TheShia

الصحيفة السجادية

صحیفہ سجادیہ

83 بند ماخذ: Sahifa al-Sajjadiyya

یہ ترجمہ مشینی معاونت سے ہوا اور علمی نظرثانی کا منتظر ہے۔ اوپر کا عربی متن ہی معتبر ہے۔

اس صفحہ پر83
  1. دعاء 1 خداوند عالم کی حمد و ستائش
  2. دعاء 2 رسول اکرم (ص) پر درود و سلام
  3. دعاء 3 حاملان عرش اور دوسرے مقرب فرشتوں پر درود و صلوۃ
  4. دعاء 4 انبیاء کے تابعین اوران پر ایمان لانے والوں کے حق میں حضرت کی دعا
  5. دعاء 5 اپنے لئے اور اپنے دوستوں کے لیے حضرت کی دعا
  6. دعاء 6 دعائے صبح وشام
  7. دعاء 7 مشکلات کے وقت کی دعا
  8. دعاء 8 خواستگاری پناہ کے سلسلے کی دعا
  9. دعاء 9 طلب مغفرت کے سلسلے کی دعا
  10. دعاء 10 طلب پناہ کے سلسلے کی دعا
  11. دعاء 11 انجام بخیر ہونے کی دعا
  12. دعاء 12 اعتراف گناہ اور طلب توبہ کے سلسلہ میں حضرت کی دعا
  13. دعاء 13 طلب حاجات کے سلسلہ میں حضرت کی دعا
  14. دعاء 14 دادخواہی کی بابت کی دعا
  15. دعاء 15 مرض کے دفعیہ کی دعا
  16. دعاء 16 عذر وعفو تقصیر کے سلسلے میں دعا
  17. دعاء 17 شر شیطان کے دفیعہ کی دعا
  18. دعاء 18 دفع بلیات کے سلسلے میں دعا
  19. دعاء 19 طلب باراں کی دعا
  20. دعاء 20 پاکیزہ اخلاق سے آراستگی کی دعا
  21. دعاء 21 رنج و اندوہ کے موقع کی دعا
  22. دعاء 22 شدت و سختی کے وقت کی دعا
  23. دعاء 23 طلب عافیت کی دعا
  24. دعاء 24 والدین کے حق میں دعا
  25. دعاء 25 اولاد کے حق میں حضرت کی دعا
  26. دعاء 26 جب ہمسایوں اور دوستوں کو یاد کرتے تو ان کے لیے یہ دعا فرماتے
  27. دعاء 27 سرحدوں کی حفاظت کرنے والوں کے لۓ دعا
  28. دعاء 28 اللہ سے تضرع و زاری کے سلسلے میں دعا
  29. دعاء 29 تنگی رزق کے موقع پر پڑھنے کی دعا
  30. دعاء 30 قرض کی دعا
  31. دعاء 31 دعاۓ توبہ
  32. دعاء 32 نماز شب کے بعد کی دعا
  33. دعاء 33 دعائے استخارہ
  34. دعاء 34 گناہوں کی رسوائی سے بچنے کی دعا
  35. دعاء 35 رضاۓ الہی پر خوش رہنے کی دعا
  36. دعاء 36 جب بادل اور بجلی کو دیکھتے اور رعد کی آواز سنتے تو یہ دعا پڑھتے
  37. دعاء 37 جب ادائے شکر میں کوتاہی کا اعتراف کرتے تو یہ دعا پڑھتے
  38. دعاء 38 عذر و طلب مغفرت کے سلسلہ میں دعا
  39. 39۔ طلب عفو و رحمت کی دعا
  40. 40۔ موت کو یاد کرنے کے وقت کی دعا
  41. دعاء 39 پردہ پوشی و نگہداشت کی دعا
  42. دعاء 40 دعاۓ ختم القرآن
  43. دعاء 41 دعاۓ رویت ہلال
  44. دعاء 42 استقبال ماہ رمضان کی دعا
  45. دعاء 43 وداع ماہ رمضان کی دعا
  46. دعاء 44 عیدین اور جمعہ کی دعا
  47. دعاء 45 روزعرفہ کی دعا
  48. دعاء 46 عید قربان اور جمعہ کی دعا
  49. دعاء 47 دشمن کے مکر و فریب کی دعا
  50. دعاء 48 خوف الہی کے سلسلے میں دعا
  51. دعاء 49 عجز و زاری کے سلسلہ میں دعا
  52. دعاء 50 تضرع و الحاح کے سلسلہ میں دعا
  53. دعاء 51 عجز و فروتنی کے سلسلہ میں دعا
  54. دعاء 52 رنج و اندوہ کے دور ہونے کی دعا
  55. 55-تسبیح و تقدیس کے سلسلہ میں
  56. 56-بزرگی و عظمت الٰہی کے بیان میں
  57. 58-حضرتؑ کی دُعا جو ذکر آلِ محمد (ع) پر مشتمل ہے:
  58. 59-حضرت آدم (ع) پر درود و صلوات کے سلسلہ میں
  59. 60-کرب و مصیبت سے تحفظ اور لغزش و خطا سے معافی کیلئے
  60. 61-خوف و خطر کے موقع پر
  61. 57-تذلل و عاجزی کے سلسلہ میں
  62. مناجات تائبین
  63. مناجات شاکین
  64. مناجات خائفین
  65. مناجات راجین
  66. مناجات راغبین
  67. مناجات شاکرین
  68. مناجات مطِیعِین للہ
  69. مناجات مریدین
  70. مناجات محبین
  71. مناجات متوسلین
  72. مناجات مفتقرین
  73. مناجات عارفین
  74. مناجات ذاکرین
  75. مناجات معتصمین
  76. مناجات زاہدین
  77. اتوار کی دعا
  78. پیر کی دعا
  79. منگل کی دعا
  80. بدھ کی دعا
  81. جمعرات کی دعا
  82. جمعہ کی دعا
  83. ہفتہ کی دعا
  1. دعاء 1 خداوند عالم کی حمد و ستائش

    1

    أَلْحَمْدُ للهِ الاوَّلِ بِلا أَوَّل كَانَ قَبْلَهُ، وَ الاخِر بِلاَ آخِر يَكُونُ بَعْدَهُ ،الَّذِي قَصُرَتْ عَنْ رُؤْيَتِهِ أَبْصَارُ النَّاظِرِينَ وَ عَجَزَتْ عَنْ نَعْتِهِ أَوهامُ اَلْوَاصِفِينَ ابْتَدَعَ بِقُدْرَتِهِ الْخَلْقَ اَبتِدَاعَاً، وَاخْتَرَعَهُمْ عَلَى مَشِيَّتِهِ اخترَاعاً، ثُمَّ سَلَكَ بِهِمْ طَرِيقَ إرَادَتِهِ، وَبَعَثَهُمْ فِي سَبِيلِ مَحَبَّتِهِ لايَمْلِكُونَ تَأخِيراً عَمَا قَدَّمَهُمْ إليْهِ وَلا يَسْتَطِيعُونَ تَقَدُّماً إلَى مَا أَخَّرَهُمْ عَنْهُ، وَ جَعَلَ لِكُلِّ رُوْح مِنْهُمْ قُوتَاً مَعْلُوماً مَقْسُوماً مِنْ رِزْقِهِ لاَ يَنْقُصُ مَنْ زادَهُ نَاقِصٌ، وَلاَ يَزِيدُ مَنْ نَقَصَ منْهُمْ زَائِدٌ ثُمَّ ضَرَبَ لَهُ فِي الْحَيَاةِ أَجَلاً مَوْقُوتاً، وَ نَصَبَ لَهُ أَمَداً مَحْدُوداً، يَتَخَطَّأُ إلَيهِ بِأَيَّامِ عُمُرِهِ، وَيَرْهَقُهُ بِأَعْوَامِ دَهْرِهِ، حَتَّى إذَا بَلَغَ أَقْصَى أَثَرِهِ، وَ اسْتَوْعَبَ حِسابَ عُمُرِهِ، قَبَضهُ إلَى ما نَدَبَهُ إلَيْهِ مِنْ مَوْفُورِ ثَوَابِهِ أَوْ مَحْذُورِ عِقَابِهِ، لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَساءُوا بِمَا عَمِلُوا وَ يَجْزِىَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى عَدْلاً مِنْهُ تَقَدَّسَتْ أَسْمَآؤُهُ، وَتَظَاهَرَتْ ألاؤُهُ، لاَ يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ وَالْحَمْدُ للهِ الَّذِي لَوْ حَبَسَ عَنْ عِبَادِهِ مَعْرِفَةَ حَمْدِهِ عَلَى مَا أَبْلاَهُمْ مِنْ مِنَنِهِ الْمُتَتَابِعَةِ وَأَسْبَغَ عَلَيْهِمْ رمِنْ نِعَمِهِ الْمُتَظَاهِرَة لَتَصرَّفُوا فِي مِنَنِهِ فَلَمْ يَحْمَدُوهُ وَتَوَسَّعُوا فِي رِزْقِهِ فَلَمْ يَشْكُرُوهُ، وَلَوْ كَانُوا كَذلِكَ لَخَرَجُوا مِنْ حُدُودِ الانْسَانِيَّةِ إلَى حَدِّ الْبَهِيمِيَّةِ، :فَكَانُوا كَمَا وَصَفَ فِي مُحْكَم كِتَابِهِ ( إنْ هُمْ إلا كَالانْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ سَبِيلا ) وَالْحَمْدُ لله عَلَى مَا عَرَّفَنا من نفسه وَأَلْهَمَنَا مِنْ شُكْرِهِ وَفَتَحَ لَنَا من أبوَابِ الْعِلْمِ بِرُبُوبِيّته وَدَلَّنَا عَلَيْهِ مِنَ الاِخْلاَصِ لَهُ فِي تَوْحِيدِهِ وَجَنَّبَنا مِنَ الالْحَادِ وَالشَّكِّ فِي أَمْرِهِ، حَمْداً نُعَمَّرُ بِهِ فِيمَنْ حَمِدَهُ مِنْ خَلْقِهِ وَنَسْبِقُ بِـهِ مَنْ سَبَقَ إلَى رِضَاهُ وَعَفْوِهِ حَمْداً يُضِيءُ لَنَا بِهِ ظُلُمَاتِ الْبَرْزَخِ وَيُسَهِّلُ عَلَيْنَا بِهِ سَبِيلَ الْمَبْعَثِ وَيُشَرِّفُ بِهِ مَنَازِلَنَا عِنْدَ مَوَاقِفِ الاشْهَادِ يَوْمَ تُجْزَى كُلُّ نَفْس بِمَا كَسَبَتْ وَهُمْ لا يُظْلَمُونَ (يَوْمَ لاَ يُغْنِي مَوْلىً عَنْ مَوْلىً شَيْئاً وَلاَ هُمْ يُنْصَرُونَ) حَمْداً يَرْتَفِعُ مِنَّا إلَى أَعْلَى عِلِّيِّينَ فِي كِتَاب مَرْقُوم يَشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُونَ، حَمْداً تَقَرُّ بِهِ عُيُونُنَا إذَا بَرِقَت الابْصَارُ وَتَبْيَضُّ بِهِ وُجُوهُنَا إذَا اسْوَدَّتِ الابْشَارُ، حَمْداً نُعْتَقُ بِهِ مِنْ أَلِيمِ نار الله الى كَرِيمِ جِوَارِ اللهِ حَمْداً نُزَاحِمُ بِهِ مَلاَئِكَتَهُ الْمُقَرَّبِينَ وَنُضَامُّ بِـهِ أَنْبِيآءَهُ الْمُـرْسَلِيْنَ فِي دَارِ الْمُقَامَةِ الَّتِي لا تَزُولُ وَمَحَلِّ كَرَامَتِهِ الَّتِي لاَ تَحُولُ وَالْحَمْدُ للهِ الَّذِي اخْتَارَ لَنَا مَحَاسِنَ الْخَلْقِ وَأَجرى عَلَيْنَا طَيِّبَاتِ الرِّزْقِ وَجَعَلَ لَنَا الفَضِيلَةَ بِالْمَلَكَةِ عَلَى جَمِيعِ الْخَلْقِ فَكُلُّ خَلِيقَتِهِ مُنْقَادَةٌ لَنَا بِقُدْرَتِهِ، وَصَآئِرَةٌ إلَى طَاعَتِنَا بِعِزَّتِهِ وَالْحَمْدُ لله الَّذِي أَغْلَقَ عَنَّا بَابَ الْحَّاجَةِ إلاّ إلَيْهِ فَكَيْفَ نُطِيقُ حَمْدَهُ أَمْ مَتَى نُؤَدِّي شُكْرَهُ؟ لا، مَتى؟ وَالْحَمْدُ للهِ الَّذِي رَكَّبَ فِينَا آلاَتِ الْبَسْطِ وَجَعَلَ لَنَا أدَوَاتِ الْقَبْضِ، وَمَتَّعَنا بِاَرْواحِ الْحَياةِ وَأثْبَتَ فِينَا جَوَارِحَالاعْمَال وَغَذَّانَا بِطَيِّبَاتِ الرِّزْقِ ، وَأغْنانَا بِفَضْلِهِ وَأقْنانَا بِمَنِّهِ ثُمّ أَمَرَنَا لِيَخْتَبِرَطاعَتَنَا، وَنَهَانَا لِيَبْتَلِيَ شُكْرَنَا فَخَالَفْنَا عَنْ طَرِيْقِ أمْرِهِ وَرَكِبْنا مُتُونَ زَجْرهِ فَلَم يَبْتَدِرْنابِعُقُوبَتِه وَلَمْ يُعَاجِلْنَا بِنِقْمَتِهِ بَلْ تَانَّانا بِرَحْمَتِهِ تَكَرُّماً، وَانْتَظَرَ مُراجَعَتَنَا بِرَأفَتِهِ حِلْماً. وَالْحَمْدُ للهِ الَّذِي دَلَّنَاعَلَى التَّوْبَةِ الَّتِي لَمْ نُفِدْهَا إلاّ مِنْ فَضْلِهِ، فَلَوْ لَمْ نَعْتَدِدْ مِنْ فَضْلِهِ إلاّ بِهَالَقَدْ حَسُنَ بَلاؤُهُ عِنْدَنَا، وَ جَلَّ إحْسَانُهُ إلَيْنَا، وَ جَسُمَ فَضْلُهُ عَلَيْنَا فَمَا هكذا كَانَتْ سُنَّتُهُ فِي التَّوْبَةِ لِمَنْ كَانَ قَبْلَنَا لَقَدْ وَضَعَ عَنَّا مَا لا طَاقَةَ لَنَا بِهِ، وَلَمْ يُكَلِّفْنَا إلاّ وُسْعاً، وَ لَمْ يُجَشِّمْنَا إلاّ يُسْراً وَلَمْ يَدَعْ لاَحَـد مِنَّا حُجَّةً وَلاَ عُذْراً فَالْهَالِكُ مِنَّا مَنْ هَلَكَ عَلَيْهِ وَ السَّعِيدُ مِنَّا مَنْرَغِبَ إلَيْهِ وَ الْحَمْد للهِ بِكُلِّ مَا حَمِدَهُ بِهِ أدْنَى مَلائِكَتِهِ إلَيْهِ وَ أَكْرَمُ خَلِيقَتِهِ عَلَيْهِ وَأرْضَىحَامِدِيْهِ لَدَيْهِ حَمْداً يَفْضُلُ سَآئِرَ الْحَمْدِ كَفَضْلِ رَبِّنا عَلَى جَمِيعِ خَلْقِهِ ثُمَّ لَهُ الْحَمْدُ مَكَانَ كُلِّ نِعْمَة لَهُ عَلَيْنَا وَ عَلى جَمِيعِ عِبَادِهِ الْمَاضِينَ وَالْبَاقِينَ عَدَدَ مَا أَحَاطَ بِهِ عِلْمُهُ مِنْ جَمِيعِالاشْيَآءِ وَ مَكَانَ كُلِّ وَاحِدَة مِنْهَا عَدَدُهَا أَضْعافَاً مُضَاعَفَةً أَبَداً سَرْمَداً إلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ حَمْداً لاَ مُنْتَهَى لِحَدِّهِ وَ لا حِسَابَ لِعَدَدِهِ وَ لاَ مَبْلَغَ لِغَايَتِهِ وَ لا انْقِطَاعَ لاَمَدِهِ حَمْدَاً يَكُونُ وُصْلَةً إلَى طَاعَتِهِ وَعَفْوِهِ وَ سَبَباً إلَى رِضْوَانِهِ وَذَرِيعَةً إلَى مَغْفِرَتِهِ وَ طَرِيقاً إلَى جَنَّتِهِ وَخَفِيْراً مِنْ نَقِمَتِهِ وَ أَمْناً مِنْ غَضَبِهِ وَ ظَهِيْراً عَلَى طَاعَتِهِ وَ حَاجِزاً عَنْ مَعْصِيَتِهِ وَعَوْناً عَلَى تَأدِيَةِ حَقِّهِ وَ وَظائِفِهِ حَمْداً نَسْعَدُ بِهِ فِي السُّعَدَاءِ مِنْ أَوْلِيَآئِهِ وَنَصِيرُ بِهِ فِي نَظْمِ الشُّهَدَآءِ بِسُيُوفِ أَعْدَائِهِ إنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيدٌ

