ اور کچھ لوگ وہ ہیں جنہیں ان کے نفسوں کی کمزوری اور ساز و سامان کی نافراہمی ملک گیری کیلئے اٹھنے نہیں دیتی۔ ان حالات نے انہیں ترقی و بلندی حاصل کرنے سے درماندہ و عاجز کر دیا ہے۔ اس لئے قناعت کے نام سے انہوں نے اپنے آپ کو آراستہ کر رکھا ہے اور زاہدوں کے لباس سے اپنے کو سجا لیا ہے، حالانکہ انہیں ان چیزوں سے کسی وقت کبھی کوئی لگاؤ نہیں رہا۔ اِسکے بعد تھوڑے سے وہ لوگ رہ گئے جن کی آنکھیں آخرت کی یاد اور حشر کے خوف سے جھکی ہوئی ہیں اور ان سے آنسو رواں رہتے ہیں۔ ان میں کچھ تو وہ ہیں جو دنیا والوں سے الگ تھلگ تنہائی میں پڑے ہیں اور کچھ خوف و ہراس کے عالم میں ذلتیں سہہ رہے ہیں اور بعض نے اس طرح چپ سادھ لی ہے کہ گویا ان کے منہ باندھ دیئے گئے ہیں، کچھ خلوص سے دُعائیں مانگ رہے ہیں، کچھ غم زدہ و درد رسیدہ ہیں جنہیں خوف نے گمنامی کے گوشہ میں بٹھا دیا ہے اور خستگی و درماندگی ان پر چھائی ہوئی ہے۔ وہ ایک شور دریا میں ہیں (کہ باوجود پانی کی کثرت کے پھر وہ پیاسے ہیں)۔ ان کے منہ بند اور دل مجروح ہیں۔ انہوں نے لوگوں کو اتنا سمجھایا بجھایا کہ وہ اکتا گئے اور اتنا ان پر جبر کیا گیا کہ وہ بالکل دب گئے اور اتنے قتل کئے گئے کہ ان میں (نمایاں) کمی ہو گئی۔ اس دنیا کو تمہاری نظروں میں کیکر کے چھلکوں اور ان کے ریزوں سے بھی زیادہ حقیر و پست ہونا چاہیے اور اپنے قبل کے لوگوں سے تم عبرت حاصل کر لو۔ اس کے قبل کہ تمہارے حالات سے بعد والے عبرت حاصل کریں اور اس دنیا کی بُرائی محسوس کرتے ہوئے اس سے قطع تعلق کرو۔ اس لئے کہ اس نے آخر میں ایسوں سے قطع تعلق کر لیا جو تم سے زیادہ اس کے والہ و شیدا تھے۔ سیّد رضیؒ فرماتے ہیں کہ: بعض لوگوں نے اپنی لاعلمی کی بنا پر اس خطبہ کو معاویہ کی طرف منسوب کیا ہے، حالانکہ یہ امیر المومنین علیہ السلام کا کلام ہے جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ بھلا سونے کو مٹی سے کیا نسبت؟ اور شیریں پانی کو شور پانی سے کیا ربط؟۔ چنانچہ اس وادی میں راہ دکھانے والے ماہرِ فن اور پرکھنے والے بابصیرت عمر و ابن بحر جاحظ نے اس کی خبر دی ہے، اور اپنی کتاب «البیان والتبین» میں اس کا ذکر کیا ہے اور ان لوگوں کا بھی ذکر کیا ہے، جنہوں نے اسے معاویہ کی طرف منسوب کیا ہے، اس کے بعد کہا ہے کہ: یہ کلام علی علیہ السلام کے کلام سے ہو بہو ملتا جلتا ہے اور اس میں جو لوگوں کی تقسیم اور ان کی ذلت و پستی اور خوف و ہراس کی حالت بیان کی ہے، یہ آپؑ ہی کے مسلک سے میل کھاتی ہے۔ ہم نے تو کسی حالت میں بھی معاویہ کو زاہدوں کے انداز اور عابدوں کے طریقہ پر کلام کرتے ہوئے نہیں پایا۔

  33. خطبہ 33- جب جنگ جمل کے لیے روانہ ہوئے تو فرمایا

    33

    قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسِ دَخَلْتُ عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام بِذِي قَارٍ وَ هُوَ يَخْصِفُ نَعْلَهُ فَقَالَ لِي مَا قِيمَةُ هَذِهِ النَّعْلِ فَقُلْتُ لَا قِيمَةَ لَهَا قَالَ عليه السلام وَ اللَّهِ لَهِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ إِمْرَتِكُمْ إِلَّا أَنْ أُقِيمَ حَقّاً أَوْ أَدْفَعَ بَاطِلًا ثُمَّ خَرَجَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ سُبحانَه بَعَثَ مُحَمَّداً (صلى الله عليه و اله) وَ لَيْسَ أَحَدٌ مِنَ الْعَرَبِ يَقْرَأُ كِتَاباً وَ لَا يَدَّعِي نُبُوَّةً فَسَاقَ النَّاسَ حَتَّى بَوَّأَهُمْ مَحَلَّتَهُمْ وَ بَلَّغَهُمْ مَنْجَاتَهُمْ فَاسْتَقَامَتْ قَنَاتُهُمْ وَ اطْمَأَنَّتْ صَفَاتُهُمْ أَمَا وَ اللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَفِي سَاقَتِهَا حَتَّى تَوَلَّتْ بِحَذَافِيرِهَا مَا عَجَزْتُ وَ لَا جَبُنْتُ وَ إِنَّ مَسِيرِي هَذَا لِمِثْلِهَا فَلَأَنْقُبَنَّ الْبَاطِلَ‏ حَتَّى يَخْرُجَ الْحَقُّ مِنْ جَنْبِهِ مَا لِي وَ لِقُرَيْشٍ وَ اللَّهِ لَقَدْ قَاتَلْتُهُمْ كَافِرِينَ وَ لَأُقَاتِلَنَّهُمْ مَفْتُونِينَ وَ إِنِّي لَصَاحِبُهُمْ بِالْأَمْسِ كَمَا أَنَا صَاحِبُهُمُ الْيَوْمَ وَ اَللَّهِ مَا تَنْقِمُ مِنَّا قُرَيْشٌ إِلاَّ أَنَّ اَللَّهَ اِخْتَارَنَا عَلَيْهِمْ فَأَدْخَلْنَاهُمْ فِي حَيِّزِنَا فَكَانُوا كَمَا قَالَ اَلْأَوَّلُ أَدَمْتَ لَعَمْرِي شُرْبَكَ اَلْمَحْضَ صَابِحاً وَ أَكْلَكَ بِالزُّبْدِ اَلْمُقَشَّرَةَ اَلْبُجْرَا وَ نَحْنُ وَهَبْنَاكَ اَلْعَلاَءَ وَ لَمْ تَكُنْ عَلِيّاً وَ حُطْنَا حَوْلَكَ اَلْجُرْدَ وَ اَلسُّمْرَا

    امیر المومنین علیہ السلام جب اہل بصرہ سے جنگ کیلئے نکلے تو عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ: میں مقامِ ذی قار میں حضرتؑ کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپؑ اپنا جوتا ٹانک رہے ہیں۔ مجھے دیکھ کر فرمایا کہ: اے ابنِ عباس! اس جوتے کی کیا قیمت ہو گی؟ میں نے کہا کہ: اب تو اس کی کچھ بھی قیمت نہ ہو گی، تو آپؑ نے فرمایا کہ: اگر میرے پیش نظر حق کا قیام اور باطل کا مٹانا نہ ہو تو تم لوگوں پر حکومت کرنے سے یہ جوتا مجھے کہیں زیادہ عزیز ہے۔ پھر آپؑ باہر تشریف لائے اور لوگوں میں یہ خطبہ دیا: اللہ نے محمد ﷺ کو اس وقت بھیجا کہ جب عربوں میں نہ کوئی کتاب (آسمانی) کا پڑھنے والا تھا نہ کوئی نبوت کا دعوے دار۔ آپؐ نے ان لوگوں کو ان کے (صحیح) مقام پر اتارا اور نجات کی منزل پر پہنچا دیا۔ یہاں تک کہ ان کے سارے خم جاتے رہے اور حالات محکم و استوار ہو گئے۔ خدا کی قسم! میں بھی ان لوگوں میں تھا جو اس صورتِ حال میں انقلاب پیدا کر رہے تھے۔ یہاں تک کہ انقلاب مکمل ہو گیا۔ میں نے (اس کام میں) نہ کمزوری دکھائی نہ بزدلی سے کام لیا اور اب بھی میرا اقدام ویسے ہی مقصد کیلئے ہے تو سہی جو میں باطل کو چیر کر حق کو اس کے پہلو سے نکال لوں۔ مجھے قریش سے وجہ نزاع ہی اور کیا ہے؟ خدا کی قسم! میں نے تو ان سے جنگ کی جبکہ وہ کافر تھے اور اب بھی جنگ کروں گا جبکہ وہ باطل کے ورغلانے میں آ چکے ہیں اور جس شان سے مَیں کل اُن کا مدّ مقابل رہ چکا ہوں ویسا ہی آج ثابت ہوں گا۔

  34. خطبہ 34- اہل شام کے مقابلے میں لوگوں کو آمادۂ جنگ کرنے کے لیے فرمایا

    34

    أُفٍّ لَكُمْ لَقَدْ سَئِمْتُ عِتَابَكُمْ أَرَضِيتُمْ بِالْحَياةِ الدُّنْيا مِنَ الْآخِرَةِ عِوَضاً وَ بِالذُّلِّ مِنَ الْعِزِّ خَلَفاً إِذَا دَعَوْتُكُمْ إِلَى جِهَادِ عَدُوِّكُمْ دَارَتْ أَعْيُنُكُمْ كَأَنَّكُمْ مِنَ الْمَوْتِ فِي غَمْرَةٍ وَ مِنَ الذُّهُولِ فِي سَكْرَةٍ يُرْتَجُ عَلَيْكُمْ حَوَارِي فَتَعْمَهُونَ فَكَأَنَّ قُلُوبَكُمْ مَأْلُوسَةٌ فَأَنْتُمْ لَا تَعْقِلُونَ مَا أَنْتُمْ لِي بِثِقَةٍ سَجِيسَ اللَّيَالِي مَا أَنْتُمْ بِرُكْنٍ يُمَالُ بِكُمْ وَ لَا زَوَافِرُ عِزٍّ يُفْتَقَرُ إِلَيْكُمْ مَا أَنْتُمْ إِلَّا كَإِبِلٍ ضَلَّ رُعَاتُهَا فَكُلَّمَا جُمِعَتْ مِنْ جَانِبٍ انْتَشَرَتْ مِنْ آخَرَ لَبِئْسَ لَعَمْرُ اللَّهِ سَعْرُ نَارِ أَنْتُمْ تُكَادُونَ وَ لَا تَكِيدُونَ وَ تُنْتَقَصُ أَطْرَافُكُمْ فَلَا تَمْتَعِضُونَ لَا يُنَامُ عَنْكُمْ وَ أَنْتُمْ فِي غَفْلَةٍ سَاهُونَ غُلِبَ وَ اللَّهِ الْمُتَخَاذِلُونَ وَ ايْمُ اللَّهِ إِنِّي لَأَظُنُّ بِكُمْ أَنْ لَوْ حَمِسَ الْوَغَى وَ اسْتَحَرَّ الْمَوْتُ قَدِ انْفَرَجْتُمْ عَنِ ابْنِ أَبِي طَالِبٍ انْفِرَاجَ الرَّأْسِ وَ اللَّهِ إِنَّ امْرَأً يُمَكِّنُ عَدُوَّهُ مِنْ نَفْسِهِ يَعْرُقُ لَحْمَهُ وَ يَهْشِمُ عَظْمَهُ وَ يَفْرِي جِلْدَهُ لَعَظِيمٌ عَجْزُهُ ضَعِيفٌ مَا ضُمَّتْ عَلَيْهِ جَوَانِحُ صَدْرِهِ أَنْتَ فَكُنْ ذَاكَ إِنْ شِئْتَ فَأَمَّا أَنَا فَوَاللَّهِ دُونَ أَنْ أُعْطِيَ ذَاكَ ضَرْبٌ بِالْمَشْرَفِيَّةِ تَطِيرُ مِنْهُ فَرَاشُ الْهَامِ وَ تَطِيحُ السَّوَاعِدُ وَ الْأَقْدَامُ يَفْعَلُ اللَّهُ بَعْدَ ذَلِكَ ما يَشاءُ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ لِي عَلَيْكُمْ حَقّاً وَ لَكُمْ عَلَيَّ حَقٌّ فَأَمَّا حَقُّكُمْ عَلَيَّ فَالنَّصِيحَةُ لَكُمْ وَ تَوْفِيرُ فَيْئِكُمْ عَلَيْكُمْ وَ تَعْلِيمُكُمْ كَيْلَا تَجْهَلُوا وَ تَأْدِيبُكُمْ كَيْمَا تَعَلَمُوا وَ أَمَّا حَقِّي عَلَيْكُمْ فَالْوَفَاءُ بِالْبَيْعَةِ وَ النَّصِيحَةُ فِي الْمَشْهَدِ وَ الْمَغِيبِ وَ الْإِجَابَةُ حِينَ أَدْعُوكُمْ وَ الطَّاعَةُ حِينَ آمُرُكُمْ

    لوگوں کو اہلِ شام سے آمادہ جنگ کرنے کیلئے فرمایا حیف ہے تم پر! میں تو تمہیں ملامت کرتے کرتے بھی اکتا گیا ہوں۔ ’’کیا تمہیں آخرت کے بدلے دنیوی زندگی اور عزت کے بدلے ذلّت ہی گوارا ہے‘‘ ؟ جب تمہیں دشمنوں سے لڑنے کیلئے بلاتا ہوں تو تمہاری آنکھیں اس طرح گھومنے لگ جاتی ہیں کہ گویا تم موت کے گرداب میں ہو اور جان کنی کی غفلت اور مدہوشی تم پر طاری ہے۔ میری باتیں جیسے تمہاری سمجھ ہی میں نہیں آتیں تو تم ششدر رہ جاتے ہو۔ معلوم ہوتا ہے جیسے تمہارے دل و دماغ پر دیوانگی کا اثر ہے کہ تم کچھ عقل سے کام نہیں لے سکتے۔ تم ہمیشہ کیلئے مجھ سے اپنا اعتماد کھو چکے ہو۔ نہ تم کوئی قوی سہارا ہو کہ تم پر بھروسا کر کے دشمنوں کی طرف رخ کیا جائے اور نہ تم عزت و کامرانی کے وسیلے ہو کہ تمہاری ضرورت محسوس ہو۔ تمہاری مثال تو ان اونٹوں کی سی ہے جن کے چرواہے گُم ہو گئے ہوں، اگر انہیں ایک طرف سے سمیٹا جائے تو دوسری طرف سے تتر بتر ہو جائیں گے ۔ خدا کی قسم! تم جنگ کے شعلے بھڑکانے کیلئے بہت برے ثابت ہوئے ہو۔ تمہارے خلاف سب تدبیریں ہوا کرتی ہیں اور تم دشمنوں کے خلاف کوئی تدبیر نہیں کرتے۔ تمہارے (شہروں کے) حدود (دن بہ دن) کم ہوتے جا رہے ہیں مگر تمہیں غصہ نہیں آتا۔ وہ تمہاری طرف سے کبھی غافل نہیں ہوتے اور تم ہو کہ غفلت میں سب کچھ بھولے ہوئے ہو۔ خدا کی قسم! ایک دوسرے پر ٹالنے والے ہارا ہی کرتے ہیں۔ خدا کی قسم! میں تمہارے متعلق یہ گمان رکھتا ہوں کہ اگر جنگ زور پکڑ لے اور موت کی گرم بازاری ہو تو تم ابن ابی طالب سے اس طرح کٹ جاؤ گے جس طرح بدن سے سر [۱] (کہ دوبارہ پلٹنا ممکن ہی نہ ہو)۔ (خدا کی قسم!) جو شخص کہ اپنے دشمن کو اس طرح اپنے پر قابو دے دے کہ وہ اس کی ہڈیوں سے گوشت تک اتار ڈالے اور ہڈیوں کو توڑ دے اور کھال کو پارہ پارہ کر دے، تو اس کا عجز انتہا کو پہنچا ہوا ہے اور سینے کی پسلیوں میں گھرا ہوا (دل) کمزور و ناتواں ہے۔ اگر تم ایسا ہونا چاہتے ہو تو ہوا کرو، لیکن میں تو ایسا اس وقت تک نہ ہونے دوں گا جب تک مقام مشارف کی (تیز دھار) تلواریں چلا نہ لوں کہ جس سے سر کی ہڈیوں کے پرخچے اڑ جائیں اور بازو اور قدم کٹ کٹ کر گرنے لگیں۔ اس کے بعد جو اللہ چاہے وہ کرے۔ اے لوگو! ایک تو میرا تم پر حق ہے اور ایک تمہارا مجھ پر حق ہے۔ (تمہارا مجھ پر حق یہ ہے) کہ میں تمہاری خیر خواہی پیشِ نظر رکھوں اور بیت المال سے تمہیں پورا پورا حصہ دوں اور تمہیں تعلیم دوں تاکہ تم جاہل نہ رہو اور اس طرح تمہیں تہذیب سکھاؤں جس پر تم عمل کرو، اور میرا تم پر یہ حق ہے کہ بیعت کی ذمہ داریوں کو پورا کرو اور سامنے اور پس پشت خیر خواہی کرو۔ جب بلاؤں تو میری صدا پر لبیک کہو اور جب کوئی حکم دوں تو اس کی تعمیل کرو۔

  35. خطبہ 35- تحکیم کے بارے میں فرمایا

    35

    الْحَمْدُ لِلَّهِ وَ إِنْ أَتَى الدَّهْرُ بِالْخَطْبِ الْفَادِحِ وَ الْحَدَثِ الْجَلِيلِ وَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَيْسَ مَعَهُ إِلَهٌ غَيْرُهُ وَ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ صلى الله عليه و اله أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ مَعْصِيَةَ النَّاصِحِ الشَّفِيقِ الْعَالِمِ الْمُجَرِّبِ تُورِثُ‏ الْحَسْرَةَ وَ تُعْقِبُ النَّدَامَةَ وَ قَدْ كُنْتُ أَمَرْتُكُمْ فِي هَذِهِ الْحُكُومَةِ أَمْرِي وَ نَخَلْتُ لَكُمْ مَخْزُونَ رَأْيِي لَوْ كَانَ يُطَاعُ لِقَصِيرٍ أَمْرٌ فَأَبَيْتُمْ عَلَيَّ الْعُصَاةِ إِبَاءَ الْمُخَالِفِينَ الْجُفَاةِ وَ الْمُنَابِذِينَ حَتَّى ارْتَابَ النَّاصِحُ بِنُصْحِهِ وَ ضَنَّ الزَّنْدُ بِقَدْحِهِ فَكُنْتُ أَنَا وَ إِيَّاكُمْ كَمَا قَالَ أَخُو هَوَازِنَ أَمَرْتُكُمْ أَمْرِي بِمُنْعَرِجِ اللِّوَى فَلَمْ تَسْتَبِينُوا النُّصْحَ إِلَّا ضُحَى الْغَدِ

    تحکیم کے بعد فرمایا (ہر حالت میں) اللہ کیلئے حمد و ثنا ہے۔ گو زمانہ (ہمارے لئے) جانکاہ مصیبتیں اور صبر آزما حادثے لے آیا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ یکتا ولا شریک ہے، اس کے ساتھ کوئی دوسرا خدا نہیں اور محمد ﷺ اس کے عبد اور رسول ہیں۔ (تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ) مہربان، باخبر اور تجربہ کار ناصح کی مخالفت کا ثمرہ، حسرت و ندامت ہوتا ہے۔ میں نے اس تحکیم کے متعلق اپنا فرمان سنا دیا تھا اور اپنی قیمتی رائے کا نچوڑ تمہارے سامنے رکھ دیا تھا۔ کاش کہ ’’قصیر‘ کا حکم مان لیا جاتا، لیکن تم تو تند خو مخالفین اور عہد شکن نافرمانوں کی طرح انکار پر تل گئے۔ یہاں تک کہ ناصح خود اپنی نصیحت کے متعلق سوچ میں پڑ گیا اور طبیعت اس چقماق کی طرح بجھ گئی کہ جس نے شعلے بھڑکانا بند کر دیا ہو۔ میری اور تمہاری حالت شاعر بنی ہوازن کے اس قول کے مطابق ہے: ’’میں نے مقامِ منعرج اللوی (ٹیلے کا موڑ) پر تمہیں اپنے حکم سے آگاہ کیا(گو اس وقت تم نے میری نصیحت پر عمل نہ کیا) لیکن دوسرے دن کی چاشت کو میری نصیحت کی صداقت دیکھ لی‘‘۔

  36. خطبہ 36- اہل نہروان کو ان کے انجام سے مطلع کرنے کے لیے فرمایا

    36

    فَأَنَا نَذِيرٌ لَكُمْ أَنْ تُصْبِحُوا صَرْعَى بِأَثْنَاءِ هَذَا النَّهَر وَ بِأَهْضَامِ هَذَا الْغَائِطِ عَلَى غَيْرِ بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَ لَا سُلْطَانٍ مُبِينٍ مَعَكُمْ قَدْ طَوَّحَتْ بِكُمُ الدَّارُ وَ احْتَبَلَكُمُ الْمِقْدَارُ وَ قَدْ كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ هَذِهِ الْحُكُومَةِ فَأَبَيْتُمْ عَلَيَّ إِبَاءَ الْمُخَالِفِينَ الْمُنَابِذِينَ حَتَّى صَرَفْتُ رَأْيِي إِلَى هَوَاكُمْ وَ أَنْتُمْ مَعَاشِرُ أَخِفَّاءُ الْهَامِ سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ وَ لَمْ آتِ لَا أَبَا لَكُمْ بُجْراً وَ لَا أَرَدْتُ بِكُمْ ضُرّاً

    اہل نہروان کو ان کے انجام سے ڈراتے ہوئے فرمایا میں تمہیں متنبہ کر رہا ہوں کہ تم لوگ اس نہر کے موڑوں اور اس نشیب کی ہموار زمینوں پر قتل ہو ہو کر گرے ہوئے ہو گے، اس عالم میں کہ نہ تمہارے پاس اللہ کے سامنے (عذر کرنے کیلئے) کوئی واضح دلیل ہو گی نہ کوئی روشن ثبوت، اس طرح کہ تم اپنے گھروں سے بے گھر ہو گئے اور پھر قضائے الٰہی نے تمہیں اپنے پھندے میں جکڑ لیا۔ میں نے تو تمہیں پہلے ہی اس تحکیم سے روکا تھا، لیکن تم نے میرا حکم ماننے سے مخالف پیمان شکنوں کی طرح انکار کر دیا۔ یہاں تک کہ (مجبوراً) مجھے بھی اپنی رائے کو ادھر موڑنا پڑا جو تم چاہتے تھے۔ تم ایک ایسا گروہ ہو جس کے افراد کے سر عقلوں سے خالی اور فہم و دانش سے عاری ہیں۔ خدا تمہارا بُرا کرے میں نے تمہیں نہ کسی مصیبت میں پھنسایا ہے نہ تمہارا بُرا چاہا تھا۔

  37. خطبہ 37- اپنی استقامت دینی و سبقت ایمانی کے متعلق فرمایا

    37

    فَقُمْتُ بِالْأَمْرِ حِينَ فَشِلُوا وَ تَطَلَّعْتُ حِينَ تَقَبَّعُوا وَ نَطَقْتُ حِينَ تَعْتَعُوا وَ مَضَيْتُ بِنُورِ اللَّهِ حِينَ وَقَفُوا وَ كُنْتُ أَخْفَضَهُمْ صَوْتاً وَ أَعْلَاهُمْ فَوْتاً فَطِرْتُ بِعِنَانِهَا وَ اسْتَبْدَدْتُ بِرِهَانِهَا كَالْجَبَلِ لَا تُحَرِّكُهُ الْقَوَاصِفُ وَ لَا تُزِيلُهُ الْعَوَاصِفُ لَمْ يَكُنْ لِأَحَدٍ فِيَّ مَهْمَزٌ وَ لَا لِقَائِلٍ فِيَّ مَغْمَزٌ الذَّلِيلُ عِنْدِي عَزِيزٌ حَتَّى آخُذَ الْحَقَّ لَهُ وَ الْقَوِيُّ عِنْدِي ضَعِيفٌ حَتَّى آخُذَ الْحَقَّ مِنْهُ رَضِينَا عَنِ اللَّهِ قَضَاءَهُ وَ سَلَّمْنَا لِلَّهِ أَمْرَهُ أَتَرَانِي أَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه و اله وَ اللَّهِ لَأَنَا أَوَّلُ مَنْ صَدَّقَهُ فَلَا أَكُونُ أَوَّلَ مَنْ كَذَبَ عَلَيْهِ فَنَظَرْتُ فِي أَمْرِي فَإِذَا طَاعَتِي قَدْ سَبَقَتْ بَيْعَتِي وَ إِذَا الْمِيثَاقُ فِي عُنُقِي لِغَيْرِي

    میں نے اس وقت اپنے فرائض انجام دیئے جبکہ اور سب اس راہ میں قدم بڑھانے کی جرأت نہ رکھتے تھے اور اُس وقت سر اٹھا کر سامنے آیا جبکہ دوسرے گوشوں میں چھپے ہوئے تھے اور اس وقت زبان کھولی جبکہ دوسرے گنگ نظر آتے تھے اور اس وقت نورِ خدا (کی روشنی) میں آگے بڑھا جبکہ دوسرے زمین گیر ہو چکے تھے۔ گو میری آواز ان سب سے دھیمی تھی، مگر سبقت و پیش قدمی میں مَیں سب سے آگے تھا۔ میرا اس تحریک کی باگ تھامنا تھا کہ وہ اُڑ سی گئی اور میں صرف تھا جو اس میدان میں بازی لے گیا۔ معلوم ہوتا تھا جیسے پہاڑ، جسے نہ تند ہوائیں جنبش دے سکتی ہیں اور نہ تیز جھکڑ اپنی جگہ سے ہلا سکتے ہیں۔ کسی کیلئے بھی مجھ میں عیب گیری کا موقع اور حرف گیری کی گنجائش نہ تھی۔ دبا ہوا میری نظروں میں طاقتور ہے جب تک کہ میں اس کا حق دلوا نہ دوں اور طاقتور میرے یہاں کمزور ہے جب تک کہ میں اس سے دوسرے کا حق دلوا نہ لوں۔ ہم قضائے الٰہی پر راضی ہو چکے ہیں اور اُسی کو سارے امور سونپ دیئے ہیں۔ کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ میں رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ باندھتا ہوں۔ خدا کی قسم! میں وہ ہوں جس نے سب سے پہلے آپؐ کی تصدیق کی تو اب آپؐ پر کذب تراشی میں کس طرح پہل کروں گا۔ میں نے اپنے حالات پر نظر کی تو دیکھا کہ میرے لئے ہر قسم کی بیعت سےاطاعت رسولؐ مقدم تھی اور ان سے کئے ہوئے عہد و پیمان کا جوا میری گردن میں تھا۔

  38. خطبہ 38- شبہہ کی وجہ تسمیہ اور دوستان خدا و دشمنان خدا کی مذمت

    38

    وَ إِنَّمَا سُمِّيَتِ الشُّبْهَةُ شُبْهَةً لِأَنَّهَا تُشْبِهُ الْحَقَّ فَأَمَّا أَوْلِيَاءُ اللَّهِ َضِيَاؤُهُمْ فِيهَا الْيَقِينُ وَ دَلِيلُهُمْ سَمْتُ الْهُدَى وَ أَمَّا أَعْدَاءُ اللَّهِ فَدُعَاؤُهُمْ الضَّلَالُ وَ دَلِيلُهُمُ الْعَمَى فَمَا يَنْجُو مِنَ الْمَوْتِ مَنْ خَافَهُ وَ لَا يُعْطَى الْبَقَاءَ مَنْ أَحَبَّه.

    ’’شبہ‘‘ کو شبہ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ وہ حق سے شباہت رکھتا ہے، تو جو دوستانِ خدا ہوتے ہیں ان کیلئے شبہات (کے اندھیروں) میں یقین اجالے کا اور ہدایت کی سمت رہنما کا کام دیتی ہے اور جو دشمنانِ خدا ہیں وہ ان شبہات میں گمراہی کی دعوت و تبلیغ کرتے ہیں اور کوری و بے بصری ان کی رہبر ہوتی ہے۔ موت وہ چیز ہے کہ ڈرنے والا اس سے چھٹکارا نہیں پا سکتا اور ہمیشہ کی زندگی چاہنے والا ہمیشہ کی زندگی حاصل نہیں کر سکتا۔

  39. خطبہ 39- جنگ سے جی چرانے والوں کی مذمت میں

    39

    مُنِيتُ بِمَنْ لَا يُطِيعُ إِذَا أَمَرْتُ وَ لَا يُجِيبُ إِذَا دَعَوْتُ لَا أَبَا لَكُمْ مَا تَنْتَظِرُونَ بِنَصْرِكُمْ رَبَّكُمْ أَمَا دِينٌ يَجْمَعُكُمْ وَ لَا حَمِيَّةَ تُحْمِشُكُمْ أَقُومُ فِيكُمْ مُسْتَصْرِخاً وَ أُنَادِيكُمْ مُتَغَوِّثاً فَلَا تَسْمَعُونَ لِي قَوْلًا وَ لَا تُطِيعُونَ لِي أَمْراً حَتَّى تَكَشَّفَ الْأُمُورُ عَنْ عَوَاقِبِ الْمَسَاءَةِ فَمَا يُدْرَكُ بِكُمْ ثَارٌ وَ لَا يُبْلَغُ بِكُمْ مَرَامٌ دَعَوْتُكُمْ إِلَى نَصْرِ إِخْوَانِكُمْ فَجَرْجَرْتُمْ جَرْجَرَةَ الْجَمَلِ الْأَسَرِّ وَ تَثَاقَلْتُمْ تَثَاقُلَ النِّضْوِ الْأَدْبَرِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَيَّ مِنْكُمْ جُنَيْدٌ مُتَذَائِبٌ ضَعِيفٌ كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ وَ هُمْ يَنْظُرُونَ قال السيد الشريف: قَوْلَه (ع) مَتذائب اي : مُضْطرب مِنْ قَوْلهم : تَذابت الريح ، اَي : اضْطرب هُبوبِها، وَ مِنْهُ يَسمي الذئب لاضْطِراب مشيته .

    میرا ایسے لوگوں سے سابقہ پڑا ہے جنہیں حکم دیتا ہوں تو مانتے نہیں، بلاتا ہوں تو آواز پر لبیک نہیں کہتے۔ تمہارا بُرا ہو! اب اپنے اللہ کی نصرت کرنے میں تمہیں کس چیز کا انتظار ہے؟ کیا دین تمہیں ایک جگہ اکھٹا نہیں کرتا اور غیرت و حمیت تمہیں جوش میں نہیں لاتی؟میں تم میں کھڑا ہو کر چلاتا ہوں اور مدد کیلئے پکارتا ہوں لیکن تم نہ میری کوئی بات سنتے ہو، نہ میرا کوئی حکم مانتے ہو، یہاں تک کہ ان نافرمانیوں کے بُرے نتائج کھل کر سامنے آ جائیں۔ نہ تمہارے ذریعے خون کا بدلا لیا جا سکتا ہے، نہ کسی مقصد تک پہنچا جا سکتا ہے۔ میں نے تم کو تمہارے ہی بھائیوں کی مدد کیلئے پکارا تھا۔ مگر تم اس اونٹ کی طرح بلبلا نے لگے جس کی ناف میں درد ہو رہا ہو اور اس لاغر و کمزور شتر کی طرح ڈھیلے پڑ گئے جس کی پیٹھ زخمی ہو، پھر میرے پاس تم لوگوں کی ایک چھوٹی سی متزلزل و کمزور فوج آئی، اس عالم میں کہ گویا اسے اس کی نظروں کے سامنے موت کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ سیّد رضیؒ فرماتے ہیں کہ: اس خطبہ میں جو لفظ «مُتَذَآئِبٌ» آیا ہے اس کے معنی مضطرب کے ہیں۔ جب ہوائیں بل کھاتی ہوئی چلتی ہیں تو عرب اس موقعہ پر «تَذَائَبَتِ الرِّیْحُ » بولتے ہیں اور بھیڑیئے کو بھی ’’ذئب‘‘ اسی وجہ سے کہتے ہیں کہ اس کی چال میں ایک اضطرابی کیفیت ہوتی ہے۔

  40. خطبہ 40- خوارج کے قول «لاحکم الا للہ» کے جواب میں فرمایا

    40

    كَلِمَةُ حَقٍّ يُرَادُ بِهَا بَاطِلٌ نَعَمْ إِنَّهُ لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ وَ لَكِنْ هَؤُلَاءِ يَقُولُونَ لَا إِمْرَةَ وَ إِنَّهُ لَا بُدَّ لِلنَّاسِ مِنْ أَمِيرٍ بَرٍّ أَوْ فَاجِرٍ يَعْمَلُ فِي إِمْرَتِهِ الْمُؤْمِنُ وَ يَسْتَمْتِعُ فِيهَا الْكَافِرُ وَ يُبَلِّغُ اللَّهُ فِيهَا الْأَجَلَ وَ يُجْمَعُ بِهِ الْفَيْ‏ءُ وَ يُقَاتَلُ بِهِ الْعَدُوُّ وَ تَأْمَنُ بِهِ السُّبُلُ وَ يُؤْخَذُ بِهِ لِلضَّعِيفِ مِنَ الْقَوِيِّ حَتَّى يَسْتَرِيحَ بَرٌّ وَ يُسْتَرَاحَ مِنْ فَاجِرٍ وَ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى أَنَّهُ عليه السلام لَمَّا سَمِعَ تَحْكِيمَهُمْ قَالَ : حُكْمَ اللَّهِ أَنْتَظِرُ فِيكُمْ : وَ قَالَ أَمَّا الْإِمْرَةُ الْبَرَّةُ فَيَعْمَلُ فِيهَا التَّقِيُّ وَ أَمَّا الْإِمْرَةُ الْفَاجِرَةُ فَيَتَمَتَّعُ فِيهَا الشَّقِيُّ إِلَى أَنْ تَنْقَطِعَ مُدَّتُهُ وَ تُدْرِكَهُ مَنِيَّتُهُ.

    جب آپؑ نے خوارج کا قول «لَا حُكْمَ اِلَّا لِلّٰهِ» (حکم اللہ ہی کیلئے مخصوص ہے) سنا تو فرمایا یہ جملہ تو صحیح ہے مگر جو مطلب وہ لیتے ہیں وہ غلط ہے۔ ہاں! بے شک حکم اللہ ہی کیلئے مخصوص ہے، مگر یہ لوگ تو یہ کہنا چاہتے ہیں کہ حکومت بھی اللہ کے علاوہ کسی کی نہیں ہو سکتی۔ حالانکہ لوگوں کیلئے ایک حاکم کا ہونا ضروری ہے۔ خواہ وہ اچھا ہو یا برا۔ (اگر اچھا ہو گا تو) مومن اس کی حکومت میں اچھے عمل کر سکے گا، (اگر برا ہو گا تو) کافر اس کے عہد میں لذائذ سے بہرہ اندوز ہو گا اور اللہ اس نظامِ حکومت میں ہر چیز کو اس کی آخری حدوں تک پہنچا دے گا۔ اسی حاکم کی وجہ سے مال (خراج و غنیمت) جمع ہوتا ہے، دشمن سے لڑا جاتا ہے، راستے پر امن رہتے ہیں اور قوی سے کمزور کا حق دلایا جاتا ہے، یہاں تک کہ نیک حاکم (مر کر یا معزول ہو کر) راحت پائے اور برے حاکم کے مرنے یا معزول ہونے سے دوسروں کو راحت پہنچے۔ ایک دوسری روایت میں اس طرح ہے کہ: جب آپ علیہ السلام نے تحکیم کے سلسلے میں (ان کا قول) سنا تو فرمایا: میں تمہارے بارے میں حکم خدا ہی کا منتظر ہوں۔ پھر فرمایا کہ: اگر حکومت نیک ہو تو اس میں متقی و پرہیز گار اچھے عمل کرتا ہے اور بری حکومت ہو تو اس میں بدبخت لوگ جی بھر کر لطف اندوز ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کا زمانہ ختم ہو جائے اور موت انہیں پالے۔

  41. خطبہ 41- غداری کی مذمت میں

    41

    أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ الْوَفَاءَ تَوْأَمُ الصِّدْقِ وَ لَا أَعْلَمُ جُنَّةً أَوْقَى مِنْهُ وَ مَا يَغْدِرُ مَنْ عَلِمَ كَيْفَ الْمَرْجِعُ وَ لَقَدْ أَصْبَحْنَا فِي زَمَانٍ اتَّخَذَ أَكْثَرُ أَهْلِهِ الْغَدْرَ كَيْساً وَ نَسَبَهُمْ أَهْلُ الْجَهْلِ فِيهِ إِلَى حُسْنِ الْحِيلَةِ مَا لَهُمْ قَاتَلَهُمُ اللَّهُ قَدْ يَرَى الْحُوَّلُ الْقُلَّبُ وَجْهَ الْحِيلَةِ وَ دُونَهُ مَانِعٌ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ وَ نَهْيِهِ فَيَدَعُهَا رَأْيَ عَيْنٍ بَعْدَ الْقُدْرَةِ عَلَيْهَا وَ يَنْتَهِزُ فُرْصَتَهَا مَنْ لَا حَرِيجَةَ لَهُ فِي الدِّينِ

    وفائے عہد اور سچائی دونوں کا ہمیشہ ہمیشہ کا ساتھ ہے اور میرے علم میں اس سے بڑھ کر حفاظت کی اور کوئی سپر نہیں۔ جو شخص اپنی باز گشت کی حقیقت جان ليتا ہے وہ کبھی غداری نہیں کرتا۔ مگر ہمارا زمانہ ایسا ہے جس میں اکثر لوگوں نے غدر و فریب کو عقل و فراست سمجھ لیا ہے اور جاہلوں نے ان کی (چالوں) کو حسن تدبیر سے منسوب کر دیا ہے۔ اللہ انہیں غارت کرے! انہیں کیا ہو گیا ہے؟ وہ شخص جو زمانے کی اونچ نیچ دیکھ چکا ہے اور اس کے ہیر پھیر سے آگاہ ہے وہ کبھی کوئی تدبیر اپنے لئے دیکھتا ہے، مگر اللہ کے اوامر و نواہی اس کا راستہ روک کر کھڑے ہو جاتے ہیں تو وہ اس حیلہ و تدبیر کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے اور اس پر قابو پانے کے باوجود چھوڑ دیتا ہے اور جسے کوئی دینی احساس سد راہ نہیں ہے وہ اس موقعہ سے فائدہ اٹھا لے جاتا ہے۔

  42. خطبہ 42- نفسانی خواہشوں اور لمبی امیدوں کے متعلق فرمایا

    42

    أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ اثْنَانِ اتِّبَاعُ الْهَوَى وَ طُولُ الْأَمَلِ فَأَمَّا اتِّبَاعُ الْهَوَى فَيَصُدُّ عَنِ الْحَقِّ وَ أَمَّا طُولُ الْأَمَلِ فَيُنْسِي الْآخِرَةَ أَلَا وَ إِنَّ الدُّنْيَا قَدْ وَلَّتْ حَذَّاءَ فَلَمْ يَبْقَ مِنْهَا إِلَّا صُبَابَةٌ كَصُبَابَةِ الْإِنَاءِ اصْطَبَّهَا صَابُّهَا أَلَا وَ إِنَّ الْآخِرَةَ قَدْ أَقْبَلَتْ وَ لِكُلٍّ مِنْهُمَا بَنُونَ فَكُونُوا مِنْ أَبْنَاءِ الْآخِرَةِ وَ لَا تَكُونُوا مِنْ أَبْنَاءِ الدُّنْيَا فَإِنَّ كُلَّ وَلَدٍ سَيُلْحَقُ بِأَبِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَ إِنَّ الْيَوْمَ عَمَلٌ وَ لَا حِسَابَ وَ غَداً حِسَابٌ وَ لَا عَمَلَ. قال السيد الشريف: الحذاء: السَريعة ، وَ مِن الناس مَن يرويه جَذاء بِالجيم وَالذال ، اَىَّ: اِنْقَطَعْ درّها وَ خَيرها.

    اے لوگو! مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ دو باتوں کا ڈر ہے: ایک خواہشوں کی پیروی اور دوسرے امیدوں کا پھیلاؤ۔ خواہشوں کی پیروی وہ چیز ہے جو حق سے روک دیتی ہے اور امیدوں کا پھیلاؤ آخرت کو بھلا دیتا ہے۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ دنیا تیزی سے جا رہی ہے اور اس میں سے کچھ باقی نہیں رہ گیا ہے، مگر اتنا ہے کہ جیسے کوئی انڈیلنے والا برتن کو انڈیلے تو اس میں کچھ تری باقی رہ جاتی ہے۔ اور آخرت ادھر کا رخ لئے ہوئے آرہی ہے اور دنیا و آخرت ہر ایک والے خاص آدمی ہوتے ہیں۔ تو تم فرزند آخرت بنو اور ابنائے دنیا نہ بنو۔ اس لئے کہ ہر بیٹا روزِ قیامت اپنی ماں سے منسلک ہو گا۔ آج عمل کا دن ہے اور حساب نہیں ہے اور کل حساب کا دن ہو گا، عمل نہ ہو سکے گا۔ علامہ رضیؒ کہتے ہیں کہ: الْحَذَّآءُ کے معنی تیز رو کے ہیں اور بعض نے «جَذَّاءَ» روایت کیا ہے۔ اس روایت کی بنا پر معنی یہ ہوں گے کہ: ’’دنیا کی لذتوں کا سلسلہ جلد ختم ہو جائے گا‘‘۔

  43. خطبہ 43- جب ساتھیوں نے جنگ کی تیاری کے لیے کہا تو آپؑ نے فرمایا

    43

    إِنَّ اسْتِعْدَادِي لِحَرْبِ أَهْلِ الشَّامِ وَ جَرِيرٌ عِنْدَهُمْ إِغْلَاقٌ لِلشَّامِ وَ صَرْفٌ لِأَهْلِهِ عَنْ خَيْرٍ إِنْ أَرَادُوهُ وَ لَكِنْ قَدْ وَقَّتُّ لِجَرِيرٍ وَقْتاً لَا يُقِيمُ بَعْدَهُ إِلَّا مَخْدُوعاً أَوْ عَاصِياً وَ الرَّأْيُ عِنْدِي مَعَ الْأَنَاةِ فَأَرْوِدُوا وَ لَا أَكْرَهُ لَكُمُ الْإِعْدَادَ وَ لَقَدْ ضَرَبْتُ أَنْفَ هَذَا الْأَمْرِ وَ عَيْنَهُ وَ قَلَّبْتُ ظَهْرَهُ وَ بَطْنَهُ فَلَمْ أَرَ لِي إِلَّا الْقِتَالَ أَوِ الْكُفْرَ (بِمَا جَاءَ مُحَمَّدٌ صلى الله عليه و اله) إِنَّهُ قَدْ كَانَ عَلَى الْأُمَّةِ وَالٍ أَحْدَثَ أَحْدَاثاً وَ أَوْجَدَ لِلنَّاسِ مَقَالًا فَقَالُوا ثُمَّ نَقَمُوا فَغَيَّرُوا

    جب امیرالمومنین علیہ السلام نے جریر ابن عبداللہ بجلی کو معاویہ کے پاس(بیعت لینے کے لیے) بھیجا تو آپؑ کے اصحاب نے آپؑ کو جنگ کی تیاری کا مشورہ دیا، جس پر آپؑ نے فرمایا: میرا جنگ کیلئے مستعد و آمادہ ہونا جب کہ جریر ابھی وہیں ہے، شام کا دروازہ بند کرنا ہے اور وہاں کے لوگ بیعت کا ارادہ بھی کریں تو انہیں اس ارادہ خیر سے روک دینا ہے۔ بے شک میں نے جریر کیلئے ایک وقت مقرر کر دیا ہے۔ اس کے بعد وہ ٹھہرے گا تو یا ان سے فریب میں مبتلا ہو کر یا (عمداً) سرتابی کرتے ہوئے۔ صحیح رائے کا تقاضا صبر و توقف ہے۔ اس لئے ابھی ٹھہرے رہو۔ البتہ اس چیز کو میں تمہارے لئے بُرا نہیں سمجھتا کہ (در پردہ) جنگ کا ساز و سامان کرتے رہو۔ میں نے اس امر کو اچھی طرح سے پرکھ لیا ہے اور اندر باہر سے دیکھ لیا ہے۔ مجھے تو جنگ کے علاوہ کوئی چارہ نظر نہیں آتا، یا یہ کہ رسول ﷺ کی دی ہوئی خبروں سے انکار کر دوں۔ حقیقت یہ ہے (مجھ سے پہلے) اس اُمت پر ایک ایسا حکمران تھا جس نے دین میں بدعتیں پھیلائیں اور لوگوں کو زبانِ طعن کھولنے کا موقعہ دیا۔ (پہلے تو) لوگوں نے اُسے زبانی کہا سنا، پھر اس پر بگڑے اور آخر سارا ڈھانچہ بدل دیا۔

  44. خطبہ 44- جب مصقلہ ابن ہبیرہ معاویہ کے پاس بھاگ گیا تو آپؑ نے فرمایا

    44

    قَبَّحَ اللَّهُ مَصْقَلَةَ فَعَلَ فِعْلَ السَّادَةِ وَ فَرَّ فِرَارَ الْعَبِيدِ فَمَا أَنْطَقَ مَادِحَهُ حَتَّى أَسْكَتَهُ وَ لَا صَدَّقَ وَاصِفَهُ حَتَّى بَكَّتَهُ وَ لَوْ أَقَامَ لَأَخَذْنَا مَيْسُورَهُ وَ انْتَظَرْنَا بِمَالِهِ وُفُورَهُ

    جب مصقلہ بن ہبیرہ شیبانی معاویہ کے پاس بھاگ گیا۔ چونکہ اس نے حضرتؑ کے ایک عامل سے بنی ناجیہ کے کچھ اسیر خریدے تھے۔ جب امیر المومنین علیہ السلام نے اس سے قیمت کا مطالبہ کیا تو وہ بددیانتی کرتے ہوئے شام چلا گیا، جس پر آپؑ نے فرمایا: خدا مصقلہ کا بُرا کرے! کام تو اس نے شریفوں کا سا کیا، لیکن غلاموں کی طرح بھاگ نکلا۔ اس نے مدح کرنے والے کا منہ بولنے سے پہلے ہی بند کر دیا اور توصیف کرنے والے کے قول کے مطابق اپنا عمل پیش کرنے سے پہلے ہی اسے خاموش کر دیا۔ اگر وہ ٹھہرا رہتا تو ہم اس سے اتنا لے لیتے جتنا اس کیلئے ممکن ہوتا اور بقیہ کیلئے اس کے مال کے زیادہ ہونے کا انتظار کرتے۔

  45. خطبہ 45- اللہ کی عظمت اور جلالت اور دنیا کی سبکی و بے وقاری کے متعلق

    45

    الْحَمْدُ لِلَّهِ غَيْرَ مَقْنُوطٍ مِنْ رَحْمَتِهِ وَ لَا مَخْلُوٍّ مِنْ نِعْمَتِهِ وَ لَا مَأْيُوسٍ مِنْ مَغْفِرَتِهِ وَ لَا مُسْتَنْكَفٍ عَنْ عِبَادَتِهِ الَّذِي لَا تَبْرَحُ مِنْهُ رَحْمَةٌ وَ لَا تُفْقَدُ لَهُ نِعْمَةٌ وَ الدُّنْيَا دَارٌ مُنِيَ لَهَا الْفَنَاءُ وَ لِأَهْلِهَا مِنْهَا الْجَلَاءُ وَ هِيَ حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ وَ قَدْ عَجِلَتْ لِلطَّالِبِ وَ الْتَبَسَتْ بِقَلْبِ النَّاظِرِ فَارْتَحِلُوا مِنْهَا بِأَحْسَنِ مَا بِحَضْرَتِكُمْ مِنَ الزَّادِ وَ لَا تَسْأَلُوا فِيهَا فَوْقَ الْكَفَافِ وَ لَا تَطْلُبُوا مِنْهَا أَكْثَرَ مِنَ الْبَلَاغِ

    تمام حمد اس اللہ کیلئے ہے جس کی رحمت سے ناامیدی نہیں اور جس کی نعمتوں سے کسی کا دامن خالی نہیں۔ نہ اس کی مغفرت سے کوئی مایوس ہے، نہ اس کی عبادت سے کسی کو عار ہو سکتا ہے اور نہ اس کی رحمتوں کا سلسلہ ٹوٹتا ہے اور نہ اس کی نعمتوں کا فیضان کبھی رکتا ہے۔ دنیا ایک ایسا گھر ہے جس کیلئے فنا طے شدہ امر ہے اور اس میں بسنے والوں کیلئے یہاں سے بہر صورت نکلنا ہے۔ یہ دنیا شیریں و شاداب ہے۔ اپنے چاہنے والے کی طرف تیزی سے بڑھتی ہے اور دیکھنے والے کے دل میں سما جاتی ہے۔ جو تمہارے پاس بہتر سے بہتر توشہ ہو سکے اسے لے کر دنیا سے چل دینے کیلئے تیار ہو جاؤ۔ اس دنیا میں اپنی ضرورت سے زیادہ نہ چاہو اور جس سے زندگی بسر ہو سکے اس سے زیادہ کی خواہش نہ کرو۔

  46. خطبہ 46- جب شام کی جانب روانہ ہوئے تو فرمایا

    46

    اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَ كَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ وَ سُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَ الْمَالِ وَ الْوَلَدِ اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَ أَنْتَ الْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ وَ لَا يَجْمَعُهُمَا غَيْرُكَ لِأَنَّ الْمُسْتَخْلَفَ لَا يَكُونُ مُسْتَصْحَباً وَ الْمُسْتَصْحَبَ لَا يَكُونُ مُسْتَخْلَفاً قال السيد الشريف: وَ اِبتداء هَذا الْكلام مَروي عَن رَسول اللّه (ص) وَ قَدْ قَفاه اَميرالمؤمنين (ع) بابلغ كَلام وَ تَممهُ باحْسَنِ تَمامِ مَنْ قَوْلَه «وَ لا يَجْمَعَهُما غَيْرَك» إلى آخَر الفصل .

    جب شام کی طرف روانہ ہونے کا قصد کیا تو یہ کلمات فرمائے اے اللہ! مَیں سفر کی مشقت اور واپسی کے اندوہ اور اہل و مال کی بدحالی کے منظر سے پناہ مانگتا ہوں۔ اے اللہ! تو ہی سفر میں رفیق اور بال بچوں کا محافظ ہے۔ سفر و حضر کو تیرے علاوہ کوئی یکجا نہیں کر سکتا، کیونکہ جسے پیچھے چھوڑا جائے وہ ساتھی نہیں ہو سکتا اور جسے ساتھ لیا جائے اسے پیچھے نہیں چھوڑا جا سکتا۔ سیّد رضیؒ فرماتے ہیں کہ: اس کلام کا ابتدائی حصہ رسول اللہ ﷺ سے منقول ہے۔ امیرالمومنین علیہ السلام نے اس کے آخر میں بلیغ ترین جملوں کا اضافہ فرما کر اسے نہایت احسن طریق سے مکمل کر دیا ہے اور وہ اضافہ ’’سفر و حضر کو تیرے علاوہ کوئی یکجا نہیں کر سکتا‘‘ سے لے کر آخر کلام تک ہے۔

  47. خطبہ 47- کوفہ پر وارد ہونے والی مصیبتوں کے متعلق فرمایا

    47

    كَأَنِّي بِكِ يَا كُوفَةُ مَدَّ الْأَدِيمِ الْعُكَاظِيِّ تُعْرَكِينَ بِالنَّوَازِلِ وَ تُرْكَبِينَ بِالزَّلَازِلِ وَ إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّهُ مَا أَرَادَ بِكِ جَبَّارٌ سُوءاً إِلَّا ابْتَلَاهُ اللَّهُ بِشَاغِلٍ أَوْ رَمَاهُ بِقَاتِلٍ.

    (کوفہ پر وارد ہونے والے مصائب کے متعلق فرمایا) اے کوفہ! یہ منظر گویا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں کہ تجھے اس طرح سے کھینچا جا رہا ہے جیسے بازار عکاظ [۱] کے دباغت کئے ہوئے چمڑے کو اور مصائب اور آلام کی تاخت و تاراج سے تجھے کچلا جا رہا ہے اور شدائد و حوادث کا تو مرکب بنا ہوا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ جو ظالم و سرکش تجھ سے برائی کا ارادہ کرے گا اللہ اُسے کسی مصیبت میں جکڑ دے گا اور کسی قاتل کی زد پر لے آئے گا۔

  48. خطبہ 48- جب شام کی طرف روانہ ہوئے تو فرمایا

    48

    الْحَمْدُ لِلَّهِ كُلَّمَا وَقَبَ لَيْلٌ وَ غَسَقَ وَ الْحَمْدُ لِلَّهِ كُلَّمَا لَاحَ نَجْمٌ وَ خَفَقَ وَ الْحَمْدُ لِلَّهِ غَيْرَ مَفْقُودِ الْإِنْعَامِ وَ لَا مُكَافَإِ الْإِفْضَالِ أَمَّا بَعْدُ فَقَدْ بَعَثْتُ مُقَدِّمَتِي وَ أَمَرْتُهُمْ بِلُزُومِ هَذَا الْمِلْطَاطِ حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرِي وَ قَدْ رَأَيْتُ أَنْ أَقْطَعَ هَذِهِ النُّطْفَةَ إِلَى شِرْذِمَةٍ مِنْكُمْ مُوَطِّنِينَ أَكْنَافَ دَجْلَةَ فَأُنْهِضَهُمْ مَعَكُمْ إِلَى عَدُوِّكُمْ أَجْعَلَهُمْ مِنْ أَمْدَادِ الْقُوَّةِ لَكُمْ قال السيد الشريف: يَعْنى عليه السلام بِالمَلْطاط هاهُنا السَمت الّذى اَمْرهم بِلُزومه وَ هُوَ شاطى الفرات، وَ يُقال ذلِك اَيضا لِشاطى الْبَحر، وَ اصلهُ ما اسْتَوى مِن الارْض، وَ يَعْنى بِالنطفة ماء الْفُرات ، وَ هُوَ مِنْ غَريبُ الْعِبارت وَ عَجيبُها.

    جب شام روانہ ہوئے تو فرمایا اللہ کیلئے حمد و ثنا ہے جب بھی رات آئے اور اندھیرا پھیلے اور اللہ کیلئے تعریف و توصیف ہے جب بھی ستارہ نکلے اور ڈوبے اور اس اللہ کیلئے مدح و ستائش ہے کہ جس کے انعامات کبھی ختم نہیں ہوتے اور جس کے احسانات کا بدلہ اتارا نہیں جا سکتا۔ (آگاہ رہو کہ) میں نے فوج کا ہر اول دستہ آگے بھیج دیا ہے اور اسے حکم دیا ہے کہ میرا فرمان پہنچنے تک اس دریا کے کنارے پڑاؤ ڈالے رہے اور میرا ارادہ ہے کہ اس پانی کو عبور کر کے اس چھوٹے سے گروہ کے پاس پہنچ جاؤں جو اطراف دجلہ (مدائن) میں آباد ہے اور اسے بھی تمہارے ساتھ دشمنوں کے مقابلہ میں کھڑا کروں اور انہیں تمہاری کمک کیلئے ذخیرہ بناؤں۔ [۱] علامہ رضیؒ کہتے ہیں کہ: امیر المومنین علیہ السلام نے اس مقام پر «الْمِلْطَاطِ» سے وہ سمت مراد لی ہے جہاں انہیں ٹھہرنے کا حکم دیا تھا اور وہ سمت کنارہ فرات ہے اور ’’ملطاط‘‘ کنارۂ دریا کو کہا جاتا ہے۔ اگرچہ اس کے اصل معنی ہموار زمین کے ہیں۔ اور «النُّطْفَةِ» (صاف و شفاف پانی) سے آپؑ کی مراد آبِ فرات ہے اور یہ عجیب و غریب تعبیرات میں سے ہے۔

  49. خطبہ 49- اللہ کی عظمت و بزرگی کے بارے میں فرمایا

    49

    الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي بَطَنَ خَفِيَّاتِ الْأَمُوُرِ وَ دَلَّتْ عَلَيْهِ أَعْلَامُ الظُّهُورِ وَ امْتَنَعَ عَلَى عَيْنِ الْبَصِيرِ فَلَا عَيْنُ مَنْ لَمْ يَرَهُ تُنْكِرُهُ وَ لَا قَلْبُ مَنْ أَثْبَتَهُ يُبْصِرُهُ سَبَقَ فِي الْعُلُوِّ فَلَا شَيْ‏ءَ أَعْلَى مِنْهُ وَ قَرُبَ فِي الدُّنُوِّ فَلَا شَيْ‏ءَ أَقْرَبُ مِنْهُ فَلَا اسْتِعْلَاؤُهُ بَاعَدَهُ عَنْ شَيْ‏ءٍ مِنْ خَلْقِهِ وَ لَا قُرْبُهُ سَاوَاهُمْ فِي الْمَكَانِ بِهِ لَمْ يُطْلِعِ الْعُقُولَ عَلَى تَحْدِيدِ صِفَتِهِ وَ لَمْ يَحْجُبْهَا عَنْ وَاجِبِ مَعْرِفَتِهِ فَهُوَ الَّذِي تَشْهَدُ لَهُ أَعْلَامُ الْوُجُودِ عَلَى إِقْرَارِ قَلْبِ ذِي الْجُحُودِ تَعَالَى اللَّهُ عَمَّا يَقُولُهُ الْمُشَبِّهُونَ بِهِ وَ الْجَاحِدُونَ لَهُ عُلُوّاً كَبِيراً

    تمام حمد اس اللہ کیلئے ہے جو چھپی ہوئی چیزوں کی گہرائیوں میں اُترا ہوا ہے۔ اس کے ظاہر و ہویدا ہونے کی نشانیاں اس کے وجود کا پتہ دیتی ہیں۔ گو دیکھنے والے کی آنکھ سے وہ نظر نہیں آتا، پھر بھی نہ دیکھنے والی آنکھ اس کا انکار نہیں کر سکتی اور جس نے اس کا اقرار کیا اس کا دل اس کی حقیقت کو نہیں پا سکتا۔ وہ اتنا بلند و برتر ہے کہ کوئی چیز اس سے بلند تر نہیں ہو سکتی اور اتنا قریب سے قریب تر ہے کہ کوئی شے اس سے قریب تر نہیں ہے۔ اور نہ اس کی بلندی نے اسے مخلوقات سے دور کر دیا ہے اور نہ اس کے قرب نے اسے دوسروں کی سطح پر لا کر ان کے برابر کر دیا ہے۔ اس نے عقلوں کو اپنی صفتوں کی حد و نہایت پر مطلع نہیں کیا اور ضروری مقدار میں معرفت حاصل کرنے کیلئے ان کے آگے پردے بھی حائل نہیں کئے۔ وہ ذات ایسی ہے کہ جس کے وجود کے نشانات اس طرح اس کی شہادت دیتے ہیں کہ (زبان سے) انکار کرنے والے کا دل بھی اقرار کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اللہ ان لوگوں کی باتوں سے بہت بلند و برتر ہے جو مخلوقات سے اس کی تشبیہ دیتے ہیں اور اس کے وجود کا انکار کرتے ہیں۔

  50. خطبہ 50- حق و باطل کی آمیزش کے نتائج

    50

    إِنَّمَا بَدْءُ وُقُوعِ الْفِتَنِ أَهْوَاءٌ تُتَّبَعُ وَ أَحْكَامٌ تُبْتَدَعُ يُخَالَفُ فِيهَا كِتَابُ اللَّهِ وَ يَتَوَلَّى عَلَيْهَا رِجَالٌ رِجَالًا عَلَى غَيْرِ دِينِ اللَّهِ فَلَوْ أَنَّ الْبَاطِلَ خَلَصَ مِنْ مِزَاجِ الْحَقِّ لَمْ يَخْفَ عَلَى الْمُرْتَادِينَ وَ لَوْ أَنَّ الْحَقَّ خَلَصَ مِنْ لَبْسِ الْبَاطِلِ انْقَطَعَتْ عَنْهُ أَلْسُنُ الْمُعَانِدِينَ وَ لَكِنْ يُؤْخَذُ مِنْ هَذَا ضِغْثٌ وَ مِنْ هَذَا ضِغْثٌ فَيُمْزَجَانِ فَهُنَالِكَ يَسْتَوْلِي الشَّيْطَانُ عَلَى أَوْلِيَائِهِ وَ يَنْجُو الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَ اللَّهِ الْحُسْنى.

    فتنوں کے وقوع کا آغاز وہ نفسانی خواہشیں ہوتی ہیں جن کی پیروی کی جاتی ہے اور وہ نئے ایجاد کردہ احکام کہ جن میں قرآن کی مخالفت کی جاتی ہے اور جنہیں فروغ دینے کیلئے کچھ لوگ دین الٰہی کے خلاف باہم ایک دوسرے کے مدد گار ہو جاتے ہیں۔ تو اگر باطل حق کی آمیزش سے خالی ہوتا تو وہ ڈھونڈنے والوں سے پوشیدہ نہ رہتا اور اگر حق باطل کے شائبہ سے پاک و صاف سامنے آتا تو عناد رکھنے والی زبانیں بھی بند ہو جاتیں، لیکن ہوتا یہ ہے کہ کچھ ادھر سے لیا جاتا ہے اور کچھ ادھر سے اور دونوں کو آپس میں خلط ملط کر دیا جاتا ہے۔ اس موقعہ پر شیطان اپنے دوستوں پر چھا جاتا ہے اور صرف وہی لوگ بچے رہتے ہیں جن کیلئے توفیق الٰہی اور عنایت خداوندی پہلے سے موجود ہو۔

  51. خطبہ 51- جب شامیوں نے آپؑ کے ساتھیوں پر پانی بند کر دیا تو فرمایا

    51

    قَدِ اسْتَطْعَمُوكُمُ الْقِتَالَ فَأَقِرُّوا عَلَى مَذَلَّةٍ وَ تَأْخِيرِ مَحَلَّةٍ أَوْ رَوُّوا السُّيُوفَ مِنَ الدِّمَاءِ تَرْوَوْا مِنَ الْمَاءِ فَالْمَوْتُ فِي حَيَاتِكُمْ مَقْهُورِينَ وَ الْحَيَاةُ فِي مَوْتِكُمْ قَاهِرِينَ أَلَا وَ إِنَّ مُعَاوِيَةَ قَادَ لُمَةً مِنَ الْغُوَاةِ وَ عَمَسَ عَلَيْهِمُ الْخَبَرَ حَتَّى جَعَلُوا نُحُورَهُمْ أَغْرَاضَ الْمَنِيَّةِ

    جب صفین میں معاویہ کے ساتھیوں نے امیرالمومنین علیہ السلام کے اصحاب پر غلبہ پا کر فرات کے گھاٹ پر قبضہ جما لیا اور پانی لینے سے مانع ہوئے تو آپؑ نے فرمایا: وہ تم سے جنگ کے لقمے طلب کرتے ہیں۔ تو اب یا تو تم ذلت اور اپنے مقام کی پستی و حقارت پر سرِ تسلیم خم کر دو، یا تلواروں کی پیاس خون سے بجھا کر اپنی پیاس پانی سے بجھاؤ۔ تمہارا ان سے دب جانا جیتے جی موت ہے اور غالب آ کر مرنا بھی جینے کے برابر ہے۔ معاویہ گم کردہ راہ سر پھروں کا ایک چھوٹا سا جتھا لئے پھرتا ہے اور واقعات سے انہیں اندھیرے میں رکھ چھوڑا ہے۔ یہاں تک کہ انہوں نے اپنے سینوں کو موت (کے تیروں) کا ہدف بنا لیا ہے۔

  52. خطبہ 52- دنیا کے زوال وفنا اور آخرت کے ثواب و عتاب کے متعلق فرمایا

    52

    أَلَا وَ إِنَّ الدُّنْيَا قَدْ تَصَرَّمَتْ وَ آذَنَتْ بِانْقِضَاءٍ وَ تَنَكَّرَ مَعْرُوفُهَا وَ أَدْبَرَتْ حَذَّاءَ فَهِيَ تَحْفِزُ بِالْفَنَاءِ سُكَّانَهَا وَ تَحْدُو بِالْمَوْتِ جِيرَانَهَا وَ قَدْ أَمَرَّ مِنْهَا مَا كَانَ حُلْواً وَ كَدِرَ مِنْهَا مَا كَانَ صَفْواً فَلَمْ يَبْقَ مِنْهَا إِلَّا سَمَلَةٌ كَسَمَلَةِ الْإِدَاوَةِ أَوْ جُرْعَةٌ كَجُرْعَةِ الْمَقْلَةِ لَوْ تَمَزَّزَهَا الصَّدْيَانُ لَمْ يَنْقَعْ فَأَزْمِعُوا عِبَادَ اللَّهِ الرَّحِيلَ عَنْ هَذِهِ الدَّارِ الْمَقْدُورِ عَلَى أَهْلِهَا الزَّوَالُ وَ لَا يَغْلِبَنَّكُمْ فِيهَا الْأَمَلُ وَ لَا يَطُولَنَّ عَلَيْكُمْ الْأَمَدُ فَوَاللَّهِ لَوْ حَنَنْتُمْ حَنِينَ الْوُلَّهِ الْعِجَالِ وَ دَعَوْتُمْ بِهَدِيلِ الْحَمَامِ وَ جَأَرْتُمْ جُؤَارَ مُتَبَتِّلِي الرُّهْبَانِ وَ خَرَجْتُمْ إِلَى اللَّهِ مِنَ الْأَمْوَالِ وَ الْأَوْلَادِ الْتِمَاسَ الْقُرْبَةِ إِلَيْهِ فِي ارْتِفَاعِ دَرَجَةٍ عِنْدَهُ أَوْ غُفْرَانِ سَيِّئَةٍ أَحْصَتْهَا كُتُبُهُ وَ حَفِظَتْهَا رُسُلُهُ لَكَانَ قَلِيلًا فِيمَا أَرْجُو لَكُمْ مِنْ ثَوَابِهِ وَ أَخَافُ عَلَيْكُمْ مِنْ عِقَابِهِ وَ اللَّهِ لَوِ انْمَاثَتْ قُلُوبُكُمُ انْمِيَاثاً وَ سَالَتْ عُيُونُكُمْ مِنْ رَغْبَةٍ إِلَيْهِ وَ رَهْبَةٍ مِنْهُ دَماً ثُمَّ عُمِّرْتُمْ فِي الدُّنْيَا مَا الدُّنْيَا بَاقِيَةٌ مَا جَزَتْ أَعْمَالُكُمْ (عَنْكُمْ) وَ لَوْ لَمْ تُبْقُوا شَيْئاً مِنْ جُهْدِكُمْ أَنْعُمَهُ عَلَيْكُمُ الْعِظَامَ وَ هُدَاهُ إِيَّاكُمْ لِلْإِيمَانِ

    دنیا اپنا دامن سمیٹ رہی ہے اور اس نے اپنے رخصت ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس کی جانی پہچانی ہوئی چیزیں اجنبی ہو گئیں اور وہ تیزی کے ساتھ پیچھے ہٹ رہی ہے اور اپنے رہنے والوں کو فنا کی طرف بڑھا رہی ہے اور اپنے پڑوس میں بسنے والوں کو موت کی طرف دھکیل رہی ہے۔ اس کے شیریں (مزے) تلخ اور صاف و شفاف (لمحے) مکدر ہو گئے ہیں۔ دنیا سے بس اتنا باقی رہ گیا ہے جتنا برتن میں تھوڑا سا بچا پانی یا نپا تلا ہوا جرعۀ آب کہ پیاسا اگر اسے پئے تو اُس کی پیاس نہ بجھے۔ خدا کے بندو! اس دارِ دنیا سے کہ جس کے رہنے والوں کیلئے زوال امر مسلّم ہے، نکلنے کا تہیہ کرو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آرزوئیں تم پر غالب آ جائیں اور اس (چند روزہ زندگی) کی مدت کو دراز سمجھ بیٹھو۔ خدا کی قسم! اگر تم اُن اونٹنیوں کی طرح فریاد کرو جو اپنے بچوں کو کھو چکی ہوں اور ان کبوتروں کی طرح نالہ و فغاں کرو (جو اپنے ساتھیوں سے الگ ہو گئے ہوں) اور اُن گوشہ نشین راہبوں کی طرح چیخو چلاؤ جو گھر بار چھوڑ چکے ہوں اور مال اور اولاد سے بھی اپنا ہاتھ اٹھا لو، اس غرض سے کہ تمہیں بارگاہِ الٰہی میں تقرب حاصل ہو درجہ کی بلندی کے ساتھ اس کے یہاں، یا ان گناہوں کے معاف ہونے کے ساتھ جو صحیفہ اعمال میں درج اور کراماً کاتبین کو یاد ہیں، تو وہ تمام بے تابی اور نالہ و فریاد اُس ثواب کے لحاظ سے جس کا میں تمہارے لئے امیدوار ہوں اور اس عقاب کے اعتبار سے جس کا مجھے تمہارے لئے خوف و اندیشہ ہے بہت ہی کم ہو گی۔ خدا کی قسم! اگر تمہارے دل بالکل پگھل جائیں اور تمہاری آنکھیں امید و بیم سے خون بہانے لگیں اور پھر رہتی دنیا تک (اسی حالت میں)جیتے بھی رہو تو بھی تمہارے اعمال اگرچہ تم نے کوئی کسر نہ اٹھا رکھی ہو، اس کی نعماتِ عظیم کی بخشش اور ایمان کی طرف راہنمائی کا بدلہ نہیں اتار سکتے۔

  53. خطبہ 53- گوسفند قربانی کے اوصاف

    53

    وَ مِنْ تَمَامِ الْاُضْحِيَّةِ اسْتِشْرَافُ اُذُنِهَا وَ سَلاَمَةُ عَيْنِهَا فَإِذَا سَلِمَتِ الْاُذُنُ وَ الْعَيْنُ سَلِمَتِ الْاُضْحِيَّةُ وَ تَمَّتْ وَ لَوْ كَانَتْ عَضْبَاءَ الْقَرْنِ تَجُرُّ رِجْلَهَا إِلَى الْمَنْسَكِ. قال السيد الشريف: وَالمَنْسك هاهُنا المذبح .

    اس میں عید قربان اور ان صفتوں کا ذکر کیا ہے جو گوسفند قربانی میں ہونا چاہئیں قربانی کے جانور کا مکمل ہونا یہ ہے کہ اس کے کان اُٹھے ہوئے ہوں (یعنی کٹے ہوئے نہ ہوں) اور اس کی آنکھیں صحیح و سالم ہوں۔ اگر کان اور آنکھیں سالم ہیں تو قربانی بھی سالم اور ہر طرح سے مکمل ہے۔ اگرچہ اس کے سینگ ٹوٹے ہوئے ہوں اور ذبح کی جگہ تک اپنے پیر کو گھسیٹ کر پہنچے۔ علامہ رضیؒ فرماتے ہیں: اس خطبہ میں «الْمَنْسَكُ» سے مراد ذبح کی جگہ ہے۔

  54. خطبہ 54- آپؑ کے ہاتھ پر بیعت کرنے والوں کا ہجوم

    54

    فَتَدَاكُّوا عَلَيَّ تَدَاكَّ الْإِبِلِ الْهِيمِ يَوْمَ وِرْدِهَا قَدْ أَرْسَلَهَا رَاعِيهَا وَ خُلِعَتْ مَثَانِيهَا حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُمْ قَاتِلِيَّ أَوْ بَعْضَهُمْ قَاتِلُ بَعْضٍ لَدَيَّ وَ قَدْ قَلَّبْتُ هَذَا الْأَمْرَ بَطْنَهُ وَ ظَهْرَهُ حَتَّى مَنَعَنِي النَّوْمَ فَمَا وَجَدْتُنِي يَسَعُنِي إِلَّا قِتَالُهُمْ أَوِ الْجُحُودُ بِمَا جَاءَ بِهِ مُحَمَّدٌ (ص) فَكَانَتْ مُعَالَجَةُ الْقِتَالِ أَهْوَنَ عَلَيَّ مِنْ مُعَالَجَةِ الْعِقَابِ وَ مَوْتَاتُ الدُّنْيَا أَهْوَنَ عَلَيَّ مِنْ مَوْتَاتِ الْآخِرَةِ.

    وہ اس طرح بے تحاشا میری طرف لپکے جس طرح پانی پینے کے دن وہ اونٹ ایک دوسرے پر ٹوٹتے ہیں کہ جنہیں ان کے ساربان نے پیروں کے بندھن کھول کر کھلا چھوڑ دیا ہو۔ یہاں تک کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ یا تو مجھے مار ڈالیں گے، یا میرے سامنے ان میں سے کوئی کسی کا خون کر دے گا۔ میں نے اس امر کو اندر باہر سے الٹ پلٹ کر دیکھا تو مجھے جنگ کے علاوہ کوئی صورت نظر نہ آئی، یا یہ کہ محمد ﷺ کے لائے ہوئے احکام سے انکار کر دوں، لیکن آخرت کی سختیاں جھیلنے سے مجھے جنگ کی سختیاں جھیلنا سہل نظر آیا اور آخرت کی تباہیوں سے دنیا کی ہلاکتیں میرے لئے آسان نظر آئیں۔

  55. خطبہ 55- میدان صفین میں جہاد میں تاخیر پر اعتراض ہوا تو فرمایا

    55

    أَمَّا قَوْلُكُمْ أَ كُلَّ ذَلِكَ كَرَاهِيَةَ الْمَوْتِ فَوَاللَّهِ مَا أُبَالِي دَخَلْتُ إِلَى الْمَوْتِ أَوْ خَرَجَ الْمَوْتُ إِلَيَّ وَ أَمَّا قَوْلُكُمْ شَكّاً فِي أَهْلِ الشَّامِ فَوَاللَّهِ مَا دَفَعْتُ الْحَرْبَ يَوْماً إِلَّا وَ أَنَا أَطْمَعُ أَنْ تَلْحَقَ بِي طَائِفَةٌ فَتَهْتَدِيَ بِي وَ تَعْشُوَ إِلَى ضَوْئِي وَ ذَلِكَ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَقْتُلَهَا عَلَى ضَلَالِهَا وَ إِنْ كَانَتْ تَبُوءُ بِآثَامِهَا.

    صفین میں حضرت علیہ السلام کے اصحاب نے جب اِذنِ جہاد دینے میں تاخیر پر بے چینی کا اظہار کیا، تو آپؑ نے ارشاد فرمایا: تم لوگوں کا یہ کہنا :یہ پس و پیش کیا اس لئے ہے کہ میں موت کو ناخوش جانتا ہوں اور اس سے بھاگتا ہوں، تو خدا کی قسم! مجھے ذرا پروا نہیں کہ مَیں موت کی طرف بڑھوں یا موت میری طرف بڑھے۔ اور اس طرح تم لوگوں کا یہ کہنا کہ مجھے اہل شام سے جہاد کرنے کے جواز میں کچھ شبہ ہے تو خدا کی قسم! میں نے جنگ کو ایک دن کیلئے بھی التوا میں نہیں ڈالا، مگر اس خیال سے کہ ان میں سے شاید کوئی گروہ مجھ سے آ کر مل جائے اور میری وجہ سے ہدایت پا جائے اور اپنی چندھیائی ہوئی آنکھوں سے میری روشنی کو بھی دیکھ لے اور مجھے یہ چیز گمراہی کی حالت میں انہیں قتل کر دینے سے کہیں زیادہ پسند ہے۔ اگرچہ اپنے گناہوں کے ذمہ دار بہرحال یہ خود ہوں گے۔

  56. خطبہ 56- میدان جنگ میں آپؑ کی صبر و ثبات کی حالت

    56

    وَ لَقَدْ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه واله نَقْتُلُ آبَاءَنَا وَ أَبْنَاءَنَا وَ إِخْوَانَنَا وَ أَعْمَامَنَا مَا يَزِيدُنَا ذَلِكَ إِلَّا إِيمَاناً وَ تَسْلِيماً وَ مُضِيّاً عَلَى اللَّقَمِ وَ صَبْراً عَلَى مَضَضِ الْأَلَمِ وَ جِدّاً فِي جِهَادِ الْعَدُوِّ وَ لَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ مِنَّا وَ الْآخَرُ مِنْ عَدُوِّنَا يَتَصَاوَلَانِ تَصَاوُلَ الْفَحْلَيْنِ يَتَخَالَسَانِ أَنْفُسَهُمَا أَيُّهُمَا يَسْقِي صَاحِبَهُ كَأْسَ الْمَنُونِ فَمَرَّةً لَنَا مِنْ عَدُوِّنَا وَ مَرَّةً لِعَدُوِّنَا مِنَّا فَلَمَّا رَأَى اللَّهُ صِدْقَنَا أَنْزَلَ بِعَدُوِّنَا الْكَبْتَ وَ أَنْزَلَ عَلَيْنَا النَّصْرَ حَتَّى اسْتَقَرَّ الْإِسْلَامُ مُلْقِياً جِرَانَهُ وَ مُتَبَوِّئاً أَوْطَانَهُ وَ لَعَمْرِي لَوْ كُنَّا نَأْتِي مَا أَتَيْتُمْ مَا قَامَ لِلدِّينِ عَمُودٌ وَ لَا اخْضَرَّ لِلْإِيمَانِ عُودٌ وَ ايْمُ اللَّهِ لَتَحْتَلِبُنَّهَا دَماً وَ لَتُتْبِعُنَّهَا نَدَماً

    ہم (مسلمان) رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہو کر اپنے باپ، بیٹوں، بھائیوں اور چچاؤں کو قتل کرتے تھے۔ اس سے ہمارا ایمان بڑھتا تھا، اطاعت اور راہ حق کی پیروی میں اضافہ ہوتا تھا اور کرب و الم کی سوزشوں پر صبر میں زیادتی ہوتی تھی اور دشمنوں سے جہاد کرنے کی کوششیں بڑھ جاتی تھیں۔ (جہاد کی صورت یہ تھی کہ) ہم میں کا ایک شخص اور فوجِ دشمن کا کوئی سپاہی، دونوں مَردوں کی طرح آپس میں بھڑتے تھے اور جان لینے کیلئے ایک دوسرے پر جھپٹے پڑتے تھے کہ کون اپنے حریف کو موت کا پیالہ پلاتا ہے، کبھی ہماری جیت ہوتی تھی اور کبھی ہمارے دشمن کی۔ چنانچہ جب خداوند عالم نے ہماری (نیتوں کی) سچائی دیکھ لی تو اس نے ہمارے دشمنوں کو رسوا و ذلیل کیا اور ہماری نصرت و تائید فرمائی، یہاں تک کہ اسلام سینہ ٹیک کر اپنی جگہ پر جم گیا اور اپنی منزل پر برقرار ہو گیا۔ خدا کی قسم! اگر ہم بھی تمہاری طرح کرتے تو نہ کبھی دین کا ستون گڑتا اور نہ ایمان کا تنا برگ و بار لاتا۔ خدا کی قسم! تم اپنے کئے کے بدلے میں (دودھ کے بجائے) خون دوہو گے اور آخر تمہیں ندامت و شرمندگی اٹھانا پڑے گی۔

  57. خطبہ 57- معاویہ کے بارے میں فرمایا

    57

    أَمَّا إِنَّهُ سَيَظْهَرُ عَلَيْكُمْ بَعْدِي رَجُلٌ رَحْبُ الْبُلْعُومِ مُنْدَحِقُ الْبَطْنِ يَأْكُلُ مَا يَجِدُ وَ يَطْلُبُ مَا لَا يَجِدُ فَاقْتُلُوهُ وَ لَنْ تَقْتُلُوهُ أَلَا وَ إِنَّهُ سَيَأْمُرُكُمْ بِسَبِّي وَ الْبَرَاءَةِ مِنِّي فَأَمَّا السَّبُّ فَسُبُّونِي فَإِنَّهُ لِي زَكَاةٌ وَ لَكُمْ نَجَاةٌ وَ أَمَّا الْبَرَاءَةُ فَلَا تَتَبَرَّءُوا مِنِّي فَإِنِّي وُلِدْتُ عَلَى الْفِطْرَةِ وَ سَبَقْتُ إِلَى الْإِيمَانِ وَ الْهِجْرَةِ.

    اپنے اصحاب سے فرمایا میرے بعد جلد ہی تم پر ایک ایسا شخص [۱] مسلط ہو گا جس کا حلق کشادہ اور پیٹ بڑا ہو گا، جو پائے گا اُسے نگل جائے گا اور جو نہ پائے گا اس کی اسے ڈھونڈ لگی رہے گی۔ (بہتر تو یہ ہے کہ) تم اسے قتل کر ڈالنا، لیکن یہ معلوم ہے کہ تم اسے ہرگز قتل نہ کرو گے۔ وہ تمہیں حکم دے گا کہ مجھے بُرا کہو اور مجھ سے بیزاری کا اظہار کرو۔ جہاں تک بُرا کہنے کا تعلق ہے، مجھے بُرا کہہ لینا۔ اس لئے کہ یہ میرے لئے پاکیزگی کا سبب اور تمہارے لئے (دشمنوں سے) نجات پانے کا باعث ہے۔ لیکن (دل سے ) بیزاری اختیار نہ کرنا اس لئے کہ مَیں (دین) فطرت پر پیدا ہوا ہوں اور ایمان و ہجرت میں سابق ہوں۔

  58. خطبہ 58- خوارج کےبارے میں آپؑ کی پیشینگوئی

    58

    أَصَابَكُمْ حَاصِبٌ وَ لَا بَقِيَ مِنْكُمْ ابِرٌأَ أَ بَعْدَ إِيمَانِي بِاللَّهِ وَ جِهَادِي‏ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه واله أَشْهَدُ عَلَى نَفْسِي بِالْكُفْرِ لَقَدْ ضَلَلْتُ إِذاً وَ ما أَنَا مِنَ الْمُهْتَدِينَ فَأُوبُوا شَرَّ مَآبٍ وَ ارْجِعُوا عَلَى أَثَرِ الْأَعْقَابِ أَمَا إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي ذُلًّا شَامِلًا وَ سَيْفاً قَاطِعاً وَ أَثَرَةً يَتَّخِذُهَا الظَّالِمُونَ فِيكُمْ سُنَّةً. قال السيد الشريف: قَوْله (ع) : «وَ لا بَقي مِنْكم آبر» يَروى عَلى ثَلاثة اوجه : احدها اَن يَكُون كَما ذَكَرناه آبر بالراء مِنْ قَوْلَهُمْ: للذى يابر النَخْلِ اى : يَصْلِحه ، وَ يَرْوى آثَر و هو بالثاء بثلاث نقط، يراد به الذي ياثُر الْحديث اى : يُرويه وَ يحكيه وَ هُوَ اَصْح الْوجوه عِندي كَاَنَّه (ع) قالَ: لا بَقي مِنْكُم مُخْبِر وَ يَرْوى : آبز بالزاي الْمُعجمة وَ هُو الواثب وَالهالِك ايضا يُقالَ لَهُ: آبز

    آپؑ کا کلام خوارج کو مخاطب فرماتے ہوئے تم پر سخت آندھیاں آئیں اور تم میں کوئی اصلاح کرنے والا باقی نہ رہے! کیا میں اللہ پر ایمان لانے اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہو کر جہاد کرنے کے بعد اپنے اوپر کفر کی گواہی دے سکتا ہوں؟ پھر تو میں گمراہ ہو گیا اور ہدایت یافتہ لوگوں میں سے نہ رہا۔ تم اپنے (پرانے) بدترین ٹھکانوں کی طرف لوٹ جاؤ اور اپنی ایڑیوں کے نشانوں پر پیچھے کی طرف پلٹ جاؤ۔ یاد رکھو کہ تمہیں میرے بعد چھا جانے والی ذلّت اور کاٹنے والی تلوار سے دو چار ہونا ہے اور ظالموں کے اس وتیرے سے سابقہ پڑنا ہے کہ وہ تمہیں محروم کر کے ہر چیز اپنے لئے مخصوص کر لیں۔ [۱] علامہ رضیؒ فرماتے ہیں کہ: حضرتؑ کے اس ارشاد: «وَ لَا بَقِیَ مِنْكُمْ اٰبِرٌ» (تم میں کوئی اصلاح کرنے والا نہ رہے) میں لفظ «اٰبِرٌ» ’’ب‘‘ اور ’’ر‘‘ کے ساتھ روایت ہوا ہے اور یہ عربوں کے قول: «رَجُلٌ اٰبِرٌ» سے لیا گیا ہے جس کے معنی خرما کے درختوں کے چھانٹنے والے اور ان کی اصلاح کرنے والے کے ہیں۔ اور ایک روایت میں «اٰثِرٌ» ہے اور اس کے معنی خبر دینے والے اور اقوال نقل کرنے والے کے ہیں۔ میرے نزدیک یہی روایت زیادہ صحیح ہے۔ گویا حضرتؑ یہ فرمانا چاہتے ہیں کہ: ’’تم میں کوئی خبر دینے والا نہ بچے‘‘۔ اور ایک روایت میں «اٰبِزٌ» زائے معجمہ کے ساتھ آیا ہے جس کے معنی کودنے والے کے ہیں اور ہلاک ہونے والے کو بھی ’’آبز‘‘ کہا جاتا ہے۔

  59. خطبہ 59- خوارج کی ہزیمت کے متعلق آپؑ کی پیشینگوئی

    59

    مَصَارِعُهُمْ دُونَ النُّطْفَةِ وَ اللَّهِ لاَ يُفْلِتُ مِنْهُمْ عَشَرَةٌ وَ لاَ يَهْلِكُ مِنْكُمْ عَشَرَةٌ. قال السيد الشريف: يَعْني بِالنطفة ماء النَهْر وَ هِي اَفْصَحُ كِنايَة عَن الماءِ وَ إنْ كانَ كثيرا جَما.

    جب [۱] آپؑ نے خوارج سے جنگ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تو آپؑ سے کہا گیا کہ: وہ نہر وان کا پل عبور کر کے ادھر جا چکے ہیں، تو آپؑ نے فرمایا: ان کے گرنے کی جگہ تو پانی کے اسی طرف ہے۔ خدا کی قسم! ان میں سے دس بھی بچ کر نہ جا سکیں گے اور تم میں سے دس بھی ہلاک نہ ہوں گے۔ سیّد رضیؒ فرماتے ہیں کہ: اس خطبہ میں ’’نطفہ‘‘ سے مراد نہر (فرات) کا پانی ہے اور پانی کیلئے یہ بہترین کنایہ ہے، چاہے پانی زیادہ بھی ہو۔ جب خوارج مارے گئے تو آپؑ سے کہا گیا کہ: وہ لوگ سب کے سب ہلاک ہو گئے۔ آپؑ نے فرمایا: ہرگز نہیں! ابھی تو وہ مردوں کی صلبوں اور عورتوں کے شکموں میں موجود ہیں [۲] ۔ جب بھی ان میں کوئی سردار ظاہر ہو گا تو اسے کاٹ کر رکھ دیا جائے گا، یہاں تک کہ ان کی آخری فردیں چور اور ڈاکو ہو کر رہ جائیں گی۔ انہی خوارج کے متعلق فرمایا: میرے بعد خوارج کو قتل نہ کرنا! [۳] اس لئے کہ جو حق کا طالب ہو اور اسے نہ پا سکے وہ ویسا نہیں ہے کہ جو باطل ہی کی طلب میں ہو اور پھر اُسے پا بھی لے۔ سیّد رضیؒ کہتے ہیں کہ: اس سے مراد معاویہ اور اس کے ساتھی ہیں۔

  60. خطبہ 60- جب اچانک قتل کر دیے جانے سے ڈرایا گیا تو آپؑ نے فرمایا

    60

    كَلَّا وَ اللَّهِ؛ إِنَّهُمْ نُطَفٌ فِي اَصْلاَبِ الرِّجَالِ وَ قَرَارَاتِ النِّسَاءِ كُلَّمَا نَجَمَ مِنْهُمْ قَرْنٌ قُطِعَ حَتَّى يَكُونَ آخِرُهُمْ لُصُوصا سَلَّابِينَ.

    جب آپؑ کو اچانک قتل کئے جانے سے خوف دلایا گیا تو آپؑ نے فرمایا مجھ پر اللہ کی ایک محکم سپر ہے۔ جب موت کا دن آئے گا تو وہ مجھے موت کے حوالے کر کے مجھ سے الگ ہو جائے گی۔ اس وقت نہ تیر خطا کرے گا اور نہ زخم بھر سکے گا۔

  61. خطبہ 61- دنیا کی بے ثباتی کا تذکرہ

    61

    لَا تَقْتُلُوا الْخَوَارِجَ بَعْدِي فَلَيْسَ مَنْ طَلَبَ الْحَقَّ فَأَخْطَأَهُ كَمَنْ طَلَبَ الْبَاطِلَ فَأَدْرَكَهُ قال السيد الشريف: يَعْني مُعاوية وَ اصحابه .

    تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ دنیا ایسا گھر ہے کہ اس (کے عواقب) سے بچاؤ کا ساز و سامان اسی میں رہ کر کیا جا سکتا ہے اور کسی ایسے کام سے جو صرف اسی دنیا کی خاطر کیا جائے نجات نہیں مل سکتی۔ لوگ اس دنیا میں آزمائش میں ڈالے گئے ہیں۔ لوگوں نے اس دنیا سے جو دنیا کیلئے حاصل کیا ہو گا اس سے الگ کر دئیے جائیں گے اور اس پر ان سے حساب لیا جائے گا اور جو اس دنیا سے آخرت کیلئے کمایا ہو گا اسے آگے پہنچ کر پا لیں گے اور اسی میں رہیں سہیں گے۔ دنیا عقلمندوں کے نزدیک ایک بڑھتا ہوا سایہ ہے، جسے ابھی بڑھا ہوا اور پھیلا ہوا دیکھ رہے تھے کہ دیکھتے ہی دیکھتے وہ گھٹ کر اور سمٹ کر رہ گیا۔

  62. خطبہ 62- دنیا کے زوال و فنا کے سلسلہ میں فرمایا

    62

    وَ إِنَّ عَلَيَّ مِنَ اللَّهِ جُنَّةً حَصِينَةً فَإِذَا جَاءَ يَوْمِي انْفَرَجَتْ عَنِّي وَ أَسْلَمَتْنِي فَحِينَئِذٍ لَا يَطِيشُ السَّهْمُ وَ لَا يَبْرَأُ الْكَلْمُ.

    اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو اور موت سے پہلے اپنے اعمال کا ذخیرہ فراہم کر لو، اور دنیا کی فانی چیزیں دے کر باقی رہنے والی چیزیں خرید لو۔ چلنے کا سامان کرو کیونکہ تمہیں تیزی سے لے جایا جا رہا ہے اور موت کیلئے آمادہ ہو جاؤ کہ وہ تمہارے سروں پر منڈلا رہی ہے۔ تمہیں ایسے لوگ ہونا چاہیے جنہیں پکارا گیا تو وہ جاگ اٹھے اور یہ جان لینے پر کہ دنیا ان کا گھر نہیں ہے، اسے (آخرت سے) بدل لیا ہو۔ اس لئے کہ اللہ نے تمہیں بیکار پیدا نہیں کیا اور نہ اس نے تمہیں بے قید و بند چھوڑ دیا ہے۔ موت تمہاری راہ میں حائل ہے۔ اس کے آتے ہی تمہارے لئے جنت ہے یا دوزخ ہے۔ وہ مدتِ حیات جسے ہر گزرنے والا لحظہ کم کر رہا ہو اور ہر ساعت اس کی عمارت کو ڈھا رہی ہو، کم ہی سمجھی جانے کے لائق ہے اور وہ مسافر جسے ہر نیا دن اور ہر نئی رات (لگاتار) کھینچے لئے جا رہے ہوں، اس کا منزل تک پہنچنا جلد ہی سمجھنا چاہیے اور وہ عازمِ سفر جس کے سامنے ہمیشہ کی کامرانی یا ناکامی کا سوال ہے، اس کو اچھے سے اچھا زاد مہیا کرنے کی ضرورت ہے۔ لہٰذا اس دنیا میں رہتے ہوئے اس سے اتنا توشۂ آخرت لے لو جس کے ذریعہ کل اپنے نفسوں کو بچا سکو جس کی صورت یہ ہے کہ بندہ اپنے اللہ سے ڈرے۔ اپنے نفس کے ساتھ خیرخواہی کرے، (مرنے سے پہلے) توبہ کرے اپنی خواہشوں پر قابو رکھے، چونکہ موت اس کی نگاہ سے اوجھل ہے اور امیدیں فریب دینے والی ہیں اور شیطان اس پر چھایا ہوا ہے، جو گناہوں کو سجا کر اس کے سامنے لاتا ہے کہ وہ اس میں مبتلا ہو اور توبہ کی ڈھارس بندھاتا رہتا ہے کہ وہ اسے تعویق میں ڈالتا رہے۔ یہاں تک کہ موت غفلت و بیخبری کی حالت میں اس پر اچانک ٹوٹ پڑتی ہے۔ وا حسرتا! کہ اس غافل و بے خبر کی مدت حیات ہی اس کے خلاف ایک حجت بن جائے اور اس کی زندگی کا انجام بد بختی کی صورت میں ہو۔ ہم اللہ سُبحانہ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اور تمہیں ایسا کر دے کہ (دنیا کی) نعمتیں سرکش و متمرد نہ بنا سکیں اور کسی منزل پر اطاعت ِپروردگار سے درماندہ و عاجز نہ ہوں اور مرنے کے بعد نہ شرمساری اٹھانا پڑے اور نہ رنج و غم سہنا پڑے۔

  63. خطبہ 63- صفات باری کا تذکرہ

    63

    أَلَا وَ إِنَّ الدُّنْيَا دَارٌ لَا يُسْلَمُ مِنْهَا إِلَّا فِيهَا وَ لَا يُنْجَى بِشَيْ‏ءٍ كَانَ لَهَا ابْتُلِيَ النَّاسُ بِهَا فِتْنَةً فَمَا أَخَذُوهُ مِنْهَا لَهَا أُخْرِجُوا مِنْهُ وَ حُوسِبُوا عَلَيْهِ وَ مَا أَخَذُوهُ مِنْهَا لِغَيْرِهَا قَدِمُوا عَلَيْهِ وَ أَقَامُوا فِيهِ فَإِنَّهَا عِنْدَ ذَوِي الْعُقُولِ كَفَيْ‏ءِ الظِّلِّ بَيْنَا تَرَاهُ سَابِغاً حَتَّى قَلَصَ وَ زَائِداً حَتَّى نَقَصَ.

    تمام حمد اس اللہ کیلئے ہے کہ جس کی ایک صفت سے دوسری صفت کو تقدم نہیں کہ وہ آخر ہونے سے پہلے اوّل اور ظاہر ہونے سے پہلے باطن رہا ہو۔ اللہ کے علاوہ جسے بھی ایک کہا جائے گا، وہ قلت و کمی میں ہو گا۔ اس کے سوا ہر با عزت ذلیل اور ہر قوی کمزور و عاجز اور ہر مالک مملوک اور ہر جاننے والا سیکھنے والے کی منزل میں ہے۔ اس کے علاوہ ہر قدرت و تسلط والا کبھی قادر ہوتا ہے اور کبھی عاجز اور اس کے علاوہ ہر سننے والا خفیف آوازوں کے سننے سے قاصر ہوتا ہے اور بڑی آوازیں (اپنی گونج سے) اسے بہرا کر دیتی ہیں اور دور کی آوازیں اس تک پہنچتی نہیں ہیں اور اس کے ماسوا ہر دیکھنے والا مخفی رنگوں اور لطیف جسموں کے دیکھنے سے نابینا ہوتا ہے۔ کوئی ظاہر اس کے علاوہ باطن نہیں ہو سکتا اور کوئی باطن اس کے سوا ظاہر نہیں ہو سکتا۔ اس نے اپنی کسی مخلوق کو اس لئے پیدا نہیں کیا کہ وہ اپنے اقتدار کی بنیادوں کو مستحکم کرے یا زمانے کے عواقب و نتائج سے اسے کوئی خطرہ تھا یا کسی برابر والے کے حملہ آور ہونے یا کثرت پر اترانے والے شریک یا بلندی میں ٹکرانے والے مد مقابل کے خلاف اسے مدد حاصل کرنا تھی، بلکہ یہ ساری مخلوق اسی کے قبضے میں ہے اور سب اس کے عاجز و ناتواں بندے ہیں۔ وہ دوسری چیزوں میں سمایا ہوا نہیں ہے کہ یہ کہا جائے کہ وہ ان کے اندر ہے اور نہ ان چیزوں سے دور ہے کہ یہ کہا جائے کہ وہ ان چیزوں سے الگ ہے۔ ایجادِ خلق اور تدبیر ِعالم نے اسے خستہ و درماندہ نہیں کیا اور نہ (حسب منشا) چیزوں کے پیدا کرنے سے عجز اسے دامن گیر ہوا ہے اور نہ اسے اپنے فیصلوں اور اندازوں میں شبہ لاحق ہوا ہے، بلکہ اس کے فیصلے مضبوط، علم محکم اور احکام قطعی ہیں۔ مصیبت کے وقت بھی اسی کی آس رہتی ہے اور نعمت کے وقت بھی اس کا ڈر لگا رہتا ہے۔

  64. خطبہ 64- جنگ صفین میں تعلیم حرب کےسلسلے میں فرمایا

    64

    وَ اتَّقُوا اللَّهَ عِبَادَ اللَّهِ وَ بَادِرُوا آجَالَكُمْ بِأَعْمَالِكُمْ وَ ابْتَاعُوا مَا يَبْقَى لَكُمْ بِمَا يَزُولُ عَنْكُمْ وَ تَرَحَّلُوا فَقَدْ جُدَّ بِكُمْ وَ اسْتَعِدُّوا لِلْمَوْتِ فَقَدْ أَظَلَّكُمْ وَ كُونُوا قَوْماً صِيحَ بِهِمْ فَانْتَبَهُوا وَ عَلِمُوا أَنَّ الدُّنْيَا لَيْسَتْ لَهُمْ بِدَارٍ فَاسْتَبْدَلُوا فَإِنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ لَمْ يَخْلُقْكُمْ عَبَثاً وَ لَمْ يَتْرُكْكُمْ سُدًى وَ مَا بَيْنَ أَحَدِكُمْ وَ بَيْنَ الْجَنَّةِ أَوِ النَّارِ إِلَّا الْمَوْتُ أَنْ يَنْزِلَ بِهِ وَ إِنَّ غَايَةً تَنْقُصُهَا اللَّحْظَةُ وَ تَهْدِمُهَا السَّاعَةُ لَجَدِيرَةٌ بِقَصْرِ الْمُدَّةِ وَ إِنَّ غَائِباً يَحْدُوهُ الْجَدِيدَانِ‏ اللَّيْلُ وَ النَّهَارُ لَحَرِيٌّ بِسُرْعَةِ الْأَوْبَةِ وَ إِنَّ قَادِماً يَقْدَمُ بِالْفَوْزِ أَوِ الشِّقْوَةِ لَمُسْتَحِقٌّ لِأَفْضَلِ الْعُدَّةِ فَتَزَوَّدُوا فِي الدُّنْيَا مَا تَحْرُزُونَ بِهِ أَنْفُسَكُمْ غَداً فَاتَّقَى عَبْدٌ رَبَّهُ نَصَحَ نَفْسَهُ وَ قَدَّمَ تَوْبَتَهُ وَ غَلَبَ شَهْوَتَهُ فَإِنَّ أَجَلَهُ مَسْتُورٌ عَنْهُ وَ أَمَلَهُ خَادِعٌ لَهُ وَ الشَّيْطَانَ مُوَكَّلٌ بِهِ يُزَيِّنُ لَهُ الْمَعْصِيَةَ لِيَرْكَبَهَا وَ يُمَنِّيهِ التَّوْبَةَ لِيُسَوِّفَهَا حَتَّى تَهْجُمَ مَنِيَّتُهُ عَلَيْهِ أَغْفَلَ مَا يَكُونُ عَنْهَا فَيَا لَهَا حَسْرَةً عَلَى ذِي غَفْلَةٍ أَنْ يَكُونَ عُمُرُهُ عَلَيْهِ حُجَّةً وَ أَنْ تُؤَدِّيَهُ أَيَّامُهُ إِلَى شِقْوَةٍ نَسْأَلُ اللَّهَ سُبْحَانَهُ أَنْ يَجْعَلَنَا وَ إِيَّاكُمْ مِمَّنْ لَا تُبْطِرُهُ نِعْمَةٌ وَ لَا تُقَصِّرُ بِهِ عَنْ طَاعَةِ رَبِّهِ غَايَةٌ وَ لَا تَحِلُّ بِهِ بَعْدَ الْمَوْتِ نَدَامَةٌ وَ لَا كَآبَةٌ.

    صفین کے دنوں میں اپنے اصحاب سے فرمایا کرتے تھے اے گروهِ مسلمین! خوفِ خدا کو اپنا شعار بناؤ، اطمینان و وقار کی چادر اوڑھ لو اور اپنے دانتوں کو بھینچ لو۔ اس سے تلواریں سروں سے اُچٹ جایا کرتی ہیں۔ زرّہ کی تکمیل کرو (یعنی اس کے ساتھ خود، جوشن بھی پہن لو) اور تلواروں کو کھینچنے سے پہلے نیاموں میں اچھی طرح ہلا جلا لو اور دشمن کو ترچھی نظروں سے دیکھتے رہو اور دائیں بائیں (دونوں طرف) نیزوں کے وار کرو اور دشمن کو تلواروں کی باڑ پر رکھ لو اور تلواروں کے ساتھ ساتھ قدموں کو آگے بڑھاؤ اور یقین رکھو کہ تم اللہ کے رُو بُرو اور رسول ﷺ کے چچا زاد بھائی کے ساتھ ہو۔ بار بار حملہ کرو اور بھاگنے سے شرم کرو۔ اس لئے کہ یہ پشتوں تک کیلئے ننگ و عار اور روزِ محشر جہنم کی آگ کا باعث ہے۔ خوشی سے اپنی جانیں اللہ کو دے دو اور پُر اطمینان رفتار سے موت کی جانب پیش قدمی کرو اور (شامیوں کی) اس بڑی جماعت اور طنابوں سے کھنچے ہوئے خیمے کو اپنے پیشِ نظر رکھو اور اس کے وسط پر حملہ کرو۔ اس لئے کہ شیطان اسی کے ایک گوشے میں چھپا بیٹھا ہے، جس نے ایک طرف تو حملے کیلئے ہاتھ بڑھایا ہوا ہے اور دوسری طرف بھاگنے کیلئے قدم پیچھے ہٹا رکھا ہے۔ تم مضبوطی سے اپنے ارادے پر جمے رہو، یہاں تک کہ حق (صبح کے) اجالے کی طرح ظاہر ہو جائے۔ (نتیجہ میں) تم ہی غالب ہو اور خدا تمہارے ساتھ ہے، وہ تمہارے اعمال کو ضائع و برباد نہیں ہونے دے گا۔

  65. خطبہ 65- سقیفہ بنی ساعدہ کی کاروائی سننے کے بعد فرمایا

    65

    الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ تَسْبِقْ لَهُ حَالٌ حَالًا فَيَكُونَ أَوَّلًا قَبْلَ أَنْ يَكُونَ آخِراً وَ يَكُونَ ظَاهِراً قَبْلَ أَنْ يَكُونَ بَاطِناً كُلُّ مُسَمًّى بِالْوَحْدَةِ غَيْرُهُ قَلِيلٌ وَ كُلُّ عَزِيزٍ غَيْرُهُ ذَلِيلٌ وَ كُلُّ قَوِيٍّ غَيْرُهُ ضَعِيفٌ وَ كُلُّ مَالِكٍ غَيْرُهُ مَمْلُوكٌ وَ كُلُّ عَالِمٍ غَيْرُهُ مُتَعَلِّمٌ وَ كُلُّ قَادِرٍ غَيْرُهُ يَقْدِرُ وَ يَعْجِزُ وَ كُلُّ سَمِيعٍ غَيْرُهُ يَصَمُّ عَنْ لَطِيفِ الْأَصْوَاتِ وَ يُصِمُّهُ كَبِيرُهَا وَ يَذْهَبُ عَنْهُ مَا بَعُدَ مِنْهَا وَ كُلُّ بَصِيرٍ غَيْرُهُ يَعْمَى عَنْ خَفِيِّ الْأَلْوَانِ وَ لَطِيفِ الْأَجْسَامِ وَ كُلُّ ظَاهِرٍ غَيْرُهُ غَيْرُ بَاطِنٌ وَ كُلُّ بَاطِنٍ غَيْرُهُ غَيْرُ ظَاهِرٍ لَمْ يَخْلُقْ مَا خَلَقَهُ لِتَشْدِيدِ سُلْطَانٍ وَ لَا تَخَوُّفٍ مِنْ عَوَاقِبِ زَمَانٍ وَ لَا اسْتِعَانَةٍ عَلَى نِدٍّ مُثَاوِرٍ وَ لَا شَرِيكٍ مُكَاثِرٍ وَ لَا ضِدٍّ مُنَافِرٍ وَ لَكِنْ خَلَائِقُ مَرْبُوبُونَ وَ عِبَادٌ دَاخِرُونَ لَمْ يَحْلُلْ فِي الْأَشْيَاءِ فَيُقَالَ هُوَ فِيهَا كَائِنٌ وَ لَمْ يَنْأَ عَنْهَا فَيُقَالَ هُوَ مِنْهَا بَائِنٌ لَمْ يَؤُدْهُ خَلْقُ مَا ابْتَدَأَ وَ لَا تَدْبِيرُ مَا ذَرَأَ وَ لَا وَقَفَ بِهِ عَجْزٌ عَمَّا خَلَقَ وَ لَا وَلَجَتْ عَلَيْهِ شُبْهَةٌ فِيمَا قَضَى وَ قَدَّرَ بَلْ قَضَاءٌ مُتْقَنٌ وَ عِلْمٌ مُحْكَمٌ وَ أَمْرٌ مُبْرَمٌ. الْمَأْمُولُ مَعَ النِّقَمِ الْمَرْهُوبُ مَعَ النِّعَمِ.

    انصار کے بارے میں پیغمبر ﷺ کی رحلت کے بعد جب سقیفہ بنی ساعدہ کی خبریں امیرالمومنین علیہ السلام تک پہنچیں تو آپؑ نے دریافت فرمایا کہ: ’’انصار کیا کہتے تھے؟‘‘ لوگوں نے کہا کہ: وہ کہتے تھے کہ ایک ہم میں سے امیر ہو جائے اور ایک تم میں سے۔ حضرتؑ نے فرمایا کہ: ’’تم نے یہ دلیل کیوں نہ پیش کی کہ رسول اللہ ﷺ نے وصیت فرمائی تھی کہ انصار میں جو اچھا ہو اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جائے اور جو برا ہو اس سے درگزر کیا جائے‘‘۔ لوگوں نے کہا کہ اس میں ان کے خلاف کیا ثبوت ہے؟ آپؑ نے فرمایا کہ: ’’اگر حکومت و امارت ان کیلئے ہوتی تو پھر ان کے بارے میں دوسروں کو وصیت کیوں کی جاتی‘‘۔ پھر حضرتؑ نے پوچھا کہ: ’’قریش نے کیا کہا؟‘‘ لوگوں نے کہا کہ: انہوں نے شجرهٔ رسولؐ سے ہونے کی وجہ سے اپنے استحقاق پر استدلال کیا۔ تو حضرتؑ نے فرمایا کہ: ’’انہوں نے شجره ایک ہونے سے تو استدلال کیا، لیکن اس کے پھلوں کو ضائع و برباد کر دیا‘‘۔

  66. خطبہ 66- محمد بن ابی بکرکی خبر شہادت سن کر فرمایا

    66

    مَعَاشِرَ الْمُسْلِمِينَ اسْتَشْعِرُوا الْخَشْيَةَ وَ تَجَلْبَبُوا السَّكِينَةَ وَ عَضُّوا عَلَى النَّوَاجِذِ فَإِنَّهُ اَنْبَى لِلسُّيُوفِ عَنِ الْهَامِ وَ اَكْمِلُوا اللاَّمَةَ وَ قَلْقِلُوا السُّيُوفَ فِي اَغْمَادِهَا قَبْلَ سَلِّهَا وَ الْحَظُوا الْخَزْرَ وَ اطْعُنُوا الشَّزْرَ وَ نَافِحُوا بِالظُّبَى وَ صِلُوا السُّيُوفَ بِالْخُطَى وَ اعْلَمُوا اَنَّكُمْ بِعَيْنِ اللَّهِ وَ مَعَ ابْنِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ فَعَاوِدُوا الْكَرَّ وَ اسْتَحْيُوا مِنَ الْفَرِّ فَإِنَّهُ عَارٌ فِي الْاَعْقَابِ وَ نَارٌ يَوْمَ الْحِسَابِ وَ طِيبُوا عَنْ اَنْفُسِكُمْ نَفْسا وَ امْشُوا إِلَى الْمَوْتِ مَشْيا سُجُحا وَ عَلَيْكُمْ بِهَذَا السَّوَادِ الْاَعْظَمِ وَ الرِّوَاقِ الْمُطَنَّبِ فَاضْرِبُوا ثَبَجَهُ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ كَامِنٌ فِي كِسْرِهِ وَ قَدْ قَدَّمَ لِلْوَثْبَةِ يَدا وَ اَخَّرَ لِلنُّكُوصِ رِجْلاً فَصَمْدا صَمْدا حَتَّى يَنْجَلِيَ لَكُمْ عَمُودُ الْحَقِّ «وَ أَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ وَ اللَّهُ مَعَكُمْ وَ لَنْ يَتِرَكُمْ أَعْمالَكُمْ».

    محمد ابن ابی بکر [۱] کو جب حضرتؑ نے مصر کی حکومت سپرد کی اور نتیجہ میں ان کے خلاف غلبہ حاصل کر لیاگیا اور وہ قتل کر دیے گئے تو حضرتؑ نے فرمایا: میں نے تو چاہا تھا کہ ہاشم ابن عتبہ کو مصرکا والی بناؤں اور اگر اسے حاکم بنا دیا ہوتا تو وہ کبھی دشمنوں کیلئے میدان خالی نہ کرتا اور نہ انہیں مہلت دیتا۔ اس سے محمد ابن ابی بکر کی مذمت مقصود نہیں، وہ تو مجھے بہت محبوب اور میرا پروردہ تھا۔

  67. خطبہ 67- اپنے اصحاب کی کجروی اور بے رخی کے بارے میں فرمایا

    67

    فَهَلَّا احْتَجَجْتُمْ عَلَيْهِمْ بِاَنَّ رَسُولَ اللَّهِ (ص) وَصَّى بِاَنْ يُحْسَنَ إِلَى مُحْسِنِهِمْ وَ يُتَجَاوَزَ عَنْ مُسِيئِهِمْ. قَالُوا وَ مَا فِي هَذَا مِنَ الْحُجَّةِ عَلَيْهِمْ فَقَالَ (ع) : لَوْ كَانَ الْإِمَامَةُ فِيهِمْ لَمْ تَكُنِ الْوَصِيَّةُ بِهِمْ ثُمَّ قَالَ (ع) : فَمَا ذَا قَالَتْ قُرَيْشٌ قَالُوا احْتَجَّتْ بِاَنَّهَا شَجَرَةُ الرَّسُولِ صَلّى اللّهُ عَلَيهِ وَ آلِه فَقَالَ (ع) : احْتَجُّوا بِالشَّجَرَةِ وَ اَضَاعُوا الثَّمَرَةَ.

    اپنے اصحاب کی مذّمت میں فرمایا کب تک میں تمہارے ساتھ ایسی نرمی اور رو رعایت کرتا رہوں گا جیسی ان اونٹوں سے کی جاتی ہے جن کی کوہانیں اندر سے کھوکھلی ہو چکی ہوں اور ان پھٹے پرانے کپڑوں سے کہ جنہیں ایک طرف سے سیا جائے تو دوسری طرف سے پھٹ جاتے ہیں۔ جب بھی شامیوں کے ہر اول دستوں میں سے کوئی دستہ تم پر منڈلاتا ہے تو تم سب کے سب (اپنے گھروں) کے دروازے بند کر لیتے ہو اور اس طرح اندر دبک جاتے ہو جس طرح گوہ اپنے سوراخ میں اور بجو اپنے بھٹ میں۔ جس کے تمہارے ایسے مدد گار ہوں اسے تو ذلیل ہی ہونا ہے اور جس پر تم (تیر کی طرح) پھینکے جاؤ تو گویا اس پر ایسا تیر پھینکا گیا جس کا سوفار بھی شکستہ اور پیکان بھی ٹوٹا ہوا ہے۔ خدا کی قسم! (گھروں کے) صحن میں تو تم بڑی تعداد میں نظر آتے ہو، لیکن جھنڈوں کے نیچے تھوڑے سے۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ کس چیز سے تمہاری اصلاح اور کس چیز سے تمہاری کجروی کو دور کیا جا سکتا ہے، لیکن میں اپنے نفس کو بگاڑ کر تمہاری اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔ خدا تمہارے چہروں کو بے آبرو کرے اور تمہیں بد نصیب کرے۔ جیسی تم باطل سے شناسائی رکھتے ہو ویسی حق سے تمہاری جان پہچان نہیں اور جتنا حق کو مٹاتے ہو باطل اتنا تم سے نہیں دبایا جاتا۔

  68. خطبہ 68- شب ضربت سحر کے وقت فرمایا

    68

    وَ قَدْ اَرَدْتُ تَوْلِيَةَ مِصْرَ هاشِمَ بْنَ عُتْبَةَ وَ لَوْ وَلَّيْتُهُ إِيَّاهَا لَمَّا خَلَّى لَهُمُ الْعَرْصَةَ وَ لاَ اَنْهَزَهُمُ الْفُرْصَةَ بِلاَ ذَمِّ لِمُحَمَّدِ بْنِ اَبِي بَكْرٍ فَلَقَدْ كَانَ إِلَيَّ حَبِيبا وَ كَانَ لِي رَبِيبا.

    آپؑ نے یہ کلام شبِ ضربت کی سحر کو فرمایا میں بیٹھا ہوا تھا کہ میری آنکھ لگ گئی۔ اتنے میں رسول اللہ ﷺ میرے سامنے جلوہ فرما ہوئے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہؐ! مجھے آپؐ کی اُمت کے ہاتھوں کیسی کیسی کجرویوں اور دشمنیوں سے دو چار ہونا پڑا ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: «تم ان کیلئے بد دُعا کرو»، تو میں نے (صرف اتنا) کہا کہ: اللہ مجھے ان کے بدلے میں ان سے اچھے لوگ عطا کرے اور ان کو میرے بدلے میں کوئی بُرا (امیر) دے۔ سیّد رضی کہتے ہیں کہ: «اَوَد» کے معنی ٹیڑھا پن اور «لَدَد» کے معنی دشمنی و عناد کے ہیں اور یہ بہت فصیح کلام ہے۔

  69. خطبہ 69- اہل عراق کی مذمت میں فرمایا

    69

    كَمْ أُدَارِيكُمْ كَمَا تُدَارَى الْبِكَارُ الْعَمِدَةُ وَ الثِّيَابُ الْمُتَدَاعِيَةُ كُلَّمَا حِيصَتْ مِنْ جَانِبٍ تَهَتَّكَتْ مِنْ آخَرَ اكُلَّمَا أَطَلَّ عَلَيْكُمْ مَنْسَرٌ مِنْ مَنَاسِرِ أَهْلِ الشَّامِ أَغْلَقَ كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمْ بَابَهُ وَ انْجَحَرَ انْجِحَارَ الضَّبَّةِ فِي جُحْرِهَا وَ الضَّبُعِ فِي وِجَارِهَا الذَّلِيلُ وَ اللَّهِ مَنْ نَصَرْتُمُوهُ وَ مَنْ رَمَي بِكُمْ فَقَدْ رَمَي بِأَفْوَقَ نَاصِلٍ إِنَّكُمْ وَ اللَّهِ لَكَثِيرٌ فِي الْبَاحَاتِ قَلِيلٌ تَحْتَ الرَّايَاتِ وَ إِنِّي لَعَالِمٌ بِمَا يُصْلِحُكُمْ وَ يُقِيمُ أَوَدَكُمْ وَ لَكِنِّي وَ اللَّهِ لَا أَرَى إِصْلَاحَكُمْ بِإِفْسَادِ نَفْسِي أَضْرَعَ اللَّهُ خُدُودَكُمْ وَ أَتْعَسَ جُدُودَكُمْ لَا تَعْرِفُونَ الْحَقَ‏ كَمَعْرِفَتِكُمُ الْبَاطِلَ وَ لَا تُبْطِلُونَ الْبَاطِلَ كَإِبْطَالِكُمُ الْحَقَّ

    اہل عراق کی مذمت میں فرمایا اے اہل عراق! [۱] تم اس حاملہ عورت کے مانند ہو جو حاملہ ہونے کے بعد جب حمل کے دن پورے کرے تو مرا ہوا بچہ گرا دے اور اس کا شوہر بھی مر چکا ہو اور رنڈاپے کی مدت بھی دراز ہو چکی ہو اور (قریبی نہ ہونے کی وجہ سے) دور کے عزیز ہی اس کے وارث ہوں۔ بخدا! میں تمہاری طرف بخوشی نہیں آیا، بلکہ حالات سے مجبور ہو کر آ گیا۔ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ تم کہتے ہو کہ: علیؑ کذب بیانی کرتے ہیں۔ خدا تمہیں ہلاک کرے! (بتاؤ) میں کس پر جھوٹ باندھ سکتا ہوں؟ کیا اللہ پر؟ تو میں سب سے پہلے اس پر ایمان لانے والا ہوں، یا اس کے نبیؐ پر؟ تو میں سب سے پہلے ان کی تصدیق کرنے والا ہوں۔ خدا کی قسم! ایسا ہرگز نہیں! بلکہ وہ ایک ایسا اندازِ کلام تھا جو تمہارے سمجھنے کا نہ تھا اور نہ تم میں اس کے سمجھنے کی اہلیت تھی۔ خدا تمہیں سمجھے! میں تو بغیر کسی عوض کے (علمی جواہر ریزے) ناپ ناپ کر دے رہا ہوں۔ کاش کہ ان کیلئے کسی کے ظرف میں سمائی ہوتی۔ ’’(ٹھہرو) کچھ دیر بعد تم بھی اس کی حقیقت کو جان لو گے‘‘۔

  70. خطبہ 70- پیغمبرﷺ پر درود بھیجنے کا طریقہ

    70

    مَلَكَتْنِي عَيْنِي وَ اَنَا جَالِسٌ فَسَنَحَ لِي رَسُولُ اللَّهِ (ص) ‍ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاذَا لَقِيتُ مِنْ اُمَّتِكَ مِنَ الْاَوَدِ وَ اللَّدَدِ فَقَالَ: ادْعُ عَلَيْهِمْ فَقُلْتُ: اَبْدَلَنِي اللَّهُ بِهِمْ خَيْرا لي مِنْهُمْ وَ اَبْدَلَهُمْ بِي شَرّا لَهُمْ مِنِّي . قال السيد الشريف: وَ يَعْني بالاود الاعوجاج وَ باللدد الخَصام وَ هَذا مَن اَفْصَح الْكَلامِ.

    اس میں آپؑ نے لوگوں کو پیغمبر ﷺ پر صلوات بھیجنے کا طریقہ بتایا ہے اے اللہ! اے فرش زمین کے بچھانے والے اور بلند آسمانوں کو (بغیر سہارے کے) روکنے والے! دلوں کو اچھی اور بُری فطرت پر پیدا کرنے والے! اپنی پاکیزہ رحمتیں اور بڑھنے والی برکتیں قرار دے اپنے عبد اور رسول محمد ﷺ کیلئے جو پہلی (نبوتوں کے) ختم کرنے والے اور بند (دل) کھولنے والے اور حق کے زور سے اعلانِ حق کرنے والے، باطل کی طغیانیوں کو دبانے والے اور ضلالت کے حملوں کو کچلنے والے تھے۔ جیسا ان پر (ذمہ داری کا) بوجھ عائد کیا گیا تھا اس کو انہوں نے اٹھایا، (تیرے امر کے ساتھ قیام کیا) اور تیری خوشنودیوں کی طرف بڑھنے کیلئے مضبوطی سے جم کر کھڑے ہو گئے۔ نہ آگے بڑھنے سے منہ موڑا، نہ ارادے میں کمزوری کو راہ دی۔ وہ تیری وحی کے حافظ اور تیرے پیمان کے محافظ تھے اور تیرے حکموں کے پھیلانے کی دھن میں لگے رہنے والے تھے۔ یہاں تک کہ انہوں نے روشنی ڈھونڈنے والے کیلئے شعلے بھڑکا دیئے اور اندھیرے میں بھٹکنے والے کیلئے راستہ روشن کر دیا۔ فتنوں فسادوں میں سر گرمیوں کے بعد دلوں نے آپؐ کی وجہ سے ہدایت پائی۔ انہوں نے راہ دکھانے والے نشانات قائم کئے، روشن و تابندہ احکام جاری کئے۔ وہ تیرے امین، معتمد اور تیرے علم مخفی کے خزینہ دار تھے اور قیامت کے دن تیرے گواہ اور تیرے پیغمبر برحق اور خلق کی طرف فرستادہ رسول تھے۔ خدایا! ان کی منزل کو اپنے زیر سایہ وسیع و کشادہ بنا اور اپنے فضل سے انہیں دہرے حسنات عطا کر۔ خداوندا! تمام بنیاد قائم کرنے والوں کی عمارت پر ان کی بنا کردہ عمارت کو فوقیت عطا کر اور انہیں با عزت مرتبے سے سرفراز کر اور ان کے نور کو پورا پورا فروغ دے اور انہیں رسالت کے صلہ میں شہادت کی قبولیت و پذیرائی اور قول و سخن کی پسندیدگی عطا کر۔ جب کہ آپؐ کی باتیں سراپا عدل اور فیصلے حق و باطل کو چھانٹنے والے ہیں۔ اے اللہ! ہمیں بھی ان کے ساتھ خوشگوار و پاکیزہ زندگی اور منزلِ نعمات میں یکجا کر اور مرغوب و دل پسند خواہشوں اور لذتوں اور آسائش و فارغ البالی اور شرف و کرامت کے تحفوں میں شریک بنا۔

  71. خطبہ 71- حسنینؑ کی طرف سے مروان کی سفارش کی گئی تو آپؑ نے فرمایا

    71

    اَمّا بَعْدُ يَا اَهْلَ الْعِرَاقِ فَإِنَّما اَنْتُمْ كَالْمَرْاَةِ الْحَامِلِ حَمَلَتْ، فَلَمَّا اَتَمَّتْ اَمْلَصَتْ وَ ماتَ قَيِّمُها، وَ طالَ تَاَيُّمُها، وَ وَرِثَها اَبْعَدُها، اَمَا وَ اللَّهِ مَا اَتَيْتُكُمُ اخْتِيَارا، وَ لَكِنْ جِئْتُ إِلَيْكُمْ سَوْقا، وَ لَقَدْ بَلَغَنِي اَنَّكُمْ تَقُولُونَ: عَلِيُّ يَكْذِبُ. قَاتَلَكُمُ اللَّهُ، فَعَلَى مَنْ اَكْذِبُ؟ اَ عَلَى اللَّهِ؟ فَاَنَا اَوَّلُ مَنْ آمَنَ بِهِ! اَمْ عَلَى نَبِيِّهِ؟ فَاَنَا اَوَّلُ مَنْ صَدَّقَهُ! كَلَّا وَ اللَّهِ لَكِنَّهَا لَهْجَةٌ غِبْتُمْ عَنْهَا، وَ لَمْ تَكُونُوا مِنْ اَهْلِها، وَيْلُ اُمِّهِ (وَيْلُمَّهِ) كَيْلاً بِغَيْرِ ثَمَنٍ لَوْ كَانَ لَهُ وِعَاءٌ وَ لَتَعْلَمُنَّ نَبَاَهُ بَعْدَ حِينٍ.

    جمل کے موقعہ پر جب مروان بن حکم [۱] گرفتار کیا گیا تو اس نے حسن اور حسین علیہما السلام سے خواہش کی کہ وہ امیر المومنین علیہ السلام سے اس کی سفارش کریں۔ چنانچہ ان دونوں حضراتؑ نے امیر المومنینؑ سے اس سلسلہ میں بات چیت کی اور حضرتؑ نے اُسے رہا کر دیا۔ پھر دونوں شہزادوں نے کہا کہ: یا امیر المومنینؑ! یہ آپؑ کی بیعت کرنا چاہتا ہے، تو حضرت علی علیہ السلام نے اس کے متعلق فرمایا: کیا اس نے عثمان کے قتل ہو جانے کے بعد میری بیعت نہیں کی تھی؟ اب مجھے اس کی بیعت کی ضرورت نہیں۔ یہ یہودی قسم کا ہاتھ ہے۔ اگر ہاتھ سے بیعت کرے گا تو ذلیل طریقے سے توڑ بھی دے گا۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ بھی اتنی دیر کہ کتا اپنی ناک چاٹنے سے فارغ ہو، حکومت کرے گا اور اس کے چار بیٹے بھی حکمران ہوں گے اور اُمت اس کے اور اس کے بیٹوں کے ہاتھوں سے سختیوں کے دن دیکھے گی۔

  72. خطبہ 72- جب لوگوں نے عثمان کی بیعت کا ارادہ کیا تو آپؑ نے فرمایا

    72

    اللَّهُمَّ دَاحِيَ الْمَدْحُوَّاتِ وَ دَاعِمَ الْمَسْمُوكَاتِ وَ جَابِلَ الْقُلُوبِ عَلَى فِطْرَتِهَا شَقِيِّهَا وَ سَعِيدِهَا اجْعَلْ شَرَائِفَ صَلَوَاتِكَ وَ نَوَامِيَ بَرَكَاتِكَ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَ رَسُولِكَ الْخَاتِمِ لِمَا سَبَقَ وَ الْفَاتِحِ لِمَا انْغَلَقَ وَ الْمُعْلِنِ الْحَقَّ بِالْحَقِّ وَ الدَّافِعِ جَيْشَاتِ الْأَبَاطِيلِ وَ الدَّامِغِ صَوْلَاتِ الْأَضَالِيلِ كَمَا حُمِّلَ فَاضْطَلَعَ قَائِماً بِأَمْرِكَ مُسْتَوْفِزاً فِي مَرْضَاتِكَ غَيْرَ نَاكِلٍ عَنْ قُدُمٍ وَ لَا وَاهٍ فِي عَزْمٍ وَاعِياً لِوَحْيِكَ حَافِظاً لِعَهْدِكَ مَاضِياً عَلَى نَفَاذِ أَمْرِكَ حَتَّى أَوْرَى قَبَسَ الْقَابِسِ وَ أَضَاءَ الطَّرِيقَ لِلْخَابِطِ وَ هُدِيَتْ بِهِ‏ الْقُلُوبُ بَعْدَ خَوْضَاتِ الْفِتَنِ (وَ الْآثَامِ) وَ أَقَامَ مُوضِحَاتِ الْأَعْلَامِ وَ نَيِّرَاتِ الْأَحْكَامِ فَهُوَ أَمِينُكَ الْمَأْمُونُ وَ خَازِنُ عِلْمِكَ الْمَخْزُونِ وَ شَهِيدُكَ يَوْمَ الدِّينِ وَ بَعِيثُكَ بِالْحَقِّ وَ رَسُولُكَ إِلَى الْخَلْقِ اللَّهُمَّ افْسَحْ لَهُ مَفْسَحاً فِي ظِلِّكَ وَ اجْزِهِ مُضَاعَفَاتِ الْخَيْرِ مِنْ فَضْلِكَ اللَّهُمَّ أَعْلِ عَلَى بِنَاءِ الْبَانِينَ بِنَاءَهُ وَ أَكْرِمْ لَدَيْكَ مَنْزِلَتَهُ وَ أَتْمِمْ لَهُ نُورَهُ وَ اجْزِهِ مِنِ ابْتِعَاثِكَ لَهُ مَقْبُولَ الشَّهَادَةِ مَرْضِيَّ الْمَقَالَةِ ذَا مَنْطِقٍ عَدْلٍ وَ خُطَّةٍ فَصْلٍ اللَّهُمَّ اجْمَعْ بَيْنَنَا وَ بَيْنَهُ فِي بَرْدِ وَ قَرَارِ النِّعْمَةِ وَ مُنَى الشَّهَوَاتِ وَ أَهْوَاءِ اللَّذَّاتِ وَ رَخَاءِ الدَّعَةِ وَ مُنْتَهَى الطُّمَأْنِينَةِ وَ تُحَفِ الْكَرَامَةِ.

    جب لوگوں نے عثمان کی بیعت کا ارادہ کیا تو آپؑ نے فرمایا تم جانتے ہو کہ مجھے اوروں سے زیادہ خلافت کا حق پہنچتا ہے۔ خدا کی قسم! جب تک مسلمانوں کے امور کا نظم و نسق برقرار رہے گا اور صرف میری ہی ذات ظلم و جور کا نشانہ بنتی رہے گی، میں خاموشی اختیار کرتا رہوں گا۔ تاکہ (اس صبر پر) اللہ سے اجر و ثواب طلب کروں اور اس زیب و زینت اور آرائش کو ٹھکرا دوں جس پر تم مٹے ہوئے ہو۔

  73. خطبہ 73- قتل عثمان میں شرکت کا الزام آپؑ پر لگایا گیا تو فرمایا

    73

    أَوَ لَمْ يُبَايِعْنِي بَعْدَ قَتْلِ عُثْمَانَ لَا حَاجَةَ لِي فِي بَيْعَتِهِ إِنَّهَا كَفٌّ يَهُودِيَّةٌ لَوْ بَايَعَنِي بِيَدِهِ لَغَدَرَ بِسَبَّتِهِ أَمَا إِنَّ لَهُ إِمْرَةً كَلَعْقَةِ الْكَلْبِ أَنْفَهُ وَ هُوَ أَبُو الْأَكْبُشِ الْأَرْبَعَةِ وَ سَتَلْقَى الْأُمَّةُ مِنْهُ وَ مِنْ وُلْدِهِ يَوْماً أَحْمَرَ.

    جب آپؑ کو معلوم ہوا کہ بنی امیہ قتل عثمان میں شرکت کا الزام آپؑ پر رکھتے ہیں تو ارشاد فرمایا میرے متعلق سب کچھ جاننے بوجھنے نے بنی امیہ کو مجھ پر افترا پردازیوں سے باز نہیں رکھا اور نہ میری سبقت ایمانی اور دیرینہ اسلامی خدمات نے ان جاہلوں کو اتہام لگانے سے روکا اور جو اللہ نے (کذب و افترا کے متعلق) انہیں پند و نصیحت کی ہے وہ میرے بیان سے کہیں بلیغ ہے۔ میں (ان) بے دینوں پر حجت لانے والا اور (دین میں) شک و شبہ کرنے والوں کا فریق مخالف ہوں اور قرآن پر پیش ہونا چاہیے تمام مشتبہ باتوں کو اور بندوں کو جیسی ان کی نیت ہو گی ویسا ہی پھل ملے گا۔

  74. خطبہ 74- پند و نصیحت کے سلسلے میں فرمایا

    74

    لَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي أَحَقُّ بِهَا مِنْ غَيْرِي وَ وَاللَّهِ لَأُسَلِّمَنَّ مَا سَلِمَتْ أُمُورُ الْمُسْلِمِينَ وَ لَمْ يَكُنْ فِيهَا جَوْرٌ إِلَّا عَلَيَّ خَاصَّةً الْتِمَاساً لِأَجْرِ ذَلِكَ وَ فَضْلِهِ وَ زُهْداً فِيمَا تَنَافَسْتُمُوهُ مِنْ زُخْرُفِهِ وَ زِبْرِجِهِ.

    خدا اس شخص پر رحم کرے جس نے حکمت کا کوئی کلمہ سنا تو اسے گرہ میں باندھ لیا، ہدایت کی طرف اسے بلایا گیا تو دوڑ کر قریب ہوا،صحیح راہبر کا دامن تھام کر نجات پائی، اللہ کو ہر وقت نظروں میں رکھا اور گناہوں سے خوف کھایا، عمل بے ریا پیش کیا، نیک کام کئے، ثواب کا ذخیرہ جمع کیا، بُری باتوں سے اجتناب برتا، صحیح مقصد کو پا لیا۔ اپنا اجر سمیٹ لیا۔ خواہشوں کا مقابلہ کیا۔ امیدوں کو جھٹلایا۔ صبر کو نجات کی سواری بنا لیا۔ موت کیلئے تقویٰ کا ساز و سامان کیا۔ روشن راہ پر سوار ہوا۔ حق کی شاہراہ پر قدم جمائے۔ زندگی کی مہلت کو غنیمت جانا۔ موت کی طرف قدم بڑھائے اور عمل کا زاد ساتھ لیا۔

  75. خطبہ 75- بنی امیہ کے متعلق فرمایا

    75

    اَوَلَمْ يَنْهَ بَنِي اُمَيَّةَ عِلْمُها بِي عَنْ قَرْفِي اَوَما وَزَعَ الْجُهَّالَ سَابِقَتِي عَنْ تُهَمَتِي وَ لَما وَ عَظَهُمُ اللَّهُ بِهِ اَبْلَغُ مِنْ لِسَانِي ! اَنَا حَجِيجُ الْمَارِقِينَ، وَ خَصِيمُ الْمُرْتَابِين، وَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ تُعْرَضُ الْاَمْثَالُ، وَ بِما فِي الصُّدُورِ تُجَازَى الْعِبَادُ.

    بنی امیہ مجھے محمد ﷺ کا ورثہ تھوڑا تھوڑا کر کے دیتے ہیں۔ خدا کی قسم! اگر میں زندہ رہا تو انہیں اس طرح جھاڑ پھینکوں گا جس طرح قصائی خاک آلودہ گوشت کے ٹکڑے سے مٹی جھاڑ دیتا ہے۔ علامہ رضیؒ فرماتے ہیں کہ: ایک روایت میں «اَلْوِذَامَ التَّرِبَۃُ» (خاک آلودہ گوشت کے ٹکڑے کے بجائے) «التُّرَابُ الْوَذَمَةُ» (مٹی جو گوشت کے ٹکڑے میں بھر گئی ہو) آیا ہے، یعنی صفت کی جگہ موصوف اور موصوف کی جگہ صفت رکھ دی گئی ہے۔ اور «لَیُفَوِّقُوْنَنِیْ» سے حضرتؑ کی مراد یہ ہے کہ وہ مجھے تھوڑا تھوڑا کر کے دیتے ہیں جس طرح اونٹنی کو ذرا سا دوہ لیا جائے اور پھر تھنوں کو اس کے بچے کے منہ سے لگا دیا جائے تاکہ وہ دوہے جانے کیلئے تیار ہو جائے۔ اور ’’وذام‘‘ وذمہ کی جمع ہے جس کے معنی اوجھڑی یا جگر کے ٹکڑے کے ہیں جو مٹی میں گر پڑے اور پھر مٹی اس سے جھاڑ دی جائے۔

  76. خطبہ 76- دعائیہ کلمات

    76

    رَحِمَ اللَّهُ عَبْدًا سَمِعَ حُكْماً فَوَعَى وَ دُعِيَ إِلَى رَشَادٍ فَدَنَا وَ أَخَذَ بِحُجْزَةِ هَادٍ فَنَجَا رَاقَبَ رَبَّهُ وَ خَافَ ذَنْبَهُ قَدَّمَ خَالِصاً وَ عَمِلَ صَالِحاً اكْتَسَبَ مَذْخُوراً وَ اجْتَنَبَ مَحْذُوراً رَمَى غَرَضاً وَ أَحْرَزَ عِوَضاً كَابَرَ هَوَاهُ وَ كَذَّبَ مُنَاهُ جَعَلَ الصَّبْرَ مَطِيَّةَ نَجَاتِهِ وَ التَّقْوَى عُدَّةَ وَفَاتِهِ رَكِبَ الطَّرِيقَةَ الْغَرَّاءَ وَ لَزِمَ الْمَحَجَّةَ الْبَيْضَاءَ اغْتَنَمَ الْمَهَلَ وَ بَادَرَ الْأَجَلَ وَ تَزَوَّدَ مِنَ الْعَمَلِ

    امیر المومنین علیہ السلام کے دُعائیہ کلمات اے اللہ! تو ان چیزوں کو بخش دے جنہیں تُو مجھ سے زیادہ جانتا ہے۔ اگر میں گناہ کی طرف پلٹوں تو تُو اپنی مغفرت کے ساتھ پلٹ۔ بارِ الٰہا! جس عمل خیر کے بجالانے کا مَیں نے اپنے آپ سے وعدہ کیا تھا، مگر تو نے اسے پورا ہوتے ہوئے نہ پایا، اسے بھی بخش دے۔ میرے اللہ! زبان سے نکلے ہوئے وہ کلمے، جن سے تیرا تقرب چاہا تھا، مگر دل ان سے ہمنوا نہ ہو سکا، ان سے بھی در گزر کر۔ پروردگار! تو آنکھوں کے (طنزیہ) اشاروں اور ناشائستہ کلموں اور دل کی (بُری) خواہشوں اور زبان کی ہرزہ سرائیوں کو معاف کر دے۔

  77. خطبہ 77- منجمین کی پیشینگوئی کی رد

    77

    إِنَّ بَنِي أُمَيَّةَ لَيُفَوِّقُونَنِي تُرَاثَ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه واله تَفْوِيقاً وَ اللَّهِ لَئِنْ بَقِيتُ لَهُمْ لَأَنْفُضَنَّهُمْ نَفْضَ اللَّحَّامِ الْوِذَامَ التَّرِبَةَ قال السيد الشريف: وَ يَرْوى الْتراب الوذمة وَ هُو عَلى الْقَلب . وَ قَوْله (ع) : ليفوقونني اي : يعطونني مِن الْمال قَليلا كفواق الناقَة، وَ هُوَ الحَلَبة الواحِدة مِن لبَنها، وَالوذام جَمْع وَ ذَمة ، وَ هِي الحِزَّةِ مِنْ الْكَرش او الكبد تقع فِي التُراب فَتنفض .

    جب آپؑ [۱] نے جنگ خوارج کیلئے نکلنے کا ارادہ کیا تو ایک شخص نے کہا کہ: یا امیر المومنینؑ! اگر آپ اس وقت نکلے تو علم نجوم کی رُو سے مجھے اندیشہ ہے کہ آپ اپنے مقصد میں کامیاب و کامران نہیں ہو سکیں گے، جس پر آپؑ نے فرمایا کہ: کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ تم اس گھڑی کا پتہ دیتے ہو کہ اگر کوئی اس میں نکلے تو اس کیلئے کوئی بُرائی نہ ہو گی اور اس لمحے سے خبردار کرتے ہو کہ اگر کوئی اس میں نکلے تو اسے نقصان درپیش ہو گا، تو جس نے اسے صحیح سمجھا، اس نے قرآن کو جھٹلایا اور مقصد کے پانے اور مصیبت کے دور کرنے میں اللہ کی مدد سے بے نیاز ہو گیا۔ تم اپنی ان باتوں سے یہ چاہتے ہو کہ جو تمہارے کہے پر عمل کرے وہ اللہ کو چھوڑ کر تمہارے گُن گائے۔ اس لئے کہ تم نے اپنے خیال میں اس ساعت کا پتہ دیا کہ جو اس کیلئے فائدہ کا سبب اور نقصان سے بچاؤ کا ذریعہ بنی۔ پھر آپؑ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے لوگو! نجوم کے سیکھنے سے پرہیز کرو، مگر اتنا کہ جس سے خشکی اور تری میں راستے معلوم کر سکو۔ اس لئے کہ نجوم کا سیکھنا کہانت اور غیب گوئی کی طرف لے جاتا ہے اور منجم حکم میں مثل کاہن کے ہے اور کاہن مثل ساحر کے ہے اور ساحر مثل کافر کے ہے اور کافر کا ٹھکانا جہنم ہے۔ بس اللہ کا نام لے کر چل کھڑے ہو۔

  78. خطبہ 78- عورتوں کے فطری نقائص

    78

    اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي فَإِنْ عُدْتُ فَعُدْ عَلَيَّ بِالْمَغْفِرَةِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا وَأَيْتُ مِنْ نَفْسِي وَ لَمْ تَجِدْ لَهُ وَفَاءً عِنْدِي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا تَقَرَّبْتُ بِهِ إِلَيْكَ بِلِسَانِي ثُمَّ خَالَفَهُ قَلْبِي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي رَمَزَاتِ الْأَلْحَاظِ وَ سَقَطَاتِ الْأَلْفَاظِ وَ شَهَوَاتِ الْجَنَانِ وَ هَفَوَاتِ اللِّسَانِ

    جنگِ جمل سے فارغ ہونے کے بعد عورتوں کی مذمت میں فرمایا : [۱] اے لوگو! عورتیں ایمان میں ناقص، حصوں میں ناقص اور عقل میں ناقص ہوتی ہیں: نقصِ ایمان کا ثبوت یہ ہے کہ ایام کے دور میں نماز اور روزہ انہیں چھوڑنا پڑتا ہے اور ناقص العقل ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کی گواہی کے برابر ہوتی ہے اور حصہ و نصیب میں کمی یوں ہے کہ میراث میں ان کا حصہ مردوں سے آدھا ہوتا ہے۔ بُری عورتوں سے ڈرو اور اچھی عورتوں سے بھی چوکنا رہا کرو۔ تم ان کی اچھی باتیں بھی نہ مانو تاکہ آگے بڑھ کر وہ بری باتوں کے منوانے پر نہ اتر آئیں۔

  79. خطبہ 79- پند و نصیحت کے سلسلے میں فرمایا

    79

    اَتَزْعُمُ اَنَّكَ تَهْدِي إلَى السَّاعَةِ الَّتِي مَنْ سَارَ فِيها صُرِفَ عَنْهُ السُّوءُ؟ وَ تُخَوِّفُ السَّاعَةِ الَّتِي مَنْ سَارَ فِيهَا حَاقَ بِهِ الضُّرُّ؟ فَمَنْ صَدَّقَكَ بِهَذَا فَقَدْ كَذَّبَ الْقُرْآنَ، وَ اسْتَغْنَى عَنِ الاِسْتِعَانَةِ بِاللَّهِ فِي نَيْلِ الْمَحْبُوبِ وَ دَفْعِ الْمَكْرُوهِ، وَ تَبْتَغِي فِي قَوْلِكَ لِلْعَامِلِ بِاَمْرِكَ اَنْ يُولِيَكَ الْحَمْدَ دُونَ رَبِّهِ، لِاَنَّكَ بِزَعْمِكَ اَنْتَ هَدَيْتَهُ إلَى السَّاعَةِ الَّتِي نالَ فِيهَا النَّفْعَ، وَ اَمِنَ الضُّرَّ.! ثُمَّ اَقْبَلَ (ع) عَلَى النَّاسِ فَقَالَ: اَيُّهَا النَّاسُ إ يَّاكُمْ وَ تَعَلُّمَ النُّجُومِ إلّا ما يُهْتَدَى بِهِ فِي بَرِّ اَوْ بَحْرٍ، فَإِنَّهَا تَدْعُو إلَى الْكَهَانَةِ، وَ الْمُنَجِّمُ كَالْكَاهِنِ، وَ الْكَاهِنُ كَالسَّاحِرِ، وَ السَّاحِرُ كَالْكَافِرِ، وَ الْكَافِرُ فِي النَّارِ، سِيرُوا عَلَى اسْمِ اللَّهِ.

    اے لوگو! امیدوں کو کم کرنا، نعمتوں پر شکر ادا کرنا اور حرام چیزوں سے دامن بچانا ہی زہد و ورع ہے۔ اگر (دامن امید کو سمیٹنا) تمہارے لئے مشکل ہو جائے تو اتنا تو ہو کہ حرام تمہارے صبر و شکیب پر غالب نہ آ جائے اور نعمتوں کے وقت شکر کو بھول نہ جاؤ۔ خداوند عالم نے روشن اور کھلی ہوئی دلیلوں سے اور حجت تمام کرنے والی واضح کتابوں کے ذریعے تمہارے لئے حیل و حجت کا موقع نہیں رہنے دیا۔

  80. خطبہ 80- اہل دنیا کے ساتھ دنیا کی روش

    80

    مَعَاشِرَ النَّاسِ إِنَّ النِّسَاءَ نَوَاقِصُ الْإِيمَانِ نَوَاقِصُ الْحُظُوظِ نَوَاقِصُ الْعُقُولِ فَأَمَّا نُقْصَانُ إِيمَانِهِنَّ فَقُعُودُهُنَّ عَنِ الصَّلَاةِ وَ الصِّيَامِ فِي أَيَّامِ حَيْضِهِنَّ وَ أَمَّا نُقْصَانُ حُظُوظِهِنَّ فَمَوَارِيثُهُنَّ عَلَى الْأَنْصَافِ مِنْ مَوَارِيثِ الرِّجَالِ وَ أَمَّا نُقْصَانُ عُقُولِهِنَّ فَشَهَادَةُ امْرَأَتَيْنِ مِنْهُنَّ كَشَهَادَةِ الرَّجُلِ الْوَاحِدِ فَاتَّقُوا شِرَارَ النِّسَاءِ وَ كُونُوا مِنْ خِيَارِهِنَّ عَلَى حَذَرٍ وَ لَا تُطِيعُوهُنَّ فِي الْمَعْرُوفِ حَتَّى لَا يَطْمَعْنَ فِي الْمُنْكَرِ.

    (دنیا کی حقیقت) میں اس دارِ دنیا کی حالت کیا بیان کروں کہ جس کی ابتدا رنج اور انتہا فنا ہو، جس کے حلال میں حساب اور حرام میں سزا و عقاب ہو۔ یہاں کوئی غنی ہو تو فتنوں سے واسطہ اور فقیر ہو تو حزن و ملال سے سابقہ رہے۔ جو دنیا کیلئے سعی و کوشش میں لگا رہتا ہے اس کی دُنیوی آرزوئیں بڑھتی ہی جاتی ہیں اور جو کوششوں سے ہاتھ اٹھا لیتا ہے دنیا خود ہی اس سے ساز گار ہو جاتی ہے۔ جو شخص دنیا کو عبرتوں کا آئینہ سمجھ کر دیکھتا ہے تو وہ اس کی آنکھوں کو روشن و بینا کر دیتی ہے اور جو صرف دنیا ہی پر نظر رکھتا ہے تو وہ اسے کور و نابینا بنا دیتی ہے۔ [۱] علامہ رضیؒ کہتے ہیں کہ: اگر کوئی غور و فکر کرنے والا حضرتؑ کے اس ارشاد: «وَمَنْ اَبْصَرَبِهَا بَصَّرَتْهُ» (جو اس دنیا کو عبرت حاصل کرنے کیلئے دیکھے تو وہ اسے بصیر و بینا بنا دیتی ہے) کو دقت و غور کی نگاہوں سے دیکھے تو وہ اس میں عجیب و غریب معنی اور گہرے مطالب پائے گا کہ نہ اس کی انتہا تک پہنچ اور نہ اس کے گہراؤ تک رسائی ہو سکتی ہے، خصوصاً اس کے ساتھ یہ جملہ: «وَ مَنْ اَبْصَرَ اِلَیْهَا اَعْمَتْهُ» (اور جو صرف دنیا کو دیکھتا رہے تو وہ اس سے آنکھوں کی روشنی چھین لیتی ہے) بھی ملا یا جائے تو «اَبْصَرَ بِهَا» اور «اَبْصَرَ اِلَیْهَا» میں واضح فرق محسوس کرے گا اور حیرت سے اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گے۔

  81. خطبہ 81- موت اور اس کے بعد کی حالت، انسانی خلقت کے درجات اور نصائح

    81

    اَيُّهَا النَّاسُ، الزَّهادَةُ قِصَرُ الْاَمَلِ، وَ الشُّكْرُ عِنْدَ النِّعَمِ، وَ الْوَرَعُ عِنْدَ الْمَحَارِمِ. فَإنْ عَزَبَ ذلِكَ عَنْكُمْ فَلا يَغْلِبِ الْحَرَامُ صَبْرَكُمْ، وَ لا تَنْسَوْا عِنْدَ النِّعَمِ شُكْرَكُمْ فَقَدْ اَعْذَرَ اللَّهُ إلَيْكُمْ بِحُجَجٍ مُسْفِرَةٍ ظَاهِرَةٍ، وَ كُتُبٍ بَارِزَةِ الْعُذْرِ وَاضِحَةٍ.

    اس خطبہ کا نام ’’غراء‘‘ ہے جو امیر المومنین علیہ السلام کے عجیب و غریب خطبوں میں شمار ہوتا ہے۔ تمام حمد اس اللہ کیلئے ہے جو اپنی طاقت کے اعتبار سے بلند، اپنی بخشش کے لحاظ سے قریب ہے۔ ہر نفع و زیادتی کا عطا کرنے والا اور ہر مصیبت و ابتلا کا دور کرنے والا ہے۔ میں اس کے کرم کی نوازشوں اور نعمتوں کی فراوانیوں کی بنا پر اس کی حمد و ثنا کرتا ہوں۔ میں اس پر ایمان رکھتا ہوں، چونکہ وہ اوّل و ظاہر ہے اور اس سے ہدایت چاہتا ہوں، چونکہ وہ قریب تر اور ہادی ہے اور اس سے مدد چاہتا ہوں، چونکہ وہ قادر و توانا ہے اور اس پر بھروسا کرتا ہوں، چونکہ وہ ہر طرح کی کفایت و اعانت کرنے والا ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے عبد و رسول ہیں، جنہیں احکام کے نفاذ اور حجت کے اتمام اور عبرتناک واقعات پیش کر کے پہلے سے متنبہ کر دینے کیلئے بھیجا۔ خدا کے بندو! میں تمہیں اس اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں جس نے تمہارے (سمجھانے کے) لئے مثالیں پیش کیں اور تمہاری زندگی کے اوقات مقرر کئے،تمہیں (مختلف) لباسوں [۱] سے ڈھانپا اور تمہارے رزق کا سامان فراواں کیا۔ اس نے تمہارا پورا جائزہ لے رکھا ہے اور تمہارے لئے جزا مقرر کی ہے اور تمہیں اپنی وسیع نعمتوں اور فراخ عطیوں سے نوازا اور مؤثر دلیلوں سے تمہیں متنبہ کر دیا ہے۔ وہ ایک ایک کر کے تمہیں گِن چکا ہے اور اس مقامِ آزمائش و محل عبرت میں اس نے تمہاری عمریں مقرر کر دی ہیں۔ اس میں تمہاری آزمائش ہے اور اس کی درآمد و برآمد پر تمہارا حساب ہو گا۔ اس دنیا کا گھاٹ گدلا اور سیراب ہونے کی جگہ کیچڑ سے بھری ہوئی ہے۔ اس کا ظاہر خوشنما اور باطن تباہ کن ہے۔ یہ ایک مٹ جانے والا دھوکا، غروب ہو جانے والی روشنی، ڈھل جانے والا سایہ اور جھکا ہوا ستون ہے۔ جب اس سے نفرت کرنے والا اس سے دل لگا لیتا ہے اور اجنبی اس سے مطمئن ہو جاتا ہے تو یہ اپنے پیروں کو اُٹھا کر زمین پر دے مارتی ہے اور اپنے جال میں پھانس لیتی ہے اور اپنے تیروں کا نشانہ بنا لیتی ہے اور اس کے گلے میں موت کا پھندا ڈال کر تنگ و تار قبر اور وحشت ناک منزل تک لے جاتی ہے کہ جہاں سے وہ اپنا ٹھکانا (جنت یا دوزخ) دیکھ لے اور اپنے کئے کا نتیجہ پالے۔ بعد میں آنے والوں کی حالت بھی اَگلوں کی سی ہے۔ نہ موت کانٹ چھانٹ سے منہ موڑتی ہے اور نہ باقی رہنے والے گناہ سے باز آتے ہیں۔ باہم ایک دوسرے کے طور طریقوں کی پیروی کرتے ہیں اور یکے بعد دیگرے منزلِ منتہا و مقامِ فنا کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ یہاں تک کہ جب تمام معاملات ختم ہو جائیں گے اور دنیا کی عمر تمام ہو جائے گی اور قیامت کا ہنگام آ جائے گا تو اللہ سب کو قبر کے گوشوں [۲] ، پرندوں کے گھونسلوں، درندوں کے بھٹوں اور ہلاکت گاہوں سے نکالے گا، گروہ در گروہ، صامت و ساکت، ایستادہ و صف بستہ امر الٰہی کی طرف بڑھتے ہوئے اور اپنی جائے بازگشت کی جانب دوڑتے ہوئے، نگاهِ قدرت ان پر حاوی اور پکارنے والے کی آواز ان سب کے کان میں آتی ہوئی ہو گی۔ وہ ضعف و بے چارگی کا لباس پہنے ہوئے ہوں گے اور عجز و بے کسی کی وجہ سے ذلت ان پر چھائی ہوئی ہو گی، حیلے اور ترکیبیں غائب اور امیدیں منقطع ہو چکی ہوں گی، دل مایوسانہ خاموشیوں کے ساتھ بیٹھتے ہوں گے، آوازیں دَب کر خاموش ہو جائیں گی، پسینہ منہ میں پھندا ڈال دے گا، وحشت بڑھ جائے گی اور جب انہیں آخری فیصلہ سنانے، عملوں کا معاوضہ دینے اور عذاب و عقوبت اور اجر و ثواب کیلئے بُلایا جائے گا تو پکارنے والے کی گر جدار آواز سے کان لرز اٹھیں گے۔ یہ بندے اس کے اقتدار کا ثبوت دینے کیلئے وجود میں آئے ہیں اور غلبہ و تسلط کے ساتھ ان کی تربیت ہوئی ہے۔ نزع کے وقت ان کی روحیں قبض کر لی جاتی ہیں اور قبروں میں رکھ دیئے جاتے ہیں، (جہاں) یہ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور (پھر) قبروں سے اکیلے اٹھائے جائیں گے اور عملوں کے مطابق جزا پائیں گے اور سب کو الگ الگ حساب دینا ہو گا۔ انہیں دنیا میں رہتے ہوئے گلو خلاصی کا موقع دیا گیا تھا اور سیدھا راستہ بھی دکھایا جا چکا تھا اور اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے مہلت بھی دی گئی تھی، شک و شبہات کی تاریکیاں ان سے دور کر دی گئی تھیں اور اس مدتِ حیات و آماجگاہ عمل میں انہیں کھلا چھوڑ دیا گیا تھا تاکہ آخرت میں دوڑ لگانے کی تیاری اور سوچ بچار سے مقصد کی تلاش کر لیں اور اتنی مہلت پائیں جتنی فوائد کے حاصل کرنے اور اپنی آئندہ منزل کا سامان کرنے کیلئے ضروری ہے۔ یہ کتنی ہی صحیح مثالیں اور شفا بخش نصیحتیں ہیں، بشرطیکہ انہیں پاکیزہ دل اور سننے والے کان اور مضبوط رائیں اور ہوشیار عقلیں نصیب ہوں۔ اللہ سے ڈرو! اس شخص کے مانند جس نے نصیحت کی باتوں کو سنا تو جھک گیا، گناہ کیا تو اس کا اعتراف کیا، ڈرا تو عمل کیا، خوف کیا تو نیکیوں کی طرف بڑھا، قیامت کا یقین کیا تو اچھے اعمال بجا لایا، عبرتیں دلائی گئیں تو اس نے عبرت حاصل کی اور خوف دلایا گیا تو بُرائیوں سے رُک گیا اور (اللہ کی پکار پر) لبیک کہی تو پھر اس کی طرف رخ موڑ لیا اور اس کی طرف توبہ و اِنابت کے ساتھ متوجہ ہوا، (اَگلوں کی) پوری پوری پیروی کی اور حق کے دکھائے جانے پر اسے دیکھ لیا۔ ایسا شخص طلبِ حق کیلئے سرگرمِ عمل رہا اور (دنیا کے بندھنوں سے ) چھوٹ کر بھاگ کھڑا ہوا۔ اس نے اپنے لئے ذخیرہ فراہم کیا اور باطن کو پاک و صاف رکھا اور آخرت کا گھر آباد کر لیا۔ سفرِ آخرت اور اس کی راه نوردی کیلئے اور احتیاج کے مواقع اور فقر و فاقہ کے مقامات کے پیشِ نظر اس نے زاد اپنے ہمراہ بار کر لیا ہے۔ اللہ کے بندو! اپنے پیدا ہونے کی غرض و غایت کے پیش نظر اس سے ڈرتے رہو اور جس حد تک اس نے تمہیں ڈرایا ہے اس حد تک اس سے خوف کھاتے رہو اور اس سے اس کے سچے وعدے کا ایفاء چاہتے ہوئے اور ہول قیامت سے ڈرتے ہوئے ان چیزوں کا استحقاق پیدا کرو جو اس نے تمہارے لئے مہیا کر رکھی ہیں۔ [اسی خطبہ میں یہ بھی الفاظ ہیں] اس نے تمہارے لئے کان بنائے تاکہ ضروری اور اہم چیزوں کو سن کر محفوظ رکھیں اور اس نے تمہیں آنکھیں دی ہیں تاکہ وہ کوری و بے بصری سے نکل کر روشن و ضیاء بار ہوں اور جسم کے مختلف حصے جن میں سے ہر ایک میں بہت سے اعضاء ہیں جن کے پیچ و خم ان کی مناسبت سے ہیں۔ اپنی صورتوں کی ترکیب اور عمر کی مدتوں کے تناسب کے ساتھ ساتھ ایسے بدنوں کے ساتھ جو اپنے ضروریات کو پورا کر رہے ہیں اور ایسے دلوں کے ساتھ ہیں جو اپنی غذائے روحانی کی تلاش میں لگے رہتے ہیں۔ علاوہ دیگر بڑی نعمتوں اور احسان مند بنانے والی بخششوں اور سلامتی کے حصاروں کے۔ اور اس نے تمہاری عمریں مقرر کر دی ہیں جنہیں تم سے مخفی رکھا ہے اور گزشتہ لوگوں کے حالات و واقعات سے تمہارے لئے عبرت اندوزی کے مواقع باقی رکھ چھوڑے ہیں۔ ایسے لوگ جو اپنے حظ و نصیب سے لذت اندوز تھے اور کھلے بندوں آزاد پھرتے تھے، کس طرح امیدوں کے بر آنے سے پہلے موت نے انہیں جا لیا اور عمر کے ہاتھ نے انہیں ان امیدوں سے دور کر دیا۔ اس وقت انہوں نے کچھ سامان نہ کیا کہ جب بدن تندرست تھے اور اس وقت عبرت و نصیحت حاصل نہ کی کہ جب جوانی کا دور تھا۔ کیا یہ بھر پور جوانی والے، کمر جھکا دینے والے بڑھاپے کے منتظر ہیں اور صحت کی تر و تازگی والے ٹوٹ پڑنے والی بیماریوں کے انتظار میں ہیں اور یہ زندگی والے فنا کی گھڑیاں دیکھ رہے ہیں؟ جب چل چلاؤ کا ہنگام نزدیک اور کوچ قریب ہو گا اور (بستر مرگ پر) قلق و اضطراب کی بے قراریاں اور سوز و تپش کی بے چینیاں اور لعابِ دہن کے پھندے ہوں گے اور عزیز و اقارب اور اولاد و احباب سے مدد کیلئے فریاد کرتے ہوئے ادھر ادھر کروٹیں بدلنے کا وقت آ گیا ہو گا تو کیا قریبیوں نے موت کو روک لیا، یا رونے والیوں کے (رونے نے) کچھ فائدہ پہنچایا۔ اسے تو قبرستان میں قبر کے ایک تنگ گوشے کے اندر جکڑ باندھ کر اکیلا چھوڑ دیا گیا ہے، سانپ اور بچھوؤں نے اس کی جلد کو چھلنی کر دیا ہے اور (وہاں کی) پامالیوں نے اس کی تر و تازگی کو فنا کر دیا ہے، آندھیوں نے اس کے آثار مٹا ڈالے اور حادثات نے اس کے نشانات تک محو کر دیئے۔ تر و تازہ جسم لاغر و پژ مردہ ہو گئے، ہڈیاں گل سڑ گئیں اور رُوحیں (گناہ کے) بار گراں کے نیچے دبی پڑی ہیں اور غیب کی خبروں پر یقین کر چکی ہیں، لیکن ان کیلئے اب نہ اچھے عملوں میں اضافہ کی کوئی صورت اور نہ بد اعمالیوں سے توبہ کی کچھ گنجائش ہے۔ کیا تم انہی مر چکنے والوں کے بیٹے، باپ، بھائی اور قریبی نہیں ہو؟ آخر تمہیں بھی تو ہو بہو انہی کے سے حالات کا سامنا کرنا اور انہی کی راہ پر چلنا ہے اور انہی کی شاہراہ پر گزرنا ہے۔ مگر دل اب بھی حظ و سعادت سے بے رغبت اور ہدایت سے بے پروا ہیں اور غلط میدان میں جا رہے ہیں۔ گویا ان کے علاوہ کوئی اور مراد و مخاطب ہے اور گویا ان کیلئے دنیا سمیٹ لینا ہی صحیح راستہ ہے۔ یاد رکھو کہ تمہیں گزرنا ہے صراط پر اور وہاں کی ایسی جگہوں پر جہاں قدم لڑکھڑانے لگتے ہیں اور پَیر پھسل جاتے ہیں اور قدم قدم پر خوف و دہشت کے خطرات ہیں۔ اللہ سے اس طرح ڈرو جس طرح وہ مردِ زیرک و دانا ڈرتا ہے کہ جس کے دل کو (عقبیٰ کی) سوچ بچار نے اور چیزوں سے غافل کر دیا ہو اور خوف نے اس کے بدن کو تعب و کلفت میں ڈال دیا ہو اور نمازِ شب نے اس کی تھوڑی بہت نیند کو بھی بیداری سے بدل دیا ہو اور امید ثواب میں اس کے دن کی تپتی ہوئی دوپہریں پیاس میں گزرتی ہوں اور زہد و ورع نے اس کی خواہشوں کو روک دیا ہو اور ذکر ِالٰہی سے اس کی زبان ہر وقت حرکت میں ہو، خطروں کے آنے سے پہلے اس نے خوف کھایا ہو اور کٹی پھٹی راہوں سے بچتا ہوا سیدھی راہ پر ہو لیا ہو اور راہ مقصود پر آنے کیلئے سیدھا راستہ اختیار کیا ہو، نہ خوش فریبیوں نے اس میں پیچ و تاب پیدا کیا ہو اور نہ مشتبہ باتوں نے اس کی آنکھوں پر پردہ ڈالا ہو، بشارت کی خوشیوں اور نعمت کی آسائشوں کو پا کر میٹھی نیند سوتا ہے اور امن چین سے دن گزارتا ہے، وہ دنیا کی عبور گاہ سے قابلِ تعریف سیرت کے ساتھ گزر گیا اور آخرت کی منزل پر سعادتوں کے ساتھ پہنچا، (وہاں کے) خطروں کے پیش نظر اس نے نیکیوں کی طرف قدم بڑھایا اور اچھائیوں کیلئے اس وقفہ حیات میں تیز گام چلا، طلبِ آخرت میں دلجمعی و رغبت سے بڑھتا گیا اور برائیوں سے بھاگتا رہا اور آج کے دن کل کا خیال رکھا اور پہلے سے اپنے آگے کی ضرورتوں پر نظر رکھی۔ بخشش و عطا کیلئے جنت اور عقاب و عذاب کیلئے دوزخ سے بڑھ کر کیا ہو گا اور انتقام لینے اور مدد کرنے کیلئے اللہ سے بڑھ کر کون ہو سکتا ہے؟ اور سند و حجت بن کر اپنے خلاف سامنے آنے کیلئے قرآن سے بڑھ کر کیا ہے؟ میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں جس نے ڈرانے والی چیزوں کے ذریعے عذر تراشی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رکھی اور سيدھی راه دکھا کر حجت تمام کر دى ہے اور تمہیں اس دشمن سے ہوشيار کر ديا ہے جو چپکے سے سينوں ميں نفوذ کر جاتا ہے اور کانا پھوسى کرتے ہوئے کانوں ميں پھونک ديتا ہے۔ چنانچه وه گمراه کر کے تباه و برباد کر ديتا ہے اور وعدے كركے طفل تسليوں سے ڈھارس بندھائے ركھتا ہے۔ (پہلے تو) بڑے سے بڑے جرموں كو سنوار كر سامنے لاتا ہے اور بڑے بڑے مہلک گناہوں کو ہلکا اور سبک کر کے دکھاتا ہے اور جب بہکائے ہوئے نفس كو گمراہى كے ڈھرے پر لگا ديتا ہے اور اسے اپنے پھندوں ميں اچھی طرح جكڑ ليتا ہے تو جسے سجایا تھا اُس كو برا كہنے لگتا ہے اور جسے ہلکا اور سبک دكھايا تھا اس کی گراں باری و اہمیت بتاتا ہے اور جس سے مطمئن اور بے خوف کیا تھا اس سے ڈرانے لگتا ہے۔ [اسی خطبے کا ایک جز یہ ہے کہ جس میں انسان کی پیدائش کا بیان ہے] یا پھر اسے دیکھو جسے (اللہ نے) ماں کے پیٹ کی اندھیاریوں اور پردے کی اندرونی تہوں میں بنایا، جو ایک (جراثیم حیات) سے چھلکتا ہوا نطفہ اور بے شکل و صورت کا منجمد خون تھا، (پھر انسانی خط و خال کے سانچے میں ڈھل کر) جنین بنا اور (پھر) طفل شیر خوار اور (پھر حد ِرضاعت سے نکل کر)، طفل (نوخیز) اور (پھر) پورا پورا جوان ہوا۔ (پھر) اللہ نے اسے نگہداشت کرنے والا دل اور بولنے والی زبان اور دیکھنے والی آنکھیں دیں تاکہ عبرت حاصل کرتے ہوئے کچھ سمجھے بوجھے اور نصیحت کا اثر لیتے ہوئے برائیوں سے باز رہے۔ مگر ہوا یہ کہ جب اس (کے اعضاء) میں توازن و اعتدال پیدا ہو گیا اور اس کا قد و قامت اپنی بلندی پر پہنچ گیا تو غرور و سرمستی میں آ کر (ہدایت سے) بھڑک اٹھا اور اندھا دھند بھٹکنے لگا۔ اس طرح کہ رندی و ہوسناکی کے ڈول بھر بھر کے کھینچ رہا تھا اور نشاط و طرب کی کیفیتوں اور ہوس بازی کی تمناؤں کو پورا کرنے میں جان کھپائے ہوئے تھا۔ نہ کسی مصیبت کو خاطر میں لاتا تھا، نہ کسی ڈر اندیشے کا اثر لیتا تھا۔ آخر انہی شوریدگیوں میں غافل و مدہوش حالت میں مر گیا اور جو تھوڑی بہت زندگی تھی اسے بیہودگیوں میں گزار گیا۔ نہ ثواب کمایا نہ کوئی فریضہ پورا کیا۔ ابھی وہ باقی ماندہ سر کشیوں کی راہ ہی میں تھا کہ موت لانے والی بیماریاں اس پر ٹوٹ پڑیں کہ وہ بھونچکا سا ہو کر رہ گیا اور اس نے رات اندوہ و مصیبت کی کلفتوں اور درد و آلام کی سختیوں میں جاگتے ہوئے اس طرح گزار دی کہ وہ حقیقی بھائی، مہربان باپ، بے چینی سے فریاد کرنے والی ماں اور بے قراری سے سینہ کوٹنے والی بہن کے سامنے سکرات کی مدہوشیوں اور سخت بدحواسیوں اور درد ناک چیخوں اور سانس اُکھڑنے کی بے چینیوں اور نزع کی درماندہ کر دینے والی شدتوں میں پڑا ہوا تھا۔ پھر اسے کفن میں نامرادی کے عالم میں لپیٹ دیا گیا اور وہ بڑے چپکے سے بلا مزاحمت دوسروں کی نقل و حرکت کا پابند رہا۔ پھر اسے تختے پر ڈالا گیا، اس عالم میں کہ وہ محنت و مشقت سے خستہ حال اور بیماریوں کے سبب سے نڈھال ہو چکا تھا۔ اسے سہارا دینے والے نوجوانوں اور تعاون کرنے والے بھائیوں نے کاندھا دے کر پردیس کے گھر تک پہنچا دیا کہ جہاں میل ملاقات کے سارے سلسلے ٹوٹ جاتے ہیں۔ اور جب مشایعت کرنے والے اور مصیبت زدہ (عزیز و اقارب) پلٹ آئے تو اُسے قبر کے گڑھے میں اٹھا کر بٹھا دیا گیا۔ فرشتوں کے سوال و جواب کے واسطے سوال کی دہشتوں اور امتحان کی ٹھوکریں کھانے کیلئے اور پھر وہاں کی سب سے بڑی آفت کھولتے ہوئے پانی کی مہمانی اور جہنم میں داخل ہونا ہے اور دوزخ کی لپٹیں اور بھڑکتے ہوئے شعلوں کی تیزیاں ہیں۔ نہ اس میں راحت کیلئے کوئی وقفہ ہے اور نہ سکون و راحت کیلئے کچھ دیر کیلئے بچاؤ ہے، نہ روکنے والی کوئی قوت ہے اور نہ اب سکون دینے والی موت، نہ تکلیف کو بھلا دینے کیلئے نیند، بلکہ وہ ہر وقت قسم قسم کی موتوں اور گھڑی گھڑی کے (نت نئے) عذابوں میں ہو گا۔ ہم اللہ ہی سے پناہ کے خواستگار ہیں۔ اللہ کے بندو! وہ لوگ کہاں ہیں جنہیں عمریں دی گئیں تو وہ نعمتوں سے بہرہ یاب ہوتے رہے اور انہیں بتایا گیا تو وہ سب کچھ سمجھ گئے اور وقت دیا گیا تو انہوں نے وقت غفلت میں گزار دیا اور صحیح و سالم رکھے گئے تو اس نعمت کو بھول گئے۔ انہیں لمبی مہلت دی گئی تھی، اچھی اچھی چیزیں بھی انہیں بخشی گئی تھیں، درد ناک عذاب سے انہیں ڈرایا بھی گیا تھا اور بڑی چیزوں کے ان سے وعدے بھی کئے گئے تھے۔ (تو اب تم ہی) ورطۂ ہلاکت میں ڈالنے والے گناہوں اور اللہ کو ناراض کرنے والی خطاؤں سے بچتے رہو۔ اے چشم و گوش رکھنے والو! اے صحت و ثروت والو! کیا بچاؤ کی کوئی جگہ یا چھٹکارے کی کوئی گنجائش ہے؟ یا کوئی پناہ گاہ یا ٹھکانا ہے؟ بھاگ نکلنے کا موقع یا پھر دنیا میں پلٹ کر آنے کی کوئی صورت ہے؟ اگر نہیں ہے تو پھر کہاں بھٹک رہے ہو؟ اور کدھر کا رخ کئے ہوئے ہو؟ یا کن چیزوں کے فریب میں آ گئے ہو؟ حالانکہ اس لمبی چوڑی زمین میں سے تم میں سے ہر ایک کا حصہ اپنے قد بھر کا ٹکڑا ہی تو ہے کہ جس میں وہ مٹی سے اٹا ہوا رخسار کے بَل پڑا ہو گا۔ یہ ابھی غنیمت ہے خدا کے بندو، جبکہ گردن میں پھندا نہیں پڑا ہوا ہے اور روح بھی آزاد ہے۔ ہدایت حاصل کرنے کی فرصت اور جسموں کی راحت اور مجلسوں کے اجتماع اور زندگی کی بقایا مہلت اور از سر نو اختیار سے کام لینے کے مواقع اور توبہ کی گنجائش اور اطمینان کی حالت میں، قبل اس کے کہ تنگی و ضیق میں پڑ جائے اور خوف و اضمحلال اس پر چھا جائے اور قبل اس کے کہ موت آ جائے اور قادر و غالب کی گرفت اسے جکڑ لے۔ سیّد رضیؒ فرماتے ہیں کہ: وارد ہوا ہے کہ جب حضرتؑ نے یہ خطبہ ارشاد فرمایا تو بدن لرزنے لگے، رونگٹے کھڑے ہو گئے، آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے اور دل کانپ اُٹھے۔ بعض لوگ اس خطبہ کو ’’خطبۂ غراء‘‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

  82. خطبہ 82- عمرو بن عاص کے بارے میں

    82

    مَا اَصِفُ مِنْ دَارٍ اَوَّلُهَا عَناءٌ وَ آخِرُها فَناءٌ فِي حَلاَلِها حِسابٌ وَ فِي حَرَامِها عِقابٌ مَنِ اسْتَغْنَى فِيهَا فُتِنَ وَ مَنِ افْتَقَرَ فِيهَا حَزِنَ وَ مَنْ سَاعَاهَا فَاتَتْهُ وَ مَنْ قَعَدَ عَنْهَا وَ اتَتْهُ وَ مَنْ اَبْصَرَ بِهَا بَصَّرَتْهُ وَ مَنْ اَبْصَرَ إِلَيْهَا اَعْمَتْهُ. قال السيد الشريف: وَ إذا تامّل المتامل قَوله (ع) : وَ مَنْ اَبْصر بِها بَصْرَته وجد تَحْتُه مِنْ المَعْنى العَجيبُ وَالْغَرَضَ البَعيدُ ما لا تَبْلُغْ غايَتَه وَ لا يُدْرِكْ غَوْرِه لا سيّما إذا قرن إليه قِوْلِه : وَ مَنْ اَبْصر إليها اَعْمِتِه فَإنَّه يَجِدُ الفِرَقْ بَيْنَ ابصر بِها وَ ابصر إليْها واضحا نيّرا وَ عجيبا باهرا.