    جب آپؑ دُعا مانگتے تو اس کی ابتدا خدائے بزرگ و برتر کی حمد و ستائش سے فرماتے۔ چنانچہ اس سلسلہ میں فرمایا: سب تعریف اس اللہ کیلئے ہے جو ایسا اوّل ہے، جس کے پہلے کوئی اوّل نہ تھا اور ایسا آخر ہے جس کے بعد کوئی آخر نہ ہو گا۔ وہ خدا جس کے دیکھنے سے دیکھنے والوں کی آنکھیں عاجز اور جس کی توصیف و ثنا سے وصف بیان کرنے والوں کی عقلیں قاصر ہیں۔ اس نے کائنات کو اپنی قدرت سے پیدا کیا اور اپنے منشائے ازلی سے جیسا چاہا انہیں ایجاد کیا۔ پھر انہیں اپنے ارادہ کے راستہ پر چلایا اور اپنی محبت کی راہ پر ابھارا۔ جن حدود کی طرف انہیں آگے بڑھایا ہے، ان سے پیچھے رہنا اور جن سے پیچھے رکھا ہے ان سے آگے بڑھنا ان کے قبضہ و اختیار سے باہر ہے۔ اسی نے ہر (ذی) روح کیلئے اپنے (پیدا کردہ) رزق میں سے معین و معلوم روزی مقرر کر دی ہے۔ جسے زیادہ دیا ہے، اسے کوئی گھٹانے والا گھٹا نہیں سکتا اور جسے کم دیا ہے، اسے کوئی بڑھانے والا بڑھا نہیں سکتا۔ پھر یہ کہ اسی نے اس کی زندگی کا ایک وقت مقرر کر دیا اور ایک معینہ مدت اس کیلئے ٹھہرا دی۔ جس مدت کی طرف وہ اپنی زندگی کے دنوں سے بڑھتا اور اپنے زمانۂ زیست کے سالوں سے اس کے نزدیک ہوتا ہے، یہاں تک کہ جب زندگی کی انتہا کو پہنچ جاتا ہے اور اپنی عمر کا حساب پورا کر لیتا ہے تو اللہ اسے اپنے ثواب بے پایاں تک جس کی طرف اسے بلایا تھا یا خوفناک عذاب کی جانب جسے بیان کر دیا تھا، قبض روح کے بعد پہنچا دیتا ہے، تاکہ اپنے عدل کی بنا پر بُروں کو ان کی بداعمالیوں کی سزا اور نیکوکاروں کو اچھا بدلہ دے۔ اس کے نام پاکیزہ اور اس کی نعمتوں کا سلسلہ لگاتار ہے۔ وہ جو کرتا ہے اس کی پوچھ گچھ اس سے نہیں ہو سکتی اور لوگوں سے بہرحال بازپرس ہو گی۔ تمام تعریف اس اللہ کیلئے ہے کہ اگر وہ اپنے بندوں کو حمد و شکر کی معرفت سے محروم رکھتا، ان پیہم عطیوں پر جو اس نے دیئے ہیں اور ان پے در پے نعمتوں پر جو اس نے فراوانی سے بخشی ہیں، تو وہ اس کی نعمتوں میں تصرف تو کرتے مگر اس کی حمد نہ کرتے، اور اس کے رزق میں فارغ البالی سے بسر تو کرتے مگر اُس کا شکر بجانہ لاتے، اور ایسے ہوتے تو انسانیت کی حدوں سے نکل کر چوپائیوں کی حد میں آجاتے اور اس توصیف کے مصداق ہوتے جو اس نے اپنی محکم کتاب میں کی ہے کہ: ”وہ تو بس چوپائیوں کے مانند ہیں، بلکہ ان سے بھی زیادہ راہِ راست سے بھٹکتے ہوئے“۔ تمام تعریف اللہ کیلئے ہے کہ اس نے اپنی ذات کو ہمیں پہچنوایا اور حمد و شکر کا طریقہ سمجھایا اور اپنی پروردگاری پر علم و اطلاع کے دروازے ہمارے لئے کھول دیئے اور توحید میں تنزیہ و اخلاص کی طرف ہماری رہنمائی کی اور اپنے معاملہ میں شرک و کجروی سے ہمیں بچایا۔ ایسی حمد جس کے ذریعہ ہم اس کی مخلوقات میں سے حمد گزاروں میں زندگی بسر کریں اور اس کی خوشنودی و بخشش کی طرف بڑھنے والوں سے سبقت لے جائیں۔ ایسی حمد جس کی بدولت ہمارے لئے برزخ کی تاریکیاں چھٹ جائیں اور جو ہمارے لئے قیامت کی راہوں کو آسان کر دے اور حشر کے مجمع عام میں ہماری قدر و منزلت کو بلند کر دے، جس دن ہر ایک کو اُس کے کئے کا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر کسی طرح کا ظلم نہ ہو گا۔ جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔ ایسی حمد جو ایک لکھی ہوئی کتاب میں ہے جس کی مقرب فرشتے نگہداشت کرتے ہیں، ہماری طرف سے بہشت بریں کے بلند ترین درجات تک بلند ہو۔ ایسی حمد جس سے ہماری آنکھوں میں ٹھنڈک آئے جبکہ تمام آنکھیں حیرت و دہشت سے پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی اور ہمارے چہرے روشن و درخشاں ہوں جبکہ تمام چہرے سیاہ ہوں گے۔ ایسی حمد جس کے ذریعہ ہم اللہ تعالیٰ کی بھڑکائی ہوئی اذیت دہ آگ سے آزادی پا کر اس کے جوارِ رحمت میں آجائیں۔ ایسی حمد جس کے ذریعہ ہم اس کے مقرب فرشتوں کے ساتھ شانہ بشانہ بڑھتے ہوئے ٹکرائیں اور اس منزلِ جاوید و مقامِ عزت و رفعت میں جسے تغیر و زوال نہیں، اس کے فرستادہ پیغمبروں کے ساتھ یکجا ہوں۔ تمام تعریف اس اللہ کیلئے ہے جس نے خلقت و آفرینش کی تمام خوبیاں ہمارے لئے منتخب کیں اور پاک و پاکیزہ رزق کا سلسلہ ہمارے لئے جاری کیا اور ہمیں غلبہ و تسلط دے کر تمام مخلوقات پر برتری عطا کی۔ چنانچہ تمام کائنات اس کی قدرت سے ہمارے زیرِ فرمان اور اس کی قوت و سربلندی کی بدولت ہماری اطاعت پر آمادہ ہے۔ تمام تعریف اس اللہ تعالیٰ کیلئے ہے جس نے اپنے سوا طلب و حاجت کا ہر دروازہ ہمارے لئے بند کر دیا تو ہم (اس حاجت و احتیاج کے ہوتے ہوئے) کیسے اس کی حمد سے عہدہ برآ ہو سکتے ہیں؟ اور کب اس کا شکر ادا کر سکتے ہیں؟ نہیں! کسی وقت بھی اس کا شکر ادا نہیں ہو سکتا۔ تمام تعریف اس اللہ کیلئے ہے، جس نے ہمارے (جسموں میں) پھیلنے والے اعصاب اور سمٹنے والے عضلات ترتیب دیئے اور زندگی کی آسائشوں سے بہرہ مند کیا اور کار و کسب کے اعضاء ہمارے اندر ودیعت فرمائے اور پاک و پاکیزہ روزی سے ہماری پرورش کی اور اپنے فضل و کرم کے ذریعہ ہمیں بے نیاز کر دیا اور اپنے لطف و احسان سے ہمیں ( نعمتوں کا) سرمایہ بخشا۔ پھر اس نے اپنے اوامر کی پیروی کا حکم دیا تاکہ فرمانبرداری میں ہم کو آزمائے اور نواہی کے ارتکاب سے منع کیا تاکہ ہمارے شکر کو جانچے۔ مگر ہم نے اس کے حکم کی راہ سے انحراف کیا اور نواہی کے مرکب پر سوار ہو لئے۔ پھر بھی اس نے عذاب میں جلدی نہیں کی اور سزا دینے میں تعجیل سے کام نہیں لیا، بلکہ اپنے کرم و رحمت سے ہمارے ساتھ نرمی کا برتاؤ کیا اور حلم و رافت سے ہمارے باز آ جانے کا منتظر رہا۔ تمام تعریف اس اللہ کیلئے ہے جس نے ہمیں توبہ کی راہ بتائی کہ جسے ہم نے صرف اس کے فضل و کرم کی بدولت حاصل کیا ہے۔ تو اگر ہم اس کی بخششوں میں سے اس توبہ کے سوا اور کوئی نعمت شمار میں نہ لائیں تو یہی توبہ ہمارے حق میں اس کا عمدہ انعام، بڑا احسان اور عظیم فضل ہے۔ اس لئے کہ ہم سے پہلے لوگوں کیلئے توبہ کے بارے میں اس کا یہ رویہ نہ تھا۔ اس نے تو جس چیز کے برداشت کرنے کی ہمیں طاقت نہیں ہے، وہ ہم سے ہٹا لی اور ہماری طاقت سے بڑھ کر ہم پر ذمہ داری عائد نہیں کی اور صرف سہل و آسان چیزوں کی ہمیں تکلیف دی ہے اور ہم میں سے کسی ایک کیلئے حیل و حجت کی گنجائش نہیں رہنے دی۔ لہٰذا وہی تباہ ہونے والا ہے جواس کی منشاء کے خلاف اپنی تباہی کا سامان کرے، اور وہی خوش نصیب ہے جو اس کی طرف توجہ و رغبت کرے۔ اللہ کیلئے حمد و ستائش ہے، ہر وہ حمد جو اس کے مقرب فرشتے، بزرگ ترین مخلوقات اور پسندیدہ حمد کرنے والے بجا لاتے ہیں۔ ایسی ستائش جو دوسری ستائشوں سے بڑھی چڑھی ہوئی ہو، جس طرح ہمارا پروردگار تمام مخلوقات سے بڑھا ہوا ہے۔ پھر اسی کیلئے حمد و ثنا ہے، اس کی ہر ہر نعمت کے بدلے میں جو اس نے ہمیں اور تمام گزشتہ و باقی ماندہ بندوں کو بخشی ہے، ان تمام چیزوں کے شمار کے برابر جن پر اس کا علم حاوی ہے اور ہر نعمت کے مقابلہ میں دوگنی چوگنی جو قیامت کے دن تک دائمی و ابدی ہو۔ ایسی حمد جس کا کوئی آخری کنار اور جس کی گنتی کا کوئی شمار نہ ہو۔ جس کی حد و نہایت دسترس سے باہر اور جس کی مدت غیر مختتم ہو۔ ایسی حمد جو اس کی اطاعت و بخشش کا وسیلہ، اس کی رضا مندی کا سبب، اس کی مغفرت کا ذریعہ، جنت کا راستہ، اس کے عذاب سے پناہ، اس کے غضب سے امان، اس کی اطاعت میں مُعِین، اس کی معصیت سے مانع اور اس کے حقوق و واجبات کی ادائیگی میں مددگار ہو۔ ایسی حمد جس کے ذریعہ ہم اس کے خوش نصیب دوستوں میں شامل ہو کر خوش نصیب قرار پائیں اور ان شہیدوں کے زمرہ میں شمار ہوں جو اس کے دشمنوں کی تلواروں سے شہید ہوئے۔ بیشک وہی مالک و مختار اور قابلِ ستائش ہے۔

  2. دعاء 2 رسول اکرم (ص) پر درود و سلام

    2

    وَالْحَمْدُ للهِ الَّذِي مَنَّ عَلَيْنَا بِمُحَمَّدٍ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ دُونَ ٱلْاُمَمِ ٱلْمَاضِيَةِ وَٱلْقُـرُونِ السَّالِفَةِ بِقُدْرَتِهِ الَّتِي لَا تَعْجِزُ عَنْ شَيْ‏ءٍ وَ إِنْ عَظُمَ وَ لا يَفُوتُهَا شَيءٌ وَإنْ لَطُفَ، فَخَتَمَ بِنَاعَلَى جَمِيع مَنْ ذَرَأَ وَ جَعَلَنَا شُهَدَاءَ عَلَى مَنْ جَحَدَ وَكَثَّرَنا بِمَنِّهِ عَلَى مَنْ قَلَّ اللَّهُمَّ فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ أَمِينِكَ عَلَى وَحْيِكَ وَنَجِيبِكَ مِنْ خَلْقِكَ وَ صَفِيِّكَ مِنْ عِبَادِكَ إمَامِ الرَّحْمَةِ وَقَائِدِ الْخَيْرِ وَ مِفْتَاحِ الْبَرَكَةِ كَمَا نَصَبَ لِأَمْرِكَ نَفْسَهُ وَ عَرَّضَ فِيْكَ لِلْمَكْرُوهِ بَدَنَهُ وَكَاشَفَ فِي الدُّعَآءِ إلَيْكَ حَامَّتَهُ وَحَارَبَ فِي رِضَاكَ أسْرَتَهُ وَقَطَعَ فِىْ إحْياءِ دِينِكَ رَحِمَهُ وَ أَقْصَى الْأَدْنَيْنَ عَلَى جُحُودِهِمْ وَ قَرَّبَ الْأَقْصَيْنَ عَلَى اسْتِجَابَتِهِمْ لَكَ وَ وَالَى فِيكَ الْأَبْعَدِينَ وَ عَادَى فِيكَ الْأَقْرَبِينَ و أَدْأَبَ نَفْسَهُ فِي تَبْلِيغِ رِسَالَتِكَ وَأَتْعَبَهَا بِالدُّعآءِ إِلٰى مِلَّتِكَ وَ شَغَلَهَا بِالنُّصْحِ لِأَهْلِ دَعْوَتِكَ وَهَاجَرَ إِلٰى بِلاَدِ الْغُرْبَةِ وَمَحَلِّ النَّأْيِ عَنْ مَوْطِنِ رَحْلِهِ وَمَوْضِـعِ رِجْلِهِ وَ مَسْقَطِ رَأْسِهِ وَمَأْنَسِ نَفْسِهِ إِرَادَةً مِنْهُ لِإِعْزَازِ دِينِكَ واسْتِنْصَاراً عَلَى أَهْلِ الْكُفْرِ بِكَ حَتَّى ٱسْتَتَبَّ لَهُ مَا حَاوَلَ فِي أَعْدَائِكَ وَاسْتَتَمَّ لَهُ مَا دَبَّرَ فِي أَوْلِيآئِكَ فَنَهَدَ إلَيْهِمْ مُسْتَفْتِحاً بِعَوْنِكَ وَمُتَقَوِّياً عَلَى ضَعْفِهِ بِنَصْرِكَ فَغَزَاهُمْ فِي عُقْرِ دِيَارِهِمْ وَهَجَمَ عَلَيْهِمْ فِي بُحْبُوحَةِ قَرَارِهِمْ حَتَّى ظَهَرَ أَمْرُكَ وَعَلَتْ كَلِمَتُكَ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ اَللَّهُمَّ فَارْفَعْهُ بِمَا كَدَحَ فِيكَ إِلٰى الدَّرَجَةِ الْعُلْيَا مِنْ جَنَّتِكَ حَتَّى لاَ يُسَاوَى فِي مَنْزِلَة وَلا يُكَاْفَأَ فِي مَرْتَبَة وَلَا يُوَازِيَهُ لَدَيْكَ مَلَكٌ مُقَرَّبٌ وَلَا نَبِيٌّ مُرْسَلٌ وَعَرِّفْهُ فِي أَهْلِهِ الطَّاهِرِينَ وَاُمَّتِهِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ حُسْنِ الشَّفَاعَةِ أَجَلَّ مَا وَعَدْتَهُ يَا نَافِذَ الْعِدَةِ يَا وَافِىَ الْقَوْلِ يَا مُبَدِّلَ السَّيِّئَاتِ بِأَضْعَافِهَا مِنَ الْحَسَنَاتِ إنَّكَ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ الْجَوَادُ اَلْكَرِيمُ

    تحمید و ستائش کے بعد رسول اللہ ﷺ پر درود و سلام کے سلسلہ میں آپؑ کی دُعا: تمام تعریف اُس اللہ تعالیٰ کیلئے ہے جس نے اپنے پیغمبر محمدﷺ کی بعثت سے ہم پر وہ احسان فرمایا جو نہ گزشتہ امتوں پر کیا اور نہ پہلے لوگوں پر، اپنی اس قدرت کی کارفرمائی سے جو کسی شے سے عاجز و درماندہ نہیں ہوتی، اگرچہ وہ کتنی ہی بڑی ہو اور کوئی چیز اس کے قبضہ سے نکلنے نہیں پاتی، اگرچہ وہ کتنی ہی لطیف و نازک ہو۔ اس نے اپنے مخلوقات میں ہمیں آخری اُمت قرار دیا اور انکار کرنے والوں پر گواہ بنایا اور اپنے لطف و کرم سے کم تعداد والوں کے مقابلہ میں ہمیں کثرت دی۔ اے اللہ! تو رحمت نازل فرما محمدﷺ اور ان کی آلؑ پر جو تیری وحی کے امانتدار، تمام مخلوقات میں تیرے برگزیدہ، تیرے بندوں میں پسندیدہ، رحمت کے پیشوا، خیر و سعادت کے پیشرو اور برکت کا سرچشمہ تھے۔ جس طرح انہوں نے تیری شریعت کی خاطر اپنے کو مضبوطی سے جمایا اور تیری راہ میں اپنے جسم کو ہر طرح کے آزار کا نشانہ بنایا اور تیری طرف دعوت دینے کے سلسلہ میں اپنے عزیزوں سے دشمنی کا مظاہرہ کیا اور تیری رضامندی کیلئے اپنے قوم قبیلے سے جنگ کی اور تیرے دین کو زندہ کرنے کیلئے سب رشتے ناطے قطع کر لئے، نزدیک کے رشتہ داروں کو انکار کی وجہ سے دور کر دیا اور دور والوں کو اقرار کی وجہ سے قریب کیا اور تیری وجہ سے دور والوں سے دوستی اور نزدیک والوں سے دشمنی رکھی اور تیرا پیغام پہنچانے کیلئے تکلیفیں اٹھائیں اور دین کی طرف دعوت دینے کے سلسلہ میں زحمتیں برداشت کیں اور اپنے نفس کو ان لوگوں کے پند و نصیحت کرنے میں مصروف رکھا جنہوں نے تیری دعوت کو قبول کیا اور اپنے محل سکونت و مقام رہائش اور جائے ولادت و وطن مالوف سے پردیس کی سر زمین اور دور و دراز مقام کی طرف محض اس مقصد سے ہجرت کی کہ تیرے دین کو مضبوط کریں اور تجھ سے کفر اختیار کرنے والوں پر غلبہ پائیں۔ یہاں تک کہ تیرے دشمنوں کے بارے میں جو انہوں نے چاہا تھا وہ مکمل ہو گیا اور تیرے دوستوں (کو جنگ و جہاد پر آمادہ کرنے) کی تدبیریں کامل ہو گئیں تو وہ تیری نصرت سے فتح و کامرانی چاہتے ہوئے اور اپنی کمزوری کے باوجود تیری مدد کی پشت پناہی پر دشمنوں کے مقابلہ کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے اور ان کے گھروں کے حدود میں ان سے لڑے اور ان کی قیام گاہوں کے وسط میں ان پر ٹوٹ پڑے۔ یہاں تک کہ تیرا دین غالب اور تیرا کلمہ بلند ہو کر رہا، اگرچہ مشرک اسے ناپسند کرتے رہے۔ اے اللہ!انہوں نے تیری خاطر جو کوششیں کی ہیں ان کے عوض انہیں جنت میں ایسا بلند درجہ عطا کر کہ کوئی مرتبہ میں ان کے برابر نہ ہو سکے، اور نہ منزلت میں ان کا ہم پایہ قرار پا سکے، اور نہ کوئی مقرب بارگاہ فرشتہ اور نہ کوئی فرستادہ پیغمبر تیرے نزدیک ان کا ہمسر ہو سکے، اور ان کے اہل بیت اطہار علیہم السلام اور مومنین کی جماعت کے بارے میں جس قابل قبول شفاعت کا تو نے ان سے وعدہ فرمایا ہے اس وعدہ سے بڑھ کر انہیں عطا فرما۔ اے وعدہ کے نافذ کرنے والے، قول کے پورا کرنے اور برائیوں کو کئی گنا زائد اچھائیوں سے بدل دینے والے، بے شک تو فضل عظیم کا مالک ہے۔

  3. دعاء 3 حاملان عرش اور دوسرے مقرب فرشتوں پر درود و صلوۃ

    3

    اللَّهُمَّ وَحَمَلَةُ عَرْشِكَ الَّذِينَ لا يَفْتُرُونَ مِنْ تَسْبِيحِكَ، وَلا يَسْـأَمُـونَ مِنْ تَقْـدِيْسِكَ، وَلا يَسْتَحسِرُونَ مِنْ عِبَادَتِكَ، وَلاَ يُؤْثِرُونَ التَّقْصِيرَ عَلَى الْجِدِّ فِي أَمْرِكَ، وَلا يَغْفُلُونَ عَنِ الْوَلَهِ إلَيْكَ. وَإسْرافِيْلُ صَاحِبُ الصُّوْرِ، الشَّاخِصُ الَّذِي يَنْتَظِرُ مِنْكَ الاذْنَ وَحُلُولَ الامْرِ، فَيُنَبِّهُ بِالنَّفْخَةِ صَرْعى رَهَائِنِ الْقُبُورِ. وَمِيكَآئِيلُ ذُو الْجَاهِ عِنْدَكَ، وَالْمَكَانِ الرَّفِيعِ مِنْ طَاعَتِكَ. وَجِبْريلُ الامِينُ عَلَى وَحْيِكَ، الْمُطَاعُ فِي أَهْلِ سَمَاوَاتِكَ، الْمَكِينُ لَدَيْكَ، الْمُقَرَّبُ عِنْدَكَ، وَالرُّوحُ الَّذِي هُوَ عَلَى مَلائِكَةِ الْحُجُبِ، وَالرُّوحُ الَّذِي هُوَ مِنْ أَمْرِكَ. أَللَّهُمَّ فَصَلِّ عليهم وَعَلَى الْمَلاَئِكَـةِ الَّـذِينَ مِنْ دُونِهِمْ مِنْ سُكَّـانِ سَمَاوَاتِكَ وَأَهْلِ الامَانَةِ عَلَى رِسَالاَتِكَ، وَالَّذِينَ لا تَدْخُلُهُمْ سَأْمَةٌ مِنْ دؤُوب ، وَلاَ إعْيَاءٌ مِنْ لُغُوب وَلاَ فُتُورٌ، وَلاَ تَشْغَلُهُمْ عَنْ تَسْبِيحِكَ الشَّهَوَاتُ، وَلا يَقْطَعُهُمْ عَنْ تَعْظِيمِكَ سَهْوُ الْغَفَـلاَتِ، الْخُشَّعُ الابْصارِ فلا يَرُومُونَ النَّظَرَ إلَيْكَ ، النَّواكِسُ الاذْقانِ الَّذِينَ قَدْ طَالَتْ رَغْبَتُهُمْ فِيمَا لَدَيْكَ الْمُسْتَهْتِرُونَ بِذِكْرِ آلائِكَ وَالْمُتَوَاضِعُونَ دُونَ عَظَمَتِكَ وَجَلاَلِ كِبْرِيآئِكَ وَالَّذِينَ يَقُولُونَ إذَا نَظَرُوا إلَى جَهَنَّمَ تَزْفِرُ عَلَى أَهْلِ مَعْصِيَتِكَ: سُبْحَانَكَ مَا عَبَدْنَاكَ حَقَّ عِبَـادَتِكَ. فَصَـلِّ عَلَيْهِمْ وَعَلَى الرَّوْحَانِيِّينَ مِنْ مَلائِكَتِكَ، وَ أهْلِ الزُّلْفَةِ عِنْدَكَ، وَحُمَّالِ الْغَيْبِ إلى رُسُلِكَ، وَالْمُؤْتَمَنِينَ على وَحْيِكَ وَقَبائِلِ الْمَلائِكَةِ الَّذِينَ اخْتَصَصْتَهُمْ لِنَفْسِكَ، وَأَغْنَيْتَهُمْ عَنِ الطَّعَامِ والشَّرَابِ بِتَقْدِيْسِكَ، وَأسْكَنْتَهُمْ بُطُونَ أطْبَـاقِ سَمَاوَاتِكَ، وَالّذينَ عَلَى أرْجَآئِهَا إذَا نَزَلَ الامْرُ بِتَمَامِ وَعْدِكَ، وَخزّانِ الْمَطَرِ وَزَوَاجِرِ السَّحَابِ، وَالّذِي بِصَوْتِ زَجْرِهِ يُسْمَعُ زَجَلُ ألرُّعُوْدِ، وَإذَا سَبَحَتْ بِهِ حَفِيفَةُ السّحَـابِ الْتَمَعَتْ صَوَاعِقُ الْبُرُوقِ. وَمُشَيِّعِيْ الْثَلْجِ وَالْبَرَدِ. وَالْهَابِطِينَ مَعَ قَطْرِ الْمَطَر إَذَا نَزَلَ، وَالْقُوَّامِ عَلَى خَزَائِنِ الرّيَاحِ، وَ المُوَكَّلِينَ بِالجِبَالِ فَلا تَزُولُ. وَالَّذِينَ عَرَّفْتَهُمْ مَثَاقِيلَ الْمِياهِ، وَكَيْلَ مَا تَحْوِيهِ لَوَاعِجُ الامْطَارِ وَعَوَالِجُهَا، وَرُسُلِكَ مِنَ الْمَلائِكَةِ إلَى أهْلِ الارْضِ بِمَكْرُوهِ مَا يَنْزِلُ مِنَ الْبَلاءِ، وَمَحْبُوبِ الرَّخَآءِ، والسَّفَرَةِ الْكِرَامِ اَلبَرَرَةِ، وَالْحَفَظَةِ الْكِرَامِ الْكَاتِبِينَ، وَمَلَكِ الْمَوْتِ وَأعْوَانِهِ، وَمُنْكَر وَنَكِير، وَرُومَانَ فَتَّانِ الْقُبُورِ، وَالطَّائِفِينَ بِالبَيْتِ الْمَعْمُورِ، وَمَالِك، وَالْخَزَنَةِ، وَرُضْوَانَ، وَسَدَنَةِ الْجِنَانِ وَالَّذِيْنَ لاَ يَعْصُوْنَ اللّهَ مَا أمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ. وَالَّذِينَ يَقُولُونَ: سَلاَمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الـدّارِ. والزّبانيةُ الذّينَ إذَا قِيْـلَ لَهُمْ: خُذُوهُ فَغُلُّوْهُ ثُمَّ الْجَحِيمَ صَلُّوْهُ ابْتَدَرُوهُ سِرَاعاً وَلَمْ يُنْظِرُوهُ. وَمَنْ أوْهَمْنَا ذِكْرَهُ، وَلَمْ نَعْلَمْ مَكَانَهُ مِنْكَ، وَبأيِّ أمْر وَكَّلْتَهُ. وَسُكّانُ الْهَوَآءِ وَالارْضِ وَالمآءِ، وَمَنْ مِنْهُمْ عَلَى الْخَلْقِ فَصَلِّ عَلَيْهِمْ يَوْمَ تَأْتي كُلُّ نَفْس مَعَهَا سَائِقٌ وَشَهِيدٌ، وَصَلّ عَلَيْهِمْ صَلاَةً تَزِيدُهُمْ كَرَامَةً عَلى كَرَامَتِهِمْ، وَطَهَارَةً عَلَى طَهَارَتِهِمْ اللّهُمَّ وَإذَا صَلَّيْتَ عَلَى مَلاَئِكَتِكَ وَرُسُلِكَ، وَبَلَّغْتَهُمْ صَلاَتَنَا عَلَيْهِمْ، فَصَلِّ عَلَينا بِمَا فَتَحْتَ لَنَا مِنْ حُسْنِ الْقَوْلِ فِيْهِمْ إنَّكَ جَوَاْدٌ كَرِيمٌ .