    عمرو ابن عاص کے بارے میں نابغہ کے بیٹے پر حیرت ہے کہ وہ میرے بارے میں اہل شام سے یہ کہتا پھرتا ہے کہ مجھ میں مسخرہ پن پایا جاتا ہے اور میں کھیل و تفریح میں پڑا رہتا ہوں۔ اس نے غلط کہا اور کہہ کر گنہگار ہوا۔ یاد رکھو کہ بد ترین قول وہ ہے جو جھوٹ ہو اور وہ خود بات کرتا ہے تو جھوٹی اور وعدہ کرتا ہے تو اس کے خلاف کرتا ہے، مانگتا ہے تو لپٹ جاتا ہے اور خود اس سے مانگا جائے تو اس میں بخل کر جاتا ہے۔ وہ پیمان شکنی اور قطع رحمی کرتا ہے اور جنگ کے موقعہ پر بڑی شان سے بڑھ بڑھ کر ڈانٹتا اور حکم چلاتا ہے مگر اسی وقت تک کہ تلواریں اپنی جگہ پر زور نہ پکڑ لیں اور جب ایسا وقت آتا ہے تو اس کی بڑی چال یہ ہوتی ہے کہ اپنے حریف کے سامنے عُریاں [۱] ہو جائے۔ خدا کی قسم! مجھے تو موت کی یاد نے کھیل کود سے باز رکھا ہے اور اسے عاقبت فراموشی نے سچ بولنے سے روک دیا ہے۔ اس نے معاویہ کی بیعت یوں ہی نہیں کی، بلکہ پہلے اس سے یہ شرط منوالی کہ اسے اس کے بدلے میں صلہ دینا ہو گا اور دین کے چھوڑنے پر ایک ہدیہ پیش کرنا ہو گا۔

  83. خطبہ 83- تنزیہ بازی اور پند و نصائح کے سلسلے میں فرمایا

    83

    الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَلَا بِحَوْلِهِ وَ دَنَا بِطَوْلِهِ مَانِحِ كُلِّ غَنِيمَةٍ وَ فَضْلٍ وَ كَاشِفِ كُلِّ عَظِيمَةٍ وَ أَزْلٍ أَحْمَدُهُ عَلَى عَوَاطِفِ كَرَمِهِ وَ سَوَابِغِ نِعَمِهِ وَ أُومِنُ بِهِ أَوَّلًا بَادِياً وَ أَسْتَهْدِيهِ قَرِيباً هَادِياً وَ أَسْتَعِينُهُ قَاهِراً قَادِراً وَ أَتَوَكَّلُ عَلَيْهِ كَافِياً نَاصِراً وَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً صلى الله عليه واله عَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ أَرْسَلَهُ لِإِنْفَاذِ أَمْرِهِ وَ إِنْهَاءِ عُذْرِهِ وَ تَقْدِيمِ نُذُرِهِ الوصیّة بالتّقوی أُوصِيكُمْ عِبَادَ اللَّهِ بِتَقْوَى اللَّهِ الَّذِي ضَرَبَ لَكُمُ الْأَمْثَالَ وَ وَقَّتَ لَكُمُ الْآجَالَ وَ أَلْبَسَكُمُ الرِّيَاشَ وَ أَرْفَغَ لَكُمُ الْمَعَاشَ وَ أَحَاطَ بِكُمُ الْإِحْصَاءَ وَ أَرْصَدَ لَكُمُ الْجَزَاءَ وَ آثَرَكُمْ بِالنِّعَمِ السَّوَابِغِ وَ الرِّفَدِ الرَّوَافِغِ وَ أَنْذَرَكُمْ بِالْحُجَجِ الْبَوَالِغِ فَأَحْصَاكُمْ عَدَداً وَ وَظَّفَ لَكُمْ مُدَداً فِي قَرَارِ خِبْرَةٍ وَ دَارِ عِبْرَةٍ أَنْتُمْ مُخْتَبَرُونَ فِيهَا وَ مُحَاسَبُونَ عَلَيْهَا التّنفیر من الدّنیا فَإِنَّ الدُّنْيَا رَنِقٌ مَشْرَبُهَا رَدِغٌ مَشْرَعُهَا يُونِقُ مَنْظَرُهَا وَ يُوبِقُ مَخْبَرُهَا غُرُورٌ حَائِلٌ وَ ضَوْءٌ آفِلٌ وَ ظِلٌّ زَائِلٌ وَ سِنَادٌ مَائِلٌ حَتَّى إِذَا أَنِسَ نَافِرُهَا وَ اطْمَأَنَّ نَاكِرُهَا قَمَصَتْ بِأَرْجُلِهَا وَ قَنَصَتْ بِأَحْبُلِهَا وَ أَقْصَدَتْ بِأَسْهُمِهَا وَ أَعْلَقَتِ الْمَرْءَ أَوْهَاقَ الْمَنِيَّةِ قَائِدَةً لَهُ إِلَى ضَنْكِ الْمَضْجَعِ وَ وَحْشَةِ الْمَرْجِعِ وَ مُعَايَنَةِ الْمَحَلِّ وَ ثَوَابِ الْعَمَلِ وَ كَذَلِك‏ الْخَلَفُ يَعْقِبُ السَّلَفِ لَا تُقْلِعُ الْمَنِيَّةُ اخْتِرَاماً وَ لَا يَرْعَوِي الْبَاقُونَ اجْتِرَاماً بعد الموت، البعث يَحْتَذُونَ مِثَالًا وَ يَمْضُونَ أَرْسَالًا إِلَى غَايَةِ الِانْتِهَاءِ وَ صَيُّورِ الْفَنَاءِ. حَتَّى إِذَا تَصَرَّمَتِ الْأُمُورُ وَ تَقَضَّتِ الدُّهُورُ وَ أَزِفَ النُّشُورُ أَخْرَجَهُمْ مِنْ ضَرَائِحِ الْقُبُورِ وَ أَوْكَارِ الطُّيُورِ وَ أَوْجِرَةِ السِّبَاعِ وَ مَطَارِحِ الْمَهَالِكِ سِرَاعاً إِلَى أَمْرِهِ مُهْطِعِينَ إِلَى مَعَادِهِ رَعِيلًا صُمُوتاً قِيَاماً صُفُوفاً يَنْفُذُهُمُ الْبَصَرُ وَ يُسْمِعُهُمُ الدَّاعِي عَلَيْهِمْ لَبُوسُ الِاسْتِكَانَةِ وَ ضَرَعُ الِاسْتِسْلَامِ وَ الذِّلَّةِ قَدْ ضَلَّتِ الْحِيَلُ وَ انْقَطَعَ الْأَمَلُ وَ هَوَتِ الْأَفْئِدَةُ كَاظِمَةً وَ خَشَعَتِ الْأَصْوَاتُ مُهَيْنِمَةً وَ أَلْجَمَ الْعَرَقُ وَ عَظُمَ الشَّفَقُ وَ أُرْعِدَتِ الْأَسْمَاعُ لِزَبْرَةِ الدَّاعِي إِلَى فَصْلِ الْخِطَابِ وَ مُقَايَضَةِ الْجَزَاءِ وَ نَكَالِ الْعِقَابِ وَ نَوَالِ الثَّوَابِ تنبيه الخلق‏ عِبَادٌ مَخْلُوقُونَ اقْتِدَاراً وَ مَرْبُوبُونَ اقْتِسَاراً وَ مَقْبُوضُونَ احْتِضَاراً وَ مُضَمَّنُونَ أَجْدَاثاً وَ كَائِنُونَ رُفَاتاً وَ مَبْعُوثُونَ أَفْرَاداً وَ مَدِينُونَ جَزَاءً وَ مُمَيَّزُونَ حِسَاباً قَدْ أُمْهِلُوا فِي طَلَبِ الْمَخْرَجِ وَ هُدُوا سَبِيلَ الْمَنْهَجِ وَ عُمِّرُوا مَهَلَ الْمُسْتَعْتِبِ وَ كُشِفَتْ عَنْهُمْ سُدَفُ الرِّيَبِ وَ خُلُّوا لِمِضْمَارِ الْجِيَادِ وَ رَوِيَّةِ الِارْتِيَادِ وَ أَنَاةِ الْمُقْتَبِسِ الْمُرْتَادِ فِي مُدَّةِ الْأَجَلِ وَ مُضْطَرَبِ الْمَهَلِ فضل التذكير فَيَا لَهَا أَمْثَالًا صَائِبَةً وَ مَوَاعِظَ شَافِيَةً لَوْ صَادَفَتْ قُلُوباً زَاكِيَةً وَ أَسْمَاعاً وَاعِيَةً وَ آرَاءً عَازِمَةً وَ أَلْبَاباً حَازِمَةً فَاتَّقُوا اللَّهَ تَقِيَّةَ مَنْ سَمِعَ‏ فَخَشَعَ وَ اقْتَرَفَ فَاعْتَرَفَ وَ وَجِلَ فَعَمِلَ وَ حَاذَرَ فَبَادَرَ وَ أَيْقَنَ فَأَحْسَنَ وَ عُبِّرَ فَاعْتَبَرَ وَ زُجِرَ فَازْدَجَرَ وَ أَجَابَ فَأَنَابَ وَ رَاجَعَ فَتَابَ وَ اقْتَدَى فَاحْتَذَى وَ أُرِيَ فَرَأَى فَأَسْرَعَ طَالِباً وَ نَجَا هَارِباً فَأَفَادَ ذَخِيرَةً وَ أَطَابَ سَرِيرَةً وَ عَمَرَ مَعَاداً وَ اسْتَظْهَرَ زَاداً لِيَوْمِ رَحِيلِهِ وَ وَجْهِ سَبِيلِهِ وَ حَالِ حَاجَتِهِ وَ مَوْطِنِ فَاقَتِهِ وَ قَدَّمَ أَمَامَهُ لِدَارِ مُقَامِهِ فَاتَّقُوا اللَّهَ عِبَادَ اللَّهِ جَهَةَ مَا خَلَقَكُمْ لَهُ وَ احْذَرُوا مِنْهُ كُنْهَ مَا حَذَّرَكُمْ مِنْ نَفْسِهِ وَ اسْتَحِقُّوا مِنْهُ مَا أَعَدَّ لَكُمْ بِالتَّنَجُّزِ لِصِدْقِ مِيعَادِهِ وَ الْحَذَرِ مِنْ هَوْلِ مَعَادِهِ و منها: في التذكير بضروب النعم جَعَلَ لَكُمْ أَسْمَاعاً لِتَعِيَ مَا عَنَاهَا وَ أَبْصَاراً لِتَجْلُوَ عَنْ عَشَاهَا وَ أَشْلَاءً جَامِعَةً لِأَعْضَائِهَا مُلَائِمَةً لِأَحْنَائِهَا فِي تَرْكِيبِ صُوَرِهَا وَ مُدَدِ عُمُرِهَا بِأَبْدَانٍ قَائِمَةٍ بِأَرْفَاقِهَا وَ قُلُوبٍ رَائِدَةٍ لِأَرْزَاقِهَا فِي مُجَلِّلَاتِ نِعَمِهِ وَ مُوجِبَاتِ مِنَنِهِ وَ حَوَاجِزِ عَافِيَتِهِ وَ قَدَّرَ لَكُمْ أَعْمَاراً سَتَرَهَا عَنْكُمْ وَ خَلَّفَ لَكُمْ عِبَراً مِنْ آثَارِ الْمَاضِينَ قَبْلَكُمْ مِنْ مُسْتَمْتَعِ خَلَاقِهِمْ وَ مُسْتَفْسَحِ خِنَاقِهِمْ أَرْهَقَتْهُمُ الْمَنَايَا دُونَ الْآمَالِ وَ شَذَّبَهُمْ عَنْهَا تَخَرُّمُ الْآجَالِ لَمْ يَمْهَدُوا فِي سَلَامَةِ الْأَبْدَانِ وَ لَمْ يَعْتَبِرُوا فِي أُنُفِ الْأَوَانِ فَهَلْ يَنْتَظِرُ أَهْلُ بَضَاضَةِ الشَّبَابِ إِلَّا حَوَانِيَ الْهَرَمِ وَ أَهْلُ غَضَارَةِ الصِّحَّةِ إِلَّا نَوَازِلَ السَّقَمِ وَ أَهْلُ مُدَّةِ الْبَقَاءِ إِلَّا آوِنَةَ الْفَنَاءِ مَعَ قُرْبِ الزِّيَالِ وَ أُزُوفِ الِانْتِقَالِ وَ عَلَزِ الْقَلَقِ وَ أَلَمِ الْمَضَضِ وَ غُصَصِ الْجَرَضِ وَ تَلَفُّتِ الِاسْتِغَاثَةِ بِنُصْرَةِ الْحَفَدَةِ وَ الْأَقْرِبَاءِ وَ الْأَعِزَّةِ وَ الْقُرَنَاءِ فَهَلْ دَفَعَتِ الْأَقَارِبُ أَوْ نَفَعَتِ النَّوَاحِبُ وَ قَدْ غُودِرَ فِي مَحَلَّةِ الْأَمْوَاتِ رَهِيناً وَ فِي ضِيقِ الْمَضْجَعِ وَحِيداً قَدْ هَتَكَتِ الْهَوَامُّ جِلْدَتَهُ وَ أَبْلَتِ النَّوَاهِكُ جِدَّتَهُ وَ عَفَتِ الْعَوَاصِفُ آثَارَهُ وَ مَحَا الْحَدَثَانُ مَعَالِمَهُ وَ صَارَتِ الْأَجْسَادُ شَحِبَةً بَعْدَ بَضَّتِهَا وَ الْعِظَامُ نَخِرَةً بَعْدَ قُوَّتِهَا وَ الْأَرْوَاحُ مُرْتَهَنَةً بِثِقَلِ أَعْبَائِهَا مُوقِنَةً بِغَيْبِ أَنْبَائِهَا لَا تُسْتَزَادُ مِنْ صَالِحِ عَمَلِهَا وَ لَا تُسْتَعْتَبُ مِنْ سَيِّئِ زَلَلِهَا أَوَ لَسْتُمْ أَبْنَاءَ الْقَوْمِ وَ الْآبَاءَ وَ إِخْوَانَهُمْ وَ الْأَقْرِبَاءَ تَحْتَذُونَ أَمْثِلَتَهُمْ وَ تَرْكَبُونَ قِدَّتَهُمْ وَ تَطَئُونَ جَادَّتَهُمْ فَالْقُلُوبُ قَاسِيَةٌ عَنْ حَظِّهَا لَاهِيَةٌ عَنْ رُشْدِهَا سَالِكَةٌ فِي غَيْرِ مِضْمَارِهَا كَأَنَّ الْمَعْنِيَّ سِوَاهَا وَ كَأَنَّ الرُّشْدَ فِي إِحْرَازِ دُنْيَاهَا التحذير من هول الصراط وَ اعْلَمُوا أَنَّ مَجَازَكُمْ عَلَى الصِّرَاطِ وَ مَزَالِقِ دَحْضِهِ وَ أَهَاوِيلِ زَلَلِهِ وَ تَارَاتِ أَهْوَالِهِ فَاتَّقُوا اللَّهَ عِبَادَ اللَّهِ تَقِيَّةَ ذِي لُبٍّ شَغَلَ التَّفَكُّرُ قَلْبَهُ وَ أَنْصَبَ الْخَوْفُ بَدَنَهُ وَ أَسْهَرَ التَّهَجُّدُ غِرَارَ نَوْمِهِ وَ أَظْمَأَ الرَّجَاءُ هَوَاجِرَ يَوْمِهِ وَ ظَلَفَ الزُّهْدُ شَهَوَاتِهِ وَ أَوْجَفَ الذِّكْرُ بِلِسَانِهِ وَ قَدَّمَ الْخَوْفَ لِأَمَانِهِ وَ تَنَكَّبَ الْمَخَالِجَ عَنْ وَضَحِ السَّبِيلِ وَ سَلَكَ أَقْصَدَ الْمَسَالِكِ إِلَى‏ النَّهْجِ الْمَطْلُوبِ وَ لَمْ تَفْتِلْهُ فَاتِلَاتُ الْغُرُورِ وَ لَمْ تَعْمَ عَلَيْهِ مُشْتَبِهَاتُ الْأُمُورِ ظَافِراً بِفَرْحَةِ الْبُشْرَى وَ رَاحَةِ النُّعْمَى فِي أَنْعَمِ نَوْمِهِ وَ آمَنِ يَوْمِهِ قَدْ عَبَرَ مَعْبَرَ الْعَاجِلَةِ حَمِيداً وَ قَدَّمَ زَادَ الْآجِلَةِ سَعِيداً وَ بَادَرَ مِنْ وَجَلٍ وَ أَكْمَشَ فِي مَهَلٍ وَ رَغِبَ فِي طَلَبٍ وَ ذَهَبَ عَنْ هَرَبٍ وَ رَاقَبَ فِي يَوْمِهِ غَدَهُ وَ نَظَرَ قُدْمًا أَمَامَهُ فَكَفَى بِالْجَنَّةِ ثَوَاباً وَ نَوَالًا وَ كَفَى بِالنَّارِ عِقَاباً وَ وَبَالًا وَ كَفَى بِاللَّهِ مُنْتَقِماً وَ نَصِيراً وَ كَفَى بِالْكِتَابِ حَجِيجاً وَ خَصِيماً التّحذیر من وساوس الشّیطان أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ الَّذِي أَعْذَرَ بِمَا أَنْذَرَ وَ احْتَجَّ بِمَا نَهَجَ وَ حَذَّرَكُمْ عَدُوّاً نَفَذَ فِي الصُّدُورِ خَفِيّاً وَ نَفَثَ فِي الْآذَانِ نَجِيّاً فَأَضَلَّ وَ أَرْدَى وَ وَعَدَ فَمَنَّى وَ زَيَّنَ سَيِّئَاتِ الْجَرَائِمِ وَ هَوَّنَ مُوبِقَاتِ الْعَظَائِمِ حَتَّى إِذَا اسْتَدْرَجَ قَرِينَتَهُ وَ اسْتَغْلَقَ رَهِينَتَهُ أَنْكَرَ مَا زَيَّنَ وَ اسْتَعْظَمَ مَا هَوَّنَ وَ حَذَّرَ مَا أمَنَ منها في صفة خلق الإنسان أَمْ هَذَا الَّذِي أَنْشَأَهُ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْحَامِ وَ شُغُفِ الْأَسْتَارِ نُطْفَةً دِهَاقاً وَ عَلَقَةً مُحَاقًا وَ جَنِيناً وَ رَاضِعاً وَ وَلِيداً وَ يَافِعاً ثُمَّ مَنَحَهُ قَلْباً حَافِظاً وَ لِسَاناً لَافِظاً وَ بَصَراً لَاحِظاً لِيَفْهَمَ مُعْتَبِراً وَ يُقَصِّرَ مُزْدَجِراً حَتَّى إِذَا قَامَ اعْتِدَالُهُ وَ اسْتَوَى مِثَالُهُ نَفَرَ مُسْتَكْبِرا وَ خَبَطَ سَادِراً ً مَاتِحاً فِي غَرْبِ هَوَاهُ كَادِحاً سَعْياً لِدُنْيَاهُ فِي لَذَّاتِ طَرَبِهِ وَ بَدَوَاتِ أَرَبِهِ لَا يَحْتَسِبُ رَزِيَّةً وَ لَا يَخْشَعُ تَقِيَّةً فَمَاتَ فِي فِتْنَتِهِ غَرِيراً وَ عَاشَ فِي هَفْوَتِهِ يَسِيراً لَمْ يُفِدْ عِوَضاً وَ لَمْ يَقْضِ مُفْتَرَضاً دَهِمَتْهُ فَجَعَاتُ الْمَنِيَّةِ فِي غُبَّرِ جِمَاحِهِ وَ سَنَنِ مِرَاحِهِ فَظَلَّ سَادِراً وَ بَاتَ سَاهِراً فِي غَمَرَاتِ الْآلَامِ وَ طَوَارِقِ الْأَوْجَاعِ وَ الْأَسْقَامِ بَيْنَ أَخٍ شَقِيقٍ وَ وَالِدٍ شَفِيقٍ وَ دَاعِيَةٍ بِالْوَيْلِ جَزَعاً وَ لَادِمَةٍ لِلصَّدْرِ قَلَقاً وَ الْمَرْءُ فِي سَكْرَةٍ مُلْهِيَةٍ وَ غَمْرَةٍ كَارِثَةٍ وَ أَنَّةٍ مُوجِعَةٍ وَ جَذْبَةٍ مُكْرِبَةٍ وَ سَوْقَةٍ مُتْعِبَةٍ ثُمَّ أُدْرِجَ فِي أَكْفَانِهِ مُبْلِساً وَ جُذِبَ مُنْقَاداً سَلِساً ثُمَّ أُلْقِيَ عَلَى الْأَعْوَادِ رَجِيعَ وَصَبٍ وَ نِضْوَ سَقَمٍ تَحْمِلُهُ حَفَدَةُ الْوِلْدَانِ وَ حَشَدَةُ الْإِخْوَانِ إِلَى دَارِ غُرْبَتِهِ وَ مُنْقَطَعِ زَوْرَتِهِ وَ مُفْرِدِ وَحْشَتِهِ حَتَّى إِذَا انْصَرَفَ الْمُشَيِّعُ وَ رَجَعَ الْمُتَفَجِّعُ أُقْعِدَ فِي حُفْرَتِهِ نَجِيّاً لِبَهْتَةِ السُّؤَالِ وَ عَثْرَةِ الِامْتِحَانِ وَ أَعْظَمُ مَا هُنَالِكَ بَلِيَّةً نُزُلُ الْحَمِيمِ وَ تَصْلِيَةُ الْجَحِيمِ وَ فَوْرَاتُ السَّعِيرِ وَ سَوْرَاتُ الزَّفِيرِ لَا فَتْرَةٌ مُرِيحَةٌ وَ لَا دَعَةٌ مُزِيحَةٌ وَ لَا قُوَّةٌ حَاجِزَةٌ وَ لَا مَوْتَةٌ نَاجِزَةٌ وَ لَا سِنَةٌ مُسْلِيَةٌ بَيْنَ أَطْوَارِ الْمَوْتَاتِ وَ عَذَابِ السَّاعَاتِ إِنَّا بِاللَّهِ عَائِذُونَ الدرس المستفاد من الذين ماتوا عِبَادَ اللَّهِ أَيْنَ الَّذِينَ عُمِّرُوا فَنَعِمُوا وَ عُلِّمُوا فَفَهِمُوا وَ أُنْظِرُوا فَلَهُوا وَ سَلِمُوا فَنَسُوا أُمْهِلُوا طَوِيلًا وَ مُنِحُوا جَمِيلًا وَ حُذِّرُوا أَلِيماً وَ وُعِدُوا جَسِيماً احْذَرُوا الذُّنُوبَ الْمُوَرِّطَةَ وَ الْعُيُوبَ الْمُسْخِطَةَ أُولِي الْأَبْصَارِ وَ الْأَسْمَاعِ وَ الْعَافِيَةِ وَ الْمَتَاعِ هَلْ مِنْ مَنَاصٍ أَوْ خَلَاصٍ أَوْ مَعَاذٍ أَوْ مَلَاذٍ أَوْ فِرَارٍ أَوْ مَحَارٍ أَمْ لَا فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ أَمْ أَيْنَ تُصْرَفُونَ أَمْ بِمَا ذَا تَغْتَرُّونَ وَ إِنَّمَا حَظُّ أَحَدِكُمْ مِنَ الْأَرْضِ ذَاتِ الطُّوْلِ وَ الْعَرْضِ قِيدُ قَدِّهِ مُتَعَفِّراً عَلَى خَدِّهِ الْآنَ عِبَادَ اللَّهِ وَ الْخِنَاقُ مُهْمَلٌ و الرُّوحُ مُرْسَلٌ فِي فَيْنَةِ الْإِرْشَادِ وَ رَاحَةِ الْأَجْسَادِ وَ بَاحَةِ الِاحْتِشَادِ وَ مَهَلِ الْبَقِيَّةِ وَ أُنُفِ الْمَشِيَّةِ وَ إِنْظَارِ التَّوْبَةِ وَ انْفِسَاحِ الْحَوْبَةِ قَبْلَ الضَّنْكِ وَ الْمَضِيقِ وَ الرَّوْعِ وَ الزُّهُوقِ وَ قَبْلَ قُدُومِ الْغَائِبِ الْمُنْتَظَرِ وَ إِخْذَةِ الْعَزِيزِ الْمُقْتَدِرِ قال السيد الشريف: وَ فِي الخُبر اِنَّهُ (ع) لَما خُطِبَ بِهذِه الخُطْبَة اقشعْرت لَها الجُلُود وَ بِكت العُيون وِ رَجِفْتُ الْقُلوب و من الناس من يسمي هذه الخطبة الغراء

    میں گواہی دیتا ہوں کہ اُس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں جو يکتا و لاشریک ہے۔وہ اوّل ہے اس طرح کہ اس کے پہلے کوئی چیز نہیں، وہ آخر ہے یوں کہ اس کی کوئی انتہا نہیں۔ اس کی کسی صفت سے وہم و گمان باخبر نہیں ہو سکتے، نہ اس کی کسی کیفیت پر دلوں کا عقیدہ جم سکتا ہے، نہ اس کے اجزا ہیں کہ اس کا تجزیہ کیا جا سکے اور نہ قلب و چشم اس کا احاطہ کر سکتے ہیں۔ [اس خطبہ کا ایک حصہ یہ ہے] خدا کے بندو! مفید عبرتوں سے پند و نصیحت اور کھلی ہوئی دلیلوں سے عبرت حاصل کرو اور مؤثر خوف دہانیوں سے اثر لو اور مواعظ و اذکار سے فائدہ اٹھاؤ، کیونکہ یہ سمجھنا چاہیے کہ موت کے پنجے تم میں گڑ چکے ہیں اور تمہاری امید و آرزو کے تمام بندھن ایک دم ٹوٹ چکے ہیں، سختیاں تم پر ٹوٹ پڑی ہیں اور (موت کے) چشمہ پر کہ جہاں اترا جاتا ہے تمہیں کھینچ کر لے جایا جا رہا ہے اور ’’ہر نفس کے ساتھ ایک ہنکانے والا ہوتا ہے اور ایک شہادت دینے والا‘‘۔ ہنکانے والا اسے میدانِ حشر تک ہنکا کر لے جائے گا اور گواہ اس کے عملوں کی شہادت دے گا۔ [اسی خطبے کا یہ جز جنت کے متعلق ہے] اس میں ایک دوسرے سے بڑھے چڑھے ہوئے درجے ہیں اور مختلف معیار کی منزلیں ہیں۔ نہ اس کی نعمتوں کا سلسلہ ٹوٹے گا، نہ اس میں ٹھہرنے والوں کو وہاں سے کوچ کرنا ہے اور نہ اس میں ہمیشہ کے رہنے والوں کو بوڑھا ہونا ہے اور نہ اس میں بسنے والوں کو فقر و ناداری سے سابقہ پڑنا ہے۔

  84. خطبہ 84- آخرت کی تیاری اور احکام شریعت کی نگہداشت کے سلسلے میں فرمایا

    84

    عَجَباً لِابْنِ النَّابِغَةِ يَزْعُمُ لِأَهْلِ الشَّامِ أَنَّ فِيَّ دُعَابَةً وَ أَنِّي امْرُؤٌ تِلْعَابَةٌ أُعَافِسُ وَ أُمَارِسُ لَقَدْ قَالَ بَاطِلًا وَ نَطَقَ آثِماً أَمَا- وَ شَرُّ الْقَوْلِ الْكَذِبُ – إِنَّهُ لَيَقُولُ فَيَكْذِبُ وَ يَعِدُ فَيُخْلِفُ وَ يَسْأَلُ فَيُلْحِفُ وَ يُسْأَلُ فَيَبْخَلُ وَ يَخُونُ الْعَهْدَ وَ يَقْطَعُ الْإِلَّ فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْحَرْبِ فَأَيُّ زَاجِر وَ آمِرٍ هُوَ مَا لَمْ تَأْخُذِ السُّيُوفُ مَآخِذَهَا فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ كَانَ أَكْبَرُ مَكِيدَتِهِ أَنْ يَمْنَحَ الْقَوْمَ سَبَّتَهُ أَمَا وَ اللَّهِ إِنِّي لَيَمْنَعُنِي مِنَ اللَّعِبِ ذِكْرُ الْمَوْتِ وَ إِنَّهُ لَيَمْنَعُهُ مِنْ قَوْلِ الْحَقِّ نِسْيَانُ الْآخِرَةِ إِنَّهُ لَمْ يُبَايِعْ مُعَاوِيَةَ حَتَّى شَرَطَ لَهُ أَنْ يُؤْتِيَهُ أَتِيَّةً وَ يَرْضَخَ لَهُ عَلَى تَرْكِ الدِّينِ رَضِيخَةً

    وہ دل کی نیتوں اور اندر کے بھیدوں کو جانتا پہچانتا ہے، وہ ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے اور ہر شے پر چھایا ہوا ہے اور ہر چیز پر اس کا زور چلتا ہے۔ تم میں سے جسے کچھ کرنا ہو اسے موت کے حائل ہونے سے پہلے مہلت کے دنوں میں اور مصروفیت سے قبل فرصت کے لمحوں میں اور گلا گھٹنے سے پہلے سانس چلنے کے زمانہ میں کر لینا چاہیے۔ وہ اپنے لئے اور اپنی منزل پر پہنچنے کیلئے سامان کا تہیہ کر لے اور اس گزرگاہ سے منزل اقامت کیلئے زاد فراہم کرتا جائے۔ اے لوگو! اللہ نے اپنی کتاب میں جن چیزوں کی حفاظت تم سے چاہی ہے اور جو حقوق تمہارے ذمے کئے ہیں، ان کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو۔ اس لئے کہ اللہ سبحانہ نے تمہیں بے کار پیدا نہیں کیا اور نہ اس نے تمہیں بے قید و بند جہالت و گمراہی میں کھلا چھوڑ دیا ہے۔ اس نے تمہارے کرنے اور نہ کرنے کے اچھے بُرے کام تجویز کر دیئے اور (پیغمبر ﷺ کے ذریعے) سکھا دیئے ہیں۔ اس نے تمہاری عمریں لکھ دی ہیں اور تمہاری طرف ’’ایسی کتاب بھیجی ہے جس میں ہر چیز کا کھلا کھلا بیان ہے‘‘اور اپنے نبیؐ کو زندگی دے کر مدتوں تم میں رکھا، یہاں تک کہ اس نے اپنی اتاری ہوئی کتاب میں اپنے نبیؐ کیلئے اور تمہارے لئے اس دین کو جو اسے پسند ہے کامل کر دیا اور ان کی زبان سے اپنے پسندیدہ اور ناپسندیدہ افعال (کی تفصیل) اور اپنے اوامر و نواہی تم تک پہنچائے۔ اس نے اپنے دلائل تمہارے سامنے رکھ دیئے اور تم پر اپنی حجت قائم کر دی اور پہلے سے ڈرا دھمکا دیا اور (آنے والے) سخت عذاب سے خبردار کر دیا۔ تو اب تم اپنی زندگی کے بقیہ دنوں میں (پہلی کوتاہیوں کی) تلافی کرو اور اپنے نفسوں کو ان دنوں (کی کلفتوں) کا متحمل بناؤ۔ اس لئے کہ یہ دن تو ان دنوں کے مقابلے میں بہت کم ہیں جو تمہاری غفلتوں میں بیت گئے اور وعظ و پند سے بے رخی میں کٹ گئے۔ اپنے نفسوں کیلئے جائز چیزوں میں بھی ڈھیل نہ دو، ورنہ یہ ڈھیل تمہیں ظالموں کی راہ پر ڈال دے گی اور (مکروہات میں بھی) سہل انگاری سے کام نہ لو، ورنہ یہ نرم روی اور بے پرواہی تمہیں معصیت کی طرف دھکیل کر لے جائے گی۔ اللہ کے بندو! لوگوں میں وہی سب سے زیادہ اپنے نفس کا خیر خواہ ہے جو اپنے اللہ کا سب سے زیادہ مطیع و فرمانبردار ہے اور وہی سب سے زیادہ اپنے نفس کو فریب دینے والا ہے جو اپنے اللہ کا سب سے زیادہ گنہگار ہے۔ اصلی فریب خوردہ وہ ہے جس نے اپنے نفس کو فریب دے کر نقصان پہنچایا اور قابلِ رشک و غبطہ وہ ہے جس کا دین محفوظ رہا اور نیک بخت وہ ہے جس نے دوسروں سے پند و نصیحت کو حاصل کر لیا اور بدبخت وہ ہے جو ہوا و ہوس کے چکر میں پڑ گیا۔ اور یاد رکھو! کہ تھوڑا سا ریا بھی شرک ہے اور ہوس پرستوں کی مصاحبت ایمان فراموشی کی منزل اور شیطان کی آمد کا مقام ہے۔ جھوٹ سے بچو، اس لئے کہ وہ ایمان سے الگ چیز ہے۔ راست گفتار نجات اور بزرگی کی بلندیوں پر ہے اور دروغ گو پستی و ذلت کے کنارے پر ہے۔ باہم حسد نہ کرو، اس لئے کہ حسد ایمان کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو۔ اور کینہ و بغض نہ رکھو، اس لئے کہ یہ (نیکیوں کو) چھیل ڈالتا ہے۔ اور سمجھ لو کہ آرزوئیں عقلوں پر سہو کا اور یاد الٰہی پر نسیان کا پردہ ڈال دیتی ہیں۔ امیدوں کو جھٹلاؤ، اس لئے کہ یہ دھوکا ہیں اور امیدیں باندھنے والا فریب خوردہ ہے۔

  85. خطبہ 85- دوستان خدا کی حالت اور علماء سوء کی مذمت میں فرمایا

    85

    وَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ الْأَوَّلُ لَا شَيْ‏ءَ قَبْلَهُ وَ الْآخِرُ لَا غَايَةَ لَهُ لَا تَقَعُ الْأَوْهَامُ لَهُ عَلَى صِفَةٍ وَ لَا تَعْقِدُ الْقُلُوبُ مِنْهُ عَلَى كَيْفِيَّةٍ وَ لَا تَنَالُهُ التَّجْزِئَةُ وَ التَّبْعِيضُ وَ لَا تُحِيطُ بِهِ الْأَبْصَارُ وَ الْقُلُوبُ و منها فَاتَّعِظُوا عِبَادَ اللَّهِ بِالْعِبَرِ النَّوَافِعِ وَ اعْتَبِرُوا بِالْآيِ السَّوَاطِعِ وَ ازْدَجِرُوا بِالنُّذُرِ الْبَوَالِغِ وَ انْتَفِعُوا بِالذِّكْرِ وَ الْمَوَاعِظِ فَكَأَنْ قَدْ عَلِقَتْكُمْ مَخَالِبُ الْمَنِيَّةِ وَ انْقَطَعَتْ مِنْكُمْ عَلَائِقُ الْأُمْنِيَّةِ وَ دَهَمَتْكُمْ مُفْظِعَاتُ الْأُمُورِ وَ السِّيَاقَةُ إِلَى الْوِرْدِ الْمَوْرُودِ وَ كُلُّ نَفْسٍ مَعَها سائِقٌ وَ شَهِيدٌ سَائِقٌ يَسُوقُهَا إِلَى مَحْشَرِهَا وَ شَاهِدٌ يَشْهَدُ عَلَيْهَا بِعَمَلِهَا و منها في صفة الجنة دَرَجَاتٌ مُتَفَاضِلَاتٌ وَ مَنَازِلُ مُتَفَاوِتَاتٌ لَا يَنْقَطِعُ نَعِيمُهَا وَ لَا يَظْعَنُ مُقِيمُهَا وَ لَا يَهْرَمُ خَالِدُهَا وَ لَا يَبْأَسُ سَاكِنُهَا

    اللہ کے بندو! اللہ کو اپنے بندوں میں سب سے زیادہ وہ بندہ محبوب ہے جسے اس نے نفس کی خلاف ورزی کی قوت دی ہے، جس کا اندرونی لباس حزن اور بیرونی جامہ خوف ہے (یعنی اندوہ و ملال اسے چمٹا رہتا ہے اور خوف اس پر چھایا رہتا ہے)۔ اس کے دل میں ہدایت کا چراغ روشن ہے اور آنے والے دن کی مہمانی کا اس نے تہیہ کر رکھا ہے، (موت کو) جو دور ہے اسے وہ قریب سمجھتا ہے اور سختیوں کو اپنے لئے آسان سمجھ لیا ہے، دیکھتا ہے تو بصیرت و معرفت حاصل کرتا ہے، (اللہ کو) یاد کرتا ہے تو عمل کرنے پر تل جاتا ہے۔ (وہ اس سر چشمہ ہدایت کا) شیریں و خوشگوار پانی پی کر سیراب ہوا ہے جس کے گھاٹ تک (اللہ کی رہنمائی سے) وہ با آسانی پہنچ گیا ہے۔ اس نے پہلی ہی دفعہ چھک کر پی لیا ہے اور ہموار راستے پر چل پڑا ہے، شہوتوں کا لباس اتار پھینکا ہے، (دنیا کے) سارے اندیشوں سے بے فکر ہو کر صرف ایک ہی دھن میں لگا ہوا ہے۔ وہ گمراہی کی حالت اور ہوس پرستوں کی ہوس رانیوں میں حصہ لینے سے دور رہتا ہے۔ وہ ہدایت کے ابواب کھولنے اور ہلاکت و گمراہی کے دروازے بند کرنے کا ذریعہ بن گیا ہے۔ اس نے اپنا راستہ دیکھ لیا ہے اور اس پر گامزن ہے، (ہدایت کے) مینار کو پہچان لیا ہے اور دھاروں کو طے کر کے اس تک پہنچ گیا ہے، محکم وسیلوں اور مضبوط سہاروں کو تھام لیا ہے۔ وہ یقین کی وجہ سے ایسے اجالے میں ہے جو سورج کی چمک دمک کے مانند ہے۔ وہ صرف اللہ کی خاطر سب سے اونچے مقصد کو پورا کرنے کیلئے اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ ہر مشکل کو جو اس کے سامنے آئے، مناسب طور سے حل کر دے، ہر فرع کو اس کے اصل و مآخذ کی طرف راجع کرے۔ وہ تاریکیوں میں روشنی پھیلانے والا، مشتبہ باتوں کو حل کرنے والا، الجھے ہوئے مسئلوں کو سلجھانے والا، گنجلکوں کو دور کرنے والا اور لق و دق صحراؤں میں راہ دکھانے والا ہے۔ وہ بولتا ہے تو پوری طرح سمجھا دیتا ہے اور کبھی چپ ہو جاتا ہے اس وقت جب چپ رہنا ہی سلامتی کا ذریعہ ہے۔ اس نے ہر کام اللہ کیلئے کیا تو اللہ نے بھی اسے اپنا بنا لیا ہے۔ وہ دین خدا کا معدن اور اس کی زمین میں گڑی ہوئی میخ کی طرح ہے۔ اس نے اپنے لئے عدل کو لازم کر لیا ہے چنانچہ اس کے عدل کا پہلا قدم خواہشوں کو اپنے نفس سے دور رکھنا ہے۔ حق کو بیان کرتا ہے تو اس پر عمل بھی کرتا ہے۔ کوئی نیکی کی حد ایسی نہیں جس کا اس نے ارادہ نہ کیا ہو اور کوئی جگہ ایسی نہیں ہے کہ جہاں نیکی کا امکان ہو اور اس نے قصد نہ کیا ہو۔ اس نے اپنی باگ ڈور قرآن کے ہاتھوں میں دے دی ہے۔ وہی اس کا رہبر اور وہی اس کا پیشوا ہے۔ جہاں اس کا بارِ گراں اترتا ہے وہیں اس کا سامان اترتا ہے اور جہاں اس کی منزل ہوتی ہے وہیں یہ بھی اپنا پڑاؤ ڈال دیتا ہے۔ (اس کے علاوہ) ایک دوسرا شخص ہوتا ہے جس نے (زبردستی) اپنا نام عالم رکھ لیا ہے، حالانکہ وہ عالم نہیں۔ اس نے جاہلوں اور گمراہوں سے جہالتوں اور گمراہیوں کو بٹور لیا ہے اور لوگوں کیلئے مکرو فریب کے پھندے اور غلط سلط باتوں کے جال بچھا رکھے ہیں۔ قرآن کو اپنی رائے پر اور حق کو اپنی خواہشوں پر ڈھالتا ہے۔ بڑے سے بڑے جرموں کا خوف لوگوں کے دلوں سے نکال دیتا ہے اور کبیرہ گناہوں کی اہمیت کو کم کرتا ہے۔ کہتا تو یہ ہے کہ: میں شبہات میں توقف کرتا ہوں حالانکہ انہی میں پڑا ہوا ہے۔ اس کا قول یہ ہے کہ: میں بدعتوں سے الگ تھلگ رہتا ہوں، حالانکہ انہی میں اس کا اٹھنا بیٹھنا ہے۔ صورت تو اس کی انسانوں کی سی ہے اور دل حیوانوں کا سا۔ نہ اسے ہدایت کا دروازہ معلوم ہے کہ وہاں تک آ سکے اور نہ گمراہی کا دروازہ پہچانتا ہے کہ اس سے اپنا رخ موڑ سکے۔ یہ تو زندوں میں (چلتی پھرتی ہوئی) لاش ہے۔ اب تم کہاں جا رہے ہو؟ اور تمہیں کدھر موڑا جا رہا ہے؟ حالانکہ ہدایت کے جھنڈے بلند، نشانات ظاہر و روشن اور حق کے مینار نصب ہیں اور تمہیں کہاں بہکایا جا رہا ہے اور کیوں ادھر ادھر بھٹک رہے ہو؟ جبکہ تمہارے نبی ﷺ کی عترتؑ تمہارے اندر موجود ہے جو حق کی باگیں، دین کے پرچم اور سچائی کی زبانیں ہیں۔ جو قرآن کی بہتر سے بہتر منزل سمجھ سکو وہیں انہیں بھی جگہ دو اور پیاسے اونٹوں کی طرح ان کے سر چشمہ ہدایت پر اترو۔ اے لوگو! خاتم النبیین ﷺ کے اس ارشاد [۱] کو سنو کہ (انہوں نے فرمایا:) «ہم میں سے جو مر جاتا ہے وہ مردہ نہیں ہے اور ہم میں سے (جو بظاہر مر کر) بوسیدہ ہو جاتا ہے وہ حقیقت میں کبھی بوسیدہ نہیں ہوتا»۔ جو باتیں تم نہیں جانتے ان کے متعلق زبان سے کچھ نہ نکالو۔ اس لئے کہ حق کا بیشتر حصہ انہی چیزوں میں ہوتا ہے کہ جن سے تم بیگانہ و ناآشنا ہو۔ (جس شخص کی تم پر حجت تمام ہو) اور تمہاری کوئی حجت اس پر تمام نہ ہو اسے معذور سمجھو اور وہ میں ہوں۔ کیا میں نے تمہارے سامنے ثقلِ اکبر (قرآن) پر عمل نہیں کیا اور ثقلِ اصغر (اہلبیت علیہم السلام) کو تم میں نہیں رکھا [۲] ۔ میں نے تمہارے درمیان ایمان کا جھنڈا گاڑا، حلال و حرام کی حدیں بتائیں اور اپنے عدل سے تمہیں عافیت کے جامے پہنائے اور اپنے قول و عمل سے حسنِ سلوک کا فرش تمہارے لئے بچھا دیا اور تم سے ہمیشہ پاکیزہ اخلاق کے ساتھ پیش آیا۔ جس چیز کی گہرائیوں تک نگاہ نہ پہنچ سکے اور فکر کی جولانیاں عاجز رہیں اس میں اپنی رائے کو کار فرما نہ کرو۔ [اسی خطبہ کا ایک جز و بنی امیہ کے متعلق ہے] یہاں تک کہ گمان کرنے والے یہ گمان کرنے لگیں گے کہ بس اب دنیا بنی امیہ ہی کے دامن سے بندھی رہے گی اور انہیں ہی اپنے سارے فائدے بخشتی رہے گی اور انہیں ہی اپنے صاف چشمہ پر سیراب ہونے کیلئے اتارتی رہے گی اور اس اُمت کی (گردن پر) ان کی تلوار اور (پشت پر) ان کا تازیانہ ہمیشہ رہے گا۔ جو یہ خیال کرے گا، غلط خیال کرے گا، بلکہ یہ تو زندگی کے مزوں میں سے چند شہد کے قطرے ہیں، جنہیں کچھ دیر تک وہ چوسیں گے اور پھر سارے کا سارا تھوک دیں گے۔

  86. خطبہ 86- امت کے مختلف گروہوں میں بٹ جانے کے متعلق فرمایا

    86

    قَدْ عَلِمَ السَّرَائِرَ وَ خَبَرَ الضَّمَائِرَ لَهُ الْإِحَاطَةُ بِكُلِّ شَيْ‏ءٍ وَ الْغَلَبَةُ لِكُلِّ شَيْ‏ءٍ وَ الْقُوَّةُ عَلَى كُلِّ شَيْ‏ءٍ فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُ مِنْكُمْ فِي أَيَّامِ مَهَلِهِ قَبْلَ إِرْهَاقِ أَجَلِهِ وَ فِي فَرَاغِهِ قَبْلَ أَوَانِ شُغْلِهِ وَ فِي مُتَنَفَّسِهِ قَبْلَ أَنْ يُؤْخَذَ بِكَظَمِهِ وَ لْيُمَهِّدْ لِنَفْسِهِ وَ قَدَمِهِ وَ لْيَتَزَوَّدْ مِنْ دَارِ ظَعْنِهِ لِدَارِ إِقَامَتِهِ فَاللَّهَ اللَّهَ أَيُّهَا النَّاسُ فِيمَا اسْتَحْفَظَكُمْ مِنْ كِتَابِهِ وَ اسْتَوْدَعَكُمْ مِنْ حُقُوقِهِ فَإِنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ لَمْ يَخْلُقْكُمْ عَبَثاً وَ لَمْ يَتْرُكْكُمْ سُدًى وَ لَمْ يَدَعْكُمْ فِي جَهَالَة وَ لَا عَمًى ٍ قَدْ سَمَّى آثَارَكُمْ وَ عَلِمَ أَعْمَالَكُمْ وَ كَتَبَ آجَالَكُمْ وَ أَنْزَلَ عَلَيْكُمُ الْكِتَابَ تِبْياناً لِكُلِّ شَيْ‏ءٍ وَ عَمَّرَ فِيكُمْ نَبِيَّهُ أَزْمَاناً حَتَّى أَكْمَلَ لَهُ وَ لَكُمْ فِيمَا أَنْزَلَ مِنْ كِتَابِهِ دِينَهُ الَّذِي رَضِيَ لِنَفْسِهِ وَ أَنْهَى إِلَيْكُمْ عَلَى لِسَانِهِ مَحَابَّهُ مِنَ الْأَعْمَالِ وَ مَكَارِهَهُ وَ نَوَاهِيَهُ وَ أَوَامِرَهُ ‏ فَأَلْقَى إِلَيْكُمُ الْمَعْذِرَةَ وَ اتَّخَذَ عَلَيْكُمُ الْحُجَّةَ وَ قَدَّمَ إِلَيْكُمْ بِالْوَعِيدِ وَ أَنْذَرَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذابٍ شَدِيدٍ فَاسْتَدْرِكُوا بَقِيَّةَ أَيَّامِكُمْ وَ اصْبِرُوا لَهَا أَنْفُسَكُمْ فَإِنَّهَا قَلِيلٌ فِي كَثِيرِ الْأَيَّامِ الَّتِي تَكُونُ مِنْكُمْ فِيهَا الْغَفْلَةُ وَ التَّشَاغُلُ عَنِ الْمَوْعِظَةِ وَ لَا تُرَخِّصُوا لِأَنْفُسِكُمْ فَتَذْهَبَ بِكُمُ الرُّخَصُ مَذَاهِبَ الظَّلَمَةِ وَ لَا تُدَاهِنُوا فَيَهْجُمَ بِكُمُ الْإِدْهَانُ عَلَى الْمَعْصِيَةِ عِبَادَ اللَّهِ إِنَّ أَنْصَحَ النَّاسِ لِنَفْسِهِ أَطْوَعُهُمْ لِرَبِّهِ وَ إِنَّ أَغَشَّهُمْ لِنَفْسِهِ أَعْصَاهُمْ لِرَبِّهِ وَ الْمَغْبُونُ مَنْ غَبَنَ نَفْسَهُ وَ الْمَغْبُوطُ مَنْ سَلِمَ لَهُ دِينُهُ وَ السَّعِيدُ مَنْ وُعِظَ بِغَيْرِهِ وَ الشَّقِيُّ مَنِ انْخَدَعَ لِهَوَاهُ وَ غُرُورِهِ وَ اعْلَمُوا أَنَّ يَسِيرَ الرِّيَاءِ شِرْكٌ وَ مُجَالَسَةَ أَهْلِ الْهَوَى مَنْسَاةٌ لِلْإِيمَانِ وَ مَحْضَرَةٌ لِلشَّيْطَانِ جَانِبُوا الْكَذِبَ فَإِنَّهُ مُجَانِبٌ لِلْإِيمَانِ الصَّادِقُ عَلَى شَفَا مَنْجَاةٍ وَ كَرَامَةٍ وَ الْكَاذِبُ عَلَى شَرَفِ مَهْوَاةٍ وَ مَهَانَةٍ وَ لَا تَحَاسَدُوا فَإِنَّ الْحَسَدَ يَأْكُلُ الْإِيمَانَ كَمَا تَأْكُلُ النَّارُ الْحَطَبَ وَ لَا تَبَاغَضُوا فَإِنَّهَا الْحَالِقَةُ وَ اعْلَمُوا أَنَّ الْأَمَلَ يُسْهِي الْعَقْلَ وَ يُنْسِي الذِّكْرَ فَأَكْذِبُوا الْأَمَلَ فَإِنَّهُ غُرُورٌ وَ صَاحِبُهُ مَغْرُورٌ

    اللہ نے زمانے کے کسی سرکش کی گردن نہیں توڑی جب تک کہ اسے مہلت و فراغت نہیں عطا کر دی اور کسی اُمت کی ہڈی کو نہیں جوڑا جب تک اسے شدت و سختی اور ابتلا و آزمائش میں ڈال نہیں لیا۔ جو مصیبتیں تمہیں پیش آنے والی اور جن سختیوں سے تم گزر چکے ہو ان سے کم بھی عبرت اندوزی کیلئے کافی ہیں۔ ہر صاحبِ دل عاقل نہیں ہوتا اور نہ ہر کان رکھنے والا گوش شنوا اور نہ ہر آنکھ والا چشمِ بینا رکھتا ہے۔ مجھے حیرت ہے اور کیوں نہ حیرت ہو، ان فرقوں کی خطاؤں پر جنہوں نے اپنے دین کی حجتوں میں اختلاف پیدا کر رکھے ہیں، جو نہ نبی کے نقش قدم پر چلتے ہیں، نہ وصی کے عمل کی پیروی کرتے ہیں، نہ غیب پر ایمان لاتے ہیں، نہ عیب سے دامن بچاتے ہیں، مشکوک و مشتبہ چیزوں پر ان کا عمل ہے اور اپنی خواہشوں کی راہ پر چلتے پھرتے ہیں۔ جس چیز کو وہ اچھا سمجھیں ان کے نزدیک بس وہ اچھی ہے اور جس بات کو وہ برا جانیں ان کے نزدیک بس وہ بری ہے۔ مشکل گتھیوں کو سلجھانے کیلئے اپنے نفسوں پر اعتماد کر لیا ہے اور مشتبہ چیزوں میں اپنی رائے پر بھروسا کر لیتے ہیں۔ گویا ان میں سے ہر شخص خود ہی اپنا امام ہے اور اس نے جو اپنے مقام پر اپنی رائے سے طے کر لیا ہے اس کے متعلق یہ سمجھتا ہے کہ اسے قابل اطمینان وسیلوں اور مضبوط ذریعوں سے حاصل کیا ہے۔

  87. خطبہ 87- بعثت سے قبل دنیا کی حالت پراگندگی اور موجودہ دور کے لوگ

    87

    عِبَادَ اللَّهِ إِنَّ مِنْ أَحَبِّ عِبَادِ اللَّهِ إِلَيْهِ عَبْداً أَعَانَهُ اللَّهُ عَلَى نَفْسِهِ فَاسْتَشْعَرَ الْحُزْنَ وَ تَجَلْبَبَ الْخَوْفَ فَزَهَرَ مِصْبَاحُ الْهُدَى فِي قَلْبِهِ وَ أَعَدَّ الْقِرَى لِيَوْمِهِ النَّازِلِ بِهِ فَقَرَّبَ عَلَى نَفْسِهِ الْبَعِيدَ وَ هَوَّنَ الشَّدِيدَ نَظَرَ فَأَبْصَر وَ ذَكَرَ فَاسْتَكْثَرَ وَ ارْتَوَى مِنْ عَذْبٍ فُرَاتٍ سُهِّلَتْ لَهُ مَوَارِدُهُ فَشَرِبَ نَهَلًا وَ سَلَكَ سَبِيلًا جَدَداً قَدْ خَلَعَ سَرَابِيلَ الشَّهَوَاتِ وَ تَخَلَّى مِنَ الْهُمُومِ إِلَّا هَمّاً وَاحِدا انْفَرَدَ بِهِ ً فَخَرَجَ مِنْ صِفَةِ الْعَمَى وَ مُشَارَكَةِ أَهْلِ الْهَوَى وَ صَارَ مِنْ مَفَاتِيحِ أَبْوَابِ الْهُدَى وَ مَغَالِيقِ أَبْوَابِ الرَّدَى قَدْ أَبْصَرَ طَرِيقَهُ وَ سَلَكَ سَبِيلَهُ وَ عَرَفَ مَنَارَهُ وَ قَطَعَ غِمَارَهُ وَ اسْتَمْسَكَ مِنَ الْعُرَى بِأَوْثَقِهَا وَ مِنَ الْحِبَالِ بِأَمْتَنِهَا فَهُوَ مِنَ الْيَقِينِ عَلَى مِثْلِ ضَوْءِ الشَّمْسِ قَدْ نَصَبَ نَفْسَهُ لِلَّهِ سُبْحَانَهُ فِي أَرْفَعِ الْأُمُورِ مِنْ إِصْدَارِ كُلِّ وَارِدٍ عَلَيْهِ وَ تَصْيِيرِ كُلِّ فَرْعٍ إِلَى أَصْلِهِ مِصْبَاحُ ظُلُمَاتٍ كَشَّافُ عَشَوَاتٍ مِفْتَاحُ مُبْهَمَاتٍ دَفَّاعُ مُعْضِلَاتٍ دَلِيلُ فَلَوَاتٍ يَقُولُ فَيُفْهِمُ وَ يَسْكُتُ فَيَسْلَمُ قَدْ أَخْلَصَ لِلَّهِ فَاسْتَخْلَصَهُ فَهُوَ مِنْ مَعَادِنِ دِينِهِ وَ أَوْتَادِ أَرْضِهِ قَدْ أَلْزَمَ نَفْسَهُ الْعَدْلَ فَكَانَ أَوَّلُ عَدْلِهِ نَفْيَ الْهَوَى عَنْ نَفْسِهِ يَصِفُ الْحَقَّ وَ يَعْمَلُ بِهِ لَا يَدَعُ لِلْخَيْرِ غَايَةً إِلَّا أَمَّهَا وَ لَا مَظِنَّةً إِلَّا قَصَدَهَا قَدْ أَمْكَنَ الْكِتَابَ مِنْ زِمَامِهِ فَهُوَ قَائِدُهُ وَ إِمَامُهُ يَحُلُّ حَيْثُ حَلَّ ثَقَلُهُ وَ يَنْزِلُ حَيْثُ كَانَ مَنْزِلُهُ اُدعیاء العلم وَ آخَرُ قَدْ تَسَمَّى عَالِماً وَ لَيْسَ بِهِ فَاقْتَبَسَ جَهَائِلَ مِنْ جُهَّالٍ وَ أَضَالِيلَ مِنْ ضُلَّالٍ وَ نَصَبَ لِلنَّاسِ أَشْرَاكاً مِنْ حَبَائِلِ غُرُورٍ وَ قَوْلٍ زُورٍ قَدْ حَمَلَ الْكِتَابَ عَلَى آرَائِهِ وَ عَطَفَ الْحَقَّ عَلَى أَهْوَائِهِ يُؤَمِّنُ (النَّاسَ) مِنَ الْعَظَائِمِ وَ يُهَوِّنُ كَبِيرَ الْجَرَائِمِ يَقُولُ أَقِفُ عِنْدَ الشُّبُهَاتِ وَ فِيهَا وَقَعَ وَ يَقُولُ أَعْتَزِلُ الْبِدَعَ وَ بَيْنَهَا اضْطَجَعَ فَالصُّورَةُ صُورَةُ إِنْسَانٍ وَ الْقَلْبُ قَلْبُ حَيَوَانٍ لَا يَعْرِفُ بَابَ الْهُدَى فَيَتَّبِعَهُ وَ لَا بَابَ الْعَمَى فَيَصُدَّ عَنْهُ وَ ذَلِكَ مَيِّتُ الْأَحْيَاءِ عترة النبي‏ فَأَيْنَ تَذْهَبُونَ وَ أَنَّى تُؤْفَكُونَ وَ الْأَعْلَامُ قَائِمَةٌ وَ الْآيَاتُ وَاضِحَةٌ وَ الْمَنَارُ مَنْصُوبَةٌ فَأَيْنَ يُتَاهُ بِكُمْ بَلْ كَيْفَ تَعْمَهُونَ وَ بَيْنَكُمْ عِتْرَةُ نَبِيِّكُمْ وَ هُمْ أَزِمَّةُ الْحَقِّ وَ أَعْلَامُ الدِّينِ وَ أَلْسِنَةُ الصِّدْقِ فَأَنْزِلُوهُمْ بِأَحْسَنِ مَنَازِلِ الْقُرْآنِ وَ رِدُوهُمْ وُرُودَ الْهِيمِ الْعِطَاشِ أَيُّهَا النَّاسُ خُذُوهَا عَنْ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ صلى الله عليه واله و سلم إِنَّهُ يَمُوتُ مَنْ مَاتَ مِنَّا وَ لَيْسَ بِمَيِّتٍ وَ يَبْلَى مَنْ بَلِيَ مِنَّا وَ لَيْسَ بِبَالٍ فَلَا تَقُولُوا بِمَا لَا تَعْرِفُونَ فَإِنَّ أَكْثَرَ الْحَقِّ فِيمَا تُنْكِرُونَ وَ اعْذِرُوا مَنْ لَا حُجَّةَ لَكُمْ عَلَيْهِ وَ أَنَا هُوَ أَلَمْ أَعْمَلْ فِيكُمْ بِالثَّقَلِ الْأَكْبَرِ وَ أَتْرُكْ فِيكُمُ الثَّقَلَ الْأَصْغَرَ وَ رَكَزْتُ فِيكُمْ رَايَةَ الْإِيمَانِ وَ وَقَفْتُكُمْ عَلَى حُدُودِ الْحَلَالِ وَ الْحَرَامِ وَ أَلْبَسْتُكُمُ الْعَافِيَةَ مِنْ عَدْلِي وَ فَرَشْتُكُمُ الْمَعْرُوفَ مِنْ قَوْلِي وَ فِعْلِي وَ أَرَيْتُكُمْ كَرَائِمَ الْأَخْلَاقِ مِنْ نَفْسِي فَلَا تَسْتَعْمِلُوا الرَّأْيَ فِيمَا لَا يُدْرِكُ قَعْرَهُ الْبَصَرُ وَ لَا يَتَغَلْغَلُ إِلَيْهِ الفكر الخبار الغیبی عن عاقبة بنی امیه حَتَّى يَظُنَّ الظَّانُّ أَنَّ الدُّنْيَا مَعْقُولَةٌ عَلَى بَنِي أُمَيَّةَ تَمْنَحُهُمْ دَرَّهَا وَ تُورِدُهُمْ صَفْوَهَا وَ لَا يُرْفَعُ عَنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ سَوْطُهَا وَ لَا سَيْفُهَا وَ كَذَبَ الظَّانُّ لِذَلِكَ بَلْ هِيَ مَجَّةٌ مِنْ لَذِيذِ الْعَيْشِ يَتَطَعَّمُونَهَا بُرْهَةً ثُمَّ يَلْفِظُونَهَا جُمْلَةً

    اللہ نے اپنے پیغمبر ﷺ کو اس وقت بھیجا جب کہ رسولوں کی آمد کا سلسلہ رکا ہوا تھا اور ساری اُمتیں مدت سے پڑی سو رہی تھیں، فتنے سر اُٹھا رہے تھے، سب چیزوں کا شیرازہ بکھرا ہوا تھا، جنگ کے شعلے بھڑک رہے تھے، دنیا بے رونق و بے نور تھی اور اس کی فریب کاریاں کھلی ہوئی تھیں۔ اس وقت اس کے پتوں میں زردی دوڑی ہوئی تھی اور پھلوں سے ناامیدی تھی۔ پانی زمین میں تہ نشین ہو چکا تھا، ہدایت کے مینار مٹ گئے تھے، ہلاکت و گمراہی کے پرچم کھلے ہوئے تھے اور دنیا والوں کے سامنے کڑے تیوروں سے اور تیوری چڑھائے ہوئے نظر آ رہی تھی۔ اس کا پھل فتنہ تھا اور اس کی غذا مردار تھی، اندر کا لباس خوف اور باہر کا پہناوا تلوار تھا۔ خدا کے بندو! عبرت حاصل کرو اور ان (بد اعمالیوں) کو یاد کرو جن ( کے نتائج) میں تمہارے باپ، بھائی جکڑے ہوئے ہیں اور جن پر ان سے حساب ہونے والا ہے۔ مجھے اپنی زندگی کی قسم! تمہارا زمانہ ان کے زمانہ سے زیادہ پیچھے نہیں ہے اور نہ تمہارے اور ان کے درمیان صدیوں اور زمانوں کا فاصلہ ہے۔ ابھی تم اس دن سے زیادہ دور نہیں ہوئے کہ جب ان کی صلبوں میں تھے۔ خدا کی قسم! جو باتیں رسول ﷺ نے ان کے کانوں تک پہنچائیں، وہی باتیں میں تمہیں آج سنا رہا ہوں اور جتنا انہیں سنایا گیا تھا اس سے کچھ کم تمہیں نہیں سنایا جا رہا ہے اور جس طرح اس وقت ان کی آنکھیں کھولی گئی تھیں اور دل بنائے گئے تھے، ویسی ہی آنکھیں اور ویسے ہی دل اس وقت تمہیں دیئے گئے ہیں۔ خدا کی قسم! ان کے بعد تمہیں کوئی ایسی نئی چیز نہیں بتائی گئی ہے جس سے وہ ناآشنا رہے ہوں اور کوئی خاص چیز نہیں دی گئی ہے جس سے وہ محروم تھے۔ ہاں ایک ایسی مصیبت تمہیں پیش آ گئی ہے (جو اس اونٹنی کے مانند ہے) جس کی نکیل جھول رہی اور تنگ ڈھیلا پڑ گیا ہے۔ (جو کہیں نہ کہیں ٹھوکر کھائے گی)۔ دیکھو! ان فریب خوردہ لوگوں کے ٹھاٹھ باٹھ تمہیں ورغلا نہ دیں، اس لئے کہ یہ ایک پھیلا ہوا سایہ ہے جس کا وقت محدود ہے۔

  88. خطبہ 88- صفات باری اور پند و موعظت کےسلسلے میں فرمایا

    88

    أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ لَمْ يَقْصِمْ جَبَّارِي دَهْرٍ قَطُّ إِلَّا بَعْدَ تَمْهِيلٍ وَ رَخَاءٍ وَ لَمْ يَجْبُرْ عَظْمَ أَحَدٍ مِنَ الْأُمَمِ إِلَّا بَعْدَ أَزْلٍ وَ بَلَاءٍ وَ فِي دُونِ مَا اسْتَقْبَلْتُمْ مِنْ عَتْبٍ وَ مَا اسْتَدْبَرْتُمْ مِنْ خَطْبٍ مُعْتَبَرٌ وَ مَا كُلُّ ذِي قَلْبٍ بِلَبِيبٍ وَ لَا كُلُّ ذِي سَمْعٍ بِسَمِيعٍ وَ لَا كُلُّ ذِي نَاظِرٍ بِبَصِيرٍ فَيَا عَجَباً وَ مَا لِيَ لَا أَعْجَبُ مِنْ خَطَاءِ هَذِهِ الْفِرَقِ عَلَى اخْتِلَافِ حُجَجِهَا فِي دِينِهَا لَا يَقْتَصُّونَ أَثَرَ نَبِيٍّ وَ لَا يَقْتَدُونَ بِعَمَلِ وَصِيٍّ وَ لَا يُؤْمِنُونَ بِغَيْبٍ‏ وَ لَا يَعِفُّونَ عَنْ عَيْبٍ يَعْمَلُونَ فِي الشُّبُهَاتِ وَ يَسِيرُونَ فِي الشَّهَوَاتِ الْمَعْرُوفُ فِيهِمْ مَا عَرَفُوا وَ الْمُنْكَرُ عِنْدَهُمْ مَا أَنْكَرُوا مَفْزَعُهُمْ فِي الْمُعْضِلَاتِ إِلَى أَنْفُسِهِمْ وَ تَعْوِيلُهُمْ فِي الْمُبْهَمَاتِ عَلَى آرَائِهِمْ كَأَنَّ كُلَّ امْرِئٍ مِنْهُمْ إِمَامُ نَفْسِهِ قَدْ أَخَذَ مِنْهَا فِيمَا يَرَى بِعُرًى ثِقَاتٍ وَ أَسْبَابٍ مُحْكَمَاتٍ.

    تمام حمد اس اللہ کیلئے ہے جو نظر آئے بغیر جانا پہچانا ہوا ہے اور سوچ بچار میں پڑے بغیر پیدا کرنے والا ہے۔ وہ اس وقت بھی دائم و برقرار تھا جب کہ نہ برجوں والا آسمان تھا، نہ بلند دروازوں والے حجاب تھے، نہ اندھیری راتیں، نہ ٹھہرا ہوا سمندر، نہ لمبے چوڑے راستوں والے پہاڑ، نہ آڑی ترچھی پہاڑی راہیں اور نہ یہ بچھے ہوئے فرشوں والی زمین، نہ کس بل رکھنے والی مخلوق تھی۔ وہی مخلوقات کو پیدا کرنے والا اور اس کا وارث ہے اور کائنات کا معبود اور ان کا رازق ہے۔ سورج اور چاند اس کی منشا کے مطابق (ایک دھرے پر) بڑھے جانے کی سر توڑ کوششوں میں لگے ہوئے ہیں، جو ہر نئی چیز کو فرسودہ اور دور کی چیزوں کو قریب کر دیتے ہیں۔ اس نے سب کو روزی بانٹ رکھی ہے۔ وہ سب کے عمل و کردار اور سانسوں کے شمار تک کو جانتا ہے۔ وہ چوری چھپی نظروں اور سینے کی مخفی نیتوں اور صلب میں ان کے ٹھکانوں اور شکم میں ان کے سونپے جانے کی جگہوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے، یہاں تک کہ ان کی عمریں اپنی حد و انتہا کو پہنچ جائیں۔ وہ ایسی ذات ہے کہ رحمت کی وسعتوں کے باوجود اس کا عذاب دشمنوں پر سخت ہے اور عذاب کی سختیوں کے باوجود دوستوں کیلئے اس کی رحمت وسیع ہے۔ جو اسے دبانا چاہے اس پر قابو پالینے والا اور جو اس سے ٹکر لینا چاہے اسے تباہ و برباد کرنے والا اور جو اس کی مخالفت کرے اُسے رسوا و ذلیل کرنے والا اور جو اس سے دشمنی برتے اس پر غلبہ پانے والا ہے۔ جو اس پر بھروسا کرتا ہے وہ اس کیلئے کافی ہو جاتا ہے اور جو کوئی اس سے مانگتا ہے اُسے دے دیتا ہے اور جو اسے قرضہ دیتا ہے (یعنی اس کی راہ میں خرچ کرتا ہے) وہ اسے ادا کرتا ہے۔ جو شکر کرتا ہے اُسے بدلہ دیتا ہے۔ اللہ کے بندو! اپنے نفسوں کو تولے جانے سے پہلے تول لو اور محاسبہ کئے جانے سے قبل خود اپنا محاسبہ کر لو۔ گلے کا پھندا تنگ ہونے سے پہلے سانس لے لو اور سختی کے ساتھ ہنکائے جانے سے پہلے مطیع و فرمانبردار بن جاؤ۔ اور یاد رکھو کہ جسے اپنے نفس کیلئے یہ توفیق نہ ہو کہ وہ خود اپنے کو وعظ و پند کر لے اور برائیوں پر متنبہ کر دے تو پھر کسی اور کی بھی پند و تو بیخ اس پر اثر نہیں کر سکتی۔

  89. خطبہ 89- (خطبہ اشباح) آسمان و زمین کی خلقت

    89

    أَرْسَلَهُ عَلَى حِينِ فَتْرَةٍ مِنَ الرُّسُلِ وَ طُولِ هَجْعَةٍ مِنَ الْأُمَمِ وَ اعْتِرَامٍ مِنَ الْفِتَنِ وَ انْتِشَارٍ مِنَ الْأُمُورِ وَ تَلَظٍّ مِنَ الْحُرُوبِ وَ الدُّنْيَا كَاسِفَةُ النُّورِ ظَاهِرَةُ الْغُرُورِ عَلَى حِينِ اصْفِرَارٍ مِنْ وَرَقِهَا وَ إِيَاسٍ مِنْ ثَمَرِهَا وَ اغْوِرَارٍ مِنْ مَائِهَا قَدْ دَرَسَتْ أَعْلَامُ الْهُدَى وَ ظَهَرَتْ أَعْلَامُ الرَّدَى فَهِيَ مُتَجَهِّمَةٌ لِأَهْلِهَا عَابِسَةٌ فِي وَجْهِ طَالِبِهَا ثَمَرُهَا الْفِتْنَةُ وَ طَعَامُهَا الْجِيفَةُ وَ شِعَارُهَا الْخَوْفُ وَ دِثَارُهَا السَّيْفُ فَاعْتَبِرُوا عِبَادَ اللَّهِ وَ اذْكُرُوا تِيكَ الَّتِي آبَاؤُكُمْ وَ إِخْوَانُكُمْ بِهَا مُرْتَهَنُونَ وَ عَلَيْهَا مُحَاسَبُونَ وَ لَعَمْرِي مَا تَقَادَمَتْ بِكُمْ وَ لَا بِهِمُ الْعُهُودُ وَ لَا خَلَتْ فِيمَا بَيْنَكُمْ وَ بَيْنَهُمُ الْأَحْقَابُ وَ الْقُرُونُ وَ مَا أَنْتُمُ الْيَوْمَ مِنْ يَوْمِ‏ كُنْتُمْ فِي أَصْلَابِهِمْ بِبَعِيدٍ. وَ اللَّهِ مَا أَسْمَعَهُمُ الرَّسُولُ شَيْئاً إِلَّا وَ هَا أَنَا ذَا الْيَوْمَ مُسْمِعُكُمُوهُ وَ مَا أَسْمَاعُكُمُ الْيَوْمَ بِدُونِ أَسْمَاعِهِمْ بِالْأَمْسِ وَ لَا شُقَّتْ لَهُمُ الْأَبْصَارُ وَ لَا جُعِلَتْ لَهُمُ الْأَفْئِدَةُ فِي ذَلِكَ الْأَوَانِ إِلَّا وَ قَدْ أُعْطِيتُمْ مِثْلَهَا فِي هَذَا الزَّمَانِ وَ وَ اللَّهِ مَا بُصَرْتُمْ بَعْدَهُمْ شَيْئاً جَهِلُوهُ وَ لَا أُصْفِيتُمْ بِهِ وَ حُرِمُوهُ وَ لَقَدْ نَزَلَتْ بِكُمُ الْبَلِيَّةُ جَائِلًا خِطَامُهَا رِخْواً بِطَانُهَا فَلَا يَغُرَّنَّكُمْ مَا أَصْبَحَ فِيهِ أَهْلُ الْغُرُورِ فَإِنَّمَا هُوَ ظِلٌّ مَمْدُودٌ إِلَى أَجَلٍ مَعْدُودٍ

    یہ خطبہ‘‘ اشباح‘‘ [۱] کے نام سے مشہور ہے اور امیر المومنین علیہ السلام کے بلند پایہ خطبوں میں شمار ہوتا ہے۔ اسے ایک سائل کے جواب میں ارشاد فرمایا تھا جس نے آپؑ سے یہ سوال کیا تھا کہ: آپؑ خلاق عالم کے صفات کو اس طرح بیان فرمائیں کہ ایسا معلوم ہو جیسے ہم اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ اس پر حضرتؑ غضب ناک ہو گئے اور فرمایا: تمام حمد اس اللہ کیلئے ہے کہ جو فیض و عطا کے روکنے سے مالدار نہیں ہو جاتا اور جود و عطا سے کبھی عاجز و قاصر نہیں ہوتا۔ اس لئے کہ اس کے سوا ہر دینے والے کے یہاں داد و دہش سے کمی واقع ہوتی ہے اور ہاتھ روک لینے پر انہیں برا سمجھا جا سکتا ہے۔ وہ فائدہ بخش نعمتوں اور عطیوں کی فراوانیوں اور روزیوں (کی تقسیم) سے ممنون احسان بنانے والا ہے۔ ساری مخلوق اس کا کنبہ ہے، اس نے سب کے رزق کا ذمہ لیا ہے اور سب کی روزیاں مقرر کر رکھی ہیں [۲] ۔ اس نے اپنے خواہش مندوں اور اپنی نعمت کے طلب گاروں کیلئے راہ کھول دی ہے۔ وہ دست ِطلب کے نہ بڑھنے پر بھی اتنا ہی کریم ہے جتنا طلب و سوال کا ہاتھ بڑھنے پر۔ وہ ایسا اوّل ہے جس کیلئے کوئی قبل ہے ہی نہیں کہ کوئی شے اس سے پہلے ہو سکے اور ایسا آخر ہے جس کیلئے کوئی بعد ہے ہی نہیں تاکہ کوئی چیز اس کے بعد فرض کی جا سکے۔ وہ آنکھ کی پتلیوں کو (دور ہی سے) روک دینے والا ہے کہ وہ اسے پا سکیں یا اس کی حقیقت معلوم کر سکیں۔ اس پر زمانہ کے مختلف دور نہیں گزرتے کہ اس کے حالات میں تغیر و تبدل پیدا ہو۔ وہ کسی جگہ میں نہیں ہے کہ اس کیلئے نقل و حرکت صحیح ہو سکے۔ اگر وہ چاندی اور سونے جیسی نفیس دھاتیں کہ جنہیں پہاڑوں کے معدن (لمبی لمبی) سانسیں بھر کر اچھال دیتے ہیں اور بکھرے ہوئے موتی اور مرجان کی کٹی ہوئی شاخیں کہ جنہیں دریاؤں کی سیپیاں کھل کھلا کر ہنستے ہوئے اُگل دیتی ہیں، بخش دے تو اس سے اس کے جو دو عطا پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور نہ اس کی دولت کا ذخیرہ اس سے ختم ہو سکتا ہے اور اس کے پاس پھر بھی انعام و اکرام کے اتنے ذخیرے موجود رہیں گے جنہیں لوگوں کی مانگ ختم نہیں کر سکتی۔ اس لئے کہ وہ ایسا فیاض ہے جسے سوالوں کا پورا کرنا مفلس نہیں بنا سکتا اور گِڑ گڑا کر سوال کرنے والوں کا حد سے بڑھا ہوا اصرار بخل پر آمادہ نہیں کر سکتا۔ اے (اللہ کی صفتوں کو) دریافت کرنے والے دیکھو! کہ جن صفتوں کا تمہیں قرآن نے پتہ دیا ہے (ان میں) تم اس کی پیروی کرو اور اسی کے نور ہدایت سے کسب ِضیا کرتے رہو اور جو چیزیں کہ قرآن میں واجب نہیں اور نہ سنت پیغمبرؐ و آئمہؑ ہُدیٰ میں ان کا نام و نشان ہے اور صرف شیطان نے اس کے جاننے کی تمہیں زحمت دی ہے، اس کا علم اللہ ہی کے پاس رہنے دو اور یہی تم پر اللہ کے حق کی آخری حد ہے۔ اور اس بات کو یاد رکھو کہ علم میں راسخ و پختہ لوگ وہی ہیں کہ جو غیب کے پردوں میں چھپی ہوئی ساری چیزوں کا اجمالی طور پر اقرار کرتے (اور ان پر اعتقاد رکھتے) ہیں، اگرچہ ان کی تفسیر و تفصیل نہیں جانتے اور یہی اقرار انہیں غیب پر پڑے ہوئے پر دوں میں درانہ گھسنے سے بے نیاز بنائے ہوئے ہے۔ اور اللہ نے اس بات پر ان کی مدح کی ہے کہ جو چیز ان کے احاطہ علم سے باہر ہوتی ہے اس کی رسائی سے اپنے عجز کا اعتراف کر لیتے ہیں اور اللہ نے جس چیز کی حقیقت سے بحث کرنے کی تکلیف نہیں دی اس میں تعمق و کاوش کے ترک ہی کا نام رسوخ رکھا ہے۔ لہٰذا بس اسی پر اکتفا کر و اور اپنے عقل کے پیمانہ کے مطابق اللہ کی عظمت کو محدود نہ بناؤ، ورنہ تمہارا شمار ہلاک ہونے والوں میں قرار پائے گا۔ وہ ایسا قادر ہے کہ جب اس کی قدرت کی انتہا معلوم کرنے کیلئے وہم اپنے تیر چلا رہا ہو اور فکر ہر طرح کے وسوسوں کے ادھیڑ بن سے آزاد ہو کر اس کے قلمرو مملکت کے گہرے بھیدوں پر آگاہ ہونے کے درپے ہو اور دل اس کی صفتوں کی کیفیت سمجھنے کیلئے والہانہ طور پر دوڑ پڑے ہوں اور ذاتِ الٰہی کو جاننے کیلئے عقلوں کی جستجو و تلاش کی راہیں حدِّ بیان سے زیادہ دور تک چلی گئی ہوں تو اللہ اس وقت جب وہ غیب کی تیرگیوں کے گڑھوں کو عبور کر رہی ہوتی ہیں، ان سب کو (ناکامیوں کے ساتھ) پلٹا دیتا ہے۔ چنانچہ جب اس طرح منہ کی کھا کر پلٹتی ہیں تو انہیں یہ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ ایسی بے راہ رویوں سے اس کی معرفت کا کھوج نہیں لگایا جا سکتا اور نہ فکر پیماؤں کے دلوں میں اس کی عزت کے تمکنت و جلال کا ذرا سا شائبہ آ سکتا ہے۔ وہ وہی ہے کہ جس نے مخلوقات کو ایجاد کیا بغیر اس کے کہ کوئی مثال اپنے سامنے رکھتا اور بغیر اس کے کہ اپنے سے پہلے کسی اور خالق و معبود کی بنائی ہوئی چیزوں کا چربہ اتارتا۔ اس نے اپنی قدرت کی بادشاہت اور ان عجیب چیزوں کے واسطہ سے کہ جن میں اس کی حکمت و دانائی کے آثار (منہ سے) بول رہے ہیں اور مخلوق کے اس اعتراف سے کہ وہ اپنے رکنے تھمنے میں اس کے سہارے کی محتاج ہے، ہمیں وہ چیزیں دکھائی ہیں کہ جنہوں نے قہراً دلیل قائم ہو جانے کے دباؤ سے اس کی معرفت کی طرف ہماری راہنمائی کی ہے اور اس کی پیدا کردہ عجیب و غریب چیزوں میں اس کی صنعت کے نقش و نگار اور حکمت کے آثار نمایاں اور واضح ہیں۔ چنانچہ ہر مخلوق اس کی ایک حجت اور ایک برہان بن گئی ہے۔ چاہے وہ خاموش مخلوق ہو، مگر اللہ کی تدبیر و کار سازی کی ایک بولتی ہوئی دلیل ہے اور ہستی صانع کی طرف اس کی راہنمائی ثابت و برقرارہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ جس نے تجھے تیری ہی مخلوق سے ان کے اعضاء کے الگ الگ ہونے اور تیری حکمت کی کارسازیوں سے گوشت و پوست میں ڈھکے ہوئے ان کے جوڑوں کے سروں کے ملنے میں تشبیہ دی، اس نے اپنے چھپے ہوئے ضمیر کو تیری معرفت سے وابستہ نہیں کیا اور اس کے دل کو یہ یقین چھو بھی نہیں گیا کہ تیرا کوئی شریک نہیں۔ گویا اس نے پیرو کاروں کا یہ قول نہیں سنا جو اپنے مقتداؤں سے بیزاری چاہتے ہوئے یہ کہیں گے کہ: ’’خدا کی قسم! ہم تو قطعاً ایک کھلی ہوئی گمراہی میں تھے کہ جب ہم سارے جہاں کے پالنے والے کے برابر تمہیں ٹھہرایا کرتے تھے‘‘۔ وہ لوگ جھوٹے ہیں جو تجھے دوسروں کے برابر سمجھ کر اپنے بتوں سے تشبیہ دیتے ہیں اور اپنے وہم میں تجھ پر مخلوقات کی صفتیں جڑ دیتے ہیں اور اپنے خیال میں اس طرح تیرے حصے بخرے کرتے ہیں جس طرح مجسم چیزوں کے جوڑ بند الگ الگ کئے جاتے ہیں اور اپنی عقلوں کی سوجھ بوجھ کے مطابق تجھے مختلف قوتوں والی مخلوقات پر قیاس کرتے ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ جس نے تجھے تیری مخلوق میں سے کسی کے برابر جانا اس نے تیرا ہمسر بنا ڈالا اور تیرا ہمسر بنانے والا تیری کتاب کی محکم آیتوں کے مضامین اور ان حقائق کا جنہیں تیری طرف کے روشن دلائل واضح کررہے ہیں منکر ہے۔ تو وہ اللہ ہے کہ عقلوں کی حد میں گھر نہیں سکتا کہ ان کی سوچ بچار کی زد پر آ کر کیفیات کو قبول کر لے اور نہ ان کے غور و فکر کی جو لانیوں میں تیری سمائی ہے کہ تو محدود ہو کر ان کے فکری تصرفات کا پابند بن جائے۔ [اسی خطبہ کا ایک حصہ یہ ہے] اس نے جو چیزیں پیدا کیں ان کا ایک اندازہ رکھا مضبوط و مستحکم اور ان کا انتظام کیا عمدہ و پاکیزہ اور انہیں ان کی سمت پر اس طرح لگایا کہ نہ وہ اپنی آخری منزل کی حدوں سے آگے بڑھیں اور نہ منزل منتہا تک پہنچنے میں کوتاہی کی۔ جب انہیں اللہ کے ارادے پر چل پڑنے کا حکم دیا گیا تو انہوں نے سرتابی نہیں کی اور وہ ایسا کر ہی کیوں کر سکتی تھیں، جب کہ تمام امور اسی کی مشیت و ارادہ سے صادر ہوئے ہیں۔ وہ گوناگوں چیزوں کا موجد ہے بغیر کسی سوچ بچار کی طرف رجوع کئے اور بغیر طبیعت کی کسی جولانی کے کہ جسے دل میں چھپائے ہو اور بغیر کسی تجربہ کے کہ جو زمانہ کے حوادث سے حاصل کیا ہو اور بغیر کسی شریک کے کہ جو ان عجیب و غریب چیزوں کی ایجاد میں اس کا معین و مددگار رہا ہو۔ چنانچہ مخلوق (بن بنا کر) مکمل ہو گئی اور اس نے اللہ کی اطاعت کے سامنے سر جھکا دیا اور (فوراً) اس کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے بڑھی، نہ کسی دیر کرنے والے کی سی سست رفتاری دامن گیر ہوئی اور نہ کسی حیل حجت کرنے والے کی سی سستی اور ڈھیل حائل ہوئی۔ اس نے ان چیزوں کے ٹیڑھے پن کو سیدھا کر دیا اور ان کی حدیں معین کر دیں اور اپنی قدرت سے ان متضاد چیزوں میں ہم رنگی و ہم آہنگی پیدا کی اور نفسوں کے رشتے (بدنوں سے) جوڑ دیئے اور انہیں مختلف جنسوں پر بانٹ دیا جو اپنی حدوں، اندازوں، طبیعتوں اور صورتوں میں جُدا جُدا ہیں۔ یہ نو ایجاد مخلوق ہے کہ جس کی ساخت اس نے مضبوط کی ہے اور اپنے ارادے کے مطابق اسے بنایا اور ایجاد کیا۔ [اسی خطبہ کا ایک جز یہ ہے آسمان کے وصف میں] اس نے بغیر (کسی چیز سے) وابستہ کئے اس کے شگافوں کے نشیب و فراز کو مرتب کر دیا اور اس کے دراڑوں کی کشادگیوں کو ملادیا اور انہیں آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ جکڑ دیا اور اس کے احکام کو لے کر اترنے والوں اور خلق کے اعمال کو لے کر چڑھنے والوں کیلئے اس کی بلندیوں کی دشوار گزاری کو آسان کر دیا۔ ابھی وہ آسمان دھوئیں ہی کی شکل میں تھے کہ اللہ نے انہیں پکارا تو (فوراً) ان کے تسموں کے رشتے آپس میں متصل ہو گئے۔ اس نے ان کے بند دروازوں کو بستہ ہونے کے بعد کھول دیا اور ان کے سوراخوں پر ٹوٹتے ہوئے تاروں کے نگہبان کھڑے کر دیئے اور انہیں اپنے زور سے روک دیا کہ کہیں وہ ہوا کے پھیلاؤ میں ادھر ادھر نہ ہو جائیں اور انہیں مامور کیا کہ وہ اس کے حکم کے سامنے سر جھکائے ہوئے اپنے مرکز پر ٹھہرے رہیں۔ اس نے فلک کے سورج کو دن کی روشن نشانی اور چاند کو رات کی دھندلی نشانی قرار دیا ہے اور انہیں ان کی منزلوں پر چلایا ہے اور ان کی گزرگاہوں میں ان کی رفتار مقرر کر دی ہے، تاکہ ان کے ذریعہ سے شب و روز کی تمیز ہو سکے اور انہی کے اعتبار سے برسوں کی گنتی اور (دوسرے) حساب جانے جا سکیں۔ پھر یہ کہ اس نے آسمانی فضا میں اس فلک کو آویزاں کیا اور اس میں اسی کی آرائش کیلئے منے منے موتیوں ایسے تارے اور چراغوں کی طرح چمکتے ہوئے ستارے آویزاں کئے اور چوری چھپے کان لگانے والوں پر ٹوٹتے ہوئے تاروں کے تیر چلائے اور ستاروں کو اپنے جبرو قہر سے ان کے دھڑے پر لگایا کہ کوئی ثابت رہے اور کوئی سیار، کبھی اتار ہو اور کبھی ابھار اور کسی میں نحوست ہو اور کسی میں سعادت۔ [اسی خطبہ کا ایک جز یہ ہے فرشتوں کے وصف میں] پھر اللہ سبحانہ نے اپنے آسمانوں میں ٹھہرانے اور اپنی مملکت کے بلند طبقات کو آباد کرنے کیلئے فرشتوں کی عجیب و غریب مخلوق پیدا کی۔ ان سے آسمان کے وسیع راستوں کا گوشہ گوشہ بھر دیا اور اس کی فضا کی وسعتوں کا کونا کونا چھلکا دیا اور ان وسیع اطراف کی پہنائیوں میں تسبیح کرنے والے فرشتوں کی آوازیں قدس و پاکیزگی کی چار دیواریوں اور عظمت کے گہرے حجابوں اور بزرگی و جلال کے سرا پردوں میں گونجتی ہیں اور اس گونج کے پیچھے جس سے کان بہرے ہو جاتے ہیں تجلیات نور کی اتنی فراوانیاں ہیں کہ جو نگاہوں کو اپنے تک پہنچنے سے روک دیتی ہیں۔ چنانچہ وہ ناکام و نامراد ہو کر اپنی جگہ پر ٹھہری رہتی ہیں۔ اللہ نے ان (فرشتوں) کو جُدا جُدا صورتوں اور الگ الگ پیمانوں پر پیدا کیا ہے۔ وہ بال و پَر رکھتے ہیں اور اس کے جلال و عزت کی تسبیح کرتے رہتے ہیں اور مخلوق میں جو اس کی صنعتیں اجاگر ہوئی ہیں انہیں اپنی طرف نسبت نہیں دیتے اور نہ یہ اِدّعا کرتے ہیں کہ وہ کسی ایسی شے کو پیدا کر سکتے ہیں کہ جس کے پیدا کرنے میں وہ منفرد و یکتا ہے، ’’بلکہ وہ اس کے معزز بندے ہیں جو کسی بات کے کہنے میں اس سے سبقت نہیں کرتے اور وہ اسی کے کہنے پر چلتے ہیں‘‘۔ اللہ نے انہیں وہاں اپنی وحی کا امانتدار اور اپنے اوامر و نواہی کی ودیعتوں کا حامل بنا کر رسولوں کی طرف بھیجا ہے اور شک و شبہات کے خدشوں سے انہیں محفوظ رکھا ہے۔ تو ان میں سے کوئی بھی اس کی رضا جوئی کی راہ سے کترانے والا نہیں اور اس نے اپنی توفیق و اعانت سے ان کی دستگیری کی اور خضوع و خشوع کی عجز و شکستگی سے ان کے دلوں کو ڈھانپ دیا ہے اور تسبیح و تقدیس کی سہولتوں کے دروازے ان کیلئے کھول دیئے ہیں اور اپنی توحید کے نشانوں پر ان کیلئے روشن مینار نصب کئے ہیں۔ نہ گناہوں کی گرانباریوں نے انہیں دبا رکھا ہے، نہ شب و روز کی گردشوں نے ان پر (سواری کیلئے) پالان ڈالے ہیں اور نہ شکوک و شبہات نے ان کے ایمان کے استحکام پر تیر چلائے ہیں اور نہ ان کے یقین کی پختگیوں پر (اوہام و) ظنون نے دھاوا بولا ہے اور نہ ان کے درمیان کبھی کینہ و حسد کی چنگاریاں بھڑکی ہیں اور نہ حیرانی و سراسیمگی ان کے دلوں میں سرایت کی ہوئی معرفت اور ان کے سینے کی تہوں میں جمی ہوئی عظمت خداوندی و ہیبت ِجلال الٰہی کو چھین سکی ہے، نہ کبھی وسوسوں نے ان پر دندان آز تیز کیا ہے کہ ان کے فکروں کو زنگ و تکدر سے آلودہ کر دیں۔ ان میں کچھ وہ ہیں جو اللہ کے پیدا کردہ بوجھل بادلوں اور اونچے پہاڑوں کی بلندیوں اور گھٹا ٹوپ اندھیروں کی سیاہیوں کی صورتوں میں ہیں اور ان میں کچھ وہ ہیں جن کے قدم تحت الثریٰ کی حدوں کو چیر کر نکل گئے ہیں تو وہ سفید جھنڈوں کے مانند ہیں جو فضا کی وسعت کو چیرتے ہوئے آگے بڑھ گئے ہیں اور ان پھریروں کے آخری سرے تک ایک ہلکی ہوا چل رہی ہے جو انہیں روکے ہوئے ہے۔ ان فرشتوں کو عبادت کی مشغولیتوں نے ہر چیز سے بے فکر بنا دیا اور ایمان کے ٹھوس عقیدے ان کیلئے اللہ کی معرفت کا وسیلہ بن گئے ہیں اور یقین کامل نے اوروں سے ہٹا کر اسی سے ان کی لو لگا دی ہے۔ اللہ کی طرف کی نعمتوں کے سوا کسی غیر کے عطا و انعام کی انہیں خواہش ہی نہیں ہوتی۔ انہوں نے معرفت کے شیریں مزے چکھے ہیں اور اس کی محبت کے سیراب کرنے والے جام سے سرشار ہیں اور ان کے دلوں کی تہ میں اس کا خوف جڑ پکڑ چکا ہے، تو انہوں نے لمبی چوڑی عبادتوں سے اپنی سیدھی کمریں ٹیڑھی کر لی ہیں اور ہمہ وقت اسی کی طلب میں لگے رہنے کے باوجود ان کے تضرع و عاجزی کے ذخیرے ختم نہیں ہوتے اور قرب الٰہی کی بلندیوں کے باوجود خوف و خشوع کے پھندے ان (کے گلے ) سے نہیں اترتے۔ نہ ان میں کبھی خود پسندی پیدا ہوتی ہے کہ وہ اپنے گزشتہ اعمال کو زیادہ خیال کرنے لگیں اور نہ جلال پروردگار کے سامنے ان کے عجز و انکسار نے یہ موقع آنے دیا ہے کہ وہ اپنی نیکیوں کو بڑا سمجھ سکیں۔ ان میں مسلسل تعب اٹھانے کے باوجود بھی سستی نہیں آنے پاتی اور نہ ان کی طلب و رغبت میں کبھی کمی پیدا ہوئی ہے کہ وہ اپنے پالنے والے کے توقعات سے روگرداں ہو جائیں اور نہ مسلسل مناجاتوں سے ان کی زبان کی نوکیں خشک ہوتی ہیں اور نہ کبھی ایسا ہوا ہے کہ وہ دوسرے اشغال کی وجہ سے تضرع و زاری کی آوازوں کو دھیما کر لیں اور نہ عبادت کی صفوں میں ان کے شانے آگے پیچھے ہو جاتے ہیں اور نہ وہ آرام و راحت کی خاطر اس کے احکام کی تعمیل میں کوتاہی کر کے اپنی گردنوں کو ادھر سے ادھر کرتے ہیں، نہ ان کی کوششوں کے عزم پر غفلت کی نادانیاں حملہ آور ہوتی ہیں، اور نہ ان کی (بلند) ہمتوں میں فریب دینے والے وسوسوں کا گزر ہوتا ہے۔ انہوں نے احتیاج کے دن کیلئے صاحب عرش کو اپنا ذخیرہ بنا رکھا ہے اور جب دوسرے لوگ مخلوقات کی طرف اپنی خواہشوں کو لے کر بڑھتے ہیں تو یہ بس اسی سے لو لگاتے ہیں۔ وہ اس کی عبادت کی انتہا کو نہیں پہنچ سکتے۔ انہیں عبادت کا والہانہ شوق (کسی اور طرف لے جانے کے بجائے) ان کی قلبی امید و بیم کے ان ہی سر چشموں کی طرف لے جاتا ہے جن کے سوتے کبھی موقوف نہیں ہوتے۔ خوف کھانے کے وجوہ ختم نہیں ہوئے کہ وہ اپنی کوششوں میں سستی کریں اور نہ دنیا کے طمعوں نے انہیں جکڑ رکھا ہے کہ وہ دنیا کیلئے وقتی کوششوں کو اپنی اس جدوجہد پر ترجیح دیں اور نہ انہوں نے اپنے سابقہ اعمال کو کبھی بڑا سمجھا ہے اور اگر بڑا سمجھتے تو پھر امیدیں خوف خدا کے اندیشوں کو ان (کے صفحہ دل) سے مٹا دیتیں اور نہ شیطان کے ورغلانے سے ان میں باہم اپنے پروردگار کے متعلق کبھی کوئی اختلاف پیدا ہوا اور نہ ایک دوسرے سے کٹنے (اور بگاڑ پیدا کرنے) کی وجہ سے پراگندہ و متفرق ہوئے اور نہ آپس میں حسد رکھنے کے سبب سے ان کے دلوں میں کینہ و بغض پیدا ہوا اور نہ شک و شبہات میں پڑنے کی وجہ سے تتر بتر ہوئے اور نہ پست ہمتیوں نے ان پر کبھی قبضہ کیا۔ وہ ایمان کے پابند ہیں، انہیں اس کے بندھنوں سے کجی، روگردانی سستی یا کاہلی نے کبھی نہیں چھڑایا۔ سطح آسمان پر کھال کے برابر بھی ایسی جگہ نہیں کہ جہاں کوئی سجدہ کرنے والا فرشتہ یا تیزی سے تگ و دو کرنے والا ملک نہ ہو، پروردگار کی اطاعت کے بڑھنے سے ان کے علم میں زیادتی ہی ہوتی رہتی ہے اور ان کے دلوں میں اس کی عزت کی عظمت و جلالت بڑھتی ہی جاتی ہے۔ [اسی خطبہ کا ایک حصہ یہ ہے جس میں زمین اور اس کے پانی پر بچھائے جانے کی کیفیت بیان فرمائی ہے] (اللہ نے) زمین کو تہ و بالا ہونے والی مہیب لہروں اور بھر پور سمندروں کی اتھاہ گہرائیوں کے اوپر پاٹا، جہاں موجیں موجوں سے ٹکرا کر تھپیڑے کھاتی تھیں اور لہریں لہروں کو دھکیل کر گونج اٹھتی تھیں اور اس طرح پھین دے رہی تھیں جس طرح مستی و ہیجان کے عالم میں نر اونٹ۔ چنانچہ اس متلاطم پانی کی طغیانیاں زمین کے بھاری بوجھ کے دباؤ سے فرو ہو گئیں اور جب اس نے اپنا سینہ اس پر ٹیک کر اسے روندا تو سارا جوش و خروش ٹھنڈا پڑ گیا اور جب اپنے شانے ٹکا کر اس پر لوٹی تو وہ ذلتوں اور خواریوں کے ساتھ رام ہو گیا۔ کہاں تو اس کی موجیں دندنا رہی تھیں کہ اب عاجز و بے بس ہو کر تھم گیا اور ذلت کی لگاموں میں اسیر ہو کر مطیع ہو گیا اور زمین اس طوفان خیز پانی کے گہراؤ میں اپنا دامن پھیلا کر ٹھہر گئی اور اس کے اٹھلانے اور سر اٹھانے کے غرور اور تکبر سے ناک اوپر چڑھانے اور بہاؤ میں تفوق و سر بلندی دکھانے کا خاتمہ کر دیا اور اس کی روانی کی بے اعتدالیوں پر ایسے بند باندھے کہ وہ اچھلنے کودنے کے بعد(بالکل بے دم) ہو کر ٹھہر گیا اور جست و خیز کی سر مستیاں دکھا کر تھم گیا۔ جب اس کے کناروں کے نیچے پانی کی طغیانی کا زور و شور سکون پذیر ہوا اور اس کے کاندھوں پر اونچے اونچے اور چوڑے چکلے پہاڑوں کا بوجھ لد گیا تو (اللہ نے) اس کی ناک کے بانسوں سے پانی کے چشمے جاری کر دیے جنہیں دور و دراز جنگلوں اور کھدے ہوئے گڑھوں میں پھیلا دیا اور پتھروں کی مضبوط چٹانوں اور بلند چوٹیوں والے پتھریلے پہاڑوں سے اس کی حرکت میں اعتدال پیدا کیا۔ چنانچہ اس کی سطح کے مختلف حصوں میں پہاڑوں کے ڈوب جانے اور اس کی گہرائیوں کی تہ میں گھس جانے اور اس کے ہموار حصوں کی بلندیوں اور پست سطحوں پر سوار ہو جانے کی وجہ سے اس کی تھرتھراہٹ جاتی رہی۔ اور اللہ نے زمین سے لے کر فضائے بسیط تک پھیلاؤ اور وسعت رکھی اور اس میں رہنے والوں کو سانس لینے کو ہوا مہیا کی اور اس میں بسنے والوں کو ان کی تمام ضروریات کے ساتھ ٹھہرایا۔ پھر اس نے چٹیل زمینوں کو کہ جن کی بلندیوں تک نہ چشموں کا پانی پہنچ سکتا ہے اور نہ نہروں کے نالے وہاں تک پہنچنے کا کوئی ذریعہ رکھتے ہیں، یونہی نہیں رہنے دیا، بلکہ ان کیلئے ہوا پر اٹھنے والی گھٹائیں پیدا کیں جو مردہ زمین میں زندگی کی لہریں دوڑا دیتی ہیں اور اس سے گھاس پات اُگاتی ہیں۔اس نے ابر کی بکھری ہوئی چمکیلی ٹکڑیوں اور پراگندہ بدلیوں کو یکجا کر کے اَبر محیط بنایا اور جب اس کے اندر پانی کے ذخیرے حرکت میں آ گئے اور اس کے کناروں میں بجلیاں تڑپنے لگیں اور برق کی چمک سفید اَبروں کی تہوں اور گھنے بادلوں کے اندر مسلسل جاری رہی تو اللہ نے انہیں موسلا دھار برسنے کیلئے بھیج دیا۔ اس طرح کہ اس کے پانی سے بھرے ہوئے بوجھل ٹکڑے زمین پر منڈلا رہے تھے اور جنوبی ہوائیں انہیں مسل مسل کر برسنے والے مینہ کی بوندیں اور ایک دم ٹوٹ پڑنے والی بارش کے جھالے برسا رہی تھیں۔ جب بادلوں نے اپنا سینہ ہاتھ پیروں سمیت زمین پر ٹیک دیا اور پانی کا سارا لدا لدایا بوجھ اس پر پھینک دیا تو اللہ نے افتادہ زمینوں سے سر سبز کھیتیاں اُگائیں اور خشک پہاڑوں پر ہرا بھرا سبزہ پھیلا دیا۔ زمین بھی اپنے مرغزاروں کے بناؤ سنگار سے خوش ہو کر جھومنے لگی اور ان شگوفوں کی اوڑھنیوں سے جو اسے اوڑھا دی گئی تھیں اور ان شگفتہ و شاداب کلیوں کے زیوروں سے جو اسے پہنا دیئے گئے تھے، اترانے لگی۔ اللہ نے ان چیزوں کو لوگوں کی زندگی کا وسیلہ اور چوپائیوں کا رزق قرار دیا ہے اور اسی نے زمین کی سمتوں میں کشادہ راستے نکالے ہیں اور اس کی شاہراہوں پر چلنے والوں کیلئے روشنی کے مینار نصب کئے ہیں۔ جب اللہ نے فرشِ زمین بچھا لیا اور اپنا کام پورا کر لیا تو آدم علیہ السلام کو دوسری مخلوق کے مقابلہ میں برگزیدہ ہونے کی وجہ سے منتخب کر لیا اور انہیں نوع انسانی کی فرد اوّل قرار دیا اور انہیں اپنی جنت میں ٹھہرایا جہاں دل کھول کر ان کے کھانے پینے کا انتظام کیا اور جس سے منع کرنا تھا اس سے پہلے ہی خبردار کر دیا تھا اور یہ بتا دیا تھا کہ اس کی طرف قدم بڑھانے میں عدول حکمی کی آلائش ہے اور اپنے مرتبہ کو خطرہ میں ڈالنا ہے، لیکن جس چیز سے انہیں روکا تھا انہوں نے اسی کا رخ کیا، جیسا کہ پہلے ہی سے اس کے علم میں تھا۔ چنانچہ توبہ کے بعد انہیں جنت سے نیچے اتار دیا، تاکہ اپنی زمین کو ان کی اولاد سے آباد کرے اور ان کے ذریعے بندوں پر حجت پیش کرے۔ اللہ نے آدم علیہ السلام کو اٹھا لینے کے بعد بھی اپنی مخلوق کو ایسی چیزوں سے خالی نہیں رکھا جو اس کی ربوبیت کی دلیلوں کو مضبوط کرتی رہیں اور بندوں کیلئے اس کی معرفت کا ذریعہ بنی رہیں اور یکے بعد دیگرے ہر دور میں وہ اپنے برگزیدہ نبیوں اور رسالت کے امانتداروں کی زبانوں سے حجت کے پہنچانے کی تجدیدکرتا رہا، یہاں تک کہ ہمارے نبی محمد ﷺ کے ذریعہ وہ حجت (پوری طرح) تمام ہو گئی اور حجت پورا کرنا اور ڈرا دیا جانا اپنے نقطۂ اختتام کو پہنچ گیا۔ اس نے روزیاں مقرر کر رکھی ہیں [۳] ، (کسی کیلئے ) زیادہ اور (کسی کیلئے) کم اور اس کی تقسیم میں کہیں تنگی رکھی ہے اور کہیں فراخی اور یہ بالکل عدل کے مطابق تھا۔ اس طرح کہ اس نے جس جس صورت سے چاہا امتحان لیا ہے۔ رزق کی آسانی یا دشواری کے ساتھ اور مال دار اور فقیر کے شکر اور صبر کو جانچا ہے۔ پھر اس نے رزق کی فراخیوں کے ساتھ فقر و فاقہ کے خطرے اور اس کی سلامتیوں میں نت نئی آفتوں کے دغدغے اور فراخی و وسعت کی شادمانیوں کے ساتھ غم و غصہ کے گلوگیر پھندے بھی لگا رکھے ہیں۔ اس نے زندگی کی (مختلف) مدتیں مقرر کی ہیں، کسی کو زیادہ، کسی کو کم، کسی کو آگے اور کسی کو پیچھے کر دیا ہے اور ان مدتوں کی رسیوں کی موت سے گرہ لگا دی ہے اور وہ موت ان کو کھینچے لئے جاتی ہے اور ان کے مضبوط رشتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کئے دیتی ہے۔ وہ بھید چھپانے والوں کی نیتوں [۴] ، کھسر پھسر کرنے والوں کی سرگوشیوں، مظنون اور بے بنیاد خیالوں، دل میں جمے ہوئے یقینی ارادوں، پلکوں (کے نیچے) کنکھیوں کے اشاروں، دل کی تہوں اور غیب کی گہرائیوں میں چھپی ہوئی چیزوں کو جانتا ہے اور (ان آوازوں کا سننے والا ہے) جن کو کان لگا کر سننے کیلئے کانوں کے سوراخوں کو جھکنا پڑتا ہے اور چیونٹیوں کے موسم گرما کے مسکنوں اور حشرات الارض کے موسمِ سرما بسر کرنے کے مقاموں سے آگاہ ہے اور پسر مردہ عورتوں کے (درد بھرے) نالوں کی گونج اور قدموں کی چاپ کا سننے والا ہے اور سبز پتیوں کے غلافوں کے اندرونی خولوں میں پھلوں کے نشو و نما پانے کی جگہوں اور پہاڑوں کی کھوؤں اور ان کے نشیبوں میں وحشی جانوروں کی پناہ گاہوں اور درختوں کے تنوں اور ان کے چھلکوں میں مچھروں کے سر چھپانے کے سوراخوں اور شاخوں میں پتیوں کے پھوٹنے کی جگہوں اور صلب کی گزر گاہوں میں نطفوں کے ٹھکانوں اور زمین سے اٹھنے والے اَبر کے لکوں اور آپس میں جڑے ہوئے بادلوں اور تہ بہ تہ جمے ہوئے اَبروں سے ٹپکنے والے بارش کے قطروں سے باخبر ہے اور ریگ (بیابان) کے ذرّے جنہیں باد بگولوں نے اپنے دامنوں سے اڑایا ہے اور وہ نشانات جنہیں بارشوں کے سیلابوں نے مٹا ڈالا ہے، اس کے علم میں ہیں اور ریت کے ٹیلوں پر زمین کے کیڑوں کے چلنے پھرنے اور سر بلند پہاڑوں کی چوٹیوں پر پَر و بال رکھنے والے طائروں کے نشیمنوں اور گھونسلوں کی اندھیاریوں میں چہچہانے والے پرندوں کے نغموں کو جانتا ہے اور جن چیزوں کو سیپیوں نے سمیٹ رکھا ہے اور جن چیزوں کو دریا کی موجیں اپنے پہلو کے نیچے دبائے ہوئے ہیں اور جن کو رات (کی تاریک چادروں) نے ڈھانپ رکھا ہے اور جن پر دن کے سورج نے اپنی کرنوں سے نور بکھیرا ہے اور جن پر کبھی ظلمت کی تہیں جم جاتی ہیں اور کبھی نور کے دھارے بہہ نکلتے ہیں پہچانتا ہے۔ وہ ہر قدم کا نشان، ہر چیز کی حس و حرکت، ہر لفظ کی گونج، ہر ہونٹ کی جنبش، ہر جاندار کا ٹھکانا، ہر ذرّے کا وزن اور ہر جی دار کی سسکیوں کی آواز اور جو کچھ بھی اس زمین پر ہے، سب اس کے علم میں ہے۔ وہ درختوں کا پھل ہو یا ٹوٹ کر گرنے والا پتہ، یا نطفے یا منجمد خون کا ٹھکانا اور لوتھڑا یا (اس کے بعد) بننے والی مخلوق اور پیدا ہونے والا بچہ۔ (ان چیزوں کے جاننے میں) اسے کلفت و تعب اٹھانا نہیں پڑی اور نہ اسے اپنی مخلوق کی حفاظت میں کوئی رکاوٹ درپیش ہوئی اور نہ اسے اپنے احکام کے چلانے اور مخلوقات کا انتظام کرنے سے سستی اور تھکن لاحق ہوئی، بلکہ اس کا علم تو ان چیزوں کے اندر تک اترا ہوا ہے اور ایک ایک چیز اس کے شمار میں ہے۔ اس کا عدل ہمہ گیر اور اس کا فضل سب کے شامل حال ہے اور اس کے ساتھ وہ اس کے شایان شان حق کی ادائیگی سے قاصر ہیں۔ اے خدا! تو ہی توصیف و ثنا اور انتہائی درجہ تک سراہے جانے کا مستحق ہے۔ اگر تجھ سے آس لگائی جائے تو تُو دلوں کی بہتریں ڈھارس ہے اور اگر تجھ سے امیدیں باندھی جائیں تو تو بہترین چشمہ امید ہے۔ تو نے مجھے ایسی قوت بیان بخشی ہے کہ جس سے تیرے علاوہ کسی کی مدح اور ستائش نہیں کرتا ہوں اور میں اپنی مدح کا رخ کبھی ان لوگوں کی طرف نہیں موڑنا چاہتا جو ناامیدیوں کا مرکز اور بدگمانیوں کے مقامات ہیں، تو نے میری زبان کو انسانوں کی مدح اور پروردہ مخلوق کی تعریف و ثنا سے ہٹا لیا ہے۔ بار الٰہا! ہر ثنا گستر کیلئے اپنے ممدوح پر انعام و اکرام اور عطا و بخشش پانے کا حق ہوتا ہے اور میں تجھ سے امید لگائے بیٹھا ہوں، یہ کہ تو رحمت کے ذخیروں اور مغفرت کے خزانوں کا پتا دینے والا ہے۔ خدایا! یہ تیرے سامنے وہ شخص کھڑا ہے جس نے تیری توحید و یکتائی میں تجھے منفرد مانا ہے اور ان ستائشوں اور تعریفوں کا تیرے علاوہ کسی کو اہل نہیں سمجھا، میری احتیاج تجھ سے وابستہ ہے، تیری ہی بخششوں اور کامرانیوں سے اس کی بے نوائی کا علاج ہو سکتا ہے اور اس کے فقر و فاقہ کو تیرا ہی جود و احسان سہارا دے سکتا ہے، ہمیں تُو اسی جگہ پر اپنی خوشنودیاں بخش دے اور دوسروں کی طرف دست ِطلب بڑھانے سے بے نیاز کر دے، ’’تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے‘‘ ۔

  90. خطبہ 90- جب آپؑ کے ہاتھ پر بیعت ہوئی تو فرمایا

    90

    الْحَمْدُ لِلَّهِ الْمَعْرُوفِ مِنْ غَيْرِ رُؤْيَةٍ وَ الْخَالِقِ مِنْ غَيْرِ رَوِيَّةٍ الَّذِي لَمْ يَزَلْ قَائِماً دَائِماً إِذْ لَا سَمَاءٌ ذَاتُ أَبْرَاجٍ وَ لَا حُجُبٌ ذَاتُ أَرْتَاجٍ وَ لَا لَيْلٌ دَاجٍ وَ لَا بَحْرٌ سَاجٍ وَ لَا جَبَلٌ ذُو فِجَاجٍ وَ لَا فَجٍّ ذُو اعْوِجَاجٍ وَ لَا أَرْضٌ ذَاتُ مِهَادٍ وَ لَا خَلْقٌ ذُو اعْتِمَادٍ ذَلِكَ مُبْتَدِعُ الْخَلْقِ وَ وَارِثُهُ وَ إِلَهُ الْخَلْقِ وَ رَازِقُهُ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ دَائِبَانِ فِي مَرْضَاتِهِ يُبْلِيَانِ كُلَّ جَدِيدٍ وَ يُقَرِّبَانِ كُلَّ بَعِيدٍ قَسَمَ أَرْزَاقَهُمْ وَ أَحْصَى آثَارَهُمْ وَ أَعْمَالَهُمْ وَ عَدَدَ أَنْفَاسِهِمْ وَ خَائِنَةَ أَعْيُنِهِم‏ وَ مَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ مِنَ الضَّمِيرِ وَ مُسْتَقَرَّهُمْ وَ مُسْتَوْدَعَهُمْ مِنَ الْأَرْحَامِ وَ الظُّهُورِ إِلَى أَنْ تَتَنَاهَى بِهِمُ الْغَايَاتُ هُوَ الَّذِي اشْتَدَّتْ نِقْمَتُهُ عَلَى أَعْدَائِهِ فِي سَعَةِ رَحْمَتِهِ وَ اتَّسَعَتْ رَحْمَتُهُ لِأَوْلِيَائِهِ فِي شِدَّةِ نِقْمَتِهِ قَاهِرُ مَنْ عَازَّهُ وَ مُدَمِّرُ مَنْ شَاقَّهُ وَ مُذِلُّ مَنْ نَاوَاهُ وَ غَالِبُ مَنْ عَادَاهُ مَنْ تَوَكَّلَ عَلَيْهِ كَفَاهُ وَ مَنْ سَأَلَهُ أَعْطَاهُ وَ مَنْ أَقْرَضَهُ قَضَاهُ وَ مَنْ شَكَرَهُ جَزَاهُ عِبَادَ اللَّهِ زِنُوا أَنْفُسَكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ تُوزَنُوا وَ حَاسِبُوهَا مِنْ قَبْلِ أَنْ تُحَاسَبُوا وَ تَنَفَّسُوا قَبْلَ ضِيقِ الْخِنَاقِ وَ انْقَادُوا قَبْلَ عُنْفِ السِّيَاقِ وَ اعْلَمُوا أَنَّهُ مَنْ لَمْ يُعَنْ عَلَى نَفْسِهِ حَتَّى يَكُونَ لَهُ مِنْهَا وَاعِظٌ وَ زَاجِرٌ لَمْ يَكُنْ لَهُ مِنْ غَيْرِهَا زَاجِرٌ وَ لَا وَاعِظٌ

    جب قتلِ عثمان کے بعد آپؑ کے ہاتھ پر بیعت کا ارادہ کیا گیا تو آپؑ نے فرمایا: مجھے چھوڑ دو اور (اس خلافت کیلئے) میرے علاوہ کوئی اور ڈھونڈ لو۔ ہمارے سامنے ایک ایسا معاملہ ہے جس کے کئی رخ اور کئی رنگ ہیں۔ جسے نہ دل برداشت کر سکتے ہیں اور نہ عقلیں اسے مان سکتی ہیں۔ (دیکھو!) اُفق عالم پر گھٹائیں چھائی ہوئی ہیں۔ راستہ پہچاننے میں نہیں آتا۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اگر میں تمہاری اس خواہش کو مان لوں تو تمہیں اس راستے پر لے چلوں گا جو میرے علم میں ہے اور اس کے متعلق کسی کہنے والے کی بات اور کسی ملامت کرنے والے کی سرزنش پر کان نہیں دھروں گا اور اگر تم میرا پیچھا چھوڑ دو تو پھر جیسے تم ہو ویسا میں ہوں اور ہو سکتا ہے کہ جسے تم اپنا امیر بناؤ اس کی میں تم سے زیادہ سنوں اور مانوں اور میرا (تمہارے دنیوی مفاد کیلئے) امیر ہونے سے وزیر ہونا بہتر ہے۔

  91. خطبہ 91- خوارج کی بیخ کنی اور اپنے علم کی ہمہ گیری و فتنہ بنی امیہ

    91

    وصف الله تعالى الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَا يَفِرُهُ الْمَنْعُ وَ الْجُمُودُ وَ لَا يُكْدِيهِ الْإِعْطَاءُ وَ الْجُودُ إِذْ كُلُّ مُعْطٍ مُنْتَقِصٌ سِوَاهُ وَ كُلُّ مَانِعٍ مَذْمُومٌ مَا خَلَاهُ وَ هُوَ الْمَنَّانُ بِفَوَائِدِ النِّعَمِ وَ عَوَائِدِ الْمَزِيدِ وَ الْقِسَمِ عِيَالُهُ الْخَلَائِقُ ضَمِنَ أَرْزَاقَهُمْ وَ قَدَّرَ أَقْوَاتَهُمْ وَ نَهَجَ سَبِيلَ الرَّاغِبِينَ إِلَيْهِ وَ الطَّالِبِينَ مَا لَدَيْهِ وَ لَيْسَ بِمَا سُئِلَ بِأَجْوَدَ مِنْهُ بِمَا لَمْ يُسْأَلْ الْأَوَّلُ الَّذِي لَمْ يَكُنْ لَهُ قَبْلٌ فَيَكُونَ شَيْ‏ءٌ قَبْلَهُ وَ الْآخِرُ الَّذِي لَيْسَ لهُ بَعْدٌ فَيَكُونَ شَيْ‏ءٌ بَعْدَهُ وَ الرَّادِعُ أَنَاسِيَّ الْأَبْصَارِ عَنْ أَنْ تَنَالَهُ أَوْ تُدْرِكَهُ مَا اخْتَلَفَ عَلَيْهِ دَهْرٌ فَيَخْتَلِفَ مِنْهُ الْحَالُ وَ لَا كَانَ فِي مَكَانٍ فَيَجُوزَ عَلَيْهِ الِانْتِقَالُ وَ لَوْ وَهَبَ مَا تَنَفَّسَتْ عَنْهُ مَعَادِنُ الْجِبَالِ وَ ضَحِكَتْ عَنْهُ أَصْدَافُ الْبِحَارِ مِنْ فِلِزِّ اللُّجَيْنِ وَ الْعِقْيَانِ وَ نُثَارَةِ الدُّرِّ وَ حَصِيدِ الْمَرْجَانِ مَا أَثَّرَ ذَلِكَ فِي جُودِهِ وَ لَا أَنْفَدَ سَعَةَ مَا عِنْدَهُ وَ لَكَانَ عِنْدَهُ مِنْ ذَخَائِرِ الْإِنْعَامِ مَا لَا تُنْفِدُهُ مَطَالِبُ الْأَنَامِ لِأَنَّهُ الْجَوَادُ الَّذِي لَا يَغِيضُهُ سُؤَالُ السَّائِلِينَ وَ لَا يُبْخِلُهُ إِلْحَاحُ الْمُلِحِّينَ صفات الله تعالی فی القرآن فَانْظُرْ أَيُّهَا السَّائِلُ فَمَا دَلَّكَ الْقُرْآنُ عَلَيْهِ مِنْ صِفَتِهِ فَائْتَمَّ بِهِ وَ اسْتَضِئْ بِنُورِ هِدَايَتِهِ ‏وَ مَا كَلَّفَكَ الشَّيْطَانُ عِلْمَهُ مِمَّا لَيْسَ فِي الْكِتَابِ عَلَيْكَ فَرْضُهُ وَ لَا فِي سُنَّةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه واله وَ أَئِمَّةِ الْهُدَى أَثَرُهُ فَكِلْ عِلْمَهُ إِلَى اللَّهِ سُبْحَانَهُ فَإِنَّ ذَلِكَ مُنْتَهَى حَقِّ اللَّهِ عَلَيْكَ وَ اعْلَمْ أَنَّ الرَّاسِخِينَ فِي الْعِلْمِ هُمُ الَّذِينَ أَغْنَاهُمْ عَنِ اقْتِحَامِ السُّدَدِ الْمَضْرُوبَةِ دُونَ الْغُيُوبِ الْإِقْرَارُ بِجُمْلَةِ مَا جَهِلُوا تَفْسِيرَهُ مِنَ الْغَيْبِ الْمَحْجُوبِ فَمَدَحَ اللَّهُ اعْتِرَافَهُمْ بِالْعَجْزِ عَنْ تَنَاوُلِ مَا لَمْ يُحِيطُوا بِهِ عِلْماً وَ سَمَّى تَرْكَهُمُ التَّعَمُّقَ فِيمَا لَمْ يُكَلِّفْهُمُ الْبَحْثَ عَنْ كُنْهِهِ رُسُوخاً فَاقْتَصِرْ عَلَى ذَلِكَ وَ لَا تُقَدِّرْ عَظَمَةَ اللَّهِ سُبْحَانَهُ عَلَى قَدْرِ عَقْلِكَ فَتَكُونَ مِنَ الْهَالِكِينَ هُوَ الْقَادِرُ الَّذِي إِذَا ارْتَمَتِ الْأَوْهَامُ لِتُدْرِكَ مُنْقَطَعَ قُدْرَتِهِ وَ حَاوَلَ الْفِكْرُ الْمُبَرَّأُ مِنْ خَطَرَاتِ الْوَسَاوِسِ أَنْ يَقَعَ عَلَيْهِ فِي عَمِيقَاتِ غُيُوبِ مَلَكُوتِهِ وَ تَوَلَّهَتِ الْقُلُوبُ إِلَيْهِ لِتَجْرِيَ فِي كَيْفِيَّةِ صِفَاتِهِ وَ غَمَضَتْ مَدَاخِلُ الْعُقُولِ فِي حَيْثُ لَا تَبْلُغُهُ الصِّفَاتُ لِتَنَالَ عِلْمَ ذَاتِهِ رَدَعَهَا وَ هِيَ تَجُوبُ مَهَاوِيَ سُدَفِ الْغُيُوبِ مُتَخَلِّصَةً إِلَيْهِ سُبْحَانَهُ فَرَجَعَتْ إِذْ جُبِهَتْ مُعْتَرِفَةً بِأَنَّهُ لَا يُنَالُ بِجَوْرِ الِاعْتِسَافِ كُنْهُ مَعْرِفَتِهِ وَ لَا تَخْطُرُ بِبَالِ أُولِي الرَّوِيَّاتِ خَاطِرَةٌ مِنْ تَقْدِيرِ جَلَالِ عِزَّتِه الَّذِي ابْتَدَعَ الْخَلْقَ عَلَى غَيْرِ مِثَالٍ امْتَثَلَهُ وَ لَا مِقْدَارٍ احْتَذَى عَلَيْهِ مِنْ خَالِقٍ مَعْبُودٍ كَانَ قَبْلَهُ وَ أَرَانَا مِنْ مَلَكُوتِ قُدْرَتِهِ وَ عَجَائِبِ مَا نَطَقَتْ بِهِ آثَارُ حِكْمَتِهِ وَ اعْتِرَافِ الْحَاجَةِ مِنَ الْخَلْقِ إِلَى أَنْ يُقِيمَهَا بِمِسَاكِ قُوَّتِهِ مَا دَلَّنَا بِاضْطِرَارِ قِيَامِ الْحُجَّةِ لَهُ عَلَى مَعْرِفَتِهِ وَ ظَهَرَتْ فِى الْبَدَائِعِ الَّتِي أَحْدَثَهَا آثَارُ صَنْعَتِهِ وَ أَعْلَامُ حِكْمَتِهِ فَصَارَ كُلُّ مَا خَلَقَ حُجَّةً لَهُ وَ دَلِيلًا عَلَيْهِ وَ إِنْ كَانَ خَلْقاً صَامِتاً فَحُجَّتُهُ بِالتَّدْبِيرِ نَاطِقَةٌ وَ دَلَالَتُهُ عَلَى الْمُبْدِعِ قَائِمَةٌ وَ أَشْهَدُ أَنَّ مَنْ شَبَّهَكَ بِتَبَايُنِ أَعْضَاءِ خَلْقِكَ وَ تَلَاحُمِ حِقَاقِ مَفَاصِلِهِمُ الْمُحْتَجِبَةِ لِتَدْبِيرِ حِكْمَتِكَ لَمْ يَعْقِدْ غَيْبَ ضَمِيرِهِ عَلَى مَعْرِفَتِكَ وَ لَمْ يُبَاشِرْ قَلْبُهُ الْيَقِينَ بِأَنَّهُ لَا نِدَّ لَكَ وَ كَأَنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ تَبَرُّأَ التَّابِعِينَ مِنَ الْمَتْبُوعِينَ إِذْ يَقُولُونَ "تَاللَّهِ إِنْ كُنَّا لَفِي ضَلالٍ مُبِينٍ إِذْ نُسَوِّيكُمْ بِرَبِّ الْعالَمِينَ" كَذَبَ الْعَادِلُونَ بِكَ إِذْ شَبَّهُوكَ بِأَصْنَامِهِمْ وَ نَحَلُوكَ حِلْيَةَ الْمَخْلُوقِينَ بِأَوْهَامِهِمْ وَ جَزَّءُوكَ تَجْزِئَةَ الْمُجَسَّمَاتِ بِخَوَاطِرِهِمْ وَ قَدَّرُوكَ عَلَى الْخِلْقَةِ الْمُخْتَلِفَةِ الْقُوَى بِقَرَائِحِ عُقُولِهِمْ وَ أَشْهَدُ أَنَّ مَنْ سَاوَاكَ بِشَيْ‏ءٍ مِنْ خَلْقِكَ فَقَدْ عَدَلَ بِكَ وَ الْعَادِلُ بِكَ كَافِرٌ بِمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ مُحْكَمَاتُ آيَاتِكَ وَ نَطَقَتْ عَنْهُ شَوَاهِدُ حُجَجِ بَيِّنَاتِكَ وَ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الَّذِي لَمْ تَتَنَاهَ فِي الْعُقُولِ فَتَكُونَ فِي مَهَبِّ فِكْرِهَا مُكَيَّفاً وَ لَا فِي رَوِيَّاتِ خَوَاطِرِهَا مَحْدُوداً مُصَرَّفاً منها قَدَّرَ مَا خَلَقَ فَأَحْكَمَ تَقْدِيرَهُ وَ دَبَّرَهُ فَأَلْطَفَ تَدْبِيرَهُ وَ وَجَّهَهُ‏ لِوِجْهَتِهِ فَلَمْ يَتَعَدَّ حُدُودَ مَنْزِلَتِهِ وَ لَمْ يَقْصُرْ دُونَ الِانْتِهَاءِ إِلَى غَايَتِهِ وَ لَمْ يَسْتَصْعِبْ إِذْ أُمِرَ بِالْمُضِيِّ عَلَى إِرَادَتِهِ وَ كَيْفَ وَ إِنَّمَا صَدَرَتِ الْأُمُورُ عَنْ مَشِيَّتِهِ الْمُنْشِئُ أَصْنَافَ الْأَشْيَاءِ بِلَا رَوِيَّةِ فِكْرٍ آلَ إِلَيْهَا وَ لَا قَرِيحَةِ غَرِيزَةٍ أَضْمَرَ عَلَيْهَا وَ لَا تَجْرِبَةٍ أَفَادَهَا مِنْ حَوَادِثِ الدُّهُورِ وَ لَا شَرِيكٍ أَعَانَهُ عَلَى ابْتِدَاعِ عَجَائِبِ الْأُمُورِ فَتَمَّ خَلْقُهُ بِأَمْرِهِ وَ أَذْعَنَ لِطَاعَتِهِ وَ أَجَابَ إِلَى دَعْوَتِهِ لَمْ يَعْتَرِضْ دُونَهُ رَيْثُ الْمُبْطِئِ وَ لَا أَنَاةُ الْمُتَلَكِّئِ فَأَقَامَ مِنَ الْأَشْيَاءِ أَوَدَهَا وَ نَهَجَ حُدُودَهَا وَ لَاءَمَ بِقُدْرَتِهِ بَيْنَ مُتَضَادِّهَا وَ وَصَلَ أَسْبَابَ قَرَائِنِهَا وَ فَرَّقَهَا أَجْنَاساً مُخْتَلِفَاتٍ فِي الْحُدُودِ وَ الْأَقْدَارِ وَ الْغَرَائِزِ وَ الْهَيْئَاتِ بَدَايَا خَلَائِقَ أَحْكَمَ صُنْعَهَا وَ فَطَرَهَا عَلَى مَا أَرَادَ وَ ابْتَدَعَهَا و منها في صفة السماء وَ نَظَمَ بِلَا تَعْلِيقٍ رَهَوَاتِ فُرَجِهَا وَ لَاحَمَ صُدُوعَ انْفِرَاجِهَا وَ وَشَّجَ بَيْنَهَا وَ بَيْنَ أَزْوَاجِهَا وَ ذَلَّلَ لِلْهَابِطِينَ بِأَمْرِهِ وَ الصَّاعِدِينَ بِأَعْمَالِ خَلْقِهِ حُزُونَةَ مِعْرَاجِهَا وَ نَادَاهَا بَعْدَ إِذْ هِيَ دُخَانٌ فَالْتَحَمَتْ عُرَى أَشْرَاجِهَا وَ فَتَقَ بَعْدَ الِارْتِتَاقِ صَوَامِتَ أَبْوَابِهَا وَ أَقَامَ رَصَداً مِنَ الشُّهُبِ الثَّوَاقِبِ عَلَى نِقَابِهَا وَ أَمْسَكَهَا مِنْ أَنْ تَمُورَ فِي خَرْقِ الْهَوَاءِ بِأَيْدِهِ وَ أَمَرَهَا أَنْ تَقِفَ مُسْتَسْلِمَةً لِأَمْرِهِ وَ جَعَلَ شَمْسَهَا آيَةً مُبْصِرَةً لِنَهَارِهَا و قَمَرَهَا آيَةً مَمْحُوَّةً مِنْ لَيْلِهَا وَ أَجْرَاهُمَا فِي مَنَاقِلِ مَجْرَاهُمَا وَ قَدَّرَ سَيْرَهُمَا فِي مَدَارِجِ دَرَجِهِمَا لِيُمَيَّزَ بَيْنَ اللَّيْلِ وَ النَّهَارِ بِهِمَا وَ لِيُعْلَمَ عَدَدُ السِّنِينَ وَ الْحِسَابُ بِمَقَادِيرِهِمَا ثُمَّ عَلَّقَ فِي جَوِّهَا فَلَكَهَا وَ نَاطَ بِهَا زِينَتَهَا مِنْ خَفِيَّاتِ دَرَارِيِّهَا وَ مَصَابِيحِ كَوَاكِبِهَا وَ رَمَى مُسْتَرِقِي السَّمْعِ بِثَوَاقِبِ شُهُبِهَا وَ أَجْرَاهَا عَلَى إِذْلَالِ تَسْخِيرِهَا مِنْ ثَبَاتِ ثَابِتِهَا وَ مَسِيرِ سَائِرِهَا وَ هُبُوطِهَا وَ صُعُودِهَا وَ نُحُوسِهَا وَ سُعُودِهَا و منها في صفة الملائكة ثُمَّ خَلَقَ سُبْحَانَهُ لِإِسْكَانِ سَمَاوَاتِهِ وَ عِمَارَةِ الصَّفِيحِ الْأَعْلَى مِنْ مَلَكُوتِهِ خَلْقاً بَدِيعاً مِنْ مَلَائِكَتِهِ وَ مَلَأَ بِهِمْ فُرُوجَ فِجَاجِهَا وَ حَشَا بِهِمْ فُتُوقَ أَجْوَائِهَا وَ بَيْنَ فَجَوَاتِ تِلْكَ الْفُرُوجِ زَجَلُ الْمُسَبِّحِينَ مِنْهُمْ فِي حَظَائِرِ الْقُدْسِ وَ سُتُرَاتِ الْحُجُبِ وَ سُرَادِقَاتِ الْمَجْدِ وَ وَرَاءَ ذَلِكَ الرَّجِيجِ الَّذِي تَسْتَكُّ مِنْهُ الْأَسْمَاعُ سُبُحَاتُ نُورٍ تَرْدَعُ الْأَبْصَارَ عَنْ بُلُوغِهَا فَتَقِفُ خَاسِئَةً عَلَى حُدُودِهَا أَنْشَأَهُمْ عَلَى صُوَرٍ مُخْتَلِفَاتٍ وَ أَقْدَارٍ مُتَفَاوِتَاتٍ أُولِي أَجْنِحَةٍ تُسَبِّحُ جَلَالَ عِزَّتِهِ لَا يَنْتَحِلُونَ مَا ظَهَرَ فِي الْخَلْقِ مِنْ صُنْعِهِ وَ لَا يَدَّعُونَ أَنَّهُمْ يَخْلُقُونَ شَيْئاً مَعَهُ مِمَّا انْفَرَدَ بِهِ‏ "بَلْ عِبادٌ مُكْرَمُونَ لا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَ هُمْ بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ" جَعَلَهُمُ فِيمَا هُنَالِكَ أَهْلَ الْأَمَانَةِ عَلَى وَحْيِهِ وَ حَمَّلَهُمْ إِلَى الْمُرْسَلِينَ وَدَائِعَ أَمْرِهِ وَ نَهْيِهِ وَ عَصَمَهُمْ مِنْ رَيْبِ الشُّبُهَاتِ فَمَا مِنْهُمْ زَائِغٌ عَنْ سَبِيلِ مَرْضَاتِهِ وَ أَمَدَّهُمْ بِفَوَائِدِ الْمَعُونَةِ وَ أَشْعَرَ قُلُوبَهُمْ تَوَاضُعَ إِخْبَاتِ السَّكِينَةِ وَ فَتَحَ لَهُمْ أَبْوَاباً ذُلُلًا إِلَى تَمَاجِيدِهِ وَ نَصَبَ لَهُمْ مَنَاراً وَاضِحَةً عَلَى أَعْلَامِ تَوْحِيدِهِ لَمْ تُثْقِلْهُمْ مُوصِرَاتُ الْآثَامِ وَ لَمْ تَرْتَحِلْهُمْ عُقَبُ اللَّيَالِي وَ الْأَيَّامِ وَ لَمْ تَرْمِ الشُّكُوكُ بِنَوَازِعِهَا عَزِيمَةَ إِيمَانِهِمْ وَ لَمْ تَعْتَرِكِ الظُّنُونُ عَلَى مَعَاقِدِ يَقِينِهِمْ وَ لَا قَدَحَتْ قَادِحَةُ الْإِحَنِ فِيمَا بَيْنَهُمْ وَ لَا سَلَبَتْهُمُ الْحَيْرَةُ مَا لَاقَ مِنْ مَعْرِفَتِهِ بِضَمَائِرِهِمْ وَ سَكَنَ مِنْ عَظَمَتِهِ وَ هَيْبَةِ جَلَالَتِهِ فِي أَثْنَاءِ صُدُورِهِمْ وَ لَمْ تَطْمَعْ فِيهِمُ الْوَسَاوِسُ فَتَقْتَرِعَ بِرَيْنِهَا عَلَى فِكْرِهِمْ مِنْهُمْ مَنْ هُوَ فِي خَلْقِ الْغَمَامِ الدُّلَّحِ وَ فِي عِظَمِ الْجِبَالِ الشُّمَّخِ وَ فِي قَتُرَةِ الظَّلَامِ الْأَيْهَمِ وَ مِنْهُمْ مَنْ قَدْ خَرَقَتْ أَقْدَامُهُمْ تُخُومَ الْأَرْضِ السُّفْلَى فَهِيَ كَرَايَاتٍ بِيضٍ قَدْ نَفَذَتْ فِي مَخَارِقِ الْهَوَاءِ وَ تَحْتَهَا رِيحٌ هَفَّافَةٌ تَحْبِسُهَا عَلَى حَيْثُ انْتَهَتْ مِنَ الْحُدُودِ الْمُتَنَاهِيَةِ قَدِ اسْتَفْرَغَتْهُمْ أَشْغَالُ عِبَادَتِهِ وَ وَصَلَتْ حَقَائِقُ الْإِيمَانِ بَيْنَهُمْ وَ بَيْنَ مَعْرِفَتِهِ وَ قَطَعَهُمُ الْإِيقَانُ بِهِ إِلَى الْوَلَهِ إِلَيْهِ وَ لَمْ تُجَاوِزْ رَغَبَاتُهُمْ مَا عِنْدَهُ إِلَى مَا عِنْدَ غَيْرِهِ قَدْ ذَاقُوا حَلَاوَةَ مَعْرِفَتِهِ وَ شَرِبُوا بِالْكَأْسِ الرَّوِيَّةِ مِنْ مَحَبَّتِهِ وَ تَمَكَّنَتْ مِنْ سُوَيْدَاءِ قُلُوبِهِمْ وَشِيجَةُ خِيفَتِهِ فَحَنَوْا بِطُولِ الطَّاعَةِ اعْتِدَالَ ظُهُورِهِمْ وَ لَمْ يُنْفِدْ طُولُ الرَّغْبَةِ إِلَيْهِ مَادَّةَ تَضَرُّعِهِمْ وَ لَا أَطْلَقَ عَنْهُمْ عَظِيمُ الزُّلْفَةِ رِبَقَ خُشُوعِهِمْ وَ لَمْ يَتَوَلَّهُمُ الْإِعْجَابُ فَيَسْتَكْثِرُوا مَا سَلَفَ مِنْهُمْ وَ لَا تَرَكَتْ لَهُمُ اسْتِكَانَةُ الْإِجْلَالِ نَصِيباً فِي تَعْظِيمِ حَسَنَاتِهِمْ وَ لَمْ تَجْرِ الْفَتَرَاتُ فِيهِمْ عَلَى طُولِ دُءُوبِهِمْ وَ لَمْ تَغِضْ رَغَبَاتُهُمْ فَيُخَالِفُوا عَنْ رَجَاءِ رَبِّهِمْ وَ لَمْ تَجِفَّ لِطُولِ الْمُنَاجَاةِ أَسَلَاتُ أَلْسِنَتِهِمْ وَ لَا مَلَكَتْهُمُ الْأَشْغَالُ فَتَنْقَطِعَ بِهَمْسِ الْجُؤَارِ إِلَيْهِ أَصْوَاتُهُمْ وَ لَمْ تَخْتَلِفْ فِي مَقَاوِمِ الطَّاعَةِ مَنَاكِبُهُمْ وَ لَمْ يَثْنُوا إِلَى رَاحَةِ التَّقْصِيرِ فِي أَمْرِهِ رِقَابَهُمْ وَ لَا تَعْدُو عَلَى عَزِيمَةِ جِدِّهِمْ بَلَادَةُ الْغَفَلَاتِ وَ لَا تَنْتَضِلُ فِي هِمَمِهِمْ خَدَائِعُ الشَّهَوَاتِ قَدِ اتَّخَذُوا ذَا الْعَرْشِ ذَخِيرَةً لِيَوْمِ فَاقَتِهِمْ وَ يَمَّمُوهُ عِنْدَ انْقِطَاعِ الْخَلْقِ إِلَى الْمَخْلُوقِينَ بِرَغْبَتِهِمْ لَا يَقْطَعُونَ أَمَدَ غَايَةِ عِبَادَتِهِ وَ لَا يَرْجِعُ بِهِمُ الِاسْتِهْتَارُ بِلُزُومِ طَاعَتِهِ إِلَّا إِلَى مَوَادَّ مِنْ قُلُوبِهِمْ غَيْرِ مُنْقَطِعَةٍ مِنْ رَجَائِهِ وَ مَخَافَتِهِ لَمْ تَنْقَطِعْ أَسْبَابُ الشَّفَقَةِ مِنْهُمْ فَيَنُوا فِي جِدِّهِمْ وَ لَمْ تَأْسِرْهُمُ الْأَطْمَاعُ فَيُؤْثِرُوا وَشِيكَ السَّعْيِ عَلَى اجْتِهَادِهِمْ وَ لَمْ يَسْتَعْظِمُوا مَا مَضَى مِنْ أَعْمَالِهِمْ وَ لَوِ اسْتَعْظَمُوا ذَلِكَ لَنَسَخَ الرَّجَاءُ مِنْهُمْ شَفَقَاتِ وَجَلِهِمْ وَ لَمْ يَخْتَلِفُوا فِي رَبِّهِمْ بِاسْتِحْوَاذِ الشَّيْطَانِ عَلَيْهِمْ وَ لَمْ يُفَرِّقْهُمْ سُوءُ التَّقَاطُعِ وَ لَا تَوَلَّاهُمْ غِلُّ التَّحَاسُدِ وَ لَا شَعَّبَتْهُمْ مَصَارِفُ الرَّيْبِ وَ لَا اقْتَسَمَتْهُمْ أَخْيَافُ الْهِمَمِ فَهُمْ أُسَرَاءُ إِيمَانٍ لَمْ يَفُكَّهُمْ مِنْ رِبْقَتِهِ زَيْغٌ وَ لَا عُدُولٌ وَ لَا وَنًى وَ لَا فُتُورٌ وَ لَيْسَ فِي أَطْبَاقِ السَّمَاءِ مَوْضِعُ إِهَابٍ إِلَّا وَ عَلَيْهِ مَلَكٌ سَاجِدٌ أَوْ سَاعٍ حَافِدٌ يَزْدَادُونَ عَلَى طُولِ الطَّاعَةِ بِرَبِّهِمْ عِلْماً وَ تَزْدَادُ عِزَّةُ رَبِّهِمْ فِي قُلُوبِهِمْ عِظَماً منها في صفة الأرض و دحوها على الماء كَبَسَ الْأَرْضَ عَلَى مَوْرِ أَمْوَاجٍ مُسْتَفْحِلَةٍ وَ لُجَجِ بِحَارٍ زَاخِرَةٍ تَلْتَطِمُ أَوَاذِيُّ أَمْوَاجِهَا وَ تَصْطَفِقُ مُتَقَاذِفَاتُ أَثْبَاجِهَا وَ تَرْغُو زَبَداً كَالْفُحُولِ عِنْدَ هِيَاجِهَا فَخَضَعَ جِمَاحُ الْمَاءِ الْمُتَلَاطِمِ لِثِقَلِ حَمْلِهَا وَ سَكَنَ هَيْجُ ارْتِمَائِهِ إِذْ وَطِئَتْهُ بِكَلْكَلِهَا وَ ذَلَّ مُسْتَخْذِياً إِذْ تَمَعَّكَتْ عَلَيْهِ بِكَوَاهِلِهَا فَأَصْبَحَ بَعْدَ اصْطِخَابِ أَمْوَاجِهِ سَاجِياً مَقْهُوراً وَ فِي حَكَمَةِ الذُّلِّ مُنْقَاداً أَسِيراً وَ سَكَنَتِ الْأَرْضُ مَدْحُوَّةً فِي لُجَّةِ تَيَّارِهِ وَ رَدَّتْ مِنْ نَخْوَةِ بَأْوِهِ وَ اعْتِلَائِهِ وَ شُمُوخِ أَنْفِهِ وَ سُمُوِّ غُلَوَائِهِ وَ كَعَمَتْهُ عَلَى كِظَّةِ جِرْيَتِهِ فَهَمَدَ بَعْدَ نَزَقَاتِهِ وَ لَبَدَ بَعْدَ زَيَفَانِ وَثَبَاتِهِ فَلَمَّا سَكَنَ هَيْجُ الْمَاءِ مِنْ تَحْتِ أَكْنَافِهَا وَ حَمَلَ شَوَاهِقَ الْجِبَالِ الشُّمَّخِ الْبُذَّخِ عَلَى أَكْتَافِهَا فَجَّرَ يَنَابِيعَ الْعُيُونِ مِنْ عَرَانِينِ أُنُوفِهَا وَ فَرَّقَهَا فِي سُهُوبِ بِيدِهَا وَ أَخَادِيدِهَا وَ عَدَّلَ حَرَكَاتِهَا بِالرَّاسِيَاتِ مِنْ جَلَامِيدِهَا وَ ذَوَاتِ الشَّنَاخِيبِ الشُّمِّ مِنْ صَيَاخِيدِهَا فَسَكَنَتْ مِنَ الْمَيَدَانِ بَرُسُوبِ الْجِبَالِ فِي قِطَعِ أَدِيمِهَا وَ تَغَلْغُلِهَا مُتَسَرِّبَةً فِي جَوْبَاتِ خَيَاشِيمِهَا وَ رُكُوبِهَا أَعْنَاقَ سُهُولِ الْأَرَضِينَ وَ جَرَاثِيمِهَا وَ فَسَحَ بَيْنَ الْجَوِّ وَ بَيْنَهَا وَ أَعَدَّ الْهَوَاءَ مُتَنَسَّماً لِسَاكِنِهَا وَ أَخْرَجَ إِلَيْهَا أَهْلَهَا عَلَى تَمَامِ مَرَافِقِهَا ثُمَّ لَمْ يَدَعْ جُرُزَ الْأَرْضِ الَّتِي تَقْصُرُ مِيَاهُ الْعُيُونِ عَنْ رَوَابِيهَا وَ لَا تَجِدُ جَدَاوِلُ الْأَنْهَارِ ذَرِيعَةً إِلَى بُلُوغِهَا حَتَّى أَنْشَأَ لَهَا نَاشِئَةَ سَحَابٍ تُحْيِي مَوَاتَهَا وَ تَسْتَخْرِجُ نَبَاتَهَا أَلَّفَ غَمَامَهَا بَعْدَ افْتِرَاقِ لُمَعِهِ وَ تَبَايُنِ قَزَعِهِ حَتَّى إِذَا تَمَخَّضَتْ لُجَّةُ الْمُزْنِ فِيهِ وَ الْتَمَعَ بَرْقُهُ فِي كِفَفِهِ وَ لَمْ يَنَمْ وَمِيضُهُ فِي كَنَهْوَرِ رَبَابِهِ وَ مُتَرَاكِمِ سَحَابِهِ أَرْسَلَهُ سَحّاً مُتَدَارِكاً قَدْ أَسَفَّ هَيْدَبُهُ تَمْرِيهِ الْجَنُوبُ دِرَرَ أَهَاضِيبِهِ وَ دُفَعَ شَآبِيبِهِ فَلَمَّا أَلْقَتِ السَّحَابُ بَرْكَ بَوَانِيهَا وَ بَعَاعَ مَا اسْتَقَلَّتْ بِهِ مِنَ الْعِبْ‏ءِ الْمَحْمُولِ عَلَيْهَا أَخْرَجَ بِهِ مِنْ هَوَامِدِ الْأَرْضِ النَّبَاتَ وَ مِنْ زُعْرِ الْجِبَالِ الْأَعْشَابَ فَهِيَ تَبْهَجُ بِزِينَةِ رِيَاضِهَا وَ تَزْدَهِي بِمَا أُلْبِسَتْهُ مِنْ رَيْطِ أَزَاهِيرِهَا وَ حِلْيَةِ مَا سُمِّطَتْ بِهِ مِنْ نَاضِرِ أَنْوَارِهَا وَ جَعَلَ ذَلِكَ بَلَاغاً لِلْأَنَامِ وَ رِزْقاً لِلْأَنْعَامِ وَ خَرَقَ الْفِجَاجَ فِي آفَاقِهَا وَ أَقَامَ الْمَنَارَ لِلسَّالِكِينَ عَلَى جَوَادِّ طُرُقِهَا حول خلق آدم(ع) فَلَمَّا مَهَدَ أَرْضَهُ وَ أَنْفَذَ أَمْرَهُ اخْتَارَ آدَمَ عليه السلام خِيرَةً مِنْ خَلْقِهِ وَ جَعَلَهُ أَوَّلَ جِبِلَّتِهِ وَ أَسْكَنَهُ جَنَّتَهُ وَ أَرْغَدَ فِيهَا أُكُلَهُ وَ أَوْعَزَ إِلَيْهِ فِيمَا نَهَاهُ عَنْهُ وَ أَعْلَمَهُ أَنَّ فِي الْإِقْدَامِ عَلَيْهِ التَّعَرُّضَ لِمَعْصِيَتِهِ وَ الْمُخَاطَرَةَ بِمَنْزِلَتِهِ فَأَقْدَمَ عَلَى مَا نَهَاهُ عَنْهُ مُوَافَاةً لِسَابِقِ عِلْمِهِ فَأَهْبَطَهُ بَعْدَ التَّوْبَةِ لِيَعْمُرَ أَرْضَهُ بِنَسْلِهِ وَ لِيُقِيمَ الْحُجَّةَ بِهِ عَلَى عِبَادِهِ وَ لَمْ يُخْلِهِمْ بَعْدَ أَنْ قَبَضَهُ مِمَّا يُؤَكِّدُ عَلَيْهِمْ حُجَّةَ رُبُوبِيَّتِهِ وَ يَصِلُ بَيْنَهُمْ وَ بَيْنَ مَعْرِفَتِهِ بَلْ تَعَاهَدَهُمْ بِالْحُجَجِ عَلَى أَلْسُنِ الْخِيرَةِ مِنْ أَنْبِيَائِهِ وَ مُتَحَمِّلِي وَدَائِعِ رِسَالَاتِهِ قَرْناً فَقَرْناً حَتَّى تَمَّتْ بِنَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صلى الله عليه واله حُجَّتُهُ وَ بَلَغَ الْمَقْطَعَ عُذُرُهُ وَ نُذُرُهُ وَ قَدَّرَ الْأَرْزَاقَ فَكَثَّرَهَا وَ قَلَّلَهَا وَ قَسَّمَهَا عَلَى الضِّيقِ وَ السَّعَةِ فَعَدَلَ فِيهَا لِيَبْتَلِيَ مَنْ أَرَادَ بِمَيْسُورِهَا وَ مَعْسُورِهَا وَ لِيَخْتَبِرَ بِذَلِكَ الشُّكْرَ وَ الصَّبْرَ مِنْ غَنِيِّهَا وَ فَقِيرِهَا ثُمَّ قَرَنَ بِسَعَتِهَا عَقَابِيلَ فَاقَتِهَا وَ بِسَلَامَتِهَا طَوَارِقَ آفَاتِهَا وَ بِفُرَجِ أَفْرَاحِهَا غُصَصَ أَتْرَاحِهَا وَ خَلَقَ الْآجَالَ فَأَطَالَهَا وَ قَصَّرَهَا وَ قَدَّمَهَا وَ أَخَّرَهَا وَ وَصَلَ بِالْمَوْتِ أَسْبَابَهَا وَ جَعَلَهُ خَالِجاً لِأَشْطَانِهَا وَ قَاطِعاً لِمَرَائِرِ أَقْرَانِهَا عَالِمُ السِّرِّ مِنْ ضَمَائِرِ الْمُضْمِرِينَ وَ نَجْوَى الْمُتَخَافِتِينَ وَ خَوَاطِرِ رَجْمِ الظُّنُونِ وَ عُقَدِ عَزِيمَاتِ الْيَقِينِ وَ مَسَارِقِ إِيمَاضِ الْجُفُونِ وَ مَا ضَمِنَتْهُ أَكْنَانُ الْقُلُوبِ وَ غَيَابَاتُ الْغُيُوبِ وَ مَا أَصْغَتْ لِاسْتِرَاقِهِ مَصَائِخُ الْأَسْمَاعِ وَ مَصَائِفِ الذَّرِّ وَ مَشَاتِي الْهَوَامِّ وَ رَجْعِ الْحَنِينِ مِنَ الْمُوَلَّهَاتِ وَ هَمْسِ الْأَقْدَامِ وَ مُنْفَسَحِ الثَّمَرَةِ مِنْ وَلَائِجِ غُلُفِ‏ الْأَكْمَامِ وَ مُنْقَمَعِ الْوُحُوشِ مِنْ غِيرَانِ الْجِبَالِ وَ أَوْدِيَتِهَا وَ مُخْتَبَإِ الْبَعُوضِ بَيْنَ سُوقِ الْأَشْجَارِ وَ أَلْحِيَتِهَا وَ مَغْرِزِ الْأَوْرَاقِ مِنَ الْأَفْنَانِ وَ مَحَطِّ الْأَمْشَاجِ مِنْ مَسَارِبِ الْأَصْلَابِ وَ نَاشِئَةِ الْغُيُومِ وَ مُتَلَاحِمِهَا وَ دُرُورِ قَطْرِ السَّحَابِ فِي تَرَاكِمِهَا وَ مَا تَسْفِي الْأَعَاصِيرُ بِذُيُولِهَا وَ تَعْفُو الْأَمْطَارُ بِسُيُولِهَا وَ عَوْمِ نَبَاتِ الْأَرْضِ فِي كُثْبَانِ الرِّمَالِ وَ مُسْتَقَرِّ ذَوَاتِ الْأَجْنِحَةِ بِذُرىَ شَنَاخِيبِ الْجِبَالِ وَ تَغْرِيدِ ذَوَاتِ الْمَنْطِقِ فِي دَيَاجِيرِ الْأَوْكَارِ وَ مَا أَوْعَبَتْهُ الْأَصْدَافُ وَ حَضَنَتْ عَلَيْهِ أَمْوَاجُ الْبِحَارِ وَ مَا غَشِيَتْهُ سُدْفَةُ لَيْلٍ أَوْ ذَرَّ عَلَيْهِ شَارِقُ نَهَارٍ وَ مَا اعْتَقَبَتْ عَلَيْهِ أَطْبَاقُ الدَّيَاجِيرِ وَ سُبُحَاتُ النُّورِ وَ أَثَرِ كُلِّ خَطْوَةٍ وَ حِسِّ كُلِّ حَرَكَةٍ وَ رَجْعِ كُلِّ كَلِمَةٍ وَ تَحْرِيكِ كُلِّ شَفَةٍ وَ مُسْتَقَرِّ كُلِّ نَسَمَةٍ وَ مِثْقَالِ كُلِّ ذَرَّةٍ وَ هَمَاهِمِ كُلِّ نَفْسٍ هَامَّةٍ وَ مَا عَلَيْهَا مِنْ ثَمَرِ شَجَرَةٍ أَوْ سَاقِطِ وَرَقَةٍ أَوْ قَرَارَةِ نُطْفَةٍ أَوْ نُقَاعَةٍ دَمٍ وَ مُضْغَةٍ أَوْ نَاشِئَةِ خَلْقٍ وَ سُلَالَةٍ لَمْ تَلْحَقْهُ فِي ذَلِكَ كُلْفَةٌ وَ لَا اعْتَرَضَتْهُ فِي حِفْظِ مَا ابْتَدَعَ مِنْ خَلْقِهِ عَارِضَةٌ وَ لَا اعْتَوَرَتْهُ فِي تَنْفِيذِ الْأُمُورِ وَ تَدَابِيرِ الْمَخْلُوقِينَ مَلَالَةٌ وَ لَا فَتْرَةٌ بَلْ نَفَذَهُمْ عِلْمُهُ وَ أَحْصَاهُمْ عَدَدَهُ وَ وَسِعَهُمْ عَدْلُهُ وَ غَمَرَهُمْ فَضْلُهُ مَعَ تَقْصِيرِهِمْ عَنْ كُنْهِ مَا هُوَ أَهْلُهُ اللَّهُمَّ أَنْتَ أَهْلُ الْوَصْفِ الْجَمِيلِ وَ التَّعْدَادِ الْكَثِيرِ إِنْ تُؤَمَّلْ فَخَيْرُ مَأْمُولٍ وَ إِنْ تُرْجَ فَأَكْرَمُ مَرْجُوٍّ اللَّهُمَّ وَ قَدْ بَسَطْتَ لِي فِيمَا لَا أَمْدَحُ بِهِ غَيْرَكَ وَ لَا أُثْنِي بِهِ عَلَى أَحَدٍ سِوَاكَ وَ لَا أُوَجِّهُهُ إِلَى مَعَادِنِ الْخَيْبَةِ وَ مَوَاضِعِ الْرِّيْبَةِ وَ عَدَلْتَ بِلِسَانِي عَنْ مَدَائِحِ الْآدَمِيِّينَ وَ الثَّنَاءِ عَلَى الْمَرْبُوبِينَ الْمَخْلُوقِينَ اللَّهُمَّ وَ لِكُلِّ مُثْنٍ عَلَى مَنْ أَثْنَى عَلَيْهِ مَثُوبَةٌ مِنْ جَزَاءٍ أَوْ عَارِفَةٌ مِنْ عَطَاءٍ وَ قَدْ رَجَوْتُكَ دَلِيلًا عَلَى ذَخَائِرِ الرَّحْمَةِ وَ كُنُوزِ الْمَغْفِرَةِ اللَّهُمَّ وَ هَذَا مَقَامُ مَنْ أَفْرَدَكَ بِالتَّوْحِيدِ الَّذِي هُوَ لَكَ وَ لَمْ يَرَ مُسْتَحِقّاً لِهَذِهِ الْمَحَامِدِ وَ الْمَمَادِحِ غَيْرَكَ وَ بِي فَاقَةٌ إِلَيْكَ لَا يَجْبُرُ مَسْكَنَتَهَا إِلَّا فَضْلُكَ وَ لَا يَنْعَشُ مِنْ خَلَّتِهَا إِلَّا مَنُّكَ وَ جُودُكَ فَهَبْ لَنَا فِي هَذَا الْمَقَامِ رِضَاكَ وَ أَغْنِنَا عَنْ مَدِّ الْأَيْدِي إِلَى سِوَاكَ إِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَدِيرٌ

    اے لوگو! [۱] میں نے فتنہ و شر کی آنکھیں پھوڑ ڈالی ہیں اور جب اس کی تاریکیاں (موجوں کی طرح) تہ و بالا ہو رہی تھیں اور (دیوانے کتوں کی طرح) اس کی دیوانگی زوروں پر تھی تو میرے علاوہ کسی ایک میں جرأت نہ تھی کہ وہ اس کی طرف بڑھتا۔ اب (موقعہ ہے جو چاہو) مجھ سے پوچھ لو [۲] ، پیشتر اس کے کہ مجھے نہ پاؤ۔ اس ذات کی قسم! جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! تم اس وقت سے لے کر قیامت تک کے درمیانی عرصے کی جو بات مجھ سے پوچھو گے میں بتاؤں گا اور کسی ایسے گروہ کے متعلق دریافت کر و گے کہ جس نے سو کو ہدایت کی ہو اور سو کو گمراہ کیا ہو تو میں اس کے للکارنے والے اور اسے آگے سے کھینچنے والے اور پیچھے سے دھکیلنے والے اور اس کی سواریوں کی منزل اور اس کے (ساز و سامان سے لدے ہوئے ) پالانوں کے اترنے کی جگہ تک بتا دوں گا اور یہ کہ کون ان میں سے قتل کیا جائے گا اور کون (اپنی موت ) مرے گا۔ اور جب میں نہ رہوں گا اور ناخوشگوار چیزیں اور سخت مشکلیں پیش آئیں گی (تو دیکھ لینا) کہ بہت سے پوچھنے والے (پریشانی سے) سر نیچے ڈال دیں گے اور بتانے والے عاجز و درماندہ ہو جائیں گے۔ یہ اس وقت ہو گا کہ جب تم پر لڑائیاں زور سے ٹوٹ پڑیں گے اور اس کی سختیاں نمایاں ہو جائیں گی اور دنیا اس طرح تم پر تنگ ہو جائے گی کہ مصیبتوں کے دنوں کو تم یہ سمجھنے لگو گے کہ وہ بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ خداوند عالم تمہارے باقی ماندہ لوگوں کو فتح و کامرانی دے گا۔ فتنوں کی یہ صورت ہوتی ہے کہ جب وہ آتے ہیں تو اس طرح اندھیرے میں ڈال دیتے ہیں کہ (حق و باطل) کا امتیاز نہیں ہوتا اور پلٹتے ہیں تو ہوشیار کر کے جاتے ہیں۔ جب آتے ہیں تو شناخت نہیں ہوتی، پیچھے ہٹتے ہیں تو پہچانے جاتے ہیں۔ وہ ہواؤں کی طرح چکر لگاتے ہیں، کسی شہر کو اپنی زد پر رکھ لیتے ہیں اور کوئی ان سے رہ جاتا ہے۔ میرے نزدیک سب فتنوں سے زیادہ خوفناک تمہارے لئے بنی امیہ کا فتنہ ہے جسے نہ خود کچھ نظر آتا ہے اور نہ اس میں کوئی چیز سجھائی دیتی ہے، اس کے اثرات تو سب کو شامل ہیں لیکن خصوصیت سے اس کی آفتیں خاص ہی افراد کیلئے ہیں۔ جو اس میں حق کو پیش نظر رکھے گا اس پر مصیبتیں آئیں گی اور جو آنکھیں بند رکھے گا وہ ان سے بچا رہے گا۔ خدا کی قسم! میرے بعد تم بنی امیہ کو اپنے لئے بدترین حکمران پاؤ گے۔ وہ تو اس بوڑھی اور سرکش اونٹنی کے مانند ہیں جو منہ سے کاٹتی ہو اور اِدھر اُدھر ہاتھ پیر مارتی ہو اور دوہنے والے پر ٹانگیں چلاتی ہو اور دودھ دینے سے انکار کر دیتی ہو۔ وہ برابر تمہارا قلع قمع کرتے رہیں گے، یہاں تک کہ صرف اسے چھوڑیں گے جو ان کے مفید مطلب ہو یا(کم از کم) ان کیلئے نقصان رساں نہ ہو۔ اور ان کی مصیبت اسی طرح گھیرے رہے گی کہ ان سے داد خواہی ایسی ہی مشکل ہو جائے گی جیسے غلام کیلئے اپنے آقا سے اور مرید کی اپنے پیر سے۔ تم پر ان کا فتنہ ایسی بھیانک صورت میں آئے گا کہ جس سے ڈر لگنے لگے گا اور زمانہ جاہلیت کی مختلف حالتوں کو لئے ہو گا۔ نہ اس میں ہدایت کا مینار نصب ہو گا اور نہ راستہ دکھانے والا کوئی نشان نظر آئے گا۔ ہم اہل بیت ِ(رسول علیہم السلام) ان فتنہ انگیزیوں (کے گناہ) سے بچے ہوں گے اور ان کی طرف لوگوں کو بلانے میں ہمارا کوئی حصہ نہ ہو گا۔ پھر ایک دن وہ آئے گا کہ اللہ اس شخص کے ذریعہ سے جو انہیں ذلت کا مزا چکھائے اور سختی سے ہنکائے اور (موت کے ) تلخ جام پلائے اور ان کے سامنے تلوار رکھے اور خوف انہیں چمٹا دے، ان فتنوں سے اس طرح علیحدہ کر دے گا جس طرح ذبیحہ سے کھال الگ کی جاتی ہے۔ اس وقت قریش دنیا و ما فیہا کے بدلے میں یہ چاہیں گے کہ وہ مجھے صرف اتنی دیر کہ جتنی اونٹ کے ذبح ہونے میں لگتی ہے، کہیں ایک دفعہ دیکھ لیں تاکہ میں اس چیز کو قبول کر لوں کہ جس کا آج کچھ حصہ بھی طلب کرنے کے باوجود دینے کیلئے تیار نہیں ہوتے۔

  92. خطبہ 92- خداوند عالم کی حمد و ثناء اور انبیاء کی توصیف میں فرمایا

    92

    دَعُونِي وَ الْتَمِسُوا غَيْرِي فَإِنَّا مُسْتَقْبِلُونَ أَمْراً لَهُ وُجُوهٌ وَ أَلْوَانٌ لَا تَقُومُ لَهُ الْقُلُوبُ وَ لَا تَثْبُتُ عَلَيْهِ الْعُقُولُ وَ إِنَّ الْآفَاقَ قَدْ أَغَامَتْ وَ الْمَحَجَّةَ قَدْ تَنَكَّرَتْ وَ اعْلَمُوا أَنِّي إِنْ أَجَبْتُكُمْ رَكِبْتُ بِكُمْ مَا أَعْلَمُ وَ لَمْ أُصْغِ إِلَى قَوْلِ الْقَائِلِ وَ عَتْبِ الْعَاتِبِ وَ إِنْ تَرَكْتُمُونِي فَأَنَا كَأَحَدِكُمْ وَ لَعَلِّي أَسْمَعُكُمْ وَ أَطْوَعُكُمْ لِمَنْ وَلَّيْتُمُوهُ أَمْرَكُمْ وَ أَنَا لَكُمْ وَزِيراً خَيْرٌ لَكُمْ مِنِّي أَمِيراً

    با برکت ہے وہ خدا کہ جس کی ذات تک بلند پرواز ہمتوں کی رسائی نہیں اور نہ عقل و فہم کی قوتیں اسے پا سکتی ہیں۔ وہ ایسا اوّل ہے کہ جس کیلئے نہ کوئی نقطۂ ابتدا ہے کہ وہ محدود ہو جائے اور نہ کوئی اس کا آخر ہے کہ (وہاں پہنچ کر) ختم ہو جائے۔ [اسی خطبہ کے ذیل میں (انبیاءؑ کے بارے میں) فرمایا] اس نے ان (انبیاءؑ) کو بہترین سونپے جانے کی جگہوں میں رکھا اور بہترین ٹھکانوں میں ٹھہرایا۔ وہ بلند مرتبہ صلبوں سے پاکیزہ شکموں کی طرف منتقل ہوتے رہے۔ جب ان میں سے کوئی گزر جانے والا گزر گیا، دوسرا دین خدا کو لے کر کھڑا ہو گیا۔ یہاں تک کہ یہ الٰہی شرف محمد ﷺ تک پہنچا جنہیں ایسے معدنوں سے کہ جو پھلنے پھولنے کے اعتبار سے بہترین اور ایسی اصلوں سے کہ جو نشو و نما کے لحاظ سے بہت باوقار تھیں، پیدا کیا، اسی شجرہ سے کہ جس سے انبیاءؑ پیدا کئے اور جس میں سے اپنے امین منتخب فرمائے۔ ان کی عترت بہترین عترت اور قبیلہ بہترین قبیلہ اور شجرہ بہترین شجرہ ہے، جو سر زمین حرم پر اُگا اور بزرگی کے سایہ میں بڑھا، جس کی شاخیں دراز اور پھل دسترس سے باہر ہیں۔ وہ پرہیز گاروں کے امام اور ہدایت حاصل کرنے والوں کیلئے (سر چشمہ) بصیرت ہیں۔ وہ ایسا چراغ ہیں جس کی روشنی لو دیتی ہے اور ایسا روشن ستارہ جس کا نور ضیا پاش اور ایسا چقماق جس کی ضو شعلہ فشاں ہے۔ ان کی سیرت (افراط و تفریط سے بچ کر) سیدھی راہ پر چلنا اور سنت ہدایت کرنا ہے۔ ان کا کلام حق و باطل کا فیصلہ کرنے والا اور حکم عین عدل ہے۔ اللہ نے انہیں اس وقت بھیجا کہ جب رسولوں کی آمد کا سلسلہ رکا ہوا تھا، بد عملی پھیلی ہوئی اور اُمتوں پر غفلت چھائی ہوئی تھی۔ اللہ تم پر رحم کرے! روشن نشانوں پر جم کر عمل کرو۔ راستہ بالکل سیدھا ہے۔ وہ تمہیں سلامتیوں کے گھر (جنت) کی طرف بلا رہا ہے اور ابھی تم ایسے گھر میں ہو کہ جہاں تمہیں اتنی مہلت و فراغت ہے کہ اس کی خوشنودیاں حاصل کر سکو۔ (ابھی موقعہ ہے، چونکہ) اعمال نامے کھلے ہوئے ہیں، قلم چل رہے ہیں، بدن تندرست و توانا ہیں، زبان آزاد ہے، توبہ سنی جا سکتی ہے اور اعمال قبول کئے جا سکتے ہیں۔

  93. خطبہ 93- بعثت کے وقت لوگوں کی حالت اور پیغمبرﷺ کی مساعی

    93

    أَمَّا بَعْدَ حَمدِ اللهِ و الثّناءِ عَلَیهِ أَيُّهَا النَّاسُ فَأَنَاَ فَقَأْتُ عَيْنَ الْفِتْنَةِ وَ لَمْ يَكُنْ لِيَجْتَرِئَ عَلَيْهَا أَحَدٌ غَيْرِي بَعْدَ أَنْ مَاجَ غَيْهَبُهَا وَ اشْتَدَّ كَلَبُهَا فَاسْأَلُونِي قَبْلَ أَنْ تَفْقِدُونِي فَوَ الَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْ‏ءٍ فِيمَا بَيْنَكُمْ وَ بَيْنَ السَّاعَةِ وَ لَا عَنْ فِئَةٍ تَهْدِي مِائَةً وَ تُضِلُّ مِائَةً إِلَّا أَنْبَأْتُكُمْ بِنَاعِقِهَا وَ قَائِدِهَا وَ سَائِقِهَا وَ مُنَاخِ رِكَابِهَا وَ مَحَطِّ رِحَالِهَا وَ مَنْ يُقْتَلُ مِنْ أَهْلِهَا قَتْلًا وَ مَنْ يَمُوتُ مِنْهُمْ مَوْتاً وَ لَوْ قَدْ فَقَدْتُمُونِي وَ نَزَلَتْ بِكُمْ كَرَائِهُ الْأُمُورِ وَ حَوَازِبُ الْخُطُوبِ لَأَطْرَقَ كَثِيرٌ مِنَ السَّائِلِينَ وَ فَشِلَ كَثِيرٌ مِنَ الْمَسْئُولِينَ وَ ذَلِكَ إِذَا قَلَّصَتْ حَرْبُكُمْ وَ شَمَّرَتْ عَنْ سَاقٍ وَ ضَاقَتِ الدُّنْيَا عَلَيْكُمْ ضِيقاً تَسْتَطِيلُونَ أَيَّامَ الْبَلَاءِ عَلَيْكُمْ حَتَّى يَفْتَحَ اللَّهُ لِبَقِيَّةِ الْأَبْرَارِ مِنْكُمْ إِنَّ الْفِتَنَ إِذَا أَقْبَلَتْ شَبَّهَتْ وَ إِذَا أَدْبَرَتْ نَبَّهَتْ يُنْكَرْنَ مُقْبِلَاتٍ وَ يُعْرَفْنَ مُدْبِرَاتٍ يَحُمْنَ حَوْمَ الرِّيَاحِ يُصِبْنَ بَلَداً وَ يُخْطِئْنَ بَلَداً أَلَا إِنَّ أَخْوَفَ الْفِتَنِ عِنْدِي عَلَيْكُمْ فِتْنَةُ بَنِي أُمَيَّةَ فَإِنَّهَا فِتْنَةٌ عَمْيَاءُ مُظْلِمَةٌ عَمَّتْ خُطَّتُهَا وَ خُصَّتْ بَلِيَّتُهَا وَ أَصَابَ الْبَلَاءُ مَنْ أَبْصَرَ فِيهَا وَ أَخْطَأَ الْبَلَاءُ مَنْ عَمِيَ عَنْهَا وَ ايْمُ اللَّهِ لَتَجِدُنَّ بَنِي أُمَيَّةَ لَكُمْ أَرْبَابَ سَوْءٍ بَعْدِي كَالنَّابِ الضَّرُوسِ تَعْذِمُ بِفِيهَا وَ تَخْبِطُ بِيَدِهَا وَ تَزْبِنُ بِرِجْلِهَا وَ تَمْنَعُ دَرَّهَا لَا يَزَالُونَ بِكُمْ حَتَّى لَا يَتْرُكُوا مِنْكُمْ إِلَّا نَافِعاً لَهُمْ أَوْ غَيْرَ ضَائِرٍ بِهِمْ وَ لَا يَزَالُ بَلَاؤُهُمْ حَتَّى لَا يَكُونَ انْتِصَارُ أَحَدِكُمْ مِنْهُمْ إِلَّا كَانْتِصَارِ الْعَبْدِ مِنْ رَبِّهِ وَ الصَّاحِبِ مِنْ مُسْتَصْحِبِهِ تَرِدُ عَلَيْكُمْ فِتْنَتُهُمْ شَوْهَاءَ مَخْشِيَّةً وَ قِطَعاً جَاهِلِيَّةً لَيْسَ فِيهَا مَنَارُ هُدًى وَ لَا عَلَمٌ يُرَى نَحْنُ أَهْلَ الْبَيْتِ مِنْهَا بِمَنْجَاةٍ وَ لَسْنَا فِيهَا بِدُعَاةٍ ثُمَّ يُفَرِّجُهَا اللَّهُ عَنْكُمْ كَتَفْرِيجِ الْأَدِيمِ بِمَنْ يَسُومُهُمْ خَسْفاً وَ يَسُوقُهُمْ عُنْفاً وَ يَسْقِيهِمْ بِكَأْسٍ مُصَبَّرَةٍ لَا يُعْطِيهِمْ إِلَّا السَّيْفَ وَ لَا يُحْلِسُهُمْ إِلَّا الْخَوْفَ فَعِنْدَ ذَلِكَ تَوَدُّ قُرَيْشٌ بِالدُّنْيَا وَ مَا فِيهَا لَوْ يَرَوْنَنِي مَقَاماً وَاحِداً وَ لَوْ قَدْرَ جَزْرِ جَزُورٍ لَأَقْبَلَ مِنْهُمْ مَا أَطْلُبُ الْيَوْمَ بَعْضَهُ فَلَا يُعْطُونَنِيهِ

    پیغمبر ﷺ کو اس وقت میں بھیجا کہ جب لوگ حیرت و پریشانی کے عالم میں گم کردۂ راہ تھے اور فتنوں میں ہاتھ پیر مار رہے تھے، نفسانی خواہشوں نے انہیں بھٹکا دیا تھا اور غرور نے بہکا دیا تھا اور بھر پور جاہلیت نے ان کی عقلیں کھو دی تھیں اور حالات کے ڈانواں ڈول ہونے اور جہالت کی بلاؤں کی وجہ سے حیران و پریشان تھے۔ چنانچہ نبی ﷺ نے انہیں سمجھانے بجھانے کا پورا حق ادا کیا، خود سیدھے راستے پر جمے رہے اور حکمت و دانائی اور اچھی نصیحتوں کی طرف انہیں بلاتے رہے۔

  94. خطبہ 94- نبی کریم ﷺ کی مدح و توصیف میں فرمایا

    94

    فَتَبَارَكَ اللَّهُ الَّذِي لَا يَبْلُغُهُ بُعْدُ الْهِمَمِ وَ لَا يَنَالُهُ حَدْسُ الْفِطَنِ الْأَوَّلُ الَّذِي لَا غَايَةَ لَهُ فَيَنْتَهِيَ وَ لَا آخِرَ لَهُ فَيَنْقَضِيَ منها في وصف الأنبياء فَاسْتَوْدَعَهُمْ فِي أَفْضَلِ مُسْتَوْدَعٍ وَ أَقَرَّهُمْ فِي خَيْرِ مُسْتَقَرٍّ تَنَاسَخَتْهُمْ كَرَائِمُ الْأَصْلَابِ إِلَى مُطَهَّرَاتِ الْأَرْحَامِ كُلَّمَا مَضَى مِنْهُمْ سَلَفٌ قَامَ مِنْهُمْ بِدِينِ اللَّهِ خَلَفٌ رسول الله و أهل بيته حَتَّى أَفْضَتْ كَرَامَةُ اللَّهِ سُبْحَانَهُ إِلَى مُحَمَّدٍ صلى الله عليه واله فَأَخْرَجَهُ مِنْ أَفْضَلِ الْمَعَادِنِ مَنْبِتاً وَ أَعَزِّ الْأُروُمَاتِ مَغْرِساً مِنَ الشَّجَرَةِ الَّتِي صَدَعَ مِنْهَا أَنْبِيَاءَهُ وَ انْتَجَبَ مِنْهَا أُمَنَاءَهُ عِتْرَتُهُ خَيْرُ الْعِتَرِ وَ أُسْرَتُهُ خَيْرُ الْأُسَرِ وَ شَجَرَتُهُ خَيْرُ الشَّجَرِ نَبَتَتْ فِي حَرَمٍ وَ بَسَقَتْ فِي كَرَمٍ لَهَا فُرُوعٌ طِوَالٌ وَ ثَمَرَةٌ لَا تُنَالُ فَهُوَ إِمَامُ مَنِ اتَّقَى وَ بَصِيرَةُ مَنِ اهْتَدَى سِرَاجٌ لَمَعَ ضَوْؤُهُ وَ شِهَابٌ سَطَعَ نُورُهُ وَ زَنْدٌ بَرَقَ لَمْعُهُ سِيرَتُهُ الْقَصْدُ وَ سُنَّتُهُ الرُّشْدُ وَ كَلَامُهُ الْفَصْلُ وَ حُكْمُهُ الْعَدْلُ أَرْسَلَهُ عَلَى حِينِ فَتْرَةٍ مِنَ الرُّسُلِ وَ هَفْوَةٍ عَنِ الْعَمَلِ وَ غَبَاوَةٍ مِنَ الْأُمَمِ عِظَةُ الناس‏ اعْمَلُوا رَحِمَكُمُ اللَّهُ عَلَى أَعْلَامٍ بَيِّنَةٍ فَالطَّرِيقُ نَهْجٌ يَدْعُوا إِلى دارِ السَّلامِ وَ أَنْتُمْ فِي دَارِ مُسْتَعْتَبٍ عَلَى مَهَلٍ وَ فَرَاغٍ وَ الصُّحُفُ مَنْشُورَةٌ وَ الْأَقْلَامُ جَارِيَةٌ وَ الْأَبْدَانُ صَحِيحَةٌ وَ الْأَلْسُنُ مُطْلَقَةٌ وَ التَّوْبَةُ مَسْمُوعَةٌ وَ الْأَعْمَالُ مَقْبُولَةٌ

    تمام حمد اس اللہ کیلئے ہے جو اوّل ہے اور کوئی شے اس سے پہلے نہیں اور آخر ہے اور کوئی چیز اس کے بعد نہیں۔ وہ ظاہر ہے اور کوئی شے اس سے بالاتر نہیں اور باطن ہے اور کوئی چیز اس سے قریب تر نہیں۔ [اسی خطبہ کے ذیل میں رسول ﷺ کا ذکر فرمایا] بزرگی اور شرافت کے معدنوں اور پاکیزگی کی جگہوں میں ان کا مقام بہترین مقام اور مرزبوم بہترین مرزبوم ہے۔ ان کی طرف نیک لوگوں کے دل جھکا دیئے گئے ہیں اور نگاہوں کے رخ موڑ دیئے گئے ہیں۔ خدا نے ان کی وجہ سے فتنے دبا دیئے اور (عداوتوں کے) شعلے بجھا دئیے، بھائیوں میں الفت پیدا کی اور جو (کفر میں) اکٹھے تھے، انہیں علیحدہ علیحدہ کر دیا، (اسلام کی) پستی و ذلت کو عزت بخشی اور (کفر کی) عزت و بلندی کو ذلیل کر دیا۔ ان کا کلام (شریعت کا) بیان اور سکوت (احکام کی) زبان تھی۔

  95. خطبہ 95- اپنے اصحاب کو تنبیہہ اور سرزنش کرتے ہوئے فرمایا

    95

    بَعَثَهُ وَ النَّاسُ ضُلَّالٌ فِي حَيْرَةٍ وَ حَاطِبُونَ فِي فِتْنَةٍ قَدِ اسْتَهْوَتْهُمُ الْأَهْوَاءُ وَ اسْتَزَلَّتْهُمُ الْكِبْرِيَاءُ وَ اسْتَخَفَّتْهُمُ الْجَاهِلِيَّةُ الْجَهْلَاءُ حَيَارَى فِي زِلْزَالٍ مِنَ الْأَمْرِ وَ بَلَاءٍ مِنَ الْجَهْلِ فَبَالَغَ صلى الله عليه واله فِي النَّصِيحَةِ وَ مَضَى عَلَى الطَّرِيقَةِ وَ دَعَا إِلَى الْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ

    اگر اللہ نے ظالم کو مہلت دے رکھی ہے تو اس کی گرفت سے تو وہ ہرگز نہیں نکل سکتا اور وہ اس کی گزر گاہ اور گلے میں ہڈی پھنسنے کی جگہ پر موقع کا منتظر ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! یہ قوم (اہل شام) تم پر غالب آ کر رہے گی۔ اس لئے نہیں کہ ان کا حق تم سے فائق ہے، بلکہ اس لئے کہ وہ اپنے ساتھی (معاویہ) کی طرف باطل پر ہونے کے باوجود تیزی سے لپکتے ہیں اور تم میرے حق پر ہونے کے باوجود سستی کرتے ہو۔ رعیتیں [۱] اپنے حکمرانوں کے ظلم و جور سے ڈرا کرتی تھیں اور میں اپنی رعیت کے ظلم سے ڈرتا ہوں۔ میں نے تمہیں جہاد کیلئے ابھارا لیکن تم (اپنے گھروں سے) نہ نکلے۔ میں نے تمہیں (کارآمد باتوں کو) سنانا چاہا مگر تم نے ایک نہ سنی اور میں نے پوشیدہ بھی اور علانیہ بھی تمہیں جہاد کیلئے پکارا اور للکارا لیکن تم نے ایک نہ مانی اور سمجھایا بجھایا مگر تم نے میری نصیحتیں قبول نہ کیں۔ کیا تم موجود ہوتے ہوئے بھی غائب رہتے ہو؟ حلقہ بگوش ہوتے ہوئے گویا خود مالک ہو؟۔ میں تمہارے سامنے حکمت اور دانائی کی باتیں بیان کرتا ہوں اور تم ان سے بھڑکتے ہو۔ تمہیں بلند پایہ نصیحتیں کرتا ہوں اور تم پراگندہ خاطر ہو جاتے ہو۔ میں ان باغیوں سے جہاد کرنے کیلئے تمہیں آمادہ کرتا ہوں تو ابھی میری بات ختم بھی نہیں ہوتی کہ میں دیکھتا ہوں کہ تم اولادِ سبا [۲] کی طرح تتر بتر ہو کر اپنی نشست گاہوں کی طرف واپس چلے جاتے ہو اور ان نصیحتوں سے غافل ہو کر ایک دوسرے کے چکمے میں آ جاتے ہو۔ صبح کو میں تمہیں سیدھا کرتا ہوں اور شام کو جب آتے ہو تو (ویسے کے ویسے) کمان کی پشت کی طرح ٹیڑھے۔ سیدھا کرنے والا عاجز آ گیا اور جسے سیدھا کیا جا رہا ہے وہ لاعلاج ثابت ہوا۔ اے وہ لوگو جن کے جسم تو حاضر ہیں اور عقلیں غائب اور خواہشیں جُدا جدا ہیں، ان پر حکومت کرنے والے ان کے ہاتھوں آزمائش میں پڑے ہوئے ہیں، تمہارا حاکم اللہ کی اطاعت کرتا ہے اور تم اس کی نافرمانی کرتے ہو اور اہل شام کا حاکم اللہ کی نافرمانی کرتا ہے مگر وہ اس کی اطاعت کرتے ہیں۔ خدا کی قسم! میں یہ چاہتا ہوں کہ معاویہ تم میں سے دس مجھ سے لے لے اور بدلے میں اپنا ایک آدمی مجھے دے دے، جس طرح دینار کا تبادلہ درہموں سے ہوتا ہے۔ اے اہل کوفہ! میں تمہاری تین اور ان کے علاوہ دو باتوں میں مبتلا ہوں۔ پہلے تو یہ کہ تم کان رکھتے ہوئے بہرے ہو اور بولنے چالنے کے باوجود گونگے ہو اور آنکھیں ہوتے ہوئے اندھے ہو، اور پھر یہ کہ نہ تم جنگ کے موقعہ پر سچے جواں مرد ہو اور نہ قابل اعتماد بھائی ہو۔ اے ان اونٹوں کی چال ڈھال والو کہ جن کے چرواہے گم ہو چکے ہوں اور انہیں ایک طرف سے گھیر کر لایا جاتا ہے تو دوسری طرف سے بکھر جاتے ہیں، خدا کی قسم! جیسا کہ میرا تمہارے متعلق خیال ہے، گویا یہ منظر میرے سامنے ہے کہ اگر جنگ شدت اختیار کر لے اور میدان کارزار گرم ہو جائے تو تم ابن ابی طالب علیہ السلام سے ایسے شرمناک طریقے پر علیحدہ ہو جاؤ گے جیسے عورت بالکل برہنہ ہو جائے۔ میں اپنے پروردگار کی طرف سے روشن دلیل اور اپنے نبی ﷺ کے طریقے اور شاہراہ حق پر ہوں جسے میں باطل کے راستوں میں سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر پاتا رہتا ہوں۔ اپنے نبی ﷺ کے اہل بیت علیہم السلام کو دیکھو، ان کی سیرت پر چلو اور ان کے نقش قدم کی پیروی کرو۔ وہ تمہیں ہدایت سے باہر نہیں ہونے دیں گے اور نہ گمراہی و ہلاکت کی طرف پلٹائیں گے۔ اگر وہ کہیں ٹھہریں تو تم بھی ٹھہر جاؤ اور اگر وہ اٹھیں تو تم بھی اٹھ کھڑے ہو۔ ان سے آگے نہ بڑھ جاؤ ورنہ گمراہ ہو جاؤ گے اور نہ (انہیں چھوڑ کر) پیچھے رہ جاؤ ورنہ تباہ ہو جاؤ گے۔ میں نے محمد ﷺ کے خاص خاص اصحاب دیکھے ہیں۔ مجھے تو تم میں سے ایک بھی ایسا نظر نہیں آتا جو ان کے مثل ہو۔ وہ اس عالم میں صبح کرتے تھے کہ ان کے بال بکھرے ہوئے اور چہرے خاک سے اَٹے ہوتے تھے جب کہ رات کو وہ سجود و قیام میں کاٹ چکے ہوتے تھے، اس عالم میں کہ کبھی پیشانیاں سجدے میں رکھتے تھے اور کبھی رخسار، اور حشر کی یاد سے اس طرح (بے چین رہتے تھے کہ) جیسے انگاروں پر ٹھہرے ہوئے ہوں، اور لمبے سجدوں کی وجہ سے ان کی آنکھوں کے درمیان (پیشانیوں پر) بکری کے گھٹنوں ایسے گٹے پڑے ہوئے تھے۔ جب بھی ان کے سامنے اللہ کا ذکر آ جاتا تھا تو ان کی آنکھیں برس پڑتی تھیں، یہاں تک کہ ان کے گریبانوں کو بھگو دیتی تھیں۔ وہ اس طرح کانپتے رہتے تھے جس طرح تیز جھکڑ والے دن درخت تھرتھراتے ہیں، سزا کے خوف اور ثواب کی امید میں۔

  96. خطبہ 96- بنی امیہ اور ان کے مظالم کے متعلق فرمایا

    96

    الْحَمْدُ لِلَّهِ الْأَوَّلِ فَلَا شَيْ‏ءَ قَبْلَهُ وَ الْآخِرِ فَلَا شَيْ‏ءَ بَعْدَهُ وَ الظَّاهِرِ فَلَا شَيْ‏ءَ فَوْقَهُ وَ الْبَاطِنِ فَلَا شَيْ‏ءَ دُونَهُ منها في ذكر الرسول صلى الله عليه واله مُسْتَقَرُّهُ خَيْرُ مُسْتَقَرٍّ وَ مَنْبِتُهُ أَشْرَفُ مَنْبِتٍ فِي مَعَادِنِ الْكَرَامَةِ وَ مَمَاهِدِ السَّلَامَةِ قَدْ صُرِفَتْ نَحْوَهُ أَفْئِدَةُ الْأَبْرَارِ وَ ثُنِيَتْ إِلَيْهِ أَزِمَّةُ الْأَبْصَارِ دَفَنَ اللَّهُ بِهِ الضَّغَائِنَ وَ أَطْفَأَ بِهِ النَّوَائِرَ أَلَّفَ بِهِ إِخْوَاناً وَ فَرَّقَ بِهِ أَقْرَاناً أَعَزَّ بِهِ الذِّلَّةَ وَ أَذَلَّ بِهِ الْعِزَّةَ كَلَامُهُ بَيَانٌ وَ صَمْتُهُ لِسَانٌ

    خدا کی قسم! وہ ہمیشہ یونہی (ظلم ڈھاتے) رہیں گے اور کوئی اللہ کی حرام کی ہوئی چیز ایسی نہ ہو گی جسے وہ حلال نہ سمجھ لیں گے اور ایک بھی عہد و پیمان ایسا نہ ہو گا جسے وہ توڑ نہ ڈالیں گے۔ یہاں تک کہ کوئی اینٹ پتھر کا گھر اور اُون کا خیمہ ان کے ظلم کی زد سے محفوظ نہ رہے گا اور ان کی بُری طرز نگہداشت سے لوگوں کا اپنے گھروں میں رہنا مشکل ہو جائے گا اور یہاں تک کہ دو قسم کے رونے والے کھڑے ہو جائیں گے: ایک دین کیلئے رونے والا اور ایک دنیا کیلئے اور یہاں تک کہ تم میں سے کسی ایک کا ان میں سے کسی ایک سے داد خواہی کرنا ایسا ہی ہو گا جیسے غلام کا اپنے آقا سے کہ وہ سامنے اطاعت کرتا ہے اور پیٹھ پیچھے برائی کرتا (اور دل کی بھڑاس نکالتا) ہے اور یہاں تک نوبت پہنچ جائے گی کہ تم میں سے جو اللہ کا زیادہ اعتقاد رکھے گا اتنا ہی وہ زحمت و مشقت میں بڑھا چڑھا ہو گا۔ اس صورت میں اگر اللہ تمہیں امن و عافیت میں رکھے تو (اس کا شکر کرتے ہوئے) اسے قبول کرو اور اگر ابتلا و آزمائش میں ڈالے جاؤ تو صبر کرو۔ اس لئے کہ اچھا انجام پرہیزگاروں کیلئے ہے۔

  97. خطبہ 97- ترکِ دینا اور نیرنگیٔ عالم کے سلسلہ میں فرمایا

    97

    وَ لَئِنْ أَمْهَلَ اللَّهُ الظَّالِمَ فَلَنْ يَفُوتَ أَخْذُهُ وَ هُوَ لَهُ بِالْمِرْصَادِ عَلَى مَجَازِ طَرِيقِهِ وَ بِمَوْضِعِ الشَّجَا مِنْ مَسَاغِ رِيقِهِ أَمَا وَ الَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيَظْهَرَنَّ هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ عَلَيْكُمْ لَيْسَ لِأَنَّهُمْ أَوْلَى بِالْحَقِّ مِنْكُمْ وَ لَكِنْ لِإِسْرَاعِهِمْ إِلَى بَاطِلِ صَاحِبِهِمْ وَ إِبْطَائِكُمْ عَنْ حَقِّي وَ لَقَدْ أَصْبَحَتِ الْأُمَمُ تَخَافُ ظُلْمَ رُعَاتِهَا وَ أَصْبَحْتُ أَخَافُ ظُلْمَ رَعِيَّتِي اسْتَنْفَرْتُكُمْ لِلْجِهَادِ فَلَمْ تَنْفِرُوا وَ أَسْمَعْتُكُمْ فَلَمْ تَسْمَعُوا وَ دَعَوْتُكُمْ سِرّاً وَ جَهْراً فَلَمْ تَسْتَجِيبُوا وَ نَصَحْتُ لَكُمْ فَلَمْ تَقْبَلُوا أَ شُهُودٌ كَغُيَّاب وَ عَبِيدٌ كَأَرْبَابٍ ٍ أَتْلُو عَلَيْكُمْ الْحِكَمَ فَتَنْفِرُونَ مِنْهَا وَ أَعِظُكُمْ بِالْمَوْعِظَةِ الْبَالِغَةِ فَتَتَفَرَّقُونَ عَنْهَا وَ أَحُثُّكُمْ عَلَى جِهَادِ أَهْلِ الْبَغْيِ فَمَا آتِي عَلَى آخِرِ قَوْلِي حَتَّى أَرَاكُمْ مُتَفَرِّقِينَ أَيَادِيَ سَبَا تَرْجِعُونَ إِلَى مَجَالِسِكُمْ وَ تَتَخَادَعُونَ عَنْ مَوَاعِظِكُمْ أُقَوِّمُكُمْ غُدْوَةً وَ تَرْجِعُونَ إِلَيَّ عَشِيَّةً كَظَهْرِ الْحَيَّةِ عَجَزَ الْمُقَوِّمُ وَ أَعْضَلَ الْمُقَوَّمُ أَيُّهَا الشَّاهِدَةُ أَبْدَانُهُمْ الْغَائِبَةُ عَنْهُمْ عُقُولُهُمْ الْمُخْتَلِفَة أَهْوَاؤُهُمْ الْمُبْتَلَى بِهِمْ أُمَرَاؤُهُمْ صَاحِبُكُمْ يُطِيعُ اللَّهَ وَ أَنْتُمْ تَعْصُونَهُ وَ صَاحِبُ أَهْلِ الشَّامِ يَعْصِي اللَّهَ وَ هُمْ يُطِيعُونَهُ لَوَدِدْتُ وَ اللَّهِ أَنَّ مُعَاوِيَةَ صَارَفَنِي بِكُمْ صَرْفَ الدِّينَارِ بِالدِّرْهَمِ فَأَخَذَ مِنِّي عَشَرَةَ مِنْكُمْ وَ أَعْطَانِي رَجُلًا مِنْهُمْ يَا أَهْلَ الْكُوفَةِ مُنِيتُ مِنْكُمْ بِثَلَاثٍ وَ اثْنَتَيْنِ صُمٌّ ذَوُوا أَسْمَاعٍ وَ بُكْمٌ ذَوُوا كَلَامٍ وَ عُمْيٌ ذَوُوا أَبْصَارٍ لَا أَحْرَارُ صِدْقٍ عِنْدَ اللِّقَاءِ وَ لَا إِخْوَانُ ثِقَةٍ عِنْدَ الْبَلَاءِ تَرِبَتْ أَيْدِيكُمْ يَا أَشْبَاهَ الْإِبِلِ غَابَ عَنْهَا رُعَاتُهَا كُلَّمَا جُمِعَتْ مِنْ جَانِبٍ تَفَرَّقَتْ مِنْ جَانِبٍ آخَرَ وَ اللَّهِ لَكَأَنِّي بِكُمْ فِيمَا إِخَالُ أَنْ لَوْ حَمِسَ الْوَغَى وَ حَمِيَ الضِّرَابُ قَدِ انْفَرَجْتُمْ عَنِ ابْنِ أَبِي طَالِبٍ انْفِرَاجَ الْمَرْأَةِ عَنْ قُبُلِهَا وَ إِنِّي لَعَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّي وَ مِنْهَاجٍ مِنْ نَبِيِّي وَ إِنِّي لَعَلَى الطَّرِيقِ الْوَاضِحِ أَلْقُطُهُ لَقْطاً أهل البيت وأصحاب رسول الله انْظُرُوا أَهْلَ بَيْتِ نَبِيِّكُمْ فَالْزَمُوا سَمْتَهُمْ وَ اتَّبِعُوا أَثَرَهُمْ فَلَنْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ هُدًى وَ لَنْ يُعِيدُوكُمْ فِي رَدًى فَإِنْ لَبَدُوا فَالْبُدُوا وَ إِنْ نَهَضُوا فَانْهَضُوا وَ لَا تَسْبِقُوهُمْ فَتَضِلُّوا وَ لَا تَتَأَخَّرُوا عَنْهُمْ فَتَهْلِكُوا لَقَدْ رَأَيْتُ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه واله فَمَا أَرَى أَحَداً مِنْكُمْ يُشْبِهُهُمْ لَقَدْ كَانُوا يُصْبِحُونَ شُعْثاً غُبْراً وَ قَدْ بَاتُوا سُجَّداً وَ قِيَاماً يُرَاوِحُونَ بَيْنَ جِبَاهِهِمْ وَ خُدُودِهِمْ وَ يَقِفُونَ عَلَى مِثْلِ الْجَمْرِ مِنْ ذِكْرِ مَعَادِهِمْ كَأَنَّ بَيْنَ أَعْيُنِهِمْ رُكَبَ الْمِعْزَى مِنْ طُولِ سُجُودِهِمْ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ هَمَلَتْ أَعْيُنُهُمْ حَتَّى تَبُلَّ جُيُوبَهُمْ وَ مَادُوا كَمَا يَمِيدُ الشَّجَرُ يَوْمَ الرِّيحِ الْعَاصِفِ خَوْفاً مِنَ الْعِقَابِ وَ رَجَاءً لِلثَّوَابِ

    جو ہو چکا اس پر ہم اللہ کی حمد کرتے ہیں اور جو ہو گا اس کے مقابلہ میں اس سے مدد چاہتے ہیں۔ جس طرح اس سے جسموں کی صحت کا سوال کرتے ہیں اسی طرح دین و ایمان کی سلامتی کے طلبگار ہیں۔ اے اللہ کے بندو! میں تمہیں اس دنیا کے چھوڑنے کی وصیت کرتا ہوں جو تمہیں چھوڑ دینے والی ہے، حالانکہ تم اسے چھوڑنا پسند نہیں کرتے اور وہ تمہارے جسموں کو کہنہ و بوسیدہ بنانے والی ہے حالانکہ تم اسے تر و تازہ رکھنے ہی کی کوشش کرتے ہو۔ تمہاری اور اس دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے چند مسافر کسی راہ پر چلیں اور چلتے ہی منزل طے کر لیں اور کسی بلند نشان کا قصد کریں اور فوراً وہاں تک پہنچ جائیں۔ کتنا ہی تھوڑا وقفہ ہے اس (گھوڑا) دوڑانے والے کا کہ جو اسے دوڑا کر انتہا کی منزل تک پہنچ جائے اور اس شخص کی بقا ہی کیا ہے کہ جس کیلئے ایک ایسا دن ہو کہ جس سے وہ آگے نہیں بڑھ سکتا اور دنیا میں ایک تیز گام طلب کرنیوالا اسے ہنکا رہا ہو یہاں تک کہ وہ اس دنیا کو چھوڑ جائے۔ دنیا کی عزت اور اس میں فخرو سر بلندی کی خواہش نہ کرو اور نہ اس کی آرائشوں اور نعمتوں پر خوش ہو اور نہ اس کی سختیوں اور تنگیوں پر بے صبری سے چیخنے چلانے لگو۔ اس لئے کہ اس کی عزت و فخر دونوں مٹ جانیوالے ہیں اور اس کی آرائشیں اور نعمتیں زائل ہو جانے والی ہیں اور اس کی سختیاں اور تنگیاں آخر ختم ہو جائیں گی۔ اس کی ہر مدت کا نتیجہ اختتام اور ہر زندہ کا انجام فنا ہونا ہے۔ کیا پہلے لوگوں کے واقعات میں تمہارے لئے کافی تنبیہ کا سامان نہیں؟ اور تمہارے گزرے ہوئے آباؤ اجداد (کے حالات) میں تمہارے لئے عبرت اور بصیرت نہیں؟ اگر تم سوچو سمجھو۔ کیا تم گزرے ہوئے لوگوں کو نہیں دیکھتے کہ وہ پلٹ کر نہیں آتے اور ان کے بعد باقی رہنے والے بھی زندہ نہیں رہتے؟ تم دنیا والوں پر نظر نہیں کرتے کہ جو مختلف حالتوں میں صبح و شام کرتے ہیں؟ کہیں کوئی میت ہے جس پر رویا جا رہا ہے اور کہیں کسی کو تعزیت دی جا رہی ہے، کوئی عاجز و زمین گیر مبتلائے مرض ہے اور کوئی عیادت کرنے والا عیادت کر رہا ہے، کہیں کوئی دم توڑ رہا ہے، کوئی دنیا تلاش کرتا پھرتا ہے اور موت اسے تلاش کر رہی ہے اور کوئی غفلت میں پڑا ہے لیکن (موت) اس سے غافل نہیں ہے۔ گزر جانے والوں کے نقشِ قدم پر ہی باقی رہ جانے والے چل رہے ہیں۔ میں تمہیں متنبہ کرتا ہوں کہ بد اعمالیوں کے ارتکاب کے وقت ذرا موت کو بھی یاد کر لیا کرو کہ جو تمام لذتوں کو مٹا دینے والی اور تمام نفسانی مزوں کو کرکرا دینے والی ہے۔ اللہ کے واجب الادا حقوق ادا کرنے اور اس کی اَن گنت نعمتوں اور لاتعداد احسانوں کا شکر بجا لانے کیلئے اس سے مدد مانگتے رہو۔

  98. خطبہ 98- اپنی سیرت و کردار اور اہل بیتؑ کی عظمت کے سلسلہ میں فرمایا

    98

    وَ اللَّهِ لَا يَزَالُونَ حَتَّى لَا يَدَعُوا لِلَّهِ مُحَرَّماً إِلَّا اسْتَحَلُّوهُ وَ لَا عَقْداً إِلَّا حَلُّوهُ وَ حَتَّى لَا يَبْقَى بَيْتُ مَدَرٍ وَ لَا وَبَرٍ إِلَّا دَخَلَهُ ظُلْمُهُمْ وَ نَبَا بِهِ سُوءُ رَعْيِهِمْ وَ حَتَّى يَقُومَ الْبَاكِيَانِ يَبْكِيَانِ بَاكٍ يَبْكِي لِدِينِهِ وَ بَاكٍ يَبْكِي لِدُنْيَاهُ وَ حَتَّى تَكُونَ نُصْرَةُ أَحَدِكُمْ مِنْ أَحَدِهِمْ كَنُصْرَةِ الْعَبْدِ مِنْ سَيِّدِهِ إِذَا شَهِدَ أَطَاعَهُ وَ إِذَا غَابَ اغْتَابَهُ وَ حَتَّى يَكُونَ أَعْظَمُكُمْ فِيهَا عَنَاءً أَحْسَنَكُمْ بِاللَّهِ ظَنّاً فَإِنْ أَتَاكُمُ اللَّهُ بِعَافِيَةٍ فَأَقْبِلُوا وَ إِنِ ابْتُلِيتُمْ فَاصْبِرُوا فَإِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِينَ

    اس اللہ کیلئے حمد و ثنا ہے جو مخلوقات میں اپنا (دامن) فضل پھیلائے ہوئے اور اپنا دست کرم بڑھائے ہوئے ہے۔ ہم تمام امور میں اس کی حمد کرتے ہیں اور اس کے حقوق کا پاس و لحاظ رکھنے میں اس سے مدد مانگتے ہیں۔ اور ہم گواہی دیتے ہیں کہ اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اس کے عبد اور رسول ہیں جنہیں اللہ نے اپنا امر واضح کر کے سنانے اور اپنا ذکر زبان پر لانے کیلئے بھیجا۔ آپؐ نے امانتداری کے ساتھ اسے پہنچایا اور راہ راست پر برقرار رہتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوئے اور ہم میں حق کا وہ پرچم چھوڑ گئے کہ جو اس سے آگے بڑھے گا وہ (دین سے) نکل جائے گا اور جو پیچھے رہ جائے گا وہ مٹ جائے گا اور جو اس سے چمٹا رہے گا وہ حق کے ساتھ رہے گا۔ اس پرچم کی طرف راہنمائی کرنے والا وہ ہے جو بات کہنے میں جلد بازی نہیں کرتا اور (پوری طرح غور کرنے کیلئے) اپنے اقدام میں تاخیر کرتا ہے اور جب کسی امر کو لے کر کھڑا ہو جائے تو پھر تیز گام ہے۔ جب تم اس کے سامنے گردنیں خم کر دو گے اور (اسکی عظمت و جلال کے پیش نظر) اس کی طرف انگلیوں کے اشارے کرنے لگو گے تو اسے موت آ جائے گی اور اسے لے جائے گی اور پھر جب تک اللہ چاہے تم (انتظار میں) ٹھہرے رہو گے، یہاں تک کہ اللہ اس شخص کو ظاہر کرے جو تمہیں ایک جگہ پر جمع کرے اور تمہاری شیرازہ بندی کرے۔ جو کچھ ہونے والا نہیں ہے اس کی لالچ نہ کرو اور بہت ممکن کہ برگشتہ صورت حال کا ایک قدم اُکھڑ گیا ہو اور دوسرا قدم جما ہوا ہو اور پھر کوئی ایسی صورت ہو کہ دونوں قدم جم ہی جائیں۔ [۱] تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ آلِ محمد علیہم السلام آسمان کے ستاروں کے مانند ہیں، جب ایک ڈوبتا ہے تو دوسرا اُبھر آتا ہے۔ گویا تم پر اللہ کی نعمتیں مکمل ہو گئی ہیں اور جس کی تم آس لگائے بیٹھے تھے وہ اللہ نے تمہیں دکھا دیا ہے۔

  99. خطبہ 99- عبد الملک بن مروان کی تاراجیوں کے متعلق فرمایا

    99

    نَحْمَدُهُ عَلَى مَا كَانَ وَ نَسْتَعِينُهُ مِنْ أَمْرِنَا عَلَى مَا يَكُونُ وَ نَسْأَلُهُ الْمُعَافَاةَ فِي الْأَدْيَانِ كَمَا نَسْأَلُهُ الْمُعَافَاةَ فِي الْأَبْدَانِ عِبَادَ اللَّهِ أُوصِيكُمْ بِالرَّفْضِ لِهَذِهِ الدُّنْيَا التَّارِكَةِ لَكُمْ وَ إِنْ لَمْ تُحِبُّوا تَرْكَهَا وَ الْمُبْلِيَةِ لِأَجْسَامِكُمْ وَ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ تَجْدِيدَهَا فَإِنَّمَا مَثَلُكُمْ وَ مَثَلُهَا كَسَفْرٍ سَلَكُوا سَبِيلًا فَكَأَنَّهُمْ قَدْ قَطَعُوهُ وَ أَمُّوا عَلَماً فَكَأَنَّهُمْ قَدْ بَلَغُوهُ وَ كَمْ عَسَى الْمُجْرِي إِلَى الْغَايَةِ أَنْ يُجْرِيَ إِلَيْهَا حَتَّى يَبْلُغَهَا وَ مَا عَسَى أَنْ يَكُونَ بَقَاءُ مَنْ لَهُ يَوْمٌ لَا يَعْدُوهُ وَطَالِبٌ حَثِيثٌ يَحْدُوهُ فِي الدُّنُيَا حَتَّى يُفَارِقَهَا فَلَا تَنَافَسُوا فِي عِزِّ الدُّنْيَا وَ فَخْرِهَا وَ لَا تُعْجَبُوا بِزِينَتِهَا وَ نَعِيمِهَا وَ لَا تَجْزَعُوا مِنْ ضَرَّائِهَا وَ بُؤْسِهَا فَإِنَّ عِزَّهَا وَ فَخْرَهَا إِلَى انْقِطَاعٍ وَ إِنَّ زِينَتَهَا وَ نَعِيمَهَا إِلَى زَوَالٍ وَ ضَرَّاءَهَا وَ بُؤْسَهَا إِلَى نَفَادٍ وَ كُلُّ مُدَّةٍ فِيهَا إِلَى انْتِهَاءٍ وَ كُلُّ حَيٍّ فِيهَا إِلَى فَنَاءٍ أَوَ لَيْسَ لَكُمْ فِي آثَارِ الْأَوَّلِينَ مُزْدَجَرٌ وَ فِي آبَائِكُمُ الْمَاضِينَ تَبْصِرَةٌ وَ مُعْتَبَرٌ إِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُونَ أَوَ لَمْ تَرَوْا إِلَى الْمَاضِينَ مِنْكُمْ لَا يَرْجِعُونَ وَ إِلَى الْخَلَفِ الْبَاقِينَ لَا يَبْقُونَ أَوَ لَسْتُمْ تَرَوْنَ أَهْلَ الدُّنْيَا يُمْسُونَ وَ يُصْبِحُونَ عَلَى أَحْوَالٍ شَتَّى فَمَيِّتٌ يُبْكَى وَ آخَرُ يُعَزَّى وَ صَرِيعٌ مُبْتَلَى وَ عَائِدٌ يَعُودُ وَ آخَرُ بِنَفْسِهِ يَجُودُ وَ طَالِبٌ لِلدُّنْيَا وَ الْمَوْتُ يَطْلُبُهُ وَ غَافِلٌ وَ لَيْسَ بِمَغْفُولٍ عَنْهُ وَ عَلَى أَثَرِ الْمَاضِي مَا يَمْضِي الْبَاقِي أَلَا فَاذْكُرُوا هَادِمَ اللَّذَّاتِ وَ مُنَغِّصَ الشَّهَوَاتِ وَ قَاطِعَ الْأُمْنِيَّاتِ عِنْدَ الْمُسَاوَرَةِ لِلْأَعْمَالِ الْقَبِيحَةِ وَ اسْتَعِينُوا اللَّهَ عَلَى أَدَاءِ وَاجِبِ حَقِّهِ وَ مَا لَا يُحْصَى مِنْ أَعْدَادِ نِعَمِهِ وَ إِحْسَانِهِ.

    وہ ہر اوّل سے پہلے اوّل ہے اور ہر آخر کے بعد آخر ہے۔ اس کی اولیت کے سبب سے واجب ہے کہ اس سے پہلے کوئی نہ ہو اور اس کے آخر ہونے کی وجہ سے ضروری ہے کہ اس کے بعد کوئی نہ ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، ایسی گواہی جس میں ظاہر و باطن یکساں اور دل و زبان ہمنوا ہیں۔ اے لوگو! تم میری مخالفت کے جرم میں مبتلا نہ ہو اور میری نافرمانی کر کے حیران و پریشان نہ ہو۔ میری باتیں سنتے وقت ایک دوسرے کی طرف آنکھوں کے اشارے نہ کرو۔ اس ذات کی قسم جس نے دانہ کو شگافتہ کیا اور ذی روح کو پیدا کیا ہے! میں جو خبر تمہیں دیتا ہوں وہ نبی ﷺ کی طرف سے پہنچی ہوئی ہے۔ نہ خبر دینے والے (رسولؐ) نے جھوٹ کہا، نہ سننے والا جاہل تھا۔ (لو سنو!) میں ایک سخت گمراہیوں میں پڑے ہوئے شخص [۱] کو گویا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں کہ وہ شام میں کھڑا ہوا للکار رہا ہے اور اس نے اپنے جھنڈے کوفہ کے آس پاس کھلے میدانوں میں گاڑ دیئے ہیں۔ چنانچہ جب اس کا منہ (پھاڑ کھانے کو) کھل گیا اور اس کی لگام کا دہانہ مضبوط ہو گیا اور زمین میں اس کی پامالیاں سخت سے سخت ہو گئیں تو فتنوں نے اپنے دانتوں سے دنیا والوں کو کاٹنا شروع کر دیا اور جنگ کا دریا تھپیڑے مارنے لگا اور دنوں کی سختی سامنے آ گئی اور راتوں کی تکلیف شدت اختیار کر گئی۔ بس ادھر اس کی کھیتی پختہ ہوئی اور فصل تیار ہوئی اور اس کی سر مستیاں جوش دکھانے لگیں اور تلواریں چمکنے لگیں، اُدھر سخت فتنہ و شر کے جھنڈے گڑ گئے اور اندھیری رات اور متلاطم دریا کی طرح آگے بڑھ آئے۔ اس کے علاوہ اور کتنے ہی تیز جھکڑ کوفہ کو اُکھیڑ ڈالیں گے اور کتنی ہی سخت آندھیاں اس پر آئیں گی اور عنقریب جماعتیں جماعتوں سے گتھ جائیں گی اور کھڑی کھیتیوں کو کاٹ دیا جائے گا اور کٹے ہوئے حاصلوں کو توڑ پھوڑ دیا جائے گا۔

  100. خطبہ 100- بعد میں پیدا ہونے والے فتنوں کے متعلق فرمایا

    100

    الْحَمْدُ لِلَّهِ النَّاشِرِ فِي الْخَلْقِ فَضْلَهُ وَ الْبَاسِطِ فِيهِمْ بِالْجُودِ يَدَهُ نَحْمَدُهُ فِي جَمِيعِ أُمُورِهِ وَ نَسْتَعِينُهُ عَلَى رِعَايَةِ حُقُوقِهِ وَ نَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ غَيْرُهُ وَ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ أَرْسَلَهُ بِأَمْرِهِ صَادِعاً وَ بِذِكْرِهِ نَاطِقاً فَأَدَّى أَمِيناً وَ مَضَى رَشِيداً وَ خَلَّفَ فِينَا رَايَةَ الْحَقِّ مَنْ تَقَدَّمَهَا مَرَقَ وَ مَنْ تَخَلَّفَ عَنْهَا زَهَقَ وَ مَنْ لَزِمَهَا لَحِقَ دَلِيلُهَا مَكِيثُ الْكَلَامِ بَطِي‏ءُ الْقِيَامِ سَرِيعٌ إِذَا قَامَ فَإِذَا أَنْتُمْ أَلَنْتُمْ لَهُ رِقَابَكُمْ وَ أَشَرْتُمْ إِلَيْهِ بِأَصَابِعِكُمْ جَاءَهُ الْمَوْتُ فَذَهَبَ بِهِ فَلَبِثْتُمْ بَعْدَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ حَتَّى يُطْلِعَ اللَّهُ لَكُمْ مَنْ يَجْمَعُكُمْ وَ يَضُمُّ نَشْرَكُمْ فَلَا تَطْعَنُوا فِي عَيْنٍ مُقْبِلٍ وَ لَا تَيْأَسُوا مِنْ مُدْبِرٍ فَإِنَّ الْمُدْبِرَ عَسَى أَنْ تَزِلَّ إِحْدَى قَائِمَتَيْهِ وَ تَثْبُتَ الْأُخْرَى وَ تَرْجِعَا حَتَّى تَثْبُتَا جَمِيعاً أَلَا إِنَّ مَثَلَ آلِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه واله كَمَثَلِ نُجُومِ السَّمَاءِ إِذَا خَوَى نَجْمٌ طَلَعَ نَجْمٌ فَكَأَنَّكُمْ قَدْ تَكَامَلَتْ مِنَ اللَّهِ فِيكُمُ الصَّنَائِعُ وَ أَرَاكُمْ مَا كُنْتُمْ تَأْمُلُونَ

    وہ ایسا دن ہو گا کہ اللہ حساب کی چھان بین اور عملوں کی جزا کیلئے سب اَگلے پچھلوں کو جمع کرے گا۔ وہ خضوع کی حالت میں اس کے سامنے کھڑے ہوں گے، پسینہ منہ تک پہنچ کر ان کے منہ میں لگام ڈال دے گا، زمین ان لوگوں سمیت لرزتی اور تھرتھراتی ہو گی۔ اس وقت سب سے بڑا خوش حال وہ ہو گا جسے اپنے دونوں قدم ٹکانے کی جگہ اور سانس لینے کو کھلی فضا مل جائے۔ [اسی خطبے کا ایک جز یہ ہے] وہ ایسے فتنے ہوں گے جیسے اندھیری رات کے ٹکڑے۔ ان کے مقابلے کیلئے (گھوڑوں کے) پیر جم نہ سکیں گے اور نہ ان کے جھنڈے پلٹائے جا سکیں گے۔ وہ تمہارے پاس اس طرح آئیں گے کہ ان کی لگامیں چڑھی ہوں گی اور ان پر پالان کسے ہوں گے۔ ان کا پیشرو انہیں تیزی سے ہنکائے گا اور سوار ہونے والا انہیں ہلکان کر دے گا۔ وہ لوگ اس قوم سے ہیں جن کے حملے سخت ہوتے ہیں اور لوٹ کھسوٹ کم۔ ان سے وہ قوم فی سبیل اللہ جہاد کرے گی جو متکبروں کے نزدیک پست اور ذلیل، زمین میں گمنام اور آسمان میں جانی پہچانی ہوئی ہو گی۔ اے بصرہ ! تیری حالت پر افسوس ہے کہ جب تجھ پر اللہ کے عذاب کے لشکر ٹوٹ پڑیں گے، جس میں نہ غبار اڑے گا اور نہ شور و غوغا ہو گا اور تیرے بسنے والے قتل اور سخت بھوک میں مبتلا ہوں گے۔

  101. خطبہ 101- زہد و تقو یٰ اور اہل دنیا کی حالت کے متعلق فرمایا

    101

    الْحَمْدُ للهِ الْأَوَّلُ قَبْلَ كُلِّ أَوَّلٍ وَ الْآَخِرُ بَعْدَ كُلِّ آخِرٍ بِأَوَّلِيَّتِهِ وَجَبَ أَنْ لَا أَوَّلَ لَهُ وَ بِآخِرِيَّتِهِ وَجَبَ أَنْ لَا آخِرَ لَهُ وَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ شَهَادَةً يُوَافِقُ فِيهَا السِّرُّ الْإِعْلَانَ وَ الْقَلْبُ اللِّسَانَ أَيُّهَا النَّاسُ لا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقاقِي وَ لَا يَسْتَهْوِيَنَّكُمْ عِصْيَانِي وَ لَا تَتَرَامَوْا بِالْأَبْصَارِ عِنْدَ مَا تَسْمَعُونَهُ مِنِّي فَوَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَ بَرَأَ النَّسَمَةَ إِنَّ الَّذِي أُنَبِّئُكُمْ بِهِ عَنِ النَّبِيِّ (الْأُمِّيِّ) صلى الله عليه واله مَا كَذَبَ الْمُبَلِّغُ وَ لَا جَهِلَ السَّامِعُ لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى ضِلِّيلٍ قَدْ نَعَقَ بِالشَّامِ وَ فَحَصَ بِرَايَاتِهِ فِي ضَوَاحِي كُوفَانَ فَإِذَا فَغَرَتْ فَاغِرَتُهُ وَ اشْتَدَّتْ شَكِيمَتُهُ وَ ثَقُلَتْ فِي الْأَرْضِ وَطْأَتُهُ عَضَّتِ الْفِتْنَةُ أَبْنَاءَهَا بِأَنْيَابِهَا وَ مَاجَتِ الْحَرْبُ أَمْوَاجِهَا وَ بَدَا مِنَ الْأَيَّامِ كُلُوحُهَا وَ مِنَ اللَّيَالِي كُدُوحُهَا فَإِذَا أَيْنَعَ زَرْعُهُ وَ قَامَ عَلَى يَنْعِهِ وَ هَدَرَتْ شَقَاشِقُهُ وَ بَرَقَتْ بَوَارِقُهُ عُقِدَتْ رَايَاتُ الْفِتَنِ الْمُعْضِلَةِ وَ أَقْبَلْنَ كَاللَّيْلِ الْمُظْلِمِ وَ الْبَحْرِ الْمُلْتَطِمِ هَذَا وَ كَمْ يَخْرِقُ الْكُوفَةَ مِنْ قَاصِفٍ وَ يَمُرُّ عَلَيْهَا مِنْ عَاصِفٍ وَ عَنْ قَلِيلٍ تَلْتَفُّ الْقُرُونُ بِالْقُرُونِ وَ يُحْصَدُ الْقَائِمُ وَ يُحْطَمُ الْمَحْصُودُ.