    حاملان عرش اور دوسرے مقرب فرشتوں پر درود و صلوٰۃ کے سلسلہ میں آپؑ کی دُعا: اے اللہ! تیرے عرش کے اٹھانے والے فرشتے جو تیری تسبیح سے اُکتاتے نہیں، اور تیری پاکیزگی کے بیان سے تھکتے نہیں، اور نہ تیری عبادت سے خستہ و ملول ہوتے ہیں، اور نہ تیرے تعمیل امر میں سعی و کوشش کے بجائے کوتاہی برتتے ہیں،اور نہ تجھ سے لو لگانے سے غافل ہوتے ہیں۔ اور ’’اسرافیلؑ‘‘ صاحب صور جو نظر اٹھائے ہوئے تیری اجازت اور نفاذ حکم کے منتظر ہیں تاکہ صور پھونک کر قبروں میں پڑے ہوئے مردوں کو ہوشیار کریں، اور ’’میکائیلؑ‘‘ جو تیرے یہاں مرتبہ والے اور تیری اطاعت کی وجہ سے بلند منزلت ہیں، اور ’’جبریلؑ‘‘ جو تیری وحی کے امانتدار اور اہل آسمان جن کے مطیع و فرمانبردار ہیں اور تیری بارگاہ میں مقام بلند اور تقرب خاص رکھتے ہیں اور وہ ’’روح‘‘ جو فرشتگان حجاب پر مؤکل ہے، اور وہ ’’روح‘‘ جس کی خلقت تیرے عالم امر سے ہے۔ ان سب پر اپنی رحمت نازل فرما اور اسی طرح ان فرشتوں پر جو ان سے کم درجہ اور آسمانوں میں ساکن اور تیرے پیغاموں کے امین ہیں، اور ان فرشتوں پر جن میں کسی سعی و کوشش سے بددلی اور کسی مشقت سے خستگی و درماندگی پیدا نہیں ہوتی اور نہ تیری تسبیح سے نفسانی خواہشیں انہیں روکتی ہیں اور نہ ان میں غفلت کی رُو سے ایسی بھول چوک پیدا ہوتی ہے جو انہیں تیری تعظیم سے باز رکھے۔ وہ آنکھیں جھکائے ہوئے ہیں کہ ( تیرے نور عظمت کی طرف ) نگاہ اٹھانے کا ارادہ بھی نہیں کرتے، اور ٹھوڑیوں کے بل گرے ہوئے ہیں، اور تیرے یہاں کے درجات کی طرف ان کا اشتیاق بے حدوبے نہایت ہے، اور تیری نعمتوں کی یاد میں کھوئے ہوئے ہیں، اور تیری عظمت و جلال کبریائی کے سامنے سر افگندہ ہیں، اور ان فرشتوں پر جو جہنم کو گنہگاروں پر شعلہ ور دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں: ’’پاک ہے تیری ذات! ہم نے تیری عبادت جیسا حق تھا ویسی نہیں کی‘‘۔ اے اللہ! تو ان پر اور فرشتگان رحمت پر، اور ان پر جنہیں تیری بارگاہ میں تقرب حاصل ہے، اور تیرے پیغمبروں کی طرف چھپی ہوئی خبریں لے جانے والے، اور تیری وحی کے امانتدار ہیں، اور ان قسم قسم کے فرشتوں پر جنہیں تو نے اپنے لئے مخصوص کر لیا ہے اور جنہیں تسبیح و تقدیس کے ذریعہ کھانے پینے سے بے نیاز کر دیا ہے، اور جنہیں آسمانی طبقات کے اندرونی حصوں میں بسایا ہے۔ اور ان فرشتوں پر جو آسمان کے کناروں میں توقف کریں گے جب کہ تیرا حکم وعدے کے پورا کرنے کے سلسلہ میں صادر ہو گا، اور بارش کے خزینہ داروں، اور بادلوں کے ہنکانے والوں پر، اور اس پر جس کے جھڑکنے سے رعد کی کڑک سنائی دیتی ہے، اور جب اس ڈانٹ ڈپٹ پر گرجنے والے بادل رواں ہوتے ہیں تو بجلی کے کوندے تڑپنے لگتے ہیں، اور ان فرشتوں پر جو برف اور اَولوں کے ساتھ ساتھ رہتے ہیں اور جب بارش ہوتی ہے تو اس کے قطروں کے ساتھ اترتے ہیں اور ہوا کے ذخیروں کی دیکھ بھال کرتے ہیں، اور ان فرشتوں پر جو پہاڑوں پر مؤکل ہیں تاکہ وہ اپنی جگہ سے ہٹنے نہ پائیں اور ان فرشتوں پر جنہیں تو نے پانی کے وزن اور موسلادھار اور تلاطم افزا بارشوں کی مقدار پر مطلع کیا ہے اور ان فرشتوں پر جو ناگوار ابتلاؤں اور خوش آئند آسائشوں کو لے کر اہل زمین کی جانب تیرے فرستادہ ہیں۔ اور ان پر جو اعمال کا احاطہ کرنے والے گرامی منزلت اور نیکوکار ہیں، اور ان پر جو نگہبانی کرنے والے کراماً کاتبین ہیں، اور ملک الموت اور اس کے اعوان و انصار، اور منکر نکیر اور اہل قبور کی آزمائش کرنے والے رومان پر، اور بیت المعمور کا طواف کرنے والوں پر، اور مالک اور جہنم کے دربانوں پر، اور رضوان اور جنت کے دوسرے پاسبانوں پر۔ اور ان فرشتوں پر جو خدا کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم انہیں دیا جاتا ہے اسے بجا لاتے ہیں اور ان فرشتوں پر جو (آخرت میں) سلام علیکم کے بعد کہیں گے کہ: ’’دنیا میں تم نے صبر کیا (یہ اسی کا بدلہ ہے) دیکھو تو آخرت کا گھر کیسا اچھا ہے‘‘، اور دوزخ کے ان پاسبانوں پر کہ جب ان سے یہ کہا جائے گا کہ: اسے گرفتار کر کے طوق و زنجیر پہنا دو پھر اسے جہنم میں جھونک دو تو وہ اس کی طرف تیزی سے بڑھیں گے اور اسے ذرا مہلت نہ دیں گے۔ اور ہر اس فرشتے پر جس کا نام ہم نے نہیں لیا اور نہ ہمیں معلوم ہے کہ اس کا تیرے ہاں کیا مرتبہ ہے اور یہ کہ تو نے کس کام پر اسے معین کیا ہے، اور ہوا، زمین اور پانی میں رہنے والے فرشتوں پر اور ان پر جو مخلوقات پر معین ہیں۔ ان سب پر رحمت نازل کر اس دن کہ جب ہر شخص اس طرح آئے گا کہ اس کے ساتھ ایک ہنکانے والا ہو گا اور ایک گواہی دینے والا، اور ان سب پر ایسی رحمت نازل فرما جو ان کیلئے عزت بالائے عزت اور طہارت بالائے طہارت کا باعث ہو۔ اے اللہ! جب تو اپنے فرشتوں اور رسولوں پر رحمت نازل کرے اور ہمارے صلوٰۃ و سلام کو ان تک پہنچائے، تو ہم پر بھی اپنی رحمت نازل کرنا، اس لئے کہ تو نے ہمیں ان کے ذکر خیر کی توفیق بخشی۔ بے شک تو بخشنے والا اور کریم ہے۔

  4. دعاء 4 انبیاء کے تابعین اوران پر ایمان لانے والوں کے حق میں حضرت کی دعا

    4

    اَللَّهُمَّ وَأَتْبَاعُ الرُّسُلِ وَمُصَدِّقُوهُمْ مِنْ أَهْلِ الاَرْضِ بِالْغَيْبِ عِنْدَ مُعَارَضَةِ الْمُعَـانِدينَ لَهُمْ بِالتَّكْذِيبِ وَالاشْتِيَاقِ إلَى الْمُرْسَلِينَ بِحَقائِقِ الايْمَانِ . فِي كُلِّ دَهْر وَزَمَان أَرْسَلْتَ فِيْهِ رَسُولاً، وَأَقَمْتَ لاهْلِهِ دَلِيلاً، مِنْ لَدُنْ آدَمَ إلَى مُحَمَّد صَلَّى الله عَلَيْهِ وَآلِـهِ مِنْ أَئِمَّةِ الْهُـدَى، وَقَادَةِ أَهْـلِ التُّقَى عَلَى جَمِيعِهِمُ السَّلاَمُ، فَاذْكُرْهُمْ مِنْكَ بِمَغْفِرَة وَرِضْوَان. اَللَّهُمَّ وَأَصْحَابُ مُحَمَّد خَاصَّةً الَّـذِينَ أَحْسَنُوا الصَّحَابَةَ، وَالَّذِينَ أَبْلَوْا الْبَلاَءَ الْحَسَنَ فِي نَصْرِهِ، وَكَانَفُوهُ وَأَسْرَعُوا إلَى وِفَادَتِهِ وَسَابَقُوا إلَى دَعْوَتِهِ واسْتَجَابُوا لَهُ حَيْثُ أَسْمَعَهُمْ حجَّةَ رِسَالاَتِهِ، وَفَارَقُوا الازْوَاجَ وَالاوْلادَ فِي إظْهَارِ كَلِمَتِهِ، وَقَاتَلُوا الاباءَ وَ الابناءَ فِي تَثْبِيتِ نبُوَّتِهِ، وَانْتَصَرُوا بهِ وَمَنْ كَانُوا مُنْطَوِينَ عَلَى مَحبَّتِهِ يَرْجُونَ تِجَارَةً لَنْ تَبُورَ فِي مَوَدَّتِهِ، وَالّذينَ هَجَرَتْهُمُ العَشَائِرُ إذْ تَعَلَّقُوا بِعُرْوَتِهِ، وَانْتَفَتْ مِنْهُمُ الْقَرَاباتُ إذْ سَكَنُوا فِي ظلِّ قَرَابَتِهِ فَلاَ تَنْسَ لَهُمُ اللّهُمَّ مَا تَرَكُوا لَكَ وَفِيكَ، وَأَرْضِهِمْ مِنْ رِضْوَانِكَ وَبِمَا حَاشُوا الْخَلْقَ عَلَيْكَ، وَكَانُوا مَعَ رَسُولِكَ دُعَاةً لَكَ إلَيْكَ، وَاشكُرْهُمْ عَلَى هَجْرِهِمْ فِيْكَ دِيَارَ قَوْمِهِمْ، وَخُرُوجِهِمْ مِنْ سَعَةِ الْمَعَاشِ إلَى ضِيْقِهِ، وَمَنْ كَثَّرْتَ فِي إعْزَازِ دِيْنِـكَ مِنْ مَظْلُومِهِمْ. ألّهُمَّ وَأوْصِلْ إلَى التَّابِعِينَ لَهُمْ بِإحْسَان الَّذِينَ يَقُولُونَ : رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلاخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُونَا بِالاِيمَانِ خَيْرَ جَزَائِكَ، الَّذِينَ قَصَدُوا سَمْتَهُمْ، وَتَحَرَّوْا وِجْهَتَهُمْ، وَمَضَوْا عَلى شاكِلَتِهِمْ، لَمْ يَثْنِهِمْ رَيْبٌ فِي بَصِيْرَتِهِمْ، وَلَمْ يَخْتَلِجْهُمْ شَكٌّ فِي قَفْوِ آثَارِهِمْ وَالاِئْتِمَامِ بِهِدَايَةِ مَنَارِهِمْ، مُكَانِفِينَ وَمُوَازِرِيْنَ لَهُمْ، يَدِيْنُونَ بِدِيْنِهِمْ، وَيَهْتَدُونَ بِهَدْيِهِمْ، يَتَّفِقُونَ عَلَيْهِمْ، وَلاَ يَتَّهِمُونَهُمْ فِيمَا أدَّوْا إلَيْهِمْ. ألَّلهُمَّ وَصَلِّ عَلَى التّابِعِيْنَ مِنْ يَوْمِنَا هَذا إلى يَوْم الدِّينِ، وَعَلَى أزْوَاجِهِمْ، وَعَلَى ذُرِّيَّاتِهِمْ، وَعَلَى مَنْ أَطَاعَكَ مِنْهُمْ صَلاْةً تَعْصِمُهُمْ بِهَامِنْ مَعْصِيَتِكَ، وَتَفْسَحُ لَهُمْ فِي رِيَاضِ جَنَّتِكَ، وَتَمْنَعُهُمْ بِهَا مِنْ كَيْدِ الشَيْطَانِ، وَتُعِينُهُمْ بِهَا عَلَى مَا اسْتَعَانُوكَ عَلَيْهِ مِنْ بِرٍّ، وَتَقِيهِمْ طَوَارِقَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إلاّ طَارِقاً يَطْرُقُ بِخَيْر، وَتَبْعَثُهُمْ بِهَا عَلَى اعْتِقَادِ حُسْنِ الرَّجَـاءِ لَكَ، وَالطَّمَعِ فِيمَا عِنْدَكَ، وَتَرْكِ النُّهَمَةِ فِيمَا تَحْويهِ أيْدِي الْعِبَادِ لِتَرُدَّهُمْ إلَى الرَّغْبَةِ إلَيْكَ وَالرَّهْبَةِ مِنْكَ، وَتُزَهِّدُهُمْ فِي سَعَةِ العَاجِلِ وَتُحَبِّبُ إلَيْهِمُ الْعَمَلَ لِلاجِلِ، وَالاسْتِعْدَادَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ وَتُهَوِّنَ عَلَيْهِمْ كُلَّ كَرْب يَحُلُّ بِهِمْ يَوْمَ خُـرُوجِ الانْفُسِ مِنْ أَبْدَانِهَا وَتُعَافِيَهُمْ مِمَّا تَقَعُ بِهِ الْفِتْنَةُ مِنْ مَحْذُورَاتِهَا، وَكَبَّةِ النَّارِ وَطُولِ الْخُلُودِ فِيهَا، وَتُصَيِّرَهُمْ إلَى أَمْن مِنْ مَقِيلِ الْمُتَّقِينَ .