    دنیا کو زہد اختیار کرنے والوں اور اس سے پہلو بچانے والوں کی نظر سے دیکھو۔ خدا کی قسم! وہ جلد ہی اپنے رہنے سہنے والوں کو اپنے سے الگ کر دے گی اور امن و خوشحالی میں بسر کرنے والوں کو رنج و اندوہ میں ڈال دے گی اور جو چیز اس میں کی منہ موڑ کر پیٹھ پھرا لے وہ واپس نہیں آیا کرتی اور آنے والی چیز کا کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ اس کی راہ دیکھی جائے۔ اس کی مسرتیں رنج میں سمو دی گئی ہیں اور جواں مردوں کی ہمت و طاقت اس میں کمزوری و ناتوانی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ (دیکھو) دنیا کو خوش کر دینے والی چیزوں کی زیادتی تمہیں مغرور نہ بنا دے۔ اس لئے کہ جو چیزیں تمہارا ساتھ دیں گی وہ بہت کم ہیں۔ خدا اس شخص پر رحم کرے جو سوچ بچار سے عبرت اور عبرت سے بصیرت حاصل کرے۔ دنیا کی ساری موجود چیزیں معدوم ہو جائیں گی، گویا کہ وہ موجود تھیں ہی نہیں اور آخرت میں پیش ہونے والی چیزیں جلد ہی موجود ہو جائیں گی، گویا کہ وہ ابھی سے موجود ہیں۔ ہر شمار میں آنے والی چیز ختم ہو جایا کرتی ہے اور جس کی آمد کا انتظار ہو اسے آیا ہی جانو اور ہر آنے والے کو نزدیک اور پہنچا ہوا سمجھو۔ [اس خطبہ کا ایک جز یہ ہے] عالم وہ ہے جو اپنا مرتبہ شناس ہو اور انسان کی جہالت اس سے بڑھ کر کیا ہو گی کہ وہ اپنی قدر و منزلت نہ پہچانے۔ لوگوں میں سب سے زیادہ ناپسند، اللہ کو وہ بندہ ہے جسے اللہ نے اس کے نفس کے حوالے کر دیا ہے۔ اس طرح کہ وہ سیدھے راستے سے ہٹا ہوا اور بغیر رہنما کے چلنے والا ہے۔ اگر اسے دنیا کی کھیتی (بونے) کیلئے بلایا جاتاہے تو سرگرمی دکھاتا ہے اور آخرت کی کھیتی (بونے) کیلئے کہا جاتا ہے تو کاہلی کرنے لگتا ہے۔ گویا جس چیز کیلئے اس نے سرگرمی دکھائی ہے وہ تو ضروری تھی اور جس میں سستی و کوتاہی کی ہے وہ اس سے ساقط تھی۔ [اسی خطبہ کا ایک جز یہ ہے] وہ زمانہ ایسا ہو گا کہ جس میں وہ خوابیدہ مومن ہی بچ کر نکل سکے گا کہ جو سامنے آنے پر جانا پہچانا نہ جائے اور نگاہ سے اوجھل ہونے پر اسے ڈھونڈھا نہ جائے۔ یہی لوگ تو ہدایت کے جگمگاتے چراغ اور شب پیمائیوں میں روشن نشان ہیں۔ نہ وہ اِدھر اُدھر کچھ کا کچھ لگاتے پھرتے ہیں، نہ لوگوں کی برائیاں اچھالتے ہیں اور نہ ان کے راز فاش کرتے ہیں۔ اللہ انہی لوگوں کیلئے رحمت کے دروازے کھول دے گا اور ان سے اپنے عذاب کی سختیاں دور رکھے گا۔ اے لوگو! وہ زمانہ تمہارے سامنے آنے والا ہے کہ جس میں اسلام کو اس طرح اوندھا کر دیا جائے گا جس طرح برتن کو ان چیزوں سمیت جو اس میں ہوں، الٹ دیا جائے۔ اے لوگو! اللہ نے تمہیں اس امر سے محفوظ رکھا ہے کہ وہ تم پر ظلم کرے۔ مگر اس سے پناہ نہیں کہ وہ تمہیں آزمائش میں ڈالے۔ اس بزرگ و برتر کہنے والے کا ارشاد ہے: ’’اس میں ہماری بہت سی نشانیاں ہیں اور ہم تو بس ان کا امتحان لیا کرتے ہیں‘‘۔ سیّد رضی فرماتے ہیں: حضرتؑ کے ارشاد ’’ہر خوابیدہ مومن‘‘ میں ’’خوابیدہ‘‘ سے مراد وہ شخص ہے کہ جو گمنام اور بے شر ہو۔ اور «الْمَسَایِیْح» مسیاح کی جمع ہے۔ اور ’’مسیاح‘‘ اس شخص کو کہتے ہیں کہ جو لوگوں میں فتنہ و شر پھیلاتا رہے اور لگائی بجھائی کرتا رہے۔ اور «الْمَذَایِیْع» مذیاع کی جمع ہے اور ’’مذیاع‘‘ اسے کہتے ہیں کہ جو کسی کی برائی سنے تو اسے اچھالے اور علانیہ بیان کرے اور «الْبُذُرُ» بذور کی جمع ہے اور ’’بذور‘‘ اسے کہتے ہیں کہ جو احمق اور اَول فول بکنے والا ہو۔

  102. خطبہ 102- بعثت سے قبل لوگوں کی حالت اور پیغمبر ﷺکی تبلیغ و ہدایت

    102

    وَ ذَلِكَ يَوْمٌ يَجْمَعُ اللَّهُ فِيهِ الْأَوَّلِينَ وَ الْآخِرِينَ لِنِقَاشِ الْحِسَابِ وَ جَزَاءِ الْأَعْمَالِ خُضُوعاً قِيَاماً قَدْ أَلْجَمَهُمُ الْعَرَقُ وَ رَجَفَتْ بِهِمُ الْأَرْضُ فَأَحْسَنُهُمْ حَالًا مَنْ وَجَدَ لِقَدَمَيْهِ مَوْضِعاً وَ لِنَفْسِهِ مُتَّسَعاً منها:في حال مقبلة على الناس فِتَنٌ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ لَا تَقُومُ لَهَا قَائِمَةٌ وَ لَا تُرَدُّ لَهَا رَايَةٌ تَأْتِيكُمْ مَزْمُومَةً مَرْحُولَةً يَحْفِزُهَا قَائِدُهَا وَ يَجْهَدُهَا رَاكِبُهَا أَهْلُهَا قَوْمٌ شَدِيدٌ كَلَبُهُمْ قَلِيلٌ سَلَبُهُمْ يُجَاهِدُهُمْ فِي اللَّهِ قَوْمٌ أَذِلَّةٌ عِنْدَ الْمُتَكَبِّرِينَ فِي الْأَرْضِ مَجْهُولُونَ وَ فِي السَّمَاءِ مَعْرُوفُونَ فَوَيْلٌ لَكِ يَا بَصْرَةُ عِنْدَ ذَلِكِ مِنْ جَيْشٍ مِنْ نِقَمِ اللَّهِ لَا رَهَجَ لَهُ وَ لَا حَسَّ وَ سَيُبْتَلَى أَهْلُكِ بِالْمَوْتِ الْأَحْمَرِ وَ الْجُوعِ الْأَغْبَرِ

    ایک دوسری روایت کی بنا پر یہ خطبہ پہلے درج ہو چکا ہے: جب اللہ نے محمد ﷺ کو بھیجا تو عربوں میں نہ کوئی (آسمانی) کتاب کا پڑھنے والا تھا اور نہ کوئی نبوت و وحی کا دعوے دار۔ آپؐ نے اطاعت کرنے والوں کو لے کر اپنے مخالفوں سے جنگ کی۔ درآنحالیکہ آپؐ ان لوگوں کو نجات کی طرف لے جا رہے تھے اور قبل اس کے کہ موت ان لوگوں پر آ پڑے، ان کی ہدایت کیلئے بڑھ رہے تھے۔ جب کوئی تھکا ماندہ رک جاتا تھا اور خستہ و درماندہ ٹھہر جاتا تھا تو آپؐ اس کے (سر پر) کھڑے ہو جاتے تھے اور اسے اس کی منزل مقصود تک پہنچا دیتے تھے۔ یہ اور بات ہے کہ کوئی ایسا تباہ حال ہو جس میں ذرّہ بھر بھلائی ہی نہ ہو۔ یہاں تک کہ آپؐ نے انہیں نجات کی منزل دکھا دی اور انہیں ان کے مرتبہ پر پہنچا دیا، چنانچہ ان کی چکی گھومنے لگی اور ان کے نیزے کا خم جاتا رہا۔ خدا کی قسم میں بھی انہیں ہنکانے والوں میں تھا۔ یہاں تک کہ وہ پوری طرح پسپا ہو گئے اور اپنے بندھنوں میں جکڑ دئیے گئے۔ اس دوران میں نہ مَیں عاجز ہوا نہ بزدلی دکھائی، نہ کسی قسم کی خیانت کی اور نہ مجھ میں کمزوری آئی۔ خدا کی قسم! میں (اب بھی) باطل کو چیر کر حق کو اس کے پہلو سے نکال لوں گا۔

  103. خطبہ 103- پیغمبر اکرمﷺ کی مدح و توصیف اور فرائضِ امام کے سلسلہ میں

    103

    انْظُرُوا إِلَى الدُّنْيَا نَظَرَ الزَّاهِدِينَ فِيهَا الصَّادِفِينَ عَنْهَا فَإِنَّهَا وَ اللَّهِ عَمَّا قَلِيلٍ تُزِيلُ الثَّاوِيَ السَّاكِنَ وَ تَفْجَعُ الْمُتْرَفَ الآْمِنَ لَا يَرْجِعُ مَا تَوَلَّى مِنْهَا فَأَدْبَرَ وَ لَا يُدْرَى مَا هُوَ آتٍ مِنْهَا فَيُنْتَظَرُ سُرُورُهَا مَشُوبٌ بِالْحُزْنِ وَ جَلَدُ الرِّجَالِ فِيهَا إِلَى الضَّعْفِ وَ الْوَهَنِ فَلَا تَغُرَّنَّكُمْ كَثْرَةُ مَا يُعْجِبُكُمْ فِيهَا لِقِلَّةِ مَا يَصْحَبُكُمْ مِنْهَا رَحِمَ اللَّهُ امْرَأً تَفَكَّرَ فَاعْتَبَرَ وَ اعْتَبَرَ فَأَبْصَرَ فَكَأَنَّ مَا هُوَ كَائِنٌ مِنَ الدُّنْيَا عَنْ قَلِيلٍ لَمْ يَكُنْ وَ كَأَنَّ مَا هُوَ كَائِنٌ مِنَ الْآخِرَةِ عَمَّا قَلِيلٍ لَمْ يَزَلْ وَ كُلُّ مَعْدُودٍ مُنْقَضٍ وَ كُلُّ مُتَوَقَّعٍ آتٍ وَ كُلُّ آتٍ قَرِيبٌ دَانٍ منها : صفة العالم الْعَالِمُ مَنْ عَرَفَ قَدْرَهُ وَ كَفَى بِالْمَرْءِ جَهْلًا أَلَّا يَعْرِفَ قَدْرَهُ وَ إِنَّ مِنْ أَبْغَضِ الرِّجَالِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى لَعَبْداً وَكَلَهُ اللَّهُ إِلَى نَفْسِهِ جَائِراً عَنْ قَصْدِ السَّبِيلِ سَائِراً بِغَيْرِ دَلِيلٍ إِنْ دُعِيَ إِلَى حَرْثِ الدُّنْيَا عَمِلَ وَ إِنْ دُعِيَ إِلَى حَرْثِ الْآخِرَةِ كَسِلَ كَأَنَّ مَا عَمِلَ لَهُ وَاجِبٌ عَلَيْهِ وَ كَأَنَّ مَا وَنَى فِيهِ سَاقِطٌ عَنْهُ منها:حدیث عن المستقبل وَ ذَلِكَ زَمَانٌ لَا يَنْجُو فِيهِ إِلَّا كُلُّ مُؤْمِنٍ نُوَمَةٍ إِنْ شَهِدَ لَمْ يُعْرَفْ وَ إِنْ غَابَ لَمْ يُفْتَقَدْ أُولَئِكَ مَصَابِيحُ الْهُدَى وَ أَعْلَامُ السُّرَى لَيْسُوا بِالْمَسَايِيحِ وَ لَا الْمَذَايِيعِ الْبُذُرِ أُولَئِكَ يَفْتَحُ اللَّهُ لَهُمْ أَبْوَابَ رَحْمَتِهِ وَ يَكْشِفُ عَنْهُمْ ضَرَّاءَ نِقْمَتِهِ أَيُّهَا النَّاسُ سَيَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ يُكْفَأُ فِيهِ الْإِسْلَامُ كَمَا يُكْفَأُ الْإِنَاءُ بِمَا فِيهِ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعَاذَكُمْ مِنْ أَنْ يَجُورَ عَلَيْكُمْ وَ لَمْ يُعِذْكُمْ مِنْ أَنْ يَبْتَلِيَكُمْ وَ قَدْ قَالَ جَلَّ مِنْ قَائِلٍ «إِنَّ فِي ذلِكَ لَآياتٍ وَ إِنْ كُنَّا لَمُبْتَلِينَ» قال السيد الشريف: امَا قَوْلُهُ (ع) : "كُل مُؤمِن نُوَمَةٍ" فَإنَّما اَرادَ بِهِ الْحامِلَ الذَّكْرِ الْقَلِيلَ الشَّرِ، وَ الْمَسايِيحُ جَمْعُ مِسْياح ، وَ هُوَ الَّذِي يَسيِحُ بَيْنَ الناسَ بِالْفسادِ وَ النَّمائِمِ، وَ الْمَذايِيعُ جَمْعُ مِذْياعٍ، وَ هُو الذي إذا سَمِعَ لِغَيرِه بِفاحِشَة اَذاعَها وَ نوَهَّ بِها، وَ الْبُذُرُجَمْعَ بَذُورٍ، وَ هُو الَّذِي يَكْثَرَ سَفَهُهُ وَ يَلْغُو مَنْطِقُهُ.

    آخر اللہ نے محمد ﷺ کو بھیجا در آنحالیکہ وہ گواہی دینے والے، خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے تھے۔ جو بچپنے میں بھی بہترین خلائق اور سن رسیدہ ہونے پر بھی اشرفِ کائنات تھے اور پاک لوگوں میں خو خصلت کے اعتبار سے پاکیزہ تر اور جود و سخا میں ابر صفت، برسائے جانے والوں میں سب سے زائد لگاتار برسنے والے تھے۔ دنیا اپنی لذتوں میں اس وقت تمہارے لئے شیریں و خوشگوار ہوئی اور اس وقت تم اس کے تھنوں سے دودھ پینے پر قادر ہوئے کہ جبکہ اس کے پہلے اس کی مہاریں جھول رہی تھیں اور اس کا تنگ (ڈھیلا ہو کر) ہل رہا تھا (یعنی اس کا کوئی سوار اور دیکھ بھال کرنے والا نہ تھا جو اس کی باگیں اٹھاتا اور اس کا تنگ کستا)۔ کچھ قوموں کیلئے تو حرام اس بیری کے مانند (خوشگوار اور مزے دار) ہو گیا تھا جس کی شاخیں پھلوں کی وجہ سے جھکی ہوئی ہوں اور حلال ان کیلئے (کوسوں) دور اور نایاب تھا۔ خدا کی قسم! یہ دنیا لمبی چھاؤں کی صورت میں ایک مقررہ وقت تک تمہارے پاس ہے۔ مگر اس وقت تو زمین بغیر روک ٹوک کے تمہارے قبضے میں ہے، تمہارے ہاتھ اس میں کھلے ہوئے ہیں اور پیشواؤں کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، تمہاری تلواریں ان پر مسلط ہیں اور ان کی تلواریں روکی جا چکی ہیں۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہر خون کا کوئی قصاص لینے والا اور ہر حق کا کوئی طلب کرنے والا بھی ہوتا ہے اور ہمارے خون کا قصاص لینے والا اس حاکم کے مانند ہے جو اپنے ہی حق کے بارے میں فیصلہ کرے اور وہ اللہ ہے کہ جسے وہ تلاش کرے وہ اسے بے بس نہیں بنا سکتا اور جو بھاگنے کی کوشش کرے وہ اس کے ہاتھوں سے بچ کر نہیں نکل سکتا۔ اے بنی امیہ! میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جلد ہی تم اپنی دنیا (اور اس کی ثروتوں کو) دوسروں کے ہاتھوں اور دشمنوں کے گھروں میں دیکھو گے۔ سب آنکھوں سے زیادہ دیکھنے والی وہ آنکھ ہے جس کی نظر نیکیوں میں اتر جائے اور سب کانوں سے بڑھ کر سننے والا وہ کان ہے کہ جو نصیحت کی باتیں سنے اور انہیں قبول کرے۔ اے لوگو! واعظ با عمل کے چراغ (ہدایت) کی لو سے اپنے چراغ روشن کر لو اور اس صاف و شفاف چشمہ سے پانی بھر لو جو (شبہات کی) آمیزشوں اور کُدورتوں سے نتھر چکا ہے۔ اے اللہ کے بندو! اپنی جہالتوں کی طرف نہ مڑو اور نہ اپنی خواہشوں کے تابع ہو جاؤ۔ اس لئے کہ خواہشوں کی منزل میں اترنے والا ایسا ہے جیسے کوئی سیلاب زدہ دیوار کے کنارے پر کھڑا ہو کہ جو گرا چاہتی ہو، وہ ہلاکتوں کا پلندہ اپنی پیٹھ پر اٹھائے کبھی اس کندھے پر رکھتا ہے کبھی اس کندھے پر۔ اپنی ان رایوں کی صورت میں جنہیں وہ بدلتا رہتا ہے اور یہ چاہتا ہے کہ اس پر (کوئی دلیل) چسپاں کرے مگر جو چپکنے والی نہیں ہوتی اور اسے (ذہنوں سے) قریب کرنا چاہتا ہے جو قریب ہونے کے قابل نہیں۔ اللہ سے ڈرو کہ تم اپنی شکایتیں اس شخص کے سامنے لے کر بیٹھ جاؤ کہ جو (تمہاری خواہشوں کے مطابق) تمہارے شکووں کے قلق کو دور نہیں کرے گا اور نہ شریعت کے محکم و مضبوط احکام کو توڑے گا۔ امام کا فرض تو بس یہ ہے کہ جو کام اسے اپنے پروردگار کی طرف سے سپرد ہوا ہے (اسے انجام دے) اور وہ یہ ہے کہ پند و نصیحت کی باتیں ان تک پہنچائے، سمجھانے بجھانے میں پوری پوری کوشش کرے، سنت کو زندہ رکھے اور جن پر حد لگنا ہے ان پر حد جاری کرے اور (غصب کئے ہوئے) حصوں کو ان کے اصلی وارثوں تک پہنچائے۔ تمہیں چاہیے کہ علم کی طرف بڑھو قبل اس کے کہ اس کا (ہرا بھرا) سبزہ خشک ہو جائے اور قبل اس کے کہ اہل علم سے علم سیکھنے میں اپنے ہی نفس کی مصروفیتیں حائل ہو جائیں۔ دوسروں کو برائیوں سے روکو اور خود بھی رکے رہو۔ اس لئے کہ تمہیں برائیوں سے رکنے کا حکم پہلے ہے اور دوسروں کو روکنے کا بعد میں ہے۔

  104. خطبہ 104- شریعت اسلام کی گرانقدری اور پیغمبرﷺ کی عظمت کے متعلق فرمایا

    104

    أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ بَعَثَ مُحَمَّداً صلى الله عليه واله وَ لَيْسَ أَحَدٌ مِنَ الْعَرَبِ يَقْرَأُ كِتَاباً وَ لَا يَدَّعِي نُبُوَّة وَ لَا وَحْياً ً فَقَاتَلَ بِمَنْ أَطَاعَهُ‏ مَنْ عَصَاهُ يَسُوقُهُمْ إِلَى مَنْجَاتِهِمْ وَ يُبَادِرُ بِهِمُ السَّاعَةَ أَنْ تَنْزِلَ بِهِمْ يَحْسِرُ الْحَسِيرُ وَ يَقِفُ الْكَسِيرُ فَيُقِيمُ عَلَيْهِ حَتَّى يُلْحِقَهُ غَايَتَهُ إِلَّا هَالِكاً لَا خَيْرَ فِيهِ حَتَّى أَرَاهُمْ مَنْجَاتَهُمْ وَ بَوَّأَهُمْ مَحَلَّتَهُمْ فَاسْتَدَارَتْ رَحَاهُمْ وَ اسْتَقَامَتْ قَنَاتُهُمْ وَ ايْمُ اللَّهِ لَقَدْ كُنْتُ مِنْ سَاقَتِهَا حَتَّى تَوَلَّتْ بِحَذَافِيرِهَا وَ اسْتَوْسَقَتْ فِي قِيَادِهَا مَا ضَعُفْتُ وَ لَا جَبُنْتُ وَ لَا خُنْتُ وَ لَا وَهَنْتُ وَ ايْمُ اللَّهِ لَأَبْقُرَنَّ الْبَاطِلَ حَتَّى أُخْرِجَ الْحَقَّ مِنْ خَاصِرَتِهِ قال السيد الشريف: وَ قد تَقَّدَم مُخْتارُ هذِهِ الْخُطْبَةِ إلاَ اَنَّنِي وَجَدتُها فِي هذِهِ الرَّوايَةِ عَلى خِلافِ ما سَبَقَ مِنْ زِيادَةٍ وَ نُقْصان فَاَوجَبَتِ الْحالُ إثْباتَها ثانِيةَ.

    تمام حمد اس اللہ کیلئے ہے کہ جس نے شریعت اسلام کو جاری کیا اور اس کے (سر چشمہ) ہدایت پر اترنے والوں کیلئے اس کے قوانین کو آسان کیا اور اس کے ارکان کو حریف کے مقابلے میں غلبہ و سرفرازی دی۔ چنانچہ جو اس سے وابستہ ہو اس کیلئے امن، جو اس میں داخل ہو اس کیلئے صلح و آشتی، جو اس کی بات کرے اس کیلئے دلیل، جو اس کی مدد لے کر مقابلہ کرے اس کیلئے اسے گواہ قرار دیا ہے اور اس سے کسب ضیا کرنے والے کیلئے نور، سمجھنے بوجھنے اور سوچ بچار کرنے والے کیلئے فہم و دانش، غور کرنے والے کیلئے (روشن) نشانی، ارادہ کرنے والے کیلئے بصیرت، نصیحت قبول کرنے والے کیلئے عبرت، تصدیق کرنے والے کیلئے نجات، بھروسا کرنے والے کیلئے اطمینان، ہر چیز اسے سونپ دینے والے کیلئے راحت اور صبر کرنے والے کیلئے سپر بنایا ہے۔ وہ تمام سیدھی راہوں میں زیادہ روشن اور تمام عقیدوں میں زیادہ واضح ہے۔ اس کے مینار بلند، راہیں درخشاں اور چراغ روشن ہیں۔ اس کا میدان (عمل) باوقار اور مقصد و غایت بلند ہے۔ اس کے میدان میں تیز رفتار گھوڑوں کا اجتماع ہے۔ اس کی طرف بڑھنا مطلوب و پسندیدہ ہے۔ اس کے شاہسوار عزت والے اور اس کا راستہ (اللہ و رسولؐ کی) تصدیق ہے اور اچھے اعمال (راستے کے) نشانات ہیں۔ دنیا گھوڑ دوڑ کا میدان اور موت پہنچنے کی حد اور قیامت گھوڑوں کے جمع ہونے کی جگہ اور جنت بڑھنے کا انعام ہے۔ [اسی خطبہ کا یہ جز نبی ﷺ کے متعلق ہے] یہاں تک کہ آپؐ نے روشنی ڈھونڈھنے والے کیلئے شعلے بھڑکائے اور (راستہ کھوکر) سواری کے روکنے والے کیلئے نشانات روشن کئے۔ (اے اللہ!) وہ تیرے بھروسے کا امین اور قیامت کے دن تیرا (ٹھہرایا ہوا) گواہ ہے، وہ تیرا نبی مرسل و رسول برحق ہے جو (دنیا کیلئے) نعمت و رحمت ہے۔ (خدایا!) تو انہیں اپنے عدل و انصاف سے ان کا حصہ عطا کر اور اپنے فضل سے انہیں دہرے حسنات اجر میں دے۔ (اے اللہ!) ان کی عمارت کو تمام معماروں کی عمارتوں پر فوقیت عطا کر اور اپنے پاس ان کی عزت و آبرو سے مہمانی کر اور ان کے مرتبہ کو بلندی و شرف بخش اور انہیں بلند درجہ دے اور رفعت و فضیلت عطا کر اور ہمیں ان کی جماعت میں اس طرح محشور کر کہ نہ ہم ذلیل و رسوا ہوں، نہ نادم و پریشان، نہ حق سے روگردان، نہ عہد شکن، نہ گمراہ، نہ گمراہ کن اور نہ فریب خوردہ۔ سیّد رضیؒ کہتے ہیں: یہ کلام اگرچہ پہلے گزر چکا ہے، مگر ہم نے پھر اعادہ کیا ہے چونکہ دونوں روایتوں کی لفظوں میں کچھ اختلاف ہے۔ [اسی خطبہ کا ایک جز یہ ہے جس میں اپنے اصحاب سے خطاب فرمایا ہے] تم اپنے اللہ کے لطف و کرم کی بدولت ایسے مرتبہ پر پہنچ گئے کہ تمہاری کنیزیں بھی محترم سمجھی جانے لگیں اور تمہارے ہمسایوں سے بھی اچھا برتاؤ کیا جانے لگا اور وہ لوگ بھی تمہاری تعظیم کرنے لگے جن پر تمہیں نہ کوئی فضیلت تھی، نہ تمہارا کوئی ان پر احسان تھا اور وہ لوگ بھی تم سے دہشت کھانے لگے جنہیں تمہارے حملہ کا کوئی اندیشہ نہ تھا اور نہ تمہارا ان پر تسلط تھا۔ مگر اس وقت تم دیکھ رہے ہو کہ اللہ کے عہد توڑے جا رہے ہیں اور تم غیظ میں نہیں آتے، حالانکہ اپنے آباؤ اجداد کے قائم کردہ رسم و آئین کے توڑے جانے سے تمہارى رگِ حمیت جنبش میں آ جاتی ہے۔ حالانکہ اب تک اللہ کے معاملات تمہارے ہی سامنے پیش ہوتے رہے اور تمہارے ہی (ذریعہ سے) ان کا حل ہوتا رہا ہے اور تمہاری ہی طرف ہر پھر کر آتے ہیں۔ لیکن تم نے اپنی جگہ ظالموں کے حوالے کر دی ہے اور اپنی باگ ڈور انہیں تھما دی ہے اور اللہ کے معاملات انہیں سونپ دیئے ہیں کہ وہ شبہوں پر عمل پیرا اور نفسانی خواہشوں پر گامزن ہیں۔ خدا کی قسم! اگر وہ تمہیں ہر ستارے کے نیچے بکھیر دیں تو بھی اللہ تمہیں اس دن (ضرور) جمع کرے گا جو ان کیلئے بہت بُرا دن ہو گا۔

  105. خطبہ 105- صفین میں جب حصہ لشکر کے قدم اکھڑنے کے جم گئے تو فرمایا

    105

    حَتَّى بَعَثَ اللَّهُ مُحَمَّداً صلى الله عليه واله شَهِيداً، بَشِيراً وَ نَذِيراً خَيْرَ الْبَرِيَّةِ طِفْلًا وَ أَنْجَبَهَا كَهْلًا أَطْهَرَ الْمُطَهَّرِينَ شِيمَةً وَ أَجْوَدَ الْمُسْتَمْطَرِينَ دِيمَةً بنو أمية فَمَا احْلَوْلَتْ لَكُمُ الدُّنْيَا فِي لَذَّتِهَا وَ لَا تَمَكَّنْتُمْ مِنْ رَضَاعِ أَخْلَافِهَا إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا صَادَفْتُمُوهَا جَائِلًا خِطَامُهَا قَلِقاً وَضِينُهَا قَدْ صَارَ حَرَامُهَا عِنْدَ أَقْوَامٍ بِمَنْزِلَةِ السِّدْرِ الْمَخْضُودِ وَ حَلَالُهَا بَعِيداً غَيْرَ مَوْجُودٍ وَ صَادَفْتُمُوهَا وَ اللَّهِ ظِلًّا مَمْدُوداً إِلَى أَجْلٍ مَعْدُودٍ وَ فَالْأَرْضُ لَكُمْ شَاغِرَةٌ وَ أَيْدِيكُمْ فِيهَا مَبْسُوطَةٌ وَ أَيْدِي الْقَادَةِ عَنْكُمْ مَكْفُوفَةٌ وَ سُيُوفُكُمْ عَلَيْهِمْ مُسَلَّطَةٌ وَ سُيُوفُهُمْ عَنْكُمْ مَقْبُوضَةٌ أَلَا وَ انَّ لِكُلِّ دَمٍ ثَائِراً وَ لِكُلِّ حَقٍّ طَالِباً وَ أَنَّ الثَّائِرَ فِي دِمَائِنَا كَالْحَاكِمِ فِي حَقِّ نَفْسِهِ وَ هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا يُعْجِزُهُ مَنْ طَلَبَ وَ لَا يَفُوتُهُ مَنْ هَرَبَ فَأُقْسِمُ بِاللَّهِ يَا بَنِي أُمَيَّةَ عَمَّا قَلِيلٍ لَتَعْرِفُنَّهَا فِي أَيْدِي غَيْرِكُمْ وَ فِي دَارِ عَدُوِّكُمْ أَلَا اِنَّ أَبْصَرَ الْأَبْصَارِ مَا نَفَذَ فِي الْخَيْرِ طَرْفُهُ أَلَا إِنَّ أَسْمَعَ الْأَسْمَاعِ مَا وَعَى التَّذْكِيرَ وَ قَبِلَهُ وعظُ الناس أَيُّهَا النَّاسُ اسْتَصْبِحُوا مِنْ شُعْلَةِ مِصْبَاحِ وَاعِظٍ مُتَّعِظٍ وَ امْتَاحُوا مِنْ صَفْوِ عَيْنٍ قَدْ رُوِّقَتْ مِنَ الْكَدَرِ عِبَادَ اللَّهِ لَا تَرْكَنُوا إِلَى جَهَالَتِكُمْ وَ لَا تَنْقَادُوا لِأَهْوَائِكُمْ فَإِنَّ النَّازِلَ بِهَذَا الْمَنْزِلِ نَازِلٌ بِشَفَا جُرُفٍ هَارٍ يَنْقُلُ الرَّدَى عَلَى ظَهْرِهِ مِنْ مَوْضِعٍ إِلَى مَوْضِعٍ لِرَأْيٍ يُحْدِثُهُ بَعْدَ رَأْيٍ يُرِيدُ أَنْ يُلْصِقَ مَا لَا يَلْتَصِقُ وَ يُقَرِّبُ مَا لَا يَتَقَارَبُ فَاللَّهَ اللَّهَ أَنْ تَشْكُوا إِلَى مَنْ لَا يُشْكِي شَجْوَكُمْ وَ لَا يَنْقُضُ بِرَأْيِهِ مَا قَدْ أُبْرِمَ لَكُمْ إِنَّهُ لَيْسَ عَلَى الْإِمَامِ إِلَّا مَا حُمِّلَ مِنْ أَمْرِ رَبِّهِ الْإِبْلَاغُ فِي الْمَوْعِظَةِ وَ الِاجْتِهَادُ فِي النَّصِيحَةِ وَ الْإِحْيَاءُ لِلسُّنَّةِ وَ إِقَامَةُ الْحُدُودِ عَلَى مُسْتَحِقِّيهَا وَ إِصْدَارُ السُّهْمَانِ عَلَى أَهْلِهَا فَبَادِرُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِ تَصْوِيحِ نَبْتِهِ وَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تُشْغَلُوا بِأَنْفُسِكُمْ عَنْ مُسْتَثَارِ الْعِلْمِ مِنْ عِنْدِ أَهْلِهِ وَ انْهَوْا (غَيْرَكُمْ) عَنِ الْمُنْكَرِ وَ تَنَاهَوْا عَنْهُ فَإِنَّمَا أُمِرْتُمْ بِالنَّهْيِ بَعْدَ التَّنَاهِي

    جنگ ِصفین کے دوران فرمایا میں نے تمہیں بھاگتے اور صفوں سے منتشر ہوتے ہوئے دیکھا، (جبکہ) تمہیں چند کھرے قسم کے اوباشوں اور شام کے بدؤں نے اپنے گھيرے میں لے لیا تھا۔ حالانکہ تم عرب کے جواں مرد، شرف کے راس و رئیس، (قوم میں) اونچی ناک والے اور چوٹی کی بلندی والے ہو۔ میرے سینے سے نکلنے والی کراہنے کی آوازیں اسی وقت دب سکتی ہیں کہ جب میں دیکھ لوں کہ آخر کار جس طرح انہوں نے تمہیں گھیر رکھا ہے تم نے بھی انہیں اپنے نرغہ میں لے لیا ہو اور جس طرح انہوں نے تمہارے قدم اکھیڑ دیئے ہیں اسی طرح تم نے بھی ان کے قدم ان کی جگہوں سے اکھیڑ ڈالے ہوں، تیروں کی بوچھاڑ سے انہیں قتل کرتے ہوئے اور نیزوں کے ایسے ہاتھ چلاتے ہوئے کہ جس سے ان کی پہلی صفیں دوسری صفوں پر چڑھی جاتی ہوں، جیسے ہنکائے ہوئے پیاسے اونٹ کہ جنہیں ان کے تالابوں سے دور پھینک دیا گیا ہو اور ان کے گھاٹوں سے علیحدہ کر دیا گیا ہو۔

  106. خطبہ 106- پیغمبرﷺ کی توصیف اور لوگوں کے گوناگون حالات کے بارے میں

    106

    الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي شَرَعَ الْإِسْلَامَ فَسَهَّلَ شَرَائِعَهُ لِمَنْ وَرَدَهُ وَ أَعَزَّ أَرْكَانَهُ عَلَى مَنْ غَالَبَهُ فَجَعَلَهُ أَمْناً لِمَنْ عَلِقَهُ وَ سِلْماً لِمَنْ دَخَلَهُ وَ بُرْهَاناً لِمَنْ تَكَلَّمَ بِهِ وَ شَاهِداً لِمَنْ خَاصَمَ بِهِ وَ نُوراً لِمَنِ اسْتَضَاءَ بِهِ وَ فَهْماً لِمَنْ عَقَلَ وَ لُبّاً لِمَنْ تَدَبَّرَ وَ آيَةً لِمَنْ تَوَسَّمَ وَ تَبْصِرَةً لِمَنْ عَزَمَ وَ عِبْرَةً لِمَنِ اتَّعَظَ وَ نَجَاةً لِمَنْ صَدَّقَ وَ ثِقَةً لِمَنْ تَوَكَّلَ وَ رَاحَةً لِمَنْ فَوَّضَ وَ جُنَّةً لِمَنْ صَبَرَ فَهُوَ أَبْلَجُ الْمَنَاهِجِ وَ أَوْضَحُ الْوَلَائِجِ مُشْرِفُ الْمَنَارِ مُشْرِقُ الْجَوَادِّ مُضِي‏ءُ الْمَصَابِيحِ كَرِيمُ الْمِضْمَارِ رَفِيعُ الْغَايَةِ جَامِعُ الْحَلْبَةِ مُتَنَافَسُ السُّبْقَةِ شَرِيفُ الْفُرْسَانِ التَّصْدِيقُ مِنْهَاجُهُ وَ الصَّالِحَاتُ مَنَارُهُ وَ الْمَوْتُ غَايَتُهُ وَ الدُّنْيَا مِضْمَارُهُ وَ الْقِيَامَةُ حَلْبَتُهُ وَ الْجَنَّةُ سُبْقَتُهُ منها في ذكر النبي صلى الله عليه واله حَتَّى أَوْرَى قَبَساً لِقَابِسٍ وَ أَنَارَ عَلَماً لِحَابِسٍ فَهُوَ أَمِينُكَ الْمَأْمُونُ وَ شَهِيدُكَ يَوْمَ الدِّينِ وَ بَعِيثُكَ نِعْمَةً وَ رَسُولُكَ بِالْحَقِّ رَحْمَةً اللَّهُمَّ اقْسِمْ لَهُ مَقْسَماً مِنْ عَدْلِكَ وَ اجْزِهِ مُضَاعَفَاتِ الْخَيْرِ مِنْ فَضْلِكَ اللَّهُمَّ أَعْلِ عَلَى بِنَاءِ الْبَانِينَ بِنَاءَهُ وَ اكْرِمْ لَدَيْكَ نُزُلَهُ وَ شَرِّفْ عِنْدَكَ مَنْزِلَتَهُ وَ آتِهِ الْوَسِيلَةَ وَ أَعْطِهِ السَّنَاءَ وَ الْفَضِيلَةَ وَ احْشُرْنَا فِي زُمْرَتِهِ غَيْرَ خَزَايَا وَ لَا نَادِمِينَ وَ لَا نَاكِبِينَ وَ لَا نَاكِثِينَ وَ لَا ضَالِّينَ وَ لَا مُضِلِّينَ وَ لَا مَفْتُونِينَ قال السيد الشريف: و قد مضى هذا الكلام فيما تقدم إلا أننا كررناه هاهنا لما في الروايتين من الاختلاف و منها في خطاب أصحابه وَ قَدْ بَلَغْتُمْ مِنْ كَرَامَةِ اللَّهِ تَعَالَى لَكُمْ مَنْزِلَةً تُكْرَمُ بِهَا إِمَاؤُكُمْ وَ تُوصَلُ بِهَا جِيرَانُكُمْ وَ يُعَظِّمُكُمْ مَنْ لَا فَضْلَ لَكُمْ عَلَيْهِ وَ لَا يَدَ لَكُمْ عِنْدَهُ وَ يَهَابُكُمْ مَنْ لَا يَخَافُ لَكُمْ سَطْوَةً وَ لَا لَكُمْ عَلَيْهِ إِمْرَةٌ وَ قَدْ تَرَوْنَ عُهُودَ اللَّهِ مَنْقُوضَةً فَلَا تَغْضَبُونَ وَ أَنْتُمْ لِنَقْضِ ذِمَمِ آبَائِكُمْ تَأْنَفُونَ وَ كَانَتْ أُمُورُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ تَرِدُ وَ عَنْكُمْ تَصْدُرُ وَ إِلَيْكُمْ تَرْجِعُ فَمَكَّنْتُمُ الظَّلَمَةَ مِنْ مَنْزِلَتِكُمْ وَ أَلْقَيْتُمْ إِلَيْهِمْ أَزِمَّتَكُمْ وَ أَسْلَمْتُمْ أُمُورَ اللَّهِ فِي أَيْدِيهِمْ يَعْمَلُونَ بِالشُّبُهَاتِ وَ يَسِيرُونَ فِي الشَّهَوَاتِ وَ أَيْمُ اللَّهِ لَوْ فَرَّقُوكُمْ تَحْتَ كُلِّ كَوْكَبٍ لَجَمَعَكُمُ اللَّهُ لِشَرِّ يَوْمٍ لَهُمْ

    یہ ان خطبوں میں سے ہے جن میں زمانہ کے حوادث و فتن کا تذکرہ ہے تمام حمد اس اللہ کیلئے ہے جو اپنے مخلوقات کی وجہ سے مخلوقات کے سامنے عیاں ہے اور اپنی حجت و برہان کے ذریعہ سے دلوں میں نمایاں ہے۔ اس نے بغیر سوچ بچار میں پڑے مخلوق کو پیدا کیا۔ اس لئے کہ غور و فکر اس کے مناسب ہوا کرتی ہے جو دل و دماغ (جیسے اعضاء) رکھتا ہو اور وہ دل و دماغ کی احتیاج سے بری ہے۔ اس کا علم غیب کے پردوں میں سرایت کئے ہوئے ہے اور عقیدوں کی گہرائیوں کی تہ تک اترا ہوا ہے۔ [اس خطبہ کا یہ جُز نبی ﷺ کے متعلق ہے] انہیں انبیاءؑ کے شجرہ، روشنی کے مرکز (آل ابراہیمؑ)، بلندی کی جبیں (قریش)، بطحاء کی ناف (مکہ) اور اندھیرے کے چراغوں اور حکمت کے سر چشموں سے منتخب کیا۔ [اس خطبہ کا یہ حصہ بھی رسول ﷺ ہی سے متعلق ہے] وہ ایک طبیب تھے جو اپنی حکمت و طب کو لئے ہوئے چکر لگا رہا ہو، اس نے اپنے مرہم ٹھیک ٹھاک کر لئے ہوں اور داغنے کے آلات تپا لئے ہوں، وہ اندھے دلوں، بہرے کانوں، گونگی زبانوں ( کے علاج معالجہ) میں جہاں ضرورت ہوتی ہے، ان چیزوں کو استعمال میں لاتا ہو اور دوا لئے غفلت زدہ اور حیرانی و پریشانی کے مارے ہوؤں کی کھوج میں لگا رہتا ہو۔ مگر لوگوں نے نہ تو حکمت کی تنویروں سے ضیا و نور کو حاصل کیا اور نہ علومِ درخشاں کے چقماق کو رگڑ کر نورانی شعلے پیدا کئے، وہ اس معاملہ میں چرنے والے حیوانوں اور سخت پتھروں کے مانند ہیں۔ اہل بصیرت کیلئے چھپی ہوئی چیزیں ظاہر ہو گئی ہیں اور بھٹکنے والوں کیلئے حق کی راہ واضح ہو گئی اور آنے والی ساعت نے اپنے چہرے سے نقاب الٹ دی اور غور سے دیکھنے والوں کیلئے علامتیں ظاہر ہو چکی ہیں، لیکن تمہیں مَیں دیکھتا ہوں کہ پیکر بے روح اور روحِ بے قالب بنے ہوئے ہو، عابد بنے پھرتے ہو بغیر صلاح و تقویٰ کے اور تاجر بنے ہوئے ہو بغیر فائدوں کے، بیدار ہو مگر سو رہے ہو، حاضر ہو مگر ایسے جیسے غائب ہوں، دیکھنے والے ہو مگر اندھے، سننے والے ہو مگر بہرے، بولنے والے ہو مگر گونگے۔ گمراہی کا جھنڈا تو اپنے مرکز پر جم چکا ہے اور اس کی شاخیں (ہرسو) پھیل گئی ہیں۔ تمہیں (تباہ کرنے کیلئے) اپنے پیمانوں میں تول رہا ہے اور اپنے ہاتھوں سے تمہیں اِدھر ُادھر بھٹکا رہا ہے اس کا پیشرو ملتِ (اسلام) سے خارج ہے اور گمراہی پر ڈٹا کھڑا ہے۔ اس دن تم میں سے کوئی نہیں بچے گا، مگر کچھ گرے پڑے لوگ، جیسے دیگ کی کھرچن یا تھیلے کے جھاڑنے سے گرے ہوئے ریزے۔ وہ گمراہی تمہیں اس طرح مسل ڈالے گی جس طرح چمڑے کو مسلا جاتا ہے اور اس طرح روندے گی جیسے کٹی ہوئی زراعت کو روندا جاتا ہے اور (مصیبت و ابتلا کیلئے) تم میں سے مومن (کامل) کو اس طرح چن لے گی جس طرح پرندہ باریک دانوں میں سے موٹے دانہ کو چن لیتا ہے۔ یہ (غلط) روشیں تمہیں کہاں لئے جا رہی ہیں اور یہ اندھیاریاں تمہیں کن پریشانیوں میں ڈال رہی ہیں اور یہ جھوٹی امیدیں تمہیں کاہے کا فریب دے رہی ہیں؟ کہاں سے لائے جاتے ہو اور کدھر پلٹائے جاتے ہو؟ ہر میعاد کا ایک نوشتہ ہوتا ہے اور ہر غائب کو پلٹ کر آنا ہے۔ اپنے عالم ربانی سے سنو۔ اپنے دلوں کو حاضر کرو۔ اگر تمہیں پکارے تو جاگ اٹھو۔ قوم کے نمائندہ کو تو اپنی قوم سے سچ ہی بولنا چاہیے اور اپنی پریشاں خاطری میں یکسوئی پیدا کرنا اور اپنے ذہن کو حاضر رکھنا چاہیے۔ چنانچہ اس نے حقیقت کو اس طرح واشگاف کر دیا ہے جس طرح (دھاگے میں پروئے جانے والے)مہرہ کو چیر دیا جاتا ہے اور اس طرح اسے (تہ سے) چھیل ڈالا ہے جیسے درخت سے گوند۔ باوجود اس کے باطل پھر اپنے مرکز پر آ گیا اور جہالت اپنی سواریوں پر چڑھ بیٹھی، اس کی طغیانیاں بڑھ گئی ہیں اور (حق کی) آواز دَب گئی ہے اور زمانہ نے پھاڑ کھانے والے درندے کی طرح حملہ کر دیا ہے اور باطل کا اونٹ چپ رہنے کے بعد پھر بلبلانے لگا ہے، لوگوں نے فسق و فجور پر آپس میں بھائی چارہ کر لیا ہے اور دین کے سلسلہ میں ان میں پھوٹ پڑی ہوئی ہے، جھوٹ پر تو ایک دوسرے سے یارانہ گانٹھ رکھا ہے اور سچ کے معاملہ میں باہم کد رکھتے ہیں۔ (ایسے موقعہ پر) بیٹا (آنکھوں کی ٹھنڈک ہونے کے بجائے) غیظ و غضب کا سبب ہو گا اور بارشیں گرمی و تپش کا، کمینے پھیل جائیں گے اور شریف گھٹتے جائیں گے۔ اس زمانہ کے لوگ بھیڑیئے ہوں گے اور حکمران درندے، درمیانی طبقہ کے لوگ کھاپی کر مست رہنے والے اور فقیر و نادار بالکل مردہ، سچائی دَب جائے گی اور جھوٹ اُبھر آئے گا، محبت (کی لفظیں) صرف زبانوں پر آئیں گی اور لوگ دلوں میں ایک دوسرے سے کشیدہ رہیں گے، نسب کا معیار زنا ہو گا، عفت و پاکدامنی نرالی چیز سمجھی جائے گی اور اسلام کا لبادہ پوستین کی طرح الٹا اوڑھا جائے گا۔

  107. خطبہ 107- خداوند عالم کی عظمت، ملائکہ کی رفعت ،نزع کی کیفیت اور آخرت

    107

    وَ قَدْ رَأَيْتُ جَوْلَتَكُمْ وَ انْحِيَازَكُمْ عَنْ صُفُوفِكُمْ تَحُوزُكُمُ الْجُفَاةُ الطَّغَامُ وَ أَعْرَابُ أَهْلِ الشَّامِ وَ أَنْتُمْ لَهَامِيمُ الْعَرَبِ وَ يَآفِيخُ الشَّرَفِ وَ الْأَنْفُ الْمُقَدَّمُ وَ السَّنَامُ الْأَعْظَمُ وَ لَقَدْ شَفَى وَحَاوِحَ صَدْرِي أَنْ رَأَيْتُكُمْ بِأَخَرَةٍ تَحُوزُونَهُمْ كَمَا حَازُوكُمْ وَ تُزِيلُونَهُمْ عَنْ مَوَاقِفِهِمْ كَمَا أَزَالُوكُمْ حَسّاً بِالنِّصَالِ وَ شَجْراً بِالرِّمَاحِ تَرْكَبُ أُوْلَاهُمْ أُخْرَاهُمْ كَالْإِبِلِ الْهِيمِ الْمَطْرُودَةِ تُرْمَى عَنْ حِيَاضِهَا وَ تُذَادُ عَنْ مَوَارِدِهَا

    ہر چیز اس کے سامنے عاجز و سرنگوں اور ہر شے اس کے سہارے وابستہ ہے۔ وہ ہر فقیر کا سرمایہ، ہر ذلیل کی آبرو، ہر کمزور کی توانائی اور ہر مظلوم کی پناہ گاہ ہے۔ جو کہے اس کی بات بھی وہ سنتا ہے اور جو چپ رہے اس کے بھید سے بھی وہ آگاہ ہے۔ جو زندہ ہے اس کے رزق کا ذمہ اس پر ہے اور جو مر جائے اس کا پلٹنا اسی کی طرف ہے۔ (اے اللہ!) آنکھوں نے تجھے دیکھا نہیں کہ تیری خبر دے سکیں، بلکہ تو تو اس وصف کرنے والی مخلوق سے پہلے موجود تھا۔ تو نے (تنہائی کی) وحشتوں سے اکتا کر مخلوق کو پیدا نہیں کیا اور نہ اپنے کسی فائدے کے پیش نظر ان سے اعمال کرائے۔ جسے تو گرفت میں لانا چاہے وہ تجھ سے آگے بڑھ کر جا نہیں سکتا اور جسے تو نے گرفت میں لے لیا پھر وہ نکل نہیں سکتا۔ جو تیری مخالفت کرتا ہے ایسا نہیں کہ وہ تیری فرمانروائی کو نقصان پہنچائے اور جو تیری اطاعت کرتا ہے وہ تیرے ملک (کی وسعتوں) کو بڑھا نہیں دیتا اور جو تیری قضا و قدر پر بگڑ اُٹھے وہ تیرے امر کو رد نہیں کر سکتا اور جو تیرے حکم سے منہ موڑ لے وہ تجھ سے بے نیاز نہیں ہو سکتا۔ ہر چھپی ہوئی چیز تیرے لئے ظاہر اور ہر غیب تیرے سامنے بے نقاب ہے۔ تو ابدی ہے جس کی کوئی حد نہیں اور تو ہی (سب کی) منزل منتہا ہے کہ جس سے کوئی گریز کی راہ نہیں اور تو ہی وعدہ گاہ ہے کہ تجھ سے چھٹکارا پانے کی کوئی جگہ نہیں مگر تیری ہی ذات۔ ہر راہ چلنے والا تیرے قبضہ میں ہے اور ہر ذی روح کی بازگشت تیری طرف ہے۔ سبحان اللہ! یہ تیری کائنات جو ہم دیکھ رہے ہیں، کتنی عظیم الشان ہے اور تیری قدرت کے سامنے ان کی عظمت کتنی کم ہے اور یہ تیری بادشاہت جو ہماری نظروں کے سامنے ہے کتنی پر شکوہ ہے۔ لیکن تیری اس سلطنت کے مقابلہ میں جو ہماری نگاہوں سے اوجھل ہے کتنی حقیر ہے اور دنیا میں یہ تیری نعمتیں کتنی کامل و ہمہ گیر ہیں مگر آخرت کی نعمتوں کے سامنے وہ کتنی مختصر ہیں۔ [اسی خطبہ کا ایک جز یہ ہے] تو نے فرشتوں کو آسمانوں میں بسایا اور انہیں زمین کی سطح سے بلند رکھا۔ وہ سب مخلوق سے زیادہ تیری معرفت رکھتے ہیں اور سب سے زیادہ تجھ سے ڈرتے ہیں اور سب سے زیادہ تیرے مقرب ہیں۔ نہ وہ صلبوں میں ٹھہرے، نہ شکموں میں رکھے گئے، نہ ذلیل پانی (نطفہ) سے ان کی پیدائش ہوئی اور نہ زمانہ کے حوادث نے انہیں منتشر کیا۔ وہ تیرے قرب میں اپنے مقام و منزلت کی بلندی اور تیرے بارے میں خیالات کی یکسوئی اور تیری عبادت کی فراوانی اور تیرے احکام میں عدم غفلت کے باوجود اگر تیرے راز ہائے قدرت کی اس تہ تک پہنچ جائیں کہ جو ان سے پوشیدہ ہے، تو وہ اپنے اعمال کو بہت ہی حقیر سمجھیں گے اور اپنے نفسوں پر حرف گیری کریں گے اور یہ جان لیں گے کہ انہوں نے تیری عبادت کا حق ادا نہیں کیا اور نہ کماحقہ تیری اطاعت کی ہے۔ میں خالق و معبود جانتے ہوئے تیری تسبیح کرتا ہوں۔ تیرے اس بہترین سلوک کی بنا پر جو تیرا اپنے مخلوقات کے ساتھ ہے۔ تو نے ایک ایسا گھر (جنت) بنایا ہے کہ جس میں مہمانی کیلئے کھانے پینے کی چیزیں، حوریں، غلمان، محل، نہریں، کھیت اور پھل مہیا کئے ہیں۔ پھر تو نے ان نعمتوں کی طرف دعوت دینے والا بھیجا، مگر نہ انہوں نے بلانے والے کی آواز پر لبیک کہی اور نہ ان چیزوں کی طرف راغب ہوئے جن کی تو نے رغبت دلائی تھی اور نہ ان چیزوں کے مشتاق ہوئے جن کا تو نے اشتیاق دلایا تھا۔ وہ تو اسی مردار دنیا پر ٹوٹ پڑے کہ جسے نوچ کھانے میں اپنی عزت آبرو گنوا رہے تھے اور اس کی چاہت پر ایکا کر لیا تھا۔ جو شخص کسی شے سے بے تحاشا محبت کرتا ہے تو وہ اس کی آنکھوں کو اندھا، دل کو مریض کر دیتی ہے۔ وہ دیکھتا ہے تو بیمار آنکھوں سے، سنتا ہے تو نہ سننے والے کانوں سے۔ شہوتوں نے اس کی عقل کا دامن چاک کر دیا ہے اور دنیا نے اس کے دل کو مردہ بنا دیا ہے اور اس کا نفس اس پر مرمٹا ہے۔ یہ دنیا کا اور ان لوگوں کا جن کے پاس کچھ بھی وہ دنیا ہے بندہ و غلام بن گیا ہے۔ جدھر وہ مڑتی ہے ادھر یہ مڑتا ہے، جدھر اس کا رخ ہوتا ہے ادھر ہی اس کا رخ ہوتا ہے۔ نہ اللہ کی طرف سے کسی روکنے والے کے کہنے سننے سے وہ رکتا ہے اور نہ ہی اس کے کسی وعظ و پند کرنے والے کی نصیحت مانتا ہے۔ حالانکہ وہ ان لوگوں کو دیکھتا ہے کہ جنہیں عین غفلت کی حالت میں وہاں پر جکڑ لیا گیا کہ جہاں نہ تدارک کی گنجائش اور نہ دنیا کی طرف پلٹنے کا موقعہ ہوتا ہے اور کس طرح وہ چیزیں ان پر ٹوٹ پڑیں کہ جن سے وہ بے خبر تھے اور کس طرح اس دنیا سے جدائی (کی گھڑی سامنے) آ گئی کہ جس سے پوری طرح مطمئن تھے اور کیونکر آخرت کی ان چیزوں تک پہنچ گئے کہ جن کی انہیں خبر دی گئی تھی۔ اب جو مصیبتیں ان پر ٹوٹ پڑی ہیں انہیں بیان نہیں کیا جا سکتا، موت کی سختیاں اور دنیا چھوڑنے کی حسرتیں مل کر انہیں گھیر لیتی ہیں۔ چنانچہ ان کے ہاتھ پیر ڈھیلے پڑ جاتے ہیں اور رنگتیں بدل جاتی ہیں۔ پھر ان (کے اعضاء) میں موت کی دخل اندازیاں بڑھ جاتی ہیں۔ کوئی ایسا ہوتا ہے کہ پہلے ہی اس کی زبان بند ہو جاتی ہے، در صورتیکہ اس کی عقل درست اور ہوش و حواس باقی ہوتے ہیں۔ وہ اپنے گھر والوں کے سامنے پڑا ہوا اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے اور اپنے کانوں سے سنتا ہے اور ان چیزوں کو سوچتا ہے کہ جن میں اس نے اپنی عمر گنوا دی ہے اور اپنا زمانہ گزار دیا ہے اور اپنے جمع کیے ہوئے مال و متاع کو یاد کرتا ہے کہ جس کے طلب کرنے میں (جائز و ناجائز سے) آنکھیں بند کر لی تھیں اور جسے صاف اور مشکوک ہر طرح کی جگہوں سے حاصل کیا تھا۔ اس کا وبال اپنے سر لے کر اسے چھوڑ دینے کی تیاری کرنے لگا۔ وہ مال (اب) اس کے پچھلوں کیلئے رہ جائے گا کہ وہ اس سے عیش و آرام کریں اور گل چھڑے اڑائیں۔ اس طرح وہ دوسروں کو تو بغیر ہاتھ پیر ہلائے یونہی مل گیا، لیکن اس کا بوجھ اس کی پیٹھ پر رہا اور یہ اس مال کی وجہ سے ایسا گروی ہوا ہے کہ بس اپنے کو چھڑا نہیں سکتا۔ مرنے کے وقت یہ حقیقت جو کھل کر اس کے سامنے آ گئی تو ندامت سے وہ اپنے ہاتھ کاٹنے لگتا ہے اور عمر بھر جن چیزوں کا طلب گار رہا تھا اب ان سے کنارہ ڈھونڈتا ہے اور یہ تمنا کرتا ہے کہ جو اس مال کی وجہ سے اس پر رشک و حسد کیا کرتے تھے (کاش کہ) وہی اس مال کو سمیٹتے نہ وہ۔ اب موت کے تصرفات اس کے جسم میں اور بڑھے، یہاں تک کہ زبان کے ساتھ ساتھ کانوں پر بھی موت چھا گئی۔ گھر والوں کے سامنے اس کی یہ حالت ہوتی ہے کہ نہ زبان سے بول سکتا ہے، نہ کانوں سے سن سکتا ہے، آنکھیں گھما گھما کر ان کے چہروں کو تکتا ہے، ان کی زبانوں کی جنبشوں کو دیکھتا ہے، لیکن بات چیت کی آوازیں نہیں سن پاتا۔ پھر اس سے موت اور لپٹ گئی کہ اس کی آنکھوں کو بھی بند کر دیا جس طرح اس کے کانوں کو بند کیا تھا اور روح اس کے جسم سے مفارقت کر گئی۔ اب وہ گھر والوں کے سامنے ایک مردار کی صورت میں پڑا ہوا ہے کہ اس کی طرف سے انہیں وحشت ہوتی ہے اور اس کے پاس پھٹکنے سے دور بھاگتے ہیں۔ وہ نہ رونے والے کی کچھ مدد کر سکتا ہے، نہ پکارنے والے کو جواب دے سکتا ہے۔ پھر اسے اٹھا کر زمین میں جہاں اس کی قبر بننا ہے لے جاتے ہیں اور اسے اس کے حوالے کر دیتے ہیں کہ اب وہ جانے اور اس کا کام اور اس کی ملاقات سے ہمیشہ کیلئے منہ موڑ لیتے ہیں۔ یہاں تک کہ نوشتہ (تقدیر) اپنی میعاد کو اور حکمِ الٰہی اپنی مقررہ حد کو پہنچ جائے گا اور پچھلوں کو اَگلوں کے ساتھ ملا دیا جائے گا اور فرمان قضا پھر سرے سے پیدا کرنے کا ارادہ لیکر آئے گا تو وہ آسمانوں کو جنبش میں لائے گا اور انہیں پھاڑ دے گا اور زمین کو ہلا ڈالے گا اور اس کی بنیادیں کھوکھلی کر دے گا اور پہاڑوں کو جڑ و بنیاد سے اکھاڑ دے گا اور وہ اس کے جلال کی ہیبت اور قہر و غلبہ کی دہشت سے آپس میں ٹکرانے لگیں گے۔ وہ زمین کے اندر سے سب کو نکالے گا اور انہیں سڑ گل جانے کے بعد پھر از سر نو تر و تازہ کرے گا اور متفرق و پراگندہ ہونے کے بعد پھر یکجا کر دے گا۔ پھر ان کے چھپے ہوئے اعمال اور پوشیدہ کار گزاریوں کے متعلق پوچھ گچھ کرنے کیلئے انہیں جدا جدا کرے گا اور انہیں دو حصوں میں بانٹ دے گا۔ ایک کو وہ انعام و اکرام دے گا اور ایک سے انتقام لے گا۔ جو فرمانبردار تھے انہیں جزا دے گا کہ وہ اس کے جوارِ رحمت میں رہیں اور اپنے گھر میں انہیں ہمیشہ کیلئے ٹھہرا دے گا کہ جہاں اترنے والے پھر کوچ نہیں کیا کرتے اور نہ ان کے حالات ادلتے بدلتے رہتے ہیں اور نہ انہیں گھڑی گھڑی خوف ستاتا ہے، نہ بیماریاں ان پر آتی ہیں، نہ انہیں خطرات درپیش ہوتے ہیں اور نہ انہیں سفر ایک جگہ سے دوسری جگہ لئے پھرتے ہیں۔ اور جو نافرمان ہوں گے انہیں ایک برے گھر میں پھینکے گا اور ان کے ہاتھ گردن سے (کس کر) باندھ دے گا اور ان کی پیشانیوں پر لٹکنے والے بالوں کو قدموں سے جکڑ دے گا اور انہیں تارکول کی قمیضیں اور آگ سے قطع کئے ہوئے کپڑے پہنائے گا (یعنی ان پر تیل چھڑک کر آگ میں جھونک دے گا)۔ وہ ایسے عذاب میں ہوں گے کہ جس کی تپش بڑی سخت ہو گی اور (ایسی جگہ میں ہوں گے کہ جہاں) ان پر دروازے بند کر دیئے جائیں گے اور ایسی آگ میں ہوں گے کہ جس میں تیز شرارے، بھڑکنے کی آوازیں، اٹھتی ہوئی لپٹیں اور ہولناک چیخیں ہوں گی۔ اس میں ٹھہرنے والا نکل نہ سکے گا اور نہ ہی اس کے قیدیوں کو فدیہ دیکر چھڑا یا جا سکتا ہے اور نہ ہی ان کی بیڑیاں ٹوٹ سکتی ہیں۔ اس گھر کی کوئی مدّت مقرر نہیں کہ اس کے بعد مٹ مٹاجائے، نہ رہنے والوں کیلئے کوئی مقررہ میعاد ہے کہ وہ پوری ہو جائے (تو پھر چھوڑ دیئے جائیں)۔ [اسی خطبہ کا یہ جز نبی ﷺ کے متعلق ہے] انہوں نے (اس) دنیا کو ذلیل و خوار سمجھا اور پست و حقیر جانا اور جانتے تھے کہ اللہ نے ان کی شان کو بالاتر سمجھتے ہوئے دنیا کا رخ ان سے موڑا ہے اور اسے گھٹیا سمجھتے ہوئے دوسروں کیلئے اس کا دامن پھیلا دیا ہے، لہٰذا آپؐ نے دنیا سے دل ہٹا لیا اور اس کی یاد اپنے نفس سے مٹا ڈالی اور یہ چاهتے رہے کہ اس کی سج دھج ان کی نظروں سے اوجھل رہے کہ نہ اس سے عمدہ عمدہ لباس حاصل کریں اور نہ اس میں قیام کی آس لگائیں۔ انہوں نے عذر تمام کرتے ہوئے اپنے پروردگار کا پیغام پہنچا دیا اور ڈراتے ہوئے اُمت کو پند و نصیحت کی اور خوشخبری سناتے ہوئے جنت کی طرف دعوت دی۔ ہم نبوت کا شجرہ، رسالت کی منزل، ملائکہ کی فرودگاہ، علم کا معدن اور حکمت کا سر چشمہ ہیں۔ ہماری نصرت کرنے والا اور ہم سے محبت کرنے والا رحمت کیلئے چشم براہ ہے اور ہم سے دشمنی و عناد رکھنے والے کو قہر (الٰہی) کا منتظر رہنا چاہیے۔

  108. خطبہ 108- فرائضِ اسلام اور علم وعمل کے متعلق فرمایا

    108

    الْحَمْدُ لِلَّهِ الْمُتَجَلِّي لِخَلْقِهِ بِخَلْقِهِ وَ الظَّاهِرِ لِقُلُوبِهِمْ بِحُجَّتِهِ خَلَقَ الْخَلْقَ مِنْ غَيْرِ رَوِيَّةٍ إِذْ كَانَتِ الرَّوِيَّاتُ لَا تَلِيقُ إِلَّا بِذَوِي الضَّمَائِرِ وَ لَيْسَ بِذِي ضَمِيرٍ فِي نَفْسِهِ خَرَقَ عِلْمُهُ بَاطِنَ غَيْبِ السُّتُرَاتِ وَ أَحَاطَ بِغُمُوضِ عَقَائِدِ السَّرِيرَاتِ مِنْهَا فِي ذِكْرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه و اله اخْتَارَهُ مِنْ شَجَرَةِ الْأَنْبِيَاءِ وَ مِشْكَاةِ الضِّيَاءِ وَ ذُؤَابَةِ الْعَلْيَاءِ وَ سُرَّةِ الْبَطْحَاءِ وَ مَصَابِيحِ الظُّلْمَةِ وَ يَنَابِيعِ الْحِكْمَةِ و منها طَبِيبٌ دَوَّارٌ بِطِبِّهِ قَدْ أَحْكَمَ مَرَاهِمَهُ وَ أَحْمَى مَوَاسِمَهُ يَضَعُ مِنْ ذَلِكَ حَيْثُ الْحَاجَةُ إِلَيْهِ مِنْ قُلُوبٍ عُمْيٍ وَ آذَانٍ صُمٍّ وَ أَلْسِنَةٍ بُكْمٍ مُتَتَبِّعٌ بِدَوَائِهِ مَوَاضِعَ الْغَفْلَةِ وَ مَوَاطِنَ الْحَيْرَةِ فتنه بنی امیه لَمْ يَسْتَضِيئُوا بِأَضْوَاءِ الْحِكْمَةِ وَ لَمْ يَقْدَحُوا بِزِنَادِ الْعُلُومِ الثَّاقِبَةِ فَهُمْ فِي ذَلِكَ كَالْأَنْعَامِ السَّائِمَةِ وَ الصُّخُورِ الْقَاسِيَةِ قَدِ انْجَابَتِ السَّرَائِرُ لِأَهْلِ الْبَصَائِرِ وَ وَضَحَتْ مَحَجَّةُ الْحَقِّ لِخَابِطِهَا وَ أَسْفَرَتِ السَّاعَةُ عَنْ وَجْهِهَا وَ ظَهَرَتِ الْعَلَامَةُ لِمُتَوَسِّمِهَا مَا لِي أَرَاكُمْ أَشْبَاحاً بِلَا أَرْوَاح وَ أَرْوَاحاً بِلَا أَشْبَاح وَ نُسَّاكاً بِلَا صَلَاح وَ تُجَّاراً بِلَا أَرْبَاحٍ وَ أَيْقَاظاً نُوَّماً وَ شُهُوداً غُيَّباً وَ نَاظِرَةً عَمْيَاءَ وَ سَامِعَةً صَمَّاءَ وَ نَاطِقَةً بَكْمَاءَ رَايَةُ ضَلَالَةٍ قَدْ قَامَتْ عَلَى قُطْبِهَا وَ تَفَرَّقَتْ بِشُعَبِهَا تَكِيلُكُمْ بِصَاعِهَا وَ تَخْبِطُكُمْ بِبَاعِهَا قَائِدُهَا خَارِجٌ مِنَ الْمِلَّةِ قَائِمٌ عَلَى الضَّلَّةِ فَلَا يَبْقَى يَوْمَئِذٍ مِنْكُمْ إِلَّا ثُفَالَةٌ كَثُفَالَةِ الْقِدْرِ أَوْ نُفَاضَةٌ كَنُفَاضَةِ الْعِكْمِ تَعْرُكُكُمْ عَرْكَ الْأَدِيمِ وَ تَدُوسُكُمْ دَوْسَ الْحَصِيدِ وَ تَسْتَخْلِصُ الْمُؤْمِنَ مِنْ بَيْنِكُمُ اسْتِخْلَاصَ الطَّيْرِ الْحَبَّةَ الْبَطِينَةَ مِنْ بَيْنِ هَزِيلِ الْحَبِّ أَيْنَ تَذْهَبُ بِكُمُ الْمَذَاهِبُ وَ تَتِيهُ بِكُمُ الْغَيَاهِبُ وَ تَخْدَعُكُم‏ الْكَوَادِبُ وَ مِنْ أَيْنَ تُؤْتَوْنَ وَ أَنَّى تُؤْفَكُونَ فَلِكُلِّ أَجَلٍ كِتابٌ وَ لِكُلِّ غَيْبَةٍ إِيَابٌ فَاسْتَمِعُوا مِنْ رَبَّانِيكُمْ وَ أَحْضِرُوهُ قُلُوبَكُمْ وَ اسْتَيْقِظُوا إِنْ هَتَفَ بِكُمْ وَ لْيَصْدُقْ رَائِدٌ أَهْلَهُ وَ لْيَجْمَعْ شَمْلَهُ وَ لْيُحْضِرْ ذِهْنَهُ فَلَقَدْ فَلَقَ لَكُمُ الْأَمْرَ فَلْقَ الْخَرَزَةِ وَ قَرَفَهُ قَرْفَ الصَّمْغَةِ فَعِنْدَ ذَلِكَ أَخَذَ الْبَاطِلُ مَآخِذَهُ وَ رَكِبَ الْجَهْلُ مَرَاكِبَهُ وَ عَظُمَتِ الطَّاغِيَةُ وَ قَلَّتِ الدَّاعِيَةُ وَ صَالَ الدَّهْرُ صِيَالَ السَّبُع الْعَقُورِ وَ هَدَرَ فَنِيقُ الْبَاطِلِ بَعْدَ كُظُومٍ وَ تَوَاخَى النَّاسُ عَلَى الْفُجُورِ وَ تَهَاجَرُوا عَلَى الدِّينِ وَ تَحَابُّوا عَلَى الْكَذِبِ وَ تَبَاغَضُوا عَلَى الصِّدْقِ فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ كَانَ الْوَلَدُ غَيْظاً وَ الْمَطَرُ قَيْظاً وَ تَفِيضُ اللِّئَامُ فَيْضاً وَ تَغِيضُ الْكِرَامُ غَيْضاً وَ كَانَ أَهْلُ ذَلِكَ الزَّمَانِ ذِئَاباً وَ سَلَاطِينُهُ سِبَاعاً وَ أَوْسَاطُهُ أُكَّالًا وَ فُقَرَاؤُهُ أَمْوَاتاً وَ غَارَ الصِّدْقُ وَ فَاضَ الْكَذِبُ وَ اسْتُعْمِلَتِ الْمَوَدَّةُ بِاللِّسَانِ وَ تَشَاجَرَ النَّاسُ بِالْقُلُوبِ وَ صَارَ الْفُسُوقُ نَسَباً وَ الْعَفَافُ عَجَباً وَ لُبِسَ الْإِسْلَامُ لُبْسَ الْفَرْوِ مَقْلُوباً

    اللہ کی طرف وسیلہ ڈھونڈنے والوں کیلئے بہترین وسیلہ اللہ اور اس کے رسولؐ پر ایمان لانا ہے اور اس کی راہ میں جہاد کرنا کہ وہ اسلام کی سر بلند چوٹی ہے اور کلمہ توحید کہ وہ فطرت (کی آواز) ہے اور نماز کی پابندی کہ وہ عین دین ہے اور زکوٰة ادا کرنا کہ وہ فرض و واجب ہے اور ماہ رمضان کے روزے رکھنا کہ وہ عذاب کی سپر ہیں اور خانہ کعبہ کا حج و عمرہ بجا لانا کہ وہ فقر کو دور کرتے اور گناہوں کو دھو دیتے ہیں اور عزیزوں سے حسن سلوک کرنا کہ وہ مال کی فراوانی اور عمر کی درازی کا سبب ہے اور مخفی طور پر خیرات کرنا کہ وہ گناہوں کا کفارہ ہے اور کھلم کھلا خیرات کرنا کہ وہ بری موت سے بچاتا ہے اور لوگوں پر احسانات کرنا کہ وہ ذلّت و رسوائی کے مواقع سے بچاتا ہے۔ اللہ کے ذکر میں بڑھے چلو اس لئے کہ وہ بہترین ذکر ہے اور اس چیز کے خواہشمند بنو کہ جس کا اللہ نے پرہیز گاروں سے وعدہ کیا ہے۔ اس لئے کہ اس کا وعدہ سب وعدوں سے زیادہ سچا ہے۔ نبیؐ کی سیرت کی پیروی کرو کہ وہ بہترین سیرت ہے اور ان کی سنت پر چلو کہ وہ سب طریقوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہے۔ اور قرآن کا علم حاصل کرو کہ وہ بہترین کلام ہے اور اس میں غور و فکر کرو کہ یہ دلوں کی بہار ہے اور اس کے نور سے شفا حاصل کرو کہ سینوں (کے اندر چھپی ہوئی بیماریوں) کیلئے شفا ہے اور اس کی خوبی کے ساتھ تلاوت کرو کہ اس کے واقعات سب واقعات سے زیادہ فائدہ رساں ہیں۔ وہ عالم جو اپنے علم کے مطابق عمل نہیں کرتا اس سرگرداں جاہل کے مانند ہے جو جہالت کی سر مستیوں سے ہوش میں نہیں آتا، بلکہ اس پر (اللہ کی ) حجت زیادہ ہے اور حسرت و افسوس اس کیلئے لازم و ضروری ہے اور اللہ کے نزدیک وہ زیادہ قابل ملامت ہے۔

  109. خطبہ 109- دنیا کی بے ثباتی کے متعلق فرمایا

    109

    كُلُّ شَيْ‏ءٍ خَاشِعٌ لَهُ وَ كُلُّ شَيْ‏ءٍ قَائِمٌ بِهِ غِنَى كُلِّ فَقِيرٍ وَ عِزُّ كُلِ‏ ذَلِيلٍ وَ قُوَّةُ كُلِّ ضَعِيفٍ وَ مَفْزَعُ كُلِّ مَلْهُوفٍ مَنْ تَكَلَّمَ سَمِعَ نُطْقَهُ وَ مَنْ سَكَتَ عَلِمَ سِرَّهُ وَ مَنْ عَاشَ فَعَلَيْهِ رِزْقُهُ وَ مَنْ مَاتَ فَإِلَيْهِ مُنْقَلَبُهُ لَمْ تَرَكَ الْعُيُونُ فَتُخْبِرَ عَنْكَ بَلْ كُنْتَ قَبْلَ الْوَاصِفِينَ مِنْ خَلْقِكَ لَمْ تَخْلُقِ الْخَلْقَ لِوَحْشَةٍ وَ لَا اسْتَعْمَلْتَهُمْ لِمَنْفَعَةٍ وَ لَا يَسْبِقُكَ مَنْ طَلَبْتَ وَ لَا يُفْلِتُكَ مَنْ أَخَذْتَ وَ لَا يَنْقُصُ سُلْطَانَكَ مَنْ عَصَاكَ وَ لَا يَزِيدُ فِي مُلْكِكَ مَنْ أَطَاعَكَ وَ لَا يَرُدُّ أَمْرَكَ مَنْ سَخِطَ قَضَاءَكَ وَ لَا يَسْتَغْنِي عَنْكَ مَنْ تَوَلَّى عَنْ أَمْرِكَ كُلُّ سِرٍّ عِنْدَكَ عَلَانِيَةٌ وَ كُلُّ غَيْبٍ عِنْدَكَ شَهَادَةٌ أَنْتَ الْأَبَدُ فَلَا أَمَدَ لَكَ وَ أَنْتَ الْمُنْتَهَى فَلَا مَحِيصَ عَنْكَ وَ أَنْتَ الْمَوْعِدُ فَلَا مَنْجَى مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ بِيَدِكَ نَاصِيَةُ كُلِّ دَابَّةٍ وَ إِلَيْكَ مَصِيرُ كُلِّ نَسَمَةٍ سُبْحَانَكَ مَا أَعْظَمَ شَأْنَكَ سُبْحَانَكَ مَا أَعْظَمَ مَا نَرَى مِنْ خَلْقِكَ وَ مَا أَصْغَرَ كُلَّ عَظِيمَهُ فِي جَنْبِ قُدْرَتِكَ وَ مَا أَهْوَلَ مَا نَرَى مِنْ مَلَكُوتِكَ وَ مَا أَحْقَرَ ذَلِكَ فِيمَا غَابَ عَنَّا مِنْ سُلْطَانِكَ وَ مَا أَسْبَغَ نِعَمَكَ فِي الدُّنْيَا وَ مَا أَصْغَرَهَا فِي نِعَمِ الْآخِرَةِ منها في الملائكة الكرام مِنْ مَلَائِكَةٍ أَسْكَنْتَهُمْ سَمَاوَاتِكَ وَ رَفَعْتَهُمْ عَنْ أَرْضِكَ هُمْ أَعْلَمُ خَلْقِكَ بِكَ وَ أَخْوَفُهُمْ لَكَ وَ أَقْرَبُهُمْ مِنْكَ لَمْ يَسْكُنُوا الْأَصْلَابَ وَ لَمْ يُضَمَّنُوا الْأَرْحَامَ وَ لَمْ يُخْلَقُوا مِنْ مَاءٍ مَهِينٍ وَ لَمْ يَتَشَعَّبْهُمْ رَيْبُ الْمَنُونِ ‏وَ إِنَّهُمْ عَلَى مَكَانِهِمْ مِنْكَ وَ مَنْزِلَتِهِمْ عِنْدَكَ وَ اسْتِجْمَاع أَهْوَائِهِمْ فِيكَ وَ كَثْرَةِ طَاعَتِهِمْ لَكَ وَ قِلَّةِ غَفْلَتِهِمْ عَنْ أَمْرِكَ لَوْ عَايَنُوا كُنْهَ مَا خَفِيَ عَلَيْهِمْ مِنْكَ لَحَقَّرُوا أَعْمَالَهُمْ وَ لَزَرَوْا عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَ لَعَرَفُوا أَنَّهُمْ لَمْ يَعْبُدُوكَ حَقَّ عِبَادَتِكَ وَ لَمْ يُطِيعُوكَ حَقَّ طَاعَتِكَ عصيان الخلق سُبْحَانَكَ خَالِقاً وَ مَعْبُوداً بِحُسْنِ بَلَائِكَ عِنْدَ خَلْقِكَ خَلَقْتَ دَاراً وَ جَعَلْتَ فِيهَا مَأْدُبَةً مَشْرَباً وَ مَطْعَماً وَ أَزْوَاجاً وَ خَدَماً وَ قُصُوراً وَ أَنْهَاراً وَ زُرُوعاً وَ ثِمَاراً ثُمَّ أَرْسَلْتَ دَاعِياً يَدْعُو إِلَيْهَا فَلَا الدَّاعِيَ أَجَابُوا وَ لَا فِيمَا رَغَّبْتَ رَغِبُوا وَ لَا إِلَى مَا شَوَّقْتَ إِلَيْهِ اشْتَاقُوا أَقْبَلُوا عَلَى جِيفَةٍ قَدِ افْتَضَحُوا بِأَكْلِهَا وَ اصْطَلَحُوا عَلَى حُبِّهَا وَ مَنْ عَشِقَ شَيْئاً أَعْشَى بَصَرَهُ وَ أَمْرَضَ قَلْبَهُ فَهُوَ يَنْظُرُ بِعَيْنٍ غَيْرِ صَحِيحَةٍ وَ يَسْمَعُ بِأُذُنٍ غَيْرِ سَمِيعَةٍ قَدْ خَرَقَتِ الشَّهَوَاتُ عَقْلَهُ وَ أَمَاتَتِ الدُّنْيَا قَلْبَهُ وَ وَلَّهِتْ عَلَيْهَا نَفْسَهُ فَهُوَ عَبْدٌ لَهَا وَ لِمَنْ فِي يَدَيْهِ شَيْ‏ءٌ مِنْهَا حَيْثُمَا زَالَتْ زَالَ إِلَيْهَا وَ حَيْثُمَا أَقْبَلَتْ أَقْبَلَ عَلَيْهَا لَا يَنْزَجِرُ مِنَ اللَّهِ بِزَاجِرٍ وَ لَا يَتَّعِظُ مِنْهُ بِوَاعِظٍ وَ هُوَ يَرَى الْمَأْخُوذِينَ عَلَى الْغِرَّةِ حَيْثُ لَا إِقَالَةَ وَ لَا رَجْعَةَ حول الموت كَيْفَ نَزَلَ بِهِمْ مَا كَانُوا يَجْهَلُونَ وَ جَاءَهُمْ مِنْ فِرَاقِ الدُّنْيَا مَا كَانُوا يَأْمَنُونَ وَ قَدِمُوا مِنَ الْآخِرَةِ عَلَى مَا كَانُوا يُوعَدُونَ فَغَيْرُ مَوْصُوفٍ مَا نَزَلَ بِهِمْ اجْتَمَعَتْ عَلَيْهِمْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ وَ حَسْرَةُ الْفَوْتِ فَفَتَرَتْ لَهَا أَطْرَافُهُمْ وَ تَغَيَّرَتْ لَهَا أَلْوَانُهُمْ ثُمَّ ازْدَادَ الْمَوْتُ فِيهِمْ وُلُوجاً فَحِيلَ بَيْنَ أَحَدِهِمْ وَ بَيْنَ مَنْطِقِهِ وَ إِنَّهُ لَبَيْنَ أَهْلِهِ يَنْظُرُ بِبَصَرِهِ وَ يَسْمَعُ بِأُذُنِهِ عَلَى صِحَّةٍ مِنْ عَقْلِهِ وَ بَقَاءٍ مِنْ لُبِّهِ يُفَكِّرُ فِيمَ أَفْنَى عُمْرَهُ وَ فِيمَ أَذْهَبَ دَهْرَهُ وَ يَتَذَكَّرُ أَمْوَالًا جَمَعَهَا أَغْمَضَ فِي مَطَالِبِهَا وَ أَخَذَهَا مِنْ مُصَرَّحَاتِهَا وَ مُشْتَبِهَاتِهَا قَدْ لَزِمَتْهُ تَبِعَاتُ جَمْعِهَا وَ أَشْرَفَ عَلَى فِرَاقِهَا تَبْقَى لِمَنْ وَرَاءَهُ يَنْعَمُونَ فِيهَا وَ يَتَمَتَّعُونَ بِهَا فَيَكُونَ الْمَهْنَأُ لِغَيْرِهِ وَ الْعِبْ‏ءُ عَلَى ظَهْرِهِ وَ الْمَرْءُ قَدْ غَلِقَتْ رُهُونُهُ بِهَا فَهُوَ يَعَضُّ يَدَهُ نَدَامَةً عَلَى مَا أَصْحَرَ لَهُ عِنْدَ الْمَوْتِ مِنْ أَمْرِهِ وَ يَزْهَدُ فِيمَا كَانَ يَرْغَبُ فِيهِ أَيَّامَ عُمْرِهِ وَ يَتَمَنَّى أَنَّ الَّذِي كَانَ يَغْبِطُهُ بِهَا وَ يَحْسُدُهُ عَلَيْهَا قَدْ حَازَهَا دُونَهُ فَلَمْ يَزَلِ الْمَوْتُ يُبَالِغُ فِي جَسَدِهِ حَتَّى خَالَطَ لِسَانُهُ سَمْعَهُ فَصَارَ بَيْنَ أَهْلِهِ لَا يَنْطِقُ بِلِسَانِهِ وَ لَا يَسْمَعُ بِسَمْعِهِ يُرَدِّدُ طَرْفَهُ بِالنَّظَرِ فِي وُجُوهِهِمْ يَرَى حَرَكَاتِ أَلْسِنَتِهِمْ وَ لَا يَسْمَعُ رَجْعَ كَلَامِهِمْ ثُمَّ ازْدَادَ الْمَوْتُ الْتِيَاطاً بِهِ فَقَبَضَ بَصَرَهُ كَمَا قَبَضَ سَمْعَهُ وَ خَرَجَتِ الرُّوحُ مِنْ جَسَدِهِ فَصَارَ جِيفَةً بَيْنَ أَهْلِهِ قَدْ أَوْحَشُوا مِنْ جَانِبِهِ وَ تَبَاعَدُوا مِنْ قُرْبِهِ لَا يُسْعِدُ بَاكِياً وَ لَا يُجِيبُ دَاعِياً ثُمَّ حَمَلُوهُ إِلَى مَحَطٍّ فِي الْأَرْضِ فَأَسْلَمُوهُ فِيهِ إِلَى عَمَلِهِ وَ انْقَطَعُوا عَنْ زَوْرَتِهِ القيامة ‏حَتَّى إِذَا بَلَغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ وَ الْأَمْرُ مَقَادِيرَهُ وَ أُلْحِقَ آخِرُ الْخَلْقِ بِأَوَّلِهِ وَ جَاءَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ مَا يُرِيدُهُ مِنْ تَجْدِيدِ خَلْقِهِ أَمَادَ السَّمَاءَ وَ فَطَرَهَا وَ أَرَجَّ الْأَرْضَ وَ أَرْجَفَهَا وَ قَلَعَ جِبَالَهَا وَ نَسَفَهَا وَ دَكَّ بَعْضُهَا بَعْضاً مِنْ هَيْبَةِ جَلَالَتِهِ وَ مَخُوفِ سَطْوَتِهِ وَ أَخْرَجَ مَنْ فِيهَا فَجَدَّدَهُمْ بَعْدَ إِخْلَاقِهِمْ وَ جَمَعَهُمْ بَعْدَ تَفْرِيقِهِمْ ثُمَّ مَيَّزَهُمْ لِمَا يُرِيدُ مِنْ مُسَاءَلَتِهِمْ عَنْ خَفَايَا الْأَعْمَالِ وَ خَبَايَا الْأَفْعَالِ وَ جَعَلَهُمْ فَرِيقَيْنِ أَنْعَمَ عَلَى هَؤُلَاءِ وَ انْتَقَمَ مِنْ هَؤُلَاءِ فَأَمَّا أَهْلُ الطَّاعَةِ فَأَثَابَهُمْ بِجِوَارِهِ وَ خَلَّدَهُمْ فِي دَارِهِ حَيْثُ لَا يَظْعَنُ النُّزَّالُ وَ لَا يَتَغَيَّرُ لَهُمُ الْحَالُ وَ لَا تَنُوبُهُمُ الْأَفْزَاعُ وَ لَا تَنَالُهُمُ الْأَسْقَامُ وَ لَا تَعْرِضُ لَهُمُ الْأَخْطَارُ وَ لَا تُشْخِصُهُمُ الْأَسْفَارُ وَ أَمَّا أَهْلُ الْمَعْصِيَةِ فَأَنْزَلَهُمْ شَرَّ دَارٍ وَ غَلَّ الْأَيْدِيَ إِلَى الْأَعْنَاقِ وَ قَرَنَ النَّوَاصِيَ بِالْأَقْدَامِ وَ أَلْبَسَهُمْ سَرَابِيلَ الْقَطِرَانِ وَ مُقَطَّعَاتِ النِّيرَانِ فِي عَذَابٍ قَدِ اشْتَدَّ حَرُّهُ وَ بَابٍ قَدْ أُطْبِقَ عَلَى أَهْلِهِ فِي نَارٍ لَهَا كَلَبٌ وَ لَجَبٌ وَ لَهَبٌ سَاطِعٌ وَ قَصِيفٌ هَائِلٌ لَا يَظْعَنُ مُقِيمُهَ وَ لَا يُفَادَى أَسِيرُهَا وَ لَا تُفْصَمُ كُبُولُهَا لَا مُدَّةَ لِلدَّارِ فَتَفْنَى وَ لَا أَجَلَ لِلْقَوْمِ فَيُقْضَى منها في ذكر النبي صلى الله عليه واله قَدْ حَقَّرَ الدُّنْيَا وَ صَغَّرَهَا وَ أَهْوَنَ بِهَا وَ هَوَّنَهَا وَ عَلِمَ أَنَّ اللَّهَ زَوَاهَا عَنْهُ اخْتِيَاراً وَ بَسَطَهَا لِغَيْرِهِ احْتِقَاراً فَأَعْرَضَ عَنِ الدُّنْيَا بِقَلْبِهِ وَ أَمَاتَ ذِكْرَهَا عَنْ نَفْسِهِ وَ أَحَبَّ أَنْ تَغِيبَ زِينَتُهَا عَنْ عَيْنِهِ لِكَيْلَا يَتَّخِذَ مِنْهَا رِيَاشاً أَوْ يَرْجُوَ فِيهَا مُقَامًا بَلَّغَ عَنْ رَبِّهِ مُعْذِراً وَ نَصَحَ لِأُمَّتِهِ مُنْذِراً وَ دَعَا إِلَى الْجَنَّةِ مُبَشِّراً وَ خَوَّفَ مِنَ النَّارِ مُحَذِّراً. أهل البيت نَحْنُ شَجَرَةُ النُّبُوَّةِ وَ مَحَطُّ الرِّسَالَةِ وَ مُخْتَلَفُ الْمَلَائِكَةِ وَ مَعَادِنُ الْعِلْمِ وَ يَنَابِيعُ الْحُكْمِ نَاصِرُنَا وَ مُحِبُّنَا يَنْتَظِرُ الرَّحْمَةَ وَ عَدُوُّنَا وَ مُبْغِضُنَا يَنْتَظِرُ السَّطْوَةَ

    میں تمہیں دنیا سے ڈراتا ہوں، اس لئے کہ یہ (بظاہر) شیریں و خوشگوار، تر و تازہ و شاداب ہے، نفسانی خواہشیں اس کے گرد گھیرا ڈالے ہوئے ہیں، وہ اپنی جلد میسر آ جانے والی نعمتوں کی وجہ سے لوگوں کو محبوب ہوتی ہے اور اپنی تھوڑی سی (آرائشوں) سے مشتاق بنا لیتی ہے۔ وہ (جھوٹی) امیدوں سے سجی ہوئی اور دھوکے اور فریب سے بنی سنوری ہوئی ہے۔ نہ اس کی مسرتیں دیرپا ہیں اور نہ اس کی ناگہانی مصیبتوں سے مطمئن رہا جا سکتا ہے۔ وہ دھوکے باز، نقصان رساں، ادلنے بدلنے والی اور فنا ہونے والی ہے، ختم ہونے والی اور مٹ جانے والی ہے، کھا جانے اور ہلاک کر دینے والی ہے۔ جب یہ اپنی طرف مائل ہونے والوں اور خوش ہونے والوں کی انتہائی آرزوؤں تک پہنچ جاتی ہے تو بس وہی ہوتا ہے جو اللہ سبحانہ نے بیان کیا ہے: ’’ (اس دنیاوی زندگی کی مثال ایسی ہے) جیسے وہ پانی جسے ہم نے آسمان سے اتارا تو زمین کا سبزہ اس سے گھل مل گیا اور (اچھی طرح پھولا پھلا) پھر سوکھ کر تنکا تنکا ہو گیا جسے ہوائیں (اِدھر سے اُدھر) اڑائے پھرتی ہیں اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘۔ جو شخص اس دنیا کا عیش و آرام پاتا ہے تو اس کے بعد اس کے آنسو بھی بہتے ہیں اور جو شخص دنیا کی مسرتوں کا رخ دیکھتا ہے وہ مصیبتوں میں دھکیل کر اس کو اپنی بے رخی بھی دکھاتی ہے اور جس شخص پر راحت و آرام کی بارش کے ہلکے ہلکے چھینٹے پڑتے ہیں اس پر مصیبت و بلا کی دھواں دھار بارشیں بھی ہوتی ہیں یہ دنیا ہی کے مناسب ِ حال ہے کہ صبح کو کسی کی دوست بن کر اس کا (دشمن سے) بدلہ چکائے اور شام کو یوں ہو جائے کہ گویا کوئی جان پہچان ہی نہ تھی۔ اگر اس کا ایک جنبہ شیریں و خوشگوار ہے تو دوسرا حصہ تلخ اور بلا انگیز۔ جو شخص بھی دنیا کی تر و تازگی سے اپنی کوئی تمنا پوری کرتا ہے تو وہ اس پر مصیبتوں کی مشقتیں بھی لاد دیتی ہے۔ جسے امن و سلامتی کے پر و بال پر شام ہوتی ہے تو اسے صبح خوف کے پروں پر ہوتی ہے۔ وہ دھوکے باز ہے اور اس کی ہر چیز دھوکا، وہ خود بھی فنا ہو جانے والی ہے اور اس میں رہنے والا بھی فانی ہے۔ اس کے کسی زاد میں سوا زادِ تقویٰ کے بھلائی نہیں ہے۔ جو شخص کم حصہ ليتا ہے وہ اپنے لئے راحت کے سامان بڑھا لیتا ہے اور جو دنیا کو زیادہ سمیٹتا ہے وہ اپنے لئے تباہ کن چیزوں کا اضافہ کر لیتا ہے۔ (حالانکہ) اسے اپنے مال و متاع سے بھی جلد ہی الگ ہونا ہے۔ کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جنہوں نے دنیا پر بھروسا کیا اور اس نے انہیں مصیبتوں میں ڈال دیا اور کتنے ہی اس پر اطمینان کئے بیٹھے تھے جنہیں اس نے پچھاڑ دیا اور کتنے ہی رعب و طنطنہ والے تھے جنہیں حقیر و پست بنا دیا اور کتنے ہی نخوت و غرور والے تھے جنہیں ذلیل کر کے چھوڑا۔ اس کی بادشاہی دست بدست منتقل ہونے والی چیز، اس کا سر چشمہ گدلا، اس کا خوشگوار پانی کھاری، اس کی حلاوتیں ایلوا (کے مانند تلخ) ہیں، اس کے کھانے زہر ہلاہل اور اس کے اسباب و ذرائع کے سلسلے بودے ہیں، زندہ رہنے والا معرض ہلاکت میں ہے اور تندرست کو بیماریوں کا سامنا ہے، اس کی سلطنت چھن جانے والی، اس کا زبردست زیردست بننے والا، مالدار بدبختیوں کا ستایا ہوا اور ہمسایہ لُٹا لُٹایا ہوا ہے۔ کیا تم انہی سابقہ لوگوں کے گھروں میں نہیں بستے جو لمبی عمروں والے، پائیدار نشانیوں والے، بڑی بڑی امیدیں باندھنے والے، زیادہ گنتی و شمار والے اور بڑے لاؤ لشکر والے تھے؟ وہ دنیا کی کس کس طرح پرستش کرتے رہے اور اسے آخرت پر کیسا کیسا ترجیح دیتے رہے۔ پھر بغیر کسی ایسے زاد و راحلہ کے جو انہیں راستہ طے کر کے منزل تک پہنچاتا، چل دئیے۔ کیا تمہیں کبھی یہ خبر پہنچی ہے کہ دنیا نے ان کے بدلہ میں کسی فدیہ کی پیشکش کی ہو؟ یا انہیں کوئی مدد پہنچائی ہو؟ یا اچھی طرح ان کے ساتھ رہی سہی ہو؟ بلکہ اس نے تو ان پر مصیبتوں کے پہاڑ توڑے، آفتوں سے انہیں عاجز و در ماندہ کر دیا اور لوٹ لوٹ کر آنے والی زحمتوں سے انہیں جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور ناک کے بل انہیں خاک پر پچھاڑ دیا اور اپنے کھروں سے کچل ڈالا اور ان کے خلاف زمانہ کے حوادث کا ہاتھ بٹایا۔ تم نے تو دیکھا ہے کہ جو ذرا دنیا کی طرف جھکا اور اسے اختیار کیا اور اس سے لپٹا تو اس نے (اپنے تیور بدل کر ان سے کیسی) اجنبیت اختیار کر لی، یہاں تک کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اس سے جدا ہو کر چل دئیے اور اس نے انہیں بھوک کے سوا کچھ زادِ راہ نہ دیا، اور ایک تنگ جگہ کے سوا کوئی ٹھہرنے کا سامان نہ کیا اور سوا گھپ اندھیرے کے کوئی روشنی نہ دی اور ندامت کے سوا کوئی نتیجہ نہ دیا۔ تو کیا تم اسی دنیا کو ترجیح دیتے ہو؟ یا اسی پر مطمئن ہو گئے ہو؟ یا اسی پر مرے جا رہے ہو؟۔ جو دنیا پر بے اعتماد نہ رہے اور اس میں بے خوف و خطر ہو کر رہے اس کیلئے یہ بہت بُرا گھر ہے۔ جان لو اور حقیقت میں تم جانتے ہی ہو کہ (ایک نہ ایک دن) تمہیں دنیا کو چھوڑنا ہے اور یہاں سے کوچ کرنا ہے ان لوگوں سے عبرت حاصل کرو جو کہا کرتے تھے کہ: ہم سے زیادہ قوت و طاقت میں کون ہے؟ انہیں لاد کر قبروں تک پہنچایا گیا مگر اس طرح نہیں کہ انہیں سوار سمجھا جائے، انہیں قبروں میں اتار دیا گیا مگر وہ مہمان نہیں کہلاتے، پتھروں سے ان کی قبریں چن دی گئیں اور خاک کے کفن ان پر ڈال دیئے گئے اور گلی سڑی ہڈیوں کو ان کا ہمسایہ بنا دیا گیا ہے۔ وہ ایسے ہمسائے ہیں کہ جو پکارنے والے کو جواب نہیں دیتے اور نہ زیادتیوں کو روک سکتے ہیں اور نہ رونے دھونے والوں کی پروا کرتے ہیں۔ اگر بادل (جھوم کر) ان پر برسیں تو خوش نہیں ہوتے اور قحط آئے تو ان پر مایوسی نہیں چھا جاتی۔ وہ ایک جگہ ہیں مگر الگ الگ، وہ آپس میں ہمسائے ہیں مگر دور دور۔ پاس پاس ہیں مگر میل ملاقات نہیں، قریب قریب ہیں مگر ایک دوسرے کے پاس نہیں پھٹکتے۔ وہ بردبار بنے ہوئے بے خبر پڑے ہیں۔ ان کے بغض و عناد ختم ہو گئے اور کینے مٹ گئے۔ نہ ان سے کسی ضرر کا اندیشہ ہے، نہ کسی تکلیف کے دور کرنے کی توقع ہے۔ انہوں نے زمین کے اوپر کا حصہ اندر کے حصہ سے اور کشادگی اور وسعت تنگی سے اور گھر بار پر دیس سے اور روشنی اندھیرے سے بدل لی ہے اور جس طرح ننگے پیر اور ننگے بدن پیدا ہوئے تھے ویسے ہی زمین میں (پیوند خاک) ہو گئے اور اس دنیا سے صرف عمل لے کر ہمیشہ کی زندگی اور سدا رہنے والے گھر کی طرف کوچ کر گئے۔ جیسا کہ اللہ سبحانہ نے فرما یا ہے: ’’جس طرح ہم نے مخلوقات کو پہلی دفعہ پیدا کیا تھا اسی طرح دوبارہ پیدا کریں گے، اس وعدہ کا پورا کرنا ہمارے ذمہ ہے اور ہم اسے ضرور پورا کر کے رہیں گے۔‘‘

  110. خطبہ 110- ملک الموت کے قبضِ رُوح کرنے کے متعلق فرمایا

    110

    إِنَّ أَفْضَلَ مَا تَوَسَّلَ بِهِ الْمُتَوَسِّلُونَ إِلَى اللَّهِ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالَى الْإِيمَانُ بِهِ وَ بِرَسُولِهِ وَ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ فَإِنَّهُ ذِرْوَةُ الْإِسْلَامِ وَ كَلِمَةُ الْإِخْلَاصِ فَإِنَّهَا الْفِطْرَةُ وَ إِقَامُ الصَّلَاةِ فَإِنَّهَا الْمِلَّةُ وَ إِيتَاءُ الزَّكَاةِ فَإِنَّهَا فَرِيضَةٌ وَاجِبَةٌ وَ صَوْمُ شَهْرِ رَمَضَانَ فَإِنَّهُ جُنَّةٌ مِنَ الْعِقَابِ وَ حَجُّ الْبَيْتِ وَ اعْتِمَارُهُ فَإِنَّهُمَا يَنْفِيَانِ الْفَقْرَ وَ يَرْحَضَانِ الذَّنْبَ وَ صِلَةُ الرَّحِمِ فَإِنَّهَا مَثْرَاةٌ فِي الْمَالِ وَ مَنْسَأَةٌ فِي الْأَجَلِ وَ صَدَقَةُ السِّرِّ فَإِنَّهَا تُكَفِّرُ الْخَطِيئَةَ وَ صَدَقَةُ الْعَلَانِيَةِ فَإِنَّهَا تَدْفَعُ مِيتَةَ السُّوءِ وَ صَنَائِعُ الْمَعْرُوفِ فَإِنَّهَا تَقِي مَصَارِعَ الْهَوَانِ فضل القرآن ‏ أَفِيضُوا فِي ذِكْرِ اللَّهِ فَإِنَّهُ أَحْسَنُ الذِّكْرِ وَ ارْغَبُوا فِيمَا وَعَدَ الْمُتَّقِينَ فَإِنَّ وَعْدَهُ أَصْدَقُ الْوَعْدِ وَ اقْتَدُوا بِهَدْيِ نَبِيِّكُمْ فَإِنَّهُ أَفْضَلُ الْهَدْيِ وَ اسْتَنُّوا بِسُنَّتِهِ فَإِنَّهَا أَهْدَى السُّنَنِ وَ تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ أَحْسَنُ الْحَدِيثِ وَ تَفَقَّهُوا فِيهِ فَإِنَّهُ رَبِيعُ الْقُلُوبِ وَ اسْتَشْفُوا بِنُورِهِ فَإِنَّهُ شِفَاءُ الصُّدُورِ وَ أَحْسِنُوا تِلَاوَتَهُ فَإِنَّهُ أَنْفَعُ الْقَصَصِ فَإِنَّ الْعَالِمَ الْعَامِلَ بِغَيْرِ عِلْمِهِ كَالْجَاهِلِ الْحَائِرِ الَّذِي لَا يَسْتَفِيقُ مِنْ جَهْلِهِ بَلِ الْحُجَّةُ عَلَيْهِ أَعْظَمُ وَ الْحَسْرَةُ لَهُ أَلْزَمُ وَ هُوَ عِنْدَ اللَّهِ أَلْوَمُ

    اس میں ملک الموت اور اس کے روح قبض کرنے کا ذکر فرمایا ہے جب (ملک الموت) کسی گھر میں داخل ہوتا ہے تو کبھی تم اس کی آہٹ محسوس کرتے ہو؟ یا جب کسی کی روح قبض کرتا ہے تو کیا تم اسے دیکھتے ہو؟ (حیرت ہے) کہ وہ کس طرح ماں کے پیٹ میں بچے کی روح کو قبض کر لیتا ہے۔ کیا وہ ماں کے جسم کے کسی حصہ سے وہاں تک پہنچتا ہے؟ یا اللہ کے حکم سے روح اس کی آواز پر لبیک کہتی ہوئی بڑھتی ہے؟ یا وہ بچہ کے ساتھ شکم مادر میں ٹھہرا ہوا ہے؟ جو اس جیسی مخلوق کے بارے میں بھی کچھ نہ بیان کر سکے، وہ اپنے اللہ کے متعلق کیا بتا سکتا ہے۔

  111. خطبہ 111- دنیا اور اہل دنیا کے متعلق فرمایا

    111

    أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أُحَذِّرُكُمُ الدُّنْيَا فَإِنَّهَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ حُفَّتْ بِالشَّهَوَاتِ وَ تَحَبَّبَتْ بِالْعَاجِلَةِ وَ رَاقَتْ بِالْقَلِيلِ وَ تَحَلَّتْ بِالْآمَالِ وَ تَزَيَّنَتْ بِالْغُرُورِ لَا تَدُومُ حَبْرَتُهَا وَ لَا تُؤْمَنُ فَجْعَتُهَا غَرَّارَةٌ ضَرَّارَةٌ حَائِلَةٌ زَائِلَةٌ نَافِدَةٌ بَائِدَةٌ أَكَّالَةٌ غَوَّالَةٌ لَا تَعْدُو إِذَا تَنَاهَتْ إِلَى أُمْنِيَّةِ أَهْلِ الرَّغْبَةِ فِيهَا وَ الرِّضَاءِ بِهَا أَنْ تَكُونَ كَمَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى «كَماءٍ أَنْزَلْناهُ مِنَ السَّماءِ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَباتُ الْأَرْضِ فَأَصْبَحَ هَشِيماً تَذْرُوهُ الرِّياحُ وَ كانَ اللَّهُ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ مُقْتَدِراً» لَمْ يَكُنِ امْرُؤٌ مِنْهَا فِي حَبْرَةٍ إِلَّا أَعْقَبَتْهُ بَعْدَهَا عَبْرَةً وَ لَمْ يَلْقَ مِنْ سَرَّائِهَا بَطْناً إِلَّا مَنَحَتْهُ مِنْ‏ضَرَّائِهَا ظَهْراً وَ لَمْ تَطُلَّهُ فِيهَا دِيمَةُ رَخَاءٍ إِلَّا هَتَنَتْ عَلَيْهِ مُزْنَةُ بَلَاءٍ وَ حَرِيٌّ إِذَا أَصْبَحَتْ لَهُ مُنْتَصِرَةً أَنْ تُمْسِيَ لَهُ مُتَنَكِّرَةً وَ إِنْ جَانِبٌ مِنْهَا اعْذَوْذَبَ وَ احْلَوْلَى أَمَرَّ مِنْهَا جَانِبٌ فَأَوْبَى لَا يَنَالُ امْرُؤٌ مِنْ غَضَارَتِهَا رَغَباً إِلَّا أَرْهَقَتْهُ مِنْ نَوَائِبِهَا تَعَباً وَ لَا يُمْسِي مِنْهَا فِي جَنَاحِ أَمْنٍ إِلَّا أَصْبَحَ عَلَى قَوَادِمِ خَوْفٍ غَرَّارَةٌ غُرُورٌ مَا فِيهَا فَانِيَةٌ فَانٍ مَنْ عَلَيْهَا لَا خَيْرَ فِي شَيْ‏ءٍ مِنْ أَزْوَادِهَا إِلَّا التَّقْوَى مَنْ أَقَلَّ مِنْهَا اسْتَكْثَرَ مِمَّا يُؤْمِنُهُ وَ مَنِ اسْتَكْثَرَ مِنْهَا اسْتَكْثَرَ مِمَّا يُوبِقُهُ وَ زَالَ عَمَّا قَلِيلٍ عَنْهُ كَمْ مِنْ وَاثِقٍ بِهَا قَدْ فَجَعَتْهُ وَ ذِي طُمَأْنِينَةٍ إِلَيْهَا قَدْ صَرَعَتْهُ وَ ذِي أُبَّهَةٍ قَدْ جَعَلَتْهُ حَقِيراً وَ ذِي نَخْوَةٍ قَدْ رَدَّتْهُ ذَلِيلًا سُلْطَانُهَا دُوَلٌ وَ عَيْشُهَا رَنِقٌ وَ عَذْبُهَا أُجَاجٌ وَ حُلْوُهَا صَبِرٌ وَ غِذَاؤُهَا سِمَامٌ وَ أَسْبَابُهَا رِمَامٌ حَيُّهَا بِعَرَضِ مَوْتٍ وَ صَحِيحُهَا بِعَرَضِ سُقْمٍ مُلْكُهَا مَسْلُوبٌ وَ عَزِيزُهَا مَغْلُوبٌ وَ مَوْفُورُهَا مَنْكُوبٌ وَ جَارُهَا مَحْرُوبٌ أَ لَسْتُمْ فِي مَسَاكِنِ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ أَطْوَلَ أَعْمَاراً وَ أَبْقَى آثَاراً وَ أَبْعَدَ آمَالًا وَ أَعَدَّ عَدِيداً وَ أَكْثَفَ جُنُوداً تَعَبَّدُوا لِلدُّنْيَا أَيَّ تَعَبُّدٍ وَ آثَرُوهَا أَيَّ إِيْثَارٍ ثُمَّ ظَعَنُوا عَنْهَا بِغَيْرِ زَادٍ مُبَلِّغٍ وَ لَا ظَهْرٍ قَاطِعٍ فَهَلْ بَلَغَكُمْ أَنَّ الدُّنْيَا سَخَتْ لَهُمْ نَفْساً بِفِدْيَةٍ أَوْ أَعَانَتْهُمْ بِمَعُونَةٍ أَوْ أَحْسَنَتْ لَهُمْ صُحْبَةً بَلْ أَرْهَقَتْهُمْ بِالْفَوَادِحِ وَ أَوْهَنَتْهُمْ بِالْقَوَارِعِ وَ ضَعْضَعَتْهُمْ‏ بِالنَّوَائِبِ وَ عَفَّرَتْهُمْ لِلْمَنَاخِرِ وَ وَطِئَتْهُمْ بِالْمَنَاسِمِ وَ أَعَانَتْ عَلَيْهِمْ رَيْبَ الْمَنُونِ فَقَدْ رَأَيْتُمْ تَنَكُّرَهَا لِمَنْ دَانَ لَهَا وَ آثَرَهَا وَ أَخْلَدَ إِلَيْهَا حِينَ ظَعَنُوا عَنْهَا لِفِرَاقِ الْأَبَدِ وَ هَلْ زَوَّدَتْهُمْ إِلَّا السَّغَبَ أَوْ أَحَلَّتْهُمْ إِلَّا الضَّنْكَ أَوْ نَوَّرَتْ لَهُمْ إِلَّا الظُّلْمَةَ أَوْ أَعْقَبَتْهُمْ إِلَّا النَّدَامَةَ أَ فَهَذِهِ تُؤْثِرُونَ أَمْ إِلَيْهَا تَطْمَئِنُّونَ أَمْ عَلَيْهَا تَحْرِصُونَ فَبِئْسَتِ الدَّارُ لِمَنْ لَمْ يَتَّهِمْهَا وَ لَمْ يَكُنْ فِيهَا عَلَى وَجَلٍ مِنْهَا فَاعْلَمُوا- وَ أَنْتُمْ تَعْلَمُونَ- بِأَنَّكُمْ تَارِكُوهَا وَ ظَاعِنُونَ عَنْهَا وَ اتَّعِظُوا فِيهَا بِالَّذِينَ قَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً حُمِلُوا إِلَى قُبُورِهِمْ فَلَا يُدْعَوْنَ رُكْبَاناً وَ أُنْزِلُوا الْأَجْدَاثَ فَلَا يُدْعَوْنَ ضِيفَاناً وَ جُعِلَ لَهُمْ مِنَ الصَّفِيحِ أَجْنَانٌ وَ مِنَ التُّرَابِ أَكْفَانٌ وَ مِنَ الرُّفَاتِ جِيرَانٌ فَهُمْ جِيرَةٌ لَا يُجِيبُونَ دَاعِياً وَ لَا يَمْنَعُونَ ضَيْماً وَ لَا يُبَالُونَ مَنْدَبَةً إِنْ جِيدُوا لَمْ يَفْرَحُوا وَ إِنْ قُحِطُوا لَمْ يَقْنَطُوا جَمِيعٌ وَ هُمْ آحَادٌ وَ جِيرَةٌ وَ هُمْ أَبْعَادٌ مُتَدَانُونَ لَا يَتَزَاوَرُونَ وَ قَرِيبُونَ لَا يَتَقَارَبُونَ حُلَمَاءُ قَدْ ذَهَبَتْ أَضْغَانُهُمْ وَ جُهَلَاءُ قَدْ مَاتَتْ أَحْقَادُهُمْ لَا يُخْشَى فَجْعُهُمْ وَ لَا يُرْجَى دَفْعُهُمْ اسْتَبْدَلُوا بِظَهْرِ الْأَرْضِ بَطْناً وَ بِالسَّعَةِ ضِيقاً وَ بِالْأَهْلِ غُرْبَةً وَ بِالنُّورِ ظُلْمَةً فَجَاءُوهَا كَمَا فَارَقُوهَا حُفَاةً عُرَاةً قَدْ ظَعَنُوا عَنْهَا بِأَعْمَالِهِمْ إِلَى الْحَيَاةِ الدَّائِمَةِ وَ الدَّارِ الْبَاقِيَةِ كَمَا قَالَ سُبْحَانَهُ : «كَما بَدَأْنا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْداً عَلَيْنا إِنَّا كُنَّا فاعِلِين‏».

    میں تمہیں دنیا سے خبردار کئے دیتا ہوں کہ یہ ایسے شخص کی منزل ہے جس کیلئے قرار نہیں اور ایسا گھر ہے جس میں آب و دانہ نہیں ڈھونڈا جا سکتا۔ یہ اپنے باطل سے آراستہ ہے اور اپنی آرائشوں سے دھوکا دیتی ہے۔ یہ ایک ایسا گھر ہے جو اپنے رب کی نظروں میں ذلیل و خوار ہے۔ چنانچہ اس نے حلال کے ساتھ حرام اور بھلائیوں کے ساتھ برائیاں اور زندگی کے ساتھ موت اور شیرینیوں کے ساتھ تلخیاں خلط ملط کر دی ہیں اور اپنے دوستوں کیلئے اسے بے غل و غش نہیں رکھا اور نہ دشمنوں کو دینے میں بخل کیا ہے۔ اس کی بھلائیاں بہت ہی کم ہیں اور برائیاں (جہاں چاہو) موجود۔ اس کی جمع پونجی ختم ہو جانے والی اور اس کا ملک چھن جانے والا اور اس کی آبادیاں ویران ہو جانے والی ہیں۔ بھلا اس گھر میں خیر و خوبی ہی کیا ہو سکتی ہے جو مسمار عمارت کی طرح گر جائے اور اس عمر میں جو زادِ راہ کی طرح ختم ہو جائے اور اس مدت میں جو چلنے پھرنے کی طرح تمام ہو جائے۔ جن چیزوں کی تمہیں طلب و تلاش رہتی ہے ان میں اللہ تعالیٰ کے فرائض کو بھی داخل کرلو اور جو اللہ نے تم سے چاہا ہے اسے پورا کرنے کی توفیق بھی اس سے مانگو۔ موت کا پیغام آنے سے پہلے موت کی پکار اپنے کانوں کو سنا دو۔ اس دنیا میں زاہدوں کے دل روتے ہیں، اگرچہ وہ ہنس رہے ہوں اور ان کا غم و اندوہ حد سے بڑھا ہوتا ہے، اگرچہ ان (کے چہروں) سے مسرت ٹپک رہی ہو اور انہیں اپنے نفسوں سے انتہائی بیر ہوتا ہے، اگرچہ اس رزق کی وجہ سے جو انہیں میسر ہے ان پر رشک کیا جاتا ہو۔ تمہارے دلوں سے موت کی یاد جاتی رہی ہے اور جھوٹی امیدیں (تمہارے اندر) موجود ہیں۔ آخرت سے زیادہ دنیا تم پر چھائی ہوئی ہے اور وہ عقبیٰ سے زیادہ تمہیں اپنی طرف کھینچتی ہے۔ تم دین خدا کے سلسلہ میں ایک دوسرے کے بھائی بھائی ہو، لیکن بد نیتی اور بد باطنی نے تم میں تفرقہ ڈال دیا ہے۔ نہ تم ایک دوسرے کا بوجھ بٹاتے ہو، نہ باہم پند و نصیحت کرتے ہو، نہ ایک دوسرے پر کچھ خرچ کرتے ہو، نہ تمہیں ایک دوسرے کی چاہت ہے۔ تھوڑی سی دنیا پا کر خوش ہونے لگتے ہو اور آخرت کے بیشتر حصہ سے بھی محرومی تمہیں غم زدہ نہیں کرتی۔ ذرا سی دنیا کا تمہارے ہاتھوں سے نکلنا تمہیں بے چین کر دیتا ہے، یہاں تک کہ بے چینی تمہارے چہروں سے ظاہر ہونے لگتی ہے اور کھوئی ہوئی چیز پر تمہاری بے صبریوں سے آشکارا ہو جاتی ہے، گویا یہ دنیا تمہارا (مستقل ) مقام ہے اور دنیا کا ساز و برگ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ تم میں سے کسی کو بھی اپنے کسی بھائی کا ایسا عیب اچھالنے سے کہ جس کے ظاہر ہونے سے ڈرتا ہے صرف یہ امر مانع ہوتا ہے کہ وہ بھی اس کا ویسا ہی عیب کھول کر اس کے سامنے رکھ دے گا۔ تم نے آخرت کو ٹھکرانے اور دنیا کو چاہنے پر سمجھوتہ کر رکھا ہے۔ تم لوگوں کا دین تو یہ رہ گیا ہے کہ جیسے ایک دفعہ زبان سے چاٹ لیا جائے (یعنی صرف زبانی اقرار) اور تم تو اس شخص کی طرح (مطمئن) ہو چکے ہو کہ جو اپنے کام دھندوں سے فارغ ہو گیا ہو اور اپنے مالک کی رضا مندی حاصل کر لی ہو۔

  112. خطبہ 112- زہد و تقویٰ اور زادِ عقبیٰ کی اہمیت کے متعلق

    112

    هَلْ تُحِسُّ بِهِ إِذَا دَخَلَ مَنْزِلًا أَمْ هَلْ تَرَاهُ إِذَا تَوَفَّى أَحَداً بَلْ كَيْفَ يَتَوَفَّى الْجَنِينَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَ يَلِجُ عَلَيْهِ مِنْ بَعْضِ جَوَارِحِهَا أَمْ الرُّوحُ أَجَابَتْهُ بِإِذْنِ رَبِّهَا أَمْ هُوَ سَاكِنٌ مَعَهُ فِي أَحْشَائِهَا كَيْفَ يَصِفُ إِلَهَهُ مَنْ يَعْجِزُ عَنْ صِفَةِ مَخْلُوقٍ مِثْلِهِ

    تمام حمد اس اللہ کیلئے ہے جو حمد کا پیوند نعمتوں سے اور نعمتوں کا سلسلہ شکر سے ملانے والا ہے۔ ہم اس کی نعمتوں پر اسی طرح حمد کرتے ہیں جس طرح اس کی آزمائشوں پر ثنا و شکر بجا لاتے ہیں اور ان نفسوں کے خلاف اس سے مدد مانگتے ہیں کہ جو احکام کے بجا لانے میں سست قدم اور ممنوع چیزوں کی طرف بڑھنے میں تیز گام ہیں۔ اور (ان گناہوں سے) مغفرت چاہتے ہیں کہ جن پر اس کا علم محیط اور نامۂ اعمال حاوی ہے۔ نہ علم کوئی کمی کرنے والا ہے اور نہ نامۂ اعمال کسی چیز کو چھوڑنے والا ہے۔ ہم اس شخص کے مانند اس پر ایمان رکھتے ہیں کہ جس نے غیب کی چیزوں کو (اپنی آنکھوں سے) دیکھ لیا ہو اور وعدہ کی ہوئی چیزوں سے آگاہ ہو چکا ہو۔ ایسا ایمان کہ جس کے خلوص نے شرک کو اور یقین نے شک کو دور پھینک دیا ہو۔ اور ہم گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں جو وحدہٗ لاشریک ہے اور یہ کہ محمد ﷺ اس کے عبد اور رسول ہیں۔ یہ دونوں شہادتیں (اچھی) باتوں کو اونچا اور (نیک ) اعمال کو بلند کرتی ہیں۔ جس ترازو میں انہیں رکھ دیا جائے گا اس کا پلہ ہلکا نہیں ہو گا اور جس میزان سے انہیں الگ کر لیا جائے گا اس کا پلہ بھاری نہیں ہو سکتا۔ اے اللہ کے بندو! میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔ اس لئے کہ یہی تقویٰ زاد راہ ہے اور اسی کو لے کر پلٹنا ہے۔ یہ زاد (منزل تک) پہنچانے والا اور یہ پلٹنا کامیاب پلٹنا ہے۔ اس کی طرف سب سے بہتر سنا دینے والے نے دعوت دی اور بہترین سننے والے نے اسے سن کر محفوظ کر لیا۔ چنانچہ دعوت دینے والے نے سنا دیا اور سننے والا بہرہ اندوز ہو گیا۔ اللہ کے بندو! تقویٰ ہی نے اللہ کے دوستوں کو منہیات سے بچایا ہے اور ان کے دلوں میں خوف پیدا کیا ہے۔ یہاں تک کہ ان کی راتیں جاگتے اور تپتی ہوئی دوپہریں پیاس میں گزر جاتی ہیں اور اس تعب و کلفت کے عوض راحت (دائمی) اور اس پیاس کے بدلہ میں (تسنیم و کوثر سے) سیرابی حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے موت کو قریب سمجھ کر اعمال میں جلدی کی اور امیدوں کو جھٹلا کر اجل کو نگاہ میں رکھا۔ پھر یہ دنیا تو فنا اور مشقت، تغیر اور عبرت کی جگہ ہے: چنانچہ فنا کرنے کی صورت یہ ہے کہ زمانہ اپنی کمان کا چلہ چڑھائے ہوئے ہے جس کے تیر خطا نہیں کرتے اور نہ اس کے زخموں کا کوئی مداوا ہو سکتا ہے، زندہ پر موت کے، تندرست پر بیماری کے اور محفوظ پر ہلاکت کے تیر چلاتا رہتا ہے۔ وہ ایسا کھاؤ ہے کہ سیر نہیں ہوتا اور ایسا پینے والا ہے کہ اس کی پیاس بجھتی ہی نہیں۔ اور رنج و تعب کی صورت یہ ہے کہ انسان مال جمع کرتا ہے لیکن اس میں سے کھانا اسے نصیب نہیں ہوتا، گھر بناتا ہے مگر اس میں رہنے نہیں پاتا اور پھر اللہ کی طرف اس طرح چل دیتا ہے کہ نہ مال ساتھ اٹھا کر لے جا سکتا ہے اور نہ گھر ہی ادھر منتقل کر سکتا ہے۔ اور اس کے تغیّر کی یہ حالت ہے کہ تم ایک ایسے شخص کو دیکھتے ہو جس کی حالت قابل رحم ہوتی ہے اور وہ (دیکھتے ہی دیکھتے)اس قابل ہو جاتا ہے کہ اس پر رشک کھایا جائے اور قابل رشک آدمی کو دیکھتے ہو کہ (چند ہی دنوں میں) اس کی حالت پر ترس آنے لگتا ہے۔ اس کی یہی وجہ تو ہے کہ اس سے نعمت جاتی رہی اور اس پر فقر و افلاس ٹوٹ پڑا۔ اور اس سے عبرت حاصل کرنے کی صورت یہ ہے کہ انسان اپنی امیدوں کی انتہا تک پہنچنے والا ہی ہوتا ہے کہ موت پہنچ کر امیدوں کے سارے بندھن توڑ دیتی ہے۔ اس طرح نہ امیدیں بر آتی ہیں اور نہ امیدیں باندھنے والا ہی باقی چھوڑا جاتا ہے۔ اللہ اکبر! اس دنیا کی مسرت کی فریب کاریاں اور اس کی سیرابی کی تشنہ کامیاں کتنی زیادہ ہیں اور اس کے سایہ میں دھوپ کی شرکت کتنی زیادہ ہے۔ نہ آنے والی (موت) کو پلٹا یا جا سکتا ہے اور نہ جانے والا پلٹ کر آ سکتا ہے۔ سبحان اللہ! زندہ مُردوں سے انہی میں مل جانے کی وجہ سے کتنا قریب ہے اور مُردہ زندوں سے تمام تعلقات کے ٹوٹ جانے کی وجہ سے کس قدر دور ہے۔ بیشک کوئی بدی سے بدتر شے نہیں سوا اس کے عذاب کے اور کوئی اچھائی سے اچھی چیز نہیں سوا اس کے ثواب کے۔ دنیا کی ہر چیز کا سننا اس کے دیکھنے سے عظیم تر ہے، مگر آخرت کی ہر شے کا دیکھنا سننے سے کہیں بڑھا چڑھا ہوا ہے۔ تم اسی سننے سے اس کی اصلی حالت کا جو مشاہدہ میں آئے گی اندازہ اور خبر ہی سن کر اس غیب کی تصدیق کر لو۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ دنیا کی کمی اور آخرت کا اضافہ عقبیٰ کی کمی اور دنیا کے اضافے سے کہیں بہتر ہے۔ بہت سے گھاٹا اٹھانے والے فائدہ میں رہتے ہیں اور بہت سے زیادہ سمیٹ لینے والے نقصان میں رہتے ہیں۔ جن چیزوں کا خدا نے تم کو حکم دیا ہے (اور تمہارے لئے جائز رکھی ہیں) ان کا دامن ان چیزوں سے کہیں وسیع ہے جن سے روکا ہے اور حرام کی ہوئی چیزوں سے حلال چیزیں کہیں زیادہ ہیں۔ لہٰذا زیادہ چیزوں کی وجہ سے کم چیزوں کو چھوڑ دو، اور تنگنائے حرام سے نکل کر حلال کی وسعتوں میں آ جاؤ۔ اس نے تمہارے رزق کا ذمہ لے لیا ہے اور تمہیں اعمال بجا لانے کا حکم دیا گیا ہے، لہٰذا جس چیز کا ذمہ لیا جا چکا ہے اس کی تلاش و طلب، اعمال و فرائض کے بجا لانے سے تمہاری نظروں میں مقدم نہ ہونا چاہیے۔ مگر خدا کی قسم! تمہارا طرز عمل ایسا ہے کہ دیکھنے والے کو شبہ ہونے لگے اور ایسا معلوم ہو کہ رزق کا حاصل کرنا تو تم پر فرض ہے اور جو واقعی تمہارا فریضہ ہے یعنی واجبات کا بجا لانا، وہ تم سے ساقط ہے۔ عمل کی طرف بڑھو اور موت کے اچانک آ جانے سے ڈرو۔ اس لئے کہ عمر کے پلٹ کر آنے کی آس نہیں لگائی جا سکتی، جبکہ رزق کے پلٹنے کی امید ہو سکتی ہے۔ جو رزق ہاتھ نہیں لگا کل اس کی زیادتی کی توقع ہو سکتی ہے اور امید نہیں کہ عمر کا گزرا ہوا ’’کل‘‘ آج پلٹ آئے گا۔ امید تو آنے والے کی ہو سکتی ہے اور جو گزر جائے اس سے تو مایوسی ہی ہے۔ ’’اللہ سے ڈرو، جتنا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور جب موت آئے تو تم کو بہر صورت مسلمان ہونا چاہیے‘‘ ۔

  113. خطبہ 113- طلب باران کے سلسلہ میں فرمایا

    113

    وَ أُحَذِّرُكُمُ الدُّنْيَا فَإِنَّهَا مَنْزِلُ قُلْعَةٍ وَ لَيْسَتْ بِدَارِ نُجْعَةٍ وَ قَدْ تَزَيَّنَتْ بِغُرُورِهَا وَ غَرَّتْ بِزِينَتِهَا دَارٌ هَانَتْ عَلَى رَبِّهَا فَخَلَطَ حَلَالَهَا بِحَرَامِهَا وَ خَيْرَهَا بِشَرِّهَا وَ حَيَاتَهَا بِمَوْتِهَا وَ حُلْوَهَا بِمُرِّهَا لَمْ يُصْفِهَا اللَّهُ تَعَالَى لِأَوْلِيَائِهِ وَ لَمْ يَضَنَّ بِهَا عَلَى أَعْدَائِهِ خَيْرُهَا زَهِيدٌ وَ شَرُّهَا عَتِيدٌ وَ جَمْعُهَا يَنْفَدُ وَ مُلْكُهَا يُسْلَبُ وَ عَامِرُهَا يَخْرَبُ فَمَا خَيْرُ دَارٍ تُنْقَضُ نَقْضَ الْبِنَاءِ وَ عُمْرٍ يَفْنَى فِيهَا فَنَاءَ الزَّادِ وَ مُدَّةٍ تَنْقَطِعُ انْقِطَاعَ السَّيْرِ اجْعَلُوا مَا افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ مِنْ طَلِبَتِكُمْ وَ اسْأَلُوهُ‏ مِنْ أَدَاءِ حَقِّهِ مَا سَأَلَكُمْ وَ أَسْمِعُوا دَعْوَةَ الْمَوْتِ آذَانَكُمْ قَبْلَ أَنْ يُدْعَى بِكُمْ إِنَّ الزَّاهِدِينَ فِي الدُّنْيَا تَبْكِي قُلُوبُهُمْ وَ إِنْ ضَحِكُوا وَ يَشْتَدُّ حُزْنُهُمْ وَ إِنْ فَرِحُوا وَ يَكْثُرُ مَقْتُهُمْ أَنْفُسَهُمْ وَ إِنِ اغْتُبِطُوا بِمَا رُزِقُوا قَدْ غَابَ عَنْ قُلُوبِكُمْ ذِكْرُ الْآجَالِ وَ حَضَرَتْكُمْ كَوَاذِبُ الْآمَالِ فَصَارَتِ الدُّنْيَا أَمْلَكَ بِكُمْ مِنَ الْآخِرَةِ وَ الْعَاجِلَةُ أَذْهَبَ بِكُمْ مِنَ الْآجِلَةِ وَ إِنَّمَا أَنْتُمْ إِخْوَانٌ عَلَى دِينِ اللَّهِ مَا فَرَّقَ بَيْنَكُمْ إِلَّا خُبْثُ السَّرَائِرِ وَ سُوءُ الضَّمَائِرِ فَلَا تَوَازَرُونَ وَ لَا تَنَاصَحُونَ وَ لَا تَبَاذَلُونَ وَ لَا تَوَادُّونَ مَا بَالُكُمْ تَفْرَحُونَ بِالْيَسِيرِ مِنَ الدُّنْيَا تُدْرِكُونَهُ وَ لَا يَحْزُنُكُمُ الْكَثِيرُ مِنَ الْآخِرَةِ تُحْرَمُونَهُ وَ يُقْلِقُكُمُ الْيَسِيرُ مِنَ الدُّنْيَا يَفُوتُكُمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ ذَلِكَ فِي وُجُوهِكُمْ وَ قِلَّةِ صَبْرِكُمْ عَمَّا زُوِيَ مِنْهَا عَنْكُمْ كَأَنَّهَا دَارُ مُقَامِكُمْ وَ كَأَنَّ مَتَاعَهَا بَاقٍ عَلَيْكُمْ وَ مَا يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ أَنْ يَسْتَقْبِلَ أَخَاهُ بِمَا يَخَافُ مِنْ عَيْبِهِ إِلَّا مَخَافَةُ أَنْ يَسْتَقْبِلَهُ بِمِثْلِهِ قَدْ تَصَافَيْتُمْ عَلَى رَفْضِ الْآجِل وَ حُبِّ الْعَاجِلِ ِ وَ صَارَ دِينُ أَحَدِكُمْ لُعْقَةً عَلَى لِسَانِهِ صَنِيعُ مَنْ قَدْ فَرَغَ مِنْ عَمَلِهِ وَ أَحْرَزَ رِضَى سَيِّدِهِ

    طلبِ باراں کیلئے آپؑ کے دُعائیہ کلمات بار الٰہا! (خشک سالی سے) ہمارے پہاڑوں کا سبزہ بالکل سوکھ گیا ہے اور زمین پر خاک اُڑ رہی ہے، ہمارے چوپائے پیاسے ہیں اور اپنے چوپالوں میں بوکھلائے ہوئے پھرتے ہیں اور اس طرح چلّا رہے ہیں جس طرح رونے والیاں اپنے بچوں پر بین کرتی ہیں اور اپنی چراگاہوں کے پھیرے کرنے اور تالابوں کی طرف بصد شوق بڑھنے سے عاجز آ گئے ہیں۔ پروردگارا! ان چیخنے والی بکریوں اور ان شوق بھرے لہجے میں پکارنے والے اونٹوں پر رحم کر۔ خدایا! تو راستوں میں ان کی پریشانی اور گھروں میں ان کی چیخ و پکار پر ترس کھا۔ بار خدایا! جب کہ قحط سالی کے لاغر اور نڈھال اونٹ ہماری طرف پلٹ پڑے ہیں اور بظاہر برسنے والی گھٹائیں آ آ کے بِن برسے گزر گئیں تو ہم تیری طرف نکل پڑے ہیں۔ تو ہی دکھ درد کے ماروں کی آس ہے اور تو ہی التجا کرنے والوں کا سہارا ہے۔ جب کہ لوگ بے آس ہو گئے اور بادلوں کا اٹھنا بند ہو گیا اور مویشی بے جان ہو گئے تو ہم تجھ سے دُعا کرتے ہیں کہ ہمارے اعمال کی وجہ سے ہماری گرفت نہ کر اور ہمارے گناہوں کے سبب سے ہمیں (اپنے عذاب میں) نہ دھر لے۔ اے اللہ! تو دھواں دھار بارشوں والے ابر اور چھاجوں پانی برسانے والی برکھا رُت اور نظروں میں کھب جانے والے ہریاول سے اپنے دامانِ رحمت کو ہم پر پھیلا دے۔ وہ موسلا دھار اور لگاتار اس طرح برسیں کہ ان سے مَری ہوئی چیزوں کو تو زندہ کر دے اور گزری ہوئی بہاروں کو پلٹا دے۔ خدایا! ایسی سیرابی ہو کہ جو (مردہ زمینوں کو) زندہ کرنے والی، سیراب بنانے والی اور بھرپور برسنے والی اور سب جگہ پھیل جانے والی اور پاکیزہ و با برکت اور خوشگوار و شاداب ہو، جس سے نباتات پھلنے پھولنے لگیں، شاخیں بار آور اور پتے ہرے بھرے ہو جائیں اور جس سے تو اپنے عاجز و زمین گیر بندوں کو سہارا دے کر اوپر اٹھائے اور اپنے مردہ شہروں کو زندگی بخش دے۔ اے اللہ! ایسی سیرابی کہ جس سے ہمارے ٹیلے سبزہ پوش ہو جائیں اور ندی نالے بہہ نکلیں اور آس پاس کے اطراف سر سبز و شاداب ہو جائیں اور پھل نکل آئیں اور چوپائے جی اٹھیں اور دور کی زمینیں بھی تر بتر ہو جائیں اور کھلے میدان بھی اس سے مدد پا سکیں۔ اپنی پھیلنے والی برکتوں اور بڑی بڑی بخششوں سے جو تیری تباہ حال مخلوق اور بغیر چرواہے کے کھلے پھرنے والے حیوانوں پر ہیں۔ ہم پر ایسی بارش ہو جو پانی سے شرابور کر دینے والی اور موسلا دھار اور لگاتار برسنے والی ہو۔ اس طرح کہ بارشیں بارشوں سے ٹکرائیں اور بوندیں بوندوں کو تیزی سے دھکیلیں (کہ تار بندھ جائے)، اس کی بجلی دھوکہ دینے والی نہ ہو اور نہ اُفق پر چھا جانے والی گھٹا پانی سے خالی ہو اور نہ سفید ابر کے ٹکڑے بکھرے بکھرے سے ہوں اور نہ صرف ہوا کے ٹھنڈے جھونکوں والی بوندا باندی ہو کر رہ جائے، (یوں برسا) کہ قحط کے مارے ہوئے اس کی سر سبزیوں سے خوشحال ہو جائیں اور خشک سالی کی سختیاں جھیلنے والے اس کی برکتوں سے جی اٹھیں اور تو ہی وہ ہے جو لوگوں کے ناامید ہو جانے کے بعد مینہ برساتا ہے اور اپنی رحمت کے دامن پھیلا دیتا ہے اور تو ہی والی و وارث اور (اچھی)صفتوں والا ہے۔ [اس خطبہ کے بعض مشکل الفاظ کی تشریح] سیّد رضیؒ فرماتے ہیں کہ: امیر المومنینؑ کے اس ارشاد: «انْصَاحَتْ جِبَالُنَا» کے معنی یہ ہیں کہ پہاڑوں میں قحط سالی سے شگاف پڑ گئے ہیں۔ ’’ انْصَاحَ الثَّوْبُ‘‘ اس وقت کہا جاتا ہے کہ جب کپڑا پھٹ جائے اور ’’ انْصَاحَ النَّبْتُ، صَاحَ النَّبْتُ اور صَوَّحَ النَّبْتُ‘‘ اس وقت بولا جاتا ہے کہ جب سبزہ خشک ہو جائے اور بالکل سوُکھ جائے۔ اور «وَ هَامَتْ دَوَابُّنَا» کے معنی یہ ہیں کہ ہمارے چوپائے پیاسے ہو گئے ہیں۔ ’’ھیام‘‘ کے معنی پیاس کے ہوتے ہیں۔ اور «حَدَابِیْرُ السِّنِیْنَ» میں ’’حدابیر‘‘ حدبار کی جمع ہے جس کے معنی اس اونٹنی کے ہیں جسے سفروں نے لاغر اور نڈھال کر دیا ہو۔ چنانچہ حضرت علیہ السلام نے قحط زدہ سال کو اسی سفروں کی ماری ہوئی اونٹنی سے تشبیہ دی ہے۔ (عرب کے شاعر) ’’ذوالرّمہ‘‘ نے کہا ہے: ’’یہ لاغر اور کمزور اونٹنیاں ہیں کہ جو یا تو بس ہر سختی و صعوبت کو جھیل کر اپنی جگہ پر بیٹھی رہتی ہیں اور یا یہ کہ ہم انہیں کسی بے آب و گیاہ جنگل کے سفر میں لے جاتے ہیں تو وہاں جاتی ہیں‘‘۔ اور «وَ لَا قَزَعٍ رَّبَابُهَا» میں قزع چھوٹی چھوٹی بکھری ہوئی بدلیوں کو کہتے ہیں۔ اور «وَ لَا شَفَّانٍ ذِهَابُهَا» میں ’’شفان‘‘ کے معنی ٹھنڈی ہواؤں کے ہیں اور ’’الذِّهَابُ‘‘ ہلکی ہلکی بوندا باندی کو کہتے ہیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ٹھنڈی ٹھنڈی ہواؤں والی پھوار۔ اور ’’ذات‘‘ کی لفظ جس کے معنی ’’والی‘‘ ہوتے ہیں اس جگہ حذف فرما دی ہے۔ اس لئے کہ سننے والا اسے خود ہی سمجھ سکتا ہے۔

  114. خطبہ 114- آخرت کی حالت اور حجاج ابن یوسف ثقفی کے مظالم کے متعلق

    114

    الْحَمْدُ لِلَّهِ الْوَاصِلِ الْحَمْدَ بِالنِّعَمِ وَ النِّعَمَ بِالشُّكْرِ نَحْمَدُهُ عَلَى آلَائِهِ كَمَا نَحْمَدُهُ عَلَى بَلَائِهِ وَ نَسْتَعِينُهُ عَلَى هَذِهِ النُّفُوسِ الْبِطَاءِ عَمَا أُمِرَتْ بِهِ السِّرَاعِ إِلَى مَا نُهِيَتْ عَنْهُ وَ نَسْتَغْفِرُهُ مِمَّا أَحَاطَ بِهِ عِلْمُهُ وَ أَحْصَاهُ كِتَابُهُ عِلْمٌ غَيْرُ قَاصِرٍ وَ كِتَابٌ غَيْرُ مُغَادِرٍ وَ نُؤْمِنُ بِهِ إِيمَانَ مَنْ عَايَنَ الْغُيُوبَ وَ وَقَفَ عَلَى الْمَوْعُودِ إِيمَاناً نَفَى إِخْلَاصُهُ الشِّرْكَ وَ يَقِينُهُ الشَّكَّ وَ نَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَ أَنَّ مُحَمَّداً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ عَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ شَهَادَتَيْنِ تُصْعِدَانِ الْقَوْلَ وَ تَرْفَعَانِ الْعَمَلَ لَا يَخِفُّ مِيزَانٌ تُوضَعَانِ فِيهِ وَ لَا يَثْقُلُ مِيزَانٌ تُرْفَعَانِ مِنْهُ يامر الناس بالتقوى أُوصِيكُمْ عِبَادَ اللَّهِ بِتَقْوَى اللَّهِ الَّتِي هِيَ الزَّادُ وَ بِهَا الْمَعَاذُ زَادٌ مُبَلِّغٌ وَ مَعَاذٌ مُنْجِحٌ دَعَا إِلَيْهَا أَسْمَعُ دَاعٍ وَ وَعَاهَا خَيْرُ وَاعٍ فَأَسْمَعَ دَاعِيهَا وَ فَازَ وَاعِيهَا عِبَادَ اللَّهِ إِنَّ تَقْوَى اللَّهِ حَمَتْ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ مَحَارِمَهُ وَ أَلْزَمَتْ قُلُوبَهُمْ مَخَافَتَهُ حَتَّى أَسْهَرَتْ لَيَالِيَهُمْ وَ أَظْمَأَتْ هَوَاجِرَهُمْ فَأَخَذُوا الرَّاحَةَ بِالنَّصَبِ وَ الرِّيَّ بِالظَّمَإِ وَ اسْتَقْرَبُوا الْأَجَلَ فَبَادَرُوا الْعَمَلَ وَ كَذَّبُوا الْأَمَلَ فَلَاحَظُوا الْأَجَلَ ثُمَّ إِنَّ الدُّنْيَا دَارُ فَنَاءٍ وَ عَنَاءٍ وَ غِيَرٍ وَ عِبَرٍ فَمِنَ الْفَنَاءِ أَنَّ الدَّهْرَ مُوَتِّرٌ قَوْسَهُ لَا تُخْطِئُ سِهَامُهُ وَ لَا تُؤْسَى جِرَاحُهُ يَرْمِي الْحَيَّ بِالْمَوْتِ وَ الصَّحِيحَ بِالسَّقَمِ وَ النَّاجِيَ بِالْعَطَبِ آكِلٌ لَا يَشْبَعُ وَ شَارِبٌ لَا يَنْقَعُ وَ مِنَ الْعَنَاءِ أَنَّ الْمَرْءَ يَجْمَعُ مَا لَا يَأْكُلُ وَ يَبْنِي مَا لَا يَسْكُنُ ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى لَا مَالًا حَمَلَ وَ لَا بِنَاءً نَقَلَ وَ مِنْ غِيَرِهَا أَنَّكَ تَرَى الْمَرْحُومَ مَغْبُوطاً وَ الْمَغْبُوطَ مَرْحُوما لَيْسَ ذَلِكَ إِلَّا نَعِيماً زَلَّ وَ بُؤْساً نَزَلَ وَ مِنْ عِبَرِهَا أَنَّ الْمَرْءَ يُشْرِفُ عَلَى أَمَلِهِ فَيَقْتَطِعُهُ حُضُورُ أَجَلِهِ فَلَا أَمَلٌ يُدْرَكُ وَ لَا مُؤَمَّلٌ يُتْرَكُ فَسُبْحَانَ اللَّهِ مَا أَغَرَّ سُرُورَهَا وَ أَظْمَأَ رِيَّهَا وَ أَضْحَى فَيْئَهَا لَا جَاءٍ يُرَدُّ وَ لَا مَاضٍ يَرْتَدُّ فَسُبْحَانَ اللَّهِ مَا أَقْرَبَ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ لِلَحَاقِهِ بِهِ وَ أَبْعَدَ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ لِانْقِطَاعِهِ عَنْهُ إِنَّهُ لَيْسَ شَيْ‏ءٌ بِشَرٍّ مِنَ الشَّرِّ إِلَّا عِقَابُهُ وَ لَيْسَ شَيْ‏ءٌ بِخَيْرٍ مِنَ الْخَيْرِ إِلَّا ثَوَابُهُ وَ كُلُّ شَيْ‏ءٍ مِنَ الدُّنْيَا سَمَاعُهُ أَعْظَمُ مِنْ عِيَانِهِ وَ كُلُّ شَيْ‏ءٍ مِنَ الْآخِرَةِ عِيَانُهُ أَعْظَمُ مِنْ سَمَاعِهِ فَلْيَكْفِكُمْ مِنَ الْعِيَانِ السَّمَاعُ وَ مِنَ الْغَيْبِ الْخَبَرُ وَ اعْلَمُوا أَنَّ مَا نَقَصَ مِنَ الدُّنْيَا وَ زَادَ فِي الْآخِرَةِ خَيْرٌ مِمَّا نَقَصَ مِنَ الْآخِرَةِ وَ زَادَ فِي الدُّنْيَا فَكَمْ مِنْ مَنْقُوصٍ رَابِحٍ وَ مَزِيدٍ خَاسِرٍ إِنَّ الَّذِي أُمِرْتُمْ بِهِ أَوْسَعُ مِنَ الَّذِي نُهِيتُمْ عَنْهُ وَ مَا أُحِلَّ لَكُمْ أَكْثَرُ مِمَّا حُرِّمَ عَلَيْكُمْ فَذَرُوا مَا قَلَّ لِمَا كَثُرَ وَ مَا ضَاقَ لِمَا اتَّسَعَ قَدْ تُكُفِّلَ لَكُمْ بِالرِّزْقِ وَ أُمِرْتُمْ بِالْعَمَلِ فَلَا يَكُونَنَّ الْمَضْمُونُ لَكُمْ طَلَبُهُ أَوْلَى بِكُمْ مِنَ الْمَفْرُوضِ عَلَيْكُمْ عَمَلُهُ مَعَ أَنَّهُ وَ اللَّهِ لَقَدِ اعْتَرَضَ الشَّكُّ وَ دَخِلَ الْيَقِينُ حَتَّى كَأَنَّ الَّذِي ضُمِنَ لَكُمْ قَدْ فُرِضَ عَلَيْكُمْ وَ كَأَنَّ الَّذِي فُرِضَ عَلَيْكُمْ قَدْ وُضِعَ عَنْكُمْ فَبَادِرُوا الْعَمَلَ وَ خَافُوا بَغْتَةَ الْأَجَلِ فَإِنَّهُ لَا يُرْجَى مِنْ رَجْعَةِ الْعُمْرِ مَا يُرْجَى مِنْ رَجْعَةِ الرِّزْقِ مَا فَاتَ الْيَوْمَ مِنَ الرِّزْقِ رُجِيَ غَداً زِيَادَتُهُ وَ مَا فَاتَ أَمْسِ مِنَ الْعُمْرِ لَمْ يُرْجَ الْيَوْمَ رَجْعَتُهُ‏ الرَّجَاءُ مَعَ الْجَائِي وَ الْيَأْسُ مَعَ الْمَاضِي فَ "تَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقاتِهِ وَ لا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَ أَنْتُمْ مُسْلِمُونَ‏".

    اللہ نے آپؐ کو حق کی طرف بلانے والا اور مخلوق کی گواہی دینے والا بنا کر بھیجا۔ چنانچہ آپؐ نے اپنے پروردگار کے پیغاموں کو پہنچایا۔ نہ اس میں کچھ سستی کی، نہ کوتاہی اور اللہ کی راہ میں اس کے دشمنوں سے جہاد کیا، جس میں نہ کمزوری دکھائی، نہ حیلے بہانے کئے۔ وہ پرہیزگاروں کے امام اور ہدایت پانے والوں (کی آنکھوں) کیلئے بصارت ہیں۔ [اسی خطبہ کا ایک جز یہ ہے] جو چیزیں تم سے پردۂ غیب میں لپیٹ دی گئی ہیں اگر تم بھی انہیں جان لیتے جس طرح میں جانتا ہوں تو بلا شبہ تم اپنی بداعمالیوں پر روتے ہوئے اور اپنے نفسوں کا ماتم کرتے ہوئے اور اپنے مال و متاع کو بغیر کسی نگہبان اور بغیر کسی نگہداشت کرنے والے کے یونہی چھوڑ چھاڑ کر کھلے میدانوں میں نکل پڑتے اور ہر شخص کو اپنے ہی نفس کی پڑی ہوتی، کسی اور کی طرف متوجہ ہی نہ ہوتا۔ لیکن جو تمہیں یاد دلایا گیا تھا اسے تم بھول گئے اور جن چیزوں سے تمہیں ڈرایا گیا تھا اس سے تم نڈر ہو گئے۔ اس طرح تمہارے خیالات بھٹک گئے اور تمہارے سارے امور درہم و برہم ہو گئے۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ اللہ میرے اور تمہارے درمیان جدائی ڈال دے اور مجھے ان لوگوں سے ملا دے جو تم سے زیادہ میرے حقدار ہیں۔ خدا کی قسم! وہ ایسے لوگ ہیں جن کے خیالات مبارک اور عقلیں ٹھوس تھیں۔ وہ کھل کر حق بات کہنے والے اور سرکشی و بغاوت کو چھوڑنے والے تھے۔ وہ قدم آگے بڑھا کر اللہ کی راہ پر ہو لئے اور سیدھی راہ پر (بے کھٹکے) دوڑے چلے گئے۔ چنانچہ انہوں نے ہمیشہ رہنے والی آخرت اور عمدہ و پاکیزہ نعمتوں کو پا لیا۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تم پر بنی ثقیف کا ایک لڑکا تسلط پا لے گا وہ دراز قد ہو گا اور بل کھا کر چلے گا۔ وہ تمہارے تمام سبزہ زاروں کو چر جائے گا اور تمہاری چربی (تک) پگھلا دے گا۔ ہاں اے ابو وذحہ کچھ اور!۔ سیّد رضیؒ فرماتے ہیں:۔ کہ ’’وذحہ‘‘ کے معنی ’’خنفساء‘‘ کے ہیں۔ آپؑ نے اپنے اس ارشاد سے حجاج (ابن یوسف ثقفی) کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اور اس کا خنفساء سے متعلق ایک واقعہ ہے [۱] جس کے بیان کرنے کا یہ محل نہیں ہے۔

  115. خطبہ 115- خدا کی راہ میں جان و مال سے جہاد کرنے کے متعلق فرمایا

    115

    اللَّهُمَّ قَدِ انْصَاحَتْ جِبَالُنَا وَ اغْبَرَّتْ أَرْضُنَا وَ هَامَتْ دَوَابُّنَا وَ تَحَيَّرَتْ فِي مَرَابِضِهَا وَ عَجَّتْ عَجِيجَ الثَّكَالَى عَلَى أَوْلَادِهَا وَ مَلَّتِ التَّرَدُّدَ فِي مَرَاتِعِهَا وَ الْحَنِينَ إِلَى مَوَارِدِهَا اللَّهُمَّ فَارْحَمْ أَنِينَ الْآنَّةِ وَ حَنِينَ الْحَانَّةِ اللَّهُمَّ فَارْحَمْ حَيْرَتَهَا فِي مَذَاهِبِهَا وَ أَنِينَهَا فِي مَوَالِجِهَا اللَّهُمَّ خَرَجْنَا إِلَيْكَ حِينَ اعْتَكَرَتْ عَلَيْنَا حَدَابِيرُ السِّنِينَ أَخْلَفَتْنَا مَخَايِلُ الْجَوْدِ وَ فَكُنْتَ الرَّجَاءَ لِلْمُبْتَئِسِ وَ الْبَلَاغَ لِلْمُلْتَمِسِ نَدْعُوكَ حِينَ قَنِطَ الْأَنَامُ وَ مُنِعَ الْغَمَامُ وَ هَلَكَ السَّوَامُ أَنْ لَا تُؤَاخِذَنَا بِأَعْمَالِنَا وَ لَا تَأْخُذَنَا بِذُنُوبِنَا وَ انْشُرْ عَلَيْنَا رَحْمَتَكَ بِالسَّحَابِ الْمُنْبَعِقِ وَ الرَّبِيعِ الْمُغْدِقِ وَ النَّبَاتِ الْمُونِقِ سَحّاً وَابِلًا تُحْيِي بِهِ مَا قَدْ مَاتَ وَ تَرُدُّ بِهِ مَا قَدْ فَاتَ اللَّهُمَّ سُقْيًا مِنْكَ مُحْيِيَةً مُرْوِيَةً تَامَّةً عَامَّةً طَيِّبَةً مُبَارَكَةً هَنِيئَةً [مَريِئَةً] مَرِيعَةً زَاكِياً نَبْتُهَا ثَامِراً فَرْعُهَا نَاضِراً وَرَقُهَ تَنْعَشُ بِهَا الضَّعِيفَ مِنْ عِبَادِكَ وَ تُحْيِي بِهَا الْمَيِّتَ مِنْ بِلَادِكَ اللَّهُمَّ سُقْيَا مِنْكَ تُعْشِبُ بِهَا نِجَادُنَا وَ تَجْرِي بِهَا وِهَادُنَا وَ يُخْصِبُ بِهَا جَنَابُنَا وَ تُقْبِلُ بِهَا ثِمَارُنَا وَ تَعِيشُ بِهَا مَوَاشِينَا وَ تَنْدَى بِهَا أَقَاصِينَا وَ تَسْتَعِينُ بِهَا ضَوَاحِينَا مِنْ بَرَكَاتِكَ الْوَاسِعَةِ وَ عَطَايَاكَ الْجَزِيلَةِ عَلَى بَرِيَّتِكَ الْمُرْمِلَةِ وَ وَحْشِكَ الْمُهْمَلَةِ وَ أَنْزِلْ عَلَيْنَا سَمَاءً مُخْضِلَةً مِدْرَاراً هَاطِلَةً يُدَافِعُ الْوَدْقُ مِنْهَا الْوَدْقَ وَ يَحْفِزُ الْقَطْرُ مِنْهَا الْقَطْرَ غَيْرَ خُلَّبٍ بَرْقُهَا وَ لَا جَهَامٍ عَارِضُهَا وَ لَا قَزَعٍ رَبَابُهَ وَ لَا شَفَّانٍ ذِهَابُهَا حَتَّى يُخْصِبَ لِإِمْرَاعِهَا الْمُجْدِبُونَ وَ يَحْيَا بِبَرَكَتِهَا الْمُسْنِتُونَ فَإِنَّكَ تُنْزِلُ الْغَيْثَ مِنْ بَعْدِ مَا قَنَطُوا وَ تَنْشُرُ رَحْمَتَكَ وَ أَنْتَ الْوَلِيُّ الْحَمِيدُ تَفْسيِرُ ما فِي هذِهِ الْخُطْبَةِ مِنَ الغَريبِ قال الشريف الرضي: قولُهُ عَلَيْهِ السَّلامُ: «انْصاحَتْ جِبالُنا» اَىْ تَشَقَّقَتْ مِنَ الْمُحُولِ، يُقالُ: «انْصاحَ الثَّوْبُ» اِذا انْشَقَّ. وَ يُقالُ اَيْضاً: «انْصاحَ النَّبْتُ» وَ «صاحَ وَ صَوَّحَ» اِذا جَفَّ وَيَبِسَ. وَقَوْلُهُ: «وَ هامَتْ دَوابُّنا» اَىْ عَطِشَتْ، وَالْهُيامُ: الْعَطْشُ. وَ قَوْلُهُ: «حَدابيرُ السِّنينَ» جَمْعُ «حِدْبار» وَ هِىَ النّاقَةُ الَّتى اَنْضاها السَّيْرُ، وَ فَشَبَّهَ بِهَا السَّنَةَ التِي فَشا فِيهَا الْجَدْبُ قالَ ذُو الرُمَّةِ: حِدابِيرُ ما تَنْفَكُ إلا مُناخَةً عَلى الْخَسفِ اَو نَرْمي بِها بَلَدا قَفْرا وَ قَوْلُهُ: «وَلا قَزَع رَبابُها» الْقَزَعُ: الْقِطَعُ الصِّغارُ الْمُتَفَرِّقَةُ مِنَ السَّحابِ. وَ قَوْلُهُ: «وَلا شَفّان ذِهابُها» فَاِنَّ تَقْديرَهُ وَلا ذاتِ شَفّان ذِهابُها. وَ الشَفَّان الرَّيحُ الْبارِدَةُ، وَ الذَّهابُ الا مْطارُ اللَّينَةُ، فَحَذَفَ «ذاتَ» لِعِلْمِ السّامِعِ بِهِ.

    جس نے تم کو مال و متاع بخشا ہے اس کی راہ میں تم اسے صرف نہیں کرتے اور نہ اپنی جانوں کو اس کیلئے خطرہ میں ڈالتے ہو جس نے ان کو پیدا کیا ہے۔ تم نے اللہ کی وجہ سے بندوں میں عزت و آبرو پائی، لیکن اس کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کر کے اس کا احترام و اکرام نہیں کرتے۔ جن مکانات میں اگلے لوگ آباد تھے ان میں اب تم مقیم ہوتے ہو اور قریب سے قریب تر بھائی گزر جاتے اور تم رہ جاتے ہو، اس سے عبرت حاصل کرو۔

  116. خطبہ 116- اپنے دوستوں کی حالت اور اپنی اولیت کے متعلق فرمایا

    116

    أَرْسَلَهُ دَاعِياً إِلَى الْحَقِّ وَ شَاهِداً عَلَى الْخَلْقِ فَبَلَّغَ رِسَالَاتِ رَبِّهِ غَيْرَ وَانٍ وَ لَا مُقَصِّرٍ وَ جَاهَدَ فِي اللَّهِ أَعْدَاءَهُ غَيْرَ وَاهِنٍ وَ لا مُعَذِّرٍ، إِمامُ مَنِ اتَّقَى وَ بَصَرُ مَنِ اهْتَدَى . و مِنها وَ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ مِمَّا طُوِيَ عَنْكُمْ غَيْبُهُ إِذاً لَخَرَجْتُمْ إِلَى الصُّعُدَاتِ تَبْكُونَ عَلَى أَعْمَالِكُمْ وَ تَلْتَدِمُونَ عَلَى أَنْفُسِكُمْ وَ لَتَرَكْتُمْ أَمْوَالَكُمْ لَا حَارِسَ لَهَا وَ لَا خَالِفَ عَلَيْهَا وَ لَهَمَّتْ كُلَّ امْرِئٍ مِنْكُمْ نَفْسُهُ لَا يَلْتَفِتُ إِلَى غَيْرِهَا وَ لَكِنَّكُمْ نَسِيتُمْ مَا ذُكِّرْتُمْ وَ أَمِنْتُمْ مَا حُذِّرْتُمْ فَتَاهَ عَنْكُمْ رَأْيُكُمْ و تَشَتَّتَ عَلَيْكُمْ أَمْرُكُمْ وَ لَوَدِدْتُ أَنَّ اللَّهَ فَرَّقَ بَيْنِي وَ بَيْنَكُمْ وَ أَلْحَقَنِي بِمَنْ هُوَ أَحَقُّ بِي مِنْكُمْ قَوْمٌ وَ اللَّهِ مَيَامِينُ الرَّأْيِ مَرَاجِيحُ الْحِلْمِ مَقَاوِيلُ بِالْحَقِّ مَتَارِيكُ لِلْبَغْيِ مَضَوْا قُدُماً عَلَى الطَّرِيقَةِ وَ أَوْجَفُوا عَلَى الْمَحَجَّةِ فَظَفِرُوا بِالْعُقْبَى الدَّائِمَةِ وَ الْكَرَامَةِ الْبَارِدَةِ أَمَا وَ اللَّهِ لَيُسَلَّطَنَّ عَلَيْكُمْ غُلَامُ ثَقِيفٍ الذَّيَّالُ الْمَيَّالُ يَأْكُلُ‏ خَضِرَتَكُمْ وَ يُذِيبُ شَحْمَتَكُمْ إِيهٍ أَبَا وَذَحَةَ قال الشريف الرضي: الْوَذَحةُ الْخنْفَساءُ وَ هذَا الْقَولُ يُومِىُ بِهِ إلَى الْحَجَاجِ، وَ لَهُ مَعَ الْوَذَحِة حَدِيثْ لَيْسَ هذا مَوْضِعَ ذِكْرِهِ.

    تم حق کے قائم کرنے میں (میرے ) ناصرو مدد گار ہو، اور دین میں (ایک دوسرے کے) بھائی بھائی ہو اور سختیوں میں (میری) سپر ہو، اور تمام لوگوں کو چھوڑ کر تم ہی میرے رازدار ہو، تمہاری مدد سے روگردانی کرنے والے پر میں تلوار چلاتا ہوں اور پیش قدمی کرنے والے کی اطاعت کی توقع رکھتا ہوں۔ ایسی خیر خواہی کے ساتھ میری مدد کرو۔ کہ جس میں دھوکا فریب ذرا نہ ہو، اور شک و بدگمانی کا شائبہ تک نہ ہو۔ اس لیے کہ میں ہی لوگوں (کی امامت) کیلئے سب سے زیادہ اولیٰ و مقدم ہوں۔

  117. خطبہ 117- جب اپنے ساتھیوں کو دعوت جہاد دی اور وہ خاموش رہے تو فرمایا

    117

    فَلَا أَمْوَالَ بَذَلْتُمُوهَا لِلَّذِي رَزَقَهَا وَ لَا أَنْفُسَ خَاطَرْتُمْ بِهَا لِلَّذِي خَلَقَهَا تَكْرُمُونَ بِاللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ وَ لَا تُكْرِمُونَ اللَّهَ فِي عِبَادِهِ فَاعْتَبِرُوا بِنُزُولِكُمْ مَنَازِلَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ وَ انْقِطَاعِكُمْ عَنْ أَوْصَلِ إِخْوَانِكُمْ

    امیر المومنین علیہ السلام نے لوگوں کو جمع کیا اور انہیں جہاد پر آمادہ کرنا چاہا تو وہ لوگ دیر تک چپ رہے، تو آپؑ نے فرمایا: [۱] تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ کیا تم گونگے ہو گئے ہو؟ تو ایک گروہ نے کہا کہ اے امیر المومنین علیہ السلام اگر آپؑ چلیں، تو ہم بھی آپؑ کے ہمراہ چلیں گے۔ جس پر حضرتؑ نے فرمایا: تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ تمہیں ہدایت کی توفیق نہ ہو اور نہ سیدھی راہ دیکھنا نصیب ہو! کیا ایسے حالات میں میں ہی نکلوں۔ اس وقت تو تمہارے جواں مردوں اور طاقتوروں میں سے جس شخص کو میں پسند کروں اسے جانا چاہیے، میرے لئے مناسب نہیں کہ میں لشکر، شہر، بیت المال، زمین کے خراج کی فراہمی، مسلمانوں کے مقدمات کا تصفیہ اور مطالبہ کرنے والوں کے حقوق کی دیکھ بھال چھوڑ دوں اور لشکر لئے ہوئے دوسرے لشکر کے پیچھے نکل کھڑا ہوں اور جس طرح خالی ترکش میں بے پیکاں کا تیر ہلتا جلتا ہے جنبش کھاتا رہوں۔ میں چکی کے اندر کا وہ قطب ہوں کہ جس پر وہ گھومتی ہے جب تک میں اپنی جگہ پر ٹھہرا رہوں اور اگر میں نے اپنا مقام چھوڑ دیا تو اس کے گھومنے کا دائرہ متزلزل ہو جائے گا اور اس کا نیچے والا پتھر بھی بے ٹھکانے ہو جائے گا۔ خدا کی قسم! یہ بہت بُرا مشورہ ہے۔ قسم بخدا! اگر دشمن کا مقابلہ کرنے سے مجھے شہادت کی امید نہ ہو جب کہ وہ مقابلہ میرے لئے مقدر ہو چکا ہو تو میں اپنی سواریوں کو(سوار ہونے کیلئے) قریب کر لیتا اور تمہیں چھوڑ چھاڑ کر نکل جاتا اور جب تک جنوبی و شمالی ہوائیں چلتی رہتیں تمہیں کبھی طلب نہ کرتا۔ تمہارے شمار میں زیادہ ہونے سے کیا فائدہ جبکہ تم یک دل نہیں ہو پاتے۔ میں نے تمہیں صحیح راستے پر لگایا ہے کہ جس میں ایسا ہی شخص تباہ و برباد ہو گا جو خود اپنے لئے ہلاکت کا سامان کئے بیٹھا ہو اور جو اس راہ پر جما رہے گا وہ جنت کی طرف اور جو پھسل جائے گا وہ دوزخ کی جانب بڑھے گا۔

  118. خطبہ 118- اہل بیتؑ کی عظمت اور قوانین شریعت کی اہمیت کے متعلق فرمایا

    118

    اَنْتُمُ الْاَنْصَارُ عَلَى الْحَقِّ، وَ الْإِخْوانُ فِي الدِّينِ، وَ الْجُنَنُ يَوْمَ الْبَأْسِ، وَ الْبِطانَةُ دُونَ النَّاسِ، بِكُمْ اَضْرِبُ الْمُدْبِرَ، وَ اَرْجُو طاعَةَ الْمُقْبِلِ، فَاَعِينُونِي بِمُناصَحَةٍ خَلِيَّةٍ مِنَ الْغِشِّ، سَلِيمَةٍ مِنَ الرَّيْبِ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَاوْلَى النَّاسِ بِالنَّاسِ.

    خدا کی قسم! مجھے پیغاموں کے پہنچانے، وعدوں کے پورا کرنے اور آیتوں کی صحیح تاویل بیان کرنے کا خوب علم ہے اور ہم اہل بیتؑ (نبوت) کے پاس علم و معرفت کے دروازے اور شریعت کی روشن راہیں ہیں۔ آگاہ رہو کہ دین کے تمام قوانین کی روح ایک اور اس کی راہیں سیدھی ہیں۔ جو ان پر ہو لیا وہ منزل تک پہنچ گیا اور بہرہ یاب ہوا اور جو ٹھہرا رہا وہ گمراہ ہوا اور (آخر کار) نادم و پشیمان ہوا۔ اس دن کیلئے عمل کرو کہ جس کیلئے ذخیرے فراہم کئے جاتے ہیں اور جس میں نیتوں کو جانچا جائے گا۔ جسے اپنی ہی عقل فائدہ نہ پہنچائے کہ جو اس کے پاس موجود ہے تو (دوسروں کی) عقلیں کہ جو اس سے دور اور اوجھل ہیں فائدہ رسانی سے بہت عاجز و قاصر ہوں گی۔ (دوزخ کی) آگ سے ڈرو کہ جس کی تپش تیز اور گہرائی بہت زیادہ ہے اور (جہاں پہننے کو) لوہے کے زیور اور (پینے کو) پیپ بھرا لہو ہے۔ ہاں! [۱] جس شخص کا ذکرِ خیر لوگوں میں خدا برقرار رکھے وہ اس کیلئے اس مال سے کہیں بہتر ہے جس کا ایسوں کو وارث بنا یا جاتا ہے جو اس کو سراہتے تک نہیں۔

  119. خطبہ 119- تحکیم کے بارے میں آپؑ پر اعتراض کیا گیا تو فرمایا

    119

    مَا بَالُكُمْ أَ مُخْرَسُونَ أَنْتُمْ فَقَالَ قَوْمٌ مِنْهُمْ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنْ سِرْتَ سِرْنَا مَعَكَ فَقَالَ عليه السلام: مَا بَالُكُمْ لَا سُدِّدْتُمْ لِرُشْدٍ وَ لَا هُدِيتُمْ لِقَصْدٍ أَ فِي مِثْلِ هَذَا يَنْبَغِي لِي أَنْ أَخْرُجَ إِنَّمَا يَخْرُجُ فِي مِثْلِ هَذَا رَجُلٌ مِمَّنْ أَرْضَاهُ مِنْ شُجْعَانِكُمْ وَ ذَوِي بَأْسِكُمْ وَ لَا يَنْبَغِي لِي أَنْ أَدَعَ الْجُنْدَ وَ الْمِصْرَ وَ بَيْتَ الْمَالِ وَ جِبَايَةَ الْأَرْضِ وَ الْقَضَاءَ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ وَ النَّظَرَ فِي حُقُوقِ الْمُطَالِبِينَ ثُمَّ أَخْرُجَ فِي كَتِيبَةٍ أَتْبَعُ أُخْرَى أَتَقَلْقَلُ تَقَلْقُلَ الْقِدْحِ فِي الْجَفِيرِ الْفَارِغِ وَ إِنَّمَا أَنَا قُطْبُ الرَّحَى تَدُورُ عَلَيَّ وَ أَنَا بِمَكَانِي فَإِذَا فَارَقْتُهُ اسْتَحَارَ مَدَارُهَا وَ اضْطَرَبَ ثُفَالُهَا هَذَا لَعَمْرُ اللَّهِ- الرَّأْيُ السُّوءُ وَ اللَّهِ لَوْ لَا رَجَائِي الشَّهَادَةَ عِنْدَ لِقَائِي الْعَدُوَّ لَوْ قَدْ حُمَّ لِي لِقَاؤُهُ لَقَرَّبْتُ رِكَابِي ثُمَّ شَخَصْتُ عَنْكُمْ فَلَا أَطْلُبُكُمْ مَا اخْتَلَفَ جَنُوبٌ وَ شَمَالٌ طَعَّانِينَ عَيَّابِينَ حَيَّادِينَ رَوَّاغِينَ إِنَّهُ لَا غَنَاءَ فِي كَثْرَةِ عَدَدِكُمْ مَعَ قِلَّةِ اجْتِمَاعِ قُلُوبِكُمْ لَقَدْ حَمَلْتُكُمْ عَلَى الطَّرِيقِ الْوَاضِحِ الَّتِي لَا يَهْلِكُ عَلَيْهَا إِلَّا هَالِكٌ مَنِ اسْتَقَامَ فَإِلَى الْجَنَّةِ وَ مَنْ زَلَّ فَإِلَى النَّارِ

    حضرتؑ کے اصحاب میں سے ایک شخص اٹھ کر آپؑ کے سامنے آیا اور کہا کہ: یا امیر المومنینؑ! پہلے تو آپؑ نے ہمیں تحکیم سے روکا اور پھر اس کا حکم بھی دے دیا، نہیں معلوم کہ ان دونوں باتوں میں سے کون سی بات زیادہ صحیح ہے۔ (یہ سن کر) حضرتؑ نے اپنے ہاتھ پر ہاتھ مارا اور فرمایا: جس نے عہدِ وفا کو توڑ دیا ہو اس کی یہی پاداش ہوا کرتی ہے۔ خدا کی قسم! جب میں نے تمہیں تحکیم کے مان لینے کا حکم دیا تھا اگر اسی امر ناگوار (جنگ) پر تمہیں ٹھہرائے رکھتا کہ جس میں اللہ تمہارے لئے بہتری ہی کرتا، چنانچہ تم اس پر جمے رہتے تو مَیں تمہیں سیدھی راہ پر لے چلتا اور اگر ٹیڑھے ہوتے تو تمہیں سیدھا کر دیتا اور اگر انکار کرتے تو تمہارا تدارک کرتا، تو بلاشبہ یہ ایک مضبوط طریق کار ہوتا، لیکن کس کی مدد سے اور کس کے بھروسے پر؟ میں تم سے اپنا چارہ چاہتا تھا اور تم ہی میرا مرض نکلے۔ جیسے کانٹے کو کانٹے سے نکالنے والا کہ وہ جانتا ہے کہ یہ بھی اسی کی طرف جھکے گا۔ خدایا! اس موذی مرض سے چارہ گر عاجز آ گئے ہیں اور اس کنوئیں کی رسیاں کھینچنے والے تھک کر بیٹھ گئے ہیں۔ وہ لوگ [۱] کہاں ہیں کہ جنہیں اسلام کی طرف دعوت دی گئی تو انہوں نے اسے قبول کر لیا اور قرآن کو پڑھا تو اس پر عمل بھی کیا، جہاد کیلئے انہیں ابھارا گیا تو اس طرح شوق سے بڑھے جیسے دودھ دینے والی اونٹنیاں اپنے بچوں کی طرف۔ انہوں نے تلواروں کو نیاموں سے نکال لیا اور دستہ بدستہ اور صف بصف بڑھتے ہوئے زمین کے اطراف پر قابو پا لیا۔ (ان میں سے) کچھ مر گئے کچھ بچ گئے۔ نہ زندہ رہنے والوں کے مژدہ سے وہ خوش ہوتے ہیں اور نہ مرنے والوں کی تعزیت سے متاثر ہوتے ہیں۔ رونے سے ان کی آنکھیں سفید، روزوں سے ان کے پیٹ لاغر، دُعاؤں سے ان کے ہونٹ خشک اور جاگنے سے ان کے رنگ زرد ہو گئے تھے اور فروتنی و عاجزی کرنے والوں کی طرح ان کے چہرے خاک آلود رہتے تھے۔ یہ میرے وہ بھائی تھے جو (دنیا سے) گزر گئے۔ اب ہم حق بجانب ہیں اگر ان کی دید کے پیاسے ہوں اور ان کے فراق میں اپنی بوٹیاں کاٹیں۔ بے شک تمہارے لئے شیطان نے اپنی راہیں آسان کر دی ہیں۔ وہ چاہتا ہے کہ تمہارے دین کی ایک ایک گرہ کھول دے اور تم میں یکجائی کے بجائے پھوٹ ڈلوائے۔ تم اس کے وسوسوں اور جھاڑ پھونک سے منہ موڑے رہو اور نصیحت کی پیشکش کرنے والے کا ہدیہ قبول کرو اور اپنے نفسوں میں اس کی گرہ باندھ لو۔

  120. خطبہ 120- جب خوارج تحکیم کے نہ ماننے پر اڑ گئے تو احتجاجاً فرمایا

    120

    تَاللَّهِ لَقَدْ عُلِّمْتُ تَبْلِيغَ الرِّسَالَاتِ وَ إِتْمَامَ الْعِدَاتِ وَ تَمَامَ الْكَلِمَاتِ وَ عِنْدَنَا أَهْلَ الْبَيْتِ أَبْوَابُ الْحِكَمِ وَ ضِيَاءُ الْأَمْرِ أَلَا وَ إِنَّ شَرَائِعَ الدِّينِ وَاحِدَةٌ وَ سُبُلَهُ قَاصِدَةٌ مَنْ أَخَذَ بِهَا لَحِقَ وَ غَنِمَ وَ مَنْ وَقَفَ عَنْهَا ضَلَّ وَ نَدِمَ اعْمَلُوا لِيَوْمٍ تُذْخَرُ لَهُ الذَّخَائِرُ وَ تُبْلَى فِيهِ السَّرَائِرُ وَ مَنْ لَا يَنْفَعُهُ حَاضِرُ لُبِّهِ فَعَازِبُهُ عَنْهُ أَعْجَزُ وَ غَائِبُهُ أَعْوَزُ وَ اتَّقُوا نَاراً حَرُّهَا شَدِيدٌ وَ قَعْرُهَا بَعِيدٌ وَ حِلْيَتُهَا حَدِيدٌ وَ شَرَابُهَا صَدِيدٌ أَلَا وَ إِنَّ اللِّسَانَ الصَّالِحَ يَجْعَلُهُ اللَّهُ تَعَالَى لِلْمَرْءِ فِي النَّاسِ خَيْرٌ لَهُ مِنَ الْمَالِ يُوَرِّثُهُ مَنْ لَا يَحْمَدُهُ

    جب خوارج تحکیم کے نہ ماننے پر اَڑ گئے تو حضرتؑ ان کے پڑاؤ کی طرف تشریف لے گئے اور ان سے فرمایا: [۱] کیا تم سب کے سب ہمارے ساتھ صفین میں موجود تھے؟ انہوں نے کہا کہ ہم میں سے کچھ تھے اور کچھ نہیں تھے۔ تو حضرتؑ نے فرمایا کہ: پھر تم دو گروہوں میں الگ الگ ہو جاؤ: ایک وہ جو صفین میں موجود تھا اور ایک وہ جو وہاں موجود نہ تھا تاکہ میں ہر ایک سے جو گفتگو اس سے مناسب ہو وہ کروں۔ اور لوگوں سے پکار کر کہا کہ: بس اب (آپس میں) بات چیت نہ کرو اور خاموشی سے میری بات سنو اور دل سے توجہ کرو اور جس سے ہم گواہی طلب کریں وہ اپنے علم کے مطابق (جوں کی توں) گواہی دے۔ پھر حضرتؑ نے ان لوگوں سے ایک طویل گفتگو فرمائی۔ منجملہ اس کے یہ فرمایا کہ: جب ان لوگوں نے حیلہ و مکر اور جعل و فریب سے قرآن (نیزوں پر) اٹھائے تھے تو کیا تم نے نہیں کہا تھا کہ: وہ ہمارے بھائی بند اور ہمارے ساتھ (اسلام کی) دعوت قبول کرنیوالے ہیں۔ اب چاہتے ہیں کہ ہم جنگ سے ہاتھ اٹھا لیں اور وہ اللہ سبحانہ کی کتاب پر (سمجھوتا کیلئے) ٹھہر گئے ہیں، صحیح رائے یہ ہے کہ ان کی بات مان لی جائے اور ان کی گلو خلاصی کی جائے، تو میں نے تم سے کہا تھا کہ اس چیز کے باہر ایمان اور اندر کینہ و عناد ہے۔ اس کی ابتدا شفقت و مہربانی اور نتیجہ ندامت و پشیمانی ہے۔ لہٰذا تم اپنے رویہ پر ٹھہرے رہو اور اپنی راہ پر مضبوطی سے جمے رہو اور جہاد کیلئے اپنے دانتوں کو بھینچ لو اور اس چلّانے والے [۲] کی طرف دھیان نہ دو کہ اگر اس کی آواز پر لبیک کہی گئی تو یہ گمراہ کرے گا اور اگر اسے یونہی رہنے دیا جائے تو ذلیل ہو کر رہ جائے گا۔ (لیکن) جب تحکیم کی صورت انجام پا گئی تو میں تمہیں دیکھ رہا تھا کہ تم ہی اس پر رضا مندی دینے والے تھے۔ خدا کی قسم! اگر میں نے اس سے انکار کر دیا ہوتا تو مجھ پر اس کا کوئی فریضہ واجب نہ ہوتا اور نہ اللہ مجھ پر اس (کے ترک) کا گناہ عائد کرتا اور قسم بخدا اگر میں اس کی طرف بڑھا تو اس صورت میں بھی میں ہی وہ حق پرست ہوں جس کی پیروی کی جانا چاہیے اور کتاب خدا میرے ساتھ ہے اور جب سے میرا اس کا ساتھ ہوا ہے میں اس سے الگ نہیں ہوا۔ ہم (جنگوں میں ) رسول ﷺ کے ساتھ تھے اور قتل ہونے والے وہی تھے جو ایک دوسرے کے باپ، بیٹے، بھائی اور رشتہ دار ہوتے تھے، لیکن ہر مصیبت اور سختی میں ہمارا ایمان بڑھتا تھا اور حق کی پیروی اور دین کی اطاعت میں زیادتی ہوتی تھی اور زخموں کی ٹیسوں پر صبر میں اضافہ ہوتا تھا۔ مگر اب ہم کو ان لوگوں سے کہ جو اسلام کی رُو سے ہمارے بھائی کہلاتے ہیں جنگ کرنا پڑ گئی ہے، چونکہ ( ان کی وجہ سے) اس میں گمراہی، کجی، شبہات اور غلط سلط تاویلات داخل ہو گئے ہیں تو جب ہمیں کوئی ایسا ذریعہ نظر آئے کہ جس سے (ممکن ہے) اللہ ہماری پریشانیوں کو دور کر دے اور اس کی وجہ سے ہمارے درمیان جو باقی ماندہ (لگاؤ) رہ گیا ہے، اس کی طرف بڑھتے ہوئے ایک دوسرے سے قریب ہوں تو ہم اسی کے خواہشمند رہیں گے اور کسی دوسری صورت سے جو اس کے خلاف ہو ہاتھ روک لیں گے۔

  121. خطبہ 121- جنگ کے موقع پر کمزور اور پست ہمتوں کی مدد کرنے کی سلسلہ میں

    121

    هَذَا جَزَاءُ مَنْ تَرَكَ الْعُقْدَةَ أَمَا وَ اللَّهِ لَوْ أَنِّي حِينَ أَمَرْتُكُمْ بِمَا أَمَرْتُكُمْ بِهِ حَمَلْتُكُمْ عَلَى الْمَكْرُوهِ الَّذِي يَجْعَلُ اللَّهُ فِيهِ خَيْراً فَإِن‏ اسْتَقَمْتُمْ هَدَيْتُكُمْ وَ إِنِ اعْوَجَجْتُمْ قَوَّمْتُكُمْ وَ إِنْ أَبَيْتُمْ تَدَارَكْتُكُمْ لَكَانَتِ الْوُثْقَى وَ لَكِنْ بِمَنْ وَ إِلَى مَنْ أُرِيدُ أَنْ أُدَاوِي بِكُمْ وَ أَنْتُمْ دَائِي كَنَاقِشِ الشَّوْكَةِ بِالشَّوْكَةِ وَ هُوَ يَعْلَمُ أَنَّ ضَلْعَهَا مَعَهَا اللَّهُمَّ قَدْ مَلَّتْ أَطِبَّاءُ هَذَا الدَّاءِ الدَّوِيِّ وَ كَلَّتِ النَّزَعَةُ بِأَشْطَانِ الرَّكِيِّ أَيْنَ الْقَوْمُ الَّذِينَ دُعُوا إِلَى الْإِسْلَامِ فَقَبِلُوهُ وَ قَرَءُوا الْقُرْآنَ فَأَحْكَمُوهُ وَ هُيِّجُوا إِلَى الْجِهَادِ فَوَلَهُوا اللِّقَاحَ إِلَى أَوْلَادِهَا وَ سَلَبُوا السُّيُوفَ أَغْمَادَهَا وَ أَخَذُوا بِأَطْرَافِ الْأَرْضِ زَحْفاً زَحْفاً وَ صَفّاً صَفّاً بَعْضٌ هَلَكَ وَ بَعْضٌ نَجَا لَا يُبَشَّرُونَ بِالْأَحْيَاءِ وَ لَا يُعَزَّوْنَ عَنِ الْمَوْتَى مُرْهُ الْعُيُونِ مِنَ الْبُكَاءِ خُمْصُ الْبُطُونِ مِنَ الصِّيَامِ ذُبُلُ الشِّفَاهِ مِنَ الدُّعَاءِ صُفْرُ الْأَلْوَانِ مِنَ السَّهَرِ عَلَى وُجُوهِهِمْ غَبَرَةُ الْخَاشِعِينَ أُولَئِكَ إِخْوَانِي الذَّاهِبُونَ فَحُقَّ لَنَا أَنْ نَظْمَأَ إِلَيْهِمْ وَ نَعَضَّ الْأَيْدِي عَلَى فِرَاقِهِمْ إِنَّ الشَّيْطَانَ يُسَنِّي لَكُمْ طُرُقَهُ وَ يُرِيدُ أَنْ يَحُلَّ دِينَكُمْ عُقْدَةً عُقْدَةً وَ يُعْطِيَكُمْ بِالْجَمَاعَةِ الْفُرْقَةَ وَ بِالْفُرْقَةِ الْفِتْنَةَ فَاصْدِفُوا عَنْ نَزَغَاتِهِ وَ نَفَثَاتِهِ وَ اقْبَلُوا النَّصِيحَةَ مِمَّنْ أَهْدَاهَا إِلَيْكُمْ وَ اعْقِلُوهَا عَلَى أَنْفُسِكُمْ

    جنگ کے میدان میں اپنے اصحاب سے فرمایا تم میں سے جو شخص بھی جنگ کے موقع پر اپنے دل میں حوصلہ و دلیری محسوس کرے اور اپنے کسی بھائی سے کمزوری کے آثار دیکھے تو اسے چاہیے کہ اپنی شجاعت کی برتری کے ذریعہ سے جس کے لحاظ سے وہ اس پر فوقیت رکھتا ہے اس سے (دشمنوں کو) اسی طرح دور کرے جیسے انہیں اپنے سے دور ہٹاتا ہے۔ اس لئے کہ اگر اللہ چاہے تو اسے بھی ویسا ہی کر دے۔ بیشک موت تیزی سے ڈھونڈھنے والی ہے۔ نہ ٹھہرنے والا اس سے بچ کر نکل سکتا ہے اور نہ بھاگنے والا اسے عاجز کر سکتا ہے۔ بلاشبہ قتل ہونا عزت کی موت ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں ابن ابی طالبؑ کی جان ہے کہ بستر پر اپنی موت مرنے سے تلوار کے ہزار وار کھانا مجھے آسان ہیں۔ [اسی خطبہ کا ایک حصہ یہ ہے] گویا میں تمہیں دیکھ رہا ہوں کہ تم (شکست و ہزیمت کے وقت) اس طرح کی آوازیں نکال رہے ہو جس طرح سوسماروں کے اژدہام کے وقت ان کے جسموں کے رگڑ کھانے کی آواز ہوتی ہے۔ نہ تم اپنا حق لیتے ہو اور نہ توہین آمیز زیادتیوں کی روک تھام کر سکتے ہو۔ تمہیں راستے پر کھلا چھوڑ دیا گیا ہے۔ نجات اس کیلئے ہے کہ جو اپنے کو (جنگ میں) جھونک دے اور جو سوچتا ہی رہ جائے اس کیلئے ہلاکت و تباہی ہے۔

  122. خطبہ 122- میدان صفین میں فنونِ جنگ کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا

    122

    أَ كُلُّكُمْ شَهِدَ مَعَنَا صِفِّينَ فَقَالُوا مِنَّا مَنْ شَهِدَ وَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَشْهَدْ قَالَ فَامْتَازُوا فِرْقَتَيْنِ فَلْيَكُنْ مَنْ شَهِدَ صِفِّينَ فِرْقَةً وَ مَنْ لَمْ يَشْهَدْهَا فِرْقَةً حَتَّى أُكَلِّمَ كُلًّا مِنْكُمْ بِكَلَامِهِ وَ نَادَى النَّاسَ فَقَالَ: أَمْسِكُوا عَنِ الْكَلَامِ وَ أَنْصِتُوا لِقَوْلِي وَ أَقْبِلُوا بِأَفْئِدَتِكُمْ إِلَيَّ فَمَنْ نَشَدْنَاهُ شَهَادَةً فَلْيَقُلْ بِعِلْمِهِ فِيهَا ثُمَّ كَلَّمَهُمْ عليه السلام بِكَلَامٍ طَوِيلٍ مِنْ جُمْلَتِهِ أَنْ قَالَ: أَ لَمْ تَقُولُوا عِنْدَ رَفْعِهِمُ الْمَصَاحِفَ- حِيلَةً وَ غِيلَةً وَ مَكْراً وَ خَدِيعَةً - إِخْوَانُنَا وَ أَهْلُ دَعْوَتِنَا اسْتَقَالُونَا وَ اسْتَرَاحُوا إِلَى كِتَابِ اللَّهِ سُبْحَانَهُ فَالرَّأْيُ الْقَبُولُ مِنْهُمْ وَ التَّنْفِيسُ عَنْهُمْ فَقُلْتُ لَكُمْ هَذَا أَمْرٌ ظَاهِرُهُ إِيمَانٌ وَ بَاطِنُهُ عُدْوَانٌ وَ أَوَّلُهُ رَحْمَةٌ وَ آخِرُهُ نَدَامَةٌ فَأَقِيمُوا عَلَى شَأْنِكُمْ وَ الْزَمُوا طَرِيقَتَكُمْ وَ عَضُّوا عَلَى الْجِهَادِ بَنَوَاجِذِكُمْ وَ لَا تَلْتَفِتُوا إِلَى نَاعِقٍ نَعَقٍ إِنْ أُجِيبَ أَضَلَّ وَ إِنْ تُرِكَ ذَلَّ وَ قَدْ كَانَتْ هَذِهِ الْفَعْلَةُ وَ قَدْ رَأَيْتُكُمْ أَعْطَيْتُمُوهَا وَ اللَّهِ لَئِنْ أَبَيْتُهَا مَا وَجَبَتْ عَلَيَّ فَرِيضَتُهَا وَ لَا حَمَّلَنِي اللَّهُ ذَنْبَهَا وَ وَاللَّهِ إِنْ جِئْتُهَا إِنِّي لَلْمُحِقُّ الَّذِي يُتَّبَعُ وَ إِنَّ الْكِتَابَ لَمَعِي مَا فَارَقْتُهُ مُذْ صَحِبْتُهُ فَلَقَدْ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه واله وَ إِنَّ الْقَتْلَ لَيَدُورُ بَيْنَ الْآباءِ وَ الْأَبْنَاءِ وَ الْإِخْوَانِ وَ الْقَرَابَاتِ فَمَا نَزْدَادُ عَلَى كُلِّ مُصِيبَةٍ وَ شِدَّةٍ إِلَّا إِيمَاناً وَ مُضِيّاً عَلَى الْحَقِّ وَ تَسْلِيماً لِلْأَمْرِ وَ صَبْراً عَلَى مَضَضِ الْجِرَاحِ وَ لَكِنَّا إِنَّمَا أَصْبَحْنَا نُقَاتِلُ‏ إِخْوَانَنَا فِي الْإِسْلَامِ عَلَى مَا دَخَلَ فِيهِ مِنَ الزَّيْغِ وَ الِاعْوِجَاجِ وَ الشُّبْهَةِ وَ التَّأْوِيلِ فَإِذَا طَمِعْنَا فِي خَصْلَةٍ يَلُمُّ اللَّهُ بِهَا شَعَثَنَا وَ نَتَدَانَى بِهَا إِلَى الْبَقِيَّةِ فِيمَا بَيْنَنَا رَغِبْنَا فِيهَا وَ أَمْسَكْنَا عَمَّا سِوَاهَا

    اپنے اصحاب [۱] کو جنگ پر آمادہ کرنے کیلئے فرمایا زرہ پوش کو آگے رکھو اور بے زرہ کو پیچھے کر دو اور دانتوں کو بھینچ لو کہ اس سے تلواریں سروں سے اُچٹ جاتی ہیں اور نیزوں کی اَنیوں کو پہلو بدل کر خالی دیا کرو کہ اس سے اُن کے رخ پلٹ جاتے ہیں۔ آنکھیں جھکائے رکھو کہ اس سے حوصلہ مضبوط رہتا ہے اور دل ٹھہرے رہتے ہیں اور آوازوں کو بلند نہ کرو کہ اس سے بزدلی دور رہتی ہے۔ اور اپنا جھنڈا سرنگوں نہ ہونے دو اور نہ اسے اکیلا چھوڑو۔ اسے اپنے جواں مردوں اور عزت کے پاسبانوں کے ہاتھوں ہی میں رکھو، چونکہ مصیبتوں کے ٹوٹ پڑنے پر وہی لوگ صبر کرتے ہیں جو اپنے جھنڈوں کے گرد گھیرا ڈال کر دائیں بائیں اور آگے پیچھے سے اس کا احاطہ کر لیتے ہیں۔ وہ پیچھے نہیں ہٹتے کہ اسے (دشمنوں کے ہاتھوں میں) سونپ دیں اور نہ آگے بڑھ جاتے ہیں کہ اسے اکیلا چھوڑ دیں۔ ہر شخص اپنے مدمقابل سے خود نپٹے اور دل و جان سے اپنے بھائی کی بھی مدد کرے اور اپنے حریف کو کسی اور بھائی کے حوالے نہ کرے کہ یہ اور اس کا حریف ایکا کر کے اس پر ٹوٹ پڑیں۔ خدا کی قسم! تم اگر دنیا کی تلوار سے بھاگے تو آخرت کی تلوار سے نہیں بچ سکتے۔ تم تو عرب کے جواں مرد اور سر بلند لوگ ہو۔ (یاد رکھو کہ) بھاگنے میں اللہ کا غضب اور نہ مٹنے والی رسوائی اور ہمیشہ کیلئے ننگ و عار ہے۔ بھاگنے والا اپنی عمر بڑھا نہیں لیتا اور نہ اس میں اور اس کی موت کے دن میں کوئی چیز حائل ہو جاتی ہے۔ اللہ کی طرف جانے والا تو ایسا ہے جیسے کوئی پیاسا پانی تک پہنچ جائے۔ جنت نیزوں کی انیوں کے نیچے ہے۔ آج حالات پرکھ لئے جائیں گے۔ خدا کی قسم! میں ان دشمنوں سے دو بدو ہو کر لڑنے کا اس سے زیادہ مشتاق ہوں جتنا یہ اپنے گھروں کو پلٹنے کے مشتاق ہوں گے۔ خداوندا! اگر یہ حق کو ٹھکرا دیں تو ان کے جتھے کو توڑ دے اور انہیں ایک آواز پر جمع نہ ہونے دے اور ان کے گناہوں کی پاداش میں انہیں تباہ و برباد کر۔ یہ اپنے مؤقف (شر و فساد) سے اس وقت تک ہٹنے والے نہیں جب تک تابڑ توڑ نیزوں کے ایسے وار نہ ہوں کہ (جس سے زخموں کے منہ اس طرح کھل جائیں کہ) ہوا کے جھونکے گزر سکیں اور تلواروں کی ایسی چوٹیں نہ پڑیں کہ جو سروں کو شگافتہ کر دیں اور ہڈیوں کے پرخچے اڑا دیں اور بازوؤں اور قدموں کو توڑ کر پھینک دیں اور پے درپے لشکروں کا نشانہ نہ بنائے جائیں اور ایسی فوجیں ان پر ٹوٹ نہ پڑیں کہ جن کے پیچھے (کمک کیلئے) اور شہسواروں کے دستے ہوں اور جب تک کہ ان کے شہروں پر یکے بعد دیگرے فوجوں کی چڑھائی نہ ہو، یہاں تک کہ گھوڑے ان کی زمینوں کو آخر تک روند ڈالیں اور ان کے سبزہ زاروں اور چراگاہوں کو پامال کر دیں۔ سیّد رضی کہتے ہیں کہ: «اَلدَّعْقُ» کے معنی روندنے کے ہیں اور اس جملہ کے معنی یہ ہیں کہ گھوڑے اپنے سموں سے ان کی زمینوں کو روند دیں۔ اور «نَوَاحِرِ اَرْضِهِمْ» سے مراد وہ زمینیں ہیں جو ایک دوسرے کے بالمقابل ہوں۔ عرب اگر یوں کہیں کہ: «مَنَازِلُ بَنِیْ فُلَانٍ تَتَنَاحَرُ» تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ فلاں قبیلے کے گھر ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں۔

  123. خطبہ 123- تحکیم کو قبول کرنے کے وجوہ و اسباب

    123

    وَ أَيُّ امْرِئٍ مِنْكُمْ أَحَسَّ مِنْ نَفْسِهِ رِبَاطَةَ جَأْشٍ عِنْدَ اللِّقَاءِ وَ رَأَى مِنْ أَحَدٍ مِنْ إِخْوَانِهِ فَشَلًا فَلْيَذُبَّ عَنْ أَخِيهِ بِفَضْلِ نَجْدَتِهِ الَّتِي فُضِّلَ بِهَا عَلَيْهِ كَمَا يَذُبُّ عَنْ نَفْسِهِ فَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَجَعَلَهُ مِثْلَهُ إِنَّ الْمَوْتَ طَالِبٌ حَثِيثٌ لَا يَفُوتُهُ الْمُقِيمُ وَ لَا يُعْجِزُهُ الْهَارِبُ إِنَّ أَكْرَمَ الْمَوْتِ الْقَتْلُ وَ الَّذِي نَفْسُ ابْنِ أَبِيطَالِبٍ بِيَدِهِ لَأَلْفُ ضَرْبَةٍ بِالسَّيْفِ أَهْوَنُ عَلَيَّ مِنْ مِيتَةٍ عَلَى الْفِرَاشِ فِي غَيْرِ طَاعَةِ اللَّهِ وَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْكُمْ تَكِشُّونَ كَشِيشَ اَلضِّبَابِ لاَ تَأْخُذُونَ حَقّاً وَ لاَ تَمْنَعُونَ ضَيْماً قَدْ خُلِّيتُمْ وَ اَلطَّرِيقَ فَالنَّجَاةُ لِلْمُقْتَحِمِ وَ اَلْهَلَكَةُ لِلْمُتَلَوِّمِ

    تحکیم کے بارے میں فرمایا ہم نے آدمیوں کو نہیں بلکہ قرآن کو حکم قرار دیا تھا۔ چونکہ یہ قرآن دو دفتیوں کے درمیان ایک لکھی ہوئی کتاب ہے کہ جو زبان سے بولا نہیں کرتی۔ اس لئے ضرورت تھی کہ اس کیلئے کوئی ترجمان ہو اور وہ آدمی ہی ہوتے ہیں جو اس کی ترجمانی کیا کرتے ہیں۔ جب ان لوگوں نے ہمیں یہ پیغام دیا کہ ہم اپنے درمیان قرآن کو حَکم ٹھہرائیں تو ہم ایسے لوگ نہ تھے کہ اللہ کی کتاب سے منہ پھیر لیتے، جبکہ حق سبحانہ کا ارشاد ہے کہ: ’’اگر تم کسی بات میں جھگڑا کرو تو (اس کا فیصلہ نپٹانے کیلئے) اللہ اور رسولؐ کی طرف رجوع کرو‘‘۔ اللہ کی طرف رجوع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس کی کتاب کے مطابق حکم کریں اور رسول ﷺ کی طرف رجوع کرنے کے معنی یہ ہیں کہ ہم ان کی سنت پر چلیں۔ چنانچہ اگر کتاب خدا سے سچائی کے ساتھ حکم لگایا جائے تو اس کی رُو سے سب لوگوں سے زیادہ ہم (خلافت کے ) حقدار ہوں گے اور اگر سنت ِرسولؐ کے مطابق حکم لگایا جائے تو بھی ہم ان سے زیادہ اس کے اہل ثابت ہوں گے۔ اب رہا تمہارا یہ قول کہ: ’’آپؑ نے تحکیم کیلئے اپنے اور ان کے درمیان مہلت کیوں رکھی؟‘‘، تو یہ میں نے اس لئے کیا کہ (اس عرصہ میں) نہ جاننے والا تحقیق کر لے اور جاننے والا اپنے مسلک پر جم جائے اور شاید کہ اللہ تعالیٰ اس صلح کی وجہ سے اس اُمت کے حالات درست کر دے اور وہ (بے خبری میں) گلا گھونٹ کر تیار نہ کی جائے کہ حق کے واضح ہونے سے پہلے جلدی میں کوئی قدم اٹھا بیٹھے اور پہلی ہی گمراہی کے پیچھے لگ جائے۔ بلا شبہ اللہ کے نزدیک سب سے بہتر وہ شخص ہے کہ جو حق پر عمل پیرا رہے، چاہے وہ اس کیلئے باعث نقصان و مضرت ہو اور باطل کی طرف رخ نہ کرے، چاہے وہ اس کے کچھ فائدہ کا باعث ہو رہا ہو۔ تمہیں تو بھٹکایا جا رہا ہے۔ آخر تم کہاں سے (شیطان کی راہ پر) لائے گئے ہو۔ تم اس قوم کی طرف بڑھنے کیلئے مستعد و آمادہ ہو جاؤ کہ جو حق سے منہ موڑ کر بھٹک رہی ہے کہ اسے دیکھتی ہی نہیں اور وہ بے راہ رویوں میں بہکا دیئے گئے ہیں کہ ان سے ہٹ کر سیدھی راہ پر آنا نہیں چاہتے۔ یہ لوگ کتاب خدا سے الگ رہنے والے اور صحیح راستے سے ہٹ جانے والے ہیں۔ لیکن تم تو کوئی مضبوط وسیلہ ہی نہیں ہو کہ تم پر بھروسا کیا جائے اور نہ عزت کے سہارے ہو کہ تم سے وابستہ ہوا جائے۔ تم (دشمن کیلئے) جنگ کی آگ بھڑکانے کے اہل نہیں ہو۔ تم پر افسوس ہے کہ مجھے تم سے کتنی تکلیفیں اٹھانا پڑی ہیں۔ میں کسی دن تمہیں (دین کی امداد کیلئے) پکارتا ہوں اور کسی دن تم سے (جنگ کی) راز دارانہ باتیں کرتا ہوں، مگر تم نہ پکارنے کے وقت سچے جواں مرد اور نہ راز کی باتوں کیلئے قابل اعتماد بھائی ثابت ہوتے ہو۔

  124. خطبہ 124- بیت المال کی برابر کی تقسیم پر اعتراض ہوا تو فرمایا

    124

    فَقَدِّمُوا الدَّارِعَ وَ أَخِّرُوا الْحَاسِرَ وَ عَضُّوا عَلَى الْأَضْرَاسِ فَإِنَّهُ أَنْبَى لِلسُّيُوفِ عَنِ الْهَامِ وَ الْتَوُوا فِي أَطْرَافِ الرِّمَاحِ فَإِنَّهُ أَمْوَرُ لِلْأَسِنَّةِ وَ غُضُّوا الْأَبْصَارَ فَإِنَّهُ أَرْبَطُ لِلْجَأْشِ وَ أَسْكَنُ لِلْقُلُوبِ وَ أَمِيتُوا الْأَصْوَاتَ فَإِنَّهُ أَطْرَدُ لِلْفَشَلِ وَ رَايَتَكُمْ فَلَا تُمِيلُوهَا وَ لَا تُخَلُّوهَا وَ لَا تَجْعَلُوهَا إِلَّا بِأَيْدِي شُجْعَانِكُمْ وَ الْمَانِعِينَ الذِّمَارَ مِنْكُمْ فَإِنَّ الصَّابِرِينَ عَلَى نُزُولِ الْحَقَائِقِ هُمُ الَّذِينَ يَحُفُّونَ بِرَايَاتِهِمْ وَ يَكْتَنِفُونَهَا حِفَافَيْهَا وَ وَرَاءَهَا وَ أَمَامَهَا لَا يَتَأَخَّرُونَ عَنْهَا فَيُسْلِمُوهَا وَ لَا يَتَقَدَّمُونَ عَلَيْهَا فَيُفْرِدُوهَا أَجْزَأَ امْرُؤٌ قِرْنَهُ وَ آسَى أَخَاهُ بِنَفْسِهِ وَ لَمْ يَكِلْ قِرْنَهُ إِلَى أَخِيهِ فَيَجْتَمِعَ عَلَيْهِ قِرْنُهُ وَ قِرْنُ أَخِيهِ وَ ايْمُ اللَّهِ لَئِنْ فَرَرْتُمْ مِنْ سَيْفِ الْعَاجِلَةِ لَا تَسْلَمُوا مِنْ سَيْفِ الْآخِرَةِ أَنْتُمْ لَهَامِيمُ الْعَرَبِ وَ السَّنَامُ الْأَعْظَمُ إِنَّ فِي الْفِرَارِ مَوْجِدَةَ اللَّهِ وَ الذُّلَّ اللَّازِمَ وَ الْعَارَ الْبَاقِيَ وَ إِنَ‏ الْفَارَّ لَغَيْرُ مَزِيدٍ فِي عُمْرِهِ وَ لَا مَحْجُوزٍ بَيْنَهُ وَ بَيْنَ يَوْمِهِ مَنِ رَائِحٌ إِلَى اللَّهِ كَالظَّمْآنِ يَرِدُ الْمَاءَ الْجَنَّةُ تَحْتَ أَطْرَافِ الْعَوَالِي الْيَوْمَ تُبْلَى الْأَخْبَارُ وَ اللَّهِ لَأَنَا أَشْوَقُ إِلَى لِقَائِهِمْ مِنْهُمْ إِلَى دِيَارِهِمْ اللَّهُمَّ فَإِنْ رَدُّوا الْحَقَّ فَافْضُضْ جَمَاعَتَهُمْ وَ شَتِّتْ كَلِمَتَهُمْ وَ أَبْسِلْهُمْ بِخَطَايَاهُمْ إِنَّهُمْ لَنْ يَزُولُوا عَنْ مَوَاقِفِهِمْ دُونَ طَعْنٍ دِرَاكٍ يَخْرُجُ مِنْهُ النَّسِيمُ وَ ضَرْبٍ يَفْلِقُ الْهَامَ وَ يُطِيحُ الْعِظَامَ وَ يُنْدِرُ السَّوَاعِدَ وَ الْأَقْدَامَ وَ حَتَّى يُرْمَوْا بِالْمَنَاسِرِ تَتْبَعُهَا الْمَنَاسِرُ وَ يُرْجَمُوا بِالْكَتَائِبِ تَقْفُوهَا الْحَلَائِبُ وَ حَتَّى يُجَرَّ بِبِلَادِهِمُ الْخَمِيسُ يَتْلُوهُ الْخَمِيسُ وَ حَتَّى تَدْعَقَ الْخُيُولُ فِي نَوَاحِرِ أَرْضِهِمْ وَ بِأَعْنَانِ مَسَارِبِهِمْ وَ مَسَارِحِهِمْ قال الشريف الرضي: الدّعْقُ: الدّقُّ، أي: تَدُقُّ الخُيُولُ بِحَوَافِرِهَا أرْضَهُمْ. نَوَاحِرُ أَرْضِهِمْ: مُتَقَابِلاَتُهَا، يُقَالُ: مَنَازِلُ بَنِي فُلان تتَنَاحَرُ، أيْ: تَتَقَابَلُ.