    انبیاء علیہم السلام کے تابعین اور ان پر ایمان لانے والوں کے حق میں حضرتؑ کی دُعا: اے اللہ! تو اہل زمین میں سے رسولوں کی پیروی کرنے والوں اور ان مومنین کو اپنی مغفرت اور خوشنودی کے ساتھ یاد فرما جو غیب کی رُو سے ان پر ایمان لائے، اس وقت کہ جب دشمن ان کے جھٹلانے کے درپے تھے اور اس وقت کہ جب وہ ایمان کی حقیقتوں کی روشنی میں ان کے (ظہور کے) مشتاق تھے، ہر اس دور اور ہر اس زمانہ میں جس میں تو نے کوئی رسول بھیجا اور اس وقت کے لوگوں کیلئے کوئی رہنما مقرر کیا۔ حضرت آدم علیہ السلام کے وقت سے لے کر حضرت محمدﷺ کے عہد تک جو ہدایت کے پیشوا اور صاحبانِ تقویٰ کے سربراہ تھے (ان سب پر سلام ہو)۔ بارالٰہا! خصوصیت سے اصحاب محمدﷺ میں سے وہ افراد جنہوں نے پوری طرح پیغمبرﷺ کا ساتھ دیا، اور ان کی نصرت میں پوری شجاعت کا مظاہرہ کیا، اور ان کی مدد پر کمر بستہ رہے، اور ان پر ایمان لانے میں جلدی اور ان کی دعوت کی طرف سبقت کی، اور جب پیغمبرﷺ نے اپنی رسالت کی دلیلیں ان کے گوش گزار کیں تو انہوں نے لبیک کہی، اور ان کا بول بالا کرنے کیلئے بیوی بچوں کو چھوڑ دیا اور امر نبوت کے استحکام کیلئے باپ اور بیٹوں تک سے جنگیں کیں، اور نبی اکرم ﷺ کے وجود کی برکت سے کامیابی حاصل کی، اس حالت میں کہ ان کی محبت دل کے ہر رگ و ریشہ میں لئے ہوئے تھے اور ان کی محبت و دوستی میں ایسی نفع بخش تجارت کے متوقع تھے جس میں کبھی نقصان نہ ہو، اور جب ان کے دین کے بندھن سے وابستہ ہوئے تو ان کے قوم قبیلے نے انہیں چھوڑ دیا اور جب ان کے سایہ قرب میں منزل کی تو اپنے بیگانے ہو گئے۔ تو اے میرے معبود! انہوں نے تیری خاطر اور تیری راہ میں جو سب کو چھوڑ دیا تو (جزا کے موقع پر) انہیں فراموش نہ کیجیو، اور ان کی اس فدا کاری اور خلق خدا کو تیرے دین پر جمع کرنے اور رسول اللہﷺ کے ساتھ داعی حق بن کر کھڑا ہونے کے صلہ میں انہیں اپنی خوشنودی سے سرفراز و شاد کام فرما، اور انہیں اس امر پر بھی جزا دے کہ انہوں نے تیری خاطر اپنے قوم قبیلے کے شہروں سے ہجرت کی، اور وسعت معاش سے تنگی معاش میں جا پڑے، اور یونہی ان مظلوموں کی خوشنودی کا سامان کر کہ جن کی تعداد کو تو نے اپنے دین کو غلبہ دینے کیلئے بڑھایا۔ بار الٰہا! جنہوں نے اصحاب رسولؐ کی احسن طریق سے پیروی کی انہیں بہترین جزائے خیر دے جو ہمیشہ یہ دُعا کرتے رہے کہ: ”اے ہمارے پروردگار! تو ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو بخش دے جو ایمان لانے میں ہم سے سبقت لے گئے“، اور جن کا مطمع نظر اصحاب کا طریق رہا اور انہی کا طور طریقہ اختیار کیا اور انہی کی روش پر گامزن ہوئے۔ ان کی بصیرت میں کبھی شبہ کا گزر نہیں ہوا کہ انہیں (راہ حق سے) منحرف کرتا اور ان کے نقش قدم پر گام فرسائی اور ان کے روشن طرز عمل کی اقتدا میں انہیں شک و تردد نے پریشان نہیں کیا۔ وہ اصحاب نبیؐ کے معاون و دستگیر اور دین میں ان کے پیروکار اور سیرت و اخلاق میں ان سے درس آموز رہے اور ہمیشہ ان کے ہمنوا رہے اور ان کے پہنچائے ہوئے احکام میں ان پر کوئی الزام نہ دھرا۔ بار الٰہا! ان تابعین اور ان کی ازواج اور آل و اولاد اور ان میں سے جو تیرے فرمانبردار و مطیع ہیں، ان پر آج سے لے کر روز قیامت تک درود و رحمت بھیج۔ ایسی رحمت جس کے ذریعہ تو انہیں معصیت سے بچائے، جنت کے گلزاروں میں فراخی و وسعت دے، شیطان کے مکر سے محفوظ رکھے، اور جس کارِ خیر میں تجھ سے مدد چاہیں ان کی مدد کرے، اور شب و روز کے حوادث سے سوائے کسی نوید خیر کے ان کی نگہداشت کرے، اور اس بات پر انہیں آمادہ کرے کہ وہ تجھ سے حسن امید کا عقیدہ وابستہ رکھیں، اور تیرے ہاں کی نعمتوں کی خواہش کریں، اور بندوں کے ہاتھوں میں فراخی نعمت کو دیکھ کر تجھ پر (بے انصافی کا) الزام نہ دھریں، تاکہ تو ان کا رخ اپنے امید و بیم کی طرف پھیر دے، اور دنیا کی وسعت و فراخی سے انہیں بے تعلق کر دے اور عمل آخرت اور موت کے بعد کی منزل کا ساز و برگ مہیا کرنا ان کی نگاہوں میں خوش آیند بنا دے، اور روحوں کے جسموں سے جدا ہونے کے دن ہر کرب و اندوہ جو اِن پر وارد ہو آسان کر دے، اور فتنہ و آزمائش سے پیدا ہونے والے خطرات اور جہنم کی شدت اور اس میں ہمیشہ پڑے رہنے سے نجات دے، اور انہیں جائے امن کی طرف جو پرہیزگاروں کی آسائش گاہ ہے منتقل کر دے۔

  5. دعاء 5 اپنے لئے اور اپنے دوستوں کے لیے حضرت کی دعا

    5

    يامَنْ لاتَنْقَضِي عَجَائِبُ عَظَمَتِهِ، صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ، وَاحْجُبْنَا عَنِ الالْحَادِ فِي عَظَمَتِكَ. وَيَا مَنْ لاَ تَنْتَهِي مُدَّةُ مُلْكِهِ، صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ، وَأَعْتِقْ رِقَابَنَا مِنْ نَقِمَتِك. وَيَا مَنْ لا تَفْنَى خَزَائِنُ رَحْمَتِهِ، صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ، وَاجْعَلْ لَنا نَصِيباً فِي رَحْمَتِكَ. وَيَا مَنْ تَنْقَطِعُ دُونَ رُؤْيَتِهِ الابْصَارُ، صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ، وَأَدْنِنَا إلَى قُرْبِكَ. وَيَا مَنْ تَصْغُرُ عِنْدَ خَطَرِهِ الاخْطَارُ، صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ، وَكَرِّمْنَا عَلَيْكَ. وَيَا مَنْ تَظْهَرُ عِنْدَهُ بَوَاطِنُ الاخْبَارِ، صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ، وَلاَ تَفْضَحْنَا لَدَيْكَ. اللَّهُمَّ أَغْنِنَا عَنْ هِبَةِ الْوَهّابِيْنَ بِهِبَتِكَ، وَاكْفِنَا وَحْشَةَ الْقَاطِعِين بِصِلَتِكَ ، حَتّى لا نَرْغَبَ إلَى أحَد مَعَ بَذْلِكَ، وَلاَ نَسْتَوْحِشَ مِنْ أحَد مَعَ فَضْلِكَ اللهُمَّ فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَكِدْ لَنَا وَلا تَكِدْ عَلَيْنَا، وَامْكُرْ لَنَا وَلاَ تَمْكُرْ بنَا، وَأدِلْ لَنَا وَلاَ تُدِلْ مِنّا. اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ، وَقِنَا مِنْكَ، وَاحْفَظْنَا بِكَ، وَاهْدِنَا إلَيْكَ، وَلاَ تُبَاعِدْنَا عَنْكَ إنّ مَنْ تَقِهِ يَسْلَمْ، وَمَنْ تَهْدِهِ يَعْلَمْ، وَمَنْ تُقَرِّبُهُ إلَيْكَ يَغْنَمْ. الّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَاكْفِنَا حَدَّ نَوائِبِ الزَّمَانِ، وَشَرَّ مَصَائِدِ الشّيطانِ وَمَرَارَةَ صَوْلَةِ السُّلْطَانِ. اللّهُمَّ إنَّما يَكْتَفِي الْمُكْتَفُونَ بِفَضْـل قُوَّتِكَ فَصَلِّ عَلَى محَمَّد وَآلِهِ ،وَاكْفِنَا وَإنَّمَا يُعْطِي الْمُعْطُونَ مِنْ فَضْلِ جِدَتِكَ فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ و اعطنا وَإنمَا يَهْتَدِي الْمُهْتَدُونَ بِنُورِ وَجْهِكَ فَصَلِّ عَلَى محمّد وَآلِهِ وَاهْدِنَا . اللّهُمَّ إنّكَ مَنْ وَالَيْتَ لَمْ يَضْرُرْهُ خِذْلانُ الْخَاذِلِينَ، وَمَنْ أعْطَيْتَ لَمْ يَنْقُصْهُ مَنْـعُ الْمَانِعِينَ، وَمَنْ هَدَيْتَ لَمْ يُغْوِهِ إضْلاَلُ المُضِلِّيْنَ. فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ، وَامْنَعْنَا بِعِزَّكَ، مِنْ عِبَادِكَ وَأغْنِنَا عَنْ غَيْرِكَ بِإرْفَادِكَ وَاسْلُكْ بِنَا سَبِيلَ الْحَقِّ بِـإرْشَادِكَ. اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِـهِ وَاجْعَلْ سَلاَمَةَ قُلُوبِنَا فِي ذِكْرِ عَظَمَتِكَ وَفَرَاغَ أبْدَانِنَا فِي شُكْرِ نِعْمَتِكَ وَانْطِلاَقَ أَلْسِنَتِنَا فِي وَصْفِ مِنَّتِكَ. أللَهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَاجْعَلْنَا مِنْ دُعَاتِكَ الدّاعِينَ إلَيْكَ وَهُدَاتِكَ الدَّالّينَ عَلَيْكَ وَمِنْ خَاصَّتِكَ الْخَاصِّينَ لَدَيْكَ يَا أرْحَمَ ألرَّاحِمِينَ .