    جب مال کی تقسیم میں آپؑ کے برابری و مساوات کا اصول برتنے پر کچھ لوگ بگڑ اٹھے تو آپؑ نے ارشاد فرمایا: کیا تم مجھ پر یہ امر عائد کرنا چاہتے ہو کہ میں جن لوگوں کا حاکم ہوں ان پر ظلم و زیادتی کر کے (کچھ لوگوں کی) امداد حاصل کروں تو خدا کی قسم! جب تک دنیا کا قصہ چلتا رہے گا اور کچھ ستارے دوسرے ستاروں کی طرف جھکتے رہیں گے، میں اس چیز کے قریب بھی نہیں پھٹکوں گا۔ اگر یہ خود میرا مال ہوتا جب بھی میں اسے سب میں برابر تقسیم کرتا، چہ جائیکہ یہ مال اللہ کا مال ہے۔ دیکھو بغیر کسی حق کے داد و دہش کرنا بے اعتدالی اور فضول خرچی ہے اور یہ اپنے مرتکب کو دنیا میں بلند کر دیتی ہے، لیکن آخرت میں پست کرتی ہے اور لوگوں کے اندر عزت میں اضافہ کرتی، مگر اللہ کے نزدیک ذلیل کرتی ہے۔ جو شخص بھی مال کو بغیر استحقاق کے یا نااہل افراد کو دے گا اللہ اسے ان کے شکریہ سے محروم ہی رکھے گا اور ان کی دوستی و محبت بھی دوسروں ہی کے حصہ میں جائے گی اور اگر کسی دن اس کے پیر پھسل جائیں (یعنی فقر و تنگدستی اسے گھیر لے) اور ان کی امداد کا محتاج ہو جائے تو وہ اس کیلئے بہت ہی بُرے ساتھی اور کمینے دوست ثابت ہوں گے۔

  125. خطبہ 125- خوارج کے عقائد کے رد میں

    125

    إِنَّا لَمْ نُحَكِّمِ الرِّجَالَ وَ إِنَّمَا حَكَّمْنَا الْقُرْآنَ وَ هَذَا الْقُرْآنُ إِنَّمَا هُوَ خَطٌّ مَسْطُورٌ بَيْنَ الدَّفَّتَيْنِ لَا يَنْطِقُ بِلِسَانٍ وَ لَا بُدَّ لَهُ مِنْ تَرْجُمَانٍ وَ إِنَّمَا يَنْطِقُ عَنْهُ الرِّجَالُ وَ لَمَّا دَعَانَا الْقَوْمُ إلَى أَنْ نُحَكِّمَ بَيْنَنَا الْقُرْآنَ لَمْ نَكُنِ الْفَرِيقَ الْمُتَوَلِّيَ عَنْ كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى وَ قَدْ قَالَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ فَإِنْ تَنازَعْتُمْ فِي شَيْ‏ءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَ الرَّسُولِ فَرَدُّهُ إِلَى اللَّهِ أَنْ نَحْكُمَ بِكِتَابِهِ وَ رَدُّهُ إِلَى الرَّسُولِ أَنْ نَأْخُذَ بِسُنَّتِهِ فَإِذَا حُكِمَ بِالصِّدْقِ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَنَحْنُ أَحَقُّ النَّاسِ بِهِ ‏وَ إِنْ حُكِمَ بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه واله فَنَحْنُ أَوْلَاهُمْ بِهِ وَ أَمَّا قَوْلُكُمْ لِمَ جَعَلْتَ بَيْنَكَ وَ بَيْنَهُمْ أَجَلًا فِي التَّحْكِيمِ فَإِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ لِيَتَبَيَّنَ الْجَاهِلُ وَ يَتَثَبَّتَ الْعَالِمُ وَ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ فِي هَذِهِ الْهُدْنَةِ أَمْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ وَ لَا تُؤْخَذَ بِأَكْظَامِهَا فَتَعْجَلَ عَنْ تَبَيُّنِ الْحَقِّ وَ تَنْقَادَ لِأَوَّلِ الْغَيِّ إِنَّ أَفْضَلَ النَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ مَنْ كَانَ الْعَمَلُ بِالْحَقِّ أَحَبَّ إِلَيْهِ وَ إِنْ نَقَصَهُ وَ كَرَثَهُ مِنَ الْبَاطِلِ وَ إِنْ جَرَّ إِلَيْهِ فَائِدَةً وَ زَادَهُ فَأَيْنَ يُتَاهُ بِكُمْ وَ مِنْ أَيْنَ أُتِيتُمْ اسْتَعِدُّوا لِلْمَسِيرِ إِلَى قَوْمٍ حَيَارَى عَنِ الْحَقِّ لَا يُبْصِرُونَهُ وَ مُوزَعِينَ بِالْجَوْرِ لَا يَعْدِلُونَ بِهِ جُفَاةٍ عَنِ الْكِتَابِ نُكُبٍ عَنِ الطَّرِيقِ مَا أَنْتُمْ بِوَثِيقَةٍ يُعْلَقُ بِهَا وَ لَا زَوَافِرَ يُعْتَصَمُ إِلَيْهَا لَبِئْسَ حُشَّاشُ نَارِ الْحَرْبِ أَنْتُمْ أُفٍّ لَكُمْ لَقَدْ لَقِيتُ مِنْكُمْ بَرَحًا يَوْماً أُنَادِيكُمْ وَ يَوْماً أُنَاجِيكُمْ فَلَا أَحْرَارُ صِدْقٍ عِنْدَ النِّدَاءِ وَ لَا إِخْوَانُ ثِقَةٍ عِنْدَ النَّجَاءِ

    خوارج کے متعلق فرمایا اگر تم اس خیال سے باز آنے والے نہیں ہو کہ میں نے غلطی کی اور گمراہ ہو گیا ہوں تو میری گمراہی کی وجہ سے اُمت ِمحمدؐ کے عام افراد کو کیوں گمراہ سمجھتے ہو؟ اور میری غلطی کی پاداش انہیں کیوں دیتے ہو؟ اور میرے گناہوں کے سبب سے انہیں کیوں کافر کہتے ہو؟ تلواریں کندھوں پر اٹھائے ہر موقع و بے موقع جگہ پر وار کئے جا رہے ہو اور بے خطاؤں کو خطا کاروں کے ساتھ ملائے دیتے ہو۔ حالانکہ تم جانتے ہو کہ رسول ﷺ نے جب زانی کو سنگسار کیا تو نماز جنازہ بھی اس کی پڑھی اور اس کے وارثوں کو اس کا ورثہ بھی دلوایا اور قاتل سے قصاص لیا تو اس کی میراث اس کے گھر والوں کو دلائی، چور کے ہاتھ کاٹے اور زنائے غیر محصنہ کے مرتکب کو تازیانے لگوائے تو اس کے ساتھ انہیں مال غنیمت میں سے حصہ بھی دیا اور انہوں نے (مسلمان ہونے کی حیثیت سے) مسلمان عورتوں سے نکاح بھی کئے۔ اس طرح رسول اللہ ﷺ نے ان کے گناہوں کی سزا ان کو دی اور جو ان کے بارے میں اللہ کا حق (حد شرعی) تھا اسے جاری کیا، مگر انہیں اسلام کے حق سے محروم نہیں کیا اور نہ اہل اسلام سے ان کے نام خارج کئے۔ اس کے بعد (ان شر انگیزیوں کے معنی یہ ہیں کہ) تم ہو ہی شر پسند اور وہ کہ جنہیں شیطان نے اپنی مقصد برآری کی راہ پر لگا رکھا ہے اور گمراہی کے سنسان بیابان میں لا پھینکا ہے۔ (یاد رکھو کہ) میرے بارے میں دو قسم کے لوگ تباہ و برباد ہوں گے: ایک حد سے زیادہ چاہنے والے جنہیں محبت (کی افراط) غلط راستے پر لگا دے گی اور ایک میرے مرتبہ میں کمی کر کے دشمنی رکھنے والے کہ جنہیں یہ عناد حق سے بے راہ کر دے گا۔ میرے متعلق درمیانی راہ اختیار کرنے والے ہی سب سے بہتر حالت میں ہوں گے۔ تم اسی راہ پر جمے رہو اور اسی بڑے گروہ کے ساتھ لگ جاؤ۔ چونکہ اللہ کا ہاتھ اتفاق و اتحاد رکھنے والوں پر ہے اور تفرقہ و انتشار سے باز آ جاؤ اس لئے کہ جماعت سے الگ ہو جانے والا شیطان کے حصہ میں چلا جاتا ہے، جس طرح گلہ سے کٹ جانے والی بھیڑ بھیڑیے کو مل جاتی ہے۔ خبردار! جو بھی ایسے نعرے لگا کر اپنی طرف بلائے اسے قتل کر دو، اگرچہ وہ اسی عمامہ کے نیچے کیوں نہ ہو ( یعنی میں خود کیوں نہ ہوں) اور وہ دونوں حَکم (ابو موسیٰ و عمر و ابن عاص) تو صرف اس لئے ثالث مقرر کئے گئے تھے کہ وہ انہی چیزوں کو زندہ کریں جنہیں قرآن نے زندہ کیا ہے اور انہی چیزوں کو نیست و نابود کریں جنہیں قرآن نے نیست و نابود کیا ہے۔ کسی چیز کے زندہ کرنے کے معنی یہ ہیں کہ اس پر یکجہتی کے ساتھ متحد ہوا جائے اور اس کے نیست و نابود کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس سے علیحدگی اختیار کر لی جائے۔ اب اگر قرآن ہمیں ان لوگوں (کی اطاعت) کی طرف لے جاتا تو ہم ان کے پیرو بن جاتے اور اگر انہیں ہماری طرف لائے تو پھر انہیں ہمارا اتباع کرنا چاہیے۔ تمہارا بُرا ہو! میں نے کوئی مصیبت تو کھڑی نہیں کی اور نہ کسی بات میں تمہیں دھوکا دیا ہے اور نہ اس میں فریب کاری کی ہے۔ تمہاری جماعت ہی کی یہ رائے قرار پائی تھی کہ دو آدمی چن لئے جائیں جن سے ہم نے یہ اقرار لے لیا تھا کہ وہ قرآن سے تجاوز نہ کریں گے۔ لیکن وہ اچھی طرح دیکھنے بھالنے کے باوجود قرآن سے بہک گئے اور حق کو چھوڑ بیٹھے اور ان کے جذبات بے راہ روی کے مقتضی ہوئے۔ چنانچہ وہ اس روش پر چل پڑے (حالانکہ) ہم نے پہلے ہی ان سے شرط کر لی تھی کہ وہ عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے اور حق کا مقصد پیش نظر رکھنے میں بد نیتی و بے راہ روی کو دخل نہ دیں گے۔ (اگر ایسا ہوا تو وہ فیصلہ ہمارے لئے قابل تسلیم نہ ہو گا)۔

  126. خطبہ 126- بصرہ میں ہونے والے فتنوں، تباہ کاریوں اور حملوں کے متعلق

    126

    أَ تَأْمُرُونِّي أَنْ أَطْلُبَ النَّصْرَ بِالْجَوْرِ فِيمَنْ وُلِّيتُ عَلَيْهِ وَ اللَّهِ لَا أَطُورُ بِهِ مَا سَمَرَ سَمِيرٌ وَ مَا أَمَّ نَجْمٌ فِي السَّمَاءِ نَجْماً وَ لَوْ كَانَ الْمَالُ لِي لَسَوَّيْتُ بَيْنَهُمْ فَكَيْفَ وَ إِنَّمَا الْمَالُ مَالُ اللَّهِ [ثُمَّ قَالَ] أَلَا وَ إِنَّ إِعْطَاءَ الْمَالِ فِي غَيْرِ حَقِّهِ تَبْذِيرٌ وَ إِسْرَافٌ وَ هُوَ يَرْفَعُ صَاحِبَهُ فِي الدُّنْيَا وَ يَضَعُهُ فِي الْآخِرَةِ وَ يُكْرِمُهُ فِي النَّاسِ وَ يُهِينُهُ عِنْدَ اللَّهِ وَ لَمْ يَضَعِ امْرُؤٌ مَالَهُ فِي غَيْرِ حَقِّهِ وَ لا عِنْدَ غَيْرِ أَهْلِهِ إِلَّا حَرَمَهُ اللَّهُ شُكْرَهُمْ وَ كَانَ لِغَيْرِهِ وُدُّهُمْ فَإِنْ زَلَّتْ بِهِ النَّعْلُ يَوْماً فَاحْتَاجَ إِلَى مَعُونَتِهِمْ فَشَرُّ خَدِينٍ وَ أَلْأَمُ خَلِيلٍ

    اس میں بصرہ کے اندر برپا ہونے والے ہنگاموں کا تذکرہ ہے اے احنف! میں اس شخص کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں کہ وہ ایک ایسے لشکر کو لے کر بڑھ رہا ہے کہ جس میں نہ گرد و غبار ہے، نہ شور و غوغا، نہ لگاموں کی کھڑکھڑاہٹ ہے اور نہ گھوڑوں کے ہنہنانے کی آواز۔ وہ لوگ زمین کو اپنے پَیروں سے جو شتر مرغ کے پیروں کے مانند ہیں روند رہے ہوں گے۔ سیّد رضی کہتے ہیں کہ: حضرتؑ نے اس سے حبشیوں کے سردار [۱] کی طرف اشارہ کیا ہے۔ پھر آپؑ نے فرمایا: ان لوگوں کے ہاتھوں سے کہ جن کے قتل ہو جانے والوں پر بین نہیں کیا جاتا اور گم ہونے والوں کو ڈھونڈھا نہیں جاتا، تمہاری ان آباد گلیوں اور سجے سجائے مکانوں کیلئے تباہی ہے کہ جن کے چھجے گِدوں کے پروں اور ہاتھیوں کی سونڈوں کے مانند ہیں۔ میں دنیا کو اوندھے منہ گرانے والا اور اس کی بساط کا صحیح اندازہ رکھنے والا اور اس کے لائق حال نگاہوں سے دیکھنے والا ہوں۔ [اسی خطبہ کے ذیل میں ترکوں کی حالت کی طرف اشارہ کیا ہے] میں ایسے لوگوں [۲] کو دیکھ رہا ہوں کہ جن کے چہرے ان ڈھالوں کی طرح ہیں کہ جن پر چمڑے کی تہیں منڈھی ہوئی ہوں۔ وہ ابریشم و دیبا کے کپڑے پہنتے ہیں اور اصیل گھوڑوں کو عزیز رکھتے ہیں اور وہاں کشت و خون کی گرم بازاری ہو گی، یہاں تک کہ زخمی کشتوں کے اوپر سے ہو کر گزریں گے اور بچ کر بھاگ نکلنے والے اسیر ہونے والوں سے کم ہوں گے۔ (اس موقع پر) آپؑ کے اصحاب میں سے ایک شخص نے جو قبیلہ بنی کلب سے تھا عرض کیا کہ: یا امیرالمومنینؑ! آپؑ کو تو علم غیب [۳] حاصل ہے۔ جس پر آپؑ ہنسے اور فرمایا: اے برادر کلبی! یہ علم غیب نہیں، بلکہ ایک صاحب علم (رسولؐ) سے معلوم کی ہوئی باتیں ہیں۔علم غیب تو قیامت کی گھڑی اور ان چیزوں کے جاننے کا نام ہے کہ جنہیں اللہ سبحانہ نے ﴿اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ ...﴾ والی آیت میں شمار کیا ہے۔ چنانچہ اللہ ہی جانتا ہے کہ شکموں میں کیا ہے، نر ہے یا مادہ، بد صورت ہے یا خوبصورت، سخی ہے یا بخیل، بدبخت ہے یا خوش نصیب اور کون جہنم کا ایندھن ہو گا اور کون جنت میں نبیوں کا رفیق ہو گا۔ یہ وہ علم غیب ہے جسے اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ رہا دوسری چیزوں کا علم تو وہ اللہ نے اپنے نبیؐ کو دیا اور نبیؐ نے مجھے بتایا اور میرے لئے دُعا فرمائی کہ میرا سینہ انہیں محفوظ رکھے اور میری پسلیاں انہیں سمیٹے رہیں۔

  127. خطبہ 127- دنیا کی بے ثباتی اور اہل دنیا کی حالت

    127

    فَإِنْ أَبَيْتُمْ إِلَّا أَنْ تَزْعُمُوا أَنِّي أَخْطَأْتُ وَ ضَلَلْتُ فَلِمَ تُضَلِّلُونَ عَامَّةَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه واله بِضَلَالِي وَ تَأْخُذُونَهُمْ بِخَطَائِي وَ تُكَفِّرُونَهُمْ بِذُنُوبِي سُيُوفُكُمْ عَلَى عَوَاتِقِكُمْ تَضَعُونَهَا مَوَاضِعَ الْبُرْءِ وَ السُّقْمِ وَ تَخْلِطُونَ مَنْ أَذْنَبَ بِمَنْ لَمْ يُذْنِبْ وَ قَدْ عَلِمْتُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه واله رَجَمَ الزَّانِيَ الْمُحْصَنَ ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهِ ثُمَّ وَرَّثَهُ أَهْلَهُ وَ قَتَلَ الْقَاتِلَ وَ وَرَّثَ مِيرَاثَهُ أَهْلَهُ وَ قَطَعَ السَّارِقَ وَ جَلَدَ الزَّانِيَ غَيْرَ الْمُحْصَنِ ثُمَّ قَسَّمَ عَلَيْهِمَا مِنَ الْفَيْ‏ءِ وَ نَكَحَا الْمُسْلِمَاتِ فَأَخَذَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ- صلى الله عليه واله- بِذُنُوبِهِمْ وَ أَقَامَ حَقَّ اللَّهِ فِيهِمْ وَ لَمْ يَمْنَعْهُمْ سَهْمَهُمْ مِنَ الْإِسْلَامِ وَ لَمْ يُخْرِجْ أَسْمَاءَهُمْ مِنْ بَيْنِ أَهْلِهِ ثُمَّ أَنْتُمْ شِرَارُ النَّاسِ وَ مَنْ رَمَى بِهِ الشَّيْطَانُ مَرَامِيَهُ وَ ضَرَبَ بِهِ تِيهَهُ وَ سَيَهْلِكُ فِيَّ صِنْفَانِ مُحِبٌّ مُفْرِطٌ يَذْهَبُ بِهِ الْحُبُّ إِلَى غَيْرِ الْحَقِّ وَ مُبْغِضٌ مُفْرِطٌ يَذْهَبُ بِهِ الْبُغْضُ إِلَى غَيْرِ الْحَقِّ وَ خَيْرُ النَّاسِ فِيَّ حَالًا النَّمَطُ الْأَوْسَطُ فَالْزَمُوهُ وَ الْزَمُوا السَّوَادَ الْأَعْظَمَ فَإِنَّ يَدَ اللَّهِ عَلَى الْجَمَاعَةِ وَ إِيَّاكُمْ وَ الْفُرْقَةَ فَإِنَّ الشَّاذَّ مِنَ النَّاسِ لِلشَّيْطَانِ كَمَا أَنَّ الشَّاذَّةَ مِنَ الْغَنَمِ لِلذِّئْبِ أَلَا مَنْ دَعَا إِلَى هَذَا الشِّعَارِ فَاقْتُلُوهُ وَ لَوْ كَانَ تَحْتَ عِمَامَتِي هَذِهِ وَ إِنَّمَا حُكِّمَ الْحَكَمَانِ لِيُحْيِيَا مَا أَحْيَا الْقُرْآنُ وَ يُمِيتَا مَا أَمَاتَ الْقُرْآنُ وَ إِحْيَاؤُهُ الِاجْتِمَاعُ عَلَيْهِ وَ إِمَاتَتُهُ الِافْتِرَاقُ عَنْهُ فَإِنْ جَرَّنَا الْقُرْآنُ إِلَيْهِمُ اتَّبَعْنَاهُمْ وَ إِنْ جَرَّهُمْ إِلَيْنَا اتَّبَعُونَا فَلَمْ آتِ لَا أَبَا لَكُمْ بُجْراً وَ لَا خَتَلْتُكُمْ عَنْ أَمْرِكُمْ وَ لَا لَبَّسْتُهُ عَلَيْكُمْ إِنَّمَا اجْتَمَعَ رَأْيُ مَلَئِكُمْ عَلَى اخْتِيَارِ رَجُلَيْنِ أَخَذْنَا عَلَيْهِمَا أَلَّا يَتَعَدَّيَا الْقُرْآنَ فَتَاهَا عَنْهُ وَ تَرَكَا الْحَقَّ وَ هُمَا يُبْصِرَانِهِ وَ كَانَ الْجَوْرُ هَوَاهُمَا فَمَضَيَا عَلَيْهِ وَ قَدْ سَبَقَ اسْتِثْنَاؤُنَا عَلَيْهِمَا فِي الْحُكُومَةِ بِالْعَدْلِ وَ الصَّمْدِ لِلْحَقِّ سُوءَ رَأْيِهِمَا وَ جَوْرَ حُكْمِهِمَا

    جس میں آپؑ نے پیمانوں اور ترازوؤں کا ذکر فرمایا ہے اللہ کے بندو! تم اور تمہاری اس دنیا سے بندھی ہوئی امیدیں مقررہ مدت کی مہمان ہیں اور ایسے قرضدار جن سے ادائیگی کا تقاضا کیا جا رہا ہے۔ عمر ہے جو گھٹتی جا رہی ہے اور اعمال ہیں جو محفوظ ہو رہے ہیں۔ بہت سے دوڑ دھوپ کرنے والے اپنی محنت اَکارت کرنے والے ہیں اور بہت سے سعی و کوشش میں لگے رہنے والے گھاٹے میں جا رہے ہیں۔ تم ایسے زمانے میں ہو کہ جس میں بھلائی کے قدم پیچھے ہٹ رہے ہیں اور برائی آگے بڑھ رہی ہے اور لوگوں کو تباہ کرنے میں شیطان کی حرص تیز ہوتی جا رہی ہے۔ چنانچہ یہی وہ وقت ہے کہ اس (کے ہتھکنڈوں) کا سرو سامان مضبوط ہو چکا ہے اور اس کی سازشیں پھیل رہی ہیں اور اس کے شکار آسانی سے پھنس رہے ہیں۔ جدھر چاہو لوگوں پر نگاہ دوڑاؤ، تم یہی دیکھو گے کہ ایک طرف کوئی فقیر فقر و فاقہ جھیل رہا ہے اور دوسری طرف دولت مند نعمتوں کو کفرانِ نعمت سے بدل رہا ہے اور کوئی بخیل اللہ کے حق کو دبا کر مال بڑھا رہا ہے اور کوئی سرکش پند و نصیحت سے کان بند کئے پڑا ہے۔ کہاں ہیں تمہارے نیک اور صالح افراد؟ اور کہاں ہیں تمہارے عالی حوصلہ اور کریم النفس لوگ؟ کہاں ہیں کاروبار میں (دَغا و فریب) سے بچنے والے اور اپنے طور طریقوں میں پاک و پاکیزہ رہنے والے؟ کیا وہ سب کے سب اس ذلیل اور زندگی کا مزا کرکرا کرنے والی تیز رو دنیا سے گزر نہیں گئے اور کیا تم ان کے بعد ایسے رذیل اور ادنیٰ لوگوں میں نہیں رہ گئے کہ جن کے مرتبہ کو پست و حقیر سمجھتے ہوئے اور ان کے ذکر سے پہلو بچاتے ہوئے ہونٹ ان کی مذمت میں بھی کھلنا گوارا نہیں کرتے۔ ﴿ اِنَّا لِلہِ وَاِنَّآ اِلَيْہِ رٰجِعُوْنَ﴾، فساد اُبھر آیا ہے، برائی کا وہ دور ایسا ہے کہ انقلاب کے کوئی آثار نہیں اور نہ کوئی روک تھام کرنے والا ہے جو خود بھی باز رہے۔ کیا انہی کرتوتوں سے جنت میں اللہ کے پڑوس میں بسنے اور اس کا گہرا دوست بننے کا ارادہ ہے؟ ارے توبہ! اللہ کو دھوکا دے کر اس سے جنت نہیں لی جا سکتی اور بغیر اس کی اطاعت کے اس کی رضامندیاں حاصل نہیں ہو سکتیں۔ خدا ان لوگوں پر لعنت کرے کہ جو اوروں کو بھلائی کا حکم دیں اور خود اسے چھوڑ بیٹھیں اور دوسروں کو بری باتوں سے روکیں اور خود ان پر عمل کرتے ہیں۔

  128. خطبہ 128- حضرت ابوذر کو مدینہ بدر کیا گیا تو فرمایا

    128

    يَا أَحْنَفُ كَأَنِّي بِهِ وَ قَدْ سَارَ بِالْجَيْشِ الَّذِي لَا يَكُونُ لَهُ غُبَارٌ وَ لَا لَجَبٌ وَ لَا قَعْقَعَةُ لُجُمٍ وَ لَا حَمْحَمَةُ خَيْلٍ يُثِيرُونَ الْأَرْضَ بِأَقْدَامِهِمْ كَأَنَّهَا أَقْدَامُ النَّعَامِ قال الشريف الرضي: يومئ بذلك إلى صاحب الزنج ثُمَّ قَالَ عليه السلام: وَيْلٌ لِسِكَكِكُمُ الْعَامِرَةِ وَ الدُّورِ الْمُزَخْرَفَةِ الَّتِي لَهَا أَجْنِحَةٌ كَأَجْنِحَةِ النُّسُورِ وَ خَرَاطِيمُ كَخَرَاطِيمِ الْفِيَلَةِ مِنْ أُولَئِكَ الَّذِينَ لَا يُنْدَبُ قَتِيلُهُمْ وَ لَا يُفْقَدُ غَائِبُهُمْ أَنَا كَابُّ الدُّنْيَا لِوَجْهِهَا وَ قَادِرُهَا بِقَدْرِهَا وَ نَاظِرُهَا بِعَيْنِهَا منه و منه في وصف الأتراك كَأَنِّي أَرَاهُمْ قَوْماً كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ يَلْبَسُونَ السَّرَقَ‏وَ الدِّيبَاجَ وَ يَعْتَقِبُونَ الْخَيْلَ الْعِتَاقَ وَ يَكُونُ هُنَاكَ اسْتِحْرَارُ قَتْلٍ حَتَّى يَمْشِيَ الْمَجْرُوحُ عَلَى الْمَقْتُولِ وَ يَكُونَ الْمُفْلِتُ أَقَلَّ مِنَ الْمَأْسُورِ فَقَالَ لَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ لَقَدْ أُعْطِيتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عِلْمَ الْغَيْبِ فَضَحِكَ عليه السلام وَ قَالَ لِلرَّجُلِ وَ كَانَ كَلْبِيّاً يَا أَخَا كَلْبٍ لَيْسَ هُوَ بِعِلْمِ غَيْبٍ وَ إِنَّمَا هُوَ تَعَلُّمٌ مِنْ ذِي عِلْمٍ وَ إِنَّمَا عِلْمُ الْغَيْبِ عِلْمُ السَّاعَةِ وَ مَا عَدَّدَهُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ بِقَوْلِهِ «إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَ يُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَ يَعْلَمُ ما فِي الْأَرْحامِ وَ ما تَدْرِي نَفْسٌ ما ذا تَكْسِبُ غَداً وَ ما تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ...» فَيَعْلَمُ سُبْحَانَهُ مَا فِي الْأَرْحَامِ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَ قَبِيحٍ أَوْ جَمِيلٍ وَ سَخِيٍّ أَوْ بَخِيلٍ وَ شَقِيٍّ أَوْ سَعِيدٍ وَ مَنْ يَكُونُ فِي النَّارِ حَطَباً أَوْ فِي الْجِنَانِ لِلنَّبِيِّينَ مُرَافِقاً فَهَذَا عِلْمُ الْغَيْبِ الَّذِي لَا يَعْلَمُهُ أَحَدٌ إِلَّا اللَّهُ وَ مَا سِوَى ذَلِكَ فَعِلْمٌ عَلَّمَهُ اللَّهُ نَبِيَّهُ صلى الله عليه واله فَعَلَّمَنِيهِ وَ دَعَا لِي بِأَنْ يَعِيَهُ صَدْرِي وَ تَضْطَمَّ عَلَيْهِ جَوَانِحِي

    جب حضرت ابو ذرؓ کو ربذہ کی طرف جلا وطن [۱] کیا گیا تو ان سے خطاب کر کے فرمایا: اے ابو ذر! تم اللہ کیلئے غضب ناک ہوئے ہو تو پھر جس کی خاطر یہ تمام غم و غصہ ہے اسی سے امید بھی رکھو۔ ان لوگوں کو تم سے اپنی دنیا کے متعلق خطرہ ہے اور تمہیں ان سے اپنے دین کے متعلق اندیشہ ہے، لہٰذا جس چیز کیلئے انہیں تم سے کھٹکا ہے وہ انہیں کے ہاتھ میں چھوڑو اور جس شے کیلئے تمہیں ان سے اندیشہ ہے اسے لے کر ان سے بھاگ نکلو۔ جس چیز سے تم انہیں محروم کر کے جا رہے ہو (کاش کہ وہ سمجھتے کہ) وہ اس کے کتنے حاجتمند ہیں اور جس چیز کو انہوں نے تم سے روک لیا ہے اس سے تم بہت ہی بے نیاز ہو اور جلد ہی تم جان لو گے کہ کل فائدہ میں رہنے والا کون ہے اور کس پر حسد کرنے والے زیادہ ہیں۔ اگر یہ آسمان و زمین کسی بندے پر بند پڑے ہوں اور وہ اللہ سے ڈرے تو وہ اس کیلئے زمین و آسمان کی راہیں کھول دے گا۔ تمہیں صرف حق سے دلچسپی ہونا چاہیے اور صرف باطل ہی سے گھبرانا چاہیے۔ اگر تم ان کی دنیا قبول کر لیتے تو وہ تمہیں چاہنے لگتے اور تم اس میں کوئی حصہ اپنے لئے مقرر کرا لیتے تو وہ تم سے مطمئن ہو جاتے۔

  129. خطبہ 129- خلافت کو قبول کرنے کی وجہ اور والی و حاکم کے اوصاف

    129

    عِبَادَ اللَّهِ إِنَّكُمْ وَ مَا تَأْمُلُونَ مِنْ هَذِهِ الدُّنْيَا أَثْوِيَاءُ مُؤَجَّلُونَ وَ مَدِينُونَ مُقْتَضَوْنَ أَجَلٌ مَنْقُوصٌ وَ عَمَلٌ مَحْفُوظٌ فَرُبَّ دَائِبٍ مُضَيِّعٌ وَ رُبَّ كَادِحِ خَاسِرٌ وَ قَدْ أَصْبَحْتُمْ فِي زَمَنٍ لَا يَزْدَادُ الْخَيْرُ فِيهِ إِلَّا إِدْبَاراً وَ الشَّرُّ فِيهِ إِلَّا إِقْبَالًا وَ الشَّيْطَانُ فِي هَلَاكِ النَّاسِ إِلَّا طَمَعاً فَهَذَا أَوَانٌ قَوِيَتْ عُدَّتُهُ وَ عَمَّتْ مَكِيدَتُهُ وَ أَمْكَنَتْ فَرِيسَتُهُ اضْرِبْ بِطَرْفِكَ حَيْثُ شِئْتَ مِنَ النَّاسِ فَهَلْ تُبْصِرُ إِلَّا فَقِيراً يُكَابِدُ فَقْراً أَوْ غَنِيّاً بَدَّلَ نِعْمَةَ اللَّهِ كُفْراً أَوْ بَخِيلًا اتَّخَذَ الْبُخْلَ بِحَقِّ اللَّهِ وَفْراً أَوْ مُتَمَرِّداً كَأَنَّ بِأُذُنِهِ عَنْ سَمْعِ الْمَوَاعِظِ وَقْراً أَيْنَ خِيَارُكُمْ وَ صُلَحَاؤُكُمْ وَ أَحْرَارُكُمْ وَ سُمَحَاؤُكُمْ وَ أَيْنَ الْمُتَوَرِّعُونَ فِي مَكَاسِبِهِمْ وَ الْمُتَنَزِّهُونَ فِي مَذَاهِبِهِمْ أَ لَيْسَ قَدْ ظَعَنُوا جَمِيعاً عَنْ هَذِهِ الدُّنْيَا الدَّنِيَّةِ وَ الْعَاجِلَةِ الْمُنَغَّصَةِ وَ هَلْ خُلِّفْتُمْ إِلَّا فِي حُثَالَةٍ لَا تَلْتَقِي بِذَمِّهِمُ الشَّفَتَانِ اسْتِصْغَاراً لِقَدْرِهِمْ وَ ذَهَاباً عَنْ ذِكْرِهِمْ فَ «إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ» ظَهَرَ الْفَسَادُ فَلَا مُنْكِرٌ مُغَيِّرٌ وَ لَا زَاجِرٌ مُزْدَجِرٌ أَ فَبِهَذَا تُرِيدُونَ أَنْ تُجَاوِرُوا اللَّهَ فِي دَارِ قُدْسِهِ وَ تَكُونُوا أَعَزَّ أَوْلِيَائِهِ عِنْدَهُ هَيْهَاتَ لَا يُخْدَعُ اللَّهُ عَنْ جَنَّتِهِ وَ لَا تُنَالُ مَرْضَاتُهُ إِلَّا بِطَاعَتِهِ لَعَنَ اللَّهُ الْآمِرِينَ بِالْمَعْرُوفِ التَّارِكِينَ لَهُ وَ النَّاهِينَ عَنِ الْمُنْكَرِ الْعَامِلِينَ بِهِ

    اے الگ الگ طبیعتوں اور پراگندہ دل و دماغ والو کہ جن کے جسم موجود اور عقلیں گم ہیں، میں تمہیں نرمی و شفقت سے حق کی طرف لانا چاہتا ہوں اور تم اس سے اس طرح بھڑک اٹھتے ہو جس طرح شیر کے ڈکارنے سے بھیڑ بکریاں۔ کتنا دشوار ہے کہ میں تمہارے سہارے پر چھپے ہوئے عدل کو ظاہر کروں یا حق میں پیدا کی ہوئی کجیوں کو سیدھا کروں۔ بار الٰہا! تو خوب جانتا ہے کہ یہ جو کچھ بھی ہم سے (جنگ و پیکار کی صورت میں) ظاہر ہوا اِس لئے نہیں تھا کہ ہمیں تسلط و اقتدار کی خواہش تھی یا مال دنیا کی طلب تھی، بلکہ یہ اس لئے تھا کہ ہم دین کے نشانات کو (پھر ان کی جگہ پر) پلٹائیں اور تیرے شہروں میں امن و بہبودی کی صورت پیدا کریں تاکہ تیرے ستم رسیدہ بندوں کو کوئی کھٹکا نہ رہے اور تیرے وہ احکام (پھر سے) جاری ہو جائیں جنہیں بیکار بنا دیا گیا ہے۔ اے اللہ! میں پہلا شخص ہوں جس نے تیری طرف رجوع کی اور تیرے حکم کو سن کر لبیک کہی اور رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی نے بھی نماز پڑھنے میں مجھ پر سبقت نہیں کی۔ (اے لوگو!) تمہیں یہ معلوم ہے کہ ناموس، خون، مالِ غنیمت، (نفاذ) احکام اور مسلمانوں کی پیشوائی کیلئے کسی طرح مناسب نہیں کہ کوئی بخیل حاکم ہو، کیونکہ اس کا دانت مسلمانوں کے مال پر لگا رہے گا اور نہ کوئی جاہل کہ وہ انہیں اپنی جہالت کی وجہ سے گمراہ کرے گا اور نہ کوئی کج خلق کہ وہ اپنی تند مزاجی سے چرکے لگاتا رہے گا اور نہ کوئی مال و دولت میں بے راہ روی کرنے والا کہ وہ کچھ لوگوں کو دے گا اور کچھ کو محروم کر دے گا اور نہ فیصلہ کرنے میں رشوت لینے والا کہ وہ (دوسروں کے) حقوق کو رائیگاں کر دے گا اور انہیں انجام تک نہ پہنچائے گا اور نہ کوئی سنت کو بیکار کر دینے والا کہ وہ اُمت کو تباہ و برباد کر دے گا۔

  130. خطبہ 130- موت سے ڈرانے اور پند و نصیحت کے سلسلہ میں فرمایا

    130

    يَا أَبَاذَرٍّ إِنَّكَ غَضِبْتَ لِلَّهِ فَارْجُ مَنْ غَضِبْتَ لَهُ إِنَّ الْقَوْمَ خَافُوكَ‏ عَلَى دُنْيَاهُمْ وَ خِفْتَهُمْ عَلَى دِينِكَ فَاتْرُكْ فِي أَيْدِيهِمْ مَا خَافُوكَ عَلَيْهِ وَ اهْرُبْ مِنْهُمْ بِمَا خِفْتَهُمْ عَلَيْهِ فَمَا أَحْوَجَهُمْ إِلَى مَا مَنَعْتَهُمْ وَ مَا أَغْنَاكَ عَمَّا مَنَعُوكَ وَ سَتَعْلَمُ مَنِ الرَّابِحُ غَداً وَ الْأَكْثَرُ حُسَّداً وَ لَوْ أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرَضِينَ كَانَتَا عَلَى عَبْدٍ رَتْقاً ثُمَّ اتَّقَى اللَّهَ لَجَعَلَ اللَّهُ لَهُ مِنْهُمَا مَخْرَجاً لَا يُونِسَنَّكَ إِلَّا الْحَقُّ وَ لَا يُوحِشَنَّكَ إِلَّا الْبَاطِلُ فَلَوْ قَبِلْتَ دُنْيَاهُمْ لَأَحَبُّوكَ وَ لَوْ قَرَضْتَ مِنْهَا لَأَمَّنُوكَ

    وہ جو کچھ لے اور جو کچھ دے اور جو نعمتیں بخشے اور جن آزمائشوں میں ڈالے (سب پر) ہم اس کی حمد و ثنا کرتے ہیں۔ وہ ہر چھپی ہوئی چیز کی گہرائیوں سے آگاہ اور ہر پوشیدہ شے پر حاضر و ناظر ہے۔ وہ سینوں میں چھپی ہوئی چیزوں اور آنکھوں کے چوری چھپے اشاروں کا جاننے والا ہے۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اس کے برگزیدہ (بندے) اور فرستادہ (رسول) ہیں۔ ایسی گواہی کہ جس میں ظاہر و باطن یکساں اور دل و زبان ہمنوا ہیں۔ [اسی خطبہ کا ایک جز یہ ہے] خدا کی قسم! وہ چیز جو سرا سر حقیقت ہے ہنسی کھیل نہیں اور سرتاپا حق ہے جھوٹ نہیں، وہ صرف موت ہے۔ اس کے پکارنے والے نے اپنی آواز پہنچا دی ہے اور اس کے ہنکانے والے نے جلدی مچا رکھی ہے۔ یہ (زندہ ) لوگوں کی کثرت تمہارے نفس کو دھوکا نہ دے (کہ اپنی موت کو بھول جاؤ)۔ تم ان لوگوں کو جو تم سے پہلے تھے، جنہوں نے مال و دولت کو سمیٹا تھا، جو افلاس سے ڈرتے تھے اور امیدوں کی درازی اور موت کی دوری کا (فریب کھا کر) نتائج سے بے خوف بن چکے تھے، دیکھ چکے ہو کہ کس طرح موت ان پر ٹوٹ پڑی کہ انہیں وطن سے نکال باہر کیا اور ان کی جائے امن سے انہیں اپنی گرفت میں لے لیا، اس عالم میں کہ وہ تابوت پر لدے ہوئے تھے اور لوگ یکے بعد دیگرے کندھا دے رہے تھے اور اپنی انگلیوں (کے سہارے) سے روکے ہوئے تھے۔ کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا کہ جو دور کی امیدیں لگائے بیٹھے تھے، جنہوں نے مضبوط محل بنائے تھے اور ڈھیروں مال جمع کیا تھا، کس طرح ان کے گھر قبروں میں بدل گئے اور جمع پونجی تباہ ہو گئی اور ان کا مال وارثوں کا ہو گیا اور ان کی بیویاں دوسروں کے پاس پہنچ گئیں۔ (اب) نہ وہ نیکیوں میں کچھ اضافہ کر سکتے ہیں اور نہ اس کا کوئی موقعہ ہے کہ وہ کسی گناہ کے بعد (توبہ کر کے) اللہ کی رضا مندیاں حاصل کر لیں۔ جس شخص نے اپنے دل کو تقویٰ شعار بنا لیا وہ بھلائیوں میں سبقت لے گیا اور اس کا کیا کرایا سوارت ہوا۔ تقویٰ حاصل کرنے کا موقعہ غنیمت سمجھو اور جنت کیلئے جو عمل ہونا چاہیے اسے انجام دو، کیونکہ دنیا تمہاری قیام گاہ نہیں بنائی گئی، بلکہ یہ تو تمہارے لئے گزر گاہ ہے، تاکہ تم اس سے اپنی مستقل قیام گاہ کیلئے زاد اکٹھا کر سکو۔ اس دنیا سے چل نکلنے کیلئے آمادہ رہو اور کوچ کیلئے سواریاں اپنے سے قریب کر لو (کہ وقت آنے پر با آسانی سوار ہو سکو)۔

  131. خطبہ 131- خداوند ِعالم کی عظمت، قرآن کی اہمیت اور پیغمبرﷺ کی بعثت

    131

    أَيَّتُهَا النُّفُوسُ الْمُخْتَلِفَةُ وَ الْقُلُوبُ الْمُتَشَتِّتَةُ الشَّاهِدَةُ أَبْدَانُهُمْ وَ الْغَائِبَةُ عَنْهُمْ عُقُولُهُمْ أَظْأَرُكُمْ عَلَى الْحَقِّ وَ أَنْتُمْ تَنْفِرُونَ عَنْهُ نُفُورَ الْمِعْزَى مِنْ وَعْوَعَةِ الْأَسَدِ هَيْهَاتَ أَنْ أُطْلِعَ بِكُمْ سَرَارَ الْعَدْلِ أَوْ أُقِيمَ اعْوِجَاجَ الْحَقِّ اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنَّهُ لَمْ يَكُنِ الَّذِي كَانَ مِنَّا مُنَافَسَةً فِي سُلْطَانٍ وَ لَا الْتِمَاسَ شَيْ‏ءٍ مِنْ فُضُولِ الْحُطَامِ وَ لَكِنْ لِنَرُدَّ الْمَعَالِمَ مِنْ دِينِكَ وَ نُظْهِرَ الْإِصْلَاحَ فِي بِلَادِكَ فَيَأْمَنَ الْمَظْلُومُونَ مِنْ عِبَادِكَ وَ تُقَامَ الْمُعَطَّلَةُ مِنْ حُدُودِكَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَوَّلُ مَنْ أَنَابَ وَ سَمِعَ وَ أَجَابَ لَمْ يَسْبِقْنِي إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه واله بِالصَّلَاةِ وَ قَدْ عَلِمْتُمْ أَنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ الْوَالِيَ عَلَى الْفُرُوجِ وَ الدِّمَاءِ وَ الْمَغَانِمِ وَ الْأَحْكَامِ وَ إِمَامَةِ الْمُسْلِمِينَ الْبَخِيلُ فَتَكُونَ فِي أَمْوَالِهِمْ نَهْمَتُهُ وَ لَا الْجَاهِلُ فَيُضِلَّهُمْ بِجَهْلِهِ وَ لَا الْجَافِي فَيَقْطَعَهُمْ بِجَفَائِهِ وَ لَا الْحَائِفُ لِلدُّوَلِ فَيَتَّخِذَ قَوْماً دُونَ قَوْمٍ وَ لَا الْمُرْتَشِي فِي الْحُكْمِ فَيَذْهَبَ بِالْحُقُوقِ وَ يَقِفَ بِهَا دُونَ الْمَقَاطِعِ وَ لَا الْمُعَطِّلُ لِلسُّنَّةِ فَيُهْلِكَ الْأُمَّةَ

    دنیا و آخرت اپنی باگ ڈور اللہ کو سونپے ہوئے اس کے زیر ِفرمان ہے اور آسمان و زمین نے اپنی کنجیاں اس کے آگے ڈال دی ہیں اور تر و تازہ و شاداب درخت صبح و شام اس کے آگے سر بسجود ہیں اور اپنی شاخوں سے چمکتی ہوئی آگ (کے شعلے) بھڑکاتے ہیں اور اس کے حکم سے (پھل پھول کر) پکے ہوئے میووں (کی ڈالیاں) پیش کرتے ہیں۔ [اسی خطبہ کا ایک جز یہ ہے] اللہ کی کتاب تمہارے سامنے اس طرح (کھل کر) بولنے والی ہے کہ اس کی زبان کہیں لڑکھڑاتی نہیں اور ایسا گھر ہے جس کے کھمبے سرنگوں نہیں ہوتے اور ایسی عزت ہے کہ اس کے معاون شکست نہیں کھاتے۔ [اسی خطبہ کے ذیل میں فرمایا] اللہ نے آپؐ کو اس وقت بھیجا جب کہ رسولوں کی بعثت کا سلسلہ رکا پڑا تھا اور لوگوں میں جتنے منہ تھے اتنی باتیں تھیں۔ چنانچہ آپؐ کو سب رسولوں سے آخر میں بھیجا اور آپؐ کے ذریعہ سے وحی کا سلسلہ ختم کیا۔ آپؐ نے اللہ کى راہ میں ان لوگوں سے جہاد کیا جو اس سے پیٹھ پھرائے ہوئے تھے اور دوسروں کو اس کا ہمسر ٹھہرا رہے تھے۔ [اسی خطبہ کا ایک جز یہ ہے] (دل کے) اندھے کا منتہائے نظر یہی دنیا ہوتی ہے کہ اسے اس کے سوا کچھ نظر نہیں آتا اور نظر رکھنے والے کی نگاہیں اس سے پار چلی جاتی ہیں اور وہ اس امر کا یقین رکھتا ہے کہ اس کے بعد بھی ایک گھر ہے۔ نگاہ رکھنے والا اس سے نکلنا چاہتا ہے اور اندھا اسی پر نظریں جمائے رہتا ہے۔ بابصیرت اس سے (آخرت کیلئے) زاد حاصل کرتا ہے اور بے بصیرت اسی کے سرو سامان میں لگا رہتا ہے۔ [اسی خطبہ کا ایک جز یہ ہے] تمہیں جاننا چاہیے کہ ہر شے سے آدمی کبھی کبھی سیر ہو جاتا ہے اور اُکتا جاتا ہے سوا زند گی کے کہ وہ کبھی مرنے میں راحت نہیں محسوس کرتا اور یہ اس حکمت کی طرح ہے کہ جو قلب مردہ کیلئے حیات، اندھی آنکھوں کیلئے بینائی، بہرے کانوں کیلئے شنوائی اور تشنہ کام کیلئے سیرابی ہے اور اسی میں پورا پورا سامان کفایت و سرو سامان حفاظت ہے۔ یہ اللہ کی کتاب ہے کہ جس کے ذریعہ تمہیں سجھائی دیتا ہے اور تمہاری زبان میں گویائی آتی ہے اور (حق کی آواز) سنتے ہو۔ اس کے کچھ حصے کچھ حصوں کی وضاحت کرتے ہیں اور بعض بعض کی (صداقت کی) گواہی دیتے ہیں۔ یہ ذاتِ الٰہی کے متعلق الگ الگ نظریئے نہیں پیش کرتا اور نہ اپنے ساتھی کو اس کی راہ سے ہٹا کر کسی اور راہ پر لگا دیتا ہے۔ (مگر) تم نے دلی کدورتوں اور گھورے پر اُگے ہوئے سبزہ کی خواہش پر ایکا کر لیا ہے۔ امیدوں کی چاہت پر تو تم میں صلح صفائی ہے اور مال کے کمانے پر ایک دوسرے سے دشمنی رکھتے ہو۔ تمہیں (شیطان ) خبیث نے بھٹکا دیا ہے اور فریبوں نے تمہیں بہکا رکھا ہے۔ میرے اور تمہارے نفسوں کے مقابل میں اللہ ہی مدد گار ہے۔

  132. خطبہ 132- جب مغیرہ بن اخنس نے عثمان کی حمایت میں بولنا چاہا تو فرمایا

    132

    نَحْمَدُهُ عَلَى مَا أَخَذَ وَ أَعْطَى وَ عَلَى مَا أَبْلَى وَ ابْتَلَى الْبَاطِنُ لِكُلِّ خَفِيَّةٍ وَ الْحَاضِرُ لِكُلِّ سَرِيرَةٍ الْعَالِمُ بِمَا تُكِنُّ الصُّدُورُ وَ مَا تَخُونُ الْعُيُونُ وَ نَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ غَيْرُهُ وَ أَنَّ مُحَمَّداً صلى الله عليه واله نَجِيبُهُ وَ بَعِيثُهُ شَهَادَةً يُوَافِقُ فِيهَا السِّرُّ الْإِعْلَانَ وَ الْقَلْبُ اللِّسَانَ منها فَإِنَّهُ وَ اللَّهِ الْجِدُّ لَا اللَّعِبُ وَ الْحَقُّ لَا الْكَذِبُ وَ مَا هُوَ إِلَّا الْمَوْتُ قَدْ أَسْمَعَ دَاعِيهِ وَ أَعْجَلَ حَادِيهِ فَلَا يَغُرَّنَّكَ سَوَادُ النَّاسِ مِنْ نَفْسِكَ فَقَدْ رَأَيْتَ مَنْ كَانَ قَبْلَكَ مِمَّنْ جَمَعَ الْمَالَ وَ حَذِرَ الْإِقْلَالَ وَ أَمِنَ الْعَوَاقِبَ طُولَ أَمَلٍ وَ اسْتِبْعَادَ أَجَلٍ كَيْفَ نَزَلَ بِهِ الْمَوْتُ فَأَزْعَجَهُ عَنْ‏ وَطَنِهِ وَ أَخَذَهُ مِنْ مَأْمَنِهِ مَحْمُولًا عَلَى أَعْوَادِ الْمَنَايَا يَتَعَاطَى بِهِ الرِّجَالُ الرِّجَالَ حَمْلًا عَلَى الْمَنَاكِبِ وَ إِمْسَاكاً بالْأَنَامِلِ أَمَا رَأَيْتُمُ الَّذِينَ يَأْمُلُونَ بَعِيداً وَ يَبْنُونَ مَشِيداً وَ يَجْمَعُونَ كَثِيراً كَيْفَ أَصْبَحَتْ بُيُوتُهُمْ قُبُوراً وَ مَا جَمَعُوا بُوراً وَ صَارَتْ أَمْوَالُهُمْ لِلْوَارِثِينَ وَ أَزْوَاجُهُمْ لِقَوْمٍ آخَرِينَ لَا فِي حَسَنَةٍ يَزِيدُونَ وَ لَا مِنْ سَيِّئَةٍ يَسْتَعْتِبُونَ فَمَنْ أَشْعَرَ التَّقْوَى قَلْبَهُ بَرَّزَ مَهَلُهُ وَ فَازَ عَمَلُهُ فَاهْتَبِلُوا هَبَلَهَا وَ اعْمَلُوا لِلْجَنَّةِ عَمَلَهَا فَإِنَّ الدُّنْيَا لَمْ تُخْلَقْ لَكُمْ دَارَ مُقَامٍ بَلْ خُلِقَتْ لَكُمْ مَجَازاً لِتَزَوَّدُوا مِنْهَا الْأَعْمَالَ إِلَى دَارِ الْقَرَارِ فَكُونُوا مِنْهَا عَلَى أَوْفَازٍ وَ قَرِّبُوا الظُّهُورَ لِلزِّيَالِ

    جب حضرت عمر ابن خطاب [۱] نے غزوہ روم میں شرکت کیلئے حضرتؑ سے مشورہ لیا تو آپؑ نے فرمایا: اللہ نے دین والوں کی حدوں کو تقویت پہنچانے اور ان کی غیر محفوظ جگہوں کو (دشمن کی) نظر سے بچائے رکھنے کا ذمہ لے لیا ہے۔ وہی خدا (اب بھی) زندہ و غیر فانی ہے کہ جس نے اس وقت ان کی تائید و نصرت کی تھی جبکہ وہ اتنے تھوڑے تھے کہ دشمن سے انتقام نہیں لے سکتے تھے اور ان کی حفاظت کی جب وہ اتنے کم تھے کہ اپنے کو محفوظ نہیں رکھ سکتے تھے۔ تم اگر خود ان دشمنوں کی طرف بڑھے اور ان سے ٹکرائے اور کسی افتاد میں پڑ گئے تو اس صورت میں مسلمانوں کیلئے دور کے شہروں کے پہلے کوئی ٹھکانا نہ رہے گا اور نہ تمہارے بعد کوئی ایسی پلٹنے کی جگہ ہو گی کہ اس کی طرف پلٹ کر آ سکیں۔ تم ان کی طرف (اپنے بجائے) کوئی تجربہ کار آدمی بھیجو اور اس کے ساتھ اچھی کارکردگی والے اور خیر خواہی کرنے والے لوگوں کو بھیج دو۔ اگر اللہ نے غلبہ دے دیا تو تم یہی چاہتے ہو اور اگر دوسری صورت (شکست) ہو گئی تو تم لوگوں کیلئے ایک مددگار اور مسلمانوں کیلئے پلٹنے كا مقام ہو گے۔

  133. خطبہ 133- غزوہ روم میں شرکت کے لیے مشورہ مانگا گیا تو فرمایا

    133

    وَ انْقَادَتْ لَهُ الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةُ بِأَزِمَّتِهَا وَ قَذَفَتْ إِلَيْهِ السَّمَاوَاتُ وَ الْأَرَضُونَ مَقَالِيدَهَا وَ سَجَدَتْ لَهُ بِالْغُدُوِّ وَ الْآصَالِ الْأَشْجَارُ النَّاضِرَةُ وَ قَدَحَتْ لَهُ مِنْ قُضْبَانِهَا النِّيرَانُ الْمُضِيئَةُ وَ آتَتْ أُكُلَهَا بِكَلِمَاتِهِ الثِّمَارُ الْيَانِعَةُ منها: خصائص القرآن وَ كِتَابُ اللَّهِ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ نَاطِقٌ لَا يَعْيَى لِسَانُهُ وَ بَيْتٌ لَا تُهْدَمُ أَرْكَانُهُ وَ عِزٌّ لَا تُهْزَمُ أَعْوَانُهُ منها: خصائص النبی (ص) أَرْسَلَهُ عَلَى حِينِ فَتْرَةٍ مِنَ الرُّسُلِ وَ تَنَازُعٍ مِنَ الْأَلْسُنِ فَقَفَّى بِهِ الرُّسُلَ وَ خَتَمَ بِهِ الْوَحْيَ فَجَاهَدَ فِي اللَّهِ الْمُدْبِرِينَ عَنْهُ وَ الْعَادِلِينَ بِهِ منها : کیفیة التعامل مع الدّنیا وَ إِنَّمَا الدُّنْيَا مُنْتَهَى بَصَرِ الْأَعْمَى لَا يُبْصِرُ مِمَّا وَرَاءَهَا شَيْئاً وَ الْبَصِيرُ يَنْفُذُهَا بَصَرُهُ وَ يَعْلَمُ أَنَّ الدَّارَ وَرَاءَهَا فَالْبَصِيرُ مِنْهَا شَاخِصٌ وَ الْأَعْمَى إِلَيْهَا شَاخِصٌ وَ الْبَصِيرُ مِنْهَا مُتَزَوِّدٌ وَ الْأَعْمَى لَهَا مُتَزَوِّدٌ منها: في عظة الناس وَ اعْلَمُوا أَنَّهُ لَيْسَ مِنْ شَيْ‏ءٍ إِلَّا وَ يَكَادُ صَاحِبُهُ يَشْبَعُ مِنْهُ وَ يَمَلُّهُ إِلَّا الْحَيَاةَ فَإِنَّهُ لَا يَجِدُ لَهُ فِي الْمَوْتِ رَاحَةً وَ إِنَّمَا ذَلِكَ بِمَنْزِلَةِ الْحِكْمَةِ الَّتِي هِيَ حَيَاةٌ لِلْقَلْبِ الْمَيِّتِ وَ بَصَرٌ لِلْعَيْنِ الْعَمْيَاءِ وَ سَمْعٌ لِلْأُذُنِ الصَّمَّاءِ وَ رِيٌّ لِلظَّمْآنِ وَ فِيهَا الْغِنَى كُلُّهُ وَ السَّلَامَةُ كِتَابُ اللَّهِ تُبْصِرُونَ بِهِ وَ تَنْطِقُونَ بِهِ وَ تَسْمَعُونَ بِهِ وَ يَنْطِقُ بَعْضُهُ بِبَعْضٍ وَ يَشْهَدُ بَعْضُهُ عَلَى بَعْضٍ وَ لَا يَخْتَلِفُ فِي اللَّهِ وَ لَا يُخَالِفُ بِصَاحِبِهِ عَنِ اللَّهِ قَدِ اصْطَلَحْتُمْ عَلَى الْغِلِّ فِيمَا بَيْنَكُمْ وَ نَبَتَ الْمَرْعَى عَلَى دِمَنِكُمْ وَ تَصَافَيْتُمْ عَلَى حُبِّ الْآمَالِ وَ تَعَادَيْتُمْ فِي كَسْبِ الْأَمْوَالِ لَقَدِ اسْتَهَامَ بِكُمُ الْخَبِيثُ وَ تَاهَ بِكُمُ الْغُرُورُ وَ اللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى نَفْسِي وَ أَنْفُسِكُمْ

    آپؑ میں اور عثمان ابن عفان میں کچھ بحث ہوئی تو مغیرہ ابن اخنس نے عثمان سے کہا: میں تمہاری طرف سے نپٹے لیتا ہوں، جس پر آپؑ نے مغیرہ سے کہا: اے بے اولاد لعین [۱] کے بیٹے اور ایسے درخت کے پھل جس کی نہ کوئی جڑ ہے نہ شاخ، تو بھلا مجھ سے کیا نپٹے گا۔ خدا کی قسم! جس کا تجھ ایسا مدد گار ہو، اللہ اسے غلبہ و سرفرازی نہیں دیتا اور جس کا تجھ ایسا ابھارنے والا ہو وہ (اپنے پیروں پر) کھڑا نہیں ہو سکتا۔ ہم سے دور ہو! خدا تیری منزل کو دور ہی رکھے اور اس کے بعد جو بن پڑے کرنا اور اگر کچھ بھی مجھ پر ترس کھائے تو خدا تجھ پر رحم نہ کرے۔

  134. خطبہ 134- اپنی نیت کے اخلاص اور مظلوم کی حمایت کے سلسلہ میں فرمایا

    134

    وَ قَدْ تَوَكَّلَ اللَّهُ لِأَهْلِ هَذَا الدِّينِ بِإِعْزَازِ الْحَوْزَةِ وَ سَتْرِ الْعَوْرَةِ وَ الَّذِي نَصَرَهُمْ وَ هُمْ قَلِيلٌ لَا يَنْتَصِرُونَ وَ مَنَعَهُمْ وَ هُمْ قَلِيلٌ لَا يَمْتَنِعُونَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ إِنَّكَ مَتَى تَسِرْ إِلَى هَذَا الْعَدُوِّ بِنَفْسِكَ فَتَلْقَهُمْ فَتُنْكَبْ لَا تَكُنْ لِلْمُسْلِمِينَ كَانِفَةٌ دُونَ أَقْصَى بِلَادِهِمْ لَيْسَ بَعْدَكَ مَرْجِعٌ يَرْجِعُونَ إِلَيْهِ فَابْعَثْ إِلَيْهِمْ رَجُلًا مِحْرَباً وَ احْفِزْ مَعَهُ أَهْلَ الْبَلَاءِ وَ النَّصِيحَةِ فَإِنْ أَظْهَرَ اللَّهُ فَذَاكَ مَا تُحِبُّ وَ إِنْ تَكُنِ الْأُخْرَى كُنْتَ رِدْءاً لِلنَّاسِ وَ مَثَابَةً لِلْمُسْلِمِينَ

    تم نے میری بیعت اچانک اور بے سوچے سمجھے نہیں کی تھی اور نہ میرا اور تمہارا معاملہ یکساں ہے۔ میں تمہیں اللہ کیلئے چاہتا ہوں اور تم مجھے اپنے شخصی فوائد کیلئے چاہتے ہو۔ اے لوگو! اپنی نفسانی خواہشوں کے مقابلہ میں میری اعانت کرو۔ خدا کی قسم! میں مظلوم کا اس کے ظالم سے بدلہ لوں گا اور ظالم کی ناک میں نکیل ڈال کر اسے سر چشمہ حق تک کھینچ کر لے جاؤں گا۔ اگرچہ اسے یہ ناگوار کیوں نہ گزرے۔

  135. خطبہ 135- طلحہ و زبیر اور خونِ عثمان کے قصاص اور اپنی بیعت کے متعلق

    135

    يَا ابْنَ اللَّعِينِ الْأَبْتَرِ وَ الشَّجَرَةِ الَّتِي لَا أَصْلَ لَهَا وَ لَا فَرْعَ أَنْتَ‏ تَكْفِينِي فَوَ اللَّهِ مَا أَعَزَّ اللَّهُ مَنْ أَنْتَ نَاصِرُهُ وَ لَا قَامَ مَنْ أَنْتَ مُنْهِضُهُ اخْرُجْ عَنَّا أَبْعَدَ اللَّهُ نَوَاكَ ثُمَّ ابْلُغْ جَهْدَكَ فَلَا أَبْقَى اللَّهُ عَلَيْكَ إِنْ أَبْقَيْتَ

    طلحہ و زبیر کے متعلق ارشاد فرمایا خدا کی قسم! انہوں نے مجھ پر کوئی سچا الزام نہیں لگایا اور نہ انہوں نے میرے اور اپنے درمیان انصاف برتا۔ وہ مجھ سے اس حق کا مطالبہ کرتے ہیں جسے خود ہی انہوں نے چھوڑ دیا اور اس خون کا عوض چاہتے ہیں جسے انہوں نے خود بہایا ہے۔ اب اگر اس میں مَیں ان کا شریک تھا تو پھر اس میں ان کا بھی تو حصہ نکلتا ہے اور اگر وہی اس کے مرتکب ہوئے ہیں، میں نہیں تو پھر اس کا مطالبہ صرف انہی سے ہونا چاہیے اور ان کے عدل و انصاف کا پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ وہ اپنے خلاف حکم لگائیں اور میرے ساتھ میری بصیرت کی جلوہ گری ہے، نہ میں نے خود (جان بوجھ کر) کبھی اپنے کو دھوکا دیا اور نہ مجھے واقعی کبھی دھوکا ہوا اور بلا شبہ یہی وہ باغی گروہ ہے جس میں ایک ہمارا سگا (زبیر) اور ایک بچھو کا ڈنک (حمیرا) ہے اور حق پر سیاہ پردے ڈالنے والے شبہے ہیں۔ (اب تو) حقیقت حال کھل کر سامنے آ چکی ہے اور باطل اپنی بنیادوں سے ہل چکا ہے اور شررانگیزی سے اس کی زبان بندی ہو چکی ہے۔ خدا کی قسم! میں ان کیلئے ایک ایسا حوض چھلکاؤں گا جس کا پانی نکالنے والا میں ہوں کہ جس سے سیراب ہو کر پلٹنا ان کے امکان میں نہ ہو گا اور نہ اس کے بعد کوئی گڑھا کھود کر پانی پی سکیں گے۔ [اسی خطبہ کا ایک جز یہ ہے] تم اس طرح (شوق و رغبت سے) بیعت بیعت پکارتے ہوئے میری طرف بڑھے جس طرح نئی بیاہی ہوئی بچوں والی اونٹنیاں اپنے بچوں کی طرف۔ میں نے اپنے ہاتھوں کو اپنی طرف سمیٹا تو تم نے انہیں اپنی جانب پھیلایا۔ میں نے اپنے ہاتھوں کو تم سے چھیننا چاہا مگر تم نے انہیں کھینچا۔ خدایا! ان دونوں نے میرے حقوق کو نظر انداز کیا ہے اور مجھ پر ظلم ڈھایا ہے اور میری بیعت کو توڑ دیا ہے اور میرے خلاف لوگوں کو اکسایا ہے، لہٰذا تو جو انہوں نے گرہیں لگائی ہیں انہیں کھول دے اور جو انہوں نے بٹا ہے اسے مضبوط نہ ہونے دے اور انہیں ان کی امیدوں اور کرتوتوں کا بُرا نتیجہ دکھا۔ میں نے جنگ کے چھڑنے سے پہلے انہیں باز رکھنا چاہا اور لڑائی سے قبل انہیں ڈھیل دیتا رہا، لیکن انہوں نے اس نعمت کی قدر نہ کی اور عافیت کو ٹھکرا دیا۔

  136. خطبہ 136- ظہورِ حضرت قائم علیہ السلام کے وقت دُنیا کی حالت

    136

    لَمْ تَكُنْ بَيْعَتُكُمْ إِيَّايَ فَلْتَةً وَ لَيْسَ أَمْرِي وَ أَمْرُكُمْ وَاحِداً إِنِّي أُرِيدُكُمْ لِلَّهِ وَ أَنْتُمْ تُرِيدُونَنِي لِأَنْفُسِكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ أَعِينُونِي عَلَى أَنْفُسِكُمْ وَ ايْمُ اللَّهِ لَأُنْصِفَنَّ الْمَظْلُومَ وَ لَأَقُودَنَّ الظَّالِمَ بِخِزَامَتِهِ حَتَّى أُورِدَهُ مَنْهَلَ الْحَقِّ وَ إِنْ كَانَ كَارِهاً

    اس میں آنے والے فتنوں اور ہنگاموں کی طرف اشارہ کیا ہے وہ خواہشوں کو ہدایت کی طرف موڑے گا جبکہ لوگوں نے ہدایت کو خواہشوں کی طرف موڑ دیا ہو گا اور ان کی رایوں کو قرآن کی طرف پھیرے گا جب کہ انہوں نے قرآن کو (توڑ مروڑ کر) قیاس و رائے کے دھڑے پر لگا لیا ہو گا۔ [اس خطبہ کا ایک جز یہ ہے [۱] ] (اس داعی حق سے پہلے) یہاں تک نوبت پہنچے گی کہ جنگ اپنے پیروں پر کھڑی ہو جائے گی، دانت نکالے ہوئے اور تھن بھرے ہوئے، جن کا دودھ شیریں و خوش گوار معلوم ہو گا، لیکن اس کا انجام تلخ و ناگوار ہو گا۔ ہاں! کل اور یہ کل بہت نزدیک ہے کہ ایسی چیزوں کو لے کر آ جائے جنہیں ابھی تم نہیں پہچانتے۔ حاکم و والی جو اس جماعت میں سے نہیں ہو گا تمام حکمرانوں سے ان کی بدکرداریوں کی وجہ سے مواخذہ کرے گا اور زمین اس کے سامنے اپنے خزانے انڈیل دے گی اور اپنی کنجیاں بسہولت اس کے آگے ڈال دے گی، چنانچہ وہ تمہیں دکھائے گا کہ حق و عدالت کی روش کیا ہوتی ہے اور وہ دم توڑ چکنے والی کتاب و سنت کو پھر سے زندہ کر دے گا۔ [اسی خطبہ کا ایک جز یہ ہے] گویا یہ منظر میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں کہ وہ [۲] (داعی باطل) شام میں کھڑا ہوا للکار رہا ہے اور کوفہ کے اطراف میں اپنے جھنڈے لہرا رہا ہے اور کاٹ کھانے والی اونٹنی کی طرح اس پر ( حملہ کرنے کیلئے) جھکا ہوا ہے اور اس نے زمین پر سروں کا فرش بچھا دیا ہے۔ اس کا منہ (پھاڑ کھانے کیلئے) کھل چکا ہے اور زمین میں اس کی پامالیاں بہت سخت ہو چکی ہیں وہ دور دور تک بڑھ جانے والا اور بڑے شد و مد سے حملہ کرنے والا ہے۔ بخدا! وہ تمہیں اطراف زمین میں بکھیر دے گا، یہاں تک کہ تم میں سے کچھ تھوڑے ہی بچیں گے جیسے آنکھ میں سرمہ۔ تم اسی سراسیمگی کے عالم میں رہو گے، یہاں تک کہ عربوں کی عقلیں پھر اپنے ٹھکانے پر آ جائیں۔ تم مضبوط طریقوں، روشن نشانیوں اور اسی قریب کے عہد پر جمے رہو کہ جس میں نبوت کے پائیدار آثار ہیں اور تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ شیطان اپنے قدم بقدم چلانے کیلئے راہیں آسان کرتا رہتا ہے۔

  137. خطبہ 137- شوریٰ کے موقع پر فرمایا

    137

    وَ اللَّهِ مَا أَنْكَرُوا عَلَيَّ مُنْكَراً وَ لَا جَعَلُوا بَيْنِي وَ بَيْنَهُمْ نِصْفاً وَ إِنَّهُمْ لَيَطْلُبُونَ حَقّاً تَرَكُوهُ وَ دَماً هُمْ سَفَكُوهُ فَإِنْ كُنْتُ شَرِيكَهُمْ فِيهِ فَإِنَّ لَهُمْ نَصِيبَهُمْ مِنْهُ وَ إِنْ كَانُوا وُلُّوهُ دُونِي فَمَا الطَّلِبَةُ إِلَّا قِبَلَهُمْ وَ إِنَّ أَوَّلَ‏عَدْلِهِمْ لَلْحُكْمُ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَ إِنَّ مَعِي لَبَصِيرَتِي مَا لَبَّسْتُ وَ لَا لُبِّسَ عَلَيَّ وَ إِنَّهَا لَلْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ فِيهَا الْحَمَاءُ وَ الْحُمَةُ وَ الشُّبْهَةُ الْمُغْدِفَةُ وَ إِنَّ الْأَمْرَ لَوَاضِحٌ وَ قَدْ زَاحَ الْبَاطِلُ عَنْ نِصَابِهِ وَ انْقَطَعَ لِسَانُهُ عَنْ شَغْبِهِ وَ ايْمُ اللَّهِ لَأُفْرِطَنَّ لَهُمْ حَوْضاً أَنَا مَاتِحُهُ لَا يَصْدُرُونَ عَنْهُ بِرِيٍّ وَ لَا يَعُبُّونَ بَعْدَهُ فِي حِسْيٍ منه: فَأَقْبَلْتُمْ إِلَيَّ إِقْبَالَ الْعُوذِ الْمَطَافِيلِ عَلَى أَوْلَادِهَا تَقُولُونَ الْبَيْعَةَ الْبَيْعَةَ قَبَضْتُ كَفِّي فَبَسَطْتُمُوهَا وَ نَازَعْتُكُمْ يَدِي فَجَذَبْتُمُوهَا اللَّهُمَّ إِنَّهُمَا قَطَعَانِي وَ ظَلَمَانِي وَ نَكَثَا بَيْعَتِي وَ أَلَبَا النَّاسَ عَلَيَّ فَاحْلُلْ مَا عَقَدَا وَ لَا تُحْكِمْ لَهُمَا مَا أَبْرَمَا وَ أَرِهِمَا الْمَسَاءَةَ فِيمَا أَمَّلَا وَ عَمِلَا وَ لَقَدِ اسْتَثَبْتُهُمَا قَبْلَ الْقِتَالِ وَ اسْتَأْنَيْتُ بِهِمَا أَمَامَ الْوِقَاعِ فَغَمِطَا النِّعْمَةَ وَ رَدَّا الْعَافِيَةَ

    شوریٰ کے موقع پر فرمایا مجھ سے پہلے تبلیغِ حق، صلہ رحم اور جود و کرم کی طرف کسی نے بھی تیزی سے قدم نہیں بڑھایا، لہٰذا تم میرے قول کو سنو اور میری باتوں کو یاد رکھو کہ تم جلدی ہی دیکھ لو گے کہ اس دن کے بعد سے خلافت کیلئے تلواریں سونت لی جائیں گی اور عہد و پیمان توڑ کر رکھ دیے جائیں گے، یہاں تک کہ کچھ لوگ گمراہ لوگوں کے پیشوا بن کے کھڑے ہوں گے اور کچھ جاہلوں کے پیروکار ہو جائیں گے۔

  138. خطبہ 138- غیبت اور عیب جوئی سے ممانعت کے سلسلہ میں فرمایا

    138

    يَعْطِفُ الْهَوَى عَلَى الْهُدَى إِذَا عَطَفُوا الْهُدَى عَلَى الْهَوَى وَ يَعْطِفُ الرَّأْيَ عَلَى الْقُرْآنِ إِذَا عَطَفُوا الْقُرْآنَ عَلَى الرَّأْيِ منها : حَتَّى تَقُومَ الْحَرْبُ بِكُمْ عَلَى سَاقٍ بَادِياً نَوَاجِذُهَا مَمْلُوْءَةً أَخْلَافُهَا حُلْواً رَضَاعُهَا عَلْقَماً عَاقِبَتُهَا أَلَا وَ فِي غَدٍ وَ سَيَأْتِي غَدٌ بِمَا لَا تَعْرِفُونَ يَأْخُذُ الْوَالِي مِنْ غَيْرِهَا عُمَّالَهَا عَلَى مَسَاوِئِ أَعْمَالِهَا وَ تُخْرِجُ لَهُ الْأَرْضُ أَفَالِيذَ كَبِدِهَا وَ تُلْقِي إِلَيْهِ سِلْماً مَقَالِيدَهَا فَيُرِيكُمْ كَيْفَ عَدْلُ السِّيرَةِ وَ يُحْيِي مَيِّتَ الْكِتَابِ وَ السُّنَّةِ منها : كَأَنِّي بِهِ قَدْ نَعَقَ بِالشَّامِ وَ فَحَصَ بِرَايَاتِهِ فِي ضَوَاحِي كُوفَانَ فَعَطَفَ عَلَيْهَا عَطْفَ الضَّرُوسِ وَ فَرَشَ الْأَرْضَ بِالرُّءُوسِ قَدْ فَغَرَتْ فَاغِرَتُهُ وَ ثَقُلَتْ فِي الْأَرْضِ وَطْأَتُهُ بَعِيدَ الْجَوْلَةِ عَظِيمَ الصَّوْلَةِ وَ اللَّهِ لَيُشَرِّدَنَّكُمْ فِي أَطْرَافِ الْأَرْضِ حَتَّى لَا يَبْقَى مِنْكُمْ إِلَّا قَلِيلٌ كَالْكُحْلِ فِي الْعَيْنِ فَلَا تَزَالُونَ كَذَلِكَ حَتَّى تَئُوبَ إِلَى الْعَرَبِ عَوَازِبُ أَحْلَامِهَا فَالْزَمُوا السُّنَنَ الْقَائِمَةَ وَ الْآثَارَ الْبَيِّنَةَ وَ الْعَهْدَ الْقَرِيبَ الَّذِي عَلَيْهِ بَاقِي النُّبُوَّةِ وَ اعْلَمُوا أَنَّ الشَّيْطَانَ إِنَّمَا يُسَنِّي لَكُمْ طُرُقَهُ لِتَتَّبِعُوا عَقِبَهُ

    اس میں لوگوں کو دوسروں کے عیب بیان کرنے سے روکا ہے جن لوگوں کا دامن خطاؤں سے پاک صاف ہے اور بفضل الٰہی گناہوں سے محفوظ ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ گنہگاروں اور خطا کاروں پر رحم کریں اور اس چیز کا شکر ہی (کہ اللہ نے انہیں گناہوں سے بچائے رکھا ہے) ان پر غالب اور دوسروں (کے عیب اچھالنے) سے مانع رہے، چہ جائیکہ وہ عیب لگانے والا اپنے کسی بھائی کی پیٹھ پیچھے برائی کرے اور اس کے عیب بیان کر کے طعن و تشنیع کرے۔ [۱] یہ آخر خدا کی اس پر دہ پوشی کو کیوں نہیں یاد کرتا جو اس نے خود اس کے ایسے گناہوں پر کی ہے جو اس گناہ سے بھی جس کی وہ غیبت کر رہا ہے بڑے تھے اور کیونکر کسی ایسے گناہ کی بنا پر اس کی بُرائی کرتا ہے جبکہ خود بھی ویسے ہی گناہ کا مرتکب ہو چکا ہے اور اگر بعینہ ویسا گناہ نہیں بھی کیا تو ایسے گناہ کئے ہیں کہ جو اس سے بھی بڑھ چڑھ کر تھے۔ خدا کی قسم! اگر اس نے گناہ کبیرہ نہیں بھی کیا تھا اور صرف صغیرہ کا مرتکب ہوا تھا تب بھی اس کا لوگوں کے عیوب بیان کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔ اے خدا کے بندے! جھٹ سے کسی پر گناہ کا عیب نہ لگا، شاید اللہ نے وہ بخش دیا ہو اور اپنے کسی چھوٹے (سے چھوٹے) گناہ کیلئے بھی اطمینان نہ کر، شاید کہ اس پر تجھے عذاب ہو۔ لہٰذا تم میں سے جو شخص بھی کسی دوسرے کے عیوب جانتا ہو اسے ان کے اظہار سے باز رہنا چاہیے اس علم کی وجہ سے جو خود اسے اپنے گناہوں کے متعلق ہے اور اس امر کا شکر کہ اللہ نے اسے ان چیزوں سے محفوظ رکھا ہے کہ جن میں دوسرے مبتلا ہیں کسی اور طرف اسے متوجہ نہ ہونے دے۔

  139. خطبہ 139- سُنی سُنائی باتوں کو سچا نہ سمجھنا چاہئے

    139

    لَنْ يُسْرِعَ أَحَدٌ قَبْلِي إِلَى دَعْوَةِ حَقٍّ وَ صِلَةِ رَحِمٍ وَ عَائِدَةِ كَرَمٍ فَاسْمَعُوا قَوْلِي وَ عُوا مَنْطِقِي عَسَى أَنْ تَرَوْا هَذَا الْأَمْرَ مِنْ بَعْدِ هَذَا الْيَوْمِ تُنْتَضَى فِيهِ السُّيُوفُ وَ تُخَانُ فِيهِ الْعُهُودُ حَتَّى يَكُونَ بَعْضُكُمْ أَئِمَّةً لِأَهْلِ الضَّلَالَةِ وَ شِيعَةً لِأَهْلِ الْجَهَالَةِ

    اے لوگو! اگر تمہیں اپنے کسی بھائی کی دینداری کی پختگی اور طور طریقوں کی درستگی کا علم ہو تو پھر اس کے بارے میں افواہی باتوں پر کان نہ دھرو۔ دیکھو! کبھی تیر چلانے والا تیر چلاتا ہے اور اتفاق سے تیر خطا کر جاتا ہے اور بات ذرا میں اِدھر سے اُدھر ہو جاتی ہے اور جو غلط بات ہو گی وہ خود ہی نیست و نابود ہو جائے گی۔ اللہ ہر چیز کا سننے والا اور ہر شے کی خبر رکھنے والا ہے۔ معلوم ہونا چاہیے کہ سچ اور جھوٹ میں صرف چار انگلیوں کا فاصلہ ہے۔ جب آپؑ سے اس کا مطلب پوچھا گیا تو آپؑ نے اپنی انگلیوں کو اکٹھا کر کے اپنے کان اور آنکھ کے درمیان رکھا اور فرمایا: جھوٹ وہ ہے جسے تم کہو کہ: میں نے سنا اور سچ وہ ہے جسے تم کہو کہ: میں نے دیکھا۔

  140. خطبہ 140- بے محل داد و دہش سے ممانعت اور مال کا صحیح مصرف

    140

    وَ إِنَّمَا يَنْبَغِي لِأَهْلِ الْعِصْمَةِ وَ الْمَصْنُوعِ إِلَيْهِمْ فِي السَّلَامَةِ أَنْ يَرْحَمُوا أَهْلَ الذُّنُوبِ وَ الْمَعْصِيَةِ وَ يَكُونَ الشُّكْرُ هُوَ الْغَالِبَ عَلَيْهِمْ وَ الْحَاجِزَ لَهُمْ عَنْهُمْ فَكَيْفَ بِالْعَائِبِ الَّذِي عَابَ أَخَاهُ وَ عَيَّرَهُ بِبَلْوَاهُ أَ مَا ذَكَرَ مَوْضِعَ سَتْرِ اللَّهِ عَلَيْهِ مِنْ ذُنُوبِهِ مِمَّا هُوَ أَعْظَمُ مِنَ الذَّنْبِ الَّذِي عَابَهُ بِهِ وَ كَيْفَ يَذُمُّهُ بِذَنْبٍ قَدْ رَكِبَ مِثْلَهُ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ رَكِبَ ذَلِكَ الذَّنْبَ بِعَيْنِهِ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ فِيمَا سِوَاهُ مِمَّا هُوَ أَعْظَمُ مِنْهُ وَ ايْمُ اللَّهِ لَئِنْ لَمْ يَكُنْ عَصَاهُ فِي الْكَبِيرِ وَ عَصَاهُ فِي الصَّغِيرِ لَجُرْأَتُهُ عَلَى عَيْبِ النَّاسِ أَكْبَرُ يَا عَبْدَ اللَّهِ لَا تَعْجَلْ فِي عَيْبِ أَحَدٍ بِذَنْبِهِ فَلَعَلَّهُ مَغْفُورٌ لَهُ وَ لَا تَأْمَنْ عَلَى نَفْسِكَ صَغِيرَ مَعْصِيَةٍ فَلَعَلَّكَ مُعَذَّبٌ عَلَيْهِ فَلْيَكْفُفْ مَنْ عَلِمَ مِنْكُمْ عَيْبَ غَيْرِهِ لِمَا يَعْلَمُ مِنْ عَيْبِ نَفْسِهِ وَ لْيَكُنِ الشُّكْرُ شَاغِلًا لَهُ عَلَى مُعَافَاتِهِ مِمَّا ابْتُلِيَ بِهِ غَيْرُهُ

    جو شخص غیر مستحق کے ساتھ حسن سلوک برتتا ہے اور نااہلوں کے ساتھ احسان کرتا ہے، اس کے پلے یہی پڑتا ہے کہ کمینے اور شریر اس کی مدح و ثنا کرنے لگتے ہیں اور جب تک وہ دیتا دلاتا رہے جاہل کہتے رہتے ہیں کہ اس کا ہاتھ کتنا سخی ہے۔ حالانکہ اللہ کے معاملہ میں وہ بخل کرتا ہے۔ چاہیے تو یہ کہ اللہ نے جسے مال دیا ہے وہ اس سے عزیزوں کے ساتھ اچھا سلوک کرے، خوش اسلوبی سے مہمان نوازی کرے، قیدیوں اور خستہ حال اسیروں کو آزاد کرائے، محتاجوں اور قرضداروں کو دے اور ثواب کی خواہش میں حقوق کی ادائیگی اور مختلف زحمتوں کو اپنے نفس پر برداشت کرے۔ اس لئے کہ ان خصائل و عادات سے آراستہ ہونا دنیا کی بزرگیوں سے شرفیاب ہونا اور آخرت کی فضیلتوں کو پا لینا ہے۔ ان شاء اللہ!

  141. خطبہ 141- طلبِ باران کے سلسلہ میں فرمایا

    141

    أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ عَرَفَ مِنْ أَخِيهِ وَثِيقَةَ دِينٍ وَ سَدَادَ طَرِيقٍ فَلَا يَسْمَعَنَّ فِيهِ أَقَاوِيلَ الرِّجَالِ، أَمَا إِنَّهُ قَدْ يَرْمِي الرَّامِي وَ تُخْطِئُ السِّهَامُ وَ يُحِيلُ الْكَلَامُ وَ بَاطِلُ ذَلِكَ يَبُورُ وَ اللَّهُ سَمِيعٌ وَ شَهِيدٌ. أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَ الْحَقِّ وَ الْبَاطِلِ إِلَّا أَرْبَعُ أَصَابِعَ. فسُئل (علیه السلام) عن معنى قوله هذا، فجمع أصابِعَه و وضَعَها بَينَ أذُنِه و عَينِه ثم قال: الْبَاطِلُ أَنْ تَقُولَ سَمِعْتُ، وَ الْحَقُّ أَنْ تَقُولَ رَأَيْتُ.

    طلب باراں کے سلسلہ میں دیکھو یہ زمین جو تمہیں اٹھائے ہوئے ہے اور یہ آسمان جو تم پر سایہ گُستر ہے، دونوں تمہارے پروردگار کے زیر فرمان ہیں۔ یہ اپنی برکتوں سے اس لئے تمہیں مالا مال نہیں کرتے کہ ان کا دل تم پر کڑھتا ہے، یا تمہارا تقرب چاہتے ہیں، یا کسی بھلائی کے تم سے امیدوار ہیں، بلکہ یہ تو تمہاری منفعت رسانی پر مامور ہیں جسے بجا لاتے ہیں اور تمہاری مصلحتوں کی حدوں پر انہیں ٹھہرایا گیا ہے چنانچہ یہ ٹھہرے ہوئے ہیں۔ (البتہ) اللہ سبحانہ بندوں کو ان کی بد اعمالیوں کے وقت پھلوں کے کم کرنے، برکتوں کے روک لینے اور انعامات کے خزانوں کو بند کر دینے سے آزماتا ہے، تاکہ توبہ کرنے والا توبہ کرے، (انکار و سرکشی سے) باز آنے والا باز آ جائے، نصیحت و عبرت حاصل کرنے والا نصیحت و بصیرت حاصل کرے اور گناہوں سے رکنے والا رک جائے۔ اللہ سبحانہ نے توبہ و استغفار کو روزی کے اترنے کا سبب اور خلق پر رحم کھانے کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ چنانچہ اس کا ارشاد ہے کہ: ’’اپنے پروردگار سے توبہ و استغفار کرو، بلا شبہ وہ بہت بخشنے والا ہے۔ وہی تم پر موسلا دھار مینہ برساتا ہے اور مال و اولاد سے تمہیں سہارا دیتا ہے‘‘ ۔ خدا اس شخص پر رحم کرے جو توبہ کی طرف متوجہ ہو اور گناہوں سے ہاتھ اٹھائے اور موت سے پہلے نیک اعمال کر لے۔ بار الٰہا! تیری رحمت کی خواہش کرتے ہوئے اور نعمتوں کی فراوانی چاہتے ہوئے اور تیرے عذاب و غضب سے ڈرتے ہوئے ہم پردوں اور گھروں کے گوشوں سے تیری طرف نکل کھڑے ہوئے ہیں، اس وقت جبکہ چوپائے چیخ رہے ہیں اور بچے چلا رہے ہیں۔ خدایا! ہمیں بارش سے سیراب کر دے اور ہمیں مایوس نہ کر اور خشک سالی سے ہمیں ہلاک نہ ہونے دے اور ہم میں سے کچھ بے وقوفوں کے کرتوت پر ہمیں اپنی گرفت میں نہ لے، اے رحم کرنے والوں میں بہت رحم کرنے والے۔ خدایا! جب ہمیں سخت تنگیوں نے مضطرب و بے چین کردیا اور قحط سالیوں نے بے بس بنا دیا اور شدید حاجتمندیوں نے لاچار بنا ڈالا اور منہ زور فتنوں کا ہم پر تانتا بندھ گیا تو ہم تیری طرف نکل پڑے ہیں گلہ لے کر اس کا جو تجھ سے پوشیدہ نہیں۔ اے اللہ! ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تو ہمیں محروم نہ پلٹا اور نہ اس طرح کہ ہم اپنے نفسوں پر پیچ و تاب کھا رہے ہوں اور ہمارے گناہوں کى بنا پر ہم سے (عتاب آمیز) خطاب نہ کر اور ہمارے کئے کے مطابق ہم سے سلوک نہ کر۔ خداوندا! تو ہم پر باران و برکت اور رزق و رحمت کا دامن پھیلا دے اور ایسی سیرابی سے ہمیں نہال کر دے جو فائدہ بخشنے والی اور سیراب کرنے والی اور گھاس پات اُگانے والی ہو کہ جس سے تو گئی گزری ہوئی (کھیتیوں میں پھر سے) روئیدگی لے آئے اور مردہ زمینوں میں حیات کی لہریں دوڑا دے۔ وہ ایسی سیرابی ہو کہ جس کی تر و تازگی (سر تاسر) فائدہ مند اور چنے ہوئے پھلوں کے انبار لئے ہو جس سے تو ہموار زمینوں کو جل تھل بنا دے اور ندی نالے بہا دے اور درختوں کو برگ و بار سے سر سبز کر دے اور نرخوں کو سستا کر دے۔ بلاشبہ تو جو چاہے اس پر قادر ہے۔

  142. خطبہ 142- اہل بیتؑ راسخون فی العلم ہیں اور وہی امامت وخلافت کے اہل ہیں

    142

    وَلَيْسَ لِوَاضِعِ الْمَعْرُوفِ فِي غَيْرِ حَقِّهِ وَعِنْدَ غَيْرِ أَهْلِهِ مِنَ الْحَظِّ فِيَما أَتى إِلاَّ مَحْمَدَةُ اللِّئَامِ وَثَنَاءُ الاَشْرَارِ وَ مَقَالَةُ الْجُهَّالِ مَا دَامَ مُنْعِماً عَلَيْهِمْ مَا أَجْوَدَ يَدَهُ! وَهُوَ عَنْ ذَاتِ اللهِ بَخِيلٌ! مواضع المعروف: فَمَنْ آتَاهُ اللهُ مَالاً فَلْيَصِلْ بِهِ الْقَرَابَةَ وَلْيُحْسِنْ مِنْهُ الضِّيَافَةَ وَ لْيَفُكَّ بِهِ الْأَسِيرَ وَ الْعَانِيَ وَلْيُعْطِ مَنْهُ الْفَقِيرَ وَالْغَارِمَ وَلْيَصْبِرْ نَفْسَهُ عَلَى الْحُقُوقِ وَالنَّوَائِبِ ابْتِغَاءَ الثَّوَابِ فَإِنَّ فَوْزاً بِهذِهِ الْخِصَالِ شَرَفُ مَكَارِمِ الدُّنْيَا وَدَرْكُ فَضَائِلِ الاْخِرَةِ، إِنْ شَاءَ اللهُ.

    اللہ سبحانہ نے اپنے رسولوں کو وحی کے امتیازات کے ساتھ بھیجا اور انہیں مخلوق پر اپنی حجت ٹھہرایا تاکہ وہ یہ عذر نہ کر سکیں کہ ان پر حجت تمام نہیں ہوئی۔ چنانچہ اللہ نے انہیں سچی زبانوں سے راہ حق کی دعوت دی۔ (یوں تو) اللہ مخلوقات کو اچھی طرح جانتا بوجھتا ہے اور لوگوں کے ان رازوں اور بھیدوں سے کہ جنہیں وہ چھپا کر رکھتے ہیں بے خبر نہیں۔ (پھر یہ حکم و احکام اس لئے دیئے ہیں) کہ وہ ان لوگوں کو آزما کر ظاہر کر دے کہ ان میں اعمال کے اعتبار سے کون اچھا ہے تاکہ ثواب ان کی جزا اور عقاب ان کی (بد اعمالیوں) کی پاداش ہو۔ کہاں ہیں وہ لوگ کہ جو جھوٹ بولتے ہوئے اور ہم پر ستم روا رکھتے ہوئے یہ ادّعا کرتے ہیں کہ وہ راسخون فی العلم ہیں نہ ہم؟ چونکہ اللہ نے ہم کو بلند کیا ہے اور انہیں گرایا ہے اور ہمیں (منصبِ امامت) دیا ہے اور انہیں محروم رکھا ہے اور ہمیں (منزلِ علم میں) داخل کیا ہے اور انہیں دور کر دیا ہے۔ ہم ہی سے ہدایت کی طلب اور گمراہی کی تاریکیوں کو چھانٹنے کی خواہش کی جا سکتی ہے۔ بلا شبہ امام قریش میں سے ہوں گے جو اسی قبیلہ کی ایک شاخ بنی ہاشم کی کشت زار سے ابھریں گے۔ نہ امامت کسی اور کو زیب دیتی ہے اور نہ ان کے علاوہ کوئی اس کا اہل ہو سکتا ہے۔ [اسی خطبہ کا ایک جز یہ ہے] ان لوگوں نے دنیا کو اختیار کر لیا ہے اور عقبیٰ کو پیچھے ڈال دیا ہے، صاف پانی چھوڑ دیا ہے اور گندا پانی پینے لگے ہیں۔ گویا میں ان کے فاسق [۱] کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ برائیوں میں رہا اتنا کہ انہی برائیوں سے اسے محبت ہو گئی اور ان سے مانوس ہوا اور ان سے اتفاق کرتا رہا۔ یہاں تک کہ (انہی برائیوں میں) اس کے سر کے بال سفید ہو گئے اور اسی رنگ میں اس کی طبیعت رنگ گئی۔ پھر یہ کہ وہ (منہ سے) کف دیتا ہوا متلاطم دریا کی طرح آگے بڑھا، بغیر اس کا کچھ خیال کئے کہ کس کو ڈبو رہا ہے اور بھوسے میں لگی ہوئی آگ کی طرح پھیلا، بغیر اس کی پروا کئے ہوئے کہ کون سی چیزیں جلا رہا ہے۔ کہاں ہیں ہدایت کے چراغوں سے روشن ہونے والی عقلیں؟ اور کہاں ہیں تقویٰ کے روشن مینار کی طرف دیکھنے والی آنکھیں؟ اور کہاں ہیں اللہ کے ہو جانے والے قلوب اور اس کی اطاعت پر جم جانے والے دل؟ وہ تو مال دنیا پر ٹوٹ پڑے ہیں اور (مال) حرام پر جھگڑ رہے ہیں۔ ان کے سامنے جنت اور دوزخ کے جھنڈے بلند ہیں، لیکن انہوں نے جنت سے اپنے منہ موڑ لئے ہیں اور اپنے اعمال کی وجہ سے دوزخ کی طرف بڑھ نکلے ہیں۔ اللہ نے ان لوگوں کو بلایا تو یہ بھڑک اٹھے اور پیٹھ پھرا کر چل دیئے اور شیطان نے ان کو دعوت دی تو لبیک کہتے ہوئے اس کی طرف لپک پڑے۔

  143. خطبہ 143- دُنیا کی اہل دُنیا کے ساتھ روش اور بدعت و سنت کا بیان

    143

    أَلاَ وَإِنَّ الاْرْضَ الَّتِي تَحْمِلُكُم، وَالسَّماءَ الَّتِي تُظِلُّكُمْ مُطِيعَتَانِ لِرَبِّكُمْ وَمَا أَصْبَحَتَا تَجُودَانِ لَكُمْ بِبَرَكَتِهِمَا تَوَجُّعاً لَكُمْ وَلاَ زُلْفَةً إِلَيْكُمْ وَلاَ لِخَيْر تَرْجُوَانِهِ مِنْكُمْ وَلكِنْ أُمِرَتَا بِمَنَافِعِكُمْ فَأَطَاعَتَا وَأُقِيمَتَا عَلَى حُدُودِ مَصَالِحِكُمْ فَقَامَتَا إِنَّ اللهَ يَبْتَلِي عِبَادَهُ عِنْدَ الْأَعْمَالِ السَّيِّئَةِ بِنَقْصِ الَّثمَرَاتِ وَحَبْسِ الْبَرَكَاتِ، وَإِغْلاَقِ خَزَائِنِ الْخَيْرَاتِ لِيَتُوبَ تَائِبٌ وَيُقْلِعَ مُقْلِعٌ وَيَتَذَكَّرَ مُتَذَكِّرٌ وَيَزْدَجِرَ مُزْدَجِرٌ وَقَدْ جَعَلَ اللهُ سُبْحَانَهُ الاسْتِغْفَارَ سَبَباً لِدُرُورِ الرِّزْقِ وَرَحْمَةِ الْخَلْقِ فَقَالَ: «اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّاراً يُرْسِلِ السَّماءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَاراً وَ يُمْدِدْكُمْ بِأَمْوالٍ وَ بَنِينَ وَ يَجْعَلْ لَكُمْ جَنَّاتٍ وَ يَجْعَلْ لَكُمْ أَنْهاراً» فَرَحِمَ اللهُ امْرَأً اسْتَقْبَلَ تَوْبَتَهُ وَاسْتَقَالَ خَطِيئَتَهُ وَبَادَرَ مَنِيَّتَهُ! اللَّهُمَّ إِنَّا خَرَجْنَا إِلَيْكَ مِنْ تَحْتِ الْأَسْتَارِ وَ الْأَكْنَانِ وَبَعْدَ عَجِيجِ الْبَهَائِمِ وَالْوِلْدَانِ رَاغِبِينَ فِي رَحْمَتِكَ وَرَاجِينَ فَضْلَ نِعْمَتِكَ وَخَائِفِينَ مِنْ عَذَابِكَ وَنِقْمَتِكَ اللَّهُمَّ فَاسْقِنَا غَيْثَكَ وَلاَ تَجْعَلْنَا مِنَ الْقَانِطِينَ وَلاَ تُهْلِكْنَا بِالسِّنِينَ وَ لَا تُؤَاخِذْنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَاءُ مِنَّا يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ اللَّهُمَّ إِنَّا خَرَجْنَا إِلَيْكَ نَشْكُو إِلَيْكَ مَا لَا يَخْفَى عَلَيْكَ حِينَ أَلْجَأَتْنَا الْمَضَايِقُ الْوَعْرَةُ ‏وَ أَجَاءَتْنَا الْمَقَاحِطُ الْمُجْدِبَةُ وَ أَعْيَتْنَا الْمَطَالِبُ الْمُتَعَسِّرَةُ وَ تَلَاحَمَتْ عَلَيْنَا الْفِتَنُ الْمُسْتَصْعَبَةُ اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ أَلَّا تَرُدَّنَا خَائِبِينَ وَ لَا تَقْلِبَنَا وَاجِمِينَ وَ لَا تُخَاطِبَنَا بِذُنُوبِنَا وَ لَا تُقَايِسَنَا بِأَعْمَالِنَا اللَّهُمَّ انْشُرْ عَلَيْنَا غَيْثَكَ وَ بَرَكَتَكَ وَ رِزْقَكَ وَ رَحْمَتَكَ وَ اسْقِنَا سُقْيَا نَافِعَةً مُرْوِيَةً مُعْشِبَةً تُنْبِتُ بِهَا مَا قَدْ فَاتَ وَ تُحْيِي بِهَا مَا قَدْ مَاتَ نَافِعَةَ الْحَيَا كَثِيرَةَ الْمُجْتَنَى تُرْوِي بِهَا الْقِيعَانَ وَ تُسِيلُ الْبُطْنَانَ وَ تَسْتَوْرِقُ الْأَشْجَارَ وَ تُرْخِصُ الْأَسْعَارَ إِنَّكَ عَلَى مَا تَشَاءُ قَدِيرٌ

    اے لوگو! تم اس دنیا میں موت کی تیر اندازیوں کا ہدف ہو (جہاں) ہر گھونٹ کے ساتھ اچھو ہے اور ہر لقمہ میں گلو گیر پھندا ہے۔ جہاں تم ایک نعمت اس وقت تک نہیں پاتے جب تک دوسری نعمت جدا نہ ہو جائے اور تم میں سے کوئی زندگی پانے والا ایک دن کی زندگی میں قدم نہیں رکھتا جب تک اس کی مدتِ حیات میں سے ایک دن کم نہیں ہو جاتا اور اس کے کھانے میں کسی اور رزق کا اضافہ نہیں ہوتا جب تک پہلا رزق ختم نہ ہو جائے اور جب تک ایک نقش مٹ نہ جائے دوسرا نقش ابھرتا نہیں اور جب تک کوئی نئی چیز کہنہ و فرسودہ نہ ہو جائے دوسری نئی چیز حاصل نہیں ہوتی اور جب تک کٹی ہوئی فصل گر نہ جائے نئی فصل کھڑی نہیں ہوتی۔ آباؤ اجداد گزر گئے اور ہم انہی کی شاخیں ہیں۔ جب جڑ ہی نہ رہی تو شاخیں کہاں رہ سکتی ہیں۔ [اسی خطبہ کا ایک جز یہ ہے] کوئی بدعت وجود میں نہیں آتی، مگر یہ کہ اس کی وجہ سے سنت کو چھوڑنا پڑتا ہے۔ بدعتی لوگوں سے بچو، روشن طریقہ پر جمے رہو۔ پرانی باتیں ہی اچھی ہیں اور (دین میں) پیدا کی ہوئی نئی چیزیں بد ترین ہیں۔

  144. خطبہ 144- جب حضرت عمر نے غزوہ فارس کیلئے مشورہ لیا تو فرمایا

    144

    بَعَثَ اللهُ رُسُلَهُ بِمَا خَصَّهُمْ بِهِ مِنْ وَحْيِهِ وَجَعَلَهُمْ حُجَّةً لَهُ عَلَى خَلْقِهِ لِئَلاَّ تَجِبَ الْحُجَّةُ لَهُمْ بِتَرْكِ الْإِعْذَارِ إِلَيْهِمْ فَدَعَاهُمْ بِلِسَانِ الصِّدْقِ إِلَى سَبِيلِ الْحَقِّ أَلاَ إِنَّ اللهَ قَدْ كَشَفَ الْخَلْقَ كَشْفَةً لاَ أَنَّهُ جَهِلَ مَا أَخْفَوْهُ مِنْ مَصُونَ أَسْرَارِهِمْ وَمَكْنُونِ ضَماَئِرِهمْ وَلكِنْ لِيَبْلُوَهُمْ أَيُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلاً فَيَكُونَ الثَّوَابُ جَزَاءً وَالْعِقَابُ بَوَاءً فضل أهل البيت عليهم السلام أَيْنَ الَّذِينَ زَعَمُوا أَنَّهُمُ الرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ دُونَنَا كَذِباً وَبَغْياً عَلَيْنَا أَنْ رَفَعَنَا اللهُ وَوَضَعَهُمْ، وَأَعْطَانَا وَحَرَمَهُمْ، وَأَدْخَلَنَا وَأَخْرَجَهُمْ بِنَا يُسْتَعْطَى الْهُدَى وَبِنَا يُسْتَجْلَى الْعَمَى إِنَّ الْأَئِمَّةَ مِنْ قُرَيش غُرِسُوا فِي هذَا الْبَطْنِ مِنْ هَاشِم لاَ تَصْلُحُ عَلَى سِوَاهُمْ، وَلاَ تَصْلُحُ الْوُلاَةُ مِنْ غَيْرِهمْ منها: في أهل الضلال آثَرُوا عَاجِلاً وَأَخَّرُوا آجِلاً، وَتَرَكُوا صَافِياً، وَشَرِبُوا آجِناً كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى فَاسِقِهِمْ وَقَدْ صَحِبَ الْمُنكَرَ فَأَلِفَهُ، وَبَسِىءَ بِهِ وَوَافَقَهُ، حَتَّى شَابَتْ عَلَيْهِ مَفَارِقُهُ، وَصُبِغَتْ بِهِ خَلاَئِقُهُ ثُمَّ أَقْبَلَ مُزْبِداً كَالتَّيَّارِ لاَ يُبَالِي مَا غَرَّقَ، أَوْ كَوَقْعِ النَّارِ في الْهَشيمِ لاَ يَحْفِلُ مَا حَرَّقَ! أَيْنَ الْعُقُولُ الْمُسْتَصْبِحَةُ بِمَصَابِيحِ الْهُدَى وَالْأَبْصَارُ اللَّامِحَةُ إِلَى مَنَارِ التَّقْوَى، أَيْنَ الْقُلُوبُ الَّتِي وُهِبَتْ لِلَّهِ، وَعُوقِدَتْ عَلَى طَاعَةِ اللهِ؟ ازْدَحَمُوا عَلَى الْحُطَامِ وَتَشَاحُّوا عَلَى الْحَرَامِ، وَرُفِعَ لَهُمْ عَلَمُ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، فَصَرَفُوا عَنِ الْجَنَّةِ وُجُوهَهُمْ، وَأَقْبَلُوا إِلَى النَّارِ بِأَعْمَالِهِمْ، دَعَاهُمْ رَبُّهُمْ فَنَفَرُوا وَوَلَّوْا، وَدَعَاهُمُ الشَّيْطَانُ فَاسْتَجَابُوا وَأَقْبَلُوا!

    جب حضرت عمر ابن خطاب نے جنگ فارس میں شریک ہونے کیلئے آپؑ سے مشورہ لیا تو آپؑ نے فرمایا: [۱] اس امر میں کامیابی و ناکامیابی کا دارو مدار فوج کی کمی بیشی پر نہیں رہا ہے۔ یہ تو اللہ کا دین ہے جسے اُس نے (سب دینوں پر) غالب رکھا ہے اور اسی کا لشکر ہے جسے اُس نے تیار کیا ہے اور اس کی ایسی نصرت کی ہے کہ وہ بڑھ کر اپنی موجودہ حد تک پہنچ گیا ہے اور پھیل کر اپنے موجودہ پھیلاؤ پر آ گیا ہے اور ہم سے اللہ کا ایک وعدہ ہے اور وہ اپنے وعدہ کو پورا کرے گا اور اپنے لشکر کی خود ہی مدد کرے گا۔ امور (سلطنت) میں حاکم کی حیثیت وہی ہوتی ہے جو مہروں میں ڈورے کی جو انہیں سمیٹ کر رکھتا ہے۔ جب ڈورا ٹوٹ جائے تو سب مہرے بکھر جائیں گے اور پھر کبھی سمٹ نہ سکیں گے۔ آج عرب والے اگرچہ گنتی میں کم ہیں مگر اسلام کی وجہ سے وہ بہت ہیں اور اتحاد باہمی کے سبب سے (فتح و) غلبہ پانے والے ہیں۔ تم اپنے مقام پر کھونٹی کی طرح جمے رہو اور عرب کا نظم و نسق برقرار رکھو اور ان ہی کو جنگ کی آگ کا مقابلہ کرنے دو۔ اس لئے کہ اگر تم نے اس سرزمین کو چھوڑا تو عرب اطراف و جوانب سے تم پر ٹوٹ پڑیں گے، یہاں تک کہ تمہیں اپنے سامنے کے حالات سے زیادہ ان مقامات کی فکر ہو جائے گی جنہیں تم اپنے پس پشت غیر محفوظ چھوڑ کر گئے ہو۔ کل اگر عجم والے تمہیں دیکھیں گے تو (آپس میں) یہ کہیں گے کہ یہ ہے ’’سردار عرب‘‘ اگر تم نے اس کا قلع قمع کردیا تو آسودہ ہو جاؤ گے۔تو اس کی وجہ سے ان کی حرص و طمع تم پر زیادہ ہو جائے گی۔ لیکن یہ جو تم کہتے ہو کہ وہ لوگ مسلمانوں سے لڑنے بھڑنے کیلئے چل کھڑے ہوئے ہیں تو اللہ ان کے بڑھنے کو تم سے زیادہ بُرا سمجھتا ہے اور وہ جسے بُرا سمجھے اس کے بدلنے (اور روکنے) پر بہت قدرت رکھتا ہے اور ان کی تعداد کے متعلق جو کہتے ہو (کہ وہ بہت ہیں) تو ہم سابق میں کثرت کے بل بوتے پر نہیں لڑا کرتے تھے بلکہ (اللہ کی) تائید و نصرت (کے سہارے) پر۔

  145. خطبہ 145- بعثتِ پیغمبر کی غرض و غایت اور اُس زمانے کی حالت

    145

    أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا أَنْتُمْ فِي هَذِهِ الدُّنْيَا غَرَضٌ تَنْتَضِلُ فِيهِ الْمَنَايَا مَعَ كُلِّ جَرْعَة شَرَقٌ، وَفي كُلِّ أَكْلَة غَصَصٌ! لاَ تَنَالُونَ مِنْهَا نِعْمَةً إِلاَّ بِفِرَاقِ أُخْرَى، وَلاَ يُعَمَّرُ مُعَمَّرٌ مِنْكُمْ يَوْماً مِنْ عُمُرِهِ إِلاَّ بِهَدْمِ آخَرَ مِنْ أَجَلِهِ، وَلاَ تُجَدَّدُ لَهُ زِيَادَةٌ فِي أَكْلِهِ إِلاَّ بَنَفَادِ مَا قَبْلَهَا مِنْ رِزْقِهِ، وَلاَ يَحْيَا لَهُ أَثَرٌ إِلاَّ مَاتَ لَهُ أَثَرٌ، وَلاَ يَتَجَدَّدُ لَهُ جَدِيدٌ إِلاَّ بَعْدَ أَنْ يَخْلَقَ لَهُ جَدِيدٌ، وَلاَ تَقُومُ لَهُ نَابِتَةٌ إِلاَّ وَتَسْقُطُ مِنْهُ مَحْصُودَةٌ، وَقَدْ مَضَتْ أُصُولٌ نَحْنُ فُرُوعُهَا، فَمَا بَقَاءُ فَرْع بَعْدَ ذَهَابِ أَصْلِهِ! منها: في ذمّ البدعة وَ مَا أُحْدِثَتْ بِدْعَةٌ إِلَّا تُرِكَ بِهَا سُنَّةٌ فَاتَّقُوا الْبِدَعَ وَ الْزَمُوا الْمَهْيَعَ إِنَّ عَوَازِمَ الْأُمُورِ أَفْضَلُهَا وَ إِنَّ مُحْدَثَاتِهَا شِرَارُهَا

    اللہ سبحانہ نے محمد ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اس کے بندوں کو محکم و واضح قرآن کے ذریعہ سے بتوں کی پرستش سے خدا کی پرستش کی طرف اور شیطان کی اطاعت سے اللہ کی اطاعت کی طرف نکال لے جائیں، تاکہ بندے اپنے پروردگار سے جاہل و بے خبر رہنے کے بعد اسے جان لیں، ہٹ دھرمی اور انکار کے بعد اس کے وجود کا یقین اور اقرار کریں۔ اللہ ان کے سامنے بغیر اس کے کہ اسے دیکھا ہو قدرت کی (ان نشانیوں) کی وجہ سے جلوہ طراز ہے کہ جو اس نے اپنی کتاب میں دکھائی ہیں اور اپنی سطوت و شوکت کی (قہرمانیوں سے) نمایاں ہے کہ جن سے ڈرایا ہے اور دیکھنے کی بات یہ ہے کہ جنہیں اسے مٹانا تھا انہیں کس طرح اس نے اپنی عقوبتوں سے مٹا دیا اور جنہیں تہس نہس کرنا تھا انہیں کیونکر اپنے عذابوں سے تہس نہس کر دیا۔ میرے بعد تم پر ایک ایسا دور آنے والا ہے جس میں حق بہت پوشیدہ اور باطل بہت نمایاں ہو گا اور اللہ و رسولؐ پر افترا پردازی کا زور ہو گا۔ اس زمانہ والوں کے نزیک قرآن سے زیادہ کوئی بے قیمت چیز نہ ہو گی جبکہ اسے اس طرح پیش کیا جائے جیسے پیش کرنے کا حق ہے اور اس قرآن سے زیادہ ان میں کوئی مقبول اور قیمتی چیز نہیں ہو گی اس وقت جبکہ اس کی آیتوں کا بے محل استعمال کیا جائے اور نہ (ان کے) شہروں میں نیکی سے زیادہ کوئی برائی اور برائی سے زیادہ کوئی نیکی ہو گی۔ چنانچہ قرآن کا بار اٹھانے والے اسے پھینک کر الگ کریں گے اور حفظ کرنے والے اس کی (تعلیم) بھلا بیٹھیں گے اور قرآن اور قرآن والے (اہلبیتؑ) بے گھر اور بے در ہوں گے اور ایک ہی راہ میں ایک دوسرے کے ساتھی ہوں گے۔ انہیں کوئی پناہ دینے والا نہ ہو گا۔ وہ (بظاہر) لوگوں میں ہوں گے مگر ان سے الگ تھلگ۔ ان کے ساتھ ہوں گے مگر بے تعلق۔ اس لئے کہ گمراہی ہدایت سے سازگار نہیں ہو سکتی اگرچہ وہ یک جا ہوں۔ لوگوں نے تفرقہ پردازی پر تو اتفاق کر لیا ہے اور جماعت سے کٹ گئے ہیں۔ گویا کہ وہ کتاب کے پیشوا ہیں کتاب ان کی پیشوا نہیں۔ ان کے پاس تو صرف قرآن کا نام رہ گیا ہے اور صرف اس کے خطوط و نقوش کو پہچان سکتے ہیں۔ اس آنے والے دور سے پہلے وہ نیک بندوں کو طرح طرح کی اذیتیں پہنچا چکے ہوں گے اور اللہ کے متعلق ان کی سچی باتوں کا نام بھی بہتان رکھ دیا ہو گا اور نیکیوں کے بدلہ میں انہیں بری سزائیں دی ہوں گی۔ تم سے پہلے لوگوں کی تباہی کا سبب یہ ہے کہ وہ امیدوں کے دامن پھیلاتے رہے اور موت کو نظروں سے اوجھل سمجھا کئے، یہاں تک کہ جب وعدہ کی ہوئی (موت) آ گئی تو ان کی معذرت کو ٹھکرا دیا گیا اور توبہ اٹھا لی گئی اور مصیبت و بلا ان پر ٹوٹ پڑی۔ اے لوگو! جو اللہ سے نصیحت چاہے اسے ہی توفیق نصیب ہوتی ہے اور جو اس کے ارشادات کو رہنما بنائے وہ سیدھے راستہ پر ہو لیتا ہے۔ اس لئے کہ اللہ کی ہمسائیگی میں رہنے والا امن و سلامتی میں ہے اور اس کا دشمن خوف و ہراس میں۔ جو اللہ کی عظمت و جلالت کو پہچان لے اسے کسی طرح زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنی عظمت کی نمائش کرے، چونکہ جو اس کی عظمت کو پہچان چکے ہیں ان کی رفعت و بلندی اسی میں ہے کہ اس کے آگے جھک جائیں اور جو اس کی قدرت کو جان چکے ہیں ان کی سلامتی اسی میں ہے کہ اس کے آگے سر تسلیم خم کر دیں۔ حق سے اس طرح بھڑک نہ اٹھو جس طرح صحیح و سالم خارش زدہ سے یا تندرست بیمار سے۔ تم ہدایت کو اس وقت تک نہ پہچان سکو گے جب تک اس کے چھوڑنے والوں کو نہ پہچان لو اور قرآن کے عہد و پیمان کے پابند نہ رہ سکو گے جب تک اس کے توڑنے والے کو نہ جان لو اور اس سے وابستہ نہیں رہ سکتے جب تک اسے دور پھینکنے والے کی شناخت نہ کرلو۔ جو ہدایت والے ہیں انہی سے ہدایت طلب کرو۔ وہی علم کی زندگی اور جہالت کی موت ہیں۔ وہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کا (دیا ہوا) ہر حکم ان کے علم کا اور ان کی خاموشی ان کی گویائی کا پتہ دے گی اور ان کا ظاہر ان کے باطن کا آئینہ دار ہے۔ وہ نہ دین کی مخالفت کرتے ہیں نہ اس کے بارے میں باہم اختلاف رکھتے ہیں۔ دین ان کے سامنے ایک سچا گواہ ہے اور ایک ایسا بے زبان ہے جو بول رہا ہے۔

  146. خطبہ 146- طلحہ وزبیر کے متعلق فرمایا

    146

    إِنَّ هذَا الْأَمْرَ لَمْ يَكُنْ نَصْرُهُ وَلاَ خِذْلاَنُهُ بِكَثْرَة وَلاَ بِقِلَّة، وَهُوَ دِينُ اللهِ الَّذِي أَظْهَرَهُ، وَجُنْدُهُ الَّذِي أَعَدَّهُ وَأَمَدَّهُ، حَتَّى بَلَغَ مَا بَلَغَ، وَطَلَعَ حَيْثُ طَلَعَ، وَنَحْنُ عَلَى مَوْعُود مِنَ اللهِ، وَاللهُ مُنْجِزٌ وَعْدَهُ، وَنَاصِرٌ جُنْدَهُ وَمَكَانُ الْقَيِّمِ بِالْأَمْرِ مَكَانُ النِّظَامِ مِنَ الْخَرَزِ يَجْمَعُهُ وَيَضُمُّهُ فَإِنِ انْقَطَعَ النِّظَامُ تَفَرَّقَ وَذَهَبَ ثُمَّ لَمْ يَجْتَمِعُ بِحَذَافِيرِهِ أَبَداً وَالْعَرَبُ الْيَومَ وَإِنْ كَانُوا قَلِيلاً، فَهُمْ كَثِيرُونَ بِالْإِسْلَامِ، عَزِيزُونَ بِالاجْتِمَاعِ، فَكُنْ قُطْباً، وَاسْتَدِرِ الرَّحَا بِالْعَرَبِ، وَأَصْلِهِمْ دُونَكَ نَارَ الْحَرْبِ، فَإِنَّكَ إِنْ شَخَصْتَ مِنْ هذِهِ الاَرْضِ انْتَقَضَتْ عَلَيْكَ الْعَرَبُ مِنْ أَطْرَافِهَا وَأَقْطَارِهَا، حَتَّى يَكُونَ مَا تَدَعُ وَرَاءَكَ مِنَ الْعَوْرَاتِ أَهَمَّ إِلَيْكَ مِمَّا بَيْنَ يَدَيْكَ إِنَّ الاَعَاجِمَ إِنْ يَنْظُرُوا إِلَيْكَ غَداً يَقُولُوا هذا أَصْلُ الْعَرَبِ، فَإِذَا اقْتَطَعْتُمُوهُ اسْتَرَحْتُمْ، فَيْكُونُ ذلِكَ أَشَدَّ لِكَلَبِهِمْ عَلَيْكَ، وَطَمَعِهِمْ فِيكَ فَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ مَسِيرِ الْقَوْمِ إِلَى قِتَالِ المُسْلِمِينَ، فَإِنَّ اللهَ سُبْحَانَهُ هُوَ أَكْرَهُ لِمَسِيرِهِمْ مِنْكَ، وَهُوَ أَقْدَرُ عَلَى تَغْيِيرِ مَا يَكْرَهُ. وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ عَدَدِهِمْ، فَإِنَّا لَمْ نَكُنْ نُقَاتِلُ فِيَما مَضَى بِالْكَثْرَةِ، وَإِنَّمَا كُنَّا نُقَاتِلُ بِالنَّصْرِ وَالْمَعُونَةِ!

    (اہل بصرہ کے بارے میں) ان دونوں (طلحہ و زبیر) میں سے ہر ایک اپنے لئے خلافت کا امیدوار ہے اور اسے اپنی ہی طرف موڑ کر لانا چاہتا ہے، نہ اپنے ساتھی کی طرف۔ وہ اللہ کی طرف کسی وسیلہ سے توسل نہیں ڈھونڈتے اور نہ کوئی ذریعہ لے کر اس کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں۔ وہ دونوں ایک دوسرے کی طرف سے (دلوں میں) کینہ لئے ہوئے ہیں اور جلد ہی اس سلسلے میں بے نقاب ہو جائیں گے۔ خدا کی قسم! اگر وہ اپنے ارادوں میں کامیاب ہو جائیں تو ایک ان میں دوسرے کو جان ہی سے مار ڈالے اور ختم کرکے ہی دم لے۔ (دیکھو) باغی گروہ اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ (اب) کہاں ہیں اجر و ثواب کے چاہنے والے جب کہ حق کی راہیں مقرر ہو چکی ہیں اور یہ خبر انہیں پہلے سے دی جا چکی ہے۔ ہر گمراہی کیلئے حیلے بہانے ہوا کرتے ہیں اور ہر پیمان شکن (دوسروں کو) اشتباہ میں ڈالنے کیلئے کوئی نہ کوئی بات بنایا کرتا ہے۔ خدا کی قسم! میں اس شخص کی طرح نہیں ہوں گا جو ماتم کی آواز پر کان دھرے، موت کی سنائی دینے والے کی آواز سنے اور رونے والے کے پاس (پرسے کیلئے) بھی جائے اور پھر عبرت حاصل نہ کرے۔

  147. خطبہ 147- موت سے کچھ قبل بطور وصیّت فرمایا

    147

    فَبَعَثَ اللهُ مُحَمَّداً(صلی الله علیه وآله) بِالْحَقِّ، لِيُخْرِجَ عِبَادَهُ مِنْ عِبَادَةِ الْأَوْثَانِ إِلَى عِبَادَتِهِ وَمِنْ طَاعَةِ الشَّيْطَانِ إِلَى طَاعَتِهِ، بِقُرْآن قَدْ بَيَّنَهُ وَأَحْكَمَهُ، لِيَعْلَمَ الْعِبَادُ رَبَّهُمْ إِذْ جَهِلُوهُ، وَلِيُقِرُّوا بِهِ بَعْدَ إِذْ جَحَدُوهُ، وَلِيُثْبِتُوهُ بَعْدَ إِذْ أَنْكَرُوهُ فَتَجَلَّى سُبْحَانَهُ لَهُمْ فِي كِتَابِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونُوا رَأَوْهُ، بِمَا أَرَاهُمْ مِنْ قُدْرَتِهِ، وَخَوَّفَهُمْ مِنْ سَطْوَتِهِ، وَكَيْفَ مَحَقَ مَنْ مَحَقَ بِالْمَثُلاَتِ، وَاحْتَصَدَ مَنِ احْتَصَدَ بِالنَّقِمَاتِ! الزمان المقبل وَإِنَّهُ سَيَأْتي عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِي زَمَان لَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ أَخْفَى مِنَ الْحَقِّ، وَلاَ أَظْهَرَ مِنَ الْبَاطِلِ، وَلاَ أَكْثَرَ مِنَ الْكَذِبِ عَلَى اللهِ وَرَسُولِهِ، وَلَيْسَ عِنْدَ أَهْلِ ذلِكَ الزَّمَانِ سِلْعَةٌ أَبْوَرَ مِنَ الْكِتَابِ إِذَا تُلِيَ حَقَّ تِلاَوَتِهِ، وَلاَ أَنْفَقَ مِنْهُ إِذَا حُرِّفَ عَنْ مَوَاضِعِهِ، وَلاَ فِي الْبِلاَدِ شَيءٌ أنْكَرَ مِنَ الْمَعْرُوفِ، وَلاَ أَعْرَفَ مِنَ المُنكَرِ! فَقَدْ نَبَذَ الْكِتَابَ حَمَلَتُهُ، وَتَنَاسَاهُ حَفَظَتُهُ فَالْكِتَابُ يَوْمَئِذ وَأَهْلُهُ مَنْفِيَّانِ طَرِيَدانِ، وَصَاحِبَانِ مُصْطَحِبَانِ فِي طَرِيق وَاحِد لاَ يُؤْوِيهِمَا مُؤْو فَالْكِتَابُ وَأَهْلُهُ فِي ذلِكَ الزَّمَانِ فِي النَّاسِ وَلَيْسَا فِيهِمْ وَمَعَهُمْ وَلَيْسَا مَعَهُمْ! لِأَنَّ الضَّلاَلَةَ لاَ تُوَافِقُ الْهُدَى، وَإِنِ اجْتَمَعَا، فَاجْتَمَعَ الْقَوْمُ عَلَى الْفُرْقَةِ، وَافْتَرَقُوا عَنِ الْجَمَاعَةِ، كَأَنَّهُمْ أَئِمَّةُ الْكِتَابِ وَلَيْسَ الْكِتَابُ إِمَامَهُمْ، فَلَمْ يَبْقَ عِنْدَهُمْ مِنْهُ إِلاَّ اسْمُهُ، وَلاَ يَعْرِفُونَ إِلاَّ خَطَّهُ وَزَبْرَهُ، وَمِنْ قَبْلُ مَا مَثَّلُوا بِالصَّالِحِينَ كُلَّ مُثْلَة، وَسَمَّوْا صِدْقَهُمْ عَلَى اللهِ فِرْيَةً، وَجَعَلُوا فِي الْحَسَنَةِ العُقُوبةَ السَّيِّئَةَ وَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِطُولِ آمَالِهِمْ وَتَغَيُّبِ آجَالِهِمْ، حَتَّى نَزَلَ بِهِمُ الْمَوْعُودُ الَّذِي تُرَدُّ عَنْهُ الْمَعْذِرَةُ، وَتُرْفَعُ عَنْهُ التَّوْبَةُ، وَتَحُلُّ مَعَهُ الْقَارِعَةُ وَالنِّقْمَةُ عظة الناس أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ مَنِ اسْتَنْصَحَ اللهَ وُفِّقَ، وَمَنِ اتَّخَذَ قَوْلَهُ دَلِيلاً هُدِيَ لِلَّتَي هِيَ أَقْوَمُ فَإِنَّ جَارَ اللهِ آمِنٌ، وَعَدُوَّهُ خَائِفٌ، وَإِنَّهُ لاَ يَنْبَغِي لِمَنْ عَرَفَ عَظَمَةَ اللهِ أَنْ يَتَعَظَّمَ، فَإِنَّ رِفْعَةَ الَّذِينَ يَعْلَمُونَ مَا عَظَمَتُهُ أَنْ يَتَوَاضَعُوا لَهُ، وَسَلاَمَةَ الَّذِينَ يَعْلَمُونَ مَا قُدْرَتُهُ أَنْ يَسْتَسْلِمُوا لَهُ، فَلاَ تَنْفِرُوا مِنَ الْحَقِّ نِفَارَ الصَّحِيحِ مِنَ الْأَجْرَبِ، وَالْبَارِي مِنْ ذِي السَّقَمِ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ لَنْ تَعْرِفُوا الرُّشْدَ حَتَّى تَعْرِفُوا الَّذِي تَرَكَهُ، وَلَنْ تَأْخُذُوا بِمَيثَاقِ الْكِتَابِ حَتَّى تَعْرِفُوا الَّذِي نَقَضَهُ، وَلَنْ تَمَسَّكُوا بِهِ حَتَّى تَعْرِفُوا الَّذَي نَبَذَهُ فَالْـتَمِسُوا ذلِكَ مِنْ عِنْدِ أَهْلِهِ، فَإِنَّهُمْ عَيْشُ الْعِلْمِ، وَمَوْتُ الْجَهْلِ، هُمْ الَّذِينَ يُخْبِرُكُمْ حُكْمُهُمْ عَنْ عِلْمِهِمْ، وَصمْتُهُمْ عَنْ مَنْطِقِهِمْ، وَظَاهِرُهُمْ عَنْ بَاطِنِهِمْ، لاَ يُخَالِفُونَ الدِّينَ وَلاَ يَخْتَلِفُونَ فِيهِ، فَهُوَ بَيْنَهُمْ شَاهِدٌ صَادِقٌ، وَصَامِتٌ نَاطِقٌ.

    شہادت سے پہلے فرمایا اے لوگو! ہر شخص اسی چیز کا سامنا کرنے والا ہے جس سے وہ راہ فرار اختیار کئے ہوئے ہے اور جہاں زندگی کا سفر کھینچ کر لے جاتا ہے وہی حیات کی منزل منتہا ہے۔ موت [۱] سے بھاگنا اسے پا لینا ہے۔ میں نے اس موت کے چھپے ہوئے بھیدوں کی جستجو میں کتنا ہی زمانہ گزارا مگر مشیت ایزدی یہی رہی کہ اس کی (تفصیلات) بے نقاب نہ ہوں۔ اس کی منزل تک رسائی کہاں وہ تو ایک پوشیدہ علم ہے۔ تو ہاں میری وصیت یہ ہے کہ اللہ کا کوئی شریک نہ ٹھہراؤ اور محمد ﷺ کی سنت کو ضائع و برباد نہ کرو۔ ان دونوں ستونوں کو قائم و برقرار رکھو اور ان دونوں چراغوں کو روشن کئے رہو۔ جب تک منتشر و پراگندہ نہیں ہوتے تم میں کوئی برائی [۲] نہیں آئے گی۔ تم میں سے ہر شخص اپنی وسعت بھر بوجھ اٹھائے۔ نہ جاننے والوں کا بوجھ بھی ہلکا رکھا گیا ہے۔ (کیونکہ) اللہ رحم کرنے والا، دین سیدھا (کہ جس میں کوئی الجھاؤ نہیں) اور پیغمبرؐ عالم و دانا ہے۔ میں کل تمہارا ساتھی تھا اور آج تمہارے لئے عبرت بنا ہوا ہوں اور کل تم سے چھوٹ جاؤں گا۔ خدا مجھے اور تمہیں مغفرت عطا کرے۔ اگر اس پھسلنے کی جگہ پر قدم جمے رہے تو خیر اور اگر قدموں کا جماؤ اکھڑ گیا تو ہم بھی انہی (گھنی) شاخوں کی چھاؤں، ہوا کی گزرگاہوں اور چھائے ہوئے ابر کے سایوں میں تھے، (لیکن) اس کے تہ بہ تہ جمے ہوئے لکے چھٹ گئے اور ہوا کے نشانات مٹ مٹا گئے۔ میں تمہارا ہمسایہ تھا کہ میرا جسم چند دن تمہارے پڑوس میں رہا اور میرے مرنے کے بعد مجھے جسدِ بے روح پاؤ گے کہ جو حرکت کرنے کے بعد تھم گیا اور بولنے کے بعد خاموش ہو گیا، تاکہ میرا یہ سکون اور ٹھہراؤ اور آنکھوں کا مندھ جانا اور ہاتھ پیروں کا بے حس و حرکت ہو جانا تمہیں پند و نصیحت کرے [۳] ، کیونکہ عبرت حاصل کرنے والوں کیلئے یہ (منظر) بلیغ کلموں اور کان میں پڑنے والی باتوں سے زیادہ موعظت و عبرت دلانے والا ہوتا ہے- میں تم سے اس طرح رخصت ہو رہا ہوں جیسے کوئی شخص (کسی کی) ملاقات کیلئے چشم براہ ہو۔ کل تم میرے اس دور کو یاد کرو گے اور میری نیتیں کھل کر تمہارے سامنے آ جائیں گی اور میری جگہ کے خالی ہونے اور دوسروں کے اس مقام پر آنے سے تمہیں میری قدر و منزلت کی پہچان ہو گی۔

  148. خطبہ 148- حضرت حجتؑ کی غیبت اور پیغمبرﷺ کے بعد لوگوں کی حالت

    148

    كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا يَرْجُو الْأَمْرَ لَهُ وَ يَعْطِفُهُ عَلَيْهِ دُونَ صَاحِبِهِ لَا يَمُتَّانِ إِلَى اللَّهِ بِحَبْلٍ وَ لَا يَمُدَّانِ إِلَيْهِ بِسَبَبٍ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا حَامِلُ ضَبٍّ لِصَاحِبِهِ وَ عَمَّا قَلِيلٍ يَكْشِفُ قِنَاعَهُ بِهِ وَ اللَّهِ لَئِنْ أَصَابُوا الَّذِي يُرِيدُونَ لَيَنْتَزِعَنَّ هَذَا نَفْسَ هَذَا وَ لَيَأْتِيَنَّ هَذَا عَلَى هَذَا قَدْ قَامَتِ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ فَأَيْنَ الْمُحْتَسِبُونَ قَدْ سُنَّتْ لَهُمُ السُّنَنُ وَ قُدِّمَ لَهُمُ الْخَبَرُ وَ لِكُلِّ ضَلَّةٍ عِلَّةٌ وَ لِكُلِّ نَاكِثٍ شُبْهَةٌ وَ اللَّهِ لَا أَكُونُ كَمُسْتَمِعِ اللَّدْمِ يَسْمَعُ النَّاعِيَ وَ يَحْضُرُ الْبَاكِيَ ثُمَّ لَا يَعْتَبِرُ

    (حوادث کے بارے میں) (وہ لوگ) گمراہی کے راستوں پر لگ کر اور ہدایت کی راہوں کو چھوڑ کر (افراط و تفریط کے) دائیں بائیں راستوں پر ہو لئے ہیں۔ جو بات کہ ہو کر رہنے والی اور محل انتظار میں ہو اس کیلئے جلدی نہ مچاؤ اور جسے ’’کل‘‘ اپنے ساتھ لئے آ رہا ہے اس کی دوری محسوس کرتے ہوئے ناگواری ظاہر نہ کرو۔ بہتیرے لوگ ایسے ہیں کہ جو کسی چیز کیلئے جلدی مچاتے ہیں اور جب اسے پا لیتے ہیں تو پھر یہ چاہنے لگتے ہیں کہ اسے نہ ہی پاتے تو اچھا تھا۔ ’’آج‘‘ آنے والے ’’کل‘‘ کے اجالوں سے کتنا قریب ہے۔ اے میری قوم! یہی تو وعدہ کی ہوئی چیزوں کے آنے اور ان فتنوں کے نمایاں ہو کر قریب ہونے کا زمانہ ہے کہ جن سے ابھی تم آگاہ نہیں ہو۔ دیکھو! ہم (اہلبیتؑ) میں سے جو (ان فتنوں کا دور) پائے گا وہ اس میں (ہدایت کا) چراغ لے کر بڑھے گا اور نیک لوگوں کی راہ و روش پر قدم اٹھائے گا، تاکہ بندھی ہوئی گرہوں کو کھولے اور بندوں کو آزاد کرے اور حسب ضرورت جڑے ہوئے کو توڑے اور ٹوٹے ہوئے کو جوڑے۔ وہ لوگوں کی (نگاہوں سے) پوشیدہ ہو گا۔ کھوج لگانے والے پیہم نظریں جمانے کے باوجود بھی اس کے نقش قدم کو نہ دیکھ سکیں گے- اس وقت ایک قوم کو (حق کی سان پر) اس طرح تیز کیا جائے گا جس طرح لوہار تلوار کی باڑ تیز کرتا ہے۔ قرآن سے ان کی آنکھوں میں جلا پیدا کی جائے گی اور اس کے مطالب ان کے کانوں میں پڑتے رہیں گے اور حکمت کے چھلکتے ہوئے ساغر انہیں صبح و شام پلائے جائیں گے ۔ [اسی خطبہ کا ایک جز یہ ہے] ان کی (گمراہیوں کا) زمانہ بڑھتا ہی رہا، تاکہ وہ اپنی رسوائیوں کی تکمیل اور سختیوں کا استحقاق پیدا کر لیں۔ یہاں تک کہ جب وہ مدت ختم ہونے کے قریب آ گئی اور ایک (فتنہ انگیز) جماعت فتنوں کا سہارا لے کر بڑھی اور جنگ کی تخم پاشیوں کیلئے کھڑی ہو گئی تو اس وقت (ایمان لانے والے) اپنے صبر و شکیب سے اللہ پر احسان نہیں جتاتے تھے اور نہ حق کی راہ میں جان دینا کوئی بڑا کارنامہ سمجھتے تھے۔ یہاں تک کہ جب حکم قضا نے مصیبت کا زمانہ ختم کر دیا تو انہوں نے بصیرت کے ساتھ تلواریں اٹھا لیں اور اپنے ہادی کے حکم سے اپنے رب کے احکام کی اطاعت کرنے لگے اور جب اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو دنیا سے اٹھا لیا تو ایک گروہ الٹے پیروں پلٹ گیا اور گمراہی کی راہوں نے اسے تباہ و برباد کر دیا اور وہ اپنے غلط سلط عقیدوں پر بھروسا کر بیٹھا، (قریبیوں کو چھوڑ کر) بیگانوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے لگا اور جن (ہدایت کے) وسیلوں سے اسے مودّت کا حکم دیا گیا تھا انہیں چھوڑ بیٹھا اور (خلافت کو) اس کی مضبوط بنیادوں سے ہٹا کر وہاں نصب کر دیا جو اس کی جگہ نہ تھی۔ یہی تو گناہوں کے مخزن اور گمراہی میں بھٹکنے والوں کا دروازہ ہیں۔ وہ حیرت و پریشانی میں سرگرداں اور آل فرعون کی طرح گمراہی کے نشہ میں مدہوش پڑے تھے۔ کچھ تو آخرت سے کٹ کر دنیا کی طرف متوجہ تھے اور کچھ حق سے منہ موڑ کر دین چھوڑ چکے تھے۔

  149. خطبہ 149- فتنوں میں لوگوں کی حالت اور ظلم اور اکل حرام سے اجتناب

    149

    أَيُّهَا النَّاسُ كُلُّ امْرِئٍ لَاقٍ مَا يَفِرُّ مِنْهُ فِي فِرَارِهِ وَ الْأَجَلُ مَسَاقُ النَّفْسِ وَ الْهَرَبُ مِنْهُ مُوَافَاتُهُ كَمْ أَطْرَدْتُ الْأَيَّامَ أَبْحَثُهَا عَنْ مَكْنُونِ هَذَا الْأَمْرِ فَأَبَى اللَّهُ إِخْفَاءَهُ هَيْهَاتَ عِلْمٌ مَخْزُونٌ أَمَّا وَصِيَّتِي فَاللَّهَ لَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئاً وَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَاَلِهِ- فَلَا تُضَيِّعُوا سُنَّتَهُ أَقِيمُوا هَذَيْنِ الْعَمُودَيْنِ وَ أَوْقِدُوا هَذَيْنِ الْمِصْبَاحَيْنِ وَ خَلَاكُمْ ذَمٌّ مَا لَمْ تَشْرُدُوا حَمَلَ كُلَّ امْرِئٍ مِنْكُمْ مَجْهُودَهُ وَ خَفَّفَ عَنِ الْجَهَلَةِ رَبٌّ رَحِيمٌ وَ دِينٌ قَوِيمٌ وَ إِمَامٌ عَلِيمٌ أَنَا بِالْأَمْسِ صَاحِبُكُمْ وَ أَنَا الْيَوْمَ عِبْرَةٌ لَكُمْ وَ غَداً مُفَارِقُكُمْ غَفَرَ اللَّهُ لِي وَ لَكُمْ إِنْ تَثْبُتِ الْوَطْأَةُ فِي هَذِهِ الْمَزَلَّةِ فَذَاكَ وَ إِنْ تَدْحَضِ الْقَدَمُ فَإِنَّا كُنَّا فِي أَفْيَاءِ أَغْصَانٍ وَ مَهَابِّ رِيَاحٍ وَ تَحْتَ ظِلِّ غَمَامٍ اضْمَحَلَّ فِي الْجَوِّ مُتَلَفِّقُهَا ‏ وَ عَفَا فِي الْأَرْضِ مَخَطُّهَا وَ إِنَّمَا كُنْتُ جَاراً جَاوَرَكُمْ بَدَنِي أَيَّاماً وَ سَتُعْقَبُونَ مِنِّي جُثَّةً خَلَاءً سَاكِنَةً بَعْدَ حَرَاكٍ وَ صَامِتَةً بَعْدَ نُطُوقٍ لِيَعِظَكُمْ هُدُوِّي وَ خُفُوتُ إِطْرَاقِي وَ سُكُونُ أَطْرَافِي فَإِنَّهُ أَوْعَظُ لِلْمُعْتَبِرِينَ مِنَ الْمَنْطِقِ الْبَلِيغِ وَ الْقَوْلِ الْمَسْمُوعِ وَدَاعِيكُمْ وَدَاعُ امْرِئٍ مُرْصِدٍ لِلتَّلَاقِي غَداً تَرَوْنَ أَيَّامِي وَ يُكْشَفُ لَكُمْ عَنْ سَرَائِرِي وَ تَعْرِفُونَنِي بَعْدَ خُلُوِّ مَكَانِي وَ قِيَامِ غَيْرِي مَقَامِي

    میں اللہ کی حمد و ثنا کرتا ہوں اور ان چیزوں کیلئے اس سے مدد مانگتا ہوں کہ جو شیطان کو راندہ اور دور کرنے والی اور اس کے پھندوں اور ہتھکنڈوں سے اپنی پناہ میں رکھنے والی ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اس کے عبد و رسول اور منتخب و برگزیدہ ہیں۔نہ ان کے فضل و کمال کی برابری اور نہ ان کے اٹھ جانے کی تلافی ہوسکتی ہے۔ تاریک گمراہیوں اور بھرپور جہالتوں اور سخت و درشت (خصلتوں) کے بعد شہروں (کے شہر) ان کی وجہ سے روشن و منور ہو گئے، جبکہ لوگ حلال کو حرام اور مرد زیرک و دانا کو ذلیل سمجھتے تھے۔ نبیوں سے خالی زمانہ میں جیتے تھے اور گمراہی کی حالت میں مر جاتے تھے۔ پھر یہ کہ اے گروہ عرب! تم ایسی ابتلاؤں کا نشانہ بننے والے ہو کہ جو قریب پہنچ چکی ہیں۔ عیش و تنعم کی بدمستیوں سے بچو اور عذاب کی تباہ کاریوں سے ڈرو۔ شبہات کے دھندلکوں اور فتنہ کی کجرویوں میں اپنے قدموں کو روک لو، جبکہ اس کا چھپا ہوا خدشہ سر اٹھائے اور مخفی اندیشہ سامنے آ جائے اور اس کا کھونٹا مضبوط ہو جائے۔ فتنے ہمیشہ چھپے ہوئے راستوں سے ظاہر ہوا کرتے ہیں اور انجام کار ان کی کھلم کھلا برائیوں سے دو چار ہونا پڑتا ہے اور ان کی اٹھان ایسی ہوتی ہے جیسے نوخیز بچے کی اور ان کے نشانات ایسے ہوتے ہیں جیسے پتھر (کی چوٹوں) کے۔ ظالم آپس کے عہد و پیمان سے اس کے وارث ہوتے چلے آتے ہیں۔ اگلا پچھلے کا رہنما اور پچھلا اگلے کا پیرو ہوتا ہے۔ وہ اسی رذیل دنیا پر مر مٹتے ہیں اور اس سڑے ہوئے مردار پر ٹوٹ پڑے ہیں۔ جلد ہی پیروکار اپنے پیشرو رہنماؤں سے اظہار بیزاری کریں گے اور ایک دوسرے کی دشمنی کے ساتھ علیحدگی اختیار کر لیں گے اور سامنے ہونے پر ایک دوسرے کو لعنت کریں گے۔ اس دور کے بعد ایک فتنہ ایسا آئے گا جو امن و سلامتی کو تہ و بالا کرنے والا اور تباہی مچانے والا اور خلق خدا پر سختی کے ساتھ حملہ آور ہو گا تو بہت سے دل ٹھہراؤ کے بعد ڈانواں ڈول اور بہت سے لوگ (ایمان کی) سلامتی کے بعد گمراہ ہو جائیں گے۔ اس کے حملہ آور ہونے کے وقت خواہشیں بٹ جائیں گی اور اس کے اُبھرنے کے وقت رائیں مشتبہ ہو جائیں گی۔ جو اس فتنہ کی طرف جھک کر دیکھے گا وہ اسے تباہ کر دے گا اور جو اس میں سعی و کوشش کرے گا اسے جڑ بنیاد سے اکھیڑ دے گا اور آپس میں ایک دوسرے کو اس طرح کاٹنے لگیں گے جس طرح وحشی گدھے اپنی بھیڑ میں ایک دوسرے کو دانتوں سے کاٹتے ہیں۔ اسلام کی بٹی ہوئی رسی کے بل کھل جائیں گے، صحیح طریق کار چھپ جائے گا، حکمت کا پانی خشک ہو جائے گا اور ظالموں کی زبان کھل جائے گی۔ وہ فتنہ بادیہ نشینوں کو اپنے ہتھوڑوں سے کچل دے گا اور اپنے سینہ سے ریزہ ریزہ کر دے گا۔ اس کے گرد و غبار میں اکیلے دوکیلے تباہ و برباد ہو جائیں گے اور سوار اس کی راہوں میں ہلاک ہو جائیں گے۔ وہ حکم الہٰی کی تلخیاں لے کر آئے گا اور (دودھ کے بجائے) خالص خون دوہے گا۔ دین کے میناروں کو ڈھا دے گا اور یقین کے اصولوں کو توڑ دے گا۔ عقلمند اس سے بھاگیں گے اور شر پسند اس کے کرتا دھرتا ہوں گے۔ وہ گرجنے اور چمکنے والا ہو گا اور پورے زوروں کے ساتھ سامنے آئے گا۔ سب رشتے ناطے اس میں توڑ دئیے جائیں گے اور اسلام سے علیحدگی اختیار کر لی جائے گی۔ اس سے الگ تھلگ رہنے والا بھی اس میں مبتلا ہو جائے گا اور اس سے نکل بھاگنے والا بھی اپنے قدم اس سے باہر نہ نکال سکے گا۔ [اسی خطبہ کا ایک جز یہ ہے (جس میں ایمان والوں کی حالت کا ذکر ہے)] کچھ تو ان میں سے شہید ہوں گے کہ جن کا بدلہ نہ لیا جا سکے گا اور کچھ خوف زدہ ہوں گے جو اپنے لئے پناہ ڈھونڈتے پھریں گے۔ انہیں قَسموں اور (ظاہری) ایمان کی فریب کاریوں سے دھوکا دیا جائے گا۔ تم فتنوں کی طرف راہ دکھانے والے نشان اور بدعتوں کے سربراہ نہ بنو۔ تم (ایمان والی) جماعت کے اصولوں اور ان کی عبادت و اطاعت کے طور طریقوں پر جمے رہو۔ اللہ کے پاس مظلوم بن کر جاؤ ظالم بن کر نہ جاؤ۔ شیطان کی راہوں اور تمرد و سرکشی کے مقاموں سے بچو۔ اپنے پیٹ میں حرام کے لقمے نہ ڈالو۔ اس لئے کہ تم اس کی نظروں کے سامنے ہو جس نے معصیت و خطا کو تمہارے لئے حرام کیا ہے اور اطاعت کی راہیں آسان کر دی ہیں۔

  150. خطبہ 150- خداوند عالم کی عظمت و جلالت کا تذکرہ اور معرفت امام کے متعلق

    150

    وَأَخَذُوا يَمِيناً وَشِمَالاً ظَعْنَاً فِي مَسَالِكَ الْغَيِّ، وَتَرْكاً لِمَذَاهِبِ الرُّشْدِ، فَلاَ تَسْتَعْجِلُوا مَا هُوَ كَائِنٌ مُرْصَدٌ، وَلاَ تَسْتَبْطِئُوا مَا يَجِيءُ بِهِ الْغَدُ، فَكَمْ مِنْ مُسْتَعْجِل بِمَا إِنْ أَدْركَهُ وَدَّ أَنَّهُ لَمْ يُدْرِكْهُ، وَمَا أَقْرَبَ الْيَوْمَ مِنْ تَبَاشِير غَد! يَاقَوْمِ، هذَا إِبَّانُ وُرُودِ كُلِّ مَوْعُود، وَدُنُوٍّ مِنْ طَلْعَةِ مَا لاَ تَعْرِفُونَ، أَلاَ وَإِنَّ مَنْ أَدْرَكَهَا مِنَّا يَسْرِي فِيهَا بِسِرَاج مُنِير، وَيَحْذُوفِيهَا عَلَى مِثَالِ الصَّالِحِينَ، لِيَحُلَّ فِيهَا رِبْقاً، وَيُعْتِقَ رِقّاً، وَيَصْدَعَ شَعْباً، وَيَشْعَبَ صَدْعاً، فِي سُتْرَة عَنِ النَّاسِ لاَ يُبْصِرُ الْقَائِفُ أَثَرَهُ وَلَوْ تَابَعَ نَظَرَهُ ثُمَّ لَيُشْحَذَنَّ فِيهَا قَوْمٌ شَحْذَ الْقَيْنِ النَّصْلَ تُجْلَى بِالتَّنْزِيلِ أَبْصَارُهُمْ، وَيُرْمَى بِالتَّفْسِيرِ فِي مَسَامِعِهمْ، وَيُغْبَقُونَ كَأْسَ الْحِكْمَةِ بَعْدَ الصَّبُوحِ! منها: في الضلال وَطَالَ الْأَمَدُ بِهِمْ لِيَسْتَكْمِلُوا الْخِزْيَ، وَيَسْتَوْجِبُوا الْغِيَرَ حَتَّى إِذَا اخْلَوْلَقَ الْأَجَلُ وَاسْتَرَاحَ قَوْمٌ إِلَى الْفِتَنِ، وَأَشَالُوا عَنْ لَقَاحِ حَرْبِهِمْ، لَمْ يَمُنُّوا عَلَى اللهِ بِالصَّبْرِ، وَلَمْ يَسْتَعْظِمُوا بَذْلَ أَنْفُسِهِمْ فِي الْحَقِّ حَتَّى إِذَا وَافَقَ وَارِدُ الْقَضَاءِ انْقِطَاعَ مُدَّةِ الْبَلاَءِ، حَمَلُوا بَصَائِرَهُمْ عَلَى أَسْيَافِهمْ، وَدَانُوا لِرَبِّهِمْ بَأَمْرِ وَاعِظِهِمْ حَتَّى إِذَا قَبَضَ اللهُ رَسُولَهُ(صلى الله عليه وآله)، رَجَعَ قَوْمٌ عَلَى الْأَعْقَابِ، وَغَالَتْهُمُ السُّبُلُ، وَاتَّكَلُوا عَلَى الْوَلاَئِجِ وَوَصَلُوا غَيْرَ الرَّحِمِ، وَهَجَرُوا السَّبَبَ الَّذِي أُمِرُوا بِمَوَدَّتِهِ، وَنَقَلُوا الْبِنَاءَ عَنْ رَصِّ أَسَاسِهَ، فَبَنَوْهُ فِي غَيْرِ مَوْضِعِهِ مَعَادِنُ كُلِّ خَطِيئَة، وَأَبْوَابُ كُلِّ ضَارِب فِي غَمْرَة قَدْ مَارُوا فِي الْحَيْرَةِ، وَذَهَلُوا فِي السَّكْرَةِ، عَلَى سُنَّة مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ مِنْ مُنْقَطِع إِلَى الدُّنْيَا رَاكِن، أَوْ مُفَارِق لِلدِّينِ مُبَايِن.

    تمام تعریف اس اللہ کیلئے ہے کہ جو خلق (کائنات سے) اپنے وجود کا اور پیدا شدہ مخلوقات سے اپنے قدیم و ازلی ہونے کا اور ان کی باہمی شباہت سے اپنے بے نظیر ہونے کا پتہ دینے والا ہے۔ نہ حواس اسے چھو سکتے ہیں اور نہ پردے اسے چھپا سکتے ہیں۔ چونکہ بنانے والے اور بننے والے، گھیرنے والے اور گھرنے والے، پالنے والے اور پرورش پانے والے میں فرق ہوتا ہے۔ وہ ایک ہے لیکن نہ ویسا کہ جو شمار میں آئے، وہ پیدا کرنے والا ہے لیکن نہ اس معنی سے کہ اسے حرکت کرنا اور تعب اٹھانا پڑے، وہ سننے والا ہے لیکن نہ کسی عضو کے ذریعہ سے اور دیکھنے والا ہے، لیکن نہ اس طرح کہ آنکھیں پھیلائے، وہ حاضر ہے لیکن نہ اس طرح کہ چھوا جا سکے، وہ جدا ہے نہ اس طرح کہ بیچ میں فاصلہ کی دوری ہو۔ وہ ظاہر بظاہر ہے مگر آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتا۔ وہ ذاتا پوشیدہ ہے نہ لطافت جسمانی کی بنا پر۔ وہ سب چیزوں سے اس لئے علیحدہ ہے کہ وہ ان پر چھایا ہوا ہے اور ان پر اقتدار رکھتا ہے اور تمام چیزیں اِس لئے اُس سے جدا ہیں کہ وہ اس کے سامنے جھکی ہوئی اور اس کی طرف پلٹنے والی ہیں۔ جس نے (ذات کے علاوہ) اس کیلئے صفات تجویز کئے اس نے اس کی حد بندی کر دی اور جس نے اسے محدود خیال کیا وہ اسے شمار میں آنے والی چیزوں کی قطار میں لے آیا اور جس نے اسے شمار کے قابل سمجھ لیا اس نے اس کی قدامت ہی سے انکار کر دیا اور جس نے یہ کہا کہ وہ ’’کیسا‘‘ ہے وہ اس کیلئے (الگ سے) صفتیں ڈھونڈھنے لگا اور جس نے یہ کہا کہ وہ ’’کہاں‘‘ ہے اس نے اسے کسی جگہ میں محدود سمجھ لیا۔ وہ اس وقت بھی عالم تھا جب کہ معلوم کا وجود نہ تھا اور اس وقت بھی ربّ تھا جب کہ پرورش پانے والے نہ تھے اور اس وقت بھی قادر تھا جب کہ یہ زیر قدرت آنے والی مخلوق نہ تھی۔ [۱] [اسی خطبہ کا ایک جز یہ ہے] ابھرنے والا ابھر آیا، چمکنے والا چمک اٹھا، ظاہر ہونے والا ظاہر ہوا اور ٹیڑھے معاملے سیدھے ہو گئے۔ اللہ نے جماعت کو جماعت سے اور زمانہ کو زمانہ سے بدل دیا ہے۔ ہم اس انقلاب کے اس طرح منتظر تھے جس طرح قحط زدہ بارش کا۔ بلاشبہ آئمہ اللہ کے ٹھہرائے ہوئے حاکم ہیں اور اس کو بندوں سے پہچنوانے والے ہیں۔ جنت میں وہی جائے گا جسے ان کی معرفت ہو اور وہ بھی اسے پہچانیں اور دوزخ میں وہی ڈالا جائے گا جو نہ انہیں پہچانے اور نہ وہ اسے پہچانیں۔ اللہ نے تمہیں اسلام کیلئے مخصوص کر لیا ہے اور اس کیلئے تمہیں چھانٹ لیا ہے اور یہ اس طرح کہ اسلام سلامتی کا نام اور عزت انسانی کا سرمایہ ہے۔ اس کی راہ کو اللہ نے تمہارے لئے چن لیا ہے اور اس کے کھلے ہوئے احکام اور چھپی ہوئی حکمتوں سے اس کے دلائل واضح کر دئیے ہیں۔ نہ اس کے عجائبات مٹنے والے ہیں اور نہ اس کے لطائف ختم ہونے والے ہیں، اسی میں نعمتوں کی بارشیں اور تاریکیوں کے چراغ ہیں، اسی کی کنجیوں سے نیکیوں کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور اسی کے چراغوں سے تیرگیوں کا دامن چاک کیا جاتا ہے۔ خدا نے اس کے ممنوعہ مقامات سے روکا ہے اور اس کی چراگاہوں میں چرنے کی اجازت دی ہے۔ شفا چاہنے والے کیلئے اس میں شفا اور بے نیازی چاہنے والے کیلئے اس میں بے نیازی ہے۔

  151. خطبہ 151- غفلت شعاروں، چوپاؤں، درندوں اور عورتوں کے عادات و خصائل

    151

    وَأَحْمَدُ اللهَ وَأَسْتَعِينُهُ عَلَى مَدَاحِرِ الشَّيْطَانِ وَمَزَاجِرِهِ، وَالاعْتِصَامِ مِنْ حَبَائِلِهِ وَمَخَاتِلِهِ وَأَشْهَدُ أَن لا اله الّا اللّهُ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَنَجِيبُهُ وَصَفْوَتُهُ، لاَ يُؤَازَى فَضْلُهُ، وَلاَ يُجْبَرُ فَقْدُهُ، أَضَاءَتْ بِهِ الْبِلاَدُ بَعْدَ الضَّلاَلَةِ الْمُظْلِمَةِ، وَالْجَهَالَةِ الْغَالِبَةِ، وَالْجَفْوَةِ الْجَافِيَةِ، وَالنَّاسُ يَسْتَحلُّونَ الْحَرِيمَ، وَيَسْتَذِلُّونَ الْحَكِيمَ، يَحْيَوْنَ عَلَى فَتْرَة، وَيَمُوتُونَ عَلَى كَفْرَة ثُمَّ إِنَّكُمْ مَعْشَرَ الْعَرَبِ أَغْرَاضُ بَلاَيَا قَدِ اقْتَرَبَتْ، فَاتَّقُوا سَكَرَاتِ النِّعْمَةِ، وَاحْذَرُوا بِوَائِقَ النِّقْمَةِ، وَتَثَبَّتُوا فِي قَتَامِ الْعِشْوَةِ وَاعْوِجَاجِ الْفِتْنَةِ عِنْدَ طُلُوعِ جَنِينِهَا، وَظُهُورِ كَمِينِهَا، وَانْتِصَابِ قُطْبِهَا، وَمَدَارِ رَحَاهَا تَبْدَأُ فِي مَدَارِجَ خَفِيَّة، وَتَؤُولُ إِلَى فَظَاعَة جَلِيَّة، شِبَابُهَا كَشِبَابِ الْغُلاَمِ، وَآثَارُهَا كَآثَارِ السِّلاَمِ، يَتَوَارَثُهَا الظَّلَمَةُ بالْعُهُودِ! أَوَّلُهُمْ قَائِدٌ لاِخِرِهِمْ، وَآخِرُهُمْ مُقْتَد بأَوَّلِهِمْ، يَتَنَافَسُونَ في دُنْيا دَنِيَّة، وَيَتَكَالَبُونَ عَلى جِيفَة مُرِيحَة وَعَنْ قَلِيل يَتَبَرَّأُ التَّابِعُ مِنَ الْمَتْبُوعِ، وَالْقَائِدُ مِنَ الْمَقُودِ، فَيَتَزَايَلُونَ بِالْبِغْضَاءِ، وَيَتَلاَعَنُونَ عِنْدَ اللِّقَاءِ ثُمَّ يَأْتِي بَعْدَ ذلِكَ طَالِعُ الْفِتْنَةِ الرَّجُوفِ وَالْقَاصِمَةِ الزَّحُوفِ فَتَزِيغُ قُلُوبٌ بَعْدَ اسْتِقَامَة، وَتَضِلُّ رِجَالٌ بَعْدَ سَلاَمَة، وَتَخْتَلِفُ الاَهْوَاءُ عِنْدَ هُجُومِهَا، وَتَلْتَبِسُ الاْرَاءُ عِنْدَ نُجُومِهَا مَنْ أَشْرَفَ لَهَا قَصَمَتْهُ، وَمَنْ سَعَى فِيهَا حَطَمَتْهُ، يَتَكَادَمُونَ فِيهَا تَكَادُمَ الْحُمُرِ فِي الْعَانَةِ! قَدِ اضْطَرَبَ مَعْقُودُ الْحَبْلِ، وَ عَمِيَ وَجْهُ الْأَمْرِ، تَغِيضُ فِيهَا الْحِكْمَةُ، وَتَنْطِقُ فِيهَا الظَّلَمَةُ، وَتَدُقُّ أَهْلَ الْبَدْوِ بِمِسْحَلِهَا، وَتَرُضُّهُمْ بِكَلْكَلِهَا! يَضِيعُ فِي غُبَارِهَا الْوُحْدَانُ وَيَهْلِكُ فِي طَرِيقِهَا الرُّكْبَانُ، تَرِدُ بِمُرِّ الْقَضَاءِ، وَ تَحْلُبُ عَبِيطَ الدِّمَاءِ، وَتَثْلِمُ مَنَارَ الدِّينَ، وَتَنْقُضُ عَقْدَ الْيَقِينِ، يَهْرُبُ مِنْهَا الْأَكْيَاسُ، وَيُدَبِّرُهَا الْأَرْجَاسُ، مِرْعَادٌ مِبْرَاقٌ، كَاشِفَةٌ عَنْ سَاق! تُقْطَعُ فِيهَا الاَرْحَامُ، وَيُفَارَقُ عَلَيْهَا الاِسْلاَمُ! بَرِيئُهَا سَقِيمٌ، وَظَاعِنُهَا مُقِيمٌ! منها: بَيْنَ قَتِيل مَطْلُول، وَخَائِف مُسْتَجِير، يَخْتِلُونَ بِعَقْدِ الاَيمَانِ وَبِغُرُورِ الْإِيمَانِ فَلاَ تَكُونُوا أَنْصَابَ الْفِتَنِ، وَأَعْلاَمَ الْبِدَعِ، وَالْزَمُوا مَا عُقِدَ عَلَيْهِ حَبْلُ الْجَمَاعَةِ، وَبُنِيَتْ عَلَيْهِ أَرْكَانُ الطَّاعَةِ، وَاقْدَمُوا عَلَى اللهِ مَظْلُومِينَ، وَلاَ تَقْدَمُوا عَلَيْهِ ظَالِمِينَ، وَاتَّقُوا مَدَارِجَ الشَّيْطَانِ وَمَهَابِطَ الْعُدْوَانِ، وَلاَ تُدْخِلُوا بُطُونَكُمْ لُعَقَ الْحَرَامِ، فَإِنَّكُمْ بِعَيْنِ مَنْ حَرَّمَ عَلَيْكُم الْمَعْصِيَةَ، وَسَهَّلَ لَكُمْ سُبُلَ الطَّاعَةِ.

    اسے اللہ کی طرف سے مہلت ملی ہے۔ وہ غفلت شعاروں کے ساتھ (تباہیوں میں) گرتا ہے، بغیر سیدھی راہ اختیار کئے اور بغیر کسی ہادی و رہبر کے ساتھ دئیے صبح سویرے ہی گنہگاروں کے ساتھ ہو لیتا ہے۔ [اسی خطبہ کا ایک جز یہ ہے] آخر کار جب اللہ ان کے گناہوں کا نتیجہ ان کے سامنے لائے گا اور غفلت کے پردوں سے انہیں نکال باہر کرے گا تو پھر اس چیز کی طرف بڑھیں گے جسے پیٹھ دکھاتے تھے اور اس شے سے پیٹھ پھرائیں گے جس کی طرف ان کا رخ رہتا تھا۔ انہوں نے اپنے مطلوبہ سر و سامان کو پا کر اور خواہشوں کو پورا کرکے کچھ بھی تو فائدہ حاصل نہ کیا۔ میں تمہیں اور خود اپنے کو اس مرحلہ سے متنبہ کرتا ہوں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے نفس سے فائدہ اٹھائے۔ اس لئے کہ آنکھوں والا وہ ہے جو سنے تو غور کرے اور نظر اٹھائے تو حقیقتوں کو دیکھ لے اور عبرتوں سے فائدہ اٹھائے۔ پھر واضح راستہ اختیار کرے جس کے بعد گڑھوں میں گرنے اور شبہات میں بھٹک جانے سے بچتا رہے اور حق سے بے راہ ہونے اور بات میں ردّ و بدل کرنے اور سچائی میں خوف کھانے سے گمراہوں کی مدد کرکے زیاں کار نہ بنے۔ اے سننے والو! اپنی سرمستیوں سے ہوش میں آؤ، غفلت سے آنکھیں کھولو، اس (دنیا کی) دوڑ دھوپ کو کم کرو اور جو باتیں نبی اُمیؐ کی زبان (مبارک) سے پہنچی ہیں ان میں اچھی طرح غور و فکر کرو کہ ان سے نہ کوئی چارہ ہے اور نہ کوئی گریز کی راہ۔ جو ان کی خلاف ورزی کرے تم اس سے دوسری طرف رخ پھیر لو اور اسے چھوڑو کہ وہ اپنے نفس کی مرضی پر چلتا رہے۔ فخر کے پاس نہ جاؤ اور بڑائی (کے سر) کو نیچا کرو۔ اپنی قبر کو یاد رکھو کہ تمہارا راستہ وہی ہے اور جیسا کرو گے ویسا پاؤ گے، جو بوؤ گے وہی کاٹو گے، جو آج آگے بھیجو گے وہی کل پا لو گے، آگے کیلئے کچھ تہیہ کرو اور اس دن کیلئے سرو سامان تیار رکھو۔ اے سننے والو! ڈرو ڈرو اور اے غفلت کرنے والو! کوشش کرو، کوشش کرو! تمہیں خبر رکھنے والا جو بتائے گا وہ دوسرا نہیں بتا سکتا۔ قرآن حکیم میں اللہ کے ان اٹل اصول میں سے کہ جن پر وہ جزا و سزا دیتا ہے اور راضی و ناراض ہوتا ہے، یہ چیز ہے کہ کسی بندے کو چاہے وہ جو کچھ جتن کر ڈالے دنیا سے نکل کر اللہ کی بارگاہ میں جانا ذرا فائدہ نہیں پہنچا سکتا جبکہ وہ ان خصلتوں میں سے کسی ایک خصلت سے توبہ کئے بغیر مر جائے: ایک یہ کہ فرائض عبادت میں کسی کو اس کا شریک ٹھہرایا ہو، یا کسی کو ہلاک کرکے اپنے غضب کو ٹھنڈا کیا ہو، یا دوسرے کے کئے پر عیب لگایا ہو، یا دین میں بدعتیں ڈال کر لوگوں سے اپنا مقصد پورا کیا ہو، یا لوگوں سے دو رخی چال چلتا ہو، یا دو زبانوں سے لوگوں سے گفتگو کرتا ہو۔ اس بات کو سمجھو! اس لئے کہ ایک نظیر دوسری نظیر کی دلیل ہوا کرتی ہے۔ بلاشبہ چوپاؤں کا مقصد پیٹ (بھرنا) اور درندوں کا مقصد دوسروں پر حملہ آور ہونا اور عورتوں کا مقصد اس پست دنیا کو بنانا سنوارنا اور فتنے اٹھانا ہی ہوتا ہے۔ [۱] مومن وہ ہیں جو تکبر و غرور سے دور ہوں۔ مومن وہ ہیں جو خائف و ترسان ہوں۔ مومن وہ ہیں جو ہراساں ہو۔

  152. خطبہ 152- اہل بیتؑ کی توصیف، علم وعمل کا تلازم اور اعمال کا ثمرہ

    152

    الْحَمْدُ لِلَّهِ الدَّالِّ عَلَى وُجُودِهِ بِخَلْقِهِ، وَبِمُحْدَثِ خَلْقِهِ عَلَى أَزَلِيَّته، وَبِاشْتِبَاهِهِمْ عَلَى أَنْ لاَ شَبَهَ لَهُ لاَ تَسْتَلِمُهُ الْمَشَاعِرُ، وَلاَ تَحْجُبُهُ السَّوَاتِرُ، لاِفْتِرَاِق الصَّانِعِ وَالْمَصْنُوعِ، وَالْحَادِّ وَالْـمَحْدُودِ، وَالرَّبِّ وَالْمَرْبُوبِ الْأَحَدِ لاَ بِتَأْوِيلِ عَدَد، وَالْخَالِقُ لاَ بِمَعْنَى حَرَكَة وَنَصَب وَالسَّمِيعُ لاَ بِأَدَاة وَالْبَصِيرُ لاَ بِتَفْرِيقِ آلَة وَالشَّاهِدُ لاَبِمُمَاسَّه، وَالْبَائِنُ لاَبِتَرَاخِي مَسَافَة، وَالظّاهِرُ لاَبِرُؤيَة، وَالْبَاطِنُ لاَ بِلَطَافَة بَانَ مِنَ الْأَشْيَاءِ بِالْقَهْرِ لَهَا وَالْقُدْرَةِ عَلَيْهَا، وَ بَانَتِ الْأَشْيَاءُ مِنْهُ بَالْخُضُوعِ لَهُ وَالرُّجُوعِ إِلَيْهِ، مَنْ وَصَفَهُ فَقَدْ حَدَّهُ، وَمَنْ حَدَّهُ فَقَدْ عَدَّهُ، وَمَنْ عَدَّهُ فَقَدْ أَبْطَلَ أَزَلَهُ، وَمَنْ قَالَ: كَيْفَ، فَقَدِ اسْتَوْصَفَهُ، وَمَنْ قَالَ: أَيْنَ، فَقَدْ حَيَّزَهُ عَالِمٌ إِذْ لاَ مَعْلُومٌ، وَرَبٌّ إِذْ لاَ مَرْبُوبٌ، وَقَادِرٌ إِذْ لاَ مَقْدُورٌ منها: في أئمّة الدين فَقَدْ طَلَعَ طَالِعٌ، وَلَمَعَ لاَ مِعٌ، وَلاَحَ لاَئِحٌ، وَاعْتَدَلَ مَائِلٌ، وَاسْتَبْدَلَ اللهُ بِقَوْم قَوْماً، وَبِيَوم يَوْماً، وَانْتَظَرْنَا الْغِيَرَ انْتِظَارَ الْـمُجْدِبِ الْمَطَرَ وَإِنَّمَا الاَئِمَّةُ قُوَّامُ اللهِ عَلَى خَلْقِهِ، وَعُرَفَاؤُهُ عَلَى عِبَادِهِ، لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلاَّ مَنْ عَرَفَهُم وَعَرَفُوهُ،ْ وَلاَ يَدْخُلُ النَّارَ إِلاَّ منْ أَنْكَرَهُمْ وَأَنْكَرُوهُ إِنَّ اللهَ خَصَّكُمْ َبِالْإِسْلَامِ، وَاسْتَخْلَصَكُمْ لَهُ، وَذلِكَ لِأَنَّهُ اسْمُ سَلاَمَة، وَجِمَاعُ كَرَامَة، اصْطَفَى اللهُ تَعَالَى مَنْهَجَهُ، وَبَيَّنَ حُجَجَهُ، مِنْ ظَاهِرِ عِلْم، وَبَاطِنِ حِكَم، لاَ تَفْنَى غَرَائِبُهُ، وَلاَ تَنْقَضِي عَجَائِبُهُ فِيهِ مَرَابِيعُ النِّعَمِ، وَمَصَابِيحُ الظُّلَمِ، لاَ تُفْتَحُ الْخَيْرَاتُ إِلاَّ بِمَفَاتِحِهِ، وَلاَ تُكْشَفُ الظُّلُمَاتُ إِلاَّ بِمَصَابِحِهِ، قَدْ أَحْمَى حِمَاهُ، وَأَرْعَى مَرْعَاهُ، فِيهِ شِفَاءُ الْمُسْتَشْفِي، وَكِفَايَةُ الْمُكْتَفِي.

    عقلمند دل کی آنکھوں سے اپنا مآلِ کار دیکھتا ہے اور اپنی اونچ نیچ (اچھی بری راہوں) کو پہچانتا ہے۔ دعوت دینے والے نے پکارا اور نگہداشت کرنے والے نے نگہداشت کی۔ بلانے والے کی آواز پر لبیک کہو اور نگہداشت کرنے والے کی پیروی کرو۔ کچھ لوگ فتنوں کے دریاؤں میں اترے ہوئے ہیں اور سنتوں کو چھوڑ کر بدعتوں میں پڑ چکے ہیں، ایمان والے دبکے پڑے ہیں اور گمراہوں اور جھٹلانے والوں کی زبانیں کھلی ہوئی ہیں۔ ہم قریبی تعلق رکھنے والے اور خاص ساتھی اور خزانہ دار اور دروازے ہیں اور گھروں میں دروازوں ہی سے آیا جاتا ہے اور جو دروازوں کو چھوڑ کر کسی اور طرف سے آئے اس کا نام چور ہوتا ہے۔ [اسی خطبہ کا ایک جز یہ ہے] (آل محمدؑ) انہی کے بارے میں قرآن کی نفیس آیتیں اتری ہیں اور وہ اللہ کے خزینے ہیں۔ اگر بولتے ہیں تو سچ بولتے ہیں اور اگر خاموش رہتے ہیں تو کسی کو بات میں پہل کا حق نہیں۔ پیشرو کو اپنے قوم قبیلے سے (ہر بات) سچ سچ بیان کرنا چاہیے اور اپنی عقل کو گم نہ ہونے دے اور اہل آخرت میں سے بنے۔ اس لئے کہ وہ اُدھر ہی سے آیا ہے اور اُدھر ہی اسے پلٹ کر جانا ہے۔ دل (کی آنکھوں) سے دیکھنے والے اور بصیرت کے ساتھ عمل کرنے والے کے عمل کی ابتدا یوں ہوتی ہے کہ وہ (پہلے) یہ جان لیتاہے کہ یہ عمل اس کیلئے فائدہ مند ہے یا نقصان رساں۔ اگر مفید ہوتا ہے تو آگے بڑھتا ہے، مضر ہوتا ہے تو ٹھہر جاتا ہے۔ اس لئے کہ بے جانے بوجھے ہوئے بڑھنے والا ایسا ہے جیسے کوئی غلط راستے پر چل نکلے تو جتنا وہ اس راہ پر بڑھتا جائے گا اتنا ہی مقصد سے دور ہوتا جائے گا اور علم کی (روشنی میں) عمل کرنے والا ایسا ہے جیسے کوئی روشن راہ پر چل رہا ہو۔ (تو اب) دیکھنے والے کو چاہیے کہ وہ دیکھے کہ آگے کی طرف بڑھ رہا ہے یا پیچھے کی طرف پلٹ رہا ہے۔ تمہیں جاننا چاہیے کہ ہر ظاہر کا ویسا ہی باطن ہوتا ہے۔ جس کا ظاہر اچھا ہوتا ہے اس کا باطن بھی اچھا ہوتا ہے اور جس کا ظاہر برا ہوتا ہے اس کا باطن بھی برا ہوتا ہے اور کبھی ایسا ہوتا ہے جیسا رسولِ صادق ﷺ نے فرمایا ہے کہ: «اللہ ایک بندے کو (ایمان کی وجہ سے) دوست رکھتا ہے اور اس کے عمل کو برا سمجھتا ہے اور (کہیں) عمل کو دوست رکھتا ہے اور عمل کرنے والے کی ذات سے نفرت کرتا ہے»۔ دیکھو ہر عمل ایک اُگنے والا سبزہ ہے اور ہر سبزہ کیلئے پانی کا ہونا ضروری ہے اور پانی مختلف قسم کا ہوتا ہے۔ جہاں پانی اچھا دیا جائے گا وہاں پر کھیتی بھی اچھی ہو گی اور اس کا پھل بھی میٹھا ہو گا اور جہاں پانی برا دیا جائے گا وہاں کھیتی بھی بری ہو گی اور پھل بھی کڑوا ہو گا۔

  153. خطبہ 153- چمگادڑ کی عجیب و غریب خلقت کے بارے میں

    153

    وَهُوَ فِي مُهْلَة مِنَ اللهِ يَهْوِي مَعَ الْغَافِلِينَ وَيَغْدُومَعَ الْمُذْنِبِينَ، بلاَ سَبِيل قَاصِد، وَلاَ إِمَام قَائِد. منها: في صفات الغافلين حَتَّى إِذَا كَشَفَ لَهُمْ عَنْ جَزَاءِ مَعْصِيَتِهِمْ، وَاسْتَخْرَجَهُمْ مِنْ جَلاَبِيبِ غَفْلَتِهِمُ، استَقْبَلُوا مُدْبِراً، وَاسْتَدْبَرُوا مُقْبِلاً، فَلَمْ يَنْتَفِعُوا بَمَا أَدْرَكُوا منْ طَلِبَتِهِمْ، وَلاَ بِمَا قَضَوْا مِنْ وَطَرِهِمْ إِنِّي أُحَذِّرُكُمْ، وَنَفْسِي، هذِهِ الْمَنْزِلَةَ، فَلْيَنْتَفِعِ امْرُؤٌ بِنَفْسِهِ، فَإِنَّمَا الْبَصِيرُ مَنْ سَمِعَ فَتَفَكَّرَ، وَنَظَرَ فَأَبْصَرَ، وَانْتَفَعَ بِالْعِبَرِ، ثُمَّ سَلَكَ جَدَداً وَاضِحاً يَتَجَنَّبُ فِيهِ الصَّرْعَةَ فِي الْمَهَاوِي، وَالضَّلاَلَ في الْمَغَاوِي، وَلاَ يُعِينُ عَلَى نَفْسِهِ الْغُوَاةَ بِتَعَسُّف فِي حَقٍّ، أَوْ تَحَرِيف في نُطْق، أَوْ تَخَوُّف مِنْ صِدْق عظة الناس فَأَفِقْ أَيُّهَا السَّامِعُ مِنْ سَكْرَتِكَ، وَاسْتَيْقِظْ مَنْ غَفْلَتِكَ، وَاخْتَصِرْ مِنْ عَجَلَتِكَ، وَأَنْعِمِ الْفِكْرَ فِيَما جَاءَكَ عَلَى لِسَانِ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ(صلى الله عليه وآله) مِمَّا لاَ بُدَّ مِنْهُ وَلاَ مَحِيصَ عَنْهُ، وَخَالِفْ مَنْ خَالَفَ ذلِكَ إِلَى غَيْرِهِ، وَدَعْهُ وَمَا رَضِيَ لِنَفْسِهِ، وَضَعْ فَخْرَكَ، وَاحْطُطْ كِبْرَكَ، وَاذكُرْ قَبْرَكَ، فَإِنَّ عَلَيْهِ مَمَرَّكَ، وَكَمَا تَدِينُ تُدَانُ، وَكَمَا تَزْرَعُ تَحْصُدُ، وَمَا قَدَّمْتَ الْيَوْمَ تَقْدَمُ عَلَيْهِ غَداً، فَامْهَد لِقَدَمِكَ، وَقَدِّمْ لِيَوْمِكَ فَالْحَذَرَ الْحَذَرَ أَيُّهَا الْمُسْتَمِعُ! وَالْجِدَّ الْجِدَّ أَيُّهَا الْغَافِلُ! وَلاَ يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِير إِنَّ مِنْ عَزَائِمِ اللهِ فِي الذِّكْرِ الْحَكِيمِ، الَّتِي عَلَيْهَا يُثِيبُ وَيُعَاقِبُ، وَلَهَا يَرْضَى وَيَسْخَطُ، أَنَّهُ لاَ يَنْفَعُ عَبْداً وَإِنْ أَجْهَدَ نَفْسَهُ، وَأَخْلَصَ فِعْلَهُ أَنْ يَخْرُجَ مِنَ الدُّنْيَا، لاَقِياً رَبَّهُ بِخَصْلَة مِنْ هذِهِ الْخِصَال لَمْ يَتُبْ مِنْهَا أَنْ يُشْرِكَ بِالله فِيَما افْتَرَضَ عَلَيْهِ مِنْ عِبَادَتِهِ، أَوْ يَشْفِيَ غَيْظَهُ بِهَلاَكِ نَفْسِهِ، أَوْ يُقِرَّ بِأَمْر فَعَلَهُ غَيْرُهُ، أَوْ يَسْتَنْجِحَ حَاجَةً إِلَى النَّاسِ بِإِظْهَارِ بِدْعَة فِي دِينِهِ، أَوْ يَلْقَى النَّاسَ بِوَجْهَيْنِ، أَوْ يَمْشِيَ فِيهِمْ بِلِسَانَيْنِ اعْقِلْ ذلِكَ فَإِنَّ الْمِثْلَ دَلِيلٌ عَلَى شِبْهِهِ إِنَّ الْبَهَائِمَ هَمُّهَا بُطُونُهَا، وَإِنَّ السِّبَاعَ هَمُّهَا الْعُدْوَانُ عَلَى غَيْرِهَا، وَإِنَّ النِّسَاءَ هَمُّهُنَّ زِينَةُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا إِنَّ الْمُؤْمِنِينَ مُسْتَكِينُونَ إِنَّ الْمُؤْمِنينَ مُشْفِقُونَ، إِنَّ الْمُؤْمِنينَ خَائِفُونَ.

    اس میں چمگادڑ [۱] کی عجیب و غریب خلقت کا ذکر فرمایاہے تمام حمد اس اللہ کیلئے ہے جس کی معرفت کی حقیقت ظاہر کرنے سے اوصاف عاجز ہیں اور اس کی عظمت و بلندی نے عقلوں کو روک دیا ہے، جس سے وہ اس کی سرحد فرمانروائی تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں پاتیں۔ وہ اللہ اقتدار کا مالک ہے اور (سراپا) حق اور (حق کا) ظاہر کرنے والا ہے۔ وہ ان چیزوں سے بھی زیادہ (اپنے مقام پر) ثابت و آشکارا ہے کہ جنہیں آنکھیں دیکھتی ہیں۔ عقلیں اس کی حد بندی کر کے اس تک نہیں پہنچ سکتیں کہ وہ دوسروں سے مشابہ ہو جائے اور نہ وہم اس کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ کسی چیز کے مانند ہو جائے۔ اس نے بغیر کسی نمونہ و مثال کے اور بغیر کسی مشیر کار کے مشورہ کے اور بغیر کسی معاون کی امداد کے مخلوقات کو پیدا کیا۔ اس کے حکم سے مخلوق اپنے کمال کو پہنچ گئی اور اس کی اطاعت کیلئے جھک گئی اور بلا توقف لبیک کہی اور بغیر کسی نزاع و مزاحمت کے اس کی مطیع ہو گئی۔ اس کی صنعت کی لطافتوں اور خلقت کی عجیب و غریب کار فرمائیوں میں کیا کیا گہری حکمتیں ہیں کہ جو اس نے ہمیں چمگادڑوں کے اندر دکھائی ہیں کہ جن کی آنکھوں کو (دن کا) اجالا سکیڑ دیتا ہے، حالانکہ وہ تمام آنکھوں میں روشنی پھیلانے والا ہے اور اندھیرا اُن کی آنکھوں کو کھول دیتا ہے،حالانکہ وہ ہر زندہ شے کی آنکھوں پر نقاب ڈالنے والا ہے اور کیونکر چمکتے ہوئے سورج میں ان کی آنکھیں چندھیا جاتی ہیں کہ وہ اس کی نور پاش شعاعوں سے مدد لے کر اپنے راستوں پر آ جا سکیں اور نورِ آفتاب کے پھیلاؤ میں اپنی جانی پہچانی ہوئی چیزوں تک پہنچ سکیں۔ اس نے تو اپنی ضوپاشیوں کی تابش سے انہیں نور کی تجلّیوں میں بڑھنے سے روک دیا ہے اور ان کے پوشیدہ ٹھکانوں میں انہیں چھپا دیا ہے کہ وہ اس کی روشنی کے اجالوں میں آ سکیں۔ دن کے وقت تو وہ اس طرح ہوتی ہیں کہ ان کی پلکیں جھلک کر آنکھوں پر لٹک آتی ہیں اور تاریکی شب کو اپنا چراغ بنا کر رزق کے ڈھونڈنے میں اس سے مدد لیتی ہیں۔ رات کی تاریکیاں ان کی آنکھوں کو دیکھنے سے نہیں روکتیں اور نہ اس کی گھٹا ٹوپ اندھیاریاں راہ پیمائیوں سے باز رکھتی ہیں۔ مگر جب آفتاب اپنے چہرے سے نقاب ہٹاتا ہے اور دن کے اجالے ابھر آتے ہیں اور سورج کی کرنیں سوسمار کے سوراخ کے اندر تک پہنچ جاتی ہیں تو وہ اپنی پلکوں کو آنکھوں پر جھکا لیتی ہیں اور رات کی تیرگیوں میں جو معاش حاصل کی ہے اسی پر اپنا وقت پورا کر لیتی ہیں۔ سبحان اللہ! کہ جس نے رات ان کے کسب ِمعاش کیلئے اور دن آرام و سکون کیلئے بنایا ہے اور ان کے گوشت ہی سے ان کے پر بنائے ہیں اور جب اُڑنے کی ضرورت ہوتی ہے تو انہی پروں سے اونچی ہوتی ہیں۔ گویا کہ وہ کانوں کی لویں ہیں کہ نہ ان میں پر و بال ہیں اور نہ کریاں، مگر تم ان کی رگوں کی جگہ کو دیکھو گے کہ اس کے نشان ظاہر ہیں اور اس میں دو پر سے لگے ہوئے ہیں کہ جو نہ اتنے باریک ہیں کہ پھٹ جائیں اور نہ اتنے موٹے ہیں کہ بوجھل ہو جائیں (کہ اڑا نہ جا سکے)۔ وہ اڑتی ہیں تو بچے ان سے چمٹے رہتے ہیں اور ان کی پناہ میں ہوتے ہیں۔ جب وہ نیچے کی طرف جھکتی ہیں تو بچے بھی جھک پڑتے ہیں اور جب وہ اونچی ہوتی ہیں تو بچے بھی اونچے ہو جاتے ہیں اور اس وقت تک الگ نہیں ہوتے جب تک ان کے اعضاء میں مضبوطی نہ آ جائے اور بلند ہونے کیلئے ان کے پَر (ان کا بوجھ) اٹھانے کے قابل نہ ہوجائیں۔ وہ اپنی زندگی کی راہوں اور اپنی مصلحتوں کو پہچانتے ہیں۔ پاک ہے وہ خدا کہ جس نے بغیر کسی نمونہ کے کہ جو اس سے پہلے کسی نے بنایا ہو، ان تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا ہے۔

  154. خطبہ 154- حضرت عائشہ کے عناد کی کیفیت اور فتنوں کی حالت

    154

    وَنَاظِرُ قَلْبِ اللَّبِيبِ بِهِ يُبْصِرُ أَمَدَهُ، وَيَعْرِفُ غَوْرَهُ وَنَجْدَهُ دَاع دَعَا، وَرَاع رَعَى، فَاسْتَجِيبُوا لِلدَّاعِي، وَاتَّبِعُوا الرَّاعِيَ قَدْ خَاضُوا بِحَارَ الْفِتَنِ، وَأَخَذُوا بِالْبِدَعِ دُونَ السُّنَنِ، وَأَرَز الْمُؤْمِنُونَ، وَنَطَقَ الضَّالُّونَ الْمُكَذِّبُونَ نَحْنُ الشِّعَارُ وَ الْأَصْحَابُ، وَالْخَزَنَةُ وَ الْأَبْوَابُ، وَلاَ تُؤْتَى الْبُيُوتُ إِلاَّ مِنْ أَبْوَابِهَا، فَمَنْ أَتَاهَا مِنْ غَيْرِ أَبْوَابِهَا سُمِّيَ سَارِقاً منها: فِيهِمْ كَرَائِمُ الْقُرْآنِ، وَهُمْ كُنُوزُ الرَّحْمنِ، إِنْ نَطَقُوا صَدَقُوا، وَإِنْ صَمَتُوا لَمْ يُسْبَقُوا فَلْيَصْدُقْ رَائِدٌ أَهْلَهُ، وَلْيُحْضِرْ عَقْلَهُ، وَلْيَكُنْ مِنْ أَبْنَاءِ الاْخِرَةِ، فَإِنَّهُ مِنْهَا قَدِمَ، وَ إِلَيْهَا يَنْقَلِبُ وَالنّاظِرُ بِالْقَلْبِ، الْعَامِلُ بِالْبَصَرِ، يَكُونُ مُبْتَدَأُ عَمَلِهِ أَنْ يَعْلَمَ أَعَمَلُهُ عَلَيْهِ أَمْ لَهُ؟! فَإِنْ كَانَ لَهُ مَضَى فِيهِ، وَإِنْ كَانَ عَليْهِ وَقَفَ عِنْدَهُ فَإِنَّ الْعَامِلَ بَغَيْرِ عِلْم كَالسَّائِرِ عَلَى غيْرِ طَرِيق، فَلاَ يَزِيدُهُ بُعْدُهُ عَنِ الطَّرِيقِ الْوَاضِحِ إِلاَّ بُعْداً مِنْ حَاجَتِهِ، وَالْعَامِلُ بالْعِلْمِ كَالسَّائِرِ عَلَى الطَّرِيقِ الْوَاضِحِ، فَلْيَنْظُرْ نَاظِرٌ: أَسَائِرٌ هُوَ أَمْ رَاجِعٌ؟! وَاعْلَمْ أَنِّ لِكُلِّ ظَاهِر بَاطِناً عَلى مِثَالِهِ، فَمَا طَابَ ظَاهِرُهُ طَابَ بَاطِنُهُ، وَمَا خَبُثَ ظَاهِرُهُ خَبُثَ بَاطِنُهُ، وَقَدْ قَالَ الرَّسُولُ الصَّادِقُ(صلى الله عليه وآله): «إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْعَبْدَ وَيُبْغِضُ عَمَلَهُ، وَيُحِبُّ الْعَمَلَ وَيُبْغِضُ بَدَنَهُ» فَاعْلَمْ أَنَّ كُلَّ عَمَل نَبَاتٌ، وَكُلَّ نَبَات لاَ غِنَى بِهِ عَنِ الْمَاءِ، وَالْمِيَاهُ مُخْتَلِفَةٌ، فَمَا طَابَ سَقْيُهُ طَابَ غَرْسُه وَحَلَتْ ثَمَرَتُهُ، وَمَا خَبُثَ سَقْيُهُ خَبُثَ غَرْسُهُ وَأَمَرَّتْ ثَمَرَتُهُ.