    اپنے لئے اور اپنے دوستوں کیلئے حضرتؑ کی دُعا: اے وہ جس کی بزرگی و عظمت کے عجائب ختم ہونے والے نہیں، تو محمدﷺ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور ہمیں اپنی عظمت کے پردوں میں چھپا کر کج اندیشیوں سے بچالے۔ اے وہ جس کی شاہی و فرمانروائی کی مدت ختم ہونے والی نہیں، تو رحمت نازل کر محمدﷺ اور ان کی آلؑ پر اور ہماری گردنوں کو اپنے غضب و عذاب (کے بندھنوں) سے آزاد رکھ۔ اے وہ جس کی رحمت کے خزانے ختم ہونے والے نہیں، رحمت نازل فرما محمدﷺ اور ان کی آلؑ پر اور اپنی رحمت میں ہمارا بھی حصہ قرار دے۔ اے وہ جس کے مشاہدہ سے آنکھیں قاصر ہیں، رحمت نازل فرما محمدﷺ اور ان کی آلؑ پر اور اپنی بارگاہ سے ہم کو قریب کر لے۔ اے وہ جس کی عظمت کے سامنے تمام عظمتیں پست و حقیر ہیں، رحمت نازل فرما محمدﷺ اور ان کی آلؑ پر اور ہمیں اپنے ہاں عزت عطا کر۔ اے وہ جس کے سامنے راز ہائے سربستہ ظاہر ہیں، رحمت نازل فرما محمدﷺ اور ان کی آلؑ پر اور ہمیں اپنے سامنے رسوا نہ کر۔ بار الٰہا! ہمیں اپنی بخشش و عطا کی بدولت بخشش کرنے والوں کی بخشش سے بے نیاز کر دے، اور اپنی پیوستگی کے ذریعہ قطع تعلق کرنے والوں کی بے تعلقی و دوری کی تلافی کر دے، تاکہ تیری بخشش و عطا کے ہوتے ہوئے دوسرے سے سوال نہ کریں اور تیرے فضل و احسان کے ہوتے ہوئے کسی سے ہراساں نہ ہوں۔ اے اللہ! محمدﷺ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور ہمارے نفع کی تدبیر کر، اور ہمارے نقصان کی تدبیر نہ کر، اور ہم سے مکر کرنے والے دشمنوں کو اپنے مکر کا نشانہ بنا، اور ہمیں اس کی زد پر نہ رکھ اور ہمیں دشمنوں پر غلبہ دے، دشمنوں کو ہم پر غلبہ نہ دے۔ بار الٰہا! محمدﷺ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور ہمیں اپنی ناراضی سے محفوظ رکھ، اور اپنے فضل و کرم سے ہماری نگہداشت فرما، اور اپنی جانب ہمیں ہدایت کر، اور اپنی رحمت سے دو رنہ کر کہ جسے تو اپنی ناراضی سے بچائے گا وہی بچے گا، اور جسے تو ہدایت کرے گا وہی (حقائق پر) مطلع ہو گا، اور جسے تو (اپنی رحمت سے) قریب کرے گا وہی فائدہ میں رہے گا۔ اے معبود! تو محمدﷺ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور ہمیں زمانہ کے حوادث کی سختی اور شیطان کے ہتھکنڈوں کی فتنہ انگیزی اور سلطان کے قہر و غلبہ کی تلخ کلامی سے اپنی پناہ میں رکھ۔ بار الٰہا! بے نیاز ہونے والے تیرے ہی کمالِ قوت و اقتدار کے سہارے بے نیاز ہوتے ہیں، رحمت نازل فرما محمدﷺ اور ان کی آلؑ پر اور ہمیں بے نیاز کر دے، اور عطا کرنے والے تیری ہی عطا وبخشش کے حصہ وافر میں سے عطا کرتے ہیں، رحمت نازل فرما محمدﷺ اور ان کی آلؑ پر اور ہمیں بھی (اپنے خزانۂ رحمت سے) عطا فرما، اور ہدایت پانے والے تیری ہی ذات کی درخشندگیوں سے ہدایت پاتے ہیں، رحمت نازل فرما محمدﷺ اور ان کی آلؑ پر اور ہمیں ہدایت فرما۔ بار الٰہا! جس کی تو نے مدد کی اسے مدد نہ کرنے والوں کا مدد سے محروم رکھنا کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتا، اور جسے تو عطا کرے اس کے ہاں روکنے والوں کے روکنے سے کچھ کمی نہیں ہو جاتی، اور جس کی تو خصوصی ہدایت کرے اسے گمراہ کرنے والوں کا گمراہ کرنا بے راہ نہیں کر سکتا، رحمت نازل فرما محمدﷺ اور ان کی آلؑ پر اور اپنے غلبہ و قوت کے ذریعہ بندوں (کے شر) سے ہمیں بچائے رکھ، اور اپنی عطا و بخشش کے ذریعہ دوسروں سے بے نیاز کر دے، اور اپنی رہنمائی سے ہمیں راہ حق پر چلا۔ اے معبود! تو محمدﷺ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور ہمارے دلوں کی سلامتی اپنی عظمت کی یاد میں قرار دے، اور ہماری جسمانی فراغت (کے لمحوں) کو اپنی نعمت کے شکریہ میں صرف کر دے، اور ہماری زبانوں کی گویائی کو اپنے احسان کی توصیف کیلئے وقف کر دے۔ اے اللہ! تو رحمت نازل فرما محمدﷺ اور ان کی آلؑ پر اور ہمیں ان لوگوں میں سے قرار دے جو تیری طرف دعوت دینے والے اور تیری طرف کا راستہ بتانے والے ہیں، اور اپنے خاص الخاص مقربین میں سے قرار دے، اے سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والے۔

  6. دعاء 6 دعائے صبح وشام

    6

    أَلْحَمْدُ للهِ الَّذِي خَلَقَ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ بِقُوَّتِهِ، وَمَيَّزَ بَيْنَهُمَا بِقُدْرَتِهِ، وَجَعَلَ لِكُلِّ وَاحِد مِنْهُمَا حَدّاً مَحْدُوداً، وَأَمَداً مَمْدُوداً ، يُولِجُ كُلَّ وَاحِد مِنْهُمَا فِي صَاحِبِهِ، وَيُولِجُ صَاحِبَهُ فِيهِ بِتَقْدِير مِنْهُ لِلْعِبَادِ فِيمَا يَغْـذُوهُمْ بِـهِ وَيُنْشئُهُمْ عَلَيْـهِ، فَخَلَقَ لَهُمُ اللَّيْـلَ لِيَسْكُنُوا فِيْهِ مِنْ حَرَكَاتِ التَّعَبِ، وَنَهَضَاتِ النَّصَبِ، وَجَعَلَهُ لِبَاساً لِيَلْبَسُوا مِنْ رَاحَتِهِ وَمَنَامِهِ، فَيَكُونَ ذَلِكَ جَمَاماً وَقُوَّةً، وَلِيَنَالُوا بِهِ لَذَّةً وَشَهْوَةً. وَخَلَقَ لَهُمُ النَّهارَ مُبْصِراً لِيَبْتَغُوا فِيهِ مِنْ فَضْلِهِ، وَلِيَتَسَبَّبُوا إلَى رِزْقِهِ، وَيَسْرَحُوا فِي أَرْضِهِ، طَلَباً لِمَا فِيـهِ نَيْلُ الْعَاجِلِ مِنْ دُنْيَاهُمْ، وَدَرَكُ الاجِلِ فِيْ اُخْراهُمْ. بِكُلِّ ذلِكَ يُصْلِحُ شَأنَهُمْ، وَيَبْلُو أَخْبَارَهُمْ وَيَنْظُرُ كَيْفَ هُمْ فِي أَوْقَاتِ طَاعَتِـهِ، وَمَنَازِلِ فُـرُوضِهِ وَمَوَاقِعِ أَحْكَامِهِ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى. اللَّهُمَّ فَلَكَ الْحَمْدُ عَلَى مَافَلَقْتَ لَنَا مِنَ الإصْبَاحِ، وَمَتَّعْتَنَا بِهِ مِنْ ضَوْءِ النَّهَارِ، وَبَصَّرْتَنَا مِنْ مَطَالِبِ الاقْوَاتِ، وَوَقَيْتَنَا فِيهِ مِنْ طَوارِقِ الآفاتِ. أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَتِ الاَشْياءُ كُلُّهَا بِجُمْلَتِهَا لَكَ: سَمَاؤُها وَأَرْضُهَا وَمَا بَثَثْتَ فِي كُلِّ وَاحِد مِنْهُمَا سَاكِنُهُ وَمُتَحَرِّكُهُ وَمُقِيمُهُ وَشَاخِصُهُ وَمَا عَلا فِي الْهَواءِ وَمَا كَنَّ تَحْتَ الثَّرى أَصْبَحْنَا فِي قَبْضَتِكَ يَحْوِينَا مُلْكُكَ وَسُلْطَانُكَ وَتَضُمُّنَا مَشِيَّتُكَ، وَنَتَصَرَّفُ عَنْ أَمْرِكَ، وَنَتَقَلَّبُ فِيْ تَدْبِيرِكَ لَيْسَ لَنَا مِنَ الامْرِ إلاّ مَا قَضَيْتَ وَلا مِنَ الْخَيْـرِ إلا مَـا أَعْطَيْتَ. وَهَذَا يَوْمٌ حَادِثٌ جَدِيدٌ، وَهُوَ عَلَيْنَا شَاهِدٌ عَتِيدٌ ، إنْ أحْسَنَّا وَدَّعَنَا بِحَمْد، وَإِنْ أسَأنا فارَقَنا بِذَمّ اللَّهُمَ صَلِّ عَلَى مُحَمَد وَآلِـهِ وَارْزُقْنَـا حُسْنَ مُصَاحَبَتِهِ وَاعْصِمْنَا مِنْ سُوْءِ مُفَارَقَتِهِ بِارْتِكَابِ جَرِيرَة، أَوِ اقْتِرَافِ صَغِيرَة أوْ كَبِيرَة. وَأجْزِلْ لَنَا فِيهِ مِنَ الْحَسَناتِ وَأَخْلِنَا فِيهِ مِنَ السَّيِّئاتِ. وَامْلا لَنَا مَا بَيْنَ طَرَفَيْهِ حَمْداً وَشُكْراً وَأجْراً وَذُخْراً وَفَضْلاً وَإحْسَاناً. اللَّهُمَّ يسِّرْ عَلَى الْكِرَامِ الْكَاتِبِينَ مَؤُونَتَنَا، وَامْلا لَنَا مِنْ حَسَنَاتِنَا صَحَائِفَنَا. وَلاَ تُخْزِنَا عِنْدَهُمْ بِسُوءِ أَعْمَالِنَا. اللَّهُمَّ اجْعَلْ لَنَا فِي كُلِّ سَاعَة مِنْ سَاعَاتِهِ حَظّاً مِنْ عِبَادِكَ ، وَنَصِيباً مِنْ شُكْرِكَ وَشَاهِدَ صِدْق مِنْ مَلائِكَتِكَ أللَّهَّمَ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ ، وَاحْفَظْنَا مِنْ بَيْنِ أيْدِينَا وَمِنْ خَلْفِنَا وَعَنْ أيْمَانِنَا وَعَنْ شَمَائِلِنَا، وَمِنْ جَمِيْعِ نَوَاحِيْنَا حِفْظاً عَاصِماً مِنْ مَعْصِيَتِكَ هَادِياً إلَى طَاعَتِكَ مُسْتَعْمِلاً لِمَحَبَّتِكَ. اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَوَفِّقْنَا فِي يَوْمِنَا هذا ولَيْلَتِنَا هذِهِ وَفِي جَمِيعِ أيّامِنَا لاسْتِعْمَالِ الْخَيْرِ وَهِجْـرَانِ الشَرِّ وَشُكْـرِ ألنِّعَمِ وَاتّبَـاعِ السُّنَنِ وَمُجَانَبَةِ البِدَعِ وَالأمْرِ بِـالْمَعْرُوفِ وَالنَّهيِ عَنِ الْمُنْكَرِ وَحِياطَةِ الإسْلاَمِ وَانْتِقَاصِ الْبَاطِلِ وَإذْلالِهِ وَنُصْرَةِ الْحَقِّ وَإعْزَازِهِ ، وَإرْشَادِ الضَّالِّ ، وَمُعَاوَنَةِ الضَّعِيفِ وَإدْرَاكِ اللَّهِيْفِ. اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَاجْعَلْهُ أيْمَنَ يَوْم عَهِدْنَاهُ ، وَأَفْضَلَ صَاحِب صَحِبْنَاهُ ، وَخَيْرَ وَقْت ظَلِلْنَا فِيْهِ. وَاجْعَلْنَا مِنْ أرْضَى مَنْ مَرَّ عَلَيْهِ اللَّيْـلُ وَالنَّهَارُ مِنْ جُمْلَةِ خَلْقِكَ وأَشْكَـرَهُمْ لِمَا أوْلَيْتَ مِنْ نِعَمِكَ وَأقْوَمَهُمْ بِمَـا شَرَعْتَ مِنْ شَرَائِعِكَ ، وَأَوْقَفَهُمْ عَمَّا حَذَّرْتَ مِنْ نَهْيِكَ. اللَهُمَّ إنِّي اشْهِدُكَ وَكَفَى بِكَ شَهِيداً وَاُشْهِدُ سَمَاءكَ وَأَرْضَكَ وَمَنْ أَسْكَنْتَهُما مِنْ مَلائِكَتِـكَ وَسَائِرِ خَلْقِكَ فِي يَوْمِي هَذَا ، وَسَاعَتِي هَذِهِ ، وَلَيْلَتِي هَذِهِ ، وَمُسْتَقَرِّي هَذَا ، أنِّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أنْتَ اللهُ الِذَّي لاَ إلهَ إلاّ أَنْتَ قَائِمٌ بِـالْقِسْطِ ، عَدْلٌ فِي الْحُكْم ، رَؤُوفٌ بِالْعِبَادِ ، مَالِكُ المُلْكِ رَحِيمٌ بِالْخَلْقِ ، وَأَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ وَخِيرَتُكَ مِنْ خَلْقِكَ ، حَمَّلْتَهُ رِسَالَتَكَ فَأدَّاهَا وَأَمَرْتَهُ بالنُّصْحِ لِاُمَّتِهِ فَنَصَحَ لَهَا. اللَّهُمَّ فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ أكْثَرَ مَا صَلَّيْتَ عَلَى أَحَد مِنْ خَلْقِكَ وَآتِهِ عَنَّا أَفْضَلَ مَا آتَيْتَ أَحَداً مِنْ عِبَادِكَ وَاجْزِهِ عَنَّا أَفْضَلَ وَأكْرَمَ مَا جَزَيْتَ أَحَداً مِنْ أَنْبِيائِـكَ عَنْ أمَّتِهِ. إنَّـكَ أَنْتَ الْمَنَّانُ بِالْجَسِيمِ الْغَـافِر لِلْعَظِيمِ ، وَأَنْتَ أَرْحَمُ مِنْ كُلِّ رَحِيم ، فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ الطَّيِّبِينَ الطَّاهِرِينَ الأَخْيَارِ الانْجَبِينَ.

    دُعائے صبح و شام: سب تعریف اس اللہ کیلئے ہے جس نے اپنی قوت و توانائی سے شب و روز کو خلق فرمایا، اور اپنی قدرت کی کار فرمائی سے ان دونوں میں امتیاز قائم کیا، اور ان میں سے ہر ایک کو معینہ حدود و مقررہ اوقات کا پابند بنایا، اور ان کے کم و بیش ہونے کا جو اندازہ مقرر کیا اس کے مطابق رات کی جگہ پر دن اور دن کی جگہ پر رات کو لاتا ہے، تاکہ اس ذریعہ سے بندوں کی روزی اور ان کی پرورش کا سرو سامان کرے۔ چنانچہ اس نے ان کیلئے رات بنائی تاکہ وہ اس میں تھکا دینے والے کاموں اور خستہ کر دینے والی کلفتوں کے بعد آرام کریں، اور اسے پردہ قرار دیا تاکہ سکون کی چادر تان کر آرام سے سوئیں، اور یہ ان کیلئے راحت و نشاط اور طبعی قوتوں کے بحال ہونے اور لذت و کیف اندوزی کا ذریعہ ہو۔ اور دن کو ان کیلئے روشن و درخشاں پیدا کیا تاکہ اس میں (کار و کسب میں سرگرم عمل ہو کر) اس کے فضل کی جستجو کریں، اور روزی کا وسیلہ ڈھونڈیں، اور دنیاوی منافع اور اُخروی فوائد کے وسائل تلاش کرنے کیلئے اس کی زمین میں چلیں پھریں۔ ان تمام کارفرمائیوں سے وہ ان کے حالات سنوارتا، اور ان کے اعمال کی جانچ کرتا ہے، اور یہ دیکھتا ہے کہ وہ لوگ اطاعت کی گھڑیوں، فرائض کی منزلوں اور تعمیل احکام کے موقعوں پر کیسے ثابت ہوتے ہیں، تاکہ بروں کو ان کی بداعمالیوں کی سزا اور نیکوکاروں کو اچھا بدلہ دے۔ اے اللہ! تیرے ہی لئے تمام تعریف و توصیف ہے کہ تو نے ہمارے لئے (رات کا دامن چاک کر کے) صبح کا اُجالا کیا، اور اس طرح دن کی روشنی سے ہمیں فائدہ پہنچایا، اور طلب رزق کے مواقع ہمیں دکھائے، اور اس میں آفات و بلیات سے ہمیں بچایا۔ ہم اور ہمارے علاوہ سب چیزیں تیری ہیں، آسمان بھی اور زمین بھی اور وہ سب چیزیں جنہیں تو نے ان میں پھیلایا ہے، وہ ساکن ہوں یا متحرک، مقیم ہوں یا راہ نورد، فضا میں بلند ہوں یا زمین کی تہوں میں پوشیدہ۔ ہم تیرے قبضۂ قدرت میں ہیں، اور تیرا اقتدار اور تیری بادشاہت ہم پر حاوی ہے، اور تیری مشیت کا محیط ہمیں گھیرے ہوئے ہے، تیرے حکم سے ہم تصرف کرتے، اور تیری تدبیر و کار سازی کے تحت ہم ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹتے ہیں، جو امر تو نے ہمارے لئے نافذ کیا اور جو خیر اور بھلائی تو نے ہمیں بخشی اس کے علاوہ ہمارے اختیار میں کچھ نہیں ہے۔ اور یہ دن نیا اور تازہ وارد ہے جو ہم پر ایسا گواہ ہے جو ہمہ وقت حاضر ہے۔ اگر ہم نے اچھے کام کئے تو وہ توصیف و ثنا کرتے ہوئے ہمیں رخصت کرے گا اور اگر برے کام کئے تو برائی کرتا ہوا ہم سے علیحدہ ہو گا۔ اے اللہ! تو محمدﷺ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور ہمیں اس دن کی اچھی رفاقت نصیب کرنا، اور کسی خطا کے ارتکاب کرنے یا صغیرہ و کبیرہ گناہ میں مبتلا ہونے کی وجہ سے اس کے چیں بہ جبیں ہو کر رخصت ہونے سے ہمیں بچائے رکھنا، اور اس دن میں ہماری نیکیوں کا حصہ زیادہ کر، اور برائیوں سے ہمارا دامن خالی رکھ، اور ہمارے لئے اس کے آغاز و انجام کو حمد و سپاس، ثواب و ذخیرہ آخرت اور بخشش و احسان سے بھر دے۔ اے اللہ! کراماً کاتبین پر (ہمارے گناہ قلمبند کرنے کی) زحمت کم کر دے، اور ہمارا نامۂ اعمال نیکیوں سے بھر دے، اور بداعمالیوں کی وجہ سے ہمیں ان کے سامنے رسوا نہ کر۔ بار الٰہا! تو اس دن کے لمحوں میں سے ہر لمحہ و ساعت میں اپنے خاص بندوں کا حظ و نصیب اور اپنے شکر کا ایک حصہ اور فرشتوں میں سے ایک سچا گواہ ہمارے لئے قرار دے۔ اے اللہ! تو محمدﷺ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور آگے پیچھے اور داہنے اور بائیں اور تمام اطراف و جوانب سے ہماری حفاظت کر۔ ایسی حفاظت جو ہمارے لئے گناہ و معصیت سے سد راہ ہو، تیری اطاعت کی طرف رہنمائی کرے اور تیری محبت میں صرف ہو۔ اے اللہ! تو محمدﷺ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور ہمیں آج کے دن اور آج کی رات اور زندگی کے تمام دنوں میں توفیق عطا فرما کہ ہم نیکیوں پر عمل کریں، برائیوں کو چھوڑیں، نعمتوں پر شکر اور سنتوں پر عمل کریں، بدعتوں سے الگ تھلگ رہیں اور نیک کاموں کا حکم دیں اور برے کاموں سے روکیں، اسلام کی حمایت و طرفداری کریں، باطل کو کچلیں اور اسے ذلیل کریں، حق کی نصرت کریں اور اسے سر بلند کریں، گمراہوں کی رہنمائی، کمزوروں کی اعانت اور درد مندوں کی چارہ جوئی کریں۔ بار الٰہا! محمدﷺ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور آج کے دن کو ان تمام دنوں سے جو ہم نے گزارے زیادہ مبارک دن، اور ان تمام ساتھیوں سے جن کا ہم نے ساتھ دیا اس کو بہترین رفیق، اور ان تمام وقتوں سے جن کے زیر سایہ ہم نے زندگی بسر کی اس کو بہترین وقت قرار دے، اور ہمیں ان تمام مخلوقات میں سے زیادہ راضی و خوشنود رکھ جن پر شب و روز کے چکر چلتے رہے ہیں، اور ان سب سے زیادہ اپنی عطا کی ہوئی نعمتوں کا شکر گزار، اور ان سب سے زیادہ اپنے جاری کئے ہوئے احکام کا پابند، اور ان سب سے زیادہ ان چیزوں سے کنارہ کشی کرنے والا قرار دے جن سے تو نے خوف دلا کر منع کیا ہے۔ اے خدا! میں تجھے گواہ کرتا ہوں اور تو گواہی کیلئے کافی ہے، اور تیرے آسمان اور تیری زمین کو، اور ان میں جن جن فرشتوں اور جس جس مخلوق کو تو نے بسایا ہے، آج کے دن اور اس گھڑی اور اس رات میں اور اس مقام پر گواہ کرتا ہوں کہ میں اس بات کا معترف ہوں کہ صرف تو ہی وہ معبود ہے جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، انصاف کا قائم کرنے والا، حکم میں عدل ملحوظ رکھنے والا، بندوں پر مہربان، اقتدار کا مالک اور کائنات پر رحم کرنے والا ہے۔ اور اس بات کی بھی شہادت دیتا ہوں کہ محمدﷺ تیرے خاص بندے رسول اور برگزیدۂ کائنات ہیں۔ ان پر تو نے رسالت کی ذمہ داریاں عائد کیں تو انہوں نے اسے پہنچایا اور اپنی اُمت کو پند و نصیحت کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے نصیحت فرمائی۔ (بار الٰہا! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر اس سے کہیں زیادہ رحمت نازل فرما جو تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی پر نازل فرمائی ہو)، ہماری طرف سے انہیں وہ بہترین تحفہ عطا کر جو تیرے ہر اس انعام سے بڑھا ہوا ہو جو اپنے بندوں میں سے تو نے کسی ایک کو دیا ہو، اور ہماری طرف سے انہیں وہ جزا دے جو ہر اس جزا سے بہتر و برتر ہو جو انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک کو تو نے اس کی اُمت کی طرف سے عطا فرمائی ہو۔ بے شک تو بڑی نعمتوں کا بخشنے والا اور بڑے گناہوں سے درگزر کرنے والا اور ہر رحیم سے زیادہ رحم کرنے والا ہے، لہٰذا تو محمدﷺ اور ان کی پاک و پاکیزہ اور شریف و نجیب اولاد علیہم السلام پر رحمت نازل فرما۔

  7. دعاء 7 مشکلات کے وقت کی دعا

    7

    يَا مَنْ تُحَلُّ بِهِ عُقَدُ الْمَكَارِهِ ، وَيَا مَنْ يُفْثَأُ بِهِ حَدُّ الشَّدَائِدِ، وَيَا مَنْ يُلْتَمَسُ مِنْهُ الْمَخْرَجُ إلَى رَوْحِ الْفَرَجِ ، ذَلَّتْ لِقُدْرَتِـكَ الصِّعَابُ وَتَسَبَّبَتْ بِلُطْفِكَ الاسْبَابُ ، وَجَرى بِقُدْرَتِكَ الْقَضَاءُ وَمَضَتْ عَلَى إرَادَتِكَ الاشْياءُ ، فَهْيَ بِمَشِيَّتِكَ دُونَ قَوْلِكَ مُؤْتَمِرَةٌ ، وَبِإرَادَتِكَ دُونَ نَهْيِكَ مُنْزَجِرَةٌ. أَنْتَ الْمَدْعُوُّ لِلْمُهِمَّاتِ ، وَأَنْتَ الْمَفزَعُ فِي الْمُلِمَّاتِ ، لاَيَنْدَفِعُ مِنْهَا إلاّ مَا دَفَعْتَ ، وَلا يَنْكَشِفُ مِنْهَا إلاّ مَا كَشَفْتَ. وَقَدْ نَزَلَ بِي يا رَبِّ مَا قَدْ تَكَأدَنيَّ ثِقْلُهُ ، وَأَلَمَّ بِي مَا قَدْ بَهَظَنِي حَمْلُهُ ، وَبِقُدْرَتِكَ أَوْرَدْتَهُ عَلَيَّ وَبِسُلْطَانِكَ وَجَّهْتَهُ إليَّ. فَلاَ مُصْدِرَ لِمَا أوْرَدْتَ ، وَلاَ صَارِفَ لِمَا وَجَّهْتَ ، وَلاَ فَاتِحَ لِمَا أغْلَقْتَ ، وَلاَ مُغْلِقَ لِمَا فَتَحْتَ ، وَلاَ مُيَسِّرَ لِمَا عَسَّرْتَ، وَلاَ نَاصِرَ لِمَنْ خَذَلْتَ فَصَلَّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ ، وَافْتَحْ لِي يَا رَبِّ بَابَ الْفَرَجِ بِطَوْلِكَ ، وَاكْسِرْ عَنِّيْ سُلْطَانَ الْهَمِّ بِحَوْلِكَ ، وَأَنِلْيني حُسْنَ ألنَّظَرِ فِيمَا شَكَوْتُ ، وَأذِقْنِي حَلاَوَةَ الصُّنْعِ فِيمَا سَاَلْتُ. وَهَبْ لي مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً وَفَرَجاً هَنِيئاً وَاجْعَلْ لِي مِنْ عِنْدِكَ مَخْرَجاً وَحِيّاً. وَلا تَشْغَلْنِي بالاهْتِمَامِ عَنْ تَعَاهُدِ فُرُوضِكَ وَاسْتِعْمَالِ سُنَّتِكَ. فَقَدْ ضِقْتُ لِمَا نَزَلَ بِي يَا رَبِّ ذَرْعاً ، وَامْتَلاتُ بِحَمْلِ مَا حَـدَثَ عَلَيَّ هَمّاً ، وَأنْتَ الْقَادِرُ عَلَى كَشْفِ مَا مُنِيتُ بِهِ ، وَدَفْعِ مَا وَقَعْتُ فِيهِ ، فَافْعَلْ بِي ذلِـكَ وَإنْ لَمْ أَسْتَوْجِبْهُ مِنْكَ ، يَا ذَا العَرْشِ الْعَظِيمَ.

    جب کوئی مہم درپیش ہوتی یا کوئی مصیبت نازل ہوتی یا کسی قسم کی بے چینی ہوتی تو حضرتؑ یہ دُعا پڑھتے تھے: اے وہ جس کے ذریعہ مصیبتوں کے بندھن کھل جاتے ہیں، اے وہ جس کے باعث سختیوں کی باڑھ کند ہو جاتی ہے، اے وہ جس سے (تنگی و دشواری سے) وسعت و فراخی کی آسائش کی طرف نکال لے جانے کی التجا کی جاتی ہے۔ تو وہ ہے کہ تیری قدرت کے آگے دشواریاں آسان ہو گئیں، تیرے لطف سے سلسلۂ اسباب برقرار رہا، اور تیری قدرت سے قضا کا نفاذ ہوا، اور تمام چیزیں تیرے ارادہ کے رخ پر گامزن ہیں، وہ بن کہے تیری مشیت کی پابند اور بن روکے خود ہی تیرے ارادہ سے رکی ہوئی ہیں۔ مشکلات میں تجھے ہی پکارا جاتا ہے اور بلیات میں تو ہی جائے پناہ ہے۔ ان میں سے کوئی مصیبت ٹل نہیں سکتی مگر جسے تو ٹال دے اور کوئی مشکل حل نہیں ہو سکتی مگر جسے تو حل کر دے۔ پروردگارا! مجھ پر ایک ایسی مصیبت نازل ہوئی ہے جس کی سنگینی نے مجھے گرانبار کر دیا ہے، اور ایک ایسی آفت آ پڑی ہے جس سے میری قوت برداشت عاجز ہو چکی ہے۔ تو نے اپنی قدرت سے اس مصیبت کو مجھ پر وارد کیا ہے، اور اپنے اقتدار سے میری طرف متوجہ کیا ہے۔ تو جسے تو وارد کرے اسے کوئی ہٹانے والا، اور جسے تو متوجہ کرے اسے کوئی پلٹانے والا، اور جسے تو بند کرے اسے کوئی کھولنے والا، اور جسے تو کھولے اسے کوئی بند کرنے والا، اور جسے تو دشوار بنائے اسے کوئی آسان کرنے والا، اور جسے تو نظر انداز کرے اسے کوئی مدد دینے والا نہیں ہے۔ رحمت نازل فرما محمدﷺ اور ان کی آلؑ پر اور اپنی کرم نوازی سے اے میرے پالنے والے میرے لئے آسائش کا دروازہ کھول دے، اور اپنی قوت و توانائی سے غم و اندوہ کا زور توڑ دے، اور میرے اس شکوہ کے پیشِ نظر اپنی نگاہِ کرم کا رخ میری طرف موڑ دے، اور میری حاجت کو پورا کر کے شیرینی احسان سے مجھے لذت اندوز کر، اور اپنی طرف سے رحمت اور خوشگوار آسودگی مرحمت فرما، اور میرے لئے اپنے لطف خاص سے جلد چھٹکارے کی راہ پیدا کر۔ اور اس غم و اندوہ کی وجہ سے اپنے فرائض کی پابندی اور مستحبات کی بجا آوری سے غفلت میں نہ ڈال دے۔ کیونکہ میں اس مصیبت کے ہاتھوں تنگ آ چکا ہوں، اور اس حادثہ کے ٹوٹ پڑنے سے دل رنج و اندوہ سے بھر گیا ہے، جس مصیبت میں مبتلا ہوں اس کے دور کرنے اور جس بلا میں پھنسا ہوا ہوں اس سے نکالنے پر تو ہی قادر ہے، لہٰذا اپنی قدرت کو میرے حق میں کار فرما کر، اگرچہ تیری طرف سے میں اس کا سزا وار نہ قرار پا سکوں۔ اے عرش عظیم کے مالک۔