    اس میں اہل بصرہ کو مخاطب کرتے ہوئے انہیں فتنوں سے آگاہ کیا ہے: جو شخص ان( فتنہ انگیزیوں) کے وقت اپنے نفس کو اللہ کی اطاعت پر ٹھہرائے رکھنے کی طاقت رکھتا ہو اسے ایسا ہی کرنا چاہیے۔ اگر تم میری اطاعت کرو گے تو میں ان شاء اللہ تمہیں جنت کی راہ پر لگا دوں گا۔ اگرچہ وہ راستہ کٹھن دشواریوں اور تلخ مزوں کو لئے ہوئے ہے۔ رہیں فلاں [۱] تو ان میں عورتوں والی کم عقلی آ گئی ہے اور لوہار کے کڑھاؤ کی طرح کینہ و عناد ان کے سینہ میں جوش مار رہا ہے اور جو سلوک مجھ سے کر رہی ہیں اگر میرے سوا کسی دوسرے سے ویسے سلوک کو ان سے کہا جاتا تو وہ نہ کرتیں۔ ان سب چیزوں کے بعد بھی ہمیں ان کی سابقہ حرمت کا لحاظ ہے۔ ان کا حساب و کتاب اللہ کے ذمہ ہے۔ [اس خطبہ کا ایک جز یہ ہے] (ایمان کی) راہ سب راہوں سے واضح اور سب چراغوں سے زیادہ نورانی ہے، ایمان سے نیکیوں پر استدلال کیا جاتا ہے اور نیکیوں سے ایمان پر دلیل لائی جاتی ہے، ایمان سے علم کی دنیا آباد ہوتی ہے اور علم کی بدولت موت سے ڈرا جاتا ہے اور موت سے دنیا کے سارے جھنجھٹ ختم ہو جاتے ہیں اور دنیا سے آخرت حاصل کی جاتی ہے۔ مخلوقات کیلئے قیامت سے ادھر کوئی منزل نہیں۔ وہ اسی کے میدان میں انتہا کی حد تک پہنچنے کیلئے دوڑ لگانے والی ہے۔ [اس خطبہ کا ایک جز یہ ہے] وہ اپنی قبروں کے ٹھکانوں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنی آخرت کے ٹھکانوں کی طرف پلٹ پڑے۔ ہر گھر کیلئے اس کے اہل ہیں کہ نہ وہ اسے تبدیل کر سکیں گے اور نہ اس سے منتقل ہو سکیں گے۔ نیکیوں کا حکم دینا اور برائیوں سے روکنا ایسے دو کام ہیں جو اخلاق خداوندی میں سے ہیں۔ نہ ان کی وجہ سے موت قبل از وقت آ سکتی ہے اور نہ جو رزق مقرر ہے اس میں کوئی کمی ہوسکتی ہے۔ تمہیں کتاب خدا پر عمل کرنا چاہیے۔ اس لئے کہ وہ ایک مضبوط رسی، روشن و واضح نور، نفع بخش شفا، پیاس بجھانے والی سیرابی، تمسک کرنے والے کیلئے سامان حفاظت اور وابستہ رہنے والے کیلئے نجات ہے۔ اس میں کجی نہیں آتی کہ اسے سیدھا کیا جائے، نہ حق سے الگ ہوتی ہے کہ اس کا رخ موڑا جائے۔ کثرت سے دہرایا جانا اور (بار بار) کانوں میں پڑنا اسے پرانا نہیں کرتا۔ جو اس کے مطابق کہے وہ سچا ہے اور جو اس پر عمل کرے وہ سبقت لیجانے والا ہے۔ (اسی اثنا میں) ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا کہ: ہمیں فتنہ کے بارے میں کچھ بتائیے اور کیا آپؑ نے اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا تھا؟ آپؑ نے فرمایا کہ: ہاں! جب اللہ نے یہ آیت اتاری کہ: ’’کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ان کے اتنا کہہ دینے سے کہ ہم ایمان لائے ہیں انہیں چھوڑ دیا جائے گا اور وہ فتنوں سے دوچار نہیں ہوں گے‘‘، تو میں سمجھ گیا کہ فتنہ ہم پر تو نہیں آئے گا جبکہ رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان موجود ہیں، چنانچہ میں نے کہا: یا رسول اللہؐ! یہ فتنہ کیا ہے کہ جس کی اللہ نے آپؐ کو خبر دی ہے؟ تو آپؐ نے فرمایا کہ: «اے علیؑ! میرے بعد میری اُمت جلد ہی فتنوں میں پڑ جائے گی» تو میں نے کہا کہ: یا رسول اللہؐ! اُحد کے دن جب شہید ہونے والے مسلمان شہید ہوچکے تھے اور شہادت مجھ سے روک لی گئی اور یہ مجھ پر گراں گزرا تھا تو آپؐ نے مجھ سے نہیں فرمایا تھا کہ: «تمہیں بشارت ہو! کہ شہادت تمہیں پیش آنے والی ہے» اور یہ بھی فرمایا تھا کہ: «یہ یونہی ہو کر رہے گا۔ (یہ کہو) کہ اس وقت تمہارے صبر کی کیا حالت ہو گی» تو میں نے کہا تھا کہ: یا رسول اللہؐ! یہ صبر کا کوئی موقع نہیں ہے۔ یہ تو (میرے لئے) مژدہ اور شکر کا مقام ہو گا،۔ تو آپؐ نے فرمایا کہ: «یا علیؑ! حقیقت یہ ہے کہ لوگ میرے بعد مال و دولت کی وجہ سے فتنوں میں پڑ جائیں گے اور دین اختیار کر لینے سے اللہ پر احسان جتائیں گے۔ اس کی رحمت کی آرزوئیں تو کریں گے لیکن اس کے قہر و غلبہ (کی گرفت) سے بے خوف ہو جائیں گے کہ جھوٹ موٹ کے شبہوں اور غافل کر دینے والی خواہشوں کی وجہ سے حلال کو حرام کر لیں گے، شراب کو انگور و خرما کا پانی کہہ کر اور رشوت کا نام ہدیہ رکھ کر اور سود کو خرید و فروخت قرار دے کر جائز سمجھ لیں گے»۔ (پھر) میں نے کہا کہ: یا رسول اللہؐ! میں انہیں اس موقع پر کس مرتبہ پر سمجھوں؟ اس مرتبہ پر کہ وہ مرتد ہو گئے ہیں؟ یا اس مرتبہ پر کہ وہ فتنہ میں مبتلا ہیں؟ تو آپؐ نے فرمایا کہ: «فتنہ کے مرتبہ پر»۔

  155. خطبہ 155- دُنیا کی بے ثباتی، پندو موعظت اور اعضاء و جوارح کی شہادت

    155

    الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي انْحَسَرَتِ الاَوْصَافُ عَنْ كُنْهِ مَعْرِفَتِهِ، وَرَدَعَتْ عَظَمَتُهُ الْعُقُولَ، فَلَمْ تَجِدْ مَسَاغاً إِلَى بُلُوغِ غَايَةِ مَلَكُوتِهِ! هَوَ اللهُ الْحَقُّ الْمُبِينُ، أَحَقُّ وَأَبْيَنُ مِمَّا تَرَى الْعُيُونُ، لَمْ تَبْلُغْهُ الْعُقُولُ بِتَحْدِيد فَيَكُونَ مُشَبَّهاً، وَلَمْ تَقَعْ عَلَيْهِ الْأَوْهَامُ بِتَقْدِير فَيَكُونَ مُمَثَّلاً خَلَقَ الْخَلْقَ عَلَى غَيْرِ تَمْثِيل، وَلاَ مَشُورَةِ مُشِير، وَلاَ مَعُونَةِ مُعِين، فَتَمَّ خَلْقُهُ بِأَمْرِهِ، وَأَذْعَنَ لِطَاعَتِهِ، فَأَجَابَ وَلَمْ يُدَافِعْ، وَانْقَادَ وَلَمْ يُنَازِعْ خلقة الخفاش وَمِنْ لَطَائِفِ صَنْعَتِهِ، وَعَجَائِبِ خِلْقَتِهِ، مَا أَرَانَا مِنْ غَوَامِضِ الْحِكْمَةِ فِي هذِهِ الْخَفَافِيشِ الَّتِي يَقْبِضُهَا الضِّيَاءُ الْبَاسِطُ لِكُلِّ شَيْء، وَيَبْسُطُهَا الظَّلاَمُ الْقَابِضُ لِكُلِّ حَيٍّ، وَكَيْفَ عَشِيَتْ أَعْيُنُهَا عَنْ أَنْ تَسْتَمِدَّ مِنَ الشَّمْسِ الْمُضِيئَةِ نُوراً تَهْتَدِي بِهِ فِي مَذَاهِبِهَا، وَتَتَّصِلُ بِعَلاَنِيَةِ بُرْهَانِ الشَّمْسِ إِلَى مَعَارِفِهَا وَ رَدَعَهَا بِتَلَأْلُؤِ ضِيَائِهَا عَنِ الْمُضِيِّ فِي سُبُحَاتِ إِشْرَاقِهَا، وَأَكَنَّهَا فِي مَكَامِنِهَا عَنِ الذَّهَابِ فِى بُلَجِ ائْتِلاَقِهَا فَهِيَ مُسْدَلَةُ الْجُفُونِ بَالنَّهَارِ عَلَى حِدَاقِهَا، وَجَاعِلَةُ اللَّيْلِ سِرَاجاً تَسْتَدِلُّ بِهِ فِي الْتِمَاسِ أَرْزَاقِهَا فَلاَ يَرُدُّ أَبْصَارَهَا إِسْدَافُ ظُلْمَتِهِ، وَلاَ تَمْتَنِعُ مِنَ الْمُضِيِّ فِيهِ لِغَسَقِ دُجُنَّتِهِ فَإِذَا أَلْقَتِ الشَّمْسُ قِنَاعَهَا، وَبَدَتْ أَوْضَاحُ نَهَارِهَا، وَدَخَلَ مِنْ إِشْرَاقِ نُورِهَا عَلَى الضِّبَابِ فِي وِجَارِهَا أَطْبَقَتِ الْأَجْفَانَ عَلَى مَآقِيهَا وَتَبَلَّغَتْ بِمَا اكْتَسَبَتْهُ مِنَ الْمَعَاشِ فِي ظُلَمِ لَيَالِيهَا فَسُبْحَانَ مَنْ جَعَلَ اللَّيْلَ لَهَا نَهَاراً وَمَعَاشاً، وَجَعَلَ النَّهَارَ لَهَا سَكَناً وَقَرَاراً! وَجَعَلَ لَهَا أَجْنِحَةً مِنْ لَحْمِهَا تَعْرُجُ بِهَا عِنْدَ الْحَاجَةِ إِلَى الطَّيَرَانِ، كَأَنَّهَا شَظَايَا الاْذَانِ، غَيْرَ ذَوَاتِ رِيش وَلاَ قَصَب إِلاَّ أَنَّكَ تَرَى مَوَاضِعَ الْعُرُوقِ بَيِّنَةً أَعْلاَماً لَهَا جَنَاحَانِ لَمَّا يَرِقَّا فَيَنْشَقَّا، وَلَمْ يَغْلُظَا فَيَثْقُلاَ تَطِيرُ وَوَلَدُهَا لاَصِقٌ بِهَا لاَجِيٌ إِلَيْهَا، يَقَعُ إِذَا وَقَعَتْ، وَيَرْتَفِعُ إِذَا ارْتَفَعَتْ، لاَيُفَارِقُهَا حَتَّى تَشْتَدَّ أَرْكَانُهُ وَيَحْمِلَهُ لِلنُّهُوضِ جَنَاحُهُ، وَيَعْرِفَ مَذَاهِبَ عَيْشِهِ، وَمَصَالِحَ نَفْسِهِ فَسُبْحَانَ الْبَارِىءِ لِكُلِّ شَيْء، عَلَى غَيْرِ مِثَال خَلاَ مِنْ غَيْرِهِ!

    تمام حمد اس اللہ کیلئے ہے جس نے حمد کو اپنے ذکر کا افتتاحیہ، اپنے فضل و احسان کے بڑھانے کا ذریعہ اور اپنی نعمتوں اور عظمتوں کا دلیل راہ قرار دیا ہے۔ اے اللہ کے بندو! باقی ماندہ لوگوں کے ساتھ بھی زمانہ کی وہی روش رہے گی جو گزر جانے والوں کے ساتھ تھی۔ جتنا زمانہ گزر چکا ہے وہ پلٹ کر نہیں آئے گا اور جو کچھ اس میں ہے وہ بھی ہمیشہ رہنے والا نہیں۔ آخر میں بھی اس کی کارگزاریاں وہی ہوں گی جو پہلے رہ چکی ہیں۔ اس کی مصیبتیں ایک دوسرے سے بڑھ جانا چاہتی ہیں اور اس کے جھنڈے ایک دوسرے کے عقب میں ہیں۔ گویا تم قیامت کے دامن سے وابستہ ہو کہ وہ تمہیں دھکیل کر اس طرح لئے جا رہی ہے جس طرح للکارنے والا اپنی اونٹنیوں کو۔ جو شخص اپنے نفس کو سنوارنے کے بجائے اور چیزوں میں پڑ جاتا ہے وہ تیرگیوں میں سرگرداں اور ہلاکتوں میں پھنسا رہتا ہے اور شیاطین اسے سرکشیوں میں کھینچ کر لے جاتے ہیں اور اس کی بداعمالیوں کو اس کے سامنے سجا دیتے ہیں۔ آگے بڑھنے والوں کی آخری منزل جنت ہے اور عمداً کوتاہیاں کرنے والوں کی حد جہنم ہے۔ اللہ کے بندو! یاد رکھو کہ تقویٰ ایک مضبوط قلعہ ہے اور فسق و فجور ایک (کمزور) چار دیواری ہے کہ جو نہ اپنے رہنے والوں سے تباہیوں کو روک سکتی ہے اور نہ ان کی حفاظت کرسکتی ہے۔ دیکھو! تقویٰ ہی وہ چیز ہے کہ جس سے گناہوں کا ڈنک کاٹا جاتا ہے اور یقین ہی سے منتہائے مقصد کی کامرانیاں حاصل ہوتی ہیں۔ اے اللہ کے بندو! اپنے نفس کے بارے میں کہ جو تمہیں تمام نفسوں سے زیادہ عزیز و محبوب ہے اللہ سے ڈرو۔ اس نے تو تمہارے لئے حق کا راستہ کھول دیا ہے اور اس کی راہیں اجاگر کر دی ہیں۔ اب یا تو انمٹ بدبختی ہو گی یا دائمی خوش بختی و سعادت۔ دار فانی سے عالم باقی کیلئے توشہ مہیا کر لو۔ تمہیں زادِ راہ کا پتہ دیا جا چکا ہے اور کوچ کا حکم مل چکا ہے اور چل چلاؤ کیلئے جلدی مچائی جا رہی ہے۔ تم ٹھہرے ہوئے سواروں کے مانند ہو کہ تمہیں یہ پتہ نہیں کہ کب روانگی کا حکم دیا جائے گا۔ بھلا وہ دنیا کو لے کر کیا کرے گا جو آخرت کیلئے پیدا کیا گیا ہو اور اس مال کا کیا کرے گا جو عنقریب اس سے چھن جانے والا ہے اور اس کا مظلمہ و حساب اس کے ذمہ رہنے والا ہے۔ اللہ کے بندو! خدا نے جس بھلائی کا وعدہ کیا ہے اسے چھوڑا نہیں جا سکتا اور جس برائی سے روکا ہے اس کی خواہش نہیں کی جا سکتی۔ اللہ کے بندو! اس دن سے ڈرو کہ جس میں عملوں کی جانچ پڑتال اور زلزلوں کی بہتات ہو گی اور بچے تک اس میں بوڑھے ہو جائیں گے۔ اے اللہ کے بندو! یقین رکھو کہ خود تمہارا ضمیر تمہارا نگہبان اور خود تمہارے اعضاء و جوارح تمہارے نگران ہیں اور تمہارے عملوں اور سانسوں کی گنتی کو صحیح صحیح یاد رکھنے والے (کراماً کاتبین) ہیں۔ ان سے نہ اندھیری رات کی اندھیاریاں تمہیں چھپا سکتی ہیں اور نہ بند دروازے تمہیں اوجھل رکھ سکتے ہیں۔ بلاشبہ آنے والا ’’کل‘‘ آج کے دن سے قریب ہے۔ ’’آج کا دن‘‘ اپنا سب کچھ لے کر چلا جائے گا اور ’’کل‘‘ اس کے عقب میں آیا ہی چاہتا ہے۔ گویا تم میں سے ہر شخص زمین کے اس حصہ پر کہ جہاں تنہائی کی منزل اور گڑھے کا نشان (قبر) ہے پہنچ چکا ہے۔ اس تنہائی کے گھر، وحشت کی منزل اور مسافرت کے عالم تنہائی (کی ہولناکیوں) کا کیا حال بیان کیا جائے۔ گویا کہ صُور کی آواز تم تک پہنچ چکی ہے اور قیامت تم پر چھا گئی ہے اور آخری فیصلہ سننے کیلئے تم (قبروں سے) نکل آئے ہو، باطل کے پردے تمہارى آنکھوں سے ہٹا دئیے گئے ہیں اور تمہارے حیلے بہانے دب چکے ہیں اور حقیقتیں تمہارے لئے ثابت ہو گئی ہیں اور تمام چیزیں اپنے اپنے مقام کی طرف پلٹ پڑی ہیں۔ عبرتوں سے پند و نصیحت اور زمانہ کے الٹ پھیر سے عبرت حاصل کرو اور ڈرانے والی چیزوں سے فائدہ اٹھاؤ۔

  156. خطبہ 156- بعثت پیغمبرﷺ کا تذکرہ، بنی اُمیّہ کے مظالم اور ان کا انجام

    156

    فَمَنِ اسْتَطَاعَ عِنْدَ ذلِكَ أَنْ يَعْتَقِلَ نَفْسَهُ عَلَى اللهِ، فَلْيَفْعَلْ، فَإِنْ أَطَعْتُمُوني فَإِنِّي حَامِلُكُمْ إِنْ شَاءَ اللهُ عَلَى سَبِيلِ الْجَنَّةِ، وَإِنْ كَانَ ذَا مَشَقَّة شَدِيدَة وَمَذَاقَة مَرِيرَة وَأَمَّا فُلاَنَةُ، فَأَدْرَكَهَا رَأْيُ الْنِّسَاءِ، وَضِغْنٌ غَلاَ فِي صَدْرِهَا كَمِرْجَلِ الْقَيْنِ، وَلَوْ دُعِيَتْ لِتَنَالَ مِنْ غَيْرِي مَا أَتَتْ إِلَيَّ، لَمْ تَفْعَلْ، وَلَهَا بَعْدُ حُرْمَتُهَا الْأُولَى، وَالْحِسَابُ عَلَى اللهِ منه: في وصف الايمان سَبِيلٌ أَبْلَجُ الْمِنْهَاجِ، أَنْوَرُ السِّرَاجِ، فَبِالْإِيمَانِ يُسْتَدَلُّ عَلَى الصَّالِحَاتِ، وَبَالصَّالِحَاتِ يُسْتَدَلُّ عَلَى الْإِيمَانِ، وَ بِالْإِيمَانِ يُعْمَرُ الْعِلْمُ، وَبِالْعِلْمِ يُرْهَبُ الْمَوْتُ، وَبِالْمَوْتِ تُخْتَمُ الدُّنْيَا، وَبِالدُّنْيَا تُحْرَزُ الاْخِرَةُ، وَ بِالْقِيَامَةِ تُزْلَفُ الْجَنَّةُ وَ تُبَرَّزُ الْجَحِيمُ لِلْغَاوِينَ، وَإِنَّ الْخَلْقَ لاَ مَقْصَرَلَهُمْ عَنِ الْقِيَامَةِ، مُرْقِلِينَ فِي مِضْمارِهَا إِلَى الْغَايَةِ الْقُصْوَى منه: في حال أهل القبور في القيامة قَدْ شَخَصُوا مِنْ مُسْتَقَرِّ الْأَجْدَاثِ، وَصَارُوا إِلى مَصَائِرِ الْغَايَاتِ، لِكُلِّ دَار أَهْلُهَا، لاَ يَسْتَبْدِلُونَ بِهَا وَلاَ يُنْقَلُونَ عَنْهَا وَ إِنَّ الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ، وَالنَّهْيَ عَنِ المُنكَرِ، لَخُلُقَانَ مِنْ خُلُقِ اللهِ سُبْحَانَهُ، وَإِنَّهُمَا لاَ يُقَرِّبَانِ مِنْ أَجَل، وَلاَ يَنْقُصَانِ مِنْ رِزْق وَعَلَيْكُمْ بِكِتَابِ اللهِ، فَإِنَّهُ الْحَبْلُ الْمَتِينُ، وَالنُّورُ الْمُبِينُ، وَالشِّفَاءُ النَّافِعُ، وَالرِّيُّ النَّاقِعُ، وَالْعِصْمَةُ لِلْمُتَمَسِّكِ، وَالنَّجَاةُ لَلْمُتَعَلِّقِ، لاَ يَعْوَجُّ فَيُقَامَ، وَلاَ يَزِيغُ فَيُسْتَعْتَبَ، وَلاَ تُخْلِقُهُ كَثْرَةُ الرَّدِّ، وَ وُلُوجُ السَّمْعِ، مَنْ قَالَ بِهِ صَدَقَ، وَمَنْ عَمِلَ بِهِ سَبَقَ وقام إليه(عليه السلام) رجل فقال: يا أمير المؤمنين، أخبرنا عن الفتنة، و هل سألتَ رسول اللّه (صلى اللّه عليه و آله) عنها؟ فقال عليه السلام: إِنَّهُ لَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ قَوْلَهُ: «الم، أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَ هُمْ لا يُفْتَنُونَ» عَلِمْتُ أَنَّ الْفِتْنَةَ لاَ تَنْزِلُ بِنَا وَرَسُولُ اللهِ(صلى الله عليه وآله) بَيْنَ أَظْهُرِنَا فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا هذِهِ الْفِتْنَةُ الَّتي أَخْبَرَكَ اللهُ بِهَا؟ فَقَالَ: «يَا عَلِيُّ، إِنَّ أُمَّتِي سَيُفْتَنُونَ مِنْ بَعْدِي» فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَلَيْسَ قَدْ قُلْتَ لِي يَوْمَ أُحُد حَيْثُ اسْتُشْهِدَ مَنِ اسْتُشْهِدَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَحِيزَتْ عَنِّي الشَّهَادَةُ، فَشَقَّ ذلِكَ عَلَيَّ، فَقُلْتَ لِي:«أَبْشِرْ، فَإِنَّ الشَّهَادَةَ مِنْ وَرَائِكَ»؟ فَقَالَ لي: «إِنَّ ذلِكَ لَكَذلِكَ، فَكَيْفَ صَبْرُكَ إِذَنْ»؟ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَيسَ هذَا مِنْ مَوَاطِنِ الصَّبْرِ، وَلكِنْ مِنْ مَوَاطِنِ البشرى وَالشُّكُرِ وَقَالَ: «يَا عَلِيُّ، إِنَّ الْقَوْمَ سَيُفْتَنُونَ بِأَمْوَالِهمْ، وَيَمُنُّونَ بِدِينِهِم عَلَى رَبِّهِمْ، وَيَتَمَنَّوْنَ رَحْمَتَهُ، وَيَأْمَنُونَ سَطْوَتَهُ، وَيَسْتَحِلُّونَ حَرَامَهُ بِالشُّبُهَاتِ الْكَاذِبَةِ، وَ الْأَهْوَاءِ السَّاهِيَةِ، فَيَسْتَحِلُّونَ الْخَمْرَ بِالنَّبِيذِ وَالسُّحْتَ بِالْهَدِيَّةِ، وَالرِّبَا بِالْبَيْعِ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَبِأَيِّ الْمَنَازِلِ أُنْزِلُهُمْ عِنْدَ ذلِكَ؟ أَبِمَنْزِلَةِ رِدَّة، أَمْ بِمَنْزِلَةِ فِتْنَة؟ فَقَالَ: «بِمَنْزِلَةِ فِتْنَة»

    (اللہ نے) آپؐ کو اس وقت رسول بنا کر بھیجا جب کہ رسولوں کا سلسلہ رکا ہوا تھا اور اُمتیں مدت سے پڑی سو رہی تھیں اور (دین کی) مضبوط رسی کے بل کھل چکے تھے۔ چنانچہ آپؐ ان کے پاس پہلی کتابوں کی تصدیق (کرنے والی کتاب) اور ایک ایسا نور لے کر آئے کہ جس کی پیروی کی جاتی ہے اور وہ قرآن ہے۔ اس کتاب سے پوچھو لیکن یہ بولے گی نہیں، البتہ میں تمہیں اس کی طرف سے خبر دیتا ہوں کہ اس میں آئندہ کے معلومات، گزشتہ واقعات اور تمہاری بیماریوں کا چارہ اور تمہارے باہمی تعلقات کی شیرازہ بندی ہے۔ [اس خطبہ کا ایک جز یہ ہے] اس وقت کوئی پختہ گھر اور کوئی اونی خیمہ ایسا نہ بچے گا کہ جس میں ظالم غم و حزن کو داخل نہ کریں اور سختیوں کو اس کے اندر نہ پہنچائیں۔ وہ دن ایسا ہو گا کہ آسمان میں تمہارا کوئی عذر خواہ اور زمین میں کوئی تمہارا مدد گار نہ رہے گا۔ تم نے امر (خلافت) کیلئے نااہلوں کو چن لیا اور ایسی جگہ پر سے لا اتارا کہ جو اس کے اترنے کی جگہ نہ تھی۔ عنقریب اللہ ظلم ڈھانے والوں سے بدلہ لے گا۔ کھانے کے بدلے میں کھانے کا اور پینے کے بدلے میں پینے کا۔ یوں کہ انہیں کھانے کیلئے حنظل اور پینے کیلئے ایلوا اور زہر ہلا ہل دیا جائے گا اور ان کا اندرونی لباس خوف اور بیرونی پہناوا تلوار ہو گا۔ وہ گناہوں کی سواریاں اور خطاؤں کے بار بردار اونٹ ہیں۔ میں قسم پر قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میرے بعد بنی امیہ کو یہ خلافت اس طرح تھوک دینا پڑے گی جس طرح بلغم تھوکا جاتا ہے۔ پھر جب تک دن رات کا چکر چلتا رہے گا وہ اس کا ذائقہ نہ چکھیں گے اور نہ اس کا مزا اٹھا سکیں گے۔

  157. خطبہ 157- لوگوں کے ساتھ آپ کا حُسنِ سلوک اور ان کی لغزشوں سے چشم پوشی

    157

    الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ الْحَمْدَ مِفْتَاحاً لِذِكْرِهِ، وَسَبَباً لِلْمَزِيدِ مِنْ فَضْلِهِ، وَدَلِيلاً عَلَى آلاَئِهِ وَعَظَمَتِهِ عِبَادَ اللهِ، إِنَّ الدَّهْرَ يَجْرِي بِالْبَاقِينَ كَجَرْيِهِ بِالْمَاضِينَ، لاَ يَعُودُ مَا قَدْ وَلَّى مِنْهُ، وَلاَ يَبْقَى سَرْمَداً مَا فِيهِ آخِرُ فَعَالِهِ كَأَوَّلِهِ، مُتَسَابِقَةٌ أُمُورُهُ، مُتَظَاهِرَةٌ أَعْلاَمُهُ فَكَأَنَّكُمْ بَالسَّاعَةِ تَحْدُوكُمْ حَدْوَالزَّاجِرِ بِشَوْلِهِ، فَمَنْ شَغَلَ نَفْسَهُ بِغَيْرِ نَفْسِهِ تَحَيَّرَ فِي الظُّلُمَاتِ، وَارْتَبَكَ فِي الْهَلَكَاتِ، وَمَدَّتْ بِهِ شَيَاطِينُهُ فِي طُغْيَانِهِ، وَزَيَّنَتْ لَهُ سَيِّىءَ أَعْمَالِهِ، فَالْجَنَّةُ غَايَةُ السَّابِقِينَ، وَالنَّارُ غَايَةُ الْمُفَرِّطِينَ اعْلَمُوا عِبَادَ اللهِ، أَنَّ التَّقْوَى دَارُ حِصْن عَزِيز، وَالْفُجُورَ دَارُ حِصْن ذَلِيل، لاَ يَمْنَعُ أَهْلَهُ، وَلاَ يُحْرِزُ مَنْ لَجَأَ إِلَيْهِ أَلاَ وَبِالتَّقْوَى تُقْطَعُ حُمَةُ الْخَطَايَا، وَبِالْيَقِينِ تُدْرَكُ الْغَايَةُ الْقُصُوَى عِبَادَ اللهِ، اللهَ اللهَ فِي أَعَزِّ الْأَنْفُسِ عَلَيْكُم، وَ أَحَبِّهَا إِلَيْكُمْ فَإِنَّ اللهَ قَدْ أَوْضَحَ سَبِيلَ الْحَقِّ وَ أَنَارَ طُرُقَهُ، فَشِقْوَةٌ لاَزِمَةٌ، أَوْ سَعَادَةٌ دَائِمَةٌ! فَتَزَوَّدُوا فِي أَيَّامِ الْفَنَاءِ لِأَيَّامِ الْبَقَاءِ قَدْ دُلِلْتُمْ عَلَى الزَّادِ، وَأُمِرْتُمْ بَالظَّعْنِ ، وَحُثِثْتُمْ عَلَى الْمَسِيرِ فَإِنَّمَا أَنْتُمْ كَرَكْب وُقُوف، لاَ يَدْرُونَ مَتَى يُؤْمَرُونَ بَالسَّيْرِ، أَلاَ فَمَا يَصْنَعُ بِالدُّنْيَا مَنْ خُلِقَ لِلاخِرَةِ! وَمَا يَصْنَعُ بِالْمَالِ مَنْ عَمَّا قَلِيل يُسْلَبُهُ، وَتَبْقَى عَلَيْهِ تَبِعَتُهُ وَحِسَابُهُ! عِبَادَ اللهِ، إِنَّهُ لَيْسَ لِمَا وَعَدَ اللهُ مِنَ الْخَيْرِ مَتْرَكٌ، وَلاَ فِيَما نَهَى عَنْهُ مِنَ الشَّرِّ مَرْغَبٌ عِبَادَ اللهِ، احْذَرُوا يَوْماً تُفْحَصُ فِيهِ الْأَعْمَالُ، وَيَكْثُرُ فِيهِ الزِّلْزَالُ، وَتَشِيبُ فِيهِ الْأَطْفَالُ. اعْلَمُوا، عِبَادَ اللهِ، أَنَّ عَلَيْكُمْ رَصَداً مِنْ أَنْفُسِكُمْ، وَعُيُوناً مِنْ جَوَارِحِكُمْ، وَحُفَّاظَ صِدْق يَحْفَظُونَ أَعْمَالَكُمْ، وَعَدَدَ أَنْفَاسِكُمْ، لاَ تَسْتُرُكُمْ مِنْهُمْ ظُلْمَةُ لَيْل دَاج، وَلاَ يُكِنُّكُمْ مِنْهُمْ بَابٌ ذُورِتَاج وَإِنَّ غَداً مِنَ الْيَوْمِ قَرِيبٌ يَذْهَبُ الْيَوْمُ بِمَا فِيهِ، وَيَجِيءُ الْغَدُ لاَ حِقاً بِهِ، فَكَأَنَّ كُلَّ امْرِىء مِنْكُمْ قَدْ بَلَغَ مِنَ الْأَرْضِ مَنْزِلَ وَحْدَتِهِ وَمَخَطَّ حُفْرَتِهِ، فَيَالَهُ مِنْ بَيْتِ وَحْدَة، وَمَنْزِلِ وَحْشَة، وَمُفْرَدِ غُرْبَة! وَكَأَنَّ الصَّيْحَةَ قَدْ أَتَتْكُمْ، وَالسَّاعَةَ قَدْ غَشِيَتْكُمْ، وَبَرَزْتُمْ لَفَصْلِ الْقَضَاءِ، قَدْ زَاحَتْ عَنْكُمُ الْأَبَاطِيلُ، وَاضْمَحَلَّتْ عَنْكُمُ الْعِلَلُ، وَاسْتَحَقَّتْ بِكُمُ الْحَقَائِقُ، وَصَدَرَتْ بِكُمُ االْأُمُورُ مَصَادِرَهَا، فَاتَّعِظُوا بِالْعِبَرِ، وَاعْتَبِرُوا بَالْغِيَرِ، وَانْتَفِعُوا بِالنُّذُرِ.

    میں تمہارا اچھا ہمسایہ بن کر رہا اور اپنی طاقت بھر تمہاری نگہداشت و حفاظت کرتا رہا اور تمہیں ذلت کے پھندوں اور ظلم کے بندھنوں سے آزاد کیا۔ (یہ صرف) تمہاری تھوڑی سی بھلائی کا شکریہ ادا کرنے اور تمہاری بہت سی ایسی برائیوں سے چشم پوشی برتنے کیلئے کہ جو میری آنکھوں کے سامنے اور میری موجودگی میں ہوتی تھیں۔

  158. خطبہ 158- خداوندِعالم کی توصیف ،خوف ورجاء، انبیاءؑ کی زندگی

    158

    أَرْسَلَهُ عَلَى حِينِ فَتْرَة مِنَ الرُّسُلِ، وَطُولِ هَجْعَة مِنَ الْأُمَمِ، وَانْتِقَاض مِنَ الْمُبْرَمِ، فَجَاءَهُمْ بِتَصْدِيقِ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ، وَالنُّورِ الْمُقْتَدَى بِهِ ذلِكَ الْقُرْآنُ فَاسْتَنْطِقُوهُ، وَلَنْ يَنْطِقَ، وَلَكِنْ أُخْبِرُكُمْ عَنْهُ: أَلاَ إِنَّ فِيهِ عِلْمَ مَا يَأْتي، وَالْحَدِيثَ عَنِ الْمَاضِي، وَدَوَاءَ دَائِكُمْ، وَنَظْمَ مَا بَيْنَكُمْ منها: في دولة بنى أمية فَعِنْدَ ذلِكَ لاَ يَبْقَى بَيْتُ مَدَر وَلاَ وَبَر إِلاَّ وَأَدْخَلَهُ الظَّلَمَةُ تَرْحَةً وَأَوْلَجُوا فِيهِ نِقْمَةً، فَيَوْمَئِذ لاَ يَبْقَى لَهُمْ فِي السَّماءِ عَاذِرٌ، وَلاَ فِي الْأَرْضِ نَاصِرٌ أَصْفَيْتُمْ بِالْأَمْرِ غَيْرَ أَهْلِهِ، وَأَوْرَدْتُمُوهُ غَيْرَ مَوْرِدِهِ، وَسَيَنْتَقِمُ اللهُ مِمَّنْ ظَلَمَ، مَأْكَلاً بِمَأْكَل، وَمَشْرَباً بِمَشْرَب، مِنْ مَطَاعِمِ الْعَلْقَمِ، وَمَشَارِبِ الصَّبِرِ وَ الْمَقِرِ وَلِبَاسِ شِعَارِ الْخَوْفِ، وَدِثَارِ السَّيْفِ وَإِنَّمَا هُمْ مَطَايَا الْخَطِيئَاتِ وَزَوَامِلُ الاْثَامِ فَأُقْسِمُ، ثُمَّ أُقْسِمُ، لَتَنَخَّمَنَّهَا أُمَيَّةُ مِنْ بَعْدِي كَمَا تُلْفَظُ النُّخَامَةُ، ثُمَّ لاَ تَذُوقُهَا وَلاَ تَطْعَمُ بِطَعْمِهَا أَبَداً مَا كَرَّ الْجَدِيدَانِ!

    اس کا حکم فیصلہ کن اور حکمت آمیز اور اس کی خوشنودی امان اور رحمت ہے۔ وہ اپنے علم سے فیصلہ کرتا ہے اور اپنے حلم سے عفو کرتا ہے۔ بارالٰہا! تو جو کچھ (دے کر) لے لیتا ہے اور جو کچھ عطا کرتا ہے اور جن (مرضوں سے) شفا دیتا ہے اور جن آزمائشوں میں ڈالتا ہے (سب پر) تیرے لئے حمد و ثنا ہے، ایسی حمد جو انتہائی درجے تک تجھے پسند آئے اور انتہائی درجے تک تجھے محبوب ہو اور تیرے نزدیک ہر ستائش سے بڑھ چڑھ کر ہو، ایسی حمد جو کائنات کو بھر دے اور جو تو نے چاہا ہے اس کی حد تک پہنچ جائے، ایسی حمد کہ جس کے آگے تیری بارگاہ تک پہنچنے سے کوئی حجاب ہے اور نہ اس کیلئے کوئی بندش، ایسی حمد کہ جس کی گنتی نہ کہیں پر ٹوٹے اور نہ اس کا سلسلہ ختم ہو۔ ہم تیری عظمت و بزرگی کی حقیقت کو نہیں جانتے، مگر اتنا کہ تو زندہ و کار ساز (عالم) ہے، نہ تجھے غنودگی ہوتی ہے اور نہ نیند آتی ہے، نہ تارِ نظر تجھ تک پہنچ سکتا ہے اور نہ نگاہیں تجھے دیکھ سکتی ہیں، تو نے نظروں کو پا لیا ہے اور عمروں کا احاطہ کر لیا ہے اور پیشانی کے بالوں کو پیروں (سے ملا کر) گرفت میں لے لیا ہے۔ یہ تیری مخلوق کیا ہے جو ہم دیکھتے ہیں اور اس میں تیری قدرت (کی کارسازیوں) پر تعجب کرتے ہیں اور تیری عظیم فرمانروائی (کی کارفرمائیوں) پر اس کی توصیف کرتے ہیں، حالانکہ درحقیقت وہ (مخلوقات) جو ہماری آنکھوں سے اوجھل ہے اور جس تک پہنچنے سے ہماری نظریں عاجز اور عقلیں درماندہ ہیں اور ہمارے اور جن کے درمیان غیب کے پردے حائل ہیں اس سے کہیں زیادہ با عظمت ہے۔ جو شخص (وسوسوں سے) اپنے دل کو خالی کرکے اور غور و فکر (کی قوتوں) سے کام لے کر یہ جاننا چاہے کہ تو نے کیونکر عرش کو قائم کیا ہے اور کس طرح مخلوقات کو پیدا کیا ہے اور کیونکر آسمانوں کو فضا میں لٹکایا ہے اور کس طرح پانی کے تھپیڑوں پر زمین کو بچھایا ہے تو اس کی آنکھیں تھک کر اور عقل مغلوب ہو کر اور کان حیران و سراسیمہ اور فکر گم گشتہ راہ ہو کر پلٹ آئے گی۔ [اسی خطبہ کا ایک جز یہ ہے] وہ اپنے خیال میں اس کا دعویدار بنتا ہے کہ اس کا دامنِ امید اللہ سے وابستہ ہے۔ خدائے برتر کی قسم! وہ جھوٹا ہے۔ (اگر ایسا ہی ہے) تو پھرکیوں اس کے اعمال میں اس امید کی جھلک نمایاں نہیں ہوتی، جبکہ ہر امیدوار کے کاموں میں امید کی پہچان ہو جایا کرتی ہے، سوائے اس امید کے کہ جو اللہ سے لگائی جائے کہ اس میں کھوٹ پایا جاتا ہے اور ہر خوف و ہراس جو (دوسروں سے ہو) ایک مسلمہ حقیقت رکھتا ہے مگر اللہ کا خوف غیر یقینی سا ہے۔ وہ اللہ سے بڑی چیزوں کا اور بندوں سے چھوٹی چیزوں کا امیدوار ہوتا ہے۔ پھر بھی جو عاجزی کا رویہ بندوں سے رکھتا ہے وہ رویہ اللہ سے نہیں برتتا تو آخر کیا بات ہے کہ اللہ کے حق میں اتنا بھی نہیں کیا جاتا جتنا بندوں کیلئے کیا جاتا ہے۔ کیا تمہیں کبھی اس کا بھی اندیشہ ہوا ہے کہ کہیں تم ان امیدوں (کے دعووں) میں جھوٹے تو نہیں؟ یا یہ کہ تم اسے محل امید ہی نہیں سمجھتے۔ یوں ہی انسان اگر اس کے بندوں میں سے کسی بندے سے ڈرتا ہے تو جو خوف کی صورت اس کیلئے اختیار کرتا ہے اللہ کیلئے ویسی صورت اختیار نہیں کرتا۔ انسانوں کا خوف تو اس نے نقد کی صورت میں رکھا ہے اور اللہ کا ڈر صرف ٹال مٹول اور (غلط سلط) وعدے۔ یوں ہی جس کی نظروں میں دنیا عظمت پا لیتی ہے اور اس کے دل میں اس کی عظمت و وقعت بڑھ جاتی ہے تو وہ اسے اللہ پر ترجیح دیتا ہے اور اس کی طرف مڑتا ہے اور اسی کا بندہ ہو کر رہ جاتا ہے۔ تمہارے لئے رسول اللہ ﷺ کا قول و عمل پیروی کیلئے کافی ہے اور ان کی ذات دنیا کے عیب و نقص اور اس کی رسوائیوں اور برائیوں کی کثرت دکھانے کیلئے رہنما ہے۔ اس لئے کہ اس دنیا کے دامنوں کو ان سے سمیٹ لیا گیا اور دوسروں کیلئے اس کی وسعتیں مہیا کر دی گئیں اور اس (زالِ دنیا کی چھاتیوں سے) آپؐ کا دودھ چھڑا دیا گیا اور اس کی آرائشوں سے آپؐ کا رخ موڑ دیا گیا۔ اگر دوسرا نمونہ چاہو تو موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام ہیں کہ جنہوں نے اپنے اللہ سے کہا کہ: ’’پروردگار! تو جو کچھ بھی اس وقت تھوڑی بہت نعمت بھیج دے گا میں اسی کا محتاج ہوں‘‘۔ خدا کی قسم! انہوں نے صرف کھانے کیلئے روٹی کا سوال کیا تھا۔ چونکہ وہ زمین کا ساگ پات کھاتے تھے اور لاغری اور (جسم پر) گوشت کی کمی کی وجہ سے ان کے پیٹ کی نازک جلد سے گھاس پات کی سبزی دکھائی دیتی تھی۔ اگر چاہو تو تیسری مثال داؤد علیہ السلام کی سامنے رکھ لو جو صاحب زبور اور اہل جنت کے قاری ہیں۔ وہ اپنے ہاتھ سے کھجور کی پتیوں کی ٹوکریاں بُنا کرتے تھے اور اپنے ساتھیوں سے فرماتے تھے کہ: تم میں سے کون ہے جو انہیں بیچ کر میری دستگیری کرے۔ (پھر) جو اس کی قیمت ملتی اس سے جو کی روٹی کھا لیتے تھے۔ اگر چاہو تو عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کا حال کہوں کہ جو (سر کے نیچے) پتھر کا تکیہ رکھتے تھے سخت اور کھردرا لباس پہنتے تھے اور (کھانے) میں سالن کے بجائے بھوک اور رات کے چراغ کی جگہ چاند اور سردیوں میں سایہ کے بجائے (ان کے سر پر) زمین کے مشرق و مغرب کا سائبان ہوتا تھا اور زمین جو گھاس پھوس چوپاؤں کیلئے اُگاتی تھی، وہ ان کیلئے پھل پھول کی جگہ تھی، نہ ان کی بیوی تھیں جو انہیں دنیا (کے جھنجٹوں) میں مبتلا کرتیں اور نہ بال بچے تھے کہ ان کیلئے فکر و اندوہ کا سبب بنتے اور نہ مال و متاع تھا کہ ان کی توجہ کو موڑتا اور نہ کوئی طمع تھی کہ انہیں رسوا کرتی۔ ان کی سواری ان کے دونوں پاؤں اور خادم ان کے دونوں ہاتھ تھے۔ تم اپنے پاک و پاکیزہ نبیؐ کی پیروی کرو، چونکہ ان کی ذات اتباع کرنے والے کیلئے نمونہ اور صبر کرنے والے کیلئے ڈھارس ہے۔ ان کی پیروی کرنے والا اور ان کے نقش قدم پر چلنے والا ہی اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہے، جنہوں نے دنیا کو (صرف ضرورت بھر) چکھا اور اسے نظر بھر کر نہیں دیکھا۔ وہ دنیا میں سب سے زیادہ شکم تہی میں بسر کرنے والے اور خالی پیٹ رہنے والے تھے۔ ان کے سامنے دنیا کی پیش کش کی گئی تو انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور (جب) جان لیا کہ اللہ نے ایک چیز کو برا جانا ہے تو آپؐ نے بھی اسے برا ہی جانا اور اللہ نے ایک چیز کو حقیر سمجھا ہے تو آپؐ نے بھی اسے حقیر ہی سمجھا اور اللہ نے ایک چیز کو پست قرار دیا ہے تو آپؐ نے بھی اسے پست ہی قرار دیا۔ اگر ہم میں صرف یہی ایک چیز ہو کہ ہم اس شے کو چاہنے لگیں جسے اللہ اور رسولؐ برا سمجھتے ہیں اور اس چیز کو بڑا سمجھنے لگیں جسے وہ حقیر سمجھتے ہیں تو اللہ کی نافرمانی اور اس کے حکم سے سرتابی کیلئے یہی بہت ہے۔ رسول اللہ ﷺ زمین پر بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے اور غلاموں کی طرح بیٹھتے تھے، اپنے ہاتھ سے جوتی ٹانکتے تھے اور اپنے ہاتھوں سے کپڑوں میں پیوند لگاتے تھے اور بے پالان کے گدھے پر سوار ہوتے تھے اور اپنے پیچھے کسی کو بٹھا بھی لیتے تھے۔ گھر کے دروازہ پر (ایک دفعہ) ایسا پردہ پڑا تھا جس میں تصویریں تھیں تو آپؐ نے اپنے ازواج میں سے ایک کو مخاطب کرکے فرمایا کہ اسے میری نظروں سے ہٹا دو۔ جب میری نظریں اس پر پڑتی ہیں تو مجھے دنیا اور اس کی آرائشیں یاد آ جاتی ہیں۔ آپؐ نے دنیا سے دل ہٹا لیا تھا اور اس کی یاد تک اپنے نفس سے مٹا ڈالی تھی اور یہ چاہتے تھے کہ اس کی سج دھج نگاہوں سے پوشیدہ رہے تاکہ نہ اس سے عمدہ عمدہ لباس حاصل کریں اور نہ اسے اپنی منزل خیال کریں اور نہ اس میں زیادہ قیام کی آس لگائیں انہوں نے اس کا خیال نفس سے نکال دیا تھا اور دل سے اسے ہٹا دیا تھا اور نگاہوں سے اسے اوجھل رکھا تھا۔ یونہی جو شخص کسی شے کو برا سمجھتا ہے تو نہ اسے دیکھنا چاہتا ہے اور نہ اس کا ذکر سننا گوارا کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ (کے عادات و خصائل) میں ایسی چیزیں ہیں کہ جو تمہیں دنیا کے عیوب و قبائح کا پتہ دیں گی، جبکہ آپؐ اس دنیا میں اپنے خاص افراد سمیت بھوکے رہا کرتے تھے اور باوجود انتہائی قربِ منزلت کے اس کی آرائشیں ان سے دور رکھی گئیں۔ چاہیے کہ دیکھنے والا عقل کی روشنی میں دیکھے کہ اللہ نے انہیں دنیا نہ دے کر ان کی عزت بڑھائی ہے یا اہانت کی ہے؟ اگر کوئی یہ کہے کہ اہانت کی ہے تو اس نے جھوٹ کہا ہے اور بہت بڑا بہتان باندھا اور اگر یہ کہے کہ عزت بڑھائی ہے تو اسے یہ جان لینا چاہیے کہ اللہ نے دوسروں کی بے عزتی ظاہر کی جبکہ انہیں دنیا کی زیادہ سے زیادہ وسعت دے دی اور اس کا رخ اپنے مقرب ترین بندے سے موڑ رکھا۔ پیروی کرنے والے کو چاہیے کہ ان کی پیروی کرے اور ان کے نشان قدم پر چلے اور انہی کی منزل میں آئے ورنہ ہلاکت سے محفوظ نہیں رہ سکتا، کیونکہ اللہ نے ان کو (قرب) قیامت کی نشانی اور جنت کی خوشخبری سنانے والا اور عذاب سے ڈرانے والا قرار دیا ہے۔ دنیا سے آپؐ بھوکے نکل کھڑے ہوئے اور آخرت میں سلامتیوں کے ساتھ پہنچ گئے۔ آپؐ نے تعمیر کیلئے کبھی پتھر پر پتھر نہیں رکھا، یہاں تک کہ آخرت کی راہ پر چل دئیے اور اللہ کی طرف بلاوا دینے والے کی آواز پر لبیک کہی۔ یہ اللہ کا ہم پر کتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے ہمیں ایسے پیشرو و پیشوا جیسی نعمت عظمیٰ بخشی کہ جن کی ہم پیروی کرتے ہیں اور قدم بہ قدم چلتے ہیں۔ (انہی کی پیروی میں) خدا کی قسم! میں نے اپنی اس قمیص میں اتنے پیوند لگائے ہیں کہ مجھے پیوند لگانے والے سے شرم آنے لگی ہے۔مجھ سے ایک کہنے والے نے کہا کہ کیا آپؑ اسے اتاریں گے نہیں؟ تو میں نے اسے کہا کہ: میری (نظروں سے) دور ہو کہ صبح کے وقت ہی لوگوں کو رات کے چلنے کی قدر ہوتی ہے اور وہ اس کی مدح کرتے ہیں۔

  159. خطبہ 159- دین اسلام کی عظمت اور دُنیا سے درس عبرت حاصل کرنے کی تعلیم

    159

    وَلَقَدْ أَحْسَنْتُ جِوَارَكُمْ، وَأَحَطْتُ بِجُهْدِي مِنْ وَرَائِكُمْ، وَأَعْتَقْتُكُمْ مِنْ رَبَقِ الذُّلِّ، وَحَلَقِ الضَّيْمِ، شُكْراً مِنِّي لِلْبِرِّ الْقَلِيلِ، وَإِطْرَاقاً عَمَّا أَدْرَكَهُ الْبَصَرُ وَشَهِدَهُ الْبَدَنُ، مِنَ الْمُنْكَرِ الْكَثِيرِ.

    اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو چمکتے ہوئے نور، روشن دلیل، کھلی ہوئی راہ شریعت اور ہدایت دینے والی کتاب کے ساتھ بھیجا۔ ان کا قوم و قبیلہ بہترین قوم و قبیلہ اور شجرہ بہترین شجرہ ہے کہ جس کی شاخیں سیدھی اور پھل جھکے ہوئے ہیں۔ ان کا مولد مکہ اور ہجرت کا مقام مدینہ ہے کہ جہاں سے آپؐ کے نام کا بول بالا ہوا اور آپؐ کا آوازہ (چار سو) پھیلا۔ اللہ نے آپؐ کو مکمل دلیل، شفا بخش نصیحت اور (پہلی جہالتوں کی) تلافی کرنے والا پیغام دے کر بھیجا اور ان کے ذریعہ سے (شریعت کی) نامعلوم راہیں آشکارا کیں اور غلط سلط بدعتوں کا قلع قمع کیا اور (قرآن و سنت میں) بیان کئے ہوئے احکام واضح کئے تو اب ’’جو شخص بھی اسلام کے علاوہ کوئی اور دین چاہے‘‘ تو اس کی بدبختی مسلّم، اس کا شیرازہ درہم و برہم اور اس کا منہ کے بل گرنا سخت (و ناگزیر) اور انجام طویل حزن اور مہلک عذاب ہے۔ میں اللہ پر بھروسا رکھتا ہوں ایسا بھروسا کہ جس میں ہمہ تن اس کی طرف توجہ ہے اور ایسے راستے کی ہدایت چاہتا ہوں کہ جو اس کی جنت تک پہنچانے والا اور منزل مطلوب کی طرف بڑھنے والا ہے۔ اللہ کے بندو! میں تمہیں اللہ سے ڈرنے اور اس کی اطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں، کیونکہ تقویٰ ہی کل رستگاری (کا وسیلہ) اور نجات کی منزل دائمی ہو گا۔ اس نے اپنے عذاب سے ڈرایا تو سب کو خبردار کر دیا اور جنت کی رغبت دلائی تو اس میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ دنیا اور اس کے فنا و زوال اور اس کے پلٹ جانے کو کھول کر بیان کیا۔ جو چیزیں اس دنیا سے تمہیں اچھی معلوم ہوتی ہیں ان سے پہلو بچائے رکھو، کیونکہ ان میں سے ساتھ جانے والی تو بہت ہی تھوڑی ہیں۔ دنیا کی منزل اللہ کی ناراضگیوں سے قریب اور اس کی رضامندیوں سے دور ہے۔ اللہ کے بندو! اس کی فکروں اور اس کے دھندوں سے آنکھیں بند کر لو۔ اس لئے کہ تمہیں یقین ہے کہ آخر یہ جدا ہو جانے والی ہے اور اس کے حالات پلٹا کھانے والے ہیں۔ اس دنیا سے اس طرح خوف کھاؤ جس طرح کوئی ڈرنے والا اور اپنے نفس کا خیر خواہ اور جانفشانی کے ساتھ کوشش کرنے والا ڈرتا ہے۔ تم نے اپنے سے پہلے لوگوں کے جو گرنے کی جگہیں دیکھی ہیں ان سے عبرت حاصل کرو کہ ان کے جوڑ بند الگ الگ ہو گئے۔ نہ ان کی آنکھیں رہیں اور نہ کان۔ ان کا شرف و وقار مٹ گیا، ان کی مسرتیں اور نعمتیں جاتی رہیں اور بال بچوں کے قرب کے بجائے علیحدگی اور بیویوں سے ہم نشینی کے بجائے ان سے جدائی ہو گئی۔ اب نہ وہ فخر کرتے ہیں اور نہ ان کے اولاد ہوتی ہے، نہ ایک دوسرے سے ملتے ملاتے ہیں اور نہ آپس میں ایک دوسرے کے ہمسایہ بن کر رہتے ہیں۔ اے اللہ کے بندو! ڈرو جس طرح اپنے نفس پر قابو پا لینے والا اور اپنی خواہشوں کو دبانے والا اور چشم بصیرت سے دیکھنے والا ڈرتا ہے، کیونکہ (ہر) چیز واضح ہو چکی ہے۔ نشانات قائم ہیں، راستہ ہموار ہے اور راہ سیدھی ہے۔

  160. خطبہ 160- حضرتؑ کو خلافت سے الگ رکھنے کے وجوہ

    160

    أَمْرُهُ قَضَاءٌ وَحِكْمَةٌ، وَرِضَاهُ أَمَانٌ وَرَحْمَةٌ، يَقْضِي بِعِلْم، وَيَعْفُو بحِلْم اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى مَا تَأْخُذُ وَتُعْطِي، وَعَلَى مَا تُعَافي وَتَبْتَلي حَمْداً يَكُونُ أَرْضَى الْحَمْدِ لَكَ، وَأَحَبَّ الْحَمْدِ إِلَيْكَ، وَأَفْضَلَ الْحَمْدِ عِنْدَكَ حَمْداً يَمْلَأُ مَا خَلَقْتَ، وَيَبْلُغُ مَا أَرَدْتَ حَمْداً لاَ يُحْجَبُ عَنْكَ، وَلاَ يُقْصَرُ دُونَكَ حَمْداً لاَ يَنْقَطِعُ عَدَدُهُ، وَلاَ يَفْنَى مَدَدُهُ. فَلَسْنَا نَعْلَمُ كُنْهَ عَظَمَتِكَ إِلاَّ أَنَّا نَعْلَمُ أَنَّكَ حَيٌّ قَيُّومٌ، لاَ تَأْخُذُكَ سِنَةٌ وَلاَ نَوْمٌ، لَمْ يَنْتَهِ إِلَيْكَ نَظَرٌ، وَلَمْ يُدْرِكْكَ بَصَرٌ، أَدْرَكْتَ الْأَبْصَارَ، وَ أَحْصَيْتَ الْأَعْمَالَ، وَأَخَذْتَ بِالنَّوَاصِي وَ الْأَقْدَامِ، وَمَا الَّذِي نَرَى مِنْ خَلْقِكَ، وَنَعْجَبُ لَهُ مِنْ قُدْرَتِكَ، وَنَصِفُهُ مِنْ عَظِيمِ سُلْطَانِكَ، وَمَا تَغَيَّبَ عَنَّا مِنْهُ، وَقَصُرَتْ أَبْصَارُنَا عَنْهُ، وَانْتَهَتْ عُقُولُنَا دُونَهُ، وَحَالَتْ سَوَاتِرُ الْغُيُوبِ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ أَعْظَمُ فَمَنْ فَرَّغَ قَلْبَهُ، وَأَعْمَلَ فِكْرَهُ، لِيَعْلَمَ كَيْفَ أَقَمْتَ عَرْشَكَ، وَكَيْفَ ذَرَأْتَ خَلْقَكَ، وَكَيْفَ عَلَّقْتَ فِي الْهَوَاءِ سمَـاوَاتِكَ، وَكَيْفَ مَدَدْتَ عَلى مَوْرِ الْمَاءِ أَرْضَكَ، رَجَعَ طَرْفُهُ حَسِيراً، وَعَقْلُهُ مَبْهُوراً، وَسَمْعُهُ وَالَهِاً، وَفِكْرُهُ حَائِراً. منها: كيف يكون الرجاء يَدَّعِي بِزُعْمِهِ أَنَّهُ يَرْجُو اللهَ، كَذَبَ وَالْعَظِيمِ! مَا بَالُهُ لاَ يَتَبَيَّنُ رَجَاؤُهُ فِي عَمَلَهِ؟ فَكُلُّ مَنْ رَجَا عُرِفَ رَجَاؤُهُ فِي عَمَلِهِ، وَكُلُّ رَجَاء إلاَّ رَجَاءَ اللهِ تَعَالَى فَإِنَّهُ مَدْخُولٌ وَكُلُّ خَوْف مُحَقَّقٌ، إِلاَّ خَوْفَ اللهِ فَإِنَّهُ مَعْلُولٌ يَرْجُو اللهَ فِي الْكَبِيرِ، وَيَرْجُو الْعِبَادَ فِي الصَّغِيرِ فَيُعْطِي العَبْدَ مَا لاَ يُعْطِي الرَّبَّ! فَمَا بَالُ اللهِ جَلَّ ثَنَاؤُهُ يُقَصَّرُ بِهِ عَمَّا يُصْنَعُ بِهِ بِعِبَادِهِ، أَتَخَافُ أَنْ تَكُونَ فِي رَجَائِكَ لَهُ كَاذِباً؟ أَوْ تَكُونَ لاَ تَرَاهُ لِلرَّجَاءِ مَوْضِعاً؟ وَكَذلِكَ إِنْ هُوَ خَافَ عَبْداً مِنْ عَبِيدِهِ، أَعْطَاهُ مِنْ خَوْفِهِ مَا لاَ يُعْطِي رَبَّهُ، فَجَعَلَ خَوْفَهُ مِنَ الْعِبَادِ نَقْداً، وَخَوْفَهُ مِنْ خَالِقِهِ ضِماراً وَ وَعْداً، وَكَذلِكَ مَنْ عَظُمَتِ الدُّنْيَا في عَيْنِهِ، وَكَبُرَ مَوْقِعُهَا مِنْ قَلْبِهِ، آثَرَهَا عَلَى اللهِ، فَانْقَطَعَ إِلَيْهَا، وَصَارَ عَبْداً لَهَا رسول اللّه (صلی الله علیه وآله) وَلَقَدْ كَانَ فِي رَسُولِ اللهِ(صلى الله عليه وآله) كَاف لَكَ فِي الْأُسْوَةِ ، وَدَلِيلٌ لَكَ عَلَى ذَمِّ الدُّنْيَا وَعَيْبِهَا، وَكَثْرَةِ مَخَازِيهَا وَمَسَاوِيهَا، إِذْ قُبِضَتْ عَنْهُ أَطْرَافُهَا وَوُطِّئَتْ لِغَيْرِهِ أَكْنَافُهَا وَفُطِمَ مِنْ رَضَاعِهَا وَزُوِيَ عَنْ زَخَارِفِهَا موسى (علیه السلام): وَإِنْ شِئْتَ ثَنَّيْتُ بِمُوسى كَلِيمِ اللهِ(صلى الله عليه وآله) إذْ يَقُولُ: رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَىَّ مِنْ خَيْر فَقِيرٌ وَاللهِ، مَا سَأَلَهُ إِلاَّ خُبْزاً يَأْكُلُهُ، لاِنَّهُ كَانَ يَأْكُلُ بَقْلَةَ الْأَرْضِ، وَلَقَدْ كَانَتْ خُضْرَةُ الْبَقْلِ تُرَى مِنْ شَفِيفِ صِفَاقِ بَطْنِهِ، لِهُزَالِهِ وَتَشَذُّبِ لَحْمِهِ داود (علیه السلام): وَإِنْ شِئْتَ ثَلَّثْتُ بِدَاوودَ صَاحِبِ الْمَزَامِيرِ، وقَارِىءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَلَقَدْ كَانَ يَعْمَلُ سَفَائِفَ الْخُوصِبِيَدِهِ، وَيَقُولُ لِجُلَسَائِهِ: أَيُّكُمْ يَكْفِينِي بَيْعَهَا! وَيَأْكُلُ قُرْصَ الشَّعِيرِ مِنْ ثَمَنِهَا عيسى (علیه السلام): وَإِنْ شِئْتَ قُلْتُ فِي عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ(عليه السلام)، فَلَقَدْ كَانَ يَتَوَسَّدُ الْحَجَرَ، وَيَلْبَسُ الْخَشِنَ، وَ يَأْكُلُ الْجَشِبَ وَكَانَ إِدَامُهُ الْجُوعَ، وَسِرَاجُهُ بَاللَّيْلِ الْقَمَرَ، وَظِلاَلُهُ في الشِّتَاءِ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا، وَفَاكِهَتُهُ وَرَيْحَانُهُ مَا تُنْبِتُ الْأَرْضِ لِلْبَهَائِمِ، وَلَمْ تَكُنْ لَهُ زَوْجَةٌ تَفْتِنُهُ، وَلاَ وَلَدٌ يَحْزُنُهُ، وَلاَ مَالٌ يَلْفِتُهُ، وَلاَ طَمَعٌ يُذِلُّهُ، دَابَّتُهُ رِجْلاَهُ، وَخَادِمُهُ يَدَاهُ الرسول الأعظم (صلی الله علیه وآله): فَتَأَسَّ بِنَبِيِّكَ الْأَطْيَبِ الْأَطْهَرِ(صلى الله عليه وآله) فَإِنَّ فِيهِ أُسْوَةً لِمَنْ تَأَسَّى، وَعَزَاءً لِمَنْ تَعَزَّى وَأَحَبُّ الْعِبَادِ إِلَى اللهِ الْمُتَأَسِّي بِنَبِيِّهِ، وَالْمُقْتَصُّ لِأَثَرِهِ قَضَمَ الدُّنْيَا قَضْماً، وَلَمْ يُعِرْهَا طَرْفاً، أَهْضَمُ أَهْلِ الدُّنْيَا كَشْحاً، وَأَخْمَصُهُمْ مِنَ الدُّنْيَا بَطْناً، عُرِضَتْ عَلَيْهِ الدُّنْيَا فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهَا، وَعَلِمَ أَنَّ اللهَ سُبْحَانَهُ أَبْغَضَ شَيْئاً فَأَبْغَضَهُ، وَحَقَّرَ شَيْئاً فَحَقَّرَهُ، وَصَغَّرَ شَيْئاً فَصَغَّرَهُ وَلَوْ لَمْ يَكُنْ فِينَا إِلاَّ حُبُّنَا مَا أَبْغَضَ اللهُ، وَتَعْظِيمُنَا مَا صَغَّرَ اللهُ، لَكَفَى بِهِ شِقَاقاً للهِ، وَمُحَادَّةً عَنْ أَمْرِ اللهِ وَلَقَدْ كَانَ(صلى الله عليه وآله) يَأْكُلُ عَلَى الاْرْضِ، وَيَجْلِسُ جِلْسَةَ الْعَبْدِ، وَيَخْصِفُ بَيَدِهِ نَعْلَهُ، وَيَرْقَعُ بِيَدِهِ ثَوْبَهُ، وَيَرْكَبُ الْحِمَارَ الْعَارِيَ، وَيُرْدِفُ خَلْفَهُ، وَيَكُونُ السِّتْرُ عَلَى بَابِ بَيْتِهِ فَتَكُونُ فِيهِ التَّصَاوِيرُ فَيَقُولُ: يَا فُلَانَةُ لِإِحْدَى أَزْوَاجِهِ غَيِّبِيهِ عَنِّي، فَإِنِّي إِذَا نَظَرْتُ إِلَيْهِ ذَكَرْتُ الدُّنْيَا وَزَخَارِفَهَا فَأَعْرَضَ عَنِ الدُّنْيَا بِقَلْبِهِ، وَأَمَاتَ ذِكْرَهَا مِنْ نَفْسِهِ، وَأَحَبَّ أَنْ تَغِيبَ زِينَتُهَا عَنْ عَيْنِهِ، لِكَيْلاَ يَتَّخِذَ مِنْهَا رِيَاشاً وَلاَ يَعْتَقِدَهَا قَرَاراً، وَلاَ يَرْجُو فِيهَا مُقَاماً، فَأَخْرَجَهَا مِنَ النَّفْسِ، وَأَشْخَصَهَا عَنِ الْقَلْبِ، وَغَيَّبَهَا عَنِ الْبَصَرِ وَكَذلِكَ مَنْ أَبْغَضَ شَيْئاً أَبْغَضَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهِ، وَأَنْ يُذْكَرَ عِنْدَهُ وَلَقَدْ كَانَ فِي رَسُولِ اللهِ(صلى الله عليه وآله) مَا يَدُلُّكَ عَلَى مَسَاوِىءِ الدُّنْيَا وَعُيُوبِهَا إِذْ جَاعَ فِيهَا مَعَ خَاصَّتِهِ وَزُوِيَتْ عَنْهُ زَخَارِفُهَا مَعَ عَظِيمِ زُلْفَتِهِ فَلْيَنْظُرْ نَاظِرٌ بِعَقْلِهِ أَكْرَمَ اللهُ مُحَمَّداً(عليه السلام) بِذلِكَ أَمْ أَهَانَهُ! فَإِنْ قَالَ: أَهَانَهُ، فَقَدْ كَذَبَ وَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَ أَتَى بِالْإِفْكِ الْعَظِيمِ وَإِنْ قَالَ: أَكْرَمَهُ، فَلْيَعْلَمْ أَنَّ اللهَ قَدْ أَهَانَ غَيْرَهُ حَيْثُ بَسَطَ الدُّنْيَا لَهُ، وَزَوَاهَا عَنْ أَقْرَبِ النَّاسِ مِنْهُ فَتَأسَّى مُتَأَسٍّ بِنَبِيِّهِ، وَاقْتَصَّ أَثَرَهُ، وَوَلَجَ مَوْلِجَهُ، وَإِلاَّ فَلاَ يَأْمَنِ الْهَلَكَةَ، فَإِنَّ اللهَ عزّوجلّ جَعَلَ مُحَمَّداً(صلى الله عليه وآله) عَلَماً لِلسَّاعَةِ، وَمُبَشِّراً بِالْجَنَّةِ، وَمُنْذِراً بِالعُقُوبَةِ خَرَجَ مِنَ الدُّنْيَا خَمِيصاً، وَوَرَدَ الاْخِرَةَ سَلِيماً، لَمْ يَضَعْ حَجَراً عَلَى حَجَر، حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ، وَأَجَابَ دَاعِيَ رَبِّهِ، فَمَا أَعْظَمَ مِنَّةَ اللهِ عِنْدَنَا حِينَ أَنْعَمَ عَلَيْنَا بِهِ سَلَفاً نَتَّبِعُهُ، وَقَائِداً نَطأُ عَقِبَهُ! وَاللهِ لَقَدْ رَقَّعْتُ مِدْرَعَتِي هذِهِ حَتَّى اسْتَحْيَيْتُ مِنْ رَاقِعِهَا، وَلَقَدْ قَالَ لِي قَائِلٌ: أَلاَ تَنْبِذُهَا؟ فَقُلْتُ: اغْرُبْ عَنِّي، فَعِنْدَ الصَّبَاحِ يَحْمَدُ الْقَوْمُ السُّرَى.

    حضرتؑ کے اصحاب میں سے ایک شخص نے سوال کیا کہ: کیا وجہ ہے کہ لوگوں نے آپؑ کو اس منصب سے الگ رکھا، حالانکہ آپؑ اس کے زیادہ حقدار تھے؟ تو آپؑ نے فرمایا کہ: اے برادر بنی اسد! تم بہت تنگ حوصلہ ہو اور بے راہ ہو کر چل نکلے ہو۔ (اس کے باوجود) چونکہ ہمیں تمہاری قرابت کا پاس و لحاظ ہے اور تمہیں سوال کرنے کا حق بھی ہے تو اب دریافت کیا ہے تو پھر جان لو کہ (ان لوگوں کا) اس منصب پر خود اختیاری سے جم جانا، باوجودیکہ ہم نسب کے اعتبار سے بلند تھے اور پیغمبر ﷺ سے رشتہ قرابت بھی قوی تھا ان کی یہ خود غرضی تھی جس میں کچھ لوگوں کے نفس اس پر مر مٹے تھے اور کچھ لوگوں کے نفسوں نے اس کی پروا تک نہ کی اور فیصلہ کرنے والا اللہ ہے اور اس کی طرف بازگشت قیامت کے روز ہے۔ (اس کے بعد حضرتؑ نے بطور تمثیل یہ مصرع پڑھا:) ’’چھوڑو اس لوٹ مار کے ذکر کو کہ جس کا چاروں طرف شور مچا ہوا تھا‘‘ [۱] اب تو اس مصیبت کو دیکھو کہ جو ابو سفیان کے بیٹے کی وجہ سے آئی ہے۔ مجھے تو (اس پر) زمانہ نے رلانے کے بعد ہنسایا ہے اور زمانہ کی (موجودہ روش سے) خدا کی قسم! کوئی تعجب نہیں ہے۔ اس مصیبت پر تعجب ہوتا ہے کہ جس سے تعجب کی حد ہو گئی ہے اور جس نے بے راہ رویوں کو بڑھا دیا ہے۔ کچھ لوگوں نے اللہ کے روشن چراغ کا نور بجھانا چاہا اور اس کے سرچشمہ (ہدایت کے) فوارے کو بند کرنے کے درپے ہوئے اور میرے اور اپنے درمیان زہریلے گھونٹوں کی آمیزش کی۔ اگر اس ابتلا کی دشواریاں ہمارے اور ان کے درمیان سے اٹھ جائیں تو میں انہیں خالص حق کے راستے پر لے چلوں گا اور اگر کوئی اور صورت ہو گئی تو پھر ان پر حسرت و افسوس کرتے ہوئے تمہارا دم نہ نکلے۔ اس لئے کہ یہ لوگ جو کچھ کر رہے ہیں اللہ اسے خوب جانتا ہے۔

  161. خطبہ 161- اللہ کی توصیف، خلقت انسان اور ضروریات زندگی کی طرف رہنمائی

    161

    ابْتَعَثَهُ بِالنُّورِ الْمُضِىءِ، وَالْبُرهَانِ الْجَليِّ، وَالْمِنْهَاجِ الْبَادِي، وَالْكِتَابِ الْهَادِي أُسْرَتُهُ خَيْرُ أُسْرَة، وَشَجَرَتُهُ خَيْرُ شَجَرَة، أَغصَانُهَا مُعْتَدِلَةٌ، وَثِمَارُهَا مُتَهَدِّلَةٌ مَوْلِدُهُ بِمَكَّةَ، وَهِجْرَتُهُ بِطَيْبَةَ، عَلا بِهَا ذِكْرُهُ، وَامْتَدَّ مِنْهَا صَوْتُهُ أَرْسَلَهُ بِحُجَّة كَافِيَة، وَمَوْعِظَة شَافِية، وَدَعْوَة مُتَلافِيَة أَظْهَرَ بِهِ الشَّرائِعَ الْـمَجْهُولَةَ، وَقَمَعَ بِهِ الْبِدَعَ الْمَدْخُولَةَ، وَبَيَّنَ بِهِ الْأَحْكَامَ الْمَفْصُولَةَ فَ "مَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلامِ دِيناً" تَتَحَقَّقْ شِقْوَتُهُ، وَتَنْفَصِمْ عُرْوَتُهُ، وَتَعْظُمْ كَبْوَتُهُ، وَيَكُنْ مَآبُهُ إلَى الْحُزْنِ الطَّوِيلِ وَالْعَذَابِ الْوَبيلِ وَأَتَوَكَّلُ عَلَى اللهِ تَوَكُّلَ الانَابَةِ إلَيْهِ، وَأَسْتَرْشِدُهُ السَّبِيلَ المُؤَدِّيَةَ إلى جَنَّتِهِ، الْقَاصِدَةَ إلى مَحَلِّ رَغْبَتِهِ النصح بالتّقوى أُوصِيكُمْ عِبَادَاللهِ، بِتَقْوَى اللهِ وَطَاعَتِهِ، فَإنَّهَا النَّجَاةُ غَداً، وَالْمَنْجَاةُ أَبَداً رَهَّبَ فَأبْلَغَ، وَرَغَّبَ فَأَسْبَغَ، وَوَصَفَ لَكُمُ الدُّنْيَا وَانْقِطَاعَهَا، وَزَوَالَهَا وَانْتِقَالَهَا فَأَعْرِضُوا عَمَّا يُعْجِبُكُمْ فِيهَا لِقِلَّةِ مَا يَصْحَبُكُمْ مِنْهَا، أَقْرَبُ دَار مِنْ سَخَطِ اللهِ، وَأَبْعَدُهَا مِنْ رِضْوَانِ اللهِ! فَغُضُّوا عَنْكُمْ ـ عِبَادَاللهِ غُمُومَهَا وَأَشْغَالَهَا، لِمَا قَدْ أَيْقَنْتُمْ بِهِ مِنْ فِرَاقِهَا وَتَصَرُّفِ حَالاَتِهَا فَاحْذَروُهَا حَذَرَ الشَّفِيقِ النَّاصِحِ، وَالْـمُجِدِّ الْكَادِحِ، وَاعْتَبِرُوا بِمَا قَدْ رَأَيْتُمْ مِنْ مَصَارعِ الْقُرُونِ قَبْلَكُمْ قَدْ تَزَايَلَتْ أَوْصَالُهُمْ، وَزَالَتْ أسْمَاعُهُمْ وَأَبْصَارُهُمْ، وَذَهَبَ شَرَفُهُمْ وَعِزُّهُمْ، وَانْقَطَعَ سُرُورُهُمْ وَنَعِيمُهُمْ فَبُدِّلُوا بِقُرْبِ الاَوْلاَدِ فَقْدَهَا، وَبِصُحْبَةِ الاَزْوَاجِ مُفَارَقتَهَا لاَ يَتَفَاخَرُونَ، وَلاَ يَتَنَاسَلُونَ، وَلاَ يَتَزَاوَرُونَ، وَلاَ يَتَجَاوَرُونَ فَاحْذَروُا، عِبَادَاللهِ، حَذَرَ الْغَالِبِ لِنَفْسِهِ، الْمَانِعِ لِشَهْوَتِهِ، النَّاظِرِ بِعَقْلِهِ فَإِنَّ الْأَمْرَ وَاضِحٌ، وَالْعَلَمَ قَائِمٌ، وَ الطَّرِيقَ جَدَدٌ وَ السَّبِيلَ قَصْدٌ

    تمام حمد اس اللہ کیلئے ہے جو بندوں کا پیدا کرنے والا، فرش زمین کا بچھانے والا، ندی نالوں کا بہانے والا اور ٹیلوں کو سر سبز و شاداب بنانے والا ہے۔ نہ اس کی اوّلیت کی کوئی ابتدا اور نہ اس کی ازلیت کی کوئی انتہا ہے۔ وہ ایسا اوّل ہے جو ہمیشہ سے ہے اور بغیر کسی مدت کی حد بندی کے ہمیشہ رہنے والا ہے۔ پیشانیاں اس کے آگے (سجدہ میں) گری ہوئی ہیں اور لب اس کی توحید کے معترف ہیں۔ اس نے تمام چیزوں کو ان کے پیدا کرنے کے وقت ہی سے (جداگانہ صورتوں اور شکلوں میں) محدود کر دیا تاکہ اپنی ذات کو ان کی مشابہت سے الگ رکھے۔ تصورات اسے حدود و حرکات اور اعضاء و حواس کے ساتھ متعین نہیں کر سکتے۔ اس کیلئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ’’وہ کب سے ہے‘‘ اور نہ یہ کہہ کر اس کی مدت مقرر کی جا سکتی ہے کہ ’’وہ کب تک ہے‘‘۔ وہ ظاہر ہے لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ’’کس سے (ظاہر ہوا)‘‘ وہ باطن ہے مگر یہ نہیں کہا جائے گا کہ ’’کس میں‘‘۔ وہ نہ دور سے نظر آنے والا کوئی ڈھانچہ ہے کہ مٹ جائے اور نہ کسی حجاب میں ہے کہ محدود ہو جائے۔ وہ چیزوں سے اس طرح قریب نہیں کہ ساتھ چھو جائے اور نہ وہ جسمانی طور پر ان سے الگ ہو کر دور ہوا ہے۔ اس سے کسی کا ٹکٹکی باندھ کر دیکھنا، کسی لفظ کا دہرایا جانا، کسی بلندی کا دور سے جھلکنا اور کسی قدم کا آگے بڑھنا پوشیدہ نہیں ہے۔ نہ اندھیری راتوں میں اور نہ چھائی ہوئی اندھیاریوں میں کہ جن پر روشن چاند اپنی کرنوں کا سایہ ڈالتا ہے اور نورانی آفتاب طلوع و غروب (کے چکروں) میں اور زمانہ کی ان گردشوں میں اندھیرے کے بعد نور پھیلاتا ہے کہ جو آنے والی رات اور جانے والے دن کی آمد و شد سے (پیدا) ہوتی ہیں۔ وہ ہر مدت و انتہا اور ہر گنتی اور شمار سے پہلے ہے۔ اسے محدود سمجھ لینے والے جن اندازوں اور اطراف و جوانب کی حدوں اور مکانوں میں بسنے اور جگہوں میں ٹھہرنے کو اس کی طرف منسوب کر دیتے ہیں وہ ان نسبتوں سے بہت بلند ہے۔ حدیں تو اس کی مخلوق کیلئے قائم کی گئی ہیں اور دوسروں ہی کی طرف ان کی نسبت دی جایا کرتی ہے۔ اس نے اشیاء کو کچھ ایسے مواد سے پیدا نہیں کیا کہ جو ہمیشہ سے ہو اور نہ ایسی مثالوں پر بنایا کہ جو پہلے سے موجود ہوں، بلکہ اس نے جو چیز پیدا کی اسے مستحکم کیا اور جو ڈھانچہ بنایا اسے اچھی شکل و صورت دی۔ کوئی شے اس کے (حکم سے) سرتابی نہیں کرسکتی، نہ اس کو کسی کی اطاعت سے کوئی فائدہ پہنچتا ہے۔ اسے پہلے مرنے والوں کا ویسا ہی علم ہے جیسا باقی رہنے والے زندہ لوگوں کا اور جس طرح بلند آسمانوں کی چیزوں کو جانتا ہے ویسے ہی پست زمینوں کی چیزوں کو پہچانتا ہے۔ [اسی خطبہ کا ایک جز یہ ہے] اے وہ مخلوق کہ جس کی خلقت کو پوری طرح درست کیا گیا ہے اور جسے شکم کی اندھیاریوں اور دوہرے پردوں میں بنایا گیا ہے اور ہر طرح سے اس کی نگہداشت کی گئی ہے، تیری ابتدا مٹی کے خلاصہ سے ہوئی اور تجھے جانے پہچانے ہوئے وقت اور طے شدہ مدت تک ایک جماؤ پانے کی جگہ میں ٹھہرایا گیا کہ تو جنین ہونے کی حالت میں ماں کے پیٹ میں پھرتا تھا۔ نہ تو کسی پکار کا جواب دیتا تھا اور نہ کوئی آواز سنتا تھا۔ پھر تو اپنے ٹھکانے سے ایسے گھر میں لایا گیا کہ جو تیرا دیکھا بھالا ہوا نہ تھا اور نہ اس سے نفع حاصل کرنے کے طریقے پہچانتا تھا۔ کس نے تجھ کو ماں کی چھاتی سے غذا حاصل کرنے کی راہ بتائی؟ اور ضرورت کے وقت طلب مقصود کی جگہ پہچنوائیں؟۔ بھلا جو شخص ایک صورت و اعضاء والی مخلوق کے پہچاننے سے بھی عاجز ہو وہ اس کے پیدا کرنے والے کی صفات سے کیسے عاجز و درماندہ نہ ہو گا اور کیونکر مخلوقات کی سی حد بندیوں کے ساتھ اسے پالینے سے دور نہ ہو گا۔

  162. خطبہ 162- امیرالمومنینؑ کا عثمان سے مکالمہ اور ان کی دامادی پر ایک نظر

    162

    يَا أَخَا بَنِي أَسَدٍ إِنَّكَ لَقَلِقُ الْوَضِينِ تُرْسِلُ فِي غَيْرِ سَدَدٍ وَ لَكَ بَعْدُ ذِمَامَةُ الصِّهْرِ وَ حَقُّ الْمَسْأَلَةِ وَ قَدِ اسْتَعْلَمْتَ فَاعْلَمْ أَمَّا الِاسْتِبْدَادُ عَلَيْنَا بِهَذَا الْمَقَامِ وَ نَحْنُ الْأَعْلَوْنَ نَسَباً وَ الْأَشَدُّونَ بِالرَّسُولِ الله صلى الله عليه واله نَوْطاً فَإِنَّهَا كَانَتْ أَثَرَةً شَحَّتْ عَلَيْهَا نُفُوسُ قَوْمٍ وَ سَخَتْ عَنْهَا نُفُوسُ آخَرِينَ وَ الْحَكَمُ اللَّهُ وَ الْمَعُودُ إِلَيْهِ الْقِيَامَةُ «وَ دَعْ عَنْكَ نَهْباً صِيحَ فِي حَجَرَاتِهِ وَ لَكِنْ حَدِيثا مَا حَدِيثُ الرَّوَاحِلَ» وَ هَلُمَّ الْخَطْبَ فِي ابْنِ أَبِي سُفْيَانَ فَلَقَدْ أَضْحَكَنِي الدَّهْرُ بَعْدَ إِبْكَائِهِ وَ لَا غَرْوَ وَ اللَّهِ فَيَا لَهُ خَطْباً يَسْتَفْرِغُ الْعَجَبَ وَ يُكْثِرُ الْأَوَدَ حَاوَلَ الْقَوْمُ إِطْفَاءَ نُورِ اللَّهِ مِنْ مِصْبَاحِهِ وَ سَدَّ فَوَّارِهِ مِنْ يَنْبُوعِهِ وَ جَدَحُوا بَيْنِي وَ بَيْنَهُمْ شِرْباً وَبِيئاً فَإِنْ تَرْتَفِعْ عَنَّا وَ عَنْهُمْ مِحَنُ الْبَلْوَى أَحْمِلْهُمْ مِنَ الْحَقِّ عَلَى مَحْضِهِ وَ إِنْ تَكُنِ الْأُخْرَى «فَلا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ‏ حَسَراتٍ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِما يَصْنَعُونَ»

    جب امیرالمومنین علیہ السلام کے پاس لوگ جمع ہو کر آئے اور عثمان کے متعلق جو باتیں انہیں بری معلوم ہوئی تھیں ان کا گلہ کیا اور چاہا کہ حضرتؑ ان کی طرف سے ان سے بات چیت کریں اور لوگوں کو رضا مند کرنے کا ان سے مطالبہ کریں۔ چنانچہ آپؑ تشریف لے گئے اور ان سے کہا کہ: لوگ میرے پیچھے (منتظر) ہیں اور مجھے اس مقصد سے تمہارے پاس بھیجا ہے کہ میں تمہارے اور ان کے قضیوں کو نپٹاؤں۔ خدا کی قسم! [۱] میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں تم سے کیا کہوں جب کہ میں (اس سلسلہ میں) ایسی کوئی بات نہیں جانتا کہ جس سے تم بے خبر ہو اور نہ کوئی ایسی چیز بتانے والا ہوں کہ جس کا تمہیں علم نہ ہو۔ جو تم جانتے ہو وہ ہم جانتے ہیں۔ نہ تم سے پہلے ہمیں کسی چیز کی خبر تھی کہ تمہیں بتائیں اور نہ علیحدگی میں کچھ سنا ہے کہ تم تک پہنچائیں۔ جیسے ہم نے دیکھا ویسے تم نے بھی دیکھا اور جس طرح ہم نے سنا تم نے بھی سنا۔ جس طرح ہم رسول اللہ ﷺ کی صحبت میں رہے تم بھی رہے۔ اور حق پر عمل پیرا ہونے کی ذمہ داری ابن ابی قحافہ اور ابن خطاب پر اس سے زیادہ نہ تھی جتنی کہ تم پر ہونا چاہیے اور تم تو رسول ﷺ سے خاندانی قرابت کی بنا پر ان دونوں سے قریب تر بھی ہو اور ان کی ایک طرح کی دامادی بھی تمہیں حاصل ہے کہ جو انہیں حاصل نہ تھی۔ کچھ اپنے دل میں اللہ کا بھی خوف کرو۔ خدا کی قسم! اس لئے تمہیں سمجھایا نہیں جا رہا ہے کہ تمہیں کچھ نظر آ نہ سکتا ہو اور نہ اس لئے یہ چیزیں تمہیں بتائی جا رہی ہیں کہ تمہیں علم نہ ہو اور (لاعلمی کے کیا معنی) جب کہ شریعت کی راہیں واضح اور دین کے نشانات قائم ہیں۔ یاد رکھو کہ اللہ کے نزدیک سب بندوں سے بہتر وہ انصاف پرور حاکم ہے جو خود بھی ہدایت پائے اور دوسروں کو بھی ہدایت کرے اور جانی پہچانی ہوئی سنت کو مستحکم کرے اور انجانی بدعتوں کو فنا کرے۔ سنتوں کے نشانات جگمگا رہے ہیں اور بدعتوں کی علامتیں بھی واضح ہیں اور اللہ کے نزدیک سب لوگوں سے بدتر وہ ظالم حکمران ہے جو گمراہی میں پڑا رہے اور دوسرے بھی اس کی وجہ سے گمراہی میں پڑیں اور (رسولؐ سے) حاصل کی ہوئی سنتوں کو تباہ اور قابل ترک بدعتوں کو زندہ کرے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ انہوں نے فرمایا کہ: «قیامت کے دن ظالم کو اس طرح لایا جائے گا کہ نہ اس کا کوئی مددگار ہو گا اور نہ کوئی عذر خواہ اور اسے (سیدھا) جہنم میں ڈال دیا جائے گا اور وہ اس میں اس طرح چکر کھائے گا جس طرح چکی گھومتی ہے اور پھر اسے جہنم کے گہراؤ میں جکڑ دیا جائے گا»۔ میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ تم اس اُمت کے وہ سربراہ نہ بنو کہ جسے قتل ہی ہونا ہے۔ چونکہ کہا گیا ہے کہ اس اُمت میں ایک ایسا حاکم مارا جائے گا جو اس کیلئے قیامت تک قتل و خون ریزی کا دروازہ کھول دے گا اور اس کے تمام امور کو اشتباہ میں ڈال دے گا اور اس میں فتنوں کو پھیلائے گا کہ وہ لوگ حق کو باطل سے الگ کرکے نہ دیکھ سکیں گے اور وہ فتنوں میں (دریا کی) موجوں کی طرح الٹے پلٹے کھائیں گے اور انہی میں تہ و بالا ہوتے رہیں گے۔ تم مروان کی سواری نہ بن جاؤ کہ وہ تمہیں جہاں چاہے کھینچتا پھرے، جبکہ تم سن رسیدہ بھی ہو چکے ہو اور عمر بھی بیت چکی ہے۔ حضرت عثمان نے کہا کہ: آپؑ ان لوگوں سے بات کریں کہ وہ مجھے (کچھ عرصہ کیلئے) مہلت دیں کہ میں ان کی حق تلفیوں سے عہدہ برآ ہو سکوں۔ تو آپؑ نے فرمایا کہ: جن چیزوں کا تعلق مدینہ سے ہے ان میں تو کوئی مہلت کی ضرورت نہیں۔ البتہ جو جگہیں نگاہوں سے اوجھل (اور دور) ہیں ان کیلئے اتنی مہلت ہوسکتی ہے کہ تمہارا فرمان وہاں تک پہنچ جائے۔

  163. خطبہ 163- مور کی عجیب و غریب خلقت اور جنّت کے دلفریب مناظر

    163

    الْحَمْدُ لِلَّهِ خَالِقِ الْعِبَادِ وَ سَاطِحِ الْمِهَادِ وَ مُسِيلِ الْوِهَادِ وَ مُخْصِبِ النِّجَادِ لَيْسَ لِأَوَّلِيَّتِهِ ابْتِدَاءٌ وَ لَا لِأَزَلِيَّتِهِ انْقِضَاءٌ هُوَ الْأَوَّلُ لَمْ يَزَلْ وَ الْبَاقِي بِلَا أَجَلٍ خَرَّتْ لَهُ الْجِبَاهُ وَ وَحَّدَتْهُ الشِّفَاهُ حَدَّ الْأَشْيَاءَ عِنْدَ خَلْقِهِ لَهَا إِبَانَةً لَهُ مِنْ شَبَهِهَا لَا تُقَدِّرُهُ الْأَوْهَامُ بِالْحُدُودِ وَ الْحَرَكَاتِ وَ لَا بِالْجَوَارِحِ وَ الْأَدَوَاتِ لَا يُقَالُ لَهُ : مَتَى وَ لَا يُضْرَبُ لَهُ أَمَدٌ بِحَتَّى الظَّاهِرُ لَا يُقَالُ مِمَّا وَ الْبَاطِنُ لَا يُقَالُ فِيمَا لَا شَبَحٌ فَيُتَقَصَّى وَ لَا مَحْجُوبٌ فَيُحْوَى لَمْ يَقْرُبْ مِنَ الْأَشْيَاءِ بِالْتِصَاقٍ وَ لَمْ يَبْعُدْ عَنْهَا بِافْتِرَاقٍ وَ لَا يَخْفَى عَلَيْهِ مِنْ عِبَادِهِ شُخُوصُ لَحْظَةٍ وَ لَا كُرُورُ لَفْظَةٍ وَ لَا ازْدِلَافُ رَبْوَةٍ وَ لَا انْبِسَاطُ خُطْوَةٍ فِي لَيْلٍ دَاجٍ وَ لَا غَسَقٍ سَاجٍ يَتَفَيَّأُ عَلَيْهِ الْقَمَرُ الْمُنِيرُ وَ تَعْقُبُهُ الشَّمْسُ ذَاتُ النُّورِ فِي الْأُفُولِ وَ الْكُرُورِ وَ تَقَلُّبِ الْأَزْمِنَةِ وَ الدُّهُورِ مِنْ إِقْبَالِ لَيْلٍ مُقْبِلٍ وَ إِدْبَارِ نَهَارٍ مُدْبِرٍ قَبْلَ كُلِّ غَايَةٍ وَ مُدَّةِ وَ كُلِّ إِحْصَاءٍ وَ عِدَّةٍ تَعَالَى عَمَّا يَنْحَلُهُ الْمُحَدِّدُونَ مِنْ صِفَاتِ الْأَقْدَارِ وَ نِهَايَاتِ الْأَقْطَارِ وَ تَأَثُّلِ الْمَسَاكِنِ‏ وَ تَمَكُّنِ الْأَمَاكِنِ فَالْحَدُّ لِخَلْقِهِ مَضْرُوبٌ وَ إِلَى غَيْرِهِ مَنْسُوبٌ إبتداع المخلوقين لَمْ يَخْلُقِ الْأَشْيَاءَ مِنْ أُصُولٍ أَزَلِيَّةٍ وَ لَا مِنْ أَوَائِلَ أَبَدِيَّةٍ بَلْ خَلَقَ مَا خَلَقَ فَأَقَامَ حَدَّهُ وَ صَوَّرَ مَا صَوَّرَ فَأَحْسَنَ صُورَتَهُ لَيْسَ لِشَيْ‏ءٍ مِنْهُ امْتِنَاعٌ وَ لَا لَهُ بِطَاعَةِ شَيْ‏ءٍ انْتِفَاعٌ عِلْمُهُ بِالْأَمْوَاتِ الْمَاضِينَ كَعِلْمِهِ بِالْأَحْيَاءِ الْبَاقِينَ وَ عِلْمُهُ بِمَا فِي السَّمَاوَاتِ الْعُلَى كَعِلْمِهِ بِمَا فِي الْأَرَضِينَ السُّفْلَى منها:عجائب فی خلق الانسان أَيُّهَا الْمَخْلُوقُ السَّوِيُّ وَ الْمُنْشَأُ الْمَرْعِيُّ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْحَامِ وَ مُضَاعَفَاتِ الْأَسْتَارِ بُدِئْتَ مِنْ سُلالَةٍ مِنْ طِينٍ وَ وُضِعْتَ فِي قَرارٍ مَكِينٍ إِلى قَدَرٍ مَعْلُومٍ وَ أَجَلٍ مَقْسُومٍ تَمُورُ فِي بَطْنِ أُمِّكَ جَنِيناً لَا تُحِيرُ دُعَاءً وَ لَا تَسْمَعُ نِدَاءً ثُمَّ أُخْرِجْتَ مِنْ مَقَرِّكَ إِلَى دَارٍ لَمْ تَشْهَدْهَا وَ لَمْ تَعْرِفْ سُبُلَ مَنَافِعِهَا فَمَنْ هَدَاكَ لِاجْتِرَارِ الْغِذَاءِ مِنْ ثَدْيِ أُمِّكَ وَ عَرَّفَكَ عِنْدَ الْحَاجَةِ مَوَاضِعَ طَلَبِكَ وَ إِرَادَتِكَ هَيْهَاتَ إِنَّ مَنْ يَعْجِزُ عَنْ صِفَاتِ ذِي الْهَيْئَةِ وَ الْأَدَوَاتِ فَهُوَ عَنْ صِفَاتِ خَالِقِهِ أَعْجَزُ وَ مِنْ تَنَاوُلِهِ بِحُدُودِ الْمَخْلُوقِينَ أَبْعَدُ

    جس میں مور [۱] کی عجیب و غریب آفرینش کا تذکرہ فرمایا ہے قدرت نے ہر قسم کی مخلوق کو وہ جاندار ہو یا بے جان، ساکن ہو یا متحرک عجیب و غریب آفرینش کا جامہ پہنا کر ایجاد کیا ہے اور اپنی لطیف صنعت اور عظیم قدرت پر ایسی واضح نشانیاں شاہد بنا کر قائم کی ہیں کہ جن کے سامنے عقلیں اس کی ہستی کا اعتراف اور اس کی (فرمانبرداری) کا اقرار کرتے ہوئے سر اطاعت خم کر چکی ہیں اور اس کی یکتائی پر یہی عقل کی تسلیم کی ہوئی اور (اس کے خالق بے مثال ہونے پر) مختلف شکل و صورت کے پرندوں کی آفرینش سے ابھری ہوئی دلیلیں ہمارے کانوں میں گونج رہی ہیں۔ وہ پرندے جن کو اس نے زمین کے گڑھوں، درّوں کے شگافوں اور مضبوط پہاڑوں کی چوٹیوں پر بسایا ہے، جو مختلف طرح کے پر و بال اور جداگانہ شکل و صورت والے ہیں۔ جنہیں تسلط (الٰہی) کی باگ ڈور میں گھمایا پھرایا جاتا ہے اور جو کشادہ ہوا کی وسعتوں اور کھلی فضاؤں میں پروں کو پھڑپھڑاتے ہیں۔ انہیں جبکہ یہ موجود نہ تھے عجیب و غریب ظاہری صورتوں سے (آراستہ کرکے) پیدا کیا اور (گوشت و پوست میں) ڈھکے ہوئے جوڑوں کے سروں سے ان کے (جسموں کی) ساخت قائم کی۔ ان میں سے بعض وہ ہیں جنہیں ان کے جسموں کے بوجھل ہونے کی وجہ سے فضا میں بلند ہو کر تیز پروازی سے روک دیا ہے اور انہیں ایسا بنایا ہے کہ وہ زمین سے کچھ تھوڑے ہی اونچے ہو کر پرواز کر سکیں۔ اس نے اپنی لطیف قدرت اور باریک صنعت سے ان قسم قسم کے پرندوں کو (مختلف) رنگوں سے ترتیب دیا ہے۔ چنانچہ ان میں سے بعض ایسے ہیں جو ایک ہی رنگ کے سانچے میں ڈھلے ہوئے ہیں۔ یوں کہ جس رنگ میں انہیں ڈبویا گیا ہے اس کے علاوہ کسی اور رنگ کی ان میں آمیزش نہیں کی گئی اور بعض اس طرح رنگ میں ڈبوئے گئے ہیں کہ جس رنگ کا طوق انہیں پہنا دیا گیا ہے وہ اس رنگ سے نہیں ملتا جس سے خود رنگین ہیں۔ ان سب پرندوں سے زائد عجیب الخلقت مور ہے کہ (اللہ نے) جس کے (اعضاء کو) موزونیت کے محکم ترین سانچے میں ڈھالا ہے اور اس کے رنگوں کو ایک حسین ترتیب سے مرتب کیا ہے۔ یہ (حسن و توازن) ایسے پروں سے ہے کہ جن کی جڑوں کو (ایک دوسرے سے) جوڑ دیا ہے اور ایسی دُم سے ہے جو دور تک کھنچتی چلی جاتی ہے۔ جب وہ اپنی مادہ کی طرف بڑھتا ہے تو اپنی لپٹی ہوئی دُم کو پھیلا دیتا ہے اور اسے اس طرح اونچا لے جاتا ہے کہ وہ اس کے سر پر سایہ افگن ہو کر پھیل جاتی ہے۔ گویا وہ (مقام) دارین کی اس کشتی کا بادبان ہے جسے اس کا ملاح اِدھر ُادھر موڑ رہا ہو، وہ اس کے رنگوں پر اتراتا ہے اور اس کی جنبشوں کے ساتھ جھومنے لگتا ہے اور مرغوں کی طرح جفتی کھاتا ہے اور (اپنی مادہ کو) حاملہ کرنے کیلئے جوش و ہیجان میں بھرے ہوئے نروں کی طرح جوڑ کھاتا ہے۔ میں اس (بیان) کیلئے مشاہدہ کو تمہارے سامنے پیش کرتا ہوں۔ اس شخص کی طرح نہیں کہتا جو کسی کمزور سند کا حوالہ دے رہا ہو۔ گمان کرنے والوں کا یہ صرف وہم و گمان ہے کہ وہ اپنے گوشہ ہائے چشم کے بہائے ہوئے اس آنسو سے اپنی مادہ کو انڈوں پر لاتا ہے کہ جو اس کی پلکوں کے دونوں کناروں میں آ کر ٹھہر جاتا ہے اور مورنی اسے پی لیتی ہے اور پھر وہ انڈے دینے لگتی ہے اور اس پھوٹ کر نکلنے والے آنسو کے علاوہ یوں نر اُس سے جفتی نہیں کھاتا۔ اگر ایسا ہو تو بھی (ان کے خیال کے مطابق) کوے کے اپنی مادہ کو (پوٹے سے دانا پانی) بھرا کر انڈوں پر لانے سے زیادہ تعجب خیز نہیں ہے۔ (تم اگر بغور دیکھو گے) تو اس کے پروں کی درمیانی تیلیوں کو چاندی کی سلائیاں تصور کرو گے اور ان پر جو عجیب و غریب ہالے بنے ہوئے ہیں اور سورج (کی شعاعوں) کے مانند (جو پر و بال) اُگے ہوئے ہیں (انہیں زردی میں) خالص سونا اور (سبزی میں) زمرد کے ٹکڑے خیال کرو گے۔ اگر تم اسے زمین کی اُگائی ہوئی چیزوں سے تشبیہ دو گے تو یہ کہو گے کہ وہ ہر موسم بہار کے چنے ہوئے شگوفوں کا گلدستہ ہے اور اگر کپڑوں سے تشبیہ دو گے تو وہ منقش حُلّوں یا خوشنما یمنی چادروں کے مانند ہے اور اگر زیورات سے تشبیہ دو گے تو وہ رنگ برنگ کے ان نگینوں کی طرح ہے جو مرصع بجواہر چاندی میں دائروں کی صورت میں پھیلا دئیے گئے ہوں۔ وہ اس طرح چلتا ہے جس طرح کوئی ہشاش بشاش اور متکبر محو خرام ہوتا ہے اور اپنی دم اور پر و بال کو غور سے دیکھتا ہے تو اپنے پیراہن کے حسن و جمال اور اپنے گلوبند کی رنگتوں کی وجہ سے قہقہہ لگا کر ہنستا ہے، مگر جب اپنے پیروں پر نظر ڈالتا ہے تو اس طرح اونچی آواز سے روتا ہے کہ گویا اپنی فریاد کو ظاہر کر رہا ہے اور اپنے سچے درد (دل) کی گواہی دے رہا ہے۔ کیونکہ اس کے پیر خاکستری رنگ کے دوغلے مرغوں کے پیروں کی طرح باریک اور پتلے ہوتے ہیں اور اس کی پنڈلی کے کنارے پر ایک باریک سا کانٹا نمایاں ہوتا ہے۔ اور اس کی (گردن پر) ایال کی جگہ سبز رنگ کے منقش پروں کا گچھا ہوتا ہے اور گردن کا پھیلاؤ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے صراحی (کی گردن) اور اس کے گڑنے کی جگہ سے لے کر وہاں تک کا حصہ کہ جہاں اس کا پیٹ ہے یمنی وسمہ کے رنگ کی طرح (گہرا سبز) ہے یا اس ریشم کی طرح ہے جو صیقل کئے ہوئے آئینہ پر پہنا دیا گیا ہو، گویا کہ وہ سیاہ رنگ کی اوڑھنی میں لپٹا ہوا ہے، لیکن اس کی آب و تاب کی فراوانی اور چمک دمک کی بہتات سے ایسا گمان ہوتا ہے کہ اس میں تر و تازہ سبزی کی (الگ سے) آمیزش کر دی گئی ہے۔ اس کے کانوں کے شگاف سے ملی ہوئی بابونہ کے پھولوں جیسی ایک سفید چمکیلی لکیر ہوتی ہے۔ جو قلم کی باریک نوک کے مانند ہے وہ (لکیر) اپنی سفیدی کے ساتھ اس جگہ کی سیاہیوں میں جگمگاتی ہے۔ کم ہی ایسے رنگ ہوں گے جس نے سفید دھاری کا کچھ حصہ نہ لیا ہو اور وہ ان رنگوں پر اپنی آب و تاب کی زیادتی، اپنے پیکر ِریشمیں کی چمک دمک اور زیبائش کی وجہ سے چھائی ہوئی ہے۔ وہ ان بکھری ہوئی کلیوں کے مانند ہے کہ جنہیں نہ فصل بہار کی بارشوں نے پروان چڑھایا ہو اور نہ گرمیوں کے سورج نے پرورش کیا ہو وہ کبھی اپنے پر و بال سے برہنہ اور اپنے رنگین لباس سے عریاں ہو جاتا ہے، اس کے بال و پر لگاتار جھڑتے ہیں اور پھر پے درپے اُگنے لگتے ہیں، وہ اس کے بازوؤں سے اس طرح جھڑتے ہیں جس طرح ٹہنیوں سے پتے، یہاں تک کہ جھڑنے سے پہلے جو شکل و صورت تھی اسی کی طرف پلٹ آتا ہے اور اپنے پہلے رنگوں سے سر مو اِدھر سے اُدھر نہیں ہوتا اور نہ کوئی رنگ اپنی جگہ چھوڑ کر دوسری جگہ اختیار کرتا ہے۔ جب اس کے پروں کے ریشوں سے کسی ریشے کو تم غور سے دیکھو گے تو وہ تمہیں کبھی گلاب کے پھولوں جیسی سرخی اور کبھی زمرد جیسی سبزی اور کبھی سونے جیسی زردی کی (جھلکیاں) دکھائے گا۔ (غور تو کرو کہ) ایک ایسی مخلوق کی صفتوں تک فکروں کی گہرائیاں کیوں کر پہنچ سکتی ہیں؟ یا عقلوں کی طبع آزمائیاں کس طرح وہاں تک رسائی پا سکتی ہیں؟ یا بیان کرنے والوں کے کلمات کیونکر اس کے وصفوں کو ترتیب دے سکتے ہیں؟ کہ جس کے چھوٹے سے چھوٹے جز نے بھی واہموں کو سمجھنے سے عاجز اور زبانوں کو بیان کرنے سے درماندہ کر دیا ہو۔ تو پاک ہے وہ ذات کہ جس نے ایک ایسی مخلوق کی حالت بیان کرنے سے بھی عقلوں کو مغلوب کر رکھا ہے کہ جسے آنکھوں کے سامنے نمایاں کر دیا تھا اور ان (آنکھوں) نے اس کو ایک حد میں گھرا ہوا اور (اجزا) سے مرکب اور (مختلف رنگوں سے) رنگین صورت میں دیکھ بھی لیا اور جس نے زبانوں کو اس (مخلوق) کے وصفوں کا خلاصہ کرنے سے عاجز اور اس کی صفتوں کے بیان کرنے سے درماندہ کر دیا ہے۔ اور پاک ہے وہ خدا کہ جس نے چیونٹی اور مچھر سے لے کر ان سے بڑی مخلوق مچھلیوں اور ہاتھیوں تک کے پیروں کو مضبوط و مستحکم کیا ہے اور اپنی ذات پر لازم کر لیا ہے کہ کوئی پیکر کہ جس میں اس نے روح داخل کی ہے جنبش نہیں کھائے گا مگر یہ کہ موت کو اس کی وعدہ گاہ اور فنا کو اس کی حد آخر قرار دے گا۔ [اس خطبہ کا یہ حصہ جنت کے بیان میں ہے] اگر تم دیدہ دل سے جنت کی ان کیفیتوں پر نظر کرو جو تم سے بیان کی جاتی ہیں تو تمہارا نفس دنیا میں پیش کی ہوئی عمدہ سے عمدہ خواہشوں اور لذتوں اور اس کے مناظر کی زیبائشوں سے نفرت کرنے لگے گا اور وہ ان درختوں کے پتوں کے کھڑکھڑانے کی آوازوں میں کہ جن کی جڑیں جنت کی نہروں کے کناروں پر مشک کے ٹیلوں میں ڈوبی ہوئی ہیں کھو جائے گا اور ان کی بڑی اور چھوٹی ٹہنیوں میں تر و تازہ موتیوں کے گچھوں کے لٹکنے اور سبز پتیوں کے غلافوں میں مختلف قسم کے پھلوں کے نکلنے کے (نظاروں) میں محو ہو جائے گا۔ ایسے پھل کہ جو بغیر کسی زحمت کے چنے جا سکتے ہیں اور چننے والے کی خواہش کے مطابق آگے بڑھ آتے ہیں۔ وہاں کے بلند ایوانوں کے صحنوں میں اترنے والے مہمانوں کے گرد پاک و صاف شہد اور صاف ستھری شراب (کے جام) گردش میں لائے جائیں گے۔ وہ ایسے لوگ ہیں کہ اللہ کی بخشش و عنایت ہمیشہ ان کے شامل حال رہی یہاں تک کہ وہ اپنی جائے قیام میں اتر پڑے اور سفروں کی نقل و حرکت سے آسودہ ہو گئے۔ اے سننے والے! اگر تو ان دلکش مناظر تک پہنچنے کیلئے اپنے نفس کو متوجہ کرے جو تیری طرف ایک دم آنے والے ہیں تو اس کے اشتیاق میں تیری جان ہی نکل جائے گی اور اسے جلد سے جلد پا لینے کیلئے میری اس مجلس سے اٹھ کر قبروں میں رہنے والوں کی ہمسائیگی اختیار کرنے کیلئے آمادہ ہو جائے گا۔ اللہ سبحانہ اپنی رحمت سے ہمیں اور تمہیں ان لوگوں میں سے قرار دے کہ جو نیک بندوں کی منزل تک پہنچنے کی (سر توڑ) کوشش کرتے ہیں۔ [سیّد رضی اس خطبہ کے بعض مشکل الفاظ کی توضیح و تشریح کے سلسلہ میں فرماتے ہیں کہ:] آپ کے ارشاد «وَ یَؤُرُّ بِمُلَاقَحَۃٍ» میں لفظ ’’اَرّ‘‘ سے مباشرت کی طرف کنایہ ہے۔ یوں کہا جاتا ہے کہ «اَرَّ الْمَرْاَةَ یَؤُرُّهَا» یعنی اس نے عورت سے مباشرت کی۔ اور آپؑ کے اس ارشاد «كَاَنَّهٗ قِلْعُ دَارِیٍّ عَنَجَهٗ نُوْتِیُّهٗ» میں ’’قلع‘‘ کے معنی کشتی کے بادبان کے ہیں اور لفظ ’’داری‘‘ دارین کی طرف منسوب ہے اور ’’دارین‘‘ سمندر کے کنارے ایک شہر کا نام ہے کہ جہاں سے خوشبو دار چیزیں لائی جاتی ہیں اور ’’عنجہ‘‘ کے معنی ہیں اس کو موڑا اور استعمال یوں ہوتا ہے: «عَنَجْتُ النّاقَةَ» (عنجت بروزن نصرت) یعنی میں نے اونٹنی کے رخ کو موڑا اور «اَعْنُجُهَا عَنْجًا» اس وقت کہو گے کہ جب تم اس کے رخ کو موڑو گے اور ’’نوتی‘‘ کے معنی ملاح کے ہیں۔ اور آپؑ کے ارشاد «ضَفَّتَیْ جُفُوْنِهٖ» سے مراد مور کی پلکوں کے دونوں کنارے ہیں اور یوں ’’ضفتان‘‘ کے معنی دو کناروں کے ہوتے ہیں۔ اور آپؑ کے قول «وَ فِلَذَ الزَّبَرْجَدِ» میں ’’فلذ‘‘ فلذة کی جمع ہے جس کے معنی ٹکڑے کے ہیں۔ اور آپؑ کے قول «كَبَآئِسِ اللُّؤْلُؤِ الرَّطْبِ فِیْ عَسَالِیْجِهَا» میں ’’کبائس‘‘ کباسہ کی جمع ہے جس کے معنی کھجور کے خوشے کے ہیں اور ’’عسالیج‘‘ عسلوج کی جمع ہے جس کے معنی ٹہنی کے ہیں۔

  164. خطبہ 164- شفقت و مہربانی اور ظاہر و باطن کی تعلیم اور بنی امیہ کا زوال

    164

    إِنَّ النَّاسَ وَرَائِي وَ قَدِ اسْتَسْفَرُونِي بَيْنَكَ وَ بَيْنَهُمْ وَ وَ اللَّهِ مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لَكَ مَا أَعْرِفُ شَيْئاً تَجْهَلُهُ وَ لَا أَدُلُّكَ عَلَى أَمْرٍ لَا تَعْرِفُهُ إِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نَعْلَمُ مَا سَبَقْنَاكَ إِلَى شَيْ‏ءٍ فَنُخْبِرَكَ عَنْهُ وَ لَا خَلَوْنَا بِشَيْ‏ءٍ فَنُبَلِّغَكَهُ وَ قَدْ رَأَيْتَ كَمَا رَأَيْنَا وَ سَمِعْتَ كَمَا سَمِعْنَا وَ صَحِبْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه واله كَمَا صَحِبْنَا وَ مَا ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ وَ لَا ابْنُ الْخَطَّابِ بِأَوْلَى بِعَمَلِ الْحَقِّ مِنْكَ وَ أَنْتَ أَقْرَبُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ- صلى الله عليه واله- وَشِيجَةَ رَحِمٍ مِنْهُمَا وَ قَدْ نِلْتَ مِنْ صِهْرِهِ مَا لَمْ يَنَالَا فَاللَّهَ اللَّهَ فِي نَفْسِكَ فَإِنَّكَ وَ اللَّهِ مَا تُبَصَّرُ مِنْ عَمًى وَ لَا تُعَلَّمُ مِنْ جَهْلٍ وَ إِنَّ الطُّرُقَ لَوَاضِحَةٌ وَ إِنَّ أَعْلَامَ الدِّينِ لَقَائِمَةٌ فَاعْلَمْ أَنَّ أَفْضَلَ عِبَادِ اللَّهِ عِنْدَ اللَّهِ إِمَامٌ عَادِلٌ هُدِيَ وَ هَدَى فَأَقَامَ سُنَّةً مَعْلُومَةً وَ أَمَاتَ بِدْعَةً مَجْهُولَةً وَ إِنَّ السُّنَنَ لَنَيِّرَةٌ لَهَا أَعْلَامٌ وَ إِنَّ الْبِدَعَ لَظَاهِرَةٌ لَهَا أَعْلَامٌ وَ إِنَّ شَرَّ النَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ إِمَامٌ جَائِرٌ ضَلَّ وَ ضُل‏ بِهِ فَأَمَاتَ سُنَّةً مَأْخُوذَةً وَ أَحْيَا بِدْعَةً مَتْرُوكَةً وَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه واله يَقُولُ: يُؤْتَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِالْإِمَامِ الْجَائِرِ وَ لَيْسَ مَعَهُ نَصِيرٌ وَ لَا عَاذِرٌ فَيُلْقَى فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَيَدُورُ فِيهَا كَمَا تَدُورُ الرَّحَى ثُمَّ يُرْتَبَطُ فِي قَعْرِهَا وَ إِنِّي أَنْشُدُكَ اللَّهَ أَنْ تَكُونَ إِمَامَ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْمَقْتُولَ فَإِنَّهُ كَانَ يُقَالُ يُقْتَلُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ إِمَامٌ يَفْتَحُ عَلَيْهَا الْقَتْلَ وَ الْقِتَالَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَ يَلْبِسُ أُمُورَهَا عَلَيْهَا وَ يَبُثُّ الْفِتَنَ فِيهَا فَلَا يُبْصِرُونَ الْحَقَّ مِنَ الْبَاطِلِ يَمُوجُونَ فِيهَا مَوْجاً وَ يَمْرُجُونَ فِيهَا مَرْجاً فَلَا تَكُونَنَّ لِمَرْوَانَ سَيِّقَةً يَسُوقُكَ حَيْثُ شَاءَ بَعْدَ جَلَالِ السِّنِّ وَ تَقَضِّي الْعُمُرِ فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ : كَلِّمِ النَّاسَ فِي أَنْ يُوَجِّلُونِي حَتَّى أَخْرُجَ إِلَيْهِمْ مِنْ مَظَالِمِهِمْ فَقَالَ عليه السلام : مَا كَانَ بِالْمَدِينَةِ فَلَا أَجَلَ فِيهِ وَ مَا غَابَ فَأَجَلُهُ وُصُولُ أَمْرِكَ إِلَيْهِ

    تمہارے چھوٹوں کو چاہیے کہ وہ اپنے بڑوں کی پیروی کریں اور بڑوں کو چاہئے کہ وہ چھوٹوں سے شفقت و مہربانی سے پیش آئیں۔ زمانۂ جاہلیت کے ان اُجڈ آدمیوں کے مانند نہ ہو جاؤ کہ جو نہ دین میں فہم و بصیرت سے اور نہ اللہ کے بارے میں عقل و فہم سے کام لیتے تھے۔ وہ ان انڈوں کے چھلکوں کی طرح ہیں جو شتر مرغوں کے انڈے دینے کی جگہ پر رکھے ہوں جن کا توڑنا گناہ معلوم ہوتا ہے مگر انہیں سینے کیلئے چھوڑ دینا ایذا رساں بچوں کے نکالنے کا سبب ہوتا ہے۔ [۱] [اسی خطبہ کا ایک جز یہ ہے] وہ الفت و یکجائی کے بعد الگ الگ اور اپنے مرکز سے منتشر ہو گئے ہوں گے۔ البتہ ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو ایک شاخ کو پکڑے رہیں گے کہ جدھر یہ جھکے ادھر وہ جھکیں گے، یہاں تک کہ اللہ جلد ہی اس دن کیلئے کہ جو بنی امیہ کیلئے بدترین دن ہو گا انہیں اس طرح جمع کرے گا جس طرح خریف کے موسم میں بادل کے ٹکڑے جمع ہو جاتے ہیں۔ اللہ ان کے درمیان محبت و دوستی پیدا کرے گا اور پھر ان کا تہ بہ تہ جمے ہوئے ابر کی طرح ایک مضبوط جتھا بنا دے گا اور ان کیلئے دروازوں کو کھول دے گا کہ وہ اپنے ابھرنے کے مقام سے شہر سبا کے دو باغوں کے اس سیلاب کی طرح بہہ نکلیں گے جس سے نہ کوئی چٹان محفوظ رہی تھی اور نہ کوئی ٹیلہ اس کے سامنے ٹک سکا تھا اور نہ پہاڑ کی مضبوطی اور نہ زمین کی اونچائی اس کا دھارا موڑ سکی تھی۔ اللہ سبحانہ انہیں گھاٹیوں کے نشیبوں میں متفرق کر دے گا۔ پھر انہیں چشموں (کے بہاؤ) کی طرح زمین میں پھیلا دے گا اور ان کے ذریعہ سے کچھ لوگوں کے حقوق کچھ لوگوں سے لے گا اور ایک قوم کو دوسری قوم کے شہروں پر متمکن کر دے گا۔ خدا کی قسم! ان کی سر بلندی و اقتدار کے بعد جو کچھ بھی ان کے ہاتھوں میں ہو گا اس طرح پگھل جائے گا جس طرح آگ پر چربی۔ اے لوگو! اگر تم حق کی نصرت و امداد سے پہلو نہ بچاتے اور باطل کو کمزور کرنے سے کمزوری نہ دکھاتے تو جو تمہارا ہم پایہ نہ تھا وہ تم پر دانت نہ رکھتا اور جس نے تم پر قابو پا لیا وہ تم پر قابو نہ پاتا۔ لیکن تم تو بنی اسرائیل کی طرح صحرائے تیہ میں بھٹک گئے۔ اور اپنی جان کی قسم! میرے بعد تمہاری سرگردانی و پریشانی کئی گنا بڑھ جائے گی، کیونکہ تم نے حق کو پس پشت ڈال دیا ہے اور قریبیوں سے قطع تعلق کر لیا اور دور والوں سے رشتہ جوڑ لیا ہے۔ یقین رکھو کہ اگر تم دعوت دینے والے کی پیروی کرتے تو وہ تمہیں رسول اللہ ﷺ کے راستہ پر لے چلتا اور تم بے راہ روی کی زحمتوں سے بچ جاتے اور اپنی گردنوں سے بھاری بوجھ اتار پھینکتے۔

  165. خطبہ 165- حقوق و فرائض کی نگہداشت اور تمام معاملات میں اللہ سے خوف

    165

    خلقة الطُيور ابْتَدَعَهُمْ خَلْقاً عَجِيباً مِنْ حَيَوَانٍ وَ مَوَاتٍ وَ سَاكِنٍ وَ ذِي حَرَكَاتٍ وَ أَقَامَ مِنْ شَوَاهِدِ الْبَيِّنَاتِ عَلَى لَطِيفِ صَنْعَتِهِ وَ عَظِيمِ قُدْرَتِهِ مَا انْقَادَتْ لَهُ الْعُقُولُ مُعْتَرِفَةً بِهِ وَ مَسَلِّمَةً لَهُ وَ نَعَقَتْ فِي أَسْمَاعِنَا دَلَائِلُهُ عَلَى وَحْدَانِيَّتِهِ وَ مَا ذَرَأَ مِنْ مُخْتَلِفِ صُوَرِ الْأَطْيَارِ الَّتِي أَسْكَنَهَا أَخَادِيدَ الْأَرْضِ وَ خُرُوقَ‏ فِجَاجِهَا وَ رَوَاسِيَ أَعْلَامِهَا مِنْ ذَاتِ أَجْنِحَةٍ مُخْتَلِفَةٍ وَ هَيْئَاتٍ مُتَبَايِنَةٍ مُصَرَّفَةٍ فِي زِمَامِ التَّسْخِيرِ وَ مُرَفْرَفَةٍ بِأَجْنِحَتِهَا فِي مَخَارِقِ الْجَوِّ الْمُنْفَسِحِ وَ الْفَضَاءِ الْمُنْفَرِجِ كَوَّنَهَا بَعْدَ إِذْ لَمْ تَكُنْ فِي عَجَائِبِ صُوَرٍ ظَاهِرَةٍ وَ رَكَّبَهَا فِي حِقَاقِ مَفَاصِلَ مُحْتَجِبَةٍ وَ مَنَعَ بَعْضَهَا بِعَبَالَةِ خَلْقِهِ أَنْ يَسْمُوَ فِي الْهَوَاءِ خُفُوفاً وَ جَعَلَهُ يَدِفُّ دَفِيفاً وَ نَسَقَهَا عَلَى اخْتِلَافِهَا فِي الْأَصَابِيغِ بِلَطِيفِ قُدْرَتِهِ وَ دَقِيقِ صَنْعَتِهِ فَمِنْهَا مَغْمُوسٌ فِي قَالَبِ لَوْنٍ لَا يَشُوبُهُ غَيْرُ لَوْنِ مَا غُمِسَ فِيهِ وَ مِنْهَا مَغْمُوسٌ فِي لَوْنِ صِبْغٍ قَدْ طُوِّقَ بِخِلَافِ مَا صُبِغَ بِهِ الطاووس وَ مِنْ أَعْجَبِهَا خَلْقاً الطَّاوُسُ الَّذِي أَقَامَهُ فِي أَحْكَمِ تَعْدِيلٍ وَ نَضَّدَ أَلْوَانَهُ فِي أَحْسَنِ تَنْضِيدٍ بِجَنَاحٍ أَشْرَجَ قَصَبَهُ وَ ذَنَبٍ أَطَالَ مَسْحَبَهُ إِذَا دَرَجَ إِلَى الْأُنْثَى نَشَرَهُ مِنْ طَيِّهِ وَ سَمَا بِهِ مظلًّا عَلَى رَأْسِهِ كَأَنَّهُ قِلْعُ دَارِيٍّ عَنَجَهُ نُوتِيُّهُ يَخْتَالُ بِأَلْوَانِهِ وَ يَمِيسُ بِزَيَفَانِهِ يُفْضِي كَإِفْضَاءِ الدِّيَكَةِ وَ يَؤُرُّ بِمَلَاقِحِهِ أَرَّ الْفُحُولِ الْمُغْتَلِمَةِ لِلضِّرَابِ أُحِيلُكَ مِنْ ذَلِكَ عَلَى مُعَايَنَةٍ لَا كَمَنْ يُحِيلُ عَلَى ضَعِيفِ إِسْنَادِهِ وَ لَوْ كَانَ كَزُعْمِ مَنْ يَزْعُمُ أَنَّهُ يُلْقِحُ بِدَمْعَةٍ تَنْسِجُهَا مَدَامِعُهُ فَتَقِفُ فِي ضَفَّتَيْ جُفُونِهِ وَ أَنَّ أُنْثَاهُ تَطْعَمُ ذَلِكَ ثُمَّ تَبِيضُ لَا مِنْ لَقَاحِ فَحْلٍ سِوَى الدَّمْعِ الْمُنْبَجِسِ لَمَا كَانَ ذَلِكَ بِأَعْجَبَ مِنْ مُطَاعَمَةِ الْغُرَابِ تَخَالُ قَصَبَهُ مَدَارِيَ مِنْ فِضَّةٍ وَ مَا أُنْبِتَ عَلَيْهَا مِنْ عَجِيبِ دَارَاتِهِ وَ شُمُوسِهِ خَالِصَ الْعِقْيَانِ وَ فِلَذَ الزَّبَرْجَدِ فَإِنْ شَبَّهْتَهُ بِمَا أَنْبَتَتِ الْأَرْضُ قُلْتَ جَنِىٌّ جُنِيَ مِنْ زَهْرَةِ كُلِّ رَبِيعٍ وَ إِنْ ضَاهَيْتَهُ بِالْمَلَابِسِ فَهُوَ كَمَوْشِيِّ الْحُلَلِ أَوْ مُونِقِ عَصْبِ الْيَمَنِ وَ إِنْ شَاكَلْتَهُ بِالْحُلِيِّ فَهُوَ كَفُصُوصِ ذَاتِ أَلْوَانٍ قَدْ نُطِّقَتْ بِاللُّجَيْنِ الْمُكَلَّلِ ‏يَمْشِي مَشْيَ الْمَرِحِ الْمُخْتَالِ وَ يَتَصَفَّحُ ذَنَبَهُ وَ جَنَاحَيْهِ فَيُقَهْقِهُ ضَاحِكاً لِجَمَالِ سِرْبَالِهِ وَ أَصَابِيغِ وِشَاحِهِ فَإِذَا رَمَى بِبَصَرِهِ إِلَى قَوَائِمِهِ زَقَا مُعْوِلًا بِصَوْتٍ يَكَادُ يُبِينُ عَنِ اسْتِغَاثَتِهِ وَ يَشْهَدُ بِصَادِقِ تَوَجُّعِهِ لِأَنَّ قَوَائِمَهُ حُمْشٌ كَقَوَائِمِ الدِّيَكَةِ الْخِلَاسِيَّةِ وَ قَدْ نَجَمَتْ مِنْ ظُنْبُوبِ سَاقِهِ صِيصِيَةٌ خَفِيَّةٌ وَ لَهُ فِي مَوْضِعِ الْعُرْفِ قُنْزُعَةٌ خَضْرَاءٌ مُوَشَّاةٌ وَ مَخْرَجُ عُنُقِهِ كَالْإِبْرِيقِ وَ مَغْرِزُهَا إِلَى حَيْثُ بَطْنُهُ كَصِبْغِ الْوَسِمَةِ الْيَمَانِيَّةِ أَوْ كَحَرِيرَةٍ مُلْبَسَةٍ مِرْآةً ذَاتَ صِقَالٍ وَ كَأَنَّهُ مُتَلَفِّعٌ بِمِعْجَرٍ أَسْحَمَ إِلَّا أَنَّهُ يُخَيَّلُ لِكَثْرَةِ مَائِهِ وَ شِدَّةِ بَرِيقِهِ أَنَّ الْخُضْرَةَ النَّاضِرَةَ مُمْتَزِجَةٌ بِهِ وَ مَعَ فَتْقِ سَمْعِهِ خَطٌّ كَمُسْتَدَقِّ الْقَلَمِ فِي لَوْنِ الْأُقْحُوَانِ أَبْيَضُ يَقَقٌ فَهُوَ بِبَيَاضِهِ فِي سَوَادِ مَا هُنَالِكَ يَأْتَلِقُ وَ قَلَّ صِبْغٌ إِلَّا وَ قَدْ أَخَذَ مِنْهُ بِقِسْطٍ وَ عَلَاهُ بِكَثْرَةِ صِقَالِهِ وَ بَرِيقِهِ وَ بَصِيصِ دِيبَاجِهِ وَ رَوْنَقِهِ فَهُوَ كَالْأَزَاهِيرِ الْمَبْثُوثَةِ لَمْ تُرَبِّهَا أَمْطَارُ رَبِيعٍ وَ لَا شُمُوسُ قَيْظٍ وَ قَدْ يَنْحَسِرُ مِنْ رِيشِهِ وَ يَعْرَى مِنْ لِبَاسِهِ فَيَسْقُطُ تَتْرَى وَ يَنْبُتُ تِبَاعاً فَيَنْحَتُّ مِنْ قَصَبِهِ انْحِتَاتَ أَوْرَاقِ الْأَغْصَانِ ثُمَّ يَتَلَاحَقُ نَامِياً حَتَّى يَعُودَ كَهَيْئَتِهِ قَبْلَ سُقُوطِهِ لَا يُخَالِفُ سَالِفَ أَلْوَانِهِ وَ لَا يَقَعُ لَوْنٌ فِي غَيْرِ مَكَانِهِ وَ إِذَا تَصَفَّحْتَ شَعْرَةً مِنْ شَعَرَاتِ قَصَبِهِ أَرَتْكَ حُمْرَةً وَرْدِيَّةً وَ تَارَةً خُضْرَةً زَبَرْجَدِيَّةً وَ أَحْيَاناً صُفْرَة عَسْجَدِيَّةً ً فَكَيْفَ تَصِلُ إِلَى صِفَةِ هَذَا عَمَائِقُ الْفِطَنِ أَوْ تَبْلُغُهُ قَرَائِحُ الْعُقُولِ أَوْ تَسْتَنْظِمُ وَصْفَهُ أَقْوَالُ الْوَاصِفِينَ وَ أَقَلُّ أَجْزَائِهِ قَدْ أَعْجَزَ الْأَوْهَامَ أَنْ تُدْرِكَهُ وَ الْأَلْسِنَةَ أَنْ تَصِفَهُ فَسُبْحَانَ الَّذِي بَهَرَ الْعُقُولَ عَنْ وَصْفِ خَلْقِ جَلَّاهُ لِلْعُيُونِ فَأَدْرَكَتْهُ مَحْدُوداً مُكَوَّناً وَ مُؤَلَّفاً مُلَوَّناً وَ أَعْجَزَ الْأَلْسُنَ عَنْ تَلْخِيصِ صِفَتِهِ وَ قَعَدَ بِهَا عَنْ تَأْدِيَةِ نَعْتِهِ صِغارُ المخلوقات سُبْحَانَ مَنْ أَدْمَجَ قَوَائِمَ الذَّرَّةِ وَ الْهَمَجَةِ إِلَى مَا فَوْقَهُمَا مِنْ خَلْقِ الْحِيتَانِ وَ الْفِيلَةِ وَ وَأَى عَلَى نَفْسِهِ أَلَّا يَضْطَرِبَ شَبَحٌ مِمَّا أَوْلَجَ فِيهِ الرُّوحَ إِلَّا وَ جَعَلَ الْحِمَامَ مَوْعِدَهُ وَ الْفَنَاءَ غَايَتَهُ منها في صفة الجنة فَلَوْ رَمَيْتَ بِبَصَرِ قَلْبِكَ نَحْوَ مَا يُوصَفُ لَكَ مِنْهَا لَعَزَفَتْ نَفْسُكَ عَنْ بَدَائِعِ مَا أُخْرِجَ إِلَى الدُّنْيَا مِنْ شَهَوَاتِهَا وَ لَذَّاتِهَا وَ زَخَارِفِ مَنَاظِرِهَا وَ لَذَهِلَتْ بِالْفِكْرِ فِي اصْطِفَاقِ أَشْجَارٍ غُيِّبَتْ عُرُوقُهَا فِي كُثْبَانِ الْمِسْكِ عَلَى سَوَاحِلِ أَنْهَارِهَا وَ فِي تَعْلِيقِ كَبَائِسِ اللُّؤْلُؤِ الرَّطْبِ فِي عَسَالِيجِهَا وَ أَفْنَانِهَا وَ طُلُوعِ تِلْكَ الثِّمَارِ مُخْتَلِفَةً فِي غُلُفِ أَكْمَامِهَا تُجْنَى مِنْ غَيْرِ تَكَلُّفٍ فَتَأْتِي عَلَى مُنْيَةِ مُجْتَنِيهَا وَ يُطَافُ عَلَى نُزَّالِهَا فِي أَفْنِيَةِ قُصُورِهَا بِالْأَعْسَالِ الْمُصَفَّقَةِ وَ الْخُمُورِ الْمُرَوَّقَةِ قَوْمٌ‏ لَمْ تَزَلِ الْكَرَامَةُ تَتَمَادَى بِهِمْ حَتَّى حَلُّوا دَارَ الْقَرَارِ وَ أَمِنُوا نُقْلَةَ الْأَسْفَارِ فَلَوْ شَغَلْتَ قَلْبَكَ أَيُّهَا الْمُسْتَمِعُ بِالْوُصُولِ إِلَى مَا يَهْجُمُ عَلَيْكَ مِنْ تِلْكَ الْمَنَاظِرِ الْمُونِقَةِ لَزَهَقَتْ نَفْسُكَ شَوْقاً إِلَيْهَا وَ لَتَحَمَّلْتَ مِنْ مَجْلِسِي هَذَا إِلَى مُجَاوَرَةِ أَهْلِ الْقُبُورِ اسْتِعْجَالًا بِهَا جَعَلَنَا اللَّهُ وَ إِيَّاكُمْ مِمَّنْ يَسْعَى بِقَلْبِهِ إِلَى مَنَازِلِ الْأَبْرَارِ بِرَحْمَتِهِ تفسير بعض ما في هذه الخطبة من الغريب قال الشريف الرضي: قَوْلُهُ(عليه السلام): «ويَؤُرُّ بِمَلاقِحِهِ» الاْرُّ: كِنَايَةٌ عَنِ النّكَاح، يُقَالُ: أرّ المَرْأةَ يَؤُرّهَا، إذَا نَكَحَهَا. وَقَوْلُهُ(عليه السلام): «كَأنّهُ قلْعُ دَارِيّ عَنَجَهُ نُوتيّهُ» الْقلْعُ: شِرَاعُ السّفِينَةِ، وَدَارِيّ: مَنْسُوبٌ إلى دَارِينَ، وَهِيَ بَلْدَةٌ عَلَى الْبَحْرِ يُجْلَبُ مِنْهَا الطّيبُ. وَعَنَجَهُ: أَيْ عطفه يُقَالُ: عَنَجْتُ النّاقَةَ أَعْنُجُهَا عَنْجاً إذَا عَطَفْتُهَا. وَالنّوتي: الْمَلاّحُ. وَقَوْلُهُ: «ضَفّتَيْ جُفُونِهِ» أَرَادَ جَانِبَيْ جُفُونِهِ. وَالضّفّتَانِ: الجانِبَانِ. وَقَوْلُهُ: «وَفِلَذَ الزّبَرْجَدِ» الْفِلَذُ: جَمْعُ فِلْذَة، وَهِيَ القِطْعَةُ. وَقَوْلُهُ: «كَبَائِسِ اللّؤْلُؤِ الرّطْبِ» الْكِبَاسَة: الْعِذْقُ. وَالْعَسَالِيجُ: الْغُصُونُ، وَاحِدُهَا عُسْلُوجٌ.

    (اپنی خلافت کے آغاز پر فرمایا) اللہ تعالیٰ نے ایسی ہدایت کرنے والی کتاب نازل فرمائی ہے کہ جس میں اچھائیوں اور برائیوں کو (کھول کر) بیان کیا ہے۔ تم بھلائی کا راستہ اختیار کرو تاکہ ہدایت پا سکو اور برائی کی جانب سے رخ موڑ لو تاکہ سیدھی راہ پر چل سکو، فرائض کو پیشِ نظر رکھو اور انہیں اللہ کیلئے بجا لاؤ، تاکہ یہ تمہیں جنت تک پہنچائیں۔ اللہ سبحانہ نے ان چیزوں کو حرام کیا ہے جو انجانی نہیں ہیں اور ان چیزوں کو حلال کیا ہے جن میں کوئی عیب و نقص نہیں پایا جاتا۔ اس نے مسلمانوں کی عزت و حرمت کو تمام حرمتوں پر فضیلت دی ہے اور مسلمانوں کے حقوق کو ان کے موقع و محل پر اخلاص و توحید کے دامن سے باندھ دیا ہے۔ چنانچہ مسلمان وہی ہے کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان بچے رہیں، مگر یہ کہ کسی حق کی بنا پر ان پر ہاتھ ڈالا جائے اور ان کو ایذا پہنچانا جائز نہیں، مگر جہاں واجب ہو جائے۔ اس چیز کی طرف بڑھو کہ جو ہمہ گیر اور تم میں سے ہر ایک کیلئے مخصوص ہے اور وہ موت ہے۔ چونکہ (گزر جانے والے) لوگ تمہارے سامنے ہیں اور (موت کی) گھڑی تمہیں پیچھے سے آگے کی طرف ہنکائے لئے جا رہی ہے۔ ہلکے پھلکے رہو تاکہ آگے بڑھ جانے والوں کو پا سکو۔ تمہارے اگلوں کو پچھلوں کا انتظار کرایا جا رہا ہے۔ اللہ سے اس کے بندوں اور اس کے شہروں کے بارے میں ڈرتے رہو۔ اس لئے کہ تم سے (ہر چیز کے متعلق) سوال کیا جائے گا۔ یہاں تک کہ زمینوں اور چوپاؤں کے متعلق بھی اللہ کی اطاعت کرو اور اس سے سرتابی نہ کرو۔ جب بھلائی کو دیکھو تو اسے حاصل کرو اور جب بُرائی کو دیکھو تو اس سے منہ پھیر لو۔

  166. خطبہ 166- جب لوگوں نے قاتلین عثمان سے قصاص لینے کی فرمائش کی تو فرمایا

    166

    لِيَتَأَسَّ صَغِيرُكُمْ بِكَبِيرِكُمْ وَ لْيَرْأَفْ كَبِيرُكُمْ بِصَغِيرِكُمْ وَ لَا تَكُونُوا كَجُفَاةِ الْجَاهِلِيَّةِ لَا فِي الدِّينِ يَتَفَقَّهُونَ وَ لَا عَنِ اللَّهِ يَعْقِلُونَ كَقَيْضِ بَيْضٍ فِي أَدَاحٍ يَكُونُ كَسْرُهَا وِزْراً وَ يُخْرِجُ حِضَانُهَا شَرّاً منها: في بني أمية افْتَرَقُوا بَعْدَ أُلْفَتِهِمْ وَ تَشَتَّتُوا عَنْ أَصْلِهِمْ فَمِنْهُمْ آخِذٌ بِغُصْنٍ أَيْنَمَا مَالَ مَالَ مَعَهُ عَلَى أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى سَيَجْمَعُهُمْ لِشَرِّ يَوْمٍ لِبَنِي أُمَيَّةَ كَمَا تَجْتَمِعُ قَزَعُ الْخَرِيفِ يُؤَلِّفُ اللَّهُ بَيْنَهُمْ ثُمَّ يَجْعَلُهُمْ رُكَاماً كَرُكَامِ السَّحَابِ ثُمَّ يَفْتَحُ لَهُمْ أَبْوَاباً يَسِيلُونَ مِنْ مُسْتَثَارِهِمْ كَسَيْلِ الْجَنَّتَيْنِ حَيْثُ لَمْ تَسْلَمْ عَلَيْهِ قَارَّةٌ وَ لَمْ تَثْبُتْ عَلَيْهِ أَكَمَةٌ وَ لَمْ يَرُدَّ سَنَنَهُ رَصُّ طَوْدٍ وَ لَا حِدَابُ أَرْضٍ يُذَعْذِعُهُمُ اللَّهُ فِي بُطُونِ أَوْدِيَتِهِ ثُمَّ يَسْلُكُهُمْ يَنَابِيعَ فِي الْأَرْضِ يَأْخُذُ بِهِمْ مِنْ قَوْمٍ حُقُوقَ قَوْمٍ وَ يُمَكِّنُ لِقَوْمٍ فِي دِيَارِ قَوْمٍ وَ ايْمُ اللَّهِ لَيَذُوبَنَّ مَا فِي أَيْدِيهِمْ بَعْدَ الْعُلُوِّ وَ التَّمْكِينِ كَمَا تَذُوبُ الْأَلْيَةُ عَلَى النَّارِ الناس آخر الزمان أَيُّهَا النَّاسُ لَوْ لَمْ تَتَخَاذَلُوا عَنْ نَصْرِ الْحَقِّ وَ لَمْ تَهِنُوا عَنْ تَوْهِينِ الْبَاطِلِ لَمْ يَطْمَعْ فِيكُمْ مَنْ لَيْسَ مِثْلَكُمْ وَ لَمْ يَقْوَ مَنْ قَوِيَ عَلَيْكُمْ لَكِنَّكُمْ تِهْتُمْ مَتَاهَ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَ لَعَمْرِي لَيُضَعَّفَنَّ لَكُمُ التِّيهُ مِنْ بَعْدِي أَضْعَافاً بِمَا خَلَّفْتُمُ الْحَقَّ وَرَاءَ ظُهُورِكُمْ وَ قَطَعْتُمُ الْأَدْنَى وَ وَصَلْتُمُ الْأَبْعَدَ وَ اعْلَمُوا أَنَّكُمْ إِنِ اتَّبَعْتُمُ الدَّاعِيَ لَكُمْ سَلَكَ بِكُمْ مِنْهَاجَ الرَّسُولِ وَ كُفِيتُمْ مَئُونَةَ الِاعْتِسَافِ وَ نَبَذْتُمُ الثِّقْلَ الْفَادِحَ عَنِ الْأَعْنَاقِ

    آپؑ کی بیعت ہو چکنے کے بعد صحابہ کی ایک جماعت نے آپؑ سے کہا کہ بہتر ہے کہ آپؑ ان لوگوں کو جنہوں نے عثمان پر فوج کشی کی تھی سزا دیں تو حضرتؑ نے ارشاد فرمایا کہ: اے بھائیو! جو تم جانتے ہو میں اس سے بے خبر نہیں ہوں، لیکن میرے پاس (اس کی) قوت و طاقت کہاں ہے جبکہ فوج کشی کرنے والے اپنے انتہائی زوروں پر ہیں۔ وہ (اس وقت) ہم پر مسلط ہیں ہم ان پر مسلط نہیں اور عالم یہ ہے کہ تمہارے غلام بھی ان کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور صحرائی عرب بھی ان سے مل جل گئے ہیں اور اس وقت بھی وہ تمہارے درمیان اس حالت میں ہیں کہ جیسا چاہیں تمہیں گزند پہنچا سکتے ہیں۔ کیا تم جو چاہتے ہو اس پر قابو پانے کی کوئی صورت تمہیں نظر آتی ہے؟۔ بلاشبہ یہ جہالت و نادانی کا مطالبہ ہے۔ ان لوگوں کی پشت پر مدد کا ایک ذخیرہ ہے۔ جب یہ قصہ چھڑے گا تو اس معاملہ میں لوگوں کے مختلف خیالات ہوں گے۔ کچھ لوگوں کی رائے تو وہی ہو گی جو تمہاری ہے اور کچھ لوگوں کی رائے تمہاری رائے کے خلاف ہو گی اور کچھ لوگوں کی رائے نہ اِدھر ہو گی نہ اُدھر۔ اتنا صبر کرو کہ لوگ سکون سے بیٹھ لیں اور دل اپنی جگہ پر ٹھہر جائیں اور آسانی سے حقوق حاصل کئے جا سکیں۔ تم میری طرف سے مطمئن رہو اور دیکھتے رہو کہ میرا فرمان تم تک کیا آتا ہے۔ کوئی ایسی حرکت نہ کرو جو طاقت کو متزلزل اور قوت کو پامال کر دے اور کمزوری و ذلت کا باعث بن جائے۔ میں اس جنگ کو جہاں تک رک سکے گی روکوں گا اور جب کوئی چارہ نہ پاؤں گا تو پھر آخری علاج داغنا تو ہے ہی۔

  167. خطبہ 167- جب اصحاب جمل بصرہ کی جانب روانہ ہوئے تو فرمایا

    167

    إِنَّ اللَّهَ [تَعَالَى] سُبْحَانَهُ أَنْزَلَ كِتَاباً هَادِياً بَيَّنَ فِيهِ الْخَيْرَ وَ الشَّرَّ فَخُذُوا نَهْجَ الْخَيْرِ تَهْتَدُوا وَ اصْدِفُوا عَنْ سَمْتِ الشَّرِّ تَقْصِدُوا الْفَرَائِضَ الْفَرَائِضَ أَدُّوهَا إِلَى اللَّهِ تُؤَدِّكُمْ إِلَى الْجَنَّةِ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ حَرَاماً غَيْرَ مَجْهُولٍ وَ أَحَلَّ حَلَالًا غَيْرَ مَدْخُولٍ وَ فَضَّلَ حُرْمَةَ الْمُسْلِمِ عَلَى الْحُرَمِ كُلِّهَا وَ شَدَّ بِالْإِخْلَاصِ وَ التَّوْحِيدِ حُقُوقَ الْمُسْلِمِينَ فِي مَعَاقِدِهَا فَالْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَ يَدِهِ إِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا يَحِلُّ أَذَى الْمُسْلِمِ إِلَّا بِمَا يَجِبُ بَادِرُوا أَمْرَ الْعَامَّةِ وَ خَاصَّةَ أَحَدِكُمْ وَ هُوَ الْمَوْتُ فَإِنَّ النَّاسَ أَمَامَكُمْ وَ إِنَّ السَّاعَةَ تَحْدُوكُمْ مِنْ خَلْفِكُمْ تَخَفَّفُوا تَلْحَقُوا فَإِنَّمَا يُنْتَظَرُ بِأَوَّلِكُمْ آخِرُكُمْ اتَّقُوا اللَّهَ فِي عِبَادِهِ وَ بِلَادِهِ فَإِنَّكُمْ مَسْئُولُونَ حَتَّى عَنِ الْبِقَاعِ وَ الْبَهَائِمِ وَ أَطِيعُوا اللَّهَ وَ لَا تَعْصُوهُ وَ إِذَا رَأَيْتُمُ الْخَيْرَ فَخُذُوا بِهِ وَ إِذَا رَأَيْتُمُ الشَّرَّ فَأَعْرِضُوا عَنْهُ

    جب جمل والوں نے بصرہ کا رخ کیا، تو آپؑ نے ارشاد فرمایا بے شک اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو ہادی بنا کر، بولنے والی کتاب اور برقرار رہنے والی شریعت کے ساتھ بھیجا۔ جسے تباہ و برباد ہونا ہے وہی اس کی مخالفت سے تباہ ہو گا اور (حق سے) مشابہہ ہو جانے والی بدعتیں ہی تباہ کیا کرتی ہیں، مگر وہ کہ جن میں (مبتلا ہونے) سے اللہ بچائے رکھے۔ بلاشبہ حجت خدا کی (اطاعت میں) تمہارے لئے سامانِ حفاظت ہے۔ لہٰذا تم اس کی ایسی اطاعت کرو کہ جو نہ لائق سرزنش ہو اور نہ بد دلی سے بجا لائی گئی ہو۔ خدا کی قسم! یا تو تمہیں (یہ اطاعت) کرنا ہو گی، یا اللہ اسلامی اقتدار تم سے منتقل کر دے گا اور پھر کبھی تمہاری طرف نہیں پلٹائے گا۔ یہاں تک کہ یہ اقتدار دوسروں کی طرف رخ موڑ لے گا۔ یہ لوگ جہاں تک میری خلافت سے نارضامندی کا تعلق ہے آپس میں متفق ہو چکے ہیں اور مجھے بھی جب تک تمہاری پراگندگی کا اندیشہ نہ ہو گا صبر کئے رہوں گا۔ اگر وہ اپنی رائے کی کمزوری کے باوجود اس میں کامیاب ہو گئے تو مسلمانوں کا (رشتہ) نظم و نسق ٹوٹ جائے گا۔ یہ اس شخص پر جسے اللہ نے امارت و خلافت دی ہے حسد کرتے ہوئے اس دنیا کے طلبگار بن گئے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ تمام امور (شریعت) کو پلٹا کر (دور جاہلیت) کی طرف لے جائیں۔ (اگر تم ثابت قدم رہے تو) تمہارا ہم پر یہ حق ہو گا کہ ہم تمہارے امور کے تصفیہ کیلئے کتاب خدا اور سیرت پیغمبرؐ پر عمل پیرا ہوں اور ان کے حق کو برپا اور ان کی سنت کو بلند کریں۔

  168. خطبہ 168- اہل بصرہ سے تحقیق حال کے لئے آنے والے شخص سے فرمایا

    168

    يَا إِخْوَتَاهْ إِنِّي لَسْتُ أَجْهَلُ مَا تَعْلَمُونَ وَ لَكِنْ كَيْفَ لِي بِقُوَّةٍ وَ الْقَوْمُ الْمُجْلِبُونَ عَلَى حَدِّ شَوْكَتِهِمْ يَمْلِكُونَنَا وَ لَا نَمْلِكُهُمْ وَ هَا هُمْ هَؤُلَاءِ قَدْ ثَارَتْ مَعَهُمْ عُبْدَانُكُمْ وَ الْتَفَّتْ إِلَيْهِمْ أَعْرَابُكُمْ وَ هُمْ خِلَالَكُمْ يَسُومُونَكُمْ مَا شَاءُوا وَ هَلْ تَرَوْنَ مَوْضِعاً لِقُدْرَةٍ عَلَى شَيْ‏ءٍ تُرِيدُونَهُ وَ إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ أَمْرُ جَاهِلِيَّةٍ وَ إِنَّ لِهَؤُلَاءِ الْقَوْمِ مَادَّةً إِنَّ النَّاسَ مِنْ هَذَا الْأَمْرِ- إِذَا حُرِّكَ- عَلَى أُمُورٍ فِرْقَةٌ تَرَى مَا تَرَوْنَ وَ فِرْقَةٌ تَرَى مَا لَا تَرَوْنَ وَ فِرْقَةٌ لَا تَرَى هَذَا وَ لَا هَذَا فَاصْبِرُوا حَتَّى يَهْدَأَ النَّاسُ وَ تَقَعَ الْقُلُوبُ مَوَاقِعَهَا وَ تُؤْخَذَ الْحُقُوقُ مُسْمَحَةً فَاهْدَءُوا عَنِّي وَ انْظُرُوا مَا ذَا يَأْتِيكُمْ بِهِ أَمْرِي وَ لَا تَفْعَلُوا فَعْلَةً تُضَعْضِعُ قُوَّةً وَ تُسْقِطُ مُنَّةً وَ تُورِثُ وَهْناً وَ ذِلَّةً وَ سَأُمْسِكُ الْأَمْرَ مَا اسْتَمْسَكَ وَ إِذَا لَمْ أَجِدْ بُدّاً فَآخِرُ الدَّوَاءِ الْكَيُّ

    جب امیرالمومنین علیہ السلام بصرہ کے قریب پہنچے تو وہاں کی ایک جماعت نے ایک شخص کو اس مقصد سے آپؑ کی خدمت میں بھیجا کہ وہ ان کیلئے اہلِ جمل کے متعلق حضرتؑ کے مؤقف کو دریافت کرے، تاکہ ان کے دلوں سے شکوک مٹ جائیں۔ چنانچہ حضرتؑ نے اس کے سامنے جمل والوں کے ساتھ اپنے رویہ کی وضاحت فرمائی جس سے اسے معلوم ہو گیا کہ حضرتؑ حق پر ہیں تو آپؑ نے اس سے فرمایا کہ: (جب حق تم پر واضح ہو گیا ہے تو اب) بیعت کرو۔ اس نے کہا کہ: میں ایک قوم کا قاصد ہوں اور جب تک ان کے پاس پلٹ کر نہ جاؤں کوئی نیا قدم نہیں اٹھا سکتا تو حضرتؑ نے فرمایا کہ: (دیکھو) اگر وہی لوگ جو تمہارے پیچھے ہیں اس مقصد سے تمہیں کہیں پیشرو بنا کر بھیجیں کہ تم ان کیلئے ایسی جگہ تلاش کرو، جہاں بارش ہوئی ہو اور تم (تلاش کے بعد) ان کے پاس پلٹ کر جاؤ اور انہیں خبر دو کہ سبزہ بھی ہے اور پانی بھی ہے اور وہ تمہاری مخالفت کرتے ہوئے خشک اور ویران جگہ کا رخ کریں تو تم اس موقعہ پر کیا کرو گے؟ اس نے کہا کہ میں ان کا ساتھ چھوڑ دوں گا اور ان کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گھاس اور پانی کی طرف چل دوں گا، تو حضرتؑ نے فرمایا کہ: (جب ایسا ہی کرنا ہے) تو پھر (بیعت کیلئے) ہاتھ بڑھاؤ۔ وہ شخص کہتا ہے کہ: خدا کی قسم! حجت کے قائم ہو جانے کے بعد میرے بس میں نہ تھا کہ میں بیعت سے انکار کر دیتا۔ چنانچہ میں نے بیعت کر لی۔ (یہ شخص کلیب جرمی کے نام سے موسوم ہے)۔

  169. خطبہ 169- صفین میں جب دشمن سے دوبدو ہوکر لڑنے کا ارادہ کیا تو فرمایا

    169

    إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى بَعَثَ رَسُولًا هَادِياً بِكِتَابٍ نَاطِقٍ وَ أَمْرٍ قَائِمٍ لَا يَهْلِكُ عَنْه‏ إِلَّا هَالِكٌ وَ إِنَّ الْمُبْتَدَعَاتِ الْمُشَبَّهَاتِ هُنَّ الْمُهْلِكَاتُ إِلَّا مَا حَفِظَ اللَّهُ مِنْهَا وَ إِنَّ فِي سُلْطَانِ اللَّهِ عِصْمَةً لِأَمْرِكُمْ فَاعْطوُهُ طَاعَتَكُمْ غَيْرَ مُلَوَّمَةٍ وَ لَا مُسْتَكْرَهٍ بِهَا وَ اللَّهِ لَتَفْعَلُنَّ أَوْ لَيَنْقُلَنَّ اللَّهُ عَنْكُمْ سُلْطَانَ الْإِسْلَامِ ثُمَّ لَا يَنْقُلُهُ إِلَيْكُمْ أَبَداً حَتَّى يَأْرِزَ الْأَمْرُ إِلَى غَيْرِكُمْ إِنَّ هَؤُلَاءِ قَدْ تَمَالَئُوا عَلَى سَخْطَةِ إِمَارَتِي وَ سَأَصْبِرُ مَا لَمْ أَخَفْ عَلَى جَمَاعَتِكُمْ فَإِنَّهُمْ إِنْ تَمَّمُوا عَلَى فَيَالَةِ هَذَا الرَّأْيِ انْقَطَعَ نِظَامُ الْمُسْلِمِينَ وَ إِنَّمَا طَلَبُوا هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَداً لِمَنْ أَفَاءَهَا اللَّهُ عَلَيْهِ فَأَرَادُوا رَدَّ الْأُمُورِ عَلَى أَدْبَارِهَا وَ لَكُمْ عَلَيْنَا الْعَمَلُ بِكِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى وَ سِيرَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه واله وَ الْقِيَامُ بِحَقِّهِ وَ النَّعْشُ لِسُنَّتِهِ

    جب صفین میں دشمن سے دو بدو ہو کر لڑنے کا ارادہ کیا تو فرمایا اے اللہ! اے اس بلند آسمان اور تھمی ہوئی فضا کے پروردگار! جسے تو نے شب و روز کے سر چھپانے، چاند اور سورج کے گردش کرنے اور چلنے پھرنے والے ستاروں کی آمد و رفت کی جگہ بنایا ہے اور جس میں بسنے والا فرشتوں کا وہ گروہ بنایا ہے جو تیری عبادت سے اُکتاتا نہیں۔ اے اس زمین کے پروردگار! جسے تو نے انسانوں کی قیام گاہ اور حشرات الارض اور چوپاؤں اور لاتعداد دیکھی اور اَن دیکھی مخلوق کے چلنے پھرنے کا مقام قرار دیا ہے۔ اے مضبوط پہاڑوں کے پروردگار! جنہیں تو نے زمین کیلئے میخ اور مخلوقات کیلئے (زندگی کا) سہارا بنایا ہے۔ (اے اللہ!) اگر تو نے ہمیں دشمنوں پر غلبہ دیا تو ظلم سے ہمارا دامن بچانا اور حق کے سیدھے راستے پر برقرار رکھنا اور اگر دشمنوں کو ہم پر غلبہ دیا تو ہمیں شہادت نصیب کرنا اور فریبِ حیات سے بچائے رکھنا۔ کہاں ہیں عزت و آبرو کے پاسبان؟ اور کہاں ہیں مصیبتوں کے نازل ہونے کے وقت ننگ و نام کی حفاظت کرنے والے با غیرت؟ (اگر بھاگے تو) ننگ و عار تمہارے عقب میں ہے اور (اگر جمے رہے تو) جنت تمہارے سامنے ہے۔

  170. خطبہ 170- جب آپؑ پر حرص کا الزام رکھا گیا تو اس کی رد میں فرمایا

    170

    أَ رَأَيْتَ لَوْ أَنَّ الَّذِينَ وَرَاءَكَ بَعَثُوكَ رَائِداً تَبْتَغِي لَهُمْ مَسَاقِطَ الْغَيْثِ فَرَجَعْتَ إِلَيْهِمْ وَ أَخْبَرْتَهُمْ عَنِ الْكَلَأِ وَ الْمَاءِ فَخَالَفُوا إِلَى الْمَعَاطِشِ وَ الْمَجَادِبِ مَا كُنْتَ صَانِعاً قَالَ كُنْتُ تَارِكَهُمْ وَ مُخَالِفَهُمْ إِلَى الْكَلَأِ وَ الْمَاءِ فَقَالَ عليه السلام فَامْدُدْ إِذاً يَدَكَ فَقَالَ الرَّجُلُ فَوَاللَّهِ مَا اسْتَطَعْتُ أَنْ أَمْتَنِعَ عِنْدَ قِيَامِ الْحُجَّةِ عَلَيَّ فَبَايَعْتُهُ عليه السلام وَ الرَّجُلُ يُعْرَفُ بِكُلَيْبِ الْجَرْمِيِّ

    تمام حمد اس اللہ کیلئے ہے جس سے ایک آسمان دوسرے آسمان کو اور ایک زمین دوسری زمین کو نہیں چھپاتی۔ [اسی خطبہ کے ذیل میں فرمایا] مجھ سے ایک کہنے والے [۱] نے کہا کہ: اے ابن ابی طالبؑ! آپؑ تو اس خلافت پر للچائے ہوئے ہیں تو میں نے کہا کہ: خدا کی قسم! تم اس پر کہیں زیادہ حریص اور (اس منصب کی اہلیت سے) دور ہو اور میں اس کا اہل اور (پیغمبر ﷺ سے) نزدیک تر ہوں۔ میں نے تو اپنا حق طلب کیا ہے اور تم میرے اور میرے حق کے درمیان حائل ہو جاتے ہو اور جب اسے حاصل کرنا چاہتا ہوں تو تم میرا رخ موڑ دیتے ہو۔ چنانچہ جب بھری محفل میں مَیں نے اس دلیل سے اس (کے کان کے پردوں) کو کھٹکھٹایا تو چوکنا ہوا اور اس طرح مبہوت ہو کر رہ گیا کہ اسے کوئی جواب نہ سوجھتا تھا۔ خدایا! میں قریش اور ان کے مدد گاروں کے خلاف تجھ سے مدد چاہتا ہوں۔ کیونکہ انہوں نے قطع رحمی کی اور میرے مرتبہ کی بلندی کو پست سمجھا اور اس (خلافت) پر کہ جو میرے لئے مخصوص تھی ٹکرانے کیلئے ایکا کر لیا ہے۔ پھر کہتے یہ ہیں کہ حق تو یہی ہے کہ آپؑ اسے لیں اور یہ بھی حق ہے کہ آپؑ اس سے دستبردار ہو جائیں۔ [۲] [اس خطبہ کا یہ جز اصحاب جمل کے متعلق ہے] وہ لوگ (مکہ سے) بصرہ کا رخ کئے ہوئے اس طرح نکلے کہ رسول اللہ ﷺ کی حُرمت و ناموس کو یوں کھینچے پھرتے تھے جس طرح کسی کنیز کو فروخت کیلئے (شہر بشہر) پھرایا جاتا ہے۔ ان دونوں نے اپنی بیویوں کو تو گھروں میں روک رکھا تھا اور رسول اللہ ﷺ کی بیوی کو اپنے اور دوسروں کے سامنے کھلے بندوں لے آئے تھے۔ ایک ایسے لشکر میں کہ جس کا ایک ایک فرد میری اطاعت تسلیم کئے ہوئے تھا اور برضا و رغبت میری بیعت کر چکا تھا۔ یہ لوگ بصرہ میں میرے (مقررہ کردہ) عامل اور مسلمانوں کے بیت المال کے خزینہ داروں اور وہاں کے دوسرے باشندوں تک پہنچ گئے اور کچھ لوگوں کو قید کے اندر مار مار کے اور کچھ لوگوں کو حیلہ و مکر سے شہید کیا۔ خدا کی قسم! اگر وہ مسلمانوں میں سے صرف ایک ناکردہ گناہ مسلمان کو عمداً قتل کرتے تو بھی میرے لئے جائز ہوتا کہ میں اس تمام لشکر کو قتل کر دوں، کیونکہ وہ موجود تھے اور انہوں نے نہ تو اسے بُرا سمجھا اور نہ زبان اور ہاتھ سے اس کی روک تھام کی، چہ جائیکہ انہوں نے مسلمانوں کے اتنے آدمی قتل کر دیے جتنی تعداد خود ان کے لشکر کی تھی جسے لے کر ان پر چڑھ دوڑے تھے۔

  171. خطبہ 171- خلافت کا مستحق کون ہے اور ظاہری مسلمانوں سے جنگ کرنا

    171

    الدعاء اللَّهُمَّ رَبَّ السَّقْفِ الْمَرْفُوعِ وَ الْجَوِّ الْمَكْفُوفِ الَّذِي جَعَلْتَهُ مَغِيضاً لِلَّيْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَجْرًى لِلشَّمْسِ وَ الْقَمَرِ وَ مُخْتَلَفاً لِلنُّجُومِ السَّيَّارَةِ وَ جَعَلْتَ سُكَّانَهُ سِبْطاً مِنْ مَلَائِكَتِكَ لَا يَسْأَمُونَ مِنْ عِبَادَتِكَ وَ رَبَّ هَذِهِ الْأَرْضِ الَّتِي جَعَلْتَهَا قَرَاراً لِلْأَنَامِ وَ مَدْرَجاً لِلْهَوَامِّ وَ الْأَنْعَامِ وَ مَا لَا يُحْصَى مِمَّا يُرَى وَ مَا لَا يُرَى وَ رَبَّ الْجِبَالِ الرَّوَاسِي الَّتِي جَعَلْتَهَا لِلْأَرْضِ أَوْتَاداً وَ لِلْخَلْقِ اعْتِمَاداً إِنْ أَظْهَرْتَنَا عَلَى عَدُوِّنَا فَجَنِّبْنَا الْبَغْيَ وَ سَدِّدْنَا لِلْحَقِّ وَ إِنْ أَظْهَرْتَهُمْ عَلَيْنَا فَارْزُقْنَا الشَّهَادَةَ وَ اعْصِمْنَا مِنَ الْفِتْنَةِ الدعوة للقتال أَيْنَ الْمَانِعُ لِلذِّمَارِ وَ الْغَائِرُ عِنْدَ نُزُولِ الْحَقَائِقِ مِنْ أَهْلِ الْحِفَاظِ الْعَارُ وَرَاءَكُمْ وَ الْجَنَّةُ أَمَامَكُمْ

    وہ اللہ کی وحی کے امانتدار، اس کے رسولوں کی آخری فرد، اس کی رحمت کا مژدہ سنا نے والے اور اس کے عذاب سے ڈرانے والے تھے۔ اے لوگو! تمام لوگوں میں اس خلافت کا اہل وہ ہے جو اس (کے نظم و نسق کے برقرار رکھنے) کی سب سے زیادہ قوت (و صلاحیت) رکھتا ہو اور اس کے بارے میں اللہ کے احکام کو سب سے زائد جانتا ہو۔ اس صورت میں اگر کوئی فتنہ پرداز فتنہ کھڑا کرے تو (پہلے) اسے توبہ و بازگشت کیلئے کہا جائے گا۔ اگر وہ انکار کرے تو اس سے جنگ و جدال کیا جائے گا۔ اپنی جان کی قسم! [۱] اگر خلافت کا انعقاد تمام افراد اُمت کے ایک جگہ اکٹھا ہونے سے ہو تو اس کی کوئی سبیل ہی نہیں، بلکہ (اس کی صورت تو انہوں نے یہ رکھی تھی کہ) اس کے کرتا دھرتا لوگ اپنے فیصلہ کا ان لوگوں کو بھی پابند بنائیں گے جو (بیعت کے وقت) موجود نہ ہوں گے، پھر موجود کو یہ اختیار نہ ہو گا کہ وہ (بیعت سے) انحراف کرے اور نہ غیر موجود کو یہ حق ہو گا کہ وہ کسی اور کو منتخب کرے۔ دیکھو! میں دو شخصوں سے ضرور جنگ کروں گا: ایک وہ جو ایسی چیز کا دعویٰ کرے جو اس کی نہ ہو اور دوسرا وہ جو اپنے معاہدہ کا پابند نہ رہے۔ اے اللہ کے بندو! میں تمہیں تقویٰ و پرہیز گاری کی ہدایت کرتا ہوں۔ کیونکہ بندے جن چیزوں کی ایک دوسرے کو ہدایت کرتے ہیں ان میں تقویٰ سب سے بہتر اور اللہ کے نزدیک تمام چیزوں کے نتائج سے بہتر و برتر ہے۔ تمہارے اور دوسرے اہل قبلہ کے درمیان جنگ کا دروازہ کھل گیا ہے اور اس (جنگ) کے جھنڈے کو وہی اٹھائے گاجو نظر رکھنے والا، (مصیبتوں پر) صبر کرنے والا اور حق کے مقامات کو پہچاننے والا ہو۔ تمہیں جو حکم دیا جائے اس پر عمل کرو اور جس چیز سے روکا جائے اس سے باز رہو اور کسی بات میں جلدی نہ کرو جب تک اسے خوب سوچ سمجھ نہ لو۔ ہمیں ان امور میں کہ جن پر تم ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہو، غیر معمولی انقلابات کا اندیشہ رہتا ہے۔ دیکھو! یہ دنیا جس کی تم تمنا کرتے ہو اور جس کی جانب خواہش و رغبت سے بڑھتے ہو، جو کبھی تم کو غصہ دلاتی ہے اور کبھی تمہیں خوش کر دیتی ہے، تمہارا (اصلی) گھر نہیں ہے اور نہ وہ منزل ہے جس کیلئے تم پیدا کئے گئے ہو اور نہ وہ جگہ ہے جس کی طرف تمہیں دعوت دی گئی ہے۔ دیکھو! یہ تمہارے لئے باقی رہنے والی نہیں اور نہ تم اس میں ہمیشہ رہنے والے ہو۔ اگر اس نے تمہیں (اپنی آرائشوں سے) فریب دیا ہے تو اپنی بُرائیوں سے خوف بھی دلایا ہے۔ لہٰذا تم اس کے ڈرانے سے متاثر ہو کر اس سے فریب نہ کھاؤ اور اس کے خوفزدہ کرنے کی بنا پر اس کے طمع دلانے میں نہ آؤ۔ اس گھر کی طرف بڑھو جس کی تمہیں دعوت دی گئی ہے اور اس دنیا سے اپنے دلوں کو موڑ لو۔ تم میں سے کوئی شخص دنیا کی کسی چیز کے روک لئے جانے پر لونڈیوں کی طرح رونے نہ بیٹھ جائے۔ا طاعت خدا پر صبر کر کے اور جن چیزوں کی اس نے اپنی کتاب میں تم سے حفاظت چاہی ہے ان کی حفاظت کر کے اس سے نعمتوں کی تکمیل چاہو۔ دیکھو! اگر تم نے دین کے اصول محفوظ رکھے تو پھر دنیا کی کسی چیز کو کھو دینا تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا اور دین کو ضائع و برباد کرنے کے بعد تمہیں دنیا کی کوئی ایسی چیز نفع نہ پہنچائے گی جسے تم نے محفوظ کر لیا ہو۔ خداوند عالم ہمارے اور تمہارے دلوں کو حق کی طرف متوجہ کرے اور ہمیں اور تمہیں صبر کی توفیق عطا فرمائے۔

  172. خطبہ 172- طلحہ بن عبیداللہ کے بارے میں فرمایا

    172

    الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَا تُوَارِي عَنْهُ سَمَاءٌ سَمَاءً وَ لَا أَرْضٌ أَرْضاً منها: في يوم الشورى وَ قَدْ قَالَ لِي قَائِلٌ إِنَّكَ عَلَى هَذَا الْأَمْرِ يَا ابْنَ أَبِيطَالِبٍ لَحَرِيصٌ فَقُلْتُ بَلْ أَنْتُمْ وَ اللَّهِ لَأَحْرَصُ وَ أَبْعَدُ وَ أَنَا أَخَصُّ وَ أَقْرَبُ وَ إِنَّمَا طَلَبْتُ حَقّاً لِي وَ أَنْتُمْ تَحُولُونَ بَيْنِي وَ بَيْنَهُ وَ تَضْرِبُونَ وَجْهِي دُونَهُ فَلَمَّا قَرَعْتُهُ بِالْحُجَّةِ فِي الْمَلَإِ الْحَاضِرِينَ هَبَّ کَاَنَّهُ بُهِتَ لَا يَدْرِي مَا يُجِيبُنِي بِهِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَعْدِيكَ عَلَى قُرَيْشٍ وَ مَنْ أَعَانَهُمْ فَإِنَّهُمْ قَطَعُوا رَحِمِي وَ صَغَّرُوا عَظِيمَ مَنْزِلَتِيَ وَ أَجْمَعُوا عَلَى مُنَازَعَتِي أَمْراً هُوَ لِي ثُمَّ قَالُوا أَلَا إِنَّ فِي الْحَقِّ أَنْ تَأْخُذَهُ وَ فِي الْحَقِّ أَنْ تَتْرُكَهُ منها في ذكر أصحاب الجمل فَخَرَجُوا يَجُرُّونَ حُرْمَةَ رَسُولِ اللَّهِ- صلى الله عليه واله كَمَا تُجَرُّ الْأَمَةُ عِنْدَ شِرَائِهَا مُتَوَجِّهِينَ بِهَا إِلَى الْبَصْرَةِ فَحَبَسَا نِسَاءَهُمَا فِي بُيُوتِهِمَا وَ أَبْرَزَا حَبِيسَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه واله لَهُمَا وَ لِغَيْرِهِمَا فِي جَيْشٍ مَا مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا وَ قَدْ أَعْطَانِي الطَّاعَةَ وَ سَمَحَ لِي بِالْبَيْعَةِ طَائِعاً غَيْرَ مُكْرَهٍ فَقَدِمُوا عَلَى عَامِلِي بِهَا وَ خُزَّانِ بَيْتِ مَالِ الْمُسْلِمِينَ وَ غَيْرِهِمْ مِنْ أَهْلِهَا فَقَتَلُوا طَائِفَةً صَبْراً وَ طَائِفَةً غَدْراً فَوَاللَّهِ لَوْ لَمْ يُصِيبُوا مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا رَجُلًا وَاحِداً مُعْتَمِدِينَ لِقَتْلِهِ بِلَا جُرْمٍ جَرَّهُ لَحَلَّ لِي قَتْلُ ذَلِكَ الْجَيْشِ كُلِّهِ إِذْ حَضَرُوهُ فَلَمْ يُنْكِرُوا وَ لَمْ يَدْفَعُوا عَنْهُ بِلِسَانٍ وَ لَا يَدٍ دَعْ مَا أَنَّهُمْ قَدْ قَتَلُوا مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِثْلَ الْعِدَّةِ الَّتِي دَخَلُوا بِهَا عَلَيْهِمْ

    طلحہ ابن عبید اللہ کے بارے میں فرمایا مجھے تو کبھی بھی حرب و ضرب سے دھمکایا اور ڈرایا نہیں جا سکا ہے۔ میں اپنے پروردگار کے کئے ہوئے وعدهٔ نصرت پر مطمئن ہوں۔ خدا کی قسم! وہ خون عثمان کا بدلہ لینے کیلئے کھنچی ہوئی تلوار کی طرح اس لئے اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ اسے یہ ڈر ہے کہ کہیں اسی سے ان کے خون کا مطالبہ نہ ہونے لگے۔ کیونکہ (لوگوں کا) ظن غالب اس کے متعلق یہی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ (قتل کرنیوالی) جماعت میں اس سے بڑھ کر ان کے خون کا پیاسا ایک بھی نہ تھا۔ چنانچہ اس نے خون کا عوض لینے کے سلسلے میں جو فوجیں فراہم کی ہیں اس سے یہ چاہا ہے کہ لوگوں کو مغالطہ دے تاکہ حقیقت مشتبہ ہو جائے اور اس میں شک پڑ جائے۔ خدا کی قسم! اس نے عثمان کے معاملہ میں ان تین باتوں میں سے ایک بات پر بھی تو عمل نہیں کیا: اگر ابن عفان جیسا کہ اس کا خیال تھا ظالم تھے [۱] تو (اس صورت میں) اسے چاہیے تھا کہ ان کے قاتلوں کی مدد کرتا یا ان کے مددگاروں سے علیحدگی اختیار کر لیتا اور اگر وہ مظلوم تھے تو اس صورت میں اس کیلئے مناسب تھا کہ ان کے قتل سے روکنے والوں اور ان کی طرف سے عذر و معذرت کرنے والوں میں ہوتا اور اگر ان دونوں باتوں میں اسے شبہ تھا تو اس صورت میں اسے یہ چاہیے تھا کہ ان سے کنارہ کش ہو کر ایک گوشہ میں بیٹھ جاتا اور انہیں لوگوں کے ہاتھوں میں چھوڑ دیتا (کہ وہ جانیں اور ان کا کام)۔ لیکن اس نے ان باتوں میں سے ایک پر بھی عمل نہ کیا اور ایک ایسی بات کو لے کر سامنے آ گیا ہے کہ جس کی صحت کی کوئی صورت ہی نہیں اور نہ اس کا کوئی عذر درست ہے۔

  173. خطبہ 173- غفلت کرنے والوں کو تنبیہ اور آپؑ کے علم کی ہمہ گیری

    173

    أَمِينُ وَحْيِهِ وَ خَاتَمُ رُسُلِهِ وَ بَشِيرُ رَحْمَتِهِ وَ نَذِيرُ نِقْمَتِهِ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ أَحَقَّ النَّاسِ بِهَذَا الْأَمْرِ أَقْوَاهُمْ عَلَيْهِ وَ أَعْلَمُهُمْ بِأَمْرِ اللَّهِ فِيهِ فَإِنْ شَغَبَ شَاغِبٌ اسْتُعْتِبَ فَإِنْ أَبَى قُوتِلَ وَ لَعَمْرِي لَئِنْ كَانَتِ الْإِمَامَةُ لَا تَنْعَقِدُ حَتَّى تَحْضُرَهَا عَامَّةُ النَّاسِ فَمَا إِلَى ذَلِكَ سَبِيلٌ وَ لَكِنْ أَهْلُهَا يَحْكُمُونَ عَلَى مَنْ غَابَ عَنْهَا ثُمَّ لَيْسَ لِلشَّاهِدِ أَنْ يَرْجِعَ وَ لَا لِلْغَائِبِ أَنْ يَخْتَارَ أَلَا وَ إِنِّي أُقَاتِلُ رَجُلَيْنِ رَجُلًا ادَّعَى مَا لَيْسَ لَهُ وَ آخَرَ مَنَعَ الَّذِي عَلَيْهِ‏ أُوصِيكُمْ عِبَادَ اللَّهِ بِتَقْوَى اللَّهِ فَإِنَّهَا خَيْرُ مَا تَوَاصَى الْعِبَادُ بِهِ وَ خَيْرُ عَوَاقِبِ الْأُمُورِ عِنْدَ اللَّهِ وَ قَدْ فُتِحَ بَابُ الْحَرْبِ بَيْنَكُمْ وَ بَيْنَ أَهْلِ الْقِبْلَةِ وَ لَا يَحْمِلُ هَذَا الْعَلَمَ إِلَّا أَهْلُ الْبَصَرِ وَ الصَّبْرِ وَ الْعِلْمِ بِمَوَاضِعِ الْحَقِّ فَامْضُوا لِمَا تُؤْمَرُونَ بِهِ وَ قِفُوا عِنْدَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ وَ لَا تَعْجَلُوا فِي أَمْرٍ حَتَّى تَتَبَيَّنُوا فَإِنَّ لَنَا مَعَ كُلِّ أَمْرٍ تُنْكِرُونَهُ غِيَراً هوان الدنيا أَلَا وَ إِنَّ هَذِهِ الدُّنْيَا الَّتِي أَصْبَحْتُمْ تَتَمَنَّوْنَهَا وَ تَرْغَبُونَ فِيهَا وَ أَصْبَحَتْ تُغْضِبُكُمْ وَ تُرْضِيكُمْ لَيْسَتْ بِدَارِكُمْ وَ لَا مَنْزِلِكُمُ الَّذِي خُلِقْتُمْ لَهُ وَ لَا الَّذِي دُعِيتُمْ إِلَيْهِ أَلَا وَ إِنَّهَا لَيْسَتْ بِبَاقِيَةٍ لَكُمْ وَ لَا تَبْقَوْنَ عَلَيْهَا وَ هِيَ وَ إِنْ غَرَّتْكُمْ مِنْهَا فَقَدْ حَذَّرَتْكُمْ شَرَّهَا فَدَعَوْا غُرُورَهَا لِتَحْذِيرِهَا وَ أَطْمَاعَهَا لِتَخْوِيفِهَا وَ سَابِقُوا فِيهَا إِلَى الدَّارِ الَّتِي دُعِيتُمْ إِلَيْهَا وَ انْصَرِفُوا بِقُلُوبِكُمْ عَنْهَا وَ لَا يَخِنَّنَّ أَحَدُكُمْ خَنِينَ الْأَمَةِ عَلَى مَا زُوِيَ عَنْهُ مِنْهَا وَ اسْتَتِمُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ بِالصَّبْرِ عَلَى طَاعَةِ اللَّهِ وَ الْمُحَافَظَةِ عَلَى مَا اسْتَحْفَظَكُمْ مِنْ كِتَابِهِ أَلَا وَ إِنَّهُ لَا يَضُرُّكُمْ تَضْيِيعُ شَيْ‏ءٍ مِنْ دُنْيَاكُمْ بَعْدَ حِفْظِكُمْ قَائِمَةَ دِينِكُمْ أَلَا وَ إِنَّهُ لَا يَنْفَعُكُمْ بَعْدَ تَضْيِيعِ دِينِكُمْ شَيْ‏ءٌ حَافَظْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَمْرِ دُنْيَاكُمْ أَخَذَ اللَّهُ بِقُلُوبِنَا وَ قُلُوبِكُمْ إِلَى الْحَقِّ وَ أَلْهَمَنَا وَ إِيَّاكُمُ الصَّبْرَ

    اے غافلو! کہ جن کی طرف سے غفلت نہیں برتی جا رہی اور اے چھوڑ دینے والو! کہ جن کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ تعجب ہے کہ میں تمہیں اس حالت میں دیکھتا ہوں کہ تم اللہ سے دور ہٹتے جا رہے ہو اور دوسروں کی طرف شوق سے بڑھ رہے ہو۔ گویا تم وہ اونٹ ہو جن کا چرواہا انہیں ایک ہلاک کرنے والی چراگاہ اور تباہ کرنے والے گھاٹ پر لایا ہو۔ یہ ان چوپاؤں کی مانند ہیں جنہیں چھریوں سے ذبح کرنے کیلئے چارہ دیا جا رہا ہو اور انہیں یہ معلوم نہ ہو کہ جب ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جا تا ہے تو ان سے مقصود کیا ہے۔ یہ تو اپنے دن کو اپنا پورا زمانہ خیال کرتے ہیں اور پیٹ بھر کر کھا لینا ہی اپنا کام سمجھتے ہیں۔ خدا کی قسم! اگر میں بتانا چاہوں تو تم میں سے ہر شخص کو بتا سکتا ہوں کہ وہ کہاں سے آیا ہے اور اسے کہاں جانا ہے اور اس کے پورے حالات کیا ہیں۔ لیکن مجھے یہ اندیشہ ہے کہ تم مجھ میں (کھو کر)پیغمبر ﷺ سے کفر اختیار کر لو گے۔ البتہ میں اپنے مخصوص دوستوں تک یہ چیزیں ضرور پہنچاؤں گا کہ جن کے بھٹک جانے کا اندیشہ نہیں۔ اس ذات کی قسم جس نے پیغمبر ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا اور ساری مخلوقات میں سے ان کو منتخب فرمایا! میں جو کہتا ہوں سچ کہتا ہوں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے ان تمام چیزوں اور ہلاک ہونے والوں کی ہلاکت اور نجات پانے والوں کی نجات اور اس امر (خلافت) کے انجام کی خبر دی ہے اور ہر وہ چیز جو میرے سر پر گزرے گی اسے میرے کانوں میں ڈالے اور مجھ تک پہنچائے بغیر نہیں چھوڑا۔ [۱] اے لوگو! قسم بخدا! میں تمہیں کسی اطاعت پر آمادہ نہیں کرتا مگر یہ کہ تم سے پہلے اس کی طرف بڑھتا ہوں اور کسی گناہ سے تمہیں نہیں روکتا مگر یہ کہ تم سے پہلے خود اس سے باز رہتا ہوں۔

  174. خطبہ 174- پند دو موعظت، قرآن کی عظمت اور ظلم کی اقسام

    174

    قَدْ كُنْتُ وَ مَا أُهَدَّدُ بِالْحَرْبِ وَ لَا أُرَهَّبُ بِالضَّرْبِ وَ أَنَا عَلَى مَا قَدْ وَعَدَنِي رَبِّي مِنَ النَّصْرِ وَ اللَّهِ مَا اسْتَعْجَلَ مُتَجَرِّداً لِلطَّلَبِ بِدَمِ عُثْمَانَ إِلَّا خَوْفاً مِنْ أَنْ يُطَالَبَ بِدَمِهِ لِأَنَّهُ مَظِنَّتُهُ وَ لَمْ يَكُنْ فِي الْقَوْمِ أَحْرَصُ عَلَيْهِ مِنْهُ فَأَرَادَ أَنْ يُغَالِطَ بِمَا أَجْلَبَ فِيهِ لِيَلْتَبِسَ الْأَمْر وَ يَقَعَ الشَّكُّ ُ وَ وَ اللَّهِ مَا صَنَعَ فِي أَمْرِ عُثْمَانَ وَاحِدَةً مِنْ ثَلَاثٍ لَئِنْ كَانَ ابْنُ عَفَّانَ ظَالِماً كَمَا كَانَ يَزْعُمُ لَقَدْ كَانَ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يُوَازِرَ قَاتِلِيهِ أَوْ يُنَابِذَ نَاصِرِيهِ وَ لَئِنْ كَانَ مَظْلُوماً لَقَدْ كَانَ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَكُونَ مِنَ الْمُنَهْنِهِينَ عَنْهُ وَ الْمُعْذِرِينَ فِيهِ وَ لَئِنْ كَانَ فِي شَكٍّ مِنَ الْخَصْلَتَيْنِ لَقَدْ كَانَ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَعْتَزِلَهُ وَ يَرْكُدَ جَانِباً وَ يَدَعَ النَّاسَ مَعَهُ فَمَا فَعَلَ وَاحِدَةً مِنَ الثَّلَاثِ وَ جَاءَ بِأَمْرٍ لَمْ يُعْرَفْ بَابُهُ وَ لَمْ تَسْلَمْ مَعَاذِيرُهُ

    خداوند عالم کے ارشادات سے فائدہ اٹھاؤ اور اس کے موعظوں سے نصیحت حاصل کرو اور اس کی نصیحتوں کو مانو، کیونکہ اس نے واضح دلیلوں سے تمہارے لئے کسی عذر کی گنجائش نہیں رکھی اور تم پر (پوری طرح) حجت کو تمام کردیا ہے اور اپنے پسندیدہ و ناپسند اعمال تم سے بیان کر دیئے ہیں تاکہ اچھے اعمال بجا لاؤ اور برے کاموں سے بچو۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ: «جنت ناگواریوں میں گھری ہوئی ہے اور دوزخ خواہشوں میں گھرا ہوا ہے»۔ یاد رکھو کہ اللہ کی ہر اطاعت ناگوار صورت میں اور اس کی ہر معصیت عین خواہش بن کر سامنے آتی ہے۔ خدا اس شخص پر رحمت کرے جس نے خواہشوں سے دوری اختیار کی اور اپنے نفس کے ہوا و ہوس کو جڑ بنیاد سے اکھیڑ دیا، کیونکہ نفس خواہشوں میں لا محدود درجہ تک بڑھنے والا ہے اور وہ ہمیشہ خواہش و آرزوئے گناہ کی طرف مائل ہوتا ہے۔ اللہ کے بند و! تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ مومن (زندگی کے) صبح وشام میں اپنے نفس سے بد گمان رہتا ہے اور اس پر (کوتاہیوں کا) الزام لگاتا ہے اور اس سے (عبادتوں میں) اضافہ کا خواہشمند رہتا ہے۔ تم ان لوگوں کی طرح بنو کہ جو تم سے پہلے آگے بڑھ چکے ہیں اور تمہارے قبل اس راہ سے گزر چکے ہیں۔ انہوں نے دنیا سے یوں اپنا رخت ِسفر باندھا جس طرح مسافر اپنا ڈیرا اٹھا لیتا ہے اور دنیا کو اس طرح طے کیا جس طرح (سفر کی ) منزلوں کو۔ یاد رکھو کہ یہ قرآن ایسا نصیحت کرنے والا ہے جو فریب نہیں دیتا اور ایسا ہدایت کرنے والا ہے جو گمراہ نہیں کرتا اور ایسا بیان کرنے والا ہے جو جھوٹ نہیں بولتا۔ جو بھی اس قرآن کا ہم نشین ہوا وہ ہدایت کو بڑھا کر اور گمراہی و ضلالت کو گھٹا کر اس سے الگ ہوا۔ جان لو کہ کسی کو قرآن (کی تعلیمات) کے بعد (کسی اور لائحہ عمل کی) احتیاج نہیں رہتی اور نہ کوئی قرآن سے (کچھ سیکھنے) سے پہلے اس سے بے نیاز ہو سکتا ہے۔ اس سے اپنی بیماریوں کی شفا چاہو اور اپنی مصیبتوں پر اس سے مدد مانگو۔ اس میں کفر و نفاق اور ہلاکت و گمراہی جیسی بڑی بڑی مرضوں کی شفا پائی جاتی ہے۔ اس کے وسیلہ سے اللہ سے مانگو اور اس کی دوستی کو لئے ہوئے اس کا رخ کرو اور اسے لوگوں سے مانگنے کا ذریعہ نہ بناؤ۔ یقیناً بندوں کیلئے اللہ کی طرف متوجہ ہونے کا اس جیسا کوئی ذریعہ نہیں۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ قرآن ایسا شفاعت کرنے والا ہے جس کی شفاعت مقبول اور ایسا کلام کرنے والا ہے (جس کی ہر بات) تصدیق شدہ ہے۔ قیامت کے دن جس کی یہ شفاعت کرے گا وہ اس کے حق میں مانی جائے گی او راس روز جس کے عیوب بتائے گا تو اس کے بارے میں بھی اس کے قول کی تصدیق کی جائے گی۔ قیامت کے دن ایک ندا دینے والا پکار کر کہے گا کہ: دیکھو! قرآن کی کھیتی بو نے والوں کے علاوہ ہر بونے والا اپنی کھیتی اور اپنے اعمال کے نتیجہ میں مبتلا ہے،لہٰذا تم قرآن کی کھیتی بونے والے اور اس کے پیروکار بنو اور اپنے پروردگار تک پہنچنے کیلئے اسے دلیل راہ بناؤ اور اپنے نفسوں کیلئے اس سے پند و نصیحت چاہو اور اس کے خلاف اپنی رایوں پر بھروسا نہ کرو اور اس کے مقابلہ میں اپنی خواہشوں کو غلط و فریب خوردہ سمجھو۔ عمل کر و،عمل کرو اور عاقبت و انجام کو دیکھو، استوار و برقرار رہو، پھر یہ کہ صبر کرو، صبر کرو، تقویٰ و پرہیز گاری اختیار کرو۔ تمہارے لئے ایک منزل منتہا ہے اپنے کو وہاں تک پہنچاؤ اور تمہارے لئے ایک نشان ہے اس سے ہدایت حاصل کر و۔ اسلام کی ایک حد ہے، تم اس حد و انتہا تک پہنچو۔ اللہ نے جن حقوق کی ادائیگی کو تم پر فرض کیا ہے اور جن فرائض کو تم سے بیان کیا ہے انہیں ادا کر کے اس سے عہدہ برآ ہو جاؤ۔ میں تمہارے اعمال کا گواہ اور قیامت کے دن تمہاری طرف سے حجت پیش کر نے والا ہوں۔ دیکھو! جو کچھ ہونا تھا وہ ہو چکا اور جو فیصلہ خداوندی تھا وہ سامنے آ گیا۔ میں الٰہی وعدہ و برہان کی رو سے کلام کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: ’’بے شک وہ لوگ جنہوں نے یہ کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے اور پھر وہ اس (عقیدہ) پر جمے رہے، ان پر فرشتے اترتے ہیں اور (یہ کہتے ہیں) کہ تم خوف نہ کھاؤ اور غمگین نہ ہو۔ تمہیں اس جنت کی بشارت ہو جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے‘‘۔ اب تمہارا قول تو یہ ہے کہ: ’’ہمارا پروردگار اللہ ہے‘‘ تو اب اس کی کتاب اور اس کی شریعت کی راہ اور اس کی عبادت کے نیک طریقہ پر جمے رہو اور پھر اس سے نکل نہ بھاگو اور نہ اس میں بدعتیں پیدا کر و اور نہ اس کے خلاف چلو۔ اس لئے کہ اس راہ سے نکل بھاگنے والے قیامت کے دن اللہ (کی رحمت) سے جدا ہونے والے ہیں۔ پھر یہ کہ تم اپنے اخلاق و اطوار کو پلٹنے اور انہیں ادلنے بدلنے سے پرہیز کرو۔ دو رخی اور متلون مزاجی سے بچتے رہو اور ایک زبان رکھو۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی زبان کو قابو میں رکھے۔ اس لئے کہ یہ اپنے مالک سے منہ زوری کرنے والی ہے۔ خدا کی قسم! میں نے کسی پرہیزگار کو نہیں دیکھا کہ تقویٰ اس کیلئے مفید ثابت ہوا ہو جب تک کہ اس نے اپنی زبان کی حفاظت نہ کی ہو۔ بے شک مومن کی زبان اس کے دل کے پیچھے ہے اور منافق کا دل اس کی زبان کے پیچھے ہے، کیونکہ مومن جب کوئی بات کہنا چاہتا ہے تو پہلے اسے دل میں سوچ لیتا ہے، اگر وہ اچھی بات ہوتی ہے تو اسے ظاہر کرتا ہے اور اگر بری ہوتی ہے تو اسے پوشیدہ ہی رہنے دیتا ہے اور منافق کی زبان پر جو آتا ہے کہہ گزرتا ہے، اسے یہ کچھ خبر نہیں ہوتی کہ کون سی بات اس کے حق میں مفید ہے اور کون سی مضر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ: «کسی بندے کا ایمان اس وقت تک مستحکم نہیں ہوتا جب تک اس کا دل مستحکم نہ ہو اور دل اس وقت تک مستحکم نہیں ہوتا جب تک زبان مستحکم نہ ہو»۔ لہٰذا تم میں سے جس سے یہ بن پڑے کہ وہ اللہ کے حضور میں اس طرح پہنچے کہ اس کا ہاتھ مسلمانوں کے خون اور ان کے مال سے پاک و صاف اور اس کی زبان ان کی آبرو ریزی سے محفوظ رہے تو اسے ایسا ہی کرنا چاہیے۔ خد اکے بندو! یاد رکھو کہ مومن اس سال بھی اسی چیز کو حلال سمجھتا ہے جسے پار سال حلال سمجھ چکا ہے اور اس سال بھی اسی چیز کو حرام کہتا ہے جسے گزشتہ سال حرام کہہ چکا ہے اور یاد رکھو کہ لوگوں کی پیدا کی ہوئی بدعتیں ان چیزوں کو جو خدا کی طرف سے حرام ہیں حلال نہیں کر سکتیں،بلکہ حلال وہ ہے جسے اللہ نے حلال کیا ہے اور حرام وہ ہے جسے اللہ نے حرام کیا ہے۔ تم تمام چیزوں کو تجربہ و آزمائش سے پرکھ چکے ہو اور پہلے لوگوں سے تمہیں پند و نصیحت بھی کی جا چکی ہے اور (حق و باطل کی) مثالیں بھی تمہارے سامنے پیش کی جا چکی ہیں اور واضح حقیقتوں کی طرف تمہیں دعوت دی جا چکی ہے۔ اب اس آواز کے سننے سے قاصر وہی ہو سکتا ہے جو واقعی بہرا ہو اور اس کے دیکھنے سے معذور وہی سمجھا جا سکتا ہے جو اندھا ہو۔ اور جسے اللہ کی آزمائشوں اور تجربوں سے فائدہ نہ پہنچے وہ کسی پند و نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ اسے زیاں کاریاں ہی درپیش ہوں گی، یہاں تک کہ وہ بری باتوں کو اچھا اور اچھی باتوں کو برا سمجھے گا۔ چونکہ لوگ دو قسم کے ہوتے ہیں: ایک شریعت کے پیروکار اور دوسرے بدعت ساز کہ جن کے پاس نہ سنت پیغمبرؑ کی کوئی سند ہوتی ہے اور نہ دلیل وبرہان کی کوئی روشنی۔ بلاشبہ اللہ سبحانہ نے کسی کو ایسی نصیحت نہیں کی جو اس قرآن کے مانند ہو، کیونکہ یہ اللہ کی مضبوط رسی اور امانتدار وسیلہ ہے۔ اسی میں دل کی بہار اور علم کے سر چشمے ہیں اور اسی سے (آئینہ) قلب پر جلا ہوتی ہے، باوجودیکہ یاد رکھنے والے گزر گئے اور بھول جانے والے یا بھلاوے میں ڈالنے والے باقی رہ گئے ہیں۔ اب تمہارا کام یہ ہے کہ بھلائی کو دیکھو تو اسے تقویت پہنچاؤ اور برائی کو دیکھو تو اس سے (دامن بچا کر) چل دو۔ اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ: «اے فرزند آدم! اچھے کام کر اور برائیوں کو چھوڑ دے۔ اگر تو نے ایسا کیا تو تو نیک چلن اور راست رو ہے»۔ دیکھو! ظلم تین طرح کا ہوتا ہے: ایک ظلم وہ جو بخشا نہیں جائے گا اور دوسرا ظلم وہ جس کا (مواخذہ) چھوڑا نہیں جائے گا، تیسرا وہ جو بخش دیا جائے گا اور اس کی باز پرس نہیں ہو گی۔ لیکن وہ ظلم جو بخشا نہیں جائے گا وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا ہے، جیسا کہ اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے کہ: ’’خدا اس (گناہ) کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے‘‘۔ اور وہ ظلم جو بخش دیا جائے گا وہ ہے جو بندہ چھوٹے چھوٹے گناہوں کا مرتکب ہو کر اپنے نفس پر کرتا ہے۔ اور وہ ظلم کہ جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا وہ بندوں کا ایک دوسرے پر ظلم و زیادتی کرنا ہے جس کا آخرت میں سخت بدلہ لیا جائے گا۔وہ کوئی چھریوں سے کچوکے دینا اور کوڑوں سے مارنا نہیں ہے، بلکہ ایک ایسا سخت عذاب ہے جس کے مقابلے میں یہ چیزیں بہت ہی کم ہیں۔ دین خدا میں رنگ بدلنے سے بچو، کیونکہ تمہارا حق پر ایکا کر لینا جسے تم ناپسند کرتے ہو، باطل راستوں پر جا کر بٹ جانے سے جو تمہارا محبوب مشغلہ ہے، بہتر ہے۔ بے شک اللہ سبحانہ نے اگلوں اور پچھلوں میں سے کسی کو متفرق اور پراگندہ ہو جانے سے کوئی بھلائی نہیں دی۔ اے لوگو! لائق مبارکباد وہ شخص ہے جسے اپنے عیوب دوسروں کی عیب گیری سے باز رکھیں اور قابل مبارکباد وہ شخص ہے جو اپنے گھر (کے گوشہ) میں بیٹھ جائے اور جو کھانا میسر آ جائے کھا لے اور اپنے اللہ کی عبادت میں لگا رہے اور اپنے گناہوں پر آنسو بہائے کہ اس طرح وہ بس اپنی ذات کی فکر میں رہے اور دوسرے لوگ اس سے آرام میں رہیں۔

  175. خطبہ 175- حکمین کے بارے میں فرمایا

    175

    أَيُّهَا الْغَافِلُون غَيْرُ الْمَغْفُولِ عَنْهُمْ وَ التَّارِكُونَ وَ الْمَأْخُوذُ مِنْهُمْ ‏ مَا لِي أَرَاكُمْ عَنِ اللَّهِ ذَاهِبِينَ وَ إِلَى غَيْرِهِ رَاغِبِينَ كَأَنَّكُمْ نَعَمٌ أَرَاحَ بِهَا سَائِمٌ إِلَى مَرْعًى وَبِيٍّ وَ مَشْرَبٍ دَوِيٍّ إِنَّمَا هِيَ كَالْمَعْلُوفَةِ لِلْمُدَى لَا تَعْرِفُ مَا ذَا يُرَادُ بِهَا إِذَا أُحْسِنَ إِلَيْهَا تَحْسِبُ يَوْمَهَا دَهْرَهَا وَ شِبَعَهَا أَمْرَهَا وَ اللَّهِ لَوْ شِئْتُ أَنْ أُخْبِرَ كُلَّ رَجُلٍ مِنْكُمْ بِمَخْرَجِهِ وَ مَوْلِجِهِ وَ جَمِيعِ شَأْنِهِ لَفَعَلْتُ وَ لَكِنْ أَخَافُ أَنْ تَكْفُرُوا فِيَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه واله أَلَا وَ إِنِّي مُفْضِيهِ إِلَى الْخَاصَّةِ مِمَّنْ يُؤْمَنُ ذَلِكَ مِنْهُ وَ الَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ وَ اصْطَفَاهُ عَلَى الْخَلْقِ مَا أَنْطِقُ إِلَّا صَادِقاً وَ لَقَدْ عَهِدَ إِلَيَّ بِذَلِكَ كُلِّهِ وَ بِمَهْلَكِ مَنْ يَهْلِكُ وَ مَنْجَى مَنْ يَنْجُو وَ مَآلِ هَذَا الْأَمْرِ وَ مَا أَبْقَى شَيْئاً يَمُرُّ عَلَى رَأْسِي إِلَّا أَفْرَغَهُ فِي أُذُنَيَّ وَ أَفْضَى بِهِ إِلَيَّ أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي وَ اللَّهِ مَا أَحُثُّكُمْ عَلَى طَاعَةٍ إِلَّا وَ أَسْبِقُكُمْ إِلَيْهَا وَ لَا أَنْهَاكُمْ عَنْ مَعْصِيَةٍ إِلَّا وَ أَتَنَاهَى قَبْلَكُمْ عَنْهَا

    حکمین کے سلسلہ میں ارشاد فرمایا تمہاری جماعت ہی نے دو شخصوں کے چن لینے کی رائے طے کی تھی۔ چنانچہ ہم نے ان دونوں سے یہ عہد لے لیا تھا کہ وہ قرآن کے مطابق عمل کریں اور اس سے سر مُو تجاوز نہ کریں اور ان کی زبانیں اس سے ہمنوا اور ان کے دل اس کے پیرو رہیں، مگر وہ قرآن سے بھٹک گئے اور حق کو چھوڑ بیٹھے، حالانکہ وہ ان کی نگاہوں کے سامنے تھا۔ ظلم ان کی عین خواہش اور کجروی ان کی روش تھی، حالانکہ ہم نے پہلے ہی ان سے یہ ٹھہرا لیا تھا کہ وہ عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے اور حق پر عمل پیرا ہونے میں بد نیتی اور ناانصافی کو دخل نہ دیں گے۔ اب جب انہوں نے راہ حق سے انحراف کیا اور طے شدہ قرارداد کے برعکس حکم لگایا تو ہمارے ہاتھوں میں (ان کا فیصلہ ٹھکرا دینے کیلئے) ایک مضبوط دلیل (اور معقول وجہ) موجود ہے۔

  176. خطبہ 176- خداوند عالم کی توصیف، دُنیا کی بے ثباتی اور اسباب زوال نعمت

    176

    انْتَفِعُوا بِبَيَانِ اللَّهِ وَ اتَّعِظُوا بِمَوَاعِظِ اللَّهِ وَ اقْبَلُوا نَصِيحَةَ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْذَرَ إِلَيْكُمْ بِالْجَلِيَّةِ وَ أَخَذَ عَلَيْكُمُ الْحُجَّةَ وَ بَيَّنَ لَكُمْ مَحَابَّهُ مِنَ الْأَعْمَالِ وَ مَكَارِهَهُ مِنْهَا لِتَتَّبِعُوا هَذِهِ وَ تَجْتَنِبُوا هَذِهِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه واله كَانَ يَقُولُ إِنَّ الْجَنَّةَ حُفَّتْ بِالْمَكَارِهِ وَ إِنَّ النَّارَ حُفَّتْ بِالشَّهَوَاتِ وَ اعْلَمُوا أَنَّهُ مَا مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ شَيْ‏ءٌ إِلَّا يَأْتِي فِي كُرْهٍ ‏ وَ مَا مِنْ مَعْصِيَةِ اللَّهِ شَيْ‏ءٌ إِلَّا يَأْتِي فِي شَهْوَةٍ فَرَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا نَزَعَ عَنْ شَهْوَتِهِ وَ قَمَعَ هَوَى نَفْسِهِ فَإِنَّ هَذِهِ النَّفْسَ أَبْعَدُ شَيْ‏ءٍ مَنْزَعًا وَ إِنَّهَا لَا تَزَالُ تَنْزِعُ إِلَى مَعْصِيَةٍ فِي هَوًى وَ اعْلَمُوا عِبَادَ اللَّهِ أَنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يُمْسِي وَ لَا يُصْبِحُ إِلَّا وَ نَفْسُهُ ظَنُونٌ عِنْدَهُ فَلَا يَزَالُ زَارِياً عَلَيْهَا وَ مُسْتَزِيداً لَهَا فَكُونُوا كَالسَّابِقِينَ قَبْلَكُمْ وَ الْمَاضِينَ أَمَامَكُمْ قَوَّضُوا مِنَ الدُّنْيَا تَقْوِيضَ الرَّاحِلِ وَ طَوَوْهَا طَيَّ الْمَنَازِلِ فضلُ القرآن وَ اعْلَمُوا أَنَّ هَذَا الْقُرْآنَ هُوَ النَّاصِحُ الَّذِي لَا يَغُشُّ وَ الْهَادِي الَّذِي لَا يُضِلُّ وَ الْمُحَدِّثُ الَّذِي لَا يَكْذِبُ وَ مَا جَالَسَ هَذَا الْقُرْآنَ أَحَدٌ إِلَّا قَامَ عَنْهُ بِزِيَادَةٍ أَوْ نُقْصَانٍ زِيَادَةٍ فِي هُدًى وَ نُقْصَانٍ مِنْ عَمًى وَ اعْلَمُوا أَنَّهُ لَيْسَ عَلَى أَحَدٍ بَعْدَ الْقُرْآنِ مِنْ فَاقَةٍ وَ لَا لِأَحَدٍ قَبْلَ الْقُرْآنِ مِنْ غِنًى فَاسْتَشْفُوهُ مِنْ أَدْوَائِكُمْ وَ اسْتَعِينُوا بِهِ عَلَى لَأْوَائِكُمْ فَإِنَّ فِيهِ شِفَاءً مِنْ أَكْبَرِ الدَّاءِ وَ هُوَ الْكُفْرُ وَ النِّفَاقُ وَ الْغَيُّ وَ الضَّلَالُ فَاسْأَلُوا اللَّهَ بِهِ وَ تَوَجَّهُوا إِلَيْهِ بِحُبِّهِ وَ لَا تَسْأَلُوا بِهِ خَلْقَهُ إِنَّهُ مَا تَوَجَّهَ الْعِبَادُ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى بِمِثْلِهِ وَ اعْلَمُوا أَنَّهُ شَافِعٌ مُشَفَّعٌ وَ قَائِلٌ وَ مُصَدَّقٌ وَ أَنَّهُ مَنْ شَفَعَ لَهُ الْقُرْآنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُفِّعَ فِيهِ وَ مَنْ مَحَلَ بِهِ الْقُرْآنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صُدِّقَ عَلَيْهِ فَإِنَّهُ يُنَادِي مُنَادٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَلَا إِنَّ كُلَّ حَارِثٍ مُبْتَلَى فِي حَرْثِهِ وَ عَاقِبَةِ عَمَلِهِ غَيْرَ حَرَثَةِ الْقُرْآنِ فَكُونُوا مِنْ حَرَثَتِهِ وَ أَتْبَاعِهِ وَ اسْتَدِلُّوهُ عَلَى رَبِّكُمْ وَ اسْتَنْصِحُوهُ عَلَى أَنْفُسِكُمْ وَ اتَّهِمُوا عَلَيْهِ آرَاءَكُمْ وَ اسْتَغِشُّوا فِيهِ أَهْوَاءَكُمْ الحَثُّ على العمل الْعَمَلَ الْعَمَلَ ثُمَّ النِّهَايَةَ النِّهَايَةَ وَ الِاسْتِقَامَةَ الِاسْتِقَامَةَ ثُمَّ الصَّبْرَ الصَّبْرَ وَ الْوَرَعَ الْوَرَعَ إِنَّ لَكُمْ نِهَايَةً فَانْتَهُوا إِلَى نِهَايَتِكُمْ وَ إِنَّ لَكُمْ عَلَماً فَاهْتَدُوا بِعَلَمِكُمْ وَ إِنَّ لِلْإِسْلَامِ غَايَةً فَانْتَهُوا إِلَى غَايَتِهِ وَ اخْرُجُوا إِلَى اللَّهِ مِمَّا افْتَرَضَ عَلَيْكُمْ مِنْ حَقِّهِ وَ بَيَّنَ لَكُمْ مِنْ وَظَائِفِهِ أَنَا شَاهِدٌ لَكُمْ وَ حَجِيجٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَنْكُمْ أَلَا وَ إِنَّ الْقَدَرَ السَّابِقَ قَدْ وَقَعَ وَ الْقَضَاءَ الْمَاضِي قَدْ تَوَرَّدَ وَ إِنِّي مُتَكَلِّمٌ بِعِدَةِ اللَّهِ وَ حُجَّتِهِ قَالَ اللهُ تَعَالَى : «إِنَّ الَّذِينَ قالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلائِكَةُ لَا تَخافُوا وَ لا تَحْزَنُوا وَ أَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ» وَ قَدْ قُلْتُمْ رَبُّنَا اللَّهُ فَاسْتَقِيمُوا عَلَى كِتَابِهِ وَ عَلَى مِنْهَاجِ أَمْرِهِ وَ عَلَى الطَّرِيقَةِ الصَّالِحَةِ مِنْ عِبَادَتِهِ ثُمَّ لَا تَمْرُقُوا مِنْهَا وَ لَا تَبْتَدِعُوا فِيهَا وَ لَا تُخَالِفُوا عَنْهَا فَإِنَّ أَهْلَ الْمُرُوقِ مُنْقَطَعٌ بِهِمْ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثُمَّ إِيَّاكُمْ وَ تَهْزِيعَ الْأَخْلَاقِ وَ تَصْرِيفَهَا وَ اجْعَلُوا اللِّسَانَ وَاحِداً وَ لِيَخْتَزِنَ الرَّجُلُ لِسَانَهُ فَإِنَّ هَذَا اللِّسَانَ جَمُوحٌ بِصَاحِبِهِ وَ اللَّهِ مَا أَرَى عَبْداً يَتَّقِي تَقْوَى تَنْفَعُهُ حَتَّى يَخْتَزِنَ لِسَانَهُ وَ إِنَّ لِسَانَ الْمُؤْمِنِ مِنْ وَرَاءِ قَلْبِهِ وَ إِنَّ قَلْبَ الْمُنَافِقِ مِنْ‏ وَرَاءِ لِسَانِهِ لِأَنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِكَلَامٍ تَدَبَّرَهُ فِي نَفْسِهِ فَإِنْ كَانَ خَيْراً أَبْدَاهُ وَ إِنْ كَانَ شَرّاً وَارَاهُ وَ إِنَّ الْمُنَافِقَ يَتَكَلَّمُ بِمَا أَتَى عَلَى لِسَانِهِ لَا يَدْرِي مَا ذَا لَهُ وَ مَا ذَا عَلَيْهِ وَ لَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه واله لَا يَسْتَقِيمُ إِيمَانُ عَبْدٍ حَتَّى يَسْتَقِيمَ قَلْبُهُ وَ لَا يَسْتَقِيمُ قَلْبُهُ حَتَّى يَسْتَقِيمَ لِسَانُهُ فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَلْقَى اللَّهَ وَ هُوَ نَقِيُّ الرَّاحَةِ مِنْ دِمَاءِ الْمُسْلِمِينَ وَ أَمْوَالِهِمْ سَلِيمُ اللِّسَانِ مِنْ أَعْرَاضِهِمْ فَلْيَفْعَلْ تحريم البِدَع وَ اعْلَمُوا عِبَادَ اللَّهِ أَنَّ الْمُؤْمِنَ يَسْتَحِلُّ الْعَامَ مَا اسْتَحَلَّ عَاماً أَوَّلَ وَ يُحَرِّمُ الْعَامَ مَا حَرَّمَ عَاماً أَوَّلَ وَ أَنَّ مَا أَحْدَثَ النَّاسُ لَا يُحِلُّ لَكُمْ شَيْئاً مِمَّا حُرِّمَ عَلَيْكُمْ وَ لَكِنِ الْحَلَالُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ وَ الْحَرَامُ مَا حَرَّمَ اللَّهُ فَقَدْ جَرَّبْتُمُ الْأُمُورَ وَ ضَرَّسْتُمُوهَا وَ وُعِظْتُمْ بِمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ وَ ضُرِبَتِ الْأَمْثَالُ لَكُمْ وَ دُعِيتُمْ إِلَى الْأَمْرِ الْوَاضِحِ فَلَا يَصَمُّ عَنْ ذَلِكَ إِلَّا أَصَمُّ وَ لَا يَعْمَى عَنْهُ إِلَّا أَعْمَى وَ مَنْ لَمْ يَنْفَعْهُ اللَّهُ بِالْبَلَاءِ وَ التَّجَارِبِ لَمْ يَنْتَفِعْ بِشَيْ‏ءٍ مِنَ الْعِظَةِ وَ أَتَاهُ التَّقْصِيرُ مِنْ أَمَامِهِ حَتَّى يَعْرِفَ مَا أَنْكَرَ وَ يُنْكِرَ مَا عَرَفَ فَإِنَّ النَّاسَ رَجُلَانِ مُتَّبِعٌ شِرْعَةً وَ مُبْتَدِعٌ بِدْعَةً لَيْسَ مَعَهُ مِنَ اللَّهِ بُرْهَانُ سُنَّةٍ وَ لَا ضِيَاءُ حُجَّةٍ القرآن وَ إِنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ لَمْ يَعِظْ أَحَداً بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ فَإِنَّهُ حَبْلُ اللَّهِ الْمَتِينُ وَ سَبَبُهُ الْأَمِينُ وَ فِيهِ رَبِيعُ الْقَلْبِ وَ يَنَابِيعُ الْعِلْمِ وَ مَا لِلْقَلْبِ جِلَاءٌ غَيْرُهُ مَعَ أَنَّهُ قَدْ ذَهَبَ الْمُتَذَكِّرُونَ وَ بَقِيَ النَّاسُونَ وَ الْمُتَنَاسُونَ ‏فَإِذَا رَأَيْتُمْ خَيْراً فَأَعِينُوا عَلَيْهِ وَ إِذَا رَأَيْتُمْ شَرّاً فَاذْهَبُوا عَنْهُ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ- صلى الله عليه واله- كَانَ يَقُولُ يَا ابْنَ آدَمَ اعْمَلِ الْخَيْرَ وَ دَعِ الشَّرَّ فَإِذَا أَنْتَ جَوَادٌ قَاصِدٌ انواع الظلم أَلَا وَ إِنَّ الظُّلْمَ ثَلَاثَةٌ فَظُلْمٌ لَا يُغْفَرُ وَ ظُلْمٌ لَا يُتْرَكُ وَ ظُلْمٌ مَغْفُورٌ لَا يُطْلَبُ فَأَمَّا الظُّلْمُ الَّذِي لَا يُغْفَرُ فَالشِّرْكُ بِاللَّهِ قَالَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَ أَمَّا الظُّلْمُ الَّذِي يُغْفَرُ فَظُلْمُ الْعَبْدِ نَفْسَهُ عِنْدَ بَعْضِ الْهَنَاتِ وَ أَمَّا الظُّلْمُ الَّذِي لَا يُتْرَكُ فَظُلْمُ الْعِبَادِ بَعْضِهِمْ بَعْضاً الْقِصَاصُ هُنَاكَ شَدِيدٌ لَيْسَ هُوَ جَرْحاً بِاْلمُدَى وَ لَا ضَرْباً بِالسِّيَاطِ وَ لَكِنَّهُ مَا يُسْتَصْغَرُ ذَلِكَ مَعَهُ فَإِيَّاكُمْ وَ التَّلَوُّنَ فِي دِينِ اللَّهِ فَإِنَّ جَمَاعَةً فِيمَا تَكْرَهُونَ مِنَ الْحَقِّ خَيْرٌ مِنْ فُرْقَةٍ فِيمَا تُحِبُّونَ مِنَ الْبَاطِلِ وَ إِنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ لَمْ يُعْطِ أَحَداً بِفُرْقَةٍ خَيْراً مِمَّنْ مَضَى وَ لَا مِمَّنْ بَقَي يَا أَيُّهَا النَّاسُ طُوبَى لِمَنْ شَغَلَهُ عَيْبُهُ عَنْ عُيُوبِ النَّاسِ وَ طُوبَى لِمَنْ لَزِمَ بَيْتَهُ وَ أَكَلَ قُوتَهُ وَ اشْتَغَلَ بِطَاعَةِ رَبِّهِ وَ بَكَى عَلَى خَطِيئَتِهِ فَكَانَ مِنْ نَفْسِهِ فِي شُغلٍ وَ النَّاسُ مِنْهُ فِي رَاحَةٍ

    خداوند عالم کو ایک حالت دوسری حالت سے سد راہ نہیں ہوتی، نہ زمانہ اس میں تبدیلی پیدا کر تا ہے، نہ کوئی جگہ اسے گھیرتی ہے اور نہ زبان اس کا وصف کر سکتی ہے۔ اس سے پانی کے قطروں اور آسمان کے ستاروں اور ہوا کے جھکڑوں کا شمار، چکنے پتھر پر چیونٹی کے چلنے کی آواز اور اندھیری رات میں چھوٹی چیونٹیوں کے قیام کرنے کی جگہ کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔وہ پتوں کے گرنے کی جگہوں اور آنکھ کے چوری چھپے اشاروں کو جانتا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، نہ اس کا کوئی ہمسر ہے، نہ اس کی ہستی میں کوئی شبہ، نہ اس کے دین سے سرتابی ہو سکتی ہے اور نہ اس کی آفرینش سے انکار۔ اس شخص کی سی گواہی جس کی نیت سچی، باطن پاکیزہ، یقین (شبہوں سے)پاک اور (اس کے نیک اعمال) کا پلہ بھاری ہو۔ اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے عبد اور رسول ہیں اور مخلوقات میں منتخب، بیان شریعت کیلئے برگزیدہ، گراں بہا بزرگیوں سے مخصوص اور عمدہ پیغاموں (کے پہنچانے)کیلئے منتخب ہیں۔ آپؐ کے ذریعے سے ہدایت کے نشانات روشن کئے گئے اور گمراہی کی تیرگیوں کو چھانٹا گیا۔ اے لوگو! جو شخص دنیا کی آرزوئیں کرتا ہے اور اس کی جانب کھنچتا ہے، وہ اسے انجام کار فریب دیتی ہے اور جو اس کا خواہشمند ہوتا ہے اس سے بخل نہیں کرتی اور جو اس پر چھا جاتا ہے وہ اس پر قابو پالے گی۔ خدا کی قسم! جن لوگوں کے پاس زندگی کی تر و تازہ و شاداب نعمتیں تھیں اور پھر ان کے ہاتھوں سے نکل گئیں، یہ ان کے گناہوں کے مرتکب ہو نے کی پاداش ہے، کیونکہ ’’اللہ تو کسی پر ظلم نہیں کرتا‘‘۔ اگر لوگ اس وقت کہ جب ان پر مصیبتیں ٹوٹ رہی ہوں اور نعمتیں ان سے زائل ہو رہی ہوں، صدق نیت و رجوع قلب سے اپنے اللہ کی طرف متوجہ ہوں تو وہ برگشتہ ہو جانے والی نعمتوں کو پھر ان کی طرف پلٹا دے گا اور ہر خرابی کی اصلاح کر دے گا۔ مجھے تم سے یہ اندیشہ ہے کہ کہیں تم جہالت و نادانی میں نہ پڑ جاؤ۔ کچھ واقعات ایسے ہو گزرے ہیں کہ جن میں تم نے نامناسب جذبات سے کام لیا۔ میرے نزدیک تم ان میں سراہنے کے قابل نہیں ہو۔ اگر تمہیں پہلی روش پر پھر لگا دیا جائے تو تم یقیناً نیک بخت و سعادت مند بن جاؤ گے۔ میرا کام تو صرف کوشش کرنا ہے۔ اگر میں کچھ کہنا چاہوں تو البتہ یہی کہوں گا کہ ’’خدا (تمہاری) گزشتہ لغزشوں سے درگزر کرے‘‘۔

  177. خطبہ 177- جب پوچھا گیا کہ کیا آپؑ نے خدا کو دیکھا ہے تو فرمایا

    177

    فَأَجْمَعَ رَأْيُ مَلَئِكُمْ عَلَى أَنِ اخْتَارُوا رَجُلَيْنِ فَأَخَذْنَا عَلَيْهِمَا أَنْ يُجَعْجِعَا عِنْدَ الْقُرْآنِ وَ لَا يُجَاوِزَاهُ وَ تَكُونَ أَلْسِنَتُهُمَا مَعَهُ وَ قُلُوبُهُمَا تَبِعَهُ فَتَاهَا عَنْهُ وَ تَرَكَا الْحَقَّ وَ هُمَا يُبْصِرَانِهِ وَ كَانَ الْجَوْرُ هَوَاهُمَا وَ الِاعْوِجَاجُ دَأْبَهُمَا وَ قَدْ سَبَقَ اسْتِثْنَاؤُنَا عَلَيْهِمَا فِي الْحُكْمِ بِالْعَدْلِ وَ الْعَمَلِ بِالْحَقِّ سُوءَ رَأْيِهِمَا وَ جَوْرَ حُكْمِهِمَا وَ الثِّقَةُ فِي أَيْدِينَا لِأَنْفُسِنَا حِينَ خَالَفَا سَبِيلَ الْحَقِّ وَ أَتَيَا بِمَا لَا يُعْرَفُ مِنْ مَعْكُوسِ الْحُكْمِ.

    ذعلب یمنی نے آپؑ سے سوال کیا کہ: یا امیر المومنینؑ! کیا آپؑ نے اپنے پروردگار کو دیکھا ہے؟ آپؑ نے فرمایا: کیا میں اس اللہ کی عبادت کرتا ہوں جسے میں نے دیکھا تک نہیں؟ اس نے کہا کہ آپؑ کیونکر دیکھتے ہیں؟تو آپؑ نے ارشاد فرمایا کہ: آنکھیں اسے کھلم کھلا نہیں دیکھتیں، بلکہ دل ایمانی حقیقتوں سے اسے پہچانتے ہیں۔ وہ ہر چیز سے قریب ہے،لیکن جسمانی اتصال کے طور پر نہیں، وہ ہر شے سے دور ہے، مگر الگ نہیں، وہ غور و فکر کئے بغیر کلام کرنے والا اور بغیر آمادگی کے قصد و ارادہ کرنے والا اور بغیر اعضاء (کی مدد) کے بنانے والا ہے۔ وہ لطیف ہے لیکن پوشیدگی سے اسے متصف نہیں کیا جا سکتا، وہ بزرگ و برترہے مگر تند خوئی و بدخلقی کی صفت اس میں نہیں، وہ دیکھنے والا ہے مگر حواس سے اسے موصوف نہیں کیا جا سکتا، وہ رحم کرنے والا ہے مگر اس صفت کو نرم دلی سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا، چہرے اس کی عظمت کے آگے ذلیل و خوار اور دل اس کے خوف سے لرزاں و ہراساں ہیں۔

  178. خطبہ 178- اپنے اصحاب کی مذمت میں فرمایا

    178

    لَا يَشْغَلُهُ شَأْنٌ (عْن شَأْنٍ) وَ لَا يُغَيِّرُهُ زَمَانٌ وَ لَا يَحْوِيهِ مَكَانٌ وَ لَا يَصِفُهُ لِسَانٌ لَا يَعْزُبُ عَنْهُ عَدَدُ قَطْرِ الْمَاءِ وَ لَا نُجُومُ السَّمَاءِ وَ لَا سَوَافِي الرِّيحِ فِي الْهَوَاءِ وَ لَا دَبِيبُ النَّمْلِ عَلَى الصَّفَا وَ لَا مَقِيلُ الذَّرِّ فِي اللَّيْلَةِ الظَّلْمَاءِ يَعْلَمُ مَسَاقِطَ الْأَوْرَاقِ وَ خَفِيَّ طَرْفِ الْأَحْدَاقِ وَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ غَيْرَ مَعْدُولٍ بِهِ وَ لَا مَشْكُوكٍ فِيهِ وَ لَا مَكْفُورٍ دِينُهُ وَ لَا مَجْحُودٍ تَكْوِينُهُ شَهَادَةَ مَنْ صَدَقَتْ نِيَّتُهُ وَ صَفَتْ دِخْلَتُهُ‏ وَ خَلَصَ يَقِينُهُ وَ ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ وَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ الَمْجُتْبَىَ مِنْ خَلَائِقِهِ وَ الْمُعْتَامُ لِشَرْحِ حَقَائِقِهِ وَ الْمُخْتَصُّ بِعَقَائِلِ كَرَامَاتِهِ وَ الْمُصْطَفَى لِكَرَائِمِ رِسَالَاتِهِ وَ الْمُوَضَّحَةُ بِهِ أَشْرَاطُ الْهُدَى وَ الْمَجْلُوُّ بِهِ غِرْبِيبُ الْعَمَى أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ الدُّنْيَا تَغُرُّ الْمُؤَمِّلَ لَهَا وَ الْمُخْلِدَ إِلَيْهَا وَ لَا تَنْفَسُ بِمَنْ نَافَسَ فِيهَا وَ تَغْلِبُ مَنْ غَلَبَ عَلَيْهَا وَ أَيْمُ اللَّهِ مَا كَانَ قَوْمٌ قَطُّ فِي غَضِّ نِعْمَةٍ مِنْ عَيْشٍ فَزَالَ عَنْهُمْ إِلَّا بِذُنُوبٍ اجْتَرَحُوهَا لِ «أَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ» وَ لَوْ أَنَّ النَّاسَ حِينَ تَنْزِلُ بِهِمُ النِّقَمُ وَ تَزُولُ عَنْهُمُ النِّعَمُ فَزِعُوا إِلَى رَبِّهِمْ بِصِدْقٍ مِنْ نِيَّاتِهِمْ وَ وَلَهٍ مِنْ قُلُوبِهِمْ لَرَدَّ عَلَيْهِمْ كُلَّ شَارِدٍ وَ أَصْلَحَ لَهُمْ كُلَّ فَاسِدٍ وَ إِنِّي لَأَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تَكُونُوا فِي فَتْرَةٍ وَ قَدْ كَانَتْ أُمُورٌ مَضَتْ مِلْتُمْ فِيهَا مَيْلَةً كُنْتُمْ فِيهَا عِنْدِي غَيْرَ مَحْمُودِينَ وَ لَئِنْ رُدَّ عَلَيْكُمْ أَمْرُكُمْ إِنَّكُمْ لَسُعَدَاءُ وَ مَا عَلَيَّ إِلَّا الْجُهْدُ وَ لَوْ أَشَاءُ أَنْ أَقُولَ لَقُلْتُ عَفَا اللَّهُ عَمَّا سَلَفَ

    اپنے اصحاب کی مذمت میں فرمایا میں اللہ کی حمد و ثنا کرتا ہوں ہر اس امر پر جس کا اس نے فیصلہ کیا اور ہر اس کام پر جو اس کی تقدیر نے طے کیا ہو اور اس آزمائش پر جو تمہارے ہاتھوں اس نے میری کی ہے۔ اے لوگو کہ جنہیں کوئی حکم دیتا ہوں تو نافرمانی کرتے ہیں اور پکارتا ہوں تو میری آواز پر لبیک نہیں کہتے، اگر تمہیں (جنگ سے) کچھ مہلت ملتی ہے تو ڈینگیں مارنے لگتے ہو اور اگر جنگ چھڑ جاتی ہے تو بزدلی دکھاتے ہو اور جب لوگ امام پر ایکا کر لیتے ہیں تو تم طعن و تشنیع کرنے لگتے ہو اور اگر تمہیں (جکڑ باندھ کر) جنگ کی طرف لایا جاتا ہے تو الٹے پیروں لوٹ جاتے ہو۔ تمہارے دشمنوں کا برا ہو! تم اب نصرت کیلئے آمادہ ہو نے اور اپنے حق کیلئے جہاد کرنے میں کس چیز کے منتظر ہو؟ موت کے یا اپنی ذلت و رسوائی کے؟ خدا کی قسم! اگر میری موت کا دن آئے گا اور البتہ آ کر رہے گا تو وہ میرے اور تمہارے درمیان جدائی ڈال دے گا، درآنحالیکہ میں تمہاری ہم نشینی سے بیزار اور (تمہاری کثرت کے باوجود) اکیلا ہو ں۔ اب تمہیں اللہ ہی اجر دے! کیا کوئی دین تمہیں ایک مرکز پر جمع نہیں کرتا اور غیرت تمہیں (دشمن کی روک تھام پر) آمادہ نہیں کرتی۔ کیا یہ عجیب بات نہیں کہ معاویہ چند تند مزاج اوباشوں کو دعوت دیتا ہے اور وہ بغیر کسی امداد و اعانت اور بخشش و عطا کے اس کی پیروی کرتے ہیں اور میں تمہیں امداد کے علاوہ تمہارے معیّنہ عطیوں کے ساتھ دعوت دیتا ہوں مگر تم مجھ سے پراگندہ و منتشر ہو جاتے ہو اور مخالفتیں کرتے ہو، حالانکہ تم اسلام کے رہے سہے افراد اور مسلمانوں کا بقیہ ہو۔ تم تو میرے کسی فرمان پر راضی ہوتے اور نہ اس پر متحد ہوتے ہو، چاہے وہ تمہارے جذبات کے موافق ہو یا مخالف۔ میں جن چیزوں کا سامنا کر نے والا ہوں ان میں سب سے زیادہ محبوب مجھے موت ہے۔ میں نے تمہیں قرآن کی تعلیم دی اور دلیل و برہان سے تمہارے درمیان فیصلے کئے اور ان چیزوں سے تمہیں روشناس کیا جنہیں تم نہیں جانتے تھے اور ان چیزوں کو تمہارے لئے خوشگوار بنایا جنہیں تم تھوک دیتے تھے۔ کاش کہ اندھے کو کچھ نظر آئے اور سونے والا(خواب غفلت سے)بیدار ہو۔ وہ قوم اللہ (کے احکام)سے کتنی جاہل ہے کہ جس کا پیشرو معاویہ اور معلم نابغہ [۱] کا بیٹا ہے۔

  179. خطبہ 179- خوارج سے مل جانے کا تہیّہ کرنے والی جماعت سے فرمایا

    179

    لَا تُدْرِكُهُ الْعُيُونُ بِمُشَاهَدَةِ الْعِيَانِ وَ لَكِنْ تُدْرِكُهُ الْقُلُوبُ بِحَقَائِقِ الْإِيمَانِ قَرِيبٌ مِنَ الْأَشْيَاءِ غَيْرُ مُلَامِسٍ بَعِيدٌ مِنْهَا غَيْرُ مُبَايِنٍ مُتَكَلِّمٌ بِلَا رَوِيَّةٍ مُرِيدٌ بِلَا هِمَّةٍ صَانِعٌ لَا بِجَارِحَةٍ لَطِيفٌ لَا يُوصَفُ بِالْخَفَاءِ كَبِيرٌ لَا يُوصَفُ بِالْجَفَاءِ بَصِيرٌ لَا يُوصَفُ بِالْحَاسَّةِ رَحِيمٌ لَا يُوصَفُ بِالرِّقَّةِ تَعْنُو الْوُجُوهُ لِعَظَمَتِهِ وَ تَجِبُ الْقُلُوبُ مِنْ مَخَافَتِهِ

    حضرتؑ نے اپنے اصحاب میں سے ایک شخص کو سپاہِ کوفہ کی ایک جماعت [۱] کی خبر لانے کیلئے بھیجا جو خارجیوں سے منضم ہو نے کا تہیہ کئے بیٹھی تھی، لیکن حضرتؑ سے خائف تھی۔ چنانچہ جب وہ شخص پلٹ کر آیا تو آپؑ نے دریافت کیا کہ: کیا وہ مطمئن ہو کر ٹھہر گئے ہیں یا کمزوری و بزدلی دکھاتے ہوئے چل دیے ہیں۔ اس نے کہا: یا امیر المومنینؑ وہ تو چلے گئے تو آپؑ نے ارشاد فرمایا: انہیں قوم ثمود کی طرح خدا کی رحمت سے دوری ہو! دیکھنا جب نیزوں کے رخ ان کی طرف سیدھے ہوں گے اور تلواروں کے وار ان کی کھوپڑیوں پر پڑیں گے تو اپنے کئے پر پچھتائیں گے۔ آج تو شیطان نے انہیں تتر بتر کر دیا ہے اور کل ان سے اظہار بیزاری کرتا ہوا ان سے الگ ہو جائے گا۔ ان کا ہدایت سے نکل جانا، گمراہی و ضلالت میں جا پڑنا، حق سے منہ پھیر لینا اور ضلالتوں میں منہ زوریاں دکھانا ہی ان کے (مستحق عذاب) ہونے کیلئے کافی ہے۔

  180. خطبہ 180- خداوند عالم کی تنزیہ و تقدیس اور قدرت کی کا ر فرمائی

    180

    أَحْمَدُ اللَّهَ عَلَى مَا قَضَى مِنْ أَمْرٍ وَ قَدَّرَ مِنْ فِعْلٍ وَ عَلَى ابْتِلَائِي بِكُمْ أَيَّتُهَا الْفِرْقَةُ الَّتِي إِذَا أَمَرْتُ لَمْ تُطِعْ وَ إِذَا دَعَوْتُ لَمْ تُجِبْ إِنْ أُهْمِلْتُمْ خُضْتُمْ وَ إِنْ حُورِبْتُمْ خُرْتُمْ وَ إِنِ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَى إِمَامٍ طَعَنْتُمْ وَ إِنْ أُجِئْتُمْ إِلَى مُشَاقَّةٍ نَكَصْتُمْ لَا أَبَا لِغَيْرِكُمْ مَا تَنْتَظِرُونَ بِنَصْرِكُمْ وَ الْجِهَادِ عَلَى حَقِّكُمْ الْمَوْتُ أَوِ الذُّلُ لَكُمْ فَوَاللَّهِ لَئِنْ جَاءَ يَومِي وَ لَيَأْتِيَنِّي لَيُفَرِّقَنَّ بَيْنِي وَ بَيْنَكُمْ وَ أَنَا لِصُحْبَتِكُمْ قَالٍ وَ بِكُمْ غَيْرُ كَثِيرٍ لِلَّهِ أَنْتُمْ أَمَا دِينٌ يَجْمَعُكُمْ وَ لَا مَحْمِيَّةً تَشْحَذُكُمْ أَوَ لَيْسَ عَجَباً أَنَّ مُعَاوِيَةَ يَدْعُو الْجُفَاةَ الطَّغَامَ فَيَتَّبِعُونَهُ عَلَى‏ غَيْرِ مَعُونَةٍ وَ لَا عَطَاءٍ وَ أَنَا أَدْعُوكُمْ وَ أَنْتُمْ تَرِيكَةُ الْإِسْلَامِ وَ بَقِيَّةُ النَّاسِ إِلَى الْمَعُونَةِ أَوْ طَائِفَةٍ مِنَ الْعَطَاءِ فَتَتَفَرَّقُونَ عَنِّي وَ تَخْتَلِفُونَ عَلَيَّ إِنَّهُ لَا يَخْرُجُ إِلَيْكُمْ مِنْ أَمْرِي رِضًى فَتَرْضَوْنَهُ وَ لَا سَخَطٌ فَتَجْتَمِعُونَ عَلَيْهِ وَ إِنَّ أَحَبَّ مَا أَنَا لَاقٍ إِلَيَّ الْمَوْتُ قَدْ دَارَسْتُكُمُ الْكِتَابَ وَ فَاتَحْتُكُمُ الْحِجَاجَ وَ عَرَّفْتُكُمْ مَا أَنْكَرْتُمْ وَ سَوَّغْتُكُمْ مَا مَجَجْتُمْ لَوْ كَانَ الْأَعْمَى يَلْحَظُ أَوِ النَّائِمُ يَسْتَيْقِظُ وَ أَقْرِبْ بِقَوْمٍ مِنَ الْجَهْلِ بِاللَّهِ قَائِدُهُمْ مُعَاوِيَةُ وَ مُؤَدِّبُهُمُ ابْنُ النَّابِغَةِ

    نوف بکالی سے روایت کی گئی ہے کہ انہوں نے کہا کہ: حضرتؑ نے یہ خطبہ ہمارے سامنے کوفہ میں اس پتھر پر کھڑے ہو کر ارشاد فرمایا جسے جعدہ ابن ہبیرہ مخزومی نے نصب کیا تھا۔ اس وقت آپؑ کے جسم مبارک پر ایک اونی جُبہّ تھا اور آپؑ کی تلوار کا پرتلہ لیف خرما کا تھا اور پیروں میں جوتے بھی کھجور کی پتیوں کے تھے اور (سجدوں کی وجہ سے) پیشانی یوں معلوم ہوتی تھی جیسے اونٹ کے گھٹنے پر کا گھٹا۔ تمام حمد اس اللہ کیلئے ہے جس کی طرف تمام مخلوق کی بازگشت اور ہر چیز کی انتہا ہے۔ ہم اس کے عظیم احسان، روشن و واضح برہان اور اس کے لطف و کرم کی افزائش پر اس کی حمد و ثنا کرتے ہیں۔ ایسی حمد کہ جس سے اس کا حق پورا ہو اور شکر ادا ہو اور اس کے ثواب کے قریب لے جانے والی اور اس کی بخششوں کو بڑھانے والی ہو۔ ہم اس سے اس طرح مدد مانگتے ہیں جس طرح اس کے فضل کا امیدوار، اس کے نفع کا آرزو مند، (دفع بلیات کا) اطمینان رکھنے والا اور بخشش و عطا کا معترف اور قول و عمل سے اس کا مطیع و فرمانبردار اس سے مدد چاہتا ہو۔ اور ہم اس شخص کی طرح اس پر ایمان رکھتے ہیں جو یقین کے ساتھ اس سے آس لگائے ہو اور ایمان (کامل) کے ساتھ اس کی طرف رجوع ہو اور اطاعت و فرمانبرداری کے ساتھ اس کے سامنے عاجزی و فروتنی کرتا ہو اور اسے ایک جانتے ہوئے اس سے اخلاص برتتا ہو اور سپاس گزاری کے ساتھ اسے بزرگ جانتا ہو اور رغبت و کوشش سے اس کے دامن میں پناہ ڈھونڈتا ہو۔ اس کا کوئی باپ نہیں کہ وہ عزت و بزرگی میں اس کا شریک ہو، نہ اس کے کوئی اولاد ہے کہ اسے چھوڑ کر وہ دنیا سے رخصت ہو جائے اور وہ اس کی وارث ہو جائے، نہ اس کے پہلے وقت اور زمانہ تھا، نہ اس پر یکے بعد دیگرے کمی اور زیادتی طاری ہوتی ہے، بلکہ جو اس نے مضبوط نظام (کائنات) اور اٹل احکام کی علامتیں ہمیں دکھائی ہیں، ان کی وجہ سے وہ عقلوں کیلئے ظاہر ہوا ہے۔ چنانچہ اس آفرنیش پر گواہی دینے والوں میں آسمانوں کی خلقت ہے کہ جو بغیر ستونوں کے ثابت و برقرار اور بغیر سہارے کے قائم ہیں۔ خداوند عالم نے انہیں پکارا تو یہ بغیر کسی سستی اور توقف کے اطاعت و فرمانبرداری کرتے ہوئے لبیک کہہ اٹھے۔ اگر وہ اس کی ربوبیت کا اقرار نہ کرتے اور اس کے سامنے سر اطاعت نہ جھکاتے تو وہ انہیں اپنے عرش کا مقام اور اپنے فرشتوں کا مسکن اور پاکیزہ کلموں اور مخلوق کے نیک عملوں کے بلند ہونے کی جگہ نہ بناتا۔ اللہ نے ان کے ستاروں کو ایسی روشن نشانیاں قرار دیا ہے کہ جن سے حیران و سرگرداں اطراف زمین کی راہوں میں آنے جانے کیلئے راہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ اندھیری رات کی اندھیاریوں کے سیاہ پردے ان کے نور کی ضوپاشیوں کو نہیں روکتے اور نہ شب ہائے تاریک کی تیرگی کے پردے یہ طاقت رکھتے ہیں کہ وہ آسمانوں میں پھیلی ہوئی چاند کے نور کی جگمگاہٹ کو پلٹا دیں۔ پاک ہے وہ ذات جس پر پست زمین کے قطعوں اور باہم ملے ہوئے سیاہ پہاڑوں کی چوٹیوں میں اندھیری رات کی اندھیاریاں اور پرسکون شب کی ظلمتیں پوشیدہ نہیں ہیں اور نہ اُفق آسمان میں رعد کی گرج اس سے مخفی ہے اور نہ وہ چیزیں کہ جن پر بادلوں کی بجلیاں کوند کر ناپید ہو جاتی ہیں اور نہ وہ پتے جو(ٹوٹ کر) گرتے ہیں کہ جنہیں (بارش کے)نچھتروں کی تند ہوائیں اور موسلا دھار بارشیں ان کے گرنے کی جگہ سے ہٹا دیتی ہیں۔ وہ جانتا ہے کہ بارش کے قطرے کہاں گریں گے اور کہاں ٹھہریں گے اور چھوٹی چیونٹیاں کہاں رینگیں گی اور کہاں (اپنے کو) کھینچ کر لے جائیں گی اور مچھروں کو کون سی روزی کفایت کرے گی اور مادہ اپنے پیٹ میں کیا لئے ہوئے ہے۔ تمام حمد اس اللہ کیلئے ہے جو عرش و کرسی، زمین و آسمان اور جن و انس سے پہلے موجود تھا۔ نہ (انسانی) وہموں سے اسے جانا جا سکتا ہے اور نہ عقل و فہم سے اس کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ اسے کوئی سوال کرنے والا (دوسرے سائلوں سے) غافل نہیں بناتا اور نہ بخشش و عطا سے اس کے ہاں کچھ کمی آتی ہے۔ وہ آنکھوں سے دیکھا نہیں جا سکتا اور نہ کسی جگہ میں اس کی حد بندی ہو سکتی ہے۔ نہ ساتھیوں کے ساتھ اسے متصف کیا جا سکتا ہے اور نہ (اعضاء و جوارح کی) حرکت سے وہ پیدا کرتا ہے اور نہ حواس سے وہ جانا پہچانا جا سکتا ہے اور نہ انسانوں پر اس کا قیاس ہو سکتا ہے۔ وہ خدا کہ جس نے بغیر اعضاء و جوارح اور بغیر گویائی اور بغیر حلق کے کوؤں کو ہلائے ہوئے موسیٰ علیہ السلام سے باتیں کیں اور انہیں اپنی عظیم نشانیاں دکھلائیں۔ اے اللہ کی توصیف میں رنج و تعب اٹھانے والے! اگر تو (اس سے عہدہ برآہونے میں) سچا ہے تو پہلے جبرئیلؑ و میکائیلؑ اور مقرب فرشتوں کے لاؤ لشکر کا وصف بیان کر کہ جو پاکیزگی و طہارت کے حجروں میں اس عالم میں سر جھکائے پڑے ہیں کہ ان کی عقلیں ششدر و حیران ہیں کہ وہ اس بہترین خالق کی توصیف کر سکیں۔ صفتوں کے ذریعے وہ چیزیں جانی پہچانی جاتی ہیں جو شکل وصورت اور اعضاء و جوارح رکھتی ہوں اور وہ کہ جو اپنی حد انتہا کو پہنچ کر موت کے ہاتھوں ختم ہو جائیں۔ اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں کہ جس نے اپنے نور سے تمام تاریکیوں کو روشن و منور کیا اور ظلمت (عدم) سے ہر نور کو تیرہ و تار بنادیا ہے۔ اللہ کے بندو! میں تمہیں اس اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں جس نے تم کو لباس سے ڈھانپا اور ہر طرح کا سامانِ معیشت تمہارے لئے مہیا کیا۔ اگر کوئی دنیوی بقا (کی بلندیوں پر) چڑھنے کا زینہ یا موت کو دور کرنے کا راستہ پا سکتا ہوتا تو وہ سلیمان ابن داؤد علیہما السلام ہوتے کہ جن کیلئے نبوت و انتہائے تقرب کے ساتھ جن و انس کی سلطنت قبضہ میں دے دی گئی تھی، لیکن جب وہ اپنا آب و دانہ پورا اور اپنی مدت (حیات) ختم کر چکے تو فنا کی کمانوں نے انہیں موت کے تیروں کی زد پر رکھ لیا، گھر ان سے خالی ہو گئے اور بستیاں اجڑ گئیں اور دوسرے لوگ ان کے وارث ہو گئے۔ تمہارے لئے گزشتہ دوروں (کے ہر دور)میں عبرتیں (ہی عبرتیں) ہیں۔ (ذرا سوچو تو کہ) کہاں ہیں عمالقہ [۱] اور ان کے بیٹے؟ اور کہاں ہیں فرعون اور ان کی اولادیں؟ کہاں ہیں اصحاب الرس کے شہروں کے باشندے؟ جنہوں نے نبیوں کو قتل کیا، پیغمبروں کے روشن طریقوں کو مٹایا اور ظالموں کے طور طریقوں کو زندہ کیا۔ کہاں ہیں وہ لوگ جو لشکروں کو لے کر بڑھے؟ ہزاروں کو شکست دی اور فوجوں کو فراہم کرکے شہروں کو آباد کیا۔ [اسی خطبہ کے ذیل میں فرمایا ہے] وہ حکمت کی سپر پہنے ہو گا اور اس کو اس کے تمام شرائط و آداب کے ساتھ حاصل کیا ہو گا (جو یہ ہیں کہ:)ہمہ تن اس کی طرف توجہ ہو، اس کی اچھی طرح شناخت ہو اور دل (علائق دنیا سے) خالی ہو۔ چنانچہ وہ اس کے نزدیک اسی کی گمشدہ چیز اور اسی کی حاجت و آرزو ہے کہ جس کا وہ طلبگار و خواستگار ہے۔ وہ اس وقت (نظروں سے اوجھل ہو کر) غریب و مسافر ہو گا کہ جب اسلام عالم غربت میں اور مثل اس اونٹ کے ہو گا جو تھکن سے اپنی دم زمین پر مارتا ہو اور گردن کا اگلا حصہ زمین پر ڈالے ہوئے ہو۔ وہ اللہ کی باقی ماندہ حجتوں کا بقیہ اور انبیاءؑ کے جانشینوں میں سے ایک وارث و جانشین ہے۔ اس کے بعد حضرتؑ نے فرمایا: اے لوگو! میں نے تمہیں اسی طرح نصیحتیں کی ہیں جس طرح کی انبیاءؑ اپنی اُمتوں کو کرتے چلے آئے ہیں اور ان چیزوں کو تم تک پہنچایا ہے جو اوصیاءؑ بعد والوں تک پہنچایا کئے ہیں۔ میں نے تمہیں اپنے تازیانہ سے ادب سکھانا چاہا مگر تم سیدھے نہ ہوئے اور زجر وتو بیخ سے تمہیں ہنکایا لیکن تم یکجا نہ ہوئے۔ اللہ تمہیں سمجھے! کیا میرے علاوہ کسی اور امام کے امید وار ہو جو تمہیں سیدھی راہ پر چلائے اور صحیح راستہ دکھائے؟۔ دیکھو! دنیا کی طرف رخ کرنے والی چیزوں نے جو رخ کئے ہوئے تھیں پیٹھ پھرا لی اور جو پیٹھ پھرائے ہوئے تھیں انہوں نے رخ کر لیا، اللہ کے نیک بندوں نے (دنیا سے) کوچ کرنے کا تہیہ کر لیا اور فنا ہونے والی تھوڑی سی دنیا ہاتھ سے دے کر ہمیشہ رہنے والی بہت سی آخرت مول لے لی۔ بھلا اُن ہمارے بھائی بندوں کو کہ جن کے خون صفین میں بہائے گئے اس سے کیا نقصان پہنچا کہ وہ آج زندہ موجود نہیں ہیں؟ (یہی نہ کہ اگر وہ ہوتے) تو تلخ گھونٹوں کو گوارا کرتے اور گدلا پانی پیتے۔ خدا کی قسم! وہ خدا کے حضور میں پہنچ گئے، اس نے ان کو پورا پورا اجر دیا اور خوف و ہراس کے بعد انہیں امن چین والے گھر میں اتارا۔ کہاں ہیں؟وہ میرے بھائی کہ جو سیدھی راہ پر چلتے رہے اور حق پر گزر گئے۔ کہاں ہیں عمار؟ اور کہاں ہیں ابن تیہان؟ اور کہاں ہیں ذو الشہادتین؟ اور کہاں ہیں ان کے ایسے اور دوسرے بھائی؟ کہ جو مرنے پر عہد و پیمان باندھے ہوئے تھے اور جن کے سروں کو فاسقوں کے پاس روانہ کیا گیا۔ نوف کہتے ہیں کہ: اس کے بعد حضرتؑ نے اپنا ہاتھ ریش مبارک پر پھیرا اور دیر تک رویا کئے اور پھر فرمایا: آہ! میرے وہ بھائی کہ جنہوں نے قرآن کو پڑھا تو اسے مضبوط کیا، اپنے فرائض میں غور و فکر کیا تو انہیں ادا کیا، سنت کو زندہ کیا اور بدعت کو موت کے گھاٹ اتارا، جہاد کیلئے انہیں بلایا گیا تو انہوں نے لبیک کہی اور اپنے پیشوا پر یقین کامل کے ساتھ بھروسا کیا تو اس کی پیروی بھی کی۔ اس کے بعد حضرتؑ نے بلند آواز سے پکار کر کہا: جہاد! جہاد! اے بندگان خدا! دیکھو میں آج ہی لشکر کو ترتیب دے رہا ہوں۔ جو اللہ کی طرف بڑھنا چاہے وہ نکل کھڑا ہو۔ نوف کہتے ہیں کہ: اس کے بعد حضرتؑ نے دس ہزار کی سپاہ پر حسین علیہ السلام کو اور دس ہزار کی فوج پر قیس ابن سعد کو اور دس ہزار کے لشکر پر ابو ایوب انصاری ؒ کو امیر بنایا اور دوسرے لوگوں کو مختلف تعداد کی فوجوں پر سالار مقرر کیا اور آپؑ صفین کی طرف پلٹ کر جانے کا ارادہ رکھتے تھے، لیکن ایک ہفتہ بھی گزرنے نہ پایا تھا کہ ملعون ابن ملجم (لعنة اللہ) نے آپؑ کے (سر اقدس پر) ضرب لگائی جس سے یہ تمام لشکر پلٹ گئے اور ہماری حالت ان بھیڑ بکریوں کے مانند ہو گئی جو اپنے چرواہے کو کھو چکی ہوں اور بھیڑیے ہر طرف سے انہیں اُچک کر لے جا رہے ہوں۔

  181. خطبہ 181- خداوند عالم کی توصیف، قرآن کی عظمت اور عذاب آخرت سے تخویف

    181

    بُعْداً لَهُمْ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُودُ أَمَا لَوْ أُشْرِعَتِ الْأَسِنَّةُ إِلَيْهِمْ وَ صُبَّتِ السُّيُوفُ عَلَى هَامَاتِهِمْ لَقَدْ نَدِمُوا عَلَى مَا كَانَ مِنْهُمْ إِنَّ الشَّيْطَانَ الْيَوْمَ قَدِ اسْتَقَلَّهُمْ وَ هُوَ غَداً مُتَبَرِّئٌ مِنْهُمْ وَ مُتَخَلٍّ عَنْهُمْ فَحَسْبُهُمْ‏ بِخُرُوجِهِمْ مِنَ الْهُدَى وَ ارْتِكَاسِهِمْ فِي الضَّلَالِ وَ الْعَمَى وَ صَدِّهِمْ عَنِ الْحَقِّ وَ جِمَاحِهِمْ فِي التِّيهِ

    تمام حمد اس اللہ کیلئے ہے کہ جو بِن دیکھے جانا پہچانا ہوا اور بے رنج و تعب اٹھائے (ہر چیز کا) پیدا کرنے والا ہے۔ اس نے اپنی قدرت سے مخلوقات کو پیدا کیا اور اپنی عزت و جلالت کے پیش نظر فرمانرواؤں سے اطاعت و بندگی لی اور اپنے جود و عطا کی بدولت با عظمت لوگوں پر سرداری کی۔ وہ اللہ جس نے دنیا میں اپنی مخلوقات کو آباد کیا اور اپنے رسولوں کو جن و انس کی طرف بھیجا تاکہ وہ ان کے سامنے دنیا کو بے نقاب کریں اور اس کی مضرتوں سے انہیں ڈرائیں دھمکائیں، اس کی (بیوفائی کی) مثالیں بیان کریں اور اس کی صحت و بیماری کے تغیرات سے ایک دَم انہیں پوری پوری عبرت دلانے کا سامان کردیں اور اس کے عیوب اور حلال و حرام کے (ذرائع اکتساب) اور فرمانبرداروں اور نافرمانوں کیلئے جو بہشت و دوزخ او رعزت و دولت کے سامان اللہ نے مہیا کئے ہیں دکھلائیں۔ میں اس کی ذات کی طرف ہمہ تن متوجہ ہو کر اس کی ایسی حمد و ثنا کرتا ہوں جیسی حمد اس نے اپنی مخلوقات سے چاہی ہے۔ اس نے ہر شے کا ایک اندازہ اور ہر اندازے کی ایک مدت اور ہر مدت کیلئے ایک نوشتہ قرار دیا ہے۔ [اسی خطبہ کا ایک جز یہ ہے] قرآن (اچھائیوں کا )حکم دینے والا، برائیوں سے روکنے والا، (بظاہر) خاموش اور (بباطن) گویا اور مخلوقات پر اللہ کی حجت ہے کہ جس پر (عمل کرنے کا) اس نے بندوں سے عہد لیا ہے اور ان کے نفسوں کو اس کا پابند بنایا ہے، اس کے نور کو کامل اور اس کے ذریعہ سے دین کو مکمل کیا ہے اور نبی ﷺ کو اس حالت میں دنیا سے اٹھایا کہ وہ لوگوں کو ایسے احکام قرآن کی تبلیغ کر کے فارغ ہو چکے تھے کہ جو ہدایت و رستگاری کا سبب ہیں۔ لہٰذا اللہ سبحانہ کو ایسی بزرگی و عظمت کے ساتھ یاد کرو جیسی اپنی بزرگی خود اس نے بیان کی ہے، کیونکہ اس نے اپنے دین کی کوئی بات تم سے نہیں چھپائی اور کسی شے کو خواہ اسے پسند ہو یا ناپسند بغیر کسی واضح علامت اور محکم نشان کے نہیں چھوڑا، جو ناپسند امور سے روکے اور پسندیدہ باتوں کی طرف دعوت دے (ان احکام کے متعلق)اس کی خوشنودی و ناراضگی کا معیار زمانہ آئندہ میں بھی ایک رہے گا۔ یاد رکھو! کہ وہ تم سے کسی ایسی چیز پر رضا مند نہ ہو گا کہ جس پر تمہارے اگلوں سے ناراض ہو چکا ہو اور نہ کسی ایسی چیز پر غضبناک ہو گا کہ جس پر پہلے لوگوں سے خوش رہ چکا ہو۔ تمہیں تو بس یہی چاہیے کہ تم واضح نشانوں پر چلتے رہو اور تم سے پہلے لوگوں نے جو کہا ہے اسے دہراتے رہو۔ وہ تمہاری ضروریات دنیا کا ذمہ لے چکا ہے اور تمہیں صرف شکر گزار رہنے کی ترغیب دی ہے اور تم پر واجب کیا ہے کہ اپنی زبان سے اس کا ذکر کرتے رہو اور تمہیں تقویٰ و پرہیز گاری کی ہدایت کی ہے اور اسے اپنی رضا و خوشنودی کی حد آخر اور مخلوق سے اپنا مدعا قرار دیا ہے۔ اس اللہ سے ڈرو کہ تم جس کی نظروں کے سامنے ہو اور جس کے ہاتھ میں تمہاری پیشانیوں کے بال اور جس کے قبضہ قدرت میں تمہارا اٹھنا بیٹھنا اور چلنا پھرنا ہے۔ اگر تم کوئی بات مخفی رکھو گے تو وہ اسے جان لے گا اور ظاہر کرو گے تو اسے لکھ لے گا، (یوں کہ) اس نے تم پر نگہبانی کرنے والے مکرم فرشتے مقرر کر رکھے ہیں۔ وہ کسی حق کو نظر انداز اور کسی غلط چیز کو درج نہیں کرتے۔ یاد رکھو! کہ جو اللہ سے ڈرے گا وہ اس کیلئے فتنوں سے (بچ کر) نکلنے کی راہ نکال دے گا اور اندھیاریوں سے اجالے میں لے آئے گا اور اس کے حسب دلخواہ نعمتوں میں اسے ہمیشہ رکھے گا اور اسے اپنے پاس ایسے گھر میں کہ جسے اس نے اپنے لئے منتخب کیا ہے عزت و بزرگی کی منزل میں لا اتارے گا۔ اس گھر کا سایہ عرش، اس کی روشنی جمالِ قدرت (کی چھوٹ)، اس میں ملاقاتی ملائکہ اور رفیق و ہم نشین انبیاء و مرسلین علیہم السلام ہیں۔ اپنی جائے باز گشت کی طرف بڑھو اور زاد عمل فراہم کرنے میں موت پر سبقت کرو۔ اس لئے کہ وہ وقت قریب ہے کہ لوگوں کی امیدیں ٹوٹ جائیں، موت ان پر چھا جائے اور توبہ کا دروازہ ان کیلئے بند ہو جائے۔ ابھی تو تم اس دور میں ہو کہ جس کی طرف پلٹنے کی تم سے قبل گزر جانے والے لوگ تمنا کرتے ہیں۔ تم اس دار دنیا میں کہ جو تمہارے رہنے کا گھر نہیں ہے مسافر راہ نورد ہو۔ اس سے تمہیں کوچ کرنے کی خبر دی جا چکی ہے اور اس میں رہتے ہوئے تمہیں زاد کے مہیا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یاد رکھو! کہ اس نرم و نازک کھال میں آتش جہنم کے برداشت کرنے کی طاقت نہیں (تو پھر) اپنی جانوں پر رحم کھاؤ، کیونکہ تم نے ان کو دنیا کی مصیبتوں میں آزما کر دیکھ لیا ہے۔ کیا تم نے اپنے میں سے کسی ایک کو دیکھا ہے کہ وہ (جسم میں) کانٹا لگنے سے یا ایسی ٹھوکر کھانے سے کہ جو اسے لہولہان کر دے یا ایسی گرم ریت (کی تپش) سے کہ جو اسے جلا دے کس طرح بے چین ہو کر چیختا ہے۔ (ذرا سوچو تو) کہ اس وقت کیا حالت ہو گی کہ جب وہ جہنم کے دو آتشیں تووں کے درمیان (دہکتے ہوئے) پتھروں کا پہلو نشین اور شیطان کا ساتھی ہو گا۔ کیا تمہیں خبر ہے کہ جب مالک (پاسبان جہنم) آگ پر غضبناک ہو گا تو وہ اس کے غصہ سے (بھڑک کر آپس میں ٹکرانے لگے گی اور) اس کے اجزا ایک دوسرے کو توڑنے پھوڑنے لگیں گے اور جب اسے جھڑکے گا تو اس کی جھڑکیوں سے (تلملا کر) دوزخ کے دروازوں میں اچھلنے لگے گی۔ اے پیر کہن سال! کہ جس پر بڑھاپا چھایا ہوا ہے، اس وقت تیری کیا حالت ہو گی؟ کہ جب آتشیں طوق گردن کی ہڈیوں میں پیوست ہو جائیں گے اور (ہاتھوں میں) ہتھکڑیاں گڑ جائیں گی، یہاں تک کہ وہ کلائیوں کا گوشت کھالیں گی۔ اے خدا کے بندو! اب جبکہ تم بیماریوں میں مبتلا ہونے اور تنگی و ضیق میں پڑنے سے پہلے صحت و فراخی کے عالم میں صحیح و سالم ہو، اللہ کا خوف کھالو اور اپنی گردنوں کو قبل اس کے کہ وہ اس طرح گروی ہو جائیں کہ انہیں چھڑایا نہ جا سکے، چھڑانے کی کوشش کرو۔ اپنی آنکھوں کو بیدار اور شکموں کو لاغر بناؤ، (میدانِ سعی میں) اپنے قدموں کو کام میں لاؤ اور اپنے مال کو (اس کی راہ میں) خرچ کرو۔ اپنے جسموں کو اپنے نفسوں پر نثار کر دو اور ان سے بخل نہ برتو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: ’’اگر تم خدا کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا‘‘۔ اور (پھر) فرمایا کہ: ’’کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے، تو خدا اس کے اجر کو دگنا کر دے گا اور اس کیلئے عمدہ جزا ہے‘‘۔ خدا نے کسی کمزوری کی بنا پر تم سے مدد نہیں مانگی اور نہ بے مائیگی کی وجہ سے تم سے قرض کا سوال کیا ہے۔ اس نے تم سے مدد چاہی ہے باوجودیکہ اس کے پاس سارے آسمان و زمین کے لشکر ہیں اور وہ غلبہ اور حکمت والا ہے۔ اور تم سے قرض مانگا ہے، حالانکہ آسمان و زمین کے خزانے اس کے قبضہ میں ہیں اور وہ بے نیاز و لائق حمد و ثنا ہے۔ اس نے تو یہ چاہا ہے کہ تمہیں آزمائے کہ تم میں اعمال کے لحاظ سے کون بہتر ہے۔ تم اپنے اعمال کو لے کر بڑھو، تاکہ اللہ کے ہمسایوں کے ساتھ اس کے گھر (جنت) میں رہو۔ وہ ایسے ہمسائے ہیں کہ اللہ نے جنہیں پیغمبروں کا رفیق بنایا ہے اور فرشتوں کو ان کی ملاقات کا حکم دیا ہے اور ان کے کانوں کو ہمیشہ کیلئے محفوظ رکھا ہے کہ آگ (کی اذیتوں) کی بھنک ان میں نہ پڑے اور ان کے جسموں کو بچائے رکھا ہے کہ وہ رنج او رتکان سے دو چار نہ ہوں۔ ’’یہ خدا کا فضل ہے، وہ جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور خدا تو بڑے فضل و کرم والا ہے‘‘۔ میں وہی کہہ رہا ہوں جو تم سن رہے ہو۔ ’’میرے اور تمہارے نفسوں کیلئے اللہ ہی مدد گار ہے اور وہی میرے لئے کافی اور اچھا ساز گار ہے‘‘۔

  182. خطبہ 182- جب «لا حکم الا اللہ» کا نعرہ لگایا گیا تو فرمایا

    182

    الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي إِلَيْهِ مَصَائِرُ الْخَلْقِ وَ عَوَاقِبُ الْأَمْرِ نَحْمَدُهُ عَلَى عَظِيمِ إِحْسَانِهِ وَ نَيِّرِ بُرْهَانِهِ وَ نَوَامِي فَضْلِهِ وَ امْتِنَانِهِ حَمْداً يَكُونُ لِحَقِّهِ قَضَاءً وَ لِشُكْرِهِ أَدَاءً وَ إِلَى ثَوَابِهِ مُقَرِّباً وَ لِحُسْنِ مَزِيدِهِ مُوجِباً وَ نَسْتَعِينُ بِهِ اسْتِعَانَةَ رَاجٍ لِفَضْلِهِ مُؤَمِّلٍ لِنَفْعِهِ وَاثِقٍ بِدَفْعِهِ مُعْتَرِفٍ لَهُ بِالطَّوْلِ مُذْعِنٍ لَهُ بِالْعَمَلِ وَ الْقَوْلِ وَ نُؤْمِنُ بِهِ إِيمَانَ مَنْ رَجَاهُ مُوقِناً وَ أَنَابَ إِلَيْهِ مُؤْمِناً وَ خَنَعَ لَهُ مُذْعِناً وَ أَخْلَصَ لَهُ مُوَحِّداً وَ عَظَّمَهُ مُمَجِّداً وَ لَاذَ بِهِ رَاغِباً مُجْتَهِداً لَمْ يُولَدْ سُبْحَانَهُ فَيَكُونَ فِي الْعِزِّ مُشَارَكاً وَ لَمْ يَلِدْ فَيَكُونَ مَوْرُوثاً هَالِكاً وَ لَمْ يَتَقَدَّمْهُ وَقْتٌ وَ لَا زَمَانٌ وَ لَمْ يَتَعَاوَرْهُ زِيَادَةٌ وَ لَا نُقْصَانٌ بَلْ ظَهَرَ لِلْعُقُولِ بِمَا أَرَانَا مِنْ عَلَامَاتِ التَّدْبِيرِ الْمُتْقَنِ وَ الْقَضَاءِ الْمُبْرَمِ فَمِنْ شَوَاهِدِ خَلْقِهِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ مُوَطَّدَاتٍ بِلَا عَمَدٍ قَائِمَاتٍ بِلَا سَنَدٍ دَعَاهُنَّ فَأَجَبْنَ طَائِعَاتٍ مُذْعِنَاتٍ غَيْرَ مُتَلَكِّئَاتٍ وَ لَا مُبْطِئَاتٍ وَ لَوْ لَا إِقْرَارُهُنَّ لَهُ بِالرُّبُوبِيَّة وَ إِذْعَانُهُنَّ بِالطَّوَاعِيَةِ لَمَا جَعَلَهُنَّ مَوْضِعاً لِعَرْشِهِ وَ لَا مَسْكَناً لِمَلَائِكَتِهِ وَ لَا مَصْعَداً لِلْكَلِمِ الطَّيِّبِ وَ الْعَمَلِ الصَّالِحِ مِنْ خَلْقِهِ جَعَلَ نُجُومَهَا أَعْلَاماً يَسْتَدِلُّ بِهَا الْحَيْرَانُ فِي مُخْتَلَفِ فِجَاجِ الْأَقْطَارِ لَمْ يَمْنَعْ ضَوْءَ نُورِهَا ادْلِهْمَامُ سَجْفِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ وَ لَا اسْتَطَاعَتْ جَلَابِيبُ سَوَادِ الْحَنَادِسِ أَنْ تَرُدَّ مَا شَاعَ فِي السَّمَاوَاتِ مِنْ تَلَأْلُؤِ نُورِ الْقَمَرِ فَسُبْحَانَ مَنْ لَا يَخْفَى عَلَيْهِ سَوَادُ غَسَقٍ دَاجٍ وَ لَا لَيْلٍ سَاجٍ فِي بِقَاعِ الْأَرَضِينَ الْمُتَطَأْطِئَاتِ وَ لَا فِي يَفَاعِ السُّفُعِ الْمُتَجَاوِرَاتِ وَ مَا يَتَجَلْجَلُ بِهِ الرَّعْدُ فِي أُفُقِ السَّمَاءِ وَ مَا تَلَاشَتْ عَنْهُ بُرُوقُ الْغَمَامِ وَ مَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ تُزِيلُهَا عَنْ مَسْقَطِهَا عَوَاصِفُ الْأَنْوَاءِ وَ انْهِطَالُ السَّمَاءِ وَ يَعْلَمُ مَسْقَطَ الْقَطْرَةِ وَ مَقَرَّهَا وَ مَسْحَبَ الذَّرَّةِ وَ مَجَرَّهَا وَ مَا يَكْفِي الْبَعُوضَةَ مِنْ قُوتِهَا وَ مَا تَحْمِلُ الْأُنْثَى فِي بَطْنِهَا وَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الْكَائِنِ قَبْلَ أَنْ يَكُونَ كُرْسِيٌّ أَوْ عَرْشٌ أَوْ سَمَاءٌ أَوْ أَرْضٌ أَوْ جَانٌّ أَوْ إِنْسٌ لَا يُدْرَكُ بِوَهْمٍ وَ لَا يُقَدَّرُ بِفَهْمٍ وَ لَا يَشْغَلُهُ سَائِلٌ وَ لَا يَنْقُصُهُ نَائِلٌ وَ لَا يَنْظُرُ بِعَيْنٍ وَ لَا يُحَدُّ بِأَيْنٍ وَ لَا يُوصَفُ بِالْأَزْوَاجِ وَ لَا يَخْلُقُ بِعِلَاجٍ وَ لَا يُدْرَكُ بِالْحَوَاسِّ وَ لَا يُقَاسُ بِالنَّاسِ الَّذِي كَلَّمَ مُوسَى تَكْلِيماً وَ أَرَاهُ مِنْ آيَاتِهِ عَظِيماً بِلَا جَوَارِحَ وَ لَا أَدَوَاتٍ وَ لَا نُطْقٍ وَ لَا لَهَوَاتٍ بَلْ إِنْ كُنْتَ صَادِقاً أَيُّهَا الْمُتَكَلِّفُ لِوَصْفِ رَبِّكَ فَصِفْ جِبْرِيلَ وَ مِيكَائِيلَ وَ جُنُودَ الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ فِي حُجُرَاتِ الْقُدْسِ مُرْجَحِنِّينَ مُتَوَلِّهَةٌ عُقُولُهُمْ أَنْ يَحُدُّوا أَحْسَنَ الْخَالِقِينَ وَ إِنَّمَا يُدْرَكُ بِالصِّفَاتِ ذَوُو الْهَيْئَاتِ وَ الْأَدَوَاتِ وَ مَنْ يَنْقَضِي إِذَا بَلَغَ أَمَدَ حَدِّهِ بِالْفَنَاءِ فَلَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ أَضَاءَ بِنُورِهِ كُلُّ ظَلَامٍ وَ أَظْلَمَ بِظُلْمَتِهِ كُلُّ نُورٍ الوصية بالتقوى أُوصِيكُمْ عِبَادَ اللَّهِ بِتَقْوَى اللَّهِ الَّذِي أَلْبَسَكُمُ الرِّيَاشَ وَ أَسْبَغَ عَلَيْكُمُ الْمَعَاشَ فَلَوْ أَنَّ أَحَداً يَجِدُ إِلَى الْبَقَاءِ سُلَّماً أَوْ لِدَفْعِ الْمَوْتِ سَبِيلًا لَكَانَ ذَلِكَ سُلَيْمَانَ بْنَ دَاوُدَ عليه السلام الَّذِي سُخِّرَ لَهُ مُلْكُ الْجِنِّ وَ الْإِنْسِ مَعَ النُّبُوَّةِ وَ عَظِيمِ الزُّلْفَةِ فَلَمَّا اسْتَوْفَى طُعْمَتَهُ وَ اسْتَكْمَلَ مُدَّتَهُ رَمَتْهُ قِسِيُّ الْفَنَاءِ بِنِبَالِ الْمَوْتِ وَ أَصْبَحَتِ الدِّيَارُ مِنْهُ خَالِيَةً وَ الْمَسَاكِنُ مُعَطَّلَةً وَ وَرِثَهَا قَوْمٌ آخَرُونَ وَ إِنَّ لَكُمْ فِي الْقُرُونِ السَّالِفَةِ لَعِبْرَةً أَيْنَ الْعَمَالِقَةُ وَ أَبْنَاءُ الْعَمَالِقَةِ أَيْنَ الْفَرَاعِنَةُ وَ أَبْنَاءُ الْفَرَاعِنَةِ أَيْنَ أَصْحَابُ مَدَائِنِ الرَّسِّ الَّذِينَ قَتَلُوا النَّبِيِّينَ وَ أَطْفَئُوا سُنَنَ الْمُرْسَلِينَ وَ أَحْيَوْا سُنَنَ الْجَبَّارِينَ أَيْنَ الَّذِينَ سَارُوا بِالْجُيُوشِ وَ هَزَمُوا الْأُلُوفَ وَ عَسْكَرُوا الْعَسَاكِرَ وَ مَدَّنُوا الْمَدَائِنَ وَ مِنْهَا قَدْ لَبِسَ لِلْحِكْمَةِ جُنَّتَهَا وَ أَخَذَهَا بِجَمِيعِ أَدَبِهَا مِنَ الْإِقْبَالِ عَلَيْهَا وَ الْمَعْرِفَةِ بِهَا وَ التَّفَرُّغِ لَهَا فَهِيَ عِنْدَ نَفْسِهِ ضَالَّتُهُ الَّتِي يَطْلُبُهَا وَ حَاجَتُهُ الَّتِي يَسْأَلُ عَنْهَا فَهُوَ مُغْتَرِبٌ إِذَا اغْتَرَبَ الْإِسْلَامُ وَ ضَرَبَ بِعَسِيبِ ذَنَبِهِ وَ أَلْصَقَ الْأَرْضَ بِجِرَانِهِ بَقِيَّةٌ مِنْ بَقَايَا حُجَّتِهِ خَلِيفَةٌ مِنْ خَلَائِفِ أَنْبِيَائِهِ ثم قال عليه السلام: أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي قَدْ بَثَثْتُ لَكُمُ الْمَوَاعِظَ الَّتِي وَعَظَ بِهَا الْأَنْبِيَاءُ أُمَمَهُمْ وَ أَدَّيْتُ إِلَيْكُمْ مَا أَدَّتِ الْأَوْصِيَاءُ إِلَى مَنْ بَعْدَهُمْ وَ أَدَّبْتُكُمْ بِسَوْطِي فَلَمْ تَسْتَقِيمُوا وَ حَدَوْتُكُمْ بِالزَّوَاجِرِ فَلَمْ تَسْتَوْسِقُوا لِلَّهِ أَنْتُمْ أَ تَتَوَقَّعُونَ إِمَاماً غَيْرِي يَطَأُ بِكُمُ الطَّرِيقَ وَ يُرْشِدُكُمُ السَّبِيلَ أَلَا إِنَّهُ قَدْ أَدْبَرَ مِنَ الدُّنْيَا مَا كَانَ مُقْبِلًا وَ أَقْبَلَ مِنْهَا مَا كَانَ مُدْبِراً وَ أَزْمَعَ التَّرْحَالَ عِبَادُ اللَّهِ الْأَخْيَارُ وَ بَاعُوا قَلِيلًا مِنَ الدُّنْيَا لَا يَبْقَى بِكَثِيرٍ مِنَ الْآخِرَةِ لَا يَفْنَى مَا ضَرَّ إِخْوَانَنَا الَّذِينَ سُفِكَتْ دِمَاؤُهُم وَ هُمْ بِصِفِّينَ أَنْ لَا يَكُونُوا الْيَوْمَ أَحْيَاءً ْ يُسِيغُونَ الْغُصَصَ وَ يَشْرَبُونَ الرَّنْقَ قَدْ وَ اللَّهِ لَقُوا اللَّهَ فَوَفَّاهُمْ أُجُورَهُمْ وَ أَحَلَّهُمْ دَارَ الْأَمْنِ بَعْدَ خَوْفِهِمْ أَيْنَ إِخْوَانِيَ الَّذِينَ رَكِبُوا الطَّرِيقَ وَ مَضَوْا عَلَى الْحَقِّ أَيْنَ عَمَّارٌ وَ أَيْنَ ابْنُ التَّيِّهَانِ وَ أَيْنَ ذُو الشَّهَادَتَيْنِ وَ أَيْنَ نُظَرَاؤُهُمْ مِنْ إِخْوَانِهِمُ الَّذِينَ تَعَاقَدُوا عَلَى الْمَنِيَّةِ وَ أُبْرِدَ بِرُءُوسِهِمْ إِلَى الْفَجَرَةِ قَالَ: ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى لِحْيَتِهِ (الشَّرِيفَةِ الْكَرِيمَةِ) فَأَطَالَ الْبُكَاءَ ثُمَّ قَالَ عليه السلام : أَوَّهْ عَلَى إِخْوَانِيَ الَّذِينَ تَلَوُا الْقُرْآنَ فَأَحْكَمُوهُ وَ تَدَبَّرُوا الْفَرْضَ فَأَقَامُوهُ أَحْيَوُا السُّنَّةَ وَ أَمَاتُوا الْبِدْعَةَ دُعُوا لِلْجِهَادِ فَأَجَابُوا وَ وَثِقُوا بِالْقَائِدِ فَاتَّبَعُوهُ ثُمَّ نَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ الْجِهَادَ الْجِهَادَ عِبَادَ اللَّهِ أَلَا وَ إِنِّي مُعَسْكِرٌ فِي يَومِي هَذَا فَمَنْ أَرَادَ الرَّوَاحَ إِلَى اللَّهِ فَلْيَخْرُجْ قَالَ نَوْفٌ وَ عَقَدَ لِلْحُسَيْنِ عليه السلام فِي عَشَرَةِ آلَافٍ وَ لِقَيْسِ بْنِ سَعْدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي عَشَرَةِ آلَافٍ وَ لِأَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ فِي عَشَرَةِ آلَافٍ وَ لِغَيْرِهِمْ عَلَى أَعْدَادٍ أُخَرَ وَ هُوَ يُرِيدُ الرَّجْعَةَ إِلَى صِفِّينَ فَمَا دَارَتِ الْجُمُعَةُ حَتَّى ضَرَبَهُ الْمَلْعُونُ ابْنُ مُلْجَمٍ لَعَنَهُ اللَّهُ فَتَرَاجَعَتِ الْعَسَاكِرُ فَكُنَّا كَأَغْنَامٍ فَقَدَتْ رَاعِيهَا تَخْتَطِفُهَا الذِّئَابُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ

    برج ابن مسہر طائی نے کہ جو خوارج میں سے تھا (مشہور نعرہ) « لَا حُکْمَ اِلَّا لِلّٰہِ» (حکم کا اختیار صرف اللہ کو ہے) اس طرح بلند کیا کہ حضرتؑ سن لیں۔ چنانچہ آپؑ نے سن کر ارشاد فرمایا: خاموش! خدا تیرا برا کرے اے ٹوٹے ہوئے دانتوں والے! خدا کی قسم! جب حق ظاہر ہوا تو اس وقت تیری شخصیت ذلیل اور تیری آواز دبی ہوئی تھی اور جب باطل زور سے چیخا ہے تو بھی بکری کے سینگ کی طرح ابھر آیا ہے۔

  183. خطبہ 183- خداوند عالم کی عظمت و توصیف اور ٹڈی کی عجیب و غریب خلقت

    183

    الْحَمْدُ لِلَّهِ الْمَعْرُوفِ مِنْ غَيْرِ رُؤْيَةٍ وَ الْخَالِقِ مِنْ غَيْرِ مَنْصَبَةٍ خَلَقَ الْخَلَائِقَ بِقُدْرَتِهِ وَ اسْتَعْبَدَ الْأَرْبَابَ بِعِزَّتِهِ وَ سَادَ الْعُظَمَاءَ بِجُودِهِ وَ هُوَ الَّذِي أَسْكَنَ الدُّنْيَا خَلْقَهُ وَ بَعَثَ إِلَى الْجِنِّ وَ الْإِنْسِ رُسُلَهُ لِيَكْشِفُوا لَهُمْ عَنْ غِطَائِهَا وَ لِيُحَذِّرُوهُمْ مِنْ ضَرَّائِهَا وَ لِيَضْرِبُوا لَهُمْ أَمْثَالَهَا وَ لِيُبَصِّرُوهُمْ عُيُوبَهَا وَ لِيَهْجُمُوا عَلَيْهِمْ بِمُعْتَبَرٍ مِنْ تَصَرُّفِ مَصَاحِّهَا وَ أَسْقَامِهَا وَ حَلَالِهَا وَ حَرَامِهَا وَ مَا أَعَدَّ اللَّهُ سُبْحَانَهُ لِلْمُطِيعِينَ مِنْهُمْ وَ الْعُصَاةِ مِنْ جَنَّةٍ وَ نَارٍ وَ كَرَامَةٍ وَ هَوَانٍ أَحْمَدُهُ إِلَى نَفْسِهِ كَمَا اسْتَحْمَدَ إِلَى خَلْقِهِ جَعَلَ لِكُلِّ شَيْ‏ءٍ قَدْراً وَ لِكُلِّ قَدْرٍ أَجَلًا وَ لِكُلِّ أَجَلٍ كِتَاباً منها فى ذكر القران فَالْقُرْآنُ آمِرٌ زَاجِرٌ وَ صَامِتٌ نَاطِقٌ حُجَّةُ اللَّهِ عَلَى خَلْقِهِ أَخَذَ عَلَيْهِ مِيثَاقَهُمْ وَ ارْتَهَنَ عَلَيْهِمْ أَنْفُسَهُمْ أَتَمَّ نُورَهُ وَ أَكْمَلَ بِهِ دِينَهُ وَ قَبَضَ نَبِيَّهُ صلى الله عليه واله وَ قَدْ فَرَغَ إِلَى الْخَلْقِ مِنْ أَحْكَامِ الْهُدَى بِهِ فَعَظِّمُوا مِنْهُ سُبْحَانَهُ مَا عَظَّمَ مِنْ نَفْسِهِ فَإِنَّهُ لَمْ يُخْفِ عَنْكُمْ شَيْئاً مِنْ دِينِهِ وَ لَمْ يَتْرُكْ شَيْئاً رَضِيَهُ أَوْ كَرِهَهُ إِلَّا وَ جَعَلَ لَهُ عَلَماً بَادِياً وَ آيَةً مُحْكَمَةً تَزْجُرُ عَنْهُ أَوْ تَدْعُو إِلَيْهِ فَرِضَاهُ فِيمَا بَقِيَ وَاحِدٌ وَ سَخَطُهُ فِيمَا بَقِيَ وَاحِدٌ وَ اعْلَمُوا أَنَّهُ لَنْ يَرْضَى عَنْكُمْ بِشَيْ‏ءٍ سَخِطَهُ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ وَ لَنْ يَسْخَطَ عَلَيْكُمْ بِشَيْ‏ءٍ رَضِيَهُ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ وَ إِنَّمَا تَسِيرُونَ فِي أَثَرٍ بَيِّنٍ وَ تَتَكَلَّمُونَ بِرَجْعِ قَوْلٍ قَدْ قَالَهُ الرِّجَالُ مِنْ قَبْلِكُمْ قَدْ كَفَاكُمْ مَئُونَةَ دُنْيَاكُمْ وَ حَثَّكُمْ عَلَى الشُّكْرِ وَ افْتَرَضَ مِنْ أَلْسِنَتِكُمُ الذِّكْرَ الوصية بالتقوى وَ أَوْصَاكُم‏ بِالتَّقْوَى وَ جَعَلَهَا مُنْتَهَى رِضَاهُ وَ حَاجَتَهُ مِنْ خَلْقِهِ فَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي أَنْتُمْ بِعَيْنِهِ وَ نَوَاصِيكُمْ بِيَدِهِ وَ تَقَلُّبُكُمْ فِي قَبْضَتِهِ إِنْ أَسْرَرْتُمْ عَلِمَهُ وَ إِنْ أَعْلَنْتُمْ كَتَبَهُ قَدْ وَكَّلَ بِذَلِكَ حَفَظَةً كِرَاماً لَا يُسْقِطُونَ حَقّاً وَ لَا يُثْبِتُونَ بَاطِلًا وَ اعْلَمُوا أَنَّهُ مَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجاً مِنَ الْفِتَنِ وَ نُوراً مِنَ الظُّلَمِ وَ يُخَلِّدْهُ فِيمَا اشْتَهَتْ نَفْسُهُ وَ يُنْزِلْهُ مَنْزِلَ الْكَرَامَةِ عِنْدَهُ فِي دَارٍ اصْطَنَعَهَا لِنَفْسِهِ ظِلُّهَا عَرْشُهُ وَ نُورُهَا بَهْجَتُهُ وَ زُوَّارُهَا مَلَائِكَتُهُ وَ رُفَقَاؤُهَا رُسُلُهُ فَبَادِرُوا الْمَعَادَ وَ سَابِقُوا الْآجَالَ فَإِنَّ النَّاسَ يُوشِكُ أَنْ يَنْقَطِعَ بِهِمُ الْأَمَلُ وَ يَرْهَقَهُمُ الْأَجَلُ وَ يُسَدَّ عَنْهُمْ بَابُ التَّوْبَةِ فَقَدْ أَصْبَحْتُمْ فِي مِثْلِ مَا سَأَلَ إِلَيْهِ الرَّجْعَةَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ وَ أَنْتُمْ بَنُو سَبِيلٍ عَلَى سَفَرٍ مِنْ دَارٍ لَيْسَتْ بِدَارِكُمْ وَ قَدْ أُوذِنْتُمْ مِنْهَا بِالِارْتِحَالِ وَ أُمِرْتُمْ فِيهَا بِالزَّادِ وَ اعْلَمُوا أَنَّهُ لَيْسَ لِهَذَا الْجِلْدِ الرَّقِيقِ صَبْرٌ عَلَى النَّارِ فَارْحَمُوا نُفُوسَكُمْ فَإِنَّكُمْ قَدْ جَرَّبْتُمُوهَا فِي مَصَائِبِ الدُّنْيَا أَ فَرَأَيْتُمْ جَزَعَ أَحَدِكُمْ مِنَ الشَّوْكَةِ تُصِيبُهُ وَ الْعَثْرَةِ تُدْمِيهِ وَ الرَّمْضَاءِ تُحْرِقُهُ فَكَيْفَ إِذَا كَانَ بَيْنَ طَابَقَيْنِ مِنْ نَارٍ ضَجِيعَ حَجَرٍ وَ قَرِينَ شَيْطَانٍ أَ عَلِمْتُمْ أَنَّ مَالِكاً إِذَا غَضِبَ عَلَى النَّارِ حَطَمَ بَعْضُهَا بَعْضاً لِغَضَبِهِ وَ إِذَا زَجَرَهَا تَوَثَّبَتْ بَيْنَ أَبْوَابِهَا جَزَعاً مِنْ زَجْرَتِهِ أَيُّهَا الْيَفَنُ الْكَبِيرُ الَّذِي قَدْ لَهَزَهُ الْقَتِيرُ كَيْفَ أَنْتَ إِذَا الْتَحَمَتْ أَطْوَاقُ النَّارِ بِعِظَامِ الْأَعْنَاقِ وَ نَشِبَتِ الْجَوَامِعُ حَتَّى أَكَلَتْ لُحُومَ‏ السَّوَاعِدِ فَاللَّهَ اللَّهَ مَعْشَرَ الْعِبَادِ وَ أَنْتُمْ سَالِمُونَ فِي الصِّحَّةِ قَبْلَ السُّقْمِ وَ فِي الْفُسْحَةِ قَبْلَ الضِّيقِ فَاسْعَوْا فِي فَكَاكِ رِقَابِكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ تُغْلَقَ رَهَائِنُهَا أَسْهِرُوا عُيُونَكُمْ وَ أَضْمِرُوا بُطُونَكُمْ وَ اسْتَعْمِلُوا أَقْدَامَكُمْ وَ أَنْفِقُوا أَمْوَالَكُمْ وَ خُذُوا مِنْ أَجْسَادِكُمْ تَجُودُوا بِهَا عَلَى أَنْفُسِكُمْ وَ لَا تَبْخَلُوا بِهَا عَنْهَا فَقَدْ قَالَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ «إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ وَ يُثَبِّتْ أَقْدامَكُمْ» وَ قَالَ تَعَالَى «مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضاً حَسَناً فَيُضاعِفَهُ لَهُ وَ لَهُ أَجْرٌ كَرِيمٌ» فَلَمْ يَسْتَنْصِرْكُمْ مِنْ ذُلٍّ وَ لَمْ يَسْتَقْرِضْكُمْ مِنْ قُلٍّ اسْتَنْصَرَكُمْ وَ لَهُ جُنُودُ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضِ وَ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ وَ اسْتَقْرَضَكُمْ وَ لَهُ خَزَائِنُ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضِ وَ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ وَ إِنَّمَا أَرَادَ أَنْ يَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا فَبَادِرُوا بِأَعْمَالِكُمْ تَكُونُوا مَعَ جِيرَانِ اللَّهِ فِي دَارِهِ رَافَقَ بِهِمْ رُسُلَهُ وَ أَزَارَهُمْ مَلَائِكَتَهُ وَ أَكْرَمَ أَسْمَاعَهُمْ أَنْ تَسْمَعَ حَسِيسَ نَارٍ أَبَداً وَ صَانَ أَجْسَادَهُمْ أَنْ تَلْقَى لُغُوباً وَ نَصَباً «ذلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشاءُ وَ اللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ» أَقُولُ مَا تَسْمَعُونَ وَ اللَّهُ الْمُسْتَعانُ عَلَى نَفْسِي وَ أَنْفُسِكُمْ وَ هُوَ حَسْبُنَا وَ نِعْمَ الْوَكِيلُ

    ساری حمد و ستائش اس اللہ کیلئے ہے جسے حواس پا نہیں سکتے، نہ جگہیں اسے گھیر سکتی ہیں، نہ آنکھیں اسے دیکھ سکتی ہیں، نہ پردے اسے چھپا سکتے ہیں۔ وہ مخلوقات کے نیست کے بعد ہست ہونے سے اپنے ہمیشہ سے ہونے کا اور ان کے باہم مشابہ ہونے سے اپنے بے مثل و بے نظیر ہونے کا پتہ دیتا ہے۔ وہ اپنے وعدہ میں سچا اور بندوں پر ظلم کرنے سے بالا تر ہے۔ وہ مخلوق کے بارے میں عدل سے چلتا ہے اور اپنے حکم میں انصاف برتتا ہے۔ وہ چیزوں کے وجود پذیر ہونے سے اپنی قدامت پر اور ان کے عجز و کمزوری کے نشانوں سے اپنی قدرت پر اور ان کے فنا ہو جانے کی اضطراری کیفیتوں سے اپنی ہمیشگی پر، (عقل سے) گواہی حاصل کرتا ہے۔ وہ گنتی اور شمار میں آئے بغیر ایک (یگانہ) ہے۔ وہ کسی (متعینہ) مدت کے بغیر ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا اور ستونوں (اعضاء) کے سہارے کے بغیر قائم و برقرار ہے۔ حواس و مشاعر کے بغیر ذہن اسے قبول کرتے ہیں اور اس تک پہنچے بغیر نظر آنے والی چیزیں اس کی ہستی کی گواہی دیتی ہیں۔ عقلیں اس کی حقیقت کا احاطہ نہیں کر سکتیں، بلکہ وہ عقلوں کے وسیلہ سے عقلوں کیلئے آشکارا ہوا ہے اور عقلوں ہی کے ذریعہ سے عقل و فہم میں آنے سے انکاری ہے اور ان کے معاملہ میں خود انہی کو حکم ٹھہرایا ہے۔ وہ اس معنی سے بڑا نہیں کہ اس کے حدود و اطراف پھیلے ہوئے ہیں کہ جو اُسے مجسّم صورت میں بڑا کر کے دکھاتے ہیں اور نہ اس اعتبار سے عظیم ہے کہ وہ جسامت میں انتہائی حدوں تک پھیلا ہوا ہے، بلکہ وہ شان و منزلت کے اعتبار سے بڑا ہے اور دبدبه و اقتدار کے لحاظ سے عظیم ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے عبد اور برگزیدہ رسول اور پسندیدہ امین ہیں۔ خدا ان پر اور ان کے اہل بیتؑ پر رحمت فراواں نازل کرے۔ اللہ نے انہیں ناقابل انکار دلیلوں، واضح کامرانیوں اور راہ (شریعت) کی رہنمائیوں کے ساتھ بھیجا۔ چنانچہ آپؐ نے (حق کو باطل سے) چھانٹ کر اس کا پیغام پہنچایا، راہ حق دکھا کر اس پر لوگوں کو لگایا، ہدایت کے نشان اور روشنی کے مینار قائم کئے، اسلام کی رسیوں اور ایمان کے بندھنوں کو مستحکم کیا۔ [اس خطبہ کا ایک جز یہ ہے] جس میں مختلف قسم کے جانوروں کی عجیب و غریب آفرینش کا ذکر فرمایا ہے اگر لوگ اس کی عظیم الشان قدرتوں اور بلند پايہ نعمتوں میں غور و فکر کریں تو سیدھی راہ کی طرف پلٹ آئیں اور دوزخ کے عذاب سے خوف کھانے لگیں، لیکن دل بیمار اور بصیرتیں کھوٹی ہیں۔ کیا وہ لوگ ان چھوٹے چھوٹے جانوروں کو کہ جنہیں اس نے پیدا کیا ہے، نہیں دیکھتے کہ کیونکر ان کی آفرینش کو استحکام بخشا ہے اور ان کے جوڑ بند کو باہم استواری کے ساتھ ملایا ہے اور ان کیلئے کان اور آنکھ (کے سوراخ) کھولے ہیں اور ہڈی اور کھال کو (پوری مناسبت سے) درست کیا ہے۔ ذرا اس چیونٹی [۱] کی طرف اس کی جسامت کے اختصار اور شکل و صورت کی باریکی کے عالم میں نظر کرو۔ اتنی چھوٹی کہ گوشۂ چشم سے بمشکل دیکھی جا سکے اور نہ فکروں میں سماتی ہے۔ دیکھو تو کیونکر زمین پر رینگتی پھرتی ہے اور اپنے رزق کی طرف لپکتی ہے اور دانے کو اپنے بِل کی طرف لئے جاتی ہے اور اسے اپنے قیام گاہ میں مہیا رکھتی ہے اور گرمیوں میں جاڑے کے موسم کیلئے اور قوت و توانائی کے زمانے میں عجز و درماندگی کے دنوں کیلئے ذخیرہ اکٹھا کر لیتی ہے۔ اس کی روزی کا ذمہ لیا جا چکا ہے اور اس کے مناسب حال رزق اسے پہنچتا رہتا ہے۔ خدائے کریم اس سے تغافل نہیں برتتا اور صاحب عطا و جزا اسے محروم نہیں رکھتا، اگرچہ وہ خشک پتھر اور جمے ہوئے سنگ خارا کے اندر کیوں نہ ہو۔ اگر تم اس کی غذا کی نالیوں اور اس کے بلند و پست حصوں اور اس کے خول میں پیٹ کی طرف جھکے ہوئے پسلیوں کے کناروں اور اس کے سر میں (چھوٹی چھوٹی) آنکھوں اور کانوں (کی ساخت) میں غور و فکر کرو گے تو اس کی آفرینش پر تمہیں تعجب ہو گا اور اس کا وصف کرنے میں تمہیں تعب اٹھانا پڑے گا۔ بلند و برتر ہے وہ کہ جس نے اس کو اس کے پیروں پر کھڑا کیا ہے اور ستونوں (اعضاء) پر اس کی بنیاد رکھی ہے۔ اس کے بنانے میں کوئی بنانے والا اس کا شریک نہیں ہوا ہے اور نہ اس کے پیدا کرنے میں کسی قادر و توانا نے اس کا ہاتھ بٹایا ہے۔ اگر تم سوچ بچار کی راہوں کو طے کرتے ہوئے اس کی آخری حد تک پہنچ جاؤ تو عقل کی رہنمائی تمہیں بس اس نتیجے پر پہنچائے گی کہ جو چیونٹی کا پیدا کرنے والا ہے وہی کھجور کے درخت کا پیدا کرنے والا ہے، کیونکہ ہر چیز [۲] کی تفصیل لطافت و باریکی لئے ہوئے ہے اور ہر ذی حیات کے مختلف اعضاء میں باریک ہی سا فرق ہے۔ اس کی مخلوقات میں بڑی اور چھوٹی، بھاری اور ہلکی، طاقتور اور کمزور چیزیں یکساں ہیں اور یونہی آسمان، فضا، ہوا اور پانی برابر ہیں۔ لہٰذا تم سورج، چاند، سبزے، درخت، پانی اور پتھر کی طرف دیکھو اور اس رات دن کے یکے بعد دیگرے آنے جانے اور ان دریاؤں کے جاری ہونے اور ان پہاڑوں کی بہتات اور ان چوٹیوں کی اچان پر نگاہ دوڑاؤ اور ان نعمتوں اور قسم قسم کی زبانوں کے اختلاف پر نظر کرو۔ اس کے بعد افسوس ہے!ان پر کہ جو قضا و قدر کی مالک ذات اور نظم و انضباط کے قائم کرنے والی ہستی سے انکار کریں۔ انہوں نے تو یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ گھاس پھونس کی طرح خود بخود اُگ آئے ہیں۔ نہ ان کا کوئی بونے والا ہے اور نہ ان کی گوناگوں صورتوں کا کوئی بنانے والا ہے۔ انہوں نے اپنے اس دعوے کی بنیاد کسی دلیل پر نہیں رکھی اور نہ سنی سنائی باتوں کی تحقیق کی ہے۔ (ذرا سوچو تو کہ) کیا کوئی عمارت بغیر بنانے والے کے ہوا کرتی ہے؟اور کوئی جرم بغیر مجرم کے ہوتا ہے؟ اگر چاہو تو (چیونٹی کی طرح) ٹڈی [۳] کے متعلق بھی کچھ کہو کہ اس کیلئے لال بھبوکا دو آنکھیں پیدا کیں اور اس کی آنکھوں کے چاند سے دونوں حلقوں کے چراغ روشن کئے اور اس کیلئے بہت ہی چھوٹے چھوٹے کان بنائے اور مناسب و معتدل منہ کا شگاف بنایا اور اس کے حس کو قوی اور تیز قرار دیا اور ایسے دو دانت بنائے کہ جن سے وہ (پتیوں کو) کاٹتی ہے اور درانتی کی طرح کے دو پیر دیئے کہ جن سے وہ (گھاس پات کو) پکڑتی ہے۔ کاشتکار اپنی زراعت کے بارے میں اس سے ہراساں رہتے ہیں۔ اگر وہ اپنے جتھوں کو سمیٹ لیں، جب بھی اس ٹڈی دل کا ہنکانا ان کے بس میں نہیں ہوتا، یہاں تک کہ وہ جست و خیز کرتا ہوا ان کی کھیتیوں پر ٹوٹ پڑتا ہے اور ان سے اپنی خواہشوں کو پورا کر لیتا ہے۔ حالانکہ اس کا جسم ایک باریک انگلی کے بھی برابر نہیں ہوتا۔ پاک ہے وہ ذات کہ جس کے سامنے آسمان و زمین میں جو کوئی بھی ہے خوشی یا مجبوری سے بہر صورت سجدہ میں گرا ہوا ہے اور اس کیلئے رخسار اور چہرے کو خاک پر مل رہا ہے اور عجز و انکسار سے اس کے آگے سرنگوں ہے اور خوف و دہشت سے اپنی باگ ڈور اسے سونپے ہوئے ہے۔ پرندے اس کے حکم (کی زنجیروں)میں جکڑے ہوئے ہیں۔ وہ ان کے پروں اور سانسوں کی گنتی تک کو جانتا ہے اور (ان میں سے کچھ کے) پیر تری پر اور (کچھ کے)خشکی پر جما دیئے ہیں اور ان کی روزیاں معین کر دی ہیں اور ان کے انواع واقسام پر احاطہ رکھتا ہے کہ یہ کوا ہے اور یہ عقاب، یہ کبوتر ہے اور یہ شتر مرغ۔ اس نے ہر پرندے کو اس کے نام پر دعوت (وجود) دی اور ان کی روزی کا ذمہ لیا اور یہ بھاری بوجھل بادل پیدا کئے کہ جن سے موسلا دھار بارشیں برسائیں اور حصہ رسدی مختلف (سر زمینوں پر) انہیں بانٹ دیا اور زمین کو اس کے خشک ہو جانے کے بعد تر بتر کردیا اور بنجر ہونے کے بعد اس سے (لہلہاتا ہوا) سبزہ اُگایا۔

  184. خطبہ 184- مسائل الٰہیات کے بُنیادی اُصول کا تذکرہ

    184

    اسْكُتْ قَبَّحَكَ اللَّهُ يَا أَثْرَمُ فَوَاللَّهِ لَقَدْ ظَهَرَ الْحَقُّ فَكُنْتَ فِيهِ ضَئِيلًا شَخْصُكَ خَفِيّاً صَوْتُكَ حَتَّى إِذَا نَعَرَ الْبَاطِلُ نَجَمْتَ نُجُومَ قَرْنِ الْمَاعِزِ

    یہ خطبہ توحید کے متعلق ہے اور علم و معرفت کی اتنی بنیادی باتوں پر مشتمل ہے کہ جن پر کوئی دوسرا خطبہ حاوی نہیں ہے: جس نے اسے مختلف کیفیتوں سے متصف کیا اس نے اسے یکتا نہیں سمجھا، جس نے اس کا مثل ٹھہرایا اس نے اس کی حقیقت کو نہیں پایا، جس نے اسے کسی چیز سے تشبیہ دی اس نے اس کا قصد نہیں کیا، جس نے اسے قابل اشارہ سمجھا اور اپنے تصور کا پابند بنایا اس نے اس کا رخ نہیں کیا۔ جو اپنی ذات سے پہچانا جائے وہ مخلوق ہو گا اور جو دوسرے کے سہارے پر قائم ہو وہ علت کا محتاج ہو گا۔ وہ فاعل ہے بغیر آلات کو حرکت میں لائے۔ وہ ہر چیز کا اندازہ مقرر کرنے والا ہے، بغیر فکر کی جولانی کے۔ وہ تونگر و غنی ہے بغیر دوسروں سے استفادہ کئے۔ نہ زمانہ اس کا ہم نشین اور نہ آلات اس کے معاون و معین ہیں۔ اس کی ہستی زمانہ سے پیشتر، اس کا وجود عدم سے سابق اور اس کی ہمیشگی نقطۂ آغاز سے بھی پہلے سے ہے۔ اس نے جو احساس و شعور کی قوتوں کو ایجاد کیا اسی سے معلوم ہوا کہ وہ خود حواس و آلات شعور نہیں رکھتا اور چیزوں میں ضدیت قرار دینے سے معلوم ہوا کہ اس کی ضد نہیں ہو سکتی اور چیزوں کو جو اس نے ایک دوسرے کے ساتھ رکھا ہے اسی سے معلوم ہوا کہ اس کا کوئی ساتھی نہیں۔ اس نے نور کو ظلمت کی، روشنی کو اندھیرے کی، خشکی کو تری کی اور گرمی کو سردی کی ضد قرار دیا ہے۔ وہ ایک دوسرے کی دشمن چیزوں کو ایک مرکز پر جمع کرنے والا، متضاد چیزوں کو ملانے والا، ایک دوسرے سے دور کی چیزوں کو باہم قریب لانے والا اور باہم پیوستہ چیزوں کو الگ الگ کرنے والا ہے۔ وہ کسی حد میں محدود نہیں اور نہ گننے سے شمار میں آتا ہے۔ جسمانی قویٰ تو جسمانی ہی چیزوں کو گھیرا کرتے ہیں اور اپنے ہی ایسوں کی طرف اشارہ کر سکتے ہیں۔ انہیں لفظ ’’منذ‘‘ نے قدیم ہو نے سے روک دیا ہے اور لفظِ ’’قد‘‘ نے ہمیشگی سے منع کر دیا ہے اور لفظ ’’لولا‘‘ [۱] نے کمال سے ہٹا دیا ہے۔ انہی اعضاء و جوارح اور حواس و مشاعر کے ذریعہ ان کا موجد عقلوں کے سامنے جلوہ گر ہوا ہے اور ان ہی کے تقاضوں کے سبب سے آنکھوں کے مشاہدہ سے بری ہو گیا ہے۔ حرکت و سکون اس پر طاری نہیں ہو سکتے۔ بھلا جو چیز اس نے مخلوقات پر طاری کی ہو، وہ اس پر کیونکر طاری ہو سکتی ہے؟ اور جو چیز پہلے پہل اسی نے پیدا کی ہے وہ اس کی طرف عائد کیونکر ہو سکتی ہے؟ اور جس چیز کو اس نے پیدا کیا ہو وہ اس میں کیونکر پیدا ہو سکتی ہے۔ اگر ایسا ہو تو اس کی ذات تغیر پذیر قرار پائے گی اور اس کی ہستی قابل تجزیہ ٹھہرے گی اور اس کی حقیقت ہمیشگی و دوام سے علیحدہ ہو جائے گی۔ اگر اس کیلئے سامنے کی جہت ہوتی تو پیچھے کی سمت بھی ہوتی اور اگر اس میں کمی آتی تو وہ اس کی تکمیل کا محتاج ہوتا اور اس صورت میں اس کے اندر مخلوق کی علامتیں آ جاتیں، اور جبکہ ساری چیزیں اس کی ہستی کی دلیل تھیں اس صورت میں وہ خود کسی خالق کے وجود کی دلیل بن جاتا۔ حالانکہ وہ اس امر مسلّمہ کی رو سے کہ اس میں مخلوق کی صفتوں کا ہونا ممنوع ہے، اس سے بری ہے کہ اس میں وہ چیز اثر انداز ہو جو ممکنات میں اثر انداز ہوتی ہے۔ وہ ادلتا بدلتا نہیں، نہ زوال پذیر ہوتا ہے، نہ غروب ہونا اس کیلئے روا ہے۔ اس کی کوئی اولاد نہیں اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے، ورنہ محدود ہو کر رہ جائے گا۔ وہ آل اولاد رکھنے سے بالاتر اور عورتوں کو چھونے سے پاک ہے۔ تصوّرات اسے پا نہیں سکتے کہ اس کا اندازہ ٹھہرا لیں اور عقلیں اس کا تصور نہیں کر سکتیں کہ اس کی کوئی صورت مقرر کر لیں، حواس اس کا ادراک نہیں کر سکتے کہ اسے محسوس کر لیں اور ہاتھ اس سے مس نہیں ہو سکتے کہ اسے چھو لیں۔ وہ کسی حال میں بدلتا نہیں اور نہ مختلف حالتوں میں منتقل ہوتا رہتا ہے۔ نہ شب و روز اسے کہنہ کرتے ہیں، نہ روشنی و تاریکی اسے متغیر کرتی ہے۔ اسے اجزا و جوارح، صفات میں سے کسی صفت اور ذات کے علاوہ کسی بھی چیز اور حصوں سے متصف نہیں کیا جا سکتا۔ اس کیلئے کسی حد اور اختتام اور زوال پذیری اور انتہا کو کہا نہیں جا سکتا اور نہ یہ کہ چیزیں اس پر حاوی ہیں کہ خواہ اسے بلند کریں اور خواہ پست، یا چیزیں اسے اٹھائے ہوئے ہیں کہ چاہے اسے اِدھر اُدھر موڑیں اور چاہے اسے سیدھا رکھیں۔ نہ وہ چیزوں کے اندر ہے اور نہ ان سے باہر۔ وہ خبر دیتا ہے بغیر زبان اور تالو جبڑے کی حرکت کے، وہ سنتا ہے بغیر کانوں کے سوراخوں اور آلات سماعت کے، وہ بات کرتا ہے بغیر تلفظ کے، وہ ہر چیز کو یاد رکھتا ہے بغیر یاد کرنے کی زحمت کے، وہ ارادہ کرتا ہے بغیر قلب اور ضمیر کے، وہ دوست رکھتا ہے اور خوشنود ہوتا ہے بغیر رقت طبع کے، وہ دشمن رکھتا ہے اور غضبناک ہوتا ہے بغیر غم و غصہ کی تکلیف کے۔ جسے پیدا کرنا چاہتا ہے اسے ’’ہو جا!‘‘ کہتا ہے جس سے وہ ہو جاتی ہے، بغیر کسی ایسی آواز کے جو کان (کے پردوں) سے ٹکرائے اور بغیر ایسی صدا کے جو سنی جا سکے۔ بلکہ اللہ سبحانہ کا کلام بس اس کا ایجاد کردہ فعل ہے اور اس طرح کا کلام پہلے سے موجود نہیں ہوسکتا اور اگر وہ قدیم ہوتا تو دوسرا خدا ہوتا۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ عدم کے بعد وجود میں آیا ہے کہ اس پر حادث صفتیں منطبق ہو نے لگیں اور اس میں اور مخلوقات میں کوئی فرق نہ رہے اور نہ اسے اس پر کوئی فوقیت و برتری رہے کہ جس کے نتیجہ میں خالق و مخلوق ایک سطح پر آ جائیں اور صانع و مصنوع برابر ہو جائیں۔ اس نے مخلوقات کو بغیر کسی ایسے نمونہ کے پیدا کیا کہ جو اس سے پہلے کسی دوسرے نے قائم کیا ہو اور اس کے بنانے میں اس نے مخلوقات میں سے کسی ایک سے بھی مدد نہیں چاہی۔ وہ زمین کو وجود میں لایا اور بغیر اس کام میں الجھے ہوئے اسے برابر روکے تھامے رہا اور بغیر کسی چیز پر ٹکائے ہوئے اسے برقرار کر دیا اور بغیر ستونوں کے اس نے قائم اور بغیر کھمبوں کے اسے بلند کیا، کجی اور جھکاؤ سے اسے محفوظ کر دیا اور ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گرنے اور پھٹنے سے اسے بچائے رہا۔ اس کے پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑا اور چٹانوں کو مضبوطی سے نصب کیا، اس کے چشموں کو جاری اور پانی کی گزر گاہوں کو شگافتہ کیا۔ اس نے جو بنایا اس میں کوئی سستی نہ آئی اور جسے مضبوط کیا اس میں کمزوری نہیں پیدا ہوئی۔ وہ اپنی عظمت و شاہی کے ساتھ زمین پر غالب، علم و دانائی کی بدولت اس کے اندرونی رازوں سے واقف اور اپنے جلال و عزت کے سبب سے اس کی ہر چیز پر چھایا ہوا ہے۔ وہ جس چیز کا اس سے خواہاں ہوتا ہے وہ اس کی دسترس سے باہر نہیں ہو سکتی اور نہ اس سے روگردانی کرکے اس پر غالب آسکتی ہے اور نہ کوئی تیزرَو اس کے قبضہ سے نکل سکتا ہے کہ اس سے بڑھ جائے اور نہ وہ کسی مالدار کا محتاج ہے کہ وہ اسے روزی دے۔ تمام چیزیں اس کے سامنے عاجز اور اس کی بزرگی و عظمت کے آگے ذلیل و خوار ہیں۔ اس کی سلطنت (کی وسعتوں) سے نکل کر کسی اور طرف بھاگ جانے کی ہمت نہیں رکھتیں کہ اس کے جود و عطا سے (بے نیاز) اور اس کی گرفت سے اپنے کو محفوظ سمجھ لیں۔ نہ اس کا کوئی ہمسر ہے جو اس کے برابر اُتر سکے، نہ اس کا کوئی مثل و نظیر ہے جو اُس سے برابری کر سکے۔ وہی ان چیزوں کو وجود کے بعد فنا کرنے والا ہے، یہاں تک کہ موجود چیزیں ان چیزوں کی طرح ہو جائیں کہ جو کبھی تھیں ہی نہیں اور یہ دنیا کو پیدا کرنے کے بعد نیست و نابود کرنا اس کے شروع شروع وجود میں لانے سے زیادہ تعجب خیز (و دشوار) نہیں اور کیونکر ایسا ہوسکتا ہے جبکہ تمام حیوان، وہ پرندے ہوں یا چوپائے، رات کو گھروں کی طرف پلٹ کر آنے والے ہوں یا چراگاہوں میں چرنے والے، جس نوع کے بھی ہوں اور جس قسم کے ہوں وہ اور تمام آدمی، کودن و غبی صنف سے ہوں یا زیرک و ہوشیار، سب مل کر اگر ایک مچھر کو پیدا کرنا چاہیں تو وہ اس کے پیدا کرنے پر قادر نہ ہوں گے اور نہ یہ جان سکیں گے کہ اس کے پیدا کرنے کی کیا صورت ہے اور اس جاننے کے سلسلہ میں ان کی عقلیں حیران و سرگرداں اور قوتیں عاجز و درماندہ ہو جائیں گی اور یہ جانتے ہوئے کہ وہ شکست خور دہ ہیں اور یہ اقرار کرتے ہوئے کہ وہ اس کی ایجاد سے درماندہ ہیں اور یہ اعتراف کرتے ہوئے کہ وہ اس کے فنا کرنے سے بھی عاجز ہیں، خستہ و نامراد ہو کر پلٹ آئیں گے۔ بلا شبہ اللہ سبحانہ دنیا کے مٹ مٹا جانے کے بعد ایک اکیلا ہو گا، کوئی چیز اس کے ساتھ نہ ہو گی۔ جس طرح کہ دنیا کی ایجاد و آفرینش سے پہلے تھا، یونہی اس کے فنا ہو جانے کے بعد بغیر وقت و مکان اور ہنگام و زمان کے ہو گا۔ اس وقت مدتیں اور اوقات سال اور گھڑیاں سب نابود ہوں گی سوائے اس خدائے واحد و قہار کے جس کی طرف تمام چیزوں کی باز گشت ہے، کوئی چیز باقی نہ رہے گی۔ان کی آفرینش کی ابتدا ان کے اختیار و قدرت سے باہر تھی اور ان کا فنا ہونا بھی ان کی روک ٹوک کے بغیر ہو گا۔اگر ان کو انکار پر قدرت ہوتی تو ان کی زندگی بقا سے ہمکنار ہوتی۔ جب اس نے کسی چیز کو بنایا تو اس کے بنانے میں اسے کوئی دشواری پیش نہیں آئی اور نہ جس چیز کو اس نے خلق و ایجاد کیا اس کی آفرینش نے اسے خستہ و درماندہ کیا۔ اس نے اپنی سلطنت (کی بنیادوں) کو استوار کرنے اور(مملکت کے) زوال اور(عزت کے) انحطاط کے خطرات (سے بچنے ) اور کسی جمع جتھے والے حریف کے خلاف مدد حاصل کرنے اور کسی حملہ آور غنیم سے محفوظ رہنے اور ملک و سلطنت کا دائرہ بڑھانے اور کسی شریک کے مقابلہ میں اپنی کثرت پر اترانے کیلئے ان چیزوں کو پیدا نہیں کیا اور نہ اس لئے کہ اُس نے (تنہائی کی) وحشت سے(گھبرا کر) یہ چاہا ہو کہ ان چیزوں سے جی لگائے، پھر وہ ان چیزوں کو بنانے کے بعد فنا کر دے گا، اس لئے نہیں کہ ان میں ردّ و بدل کرنے اور ان کی دیکھ بھال رکھنے سے اسے دل تنگی لاحق ہوئی ہو اور نہ اس آسودگی و راحت کے خیال سے کہ جو (انہیں مٹا کر) اسے حاصل ہونے کی توقع ہو اور نہ اس وجہ سے کہ ان میں سے کسی چیز کا اس پر بوجھ ہو۔ اسے ان چیزوں کی طول طویل بقا آزردہ و دل تنگ نہیں بناتی کہ یہ انہیں جلدی سے فنا کر دينے کی اسے دعوت دے، بلکہ اللہ سبحانہ نے اپنے لطف و کرم سے ان کا بندوبست کیا ہے اور اپنے فرمان سے ان کی روک تھام کر رکھی ہے اور اپنی قدرت سے ان کو مضبوط بنایا ہے۔ پھر وہ ان چیزوں کو فنا کے بعد پلٹائے گا، نہ اس لئے کہ ان میں سے کسی چیز کی اسے احتیاج ہے اور ان کی مدد کا خواہاں ہے اور نہ تنہائی کی الجھن سے منتقل ہو کر دل بستگی کی حالت پیدا کرنے کیلئے اور جہالت و بے بصیرتی کی حالت سے واقفیت اور تجربات کی دنیا میں آنے کیلئے اور فقر و احتیاج سے دولت و فراوانی اور ذلت و پستی سے عزت و توانائی کی طرف منتقل ہونے کیلئے ان کو دوبارہ پیدا کرتا ہے۔

  185. خطبہ 185- فتنوں کے ابھرنے اور رزقِ حلال کے ناپید ہو جانے کے بارے میں

    185

    الْحَمْدُ لله الَّذِي لاَ تُدْرِكُهُ الشَّوَاهِدُ، وَلاَ تَحْوِيهِ الْمَشَاهِدُ، وَلاَ تَرَاهُ النَّوَاظِرُ، وَلاَ تَحْجُبُهُ السَّوَاتِرُ، الدَّالِّ عَلَى قِدَمِهِ بِحُدُوثِ خَلْقِهِ، وَبِحُدُوثِ خَلْقِهِ عَلَى وجُودِهِ، وَبِاشْتِبَاهِهِمْ عَلَى أَنْ لاَ شَبَهَ لَهُ، الَّذِي صَدَقَ فِي مِيعَادِهِ، وَارْتَفَعَ عَنْ ظُلْمِ عِبَادِه، وَقَامَ بِالْقِسطِ فِي خَلْقِهِ، وَعَدَلَ عَلَيْهِمْ فِي حُكْمِهِ، مُسْتَشْهِدٌ بِحُدُوثِ الْأَشْيَاءِ عَلَى أَزَلِيَّتِهِ، وَبِمَا وَسَمَهَا بِهِ مِنَ الْعَجْزِ عَلَى قُدْرَتِهِ، وَبِمَا اضْطَرَّهَا إِلَيْهِ مِنَ الْفَنَاءِ عَلَى دَوَامِهِ، وَاحِدٌ لاَ بِعَدَد، وَدَائِمٌ لاَ بِأَمَد، وَقَائِمٌ لاَ بَعَمَد، تَتَلَقَّاهُ الْأَذْهَانُ لاَ بِمُشَاعَرَة، وَتَشْهَدُ لَهُ الْمَرَائِي لاَ بِمُحَاضَرَة، لَمْ تُحِطْ بِهِ الْأَوْهَامُ، بَلْ تَجَلَّى لَهَا بِهَا، وَبِهَا امْتَنَعَ مِنهَا، وَإِلَيْهَا حَاكَمَهَا، لَيْسَ بِذِي كِبَر امْتَدَّتْ بِهِ النِّهَايَاتُ فَكَبَّرَتْهُ تَجْسِيماً، وَلاَ بِذِي عِظَم تَنَاهَتْ بِهِ الْغَايَاتُ فَعَظَّمَتْهُ تَجْسِيداً بَلْ كَبُرَ شَأْناً، وَعَظُمَ سُلْطَاناً الرسول الاعظم وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ الصَّفِيُّ وَأَمِينُهُ الرَّضِيُّ (صلى الله عليه وآله وسلم) أَرْسَلَهُ بِوُجُوبِ الْحُجَجِ، وَظُهُورِ الْفَلَجِ، وَإِيضَاحِ الْمَنْهَجِ، فَبَلَّغُ الرِّسَالَةَ صَادِعاً بِهَا، وَحَمَلَ عَلَى الْـمَحَجَّةِ دالاًّ عَلَيْهَا، وَأَقَامَ أَعْلاَمَ الاْهْتِدَاءِ وَمَنَارَ الضِّيَاءِ، وَجَعَلَ أَمْرَاسَ الْإِسْلَامِ مَتِينَةً، وَ عُرَى الْإِيمَانِ وَثِيقَةً. منها: في صفة عجيب خلق أصناف من الحيوان وَلَوْ فَكَّروا فِي عَظِيمِ الْقُدْرَةِ، وَجَسِيمِ النِّعْمَةِ، لَرَجَعُوا إِلَى الطَّرِيقِ، وَخَافُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ، وَلكِنَّ الْقُلُوبَ عَلِيلَةٌ، وَالاَبْصَارَ مَدْخُولَةٌ! ألاَ تَنْظُرُونَ إِلَى صَغِيرِ مَا خَلَقَ اللهُ، كَيْفَ أَحْكَمَ خَلْقَهُ، وَأَتْقَنَ تَرْكِيبَهُ، وَفَلَقَ لَهُ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ، وَسَوَّى لَهُ الْعَظْمَ وَالْبَشَرَ!. انْظُرُوا إِلَى الَّنمْلَةِ فِي صِغَرِ جُثَّتِهَا، وَلَطَافَةِ هَيْئَتِهَا، لاَ تَكَادُ تُنَالُ بِلَحْظِ الْبَصَرِ، وَلاَ بِمُسْتَدْرَكِ الْفِكَرِ، كَيْفَ دَبَّتْ عَلَى أَرْضِهَا، وَصَبَتْ عَلَى رِزْقِهَا، تَنْقُلُ الْحَبَّةَ إِلَى جُحْرِهَا، وَتُعِدُّهَا فِي مُسْتَقَرِّهَا تَجْمَعُ فِي حَرِّهَا لِبَرْدِهَا، وَفِي وُرُودِهَا لِصَدَرِهَا، مَكْفُولٌ بِرِزْقِهَا، مَرْزُوقَةٌ بِوِفْقِهَا، لاَ يُغْفِلُهَا الْمَنَّانُ، وَلاَ يَحْرِمُهَا الدَّيَّانُ، وَلَوْ فِي الصَّفَا الْيَابِسِ، وَالْحَجَرِ الْجَامِسِ! وَلَوْ فَكَّرْتَ فِي مَجَارِي أُكْلِهَا، وَفِي عُلْوهَا وَسُفْلِهَا، وَمَا فِي الجَوْفِ مِنْ شَرَاسِيفِ بَطْنِهَا، وَمَا فِي الرَّأسِ مِنْ عَيْنِهَا وَأُذُنِهَا، لَقَضَيْتَ مِنْ خَلْقِهَا عَجَباً، وَلَقِيتَ مِنْ وَصْفِهَا تَعَباً! فَتَعَالَى الَّذِي أَقَامَهَا عَلَى قَوَائِمِهَا، وَبَنَاهَا عَلَى دَعَائِمِهَا! لَمْ يَشْرَكْهُ فِي فِطْرَتِهَا فَاطِرٌ، وَلَمْ يُعِنْهُ عَلَى خَلْقِهَا قَادِرٌ وَلَوْ ضَرَبْتَ فِي مَذَاهِبِ فِكْرِكَ لِتَبْلُغَ غَايَاتِهِ، مَا دَلَّتْكَ الدَّلاَلَةُ إِلاَّ عَلَى أَنَّ فَاطِرَ الَّنمْلَةِ هُوَ فَاطِرُ النَّخْلَةِ، لِدَقِيقِ تَفْصِيلِ كُلِّ شَيْء، وَغَامِضِ اخْتِلاَفِ كُلِّ حَيّ، وَمَا الْجَلِيلُ وَاللَّطِيفُ، وَالثَّقِيلُ والخَفِيفُ، وَالْقَوِيُّ وَالضَّعِيفُ، فِي خَلْقِهِ إِلاَّ سَوَاءٌ خلقة السماء و الكَون وَكَذلِكَ السَّماءُ وَالْهَوَاءُ، وَالرِّيَاحُ وَالْمَاءُ فَانْظُرْ إِلَى الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ، وَالنَّبَاتِ وَالشَّجَرِ، وَالْمَاءِ وَالْحَجَرِ، وَاخْتِلاَفِ هذَا اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَتَفَجُّرِ هذِهِ الْبِحَارِ، وَكَثْرَةِ هذِهِ الْجِبَالِ، وَطُولِ هذِهِ الْقِلاَلِ، وَتَفَرُّقِ هذِهِ اللُّغَاتِ، وَ الْأَلْسُنِ الْـمُخْتَلِفَاتِ فَالوَيْلُ لِمَنْ جَحَدَ الْمُقَدِّرَ، وَأَنْكَرَ الْمُدَبِّرَ! زَعَمُوا أَنَّهُمْ كَالنَّبَاتِ مَا لَهُمْ زَارعٌ، وَلاَ لاِخْتِلاَفِ صُوَرِهِمْ صَانِعٌ، وَلَمْ يَلْجَأُوا إِلَى حُجَّة فِيَما ادَّعَوا، وَلاَ تَحْقِيق لِمَا أَوْعَوْا، وَهَلْ يَكُونُ بِنَاءٌ مِنْ غَيْرِ بَان، أَوْ جِنَايَةٌ مِن غَيْرِ جَان؟! خلقة الجرادة وَإِنْ شِئْتَ قُلْتَ فِي الْجَرَادَةِ، إِذْ خَلَقَ لَهَا عَيْنَيْنِ حَمْرَاوَيْنِ، وَأَسْرَجَ لَهَا حَدَقَتَيْنِ قَمْرَاوَيْنِ، وَجَعَلَ لَهَا السَّمْعَ الْخَفِيَّ، وَفَتَحَ لَهَا الْفَمَ السَّوِيَّ، وَجَعَلَ لَهَا الْحِسَّ الْقَوِيَّ، وَنَابَيْنِ بِهِمَا تَقْرِضُ، وَمِنْجَلَيْنِ بِهِمَا تَقْبِضُ، يَرْهَبُهَا الزُّرَّاعُ فِي زَرْعِهمْ، وَلاَ يَسْتَطِيعُونَ ذَبَّهَا، وَلَوْ أَجْلَبُوا بِجَمْعِهِم، حَتَّى تَرِدَ الْحَرْثَ فِي نَزَوَاتِهَا، وَتَقْضِي مِنْهُ شَهَوَاتِهَا، وَخَلْقُهَا كُلُّهُ لاَ يُكَوِّنُ إِصْبَعاً مُسْتَدِقَّةً مجد و عظمة الله فَتَبَارَكَ اللهُ الَّذِي يَسْجُدُ لَهُ مَنْ فِي السَّماوَاتِ وَ الْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً وَيُعَفِّرُ لَهُ خَدّاً وَوَجْهاً، وَيُلْقِي بِالْطَّاعَةِ إلَيْهِ سِلْماً وَضَعْفاً، وَيُعْطِي الْقِيَادَ رَهْبَةً وَخَوْفاً! فَالطَّيْرُ مُسَخَّرَةٌ لِأَمْرِهِ، أَحْصَى عَدَدَ الرِّيشِ مِنْهَا وَالنَّفَسَ، وَأَرْسَى قَوَائِمَهَا عَلَى النَّدَى وَالْيَبَسِ، قَدَّرَ أَقْوَاتَهَا، وَأَحْصَى أَجْنَاسَهَا، فَهذَا غُرابٌ وَهذَا عُقَابٌ، وَهذَا حَمَامٌ وَهذَا نَعَامٌ، دَعَا كُلَّ طَائِر بَاسْمِهِ، وَكَفَلَ لَهُ بِرِزْقِهِ وَأَنْشَأَ السَّحَابَ الثِّقَالَ، فَأَهْطَلَ دِيَمَهَا، وَعَدَّدَ قِسَمَهَا، فَبَلَّ الْأَرْضَ بَعْدَ جُفُوفِهَا، وَأَخْرَجَ نَبْتَهَا بَعْدَ جُدُوبِهَا

    یہ حوادث و فتن کے ذکر سے مخصوص ہے ہاں! میرے ماں باپ ان گنتی کے چند افراد پر قربان ہوں جن کے نام آسمانوں میں جانے پہچانے ہوئے اور زمین میں انجانے ہیں۔ لہٰذا اس صورت حال کے متوقع رہو کہ تمہیں مسلسل ناکامیاں ہوتی رہیں اور تمہارے تعلقات درہم برہم ہوں اور تم میں کے چھوٹے بر سر کار نظر آئیں۔ یہ وہ ہنگام ہو گا کہ جب مومن کیلئے بطریق حلال ایک درہم حاصل کرنے سے تلوار کا وار کھانا آسان ہو گا۔ وہ وہ وقت [۱] ہو گا جب لینے والے (فقیر بے نوا) کا اجر و ثواب دینے والے اغنیاء سے بڑھا ہوا ہو گا۔ یہ وہ زمانہ ہو گا کہ جب تم مست و سرشار ہو گے، شراب سے نہیں بلکہ عیش و آرام سے اور بغیر کسی مجبوری کے (بات بات پر) قسمیں کھاؤ گے اور بغیر کسی لاچاری کے جھوٹ بولو گے۔ یہ وہ وقت ہو گا کہ جب مصیبتیں تمہیں اس طرح کاٹیں گی جس طرح اونٹ کی کوہان کو پالان۔ (آہ)ان سختیوں کی مدت کتنی دراز اور اس سے (چھٹکارا پانے کی) امیدیں کتنی دور ہیں۔ اے لوگو! ان سواروں کی باگیں اتار پھینکو کہ جن کی پشت نے تمہارے ہاتھوں گناہوں کے بوجھ اٹھائے ہیں، اپنے حاکم سے کٹ کر علیحدہ نہ ہو جاؤ، ورنہ اپنی بد اعمالیوں کے انجام میں اپنے ہی نفسوں کو برا بھلا کہو گے اور جو آتش فتنہ تمہارے آگے شعلہ ور ہے اس میں اندھا دھند کود نہ پڑو، اس کی راہ سے مڑ کر چلو اور درمیانی راہ کو اس کیلئے خالی کر دو، کیونکہ میری جان کی قسم! یہ وہ آگ ہے کہ مومن اس کی لپٹوں میں تباہ و برباد اور کافر اِس میں سالم و محفوظ رہے گا۔ تمہارے درمیان میری مثال ایسی ہے، جیسے اندھیرے میں چراغ کہ جو اس میں داخل ہو، وہ اس سے روشنی حاصل کرے۔ اے لوگو! سنو اور یاد رکھو اور دل کے کانوں کو (کھول کر)سامنے لاؤ، تاکہ سمجھ سکو۔

  186. خطبہ 186- خداوند عالم کے احسانات، مرنے والوں کی حالت اور بے ثباتی دنیا

    186

    مَا وَحَّدَهُ مَنْ كَيَّفَهُ، وَلاَ حَقِيقَتَهُ أَصَابَ مَنْ مَثَّلَهُ، وَلاَ إِيَّاهُ عَنَى مَنْ شَبَّهَهُ، وَلاَ صَمَدَهُ مَنْ أَشَارَ إِلَيْهِ وَتَوَهَّمَهُ كُلُّ مَعْرُوف بِنَفْسِهِ مَصْنُوعٌ، وَكُلُّ قَائِم فِي سِوَاهُ مَعْلُولٌ فَاعِلٌ لاَ بِاضْطِرَابِ آلَة، مُقَدِّرٌ لاَ بِجَوْلِ فِكْرَة، غَنِيٌّ لاَ بِاسْتِفَادَة لاَ تَصْحَبُهُ الْأَوْقَاتُ، وَلاَ تَرْفِدُهُ الْأَدَوَاتُ، سَبَقَ الْأَوْقَاتَ كَوْنُهُ، وَالْعَدَمَ وُجُودُهُ، وَالابْتِدَاءَ أَزَلُهُ بِتَشْعِيرِهِ الْمَشَاعِرَ عُرِفَ أَنْ لاَ مَشْعَرَ لَهُ، وَبِمُضَادَّتِهِ بَيْنَ الْأُمُورِ عُرِفَ أَنْ لاَ ضِدَّ لَهُ، وَبِمُقَارَنَتِهِ بَيْنَ الْأَشْيَاءِ عُرِفَ أَنْ لاَ قَرِينَ لَهُ ضَادَّ النُّورَ بِالظُّلْمَةِ، وَالْوُضُوحَ بِالْبُهْمَةِ، وَالْجُمُودَ بِالْبَلَلِ، وَالْحَرُورَ بِالصَّرَدِ مُؤَلِّفٌ بَيْنَ مُتَعَادِيَاتِهَا، مُقَارِنٌ بَيْنَ مُتَبَايِنَاتِهَا، مُقَرِّبٌ بَيْنَ مُتَبَاعِداتِهَا، مُفَرِّقٌ بَيْنَ مُتَدَانِيَاتِهَا لاَ يُشْمَلُ بِحَدّ، وَلاَ يُحْسَبُ بِعَدٍّ، وَإِنَّمَا تَحُدُّ الْأَدَوَاتُ أَنْفُسَهَا، وَتُشِيرُ الاْلاَتُ إِلَى نَظَائِرِهَا، مَنَعَتْهَا «مُنْذُ» الْقِدْمَةَ، وَحَمَتْهَا «قَدُ» الْأَزَلِيَّةَ، وَجَنَّبَتْهَا «لَوْلاَ» التَّكْمِلَةَ! بِهَا تَجَلَّى صَانِعُهَا لِلْعُقُولِ، وَبِهَا امْتَنَعَ عَنْ نَظَرِ الْعُيُونِ لاَ يَجْرِي عَلَيْهِ السُّكُونُ وَالْحَرَكَةُ، وَكَيْفَ يَجْرِي عَلَيْهِ مَا هُوَ أَجْرَاهُ، وَيَعُودُ فِيهِ مَا هُوَ أَبْدَاهُ، وَيَحْدُثُ فِيهِ مَا هُوَ أَحْدَثَةُ ؟! إِذاً لَتَفَاوَتَتْ ذَاتُهُ، وَلَتَجَزَّأَ كُنْهُهُ، وَلاَمْتَنَعَ مِنَ الْأَزَلِ مَعْنَاهُ، وَلَكَانَ لَهُ وَرَاءٌ إِذْ وُجِدَ لَهُ أَمَامٌ، وَلاَلْـتَمَسَ التَّمَامَ إِذْ لَزِمَهُ النُّقْصَانُ وَإِذاً لَقَامَتْ آيَةُ الْمَصْنُوعِ فِيهِ، وَلَتَحَوَّلَ دَلِيلاً بَعْدَ أَنْ كَانَ مَدْلُولاً عَلَيْهِ، وَخَرَجَ بِسُلْطَانِ الاْمْتِنَاعِ مِنْ أَنْ يُؤَثِّرَ فِيهِ مَا يُؤثِّرُ فِي غَيْرِهِ الَّذِي لاَ يَحُولُ وَلاَ يَزُولُ، وَلاَ يَجُوزُ عَلَيْهِ الْأُفُولُ لَمْ يَلِدْ فَيَكُونَ مَوْلُوداً، وَلَمْ يُولَدْ فَيَصِيرَ مَحْدُوداً، جَلَّ عَنِ اتِّخَاذِ الاْبْنَاءِ، وَطَهُرَ عَنْ مُلاَمَسَةِ النِّسَاءِ لاَ تَنَالُهُ الْأَوْهَامُ فَتُقَدِّرَهُ، وَلاَ تَتَوَهَّمُهُ الْفِطَنُ فَتُصَوِّرَهُ، و وَلاَ تُدْرِكُهُ الْحَوَاسُّ فَتُحِسَّهُ، وَلاَ تَلْمِسُهُ الْأَيْدِي فَتَمَسَّهُ وَلاَ يَتَغَيَّرُ بِحَال، وَلاَ يَتَبَدَّلُ فِي الْأَحْوَالِ، وَلاَ تُبْلِيهِ اللَّيَالي وَ الْأَيَّامُ، وَلاَ يُغَيِّرُهُ الضِّيَاءُ وَالظَّلاَمُ، لَا يُوصَفُ بِشَيْءٍ مِنَ الْأَجْزَاءِ وَ لَا بِالْجَوَارِحِ وَ الْأَعْضَاءِ وَ لَا بِعَرَضٍ مِنَ الْأَعْرَاضِ وَ لَا بِالْغَيْرِيَّةِ وَ الْأَبْعَاضِ؛ وَلاَ يُقَالُ لَهُ حَدٌّ وَلاَ نِهَايَةٌ، وَلاَ انقِطَاعٌ وَلاَ غَايَةٌ، وَلاَ أَنَّ الْأَشْيَاءَ تَحْوِيهِ فَتُقِلَّهُ أَوْ تُهْوِيَهُ، أَوْ أَنَّ شَيْئاً يَحْمِلُهُ، فَيُمِيلَهُ أَوْ يُعَدِّلَهُ لَيْسَ فِي الْأَشْيَاءَ بِوَالِج، وَلاَ عَنْهَا بِخَارِج يُخْبِرُ لاَ بِلِسَان وَلَهوَات، وَيَسْمَعُ لاَ بِخُروُق وَأَدَوَات، يَقُولُ وَلاَ يَلْفِظُ، وَيَحْفَظُ وَلاَ يَتَحَفَّظُ، وَيُرِيدُ وَلاَ يُضْمِرُ يُحِبُّ وَيَرْضَى مِنْ غَيْرِ رِقَّة، وَيُبْغِضُ وَيَغْضَبُ مِنْ غَيْرِ مَشَقَّة يَقُولُ لِمَنْ أَرَادَ كَوْنَهُ كُنْ فَيَكُونُ لاَ بِصَوْت يَقْرَعُ، وَلاَ بِنِدَاء يُسْمَعُ، وَإِنَّمَا كَلاَمُهُ سُبْحَانَهُ فِعْلٌ مِنْهُ أَنْشَأَهُ وَمَثَّلَهُ، لَمْ يَكُنْ مِنْ قَبْلِ ذلِكَ كَائِناً، وَلَوْ كَانَ قَدِيماً لَكَانَ إِلهاً ثَانِياً لَا يُقَالُ كَانَ بَعْدَ أَنْ لَمْ يَكُنْ فَتَجْرِيَ عَلَيْهِ الصِّفَاتُ الْـمُحْدَثَاتُ، وَلاَ يَكُونُ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ فَصْلٌ، وَلاَ لَهُ عَلَيْهَا فَضْلٌ، فَيَسْتَوِيَ الصَّانِعُ والْمَصْنُوعُ، وَيَتَكَافَأَ المُبْتَدَعُ وَالْبَدِيعُ خَلَقَ الْخَلاَئِقَ عَلَى غَيْرِ مِثَال خَلاَ مِنْ غَيْرِهِ، وَلَمْ يَسْتَعِنْ عَلَى خَلْقِهَا بِأَحَد مِنْ خَلْقِهِ وَ أَنْشَأَ الْأَرْضَ فَأَمْسَكَهَا مِنْ غَيْرِ اشْتِغَالٍ، وَأَرْسَاهَا عَلَى غَيْرِ قَرَار، وَأَقَامَهَا بِغَيْرِ قَوَائِمَ، وَرَفَعَهَا بِغَيْرِ دَعائِمَ، وَححَصَّنَهَا مِنَ الْأَوَدِ وَ الِاعْوِجَاجِ، وَمَنَعَهَا مِنَ التَّهَافُتِ وَالانْفِرَاجِ، أَرْسَى أَوْتَادَهَا، وَضَرَبَ أَسْدَادَهَا، وَاسْتَفَاضَ عُيُونَهَا، وَخَدَّ أَوْدِيَتَهَا، فَلَمْ يَهِنْ مَا بَنَاهُ، وَلاَ ضَعُفَ مَا قَوَّاهُ هُوَ الظّاهِرُ عَلَيْهَا بِسُلْطَانِهِ وَعَظَمَتِهِ، وَهُوَ الْبَاطِنُ لَهَا بِعِلْمِهِ وَمَعْرِفَتِهِ، وَالْعَالي عَلَى كَلِّ شَيْء مِنهَا بِجَلاَلِهِ وَعِزَّتِهِ لاَ يُعْجِزُهُ شَيْءٌ مِنْهَا طَلَبَهُ، وَلاَ يَمْتَنِعُ عَلَيْهِ فَيَغْلِبَهُ، وَلاَ يَفُوتُهُ السَّرِيعُ مِنْهَا فَيَسْبِقَهُ، وَلاَ يَحْتَاجُ إِلَى ذِي مَال فَيَرْزُقَهُ خَضَعَتِ الْأَشْيَاءُ لَهُ، وَذَلَّتْ مُسْتَكِينَةً لِعَظَمَتِهِ، لاَ تَسْتَطِيعُ الْهَرَبَ مِنْ سُلْطَانِهِ إِلَى غَيْرِهِ فَتَمْتَنِعَ مِنْ نَفْعِهِ وَضَرِّهِ، وَلاَ كُفؤَ لَهُ فَيُكَافِئَهُ، وَلاَ نَظِيرَ لَهُ فَيُسَاوِيَهُ هُوَ الْمُفْنِي لَهَا بَعْدَ وُجُودِهَا، حَتَّى يَصِيرَ مَوْجُودُهَا كَمَفْقُودِهَا وَلَيْسَ فَنَاءُ الدُّنْيَا بَعْدَ ابْتِدَاعِهَا بِأَعْجَبَ مِنْ إنْشَائِهَا وَاخْتِرَاعِهَا، وَكَيفَ وَلَوْ اجْتَمَعَ جَمِيعُ حَيَوانِهَا مِنْ طَيْرِهَا وَبَهَائِمِهَا، ومَا كَانَ مِنْ مُرَاحِهَا وَسَائِمِهَا، وَأَصْنَافِ أَسْنَاخِهَا وَأَجْنَاسِهَا، وَمُتَبَلِّدَةِ أُمَمِهَا وَأَكْيَاسِهَا، عَلَى إِحْدَاثِ بَعُوضَة، مَا قَدَرَتْ عَلَى إِحْدَاثِهَا، وَلاَ عَرَفَتْ كَيْفَ السَّبِيلُ إِلَى إِيجَادِهَا، وَلَتَحَيَّرَتْ عُقُولُهَا فِي عِلْمِ ذلِكَ وَتاهَتْ، وَعَجِزَتْ قُوَاهَا وَتَنَاهَتْ، وَرَجَعَتْ خَاسِئَةً حَسِيرَةً، عَارِفَةً بِأَنَّهَا مَقْهُورَةٌ، مُقِرَّةً بِالْعَجْزِ عَنْ إِنْشَائِهَا، مُذْعِنَةً بِالضَّعْفِ عَنْ إفْنَائِهَا؟! وَإِنَّهُ سُبْحَانَهُ، يَعُودُ بَعْدَ فَنَاءِ الدُّنْيَا وَحْدَهُ لاَ شَيْءَ مَعَهُ، كَمَا كَانَ قَبْلَ ابْتِدَائِهَا، كَذلِكَ يَكُونُ بَعْدَ فَنَائِهَا، بِلاَ وَقْت وَلاَ مَكَان، وَلاَ حِين وَلاَ زَمَان، عُدِمَتْ عِنْدَ ذلِكَ الاْجَالُ وَ الْأَوْقَاتُ، وَزَالَتِ السِّنُونَ وَالسَّاعَاتُ، فَلاَ شَيْءَ إِلاَّ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ الَّذِي إِلَيْهِ مَصِيرُ جَمِيعِ الْأُمُورِ، بِلاَ قُدْرَة مِنْهَا كَانَ ابْتِدَاءُ خَلْقِهَا، وَبِغَيْرِ امْتِنَاع مِنْهَا كَانَ فَنَاؤُهَا، وَلَوْ قَدَرَتْ عَلَى الامْتِنَاعِ لَدَامَ بَقَاؤُهَا لَمْ يَتَكَاءَدْهُ صُنْعُ شَيْء مِنْهَا إِذْ صَنَعَهُ، وَلَمْ يَؤُدْهُ مِنْهَا خَلْقُ مَا بَرَأَهُ وَخَلَقَهُ، وَلَمْ يُكَوِّنْهَا لِتَشْدِيدِ سُلْطَان، وَلاَ لِخَوْف مِنْ زَوَال وَنُقْصَان، وَلاَ لِلاْسْتِعَانَةِ بِهَا عَلَى نِدٍّ مُكَاثِر، وَلاَ لِلاْحْتِرَازِ بِهَا مِنْ ضِدٍّ مُثَاوِر، وَلاَ لِلاْزْدِيَادِ بِهَا فِي مُلْكِهِ، وَلاَ لِمُكَاثَرَةِ شَرِيك فِي شِرْكِهِ، وَلاَ لِوَحْشَة كَانَتْ مِنْهُ، فَأَرَادَ أَنْ يَسْتَأْنِسَ إِلَيْهَا ثُمَّ هُوَ يُفْنِيهَا بَعْدَ تَكْوِينِهَا، لاَ لِسَأَم دَخَلَ عَلَيْهِ فِي تَصْرِيفِهَا وَتَدْبِيرِهَا، وَلاَ لِرَاحَة وَاصِلَة إِلَيْهِ، وَلاَ لِثِقَلِ شَيْء مِنْهَا عَلَيْهِ لاَ يُمِلُّهُ طُولُ بَقَائِهَا فَيَدْعُوَهُ إِلَى سُرْعَةِ إِفْنَائِهَا، لكِنَّهُ سُبْحَانَهُ دَبَّرَهَا بِلُطْفِهِ، وَأمسَكَهَا بِأَمْرِهِ، وَأَتْقَنَهَا بِقُدْرَتِهِ ثُمَّ يُعِيدُهَا بَعْدَ الْفَنَاءِ مِنْ غَيْرِ حَاجَة مِنْهُ إِلَيْهَا، وَلاَ اسْتِعَانَة بَشَيْء مِنْهَا عَلَيْهَا، وَلاَ لاِنصِرَاف مِنْ حَال وَحْشَة إلَى حَالِ اسْتِئْنَاس، وَلاَ مِنْ حَالِ جَهْل وَعَمىً إِلَى حَالِ عِلْم وَ الْتِمَاسٍ، وَلاَ مِنْ فَقْر وَحَاجَة إِلَى غِنىً وَكَثْرَة، وَلاَ مِنْ ذُلٍّ وَضَعَة إِلَى عِزٍّ وَقُدْرَة.

    اے لوگو! میں تمہیں اللہ سے ڈرتے رہنے کی وصیت کرتا ہوں اور اس کی ان نعمتوں پر جو اس نے تمہیں دیں اور ان انعامات پر جو تمہیں بخشے اور ان احسانات پر جو تم پر ہمیشہ کئے ہیں، بکثرت حمد و ستائش کی نصیحت کرتا ہوں۔ کتنا ہی اس نے تمہیں اپنی نعمتوں کیلئے مخصوص کیا اور اپنی رحمت سے تمہاری دستگیری کی۔ تم نے علانیہ برائیاں کیں لیکن اس نے تمہاری پردہ پوشی کی، تم نے ایسی حرکتیں کیں جو قابل گرفت تھیں مگر اس نے تمہیں ڈھیل دی۔ میں تمہیں سمجھاتا ہوں کہ موت کو یاد رکھو اور اس سے اپنی غفلت کو کم کرو اور آخر کیونکر تم اس سے غفلت میں پڑے ہوئے ہو جو تم سے غافل نہیں اور کیونکر اس (فرشتہ موت) سے کوئی آس لگاتے ہو جو تمہیں ذرا مہلت نہ دے گا۔ تمہیں پند و عبرت دینے کیلئے وہی مرنے والے کافی ہیں کہ جنہیں تم دیکھتے رہے ہو، انہیں (کندھوں پر) لاد کر قبروں کی طرف لے جایا گیا، درآنحالیکہ وہ خود سوار نہیں ہو سکتے اور انہیں قبروں میں اتار دیا گیا جبکہ وہ خود اترنے پر قادر نہ تھے۔ (یوں مٹ مٹا گئے کہ) گویا یہ کبھی دنیا میں بسے ہوئے تھے ہی نہیں اور گویا یہی آخرت (کا گھر) ان کا ہمیشہ سے گھر تھا۔ جسے وطن بنایا تھا اسے سنسان چھوڑ گئے اور جس سے وحشت کھایا کرتے تھے وہاں اب جا کر سکونت اختیار کرنا پڑی۔ ہمیشہ اس کا انتظام کیا جسے چھوڑنا تھا اور وہاں کی کوئی فکر نہیں کی جہاں جانا تھا۔ (اب) نہ تو برائیوں سے (توبہ کرکے) پلٹنا ان کے بس میں ہے اور نہ نیکیوں کو بڑھانا ان کے اختیار میں ہے۔ انہوں نے دنیا سے دل لگایا تو اس نے انہیں فریب دیا اور اس پر بھروسا کیا تو اس نے انہیں پچھاڑ دیا۔ خدا تم پر رحم کرے! ان گھروں کی طرف توجہ میں جلدی کرو جن کے آباد کرنے کا تمہیں حکم دیا گیا ہے اور جن کا تمہیں شوق دلایا گیا ہے اور جن کی جانب تمہیں بلایا گیا ہے۔ اس کی اطاعت پر صبر اور گناہوں سے کنارہ کشی کر کے اس کی نعمتوں کو جو تم پر ہیں پایۂ تکمیل تک پہنچاؤ، کیونکہ آنے والا ’’کل‘‘ آج کے دن سے قریب ہے۔ دن کے اندر گھڑیاں کتنی تیز قدم اور مہینوں کے اندر دن کتنے تیز رو اور سالوں کے اندر مہینے کتنے تیز گام اور عمر کے اندر سال کتنے تیز رفتار ہیں۔

  187. خطبہ 187- پختہ اور متزلزل ایمان اور دعویٰ سلونی «قبل ان تفقدونی»

    187

    أَلاَ بِأَبِي وَأُمِّي، هُمْ مِنْ عِدَّة أَسْمَاؤُهُمْ فِي السَّماءِ مَعْرُوفَةٌ وَ فِي الْأَرْضِ مَجْهُولَةٌ أَلاَ فَتَوَقَّعُوا مَا يَكُونُ مِنْ إِدْبَارِ أُمُورِكُمْ، وَانْقِطَاعِ وُصَلِكُمْ، وَاسْتِعْمَالِ صِغَارِكُمْ ذاكَ حَيْثُ تَكُونُ ضَرْبَةُ السَّيْفِ عَلَى الْمُؤْمِنِ أَهْوَنَ مِنَ الدِّرْهَمِ مِنْ حِلِّهِ! ذَاكَ حَيْثُ يَكُونُ المُعْطَى أَعْظَمَ أَجْراً مِنَ الْمُعْطِي! ذَاكَ حَيْثُ تَسْكَرُونَ مِنْ غَيْرِ شَرَاب، بَلْ مِنَ النِّعْمَةِ والنَّعِيمِ، وَتَحْلِفُونَ مِنْ غَيْرِ اضْطِرَار، وَتَكْذِبُونَ مِنْ غيْرِ إِحْرَاج ذَاكَ إِذَا عَضَّكُمُ الْبَلاَءُ كَمَا يَعَضُّ الْقَتَبُ غَارِبَ الْبَعيرِ مَا أَطْوَلَ هذَا الْعَنَاءَ، وَأَبْعَدَ هذا الرَّجَاءَ! أَيُّهَا النَّاسُ، أَلْقُوا هذِهِ الْأَزِمَّةَ الَّتِي تَحْمِلُ ظُهُورُهَا الاَثْقَالَ مِنْ أيْدِيكُمْ، وَلاَ تَصَدَّعُوا عَلَى سُلْطَانِكُمْ فَتَذُمُّوا غِبَّ فِعَالِكُمْ، وَلاَ تَقْتَحِمُوا مَا اسْتَقْبَلْتُمْ مِنْ فَوْرِ نَارِ الْفِتْنَةِ، وأَمِيطُوا عَنْ سَنَنِهَا، وَخَلُّو قَصْدَ السَّبِيلِ لَهَا، فَقدْ لَعَمْرِي يَهْلِكُ فِي لَهَبِهَا الْمُؤْمِنُ، وَيَسْلَمُ فِيهَا غَيْرُ الْمُسْلِمِ إِنَّمَا مَثَلي بَيْنَكُمْ مَثَلُ السِّرَاجِ فِي الظُّلْمَةِ، يَسْتَضِيءُ بِهِ مَنْ وَلَجَهَا فَاسْمَعَوا أَيُّهَا النَّاسُ وَعُوا وَ أَحْضِرُوا آذَانَ قُلُوبِكُمْ تَفْهَمُوا.

    ایک ایمان تو وہ ہوتا ہے جو دلوں میں جما ہوا اور برقرار ہو تا ہے اور ایک وہ کہ جو دلوں اور سینے (کی تہوں) میں ایک مقرر مدت تک عاریۃً ہوتا ہے، لہٰذا اگر کسی ایک میں تمہیں کوئی برائی ایسی نظر آئے کہ جس سے تمہیں اظہار بیزاری کرنا پڑے تو اسے اس وقت تک موقوف رکھو کہ اس شخص کو موت آ جائے کہ اس موقعہ پر اظہار بیزاری اپنی حد پر واقع ہو گی۔ ہجرت کا اصول پہلے ہی کی طرح اب بھی برقرار ہے۔ اہل زمین میں کوئی گروہ چپکے سے خدا کا راستہ اختیار کر لے یا علانیہ، بہر حال اللہ کو اس کی کوئی احتیاج نہیں ہے۔ زمین میں حجّت خدا کی معرفت کے بغیر کسی ایک کو بھی صحیح معنی میں مہاجر نہیں کہا جا سکتا۔ ہاں جو اسے پہچانے اور اس کا اقرار کرے وہی مہاجر ہے اور جس تک حجّت (الٰہیہ) کی خبر پہنچے کہ اس کے کان سن لیں اور دل محفوظ کر لیں تو اسے مستضعفین میں (جو ہجرت سے مستثنیٰ ہیں) داخل نہیں سمجھا جا سکتا۔ بلا شبہ ہمارا معاملہ ایک امر مشکل و دشوار ہے جس کا متحمل وہی بندہ مومن ہو گا کہ جس کے دل کو اللہ نے ایمان کیلئے پرکھ لیا ہو اور ہمارے قول و حدیث کو صرف امانتدار سینے اور ٹھوس عقلیں ہی محفوظ رکھ سکتی ہیں۔ اے لوگو! مجھے کھو دینے سے پہلے مجھ سے پوچھ لو اور میں زمین کی راہوں [۱] سے زیادہ آسمان کے راستوں سے واقف ہوں، قبل اس کے کہ وہ فتنہ اپنے پیروں کو اٹھائے جو مہار کو بھی اپنے پیروں کے نیچے روند رہا ہو اور جس نے لوگوں کی عقلیں زائل کر دی ہوں۔

  188. خطبہ 188- تقویٰ کی اہمیت، ہولناکی قبر، اللہ، رسول اور اہل بیت کی معرفت

    188

    أُوصِيكُمْ، أَيُّهَا النَّاسُ، بِتَقْوَى اللهِ، وَكَثْرَةِ حَمْدِهِ عَلَى آلاَئِهِ إِلَيْكُمْ، وَنَعْمَائِهِ عَلَيْكُمْ، وَبَلاَئِهِ لَدَيْكُمْ فَكَمْ خَصَّكُمْ بِنِعْمَة، وَتَدَارَكَكُمْ بِرَحْمَة! أَعْوَرْتُمْ لَهُ فَسَتَرَكُمْ، وَتَعَرَّضْتُمْ لِأَخْذِهِ فَأَمْهَلَكُمْ! المَوت وَأُوصِيكُمْ بِذِكْرِ الْمَوْتِ، وَإِقْلاَلِ الْغَفْلَةِ عَنْهُ، وَكَيْفَ غَفْلَتُكُمْ عَمَّا لَيْسَ يُغْفِلُكُمْ، وَطَمَعُكُمْ فِيمَنْ لَيْسَ يُمْهِلُكُمْ؟! فَكَفَى وَاعِظاً بِمَوْتَى عَايَنْتُمُوهُمْ، حُمِلُوا إلَى قُبُورِهِمْ غَيْرَ رَاكِبِينَ، وَأُنْزِلُوا فِيهَا غَيْرَ نَازِلِينَ، كَأَنَّهُمْ لَمْ يَكُونُوا لِلدُّنْيَا عُمَّاراً، وَكَأَنَّ الاخِرَةَ لَمْ تَزَلْ لَهُمْ دَاراً، أَوْحَشوُا مَا كَانُوا يُوطِنُونَ، وَأَوْطَنُوا مَا كَانُوا يُوحِشُونَ، وَاشْتَغَلُوا بِمَا فَارَقُوا، وَأَضَاعُوا مَا إِلَيْهِ انْتَقَلُوا، لاَ عَنْ قَبِيح يَسْتَطِيعُونَ انْتِقَالاً، وَلاَ فِي حَسَن يَسْتَطِيعُونَ ازْدِيَاداً، أَنِسُوا بِالدُّنْيَا فَغرَّتْهُمْ، وَوَثِقُوا بِهَا فَصَرَعَتْهُمْ سُرعة النّفاد فَسَابِقُوا -رَحِمَكُمُ اللَّهُ- إِلَى مَنَازِلِكُمُ الَّتِي أُمِرْتُمْ أَنْ تَعْمُرُوهَا، وَالَّتِي رُغِّبْتُمْ فِيهَا، وَدُعِيتُمْ إِلَيْهَا وَاسْتَتِمُّوا نِعَمَ اللهِ عَلَيْكُمْ بِالصَّبْرِ عَلَى طَاعَتِهِ، وَالْـمُجَانَبَةِ لِمَعْصِيَتِهِ، فَإِنَّ غَداً مِنَ الْيَوْمِ قَرِيبٌ مَا أَسْرَعَ السَّاعَاتِ فِي الْيَوْمِ، وَ أَسْرَعَ الْأَيَّامَ فِي الشَّهْرِ، وَأَسْرَعَ الشُّهُورَ فِي السَّنَةِ، وَأَسْرَعَ السِّنِينَ فِي الْعُمُرِ!

    میں اس کے انعامات کے شکریہ میں اس کی حمد کرتا ہوں اور اس کے حقوق سے عہدہ برآ ہونے کیلئے اسی سے مدد چاہتا ہو ں۔ وہ بڑے لاؤ لشکر اور بڑی شان والا ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، جنہوں نے اس کی اطاعت کی طرف لوگوں کو بلایا اور دین کی راہ میں جہاد کر کے اس کے دشمنوں پر غلبہ پایا۔ ان کے جھٹلانے پر لوگوں کا ایکا کر لینا اور ان کے نور کو بجھانے کیلئے کوشش و تلاش میں لگے رہنا ان کو اس (تبلیغ و جہاد کی) راہ سے ہٹا نہ سکا۔ اب تم کو لازم ہے کہ خوف الٰہی سے لپٹے رہو۔ اس لئے کہ اس کی ریسمان کے بندھن مضبوط اور اس کی پناہ کی چوٹی ہر طرح محفوظ ہے اور موت اور اس کی سختیوں (کے چھا جانے) سے پہلے فرائض و اعمال اپنے پورے کر دو اور اس کے آنے سے پہلے اس کا سر و سامان کر لو اور اس کے وارد ہونے سے قبل تہیہ کر لو، کیونکہ آخری منزل قیامت ہے اور یہ عقلمند کیلئے نصیحت دینے اور نادان کیلئے عبرت بننے کیلئے کافی ہے اور اس آخری منزل کے پہلے تم جانتے ہی ہو کہ کیا کیا ہے۔ قبروں کی تنگنائی، برزخ کی ہولناکی، خوف کی دہشتیں، (فشار قبر سے) پسلیوں کا اِدھر سے اُدھر ہو جانا، کانوں کا بہرا پن، لحد کی تاریکی، عذاب کی دھمکیاں، قبر کے شگاف کا بند کیا جانا اور اس پر پتھر کی سلوں کا چن دیا جانا۔ اے اللہ کے بندو! اللہ سے ڈر و! ڈرو کیونکہ دنیا تمہارے لئے ایک ہی دھڑے پر چل رہی ہے اور تم اور قیامت ایک ہی رسی میں بندھے ہوئے ہو۔ گویا کہ وہ اپنی علامتوں کو آشکارا کر کے آ چکی ہے اور اپنے جھنڈوں کو لے کر قریب پہنچ چکی ہے اور تمہیں اپنے راستہ پر کھڑا کر دیا ہے۔ گویا کہ وہ اپنی مصیبتوں کو لے کر تمہارے سر پر کھڑی ہوئی ہے اور اپنا سینہ ٹیک دیا ہے اور دنیا اپنے بسنے والوں سے کنارہ کشی کر چکی ہے اور انہیں اپنی آغوش سے الگ کر دیا ہے۔ گویا کہ وہ ایک دن تھا جو بیت گیا اور ایک مہینہ تھا جو گزر گیا۔ اس کی نئی چیزیں پرانی اور موٹے تازے (جسم) دبلے ہو گئے، ایک ایسی جگہ میں (پہنچ کر) جو تنگ (و تار) ہے اور ایسی چیزوں میں (پھنس کر) جو پیچیدہ و عظیم ہیں اور ایسی آگ میں (پڑ کر) جس کی ایذائیں شدید، چیخیں بلند، شعلے اٹھتے ہوئے، بھڑکنے کی آوازیں غضبناک، لپٹیں تیز، بجھنا مشکل، بھڑکنا تیز، خطرات دہشت ناک، گہراؤ نگاہ سے دور، اطراف تیرہ و تار، (آتشیں) دیگیں کھولتی ہوئیں اور تمام کیفیتیں سخت و ناگوار ہیں۔ ’’اور جو لوگ اللہ کا خوف کھاتے تھے انہیں جوق در جوق جنت کی طرف بڑھایا جائے گا‘‘ ۔ وہ عذاب سے محفوظ، عتاب و سرزنش سے علیحدہ اور آگ سے بری ہوں گے، گھر ان کا پر سکون اور وہ اپنی منزل و جائے قرار سے خوش ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دنیا میں اعمال پاک و پاکیزہ تھے اور آنکھیں اشکبار رہتی تھیں۔ دنیا میں ان کی راتیں خضوع و خشوع اور توبہ و استغفار میں (بیداری کی وجہ سے) دن اور دن لوگوں سے متوحش و علیحدہ رہنے کے باعث ان کیلئے رات تھے، تو اللہ نے جنت کو ان کی جائے بازگشت اور وہاں کی نعمتوں کو ان کی جزا قرار دیا ہے اور وہ اس کے سزاوار اور اہل و حقدار تھے۔ اس ہمیشہ رہنے والی سلطنت اور برقرار رہنے والی نعمتوں میں۔ لہٰذا اے خدا کے بندو! ان چیزوں کی پابندی کرو جن کی پابندی کرنے سے تم میں سے کامیاب ہونے والا کامیاب اور انہیں ضائع و برباد کرنے سے غلط کار نقصان رسیدہ ہو گا۔ موت آنے سے پہلے اعمال کا ذخیرہ مہیا کر لو۔ اس لئے کہ جن اعمال کو تم آگے بھیج چکے ہو گے انہی کے ہاتھوں میں تم گروی ہو گے اور جو کارگزاریاں انجام دے چکے ہو گے انہی کا بدلہ پاؤ گے اور یہ سمجھتے رہنا چاہیے کہ گویا موت تم پر وارد ہو چکی ہے جس کے بعد نہ تو تمہارے لئے پلٹنا ہے اور نہ گناہوں اور لغزشوں سے دستبرداری کا موقع ہے۔ خداوند عالم ہمیں اور تمہیں اپنی اور اپنے رسول ﷺ کی اطاعت کی توفیق دے اور اپنی رحمت کی فراوانیوں سے ہمیں اور تمہیں دامن عفو میں جگہ دے۔ زمین سے چمٹے رہو، بلا و سختی کو برداشت کرتے رہو اور اپنی زبان کی خواہشوں سے مغلوب ہو کر اپنے ہاتھوں اور تلواروں کو حرکت نہ دو اور جن چیزوں میں اللہ نے جلدی نہیں کی ان میں جلدی نہ مچاؤ۔ بلاشبہ تم میں سے جو شخص اللہ اور اس کے رسولؐ اور ان کے اہل بیتؑ کے حق کو پہچانتے ہوئے بستر پر بھی دم توڑے وہ شہید مرتا ہے اور اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے اور جس عمل خیر کی نیت اس نے کی ہے اس کے ثواب کا مستحق ہو جاتا ہے اور اس کی یہ نیت تلوار سونتنے کے قائم مقام ہے۔ بے شک ہر چیز کی ایک مدت اور میعاد ہوا کرتی ہے۔

  189. خطبہ 189- خداوند عالم کی توصیف، تقویٰ کی نصیحت، دنیا اور اہل دنیا

    189

    فَمِنَ الْإِيمَانِ مَا يَكُونُ ثَابِتاً مُسْتَقِرّاً فِي الْقُلُوبِ، وَمِنْهُ مَا يَكُونُ عَوَارِىَ بَيْنَ الْقُلُوبِ وَالصُّدورِ، إِلَى أَجَل مَعْلُوم، فَإِذَا كَانَتْ لَكُمْ بَرَاءَةٌ مِنْ أَحَد فَقِفُوهُ حَتّى يَحْضُرَهُ الْمَوْتُ، فَعِنْدَ ذَلِكَ يَقَعُ حدُّ الْبَرَاءَةِ وجوب الهجرة وَالْهِجْرَةُ قَائِمَةٌ عَلَى حَدِّهَا الْأَوَّلِ، مَا كَانَ لله تعالى فِي أَهْلِ الْأَرْضِ حَاجَةٌ مِنْ مُسْتَسِرِّ الْإِمَّةِ وَمُعْلِنِهَا، لاَ يَقَعُ اسْمُ الْهِجْرَةِ عَلَى أَحَد إلاَّ بِمَعْرِفَةِ الْحُجَّةِ في الْأَرْضِ، فَمَنْ عَرَفَهَا وَأَقَرَّ بِهَا فَهُوَ مُهَاجِرٌ، وَلاَ يَقَعُ اسْمُ الاسْتِضْعَافِ عَلَى مَنْ بَلَغَتْهُ الْحُجَّةُ فَسَمِعَتْهَا أُذُنُهُ وَ وَعَاهَا قَلْبُهُ صعوبة الايمان إِنَّ أَمْرَنا صَعْبٌ مُسْتَصْعَبٌ، لاَ يَحْتَمِلُهُ إِلاَّ عَبْدٌ مُؤْمِنٌ امْتَحَنَ اللهُ قَلْبَهُ لِلاِيمَانِ، وَلاَ يَعِي حَدِيثَنَا إِلاَّ صُدُورٌ أَمِينَةٌ، وَأَحْلاَمٌ رَزِينَةٌ علم الوصي أَيُّهَا النَّاسُ، سَلُوني قَبْلَ أَنْ تَفْقِدُوني، فَلَأَنَا بِطُرُقِ السَّمَاءِ أَعْلَمُ مِنِّي بِطُرُقِ الْأَرْضِ، قَبْلَ أَنْ تَشْغَرَ بِرِجْلِهَا فِتْنَةٌ تَطَأُ فِي خِطَامِهَا وَتَذْهَبُ بِأَحْلاَمِ قَوْمِهَا

    تمام حمد اس اللہ کیلئے ہے جس کی حمد ہمہ گیر ہے، جس کا لشکر غالب اور عظمت و شان بلند ہے۔ میں اس کی پے درپے نعمتوں اور بلند پایہ عطیوں پر اس کی حمد و ثنا کرتا ہوں۔ اس کے حلم کا درجہ بلند ہے، چنانچہ اس نے گنہگاروں سے درگزر کیا اور اس کا ہر فیصلہ عدل و انصاف پر مبنی ہے۔ وہ گزری ہوئی اور گزرنے والی باتوں کو جانتا ہے اور بغیر کسی کے نقش قدم پر چلے اور بغیر کسی کے سکھائے پڑھائے اور کسی با فہم صنعت گر کے نمونہ و مثال کی پیروی کئے بغیر اور بغیر لغزشوں سے دو چار ہوئے اور بغیر (مشیروں کی) جماعت کی موجودگی کے وہ اپنے علم و دانش سے مخلوقات کو ایجاد و اختراع کرنے والا ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، جنہیں اس وقت بھیجا جبکہ لوگ گمراہیوں میں چکر کاٹ رہے تھے اور حیرانیوں میں غلطاں و پیچان تھے، ہلاکت و تباہی کی مہاریں انہیں کھینچ رہی تھیں اور زنگ و کدورت کے تالے ان کے دلوں پر لگے ہوئے تھے۔ اے خدا کے بندو! میں تمہیں اللہ سے ڈرتے رہنے کی وصیت کرتا ہوں کہ یہ اللہ کا تم پر حق ہے اور تمہارے حق کو اللہ پر ثابت کرنے والا ہے اور یہ کہ تقویٰ کیلئے اللہ سے اعانت چاہو اور تقرب الٰہی کیلئے اس سے مدد مانگو۔ اس لئے کہ تقویٰ آج (دنیا میں) پناہ و سپر ہے اور کل جنت کی راہ ہے۔ اس کا راستہ آشکارا اور اس کا راہ پیما نفع میں رہنے والا ہے۔ جس کے سپرد یہ ودیعت ہے وہ اس کا نگہبان ہے۔ یہ تقویٰ اپنے آپ کو گزر جانے والی اور پیچھے رہ جانے والی اُمتوں کے سامنے ہمیشہ پیش کرتا رہا ہے، کیونکہ وہ سب اس کی حاجتمند ہوں گی۔ کل جب خداوند عالم اپنی مخلوق کو دوبارہ پلٹائے گا اور جو دے رکھا ہے وہ واپس لے گا اور اپنی بخشی ہوئی نعمتوں کے بارے میں سوال کرے گا تو اسے قبول کرنے والے اور اس کا پورا پورا حق ادا کرنے والے بہت ہی تھوڑے نکلیں گے۔ وہ گنتی کے اعتبار سے کم اور اس توصیف کے مصداق ہیں جو اللہ نے فرمائی ہے کہ: ’’میرے بندوں میں شکر گزار بندے کم ہیں‘‘ ۔ لہٰذا تقویٰ کی (آواز پر) اپنے کان لگاؤ اور سعی و کوشش سے برابر اس کی پابندی کرو اور اس کو گزری ہوئی کوتاہیوں کا عوض قرار دو اور ہر مخالفت کرنے والے کے بدلہ میں اسے اپنا ہمنوا بناؤ، اسے خواب غفلت سے اپنے چونکنے کا ذریعہ بناؤ اور اسی میں اپنے دن کا ٹ دو اور اسے اپنے دلوں کا شعار بناؤ اور گناہوں کو اس کے ذریعہ سے دھو ڈالو اور اس سے اپنی بیماریوں کا علاج کرو اور موت سے پہلے اس کا توشہ حاصل کرو اور جنہوں نے اسے ضائع و برباد کیا ہے۔ ان سے عبرت حاصل کرو۔ یہ نہ ہو کہ دوسرے تقویٰ پر عمل کرنے والے تم سے عبرت اندوز ہوں۔ دیکھو! اس کی حفاظت کرو اور اس کے ذریعہ سے اپنے لئے سرو سامانِ حفاظت فراہم کرو۔ دنیا (کی آلودگیوں) سے اپنا دامن پاک و صاف رکھو اور آخرت کی طرف والہانہ انداز سے بڑھو۔ جسے تقویٰ نے بلندی بخشی ہو اسے پست نہ سمجھو اور جسے دنیا نے اوج و رفعت پر پہنچایا ہو اُسے بلند (مرتبہ) نہ خیال کرو۔ اس کے چمکنے والے بادل پر نظر نہ کرو، اس کی باتیں کرنے والے کی باتوں پر کان نہ دھرو اور نہ اس کی دعوت دینے والے کی (آواز پر) لبیک کہو، نہ اس کی جگمگاہٹوں سے روشنی کی امید کرو، نہ اس کی عمدہ و نفیس چیزوں پر مر مٹو، کیونکہ اس کی چمکتی ہوئی بجلیاں نمائش اور اس کی باتیں جھوٹی ہیں، اس کا اثاثہ تباہ اور اس کا عمدہ متاع غارت ہونے والا ہے۔ دیکھو!یہ دنیا جھلک دکھا کر منہ موڑ لینے والی، چنڈال اور منہ زور، اڑیل اور جھوٹی، بڑی خائن اور ہٹ دھرم ناشکری ہے اور سیدھی راہ سے مڑنے رخ پھیرنے والی اور کجر و پیچ و تاب کھانے والی ہے۔ اس کا وتیرہ (ایک سے دوسرے کی طرف) پلٹ جانا ہے اور اس کا ہر قدم زلزلہ انگیز ہے۔ اس کی عزت (سراسر) ذلت، اس کی سنجیدگی عین ہر زہ سرائی اور اس کی بلندی سر تا سر پستی ہے۔ یہ غارتگری و تباہ کاری، ہلاکت و تاراجی کا گھر ہے۔ اس کے رہنے والے پا در رِکاب، چل چلاؤ کے منتظر، وصل و ہجر کی کشمکش میں گرفتار، اس کے راستے پاشان و پریشان، اس سے گریز کی راہیں دشوار اور اس کے منصوبے ناکام ہیں۔ چنانچہ اس کی محفوظ گھاٹیوں نے ان کو (بے یار و مددگار) چھوڑ دیا اور ان کے گھروں نے انہیں دور پھینک دیا اور ان کی ساری دانشمندیوں نے انہیں درماندہ کر دیا۔ اب جو ہیں (ان کی حالت یہ ہے) کہ کچھ کی کونچیں کٹی ہوئی ہیں اور کچھ گوشت کے لوتھڑے ہیں جن کی کھال اتری ہوئی ہے اور کچھ کٹے ہوئے جسم اور بہے ہوئے خون ہیں اور کچھ (غم و اندوہ سے) اپنے ہاتھ کاٹنے والے اور کچھ کفِ افسوس ملنے والے اور کچھ (فکر و تردد میں) رخسار کہنیوں پر رکھے ہوئے ہیں او رکچھ اپنی سمجھ کو کوسنے والے اور کچھ اپنے ارادوں سے روگردانی کرنے والے ہیں۔ (لیکن اب کہاں) جبکہ چارہ سازی کا موقعہ ہاتھ سے نکل چکا اور ناگہانی مصیبت سامنے آ گئی۔ اب نکل بھاگنے کا وقت کہاں! یہ تو ایک اَنہونی بات ہے۔ جو چیز ہاتھ سے نکل گئی سو نکل گئی اور جو وقت جا چکا سو جا چکا اور دنیا اپنی من مانی کرتے ہوئے گزر گئی۔ ’’ان پر نہ آسمان رویا نہ زمین اور نہ ہی انہیں مہلت دی گئی‘‘۔

  190. خطبہ 190- (خطبہ قاصعہ) جس میں ابلیس کی مذمت ہے۔

    190

    حمدُ الله أَحْمَدُهُ شُكْراً لِإِنْعَامِهِ، وَ أَسْتَعِينُهُ عَلَى وَظَائِفِ حُقُوقِهِ، عَزِيزَ الْجُنْدِ، عَظِيمَ الْـمَجْدِ الثناءُ على النبيّ وَأَشهَدُ أنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، دَعَا إِلَى طَاعَتِهِ، وَقَاهَرَ أَعْدَاءَهُ جِهَاداً عَنْ دِينِهِ، لَا يَثْنِيهِ عَنْ ذَلِكَ اجْتِمَاعٌ عَلَى تَكْذِيبِهِ وَ الْتِمَاسٌ لِإِطْفَاءِ نُورِهِ. العظة بالتقوى فَاعْتَصِمُوا بِتَقْوَى اللهِ، فَإِنَّ لَهَا حَبْلاً وَثِيقاً عُرْوَتُهُ، وَمَعْقِلاً مَنِيعاً ذِرْوَتُهُ، وَبَادِرُوا الْمَوْتَ وَغَمَرَاتِهِ، وَامْهَدُوا لَهُ قَبْلَ حُلُولِهِ، وأَعِدُّوا لَهُ قَبْلَ نُزُولِهِ، فَإِنَّ الْغَايَةَ الْقِيَامَةُ، وَكَفَى بِذلِكَ وَاعِظاً لِمَنْ عَقَلَ، وَمُعْتَبَراً لِمَنْ جَهِلَ! وَقَبْلَ بُلُوغِ الْغَايَةَ مَا تَعْلَمُونَ مِنْ ضِيقِ الْأَرْمَاسِ، وَشِدَّةِ الْإِبْلَاسِ، وَهَوْلِ الْمُطَّلَعِ، وَرَوْعَاتِ الْفَزَعِ، وَاخْتلاَفِ الْأَضْلَاعِ، وَاسْتِكَاكِ الْأَسْمَاعِ، وَظُلْمَةِ اللَّحْدِ، وَخِيفَةِ الْوَعْدِ، وغَمِّ الضَّرِيحِ، وَرَدْمِ الصَّفِيحِ فَاللهَ اللهَ عِبَادَ اللهِ! فَإِنَّ الْدُّنْيَا مَاضِيَةٌ بكُمْ عَلَى سَنَن، وَأَنْتُمْ وَالسَّاعَةُ فِي قَرَن، وَكَأَنَّهَا قَد جَاءَتْ بِأَشْرَاطِهَا، وَأَزِفَتْ بِأَفْرَاطِهَا، وَوَقَفَتْ بِكُمْ عَلَى سِراطِهَا، وَكَأنَّهَا قَدْ أَشْرَفَتْ بِزَلاَزِلِهَا، وَأَنَاخَتْ بِكَلاَكِلِهَا، وَانْصَرَمَتِ الدُّنْيَا بِأَهْلِهَا، وَأَخْرَجَتْهُمْ مَنْ حِضْنِهَا، فَكَانَتْ كَيَوْم مَضَى وَشَهْر انْقَضَى، وَصَارَ جَدِيدُهَا رَثّاً، وَسَمِينُهَا غَثّاً، فِي مَوْقِف ضَنْكِ الْمَقَامِ، وَأُمُور مُشْتَبِهَة عِظَام، ونَار شَدِيد كَلَبُهَا، عَال لَجَبُهَا، سَاطع لَهَبُهَا، مُتَغَيِّظ زَفِيرُهَا، مُتَأَجِّج سَعِيرهَا، بَعِيد خُمُودُهَا، ذَاك وُقُودُهَا، مَخُوف وعِيدُهَا، عُم قَرارُهَا، مُظْلِمَة أَقْطَارُهَا، حَامِيَة قُدُورُهَا، فَظِيعَة أُمُورُهَا وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ زُمَراً، قَدْ أُمِنَ الْعَذَابُ، وَانْقَطَعَ الْعِتَابُ، وَزُحْزِحُوا عَنِ النَّارِ، وَاطْمَأَنَّتْ بِهِمُ الدّارُ، وَرَضُوا المَثْوَى وَالْقَرَارَ، الَّذِينَ كَانَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا زَاكِيةً، وَأَعْيُنُهُمْ بَاكِيَةً، وَكَانَ لَيْلُهُمْ فِي دُنْيَاهُمْ نَهَاراً، تَخَشُّعاً وَاسْتِغفَاراً، وَكَانَ نَهَارُهُمْ لَيْلاً، تَوَحُشّاً وَانَقِطَاعاً، فَجَعَلَ اللهُ لَهُمُ الْجَنَّةَ مَآباً، وَالْجَزَاءَ ثَوَاباً، وَكَانُوا أَحَقَّ بِهَا وَأَهْلَها في مُلْك دَائِم، وَنَعِيم قَائِم فَارْعَوْا عِبَادَ اللهِ مَا بِرِعَايَتِهِ يَفُوزُ فَائِزُكُمْ، وَبِإضَاعَتِهِ يَخْسَرُ مُبْطِلُكُمْ، وَبَادِرُوا آجَالَكُمْ بأَعْمَالِكُمْ، فَإِنَّكُمْ مُرْتَهَنُونَ بِمَا أَسْلَفْتُمْ، وَمَدِينُونَ بِمَا قدَّمْتُمْ، وَكَأَنْ قَدْ نَزَلَ بِكُمُ الْـمَخُوفُ، فَلاَ رَجْعَةً تَنَالُونَ، وَلاَ عَثْرَةً تُقَالُونَ اسْتَعْمَلَنَا اللهُ وَإِيَّاكُمْ بِطَاعَتِهِ وَطَاعَةِ رَسُولِهِ، وعَفَا عَنَّا وَعَنْكُمْ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ. الْزَمُوا الْأَرْضَ، وَاصْبِروُا عَلَى الْبَلاءِ، وَلاَ تُحرِّكُوا بأَيْدِيكُمْ وَسُيُوفِكُمْ فِي هَوَى أَلْسِنَتِكُمْ، وَلاَ تَسْتَعْجِلُوا بِمَا لَمْ يُعَجِّلْهُ اللهُ لَكُمْ، فَإِنّهُ مَنْ مَاتَ مِنْكُمْ عَلَى فِرَاشِهِ وَهُوَ عَلَى مَعْرِفَةِ حَقِّ رَبِّهِ عَزَّوَجَلّ وَحَقِّ رَسُولِهِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِ وَعَلَيْهِمْ مَاتَ شَهِيداً، وَوَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللهِ، واسْتَوْجَبَ ثَوَابَ مَا نَوَى مِنْ صَالِحِ عَمَلِهِ، وَقَامَتِ النِّيَّةُ مَقَامَ إِصْلاَتِهِ لِسَيْفِهِ، فإِنَّ لِكُلِّ شَيْء مُدَّةً وَأَجَلاً.

    اس خطبہ کا نام ’’خطبہ قاصعہ‘‘ ہے جس میں ابلیس کی مذمت ہے، اس کے تکبر و غرور اور آدم علیہ السلام کے آگے سر بسجود نہ ہونے پر اور یہ کہ وہ پہلا فرد ہے جس نے عصبیّت کا مظاہرہ کیا اور غرور و نخوت کی راہ اختیار کی اور لوگوں کو اس کے طور طریقوں پر چلنے سے تنبیہ کی گئی ہے: ہر تعریف اس اللہ کیلئے ہے جو عزت و کبریائی کی ردا اوڑھے ہوئے ہے اور جس نے ان دونوں صفتوں کو بلا شرکت غیرے اپنی ذات کیلئے مخصوص کیا ہے اور دوسروں کیلئے ممنوع و ناجائز قرار دیتے ہوئے صرف اپنے لئے انہیں منتخب کیا ہے اور اس کے بندوں میں سے جو ان صفتوں میں سے اس سے ٹکر لے اس پر لعنت کی ہے اور اسی کی رُو سے اس نے اپنے مقرب فرشتوں کا امتحان لیا تاکہ ان میں سے فروتنی کرنے والوں کو گھمنڈ کرنے والوں سے چھانٹ کر الگ کر دے۔ چنانچہ اللہ سبحانہ نے باوجودیکہ وہ دل کے بھیدوں اور پردۂ غیب میں چھپی ہوئی چیزوں سے آگاہ ہے فرمایا کہ: ’’میں مٹی سے ایک بشر بنانے والا ہوں۔ جب میں اس کو تیار کر لوں اور اپنی خاص روح پھونک دوں تو تم اس کے سامنے سجدہ میں گر پڑنا۔ سب کے سب فرشتوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس‘‘۔ اسے سجدہ کرنے میں عار آئی اور اپنے مادہ تخلیق کی بنا پر آدمؑ کے مقابلے میں گھمنڈ کیا اور اپنی اصل کے لحاظ سے ان کے سامنے اکڑ گیا۔ چنانچہ یہ دشمن خدا عصبیت برتنے والوں کا سرغنہ اور سرکشوں کا پیشرو ہے کہ جس نے تعصب کی بنیاد رکھی، اللہ سے اس کی ردائے عظمت و کبریائی کو چھیننے کا تصور کیا، تکبر و سر کشی کا جامہ پہن لیا اور عجز و فروتنی کی نقاب اتار ڈالی۔ پھر تم دیکھتے نہیں کہ اللہ نے اسے بڑے بننے کی وجہ سے کس طرح چھوٹا بنایا اور بلندی کے زعم کی وجہ سے کس طرح پستی دی۔ دنیا میں اسے راندۂ درگاہ بنایا اور آخرت میں اس کیلئے بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کی۔ اور اگر اللہ چاہتا تو آدم علیہ السلام کو ایک ایسے نور سے پیدا کرتا کہ جس کی روشنی آنکھوں کو چندھیا دے اور اس کی خوشنمائی عقلوں پر چھا جائے اور ایسی خوشبو سے کہ جس کی مہک سانسوں کو جکڑ لے اور اگر ایسا کرتا تو ان کے آگے گردنیں خم ہو جاتیں اور فرشتوں کی ان کے بارے میں آزمائش ہلکی ہو جاتی، لیکن اللہ سبحانہ اپنی مخلوقات کو ایسی چیزوں سے آزماتا ہے کہ جن کى اصل و حقیقت سے وہ ناواقف ہوتے ہیں تاکہ اس آزمائش کے ذریعے (اچھے اور برے افراد میں) امتیاز کر دے، ان سے نخوت و برتری کو الگ اور غرور و خود پسندی کو دور کر دے۔ تمہیں چاہیے کہ اللہ نے شیطان کے ساتھ جو کیا اس سے عبرت حاصل کرو کہ اس کی طول طویل عبادتوں اور بھر پور کوششوں پر اس کے ایک گھڑی کے گھمنڈ سے پانی پھیر دیا۔ حالانکہ اس نے چھ ہزار برس تک جو پتہ نہیں دنیا کے سال تھے یا آخرت کے اس کی عبادت کی تھی۔ تو اَب ابلیس کے بعد کون رہ جاتا ہے جو اس جیسی معصیت کر کے اللہ کے عذاب سے محفوظ رہ سکتا ہو؟ ہرگز نہیں! یہ نہیں ہو سکتا کہ اللہ نے جس چیز کی وجہ سے ایک مَلک کو جنت سے نکال باہر کیا ہو اسی پر کسی بشر کو جنت میں جگہ دے۔ اس کا حکم تو اہل آسمان اور اہل زمین میں یکساں ہے۔ اللہ اور مخلوقات میں سے کسی فرد خاص کے درمیان دوستی نہیں کہ اس کو ایسے امر ممنوع کی اجازت ہو کہ جسے تمام جہان والوں کیلئے اس نے حرام کیا ہو۔ خدا کے بندو! اللہ کے دشمن سے ڈرو کہ کہیں وہ تمہیں اپنا روگ نہ لگا دے، اپنی پکار سے تمہیں بہکا نہ دے اور اپنے سوار و پیادے لے کر تم پر چڑھ نہ دوڑے۔ اس لئے کہ میری جان کی قسم!اس نے شر انگیزی کے تیر کو چلہ کمان میں جوڑ رکھا ہے اور قریب کی جگہ سے تمہیں اپنے نشانہ کی زد پر رکھ کر کمان کو زور سے کھینچ لیا ہے۔ جیسا کہ اللہ نے اس کی زبانی فرمایا ہے کہ: ’’اے میرے پروردگار! چونکہ تو نے مجھے بہکا دیا ہے، اب میں بھی ان کے سامنے زمین میں گناہوں کو سج کر پیش کروں گا اور ان سب کو گمراہ کروں گا‘‘، حالانکہ یہ اس نے بالکل اٹکل پچو کہا تھا اور غلط گمان کی بنا پر (اندھیرے میں) تیر چلایا تھا، لیکن فرزندانِ رعونت، برادرانِ عصبیت اور شہسواران غرور و جاہلیت نے اس کی بات کو سچ کر دکھایا۔ یہاں تک کہ جب تم میں سے سرکش اور منہ زور لوگ اس کے فرمانبردار ہو گئے اور تمہارے بارے میں اس کی ہوس و طمع قوی ہو گئی اور صورت حال پردۂ خفا سے نکل کر کھلم کھلا سامنے آ گئی تو اس کا پورا پورا تسلط تم پر ہو گیا اور وہ اپنے لشکر و سپاہ کو لے کر تمہاری طرف بڑھ آیا اور انہوں نے تمہیں ذلت کے غاروں میں دھکیل دیا اور قتل و خون کے بھنوروں میں لا گرایا اور گھاؤ پر گھاؤ لگا کر تمہیں کچل دیا، تمہاری آنکھوں میں نیزے گاڑ کر، تمہارے گلے کاٹ کر، تمہارے نتھنوں کو پارہ پارہ کر کے، تمہارے ایک ایک جوڑ بند کو توڑ کر اور تمہاری ناک میں غلبہ و تسلط کی نکیلیں ڈال کر تمہیں اس آگ کی طرف کھینچے لئے جاتا ہے جو تمہارے لئے تیار کی گئی ہے۔ اسی طرح ان دشمنوں سے جن سے کھلم کھلا تمہاری مخالفت ہے اور جن کے مقابلے کیلئے تم فوجیں جمع کرتے ہو، زیادہ بڑھ چڑھ کر وہ تمہارے دین کو مجروح کرنے والا اور دنیا میں تمہارے لئے (فتنہ و فساد) کے شعلے بھڑکانے والا ہے۔ لہٰذا تمہیں لازم ہے کہ اپنے جوش و غضب کا پورا مرکز اسے قرار دو اور پوری کوشش اس کے خلاف صرف کرو، کیونکہ اس نے شروع ہی میں تمہاری اصل (آدمؑ) پر فخر کیا، تمہارے حسب (قدر و منزلت) پر حرف رکھا، تمہارے نسب (اصل و طینت )پر طعن کیا اور اپنے سواروں کو لے کر تم پر یورش کی اور اپنے پیادوں کو لے کر تمہارے راستہ کا قصد کیا ہے۔ وہ ہر جگہ سے تمہیں شکار کرتے ہیں اور تمہاری (انگلی کی) ایک ایک پور پر چوٹیں لگاتے ہیں۔ نہ کسی حیلہ و تدبیر سے تم اپنا بچاؤ اور نہ پورا تہیہ کر کے اس کی روک تھام کر سکتے ہو، درآنحالیکہ تم رسوائی کے بھنور، تنگی و ضیق کے دائرہ، موت کے میدان اور مصیبت و بلا کی جولانگاہ میں ہو۔ تمہیں لازم ہے کہ اپنے دلوں میں چھپی ہوئی عصبیت کی آگ اور جاہلیت کے کینوں کو فرو کرو۔ کیونکہ مسلمان میں یہ غرور اور خود پسندی، شیطان کی وسوسہ اندازی، نخوت پسندی،فتنہ انگیزی اور فسوں کاری ہی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ عجز و فروتنی کو سر کا تاج بنانے، کبر و خود بینی کو پیروں تلے روندنے اور تکبر و رعونت کا طوق گردن سے اتارنے کا عزم بالجزم کر لو۔ اپنے اور اپنے دشمن شیطان اور اس کی سپاہ کے درمیان تواضع و فروتنی کا مورچہ قائم کرو، کیونکہ ہر جماعت میں اس کے لشکر، یار و مددگار اور سوار و پیادے موجود ہیں۔ تم اس کی طرح نہ بنو کہ جس نے اپنے ماں جائے بھائی کے مقابلے میں غرور کیا، بغیر کسی فضیلت و بلندی کے کہ جو اللہ نے اس میں قرار دی ہو، سوا اس کے کہ حاسدانہ عداوت سے اس میں اپنی بڑائی کا احساس پیدا ہوا اور خود پسندی نے اس کے دل میں غیظ و غضب کی آگ بھڑکا دی اور شیطان نے اس کی ناک میں کبر و غرور کی ہوا پھونک دی کہ جس کی وجہ سے اللہ نے ندامت و پشیمانی کو اس کے پیچھے لگا دیا اور قیامت تک کے قاتلوں کے گناہ اس کے ذمہ ڈال دیے۔ دیکھو! تم نے اللہ سے کھلم کھلا دشمنی پر اتر کر اور مومنین سے آمادۂ پیکار ہو کر ظلم و تعدی کی انتہا کر دی اور زمین میں فساد مچا دیا۔ تم زمانہ جاہلیت والی خود بینی کی بنا پر فخر و غرور کرنے سے اللہ کا خوف کھاؤ، کیونکہ یہ دشمنی و عناد کا سر چشمہ اور شیطان کی فسوں کاری کا مرکز ہے، جس سے اس نے گزشتہ اُمتوں اور پہلی قوموں کو ورغلایا۔ یہاں تک کہ وہ اس کے دھکیلنے اور آگے سے کھینچنے پر بے چون و چرا جہالت کی اندھیاریوں اور ضلالت کے گڑھوں میں تیزی سے جا پڑیں۔ ایسی صورت سے جس میں ایسے لوگوں کے تمام دل ملتے جلتے ہوئے ہیں اور صدیوں کا حال ایک ہی سا رہا ہے اور ایسا غرور جس کے چھپانے سے سینوں کی وسعتیں تنگ ہوتی ہیں۔ دیکھو! اپنے ان سرداروں اور بڑوں کا اتباع کرنے سے ڈرو کہ جو اپنی جاہ وحشمت پر اکڑتے اور اپنے نسب کی بلندیوں پر غرہ کرتے ہوں اور بدنما چیزوں کو اللہ کے سر ڈال دیتے ہوں اور اس کی قضا و قدر سے ٹکر لینے اور اس کی نعمتوں پر غلبہ پانے کیلئے اس کے احسانات سے یکسر انکار کر دیتے ہوں۔ یہی لوگ تو عصبیت کی عمارت کی گہری بنیاد، فتنہ کے کاخ و ایوان کے ستون اور جاہلیت کے نسبی تفاخر کی تلواریں ہیں۔ لہٰذا اللہ سے ڈرو اور اس کی دی ہوئی نعمتوں کے دشمن نہ بنو اور نہ اس کے فضل و کرم کے جو تم پر ہے حاسد بنو [۱] اور اُن جھوٹے مدعیانِ اسلام کی پیروی نہ کرو کہ جن کا گدلا پانی تم اپنے صاف پانی میں سمو کر پیتے ہو اور اپنی درستگی کے ساتھ ان کی خرابیوں کو خلط ملط کر لیتے ہو اور اپنے حق میں ان کے باطل کیلئے بھی راہ پیدا کر دیتے ہو۔ وہ فسق و فجور کی بنیاد ہیں اور نافرمانیوں کے ساتھ چسپیدہ ہیں، جنہیں شیطان نے گمراہی کی بار بردار سواری قرار دے رکھا ہے اور ایسا لشکر جس کو ساتھ لے کر لوگوں پر حملہ کرتا ہے اور ایسے ترجمان کہ جن کی زبان سے وہ گویا ہوتا ہے، تاکہ تمہاری عقلیں چھین لے، تمہاری آنکھوں میں گھس جائے اور تمہارے کانوں میں پھونک دے۔ اس طرح اس نے تمہیں اپنے تیروں کا ہدف، اپنے قدموں کی جولانگاہ اور اپنے ہاتھوں کا کھلونا بنا لیا ہے۔ تمہیں لازم ہے کہ تم سے قبل سرکش اُمتوں پر جو قہر و عذاب اور عتاب و عقاب نازل ہوا، اس سے عبرت لو اور ان کے رخساروں کے بل لیٹنے اور پہلوؤں کے بل گرنے کے مقامات سے نصیحت حاصل کرو اور جس طرح زمانہ کی مصیبتوں سے پناہ مانگتے ہو اسی طرح مغرور و سرکش بنانے والی چیزوں سے اللہ کے دامن میں پناہ مانگو۔ اگر خداوند عالم اپنے بندوں میں سے کسی ایک کو بھی کبر و رعونت کی اجازت دے سکتا ہوتا تو وہ اپنے مخصوص انبیاء اور اولیاء علیہم السلام کو اس کی اجازت دیتا، لیکن اس نے ان کو کبر و غرور سے بیزار ہی رکھا اور ان کیلئے عجز و مسکنت ہی کو پسند فرمایا۔ چنانچہ انہوں نے اپنے رخسارے زمین سے پیوستہ اور چہرے خاک آلودہ رکھے اور مومنین کے آگے تواضع و انکسار سے جھکتے رہے اور وہ دنیا میں کمزور و بے بس تھے، جنہیں اللہ نے بھوک سے آزمایا، تعب و مشقت میں مبتلا کیا، خوف و خطر کے موقعوں سے ان کا امتحان لیا اور ابتلا و مصیبت سے انہیں تہ و بالا کیا۔ لہٰذا خدا کی خوشنودی و ناخوشنودی کا معیار اولادو مال کو قرار نہ دو، کیونکہ تم نہیں جانتے کہ اللہ دولت اور اقتدار سے بھی کس کس طرح بندوں کا امتحان لیتا ہے۔ چنانچہ اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے کہ: ’’وہ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم جو مال و اولاد سے انہیں سہارا دیتے ہیں تو ہم ان کے ساتھ بھلائیاں کرنے میں سرگرم ہیں مگر (جو اصل واقعہ ہے اسے) یہ لوگ سمجھتے نہیں‘‘۔ اسی طرح واقعہ یہ ہے کہ اللہ اپنے ان بندوں کا جو بجائے خود اپنی بڑائی کا گھمنڈ رکھتے ہیں امتحان لیتا ہے، اپنے ان دوستوں کے ذریعہ سے جو ان کی نظروں میں عاجز و بے بس ہیں۔ (چنانچہ اس کی مثال یہ ہے کہ) موسیٰ علیہ السلام اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو ساتھ لے کر اس حالت میں فرعون کے پاس آئے کہ ان کے جسم پر اونی کُرتے اور ہاتھوں میں لاٹھیاں تھیں اور اس سے یہ قول و قرار کیا کہ اگر وہ اسلام قبول کرلے تو اس کا ملک بھی باقی رہے گا اور اس کی عزت بھی برقرار رہے گی، تو اس نے (اپنے حاشیہ نشینوں سے) کہا کہ: تمہیں ان پر تعجب نہیں ہوتا کہ یہ دونوں مجھ سے یہ معاملہ ٹھہرا رہے ہیں کہ میری عزت بھی برقرار رہے گی اور میرا ملک بھی باقی رہے گا اور جس پھٹے حال اور ذلیل صورت میں یہ ہیں تم دیکھ ہی رہے ہو، (اگر ان میں اتنا ہی دم خم تھا تو پھر) ان کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن کیوں نہیں پڑے ہوئے۔ یہ اس لئے کہ وہ سونے کو اور اس کی جمع آوری کو بڑی چیز سمجھتا تھا اور بالوں کے کپڑوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتا تھا۔ اگر خداوند عالم یہ چاہتا کہ جس وقت اس نے نبیوں کو مبعوث کیا تو ان کیلئے سونے کے خزانوں اور خالص طلا کی کانوں کے منہ کھول دیتا اور باغوں کی کشت زاروں کو ان کیلئے مہیا کر دیتا اور فضا کے پرندوں اور زمین کے صحرائی جانوروں کو ان کے ہمراہ کر دیتا تو کر سکتا تھا اور اگر ایسا کرتا تو پھر آزمائش ختم، جزا و سزا بیکار اور (آسمانی)خبریں اَکارت ہو جاتیں اور آزمائش میں پڑنے والوں کا اجر اس طرح کے ماننے والوں کیلئے ضروری نہ رہتا اور نہ ایسے ایمان لانے والے [۲] نیک کرداروں کی جزا کے مستحق رہتے او رنہ الفاظ اپنے معنی کا ساتھ دیتے، لیکن اللہ سبحانہ اپنے رسولوں کو ارادوں میں قوی اور آنکھوں کو دکھائی دینے والی ظاہری حالت میں کمزور و ناتواں قرار دیتا ہے اور انہیں ایسی قناعت سے سرفراز کرتا ہے جو (دیکھنے اور سننے والوں کے) دلوں اور آنکھوں کو بے نیازی سے بھر دیتی ہے اور ایسا افلاس ان کے دامن سے وابستہ کر دیتا ہے کہ جس سے آنکھوں کو دیکھ کر اور کانوں کو سن کر اذیت ہوتی ہے۔ اگر انبیاء علیہم السلام ایسی قوت و طاقت رکھتے کہ جسے دبانے کا قصد و ارادہ بھی نہ ہو سکتا ہوتا اور ایسا تسلط و اقتدار رکھتے کہ جس پر تعدی ممکن ہی نہ ہوتی اور ایسی سلطنت کے مالک ہو تے کہ جس کی طرف لوگوں کی گردنیں مڑتیں اور اس کے رخ پر سواریوں کے پالان کسے جاتے تو یہ چیز نصیحت پذیری کیلئے بڑی آسان اور اس سے انکار و سرتابی بہت بعید ہوتی اور لوگ چھائے ہوئے خوف یا مائل کرنے والے اسباب رغبت کی بنا پر ایمان لے آتے تو اس صورت میں ان کی نیتیں مشترک اور نیک عمل بٹے ہوئے ہوتے۔ لیکن اللہ سبحانہ نے تو یہ چاہا کہ اس کے پیغمبروں کا اتباع، اس کی کتابوں کی تصدیق، اس کے سامنے فروتنی، اس کے احکام کی فرمانبرداری اور اس کی اطاعت، یہ سب چیزیں اسی کیلئے مخصوص ہوں اور ان میں کوئی دوسرا شائبہ تک نہ ہو اور جتنی آزمائش کڑی ہو گی اتنا ہی اجر و ثواب زیادہ ہو گا۔ تم دیکھتے نہیں کہ اللہ سبحانہ نے آدم علیہ السلام سے لے کر اس جہان کے آخر تک کے اگلے پچھلوں کو ایسے پتھروں سے آزمایا ہے کہ جو نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ فائدہ، نہ سن سکتے ہیں اور نہ دیکھ سکتے ہیں۔ اس نے ان پتھروں ہی کو اپنا محترم گھر قرار دیا کہ جسے لوگوں کیلئے (امن کے) قیام کا ذریعہ ٹھہرایا ہے۔ پھر یہ کہ اس نے اسے زمین کے رقبوں میں سے ایک سنگلاخ رقبہ اور دنیا میں بلندی پر واقع ہونے والی آبادیوں میں سے ایک کم مٹی والے مقام اور گھاٹیوں میں سے ایک تنگ اطراف والی گھاٹی میں قرار دیا، کھرے اور کھردرے پہاڑوں، نرم رتیلے میدانوں، کم آب چشموں اور متفرق دیہاتوں کے درمیان کہ جہاں اونٹ، گھوڑا اور گائے بکری نشو و نما نہیں پا سکتے۔ پھر بھی اس نے آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد کو حکم دیا کہ اپنے رخ اس کی طرف موڑیں۔ چنانچہ وہ ان کے سفروں سے فائدہ اٹھانے کا مرکز اور پالانوں کے اترنے کی منزل بن گیا کہ دور افتادہ بے آب و گیاه بیابانوں، دور و دراز گھاٹیوں کے نشیبی راہوں اور (زمین سے) کٹے ہوئے دریاؤں کے جزیروں سے نفوس انسانی ادھر متوجہ ہوتے ہیں، یہاں تک کہ وہ پوری فرمانبرداری سے اپنے کندھوں کو ہلاتے ہوئے اس کے گرد لَبَّیْکَ اللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ کی آوازیں بلند کرتے ہیں اور اپنے پیروں سے پویا دوڑ لگاتے ہیں، اس حالت میں کہ ان کے بال بکھرے ہوئے اور بدن خاک میں اَٹے ہوتے ہیں۔ انہوں نے اپنا لباس پشت پر ڈال دیا ہوتا ہے اور بالوں کو بڑھا کر اپنے کو بدصورت بنا لیا ہوتا ہے۔ یہ بڑی ابتلا، کڑی آزمائش، کھلم کھلا امتحان اور پوری پوری جانچ ہے۔ اللہ نے اسے اپنی رحمت کا ذریعہ اور جنت تک پہنچنے کا وسیلہ قرار دیا ہے۔ اور اگر خداوند عالم یہ چاہتا کہ وہ اپنا محترم گھر اور بلند پایہ عبادت گاہیں ایسی جگہ پر بنائے کہ جس کے گرد باغ و چمن کی قطاریں اور بہتی ہوئی نہریں ہوں، زمین نرم و ہموار ہو کہ (جس میں) درختوں کے جھنڈ اور (ان میں) جھکے ہوئے پھلوں کے خوشے ہوں، جہاں عمارتوں کا جال بچھا ہوا اور آبادیوں کا سلسلہ ملا ہوا ہو، جہاں سرخی مائل گیہوں کے پودے، سر سبز مرغزار، چمن درکنار، سبزہ زار، پانی میں شرابور میدان، لہلہاتے ہوئے کھیت اور آباد گزرگاہیں ہوں تو البتہ وہ جزا و ثواب کو اسی اندازہ سے کم کر دیتا ہے کہ جس اندازہ سے ابتلا و آزمائش میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اگر وہ بنیاد کہ جس پر اس گھر کی تعمیر ہوئی ہے اور وہ پتھر کہ جس پراس کی عمارت اٹھائی گئی ہے، زمرد سبز و یاقوت سرخ کے ہوتے اور (ان میں) نور و ضیاء ( کی تابانی) ہوتی تو یہ چیز سینوں میں شک و شبہات کے ٹکراؤ کو کم کر دیتی اور دلوں سے شیطان کی دوڑ دھوپ (کا اثر) مٹا دیتی اور لوگوں سے شکوک کے خلجان دور کر دیتی، لیکن اللہ سبحانہ اپنے بندوں کو گو ناگوں سختیوں سے آزماتا ہے اور ان سے ایسی عبادت کا خواہاں ہے کہ جو طرح طرح کی مشقتوں سے بجا لائی گئی ہو اور انہیں قسم قسم کی ناگواریوں سے جانچتا ہے تاکہ ان کے دلوں سے تمکنت و غرور کو نکال باہر کرے اور ان کے نفوس میں عجز و فروتنی کو جگہ دے اور یہ کہ اس ابتلا و آزمائش(کی راہ) سے اپنے فضل و امتنان کے کھلے ہوئے دروازوں تک (انہیں ) پہنچائے اور اسے اپنی معافی و بخشش کا آسان وسیلہ و ذریعہ قرار دے۔ دنیا میں سرکشی کی پاداش اور آخرت میں ظلم کی گرانباری کے عذاب اور غرور و نخوت کے برے انجام کے خیال سے اللہ کا خوف کھاؤ، کیونکہ یہ (سرکشی، ظلم او رغرور و تکبر) شیطان کا بہت بڑا جال اور بہت بڑا ہتھکنڈا ہے کہ جو لوگوں کے دلوں میں زہر قاتل کی طرح اتر جاتا ہے۔ نہ اس کا اثر کبھی رائیگاں جاتا ہے نہ اس کا وار کسی سے خطا کرتا ہے، نہ عالم سے اس کے علم کے باوجود اور نہ پھٹے پرانے چیتھڑوں میں کسی فقیر بے نوا سے [۳] ۔ یہی وہ چیز ہے جس سے خداوند عالم ایمان سے سرفراز ہونے والے بندوں کو نماز، زکوٰة اور مقرر دنوں میں روزوں کے جہاد کے ذریعہ محفوظ رکھتا ہے اور اس طرح ان کے ہاتھ پیروں (کی طغیانیوں) کو سکون کی سطح پر لاتا ہے، ان کی آنکھوں کو عجزو شکستگی سے جھکا کر، نفس کو رام اور دلوں کو متواضع بنا کر، رعونت و خود پسندی کو ان سے دور کرتا ہے۔ (نماز میں) نازک چہروں کو عجز و نیاز مندی کی بنا پر خاک آلودہ کیا جاتا ہے اور روزوں میں از روئے فرمانبرداری پیٹ پیٹھ سے مل جاتے ہیں اور زکوٰة میں زمین کی پیداوار وغیرہ کو فقرا اور مساکین تک پہنچایا جاتا ہے۔ دیکھو! کہ ان اعمال و عبادات میں غرور کے ابھرے ہوئے اثرات کو مٹانے اور تمکنت کے نمایاں ہونے والے آثار کو دبانے کے کیسے کیسے فوائد مضمر ہیں۔ میں نے نگاہ دوڑائی تو دنیا بھر میں ایک فرد کو بھی ایسا نہ پایا کہ وہ کسی چیز کی پاسداری کرتا ہو، مگر یہ کہ اس کی نظروں میں اس کی کوئی وجہ ضرور ہوتی ہے کہ جو جاہلوں کے اشتباہ کا باعث بن جاتی ہے یا کوئی ایسی دلیل ہوتی ہے جو بیوقوفوں کی عقلوں سے چپک جاتی ہے، سوا تمہارے کہ تم ایک چیز کی جنبہ داری تو کرتے ہو مگر اس کی کوئی علت اور وجہ نہیں معلوم ہوتی۔ ابلیس ہی کو لو کہ اس نے آدم علیہ السلام کے سامنے حمیت و جاہلیت کا مظاہرہ کیا تو اپنی اصل (آگ) کی وجہ سے اور ان پر چوٹ کی تو اپنی خلقت و پیدائش کی بنا پر، چنانچہ اس نے آدم علیہ السلام سے کہا کہ: میں آگ سے بنا ہوں اور تم مٹی سے۔ (یونہی) خوش حال قوموں کے مالدار لوگ اپنی نعمتوں پر اتراتے ہوئے بڑا بول بولے کہ: ’’ہم مال و اولاد میں بڑھے ہوئے ہیں، ہمیں کیونکر عذاب کیا جا سکتا ہے‘‘۔ اب اگر تمہیں فخر ہی کرنا ہے تو اس کی پاکیزگی اخلاق، بلندیٔ کردار اور حسن سیرت پر فخر و ناز کرو کہ جس میں عرب گھرانوں کے با عظمت و بلند ہمت سردارانِ قوم اپنی خوش اطواریوں، بلند پایہ دانائیوں، اعلیٰ مرتبوں اور پسندیدہ کارناموں کی وجہ سے ایک دوسرے پر برتری ثابت کرتے تھے۔ تم بھی ان قابل ستائش خصلتوں کی طرفداری کرو، جیسے ہمسایوں کے حقوق کی حفاظت کرنا، عہد و پیمان کو نبھانا، نیکوں کی اطاعت اور سرکشوں کی مخالفت کرنا، حسن سلوک کا پابند اور ظلم و تعدی سے کنارہ کش رہنا، خونریزی سے پناہ مانگنا، خلق خدا سے عدل و انصاف برتنا، غصہ کو پی جانا، زمین میں شر انگیزی سے دامن بچانا۔ تمہیں ان عذابوں سے ڈرنا چاہیے جو تم سے پہلی اُمتوں پر ان کی بد اعمالیوں اور بد کرداریوں کی وجہ سے نازل ہوئے اور (اپنے) اچھے اور برے حالات میں ان کے احوال و واردات کو پیش نظر رکھو اور اس امر سے خائف و ترساں رہو کہ کہیں تم بھی انہی کے ایسے نہ ہو جاؤ۔ [۴] اگر تم نے ان کی دونوں (اچھی بری) حالتوں پر غور کر لیا ہے تو پھر ہر اس چیز کی پابندی کرو کہ جس کی وجہ سے عزت و برتری نے ہر حال میں ان کا ساتھ دیا اور دشمن ان سے دور دور رہے اور عیش و سکون کے دامن ان پر پھیل گئے اور نعمتیں سرنگوں ہو کر ان کے ساتھ ہو لیں اور عزت و سرفرازی نے اپنے بندھن ان سے جوڑ لئے۔ (وہ کیا چیزیں تھیں؟) یہ کہ وہ افتراق سے بچے اور اتفاق و یکجہتی پر قائم رہے، اسی پر ایک دوسرے کو ابھارتے تھے او راسی کی باہم سفارش کرتے تھے۔ اور تم ہر اس امر سے بچ کر رہو کہ جس نے ان کی ریڑھ کی ہڈی کو توڑ ڈالا اور قوت و توانائی کو ضعف سے بدل دیا، (اور وہ یہ تھا) کہ انہوں نے دلوں میں کینہ اور سینوں میں بغض رکھا، ایک دوسرے کی مدد سے پیٹھ پھرا لی اور باہمی تعاون سے ہاتھ اٹھا لیا۔ اور تم کو لازم ہے کہ گزشتہ زمانہ کے اہل ایمان کے وقائع و حالات میں غور و فکر کرو کہ (صبر آزما) ابتلاؤں اور (جانکاہ) مصیبتوں میں ان کی کیا حالت تھی، کیا وہ ساری کائنات سے زیادہ گرانبار، تمام لوگوں سے زائد مبتلائے تعب و مشقت اور دنیا جہان سے زیادہ تنگی و ضیق کے عالم میں نہ تھے؟ کہ جنہیں دنیا کے فرعونوں نے اپنا غلام بنا رکھا تھا اور انہیں سخت سے سخت اذیتیں پہنچاتے اور تلخیوں کے گھونٹ پلاتے تھے اور ان کی یہ حالت ہو گئی تھی کہ وہ تباہی و ہلاکت کی ذلتوں اور غلبہ و تسلط کی قہر سامانیوں میں گھرتے چلے جا رہے تھے۔ نہ انہیں بچاؤ کی کوئی تدبیر اور نہ روک تھام کا کوئی ذریعہ سو جھتا تھا۔ یہاں تک کہ جب اللہ سبحانہ نے یہ دیکھا کہ یہ میری محبت میں اذیتوں پر پوری کد و کاوش سے صبر کئے جا رہے ہیں اور میرے خوف (کے خیال) سے مصیبتوں کو جھیل رہے ہیں تو ان کیلئے مصیبت و ابتلا کی تنگنائے سے وسعت کی راہیں نکالیں اور ان کی ذلت کو عزت اور خوف و ہراس کو امن سے بدل دیا۔ چنانچہ وہ تخت ِ فرمانروائی پر سلطان اور مسند ِ ہدایت پر رہنما ہوئے اور انہیں امیدوں سے بڑھ چڑھ کر اللہ کی طرف سے عزت و سرفرازی حاصل ہوئی۔ غور کرو! کہ جب ان کی جمعیتیں یکجا، خیالات یکسو اور دل یکساں تھے اور ان کے ہاتھ ایک دوسرے کو سہارا دیتے اور تلواریں ایک دوسرے کی معین و مددگار تھیں اور ان کی بصیرتیں تیز اور ارادے متحد تھے تو اس وقت ان کا عالم کیا تھا؟ کیا وہ اطراف زمین میں فرمانروا اور دنیا والوں کی گردنوں پر حکمران نہ تھے؟ اور تصویر کا یہ رخ بھی دیکھو کہ جب ان میں پھوٹ پڑ گئی، یکجہتی درہم و برہم ہو گئی، ان کی باتوں اور دلوں میں اختلافات کے شاخسانے پھوٹ نکلے اور وہ مختلف ٹولیوں میں بٹ گئے اور الگ الگ جتھے بن کر ایک دوسرے سے لڑنے بھڑنے لگے تو ان کی نوبت یہ ہو گئی کہ اللہ نے ان سے عزت و بزرگی کا پیراہن اتار لیا اور نعمتوں کی آسائشیں ان سے چھین لیں اور تمہارے درمیان ان کے واقعات کی حکایتیں عبرت حاصل کرنے والوں کیلئے عبرت بن کر رہ گئیں۔ (اب ذرا) اسماعیل علیہ السلام کی اولاد، اسحاق علیہ السلام کے فرزندوں اور یعقوب علیہ السلام کے بیٹوں کے حالات سے عبرت و نصیحت حاصل کرو۔ حالات کتنے ملتے ہوئے ہیں اور طور طریقے کتنے یکساں ہیں۔ان کے منتشر و پراگندہ ہو جانے کی صورت میں جو واقعات رونما ہوئے، ان میں فکر و تامل کرو کہ جب شاہانِ عجم اور سلاطین روم ان پر حکمران تھے، وہ انہیں اطراف عالم کے سبزہ زاروں، عراق کے دریاؤں اور دنیا کی شادابیوں سے خار دار جھاڑیوں، ہواؤں کی بے روگ گزر گاہوں اور معیشت کی دشواریوں کی طرف دھکیل دیتے تھے اور آخر انہیں فقیر و نادار اور زخمی پیٹھ والے اونٹوں کا چرواہا اور بالوں کی جھونپڑیوں کا باشندہ بنا کر چھوڑتے تھے۔ ان کے گھر بار دنیا جہان سے بڑھ کر خستہ و خراب اور ان کے ٹھکانے خشک سالیوں سے تباہ حال تھے، نہ ان کی کوئی آواز تھی جس کے پرو بال کا سہارا لیں،نہ انس و محبت کی چھاؤں تھی جس کے بل بوتے پر بھروسا کریں، ان کے حالات پراگندہ، ہاتھ الگ الگ تھے، کثرت و جمعیت بٹی ہوئی، جانگداز مصیبتوں اور جہالت کی تہ بہ تہ تہوں میں پڑے ہوئے تھے، یوں کہ لڑکیاں زندہ درگور تھیں، (گھر گھر) مورتی پوجا ہوتی تھی، رشتے ناتے توڑے جا چکے تھے اور لوٹ کھسوٹ کی گرم بازاری تھی۔ دیکھو! کہ اللہ نے ان پر کتنے احسانات کئے کہ ان میں اپنا رسول بھیجا کہ جس نے اپنی اطاعت کا انہیں پابند بنایا اور انہیں ایک مرکز ِوحدت پر جمع کر دیا اور کیونکر خوشحالی نے اپنے پر و بال ان پر پھیلا دیئے اور ان کیلئے بخشش و فیضان کی نہریں بہا دیں اور شریعت نے انہیں اپنی برکت کے بے بہا فائدوں میں لپیٹ لیا، چنانچہ وہ اس کی نعمتوں میں شرابور اور اس کی زندگی کی تر و تازگیوں میں خوشحال اور ایک مسلط فرمانروا (اسلام) کے زیر سایہ ان (کی زندگی) کے تمام شعبے (نظم و ترتیب سے) قائم ہو گئے اور ان کے حالات (کی درستگی) نے انہیں غلبہ و بزرگی کے پہلو میں جگہ دی اور ایک مضبوط سلطنت کی سر بلند چوٹیوں میں (دین و دنیا کی) سعادتیں ان پر جھک پڑیں۔ وہ تمام جہان پر حکمران اور زمین کی پہنائیوں میں تخت و تاج کے مالک بن گئے اور جن پابندیوں کی بنا پر دوسروں کے زیر دست تھے، اب یہ انہیں پابند بنا کر ان پر مسلّط ہو گئے اور جن کے زیر ِ فرمان تھے ان کے فرمانروا بن گئے۔ نہ ان کا دم خم ہی نکالا جا سکتا ہے اور نہ ہی ان کا کس بل توڑا جا سکتا ہے۔ دیکھو! تم نے اطاعت کے بندھنوں سے اپنے ہاتھوں کو چھڑا لیا اور زمانۂ جاہلیت کے طور طریقوں سے اپنے گرد کھچے ہوئے حصار میں رخنہ ڈال دیا۔ خداوند عالم نے اس اُمت کے لوگوں پر اس نعمت بے بہا کے ذریعہ سے لطف و احسان فرمایا ہے کہ جس کی قدر و قیمت کو مخلوقات میں سے کوئی نہیں پہچانتا، کیونکہ وہ ہر (ٹھہرائی ہوئی) قیمت سے گراں تر اور ہر شرف و بلندی سے بالاتر ہے اور وہ یہ کہ ان کے درمیان انس و یکجہتی کا رابطہ (اسلام) قائم کیا کہ جس کے سایہ میں وہ منزل کرتے ہیں اور جس کے کنار (عاطفت) میں پناہ لیتے ہیں۔ یہ جانے رہو کہ تم (جہالت و نادانی) کو خیر باد کہہ دینے کے بعد پھر صحرائی بد و اور باہمی دوستی کی بعد پھر مختلف گروہوں میں بٹ گئے ہو، اسلام سے تمہارا واسطہ نام کو رہ گیا ہے اور ایمان سے چند ظاہری لکیروں کے علاوہ تمہیں کچھ سجھائی نہیں دیتا۔ تمہارا قول یہ ہے کہ: آگ میں کود پڑیں گے مگر عار قبول نہ کریں گے۔ گویا تم یہ چاہتے ہو کہ اسلام کی ہتک حرمت اور اس کا عہد توڑ کر اسے منہ کے بَل اوندھا کر دو، وہ عہد کہ جسے اللہ نے زمین میں پناہ اور مخلوقات میں امن قرار دیا ہے۔ (یاد رکھو!کہ ) اگر تم نے اسلام کے علاوہ کہیں اور کا رخ کیا تو کفار تم سے جنگ کیلئے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ پھر نہ جبرئیلؑ و میکائیلؑ ہیں اور نہ انصار و مہاجر ہیں کہ تمہاری مدد کریں، سوا اس کے کہ تلواروں کو کھٹکھٹاؤ، یہاں تک کہ اللہ تمہارے درمیان فیصلہ کر دے۔ خدا کا سخت عذاب، جھنجھوڑنے والا عقاب، ابتلاؤں کے دن اور تعزیر و ہلاکت کے حادثے تمہارے سامنے ہیں۔ اس کی گرفت سے انجان بن کر اور اس کی پکڑ کو آسان سمجھ کر اور اس کی سختی سے غافل ہو کر اس کے قہر و عذاب کو دور نہ سمجھو۔ خداوند عالم نے گزشتہ اُمتوں کو محض اس لئے اپنی رحمت سے دور رکھا کہ وہ اچھائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے سے منہ موڑ چکے تھے۔ چنانچہ اللہ نے بے وقوفوں پر ارتکاب گناہ کی وجہ سے اور دانشمندوں پر خطاؤں سے باز نہ آنے کے سبب سے لعنت کی ہے۔ دیکھو! تم نے اسلام کی پابندیاں توڑ دیں اور اس کی حدیں بیکار کر دیں اور اس کے احکام سرے سے ختم کر دیئے۔ معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ نے مجھے باغیوں، عہد شکنوں اور زمین میں فساد پھیلانے والوں سے جہاد کا حکم دیا۔ چنانچہ میں نے عہد شکنوں (اصحاب جمل)سے جنگ کی، نافرمانوں (اہل صفین ) سے جہاد کیا اور بے دینوں (خوارج نہروان ) کو بھی پوری طرح ذلیل کرکے چھوڑا۔ مگر گڑھے [۵] (میں گر کر مرنے) والا شیطان، میرے لئے اس کی مہم سر ہو گئی، ایک ایسی چنگھاڑ کے ساتھ کہ جس میں اس کے دل کی دھڑکن اور سینے کی تھرتھری کی آواز میرے کانوں میں پہنچ رہی تھی۔ اب باغیوں میں سے کچھ رہے سہے باقی رہ گئے ہیں، اگر اللہ نے پھر مجھے ان پر دھاوا بولنے کی اجازت دی تو میں انہیں تہس نہس کر کے دولت و سلطنت کا رخ دوسری طرف موڑ دوں گا۔ (پھر) وہی لوگ بچ سکیں گے جو مختلف شہروں کی دور و دراز حدوں میں تتر بتر ہوچکے ہوں گے۔ میں نے تو بچپن ہی میں عرب کا سینہ پیوند زمین کر دیا تھا اور قبیلہ ربیعہ و مضر کے ابھرے ہوئے سینگوں کو توڑ دیا تھا۔ تم جانتے ہی ہو کہ رسول اللہ ﷺ سے قریب کی عزیز داری اور مخصوص قدر و منزلت کی وجہ سے میرا مقام ان کے نزدیک کیا تھا۔ میں بچہ ہی تھا کہ رسول ﷺ نے مجھے گود میں لے لیا تھا، اپنے سینے سے چمٹائے رکھتے تھے، بستر میں اپنے پہلو میں جگہ دیتے تھے، اپنے جسم مبارک کو مجھ سے مس کرتے تھے اور اپنی خوشبو مجھے سنگھاتے تھے۔ پہلے آپؐ کسی چیز کو چباتے پھر اس کے لقمے بنا کر میرے منہ میں دیتے تھے۔ انہوں نے نہ تو میری کسی بات میں جھوٹ کا شائبہ پایا نہ میرے کسی کام میں لغزش و کمزوری دیکھی۔ اللہ نے آپؐ کی دودھ بڑھائی کے وقت ہی سے فرشتوں میں سے ایک عظیم المرتبت ملک (روح القدس) کو آپؐ کے ساتھ لگا دیا تھا جو انہیں شب و روز بزرگ خصلتوں اور پاکیزہ سیرتوں کی راہ پر لے چلتا تھا اور میں ان کے پیچھے پیچھے یوں لگا رہتا تھا جیسے اونٹنی کا بچہ اپنی ماں کے پیچھے۔ آپؐ ہر روز میرے لئے اخلاق حسنہ کے پرچم بلند کرتے تھے اور مجھے ان کی پیروی کا حکم دیتے تھے اور ہر سال (کوہ)حرا میں کچھ عرصہ قیام فرماتے تھے اور وہاں میرے علاوہ کوئی انہیں نہیں دیکھتا تھا۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ اور (اُمّ المومنین) خدیجہؑ کے گھر کے علاوہ کسی گھر کی چار دیواری میں اسلام نہ تھا البتہ تیسرا ان میں مَیں تھا۔ میں وحی و رسالت کا نور دیکھتا تھا اور نبوت کی خوشبو سو نگھتا تھا۔ جب آپؐ پر (پہلے پہل) وحی نازل ہوئی تو میں نے شیطان کی ایک چیخ سنی جس پر میں نے پوچھا کہ: یا رسول اللہؐ! یہ آواز کیسی ہے؟ آپؐ نے فرمایا کہ: «یہ شیطان ہے کہ جو اپنے پوجے جانے سے مایوس ہو گیا ہے۔ (اے علیؑ!) جو میں سنتا ہوں تم بھی سنتے ہو اور جو میں دیکھتا ہوں تم بھی دیکھتے ہو، فرق اتنا ہے کہ تم نبی نہیں ہو بلکہ (میرے) وزیر و جانشین ہو اور یقیناً بھلائی کی راہ پر ہو»۔ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا کہ قریش کی ایک جماعت آپؐ کے پاس آئی اور انہوں نے آپؐ سے کہا کہ: اے محمدؐ! آپؐ نے ایک بہت بڑا دعویٰ کیا ہے۔ ایسا دعویٰ نہ تو آپؐ کے باپ دادا نے کیا نہ آپؐ کے خاندان والوں میں سے کسی اور نے کیا۔ ہم آپؐ سے ایک امر کا مطالبہ کرتے ہیں، اگر آپؐ نے اسے پورا کر کے ہمیں دکھلا دیا تو پھر ہم بھی یقین کر لیں گے کہ آپؐ نبی و رسول ہیں اور اگر نہ کر سکے تو ہم جان لیں گے کہ (معاذ اللہ!) آپؐ جادوگر اور جھوٹے ہیں۔ حضرتؐ نے فرمایا کہ: «وہ تمہارا مطالبہ ہے کیا»؟ انہوں نے کہا کہ آپؐ ہمارے لئے اس درخت کو پکاریں کہ یہ جڑ سمیت اکھڑ آئے اور آپؐ کے سامنے آ کر ٹھہر جائے۔ آپؐ نے فرمایا کہ: «بلاشبہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اگر اس نے تمہارے لئے ایسا کر دکھایا تو کیا تم ایمان لے آؤ گے اور حق کی گواہی دو گے»؟ انہوں نے کہا کہ: ہاں! آپؐ نے فرمایا کہ: «اچھا! جو تم چاہتے ہو تمہیں دکھائے دیتا ہوں اور میں یہ اچھی طرح جانتا ہوں کہ تم بھلائی کی طرف پلٹنے والے نہیں ہو۔ یقیناً تم میں کچھ لوگ تو وہ ہیں جنہیں چاہ (بدر) میں جھونک دیا جائے گا اور کچھ وہ ہیں جو (جنگ) احزاب میں جتھا بندی کریں گے»۔ پھر آپؐ نے فرمایا کہ: «اے درخت! اگر تو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اور یہ یقین رکھتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو اپنی جڑ سمیت اُکھڑ آ، یہاں تک کہ تو بحکم خدا میرے سامنے آ کر ٹھہر جائے»۔ (رسول ﷺ کا یہ فرمانا تھا کہ) اس ذات کی قسم جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا! وہ درخت جڑ سمیت اکھڑ آیا اور اس طرح آیا کہ اس سے سخت کھڑکھڑاہٹ اور پرندوں کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ کی سی آواز آتی تھی، یہاں تک کہ وہ لچکتا جھومتا ہوا رسول اللہ ﷺ کے رو برو آ کر ٹھہر گیا اور بلند شاخیں ان پر اور کچھ شاخیں میرے کندھے پر ڈال دیں اور میں آپؐ کی دائیں جانب کھڑا تھا۔ جب قریش نے یہ دیکھا تو نخوت و غرور سے کہنے لگے کہ اسے حکم دیں کہ آدھا آپؐ کے پاس آئے اور آدھا اپنی جگہ پر رہے۔ چنانچہ آپؐ نے اسے یہی حکم دیا تو اس کا آدھا حصہ آپؐ کی طرف بڑھ آیا، اس طرح کہ اس کا آنا (پہلے آنے سے بھی) زیادہ عجیب صورت سے اور زیادہ تیز آواز کے ساتھ تھا اور اب کے قریب تھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے لپٹ جائے۔ اب انہوں نے کفر و سرکشی سے کہا کہ: اچھا اب اس آدھے کو حکم دیجیے کہ یہ اپنے دوسرے حصے کے پاس پلٹ جائے جس طرح پہلے تھا۔ چنانچہ آپؐ نے حکم دیا اور وہ پلٹ گیا۔ میں نے (یہ دیکھ کر) کہا کہ: لاالہ الا اللہ، اے اللہ کے رسولؐ! میں آپؐ پر سب سے پہلے ایمان لانے والا ہوں اور سب سے پہلے اس کا اقرار کرنے والا ہوں کہ اس درخت نے بحکم خدا آپؐ کی نبوت کی تصدیق اور آپؐ کے کلام کی عظمت و برتری دکھانے کیلئے جو کچھ کیا ہے وہ امر واقعی ہے (کوئی آنکھ کا پھیر نہیں)۔ یہ سن کر وہ ساری قوم کہنے لگی کہ: یہ (پناہ بخدا!) پرلے درجے کے جھوٹے اور جادوگر ہیں، ان کا سحر عجیب و غریب ہے اور ہیں بھی اس میں چابک دست، اس امر پر آپؐ کی تصدیق ان جیسے ہی کر سکتے ہیں اور اس سے مجھے مراد لیا۔ (جو چاہیں کہیں) میں تو اس جماعت میں سے ہوں کہ جن پر اللہ کے بارے میں کوئی ملامت اثر انداز نہیں ہوتی۔ وہ جماعت ایسی ہے جن کے چہرے سچوں کی تصویر اور جن کا کلام نیکوں کے کلام کا آئینہ دار ہے، وہ شب زندہ دار، دن کے روشن مینار اور خدا کی رسی سے وابستہ ہیں۔ یہ لوگ اللہ کے فرمانوں اور پیغمبر ﷺ کی سنتوں کو زندگی بخشتے ہیں، نہ سر بلندی دکھاتے ہیں، نہ خیانت کرتے ہیں اور نہ فساد پھیلاتے ہیں۔ ان کے دل جنت میں اٹکے ہوئے اور جسم اعمال میں لگے ہوئے ہیں۔

  191. خطبہ 191- متقین کے اوصاف اور نصیحت پذیر طبیعتوں پر موعظت کا اثر

    191

    الْحَمْدُ لله الْفَاشِي حَمْدُهُ، وَالْغَالِبِ جُنْدُهُ، وَالْمُتَعَالِي جَدُّهُ أحْمَدُهُ عَلَى نِعَمِهِ التُّؤَامِ، وَآلاَئِهِ الْعِظَامِ، الَّذِي عَظُمَ حِلْمُهُ فَعَفَا، وَعَدَلَ فِي كُلِّ مَا قَضَى، وَعَلِمَ مَا يَمْضِي وَمَا مَضَى، مُبْتَدِعِ الْخَلاَئِقِ بِعِلْمِهِ، وَمُنْشِئِهِمْ بِحُكْمِهِ، بِلاَ اقْتِدَاء وَلاَ تَعْلِيم، وَلاَ احْتِذَاء لِمِثَالِ صَانِع حَكِيم، وَلاَ إِصابَةِ خَطَأ، وَلاَ حَضْرَةِ مَلاَ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ابْتَعَثَهُ وَالنَّاسُ يَضْرِبُونَ فِي غَمْرَة، وَيَمُوجُونُ فِي حَيْرَة، قَدْ قَادَتْهُمْ أَزِمَّةُ الْحَيْنِ، وَاسْتَغْلَقَتْ عَلَى أَفْئِدَتِهِمْ أَقْفَالُ الرَّيْنِ الوصية بالزهد والتقوى أُوصِيكُمْ عِبَادَ اللهِ بِتَقْوَى اللهِ، فَإِنَّهَا حَقُّ اللهِ عَلَيْكُمْ، وَالْمُوجِبَةُ عَلَى اللهِ حَقَّكُمْ، وَأَنْ تَسْتَعِينُوا عَلَيْهَا بِاللهِ، وَتَسْتَعِينُوا بِهَا عَلَى اللهِ، فَإِنَّ الْتَّقْوَى فِي الْيَوْمِ الْحِرْزُ وَالْجُنَّةُ، وَفِي غَد الطَّرِيقُ إِلَى الْجَنَّةِ، مَسْلَكُهَا وَاضِحٌ، وَسَالِكُهَا رَابحٌ، وَمُسْتَوْدَعُهَا حَافِظٌ لَمْ تَبْرَحْ عَارِضَةً نَفْسَهَا عَلَى الْأُمَمِ الْمَاضِينَ وَالْغَابِرينَ لِحَاجَتِهِمْ إِلَيْهَا غَداً، إِذَا أَعَادَ اللهُ مَا أَبْدَى، وَأَخَذَ مَا أَعْطَى، وَسَأَلَ عَمَّا أَسْدَى فَمَا أَقَلَّ مَنْ قَبِلَهَا، وَحَمَلَهَا حَقَّ حَمْلِهَا! أُولئِكَ الْأَقَلُّونَ عَدَداً، وَهُمْ أَهْلُ صِفَةِ اللهِ سُبْحَانَهُ إِذْ يَقُولُ: وَقَلِيلٌ مِنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ فَأَهْطِعُوا بِأَسْمَاعِكُمْ إِلَيْهَا، وأكظّوا بِجِدِّكُمْ عَلَيْهَا، وَاعْتَاضُوهَا مِنْ كُلِّ سَلَف خَلَفاً، وَمِنْ كُلِّ مُخَالِف مُوَافِقاً أَيْقِظُوا بِهَا نَوْمَكُمْ، واقْطَعُوا بِهَا يَوْمَكُمْ، وَأَشْعِرُوهَا قُلُوبَكُمْ، وَارْحَضُوا بِهَا ذُنُوبَكُمْ، وَدَاوُوا بِهَا الْأَسْقَامَ، وَبَادِرُوا بِهَا الْحِمَامَ، وَاعْتَبِرُوا بِمَنْ أَضَاعَهَا، وَلاَ يَعْتَبِرَنَّ بِكُمْ مَنْ أَطَاعَهَا أَلاَ وصُونُوهَا وَتَصَوَّنُوا بِهَا، وَكُونُو عَنِ الدُّنْيَا نُزَّاهاً، وَإِلَى الاْخِرَةِ وُلاَّهاً وَلاَ تَضَعُوا مَنْ رَفَعَتْهُ التَّقْوَى، وَلاَ تَرْفَعُوا مَنْ رَفَعَتْهُ الدُّنْيَا، وَلاَ تَشِيمُوا بَارِقَهَا، وَلاَ تَسْمَعُوا نَاطِقَهَا، وَلاَ تُجِيبُوا نَاعِقَهَا، وَلاَ تَسْتَضِيئُوا بِإِشْرَاقِهَا، وَلاَ تُفْتَنُوا بِأَعْلاَقِهَا، فَإِنَّ بَرْقهَا خَالِبٌ، وَنُطْقَهَا كَاذِبٌ، وَأَمْوَالَهَا مَحْرُوبةٌ، وَأَعْلاَقَهَا مَسْلُوبَةٌ أَلاَ وَهِيَ الْمُتَصَدِّيَةُ الْعَنُونُ، وَالْجَامِحَةُ الْحَرُونُ، وَالْمَائِنَةُ الْخَأُون، وَالْجَحُودُ الْكَنُودُ، وَالْعَنُودُ الصَّدُودُ، وَالْحَيُودُ الْمَيُودُ حَالُهَا انْتِقَالٌ، وَوَطْأَتُهَا زِلْزَالٌ، وَعِزُّهَا ذُلٌّ، وَجِدُّهَا هَزْلٌ، وَعُلْوُهَا سُفْلٌ، دَارُ حَرَب وَسَلَب، وَنَهْب وَعَطَب، أَهْلُهَا عَلَى سَاق وَسِيَاق، وَلَحَاق وَفِرَاق قَدْ تَحَيَّرَتْ مَذَاهِبُهَا، وَأَعْجَزَتْ مَهَارِبُهَا، وَخَابَتْ مَطَالِبُهَا، فَأَسْلَمَتْهُمُ الْمَعَاقِلُ، وَلَفَظَتْهُمُ الْمَنَازِلُ، وَأَعْيَتْهُمُ الْـمَحَاوِلُ فَمِنْ نَاج مَعْقُور، وَلَحْم مَجْزُور، وَشِلْو مَذْبُوح، وَدَم مَسْفُوح، وَعَاضّ عَلَى يَدَيْهِ، وَصَافِق لِكَفَّيْهِ، وَمُرْتَفِق بِخَدَّيْهِ، وَزَار عَلَى رَأْيِهِ، وَرَاجِع عَنْ عَزْمِهِ، وَقَدْ أَدْبَرَتِ الْحِيلَةُ، وَأَقْبَلَتِ الْغِيلَةُ، وَلاَتَ حِينَ مَنَاص هَيْهَاتَ هَيْهَاتَ! قَدْ فَاتَ مَا فَاتَ، وَذَهَبَ مَا ذَهَبَ، ومَضَتِ الدُّنْيَا لِحَالِ بَالِهَا، «فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ وَالاْرْضُ وَمَا كَانُوا مُنْظَرِينَ.»

    بیان کیا گیا ہے کہ امیر المومنین علیہ السلام کے ایک صحابی [۱] نے کہ جنہیں ہمام کہا جاتا ہے اور جو بہت عبادت گزار شخص تھے، حضرتؑ سے عرض کیا کہ: یا امیر المومنینؑ! مجھ سے پرہیز گاروں کی حالت اس طرح بیان فرمائیں کہ ان کی تصویر میری نظروں میں پھرنے لگے۔ حضرتؑ نے جواب دینے میں کچھ تامل کیا۔ پھر اتنا فرمایا کہ: اے ہمام! اللہ سے ڈرو اور اچھے عمل کرو، کیونکہ’’اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو متقی و نیک کردار ہوں‘‘۔ ہمام نے آپؑ کے اس جواب پر اکتفا نہ کیا اور آپؑ کو (مزید بیان فرمانے کیلئے) قسم دی جس پر حضرتؑ نے خدا کی حمد و ثنا کی اور نبی ﷺ پر درود بھیجا اور یہ فرمایا: اللہ سبحانہ نے جب مخلوقات کو پیدا کیا تو ان کی اطاعت سے بے نیاز اور ان کے گناہوں سے بے خطر ہو کر کارگاہ ہستی میں انہیں جگہ دی، کیونکہ اسے نہ کسی معصیت کار کی معصیت سے نقصان اور نہ کسی فرمانبردار کی اطاعت سے فائدہ پہنچتا ہے۔ اس نے زندگی کا سر و سامان ان میں بانٹ دیا ہے اور دنیا میں ہر ایک کو اس کے مناسب حال محل و مقام پہ رکھا ہے۔ چنانچہ فضیلت ان کیلئے ہے جو پرہیزگار ہیں کیونکہ ان کی گفتگو جچی تلی ہوئی، پہناوا میانہ روی اور چال ڈھال عجز و فروتنی ہے۔ اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے انہوں نے آنکھیں بند کر لیں اور فائدہ مند علم پر کان دھر لئے ہیں۔ ان کے نفس زحمت و تکلیف میں بھی ویسے ہی رہتے ہیں جیسے آرام و آسائش میں۔ اگر (زندگی کی مقررہ) مدت نہ ہوتی جو اللہ نے ان کیلئے لکھ دی ہے تو ثواب کے شوق اور عتاب کے خوف سے ان کی روحیں ان کے جسموں میں چشم زدن کیلئے بھی نہ ٹھہرتیں۔ خالق کی عظمت ان کے دلوں میں بیٹھی ہوئی ہے۔ اس لئے کہ اس کے ماسوا ہر چیز ان کی نظروں میں ذلیل و خوار ہے۔ ان کو جنت کا ایسا ہی یقین ہے جیسے کسی کو آنکھوں دیکھی چیز کا ہوتا ہے، تو گویا وہ اسی وقت جنت کی نعمتوں سے سرفراز ہیں اور دوزخ کا بھی ایسا ہی یقین ہے جیسے کہ وہ دیکھ رہے ہیں تو انہیں ایسا محسوس ہو تا ہے کہ جیسے وہاں کا عذاب ان کے گرد و پیش موجود ہے۔ ان کے دل غمزدہ و محزون اور لوگ ان کے شر و ایذا سے محفوظ و مامون ہیں۔ ان کے بدن لاغر، ضروریات کم اور نفس نفسانی خواہشوں سے بری ہیں۔ انہوں نے چند مختصر سے دنوں کی ( تکلیفوں پر) صبر کیا جس کے نتیجہ میں دائمی آسائش حاصل کی۔ یہ ایک فائدہ مند تجارت ہے جو اللہ نے ان کیلئے مہیا کی۔ دنیا نے انہیں چاہا مگر انہوں نے دنیا کو نہ چاہا۔ اس نے انہیں قیدی بنایا تو انہوں نے اپنے نفسوں کا فدیہ دے کر اپنے کو چھڑا لیا۔ رات ہوتی ہے تو اپنے پیروں پر کھڑے ہو کر قرآن کی آیتوں کی ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کرتے ہیں، جس سے اپنے دلوں میں غم و اندوہ تازہ کرتے ہیں اور اپنے مرض کا چارہ ڈھونڈتے ہیں۔ جب کسی ایسی آیت پر ان کی نگاہ پڑتی ہے جس میں (جنت کی) ترغیب دلائی گئی ہو تو اس کے طمع میں ادھر جھک پڑتے ہیں اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل بے تابانہ کھنچتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ (پر کیف) منظر ان کی نظروں کے سامنے ہے اور جب کسی ایسی آیت پر ان کی نظر پڑتی ہے کہ جس میں (دوزخ سے )ڈرایا گیا ہو تو اس کی جانب دل کے کانوں کو جھکا دیتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ جہنم کے شعلوں کی آواز اور وہاں کی چیخ پکار ان کے کانوں کے اندر پہنچ رہی ہے۔ وہ (رکوع میں) اپنی کمریں جھکائے اور (سجدہ میں) اپنی پیشانیاں، ہتھیلیاں، گھٹنے اور پیروں کے کنارے (انگوٹھے) زمین پر بچھائے ہوئے ہیں اور اللہ سے گلو خلاصی کیلئے التجائیں کرتے ہیں۔ دن ہوتا ہے تو وہ (بردبار) دانشمند عالم، نیکو کار اور پرہیز گار نظر آتے ہیں۔ خوف نے انہیں تیروں کی طرح لاغر کر چھوڑا ہے۔ دیکھنے والا انہیں دیکھ کر مریض سمجھتا ہے، حالانکہ انہیں کوئی مرض نہیں ہوتا اور جب ان کی باتوں کو سنتا ہے تو کہنے لگتا ہے کہ ان کی عقلوں میں فتور ہے، (ایسا نہیں) بلکہ انہیں تو ایک دوسرا ہی خطرہ لاحق ہے۔ وہ اپنے اعمال کی کم مقدار سے مطمئن نہیں ہوتے اور زیادہ کو زیادہ نہیں سمجھتے۔ وہ اپنے ہی نفسوں پر (کوتاہیوں کا) الزام رکھتے ہیں اور اپنے اعمال سے خوف زدہ رہتے ہیں۔ جب ان میں سے کسی ایک کو (صلاح و تقویٰ کی بنا پر) سراہا جاتا ہے تو وہ اپنے حق میں کہی ہوئی باتوں سے لرز اٹھتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ: میں دوسروں سے زیادہ اپنے نفس کو جانتا ہوں اور میرا پروردگار مجھ سے بھی زیادہ میرے نفس کو جانتا ہے۔ خدایا! ان کی باتوں پر میری گرفت نہ کرنا اور میرے متعلق جو یہ حسن ظن رکھتے ہیں مجھے اس سے بہتر قرار دینا اور میرے ان گناہوں کو بخش دینا جو ان کے علم میں نہیں۔ ان میں سے ایک کی علامت یہ ہے کہ تم اس کے دین میں استحکام، نرمی و خوش خلقی کے ساتھ دور اندیشی، ایمان میں یقین و استواری، (حصول علم میں طمع)، بردباری کے ساتھ دانائی، خوشحالی میں میانہ روی، عبادت میں عجزو نیاز مندی، فقر و فاقہ میں آن بان، مصیبت میں صبر، طلب رزق میں حلال پر نظر، ہدایت میں کیف و سرور اور طمع سے نفرت و بے تعلقی دیکھو گے۔ وہ نیک اعمال بجا لانے کے باوجود خائف رہتا ہے۔ شام ہوتی ہے تو اس کے پیش نظر اللہ کا شکر اور صبح ہوتی ہے تو اس کا مقصد یاد خدا ہوتا ہے۔ رات خوف و خطر میں گزارتا ہے اور صبح کو خوش اٹھتا ہے۔ خطرہ اس کا کہ رات غفلت میں نہ گزر جائے اور خوشی اس فضل و رحمت کی دولت پر جو اسے نصیب ہوئی ہے۔ اگر اس کا نفس کسی ناگوار صورت حال کے برداشت کرنے سے انکار کرتا ہے تو وہ اس کی من مانی خواہش کو پورا نہیں کرتا۔ جاودانی نعمتوں میں اس کیلئے آنکھوں کا سرور ہے اور دارِ فانی کی چیزوں سے بے تعلقی و بیزاری ہے۔ اس نے علم میں حلم اور قول میں عمل کو سمو دیا ہے۔ تم دیکھو گے کہ اس کی امیدوں کا دامن کوتاہ، لغزشیں کم، دل متواضع اور نفس قانع، غذا قلیل، رویہ بے زحمت، دین محفوظ، خواہشیں مردہ اور غصہ ناپید ہے۔ اس سے بھلائی ہی کی توقع ہو سکتی ہے اور اس سے گزند کا کوئی اندیشہ نہیں ہوتا۔ جس وقت ذکر خدا سے غافل ہونے والوں میں نظر آتا ہے جب بھی ذکر کرنے والوں میں لکھا جاتا ہے، (چونکہ اس کا دل غافل نہیں ہوتا) اور جب ذکر کرنے والوں میں ہوتا ہے تو ظاہر ہی ہے کہ اسے غفلت شعاروں میں شمار نہیں کیا جاتا۔ جو اس پر ظلم کرتا ہے اس سے درگزر کر جاتا ہے، جو اسے محروم کرتا ہے اس کا دامن اپنی عطا سے بھر دیتا ہے، جو اس سے بگاڑتا ہے یہ اس سے بناتا ہے۔ بیہودہ بکواس اس کے قریب نہیں پھٹکتی۔ اس کی باتیں نرم، برائیاں ناپید اور اچھائیاں نمایاں ہیں، خوبیاں اُبھر کر سامنے آتی ہیں اور بدیاں پیچھے ہٹتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ یہ مصیبت کے جھٹکوں میں کوہ ِحلم و وقار، سختیوں پر صابر اور خوشحالی میں شاکر رہتا ہے۔ جس کا دشمن بھی ہو اس کے خلاف بے جا زیادتی نہیں کرتا اور جس کا دوست ہوتا ہے اس کی خاطر بھی کوئی گناہ نہیں کرتا۔ قبل اس کے کہ اس کی کسی بات کے خلاف گواہی کی ضرورت پڑے وہ خود ہی حق کا اعتراف کر لیتا ہے۔ امانت کو ضائع و برباد نہیں کرتا، جو اسے یاد دلایا گیا ہے اسے فراموش نہیں کرتا۔ نہ دوسروں کو برے ناموں سے یاد کرتا ہے نہ ہمسایوں کو گزند پہنچاتا ہے، نہ دوسروں کی مصیبتوں پر خوش ہوتا ہے،نہ باطل کی سرحد میں داخل ہوتا ہے اور نہ جادۂ حق سے قدم باہر نکالتا ہے۔ اگر چپ سادھ لیتا ہے تو اس خاموشی سے اس کا دل نہیں بجھتا اور اگر ہنستا ہے تو آواز بلند نہیں ہوتی۔ اگر اس پر زیادتی کی جائے تو سہ لیتا ہے، تاکہ اللہ ہی اس کا انتقام لے۔ اس کا نفس اس کے ہاتھوں مشقت میں مبتلا ہے اور دوسرے لوگ اس سے امن و راحت میں ہیں۔ اس نے آخرت کی خاطر اپنے نفس کو زحمت میں اور خلق خدا کو اپنے نفس (کے شر) سے راحت میں رکھا ہے۔ جن سے دوری اختیار کرتا ہے تو یہ زہد و پاکیزگی کیلئے ہوتی ہے اور جن سے قریب ہوتا ہے تو یہ خوش خلقی و رحم دلی کی بنا پر ہے۔ نہ اس کی دوری غرور و کبر کی وجہ سے اور نہ اس کا میل جول کسی فریب اور مکر کی بنا پر ہوتا ہے۔ راوی کا بیان ہے کہ ان کلمات کو سنتے سنتے ہمام پر غشی طاری ہوئی اور اسی عالم میں اس کی روح پرواز کر گئی۔ امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا کہ: ’’خدا کی قسم! مجھے اس کے متعلق یہی خطرہ تھا‘‘۔ پھر فرمایا کہ: ’’مؤثر نصیحتیں نصیحت پذیر طبیعتوں پر یہی اثر کیا کرتی ہیں‘‘۔ اس وقت ایک کہنے والے [۲] نے کہا کہ: یا امیر المومنینؑ! پھر کیا بات ہے کہ خود آپؑ پر ایسا اثر نہیں ہوتا؟ حضرتؑ نے فرمایا کہ: ’’بلاشبہ موت کیلئے ایک وقت مقرر ہوتا ہے کہ وہ اس سے آگے بڑھ ہی نہیں سکتا اور اس کا ایک سبب ہوتا ہے جو کبھی ٹل نہیں سکتا۔ایسی (بے معنی) گفتگو سے جو شیطان نے تمہاری زبان پر جاری کی ہے، باز آؤ اور ایسی بات پھر زبان پر نہ لانا‘‘۔

  192. خطبہ 192- پیغمبر ﷺکی بعثت، قبائلِ عرب کی عداوت اور منافقین کی حالت

    192

    الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَبِسَ الْعِزَّ وَ الْكِبْرِيَاءَ وَ اخْتَارَهُمَا لِنَفْسِهِ دُونَ خَلْقِهِ وَ جَعَلَهُمَا حِمًى وَ حَرَماً عَلَى غَيْرِهِ وَ اصْطَفَاهُمَا لِجَلَالِهِ وَ جَعَلَ اللَّعْنَةَ عَلَى مَنْ نَازَعَهُ فِيهِمَا مِنْ عِبَادِهِ رأس العصيان ثُمَّ اخْتَبَرَ بِذَلِكَ مَلَائِكَتَهُ الْمُقَرَّبِينَ لِيُمَيِّزَ الْمُتَوَاضِعِينَ مِنْهُمْ مِنَ الْمُسْتَكْبِرِينَ فَقَالَ سُبْحَانَهُ وَ هُوَ الْعَالِمُ بِمُضْمَرَاتِ الْقُلُوبِ وَ مَحْجُوبَاتِ الْغُيُوبِ إِنِّي خالِقٌ بَشَراً مِنْ طِينٍ فَإِذا سَوَّيْتُهُ وَ نَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ ساجِدِينَ فَسَجَدَ الْمَلائِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ إِلَّا إِبْلِيسَ اعْتَرَضَتْهُ الْحَمِيَّةُ فَافْتَخَرَ عَلَى آدَمَ بِخَلْقِهِ وَ تَعَصَّبَ عَلَيْهِ لِأَصْلِهِ فَعَدُوُّ اللَّهِ إِمَامُ الْمُتَعَصِّبِينَ وَ سَلَفُ الْمُسْتَكْبِرِينَ الَّذِي وَضَعَ أَسَاسَ الْعَصَبِيَّةِ وَ نَازَعَ اللَّهَ رِدَاءَ الْجَبَرِيَّةِ وَ ادَّرَعَ لِبَاسَ التَّعَزُّزِ وَ خَلَعَ قِنَاعَ التَّذَلُّلِ أَ لَا تَرَوْنَ كَيْفَ صَغَّرَهُ اللَّهُ بِتَكَبُّرِهِ وَ وَضَعَهُ بِتَرَفُّعِهِ فَجَعَلَهُ فِي الدُّنْيَا مَدْحُوراً وَ أَعَدَّ لَهُ فِي الْآخِرَةِ سَعِيراً ابتلاء الله لخلقه وَ لَوْ أَرَادَ سُبْحَانَهُ أَنْ يَخْلُقَ آدَمَ مِنْ نُورٍ يَخْطَفُ الْأَبْصَارَ ضِيَاؤُهُ وَ يَبْهَرُ الْعُقُولَ رُوَاؤُهُ وَ طِيبٍ يَأْخُذُ الْأَنْفَاسَ عَرْفُهُ لَفَعَلَ وَ لَوْ فَعَلَ لَظَلَّتْ لَهُ الْأَعْنَاقُ خَاضِعَةً وَ لَخَفَّتِ الْبَلْوَى فِيهِ عَلَى الْمَلَائِكَةِ وَ لَكِنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ يَبْتَلِي خَلْقَهُ بِبَعْضِ مَا يَجْهَلُونَ أَصْلَهُ تَمْيِيزاً بِالِاخْتِبَارِ لَهُمْ وَ نَفْياً لِلِاسْتِكْبَارِ عَنْهُمْ وَ إِبْعَاداً لِلْخُيَلَاءِ مِنْهُمْ‏ طلب العبرة فَاعْتَبِرُوا بِمَا كَانَ مِنْ فِعْلِ اللَّهِ بِإِبْلِيسَ إِذْ أَحْبَطَ عَمَلَهُ الطَّوِيلَ وَ جَهْدَهُ الْجَهِيدَ وَ كَانَ قَدْ عَبَدَ اللَّهَ سِتَّةَ آلَافِ سَنَةٍ لَا يُدْرَى أَ مِنْ سِنِي الدُّنْيَا أَمْ مِنْ سِنِي الْآخِرَةِ- عَنْ كِبْرِ سَاعَةٍ وَاحِدَةٍ فَمَنْ ذَا بَعْدَ إِبْلِيسَ يَسْلَمُ عَلَى اللَّهِ بِمِثْلِ مَعْصِيَتِهِ كَلَّا مَا كَانَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ لِيُدْخِلَ الْجَنَّةَ بَشَراً بِأَمْرٍ أَخْرَجَ بِهِ مِنْهَا مَلَكاً إِنَّ حُكْمَهُ فِي أَهْلِ السَّمَاءِ وَ أَهْلِ الْأَرْضِ لَوَاحِدٌ وَ مَا بَيْنَ اللَّهِ وَ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ خَلْقِهِ هَوَادَةٌ فِي إِبَاحَةِ حِمًى حَرَّمَهُ عَلَى الْعَالَمِينَ التحذير من الشيطان فَاحْذَرُوا- عِبَادَ اللَّهِ- عَدُوَّ اللَّهِ أَنْ يُعْدِيَكُمْ بِدَائِهِ وَ أَنْ يَسْتَفِزَّكُمْ بِنِدَائِهِ وَ أَنْ يُجْلِبَ عَلَيْكُمْ بِخَيْلِهِ وَ رَجْلِهِ فَلَعَمْرِي لَقَدْ فَوَّقَ لَكُمْ سَهْمَ الْوَعِيدِ وَ أَغْرَقَ لَكُمْ بِالنَّزْعِ الشَّدِيدِ وَ رَمَاكُمْ مِنْ مَكَانٍ قَرِيبٍ قَالَ (رَبِّ بِما أَغْوَيْتَنِي لَأُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ وَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ) قَذْفاً بِغَيْبٍ بَعِيدٍ وَ رَجْماً بِظَنٍّ غَيْرِ مُصِيبٍ صَدَّقَهُ بِهِ أَبْنَاءُ الْحَمِيَّةِ وَ إِخْوَانُ الْعَصَبِيَّةِ وَ فُرْسَانُ الْكِبْرِ وَ الْجَاهِلِيَّةِ حَتَّى إِذَا انْقَادَتْ لَهُ الْجَامِحَةُ مِنْكُمْ وَ اسْتَحْكَمَتِ الطَّمَاعِيَةُ مِنْهُ فِيكُمْ فَنَجَمَتِ الْحَالُ مِنَ السِّرِّ الْخَفِيِّ إِلَى الْأَمْرِ الْجَلِيِّ اسْتَفْحَلَ سُلْطَانُهُ عَلَيْكُمْ وَ دَلَفَ بِجُنُودِهِ نَحْوَكُمْ فَاقْحَمُوكُمْ وَلَجَاتِ الذُّلِّ وَ أَحَلُّوكُمْ وَرَطَاتِ الْقَتْلِ وَ أَوْطَأُوكُمْ إِثْخَانَ الْجِرَاحَةِ طَعْناً فِي عُيُونِكُمْ وَ حَزّاً فِي حُلُوقِكُمْ وَ دَقّاً لِمَنَاخِرِكُمْ وَ قَصْداً لِمَقَاتِلِكُمْ وَ سَوْقاً بِخَزَائِمِ الْقَهْرِ إِلَى النَّارِ الْمُعَدَّةِ لَكُمْ فَأَصْبَحَ أَعْظَمَ فِي دِينِكُمْ حَرْجاً وَ أَوْرَى فِي دُنْيَاكُمْ قَدْحاً مِنَ الَّذِينَ أَصْبَحْتُمْ لَهُمْ مُنَاصِبِينَ وَ عَلَيْهِمْ مُتَأَلِّبِينَ فَاجْعَلُوا عَلَيْهِ حَدَّكُمْ وَ لَهُ جِدَّكُمْ فَلَعَمْرُ اللَّهِ لَقَدْ فَخَرَ عَلَى أَصْلِكُمْ وَ وَقَعَ فِي حَسَبِكُمْ وَ دَفَعَ فِي نَسَبِكُمْ وَ أَجْلَبَ بِخَيْلِهِ عَلَيْكُمْ وَ قَصَدَ بِرَجْلِهِ سَبِيلَكُمْ يَقْتَنِصُونَكُمْ بِكُلِّ مَكَانٍ وَ يَضْرِبُونَ مِنْكُمْ كُلَّ بَنَانٍ لَا تَمْتَنِعُونَ بِحِيلَةٍ وَ لَا تَدْفَعُونَ بِعَزِيمَةٍ فِي حَوْمَةِ ذُلٍّ وَ حَلْقَةِ ضِيقٍ وَ عَرْصَةِ مَوْتٍ وَ جَوْلَةِ بَلَاءٍ فَأَطْفِئُوا مَا كَمَنَ فِي قُلُوبِكُمْ مِنْ نِيرَانِ الْعَصَبِيَّةِ وَ أَحْقَادِ الْجَاهِلِيَّةِ فَإِنَّمَا تِلْكَ الْحَمِيَّةُ تَكُونُ فِي الْمُسْلِمِ مِنْ خَطَرَاتِ الشَّيْطَانِ وَ نَخَوَاتِهِ وَ نَزَغَاتِهِ وَ نَفَثَاتِهِ وَ اعْتَمِدُوا وَضْعَ التَّذَلُّلِ عَلَى رُءُوسِكُمْ وَ إِلْقَاءَ التَّعَزُّزِ تَحْتَ أَقْدَامِكُمْ وَ خَلْعَ التَّكَبُّرِ مِنْ أَعْنَاقِكُمْ وَ اتَّخِذُوا التَّوَاضُعَ مَسْلَحَةً بَيْنَكُمْ وَ بَيْنَ عَدُوِّكُمْ إِبْلِيسَ وَ جُنُودِهِ فَإِنَّ لَهُ مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ جُنُوداً وَ أَعْوَاناً وَ رَجْلًا وَ فُرْسَاناً وَ لَا تَكُونُوا كَالْمُتَكَبِّرِ عَلَى ابْنِ أُمِّهِ مِنْ غَيْرِ مَا فَضْلٍ جَعَلَهُ اللَّهُ فِيهِ سِوَى مَا أَلْحَقَتِ الْعَظَمَةُ بِنَفْسِهِ مِنْ عَدَاوَةِ الْحَسَدِ وَ قَدَحَتِ الْحَمِيَّةُ فِي قَلْبِهِ مِنْ نَارِ الْغَضَبِ وَ نَفَخَ الشَّيْطَانُ فِي أَنْفِهِ مِنْ رِيحِ الْكِبْرِ الَّذِي أَعْقَبَهُ اللَّهُ بِهِ النَّدَامَةَ وَ أَلْزَمَهُ آثَامَ الْقَاتِلِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ التحذير من الكبر أَلَا وَ قَدْ أَمْعَنْتُمْ فِي الْبَغْيِ وَ أَفْسَدْتُمْ فِي الْأَرْضِ مُصَارَحَةً لِلَّهِ بِالْمُنَاصَبَةِ وَ مُبَارَزَةً لِلْمُؤْمِنِينَ بِالْمُحَارَبَةِ فَاللَّهَ اللَّهَ فِي كِبْرِ الْحَمِيَّةِ وَ فَخْرِ الْجَاهِلِيَّةِ فَإِنَّهُ مَلَاقِحُ الشَّنَئَانِ وَ مَنَافِخُ الشَّيْطَانِ اللَّاتِي خَدَع‏ بِهَا الْأُمَمَ الْمَاضِيَةَ وَ الْقُرُونَ الْخَالِيَةَ حَتَّى أَعْنَقُوا فِي حَنَادِسِ جَهَالَتِهِ وَ مَهَاوِي ضَلَالَتِهِ ذُلُلًا عَنْ سِيَاقِهِ سُلُساً فِي قِيَادِهِ أَمْراً تَشَابَهَتِ الْقُلُوبُ فِيهِ وَ تَتَابَعَتِ الْقُرُونُ عَلَيْهِ وَ كِبْراً تَضَايَقَتِ الصُّدُورُ بِهِ التحذير من طاعة الكبراء أَلَا فَالْحَذَرَ الْحَذَرَ مِنْ طَاعَةِ سَادَاتِكُمْ وَ كُبَرَائِكُمْ الَّذِينَ تَكَبَّرُوا عَنْ حَسَبِهِمْ وَ تَرَفَّعُوا فَوْقَ نَسَبِهِمْ وَ أَلْقَوُا الْهَجِينَةَ عَلَى رَبِّهِمْ وَ جَاحَدُوا اللَّهَ مَا صَنَعَ بِهِمْ مُكَابَرَةً لِقَضَائِهِ وَ مُغَالَبَةً لِآلَائِهِ فَإِنَّهُمْ قَوَاعِدُ أَسَاسِ الْعَصَبِيَّةِ وَ دَعَائِمُ أَرْكَانِ الْفِتْنَةِ وَ سُيُوفُ اعْتِزَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَ لَا تَكُونُوا لِنِعَمِهِ عَلَيْكُمْ أَضْدَاداً وَ لَا لِفَضْلِهِ عِنْدَكُمْ حُسَّاداً وَ لَا تُطِيعُوا الْأَدْعِيَاءَ الَّذِينَ شَرِبْتُمْ بِصَفْوِكُمْ كَدَرَهُمْ وَ خَلَطْتُمْ بِصِحَّتِكُمْ مَرَضَهُمْ وَ أَدْخَلْتُمْ فِي حَقِّكُمْ بَاطِلَهُمْ وَ هُمْ أَسَاسُ الْفُسُوقِ وَ أَحْلَاسُ الْعُقُوقِ اتَّخَذَهُمْ إِبْلِيسُ مَطَايَا ضَلَالٍ وَ جُنْداً بِهِمْ يَصُولُ عَلَى النَّاسِ وَ تَرَاجِمَةً يَنْطِقُ عَلَى أَلْسِنَتِهِمْ اسْتِرَاقاً لِعُقُولِكُمْ وَ دُخُولًا فِي عُيُونِكُمْ وَ نَفْثاً فِي أَسْمَاعِكُمْ فَجَعَلَكُمْ مَرْمَى نَبْلِهِ وَ مَوْطِئَ قَدَمِه وَ مَأْخَذَ يَدِهِ ِ العبرة بالماضين فَاعْتَبِرُوا بِمَا أَصَابَ الْأُمَمَ الْمُسْتَكْبِرِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ مِنْ بَأْسِ اللَّهِ وَ صَوْلَاتِهِ وَ وَقَائِعِهِ وَ مَثُلَاتِهِ وَ اتَّعِظُوا بِمَثَاوِي خُدُودِهِمْ وَ مَصَارِعِ جُنُوبِهِمْ وَ اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ لَوَاقِحِ الْكِبْرِ كَمَا تَسْتَعِيذُونَهُ مِنْ طَوَارِقِ الدَّهْرِ فَلَوْ رَخَّصَ اللَّهُ فِي الْكِبْرِ لِأَحَدٍ مِنْ عِبَادِهِ لَرَخَّصَ فِيهِ لِخَاصَّةِ أَنْبِيَائِهِ وَ أَوْلِيَائِهِ وَ لَكِنَّهُ- سُبْحَانَهُ- كَرَّهَ إِلَيْهِمُ التَّكَابُرَ وَ رَضِيَ لَهُمُ التَّوَاضُعَ فَأَلْصَقُوا بِالْأَرْضِ خُدُودَهُمْ وَ عَفَّرُوا فِي التُّرَابِ وُجُوهَهُمْ وَ خَفَضُوا أَجْنِحَتَهُمْ لِلْمُؤْمِنِينَ وَ كَانُوا أَقْوَامًا مُسْتَضْعَفِينَ قَدِ اخْتَبَرَهُمُ اللَّهُ بِالْمَخْمَصَةِ وَ ابْتَلَاهُمْ بِالْمَجْهَدَةِ وَ امْتَحَنَهُمْ بِالْمَخَاوِفِ وَ مَخَضَهُمْ بِالْمَكَارِهِ فَلَا تَعْتَبِرُوا الرِّضَى وَ السَّخَطَ بِالْمَالِ وَ الْوَلَدِ جَهْلًا بِمَوَاقِعِ الْفِتْنَةِ وَ الِاخْتِبَارِ فِي مَوَاضِعِ الْغِنَى وَ الِافْتِقَاِر فَقَد- قَالَ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالَى أَ يَحْسَبُونَ أَنَّما نُمِدُّهُمْ بِهِ مِنْ مالٍ وَ بَنِينَ نُسارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْراتِ بَلْ لا يَشْعُرُونَ فَإِنَّ اللَّهَ- سُبْحَانَهُ- يَخْتَبِرُ عِبَادَهُ الْمُسْتَكْبِرِينَ فِي أَنْفُسِهِمْ بِأَوْلِيَائِهِ الْمُسْتَضْعَفِينَ فِي أَعْيُنِهِمْ تواضع الانبياء (عليهم السلام) وَ لَقَدْ دَخَلَ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ وَ مَعَهُ أَخُوهُ هَارُونُ- صلى الله عليهما- عَلَى فِرْعَوْنَ وَ عَلَيْهِمَا مَدَارِعُ الصُّوفِ وَ بِأَيْدِيهِمَا الْعِصِيُّ فَشَرَطَا لَهُ إِنْ أَسْلَمَ بَقَاءَ مُلْكِهِ وَ دَوَامَ عِزِّهِ فَقَالَ أَ لَا تَعْجَبُونَ مِنْ هَذَيْنِ يَشْرُطَانِ لِي دَوَامَ الْعِزِّ وَ بَقَاءَ الْمُلْكِ وَ هُمَا بِمَا تَرَوْنَ مِنْ حَالِ الْفَقْرِ وَ الذُّلِّ فَهَلَّا أُلْقِيَ عَلَيْهِمَا أَسَاوِرُ مِنْ ذَهَبٍ إِعْظَاماً لِلذَّهَبِ وَ جَمْعِهِ وَ احْتِقَاراً لِلصُّوفِ وَ لُبْسِهِ وَ لَوْ أَرَادَ اللَّهُ- سُبْحَانَهُ- لِأَنْبِيَائِهِ حَيْثُ بَعَثَهُمْ أَنْ يَفْتَحَ لَهُمْ كُنُوزَ الذِّهْبَانِ وَ مَعَادِنَ الْعِقْيَانِ وَ مَغَارِسَ الْجِنَانِ وَ أَنْ يَحْشُرَ مَعَهُمْ طُيُورَ السَّمَاءِ وَ وُحُوشَ الْأَرْضِ لَفَعَلَ وَ لَوْ فَعَلَ لَسَقَطَ الْبَلَاءُ وَ بَطَلَ الْجَزَاءُ وَ اضْمَحَلَّتِ الْأَنْبَاءُ وَ لَمَا وَجَبَ لِلْقَابِلِينَ أَجُورُ الْمُبْتَلَيْنَ وَ لَا اسْتَحَقَّ الْمُؤْمِنُونَ ثَوَابَ الْمُحْسِنِينَ وَ لَا لَزِمَتِ الْأَسْمَاءُ مَعَانِيَهَا وَ لَكِنَّ اللَّهَ- سُبْحَانَهُ- جَعَلَ رُسُلَهُ أُولِي قُوَّةٍ فِي عَزَائِمِهِمْ وَ ضَعَفَةً فِيمَا تَرَى الْأَعْيُنُ مِنْ حَالَاتِهِمْ مَعَ قَنَاعَةٍ تَمْلَأُ الْقُلُوبَ وَ الْعُيُونَ غِنًى وَ خَصَاصَةٍ تَمْلَأُ الْأَبْصَارَ وَ الْأَسْمَاعَ أَذًى وَ لَوْ كَانَتِ الْأَنْبِيَاءُ أَهْلَ قُوَّةٍ لَا تُرَامُ وَ عِزَّةٍ لَا تُضَامُ وَ مُلْكٍ تَمْتَدُّ نَحْوَهُ أَعْنَاقُ الرِّجَالِ وَ تُشَدُّ إِلَيْهِ عُقَدُ الرِّحَالِ لَكَانَ ذَلِكَ أَهْوَنَ عَلَى الْخَلْقِ فِي الِاعْتِبَارِ وَ أَبْعَدَ لَهُمْ مِنَ الِاسْتِكْبَارِ وَ لَآمَنُوا عَنْ رَهْبَةٍ قَاهِرَةٍ لَهُمْ أَوْ رَغْبَةٍ مَائِلَةٍ بِهِمْ وَ كَانَتِ النِّيَّاتُ مُشْتَرَكَةً وَ الْحَسَنَاتُ مُقْتَسَمَةً وَ لَكِنَّ اللَّهَ- سُبْحَانَهُ- أَرَادَ أَنْ يَكُونَ الِاتِّبَاعُ لِرُسُلِهِ وَ التَّصْدِيقُ بِكُتُبِهِ وَ الْخُشُوعُ لِوَجْهِهِ وَ الِاسْتِكَانَةُ لِأَمْرِهِ وَ الِاسْتِسْلَامُ لِطَاعَتِهِ أُمُوراً لَهُ خَاصَّةً لَا تَشُوبُهَا مِنْ غَيْرِهَا شَائِبَةٌ وَ كُلَّمَا كَانَتِ الْبَلْوَى وَ الِاخْتِبَارُ أَعْظَمَ كَانَتِ الْمَثُوبَةُ وَ الْجَزَاءُ أَجْزَلَ الكعبة المقدسة أَ لَا تَرَوْنَ أَنَّ اللَّهَ- سُبْحَانَهُ- اخْتَبَرَ الْأَوَّلِينَ مِنْ لَدُنْ آدَمَ- صلوات الله عليه- إِلَى الْآخِرِينَ مِنْ هَذَا الْعَالَمِ بِأَحْجَارٍ لَا تَضُرُّ وَ لَا تَنْفَعُ وَ لَا تُبْصِرُ وَ لَا تَسْمَعُ فَجَعَلَهَا بَيْتَهُ الْحَرَامَ الَّذِي جَعَلَهُ لِلنَّاسِ قِيَاماً ثُمَّ وَضَعَهُ بِأَوْعَرِ بِقَاعِ الْأَرْضِ حَجَراً وَ أَقَلِّ نَتَائِقِ الدُّنْيَا مَدَراً وَ أَضْيَقِ بُطُونِ الْأَوْدِيَةِ قُطْراً بَيْنَ جِبَالٍ خَشِنَةٍ وَ رِمَالٍ دَمِثَةٍ وَ عُيُونٍ وَشِلَةٍ وَ قُرًى مُنْقَطِعَةٍ لَا يَزْكُو بِهَا خُفٌّ وَ لَا حَافِرٌ وَ لَا ظِلْفٌ ثُمَّ أَمَرَ آدَمَ- عليه السلام- وَ وَلَدَهُ أَنْ يَثْنُوا أَعْطَافَهُمْ نَحْوَهُ فَصَارَ مَثَابَةً لِمُنْتَجَعِ أَسْفَارِهِمْ وَ غَايَةً لِمُلْقَى رِحَالِهِمْ تَهْوِي إِلَيْهِ ثِمَارُ الْأَفْئِدَةِ مِنْ مَفَاوِزِ قِفَارٍ سَحِيقَةٍ وَ مَهَاوِي فِجَاجٍ عَمِيقَةٍ وَ جَزَائِرِ بِحَارٍ مُنْقَطِعَةٍ حَتَّى يَهُزُّوا مَنَاكِبَهُمْ ذُلُلًا يُهَلِّلُونَ لِلَّهِ حَوْلَهُ وَ يَرْمُلُونَ عَلَى أَقْدَامِهِمْ شُعْثاً غُبْراً لَهُ قَدْ نَبَذُوا السَّرَابِيلَ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَ شَوَّهُوا بِإِعْفَاءِ الشُّعُورِ مَحَاسِنَ خَلْقِهِمُ ابْتِلَاءً عَظِيماً وَ امْتِحَاناً شَدِيداً وَ اخْتِبَاراً مُبِيناً وَ تَمْحِيصاً بَلِيغاً جَعَلَهُ اللَّهُ سَبَباً لِرَحْمَتِهِ وَ وُصْلَةً إِلَى جَنَّتِهِ وَ لَوْ أَرَادَ- سُبْحَانَهُ- أَنْ يَضَعَ بَيْتَهُ الْحَرَامَ وَ مَشَاعِرَهُ الْعِظَامَ بَيْنَ جَنَّاتٍ وَ أَنْهَارٍ وَ سَهْلٍ وَ قَرَارٍ دَانِي الثِّمَار جَمِّ الْأَشْجَارِ مُلْتَفَّ الْبُنَى مُتَّصِلِ الْقُرَى بَيْنَ بُرَّةٍ سَمْرَاءَ وَ رَوْضَةٍ خَضْرَاءَ وَ أَرْيَافٍ مُحْدِقَةٍ وَ عِرَاصٍ مُغْدِقَةٍ وَ زُرُوعٍ نَاضِرَةٍ وَ طُرُقٍ عَامِرَةٍ لَكَانَ قَدْ صَغَّرَ قَدْرَ الْجَزَاءِ عَلَى حَسَبِ ضَعْفِ الْبَلَاءِ وَ لَوْ كَانَتِ الْإِسَاسُ الْمَحْمُولُ عَلَيْهَا وَ الْأَحْجَارُ الْمَرْفُوعُ بِهَا بَيْنَ زُمُرُّدَةٍ خَضْرَاءَ وَ يَاقُوتَةٍ حَمْرَاءَ وَ نُورٍ وَ ضِيَاءٍ لَخَفَّفَ ذَلِكَ مُصَارَعَةَ الشَّكِّ فِي الصُّدُورِ وَ لَوَضَعَ مُجَاهَدَةَ إِبْلِيسَ عَنِ الْقُلُوبِ وَ لَنَفَى مُعْتَلَجَ الرَّيْبِ مِنَ النَّاسِ وَ لَكِنَّ اللَّهَ يَخْتَبِرُ عِبَادَهُ بِأَنْوَاعِ الشَّدَائِدِ وَ يَتَعَبَّدُهُمْ بِأَنْوَاعِ الْمَجَاهِدِ وَ يَبْتَلِيهِمْ بِضُرُوبِ‏ الْمَكَارِهِ إِخْرَاجاً لِلتَّكَبُّرِ مِنْ قُلُوبِهِمْ وَ إِسْكَاناً لِلتَّذَلُّلِ فِي نُفُوسِهِمْ وَ لِيَجْعَلَ ذَلِكَ أَبْوَاباً فُتُحاً إِلَى فَضْلِهِ وَ أَسْبَاباً ذُلُلًا لِعَفْوِهِ عود إلى التحذير فَاللَّهَ اللَّهَ فِي عَاجِلِ الْبَغْيِ وَ آجِلِ وَخَامَةِ الظُّلْمِ وَ سُوءِ عَاقِبَةِ الْكِبْرِ فَإِنَّهَا مَصِيدَةُ إِبْلِيسَ الْعُظْمَى وَ مَكِيدَتُهُ الْكُبْرَى الَّتِي تُسَاوِرُ قُلُوبَ الرِّجَالِ مُسَاوَرَةَ السُّمُومِ الْقَاتِلَةِ فَمَا تُكْدِي أَبَداً وَ لَا تُشْوِي أَحَداً لَا عَالِماً لِعِلْمِهِ وَ لَا مُقِلًّا فِي طِمْرِهِ فضائل الفرائض وَ عَنْ ذَلِكَ مَا حَرَسَ اللَّهُ عِبَادَهُ الْمُؤْمِنِينَ بِالصَّلَوَاتِ وَ الزَّكَوَاتِ وَ مُجَاهَدَةِ الصِّيَامِ فِي الْأَيَّامِ الْمَفْرُوضَاتِ تَسْكِيناً لِأَطْرَافِهِمْ وَ تَخْشِيعاً لِأَبْصَارِهِمْ وَ تَذْلِيلًا لِنُفُوسِهِمْ وَ تَخْفِيضاً لِقُلُوبِهِمْ وَ إِذْهَاباً لِلْخُيَلَاءِ عَنْهُمْ لِمَا فِي ذَلِكَ مِنْ تَعْفِيرِ عِتَاقِ الْوُجُوهِ بِالتُّرَابِ تَوَاضُعاً وَ الْتِصَاقِ كَرَائِمِ الْجَوَارِحِ بِالْأَرْضِ تَصَاغُراً وَ لُحُوقِ الْبُطُونِ بِالْمُتُونِ مِنَ الصِّيَامِ تَذَلُّلًا مَعَ مَا فِي الزَّكَاةِ مِنْ صَرْفِ ثَمَرَاتِ الْأَرْضِ وَ غَيْرِ ذَلِكَ إِلَى أَهْلِ الْمَسْكَنَةِ وَ الْفَقْرِ انْظُرُوا إِلَى مَا فِي هَذِهِ الْأَفْعَالِ مِنْ قَمْعِ نَوَاجِمِ الْفَخْرِ وَ قَدْعِ طَوَالِعِ الْكِبْرِ عصبية وَ لَقَدْ نَظَرْتُ فَمَا وَجَدْتُ أَحَداً مِنَ الْعَالَمِينَ يَتَعَصَّبُ لِشَيْ‏ءٍ مِنَ الْأَشْيَاءِ إِلَّا عَنْ عِلَّةٍ تَحْتَمِلُ تمويه الْجُهَلَاءِ أَوْ حُجَّةٍ تَلِيطُ بِعُقُولِ السُّفَهَاءِ غَيْرَكُمْ فَإِنَّكُمْ تَتَعَصَّبُونَ لِأَمْرٍ مَا يُعْرَفُ لَهُ سَبَبٌ وَ لَا عِلَّةٌ أَمَّا إِبْلِيسُ فَتَعَصَّبَ عَلَى آدَمَ لِأَصْلِهِ وَ طَعَنَ عَلَيْهِ فِي خِلْقَتِهِ فَقَالَ أَنَا نَارِيٌّ وَ أَنْتَ طِينِيٌّ وَ أَمَّا الْأَغْنِيَاءُ مِنْ مُتْرَفَةِ الْأُمَمِ فَتَعَصَّبُوا لِآثَارِ مَوَاقِعِ النِّعَمِ فَ قالُوا نَحْنُ أَكْثَرُ أَمْوالًا وَ أَوْلاداً وَ ما نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ مِنَ الْعَصَبِيَّةِ فَلْيَكُنْ تَعَصُّبُكُمْ لِمَكَارِمِ الْخِصَالِ وَ مَحَامِدِ الْأَفْعَالِ وَ مَحَاسِنِ الْأُمُورِ الَّتِي تَفَاضَلَتْ فِيهَا الْمُجَدَاءُ وَ النُّجَدَاءُ مِنْ بُيُوتَاتِ الْعَرَبِ وَ يَعَاسِيبِ القَبَائِلِ بِالْأَخْلَاقِ الرَّغِيبَةِ وَ الْأَحْلَامِ الْعَظِيمَةِ وَ الْأَخْطَارِ الْجَلِيلَةِ وَ الْآثَارِ الْمَحْمُودَةِ فَتَعَصَّبُوا لِخِلَالِ الْحَمْدِ مِنَ الْحِفْظِ لِلْجِوَارِ وَ الْوَفَاءِ بِالذِّمَامِ وَ الطَّاعَةِ لِلْبِرِّ وَ الْمَعْصِيَةِ لِلْكِبْرِ وَ الْأَخْذِ بِالْفَضْلِ وَ الْكَفِّ عَنِ الْبَغْيِ وَ الْإِعْظَامِ لِلْقَتْلِ وَ الْإِنْصَافِ لِلْخَلْقِ وَ الْكَظْمِ لِلْغَيْظِ وَ اجْتِنَابِ الْفَسَادِ فِي الْأَرْضِ وَ احْذَرُوا مَا نَزَلَ بِالْأُمَمِ قَبْلَكُمْ مِنَ الْمَثُلَاتِ بِسُوءِ الْأَفْعَالِ وَ ذَمِيمِ الْأَعْمَالِ فَتَذَكَّرُوا فِي الْخَيْرِ وَ الشَّرِّ أَحْوَالَهُمْ وَ احْذَرُوا أَنْ تَكُونُوا أَمْثَالَهُمْ فَإِذَا تَفَكَّرْتُمْ فِي تَفَاوُتِ حَالَيْهِمْ فَالْزَمُوا كُلَّ أَمْرٍ لَزِمَتِ الْعِزَّةُ بِهِ حَالَهُمْ وَ زَاحَتِ الْأَعْدَاءُ لَهُ عَنْهُمْ وَ مُدَّتِ الْعَافِيَةُ فِيهِ بِهِمْ وَ انْقَادَتِ النِّعْمَةُ لَهُ مَعَهُمْ وَ وَصَلَتِ الْكَرَامَةُ عَلَيْهِ حَبْلَهُمْ مِنَ الِاجْتِنَابِ لِلْفُرْقَةِ وَ اللُّزُومِ لِلْأُلْفَةِ وَ التَّحَاضِّ عَلَيْهَا وَ التَّوَاصِي بِهَا وَ اجْتَنِبُوا كُلَّ أَمْرٍ كَسَرَ فِقْرَتَهُمْ وَ أَوْهَنَ مُنَّتَهُمْ مِنْ تَضَاغُنِ الْقُلُوبِ وَ تَشَاحُنِ الصُّدُورِ وَ تَدَابُرِ النُّفُوسِ وَ تَخَاذُلِ الْأَيْدِي وَ تَدَبَّرُوا أَحْوَالَ الْمَاضِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ قَبْلَكُمْ كَيْفَ كَانُوا فِي حَالِ التَّمْحِيصِ وَ الْبَلَاءِ أَ لَمْ يَكُونُوا أَثْقَلَ الْخَلَائِقِ أَعْبَاءً وَ أَجْهَدَ الْعِبَادِ بَلَاءً وَ أَضْيَقَ أَهْلِ الدُّنْيَا حَالًا اتَّخَذَتْهُمُ الْفَرَاعِنَةُ عَبِيداً فَسَامُوهُمْ سُوءَ الْعَذَابِ وَ جَرَّعُوهُمُ الْمُرَارَ فَلَمْ تَبْرَحِ الْحَالُ بِهِمْ فِي ذُلِّ الْهَلَكَةِ وَ قَهْرِ الْغَلَبَةِ لَا يَجِدُونَ حِيلَةً فِي امْتِنَاعٍ وَ لَا سَبِيلًا إِلَى دِفَاعٍ حَتَّى إِذَا رَأَى اللَّهُ- سُبْحَانَهُ- جِدَّ الصَّبْرِ مِنْهُمْ عَلَى الْأَذَى فِي مَحَبَّتِهِ وَ الِاحْتِمَالِ لِلْمَكْرُوهِ مِنْ خَوْفِهِ جَعَلَ لَهُمْ مِنْ مَضَايِقِ الْبَلَاءِ فَرَجاً فَأَبْدَلَهُمُ الْعِزَّ مَكَانَ الذُّلِّ وَ الْأَمْنَ مَكَانَ الْخَوْفِ فَصَارُوا مُلُوكاً حُكَّاماً وَ أَئِمَّةً أَعْلَاماً وَ قَدْ بَلَغَتِ الْكَرَامَةُ مِنَ اللَّهِ لَهُمْ مَا لَمْ تَذْهَبِ الْآمَالُ إِلَيْهِ بِهِمْ فَانْظُرُوا كَيْفَ كَانُوا حَيْثُ كَانَتِ الْأَمْلَاءُ مُجْتَمِعَةً وَ الْأَهْوَاءُ مُؤْتَلِفَةً وَ الْقُلُوبُ مُعْتَدِلَةً وَ الْأَيْدِي مُتَرَادِفَةً وَ السُّيُوفُ مُتَنَاصِرَةً وَ الْبَصَائِرُ نَافِذَةً وَ الْعَزَائِمُ وَاحِدَةً اَلَمْ يَكُونُوا أَرْبَاباً فِي أَقْطَارِ الْأَرَضِينَ وَ مُلُوكاً عَلَى رِقَابِ الْعَالَمِينَ فَانْظُرُوا إِلَى مَا صَارُوا إِلَيْهِ فِي آخِرِ أُمُورِهِمْ حِينَ وَقَعَتِ الْفُرْقَةُ وَ تَشَتَّتَتِ الْأُلْفَةُ وَ اخْتَلَفَتِ الْكَلِمَةُ وَ الْأَفْئِدَةُ وَ تَشَعَّبُوا مُخْتَلِفِينَ وَ تَفَرَّقُوا مُتَحَارِبِينَ قَدْ خَلَعَ اللَّهُ عَنْهُمْ لِبَاسَ كَرَامَتِهِ وَ سَلَبَهُمْ غَضَارَةَ نِعْمَتِهِ وَ بَقِيَ قَصَصُ أَخْبَارِهِمْ فِيكُمْ عِبَراً لِلْمُعْتَبِرِينَ الاعتبار بالامم فَاعْتَبِرُوا بِحَالِ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ وَ بَنِي إِسْحَاقَ وَ بَنِي إِسْرَائِيلَ- عليهم السلام فَمَا أَشَدَّ اعْتِدَالَ الْأَحْوَالِ وَ أَقْرَبَ اشْتِبَاهَ الْأَمْثَالِ تَأَمَّلُوا أَمْرَهُمْ فِي حَالِ تَشَتُّتِهِمْ وَ تَفَرُّقِهِمْ لَيَالِيَ كَانَتِ الْأَكَاسِرَةُ وَ الْقَيَاصِرَةُ أَرْبَاباً لَهُمْ يَحْتَازُونَهُمْ عَنْ رِيفِ الْآفَاقِ وَ بَحْرِ الْعِرَاقِ وَ خُضْرَةِ الدُّنْيَا إِلَى مَنَابِتِ الشِّيحِ وَ مَهَافِي الرِّيحِ وَ نَكَدِ الْمَعَاشِ فَتَرَكُوهُمْ عَالَةً مَسَاكِينَ إِخْوَانَ دَبَرٍ وَ وَبَرٍ أَذَلَّ الْأُمَمِ دَاراً وَ أَجْدَبَهُمْ قَرَاراً لَا يَأْوُونَ إِلَى جَنَاحِ دَعْوَةٍ يَعْتَصِمُونَ بِهَا وَ لَا إِلَى ظِلِّ أُلْفَةٍ يَعْتَمِدُونَ عَلَى عِزِّهَا فَالْأَحْوَالُ مُضْطَرِبَةٌ وَ الْأَيْدِي مُخْتَلِفَةٌ وَ الْكَثْرَةُ مُتَفَرِّقَةٌ فِي بَلَاءِ أَزْلٍ وَ أَطْبَاقِ جَهْلٍ مِنْ بَنَاتٍ مَوْءُودَةٍ وَ أَصْنَامٍ مَعْبُودَةٍ وَ أَرْحَامٍ مَقْطُوعَةٍ وَ غَارَاتٍ مَشْنُونَةٍ النعمة برسول الله (صلى الله عليه وآله وسلم) فَانْظُرُوا إِلَى مَوَاقِعِ نِعَمِ اللَّهِ عَلَيْهِمْ حِينَ بَعَثَ إِلَيْهِمْ رَسُولًا فَعَقَدَ بِمِلَّتِهِ طَاعَتَهُمْ وَ جَمَعَ عَلَى دَعْوَتِهِ أُلْفَتَهُمْ كَيْفَ نَشَرَتِ النِّعْمَةُ عَلَيْهِمْ جَنَاحَ كَرَامَتِهَا وَ أَسَالَتْ لَهُمْ جَدَاوِلَ نَعِيمِهَا وَ الْتَفَّتِ الْمِلَّةُ بِهِمْ فِي عَوَائِدِ بَرَكَتِهَا فَأَصْبَحُوا فِي نِعْمَتِهَا غَرِقِينَ فِي خُضْرَةِ عَيْشِهَا فَكِهِينَ وَ قَدْ تَرَبَّعَتِ الْأُمُورُ بِهِمْ فِي ظِلِّ سُلْطَانٍ قَاهِرٍ وَ آوَتْهُمُ الْحَالُ إِلَى كَنَفِ عِزٍّ غَالِبٍ وَ تَعَطَّفَتِ الْأُمُورُ عَلَيْهِمْ فِي ذُرَى مُلْكٍ ثَابِتٍ فَهُمْ حُكَّامٌ عَلَى الْعَالَمِينَ وَ مُلُوكٌ فِي أَطْرَافِ الْأَرَضِينَ يَمْلِكُونَ الْأُمُورَ عَلَى مَنْ كَانَ يَمْلِكُهَا عَلَيْهِمْ وَ يُمْضُونَ الْأَحْكَامَ فِيمَنْ كَانَ يُمْضِيهَا فِيهِمْ لَا تُغْمَزُ لَهُمْ قَنَاةٌ وَ لَا تُقْرَعُ لَهُمْ صَفَاةٌ لوم العصاة أَلَا وَ إِنَّكُمْ قَدْ نَفَضْتُمْ أَيْدِيَكُمْ مِنْ حَبْلِ الطَّاعَةِ وَ ثَلَمْتُمْ حِصْنَ اللَّهِ الْمَضْرُوبَ عَلَيْكُمْ بِأَحْكَامِ الْجَاهِلِيَّةِ وَ إِنَّ اللَّهَ- سُبْحَانَهُ- قَدِ امْتَنَ‏ عَلَى جَمَاعَةِ هَذِهِ الْأُمَّةِ فِيمَا عَقَدَ بَيْنَهُمْ مِنْ حَبْلِ هَذِهِ الْأُلْفَة الَّتِي يَنْتَقِلُونَ فِي ظِلِّهَا وَ يَأْوُونَ إِلَى كَنَفِهَا بِنِعْمَةٍ لَا يَعْرِفُ أَحَدٌ مِنَ الْمَخْلُوقِينَ لَهَا قِيمَةً لِأَنَّهَا أَرْجَحُ مِنْ كُلِّ ثَمَنٍ وَ أَجَلُّ مِنْ كُلِّ خَطَرٍ وَ اعْلَمُوا أَنَّكُمْ صِرْتُمْ بَعْدَ الْهِجْرَةِ أَعْرَاباً وَ بَعْدَ الْمُوَالَاةِ أَحْزَاباً مَا تَتَعَلَّقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ إِلَّا بِاسْمِهِ وَ لَا تَعْرِفُونَ مِنَ الْإِيمَانِ إِلَّا رَسْمَهُ تَقُولُونَ النَّارَ وَ لَا الْعَارَ كَأَنَّكُمْ تُرِيدُونَ أَنْ تُكْفِئُوا الْإِسْلَامَ عَلَى وَجْهِهِ انْتِهَاكاً لِحَرِيمِهِ وَ نَقْضاً لِمِيثَاقِهِ الَّذِي وَضَعَهُ اللَّهُ لَكُمْ حَرَماً فِي أَرْضِهِ وَ أَمْناً بَيْنَ خَلْقِهِ وَ إِنَّكُمْ إِنْ لَجَأْتُمْ إِلَى غَيْرِهِ حَارَبَكُمْ أَهْلُ الْكُفْرِ ثُمَّ لَا جَبْرَائِيلُ وَ لَا مِيكَائِيلُ وَ لَا مُهَاجِرُونَ وَ لَا أَنْصَارٌ يَنْصُرُونَكُمْ إِلَّا الْمُقَارَعَةَ بِالسَّيْفِ حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَكُمْ وَ إِنَّ عِنْدَكُمُ الْأَمْثَالَ مِنْ بَأْسِ اللَّهِ وَ قَوَارِعِهِ وَ أَيَّامِهِ وَ وَقَائِعِهِ فَلَا تَسْتَبْطِئُوا وَعِيدَهُ جَهْلًا بِأَخْذِهِ وَ تَهَاوُناً بِبَطْشِهِ وَ يَأْساً مِنْ بَأْسِهِ فَإِنَّ اللَّهَ- سُبْحَانَهُ- لَمْ يَلْعَنِ الْقَرْنَ الْمَاضِيَ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ إِلَّا لِتَرْكِهِمُ الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ وَ النَّهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ فَلَعَنَ اللَّهُ السُّفَهَاءَ لِرُكُوبِ الْمَعَاصِي وَ الْحُلَمَاءَ لِتَرْكِ التَّنَاهِي أَلَا وَ قَدْ قَطَعْتُمْ قَيْدَ الْإِسْلَامِ وَ عَطَّلْتُمْ حُدُودَهُ وَ أَمَتُّمْ أَحْكَامَهُ أَلَا وَ قَدْ أَمَرَنِيَ اللَّهُ بِقِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَ النَّكْثِ وَ الْفَسَادِ فِي الْأَرْضِ فَأَمَّا النَّاكِثُونَ فَقَدْ قَاتَلْتُ وَ أَمَّا الْقَاسِطُونَ فَقَدْ جَاهَدْتُ وَ أَمَّا الْمَارِقَةُ فَقَدْ دَوَّخْتُ وَ أَمَّا شَيْطَانُ الرَّدْهَةِ فَقَدْ كُفِيتُهُ بِصَعْقَةٍ سُمِعَت لَهَا وَجْبَةَ قَلْبِهِ وَ رَجَّةَ صَدْرِهِ وَ بَقِيَتْ بَقِيَّةٌ مِنْ أَهْلِ الْبَغْيِ وَ لَئِنْ أَذِنَ اللَّهُ فِي الْكَرَّةِ عَلَيْهِمْ لَأُدِيلَنَّ مِنْهُمْ إِلَّا مَا يَتَشَذَّرُ فِي أَطْرَافِ الْأَرْضِ تَشَذُّراً شجاعته وفضله (عليه السلام) أَنَا وَضَعْتُ فِي الصِّغَرِ بِكَلَاكِلِ الْعَرَبِ وَ كَسَرْتُ نَوَاجِمَ قُرُونِ رَبِيعَةَ وَ مُضَرَ وَ قَدْ عَلِمْتُمْ مَوْضِعِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ- صلى الله عليه واله- بِالْقَرَابَةِ الْقَرِيبَةِ وَ الْمَنْزِلَةِ الْخَصِيصَةِ وَضَعَنِي فِي حِجْرِهِ وَ أَنَا وَلِيدٌ يَضُمُّنِي إِلَى صَدْرِهِ وَ يَكْنُفُنِي فِي فِرَاشِهِ وَ يُمِسُّنِي جَسَدَهُ وَ يُشِمُّنِي عَرْفَهُ وَ كَانَ يَمْضَغُ الشَّيْ‏ءَ ثُمَّ يُلْقِمُنِيهِ وَ مَا وَجَدَ لِي كَذْبَةً فِي قَوْلٍ وَ لَا خَطْلَةً فِي فِعْلٍ وَ لَقَدْ قَرَنَ اللَّهُ بِهِ- صلى الله عليه واله- مِنْ لَدُنْ أَنْ كَانَ فَطِيماً أَعْظَمَ مَلَكٍ مِنْ مَلَائِكَتِهِ يَسْلُكُ بِهِ طَرِيقَ الْمَكَارِمِ وَ مَحَاسِنَ أَخْلَاقِ الْعَالَمِ لَيْلَهُ وَ نَهَارَهُ وَ لَقَدْ كُنْتُ أَتَّبِعُهُ اتِّبَاعَ الْفَصِيلِ أَثَرَ أُمِّهِ يَرْفَعُ لِي فِي كُلِّ يَوْمٍ مِنْ أَخْلَاقِهِ عَلَماً وَ يَأْمُرُنِي بِالِاقْتِدَاءِ بِهِ وَ لَقَدْ كَانَ يُجَاوِرُ فِي كُلِّ سَنَةٍ بِحِرَاءَ فَأَرَاهُ وَ لَا يَرَاهُ غَيْرِي وَ لَمْ يَجْمَعْ بَيْتٌ وَاحِدٌ يَوْمَئِذٍ فِي الْإِسْلَامِ غَيْرَ رَسُولِ اللَّهِ- صلى الله عليه واله- وَ خَدِيجَةَ وَ أَنَا ثَالِثُهُمَا أَرَى نُورَ الْوَحْيِ وَ الرِّسَالَةِ وَ أَشُمُّ رِيحَ النُّبُوَّةِ وَ لَقَدْ سَمِعْتُ رَنَّةَ الشَّيْطَانِ حِينَ نَزَلَ الْوَحْيُ عَلَيْهِ صلى الله عليه واله فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذِهِ الرَّنَّةُ فَقَالَ هَذَا الشَّيْطَانُ قَدْ أَيِسَ مِن‏ عِبَادَتِهِ إِنَّكَ تَسْمَعُ مَا أَسْمَعُ وَ تَرَى مَا أَرَى إِلَّا أَنَّكَ لَسْتَ بِنَبِيٍّ وَ لَكِنَّكَ لَوَزِيرٌ وَ إِنَّكَ لَعَلَى خَيْرٍ وَ لَقَدْ كُنْتُ مَعَهُ- صلى الله عليه واله- لَمَّا أَتَاهُ الْمَلَأُ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالُوا لَهُ يَا مُحَمَّدُ إِنَّكَ قَدِ ادَّعَيْتَ عَظِيماً لَمْ يَدَّعِهِ آبَاؤُكَ وَ لَا أَحَدٌ مِنْ بَيْتِكَ وَ نَحْنُ نَسْأَلُكَ أَمْراً إِنْ أَنْتَ أَجَبْتَنَا إِلَيْهِ وَ أَرَيْتَنَاهُ عَلِمْنَا أَنَّكَ نَبِيٌّ وَ رَسُولٌ وَ إِنْ لَمْ تَفْعَلْ عَلِمْنَا أَنَّكَ سَاحِرٌ كَذَّابٌ فَقَالَ صلى الله عليه واله وَ مَا تَسْأَلُونَ قَالُوا تَدْعُو لَنَا هَذِهِ الشَّجَرَةَ حَتَّى تَنْقَلِعَ بِعُرُوقِهَا وَ تَقِفَ بَيْنَ يَدَيْكَ فَقَالَ صلى الله عليه واله إِنَّ اللَّهَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَدِيرٌ فَإِنْ فَعَلَ اللَّهُ لَكُمْ ذَلِكَ أَ تُؤْمِنُونَ وَ تَشْهَدُونَ بِالْحَقِّ قَالُوا نَعَمْ قَالَ فَإِنِّي سَأُرِيكُمْ مَا تَطْلُبُونَ وَ إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكُمْ لَا تَفِيئُونَ إِلَى خَيْرٍ وَ إِنَّ فِيكُمْ مَنْ يُطْرَحُ فِي الْقَلِيبِ وَ مَنْ يُحَزِّبُ الْأَحْزَابَ ثُمَّ قَالَ صلى الله عليه واله يَا أَيَّتُهَا الشَّجَرَةُ إِنْ كُنْتِ تُؤْمِنِينَ بِاللَّهِ وَ الْيَوْمِ الْآخِرِ وَ تَعْلَمِينَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَانْقَلِعِي بِعُرُوقِكِ حَتَّى تَقِفِي بَيْنَ يَدَيَّ بِإِذْنِ اللَّهِ فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ لَانْقَلَعَتْ بِعُرُوقِهَا وَ جَاءَتْ وَ لَهَا دَوِيٌّ شَدِيدٌ وَ قَصْفٌ كَقَصْفِ أَجْنِحَةِ الطَّيْرِ حَتَّى وَقَفَتْ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ- صلى الله عليه واله- مُرَفْرِفَةً وَ أَلْقَتْ بِغُصْنِهَا الْأَعْلَى عَلَى رَسُولِ اللَّهِ- صلى الله عليه واله- وَ بِبَعْضِ أَغْصَانِهَا عَلَى مَنْكِبِي وَ كُنْتُ عَنْ يَمِينِهِ- صلى الله عليه واله فَلَمَّا نَظَرَ الْقَوْمُ إِلَى ذَلِكَ قَالُوا عُلُوّاً وَ اسْتِكْبَاراً فَمُرْهَا فَلْيَأْتِكَ نِصْفُهَا وَ يَبْقَى نِصْفُهَا فَأَمَرَهَا بِذَلِكَ فَأَقْبَلَ إِلَيْهِ نِصْفُهَا كَأَعْجَبِ إِقْبَالٍ وَ أَشَدِّهِ دَوِيّاً فَكَادَتْ تَلْتَفُّ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه واله فَقَالُوا كُفْراً وَ عُتُوّاً فَمُرْ هَذَا النِّصْفَ فَلْيَرْجِعْ إِلَى نِصْفِهِ كَمَا كَانَ فَأَمَرَهُ صلى الله عليه واله فَرَجَعَ فَقُلْتُ أَنَا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ إِنِّي أَوَّلُ مُؤْمِنٍ بِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَ أَوَّلُ مَنْ آَمَنَ بِأَنَّ الشَّجَرَةَ فَعَلَتْ مَا فَعَلَتْ بِأَمْرِ اللَّهِ تَعَالَى تَصْدِيقاً بِنُبُوَّتِكَ وَ إِجْلَالًا لِكَلِمَتِكَ فَقَالَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ بَلْ ساحِرٌ كَذَّابٌ عَجِيبُ السِّحْرِ خَفِيفٌ فِيهِ وَ هَلْ يُصَدِّقُكَ فِي أَمْرِكَ إِلَّا مِثْلُ هَذَا؟ يَعْنُونَنِي وَ إِنِّي لَمِنْ قَوْمٍ لَا تَأْخُذُهُمْ فِي اللَّهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ سِيمَاهُمْ سِيمَا الصِّدِّيقِينَ وَ كَلَامُهُمْ كَلَامُ الْأَبْرَارِ عُمَّارُ اللَّيْلِ وَ مَنَارُ النَّهَارِ مُتَمَسِّكُونَ بِحَبْلِ الْقُرْآنِ يُحْيَوْنَ سُنَنَ اللَّهِ وَ سُنَنَ رَسُولِهِ لَا يَسْتَكْبِرُونَ وَ لَا يَعْلُونَ وَ لَا يَغُلُّونَ وَ لَا يُفْسِدُونَ قُلُوبُهُمْ فِي الْجِنَانِ وَ أَجْسَادُهُمْ فِي الْعَمَلِ

    اس میں منافقین کی صفات بیان کی ہیں ہم اس کی حمد و ستائش کرتے ہیں جس نے اطاعت کی توفیق بخشی اور معصیت سے روک کر رکھا۔ ہم اس سے نعمتوں کے پایہ تکمیل تک پہنچانے کی خواہش اور اس سے (اسلام کی)رسی سے وابستہ رہنے کا سوال کرتے ہیں۔ اور ہم گواہی دیتے ہیں کہ محمد ﷺ اس کے عبد اور رسول ہیں جو اللہ کی رضا مندی حاصل کرنے کیلئے ہر سختی میں پھاند پڑے اور جنہوں نے اس کیلئے غم و غصہ کے گھونٹ پئے، جن کے قریبیوں نے بھی مختلف رنگ بدلے اور دور والوں نے بھی ان کی دشمنی پر ایکا کر لیا اور عرب والے بھی ان کے خلاف بگٹٹ چڑھ دوڑے اور دور دراز جگہوں اور دور افتادہ سرحدوں سے سواریوں کے پیٹ پر ایڑ لگاتے ہوئے آپؐ سے لڑنے کیلئے جمع ہو گئے اور عداوتوں کے (پشتارے) آپؐ کے صحن میں لا اتارے۔ اے خدا کے بندو! میں اللہ سے ڈرتے رہنے کی تمہیں وصیت کرتا ہوں اور منافقوں سے بھی چوکنا کئے دیتا ہوں، کیونکہ وہ گمراہ اور گمراہ کرنے والے، بے راہ اور بے راہروی پر لگا نے والے ہیں۔وہ مختلف رنگ اور ہر بات میں جداگانہ پینترا بدلتے ہیں اور (تمہیں ہم خیال بنانے کیلئے) ہر قسم کے مکر و فریب کے اُڑانوں کا سہارا دیتے ہیں اور ہر گھات کی جگہ میں تمہاری تاک لگائے بیٹھے ہیں۔ ان کے دل (نفاق کے) روگ میں مبتلا اور چہرے (بظاہر کدورتوں سے) پاک و صاف ہیں وہ اندر ہی اندر چالیں چلتے ہیں اور (بہکانے کیلئے) اس طرح رینگتے ہوئے بڑھتے ہیں جس طرح مرض چپکے سے سرایت کرتا ہے۔ ان کے طور طریقے دوا، باتیں شفا اور کرتوت درد بے درماں ہیں۔ (دوسروں کی) خوشحالی پر جلنے والے، انہیں مصیبت میں پھنسانے کیلئے جدوجہد کرنے والے اور انہیں امیدوں سے بے آس بنانے والے ہیں۔ ہر راہ گزر پر ان کا ایک کشتہ اور ہر دل میں گھر کرنے کا ان کے پاس وسیلہ ہے اور ہر غم کیلئے (ان کی آنکھوں میں مگر مچھ کے) آنسو ہیں۔ ایک دوسرے کی قرضہ کے طور پر مدح و ستائش کرتے ہیں اور اس کا بدلہ دیئے جانے کی آس لگائے رکھتے ہیں۔ اگر مانگتے ہیں تو لپٹ ہی جاتے ہیں اور برا بھلا کہنے پر آتے ہیں تو پھر رسوا کر کے چھوڑتے ہیں۔اگر کوئی فیصلہ کرتے ہیں تو بے راہروی میں حد سے بڑھ جاتے ہیں۔ انہوں نے ہر حق کے مقابلے میں باطل اور ہر راست کے مقابلے میں کج، ہر زندہ کیلئے قاتل، ہر دَر کیلئے کلید اور ہر رات کیلئے چراغ مہیا کر رکھا ہے۔ وہ بے آسی میں بھی آس پیدا کر لیتے ہیں کہ جس سے اپنے بازار جمائیں اور اپنے مال کو رواج دیں۔ غلط بات کو صحیح بات کے انداز میں کہتے ہیں اور باطل کو حق کا رنگ دے کر پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے (اپنے لئے تو) راستے آسان بنا رکھے ہیں اور دوسروں کیلئے پیچیدگیاں ڈال دی ہیں۔ وہ شیطان کا گروہ اور آگ کا شعلہ ہیں (جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے کہ:) ’’یہ شیطان کا گروہ ہے اور جانے رہو کہ شیطان کا گروہ ہی گھاٹا اٹھانے والا ہے‘‘۔

  193. خطبہ 193- خداوند عالم کی توصیف، تقویٰ کی نصیحت اور قیامت کی کیفیت

    193

    أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالَى خَلَقَ الْخَلْقَ حِينَ خَلَقَهُمْ غَنِيّاً عَنْ طَاعَتِهِمْ آمِناً مِنْ مَعْصِيَتِهِمْ لِأَنَّهُ لَا تَضُرُّهُ مَعْصِيَةُ مَنْ عَصَاهُ وَ لَا تَنْفَعُهُ طَاعَةُ مَنْ أَطَاعَهُ فَقَسَمَ بَيْنَهُمْ مَعَايِشَهُمْ وَ وَضَعَهُمْ مِنَ الدُّنْيَا مَوَاضِعَهُمْ فَالْمُتَّقُونَ فِيهَا هُمْ أَهْلُ الْفَضَائِلِ مَنْطِقُهُمُ الصَّوَابُ وَ مَلْبَسُهُمُ الِاقْتِصَادُ وَ مَشْيُهُمُ التَّوَاضُعُ غَضُّوا أَبْصَارَهُمْ عَمَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَ وَقَفُوا أَسْمَاعَهُمْ عَلَى الْعِلْمِ النَّافِعِ لَهُمْ نَزَلَتْ أَنْفُسُهُمْ مِنْهُمْ فِي الْبَلَاءِ كَالَّتِي نَزَلَتْ فِي الرَّخَاءِ وَ لَوْ لَا الْأَجَلُ الَّذِي كَتَبَ اللَّهُ لَهُمْ لَمْ تَسْتَقِرَّ أَرْوَاحُهُمْ فِي أَجْسَادِهِمْ طَرْفَةَ عَيْنٍ شَوْقاً إِلَى الثَّوَابِ وَ خَوْفاً مِنَ الْعِقَابِ عَظُمَ الْخَالِقُ فِي أَنْفُسِهِمْ فَصَغُرَ مَا دُونَهُ فِي أَعْيُنِهِمْ فَهُمْ وَ الْجَنَّةُ كَمَنْ قَدْ رَآهَا فَهُمْ فِيهَا مُنَعَّمُونَ وَ هُمْ وَ النَّارُ كَمَنْ قَدْ رَآهَا فَهُمْ فِيهَا مُعَذَّبُونَ قُلُوبُهُمْ مَحْزُونَةٌ وَ شُرُورُهُمْ مَأْمُونَةٌ وَ أَجْسَادُهُمْ نَحِيفَةٌ وَ حَاجَاتُهُمْ خَفِيفَةٌ وَ أَنْفُسُهُمْ عَفِيفَةٌ صَبَرُوا أَيَّاماً قَصِيرَةً أَعْقَبَتْهُمْ رَاحَةً طَوِيلَةً تِجَارَةٌ مُرْبِحَةٌ يَسَّرَهَا لَهُمْ رَبُّهُمْ أَرَادَتْهُمُ الدُّنْيَا فَلَمْ يُرِيدُوهَا وَ أَسَرَتْهُمْ فَفَدَوْا أَنْفُسَهُمْ مِنْهَا أَمَّا اللَّيْلُ فَصَافُّونَ أَقْدَامَهُمْ تَالِينَ لِأَجْزَاءِ الْقُرْآنِ يُرَتِّلُونَهَا تَرْتِيلًا يَحَزُنُونَ بِهِ أَنْفُسَهُمْ وَ يَسْتَثِيرُونَ بِهِ دَوَاءَ دَائِهِمْ فَإِذَا مَرُّوا بِآيَةٍ فِيهَا تَشْوِيقٌ رَكَنُوا إِلَيْهَا طَمَعاً وَ تَطَلَّعَتْ نُفُوسُهُمْ إِلَيْهَا شَوْقاً وَ ظَنُّوا أَنَّهَا نُصْبُ أَعْيُنِهِمْ وَ إِذَا مَرُّوا بِآيَةٍ فِيهَا تَخْوِيفٌ أَصْغَوْا إِلَيْهَا مَسَامِعَ قُلُوبِهِمْ وَ ظَنُّوا أَنَّ زَفِيرَ جَهَنَّمَ وَ شَهِيقَهَا فِي أُصُولِ آذَانِهِمْ فَهُمْ حَانُونَ عَلَى أَوْسَاطِهِمْ مُفْتَرِشُونَ لِجِبَاهِهِمْ وَ أَكُفِّهِمْ وَ رُكَبِهِمْ وَ أَطْرَافِ أَقْدَامِهِمْ يَطْلُبُونَ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى فِي فَكَاكِ رِقَابِهِمْ وَ أَمَّا النَّهَارُ فَحُلَمَاءُ عُلَمَاءُ أَبْرَارٌ أَتْقِيَاءُ قَدْ بَرَاهُمُ الْخَوْفُ بَرْيَ الْقِدَاحِ يَنْظُرُ إِلَيْهِمُ النَّاظِرُ فَيَحْسَبُهُمْ مَرْضَى وَ مَا بِالْقَوْمِ مِنْ مَرَضٍ وَ يَقُولُ لَقَدْ خُولِطُوا وَ لَقَدْ خَالَطَهُمْ أَمْرٌ عَظِيمٌ لَا يَرْضَوْنَ مِنْ أَعْمَالِهِمُ الْقَلِيلَ وَ لَا يَسْتَكْثِرُونَ الْكَثِيرَ فَهُمْ لِأَنْفُسِهِمْ مُتَّهِمُونَ وَ مِنْ أَعْمَالِهِمْ مُشْفِقُونَ إِذَا زُكِّيَ أَحَدٌ مِنْهُمْ خَافَ مِمَّا يُقَالُ لَهُ فَيَقُولُ أَنَا أَعْلَمُ بِنَفْسِي مِنْ غَيْرِي وَ رَبِّي أَعْلَمُ مِنِّي بِنَفْسِي اللَّهُمَّ لَا تُؤَاخِذْنِي بِمَا يَقُولُونَ وَ اجْعَلْنِي أَفْضَلَ مِمَّا يَظُنُّونَ وَ اغْفِرْ لِي مَا لَا يَعْلَمُونَ فَمِنْ عَلَامَةِ أَحَدِهِمْ أَنَّكَ تَرَى لَهُ قُوَّةً فِي دِينٍ وَ حَزْماً فِي لِينٍ وَ إِيمَاناً فِي يَقِينٍ وَ حِرْصاً فِي عِلْمٍ وَ عِلْماً فِي حِلْمٍ وَ قَصْداً فِي غِنًى وَ خُشُوعاً فِي عِبَادَةٍ وَ تَجَمُّلًا فِي فَاقَةٍ وَ صَبْراً فِي شِدَّةٍ وَ طَلَباً فِي حَلَالٍ وَ نَشَاطاً فِي هُدًى وَ تَحَرُّجاً عَنْ طَمَعٍ يَعْمَلُ الْأَعْمَالَ الصَّالِحَةَ وَ هُوَ عَلَى وَجَلٍ يُمْسِي وَ هَمُّهُ الشُّكْرُ وَ يُصْبِحُ وَ هَمُّهُ الذِّكْرُ يَبِيتُ حَذِراً وَ يُصْبِحُ فَرِحاً حَذِراً لِمَا حُذِّرَ مِنَ الْغَفْلَةِ وَ فَرِحاً بِمَا أَصَابَ مِنَ الْفَضْلِ وَ الرَّحْمَةِ إِنِ اسْتَصْعَبَتْ عَلَيْهِ نَفْسُهُ فِيمَا تَكْرَهُ لَمْ يُعْطِهَا سُؤْلَهَا فِيمَا تُحِبُّ قُرَّةُ عَيْنِهِ فِيمَا لَا يَزُولُ وَ زَهَادَتُهُ فِيمَا لَا يَبْقَى يَمْزُجُ الْحِلْمَ بِالْعِلْمِ وَ الْقَوْلَ بِالْعَمَلِ تَرَاهُ قَرِيباً أَمَلُهُ قَلِيلًا زَلَلُهُ خَاشِعاً قَلْبُهُ قَانِعَةً نَفْسُهُ مَنْزُوراً أُكُلُهُ سَهْلًا أَمْرُهُ حَرِيزاً دِينُهُ مَيِّتَةً شَهْوَتُهُ مَكْظُوماً غَيْظُهُ الْخَيْرُ مِنْهُ مَأْمُولٌ ‏وَ الشَّرُّ مِنْهُ مَأْمُونٌ إِنْ كَانَ فِي الْغَافِلِينَ كُتِبَ فِي الذَّاكِرِينَ إِ وَ إِنْ كَانَ فِي الذَّاكِرِينَ لَمْ يُكْتَبْ مِنَ الْغَافِلِينَ يَعْفُو عَمَّنْ ظَلَمَهُ وَ يُعْطِي مَنْ حَرَمَهُ وَ يَصِلُ مَنْ قَطَعَهُ بَعِيداً فُحْشُهُ لَيِّناً قَوْلُهُ غَائِباً مُنْكَرُهُ حَاضِراً مَعْرُوفُهُ مُقْبِلًا خَيْرُهُ مُدْبِراً شَرُّهُ فِي الزَّلَازِلِ وَقُورٌ وَ فِي الْمَكَارِهِ صَبُورٌ وَ فِي الرَّخَاءِ شَكُورٌ لَا يَحِيفُ عَلَى مَنْ يُبْغِضُ وَ لَا يَأْثَمُ فِيمَنْ يُحِبُّ يَعْتَرِفُ بِالْحَقِّ قَبْلَ أَنْ يُشْهَدَ عَلَيْهِ لَا يُضَيِّعُ مَا اسْتُحْفِظَ وَ لَا يَنْسَى مَا ذُكِّرَ وَ لَا يُنَابِزُ بِالْأَلْقَابِ وَ لَا يُضَارُّ بِالْجَارِ وَ لَا يَشْمَتُ بِالْمَصَائِبِ وَ لَا يَدْخُلُ فِي الْبَاطِلِ وَ لَا يَخْرُجُ مِنَ الْحَقِّ إِنْ صَمَتَ لَمْ يَغُمَّهُ صَمْتُهُ وَ إِنْ ضَحِكَ لَمْ يَعْلُ صَوْتُهُ وَ إِنْ بُغِيَ عَلَيْهِ صَبَرَ حَتَّى يَكُونَ اللَّهُ هُوَ الَّذِي يَنْتَقِمُ لَهُ نَفْسُهُ مِنْهُ فِي عَنَاءٍ وَ النَّاسُ مِنْهُ فِي رَاحَةٍ أَتْعَبَ نَفْسَهُ لِآخِرَتِهِ وَ أَرَاحَ النَّاسَ مِنْ نَفْسِهِ بُعْدُهُ عَمَّنْ تَبَاعَدَ عَنْهُ زُهْدٌ وَ نَزَاهَةٌ وَ دُنُوُّهُ مِمَّنْ دَنَا مِنْهُ لِينٌ وَ رَحْمَةٌ لَيْسَ تَبَاعُدُهُ بِكِبْرٍ وَ عَظَمَةٍ وَ لَا دُنُوُّهُ بِمَكْرٍ وَ خَدِيعَةٍ قَالَ فَصَعِقَ هَمَّامٌ صَعْقَةً كَانَتْ نَفْسُهُ فِيهَا فَقَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عليه السلام أَمَا وَ اللَّهِ لَقَدْ كُنْتُ أَخَافُهَا عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا تَصْنَعُ الْمَوَاعِظُ الْبَالِغَةُ بِأَهْلِهَا فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ فَمَا بَالُكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَقَالَ عليه السلام وَيْحَكَ إِنَّ لِكُلِّ أَجَلٍ وَقْتاً لَا يَعْدُوهُ وَ سَبَباً لَا يَتَجَاوَزُهُ فَمَهْلًا لَا تَعُدْ لِمِثْلِهَا فَإِنَّمَا نَفَثَ الشَّيْطَانُ عَلَى لِسَانِكَ

    تمام تعریف اس اللہ کیلئے ہے جس نے اپنی فرما نروائی و جلالِ کبریائی کے آثار کو نمایاں کر کے اپنی قدرت کی عجیب و غریب نقش آرائیوں سے آنکھ کی پتلیوں کو محو حیرت کر دیا ہے اور انسانی واہموں کو اپنی صفتوں کی تہ تک پہنچنے سے روک دیا ہے۔ میں اقرار کرتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، ایسا اقرار جو سراپا ایمان، یقین، اخلاص اور فرمانبرداری ہے اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندہ و رسول ہیں، جنہیں اس وقت رسول بنا کر بھیجا کہ جب ہدایت کے نشان مٹ چکے تھے اور دین کی راہیں اُجڑ چکی تھیں۔آپؐ نے حق کو آشکارا کیا، خلق خدا کو نصیحت کی، ہدایت کی جانب رہنمائی فرمائی اور (افراط و تفریط کی سمتوں سے بچ کر) درمیانی راہ پر چلنے کا حکم دیا۔ خدا ان پر اور ان کے اہل بیتؑ پر رحمت نازل کرے۔ اے خدا کے بندو! اس بات کو جانے رہو کہ اس نے تم کو بیکار پیدا نہیں کیا اور نہ یونہی کھلے بندوں چھوڑ دیا ہے۔ جو نعمتیں اس نے تمہیں دی ہیں ان کی مقدار سے آگاہ اور جو احسانات تم پر کئے ہیں ان کا شمار جانتا ہے۔ اس سے فتح و کامرانی اور حاجت روائی چاہو، اس کے سامنے دست ِطلب پھیلاؤ، اس سے بخشش و عطا کی بھیک مانگو۔ تمہارے اور اس کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہے اور نہ تمہارے لئے اس کا دروازہ بند ہے۔ وہ ہر جگہ اور ہر ساعت و ہر آن اور ہر جن و انسان کے ساتھ موجود ہے۔ نہ جود و سخا سے اس میں کوئی رخنہ پڑتا ہے نہ داد و دہش سے اس کے ہاں کمی ہوتی ہے، نہ مانگنے والے اس کے خزانوں کو ختم کر سکتے ہیں، نہ بخشش و فیضان اس کی نعمتوں کو انتہا تک پہنچا سکتا ہے، نہ ایک طرف التفات دوسروں سے اس کی توجہ کو موڑ سکتا ہے اور نہ ایک آواز میں محویت دوسری آواز سے اسے بے خبر بناتی ہے، نہ اسے (بیک وقت) ایک نعمت کا دینا دوسری نعمت کے چھین لینے سے مانع ہوتا ہے اور نہ غضب (کے شرارے)رحمت (کے فیضان) سے اُسے روکتے ہیں اور نہ لطف و کرم اسے تنبیہ و عقاب سے غافل کرتا ہے۔اس کی ذات کی پوشیدگی اس کے آثار کی جلوہ پاشیوں پر نقاب نہیں ڈالتی اور نہ آثار کی جلوہ طرازیاں اس کی ذات سے پوشیدگی کو الگ کر سکتی ہیں۔ وہ قریب پھر بھی دور ہے اور بلند مگر نزدیک ہے، وہ ظاہر مگر اسی کے ساتھ باطن، وہ پوشیدہ مگر آشکارا ہے۔وہ جزا دیتا ہے مگر اسے جزا نہیں دی جا سکتی، اس نے خلقت کائنات کو سوچ سوچ کر ایجاد نہیں کیا اور نہ تکان کی وجہ سے ان سے مدد لینے کا محتاج ہے۔ اے اللہ کے بندو! میں تمہیں خوفِ خدا کی نصیحت کرتا ہوں، کیونکہ یہ (سعادت کی) باگ ڈور اور (دین کا) مضبوط سہارا ہے۔ اس کے بندھنوں سے وابستہ رہو اور اس کی حقیقتوں کو مضبوطی سے پکڑ لو کہ یہ تمہیں آسائش کی جگہوں، آسودگی کے گھروں، حفاظت کے قلعوں اور عزت کی منزلوں میں پہنچائے گا، جس دن کہ آنکھیں (خوف کی وجہ سے) پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی، ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہو گا، دس دس مہینے کی گابھن اونٹنیاں بیکار کر دی جائیں گی اور صور پھونکا جائے گا تو ہر جان بدن سے نکل جائے گی، زبانیں گونگی ہو جائیں گی اور بلند پہاڑ اور مضبوط چٹانیں ریزہ ریزہ ہو جائیں گی اور سخت پتھر (آپس میں ٹکرا ٹکرا کر) چمکتے ہوئے سراب کی طرح ہو جائیں گے اور جہاں آبادیاں (اور فلک بوس عمارتیں) تھیں وه جگہیں ہموار میدان کی صورت میں ہو جائیں گی۔ (اس موقع پر) نہ کوئی سفارش کرنے والا ہو گا جو سفارش کرے، نہ کوئی عزیز ہو گا جو (اس عذاب کی) روک تھام کرے، نہ عذر و معذرت پیش کی جا سکے گی کہ کچھ فائدہ بخشے۔

  194. خطبہ 194- بعثتِ پیغمبرؐ کے وقت دنیا کی حالت، دنیا کی بے ثباتی

    194

    نَحْمَدُهُ عَلَى مَا وَفَّقَ لَهُ مِنَ الطَّاعَةِ وَ ذَادَ عَنْهُ مِنَ الْمَعْصِيَةِ وَ نَسْأَلُهُ لِمِنَّتِهِ تَمَاماً وَ بِحَبْلِهِ اعْتِصَاماً وَ نَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ خَاضَ إِلَى رِضْوَانِ اللَّهِ كُلَّ غَمْرَةٍ وَ تَجَرَّعَ فِيهِ كُلَّ غُصَّةٍ وَ قَدْ تَلَوَّنَ لَهُ الْأَدْنَوْنَ وَ تَأَلَّبَ عَلَيْهِ الْأَقْصَوْنَ وَ خَلَعَتْ إِلَيْهِ الْعَرَبُ أَعِنَّتَهَا ضَرَبَتْ إِلَى مُحَارَبَتِهِ بُطُونَ رَوَاحِلِهَا وَ حَتَّى أَنْزَلَتْ بِسَاحَتِهِ عَدَاوَتَهَا مِنْ أَبْعَدِ الدَّارِ وَ أَسْحَقِ الْمَزَارِ أُوصِيكُمْ عِبَادَ اللَّهِ بِتَقْوَى اللَّهِ وَ أُحَذِّرُكُمْ أَهْلَ النِّفَاقِ فَإِنَّهُمُ الضَّالُّونَ الْمُضِلُّونَ وَ الزَّالُّونَ الْمُزِلُّونَ يَتَلَوَّنُونَ أَلْوَاناً وَ يَفْتَنُّونَ افْتِنَاناً وَ يَعْمِدُونَكُمْ بِكُلِّ عِمَادٍ وَ يَرْصُدُونَكُمْ بِكُلِّ مِرْصَادٍ قُلُوبُهُمْ دَوِيَّةٌ وَ صِفَاحُهُمْ نَقِيَّةٌ يَمْشُونَ الْخَفَاءَ وَ يَدِبُّونَ الضَّرّاءَ وَصْفُهُمْ دَوَاءٌ وَ قَوْلُهُمْ شِفَاءٌ وَ فِعْلُهُمُ الدَّاءُ الْعَيَاءُ حَسَدَةُ الرَّخَاءِ وَ مُؤَكِّدُو الْبَلَاءِ وَ مُقَنِّطُو الرَّجَاءِ لَهُمْ بِكُلِّ طَرِيقٍ صَرِيعٌ وَ إِلَى كُلِّ قَلْبٍ شَفِيعٌ وَ لِكُلِّ شَجْوٍ دُمُوعٌ يَتَقَارَضُونَ الثَّنَاءَ وَ يَتَرَاقَبُونَ الْجَزَاءَ إِنْ سَأَلُوا أَلْحَفُوا وَ إِنْ عَذَلُوا كَشَفُوا وَ إِنْ حَكَمُوا أَسْرَفُوا قَدْ أَعَدُّوا لِكُلِّ حَقٍّ بَاطِلًا وَ لِكُلِّ قَائِمٍ مَائِلًا وَ لِكُلِّ حَيٍّ قَاتِلا وَ لِكُلِّ بَابٍ مِفْتَاحاً وَ لِكُلِّ لَيْلٍ مِصْبَاحاً يَتَوَصَّلُونَ إِلَى الطَّمَعِ بِالْيَأْسِ لِيُقِيمُوا بِهِ أَسْوَاقَهُمْ وَ يُنْفِقُوا بِهِ أَعْلَاقَهُمْ يَقُولُونَ فَيُشَبِّهُونَ وَ يَصِفُونَ فَيُمَوِّهُونَ قَدْ هَيَّأُوا الطَّرِيقَ وَ أَضْلَعُوا الْمَضِيقَ فَهُمْ لُمَةُ الشَّيْطَانِ وَ حُمَةُ النِّيرَانِ أُولئِكَ حِزْبُ الشَّيْطانِ أَلا إِنَّ حِزْبَ الشَّيْطانِ هُمُ الْخاسِرُونَ

    اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو اس وقت مبعوث کیا جبکہ (ہدایت) کا کوئی نشان باقی نہ رہا تھا، نہ (دین کا) کوئی بلند مینار اور نہ (شریعت کی) کوئی واضح راہ موجود تھی۔ اے اللہ کے بندو! میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں اور اس دنیا سے متنبہ کئے دیتا ہوں کہ جو کوچ کی جگہ اور بے لطفی و بدمزگی کا مقام ہے۔ اس میں بسنے والا آخر اس سے چل چلاؤ پر مجبور ہو گا اور ٹھہرنے والا اپنا رخ موڑ کر اس سے الگ ہو جائے گا۔ یہ اپنے رہنے والوں سمیت اس طرح ڈانواں ڈول ہو رہی ہے جس طرح وہ کشتی جسے تند ہوائیں ہچکولے دے رہی ہوں، کچھ تو ان میں سے ہلاک و غرق ہو گئے ہیں اور جو بچ رہے ہیں وہ موجوں کی سطح پر تھپیڑے کھا رہے ہیں اور ہوائیں اپنے دامنوں سے انہیں دھکیل رہی ہیں اور ہولناکیوں میں بڑھائے لئے جا رہی ہیں۔ جو غرق ہو چکا ہے وہ ہاتھ نہیں لگے گا اور جو بچ رہا ہے وہ مہلکوں میں پڑا رہے گا۔ اے اللہ کے بندو! اعمال نیک بجا لاؤ ابھی جبکہ زبانوں کیلئے کوئی رکاوٹ نہیں، بدن تندرست اور ہاتھ پیروں میں لچک ہے (کہ جو چاہو ان سے کام لے سکتے ہو)، آنے جانے کی جگہ وسیع اور میدان (عمل) کشادہ ہے، قبل اس کے فرصتِ رفتہ موقع نہ دے اور موت ٹوٹ پڑے، اپنے لئے موت کو یہ سمجھو کہ وہ آچکی، اس کا انتظار نہ کرو کہ وہ آئے گی۔

  195. خطبہ 195- حضورﷺ کے ساتھ آپؑ کی خصوصیات اور حضور ﷺ کی تجہیز و تکفین

    195

    الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَظْهَرَ مِنْ آثَارِ سُلْطَانِهِ وَ جَلَالِ كِبْرِيَائِهِ مَا حَيَّرَ مُقَلَ الْعُيُونِ مِنْ عَجَائِبِ قُدْرَتِهِ وَ رَدَعَ خَطَرَاتِ هَمَاهِمِ النُّفُوسِ عَنْ عِرْفَانِ كُنْهِ صِفَتِهِ وَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ شَهَادَةَ إِيمَانٍ وَ إِيقَانٍ وَ إِخْلَاصٍ وَ إِذْعَانٍ وَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ أَرْسَلَهُ وَ أَعْلَامُ الْهُدَى دَارِسَةٌ وَ مَنَاهِجُ الدِّينِ طَامِسَةٌ فَصَدَعَ بِالْحَقِّ وَ نَصَحَ لِلْخَلْقِ وَ هَدَى إِلَى الرُّشْدِ وَ أَمَرَ بِالْقَصْدِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ وَ سَلَّمَ وَ اعْلَمُوا عِبَادَ اللَّهِ أَنَّهُ لَمْ يَخْلُقْكُمْ عَبَثاً وَ لَمْ يُرْسِلْكُمْ هَمَلًا عَلِمَ مَبْلَغَ نِعَمِهِ عَلَيْكُمْ وَ أَحْصَى إِحْسَانَهُ إِلَيْكُمْ فَاسْتَفْتِحُوهُ وَ اسْتَنْجِحُوهُ وَ اطْلُبُوا إِلَيْهِ وَ اسْتَمْنِحُوهُ فَمَا قَطَعَكُمْ عَنْهُ حِجَابٌ وَ لَا أُغْلِقَ عَنْكُمْ‏ دُونَهُ بَابٌ وَ إِنَّهُ لَبِكُلِّ مَكَانٍ وَ فِي كُلِّ حِينٍ وَ أَوَانٍ وَ مَعَ كُلِّ إِنْسٍ وَ جَانٍّ لَا يَثْلِمُهُ الْعَطَاءُ وَ لَا يَنْقُصُهُ الْحِبَاءُ وَ لَا يَسْتَنْفِدُهُ سَائِلٌ وَ لَا يَسْتَقْصِيهِ نَائِلٌ وَ لَا يَلْوِيهِ شَخْصٌ عَنْ شَخْصٍ وَ لَا يُلْهِيهِ صَوْتٌ عَنْ صَوْتٍ وَ لَا تَحْجُزُهُ هِبَةٌ عَنْ سَلْبٍ وَ لَا يَشْغَلُهُ غَضَبٌ عَنْ رَحْمَةٍ وَ لَا تُوَلِّهُهُ رَحْمَةٌ عَنْ عِقَابٍ وَ لَا يُجِنُّهُ الْبُطُونُ عَنِ الظُّهُورِ وَ لَا يَقْطَعُهُ الظُّهُورُ عَنِ الْبُطُونِ قَرُبَ فَنَأَى وَ عَلَا فَدَنَا وَ ظَهَرَ فَبَطَنَ وَ بَطَنَ فَعَلَنَ وَ دَانَ وَ لَمْ يُدَنْ لَمْ يَذْرَأِ الْخَلْقَ بِاحْتِيَالٍ وَ لَا اسْتَعَانَ بِهِمْ لِكَلَالٍ أُوصِيكُمْ‏ عِبَادَ اللَّهِ بِتَقْوَى اللَّهِ فَإِنَّهَا الزِّمَامُ وَ الْقِوَامُ فَتَمَسَّكُوا بِوَثَائِقِهَا وَ اعْتَصَمُوا بِحَقَائِقِهَا تَؤُلْ بِكُمْ إِلَى أَكْنَانِ الدَّعَةِ وَ أَوْطَانِ السَّعَةِ وَ مَعَاقِلِ الْحِرْزِ وَ مَنَازِلِ الْعِزِّ فِي «يَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ» وَ تُظْلِمُ لَهُ الْأَقْطَارُ وَ تُعَطَّلُ فِيهِ صُرُومُ الْعِشَارِ وَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَتَزْهِقُ كُلُّ مُهْجَةٍ وَ تَبْكَمُ كُلُّ لَهْجَةٍ وَ تَذِلُّ الشُّمُّ الشَّوَامِخُ وَ الصُّمُّ الرَّوَاسِخُ فَيَصِيرُ صَلْدُهَا سَرَاباً رَقْرَقاً وَ مَعْهَدُهَا قَاعاً سَمْلَقاً فَلَا شَفِيعٌ يَشْفَعُ وَ لَا حَمِيمٌ يَدْفَعُ وَ لَا مَعْذِرَةٌ تَنْفَعُ

    پیغمبر ﷺ کے وہ اصحاب جو (احکام شریعت) کے امین ٹھہرائے گئے تھے اس بات سے اچھی طرح آگاہ ہیں کہ میں [۱] نے کبھی ایک آن کیلئے بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام سے سرتابی نہیں کی۔ اور میں نے اس جواں مردی [۲] کے بل بوتے پر کہ جس سے اللہ نے مجھے سرفراز کیا ہے پیغمبر ﷺ کی دل و جان سے مدد ان موقعوں پر کی کہ جن موقعوں سے بہادر (جی چرا کر) بھاگ کھڑے ہوتے تھے اور قدم (آگے بڑھنے کی بجائے) پیچھے ہٹ جاتے تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے رحلت فرمائی تو ان کا سر (اقدس) میرے سینے پر تھا اور جب میرے ہاتھوں میں ان کی روحِ طیب نے مفارقت کی تو میں نے (تبرکاً) اپنے ہاتھ منہ پر پھیر لئے۔ میں نے آپؐ کے غسل کا فریضہ انجام دیا، اس عالم میں کہ ملائکہ میرا ہاتھ بٹا رہے تھے۔ (آپؐ کی رحلت سے) گھر اور اس کے اطراف و جوانب نالہ و فریاد سے گونج رہے تھے، (فرشتوں کا تانتا بندھا ہوا تھا) ایک گروہ اُترتا تھا اور ایک گروہ چڑھتا تھا، وہ حضرتؐ پر نماز پڑھتے تھے اور ان کی دھیمی آوازیں برابر میرے کانوں میں آ رہی تھیں، یہاں تک کہ ہم نے انہیں قبر میں چھپا دیا تو اب ان کی زندگی میں اور موت کے بعد مجھ سے زائد کون ان کا حقدار ہو سکتا ہے؟ (جب میرا حق تمہیں معلوم ہو چکا) تو تم بصیرت کے جلو میں دشمن سے جہاد کرنے کیلئے صدق نیت سے بڑھو۔ اس ذات کی قسم کہ جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، بلاشبہ میں جادۂ حق پر ہوں اور وہ (اہل شام) باطل کی ایسی گھاٹی پر ہیں کہ جہاں سے پھسلے کہ پھسلے۔ میں جو کہہ رہا ہوں وہ تم سن رہے ہو۔ میں اپنے اور تمہارے لئے اللہ سے آمرزش کا طلبگار ہوں۔

  196. خطبہ 196- خداوند عالم کے علم کی ہمہ گیری، تقویٰ کے فوائد

    196

    بَعَثَهُ حِينَ لَا عَلَمٌ قَائِمٌ وَ لَا مَنَارٌ سَاطِعٌ وَ لَا مَنْهَجٌ وَاضِحٌ أُوصِيكُمْ عِبَادَ اللَّهِ بِتَقْوَى اللَّهِ وَ أُحَذِّرُكُمُ الدُّنْيَا فَإِنَّهَا دَارُ شُخُوصٍ وَ مَحَلَّةُ تَنْغِيصٍ سَاكِنُهَا ظَاعِنٌ وَ قَاطِنُهَا بَائِنٌ تَمِيدُ بِأَهْلِهَا مَيَدَانَ السَّفِينَةِ تَصْفِقُهَا الْعَوَاصِفُ فِي لُجَجِ الْبِحَارِ فَمِنْهُمُ الْغَرِقُ الْوَبِقُ وَ مِنْهُمُ النَّاجِي عَلَى بُطُونِ الْأَمْوَاجِ تَحْفِزُهُ الرِّيَاحُ بِأَذْيَالِهَا وَ تَحْمِلُهُ عَلَى أَهْوَالِهَا فَمَا غَرِقَ مِنْهَا فَلَيْسَ بِمُسْتَدْرَكٍ وَ مَا نَجَا مِنْهَا فَإِلَى مَهْلَكٍ عِبَادَ اللَّهِ الْآنَ فَاعْمَلُوا وَ الْأَلْسُنُ مُطْلَقَةٌ وَ الْأَبْدَانُ صَحِيحَةٌ وَ الْأَعْضَاءُ لَدْنَةٌ وَ الْمُنْقَلَبُ فَسِيحٌ وَ الْمَجَالُ عَرِيضٌ قَبْلَ إِرْهَاقِ الْفَوْتِ وَ حُلُولِ الْمَوْتِ فَحَقِّقُوا عَلَيْكُمْ نُزُولَهُ وَ لَا تَنْتَظِرُوا قُدُومَهُ

    وہ (خداوند عالم) بیابانوں میں چوپاؤں کے نالے (سنتا ہے)، تنہائیوں میں بندوں کے گناہوں سے آگاہ ہے اور اَتھاہ دریاؤں میں مچھلیوں کی آمد و شد اور تند ہواؤں کے ٹکراؤ سے پانی کے تھپیڑوں کو جانتا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے برگزیدہ، اس کی وحی کے ترجمان اور رحمت کے پیغامبر ہیں۔ میں تمہیں اس اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں کہ جس نے تمہیں پیدا کیا اور جس کی طرف تمہیں پلٹنا ہے۔ وہی تمہاری کامرانیوں کا ذریعہ اور تمہاری آرزوؤں کی منزل منتہا ہے۔ تمہاری راہ حق اسی کی طرف پلٹتی ہے اور وہی خوف و ہراس کے وقت تمہارے لئے پناہ گاہ ہے۔ (دل میں اللہ کا خوف رکھو) کیونکہ یہ تمہارے دلوں کے روگ کا چارہ، فکر و شعور کی تاریکیوں کیلئے اجالا، جسموں کی بیماریوں کیلئے شفا، سینے کی تباہ کاریوں کیلئے اصلاح، نفس کی کثافتوں کیلئے پاکیزگی، آنکھوں کی تیرگی کیلئے جلا، دل کی دہشت کیلئے ڈھارس اور جہالت کی اندھیاریوں کیلئے روشنی ہے۔ صرف ظاہری طور پر اللہ کی اطاعت کا جامہ نہ اوڑھ لو، (بلکہ) اسے اپنا اندرونی پہناوا بناؤ، نہ صرف اندرونی پہناوا، بلکہ ایسا کرو کہ وہ تمہارے باطن میں اتر جائے اور پسلیوں کے اندر (دل میں) رچ بس جائے اور اسے اپنے معاملات پر حکمران اور (حشر میں) وارد ہونے کے وقت سر چشمہ، منزل مقصود تک پہنچنے کا وسیلہ، خوف کے دن کیلئے سپر، نہاں خانۂ قبر کیلئے چراغ، (تنہائی کی) طویل وحشتوں کیلئے ہمنوا و دمساز اور منزل کی اندوہناکیوں سے رہائی (کا ذریعہ) قرار دو، کیونکہ اطاعت خدا گھیرنے والے مہلکوں، پیش آئند خوف و دہشت کے مرحلوں اور بھڑکتی ہوئی آگ کی لپکوں کیلئے پناہ گاہ ہے۔ جو تقویٰ کو مضبوطی سے پکڑ لیتا ہے تو مصیبتیں اس کے قریب ہونے کے باوجود دور ہٹ جاتی ہیں، تمام امور تلخی و بدمزگی کے بعد شیریں و خوشگوار ہو جاتے ہیں، (تباہی و ہلا کت کی) موجیں ہجوم کرنے کے بعد چھٹ جاتی ہیں اور دشواریاں سختیوں میں مبتلا کرنے کے بعد آسان ہو جاتی ہیں، قحط و نایابی کے بعد لطف و کرم کی جھڑی لگ جاتی ہے، رحمت برگشتہ ہونے کے بعد پھر جھک پڑتی ہے، زمین میں پایاب ہونے کے بعد پھر نعمتوں کے سر چشمے ابل پڑتے ہیں اور پھوار کی کمی کے بعد رحمت و برکت کی دھواں دھار بارشیں ہونے لگتی ہیں۔ اس اللہ سے ڈرو! کہ جس نے پند و موعظت سے تمہیں فائدہ پہنچایا، اپنے پیغام کے ذریعے تمہیں وعظ و نصیحت کی، اپنی نعمتوں سے تم پر لطف و احسان کیا۔ اس کی بندگی و نیاز مندی کیلئے اپنے نفسوں کو رام کرو اور اس کی فرمانبرداری کا پورا پورا حق ادا کرو۔ پھر یہ کہ اسلام ہی وہ دین ہے جسے اللہ نے اپنے پہچنوانے کیلئے پسند کیا، اپنی نظروں کے سامنے اس کی دیکھ بھال کی، اس کی (تبلیغ کیلئے) بہترین خلق کا انتخاب فرمایا، اپنی محبت پر اس کے ستون کھڑے کئے، اس کی عزت و برتری کی وجہ سے تمام دینوں کو سر نگوں کیا اور اس کی بلندی کے سامنے سب ملتوں کو پست کیا، اس کی عزت و بزرگی کے ذریعہ دشمنوں کو ذلیل اور اس کی نصرت و تائید سے مخالفوں کو رسوا کیا، اس کے ستون سے گمراہی کے کھمبوں کو گرا دیا، پیاسوں کو اس کے تالابوں سے سیراب کیا اور پانی الچنے والوں کے ذریعہ حوضوں کو بھر دیا۔ پھر یہ کہ اسے اس طرح مضبوط کیا کہ اس کے بندھنوں کیلئے شکست و ریخت نہیں، نہ اس کے حلقہ (کی کڑیاں) الگ الگ ہو سکتی ہیں، نہ اس کی بنیاد گر سکتی ہے، نہ اس کے ستون اپنی جگہ چھوڑ سکتے ہیں، نہ اس کا درخت اکھڑ سکتا ہے، نہ اس کی مدت ختم ہو سکتی ہے،نہ اس کے قوانین محو ہو سکتے ہیں، نہ اس کی شاخیں کٹ سکتی ہیں، نہ اس کی راہیں تنگ، نہ اس کی آسانیاں دشوار ہیں، نہ اس کے سفید دامن پر سیاہی کا دھبہ، نہ اس کی استقامت میں پیچ و خم، نہ اس کی لکڑی میں کجی، نہ اس کی کشادہ راہ میں کوئی دشواری ہے، نہ اس کے چراغ گُل ہوتے ہیں، نہ اس کی خوشگواریوں میں تلخیوں کا گزر ہوتا ہے۔ اسلام ایسے ستونوں پر حاوی ہے جس کے پائے اللہ نے حق (کی سر زمین) میں قائم کئے ہیں اور ان کی اساس و بنیاد کو استحکام بخشا ہے اور ایسے سر چشمے ہیں جن کے چشمے پانی سے بھرپور اور ایسے چراغ ہیں جن کی لوئیں ضیاء بار ہیں اور ایسے مینار ہیں جن کی روشنی میں مسافر قدم بڑھاتے ہیں اور ایسے نشان ہیں کہ جن سے سیدھی راہوں کا قصد کیا جاتا ہے اور ایسے گھاٹ ہیں جن پر اترنے والے ان سے سیراب ہوتے ہیں۔ اللہ نے اسلام میں اپنی انتہائے رضا مندی، بلند ترین ارکان اور اپنی اطاعت کی اونچی سطح کو قرار دیا ہے چنانچہ اللہ کے نزدیک اس کے ستون مضبوط، اس کی عمارت سر بلند، دلیلیں روشن اور ضیائیں نور پاش ہیں۔ اس کی سلطنت غالب اور مینار بلند ہیں اور اس کی بیخ کنی دشوار ہے۔ اس کی عزت و وقار باقی رکھو، اس کے (احکام کی) پیروی کرو، اس کے حقوق ادا کرو اور اس (کے ہر حکم) کو اس کی جگہ پر قائم کرو۔ پھر یہ کہ اللہ سبحا نہ نے محمد ﷺ کو اس وقت حق کے ساتھ مبعوث کیا جب کہ فنا نے دنیا کے قریب ڈیرے ڈال دیئے اور آخرت سر پر منڈلانے لگی، اس کی رونقوں کا اجالا اندھیرے سے بدلنے لگا اور اپنے رہنے والوں کیلئے مصیبت بن کر کھڑی ہو گئی، اس کا فرش درشت و ناہموار ہو گیا اور فنا کے ہاتھوں میں باگ ڈور دینے کیلئے آمادہ ہو گئی۔ یہ اس وقت کہ جب اس کی مدت اختتام پذیر اور (فنا کی) علامتیں قریب آ گئیں، اس کے بسنے والے تباہ اور اس کے حلقہ کی کڑیاں الگ ہو نے لگیں، اس کے بندھن پراگندہ اور نشانات بوسیدہ ہو گئے، اس کے عیب کھلنے اور پھیلے ہوئے دامن سمٹنے لگے۔ اللہ نے ان کو پیغام رسانی اور اُمت کی سرفرازی کا ذریعہ، اہل عالم کیلئے بہار اور یار و انصار کی رفعت و عزت کا سبب قرار دیا۔ پھر آپؐ پر ایک ایسی کتاب نازل فرمائی جو (سراپا) نور ہے، جس کی قندیلیں گل نہیں ہوتیں، ایسا چراغ ہے جس کی لو خاموش نہیں ہوتی، ایسا دریا ہے جس کی تھاہ نہیں لگائی جا سکتی، ایسی شاہراہ ہے جس میں راہ پیمائی بے راہ نہیں کرتی، ایسی کرن ہے جس کی چھوٹ مدہم نہیں پڑتی، وہ ایسا (حق و باطل میں) امتیاز کرنے والا ہے جس کی دلیل کمزور نہیں پڑتی، ایسا کھول کر بیان کرنیوالا ہے جس کے ستون منہدم نہیں کئے جا سکتے، وہ (سراسر) شفا ہے جس کے ہوتے ہوئے (روحانی) بیماریوں کا کھٹکا نہیں، وہ (سر تا سر) عزت و غلبہ ہے جس کے یار و مددگار شکست نہیں کھاتے، وہ (سراپا) حق ہے جس کے معین و معاون بے مدد چھوڑے نہیں جاتے۔ وہ ایمان کا معدن اور مرکز ہے، اس سے علم کے چشمے پھوٹتے اور دریا بہتے ہیں، اس میں عدل کے چمن اور انصاف کے حوض ہیں، وہ اسلام کا سنگ بنیاد اور اس کی اساس ہے، حق کی وادی اور اس کا ہموار میدان ہے، وہ ایسا دریا ہے کہ جسے پانی بھرنے والے ختم نہیں کر سکتے، وہ ایسا چشمہ ہے کہ پانی الچنے والے اسے خشک نہیں کر سکتے، وہ ایسا گھاٹ ہے کہ اس پر اترنے والوں سے اس کا پانی گھٹ نہیں سکتا، وہ ایسی منزل ہے کہ جس کی راہ میں کوئی راہرو بھٹکتا نہیں، وہ ایسا نشان ہے کہ چلنے والے کی نظر سے اوجھل نہیں ہوتا، وہ ایسا ٹیلہ ہے کہ حق کا قصد کرنے والے اس سے آگے گزر نہیں سکتے۔ اللہ نے اسے عالموں کی تشنگی کیلئے سیرابی، فقیہوں کے دلوں کیلئے بہار اور نیکوں کی رہ گزر کیلئے شاہراہ قرار دیا ہے۔ یہ ایسی دوا ہے کہ جس سے کوئی مرض نہیں رہتا، ایسا نور ہے جس میں تیرگی کا گزر نہیں، ایسی رسی ہے کہ جس کے حلقے مضبوط ہیں، ایسی چوٹی ہے کہ جس کی پناہ گاہ محفوظ ہے۔ جو اس سے وابستہ ہو اس کیلئے سرمایۂ عزت ہے، جو اس کی حدود میں داخل ہو اس کیلئے پیغام صلح و امن ہے، جو اس کی پیروی کرے اس کیلئے ہدایت ہے، جو اسے اپنی طرف نسبت دے اس کیلئے حجت ہے، جو اس کی رُو سے بات کرے اس کیلئے دلیل و برہان ہے، جو اس کی بنیاد پر بحث و مناظرہ کرے اس کیلئے گواہ ہے، جو اسے حجت بنا کر پیش کرے اس کیلئے فتح و کامرانی ہے، جو اس کا بار اٹھائے یہ اس کا بوجھ بٹانے والا ہے، جو اسے اپنا دستور العمل بنائے اس کیلئے مرکب (تیز گام) ہے، یہ حقیقت شناس کیلئے ایک واضح نشان ہے، جو (ضلالت سے ٹکرانے کیلئے) سلاح بند ہو اس کیلئے سپر ہے، جو اس کی ہدایت کو گرہ میں باندھ لے اس کیلئے علم و دانش ہے، بیان کرنے والے کیلئے بہترین کلام اور فیصلہ کرنے والے کیلئے قطعی حکم ہے۔

  197. خطبہ 197- نماز، زکوٰة اور امانت کے بارے میں فرمایا

    197

    وَ لَقَدْ عَلِمَ الْمُسْتَحْفَظُونَ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ- صلى الله عليه واله أَنِّي لَمْ أَرُدَّ عَلَى اللَّهِ وَ لَا عَلَى رَسُولِهِ سَاعَةً قَطُّ وَ لَقَدْ وَاسَيْتُهُ بِنَفْسِي فِي الْمَوَاطِنِ الَّتِي تَنْكُصُ فِيهَا الْأَبْطَالُ وَ تَتَأَخَّرُ فِيهَا الْأَقْدَامُ نَجْدَةً أَكْرَمَنِي اللَّهُ بِهَا وَ لَقَدْ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه واله وَ إِنَّ رَأْسَهُ لَعَلَى صَدْرِي وَ لَقَدْ سَالَتْ نَفْسُهُ فِي كَفِّي فَأَمْرَرْتُهَا عَلَى وَجْهِي وَ لَقَدْ وَلِيتُ غُسْلَهُ وَ الْمَلَئِكَةُ أَعْوَانِي فَضَجَّتِ الدَّارُ وَ الْأَفْنِيَةُ مَلَأٌ يَهْبِطُ وَ مَلَأٌ يَعْرُجُ وَ مَا فَارَقَتْ سَمْعِي هَيْنَمَةٌ مِنْهُمْ يُصَلُّونَ عَلَيْهِ حَتَّى وَارَيْنَاهُ فِي ضَرِيحِهِ فَمَنْ ذَا أَحَقُّ بِهِ مِنِّي حَيّاً وَ مَيِّتاً فَانْفُذُوا عَلَى بَصَائِرِكُمْ وَ لْتَصْدُقْ نِيَّاتُكُمْ فِي جِهَادِ عَدُوِّكُمْ فَوَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِنِّي لَعَلَى جَادَّةِ الْحَقِّ وَ إِنَّهُمْ لَعَلَى مَزَلَّةِ الْبَاطِلِ أَقُولُ مَا تَسْمَعُونَ وَ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ لِي وَ لَكُمْ

    حضرتؑ اپنے اصحاب کو یہ نصیحت فرمایا کرتے تھے نماز کی پابندی اور اس کی نگہداشت کرو اور اسے زیادہ سے زیادہ بجا لاؤ اور اس کے ذریعہ سے اللہ کا تقرب چاہو، کیونکہ نماز مسلمانوں پر وقت کی پابندی کے ساتھ واجب کی گئی ہے۔ کیا (قرآن میں) دوزخیوں کے جواب کو تم نے نہیں سنا کہ جب ان سے پوچھا جائے گا کہ: ’’کون سی چیز تمہیں دوزخ کی طرف کھینچ لائی ہے؟ تو وہ کہیں گے کہ ہم نمازی نہ تھے‘‘ ۔ بلاشبہ نماز گناہوں کو جھاڑ کر اس طرح الگ کر دیتی ہے جس طرح (درخت سے) پتے جھڑتے ہیں اور انہیں اس طرح الگ کرتی ہے جس طرح (چوپاؤں کی گردنوں سے) پھندے کھول کر انہیں رہا کیا جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے نماز کو اس گرم چشمہ سے تشبیہ دی ہے جو کسی شخص کے گھر کے دروازہ پر ہو اور وہ اس میں دن رات پانچ مرتبہ غسل کرے تو کیا امید کی جا سکتی ہے کہ اس کے (جسم پر) کوئی میل رہ جائے گا؟ نماز کا حق تو وہی مردانِ با خدا پہچانتے ہیں جنہیں متاع دنیا کی سج دھج اور مال و اولاد کا سرور دیدہ و دل اس سے غفلت میں نہیں ڈالتا۔ (چنانچہ) اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے کہ: ’’کچھ لوگ ایسے ہیں کہ جنہیں خدا کے ذکر اور نماز پڑھنے اور زکوٰة دینے سے نہ تجارت غافل کرتی ہے، نہ خرید و فروخت‘‘۔ اور رسول اللہ ﷺ باوجودیکہ انہیں جنت کی نوید دی جا چکی تھی (بکثرت) نماز پڑھنے سے اپنے کو زحمت و تعب میں ڈالتے تھے۔ چونکہ انہیں اللہ کا ارشاد تھا کہ: ’’اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اور خود بھی اس کی پابندی کرو‘‘۔ چنانچہ حضرتؐ اپنے گھر والوں کو خصوصیت کے ساتھ نماز کی تاکید بھی فرماتے تھے اور خود بھی اس کی کثرت و بجا آوری میں زحمت و مشقت برداشت کرتے تھے۔ پھر مسلمانوں کیلئے نماز کے ساتھ زکوٰة کو بھی تقرب خدا کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے تو جو شخص اسے برضا و رغبت ادا کرے گا، اس کیلئے یہ گناہوں کا کفارہ اور دوزخ سے آڑ اور بچاؤ ہے۔ (دیکھو! ادا کرنے کے بعد) کوئی شخص اس کا خیال تک دل میں نہ لائے اور نہ اس پر زیادہ ہائے وائے مچائے، کیونکہ جو شخص دلی لگن کے بغیر زکوٰة دے کر اس سے بہتر چیز کیلئے چشم براہ رہتا ہے وہ سنّت سے بے خبر، اجر کے اعتبار سے نقصان اٹھانے والا،غلط کار اور دائمی پریشانی و ندامت میں گرفتار ہے۔ پھر امانت کا ادا کرنا ہے۔ جو اپنے کو امانت کا اہل نہ بنا سکے وہ ناکام و نامراد ہے اس امانت کو مضبوط آسمانوں، پھیلی ہوئی زمینوں اور لمبے چوڑے گڑے ہوئے پہاڑوں پر پیش کیا گیا، بھلا ان سے تو بڑھ کر کوئی چیز لمبی، چوڑی، اونچی اور بڑی نہیں ہے، تو اگر کوئی چیز لمبائی چوڑائی یا قوت اور غلبہ کے بَل بوتے پر سرتابی کر سکتی ہوتی تو یہ سرتابی کر سکتے تھے، لیکن یہ تو اس کے عقاب و عتاب سے ڈر گئے اور اس چیز کو جان گئے جسے ان سے کمزور تر مخلوق انسان نہ جان سکا۔ ’’بلاشبہ انسان بڑا ناانصاف اور بڑا جاہل ہے‘‘۔ یہ بندگان خدا رات (کے پردوں)اور دن ( کے اجالوں)میں جو گناہ کرتے ہیں وہ اللہ سے ڈھکے چھپے ہوئے نہیں۔ وہ تو ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز سے آگاہ اور ہر شے پر اس کا علم محیط ہے۔ تمہارے ہی اعضاء اس کے سامنے گواہ بن کر پیش ہوں گے اور تمہارے ہی ہاتھ پاؤں اس کے لاؤ لشکر ہیں اور تمہارے ہی قلب و ضمیر اس کے جاسوس ہیں اور تمہاری تنہائیوں (کے عشرت کدے) اس کی نظروں کے سامنے ہیں۔

  198. خطبہ 198- معاویہ کی غداری و فریب کاری اور غداروں کا انجام

    198

    يَعْلَمُ عَجِيجَ الْوُحُوشِ فِي الْفَلَوَاتِ وَ مَعَاصِيَ الْعِبَادِ فِي الْخَلَوَاتِ وَ اخْتِلَافَ النِّينَانِ فِي الْبِحَارِ الْغَامِرَاتِ وَ تَلَاطُمَ الْمَاءِ بِالرِّيَاحِ الْعَاصِفَاتِ وَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً نَجِيبُ اللَّهِ وَ سَفِيرُ وَحْيِهِ وَ رَسُولُ رَحْمَتِهِ الوصية بالتقوى‏: أَمَّا بَعْدُ فَأُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ الَّذِي ابْتَدَأَ خَلْقَكُمْ وَ إِلَيْهِ يَكُونُ مَعَادُكُمْ وَ بِهِ نَجَاحُ طَلِبَتِكُمْ وَ إِلَيْهِ مُنْتَهَى رَغْبَتِكُمْ وَ نَحْوَهُ قَصْدُ سَبِيلِكُمْ وَ إِلَيْهِ مَرَامِي مَفْزَعِكُمْ فَإِنَّ تَقْوَى اللَّهِ دَوَاءُ دَاءِ قُلُوبِكُمْ وَ بَصَرُ عَمَى أَفْئِدَتِكُمْ وَ شِفَاءُ مَرَضِ أَجْسَادِكُمْ وَ صَلَاحُ فَسَادِ صُدُورِكُمْ وَ طَهُورُ دَنَسِ أَنْفُسِكُمْ وَ جِلَاءُ غِشَاءِ أَبْصَارِكُمْ وَ أَمْنُ فَزَعِ جَأْشِكُمْ وَ ضِيَاءُ سَوَادِ ظُلْمَتِكُمْ فَاجْعَلُوا طَاعَةَ اللَّهِ شِعَاراً دُونَ دِثَارِكُمْ وَ دَخِيلًا دُونَ شِعَارِكُمْ وَ لَطِيفاً بَيْنَ أَضْلَاعِكُمْ وَ أَمِيراً فَوْقَ أُمُورِكُمْ وَ مَنْهَلًا لِحِينِ وَرُودِكُمْ ‏ وَ شَفِيعاً لِدَرْكِ طَلِبَتِكُمْ وَ جُنَّةً لِيَوْمِ فَزَعِكُمْ وَ مَصَابِيحَ لِبُطُونِ قُبُورِكُمْ وَ سَكَناً لِطُولِ وَحْشَتِكُمْ وَ نَفَساً لِكُرَبِ مَوَاطِنِكُمْ فَإِنَّ طَاعَةَ اللَّهِ حِرْزٌ مِنْ مَتَالِفَ مُكْتَنِفَةٍ وَ مَخَاوِفَ مُتَوَقَّعَةٍ وَ أُوَارِ نِيرَانٍ مُوقَدَةٍ فَمَنْ أَخَذَ بِالتَّقْوَى عَزَبَتْ عَنْهُ الشَّدَائِدُ بَعْدَ دُنُوِّهَا وَ احْلَوْلَتْ لَهُ الْأُمُورُ بَعْدَ مَرَارَتِهَا وَ انْفَرَجَتْ عَنْهُ الْأَمْوَاجُ بَعْدَ تَرَاكُمِهَا وَ أَسْهَلَتْ لَهُ الصِّعَابُ بَعْدَ إِنْصَابِهَا وَ هَطَلَتْ عَلَيْهِ الْكَرَامَةُ بَعْدَ قُحُوطِهَا وَ تَحَدَّبَتْ عَلَيْهِ الرَّحْمَةُ بَعْدَ نُفُورِهَا وَ تَفَجَّرَتْ عَلَيْهِ النِّعَمُ بَعْدَ نُضُوبِهَا وَ وَبَلَتْ عَلَيْهِ الْبَرَكَةُ بَعْدَ إِرْذَاذِهَا فَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي نَفَعَكُمْ بِمَوْعِظَتِهِ وَ وَعَظَكُمْ بِرِسَالَتِهِ وَ امْتَنَّ عَلَيْكُمْ بِنِعْمَتِهِ فَعَبِّدُوا أَنْفُسَكُمْ لِعِبَادَتِهِ وَ اخْرُجُوا إِلَيْهِ مِنْ حَقِّ طَاعَتِهِ فضلُ الإسلام ثُمَّ إِنَّ هَذَا الْإِسْلَامَ دِينُ اللَّهِ الَّذِي اصْطَفَاهُ لِنَفْسِهِ وَ اصْطَنَعَهُ عَلَى عَيْنِهِ وَ أَصْفَاهُ خِيَرَةَ خَلْقِهِ وَ أَقَامَ دَعَائِمَهُ عَلَى مَحَبَّتِهِ أَذَلَّ الْأَدْيَانَ بِعِزَّتِهِ وَ وَضَعَ الْمِلَلَ بِرَفْعِهِ وَ أَهَانَ أَعْدَاءَهُ بِكَرَامَتِهِ وَ خَذَلَ مُحَادِّيهِ بِنَصْرِهِ وَ هَدَمَ أَرْكَانَ الضَّلَالَةِ بِرُكْنِهِ وَ سَقَى مَنْ عَطِشَ مِنْ حِيَاضِهِ وَ أَتْأَقَ الْحِيَاضَ بِمَوَاتِحِهِ ثُمَّ جَعَلَهُ لَا انْفِصَامَ لِعُرْوَتِهِ وَ لَا فَكَّ لِحَلْقَتِهِ وَ لَا انْهِدَامَ لِأَسَاسِهِ وَ لَا زَوَالَ لِدَعَائِمِهِ وَ لَا انْقِلَاعَ لِشَجَرَتِهِ وَ لَا انْقِطَاعَ لِمُدَّتِهِ وَ لَا عَفَاءَ لِشَرَائِعِهِ وَ لَا جَذَّ لِفُرُوعِهِ وَ لَا ضَنْكَ لِطُرُقِهِ وَ لَا وُعُوثَةَ لِسُهُولَتِهِ وَ لَا سَوَادَ لِوَضَحِهِ وَ لَا عِوَجَ لِانْتِصَابِهِ وَ لَا عَصَلَ فِي عُودِهِ وَ لَا وَعْثَ لِفَجِّهِ وَ لَا انْطِفَاءَ لِمَصَابِيحِهِ وَ لَا مَرَارَةَ لِحَلَاوَتِهِ فَهُوَ دَعَائِمُ أَسَاخَ فِي الْحَقِّ أَسْنَاخَهَا وَ ثَبَّتَ لَهَا أَسَاسَهَا وَ يَنَابِيعُ غَزُرَتْ عُيُونُهَا وَ مَصَابِيحُ شُبَّتْ نِيرَانُهَا وَ مَنَارٌ اقْتَدَى بِهَا سُفَّارُهَا وَ أَعْلَامٌ قُصِدَ بِهَا فِجَاجُهَا وَ مَنَاهِلُ رَوِيَ بِهَا وُرَّادُهَا جَعَلَ اللَّهُ فِيهِ مُنْتَهَى رِضْوَانِهِ وَ ذِرْوَةَ دَعَائِمِهِ وَ سَنَامَ طَاعَتِهِ فَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ وَثِيقُ الْأَرْكَانِ رَفِيعُ الْبُنْيَانِ مُنِيرُ الْبُرْهَانِ مُضِي‏ءُ النِّيرَانِ عَزِيزُ السُّلْطَانِ مُشْرِفُ الْمَنَارِ مُعْوِذُ الْمَثَارِ فَشَرِّفُوهُ وَ اتَّبِعُوهُ وَ أَدُّوا إِلَيْهِ حَقَّهُ وَ ضَعُوهُ مَوَاضِعَهُ الرسول الأعظم (صلى الله عليه وآله) ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ بَعَثَ مُحَمَّداً صلى الله عليه واله - بِالْحَقِّ حِينَ دَنَا مِنَ الدُّنْيَا الِانْقِطَاعُ وَ أَقْبَلَ مِنَ الْآخِرَةِ الِاطِّلَاعُ وَ أَظْلَمَتْ بَهْجَتُهَا بَعْدَ إِشْرَاقٍ وَ قَامَتْ بِأَهْلِهَا عَلَى سَاقٍ وَ خَشُنَ مِنْهَا مِهَادٌ وَ أَزِفَ مِنْهَا قِيَادٌ فِي انْقِطَاعٍ مِنْ مُدَّتِهَا وَ اقْتِرَابٍ مِنْ أَشْرَاطِهَا وَ تَصَرُّمٍ مِنْ أَهْلِهَا وَ انْفِصَامٍ مِنْ حَلْقَتِهَا وَ انْتِشَارٍ مِنْ سَبَبِهَا وَ عَفَاءٍ مِنْ أَعْلَامِهَا وَ تَكَشُّفٍ مِنْ عَوْرَاتِهَا وَ قِصَرٍ مِنْ طُولِهَا جَعَلَهُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ بَلَاغاً لِرِسَالَتِهِ وَ كَرَامَةً لِأُمَّتِهِ وَ رَبِيعاً لِأَهْلِ زَمَانِهِ وَ رِفْعَةً لِأَعْوَانِهِ وَ شَرَفاً لِأَنْصَارِهِ القرآن الكريم‏ ثُمَّ أَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ نُوراً لَا تُطْفَأُ مَصَابِيحُهُ وَ سِرَاجاً لَا يَخْبُو تَوَقُّدُهُ وَ بَحْراً لَا يُدْرَكُ قَعْرُهُ وَ مِنْهَاجاً لَا يَضِلُّ نَهْجُهُ وَ شُعَاعاً لَا يُظْلِمُ ضَوْءُهُ وَ فُرْقَاناً لَا يَخْمَدُ بُرْهَانُهُ وَ بُنْيَانًا لَا تُهْدَمُ أَرْكَانُهُ وَ شِفَاءً لَا تُخْشَى أَسْقَامُهُ وَ عِزّاً لَا تُهْزَمُ أَنْصَارُهُ وَ حَقّاً لَا تُخْذَلُ أَعْوَانُهُ فَهُوَ مَعْدِنُ الْإِيمَانِ وَ بُحْبُوحَتُهُ وَ يَنَابِيعُ الْعِلْمِ وَ بُحُورُهُ وَ رِيَاضُ الْعَدْلِ وَ غُدْرَانُهُ وَ أَثَافِيُّ الْإِسْلَامِ وَ بُنْيَانُهُ وَ أَوْدِيَةُ الْحَقِّ وَ غِيطَانُهُ وَ بَحْرٌ لَا يَنْزِفُهُ الْمُسْتَنْزِفُونَ وَ عُيُونٌ لَا يُنْضِبُهَا الْمَاتِحُونَ وَ مَنَاهِلُ لَا يُغِيضُهَا الْوَارِدُونَ وَ مَنَازِلُ لَا يَضِلُّ نَهْجَهَا الْمُسَافِرُونَ وَ أَعْلَامٌ لَا يَعْمَى عَنْهَا السَّائِرُونَ وَ آكَامٌ لَا يَجُوزُ عَنْهَا الْقَاصِدُونَ جَعَلَهُ اللَّهُ رِيّاً لَعَطَشِ الْعُلَمَاءِ وَ رَبِيعاً لَقُلُوبِ الْفُقَهَاءِ وَ مَحَاجَّ لِطُرُقِ الصُّلَحَاءِ وَ دَوَاءً لَيْسَ بَعْدَهُ دَاءٌ وَ نُوراً لَيْسَ مَعَهُ ظُلْمَةٌ وَ حَبْلًا وَثِيقاً عُرْوَتُهُ وَ مَعْقِلًا مَنِيعاً ذِرْوَتُهُ وَ عِزّاً لَمَنْ تَوَلَّاهُ وَ سِلْماً لِمَنْ دَخَلَهُ وَ هُدًى لِمَنِ ائْتَمَّ بِهِ وَ عُذْراً لِمَنِ انْتَحَلَهُ وَ بُرْهَاناً لِمَنْ تَكَلَّمَ بِهِ وَ شَاهِداً لِمَنْ خَاصَمَ بِهِ وَ فَلْجاً لِمَنْ حَاجَّ بِهِ وَ حَامِلًا لِمَنْ حَمَلَهُ وَ مَطِيَّةً لِمَنْ أَعْمَلَهُ وَ آيَةً لِمَنْ تَوَسَّمَ وَ جُنَّةً لِمَنِ اسْتَلْأَمَ وَ عِلْماً لِمَنْ وَعَى وَ حَدِيثاً لِمَنْ رَوَى وَ حُكْماً لِمَنْ قَضَى

    خدا کی قسم! معاویہ مجھ سے زیادہ چلتا پرزہ اور ہوشیار نہیں [۱] ، مگر فرق یہ ہے کہ وہ غداریوں سے چوکتا نہیں اور بد کرداریوں سے باز نہیں آتا۔ اگر مجھے عیاری و غداری سے نفرت نہ ہوتی تو میں سب لوگوں سے زائد ہوشیار و زیرک ہوتا، لیکن ہر غداری گناہ اور ہر گناہ حکم الٰہی کی نافرمانی ہے۔ چنانچہ قیامت کے دن ہر غدار کے ہاتھوں میں ایک جھنڈا ہو گا جس سے وہ پہچانا جائے گا۔ خدا کی قسم! مجھے ہتھکنڈوں سے غفلت میں نہیں ڈالا جا سکتا اور نہ سختیوں سے دبایا جا سکتا ہے۔

  199. خطبہ 199- راہ ہدایت پر چلنے والوں کی کمی اور قوم ثمود کا تذکرہ

    199

    الصلاة: تَعَاهَدُوا أَمْرَ الصَّلَاةِ وَ حَافِظُوا عَلَيْهَا وَ اسْتَكْثِرُوا مِنْهَا وَ تَقَرَّبُوا بِهَا فَإِنَّهَا كانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتاباً مَوْقُوتاً أَ لَا تَسْمَعُونَ إِلَى‏ جَوَابِ أَهْلِ النَّارِ حِينَ سُئِلُوا «ما سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ قالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ» وَ إِنَّهَا لَتَحُتُّ الذُّنُوبَ حَتَّ الْوَرَقِ وَ تُطْلِقُهَا إِطْلَاقَ الرِّبَقِ وَ شَبَّهَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه واله بِالْحَمَّةِ تَكُونُ عَلَى بَابِ الرَّجُلِ فَهُوَ يَغْتَسِلُ مِنْهَا فِي الْيَوْمِ وَ اللَّيْلَةِ خَمْسَ مَرَّاتٍ فَمَا عَسَى أَنْ يَبْقَى عَلَيْهِ مِنَ الدَّرَنِ وَ قَدْ عَرَفَ حَقَّهَا رِجَالٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِينَ لَا تَشْغَلُهُمْ عَنْهَا زِينَةُ مَتَاعٍ وَ لَا قُرَّةُ عَيْنٍ مِنْ وَلَدٍ وَ لَا مَالٍ يَقُولُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ «رِجالٌ لا تُلْهِيهِمْ تِجارَةٌ وَ لا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَ إِقامِ الصَّلاةِ وَ إِيتاءِ الزَّكاةِ» وَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ- صلى الله عليه واله- نَصِباً بِالصَّلَاةِ بَعْدَ التَّبْشِيرِ لَهُ بِالْجَنَّةِ لِقَوْلِ اللَّهِ سُبْحَانَهُ «وَ أْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلاةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَيْها» فَكَانَ يَأْمُرُ بِهَا أَهْلَهُ وَ يُصَبِّرُ عَلَيْهَا نَفْسَهُ الزكاة ثُمَّ إِنَّ الزَّكَاةَ جُعِلَتْ مَعَ الصَّلَاةِ قُرْبَاناً لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ فَمَنْ أَعْطَاهَا طَيِّبَ النَّفْسِ بِهَا فَإِنَّهَا تُجْعَلُ لَهُ كَفَّارَةً وَ مِنَ النَّارِ حِجَازاً وَ وِقَايَةً فَلَا يُتْبِعَنَّهَا أَحَدٌ نَفْسَهُ وَ لَا يُكْثِرَنَّ عَلَيْهَا لَهْفَهُ فَإِنَّ مَنْ أَعْطَاهَا غَيْرَ طَيِّبِ النَّفْسِ بِهَا يَرْجُو بِهَا مَا هُوَ أَفْضَلُ مِنْهَا فَهُوَ جَاهِلٌ بِالسُّنَّةِ مَغْبُونُ الْأَجْرِ ضَالُّ الْعَمَلِ طَوِيلُ النَّدَمِ الأمانة: ثُمَّ أَدَاءَ الْأَمَانَةِ فَقَدْ خَابَ مَنْ لَيْسَ مِنْ أَهْلِهَا إِنَّهَا عُرِضَتْ عَلَى السَّمَاوَاتِ الْمَبْنِيَّةِ وَ الْأَرَضِينَ الْمَدْحُوَّةِ وَ الْجِبَالِ ذَاتِ الطُّولِ الْمَنْصُوبَةِ فَلَا أَطْوَلَ وَ لَا أَعْرَضَ وَ لَا أَعْلَى وَ لَا أَعْظَمَ مِنْهَا وَ لَوِ امْتَنَعَ شَيْ‏ءٌ بِطُولٍ أَوْ عَرْضٍ أَوْ قُوَّةٍ أَوْ عِزٍّ لَامْتَنَعْنَ وَ لَكِنْ أَشْفَقْنَ مِنَ الْعُقُوبَةِ وَ عَقَلْنَ مَا جَهِلَ مَنْ هُوَ أَضْعَفُ مِنْهُنَّ وَ هُوَ الْإِنْسَانُ «إِنَّهُ كانَ ظَلُوماً جَهُولًا» إِنَّ اللَّهَ- سُبْحَانَهُ وَ تَعَالَى- لَا يَخْفَى عَلَيْهِ مَا الْعِبَادُ مُقْتَرِفُونَ فِي لَيْلِهِمْ وَ نَهَارِهِمْ لَطُفَ بِهِ خُبْراً وَ أَحَاطَ بِهِ عِلْماً أَعْضَاؤُكُمْ شُهُودُهُ وَ جَوَارِحُكُمْ جُنُودُهُ وَ ضَمَائِرُكُمْ عُيُونُهُ وَ خَلَوَاتُكُمْ عِيَانُهُ

    اے لوگو! ہدایت کی راہ میں ہدایت پانے والوں کی کمی سے گھبرا نہ جاؤ، کیونکہ لوگ تو اسی دنیا کے خوان نعمت پر ٹوٹے پڑتے ہیں جس سے شکم پری کی مدت کم اور گر سنگی کا عرصہ دراز ہے۔ اے لوگو! (افعال و اعمال چاہے مختلف ہوں مگر) رضا و ناراضگی کے جذبات تمام لوگوں کو ایک حکم میں لے آتے ہیں آخر قومِ ثمود [۱] کی اونٹنی کو ایک ہی شخص نے پے کیا تھا لیکن اللہ نے عذاب سب پر کیا، کیونکہ وہ سارے کے سارے اس پر رضا مند تھے۔ چنانچہ اللہ کا ارشاد ہےکہ: ’’انہوں نے اونٹنی کے پاؤں کاٹ ڈالے اور صبح کے وقت (جب عذاب کے آثار دیکھے تو اپنے کئے پر) نادم و پریشان ہوئے‘‘۔ (عذاب کی آمد یوں تھی) کہ زمین کے دھنسنے (اور زلزلوں کے جھٹکوں سے) ایسی گھڑگھڑاہٹ ہو نے لگی جیسے نرم زمین میں ہل کی تپی ہوئی پھالی کے چلانے سے آواز آتی ہے۔ اے لوگو! جو روشن و واضح راہ پر چلتا ہے وہ سر چشمہ (ہدایت) پر پہنچ جاتاہے اور جو بے راہ روی کرتا ہے وہ صحرائے بے آب و گیاہ میں جا پڑتا ہے۔

  200. خطبہ 200- جناب سیدہ سلام اللہ علیہا کے دفن کے موقع پر فرمایا

    200

    وَ اللَّهِ مَا مُعَاوِيَةُ بِأَدْهَى مِنِّي وَ لَكِنَّهُ يَغْدِرُ وَ يَفْجُرُ وَ لَوْ لَا كَرَاهِيَةُ الْغَدْرِ لَكُنْتُ مِنْ أَدْهَى النَّاسِ وَ لَكِنْ كُلُّ غَدْرَةٍ فَجْرَةٌ وَ كُلُّ فَجْرَةٍ كَفْرَةٌ وَ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يُعْرَفُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَ اللَّهِ مَا أُسْتَغْفَلُ بِالْمَكِيدَةِ وَ لَا أُسْتَغْمَزُ بِالشَّدِيدَةِ

    سیّدة النساء حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے دفن کے موقع پر فرمایا یا رسول اللہؐ! آپؐ کو میری جانب سے اور آپؐ کے پڑوس میں اترنے والی اور آپؐ سے جلد ملحق ہونے والی آپؐ کی بیٹی کی طرف سے سلام ہو۔ یا رسول اللہؐ! آپؐ کی برگزیدہ (بیٹی کی رحلت) سے میرا صبر و شکیب جاتا رہا، میری ہمت و توانائی نے ساتھ چھوڑ دیا، لیکن آپؐ کی مفارقت کے حادثہ عظمیٰ اور آپؐ کی رحلت کے صدمہ جانکاہ پر صبر کر لینے کے بعد مجھے اس مصیبت پر بھی صبر و شکیبائی ہی سے کام لینا پڑے گا، جبکہ میں نے اپنے ہاتھوں سے آپؐ کو قبر کی لحد میں اتارا اور اس عالم میں آپؐ کی روح نے پرواز کی کہ آپؐ کا سر میری گردن اور سینے کے درمیان رکھا تھا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون ، اب یہ امانت پلٹا لی گئی، گروی رکھی ہوئی چیز چھڑا لی گئی، لیکن میرا غم بے پایاں اور میری راتیں بے خواب رہیں گی، یہاں تک کہ خداوند عالم میرے لئے بھی اسی گھر کو منتخب کرے جس میں آپؐ رونق افروز ہیں۔ وہ وقت آ گیا کہ آپؐ کی بیٹی آپؐ کو بتائیں کہ کس طرح آپؐ کی اُمت نے ان پر ظلم ڈھانے کیلئے ایکا کر لیا [۱] ۔ آپؐ ان سے پورے طور پر پوچھیں اور تمام احوال و واردات دریافت کریں۔ یہ ساری مصیبتیں ان پر بیت گئیں، حالانکہ آپؐ کو گزرے ہوئے کچھ زیادہ عرصہ نہیں ہو اتھا اور نہ آپؐ کے تذکروں سے زبانیں بند ہوئی تھیں۔ آپؐ دونوں پر میرا سلامِ رخصتی ہو، نہ ایسا سلام جو کسی ملول و دل تنگ کی طرف سے ہوتا ہے۔ اب اگر میں (اس جگہ سے) پلٹ جاؤں تو اس لئے نہیں کہ آپؐ سے میرا دل بھر گیا ہے اور اگر ٹھہرا رہوں تو اس لئے نہیں کہ میں اس وعدہ سے بدظن ہوں جو اللہ نے صبر کرنے والوں سے کیا ہے۔

  201. خطبہ 201- دنیا کی بے ثباتی اور زاد آخرت مہیا کرنے کے لیے فرمایا

    201

    أَيُّهَا النَّاسُ لَا تَسْتَوْحِشُوا فِي طَرِيقِ الْهُدَى لِقِلَّةِ أَهْلِهِ فَإِنَّ النَّاسَ قَدِ اجْتَمَعُوا عَلَى مَائِدَةٍ شِبَعُهَا قَصِيرٌ وَ جُوعُهَا طَوِيلٌ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا يَجْمَعُ النَّاسَ الرِّضَا وَ السُّخْطُ وَ إِنَّمَا عَقَرَ نَاقَةَ ثَمُودَ رَجُلٌ وَاحِدٌ فَعَمَّهُمُ اللَّهُ بِالْعَذَابِ لَمَّا عَمُّوهُ بِالرِّضَا فَقَالَ سُبْحَانَهُ فَعَقَرُوها فَأَصْبَحُوا نادِمِينَ فَمَا كَانَ إِلَّا أَنْ خَارَتْ أَرْضُهُمْ بِالْخَسْفَةِ خُوَارَ السِّكَّةِ الْمُحْمَاةِ فِي الْأَرْضِ الْخَوَّارَةِ أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ سَلَكَ الطَّرِيقَ الْوَاضِحَ وَرَدَ الْمَاءَ وَ مَنْ خَالَفَ وَقَعَ فِي التِّيهِ

    اے لوگو! یہ دنیا گزرگاہ ہے اور آخرت جائے قرار۔ اس راہ گزر سے اپنی منزل کیلئے توشہ اٹھا لو۔ جس کے سامنے تمہارا کوئی بھید چھپا نہیں رہ سکتا، اس کے سامنے اپنے پردے چاک نہ کرو، قبل اس کے کہ تمہارے جسم دنیا سے الگ کر دیئے جائیں اپنے دل اس سے ہٹا لو۔ اس دنیا میں تمہیں جانچا جا رہا ہے لیکن تمہیں پیدا دوسری جگہ کیلئے کیا گیا ہے۔ جب کوئی انسان مرتا ہے تو لوگ کہتے ہیں کیا چھوڑ گیا ہے؟ اور فرشتے کہتے ہیں کہ اس نے آگے کیلئے کیا سرو سامان کیا ہے؟ خدا تمہارا بھلا کرے! کچھ آگے کیلئے بھی بھیجو کہ وہ تمہارے لئے ایک طرح سے (اللہ کے ذمہ) قرضہ ہو گا۔ سب کا سب پیچھے نہ چھوڑ جاؤ کہ وہ تمہارے لئے بوجھ ہو گا۔

  202. خطبہ 202- اپنے اصحاب کو عقبیٰ کے خطرات سے متنبہ کرتے ہوئے فرمایا

    202

    السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَنِّي وَ عَنِ ابْنَتِكَ النَّازِلَةِ فِي جِوَارِكَ وَ السَّرِيعَةِ اللَّحَاقِ بِكَ قَلَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَنْ صَفِيَّتِكَ صَبْرِي وَ رَقَّ عَنْهَا تَجَلُّدِي إِلَّا أَنَّ لِي فِي التَّأَسِّي بِعَظِيمِ فُرْقَتِكَ وَ فَادِحِ مُصِيبَتِكَ مَوْضِعَ تَعَزٍّ فَلَقَدْ وَسَّدْتُكَ فِي مَلْحُودَةِ قَبْرِكَ وَ فَاضَتْ بَيْنَ نَحْرِي وَ صَدْرِي نَفْسُكَ فَ "إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ". فَلَقَدِ اسْتُرْجِعَتِ الْوَدِيعَةُ وَ أُخِذَتِ الرَّهِينَةُ أَمَّا حُزْنِي فَسَرْمَدٌ وَ أَمَّا لَيْلِي فَمُسَهَّدٌ إِلَى أَنْ يَخْتَارَ اللَّهُ لِي دَارَكَ الَّتِي أَنْتَ بِهَا مُقِيمٌ وَ سَتُنَبِّئُكَ ابْنَتُكَ بِتَضَافُرِ أُمَّتِكَ عَلَى هَضْمِهَا فَأَحْفِهَا السُّؤَالَ وَ اسْتَخْبِرْهَا الْحَالَ‏ هَذَا وَ لَمْ يَطُلِ الْعَهْدُ وَ لَمْ يَخْلُ مِنْكَ الذِّكْرُ وَ السَّلَامُ عَلَيْكُمَا سَلَامَ مُوَدِّعٍ لَا قَالٍ وَ لَا سَئِمٍ فَإِنْ أَنْصَرِفْ فَلَا عَنْ مَلَالَةٍ وَ إِنْ أُقِمْ فَلَا عَنْ سُوءِ ظَنٍّ بِمَا وَعَدَ اللَّهُ الصَّابِرِينَ

    اکثر اپنے اصحاب سے پکار کر فرمایا کرتے تھے خدا تم پر رحم کرے کچھ سفر کا ساز و سامان کرلو۔ کوچ کی صدائیں تمہارے گوش گزار ہو چکی ہیں۔ دنيا کے وقفہ قیام کو زیادہ تصور نہ کرو اور جو تمہارے دسترس میں بہترین زاد ہے اُسے لے کر (اللہ کی طرف) پلٹو، کیونکہ تمہارے سامنے ایک دشوار گزار گھاٹی ہے اور پُر ہول و خوفناک مراحل ہیں کہ جہاں اترے اور ٹھہرے بغیر تمہیں کوئی چارہ نہیں۔ تمہیں جاننا چاہیے کہ موت کی ترچھی نظریں تم سے قریب پہنچ چکی ہیں اور گویا تم اس کے پنجوں میں ہو جو تم میں گاڑ دئیے گئے ہیں اور موت کے شدائد و مشکلات تم پر چھا گئے ہیں۔ دنیا سے سارے علائق قطع کر لو اور زادِ تقویٰ سے اپنے کو تقویت پہنچاؤ۔ سیّد رضیؒ کہتے ہیں کہ: اس خطبہ کا کچھ حصہ پہلے بھی گزر چکا ہے لیکن اس روایت کے الفاظ پہلی روایت سے کچھ مختلف ہیں۔

  203. خطبہ 203- طلحہ و زبیر نے مشورہ نہ کرنے کا شکوہ کیا تو فرمایا

    203

    أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا الدُّنْيَا دَارُ مَجَازٍ وَ الْآخِرَةُ دَارُ قَرَارٍ فَخُذُوا مِنْ مَمَرِّكُمْ لِمَقَرِّكُمْ وَ لَا تَهْتِكُوا أَسْتَارَكُمْ عِنْدَ مَنْ يَعْلَمُ أَسْرَارَكُمْ وَ أَخْرِجُوا مِنَ الدُّنْيَا قُلُوبَكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَخْرُجَ مِنْهَا أَبْدَانُكُمْ فَفِيهَا اخْتُبِرْتُمْ وَ لِغَيْرِهَا خُلِقْتُمْ إِنَّ الْمَرْءَ إِذَا هَلَكَ قَالَ النَّاسُ مَا تَرَكَ وَ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ مَا قَدَّمَ لِلَّهِ آبَاؤُكُمْ فَقَدِّمُوا بَعْضاً يَكُنْ لَكُمْ قرضاً وَ لَا تُخَلِّفِوُا كُلًّا فَيَكُونَ عَلَيْكُمْ

    حضرتؑ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے بعد طلحہ اور زبیر نے آپؑ سے شکایت کی کہ ان سے کیوں (امور حکومت میں) مشورہ نہیں لیا جاتا اور کیوں ان سے امداد کی خواہش نہیں کی جاتی تو حضرتؑ نے فرمایا: ذرا سی بات پر تو تمہارے تیور بگڑ گئے ہیں اور بہت سی چیزوں کو تم نے پس پشت ڈال دیا ہے۔ کیا مجھے بتا سکتے ہو کہ کسی چیز میں تمہارا حق تھا اور میں نے اسے دبا لیا ہو؟ یا تمہارے حصہ میں کوئی چیز آتی ہو اور میں نے اس سے دریغ کیا ہو؟ یا کسی مسلمان نے میرے سامنے کوئی دعویٰ پیش کیا ہو اور میں اس کا فیصلہ کرنے سے عاجز یا اس کے حکم سے جاہل رہا ہوں؟ یا صحیح طریق کار سے خطا کی ہو؟۔ خدا کی قسم! مجھے تو کبھی بھی اپنے لئے خلافت اور حکومت کی حاجت و تمنا نہیں رہی۔ تم ہی لوگوں نے مجھے اس کی طرف دعوت دی اور اس پر آمادہ کیا۔ چنانچہ جب وہ مجھ تک پہنچ گئی تو میں نے اللہ کی کتاب کو نظر میں رکھا اور جو لائحہ عمل اس نے ہمارے سامنے پیش کیا اور جس طرح فیصلہ کرنے کا اس نے حکم دیا میں اسی کے مطابق چلا اور جو سنت ِپیغمبرؐ قرار پا گئی اس کی پیروی کی۔ اس میں نہ تو تم سے کبھی مجھے رائے لینے کى احتیاج ہوئی اور نہ تمہارے علاوہ کسی اور سے۔ (اور نہ میں کسی حکم سے جاہل تھا کہ تم سے یا دیگر برادران اسلام سے مشورہ کرتا اور اگر ایسی کوئی ضرورت ہوتی تو میں نہ تمہیں نظر انداز کرتا اور نہ دیگر مسلمانوں کو)۔ لیکن تم نے جو یہ ذکر کیا ہے کہ میں نے (بیت المال سے ) برابر کی تقسیم جاری کی ہے تو یہ میری رائے کا حکم اور میری خواہش نفسانی کا فیصلہ نہیں، بلکہ یہ وہی طے شدہ چیز ہے جسے رسول اللہ ﷺ لے کر آئے جو میرے بھی سامنے ہے اور تمہارے بھی پیش نظر ہے۔ تو جس چیز کی اللہ نے حد بندی کر دی ہے اور اس کا قطعی حکم دے دیا اس میں تم سے رائے لینے کی مجھے احتیاج نہیں۔ خدا کی قسم! تمہیں اور تمہارے علاوہ کسی کو بھی اس معاملہ میں شکایت کرنے کا حق نہیں۔ خدا ہمارے اور تمہارے دلوں کو حق پر ٹھہرائے اور ہمیں اور تمہیں صبر عطا کرے۔ پھر آپؑ نے ارشاد فرمایا: خدا اس شخص پر رحم کرے جو حق کو دیکھے تو اس کی مدد کرے، باطل کو دیکھے تو اسے ٹھکرا دے اور صاحب حق کا حق کے ساتھ معین هو۔

  204. خطبہ 204- صفین میں شامیوں پر شب و ستم کیا گیا تو فرمایا

    204

    تَجَهَّزُوا- رَحِمَكُمُ اللَّهُ فَقَدْ نُودِيَ فِيكُمْ بِالرَّحِيلِ وَ أَقِلُّوا الْعُرْجَةَ عَلَى الدُّنْيَا وَ انْقَلِبُوا بِصَالِحِ مَا بِحَضْرَتِكُمْ مِنَ الزَّادِ فَإِنَّ أَمَامَكُمْ عَقَبَةً كَئُودًا وَ مَنَازِلَ مَخُوفَةً مَهُولَةً لَا بُدَّ مِنَ الْوُرُودِ عَلَيْهَا وَ الْوُقُوفِ عِنْدَهَا وَ اعْلَمُوا أَنَّ مَلَاحِظَ الْمَنِيَّةِ نَحْوَكُمْ دَائِبَةٌ وَ كَأَنَّكُمْ بِمَخَالِبِهَا وَ قَدْ نَشِبَتْ فِيكُمْ وَ قَدْ دَهِمَتْكُمْ فِيهَا مُفْظِعَاتُ الْأُمُورِ وَ مُعْضِلَاتُ الْمَحْذُورِ فَقَطِّعُوا عَلَائِقَ الدُّنْيَا وَ اسْتَظْهِرُوا بِزَادِ التَّقْوَى قال السيد الشريف: و قد مضى شي‏ء من هذا الكلام فيما تقدم بخلاف هذه الرواية

    آپؐ نے جنگ صفین کے موقع پر اپنے ساتھیوں میں سے چند آدمیوں کو سنا کہ وہ شامیوں پر سب و شتم کر رہے ہیں تو آپؑ نے فرمایا: میں تمہارے لئے اس چیز کو پسند نہیں کرتا کہ تم گالیاں دینے لگو۔ اگر تم ان کے کرتوت کھولو اور ان کے صحیح حالات پیش کرو تو یہ ایک ٹھکانے کی بات اور عذر تمام کرنے کا صحیح طریق کار ہو گا۔ تم گالم گلوچ کے بجائے یہ کہو کہ خدایا! ہمارا بھی خون محفوظ رکھ اور ان کا بھی اور ہمارے اور ان کے درمیان اصلاح کی صورت پیدا کر اور انہیں گمراہی سے ہدایت کی طرف لا، تاکہ حق سے بے خبر حق کو پہچان لیں اور گمراہی و سرکشی کے شیدائی اس سے اپنا رخ موڑ لیں۔

  205. خطبہ 205- جب امام حسنؑ صفین کے میدان میں تیزی سے بڑھے تو فرمایا

    205

    لَقَدْ نَقَمْتُمَا يَسِيراً وَ أَرْجَأْتُمَا كَثِيراً أَ لَا تُخْبِرَانِي أَيُّ شَيْ‏ءٍ كَانَ لَكُمَا فِيهِ حَقٌّ دَفَعْتُكُمَا عَنْهُ أَمْ أَيُّ قِسْمٍ اسْتَأْثَرْتُ عَلَيْكُمَا بِهِ أَمْ أَيُّ حَقٍّ رَفَعَهُ إِلَيَّ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ضَعُفْتُ عَنْهُ أَمْ جَهِلْتُهُ أَمْ أَخْطَأْتُ بَابَهُ وَ اللَّهِ مَا كَانَتْ لِي فِي الْخِلَافَةِ رَغْبَةٌ وَ لَا فِي الْوِلَايَةِ إِرْبَةٌ وَ لَكِنَّكُمْ دَعَوْتُمُونِي إِلَيْهَا وَ حَمَلْتُمُونِي عَلَيْهَا فَلَمَّا أَفْضَتْ إِلَيَّ نَظَرْتُ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ وَ مَا وَضَعَ لَنَا وَ أَمَرَنَا بِالْحُكْمِ بِهِ فَاتَّبَعْتُهُ وَ مَا اسْتَسَنَّ النَّبِيُّ- صلى الله عليه واله- فَاقْتَدَيْتُه فَلَمْ أَحْتَجْ فِي ذَلِكَ إِلَى رَأْيِكُمَا وَ لَا رَأْيِ غَيْرِكُمَا وَ لَا وَقَعَ حُكْمٌ جَهِلْتُهُ فَأَسْتَشِيرَكُمَا وَ إِخْوَانِي الْمُسْلِمِينَ وَ لَوْ كَانَ ذَلِكَ لَمْ أَرْغَبْ عَنْكُمَا وَ لَا عَنْ غَيْرِكُمَا ‏ وَ أَمَّا مَا ذَكَرْتُمَا مِنْ أَمْرِ الْأُسْوَةِ فَإِنَّ ذَلِكَ أَمْرٌ لَمْ أَحْكُمْ أَنَا فِيهِ بِرَأْيِي وَ لَا وَلَّيْتُهُ هَوًى مِنِّي بَلْ وَجَدْتُ أَنَا وَ أَنْتُمَا مَا جَاءَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه واله قَدْ فُرِغَ مِنْهُ فَلَمْ أَحْتَجْ إِلَيْكُمَا فِيمَا قَدْ فَرَغَ اللَّهُ مِنْ قَسْمِهِ وَ أَمْضَى فِيهِ حُكْمَهُ فَلَيْسَ لَكُمَا- وَ اللَّهِ- عِنْدِي وَ لَا لِغَيْرِكُمَا فِي هَذَا عُتْبَى أَخَذَ اللَّهُ بِقُلُوبِنَا وَ قُلُوبِكُمْ إِلَى الْحَقِّ وَ أَلْهَمَنَا وَ إِيَّاكُمُ الصَّبْرَ ثم قال عليه السلام رَحِمَ اللَّهُ امْرَأً رَأَى حَقّاً فَأَعَانَ عَلَيْهِ أَوْ رَأَى جَوْراً فَرَدَّهُ وَ كَانَ عَوْناً بِالْحَقِّ عَلَى صَاحِبِهِ

    صفین کے موقع پر جب آپؑ نے اپنے فرزند حسن علیہ السلام کو جنگ کی طرف تیزی سے لپکتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: میری طرف سے اس جوان کو روک لو، کہیں (اس کی موت) مجھے خستہ و بے حال نہ کر دے، کیونکہ میں ان دونوں نوجوانوں (حسن اور حسین علیہما السلام) کو موت کے منہ میں دینے سے بخل کرتا ہوں کہ کہیں ان کے (مرنے سے) رسول اللہ ﷺ کی نسل قطع نہ ہو جائے۔ سیّد رضیؒ کہتے ہیں کہ: حضرتؑ کا ارشاد: «اِمْلِكُوْا عَنِّیْ هٰذَا الْغُلَامَ» : ’’میری طرف سے اس جوان کو روک لو‘‘ بہت بلند اور فصیح جملہ ہے۔

  206. خطبہ 206- صفین میں لشکر تحکیم کے سلسلہ میں سرکشی پر اُتر آیا تو فرمایا

    206

    إِنِّي أَكْرَهُ لَكُمْ أَنْ تَكُونُوا سَبَّابِينَ وَ لَكِنَّكُمْ لَوْ وَصَفْتُمْ أَعْمَالَهُمْ وَ ذَكَرْتُمْ حَالَهُمْ كَانَ أَصْوَبَ فِي الْقَوْلِ وَ أَبْلَغَ فِي الْعُذْرِ وَ قُلْتُمْ مَكَانَ سَبِّكُمْ إِيَّاهُمْ‏ اللَّهُمَّ احْقِنْ دِمَاءَنَا وَ دِمَاءَهُمْ وَ أَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا وَ بَيْنِهِمْ وَ اهْدِهِمْ مِنْ ضَلَالَتِهِمْ حَتَّى يَعْرِفَ الْحَقَّ مَنْ جَهِلَهُ وَ يَرْعَوِيَ عَنِ الْغَيِّ وَ الْعُدْوَانِ مَنْ لَهِجَ بِهِ

    جب تحکیم [۱] کے سلسلہ میں آپؑ کے اصحاب آپؑ پر پیچ و تاب کھانے لگے تو آپؑ نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! جب تک جنگ نے تمہیں بے حال نہیں کر دیا میرے حسب منشا میری بات تم سے بنی رہی۔ خدا کی قسم! اس نے تم میں سے کچھ کو تو اپنی گرفت میں لے لیا اور کچھ کو چھوڑ دیا اور تمہارے دشمنوں کو تو اس نے بالکل ہی نڈھال کر دیا۔ اگر تم جمے رہتے تو پھر جیت تمہاری تھی۔ مگر اس کا کیا علاج کہ میں کل تک امر ونہی کا مالک تھا اور آج دوسروں کے امر و نہی پر مجھے چلنا پڑ رہا ہے۔ تم (دنیا کی) زندگانی چاہنے لگے اور یہ چیز میرے بس میں نہ رہی کہ جس چیز (جنگ) سے تم بیزار ہو چکے تھے اس پر تمہیں برقرار رکھتا۔

  207. خطبہ 207- علاء ابن زیاد حارثی کی عیادت کو موقع پر فرمایا

    207

    امْلِكُوا عنِّي هذَا الْغُلاَمَ لَا يَهُدَّنِي فَإِنَّنِي أَنْفَسُ بِهَذَيْنِ (يَعْنِي الْحَسَنَ وَ الْحُسَيْنَ عليهما السلام) عَلَى الْمَوْتِ لِئَلَّا يَنْقَطِعَ بِهِمَا نَسْلُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه واله قال السيد الشريف: قوله (عليه السلام): «املكوا عني هذا الغلام» من أعلى الكلام و أفصحه

    بصرہ میں اپنے ایک صحابی علاء ابن زیاد حارثی کے ہاں عیادت کیلئے تشریف لے گئے تو اس کے گھر کی وسعت کو دیکھ کر فرمایا: تم دنیا میں اس گھر کی وسعت کو کیا کرو گے؟ درآنحالیکہ آخرت میں تم گھر کی وسعت کے زیادہ محتاج ہو (کہ جہاں تمہیں ہمیشہ رہنا ہے)۔ ہاں! اگر اس کے ساتھ تم آخرت میں بھی وسیع گھر چاہتے ہو تو اس میں مہمانوں کی مہمان نوازی، قریبیوں سے اچھا برتاؤ اور موقع و محل کے مطابق حقوق کی ادائیگی کرو۔ اگر ایسا کیا تو اس کے ذریعے آخرت کی کامرانیوں کو پالو گے۔ علاء ابن زیاد نے کہا کہ: یا امیر المومنینؑ! مجھے اپنے بھائی عاصم ابن زیاد کی آپؑ سے شکایت کرنا ہے۔ حضرتؑ نے پوچھا: ’’کیوں، اسے کیا ہوا؟‘‘ علاء [۱] نے کہا کہ: اس نے بالوں کی چادر اوڑھ لی ہے اور دنیا سے بالکل بے لگاؤ ہو گیا ہے تو حضرتؑ نے کہا کہ: ’’اسے میرے پاس لاؤ‘‘۔ جب وہ آیا تو آپؑ نے فرمایا کہ: اے اپنی جان کے دشمن! تمہیں شیطان خبیث نے بھٹکا دیا ہے، تمہیں اپنی آل اولاد پر ترس نہیں آتا؟ اور کیا تم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ اللہ نے جن پاکیزہ چیزوں کو تمہارے لئے حلال کیا ہے اگر تم انہیں کھاؤ برتو گے تو اسے ناگوار گزرے گا؟ تم اللہ کی نظروں میں اس سے کہیں زیادہ گرے ہوئے ہو کہ وہ تمہارے لئے یہ چاہے۔ اس نے کہا کہ یا امیر المومنینؑ! یہ آپؑ کا پہناوا بھی تو موٹا جھوٹا اور کھانا روکھا سوکھا ہوتا ہے؟ تو حضرتؑ نے فرمایا کہ: تم پر حیف ہے! میں تمہارے مانند نہیں ہوں۔ خدا نے آئمہ حق پر فرض کیا ہے کہ وہ اپنے کو مفلس و نادار لوگوں کی سطح پر رکھیں، تاکہ مفلوک الحال اپنے فقر کی وجہ سے پیچ و تاب نہ کھائے۔

  208. خطبہ 208- اختلاف احادیث کے وجوہ و اسباب اور رواة حدیث کے اقسام

    208

    أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَمْ يَزَلْ أَمْرِي مَعَكُمْ عَلَى مَا أُحِبُّ حَتَّى نَهِكَتْكُمُ الْحَرْبُ وَ قَدْ- وَ اللَّهِ- أَخَذَتْ مِنْكُمْ وَ تَرَكَتْ وَ هِيَ لِعَدُوِّكُمْ أَنْهَكَ ‏ لَقَدْ كُنْتُ أَمْسِ أَمِيراً فَأَصْبَحْتُ الْيَوْمَ مَأْمُوراً وَ كُنْتُ أَمْسِ نَاهِياً فَأَصْبَحْتُ الْيَوْمَ مَنْهِيّاً وَ قَدْ أَحْبَبْتُمُ الْبَقَاءَ وَ لَيْسَ لِي أَنْ أَحْمِلَكُمْ عَلَى مَا تَكْرَهُونَ

    ایک شخص [۱] نے آپؑ سے من گھڑت اور متعارض حدیثوں کے متعلق دریافت کیا جو (عام طور سے) لوگوں کے ہاتھوں میں پائی جاتی ہیں تو آپؑ نے فرمایا کہ: لوگوں کے ہاتھوں میں حق اور باطل، سچ اور جھوٹ، ناسخ اور منسوخ، عام اور خاص، واضح اور مبہم، صحیح او رغلط، سب ہی کچھ ہے۔ خود رسول اللہ ﷺ کے دور میں آپؐ پر بہتان لگائے گئے، یہاں تک کہ آپؐ کو کھڑے ہو کر خطبہ میں کہنا پڑا کہ: «جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر بہتان باندھے گا تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے»۔ تمہارے پاس چار طرح کے لوگ حدیث لانے والے ہیں کہ جن کا پانچواں نہیں [۲] : ایک تو وہ جس کا ظاہر کچھ ہے اور باطن کچھ، وہ ایمان کی نمائش کرتا ہے اور مسلمانوں کی سی وضع قطع بنا لیتا ہے، نہ گناہ کرنے سے گھبراتا ہے اور نہ کسی افتاد میں پڑنے سے جھجکتا ہے۔وہ جان بوجھ کر رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ باندھتا ہے۔ اگر لوگوں کو پتہ چل جاتا کہ یہ منافق اور جھوٹا ہے تو اس سے نہ کوئی حدیث قبول کرتے اور نہ اس کی بات کی تصدیق کرتے، لیکن وہ تو یہ کہتے ہیں کہ یہ رسول اللہ ﷺ کا صحابی ہے، اس نے آنحضرت ﷺ کو دیکھا بھی ہے اور ان سے حدیثیں بھی سنی ہیں اور آپؐ سے تحصیل علم بھی کی ہے۔ چنانچہ وہ (بے سوچے سمجھے) اس کی بات کو قبول کر لیتے ہیں۔ حالانکہ اللہ نے تمہیں منافقوں کے متعلق خبر دے رکھی ہے اور ان کے رنگ ڈھنگ سے بھی تمہیں آگاہ کر دیا ہے۔ پھر وہ رسول ﷺ کے بعد بھی باقی و برقرار رہے اور کذب و بہتان کے ذریعہ گمراہی کے پیشواؤں اور جہنم کا بلاوا دینے والوں کے یہاں اثر و رسوخ پیدا کیا۔ چنانچہ انہوں نے ان کو (اچھے اچھے) عہدوں پر لگایا اور حاکم بنا کر لوگوں کی گردنوں پر مسلط کر دیا اور ان کے ذریعہ سے اچھی طرح دنیا کو حلق میں اتارا اور لوگوں کا تو یہ قاعدہ ہے ہی کہ وہ بادشاہوں اور دنیا (والوں)کا ساتھ دیا کرتے ہیں۔مگر سوا ان (معدودے چند) افراد کے کہ جنہیں اللہ اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ چار میں سے ایک تو یہ ہوا۔ اور دوسرا شخص وہ ہے جس نے (تھوڑا بہت) رسول اللہ ﷺ سے سنا، لیکن جوں کا توں اسے یاد نہ رکھ سکا او راس میں اسے سہو ہو گیا۔ یہ جان بوجھ کر جھوٹ نہیں بولتا، یہی کچھ اس کے دسترس میں ہے، اسے ہی دوسروں سے بیان کرتا ہے اور اسی پر خود بھی عمل پیرا ہوتا ہے اور کہتا بھی یہی ہے کہ: میں نے رسول ﷺ سے سنا ہے۔ اگر مسلمانوں کو یہ خبر ہو جاتی کہ اس کی یادداشت میں بھول چوک ہو گئی ہے تو وہ اس کی بات کو نہ مانتے اور اگر خود بھی اسے اس کا علم ہو جاتا تو اسے چھوڑ دیتا۔ تیسرا شخص وہ ہے کہ جس نے رسول اللہ ﷺ کی زبان سے سنا کہ آپؐ نے ایک چیز کے بجا لانے کا حکم دیا ہے، پھر پیغمبر ﷺ نے تو اس سے روک دیا، لیکن یہ اسے معلوم نہ ہو سکا، یا یوں کہ اس نے پیغمبر ﷺ کو ایک چیز سے منع کرتے ہوئے سنا پھر آپؐ نے اس کی اجازت دے دی، لیکن اس کے علم میں یہ چیز نہ آسکی۔ اس نے (قول) منسوخ کو یاد رکھا اور (حدیث) ناسخ کو محفوظ نہ رکھ سکا۔ اگر اسے خود معلوم ہو جاتا کہ یہ منسوخ ہے تو وہ اسے چھوڑ دیتا اور مسلمانوں کو بھی اگر اس کے منسوخ ہو جانے کی خبر ہوتی تو وہ بھی اسے نظر انداز کر دیتے۔ یہ ہیں لوگوں کے احادیث و روایات میں اختلاف کے وجوہ و اسباب۔

  209. خطبہ 209- خداوند عالم کی عظمت اور زمین و آسمان اور دریاؤں کی خلقت

    209

    مَا كُنْتَ تَصْنَعُ بِسِعَةِ هَذِهِ الدَّارِ فِي الدُّنْيَا أَنْتَ إِلَيْهَا فِي الْآخِرَةِ كُنْتَ أَحْوَجَ وَ بَلَى إِنْ شِئْتَ بَلَغْتَ بِهَا الْآخِرَةَ تَقْرِي فِيهَا الضَّيْفَ وَ تَصِلُ فِيهَا الرَّحِمَ وَ تُطْلِعُ مِنْهَا الْحُقُوقَ مَطَالِعَهَا فَإِذاً أَنْتَ قَدْ بَلَغْتَ بِهَا الْآخِرَةَ فَقَالَ لَهُ الْعَلَاءُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَشْكُو إِلَيْكَ أَخِي عَاصِمَ بْنَ زِيَادٍ قَالَ وَ مَا لَهُ قَالَ لَبِسَ الْعَبَاءَةَ وَ تَخَلَّى مِنَ الدُّنْيَا قَالَ عَلَيَّ بِهِ فَلَمَّا جَاءَ قَالَ يَا عُدَيَّ نَفْسِهِ لَقَدِ اسْتَهَامَ بِكَ الْخَبِيثُ أَ مَا رَحِمْتَ أَهْلَكَ وَ وَلَدَكَ أَ تَرَى اللَّهَ أَحَلَّ لَكَ الطَّيِّبَاتِ وَ هُوَ يَكْرَهُ أَنْ تَأْخُذَهَا أَنْتَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ قَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَذَا أَنْتَ فِي خُشُونَةِ مَلْبَسِكَ وَ جُشُوبَةِ مَأْكَلِكَ قَالَ‏ وَيْحَكَ إِنِّي لَسْتُ كَأَنْتَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى فَرَضَ عَلَى أَئِمَّةِ الْحَقِّ أَنْ يُقَدِّرُوا أَنْفُسَهُمْ بِضَعَفَةِ النَّاسِ كَيْلَا يَتَبَيَّغَ بِالْفَقِيرِ فَقْرُهُ

    اللہ سبحانہ کے زورِ فرمانروائی اور عجیب و غریب صنعت کی لطیف نقش آرائی ایک یہ ہے کہ اس نے ایک اَتھاہ دریا کے پانی سے کہ جس کی سطحیں تہ بہ تہ اور موجیں تھپیڑے مار رہی تھیں ایک خشک و بے حرکت زمین کو پیدا کیا۔ پھر یہ کہ اس نے پانی (کے بخار) کی تہوں پر تہیں چڑھا دیں جو آپس میں ملیں ہوئی تھیں اور انہیں الگ الگ کر کے سات آسمان بنائے جو اس کے حکم سے تھمے ہوئے اور اپنے مرکز پر ٹھہرے ہوئے ہیں۔ اور زمین کو اس طرح قائم کیا کہ اسے ایک نیلگوں گہرا اور (فرمان الٰہی کے حدود میں) گھرا ہوا دریا اٹھائے ہوئے ہے جو اس کے حکم کے آگے بے بس اور اس کی ہیبت کے سامنے سرنگوں ہے اور اس کے خوف سے اس کی روانی تھمی ہوئی ہے۔ اور ٹھوس چکنے پتھروں، ٹیلوں اور پہاڑوں کو پیدا کیا اور ان کو ان کی جگہوں پر نصب اور ان کی قرار گاہوں میں قائم کیا۔ چنانچہ ان کی چوٹیاں فضا کو چیرتی ہوئی نکل گئی ہیں اور بنیادیں پانی میں گڑی ہوئی ہیں۔ اس طرح اس نے پہاڑوں کو پست اور ہموار زمین سے بلند کیا اور ان کی بنیادوں کو ان کے پھیلاؤ اور ان کے ٹھہراؤ کی جگہوں میں زمین کے اندر اتار دیا، ان کی چوٹیوں کو فلک بوس اور بلندیوں کو آسمان پیما بنا دیا اور انہیں زمین کیلئے ستون قرار دیا اور میخوں کی صورت میں انہیں گاڑا، چنانچہ وہ ہچکولے کھانے کے بعد تھم گئی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اپنے رہنے والوں کو لے کر جھک پڑے یا اپنے بوجھ کی وجہ سے دھنس جائے یا اپنی جگہ چھوڑ دے۔ پاک ہے وہ ذات کہ جس نے پانی کی طغیانیوں کے بعد زمین کو تھام رکھا اور اس کے اطراف و جوانب کو تر بتر ہونے کے بعد خشک کیا اور اسے اپنی مخلوقات کیلئے گہوارہ (استراحت) بنایا اور ایک ایسے گہرے دریا کی سطح پر اس کیلئے فرش بچھایا جو تھما ہوا ہے، بہتا نہیں اور رُکا ہوا ہے جنبش نہیں کرتا، جسے تند ہوائیں ادھر سے ادھر دھکیلتی رہتی ہیں اور برسنے والے بادل اسے متھ کر پانی کھینچتے رہتے ہیں۔ ’’بیشک ان چیزوں میں سر و سامان عبرت ہے اس شخص کیلئے جو اللہ سے ڈرے‘‘ ۔

  210. خطبہ 210- حق کی حمایت سے ہاتھ اٹھا لینے والوں کے بارے میں فرمایا

    210

    إِنَّ فِي أَيْدِي النَّاسِ حَقّاً وَ بَاطِلًا وَ صِدْقاً وَ كَذِباً وَ نَاسِخاً وَ مَنْسُوخاً وَ عَامّاً وَ خَاصّاً وَ مُحْكَماً وَ مُتَشَابِهاً وَ حِفْظاً وَ وَهْماً وَ لَقَدْ كُذِبَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ- صلى الله عليه واله- عَلَى عَهْدِهِ حَتَّى قَامَ خَطِيباً فَقَالَ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّداً فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ وَ إِنَّمَا أَتَاكَ بِالْحَدِيثِ أَرْبَعَةُ رِجَالٍ لَيْسَ لَهُمْ خَامِسٌ المنافقون رَجُلٌ مُنَافِقٌ مُظْهِرٌ لِلْإِيمَانِ مُتَصَنِّعٌ بِالْإِسْلَامِ لَا يَتَأَثَّمُ وَ لَا يَتَحَرَّجُ يَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ- صلى الله عليه واله- مُتَعَمِّداً فَلَوْ عَلِمَ النَّاسُ أَنَّهُ مُنَافِقٌ كَاذِبٌ لَمْ يَقْبَلُوا مِنْهُ وَ لَمْ يُصَدِّقُوا قَوْلَهُ وَ لَكِنَّهُمْ قَالُوا صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ- صلى الله عليه واله رَآهُ وَ سَمِعَ مِنْهُ وَ لَقِفَ عَنْهُ فَيَأْخُذُونَ بِقَوْلِهِ وَ قَدْ أَخْبَرَكَ اللَّهُ عَنِ الْمُنَافِقِينَ بِمَا أَخْبَرَكَ وَ وَصَفَهُمْ بِمَا وَصَفَهُمْ بِهِ لَكَ ثُمَّ بَقُوا بَعْدَهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَتَقَرَّبُوا إِلَى‏ أَئِمَّةِ الضَّلَالَةِ وَ الدُّعَاةِ إِلَى النَّارِ بِالزُّورِ وَ الْبُهْتَانِ فَوَلَّوْهُمُ الْأَعْمَالَ وَ جَعَلُوهُمْ عَلَى رِقَابِ النَّاسِ فَأَكَلُوا بِهِمُ الدُّنْيَا وَ إِنَّمَا النَّاسُ مَعَ الْمُلُوكِ وَ الدُّنْيَا إِلَّا مَنْ عَصَمَ اللَّهُ فَهَذَا أَحَدُ الْأَرْبَعَةِ الخاطئون وَ رَجُلٌ سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ شَيْئاً لَمْ يَحْفَظْهُ عَلَى وَجْهِهِ فَوَهِمَ فِيهِ وَ لَمْ يَتَعَمَّدْ كَذِباً فَهُوَ فِي يَدَيْهِ يَرْوِيهِ وَ يَعْمَلُ بِهِ وَ يَقُولُ أَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ- صلى الله عليه واله فَلَوْ عَلِمَ الْمُسْلِمُونَ أَنَّهُ وَهِمَ فِيهِ لَمْ يَقْبَلُوهُ مِنْهُ وَ لَوْ عَلِمَ هُوَ أَنَّهُ كَذَلِكَ لَرَفَضَهُ أهل الشبهة وَ رَجُلٌ ثَالِثٌ سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ- صلى الله عليه واله- شَيْئاً يَأْمُرُ بِهِ ثُمَّ نَهَى عَنْهُ وَ هُوَ لَا يَعْلَمُ أَوْ سَمِعَهُ يَنْهَى عَنْ شَيْ‏ءٍ ثُمَّ أَمَرَ بِهِ وَ هُوَ لَا يَعْلَمُ فَحَفِظَ الْمَنْسُوخَ وَ لَمْ يَحْفَظِ النَّاسِخَ فَلَوْ يَعْلَمُ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ لَرَفَضَهُ وَ لَوْ عَلِمَ الْمُسْلِمُونَ إِذْ سَمِعُوهُ مِنْهُ أَنَّهُ مَنْسُوخٌ لَرَفَضُوهُ. الصادقون الحافظون وَ آخَرُ رَابِعٌ لَمْ يَكْذِبْ عَلَى اللَّهِ وَ لَا عَلَى رَسُولِهِ مُبْغِضٌ لِلْكَذِبِ خَوْفاً مِنَ اللَّهِ وَ تَعْظِيماً لِرَسُولِ اللَّهِ- صلى الله عليه واله- وَ لَمْ يَهِمْ بَلْ حَفِظَ مَا سَمِعَ عَلَى وَجْهِهِ فَجَاءَ بِهِ عَلَى مَا سَمِعَهُ لَمْ يَزِدْ فِيهِ وَ لَمْ يَنْقُصْ مِنْهُ فَحَفِظَ النَّاسِخَ فَعَمِلَ بِهِ وَ حَفِظَ الْمَنْسُوخَ فَجَنَّبَ عَنْهُ وَ عَرَفَ الْخَاصَّ وَ الْعَامَّ الْمُتَشَابِهَ وَ مُحْكَمَهُ فَوَضَعَ كُلَّ شَيْ‏ءٍ مَوْضِعَهُ وَ قَدْ كَانَ يَكُونُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ- صلى الله عليه واله- الْكَلَامُ لَهُ وَجْهَانِ فَكَلَامٌ خَاصٌّ وَ كَلَامٌ عَامٌّ فَيَسْمَعُهُ مَنْ لَا يَعْرِفُ مَا عَنَى اللَّهُ سُبْحَانَهُ بِهِ وَ لَا مَا عَنَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه واله فَيَحْمِلُهُ السَّامِعُ وَ يُوَجِّهُهُ عَلَى غَيْرِ مَعْرِفَةٍ بِمَعْنَاهُ وَ مَا قُصِدَ بِهِ وَ مَا خَرَجَ مِنْ أَجْلِهِ وَ لَيْسَ كُلُّ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ- صلى الله عليه واله- كَانَ يَسْأَلُهُ وَ يَسْتَفْهِمُهُ حَتَّى إِنْ كَانُوا لَيُحِبُّونَ أَنْ يَجِي‏ءَ الْأَعْرَابِيُّ أَوِ الطَّارِئُ فَيَسْأَلُهُ (عليه السلام) حَتَّى يَسْمَعُوا وَ كَانَ لَا يَمُرُّ بِي مِنْ ذَلِكَ شَيْ‏ءٌ إِلَّا سَأَلْتُهُ عَنْهُ وَ حَفِظْتُهُ فَهَذِهِ وُجُوهُ مَا عَلَيْهِ النَّاسُ فِي اخْتِلَافِهِمْ وَ عِلَلِهِمْ فِي رِوَايَاتِهِمْ

    خدایا! تیرے بندوں میں سے جو بندہ ہماری ان باتوں کو سنے کہ جو عدل کے تقاضوں سے ہمنوا اور ظلم و جور سے الگ ہیں، جو دین و دنیا کی اصلاح کرنے والی اور شر انگیزی سے دور ہیں، اور سننے کے بعد پھر بھی انہیں ماننے سے انکار کر دے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ تیری نصرت سے منہ موڑنے والا اور تیرے دین کو ترقی دینے سے کوتاہی کرنے والا ہے۔ اے گواہوں میں سب سے بڑے گواہ!ہم تجھے اور ان سب کو جنہیں تو نے آسمانوں اور زمینوں میں بسایا ہے اس شخص کے خلاف گواہ کرتے ہیں، پھر اس کے بعد تو ہی اس کی نصرت و امداد سے بے نیاز کرنے والا اور اس کے گناہ کا اس سے مواخذہ کرنے والا ہے۔

  211. خطبہ 211- خداوند عالم کی عظمت اور پیغمبرؐ کی توصیف و مدحت

    211

    وَ كَانَ مِنِ اقْتِدَارِ جَبَرُوتِهِ بِبَدِيِع لَطَائِفِ صَنْعَتِهِ أَنْ جَعَلَ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ الزَّاخِرِ الْمُتَرَاكِمِ الْمُتَقَاصِفِ يَبَساً جَامِداً ثُمَّ فَطَرَ مِنْهُ أَطْبَاقاً فَفَتَقَهَا سَبْعَ سَمَاوَاتٍ بَعْدَ ارْتِتَاقِهَا فَاسْتَمْسَكَتْ بِأَمْرِهِ وَ قَامَتْ عَلَى حَدِّهِ وَ أَرْسَى أَرْضاً يَحْمِلُهَا الْأَخْضَرُ الْمُثْعَنْجِرُ وَ الْقَمْقَامُ الْمُسَخَّرُ قَدْ ذَلَّ لِأَمْرِهِ وَ أَذْعَنَ لِهَيْبَتِهِ وَ وَقَفَ الْجَارِي مِنْهُ لِخَشْيَتِهِ وَ جَبَلَ جَلَامِيدَهَا وَ نُشُوزَ مُتُونِهَا وَ أَطْوَادِهَا فَأَرْسَاهَا فِي مَرَاسِيهَا وَ أَلْزَمَهَا قَرَارَتَهَا فَمَضَتْ رُءُوسُهَا فِي الْهَوَاءِ وَ رَسَتْ أُصُولُهَا فِي الْمَاءِ فَأَنْهَدَ جِبَالَهَا عَنْ سُهُولِهَا وَ أَسَاخَ قَوَاعِدَهَا فِي مُتُونِ أَقْطَارِهَا وَ مَوَاضِعِ أَنْصَابِهَا فَأَشْهَقَ‏ قِلَالَهَا وَ أَطَالَ أَنْشَازَهَا وَ جَعَلَهَا لِلْأَرْضِ عِمَاداً وَ أَرَّزَهَا فِيهَا أَوْتَاداً فَسَكَنَتْ عَلَى حَرَكَتِهَا مِنْ أَنْ تَمِيدَ بِأَهْلِهَا أَوْ تَسِيخَ بِحَمْلِهَا أَوْ تَزُولَ عَنْ مَوضِعِهَا فَسُبْحَانَ مَنْ أَمْسَكَهَا بَعْدَ مَوَجَانِ مِيَاهِهَا وَ أَجْمَدَهَا بَعْدَ رُطُوبَةِ أَكْنَافِهَا فَجَعَلَهَا لِخَلْقِهِ مِهَاداً وَ بَسَطَهَا لَهُمْ فِرَاشاً فَوْقَ بَحْرٍ لُجِّيٍّ رَاكِدٍ لَا يَجْرِي وَ قَائِمٍ لَا يَسْرِي تُكَرْكِرُهُ الرِّيَاحُ الْعَوَاصِفُ وَ تَمْخُضُهُ الْغَمَامُ الذَّوَارِفُ إِنَّ فِي ذلِكَ لَعِبْرَةً لِمَنْ يَخْشى

    تمام حمد اس اللہ کیلئے ہے جو مخلوقات کی مشابہت سے بلند تر، توصیف کرنے والوں کے تعریفی کلمات سے بالا تر، اپنے عجیب و غریب نظم و نسق کی بدولت دیکھنے والوں کے سامنے آشکارا اور اپنے جلالِ عظمت کی وجہ سے وہم و گمان دوڑانے والوں کے فکر و اوہام سے پوشیدہ ہے۔وہ عالم ہے بغیر اس کے کہ کسی سے کچھ سیکھے یا علم میں اضافہ اور کہیں سے استفادہ کرے اور وہ بغیر فکر و تامل کے ہر چیز کا اندازہ مقرر کرنے والا ہے۔ نہ اسے تاریکیاں ڈھانپتی ہیں، نہ وہ روشنیوں سے کسب ضیاء کرتا ہے، نہ رات اسے گھیرتی ہے، نہ (دن کی) گردشوں کا اس پر گزر ہوتا ہے اور اس کا جاننا بوجھنا آنکھوں کے ذریعہ سے نہیں اور نہ اس کا علم دوسروں کے بتانے پر منحصر ہے۔ [اسی خطبہ میں نبی ﷺ کا ذکر فرمایا ہے] اللہ نے انہیں روشنی کے ساتھ بھیجا اور انتخاب کی منزل میں سب سے آگے رکھا تو ان کے ذریعہ سے تمام پراگندگیوں اور پریشانیوں کو دور کیا اور غلبہ پانے والوں پر تسلط جما لیا، مشکلوں کو سہل اور دشواریوں کو آسان بنایا، یہاں تک کہ دائیں بائیں (افراط و تفریط) کی سمتوں سے گمراہی کو دور ہٹایا۔

  212. خطبہ 212- پیغمبرﷺ کی خاندانی شرافت اور نیکو کاروں کے اوصاف

    212

    اللَّهُمَّ أَيُّمَا عَبْدٍ مِنْ عِبَادِكَ سَمِعَ مَقَالَتَنَا الْعَادِلَةَ غَيْرَ الْجَائِرَةِ وَ الْمُصْلِحَةَ غَيْرَ الْمُفْسِدَةِ فِي الدِّينِ وَ الدُّنْيَا فَأَبَى بَعْدَ سَمْعِهِ لَهَا إِلَّا النُّكُوصَ عَنْ نُصْرَتِكَ وَ الْإِبْطَاءَ عَنْ إِعْزَازِ دِينِكَ فَإِنَّا نَسْتَشْهِدُكَ عَلَيْهِ يَا أَكْبَرَ الشَّاهِدِينَ شَهَادَةً وَ نَسْتَشْهِدُ عَلَيْهِ جَمِيعَ مَا أَسْكَنْتَهُ أَرْضَكَ وَ سمَاوَاتِكَ ثُمَّ أَنْتَ بَعْدُ الْمُغْنِي عَنْ نَصْرِهِ وَ الْآخِذُ لَهُ بِذَنْبِهِ

    میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ ایسا عادل ہے کہ جس نے عدل ہی کی راہ اختیار کی ہے اور ایسا حکم ہے جو (حق و باطل کو) الگ الگ کر دیتا ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندہ و رسول اور بندوں کے سیّد و سردار ہیں۔ شروع سے انسانی نسل میں جہاں جہاں پر سے شاخیں الگ ہوئیں، ہر منزل میں وہ شاخ جس میں اللہ نے آپؑ کو قرار دیا تھا دوسری شاخوں سے بہتر ہی تھی۔ آپؐ کے نسب میں کسی بدکار کا ساجھا اور کسی فاسق کی شرکت نہیں۔ دیکھو! اللہ نے بھلائی کیلئے اہل، حق کیلئے ستون اور اطاعت کیلئے سامان حفاظت مہیا کیا ہے۔ ہر اطاعت کے موقعہ پر تمہارے لئے اللہ کی طرف سے نصرت و تائید، دستگیری کیلئے موجود ہوتی ہے (جس کو) اس نے زبانوں سے ادا کیا ہے اور اس سے دلوں کو ڈھارس دی ہے۔ اس میں بے نیازی چاہنے والے کیلئے بے نیازی اور شفا چاہنے والوں کیلئے شفاہے۔ تمہیں جاننا چاہیے کہ اللہ کے وہ بندے جو علمِ الٰہی کے امانتدار ہیں وہ محفوظ چیزوں کی حفاظت کرتے ہیں اور اس کے چشموں کو (تشنگان علم و معارف کیلئے) بہاتے ہیں، ایک دوسرے کی (اعانت کیلئے) باہم ملتے ملاتے ہیں اور خلوص و محبت سے میل ملاقات کرتے ہیں اور (علم و حکمت کے) سیراب کرنے والے ساغروں سے چھک کر سیراب ہوتے ہیں اور سیراب ہو کر (سر چشمہ علم سے) پلٹتے ہیں۔ ان میں شک و شبہ کا شائبہ نہیں ہوتا اور غیبت کا گزر نہیں ہوتا۔ اللہ نے ان کے پاکیزہ اخلاق کو ان کی طینت و فطرت میں سمو دیا ہے۔ انہی خوبیوں کی بنا پر وه آپس میں محبت و انس رکھتے ہیں اور ایک دوسرے سے ملتے ملاتے ہیں۔ وہ لوگوں میں اس طرح نمایاں ہیں جس طرح (بیجوں) میں صاف ستھرے بیج کہ (اچھے دانوں کو) لے لیا جاتا ہے اور (بروں کو) پھینک دیا جاتا ہے۔ اس صفائی و پاکیزگی نے انہیں چھانٹ اور پرکھنے نے نکھار دیا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ ان اوصاف کی پذیرائی سے اپنے لئے شرف و عزت قبول کرے اور قیامت کے وارد ہو نے سے پہلے اس سے ہراساں رہے اور اسے چاہیے کہ وہ (زندگی کے) مختصر دنوں اور اس گھر کے تھوڑے سے قیام میں کہ جو بس اتنا ہے کہ اس کو آخرت کے گھر سے بدل لے، آنکھیں کھولے (اور غفلت میں نہ پڑے) اور اپنی جائے بازگشت اور منزل آخرت کے جانے پہچانے ہوئے مرحلوں (قبر، برزخ، حشر) کیلئے نیک اعمال کرلے۔ مبارک ہو اس پاک و پاکیزہ دل والے کو کہ جو ہدایت کرنے والے کی پیروی اور تباہی میں ڈالنے والے سے کنارہ کرتا ہے اور دیدۂ بصیرت میں جلا بخشنے والے کی روشنی اور ہدایت کرنے والے کے حکم کی فرمانبرداری سے سلامتی کی راہ پا لیتا ہے اور ہدایت کے دروازوں کے بند اور وسائل و ذرائع کے قطع ہونے سے پہلے ہدایت کی طرف بڑھ جاتا ہے، توبہ کا دروازہ کھلواتا ہے اور (پھر) گناہ کا دھبہ اپنے دامن سے چھڑاتا ہے۔ وہ سیدھے راستے پر کھڑا کر دیا گیا ہے اور واضح راہ اسے بتا دی گئی ہے۔

  213. خطبہ 213- آپؑ کے دُعائیہ کلمات

    213

    الْحَمْدُ لِلَّهِ الْعَلِيِّ عَنْ شَبَهِ الْمَخْلُوقِينَ الْغَالِبِ لِمَقَالِ الْوَاصِفِينَ الظَّاهِرِ بِعَجَائِبِ تَدْبِيرِهِ لِلنَّاظِرِينَ الْبَاطِنِ بِجَلَالِ عِزَّتِهِ عَنْ فِكْرِ الْمُتَوَهِّمِينَ الْعَالِمِ بِلَا اكْتِسَابٍ وَ لَا ازْدِيَادٍ وَ لَا عِلْمٍ مُسْتَفَادٍ الْمُقَدِّرِ لِجَمِيعِ الْأُمُورِ بِلَا رَوِيَّةٍ وَ لَا ضَمِيرٍ الَّذِي لَا تَغْشَاهُ الظُّلَمُ وَ لَا يَسْتَضِي‏ءُ بِالْأَنْوَارِ وَ لَا يَرْهَقُهُ لَيْلٌ لَا يَجْرِي عَلَيْهِ نَهَارٌ وَ لَيْسَ إِدْرَاكُهُ بِالْإِبْصَارِ وَ لَا عِلْمُهُ بِالْإِخْبَارِ و منها في ذكر النبي صلى الله عليه و اله أَرْسَلَهُ بِالضِّيَاءِ وَ قَدَّمَهُ فِي الِاصْطِفَاءِ فَرَتَقَ بِهِ الْمَفَاتِقَ وَ سَاوَرَ بِهِ الْمُغَالِبَ وَ ذَلَّلَ بِهِ الصُّعُوبَةَ وَ سَهَّلَ بِهِ الْحُزُونَةَ حَتَّى سَرَّحَ الضَّلَالَ عَنْ يَمِينٍ وَ شِمَالٍ

    امیر المومنین ؑ کے وہ دُعائیہ کلمات جو اکثر آپؑ کی زبان پر جاری رہتے تھے تمام حمد اس اللہ کیلئے ہے جس نے مجھے اس حالت میں رکھا کہ نہ مردہ ہوں، نہ بیمار، نہ میری رگوں پر برص کے جراثیم کا حملہ ہوا ہے، نہ برے اعمال (کے نتائج) میں گرفتار ہوں، نہ بے اولاد ہوں، نہ دین سے برگشتہ، نہ اپنے پروردگار کا منکر ہوں اور نہ ایمان سے متوحش، نہ میری عقل میں فتور آیا ہے اور نہ پہلی اُمتوں کے سے عذاب میں مبتلا ہوں۔ میں اس کا بے اختیار بندہ اور اپنے نفس پر ستم ران ہوں۔ (اے اللہ!) تیری حجّت مجھ پر تمام ہو چکی ہے اور میرے لئے اب عذر کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ خدایا! مجھ میں کسی چیز کے حاصل کرنے کی قوت نہیں سوا اس کے کہ جو تو مجھے عطا کر دے اور کسی چیز سے بچنے کی سکت نہیں سوائے اس کے کہ جس سے تو مجھے بچائے رکھے۔ اے اللہ! میں تجھ سے پناہ کا خواستگار ہوں کہ تیری ثروت کے باوجود فقیر و تہی دست رہوں یا تیری رہنمائی کے ہوتے ہوئے بھٹک جاؤں یا تیری سلطنت میں رہتے ہوئے ستایا جاؤں یا ذلیل کیا جاؤں، جبکہ تمام اختیارات تجھے حاصل ہیں۔ خدایا! میری ان نفیس چیزوں میں جنہیں تو چھین لے گا، میری روح کو اوّلیت کا درجہ عطا کر اور مجھے سونپی ہوئی ان امانتوں میں جنہیں تو پلٹا لے گا اسے پہلی امانت قرار دے۔ اے اللہ! ہم تجھ سے پناہ کے طلبگار ہیں اس بات سے کہ تيرے ارشاد سے منہ موڑیں، یا ایسے فتنوں میں پڑ جائیں کہ تیرے دین سے پھر جائیں، یا تیری طرف سے آئی ہوئی ہدایت کو قبول کرنے کے بجائے نفسانی خواہشیں ہمیں برائی کی طرف لے جائیں۔

  214. خطبہ 214- حکمران اور رعیّت کے باہمی حقوق کے بارے میں فرمایا

    214

    وَ أَشْهَدُ أَنَّهُ عَدْلٌ عَدَلَ وَ حَكَمٌ فَصَلَ وَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ ‏ وَ رَسُولُهُ وَ سَيِّدُ عِبَادِهِ كُلَّمَا نَسَخَ اللَّهُ الْخَلْقَ فِرْقَتَيْنِ جَعَلَهُ فِي خَيْرِهِمَا لَمْ يُسْهِمْ فِيهِ عَاهِرٌ وَ لَا ضَرَبَ فِيهِ فَاجِرٌ أَلَا وَ إِنَّ اللَّهَ َسُبحانَهُ قَدْ جَعَلَ لِلْخَيْرِ أَهْلًا وَ لِلْحَقِّ دَعَائِمَ وَ لِلطَّاعَةِ عِصَماً وَ إِنَّ لَكُمْ عِنْدَ كُلِّ طَاعَةٍ عَوْناً مِنَ اللَّهِ يَقُولُ عَلَى الْأَلْسِنَةِ وَ يُثَبِّتُ الْأَفْئِدَةَ فِيهِ كِفَاءٌ لِمُكْتَفٍ وَ شِفَاءٌ لِمُشْتَفٍ صفة العلماء وَ اعْلَمُوا أَنَّ عِبَادَ اللَّهِ الْمُسْتَحْفَظِينَ عِلْمَهُ يَصُونُونَ مَصُونَهُ وَ يُفَجِّرُونَ عُيُونَهُ يَتَوَاصَلُونَ بِالْوِلَايَةِ وَ يَتَلَاقَوْنَ بِالْمَحَبَّةِ وَ يَتَسَاقَوْنَ بِكَأْسٍ رَوِيَّةٍ وَ يَصْدُرُونَ بِرِيَّةٍ لَا تَشُوبُهُمُ الرِّيبَةُ وَ لَا تُسْرِعُ فِيهِمُ الْغِيبَةُ عَلَى ذَلِكَ عَقَدَ خَلْقَهُمْ وَ أَخْلَاقَهُمْ فَعَلَيْهِ يَتَحَابُّونَ وَ بِهِ يَتَوَاصَلُونَ فَكَانُوا كَتَفَاضُلِ الْبَذْرِ يُنْتَقَى فَيُؤْخَذُ مِنْهُ وَ يُلْقَى قَدْ مَيَّزَهُ التَّخْلِيصُ وَ هَذَّبَهُ التَّمْحِيصُ فَلْيَقْبَلِ امْرُؤٌ كَرَامَةً بِقَبُولِهَا وَ لْيَحْذَرْ قَارِعَةً قَبْلَ حُلُولِهَا وَ لْيَنْظُرِ امْرُؤٌ فِي قَصِيرِ أَيَّامِهِ وَ قَلِيلِ مُقَامِهِ فِي مَنْزِلٍ حَتَّى يَسْتَبْدِلَ بِهِ مَنْزِلًا فَلْيَصْنَعْ لِمُتَحَوَّلِهِ وَ مَعَارِفِ مُنْتَقَلِهِ فَطُوبَى لِذِي قَلْبٍ سَلِيمٍ أَطَاعَ مَنْ يَهْدِيهِ وَ تَجَنَّبَ مَنْ يُرْدِيهِ وَ أَصَابَ سَبِيلَ السَّلَامَةِ بِبَصَرِ مَنْ بَصَّرَهُ وَ طَاعَةِ هَادٍ أَمَرَهُ وَ بَادَرَ الْهُدَى قَبْلَ أَنْ تُغْلَقَ أَبْوَابُهُ وَ تُقْطَعَ أَسْبَابُهُ وَ اسْتَفْتَحَ التَّوْبَةَ وَ أَمَاطَ الْحَوْبَةَ فَقَدْ أُقِيمَ عَلَى الطَّرِيقِ وَ هُدِيَ نَهْجَ السَّبِيلِ

    صفین کے موقع پر فرمایا اللہ سبحانہ نے مجھے تمہارے امور کا اختیار دے کر میرا حق تم پر قائم کر دیا ہے اور جس طرح میرا تم پر حق ہے ویسا ہی تمہارا بھی مجھ پر حق ہے۔ یوں تو حق کے بارے میں باہمی اوصاف گنوانے میں بہت وسعت ہے، لیکن آپس میں حق و انصاف کرنے کا دائرہ بہت تنگ ہے۔ دو آدمیوں میں اس کا حق اس پر اسی وقت ہے جب دوسرے کا بھی اس پر حق ہو اور اس کا حق اس پر جب ہی ہوتا ہے جب اس کا حق اس پر بھی ہو۔ اور اگر ایسا ہو سکتا ہے کہ اس کا حق تو دوسروں پر ہو لیکن اس پر کسی کا حق نہ ہو تو یہ امر ذات باری کیلئے مخصوص ہے نہ اس کی مخلوق کیلئے، کیونکہ وہ اپنے بندوں پر پورا تسلط و اقتدار رکھتا ہے اور اس نے تمام ان چیزوں میں کہ جن پر اس کے فرمانِ قضا جاری ہوئے ہیں، عدل کرتے ہوئے (ہر صاحب حق کا حق دے دیا ہے) اس نے بندوں پر اپنا یہ حق رکھا ہے کہ وہ اس کی اطاعت و فرمانبرداری کریں اور اس نے محض اپنے فضل و کرم اور اپنے احسان کو وسعت دینے کی بنا پر کہ جس کا وہ اہل ہے ان کا کئی گنا اجر قرار دیا ہے۔ پھر اس نے ان حقوق انسانی کو بھی کہ جنہیں ایک کیلئے دوسرے پر قرار دیا ہے اپنے ہی حقوق میں سے قرار دیا ہے اور انہیں اس طرح ٹھہرایا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے مقابلہ میں برابر اتریں اور کچھ ان میں سے کچھ حقوق کا باعث ہوتے ہیں اور اس وقت تک واجب نہیں ہوتے جب تک اس کے مقابلہ میں حقوق ثابت نہ ہو جائیں۔ اور سب سے بڑا حق کہ جسے اللہ سبحانہ نے واجب کیا ہے حکمران کا رعیت پر اور رعیت کا حکمران پر ہے کہ جسے اللہ نے والی و رعیت میں سے ہر ایک کیلئے فریضہ بنا کر عائد کیا ہے اور اسے ان میں رابطۂ محبت قائم کرنے اور ان کے دین کو سرفرازی بخشنے کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ چنانچہ رعیت اسی وقت خوشحال رہ سکتی ہے جب حاکم کے طور طریقے درست ہوں اور حاکم بھی اسی وقت صلاح و درستگی سے آراستہ ہو سکتا ہے جب رعیت اس کے احکام کی انجام دہی کیلئے آمادہ ہو۔ جب رعیت فرمانروا کے حقوق پورے کرے اور فرمانروا رعیت کے حقوق سے عہدہ برآ ہو تو ان میں حق با وقار، دین کی راہیں استوار اور عدل و انصاف کے نشانات برقرار ہو جائیں گے اور پیغمبرؐ کی سنتیں اپنے دھڑے پر چل نکلیں گی اور زمانہ سدھر جائے گا، بقائے سلطنت کے توقعات پیدا ہو جائیں گے اور دشمنوں کی حرص و طمع یاس و ناامیدی سے بدل جائے گی۔ اور جب رعیت حاکم پر مسلط ہو جائے یا حاکم رعیت پر ظلم ڈھانے لگے تو اس موقعہ پر ہر بات میں اختلاف ہو گا، ظلم کے نشانات ابھر آئیں گے، دین میں مفسدے بڑھ جائیں گے، شریعت کی راہیں متروک ہو جائیں گی، خواہشوں پر عمل درآمد ہو گا، شریعت کے احکام ٹھکرا دیئے جائیں گے، نفسانی بیماریاں بڑھ جائیں گی اور بڑے سے بڑے حق کو ٹھکرا دینے اور بڑے سے بڑے باطل پر عمل پیرا ہو نے سے بھی کوئی نہ گھبرائے گا۔ ایسے موقعہ پر نیکو کار ذلیل اور بد کردار باعزت ہو جاتے ہیں اور بندوں پر اللہ کی عقوبتیں بڑھ جاتی ہیں۔ لہٰذا اس حق کی ادائیگی میں ایک دوسرے کو سمجھانا بجھانا اور ایک دوسرے سے بخوبی تعاون کرنا تمہارے لئے ضروری ہے۔ اس لئے کہ کوئی شخص بھی اللہ کی اطاعت و بندگی میں اس حد تک نہیں پہنچ سکتا کہ جس کا وہ اہل ہے۔ چاہے وہ اس کی خوشنودیوں کو حاصل کرنے کیلئے کتنا ہی حریص ہو اور اس کی عملی کوششیں بھی بڑھی چڑھی ہوئی ہوں۔ پھر بھی اس نے بندوں پر یہ حق واجب قرار دیا ہے کہ وہ مقدور بھر پند و نصیحت کریں اور اپنے درمیان حق کو قائم کرنے کیلئے ایک دوسرے کا ہاتھ بٹائیں۔ کوئی شخص بھی اپنے کو اس سے بے نیاز نہیں قرار دے سکتا کہ اللہ نے جس ذمہ داری کا بوجھ اس پر ڈالا ہے اس میں اس کا ہاتھ بٹایا جائے، چاہے وہ حق میں کتنا ہی بلند منزلت کیوں نہ ہو اور دین میں اسے فضیلت و برتری کیوں نہ حاصل ہو اور کوئی شخص اس سے بھی گیا گزرا نہیں کہ حق میں تعاون کرے یا اس کی طرف دست تعاون بڑھایا جائے، چاہے لوگ اسے ذلیل سمجھیں اور اپنی حقارت کی وجہ سے آنکھوں میں نہ جچے۔ اس موقعہ پر آپؑ کے اصحاب میں سے ایک شخص نے آپؑ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ایک طویل گفتگو کی جس میں حضرتؑ کی بڑی مدح و ثنا کی اور آپؑ کی باتوں پر کان دھرنے اور ہر حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کا اقرار کیا تو آپؑ نے فرمایا: جس شخص کے دل میں جلالِ الٰہی کی عظمت اور قلب میں منزلت خداوندی کی رفعت کا احساس ہو اسے سزاوار ہے کہ اس جلالت و عظمت کے پیش نظر اللہ کے ما سوا ہر چیز کو حقیر جانے اور ایسے لوگوں میں وہ شخص اور بھی اس کا زیادہ اہل ہے کہ جسے اس نے بڑی نعمتیں دی ہوں اور اچھے احسانات کئے ہوں۔ اس لئے کہ جتنی اللہ کی نعمتيں کسی پر بڑی ہوں گی اُتنا ہی اُس پر اللہ کا حق زيادہ ہو گا۔ نیک بندوں کے نزديک فرمانرواؤں کی ذلیل ترین صورت حال یہ ہے کہ ان کے متعلق یہ گمان ہونے لگے کہ وہ فخر و سر بلندی کو دوست رکھتے ہیں اور ان کے حالات کبر و غرور پر محمول ہو سکیں۔ مجھے يہ تک ناگوار معلوم ہوتا ہے کہ تمہیں اس کا وہم و گمان بھی گزرے کہ میں بڑھ چڑھ کر سراہے جانے یا تعریف سننے کو پسند کرتا ہوں۔ بحمد اللہ! کہ میں ایسا نہیں ہوں اور اگر مجھے اس کی خواہش بھی ہوتی کہ ایسا کہا جائے تو بھی اللہ کے سامنے فروتنی کرتے ہوئے اسے چھوڑ دیتا کہ ایسی عظمت و بزرگی کو اپنایا جائے کہ جس کا وہی اہل ہے۔ یوں تو لوگ اکثر اچھی کارکردگی کے بعد مدح و ثنا کو خوشگوار سمجھا کرتے ہیں (لیکن) میری اس پر مدح و ستائش نہ کر و کہ اللہ کی اطاعت اور تمہارے حقوق سے عہدہ برآ ہوا ہوں، کیونکہ ابھی ان حقوق کا ڈر ہے کہ جنہیں پورا کرنے سے میں ابھی فارغ نہیں ہوا اور ان فرائض کا ابھی اندیشہ ہے کہ جن کا نفاذ ضروری ہے۔ مجھ سے ویسی باتیں نہ کیا کرو جیسی جابر و سرکش فرمانرواؤں سے کی جاتی ہیں اور نہ مجھ سے اس طرح بچاؤ کرو جس طرح طیش کھانے والے حاکموں سے بچ بچاؤ کیا جاتا ہے اور مجھ سے اس طرح کا میل جول نہ رکھو جس سے چاپلوسی اور خوشامد کا پہلو نکلتا ہو۔ میرے متعلق یہ گمان نہ کرو کہ میرے سامنے کوئی حق بات کہی جائے گی تو مجھے گراں گزرے گی اور نہ یہ خیال کرو کہ میں یہ درخواست کروں گا کہ مجھے بڑھا چڑھا دو، کیونکہ جو اپنے سامنے حق کے کہے جانے اور عدل کے پیش کئے جانے کو بھی گراں سمجھتا ہو اُسے حق و انصاف پر عمل کرنا کہیں زیادہ دشوار ہو گا۔ تم اپنے کو حق کی بات کہنے اور عدل کا مشورہ دینے سے نہ روکو۔ کیونکہ میں تو اپنے کو اس سے بالا تر نہیں سمجھتا کہ خطا کروں اور نہ اپنے کسی کام کو لغزش سے محفوظ سمجھتا ہوں [۱] ، مگر یہ کہ خدا میرے نفس کو اس سے بچائے کہ جس پر وہ مجھ سے زیادہ اختیار رکھتا ہے۔ ہم اور تم اسی رب کے بے اختیار بندے ہیں کہ جس کے علاوہ کوئی رب نہیں۔ وہ ہم پر اتنا اختیار رکھتا ہے کہ خود ہم اپنے نفسوں پر اتنا اختیار نہیں رکھتے۔ اسی نے ہمیں پہلی حالت سے نکال کر جس میں ہم تھے بہبودی کی راہ پر لگایا اور اسی نے ہماری گمراہی کو ہدایت سے بدلا اور بے بصیرتی کے بعد بصیرت عطا کی۔

  215. خطبہ 215- قریش کے مظالم کے متعلق فر مایا اور بصرہ پر چڑھائی کے متعلق

    215

    الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يُصْبِحْ بِي مَيِّتاً وَ لَا سَقِيماً وَ لَا مَضْرُوباً عَلَى عُرُوقِي بِسُوءٍ وَ لَا مَأْخُوذاً بِأَسْوَإِ عَمَلِي وَ لَا مَقْطُوعاً دَابِرِي وَ لَا مُرْتَدّاً عَنْ دِينِي وَ لَا مُنْكِراً لِرَبِّي وَ لَا مُسْتَوْحِشاً مِنْ إِيمَانِي وَ لَا مُلْتَبِساً عَقْلِي وَ لَا مُعَذَّباً بِعَذَابِ الْأُمَمِ مِنْ قَبْلِي أَصْبَحْتُ عَبْداً مَمْلُوكاً ظَالِماً لِنَفْسِي لَكَ الْحُجَّةُ عَلَيَّ وَ لَا حُجَّةَ لِي وَ لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ آخُذَ إِلَّا مَا أَعْطَيْتَنِي وَ لَا أَتَّقِيَ إِلَّا مَا وَقَيْتَنِي اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَفْتَقِرَ فِي غِنَاكَ أَوْ أَضِلَّ فِي هُدَاكَ أَوْ أُضَامَ فِي سُلْطَانِكَ أَوْ أُضْطَهَدَ وَ الْأَمْرُ لَكَ اللَّهُمَّ اجْعَلْ نَفْسِي أَوَّلَ كَرِيمَةٍ تَنْتَزِعُهَا مِنْ كَرَائِمِي و َأَوَّلَ وَدِيعَةٍ تَرْتَجِعُهَا مِنْ وَدَائِعِ نِعَمِكَ عِنْدِي و اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ أَنْ نَذْهَبَ عَنْ قَوْلِكَ أَوْ نُفْتَتَنَ عَنْ دِينِكَ أَوْ تَتَايَعَ بِنَا أَهْوَاؤُنَا دُونَ الْهُدَى الَّذِي جَاءَ مِنْ عِنْدِكَ.

    خدایا! میں قریش سے انتقام لینے پر تجھ سے مدد کا خواستگار ہوں، کیونکہ انہوں نے میری قرابت و عزیز داری کے بندھن توڑ دیئے اور میرے ظرف (عزت و حرمت) کو اوندھا کر دیا اور اس حق میں کہ جس کا میں سب سے زیادہ اہل ہوں جھگڑا کرنے کیلئے اِیکا کر لیا اور یہ کہنے لگے کہ یہ بھی حق ہے کہ آپؑ اسے لے لیں اور یہ بھی حق ہے کہ آپؑ کو اس سے روک دیا جائے۔ یا تو غم و حزن کی حالت میں صبر کیجئے یا رنج و اندوہ سے مر جایئے۔ میں نے نگاہ دوڑائی تو مجھے اپنے اہل بیت علیہم السلام کے سوا نہ کوئی معاون نظر آیا اور نہ کوئی سینہ سپر اور معین دکھائی دیا تو میں نے انہیں موت کے منہ میں دینے سے بخل کیا۔ آنکھوں میں خس و خاشاک تھا مگر میں نے چشم پوشی کی، حلق میں (غم و رنج کے) پھندے تھے مگر میں لعاب دہن نگلتا رہا اور غم و غصہ پی لینے کی وجہ سے ایسے حالات پر صبر کیا جو حنظل (اندرائن) سے زیادہ تلخ اور دل کیلئے چھریوں کے کچوکوں سے زیادہ المناک تھے۔ سیّد رضیؒ فرماتے ہیں کہ: حضرتؑ کا یہ کلام ایک پہلے خطبہ کے ضمن میں گزر چکا ہے مگر میں نے پھر اس کا اعادہ کیا ہے، چونکہ دونوں روایتوں کی لفظوں میں کچھ فرق ہے۔ [اسی خطبہ کا ایک جز یہ ہے جس میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو آپؑ سے لڑنے کیلئے بصرہ کی طرف نکل کھڑے ہوئے تھے] وہ میرے عاملوں اور مسلمانوں کے اس بیت المال کے خزینہ داروں پر کہ جس کا اختیار میرے ہاتھوں میں تھا اور شہر (بصرہ) کے رہنے والوں پر کہ جو سب کے سب میرے فرمانبردار اور میری بیعت پر برقرار تھے چڑھ دوڑے، چنانچہ انہوں نے ان میں پھوٹ ڈلوا دی اور مجھ پر ان کی یکجہتی کو درہم و برہم کر دیا اور میرے پیروکاروں پر ٹوٹ پڑے اور ان میں سے ایک گروہ کو غداری سے قتل کر دیا۔ (البتہ) ایک گروہ نے شمشیر بکف ہو کر دانتوں کو بھینچ لیا اور ان سے تلواروں کے ساتھ ٹکرائے، یہاں تک کہ وہ سچائی کا جامہ پہنے ہوئے اللہ کے حضور میں پہنچ گئے۔

  216. خطبہ 216- طلحہ اور عبد الرحمن بن عتاب کو مقتول دیکھا تو فرمایا

    216

    أَمَّا بَعْدُ فَقَدْ جَعَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ لِي عَلَيْكُمْ حَقّاً بِوِلَايَةِ أَمْرِكُمْ وَ لَكُمْ عَلَيَّ مِنَ الْحَقِّ مِثْلُ الَّذِي لِي عَلَيْكُمْ وَ الْحَقُّ أَوْسَعُ الْأَشْيَاءِ فِي التَّوَاصُفِ وَ أَضْيَقُهَا فِي التَّنَاصُفِ لَا يَجْرِي لِأَحَدٍ إِلَّا جَرَى عَلَيْهِ وَ لَا يَجْرِي عَلَيْهِ إِلَّا جَرَى لَهُ وَ لَوْ كَانَ لِأَحَدٍ أَنْ يَجْرِيَ لَهُ وَ لَا يَجْرِيَ عَلَيْهِ لَكَانَ ذَلِكَ خَالِصاً لِلَّهِ سُبْحَانَهُ دُونَ خَلْقِهِ لِقُدْرَتِهِ عَلَى عِبَادِهِ وَ لِعَدْلِهِ فِي كُلِّ مَا جَرَتْ عَلَيْهِ صُرُوفُ قَضَائِهِ وَ لَكِنَّهُ جَعَلَ حَقَّهُ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يُطِيعُوهُ وَ جَعَلَ جَزَاءَهُمْ عَلَيْهِ مُضَاعَفَةَ الثَّوَابِ تَفَضُّلًا مِنْهُ وَ تَوَسُّعاً بِمَا هُوَ مِنَ الْمَزِيدِ أَهْلُهُ حق الوالي وحق الرعية ثُمَّ جَعَلَ سُبْحَانَهُ مِنْ حُقُوقِهِ حُقُوقاً افْتَرَضَهَا لِبَعْضِ النَّاسِ عَلَى بَعْضٍ فَجَعَلَهَا تَتَكَافَأُ فِي وُجُوهِهَا وَ يُوجِبُ بَعْضُهَا بَعْضاً وَ لَا يُسْتَوْجَبُ بَعْضُهَا إِلَّا بِبَعْضٍ وَ أَعْظَمُ مَا افْتَرَضَ سُبْحَانَهُ مِنْ تِلْكَ الْحُقُوقِ حَقُّ الْوَالِي عَلَى الرَّعِيَّةِ وَ حَقُّ الرَّعِيَّةِ عَلَى الْوَالِي فَرِيضَةٌ فَرَضَهَا اللَّهُ سُبْحَانَهُ لِكُلٍّ عَلَى كُلٍّ فَجَعَلَهَا نِظَاماً لِأُلْفَتِهِمْ وَ عِزّاً لِدِينِهِمْ فَلَيْسَتْ تَصْلُحُ الرَّعِيَّةُ إِلَّا بِصَلَاحِ الْوُلَاةِ وَ لَا تَصْلُحُ الْوُلَاةُ إِلَّا بِاسْتِقَامَةِ الرَّعِيَّةِ فَإِذَا أَدَّتْ الرَّعِيَّةُ إِلَى الْوَالِي حَقَّهُ وَ أَدَّى الْوَالِي إِلَيْهَا حَقَّهَا عَزَّ الْحَقُّ بَيْنَهُمْ وَ قَامَتْ مَنَاهِجُ‏ الدِّينِ وَ اعْتَدَلَتْ مَعَالِمُ الْعَدْلِ وَ جَرَتْ عَلَى أَذْلَالِهَا السُّنَنُ فَصَلَحَ بِذَلِكَ الزَّمَانُ وَ طُمِعَ فِي بَقَاءِ الدَّوْلَةِ وَ يَئِسَتْ مَطَامِعُ الْأَعْدَاءِ وَ إِذَا غَلَبَتِ الرَّعِيَّةُ وَالِيَهَا أَوْ أَجْحَفَ الْوَالِي بِرَعِيَّتِهِ اخْتَلَفَتْ هُنَالِكَ الْكَلِمَةُ وَ ظَهَرَتْ مَعَالِمُ الْجَوْرِ وَ كَثُرَ الْإِدْغَالُ فِي الدِّينِ وَ تُرِكَتْ مَحَاجُّ السُّنَنِ فَعُمِلَ بِالْهَوَى وَ عُطِّلَتِ الْأَحْكَامُ وَ كَثُرَتْ عِلَلُ النُّفُوسِ فَلَا يُسْتَوْحَشُ لِعَظِيمِ حَقٍّ عُطِّلَ وَ لَا لِعَظِيمِ بَاطِلٍ فُعِلَ فَهُنَالِكَ تَذِلُّ الْأَبْرَارُ وَ تَعِزُّ الْأَشْرَارُ وَ تَعْظُمُ تَبِعَاتُ اللَّهِ عِنْدَ الْعِبَادِ فَعَلَيْكُمْ بِالتَّنَاصُحِ فِي ذَلِكَ وَ حُسْنِ التَّعَاوُنِ عَلَيْهِ فَلَيْسَ أَحَدٌ -وَ إِنِ اشْتَدَّ عَلَى رِضَا اللَّهِ حِرْصُهُ وَ طَالَ فِي الْعَمَلِ اجْتِهَادُهُ- بِبَالِغٍ حَقِيقَةَ مَا اللَّهُ سُبْحَانَهُ أَهْلُهُ مِنَ الطَّاعَةِ لَهُ وَ لَكِنْ مِنْ وَاجِبِ حُقُوقِ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ النَّصِيحَةُ بِمَبْلَغِ جُهْدِهِمْ وَ التَّعَاوُنُ عَلَى إِقَامَةِ الْحَقِّ بَيْنَهُمْ وَ لَيْسَ امْرُؤٌ -وَ إِنْ عَظُمَتْ فِي الْحَقِّ مَنْزِلَتُهُ وَ تَقَدَّمَتْ فِي الدِّينِ فَضِيلَتُهُ- بِفَوْقِ أَنْ يُعَانَ عَلَى مَا حَمَّلَهُ اللَّهُ مِنْ حَقِّهِ وَ لَا امْرُؤٌ -وَ إِنْ صَغَّرَتْهُ النُّفُوسُ وَ اقْتَحَمَتْهُ الْعُيُونُ- بِدُونِ أَنْ يُعِينَ عَلَى ذَلِكَ أَوْ يُعَانَ عَلَيْهِ فَأَجَابَهُ- عليه السلام- رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ بِكَلَامٍ طَوِيلٍ يُكْثِرُ فِيهِ الثَّنَاءَ عَلَيْهِ وَ يَذْكُرُ سَمْعَهُ وَ طَاعَتَهُ لَهُ فَقَالَ عليه السلام: إِنَّ مِنْ حَقِّ مَنْ عَظُمَ جَلَالُ اللَّهِ فِي نَفْسِهِ وَ جَلَّ مَوْضِعُهُ مِنْ قَلْبِهِ أَنْ يَصْغُرَ عِنْدَهُ- لِعِظَمِ ذَلِكَ- كُلُّ مَا سِوَاهُ وَ إِنَّ أَحَقَّ مَنْ كَانَ كَذَلِكَ مَنْ عَظُمَتْ نِعْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَ لَطُفَ إِحْسَانُهُ إِلَيْهِ فَإِنَّهُ لَمْ تَعْظُمْ نِعْمَةُ اللَّهِ عَلَى‏ أَحَدٍ إِلَّا ازْدَادَ حَقُّ اللَّهِ عَلَيْهِ عِظَماً وَ إِنَّ مِنْ أَسْخَفِ حَالَاتِ الْوُلَاةِ عِنْدَ صَالِحِ النَّاسِ أَنْ يَظُنَّ بِهِمْ حُبُّ الْفَخْرِ وَ يُوضَعَ أَمْرُهُمْ عَلَى الْكِبْرِ وَ قَدْ كَرِهْتُ أَنْ يَكُونَ جَالَ فِي ظَنِّكُمْ أَنِّي أُحِبُّ الْإِطْرَاءَ وَ اسْتِمَاعَ الثَّنَاءِ وَ لَسْتُ- بِحَمْدِ اللَّهِ- كَذَلِكَ وَ لَوْ كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ يُقَالَ ذَلِكَ لَتَرَكْتُهُ انْحِطَاطاً لِلَّهِ سُبْحَانَهُ عَنْ تَنَاوُلِ مَا هُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنَ الْعَظَمَةِ وَ الْكِبْرِيَاءِ وَ رُبَّمَا اسْتَحْلَى النَّاسُ الثَّنَاءَ بَعْدَ الْبَلَاءِ فَلَا تُثْنُوا عَلَيَّ بِجَمِيلِ ثَنَاءٍ لِإِخْرَاجِي نَفْسِي إِلَى اللَّهِ وَ إِلَيْكُمْ مِنَ التَّقِيَّةِ فِي حُقُوقٍ لَمْ أَفْرُغْ مِنْ أَدَائِهَا وَ فَرَائِضَ لَا بُدَّ مِنْ إِمْضَائِهَا فَلَا تُكَلِّمُونِي بِمَا تُكَلَّمُ بِهِ الْجَبَابِرَةُ وَ لَا تَتَحَفَّظُوا مِنِّي بِمَا يُتَحَفَّظُ بِهِ عِنْدَ أَهْلِ الْبَادِرَةِ وَ لَا تُخَالِطُونِي بِالْمُصَانَعَةِ وَ لَا تَظُنُّوا بِي اسْتِثْقَالًا فِي حَقٍّ قِيلَ لِي وَ لَا الْتِمَاسَ إِعْظَامٍ لِنَفْسِي فَإِنَّهُ مَنِ اسْتَثْقَلَ الْحَقَّ أَنْ يُقَالَ لَهُ أَوِ الْعَدْلَ أَنْ يُعْرَضَ عَلَيْهِ كَانَ الْعَمَلُ بِهِمَا أَثْقَلَ عَلَيْهِ فَلَا تَكُفُّوا عَنْ مَقَالَةٍ بِحَقٍّ أَوْ مَشْوَرَةٍ بِعَدْلٍ فَإِنِّي لَسْتُ فِي نَفْسِي بِفَوْقِ أَنْ أُخْطِئَ وَ لَا آمَنُ ذَلِكَ مِنْ فِعْلِي إِلَّا أَنْ يَكْفِيَ اللَّهُ مِنْ نَفْسِي مَا هُوَ أَمْلَكُ بِهِ مِنِّي فَإِنَّمَا أَنَا وَ أَنْتُمْ عَبِيدٌ مَمْلُوكُونَ لِرَبٍّ لَا رَبَّ غَيْرُهُ يَمْلِكُ مِنَّا مَا لَا نَمْلِكُ مِنْ أَنْفُسِنَا وَ أَخْرَجَنَا مِمَّا كُنَّا فِيهِ إِلَى مَا صَلَحْنَا عَلَيْهِ فَأَبْدَلَنَا بَعْدَ الضَّلَالَةِ بِالْهُدَى وَ أَعْطَانَا الْبَصِيرَةَ بَعْدَ الْعَمَى

    جب آپؑ طلحہ اور عبد الرحمٰن ابن عتاب ابن اسید کی طرف گزرے کہ جب وہ میدان جمل میں مقتول پڑے تھے تو فرمایا: ابو محمد (طلحہ) اس جگہ گھربار سے دور پڑا ہے۔ خدا کی قسم! میں پسند نہیں کرتا تھا کہ قریش ستاروں کے نیچے (کھلے میدانوں میں) مقتول پڑے ہوں۔ میں نے عبد مناف کی اولاد سے (ان کے کئے کا) بدلہ لے لیا ہے، (لیکن) بنی جمح [۱] کے اکابر میرے ہاتھوں سے بچ نکلے ہیں۔ انہوں نے اس چیز کی طرف گردنیں اٹھائی تھیں جس کے وہ اہل نہ تھے، چنانچہ اس تک پہنچنے سے پہلے ہی ان کی گردنیں توڑ دی گئیں۔

  217. خطبہ 217- متقی و پرہیزگار کے اوصاف

    217

    اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَعْدِيكَ عَلَى قُرَيْشٍ وَ مَنْ أَعَانَهُمْ فَإِنَّهُمْ قَدْ قَطَعُوا رَحِمِي وَ أَكْفَئُوا إِنَائِي وَ أَجْمَعُوا عَلَى مُنَازَعَتِي حَقّاً كُنْتُ أَوْلَى بِهِ مِنْ غَيْرِي وَ قَالُوا أَلَا إِنَّ فِي الْحَقِّ أَنْ تَأْخُذَهُ وَ فِي الْحَقِّ أَنْ تُمْنَعَهُ فَاصْبِرْ مَغْمُوماً أَوْ مُتْ مُتَأَسِّفاً فَنَظَرْتُ فَإِذَا لَيْسَ لِي رَافِدٌ وَ لَا ذَابٌّ وَ لَا مُسَاعِدٌ إِلَّا أَهْلَ بَيْتِي فَضَنِنْتُ بِهِمْ عَنِ الْمَنِيَّةِ فَأَغْضَيْتُ عَلَى الْقَذَى وَ جَرِعْتُ رِيقِي عَلَى الشَّجَا وَ صَبَرْتُ مِنْ كَظْمِ الْغَيْظِ عَلَى أَمَرَّ مِنَ الْعَلْقَمِ وَ آلَمَ لِلْقَلْبِ مِنْ حَزِّ الشِّفَارِ قال الشريف الرضي: وَ قَدْ مَضى هَذَا الْكَلامُ فِي اءثْناءِ خُطْبَةٍ مُتَقَدَّمةٍ إ لاَ اءَنَّي كَرَّرْتُهُ هاهُنا لاِختِلافِ الرَّوايَتَيْنِ

    مومن نے اپنی عقل کو زندہ رکھا اور اپنے نفس کو مار ڈالا، یہاں تک کہ اس کا ڈیل ڈول لاغر اور تن و توش ہلکا ہو گیا، اس کیلئے بھرپور درخشندگیوں والا نورِ ہدایت چمکا کہ جس نے اس کے سامنے راستہ نمایاں کر دیا اور اسے سیدھی راہ پر لے چلا اور مختلف دروازے اسے دھکیلتے ہوئے سلامتی کے دروازہ اور (دائمی) قرار گاہ تک لے گئے اور اس کے پاؤں بدن کے ٹکاؤ کے ساتھ امن و راحت کے مقام پر جم گئے۔ چونکہ اس نے اپنے دل کو عمل میں لگائے رکھا تھا اور اپنے پروردگار کو راضی و خوشنود کیا تھا۔

  218. خطبہ 218- ”الہاکم التکاثر حتی زرتم المقابر“ کی تلاوت کے وقت فرمایا

    218

    فَقَدِمُوا عَلَى عُمَّالِي وَ خُزَّانِ مَالِ الْمُسْلِمِينَ الَّذِي فِي يَدَيَّ وَ عَلَى أَهْلِ مِصْرٍ كُلُّهُمْ فِي طَاعَتِي وَ عَلَى بَيْعَتِي فَشَتَّتُوا كَلِمَتَهُمْ وَ أَفْسَدُوا عَلَيَّ جَمَاعَتَهُمْ وَ وَثَبُوا عَلَى شِيعَتِي فَقَتَلُوا طَاِئفَةً منْهُمْ غَدْراً وَ طَاِئفَةٌ عَضُّوا عَلَى أَسْيَافِهِمْ فَضَارَبُوا بِهَا حَتَّى لَقُوا اللَّهَ صَادِقِينَ

    امیر المومنین علیہ السلام نے آیت ﴿اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُۙ۝ حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَؕ۝﴾: ’’تمہیں قوم قبیلے کی کثرت پر اترانے نے غافل کر دیا یہاں تک کہ تم نے قبریں دیکھ ڈالیں‘‘ [۱] کی تلاوت کرنے کے بعد فرمایا: دیکھو تو (ان بوسیدہ ہڈیوں پر فخر کرنے والوں کا) مقصد کتنا دور از عقل ہے! اور یہ قبروں پر آنے والے کتنے غافل و بے خبر ہیں! اور یہ مہم کتنی سخت و دشوار ہے! انہوں نے مرنے والوں کو کیسی کیسی عبرت آموز چیزوں سے خالی سمجھ لیا! اور دور دراز جگہ سے انہیں (سرمایۂ افتخار بنانے کیلئے) لے لیا! کیا یہ اپنے باپ داداؤں کی لاشوں پر فخر کرتے ہیں؟ یا ہلاک کی تعداد سے اپنی کثرت میں اضافہ محسوس کرتے ہیں؟۔ وہ ہونے والوں ان جسموں کو پلٹانا چاہتے ہیں جو بے روح ہوچکے ہیں اور ان جنبشوں کو لوٹانا چاہتے ہیں جو تھم چکی ہیں۔ وہ سببِ افتخار بننے سے زیادہ سامانِ عبرت بننے کے قابل ہیں۔ ان کی وجہ سے عجز و فروتنی کی جگہ پر اترنا، عزت و سرفرازی کے مقام پر ٹھہرنے سے زیادہ مناسب ہے۔ انہوں نے چندھیائی ہوئی آنکھوں سے انہیں دیکھا اور ان سے (عبرت لینے کی بجائے) جہالت کے گہراؤ میں اتر پڑے۔ اگر وہ ان کی سر گزشت کو ٹوٹے ہوئے مکانوں اور خالی گھروں کے صحنوں سے پوچھیں تو وہ کہیں گے کہ: وہ گمراہی کی حالت میں زمین کے اندر چلے گئے اور تم بھی بے خبری و جہالت کے عالم میں ان کے عقب میں بڑھے جا رہے ہو، تم ان کی کھوپڑیوں کو روندتے ہو اور ان کے جسموں کی جگہ پر عمارتیں کھڑی کرنا چاہتے ہو، جس چیز کو انہوں نے چھوڑ دیا ہے اس میں چر رہے ہو اور جسے وہ خالی چھوڑ کر چلے گئے ہیں اس میں آ بسے ہو اور یہ دن بھی جو تمہارے اور ان کے درمیان ہیں تم پر رو رہے ہیں اور نوحہ پڑھ رہے ہیں۔ تمہاری منزل منتہا پر پہلے سے پہنچ جانے والے اور تمہارے سرچشموں پر قبل سے وارد ہونے والے وہی لوگ ہیں جن کیلئے عزت کی منزلیں تھیں اور فخر و سر بلندی کی فراوانی تھی، کچھ تاجدار تھے، کچھ دوسرے درجہ کے بلند منصب، مگر اب تو وہ برزخ کی گہرائیوں میں راہ پیما ہیں کہ جہاں زمین ان پر مسلط کر دی گئی ہے، جس نے ان کا گوشت کھا لیا اور لہو چوس لیا ہے، چنانچہ وہ قبر کے شگافوں میں نشو و نما کھو کر جماد کی صورت میں پڑے ہیں اور یوں نظروں سے اوجھل ہو گئے ہیں کہ (ڈھونڈھے سے) نہیں ملتے۔ نہ پُر ہول خطرات کا آنا انہیں خوفزدہ کرتا ہے، نہ حالات کا انقلاب انہیں اندوہناک بناتا ہے، نہ زلزلوں کی پروا کرتے ہیں، نہ رعد کی کڑک پر کان دھرتے ہیں۔ وہ ایسے غائب ہیں کہ جن کا انتظار نہیں کیا جاتا اور ایسے موجود ہیں کہ سامنے نہیں آتے، وہ مل جل کر رہتے تھے جو اَب بکھر گئے ہیں اور آپس میں میل محبت رکھتے تھے جو اَب جدا ہو گئے ہیں۔ ان کے واقعات سے بے خبری اور ان کے گھروں کی خاموشی امتداد زمانہ اور دوری منزل کی وجہ سے نہیں، بلکہ انہیں (موت کا) ایسا ساغر پلا دیا گیا ہے کہ جس نے ان کی گویائی چھین کر انہیں گونگا بنا دیا ہے اور قوت شنوائی سلب کر کے بہرا کر دیا ہے اور ان کی حرکت و جنبش کو سکون و بے حسی سے بدل دیا ہے۔ گویا کہ وہ سرسری نظر میں یوں دکھائی دیتے ہیں جیسے نیند میں لیٹے ہوئے ہوں۔ وہ ایسے ہمسائے ہیں جو ایک دوسرے سے انس و محبت کا لگاؤ نہیں رکھتے اور ایسے دوست ہیں جو آپس میں ملتے ملاتے نہیں۔ ان کے جان پہچان کے رابطے بوسیدہ ہوچکے ہیں اور بھائی بندی کے سلسلے ٹوٹ گئے ہیں۔ وہ ایک ساتھ ہوتے ہوئے پھر اکیلے ہیں اور دوست ہوتے ہوئے پھر علیحدہ اور جدا ہیں۔ یہ لوگ شب ہو تو اس کی صبح سے بے خبر اور دن ہو تو اس کی شام سے ناآشنا ہیں۔ جس رات یا جس دن [۲] میں انہوں نے رخت سفر باندھا ہے وہ ساعت ان پر ہمیشہ اور یکساں رہنے والی ہے۔ انہوں نے منزلِ آخرت کی ہولناکیوں کو اس سے بھی کہیں زیادہ ہولناک پایا جتنا انہیں ڈر تھا اور وہاں کے آثار کو اس سے عظیم تر دیکھا جتنا کہ وہ اندازہ لگاتے تھے۔ (مومنوں اور کافروں کی) منزل انتہا کو جائے بازگشت (دوزخ و جنت) تک پھیلا دیا گیا ہے وہ (کافروں کیلئے) ہر درجہ خوف سے بلند تر اور (مومنوں کیلئے ) ہر درجہ امید سے بالا ترہے۔ اگر وہ بول سکتے ہوتے جب بھی دیکھی ہوئی چیزوں کے بیان سے ان کی زبانیں گنگ ہو جاتیں۔ اگرچہ ان کے نشانات مٹ چکے ہیں اور ان کی خبروں کا سلسلہ قطع ہو چکا ہے، لیکن چشم بصیرت انہیں دیکھتی اور گوش عقل و خرد ان کی سنتے ہیں۔ وہ بولے مگر نطق و کلام کے طریقہ پر نہیں، بلکہ انہوں نے زبان حال سے کہا: شگفتہ چہرے بگڑ گئے، نرم و نازک بدن مٹی میں مل گئے اور ہم نے بوسیدہ کفن پہن رکھا ہے اور قبر کی تنگی نے ہمیں عاجز کر دیا ہے، خوف و دہشت کا ایک دوسرے سے ورثہ پایا ہے، ہماری خاموش منزلیں ویران ہو گئیں، ہمارے جسم کی رعنائیاں مٹ گئیں، ہماری جانی پہچانی ہوئی صورتیں بدل گئیں، ان وحشت کدوں میں ہماری مدّت رہائش دراز ہو گئی، نہ بے چینی سے چھٹکارا نصیب ہے، نہ تنگی سے فراخی حاصل ہے۔ اب اس عالم میں کہ جب کیڑوں کی وجہ سے ان کے کان سماعت کو کھو کر بہرے ہو چکے ہیں اور ان کی آنکھیں خاک کا سرمہ لگا کر اندر کو دھنس چکی ہیں اور ان کے منہ میں زبانیں طلاقت و روانی دکھانے کے بعد پارہ پارہ ہو چکی ہیں اور سینوں میں دل چوکنا رہنے کے بعد بے حرکت ہو چکے ہیں اور ان کے ایک ایک عضو کو نت نئی بوسیدگیوں نے تباہ کرکے بد ہیئت بنا دیا ہے اور اس حالت میں کہ وہ (ہر مصیبت سہنے کیلئے) بلا مزاحمت آمادہ ہیں، ان کی طرف آفتوں کا راستہ ہموار کر دیا ہے، نہ کوئی ہاتھ ہے جو ان کا بچاؤ کرے اور نہ (پسیجنے والے ) دل ہیں جو بے چین ہو جائیں، اگر تم اپنی عقلوں میں ان کا نقشہ جماؤ، یا یہ کہ تمہارے سامنے سے ان پر پڑا ہوا پردہ ہٹا دیا جائے تو البتہ تم ان کے دلوں کے اندوہ اور آنکھوں میں پڑے ہوئے خس و خاشاک کو دیکھو گے کہ ان پر شدت و سختی کی ایسی حالت ہے کہ وہ بدلتی نہیں اور ایسی مصیبت و جان کاہی ہے کہ ہٹنے کانام نہیں لیتی اور تمہیں معلوم ہو گا کہ زمین نے کتنے باوقار جسموں اور دلفریب رنگ روپ والوں کو کھا لیا، (جو دنیا میں ناز و نعمت کے پلے اور احترام و شرف کے پرورش یافتہ تھے)، جو رنج کی گھڑیوں میں بھی مسرت انگیز چیزوں سے دل بہلاتے تھے، اگر کوئی مصیبت ان پر آ پڑتی تھی تو اپنے عیش کی تازگیوں پر للچائے رہنے اور کھیل تفریح پر فریفتہ ہونے کی وجہ سے خوش وقتیوں کے سہارے ڈھونڈتے تھے۔ اسی دوران میں کہ وہ غافل و مدہوش کرنے والی زندگی کی چھاؤں میں دنیا کو دیکھ دیکھ کر ہنس رہے تھے اور دنیا انہیں دیکھ دیکھ کر قہقہے لگا رہی تھی کہ اچانک زمانہ نے انہیں کانٹوں کی طرح روند دیا اور ان کے سارے زور توڑ دیئے اور قریب ہی سے موت کی نظریں ان پر پڑنے لگیں اور ایسا غم و اندوہ ان پر طاری ہوا کہ جس سے وہ آشنا نہ تھے اور ایسے اندرونی قلق میں مبتلا ہوئے کہ جس سے کبھی سابقہ نہ پڑا تھا اور اس حالت میں کہ وہ صحت سے بہت زیادہ مانوس تھے ان میں مرض کی کمزوریاں پیدا ہو گئیں، تو اب انہوں نے انہی چیزوں کی طرف رجوع کیا جن کا طبیبوں نے انہیں عادی بنا رکھا تھا کہ گرمی کے زور کو سرد دواؤں سے فرو کیا جائے اور سردی کو گرم دواؤں سے ہٹایا جائے، مگر سرد دواؤں نے گرمی کو بجھانے کی بجائے اور بھڑکا دیا اور گرم دواؤں نے ٹھنڈک کو ہٹانے کی بجائے اس کا جوش اور بڑھا دیا اور نہ ان طبیعتوں میں مخلوط ہو نے والی چیزوں سے ان کے مزاج نقطہ اعتدال پر آئے، بلکہ ان چیزوں نے ہر عضو ِماؤف کا آزار اور بڑھا دیا، یہاں تک کہ چارہ گر سست پڑ گئے، تیمار دار (مایوس ہوکر) غفلت برتنے لگے، گھر والے مرض کی حالت بیان کرنے سے عاجز آ گئے اور مزاج پرسی کرنے والوں کے جواب سے خاموشی اختیار کر لی اور اس سے چھپاتے ہوئے اس اند و ہناک خبر کے بارے میں اختلاف رائے کرنے لگے۔ ایک کہنے والا یہ کہتا تھا کہ اس کی حالت جو ہے سو ظاہر ہے اور ایک صحت و تندرستی کے پلٹ آنے کی امید دلاتا تھا اور ایک اس کی (ہونے والی) موت پر انہیں صبر کی تلقین کرتا اور اس سے پہلے گزر جانے والوں کی مصیبتیں انہیں یاد دلاتا تھا۔ اسی اثنا میں کہ وہ دنیا سے جانے اور دوستوں کو چھوڑنے کیلئے پر تول رہا تھا کہ ناگاہ گلو گیر پھندوں میں سے ایک ایسا پھندا اسے لگا کہ اس کے ہوش و حواس پاشان و پریشان ہو گئے اور زبان کی تری خشک ہو گئی اور کتنے ہی مہم سوالات تھے کہ جن کے جواب وہ جانتا تھا، مگر بیان کرنے سے عاجز ہو گیا اور کتنی ہی دلسوز صدائیں اس کے کان سے ٹکرائیں کہ جن کے سننے سے بہرا ہو گیا۔ وہ آواز یا کسی ایسے بزرگ کی ہوتی تھی جس کا یہ بڑا احترام کرتا تھا، یا کسی ایسے خورد سال کی ہوتی تھی جس پر یہ مہربان و شفیق تھا۔ موت کی سختیاں اتنی ہیں کہ مشکل ہے کہ دائرہ بیان میں آ سکیں یا اہل دنیا کی عقلوں کے اندازہ پر پوری اتر سکیں۔

  219. خطبہ 219- ” رجال لا تلہیھم تجارة و لا بیع عن ذکر اللہ “ کی تلاوت کے وق

    219

    لَقَدْ أَصْبَحَ أَبُو مُحَمَّدٍ بِهَذَا الْمَكَانِ غَرِيباً أَمَا وَ اللَّهِ لَقَدْ كُنْتُ أَكْرَهُ أَنْ تَكُونَ قُرَيْشٌ قَتْلَى تَحْتَ بُطُونِ الْكَوَاكِبِ أَدْرَكْتُ وِتْرِي مِنْ بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ وَ أَفْلَتَنِي أَعْيَانُ بَنِي جُمَحَ لَقَدْ أَتْلَعُوا أَعْنَاقَهُمْ إِلَى أَمْرٍ لَمْ يَكُونُوا أَهْلَهُ فَوُقِصُوا دُونَهُ

    آیہ ﴿رِجَالٌ ۙ لَّا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ﴾: ’’وہ لوگ ایسے ہیں جنہیں تجارت اور خرید و فروخت ذکر الٰہی سے غافل نہیں بناتی‘‘ کی تلاوت کے بعد فرمایا: بیشک اللہ سبحانہ نے اپنی یاد کو دلوں کی صیقل قرار دیا ہے جس کے باعث وہ (اوا مرو نواہی سے) بہرا ہونے کے بعد سننے لگے اور اندھے پن کے بعد دیکھنے لگے اور دشمنی و عناد کے بعد فرمانبردار ہو گئے، یکے بعد دیگرے ہر عہد اور انبیاءؑ سے خالی دور میں حضرت ربّ العزت کے کچھ مخصوص بندے ہمیشہ موجود رہے ہیں کہ جن کی فکروں میں سرگوشیوں کی صورت میں (حقائق و معارف کا) القاء کرتا ہے اور ان کی عقلوں سے الہامی آوازوں کے ساتھ کلام کرتا ہے۔ چنانچہ انہوں نے اپنی آنکھوں، کانوں اور دلوں میں بیداری کے نور سے (ہدایت و بصیرت کے) چراغ روشن کئے۔ وہ مخصوص یاد رکھنے (کے قابل) دنوں کی یاد دلاتے ہیں اور اس کی جلالت و بزرگی سے ڈراتے ہیں، وہ لق و دق صحراؤں میں دلیل راہ ہیں، جو میانہ روی اختیار کرتا ہے اس کے طور طریقے پر تحسین و آفرین کرتے ہیں اور اسے نجات کی خوشخبری سناتے ہیں اور جو (افراط و تفریط کی) دائیں بائیں سمتوں پر ہو لیتا ہے اس کے رویہ کی مذمت کرتے ہیں اور اسے تباہی و ہلا کت سے خوف دلاتے ہیں۔ انہی خصوصیتوں کے ساتھ یہ ان اندھیاریوں کے چراغ اور ان شبہوں کیلئے راہنما ہیں۔ کچھ اہل ذکر ہوتے ہیں جنہوں نے یاد الٰہی کو دنیا کے بدلے میں لے لیا، انہیں نہ تجارت اس سے غافل رکھتی ہے نہ خرید و فروخت، اسی کے ساتھ زندگی کے دن بسر کرتے ہیں اور محرمات الٰہیہ سے متنبہ کرنے والی آوازوں کے ساتھ غفلت شعاروں کے کانوں میں پکارتے ہیں، عدل و انصاف کا حکم دیتے ہیں اور خود بھی اس پر عمل کرتے ہیں، برائیوں سے روکتے ہیں اور خود بھی اس سے باز رہتے ہیں۔ گویا کہ انہوں نے دنیا میں ہوتے ہوئے آخرت تک منزل کو طے کر لیا اور جو کچھ دنیا کے عقب میں ہے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور گویا کہ وہ اہل برزخ کے ان چھپے ہوئے حالات پر جو ان کے طویل عرصہ قیام میں انہیں پیش آئے، آگاہ ہوچکے ہیں اور گویا کہ قیامت نے ان کیلئے اپنے وعدوں کو پورا کر دیا اور انہوں نے اہل دنیا کے سامنے (ان چیزوں پر سے) پردہ الٹ دیا، یہاں تک کہ گویا وہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں جسے دوسرے لوگ نہیں دیکھ سکتے اور وہ سب کچھ سن رہے ہیں جسے دوسرے نہیں سن سکتے۔ اگر تم ان کی پاکیزہ جگہوں اور پسندیدہ محفلوں میں ان کی تصویر اپنے ذہن میں کھینچو جبکہ وہ اپنے اعمال ناموں کو کھولے ہوں اور اپنے نفسوں سے ہر چھوٹے بڑے کام کا محاسبہ کرنے پر آمادہ ہوں، ایسے کام کہ جن پر وہ مامور تھے اور انہوں نے کو تاہی کی یا ایسے کہ جن سے انہیں روکا گیا تھا اور ان سے تقصیر ہوئی اور ہمیشہ اپنی پشتوں کو اپنے گناہوں سے گرانبار محسوس کرتے رہے ہوں کہ جن کے اٹھانے سے وہ اپنے کو عاجز و درماندہ پاتے ہوں، اس لئے روتے روتے ان کی ہچکیاں بندھ گئی ہوں اور بلک بلک کر روتے ہوئے ایک دوسرے کو جواب دے رہے ہوں اور ندامت و اعتراف گناہ کی منزل پر کھڑے ہوئے اللہ سے چیخ چیخ کر فریاد کر رہے ہوں، تو اس صورت میں تمہیں ہدایت کے نشان اور اندھیروں کے چراغ نظر آئیں گے کہ جن کے گرد فرشتے حلقہ کئے ہوں گے، تسلی و تسکین کا ان پر وُرود ہو، آسمان کے دروازے ان کیلئے کھلے ہوئے ہوں، عزت کی مسندیں ان کیلئے مہیا ہوں، ایسی جگہ پر کہ جہاں اللہ کی نظر توجہ ان پر ہو، وہ ان کی کوششوں سے خوش ہو اور ان کی منزلت پر آفرین کرتا ہو، وہ اسے پکارنے کی وجہ سے عفو و بخشش کی ہواؤں میں سانس لیتے ہوں، وہ اس کے فضل و کرم کی احتیاج میں گروی ہوں اور اس کی عظمت و رفعت کے سامنے ذلت و پستی میں جکڑے ہوئے ہوں، غم و اندوہ کی طویل مدت نے ان کے دلوں کو زخمی اور گریہ و بکا کی کثرت نے ان کی آنکھوں کو مجروح کر دیا ہو۔ ہر اس دروازہ پر ان کا ہاتھ دستک دینے والا ہے جو اس کی طرف متوجہ و راغب کرے، وہ اس سے مانگتے ہیں کہ جس کے جود و کرم کی پہنائیاں تنگ نہیں ہوتیں اور نہ خواہش لے کر بڑھنے والے ناامید پھرتے ہیں۔ تم اپنی بہبودی کیلئے اپنے ہی نفس کا محاسبہ کرو، کیونکہ دوسروں کا محاسبہ کرنے والا تمہارے علاوہ دوسرا ہے۔

  220. خطبہ 220- ” یا اٴیھا الانسان ما غرّک بربک الکریم “ کی تلاوت کے وقت فرم

    220

    قَدْ أَحْيَا عَقْلَهُ وَ أَمَاتَ نَفْسَهُ حَتَّى دَقَّ جَلِيلُهُ وَ لَطُفَ غَلِيظُهُ وَ بَرَقَ لَهُ لَامِعٌ كَثِيرُ الْبَرْقِ فَأَبَانَ لَهُ الطَّرِيقَ وَ سَلَكَ بِهِ السَّبِيلَ وَ تَدَافَعَتْهُ الْأَبْوَابُ إِلَى بَابِ السَّلَامَةِ وَ دَارِ الْإِقَامَةِ وَ ثَبَتَتْ رِجْلَاهُ بِطُمَأْنِينَةِ بَدَنِهِ فِي قَرَارِ الْأَمْنِ وَ الرَّاحَةِ بِمَا اسْتَعْمَلَ قَلْبَهُ وَ أَرْضَى رَبَّهُ

    آیت ﴿یٰۤاَیُّهَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِیْمِۙ۝﴾: ’’اے انسان! تجھے کس چیز نے اپنے پروردگار کریم کے بارے میں دھوکا دیا‘‘ کی تلاوت کے وقت ارشاد فرمایا: یہ شخص جس سے یہ سوال ہو رہا ہے جواب میں کتنا عاجز اور یہ فریب خوردہ عذر پیش کرنے میں کتنا قاصر ہے! وہ اپنے نفس کو سختی سے جہالت میں ڈالے ہوئے ہے۔ اے انسان! تجھے کس چیز نے گناہ پر دلیر کر دیا ہے؟ اور کس چیز نے تجھے اپنے پروردگار کے بارے میں دھوکا دیا ہے؟ اور کس چیز نے تجھے اپنی تباہی پر مطمئن بنا دیا ہے؟ کیا تیرے مرض کیلئے شفا اور تیرے خواب (غفلت) کیلئے بیداری نہیں ہے؟کیا تجھے اپنے پر اتنا بھی رحم نہیں آتا جتنا دوسروں پر ترس کھاتا ہے؟ بسا اوقات تو جلتی دھوپ میں کسی کو دیکھتا ہے تو اس پر سایہ کر دیتا ہے یا کسی کو درد و کرب میں مبتلا پاتا ہے تو اس پر شفقت کی بنا پر تیرے آنسو نکل پڑتے ہیں، مگر خود اپنے روگ پر کس نے تجھے صبر دلایا ہے؟ اور کس نے تجھے اپنی مصیبتوں پر توانا کر دیا ہے اور خود اپنے اوپر رونے سے تسلی دے دی ہے؟ حالانکہ سب جانوں سے تجھے اپنی جان عزیز ہے اور کیونکر عذاب الٰہی کے رات ہی کو ڈیرے ڈال دینے کا خطرہ تجھے بیدار نہیں رکھتا؟ حالانکہ تو اپنے گناہوں کی بدولت اس کے قہر و تسلط کی راہ میں پڑا ہوا ہے۔ دل کی کوتاہیوں کے روگ کا چارہ عزم راسخ سے، آنکھوں کے خواب غفلت کا مداوا بیداری سے کرو، اللہ کے مطیع و فرمانبردار بنو اور اس کی یاد سے جی لگاؤ۔ ذرا اس حالت کا تصور کرو! وہ تمہاری طرف بڑھ رہا ہے اور تم اس سے منہ پھیرے ہوئے ہو اور وہ تمہیں اپنے دامن عفو میں لینے کیلئے بلا رہا ہے اور اپنے لطف و احسان سے ڈھانپنا چاہتا ہے اور تم ہو کہ اس سے روگرداں ہو کر دوسری طرف رخ کئے ہوئے ہو۔ بلند و برتر ہے وہ خدائے قوی و توانا کہ جو کتنا بڑا کریم ہے اور تو اتنا عاجز و ناتواں اور اتنا پست ہو کر گناہوں پر کتنا جری اور دلیر ہے، حالانکہ اسی کے دامن پناہ میں اقامت گزیں ہے اور اسی کے لطف و احسان کی پہنائیوں میں اٹھتا بیٹھتا ہے۔ اس نے اپنے لطف و کرم کو تجھ سے روکا نہیں اور نہ تیرا پردہ چاک کیا ہے، بلکہ اس کی کسی نعمت میں جو اس نے تیرے لئے خلق کی، یا کسی گناہ میں کہ جس پراس نے پردہ ڈالا، یا کسی مصیبت و ابتلا میں کہ جس کا رخ تجھ سے موڑا، تو اس کے لطف و کرم سے لحظہ بھر کیلئے محروم نہیں ہوا۔ یہ اس صورت میں ہے کہ جب تو اس کی معصیت کرتا ہے تو پھر تیرا اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟ اگر تو اس کی اطاعت کرتا ہوتا۔ خدا کی قسم!اگر یہی رویہ دو ایسے شخصوں میں ہوتا جو قوت و قدرت میں برابر کے ہم پلہ ہوتے (اور ان میں سے ایک تو ہوتا جو بے رخی کرتا اور دوسرا تجھ پر احسان کرتا) تو تُو ہی سب سے پہلے اپنے نفس پر کج خلقی اور بد کرداری کا حکم لگاتا۔ سچ کہتا ہوں کہ دنیا نے تجھ کو فریب نہیں دیا بلکہ تو خود (جان بوجھ کر) اس کے فریب میں آیا ہے۔ اس نے تو تیرے سامنے نصیحتوں کو کھول کر رکھ دیا اور تجھے (ہر چیز سے) یکساں طور پر آگاہ کر دیا۔ اس نے جن بلاؤں کے تیرے جسم پر نازل ہونے اور جس کمزوری کے تیرے قویٰ پر طاری ہونے کا وعدہ کیا ہے اس میں راست گو اور ایفائے عہد کرنے والی ہے، بجائے اس کے کہ تجھ سے جھوٹ کہا ہو یا فریب دیا ہو۔ کتنے ہی اس دنیا کے بارے میں سچے نصیحت کرنے والے ہیں جو تیرے نزدیک ناقابل اعتبار ہیں اور کتنے ہی اس کے حالات کو صحیح صحیح بیان کرنے والے ہیں جو جھٹلائے جاتے ہیں۔ اگر تو ٹوٹے ہوئے گھروں اور سنسان مکانوں سے دنیا کی معرفت حاصل کرے تو تُو انہیں اچھی یاد دہانی اور مؤثر پند دہی کے لحاظ سے بمنزلہ ایک مہربان کے پائے گا کہ جو تیرے (ہلاکتوں میں پڑنے سے) بخل سے کام لیتے ہیں۔ یہ دنیا اس کیلئے اچھا گھر ہے جو اسے گھر سمجھنے پر خوش نہ ہو اور اسی کیلئے اچھی جگہ ہے جو اسے اپنا وطن بنا کر نہ رہے۔ اس دنیا کی وجہ سے سعادت کی منزل پر کل وہی لوگ پہنچیں گے جو آج اس سے گریزاں ہیں۔ جب زمین زلزلہ میں اور قیامت اپنی ہولناکیوں کے ساتھ آ جائے گی اور ہر عبادت گاہ سے اس کے پجاری، ہر معبود سے اس کے پرستار اور ہر پیشوا سے اس کے مقتدی ملحق ہو جائیں گے تو اس وقت فضا میں شگاف کرنے والی نظر اور زمین میں قدموں کی ہلکی چاپ کا بدلہ بھی اس کی عدالت گستری و انصاف پروری کے پیش نظر حق و انصاف سے پورا پورا دیا جائے گا۔ اس دن کتنی ہی دلیلیں غلط و بے معنی ہو جائیں گی اور عذر و معذرت کے بندھن ٹوٹ جائیں گے۔ تو اب اس چیز کو اختیار کرو جس سے تمہارا عذر قبول اور تمہاری حجت ثابت ہو سکے۔ جس دنیا سے تم نے ہمیشہ بہرہ یاب نہیں ہونا اس سے وہ چیزیں لے لو جو تمہارے لئے ہمیشہ باقی رہنے والی ہیں۔ اپنے سفر کیلئے تیار رہو، (دنیا کی ظلمتوں میں) نجات کی چمک پر نظر کرو اور جدوجہد کی سواریوں پر پالان کس لو۔

  221. خطبہ 221- ظلم و غصب سے کنارہ کشی، عقیل کی حالت فقر و احتیاج، اور اشعث

    221

    يَا لَهُ مَرَاماً مَا أَبْعَدَهُ وَ زَوْراً مَا أَغْفَلَهُ وَ خَطَراً مَا أَفْظَعَهُ لَقَدِ اسْتَخْلَوْا مِنْهُمْ أَيَّ مُدَّكِرٍ وَ تَنَاوَشُوهُمْ مِنْ مَكَانٍ بَعِيدٍ أَ فَبِمَصَارِعِ آبَائِهِمْ يَفْخَرُونَ أَمْ بِعَدِيدِ الْهَلْكَى يَتَكَاثَرُونَ يَرْتَجِعُونَ مِنْهُمْ أَجْسَاداً خَوَتْ وَ حَرَكَاتٍ سَكَنَتْ وَ لَأَنْ يَكُونُوا عِبَراً أَحَقُّ مِنْ أَنْ يَكُونُوا مُفْتَخَراً وَ لَأَنْ يَهْبِطُوا بِهِمْ جَنَابَ ذِلَّة أَحْجَى مِنْ أَنْ يَقُومُوا بِهِمْ مَقَامَ عِزَّةٍ ٍ لَقَدْ نَظَرُوا إِلَيْهِمْ بِأَبْصَارِ الْعَشْوَةِ وَ ضَرَبُوا مِنْهُمْ فِي غَمْرَةِ جَهَالَةٍ وَ لَوِ اسْتَنْطَقُوا عَنْهُمْ عَرَصَاتِ تِلْكَ الدِّيَارِ الْخَاوِيَةِ وَ الرُّبُوعِ‏ الْخَالِيَةِ لَقَالَتْ ذَهَبُوا فِي الْأَرْضِ ضُلَّالًا وَ ذَهَبْتُمْ فِي أَعْقَابِهِمْ جُهَّالًا تَطَئُونَ فِي هَامِهِمْ وَ تَسْتَثْبِتُونَ فِي أَجْسَادِهِمْ وَ تَرْتَعُونَ فِيمَا لَفَظُوا وَ تَسْكُنُونَ فِيمَا خَرَّبُوا وَ إِنَّمَا الْأَيَّامُ بَيْنَكُمْ وَ بَيْنَهُمْ بَوَاكٍ وَ نَوَائِحُ عَلَيْكُمْ أُولَئِكَ سَلَفُ غَايَتِكُمْ وَ فُرَّاطُ مَنَاهِلِكُمْ الَّذِينَ كَانَتْ لَهُمْ مَقَاوِمُ الْعِزِّ وَ حَلَبَاتُ الْفَخْرِ مُلُوكاً وَ سُوَقاً سَلَكُوا فِي بُطُونِ الْبَرْزَخِ سَبِيلًا سُلِّطَتِ الْأَرْضُ عَلَيْهِمْ فِيهِ فَأَكَلَتْ مِنْ لُحُومِهِمْ وَ شَرِبَتْ مِنْ دِمَائِهِمْ فَأَصْبَحُوا فِي فَجَوَاتِ قُبُورِهِمْ جَمَاداً لَا يَنُمُّونَ وَ ضِمَاراً لَا يُوجَدُونَ لَا يُفْزِعُهُمْ وُرُودُ الْأَهْوَالِ وَ لَا يَحْزُنُهُمْ تَنَكُّرُ الْأَحْوَالِ وَ لَا يَحْفِلُونَ بِالرَّوَاجِفِ وَ لَا يَأْذَنُونَ لِلْقَوَاصِفِ غُيَّباً لَا يُنْتَظَرُونَ وَ شُهُوداً لَا يَحْضُرُونَ وَ إِنَّمَا كَانُوا جَمِيعاً فَتَشَتَّتُوا وَ أُلَّافًا فَافْتَرَقُوا وَ مَا عَنْ طُولِ عَهْدِهِمْ وَ لَا بُعْدِ مَحَلِّهِمْ عَمِيَتْ أَخْبَارُهُمْ وَ صَمَّتْ دِيَارُهُمْ وَ لَكِنَّهُمْ سُقُوا كَأْساً بَدَّلَتْهُمْ بِالنُّطْقِ خَرَساً وَ بِالسَّمْعِ صَمَماً وَ بِالْحَرَكَاتِ سُكُوناً فَكَأَنَّهُمْ فِي ارْتِجَالِ الصِّفَةِ صَرْعَى سُبَاتٍ جِيرَانٌ لَا يَتَانَسُونَ وَ أَحِبَّاءٌ لَا يَتَزَاوَرُونَ بَلِيَتْ بَيْنَهُمْ عُرَا التَّعَارُفِ وَ انْقَطَعَتْ مِنْهُمْ أَسْبَابُ الْإِخَاءِ فَكُلُّهُمْ وَحِيدٌ وَ هُمْ جَمِيعٌ وَ بِجَانِبِ الْهَجْرِ وَ هُمْ أَخِلَّاءُ لَا يَتَعَارَفُونَ لِلَيْلٍ صَبَاحاً وَ لَا لِنَهَارٍ مَسَاءً أَيُّ الْجَدِيدَيْنِ ظَعَنُوا فِيهِ كَانَ عَلَيْهِمْ سَرْمَداً شَاهَدُوا مِنْ أَخْطَارِ دَارِهِمْ أَفْظَعَ مِمَّا خَافُوا وَ رَأَوْا مِنْ آيَاتِهَا أَعْظَمَ مِمَّا قَدَّرُوا فَكِلْتَا الْغَايَتَيْنِ مُدَّتْ لَهُمْ إِلَى مَبَاءَةٍ فَأَتَتْ مَبَالِغَ الْخَوْفِ‏ وَ الرَّجَاءِ فَلَوْ كَانُوا يَنْطِقُونَ بِهَا لَعَيُوا بِصِفَةِ مَا شَاهَدُوا وَ مَا عَايَنُوا وَ لَئِنْ عَمِيَتْ آثَارُهُمْ وَ انْقَطَعَتْ أَخْبَارُهُمْ لَقَدْ رَجَعَتْ فِيهِمْ أَبْصَارُ الْعِبَرِ وَ سَمِعَتْ عَنْهُمْ آذَانُ الْعُقُولِ وَ تَكَلَّمُوا مِنْ غَيْرِ جِهَاتِ النُّطْقِ فَقَالُوا كَلَحَتِ الْوُجُوهُ النَّوَاضِرُ وَ خَوَتِ الْأَجْسَامُ النَّوَاعِمُ وَ لَبِسْنَا أَهْدَامَ الْبِلَى وَ تَكَاءَدَنَا ضِيقُ الْمَضْجَعِ وَ تَوَارَثْنَا الْوَحْشَةَ وَ تَهَكَّمَتْ عَلَيْنَا الرُّبُوعُ الصُّمُوتُ فَانْمَحَتْ مَحَاسِنُ أَجْسَادِنَا وَ تَنَكَّرَتْ مَعَارِفُ صُوَرِنَا وَ طَالَتْ فِي مَسَاكِنِ الْوَحْشَةِ إِقَامَتُنَا وَ لَمْ نَجِدْ مِنْ كَرْبٍ فَرَجاً وَ لَا مِنْ ضِيقٍ مُتَّسَعاً فَلَوْ مَثَّلْتَهُمْ بِعَقْلِكَ أَوْ كُشِفَ عَنْهُمْ مَحْجُوبُ الْغِطَاءِ لَكَ وَ قَدِ ارْتَسَخَتْ أَسْمَاعُهُمْ بِالْهَوَامِّ فَاسْتَكَّتْ وَ اكْتَحَلَتْ أَبْصَارُهُمْ بِالتُّرَاب فَخَسَفَتْ وَ تَقَطَّعَتِ الْأَلْسِنَةُ فِي أَفْوَاهِهِمْ بَعْدَ ذَلَاقَتِهَا وَ هَمَدَتِ الْقُلُوبُ فِي صُدُورِهِمْ بَعْدَ يَقَظَتِهَا وَ عَاثَ فِي كُلِّ جَارِحَةٍ مِنْهُمْ جَدِيدُ بِلًى سَمَّجَهَا وَ سَهَّلَ طُرُقَ الْآفَةِ إِلَيْهَا مُسْتَسْلِمَاتٍ فَلَا أَيْدٍ تَدْفَعُ وَ لَا قُلُوبٌ تَجْزَعُ لَرَأَيْتَ أَشْجَانَ قُلُوبٍ وَ أَقْذَاءَ عُيُونٍ لَهُمْ مِنْ كُلِّ فَظَاعَةٍ صِفَةُ حَالٍ لَا تَنْتَقِلُ وَ غَمْرَةٌ لَا تَنْجَلِي فَكَمْ أَكَلَتِ الْأَرْضُ مِنْ عَزِيزِ جَسَدٍ وَ أَنِيقِ لَوْنٍ كَانَ فِي الدُّنْيَا غَذِيَّ تَرَفٍ وَ رَبِيبَ شَرَفٍ يَتَعَلَّلُ بِالسُّرُورِ فِي سَاعَةِ حُزْنِهِ وَ يَفْزَعُ إِلَى السَّلْوَةِ إِنْ مُصِيبَةٌ نَزَلَتْ بِهِ ضَنّاً بِغَضَارَةِ عَيْشِهِ وَ شَحَاحَةً بِلَهْوِهِ وَ لَعِبِهِ فَبَيْنَمَا هُوَ يَضْحَكُ إِلَى الدُّنْيَا وَ تَضْحَكُ إِلَيْهِ فِي ظِلِّ عَيْشٍ غَفُولٍ إِذْ وَطِئَ‏ الدَّهْرُ بِهِ حَسَكَهُ وَ نَقَضَتِ الْأَيَّامُ قُوَاهُ وَ نَظَرَتْ إِلَيْهِ الْحُتُوفُ مِنْ كَثَبٍ فَخَالَطَهُ بَثٌّ لَا يَعْرِفُهُ وَ نَجِيُّ هَمٍّ مَا كَانَ يَجِدُهُ وَ تَوَلَّدَتْ فِيهِ فَتَرَاتُ عِلَلٍ آنَسَ مَا كَانَ بِصِحَّتِهِ فَفَزِعَ إِلَى مَا كَانَ عَوَّدَهُ الْأَطِبَّاءُ مِنْ تَسْكِينِ الْحَارِّ بِالْقَارِّ وَ تَحْرِيكِ الْبَارِدِ بِالْحَارِّ فَلَمْ يُطْفِئْ بِبَارِدٍ إِلَّا ثَوَّرَ حَرَارَةً وَ لَا حَرَّكَ بِحَارٍّ إِلَّا هَيَّجَ بُرُودَةً وَ لَا اعْتَدَلَ بِمُمَازِجٍ لِتِلْكَ الطَّبَائِعِ إِلَّا أَمَدَّ مِنْهَا كُلَّ ذَاتِ دَاءٍ حَتَّى فَتَرَ مُعَلِّلُهُ وَ ذَهَلَ مُمَرِّضُهُ وَ تَعَايَا أَهْلُهُ بِصِفَةِ دَائِهِ وَ خَرِسُوا عَنْ جَوَابِ السَّاِئِلينَ عَنْهُ وَ تَنَازَعُوا دُونَهُ شَجِيَّ خَبَرٍ يَكْتُمُونَهُ فَقَائِلٌ یَقولُ هُوَ لِمَا بِهِ وَ مُمَنٍّ لَهُمْ إِيَابَ عَافِيَتِهِ وَ مُصَبِّرٌ لَهُمْ عَلَى فَقْدِهِ يُذَكِّرُهُمْ أُسَى الْمَاضِينَ مِنْ قَبْلِهِ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ عَلَى جَنَاحٍ مِنْ فِرَاقِ الدُّنْيَا وَ تَرْكِ الْأَحِبَّةِ إِذْ عَرَضَ لَهُ عَارِضٌ مِنْ غُصَصِهِ فَتَحَيَّرَتْ نَوَافِذُ فِطْنَتِهِ وَ يَبِسَتْ رُطُوبَةُ لِسَانِهِ فَكَمْ مِنْ مُهِمٍّ مِنْ جَوَابِهِ عَرَفَهُ فَعَيَّ عَنْ رَدِّهِ وَ دُعَاءٍ مُؤْلِمٍ بِقَلْبِهِ سَمِعَهُ فَتَصَامَّ عَنْهُ مِنْ كَبِيرٍ كَانَ يُعَظِّمُهُ أَوْ صَغِيرٍ كَانَ يَرْحَمُهُ وَ إِنَّ لِلْمَوْتِ لَغَمَرَاتٍ هِيَ أَفْظَعُ مِنْ أَنْ تُسْتَغْرَقَ بِصِفَةٍ أَوْ تَعْتَدِلَ عَلَى عُقُولِ أَهْلِ الدُّنْيَا

    خدا کی قسم! مجھے سعدان [۱] کے کانٹوں پر جاگتے ہوئے رات گزارنا اور طوق و زنجیر میں مقید ہو کر گھسیٹا جانا اس سے کہیں زیادہ پسند ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے اس حالت میں ملاقات کروں کہ میں نے کسی بندے پر ظلم کیا ہو، یامال دنیا میں سے کوئی چیز غصب کی ہو۔میں اس نفس کی خاطر کیونکر کسی پر ظلم کر سکتا ہوں جو جلد ہی فنا کی طرف پلٹنے والا اور مدتوں تک مٹی کے نیچے پڑا رہنے والا ہے۔ بخدا! میں نے (اپنے بھائی )عقیل کو سخت فقر و فاقہ کی حالت میں دیکھا، یہاں تک کہ وہ تمہارے (حصہ کے) گیہوں میں ایک صاع مجھ سے مانگتے تھے اور میں نے ان کے بچوں کو بھی دیکھا جن کے بال بکھرے ہوئے اور فقر و بے نوائی سے رنگ تیرگی مائل ہوچکے تھے۔ گویا ان کے چہرے نیل چھڑک کر سیاہ کر دیئے گئے ہیں۔ وہ اصرار کرتے ہوئے میرے پاس آئے اور اس بات کو بار بار دہرایا۔ میں نے ان کی باتوں کو کان دے کر سنا تو انہوں نے یہ خیال کیا کہ میں ان کے ہاتھ اپنا دین بیچ ڈالوں گا اور اپنی روش چھوڑ کر ان کی کھینچ تان پر ان کے پیچھے ہو جاؤں گا۔ مگر میں نے کیا یہ کہ ایک لوہے کے ٹکڑے کو تپایا اور پھر ان کے جسم کے قریب لے گیا تاکہ عبرت حاصل کریں، چنانچہ وہ اس طرح چیخے جس طرح کوئی بیمار درد و کرب سے چیختا ہے اور قریب تھا کہ ان کا بدن اس داغ دینے سے جل جائے۔ پھر میں نے ان سے کہا کہ اے عقیل! رونے والیاں تم پر روئیں کیا تم اس لوہے کے ٹکڑے سے چیخ اٹھے ہو جسے ایک انسان نے ہنسی مذاق میں (بغیر جلانے کی نیت کے) تپایا ہے اور تم مجھے اس آگ کی طرف کھینچ رہے ہو کہ جسے خدائے قہار نے اپنے غضب سے بھڑکایا ہے۔ تم تو اذیت سے چیخو اور میں جہنم کے شعلوں سے نہ چلاؤں۔ اس سے عجیب تر واقعہ یہ ہے کہ ایک شخص [۲] رات کے وقت (شہد میں) گندھا ہوا حلوہ ایک سر بند برتن میں لئے ہوئے ہمارے گھر پر آیا، جس سے مجھے ایسی نفرت تھی کہ محسوس ہوتا تھا کہ جیسے وہ سانپ کے تھوک یا اس کی قے میں گوندھا گیا ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ کیا یہ کسی بات کا انعام ہے؟ یا زکوٰة ہے؟ یا صدقہ ہے؟ کہ جو ہم اہل بیت علیہم السلام پر حرام ہے تو اس نے کہا کہ: نہ یہ ہے، نہ وہ ہے، بلکہ یہ تحفہ ہے، تو میں نے کہا کہ: پسر مردہ عورتیں تجھ پر روئیں! کیا تو دین کی راہ سے مجھے فریب دینے کیلئے آیا ہے؟ کیا تو بہک گیا ہے؟ یا پاگل ہو گیا ہے؟ یا یونہی ہذیاں بک رہا ہے؟۔ خدا کی قسم! اگر ہفت اقلیم ان چیزوں سمیت جو آسمانوں کے نیچے ہیں مجھے دے دیئے جائیں کہ صرف اللہ کی اتنی معصیت کروں کہ میں چیونٹی سے جو کا ایک چھلکا چھین لوں تو کبھی بھی ایسا نہ کروں گا۔ یہ دنیا تو میرے نزدیک اس پتّی سے بھی زیادہ بے قدر ہے جو ٹڈی کے منہ میں ہو کہ جسے وہ چبا رہی ہو۔ علیؑ کو فنا ہونے والی نعمتوں اور مٹ جانے والی لذتوں سے کیا واسطہ! ہم عقل کے خواب غفلت میں پڑ جانے اور لغزشوں کی برائیوں سے خدا کے دامن میں پناہ لیتے ہیں اور اسی سے مدد کے خواستگار ہیں۔

  222. خطبہ 222- آپؑ کے دُعائیہ کلمات

    222

    إِنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالَى جَعَلَ الذِّكْرَ جِلاءً لِلْقُلُوبِ تَسْمَعُ بِهِ بَعْدَ الْوَقْرَةِ وَ تُبْصِرُ بِهِ بَعْدَ الْعَشْوَةِ وَ تَنْقَادُ بِهِ بَعْدَ الْمُعَانَدَةِ وَ مَا بَرِحَ لِلَّهِ عَزَّتْ آلَاؤُهُ فِي الْبُرْهَةِ بَعْدَ الْبُرْهَةِ وَ فِي أَزْمَانِ الْفَتَرَاتِ عِبَادٌ نَاجَاهُمْ فِي فِكَرِهِمْ وَ كَلَّمَهُمْ فِي ذَاتِ عُقُولِهِمْ فَاسْتَصْبَحُوا بِنُورِ يَقَظَةٍ فِي الْأَسْمَاعِ وَ الْأَبْصَارِ وَ الْأَفْئِدَةِ يُذَكِّرُونَ بِأَيَّامِ اللَّهِ وَ يُخَوِّفُونَ مَقَامَهُ بِمَنْزِلَةِ الْأَدِلَّةِ فِي الْفَلَوَاتِ مَنْ أَخَذَ الْقَصْدَ حَمِدُوا إِلَيْهِ طَرِيقَهُ وَ بَشَّرُوهُ بِالنَّجَاةِ وَ مَنْ أَخَذَ يَمِيناً وَ شِمَالًا ذَمُّوا إِلَيْهِ الطَّرِيقَ وَ حَذَّرُوهُ مِنَ الْهَلَكَةِ وَ كَانُوا كَذَلِكَ مَصَابِيحَ تِلْكَ الظُّلُمَاتِ وَ أَدِلَّةَ تِلْكَ الشُّبُهَاتِ وَ إِنَّ لِلذِّكْرِ لَأَهْلًا أَخَذُوهُ مِنَ الدُّنْيَا بَدَلًا فَلَمْ تَشْغَلْهُمْ تِجَارَةٌ وَ لَا بَيْعٌ عَنْهُ يَقْطَعُونَ بِهِ أَيَّامَ الْحَيَاةِ وَ يَهْتِفُونَ بِالزَّوَاجِرِ عَنْ مَحَارِمِ اللَّهِ فِي أَسْمَاعِ الْغَافِلِينَ وَ يَأْمُرُونَ بِالْقِسْطِ وَ يَأْتَمِرُونَ بِهِ وَ يَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ يَتَنَاهَوْنَ عَنْهُ فَكَأَنَّمَا قَطَعُوا الدُّنْيَا إِلَى الْآخِرَةِ وَ هُمْ فِيهَا فَشَاهَدُوا مَا وَرَاءَ ذَلِكَ فَكَأَنَّمَا اطَّلَعُوا غُيُوبَ أَهْلِ الْبَرْزَخِ فِي طُولِ الْإِقَامَةِ فِيهِ وَ حَقَّقَتِ الْقِيَامَةُ عَلَيْهِمْ عِدَاتِهَا فَكَشَفُوا غِطَاءَ ذَلِكَ لِأَهْلِ الدُّنْيَا حَتَّى كَأَنَّهُمْ يَرَوْنَ مَا لَا يَرَى النَّاسُ وَ يَسْمَعُونَ مَا لَا يَسْمَعُونَ فَلَوْ مَثَّلْتَهُمْ لِعَقْلِكَ فِي مَقَاوِمِهِمُ الْمَحْمُودَةِ وَ مَجَالِسِهِمُ الْمَشْهُودَةِ وَ قَدْ نَشَرُوا دَوَاوِينَ أَعْمَالِهِمْ وَ فَرَغُوا لِمُحَاسَبَةِ أَنْفُسِهِمْ عَلَى كُلِّ صَغِيرَةٍ وَ كَبِيرَةٍ أُمِرُوا بِهَا فَقَصَّرُوا عَنْهَا أَوْ نُهُوا عَنْهَا فَفَرَّطُوا فيهَا وَ حَمَّلُوا ثِقْلَ أَوْزَاِرِهمْ ظُهُورَهُمْ فَضَعُفُوا عَنِ الِاسْتِقْلَالِ بِهَا فَنَشَجُوا نَشِيجاً وَ تَجَاوَبُوا نَحِيباً يَعِجُّونَ إِلَى رَبِّهِمْ مِنْ مَقَامِ نَدَمٍ وَ اعْتِرَافٍ لَرَأَيْتَ أَعْلَامَ هُدًى وَ مَصَابِيحَ دُجًى قَدْ حَفَّتْ بِهِمُ الْمَلَائِكَةُ وَ تَنَزَّلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ وَ فُتِحَتْ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَ أُعِدَّتْ لَهُمْ مَقَاعِدُ الْكَرَامَاتِ فِي مَقَامٍ اطَّلَعَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ فِيهِ فَرَضِيَ سَعْيَهُمْ وَ حَمِدَ مَقَامَهُمْ يَتَنَسَّمُونَ بِدُعَائِهِ رَوْحَ التَّجَاوُزِ رَهَائِنُ فَاقَةٍ إِلَى فَضْلِهِ وَ أُسَارَى ذِلَّةٍ لِعَظَمَتِهِ جَرَحَ طُولُ الْأَسَى قُلُوبَهُمْ وَ طُولُ الْبُكَاءِ عُيُونَهُمْ لِكُلِّ بَابِ رَغْبَةٍ إِلَى اللَّهِ مِنْهُمْ يَدٌ قَارِعَةٌ يَسْأَلُونَ مَنْ لَا تَضِيقُ لَدَيْهِ الْمَنَادِحُ وَ لَا يَخِيبُ عَلَيْهِ الرَّاغِبُونَ فَحَاسِبْ نَفْسَكَ لِنَفْسِكَ فَإِنَّ غَيْرَهَا مِنَ الْأَنْفُسِ لَهَا حَسِيبٌ غَيْرُكَ

    خدایا! میری آبرو کو غنا و توانگری کے ساتھ محفوظ رکھ اور فقر و تنگدستی سے میری منزلت کو نظروں سے نہ گرا کہ تجھ سے رزق مانگنے والوں سے رزق مانگنے لگوں اور تیرے بندوں کی نگاہِ لطف و کرم کو اپنی طرف موڑنے کی تمنا کروں اور جو مجھے دے اس کی مدح و ثنا کرنے لگوں اور جو نہ دے اس کی برائی کرنے میں مبتلا ہو جاؤں اور ان سب چیزوں کے پس پردہ تو ہی عطا کرنے اور روک لینے کا اختیار رکھتا ہے۔ ’’بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے‘‘۔

  223. خطبہ 223- دنیا کی بے ثباتی اور اہل قبور کی حالت بے چارگی

    223

    أَدْحضُ مَسْئُولٍ حُجَّةً وَ أَقْطَعُ مُغْتَرٍّ مَعْذِرَةً لَقَدْ أَبْرَحَ جَهَالَةً بِنَفْسِهِ يَا أَيُّهَا الْإِنْسَانُ مَا جَرَّأَكَ عَلَى ذَنْبِكَ وَ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكََ وَ مَا انَسَكَ بِهَلَكَةِ نَفْسِكَ أَ مَا مِنْ دَائِكَ بُلُولٌ أَمْ لَيْسَ مِنْ نَوْمِكَ يَقَظَةٌ أَ مَا تَرْحَمُ مِنْ نَفْسِكَ مَا تَرْحَمُ مِنْ غَيْرِكَ فَلَرُبَّمَا تَرَى الضَّاحِيَ مِنْ حَرِّ الشَّمْسِ فَتُظِلُّهُ أَوْ تَرَى الْمُبْتَلَى بِأَلَمٍ يُمِضُّ جَسَدَهُ فَتَبْكِي رَحْمَةً لَهُ فَمَا صَبَّرَكَ عَلَى دَائِكَ وَ جَلَّدَكَ بِمُصَابِكَ وَ عَزَّاكَ عَنِ الْبُكَاءِ عَلَى نَفْسِكَ وَ هِيَ أَعَزُّ الْأَنْفُسِ عَلَيْكَ وَ كَيْفَ لَا يُوقِظُكَ خَوْفُ بَيَاتِ نِقْمَةٍ وَ قَدْ تَوَرَّطْتَ بِمَعَاصِيهِ مَدَارِجَ سَطَوَاتِهِ فَتَدَاوَ مِنْ دَاءِ الْفَتْرَةِ فِي قَلْبِكَ بِعَزِيمَةٍ وَ مِنْ كَرَى الْغَفْلَةِ فِي نَاظِرِكَ بِيَقَظَةٍ وَ كُنْ لِلَّهِ مُطِيعاً وَ بِذِكْرِهِ آنِساً وَ تَمَثَّلْ فِي حَالِ تَوَلِّيكَ عَنْهُ إِقْبَالَهُ عَلَيْكَ يَدْعُوكَ إِلَى عَفْوِهِ وَ يَتَغَمَّدُكَ بِفَضْلِهِ وَ أَنْتَ مُتَوَلٍّ عَنْهُ إِلَى غَيْرِهِ فَتَعَالَى مِنْ قَوِيٍّ مَا أَكْرَمَهُ وَ تَوَاضَعْتَ مِنْ ضَعِيفٍ مَا أَجْرَأَكَ عَلَى مَعْصِيَتِهِ وَ أَنْتَ فِي كَنَفِ سِتْرِهِ مُقِيمٌ وَ فِي سَعَةِ فَضْلِهِ مُتَقَلِّبٌ فَلَمْ‏ يَمْنَعْكَ فَضْلَهُ وَ لَمْ يَهْتِكْ عَنْكَ سِتْرَهُ بَلْ لَمْ تَخْلُ مِنْ لُطْفِهِ مَطْرَفَ عَيْنٍ فِي نِعْمَةٍ يُحْدِثُهَا لَكَ أَوْ سَيِّئَةٍ يَسْتُرُهَا عَلَيْكَ أَوْ بَلِيَّةٍ يَصْرِفُهَا عَنْكَ فَمَا ظَنُّكَ بِهِ لَوْ أَطَعْتَهُ وَ ايْمُ اللَّهِ لَوْ أَنَّ هَذِهِ الصِّفَةَ كَانَتْ فِي مُتَّفِقَيْنِ فِي الْقُوَّةِ مُتَوَازِيَيْنِ فِي الْقُدْرَةِ لَكُنْتَ أَوَّلَ حَاكِمٍ عَلَى نَفْسِكَ بِذَمِيمِ الْأَخْلَاقِ وَ مَسَاوِئِ الْأَعْمَالِ وَ حَقّاً أَقُولُ مَا الدُّنْيَا غَرَّتْكَ وَ لَكِنْ بِهَا اغْتَرَرْتَ وَ لَقَدْ كَاشَفَتْكَ الْعِظَاتِ وَ آذَنَتْكَ عَلَى سَوَاءٍ وَ لَهِيَ بِمَا تَعِدُكَ مِنْ نُزُولِ الْبَلَاءِ بِجِسْمِكَ وَ النَّقْصِ فِي قُوَّتِكَ أَصْدَقُ وَ أَوْفَى مِنْ أَنْ تَكْذِبَكَ أَوْ تَغُرَّكَ وَ لَرُبَّ نَاصِحٍ لَهَا عِنْدَكَ مُتَّهَمٌ وَ صَادِقٍ مِنْ خَبَرِهَا مُكَذَّبٌ وَ لَئِنْ تَعَرَّفْتَهَا فِي الدِّيَارِ الْخَاوِيَةِ وَ الرُّبُوعِ الْخَالِيَةِ لَتَجِدَنَّهَا مِنْ حُسْنِ تَذْكِيرِكَ وَ بَلَاغِ مَوْعِظَتِكَ بِمَحَلَّةِ الشَّفِيقِ عَلَيْكَ وَ الشَّحِيحِ بِكَ وَ لَنِعْمَ دَارُ مَنْ لَمْ يَرْضَ بِهَا دَاراً وَ مَحَلُّ مَنْ لَمْ يُوَطِّنْهَا مَحَلًّا وَ إِنَّ السُّعَدَاءَ بِالدُّنْيَا غَداً هُمُ الْهَارِبُونَ مِنْهَا الْيَوْمَ إِذَا رَجَفَتِ الرَّاجِفَةُ وَ حَقَّتْ بِجَلَائِلِهَا الْقِيَامَةُ وَ لَحِقَ بِكُلِّ مَنْسَكٍ أَهْلُهُ وَ بِكُلِّ مَعْبُودٍ عَبَدَتُهُ وَ بِكُلِّ مُطَاعٍ أَهْلُ طَاعَتِهِ فَلَمْ يَجْرِ فِي عَدْلِهِ وَ قِسْطِهِ يَوْمَئِذٍ خَرْقُ بَصَرٍ فِي الْهَوَاءِ وَ لَا هَمْسُ قَدَمٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا بِحَقِّهِ فَكَمْ حُجَّةٍ يَوْمَ ذَاكَ دَاحِضَةٍ وَ عَلَائِقِ عُذْرٍ مُنْقَطِعَةٍ فَتَحَرَّ مِنْ أَمْرِكَ مَا يَقُومُ بِهِ عُذْرُكَ وَ تَثْبُتُ بِهِ حُجَّتُكَ وَ خُذْ مَا يَبْقَى لَكَ مِمَّا لَا تَبْقَى لَهُ وَ تَيَسَّرْ لِسَفَرِكَ وَ شِمْ بَرْقَ النَّجَاةِ وَ ارْحَلْ مَطَايَا التَّشْمِيرِ.

    (یہ دنیا) ایک ایسا گھر ہے جو بلاؤں میں گھرا ہوا اور فریب کاریوں میں شہرت یافتہ ہے، اس کے حالات کبھی یکساں نہیں رہتے اور نہ اس میں فروکش ہونے والے صحیح و سالم رہ سکتے ہیں۔ اس کے حالات مختلف اور اطوار ادلنے بدلنے والے ہیں۔ خوش گزرانی کی صورت اس میں قابلِ مذمت اور امن و سلامتی کا اس میں پتہ نہیں۔ اس کے رہنے والے تیر اندازی کے ایسے نشانے ہیں کہ جن پر دنیا اپنے تیر چلاتی رہتی ہے اور موت کے ذریعہ انہیں فنا کرتی رہتی ہے۔ اے خدا کے بندو! اس بات کو جانے رہو کہ تمہیں اور اس دنیا کی اُن چیزوں کو کہ جن میں تم ہو انہی لوگوں کی راہ پر گزرنا ہے جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں کہ جو تم سے زیادہ لمبی عمروں والے، تم سے زیادہ آباد گھروں والے اور تم سے زیادہ پائیدار نشانیوں والے تھے، ان کی آوازیں خاموش ہو گئیں، بندھی ہوائیں اکھڑ گئیں، بدن گل سڑ گئے، گھر سنسان ہو گئے اور نام و نشان تک مٹ گئے۔ انہوں نے مضبوط محلوں اور بچھی ہوئی مسندوں کو پتھروں اور چنی ہوئی سلوں اور پیوند ِزمین ہونے والی (اور) لحد والی قبروں سے بدل لیا کہ جن کے صحنوں کی بنیاد تباہی و ویرانی پر ہے اور مٹی ہی سے اُن کی عمارتیں مضبوط کی گئی ہیں۔ ان قبروں کی جگہیں آپس میں نزدیک نزدیک ہیں اور ان میں بسنے والے دور افتادہ مسافر ہیں، ایسے مقام میں کہ جہاں وہ بوکھلائے ہوئے ہیں اور ایسی جگہ میں کہ جہاں (دنیا کے کاموں سے) فارغ ہو کر (آخرت کی فکروں میں) مشغول ہیں۔ وہ اپنے وطن سے اُنس نہیں رکھتے اور نزدیک کی ہمسائیگی اور گھروں کے قرب کے باوجود ہمسایوں کی طرح آپس میں میل ملاپ نہیں رکھتے اور کیونکر آپس میں ملنا جلنا ہو سکتا ہے جبکہ بوسیدگی و تباہی نے اپنے سینہ سے انہیں پیس ڈالا ہے اور پتھروں اور مٹی نے انہیں کھا لیا ہے۔ تم بھی یہی سمجھو کہ (گویا) وہیں پہنچ گئے جہاں وہ پہنچ چکے ہیں اور اسی خوابگاہ (قبر) نے تمہیں بھی جکڑ لیا ہے اور اسی امانت گاہ (لحد) نے تمہیں بھی چمٹا لیا ہے۔ اس وقت تمہاری حالت کیا ہو گی کہ جب تمہارے سارے مرحلے انتہا کو پہنچ جائیں گے اور قبروں سے نکل کھڑے ہو گے۔ ’’وہاں ہر شخص اپنے اعمال کے (نفع و نقصان) کی جانچ کرے گا اور وہ اپنے سچے مالک خدا کی طرف پلٹائے جائیں گے اور جو کچھ افترا پردازیاں کرتے تھے اُن کے کام نہ آئیں گی‘‘۔

  224. خطبہ 224- آپؑ کے دُعائیہ کلمات

    224

    وَ اللَّهِ لَأَنْ أَبِيتَ عَلَى حَسَكِ السَّعْدَانِ مُسَهَّداً وَ أُجَرَّ فِي الْأَغْلَالِ مُصَفَّداً أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَلْقَى اللَّهَ وَ رَسُولَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ظَالِماً لِبَعْضِ الْعِبَادِ وَ غَاصِباً لِشَيْ‏ءٍ مِنَ الْحُطَامِ وَ كَيْفَ أَظْلِمُ أَحَداً لِنَفْسٍ يُسْرِعُ إِلَى الْبِلَى قُفُولُهَا وَ يَطُولُ فِي الثَّرَى حُلُولُهَا وَ اللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ عَقِيلًا وَ قَدْ أَمْلَقَ حَتَّى اسْتَمَاحَنِي مِنْ بُرِّكُمْ صَاعاً وَرَأَيْتُ صِبْيَانَهُ شُعْثَ الشُّعُورِ، غُبْرَ الْأَلْوَانِ، مِنْ فَقْرِهِمْ كَأَنَّمَا سُوِّدَتْ وُجُوهُهُمْ بِالْعِظْلِمِ وَ عَاوَدَنِي مُؤَكِّداً وَ كَرَّرَ عَلَيَّ الْقَوْلَ مُرَدِّداً فَأَصْغَيْتُ إِلَيْهِ سَمْعِي فَظَنَّ أَنِّي أَبِيعُهُ دِينِي وَ أَتَّبِعُ قِيَادَهُ مُفَارِقاً طَرِيقِي فَأَحْمَيْتُ لَهُ حَدِيدَةً ثُمَّ أَدْنَيْتُهَا مِنْ جِسْمِهِ لِيَعْتَبِرَ بِهَا فَضَجَّ ضَجِيجَ ذِي دَنَفٍ مِنْ أَلَمِهَا وَ كَادَ أَنْ يَحْتَرِقَ مِنْ مِيْسَمِهَا فَقُلْتُ لَهُ ثَكِلَتْكَ الثَّوَاكِلُ يَا عَقِيلُ أَ تَئِنُّ مِنْ حَدِيدَةٍ أَحْمَاهَا إِنْسَانُهَا لِلَعِبِهِ تَجُرُّنِي إِلَى نَارٍ سَجَرَهَا جَبَّارُهَا لِغَضَبِهِ وَ أَ تَئِنُّ مِنَ الْأَذَى وَ لَا أَئِنُّ مِنْ لَظَى وَ أَعْجَبُ مِنْ ذَلِكَ طَارِقٌ طَرَقَنَا بِمَلْفُوفَةٍ فِي وِعَائِهَا وَ مَعْجُونَةٍ شَنِئْتُهَا كَأَنَّمَا عُجِنَتْ بِرِيقِ حَيَّةٍ أَوْ قَيْئِهَا فَقُلْتُ أَ صِلَةٌ أَمْ زَكَاةٌ أَمْ صَدَقَةٌ فَذَلِكَ مُحَرَّمٌ عَلَيْنَا أَهْلَ الْبَيْتِ‏ فَقَالَ لَا ذَا وَ لَا ذَاكَ وَ لَكِنَّهَا هَدِيَّةٌ فَقُلْتُ هَبِلَتْكَ الْهَبُولُ أَ عَنْ دِينِ اللَّهِ أَتَيْتَنِي لِتَخْدَعَنِي أَ مُخْتَبِطٌ أَمْ ذُو جِنَّةٍ أَمْ تَهْجُرُ وَ اللَّهِ لَوْ أُعْطِيتُ الْأَقَالِيمَ السَّبْعَةَ بِمَا تَحْتَ أَفْلَاكِهَا عَلَى أَنْ أَعْصِيَ اللَّهَ فِي نَمْلَةٍ أَسْلُبُهَا جِلْبَ شَعِيرَةٍ مَا فَعَلْتُهُ وَ إِنَّ دُنْيَاكُمْ عِنْدِي لَأَهْوَنُ مِنْ وَرَقَةٍ فِي فَمِ جَرَادَةٍ تَقْضَمُهَا مَا لِعَلِيٍّ وَ لَنَعِيمٍ يَفْنَى وَ لَذَّةٍ لَا تَبْقَى نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ سُبَاتِ الْعَقْلِ وَ قُبْحِ الزَّلَلِ وَ بِهِ نَسْتَعِينُ

    اے اللہ! تو اپنے دوستوں کے ساتھ تمام اُنس رکھنے والوں سے زیادہ مانوس ہے اور جو تجھ پر بھروسا رکھنے والے ہیں اُن کی حاجت روائی کیلئے ہمہ وقت پیش پیش ہے۔ تو ان کی باطنی کیفیتوں کو دیکھتا اور ان کے چھپے ہوئے بھیدوں کو جانتا اور ان کی بصیرتوں کی رسائی سے باخبر ہے۔ ان کے راز تیرے سامنے آشکارا اور اُن کے دل تیرے آگے فریادی ہیں۔ اگر تنہائی سے ان کا جی گھبراتا ہے تو تیرا ذکر ان کا دل بہلاتا ہے، اگر مصیبتیں اُن پر پڑتی ہیں تو وہ تیرے دامن میں پناہ لینے کیلئے ملتجی ہوتے ہیں، یہ جانتے ہوئے کہ سب چیزوں کی باگ ڈور تیرے ہاتھ میں ہے اور اُن کے نفاذ پذیر ہونے کی جگہیں تیرے ہی فیصلوں سے وابستہ ہیں۔ خدایا! اگر میں سوال کرنے سے عاجز رہوں یا اپنے مقصود پر نظر نہ ڈال سکوں تو تُو میری مصلحتوں کی طرف رہنمائی فرما اور میرے دل کو (صلاح و بہبودی کی) صحیح منزل پر پہنچا۔ یہ چیز تیری رہنمائیوں اور حاجت روائیوں کو دیکھتے ہوئے کوئی نرالی نہیں۔ خدایا! میرا معاملہ اپنے عفو و بخشش سے طے کر، نہ اپنے عدل و انصاف کے معیار سے۔

  225. خطبہ 225- انتشار و فتنہ سے قبل دنیا سے اٹھ جانے والوں کے متعلق فرمایا

    225

    اللَّهُمَّ صُنْ وَجْهِي بِالْيَسَارِ وَ لَا تَبْذُلْ جَاهِي بِالْإِقْتَارِ فَأَسْتَرْزِقَ طَالِبِي رِزْقِكَ وَ أَسْتَعْطِفَ شِرَارَ خَلْقِكَ وَ أُبْتَلَى بِحَمْدِ مَنْ أَعْطَانِي وَ أُفْتَتَنَ بِذَمِّ مَنْ مَنَعَنِي وَ أَنْتَ مِنْ وَرَاءِ ذَلِكَ كُلِّهِ وَلِيُّ الْإِعْطَاءِ وَ الْمَنْعِ إِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَدِيرٌ

    فلاں شخص کی کارکردگیوں کی جزا اللہ دے! انہوں نے ٹیڑھے پن کو سیدھا کیا، مرض کا چارہ کیا، فتنہ و فساد کو پیچھے چھوڑ گئے، سنت کو قائم کیا، صاف ستھرے دامن اور کم عیبوں کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوئے، (دنیا کی) بھلائیوں کو پا لیا اور اُس کی شر انگیزیوں سے آگے بڑھ گئے۔ اللہ کی اطاعت بھی کی اور اس کا پورا پورا خوف بھی کھایا۔ خود چلے گئے اور لوگوں کو ایسے متفرق راستوں میں چھوڑ گئے جن میں گم کردہ راہ راستہ نہیں پا سکتا اور ہدایت یافتہ یقین تک نہیں پہنچ سکتا۔

  226. خطبہ 226- اپنی بیعت کے متعلق فرمایا

    226

    دَارٌ بِالْبَلَاءِ مَحْفُوفَةٌ وَ بِالْغَدْرِ مَعْرُوفَةٌ لَا تَدُومُ أَحْوَالُهَا وَ لَا يَسْلَمُ نُزَّالُهَا أَحْوَالٌ مُخْتَلِفَةٌ وَ تَارَاتٌ مُتَصَرِّفَةٌ الْعَيْشُ فِيهَا مَذْمُومٌ وَ الْأَمَانُ‏ مِنْهَا مَعْدُومٌ وَ إِنَّمَا أَهْلُهَا فِيهَا أَغْرَاضٌ مُسْتَهْدَفَةٌ تَرْمِيهِمْ بِسِهَامِهَا وَ تُفْنِيهِمْ بِحِمَامِهَا وَ اعْلَمُوا عِبَادَ اللَّهِ أَنَّكُمْ وَ مَا أَنْتُمْ فِيهِ مِنْ هَذِهِ الدُّنْيَا عَلَى سَبِيلِ مَنْ قَدْ مَضَى قَبْلَكُمْ مِمَّنْ كَانَ أَطْوَلَ مِنْكُمْ أَعْمَاراً وَ أَعْمَرَ دِيَاراً وَ أَبْعَدَ آثَاراً أَصْبَحَتْ أَصْوَاتُهُمْ هَامِدَةً وَ رِيَاحُهُمْ رَاكِدَةً وَ أَجْسَادُهُمْ بَالِيَةً وَ دِيَارُهُمْ خَالِيَةً وَ آثَارُهُمْ عَافِيَةً فَاسْتَبْدَلُوا بِالْقُصُورِ الْمَشَيَّدَةِ وَ النَّمَارِقِ الْمُمَهَّدَةِ الصُّخُورَ وَ الْأَحْجَارَ الْمُسَنَّدَةَ وَ الْقُبُورَ اللَّاطِئَةَ الْمُلْحَدَةَ الَّتِي قَدْ بُنِيَ بِالْخَرَابِ فِنَاؤُهَا وَ شِيدَ بِالتُّرَابِ بِنَاؤُهَا فَمَحَلُّهَا مُقْتَرِبٌ وَ سَاكِنُهَا مُغْتَرِبٌ بَيْنَ أَهْلِ مَحَلَّةٍ مُوحِشِينَ وَ أَهْلِ فَرَاغٍ مُتَشَاغِلِينَ لَا يَسْتَأْنِسُونَ بِالْأَوْطَانِ وَ لَا يَتَوَاصَلُونَ تَوَاصُلَ الْجِيرَانِ عَلَى مَا بَيْنَهُمْ مِنْ قُرْبِ الْجِوَارِ وَ دُنُوِّ الدَّارِ وَ كَيْفَ يَكُونُ بَيْنَهُمْ تَزَاوُرٌ وَ قَدْ طَحَنَهُمْ بِكَلْكَلِهِ الْبِلَى وَ أَكَلَتْهُمُ الْجَنَادِلُ وَ الثَّرَى وَ كَأَنْ قَدْ صِرْتُمْ إِلَى مَا صَارُوا إِلَيْهِ وَ ارْتَهَنَكُمْ ذَلِكَ الْمَضْجَعُ وَ ضَمَّكُمْ ذَلِكَ الْمُسْتَوْدَعُ فَكَيْفَ بِكُمْ لَوْ تَنَاهَتْ بِكُمُ الْأُمُورُ وَ بُعْثِرَتِ الْقُبُورُ «هُنالِكَ تَبْلُوا كُلُّ نَفْسٍ ما أَسْلَفَتْ وَ رُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ «وَ ضَلَّ عَنْهُمْ ما كانُوا يَفْتَرُونَ»

    آپ ؑ کی بیعت کے بیان میں ایسا ہی ایک خطبہ اس سے قبل اس سے کچھ مختلف لفظوں میں گزر چکا ہے۔ تم نے (بیعت کیلئے) میرا ہاتھ (اپنی طرف) پھیلانا چاہا تو میں نے اُسے روکا اور تم نے کھینچا تو میں اُسے سمیٹتا رہا، مگر تم نے مجھ پر اس طرح ہجوم کیا جس طرح پیاسے اونٹ پانی پینے کے دن تالابوں پر ٹوٹتے ہیں، یہاں تک کہ جوتی (کے تسمے) ٹوٹ گئے اور عبا کاندھے سے گر گئی، کمزور و ناتواں کچلے گئے اور میری بیعت پر لوگوں کی مسرت یہاں تک پہنچ گئی کہ چھوٹے چھوٹے بچے خوشیاں منانے لگے اور بوڑھے لڑکھڑاتے ہوئے قدموں سے بیعت کیلئے بڑھے، بیمار بھی اٹھتے بیٹھتے ہوئے پہنچ گئے اور نوجوان لڑکیاں پردوں سے نکل کر دوڑ پڑیں۔

  227. خطبہ 227- تقویٰ کی نصیحت موت سے خائف رہنے اور زہد اختیار کرنے کے متعلق

    227

    اللَّهُمَّ إِنَّكَ آنَسُ الْآنِسِينَ لِأَوْلِيَائِكَ وَ أَحْضَرُهُمْ بِالْكِفَايَة لِلْمُتَوَكِّلِينَ عَلَيْكَ تُشَاهِدُهُمْ فِي سَرَائِرِهِمْ وَ تَطَّلِعُ عَلَيْهِمْ فِي ضَمَائِرِهِمْ وَ تَعْلَمُ مَبْلَغَ بَصَائِرِهِمْ فَأَسْرَارُهُمْ لَكَ مَكْشُوفَةٌ وَ قُلُوبُهُمْ إِلَيْكَ مَلْهُوفَةٌ إِنْ أَوْحَشَتْهُمُ الْغُرْبَةُ آنَسَهُمْ ذِكْرُكَ وَ إِنْ صُبَّتْ عَلَيْهِمُ الْمَصَائِبُ لَجَئُوا إِلَى الِاسْتِجَارَةِ بِكَ عِلْماً بِأَنَّ أَزِمَّةَ الْأُمُورِ بِيَدِكَ وَ مَصَادِرَهَا عَنْ قَضَائِكَ اللَّهُمَّ إِنْ فَهِهْتُ عَنْ مَسْأَلَتِي أَوْ عَمِيتُ عَنْ طَلِبَتِي فَدُلَّنِي عَلَى مَصَالِحِي وَ خُذْ بِقَلْبِي إِلَى مَرَاشِدِي فَلَيْسَ ذَلِكَ بِنُكْرٍ مِنْ هِدَايَاتِكَ وَ لَا بِبِدْعٍ مِنْ كِفَايَاتِكَ اللَّهُمَّ احْمِلْنِي عَلَى عَفْوِكَ وَ لَا تَحْمِلْنِي عَلَى عَدْلِكَ

    بے شک اللہ کا خوف ہدایت کی کلید اور آخرت کا ذخیرہ ہے، (خواہشوں کی) ہر غلامی سے آزادی اور ہر تباہی سے رہائی کا باعث ہے، اس کے ذریعہ طلبگار منزلِ مقصود تک پہنچتا اور (سختیوں سے) بھاگنے والا نجات پاتا ہے اور مطلوبہ چیزوں تک پہنچ جاتا ہے۔ (اچھے) اعمال بجا لے آؤ ابھی جبکہ اعمال بلند ہو رہے ہیں، توبہ فائدہ دے سکتی ہے، پکار سنی جا رہی ہے، حالات پر سکون اور (کراماً کاتبین کے) قلم رواں ہیں۔ ضعف و پیری کی طرف پلٹانے والی عمر، زنجیرِ پا بن جانے والے مرض اور جھپٹ لینے والی موت سے پہلے اعمال کی طرف جلدی کرو، کیونکہ موت تمہاری لذتوں کو تباہ کرنے والی، خواہشات کو مکدر بنانے والی اور تمہاری منزلوں کو دور کر دینے والی ہے۔ یہ ناپسندیدہ ملاقاتی اور شکست نہ کھانے والا حریف ہے اور ایسی خونخوار ہے کہ اس سے (خون بہا کا) مطالبہ نہیں کیا جا سکتا، اس کے پھندے تمہیں جکڑے ہوئے ہیں اور اس کی تباہ کاریاں تمہیں گھیرے ہوئے ہیں اور اس کے (تیروں کے) پھل تمہیں سیدھا نشانہ بنائے ہوئے ہیں اور تم پر اس کا غلبہ و تسلط عظیم اور تم پر اس کا ظلم و تعدی برابر جاری ہے اور اس کے وار کے خالی جانے کا امکان کم ہے۔ قریب ہے کہ سحابِ مرگ کی تیرگیاں، مرض الموت کے لوکے، جان لیوا سختیوں کے اندھیرے، سانس اکھڑنے کی مدہوشیاں، جان کنی کی اذیتیں، اس کے ہر طرف سے چھا جانے کی تاریکی اور کام و دہن کیلئے اس کی بدمزگی تمہیں گھیر لے۔ گویا کہ وہ تم پر اچانک آپڑی ہے کہ جس نے تمہارے ساتھ چپکے چپکے باتیں کرنے والے کو خاموش کر دیا اور تمہاری جماعت کو متفرق و پراگندہ کر دیا اور تمہارے نشانات کو مٹا دیا اور تمہارے گھروں کو سنسان کر دیا اور تمہارے وارثوں کو تیار کر دیا کہ وہ تمہارے ترکہ کو مخصوص عزیزوں میں کہ جنہوں نے تمہیں کچھ بھی فائدہ نہ دیا اور ان غم زدہ قریبیوں میں کہ جو (موت کو) روک نہ سکے اور اُن خوش ہونے والے (رشتہ داروں) میں جو ذرا بے چین نہیں ہوئے تقسیم کر لیں۔ لہٰذا تمہیں لازم ہے کہ تم سعی و کوشش کرو اور (سفرِ آخرت کیلئے) تیار ہو جاؤ اور سرو سامان مہیا کرو اور زاد مہیا کر لینے والی منزل سے زاد فراہم کر لو۔ دنیا تمہیں فریب نہ دے جس طرح تم سے پہلے گزر جانے والی اُمتوں اور گزشتہ لوگوں کو فریب دیا کہ جنہوں نے اس دنیا کا دودھ دوہا اور اُس کی غفلت سے فائدہ اٹھا لے گئے اور اس کے گنے چنے (دنوں کو) فنا اور تازگیوں کو پژ مردہ کر دیا۔ ان کے گھروں نے قبروں کی صورت اختیار کر لی،ان کا مال ترکہ بن گیا۔ جو ان (کی قبروں) پر آتا ہے اسے پہچانتے نہیں، جو انہیں روتا ہے اس کی پرواہ نہیں کرتے اور جو پکارے اُسے جواب نہیں دیتے۔ اس دنیا سے ڈرو کہ یہ غدار، دھوکہ باز اور فریب کار ہے، دینے والی (اور پھر) لے لینے والی ہے، لباس پہنانے والی (اور پھر) اتروا لینے والی ہے۔ اس کی آسائشیں ہمیشہ نہیں رہتیں، نہ اس کی سختیاں ختم ہوتی ہیں اور نہ اس کی مصیبتیں تھمتی ہیں۔ [اس خطبہ کا یہ حصہ زاہدوں کے اوصاف میں ہے] وہ ایسے لوگ تھے جو اہل دنیا میں سے تھے مگر (حقیقتاً) دنیا والے نہ تھے۔ وہ دنیا میں اس طرح رہے کہ گویا دنیا سے نہ ہوں۔ اُن کا عمل ان چیزوں پر ہے جنہیں خوب جانے پہچانے ہوئے ہیں اور جس چیز سے خائف ہیں اُس سے بچنے کیلئے جلدی کرتے ہیں۔ اُن کے جسم گویا اہل آخرت کے مجمع میں گردش کر رہے ہیں۔ وہ اہل دنیا کو دیکھتے ہیں کہ وہ ان کی جسمانی موت کو بڑی اہمیت دیتے ہیں اور وہ ان اشخاص کے حال کو زیادہ اندوہناک سمجھتے ہیں جو زندہ ہیں مگر اُن کے دل مردہ ہیں۔

  228. خطبہ 228- جب بصرہ کی طرف روانہ ہوئے تو فرمایا

    228

    لِلَّهِ بِلَادُ فُلَانٍ فَلَقَدْ قَوَّمَ الْأَوَدَ وَ دَاوَى الْعَمَدَ وَ خَلَّفَ الْفِتْنَةَ وَ أَقَامَ السُّنَّةَ ذَهَبَ نَقِيَّ الثَّوْبِ قَلِيلَ الْعَيْبِ أَصَابَ خَيْرَهَا وَ سَبَقَ شَرَّهَا أَدَّى إِلَى اللَّهِ طَاعَتَهُ وَ اتَّقَاهُ بِحَقِّهِ رَحَلَ وَ تَرَكَهُمْ فِي طُرُقٍ مُتَشَعِّبَةٍ لَا يَهْتَدِي فِيهَا الضَّالُّ وَ لَا يَسْتَيْقِنُ الْمُهْتَدِي

    امیر المومنین علیہ السلام نے بصرہ کی طرف جاتے ہوئے مقام ذی قار میں یہ خطبہ ارشاد فرمایا۔ اس کا واقدی نے کتاب الجمل میں ذکر کیا ہے۔ رسول ﷺ کو جو حکم تھا اُسے آپؐ نے کھول کر بیان کر دیا اور اللہ کے پیغامات پہنچا دئیے۔ اللہ نے آپؐ کے ذریعہ بکھرے ہوئے افراد کی شیرازہ بندی کی، سینوں میں بھری ہوئی سخت عداوتوں اور دلوں میں بھڑک اٹھنے والے کینوں کے بعد خویش و اقارب کو آپس میں شیر و شکر کر دیا۔

  229. خطبہ 229- عبد اللہ ابن زمعہ نے آپؑ سے مال طلب کیا تو فرمایا

    229

    وَ بَسَطْتُمْ يَدِي فَكَفَفْتُهَا وَ مَدَدْتُمُوهَا فَقَبَضْتُهَا ثُمَّ تَدَاكَكْتُمْ عَلَيَّ تَدَاكَّ الْإِبِلِ الْهِيمِ عَلَى حِيَاضِهَا يَوْمَ وُرُودِهَا حَتَّى انْقَطَعَتِ النَّعْلُ وَ سَقَطَ الرِّدَاءُ وَ وُطِئَ الضَّعِيفُ وَ بَلَغَ مِنْ سُرُورِ النَّاسِ بِبَيْعَتِهِمْ إِيَّايَ أَنِ ابْتَهَجَ بِهَا الصَّغِيرُ وَ هَدَجَ إِلَيْهَا الْكَبِيرُ وَ تَحَامَلَ نَحْوَهَا الْعَلِيلُ وَ حَسَرَتْ إِلَيْهَا الْكَعَابُ

    عبد اللہ ابن زمعہ جو آپؑ کی جماعت میں محسوب ہوتا تھا آپؑ کے زمانہ خلافت میں کچھ مال طلب کرنے کیلئے حضرتؑ کے پاس آیا تو آپؑ نے ارشاد فرمایا: یہ مال نہ میرا ہے نہ تمہارا، بلکہ مسلمانوں کا حق مشترک اور اُن کی تلواروں کا جمع کیا ہوا سرمایہ ہے۔ اگر تم ان کے ساتھ جنگ میں شریک ہوئے ہوتے تو تمہارا حصہ بھی اُن کے برابر ہوتا، ورنہ ان کے ہاتھوں کی کمائی دوسروں کے منہ کا نوالہ بننے کیلئے نہیں ہے۔

  230. خطبہ 230- جب جعدہ ابن ہبیرہ خطبہ نہ دے سکے تو فرمایا

    230

    فَإِنَّ تَقْوَى اللَّهِ مِفْتَاحُ سَدَادٍ وَ ذَخِيرَةُ مَعَادٍ وَ عِتْقٌ مِنْ كُلِّ مَلَكَةٍ وَ نَجَاةٌ مِنْ كُلِّ هَلَكَةٍ بِهَا يَنْجَحُ الطَّالِبُ وَ يَنْجُو الْهَارِبُ وَ تُنَالُ الرَّغَائِبُ فَاعْمَلُوا وَ الْعَمَلُ يُرْفَعُ وَ التَّوْبَةُ تَنْفَعُ وَ الدُّعَاءُ يُسْمَعُ وَ الْحَالُ هَادِئَةٌ وَ الْأَقْلَامُ جَارِيَةٌ وَ بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ عُمْرًا نَاكِساً أَوْ مَرَضاً حَابِساً أَوْ مَوْتاً خَالِساً فَإِنَّ الْمَوْتَ هَادِمُ لَذَّاتِكُمْ وَ مُكَدِّرُ شَهَوَاتِكُمْ وَ مُبَاعِدُ طِيَّاتِكُمْ ‏ زَائِرٌ غَيْرُ مَحْبُوبٍ وَ قِرْنٌ غَيْرُ مَغْلُوبٍ وَ وَاتِرٌ غَيْرُ مَطْلُوبٍ قَدْ أَعْلَقَتْكُمْ حَبَائِلُهُ وَ تَكَنَّفَتْكُمْ غَوَائِلُهُ وَ أَقْصَدَتْكُمْ مَعَابِلُهُ وَ عَظُمَتْ فِيكُمْ سَطْوَتُهُ وَ تَتَابَعَتْ عَلَيْكُمْ عَدْوَتُهُ وَ قَلَّتْ عَنْكُمْ نَبْوَتُهُ فَيُوشِكُ أَنْ تَغْشَاكُمْ دَوَاجِي ظُلَلِهِ وَ احْتِدَامَ عِلَلِهِ وَ حَنَادِسُ غَمَرَاتِهِ وَ غَوَاشِي سَكَرَاتِهِ وَ أَلِيمُ إِزْهَاقِهِ وَ دُجُوُّ إِطْبَاقِهِ وَ جُشُوبَةُ مَذَاقِهِ فَكَأَنْ قَدْ أَتَاكُمْ بَغْتَةً فَأَسْكَتَ نَجِيَّكُمْ وَ فَرَّقَ نَدِيَّكُمْ وَ عَفَّى آثَارَكُمْ وَ عَطَّلَ دِيَارَكُمْ وَ بَعَثَ وُرَّاثَكُمْ يَقْتَسِمُونَ تُرَاثَكُمْ بَيْنَ حَمِيمٍ خَاصٍّ لَمْ يَنْفَعْ وَ قَرِيبٍ مَحْزُونٍ لَمْ يَمْنَعْ وَ آخَرَ شَامِتٍ لَمْ يَجْزَعْ فَعَلَيْكُمْ بِالْجَدِّ وَ الِاجْتِهَادِ وَ التَّأَهُّبِ وَ الِاسْتِعْدَادِ وَ التَّزَوُّدِ فِي مَنْزِلِ الزَّادِ وَ لَا تَغُرَّنَّكُمُ الدُّنْيَا كَمَا غَرَّتْ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ مِنَ الْأُمَمِ الْمَاضِيَةِ وَ الْقُرُونِ الْخَالِيَةِ الَّذِينَ احْتَلَبُوا دِرَّتَهَا وَ أَصَابُوا غِرَّتَهَا وَ أَفْنَوْا عِدَّتَهَا وَ أَخْلَقُوا جِدَّتَهَا أَصْبَحَتْ مَسَاكِنُهُمْ أَجْدَاثاً وَ أَمْوَالُهُمْ مِيرَاثاً لَا يَعْرِفُونَ مَنْ أَتَاهُمْ وَ لَا يَحْفِلُونَ مَنْ بَكَاهُمْ وَ لَا يُجِيبُونَ مَنْ دَعَاهُمْ فَاحْذَرُوا الدُّنْيَا فَإِنَّهَا غَدّارَهٌ غَرَّارَةٌ خَدُوعٌ مُعْطِيَةٌ مَنُوعٌ مُلْبِسَةٌ نَزُوعٌ لَا يَدُومُ رَخَاؤُهَا وَ لَا يَنْقَضِي عَنَاؤُهَا وَ لَا يَرْكُدُ بَلَاؤُهَا و منها في صفة الزُهّاد كَانُوا قَوْماً مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا وَ لَيْسُوا مِنْ أَهْلِهَا فَكَانُوا فِيهَا كَمَنْ لَيْسَ مِنْهَا عَمِلُوا فِيهَا بِمَا يُبْصِرُونَ وَ بَادَرُوا فِيهَا مَا يَحْذَرُونَ تَقَلَّبُ أَبْدَانِهِمْ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ أَهْلِ الْآخِرَةِ يَرَوْنَ أَهْلَ الدُّنْيَا يُعَظِّمُونَ مَوْتَ أَجْسَادِهِمْ وَ هُمْ أَشَدُّ إِعْظَاماً لِمَوْتِ قُلُوبِ أَحْيَائِهِمْ

    معلوم ہونا چاہیے کہ زبان انسان (کے بدن) کا ایک ٹکڑا ہے۔ جب انسان (کا ذہن) رک جائے تو پھر کلام اس کا ساتھ نہیں دیا کرتا اور جب اس کی (معلومات میں) وسعت ہو تو پھر کلام زبان کو رکنے کی مہلت نہیں دیا کرتا اور ہم (اہلبیتؑ) اقلیم سخن کے فرمانروا ہیں۔ وہ ہمارے رگ و پے میں سمایا ہوا ہے اور اس کی شاخیں ہم پر جھکی ہوئی ہیں۔ [۱] خدا تم پر رحم کرے! اس بات کو جان لو کہ تم ایسے دور میں ہو جس میں حق گو کم، زبانیں صدق بیانی سے کند اور حق والے ذلیل و خوار ہیں۔ یہ لوگ گناہ و نافرمانی پر جمے ہوئے ہیں اور ظاہر داری و نفاق کی بنا پر ایک دوسرے سے صلح و صفائی رکھتے ہیں۔ ان کے جوان بدخو، ان کے بوڑھے گنہگار، ان کے عالم منافق اور ان کے واعظ چاپلوس ہیں۔ نہ چھوٹے بڑوں کی تعظیم کرتے ہیں اور نہ مالدار فقیر و بے نوا کی دستگیری کرتے ہیں۔

  231. الخطبه 231 و من خطبه له عليه السلام خطبها بذي قار و هو متوجه إلى البصرة ذكرها الواقدي في كتاب الجمل

    231

    خصائص النّبی صل الله علیه و اله و سلم فَصَدَعَ بِمَا أُمِرَ بِهِ وَ بَلَّغَ رِسَالَاتِ رَبِّهِ فَلَمَّ اللَّهُ بِهِ الصَّدْعَ وَ رَتَقَ بِهِ الْفَتْقَ وَ أَلَّفَ بَيْنَ ذَوِي الْأَرْحَامِ بَعْدَ الْعَدَاوَةِ الْوَاغِرَةِ فِي الصُّدُورِ وَ الضَّغَائِنِ الْقَادِحَةِ فِي الْقُلُوبِ

    About the Holy Prophet The Prophet manifested whatever he was commanded and conveyed the messages of his Lord. Consequently, Allah repaired through him the cracks, joined through him the slits and created (through him) affection among kin although they bore intense enmity in (their) chests and deep-seated rancour in (their) hearts. ترجمہ زیرِ تیاری — انگریزی میں دکھایا گیا

  232. الخطبه 232 و من كلام له عليه السلام كلم به عبد الله بن زمعة و هو من شيعته و ذلك أنه قدم عليه في خلافته يطلب منه مالا فقال عليه السلام:‏

    232

    إِنَّ هَذَا الْمَالَ لَيْسَ لِي وَ لَا لَكَ وَ إِنَّمَا هُوَ فَيْ‏ءٌ لِلْمُسْلِمِينَ وَ جَلْبُ أَسْيَافِهِمْ فَإِنْ شَرِكْتَهُمْ فِي حَرْبِهِمْ كَانَ لَكَ مِثْلُ حَظِّهِمْ وَ إِلَّا فَجَنَاةُ أَيْدِيهِمْ لَا تَكُونُ لِغَيْرِ أَفْوَاهِهِمْ

    This money is not for me nor for you, but it is the collective property of the Muslims and the acquisition of their swords. If you had taken part with them in their fighting you would have a share equal to theirs, otherwise the earning of their hands cannot be for other than their mouths. ترجمہ زیرِ تیاری — انگریزی میں دکھایا گیا

  233. الخطبه 233 و من كلام له عليه السلام بعدَ أن أقدم أحدهم على الكلام فحصر

    233

    أَلَا إِنَّ اللِّسَانَ بَضْعَةٌ مِنَ الْإِنْسَانِ فَلَا يُسْعِدُهُ الْقَوْلُ إِذَا امْتَنَعَ وَ لَا يُمْهِلُهُ النُّطْقُ إِذَا اتَّسَعَ وَ إِنَّا لَأُمَرَاءُ الْكَلَامِ وَ فِينَا تَنَشَّبَتْ عُرُوقُهُ وَ عَلَيْنَا تَهَدَّلَتْ غُصُونُهُ وَ اعْلَمُوا- رَحِمَكُمُ اللَّهُ- أَنَّكُمْ فِي زَمَانٍ الْقَائِلُ فِيهِ بِالْحَقِّ قَلِيلٌ وَ اللِّسَانُ عَنِ الصِّدْقِ كَلِيلٌ وَ اللَّازِمُ لِلْحَقِّ ذَلِيلٌ أَهْلُهُ مُعْتَكِفُونَ عَلَى الْعِصْيَانِ مُصْطَلِحُونَ عَلَى الْإِدْهَانِ فَتَاهُمْ عَارِمٌ وَ شَائِبُهُمْ آثِمٌ وَ عَالِمُهُمْ مُنَافِقٌ وَ قَارِؤُهُمْ مُمَاذِقٌ لَا يُعَظِّمُ صَغِيرُهُمْ كَبِيرَهُمْ وَ لَا يَعُولُ غَنِيُّهُمْ فَقِيرَهُمْ

    Be informed that the tongue is a part of a man's body. If the man desists, speech will not co-operate with him and when he dilates, speech will not give him time to stop. Certainly, we are the masters of speech. Its veins are fixed in us and its branches are hanging over us. Be informed, may Allah have mercy on you, you are living at a time when those who speak about right are few, when tongues are loath to utter the truth and those who stick to the right are humiliated. The people of this time are engaged in disobedience and are united in sycophancy. Their youths are wicked, their old men are sinful, their learned men are hypocrites, and their speakers are sycophants. Their youngs do not respect their elders, and their rich men do not support the destitute. ترجمہ زیرِ تیاری — انگریزی میں دکھایا گیا

  234. الخطبه 234 و من كلام له عليه السلام و فیها ذکر علل اختلاف الناس رَوَى ذِعْلَبُ الْيَمَامِيُّ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ قُتَيْبَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ‏ مَالِكِ بْنِ دِحْيَةَ قَالَ كُنَّا عِنْدَ أَمِيرِ الْمُؤْمنِيِنَ عليه السلام وَ قَدْ ذُكِرَ عِ

    234

    إِنَّمَا فَرَّقَ بَيْنَهُمْ مَبَادِئُ طِينِهِمْ وَ ذَلِكَ أَنَّهُمْ كَانُوا فِلْقَةً مِنْ سَبَخِ أَرْضٍ وَ عَذْبِهَا وَ حَزْنِ تُرْبَةٍ وَ سَهْلِهَا فَهُمْ عَلَى حَسَبِ قُرْبِ أَرْضِهِمْ يَتَقَارَبُونَ وَ عَلَى قَدْرِ اخْتِلَافِهَا يَتَفَاوَتُونَ فَتَامُّ الرُّوَاءِ نَاقِصُ الْعَقْلِ وَ مَادُّ الْقَامَةِ قَصِيرُ الْهِمَّةِ وَ زَاكِي الْعَمَلِ قَبِيحُ الْمَنْظَرِ وَ قَرِيبُ الْقَعْرِ بَعِيدُ السَّبْرِ وَ مَعْرُوفُ الضَّرِيبَةِ مُنْكَرُ الْجَلِيبَةِ وَ تَائِهُ الْقَلْبِ مُتَفَرِّقُ اللُّبِّ وَ طَلِيقُ اللِّسَانِ حَدِيدُ الْجَنَانِ.

    They differ among themselves because of the sources of their clay (from which they have been created). This is because they are either from saltish soil or sweet soil or from rugged earth or soft one. They, resemble each other on the basis of the affinity of their soil and differ according to its difference. Therefore, sometimes a person of handsome features is weak in intelligence, a person of a tall stature is of low courage, a virtuous person is ugly in appearance, a short statured person is far-sighted, a good-natured person has an evil trait, a person of perplexed heart has bewildering mind and a sharp-tongued person has a wakeful heart. ترجمہ زیرِ تیاری — انگریزی میں دکھایا گیا

  235. الخطبه 235 و من كلام له عليه السلام قالَهُ وَ هُوَ يَلِى غَسْلَ رَسُولِ اللّهِ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَ الِهِ وَ تَجْهِيزَهُ

    235

    بِأَبِى أَنْتَ وَ أُمِّى يا رَسُولِ اللّهِ لَقَدِ انْقَطَعَ بِمَوْتِكَ ما لَمْ يَنْقَطِعْ بِمَوْتِ غَيْرِكَ مِنَ النُّبُوَّةِ وَ الْإِنْبَاءِ وَ أَخْبارِ السَّماءِ خَصَصْتَ حَتّى صِرْتَ مُسَلِّيًا عَمَّنْ سِواكَ، وَ عَمَمْتَ حَتّى صارَ النّاسُ فِيكَ سَواءً وَ لَوْ لا أَنَّكَ أَمَرْتَ بِالصَّبْرِ وَ نَهَيْتَ عَنِ الْجَزَعِ لَأَنْفَدْنَا عَلَيْكَ مَاءَ الشُّئُونِ وَ لَكانَ الدّاءُ مُماطِلاً، وَ الكَمَدُ مُحالِفًا وَ قَلاًّ لَكَ وَ لكِنَّهُ ما لا يُمْلَكُ رَدُّهُ، وَ لا يُسْتَطاعُ دَفْعُهُ بِأَبِى أَنْتَ وَ أُمِّى اذْكُرْنا عِنْدَ رَبِّكَ، وَ اجْعَلْنا مِنْ بالِكَ.

    May my father and my mother shed their lives for you. O' Messenger of Allah! With your death has stopped what had not stopped at the death of others (prophets), the process of prophethood, revelation and heavenly messages. Your status with us (members of your family) is so special that your grief has become a source of consolation (to us) as against the grief of all others; our grief for aving lost you is also common so that all Muslims may share it equally. If you had not ordered endurance and prevented us from bewailing, we would have produced a store of tears. Even then, the pain would not have subsided and this grief would not have ended and they would have been too little of our grief for you. But this (death) is a matter that cannot be reversed nor is it possible to repulse it. May my father and my mother die for you; do remember us with Allah and take care of us. ترجمہ زیرِ تیاری — انگریزی میں دکھایا گیا

  236. الخطبه 236 و من كلام له عليه السلام اقتص فيه ذكر ما كان منه بعد هجرة النبي صلى الله عليه واله ثم لحاقه به

    236

    فَجَعَلْتُ أَتْبَعُ مَأْخَذَ رَسُولِ اللَّهِ- صلى الله عليه واله- فَأَطَأُ ذِكْرَهُ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى الْعَرَجِ. قال السيد الشريف : قوله عليه السلام «فأطأ ذكره» من الكلام الذي رمى به إلى غايتي الإيجاز و الفصاحة و أراد أني كنت أعطى خبره صلى الله عليه واله من بدء خروجي إلى أن انتهيت إلى هذا الموضع فكنى عن ذلك بهذه الكناية العجيبة

    I began following the path adopted by the Prophet and treading on the lines of his remembrance till I reached al-`Arj. Ash-Sharif ar-Radi says: Amir al-mu'minin's words "faata'u dhikrahu" constitute the highest forms of brevity and eloquence. He means to say that he was being given news about the Prophet from the commencement of his setting out till he reached this place, and he has expressed this sense in this wonderful expression. ترجمہ زیرِ تیاری — انگریزی میں دکھایا گیا

  237. الخطبه 237 و من خطبه له عليه السلام في المُسارعة إلى العمل

    237

    فَاعْمَلُوا وَ أَنْتُمْ فِي نَفَسِ الْبَقَاءِ وَ الصُّحُفُ مَنْشُورَةٌ وَ التَّوْبَةُ مَبْسُوطَةٌ وَ الْمُدْبِرُ يُدْعَى وَ الْمُسِي‏ءُ يُرْجَى قَبْلَ أَنْ يَخْمُدَ الْعَمَلُ وَ يَنْقَطِعَ الْمَهَلُ وَ يَنْقَضِيَ الْأَجَلُ وَ يُسَدَّ بَابُ التَّوْبَةِ وَ تَصْعَدَ الْمَلَائِكَةُ فَأَخَذَ امْرُؤٌ مِنْ نَفْسِهِ لِنَفْسِهِ وَ أَخَذَ مِنْ حَيٍّ لِمَيِّتٍ وَ مِنْ فَانٍ لِبَاقٍ وَ مِنْ ذَاهِبٍ لِدَائِمٍ امْرُؤٌ خَافَ اللَّهَ وَ هُوَ مُعَمَّرٌ إِلَى أَجَلِهِ وَ مَنْظُورٌ إِلَى عَمَلِهِ امْرُؤٌ أَلْجَمَ نَفْسَهُ بِلِجَامِهَا وَ زَمَّهَا بِزِمَامِهَا فَأَمْسَكَهَا بِلِجَامِهَا عَنْ مَعَاصِي اللَّهِ وَ قَادَهَا بِزِمَامِهَا إِلَى طَاعَةِ اللَّهِ

    Perform (good) acts while you are still in the vastness of life, the books are open (for recording of actions), repentance is allowed, the runner away (from Allah) is being called and the sinner is being given hope (of forgiveness) before the (light of) action is put off, time expires, life ends, the door for repentance is closed and angels ascend to the sky. Therefore a man should derive benefit from himself for himself, from the living for the dead, from the mortal, for the lasting and from the departer for the stayer. A man should fear Allah while he is given age to live upto his death, and is allowed time to act. A man should control his self by the rein and hold it with its bridle, thus by the rein he should prevent it from disobedience towards Allah, and by the bridle he should lead it towards obedience to Allah. ترجمہ زیرِ تیاری — انگریزی میں دکھایا گیا

  238. الخطبه 238 و من خطبه له عليه السلام في شأن الحكمين و ذم أهل الشام

    238

    جُفَاةٌ طَغَامٌ وَ عَبِيدٌ أَقْزَامٌ جُمِعُوا مِنْ كُلِّ أَوْبٍ وَ تُلُقِّطُوا مِنْ كُلِّ شَوْبٍ مِمَّنْ يَنْبَغِي أَنْ يُفَقَّهَ وَ يُؤَدَّبَ وَ يُعَلَّمَ وَ يُدَرَّبَ وَ يُوَلَّى عَلَيْهِ وَ يُؤْخَذَ عَلَى يَدَيْهِ لَيْسُوا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَ الْأَنْصَارِ وَ لَا مِنَ الَّذِينَ تَبَوَّؤُا الدَّارَ وَ الْإِيمانَ أَلَا وَ إِنَّ الْقَوْمَ اخْتَارُوا لِأَنْفُسِهِمْ أَقْرَبَ الْقَوْمِ مِمَّا يُحِبُّونَ وَ إِنَّكُمُ اخْتَرْتُمْ لِأَنْفُسِكُمْ أَقْرَبَ الْقَوْمِ مِمَّا تَكْرَهُونَ وَ إِنَّمَا عَهْدُكُمْ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ ‏قَيْسٍ بِالْأَمْسِ يَقُولُ إِنَّهَا فِتْنَةٌ فَقَطِّعُوا أَوْتَارَكُمْ وَ شِيمُوا سُيُوفَكُمْ فَإِنْ كَانَ صَادِقاً فَقَدْ أَخْطَأَ بِمَسِيرِهِ غَيْرَ مُسْتَكْرَهٍ وَ إِنْ كَانَ كَاذِباً فَقَدْ لَزِمَتْهُ التُّهْمَةُ فَادْفَعُوا فِي صَدْرِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ وَ خُذُوا مَهَلَ الْأَيَّامِ وَ حُوطُوا قَوَاصِيَ الْإِسْلَامِ أَ لَا تَرَوْنَ إِلَى بِلَادِكُمْ تُغْزَى وَ إِلَى صَفَاتِكُمْ تُرْمَى

    They (the people of the Syria) are rude, lowly people and mean slaves! They have been gathered from all sides and picked up from every pack. They need to be taught the tenets (of Islam), disciplined, instructed, trained, supervised and led by the hand. They are neither muhajirun (immigrants from Mecca), nor ansar (helpers of Medina) nor those who made their dwellings in the abode (in Medina) and in belief. Look! They have chosen for themselves one who is nearest of all of them to what they desire, while you have chosen one who is nearest to what you dislike. You may certainly recall that the other day `Abdullah ibn Qays (Abu Musa) was saying: "It is a mischief, therefore, cut away your bow-string and sheathe your swords." If he was right (in what he said) then he was wrong in marching (with us) without being forced, but if he was lying then he should be viewed with suspicion. Therefore, send `Abdullah ibn al-`Abbas to face `Amr ibn al-`As. Make use of these days and surround the borders of Islam. Do you not see that your cities are being attacked and your prowess is being aimed at? ترجمہ زیرِ تیاری — انگریزی میں دکھایا گیا

  239. الخطبه 239 و من خطبه له عليه السلام يذكر فيها آل محمد عليهم السلام

    239

    هُمْ عَيْشُ الْعِلْمِ وَ مَوْتُ الْجَهْلِ يُخْبِرُكُمْ حِلْمُهُمْ عَنْ عِلْمِهِمْ وَ ظَاهِرُهُمْ عَنْ بَاطِنِهِمْ وَ صَمْتُهُمْ عَنْ حِكَمِ مَنْطِقِهِمْ لَا يُخَالِفُونَ الْحَقَّ وَ لَا يَخْتَلِفُونَ فِيهِ هُمْ دَعَائِمُ الْإِسْلَامِ وَ وَلَائِجُ الِاعْتِصَامِ بِهِمْ عَادَ الْحَقُّ فِى نِصَابِهِ وَ انْزَاحَ الْبَاطِلُ عَنْ مَقَامِهِ وَ انْقَطَعَ لِسَانُهُ عَنْ مَنْبِتِهِ عَقَلُوا الدِّينَ عَقْلَ وِعَايَةٍ وَ رِعَايَةٍ لَا عَقْلَ سَمَاعٍ وَ رِوَايَةٍ فَإِنَّ رُوَاةَ الْعِلْمِ كَثِيرٌ وَ رُعَاتَهُ قَلِيلٌ

    They are life for knowledge and death for ignorance. Their forbearance tells you of their knowledge, their outer self of their inner self, and their silence of the wisdom of their speaking. They do not go against right nor do they differ (among themselves) about it. They are the pillars of Islam and the havens of (its) protection. With them, right has returned to its status and wrong has left its place and its tongue is severed from its root. They have understood the religion attentively and carefully, not by mere heresy or from relaters, because the relaters of knowledge are many but those who support it are few. ترجمہ زیرِ تیاری — انگریزی میں دکھایا گیا

  240. الخطبه 240 و من كلام له عليه السلام قاله لعبد الله بن عباس و قد جاءه برسالة من عثمان‏ و هو محصور يسأله فيها الخروج إلى ماله بينبع ليقل هتف الناس باسمه للخلافة بعد أن كان سأله مثل ذلك من قبل فقال عليه السلام

    240

    يَا ابْنَ عَبَّاسٍ مَا يُرِيدُ عُثْمَانُ إِلَّا أَنْ يَجْعَلَنِي جَمَلًا نَاضِحاً بِالْغَرْبِ وَ اُقْبِلُ وَ أُدْبِرُ بَعَثَ إِلَيَّ أَنْ أَخْرُجَ ثُمَّ بَعَثَ إِلَيَّ أَنْ أَقْدَمَ ثُمَّ هُوَ الْآنَ يَبْعَثُ إِلَيَّ أَنْ أَخْرُجَ وَ اللَّهِ لَقَدْ دَفَعْتُ عَنْهُ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ أَكُونَ آثِماً

    O' Ibn al-`Abbas! `Uthman just wants to treat me like the water-drawing camel with the bucket so that I may go forward and backward. Once he sent me word that I should go out then sent me word that I should come back. Now, again he sends me word that I should go out. By Allah, I continued protecting him till I feared lest I become a sinner. ترجمہ زیرِ تیاری — انگریزی میں دکھایا گیا

  241. الخطبه 241 و من كلام له عليه السلام يحث بِه أصحابَه على الجهاد

    241

    وَ اللَّهُ مُسْتَأْدِيكُمْ شُكْرَهُ وَ مُوَرِّثُكُمْ أَمْرَهُ وَ مُمْهِلُكُمْ فِي مِضْمَارٍ مَمْدُودٍ لَتَتَنَازَعُوا سَبَقَهُ فَشُدُّوا عُقَدَ الْمَآزِرِ وَ اطْوُوا فُضُولَ الْخَوَاصِرِ لَا تَجْتَمِعُ عَزِيمَةٌ وَ وَلِيمَةٌ مَا أَنْقَضَ النَّوْمَ لِعَزَائِمِ الْيَوْمِ وَ أَمْحَى الظُّلَمَ لِتَذَاكِيرِ الْهِمَمِ

    Allah admonishes you to thank Him and assigns to you His affairs. He has allowed time in the limited field (of life) so that you may vie with each other in seeking the reward (of Paradise). Therefore, tight up your girdles and wrap up the skirts. High courage and dinners do not go together. Sleep causes weakness in the big affairs of the day and (its) darkness obliterates the memories of courage. ترجمہ زیرِ تیاری — انگریزی میں دکھایا گیا

لنک کاپی ہو گیا

← لائبریری پر واپس