  8. دعاء 8 خواستگاری پناہ کے سلسلے کی دعا

    8

    أَللَّهُمَّ إنِّي أعُوذُ بِكَ مِنْ هَيَجَـانِ الْحِرْصِ ، وَسَوْرَةِ الغَضَبِ وَغَلَبَةِ الْحَسَدِ وضَعْفِ الصَّبْرِ وَقِلَّةِ الْقَنَاعَةِ وَشَكَاسَةِ الْخُلُقِ ، وَإلْحَاحِ الشَّهْوَةِ ، وَمَلَكَةِ الْحَمِيَّةِ ، وَمُتَابَعَةِ الْهَوَى ، وَمُخَالَفَةِ الْهُدَى ، وَسِنَةِ الْغَفْلَةِ ، وَتَعَاطِي الْكُلْفَةِ ، وَإيْثَارِ الْبَاطِلِ عَلَى الْحَقِّ وَالإصْرَارِ عَلَى الْمَأثَمِ ، وَاسْتِصْغَـارِ الْمَعْصِيَـةِ ، وَاسْتِكْثَارِ الطَّاعَةِ ، وَمُبَاهَاةِ الْمُكْثِرِينَ ، وَالإزْرآءِ بِالْمُقِلِّينَ ، وَسُوءِ الْوِلاَيَةِ لِمَنْ تَحْتَ أَيْدِينَا وَتَرْكِ الشُّكْرِ لِمَنِ اصْطَنَعَ الْعَارِفَةَ عِنْدَنَا ، أَوْ أَنْ نَعْضُدَ ظَالِماً ، أَوْ نَخْذُلَ مَلْهُوفاً ، أَوْ نَرُومَ مَا لَيْسَ لَنَا بِحَقّ، أَوْ نَقُولَ فِي الْعِلْمِ بِغَيْرِ عِلْم وَنَعُـوذُ بِـكَ أَنْ نَنْطَوِيَ عَلَى غِشِّ أَحَد ، وَأَنْ نُعْجَبَ بِأَعْمَالِنَا ، وَنَمُدَّ فِي آمَالِنَا ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ سُوءِ السَّرِيرَةِ ، وَاحْتِقَارِ الصَّغِيرَةِ ، وَأَنْ يَسْتَحْوِذَ عَلَيْنَا الشَّيْطَانُ ، أَوْ يَنْكُبَنَـا الزَّمَانُ ، أَوْ يَتَهَضَّمَنَا السُّلْطَانُ. وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ تَنَاوُلِ الإسْرَافِ ، وَمِنْ فِقْدَانِ الْكَفَـافِ وَنَعُوذُ بِـكَ مِنْ شَمَاتَةِ الأَعْدَاءِ وَمِنَ الْفَقْرِ إلَى الاَكْفَاءِ وَمِنْ مَعِيشَة فِي شِدَّة وَمَيْتَة عَلَى غَيْـرِ عُدَّة. وَنَعُـوذُ بِكَ مِنَ الْحَسْرَةِ الْعُظْمى ، وَالْمُصِيبَةِ الْكُبْرَى ، وَأَشْقَى الشَّقَآءِ وَسُوءِ المآبِ ، وَحِرْمَانِ الثَّوَابِ ، وَحُلُولِ الْعِقَابِ. اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ ، وَأَعِذْنِي مِنْ كُلِّ ذَلِكَ بِرَحْمَتِكَ وَجَمِيـعَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ.

    مصیبتوں سے بچاؤ اور بُرے اخلاق و اعمال سے حفاظت کے سلسلہ میں حضرتؑ کی دُعا: اے اللہ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں حرص کی طغیانی، غضب کی شدت، حسد کی چیرہ دستی، بے صبری، قناعت کی کمی، کج اخلاقی، خواہش نفس کی فراوانی، عصبیت کے غلبہ، ہوا و ہوس کی پیروی، ہدایت کی خلاف ورزی، خواب غفلت (کی مدہوشی) اور تکلف پسندی سے، نیز باطل کو حق پر ترجیح دینے، گناہوں پر اصرار کرنے، معصیت کو حقیر اور اطاعت کو عظیم سمجھنے، دولت مندوں کے سے تفاخر، محتاجوں کی تحقیر، اور اپنے زیردستوں کی بری نگہداشت، اور جو ہم سے بھلائی کرے اس کی ناشکری سے، اور اس سے کہ ہم کسی ظالم کی مدد کریں، اور مصیبت زدہ کو نظر انداز کریں، یا اس چیز کا قصد کریں جس کا ہمیں حق نہیں، یا دین میں بے جانے بوجھے دخل دیں۔ اور ہم تجھ سے پناہ مانگتے ہیں اس بات سے کہ کسی کو فریب دینے کا قصد کریں، یا اپنے اعمال پر نازاں ہوں، اور اپنی امیدوں کا دامن پھیلائیں۔ اور ہم تجھ سے پناہ مانگتے ہیں، بدباطنی اور چھوٹے گناہوں کو حقیر تصور کرنے، اور اس بات سے کہ شیطان ہم پر غلبہ حاصل کر لے جائے، یا زمانہ ہم کو مصیبت میں ڈالے، یا فرمانروا اپنے مظالم کا نشانہ بنائے۔ اور ہم تجھ سے پناہ مانگتے ہیں فضول خرچی میں پڑنے اور حسب ضرورت رزق کے نہ ملنے سے۔ اور ہم تجھ سے پناہ مانگتے ہیں دشمنوں کی شماتت، ہم چشموں کی احتیاج، سختی میں زندگی بسر کرنے، اور توشۂ آخرت کے بغیر مر جانے سے۔ اور تجھ سے پناہ مانگتے ہیں بڑے تاسف، بڑی مصیبت، بدترین بد بختی، برے انجام، ثواب سے محرومی، اور عذاب کے وارد ہونے سے۔ اے اللہ! محمدﷺ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما، اور اپنی رحمت کے صدقہ میں مجھے اور تمام مومنین و مومنات کو ان سب برائیوں سے پناہ دے۔ اے تمام رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔

  9. دعاء 9 طلب مغفرت کے سلسلے کی دعا

    9

    أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَصَيِّرْنَـا إلَى مَحْبُوبِكَ مِنَ التَّوْبَةِ وَأَزِلْنَا عَنْ مَكْرُوهِكَ مِنَ الإصْرَارِ. أللَّهُمَّ وَمَتَى وَقَفْنَا بَيْنَ نَقْصَيْنِ فِي دِين أَوْ دُنْيَا فَأَوْقِعِ النَّقْصَ بِأَسْرَعِهِمَا فَنَاءً ، وَاجْعَلِ التّوْبَةَ فِي أَطْوَلِهِمَا بَقَاءً. وَإذَا هَمَمْنَا بِهَمَّيْنِ يُرْضِيكَ أَحَدُهُمَا عَنَّا وَيُسْخِطُكَ الآخَرُ عَلَيْنَا ، فَمِلْ بِنَا إلَى مَا يُرْضِيْكَ عَنَّا ، وَأَوْهِنْ قُوَّتَنَا عَمَّا يُسْخِطُكَ عَلَيْنَا ، وَلاَ تُخَلِّ فِي ذلِكَ بَيْنَ نُفُوسِنَا وَاخْتِيَارِهَا فَإنَّهَا مُخْتَارَةٌ لِلْبَاطِلِ إلاَّ مَا وَفَّقْتَ أَمَّارَةٌ بالسُّوءِ إلاّ مَا رَحِمْتَ اللَّهمَّ وَإنَّكَ مِنَ الضَّعْفِ خَلَقْتَنَا، وَعَلَى الْوَهْنِ بَنَيْتَنَا ، وَمِنْ ماءٍ مَهِين ابْتَدَأتَنَا ، فَلاَ حَوْلَ لَنَا إلاّ بِقُوَّتِكَ وَلا قُوَّةَ لَنَا إلاّ بِعَونِكَ ، فَأيِّدْنَا بِتَوْفِيقِكَ وَسَدِّدْنَا بِتَسْدِيدِكَ وَأعْمِ أَبْصَارَ قُلُوبِنَا عَمَّا خَالَفَ مَحَبَّتَكَ وَلا تَجْعَلْ لِشَيْء مِنْ جَوَارِحِنَا نُفُوذاً فِي مَعْصِيَتِكَ. اللَّهُمَّ فَصَلِّ عَلَى مُحَمَد وَآلِهِ وَاجْعَلْ هَمَسَاتِ قُلُوبِنَا وَحَرَكَاتِ أَعْضَائِنَا ، وَلَمَحَاتِ أَعْيُنِنَا ، وَلَهَجَاتِ ألسِنَتِنَا فِيْ مُوجِبَاتِ ثَوَابِكَ، حَتَّى لاَ تَفُوتَنَا حَسَنَةٌ نَسْتَحِقُّ بِهَا جَزَآءَكَ ، وَلا تَبْقَى لَنَا سَيِّئـةٌ نَسْتَوْجِبُ بِهَا عِقَابَكَ.

    طلب مغفرت کے اشتیاق میں حضرتؑ کی دُعا: اے اللہ! رحمت نازل فرما محمدﷺ اور ان کی آلؑ پر اور ہماری توجہ اس توبہ کی طرف مبذول کر دے جو تجھے پسند ہے، اور گناہ کے اصرار سے ہمیں دور رکھ جو تجھے ناپسند ہے۔ بارالٰہا! جب ہمارا موقف کچھ ایسا ہو کہ (ہماری کسی کوتاہی کے باعث) دین کا زیاں ہوتا ہو یا دنیا کا، تو نقصان (دنیا میں) قرار دے کہ جو جلد فنا پذیر ہے، اور عفو و درگزر کو (دین کے معاملہ میں) قرار دے جو باقی و برقرار رہنے والا ہے، اور جب ہم ایسے دو کاموں کا ارادہ کریں کہ ان میں سے ایک تیری خوشنودی کا اور دوسرا تیری ناراضی کا باعث ہو تو ہمیں اس کام کی طرف مائل کرنا جو تجھے خوش کرنے والا ہو، اور اس کام سے ہمیں بے دست و پا کر دینا جو تجھے ناراض کرنے والا ہو، اور اس مرحلہ پر ہمیں اختیار دے کر آزاد نہ چھوڑ دے، کیونکہ نفس تو باطل ہی کو اختیار کرنے والا ہے، مگر جہاں تیری توفیق شامل حال ہو اور برائی کا حکم دینے والا ہے، مگر جہاں تیرا رحم کارفرما ہو۔ بارالٰہا! تو نے ہمیں کمزور اور سست بنیاد پیدا کیا ہے اور پانی کے ایک حقیر قطرہ (نطفہ) سے خلق فرمایا ہے۔ اگر ہمیں کچھ قوت و تصرف حاصل ہے تو تیری قوت کی بدولت، اور اختیار ہے تو تیری مدد کے سہارے سے، لہٰذا اپنی توفیق سے ہماری دستگیری فرما، اور اپنی رہنمائی سے استحکام و قوت بخش، اور ہمارے دیدۂ دل کو ان باتوں سے جو تیری محبت کے خلاف ہیں نابینا کر دے، اور ہمارے اعضاء کے کسی حصہ میں معصیت کے سرایت کرنے کی گنجائش پیدا نہ کر۔ بارالٰہا! رحمت نازل فرما محمدﷺ اور ان کی آلؑ پر اور ہمارے دل کے خیالوں، اعضاء کی جنبشوں، آنکھ کے اشاروں اور زبان کے کلموں کو ان چیزوں میں صرف کرنے کی توفیق دے جو تیرے ثواب کا باعث ہوں، یہاں تک کہ ہم سے کوئی ایسی نیکی چھوٹنے نہ پائے جس سے ہم تیرے اجر و ثواب کے مستحق قرار پائیں، اور نہ ہم میں کوئی برائی رہ جائے جس سے تیرے عذاب کے سزا وار ٹھہریں۔

  10. دعاء 10 طلب پناہ کے سلسلے کی دعا

    10

    اللّهُمَّ إن تَشَأْ تعفُ عَنّا فَبِفضْلِكَ ، وَانْ تَشَأْ تُعَذِّبْنا فَبَعدْلِكَ. فَسَهِّلْ لَنَا عَفْوَكَ بِمنِّكَ ، وَأَجِرْنَا مِنْ عَذَابِكَ بِتَجاوُزكَ; فَإنَّهُ لاَ طاقَةَ لَنَا بَعدلِكَ، وَلاَ نجاةَ لأحَد مِنّا دُوْنَ عَفْوِكَ. يا غَنِيَّ الأغْنياء هَا نَحَنُ عِبادُكَ بين يدَيكَ وَأَنَا أَفقَرُ الفْقَراء إليْكَ فَأجْبُرْ فاقَتَنا بِوُسْعِكَ ، ولا تَقْطَعَ رَجَاءنا بِمَنْعِكَ فَتَكُوْنَ قد أَشْقَيْتَ مَنِ اسْتَسْعَدَ بِكَ ، وَجَرَمْتَ مَنِ اسْتَرْفَدَ فَضْلَكَ. فَإلى مَنْ حيْنئذ مُنْقَلَبُنَا عَنْكَ ، وإلى أيْنَ مَذهَبُنَا عن بَابِكَ ، سُبْحَنَكَ نَحْنُ المضْطُّرون الذّينَ أَوْجَبْتَ إجابَتَهُمْ ، وَأهْلُ السُّوْء الذّيْنَ وَعَدْتَ الْكَشْفَ عَنْهُمْ. وَأَشْبَـهُ الأَشْياءِ بِمَشِيَّتِـكَ ، وَأَوْلَى الأمُورِ بِكَ فِيْ عَظَمَتِكَ رَحْمَةُ مَنِ اسْتَرْحَمَكَ، وَغَوْثُ مَنِ اسْتَغَاثَ بِكَ، فَارْحَمْ تَضَرُّعَنَا إلَيْكَ، وَأَغْنِنَا إذْ طَرَحْنَـا أَنْفُسَنَا بَيْنَ يَـدَيْكَ. أللَّهُمَّ إنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ شمِتَ بِنَا إذْ شَايَعْنَاهُ عَلَى مَعْصِيَتِكَ، فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَلا تُشْمِتْهُ بِنَا بَعْدَ تَرْكِنَا إيَّاهُ لَكَ، وَرَغْبَتِنَا عَنْهُ إلَيْكَ.

    اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کرنےکے سلسلہ میں حضرتؑ کی دُعا: بارالٰہا ! اگر تو چاہے کہ ہمیں معاف کر دے تو یہ تیرے فضل کے سبب سے ہے، اور اگر تو چاہے کہ ہمیں سزا دے تو یہ تیرے عدل کی رُو سے ہے۔ تو اپنے شیوہ ٔاحسان کے پیش نظر ہمیں پوری معافی دے، اور ہمارے گناہوں سے درگزر کر کے اپنے عذاب سے بچا لے۔ اس لئے کہ ہمیں تیرے عدل کی تاب نہیں ہے اور تیرے عفو کے بغیر ہم میں سے کسی ایک کی بھی نجات نہیں ہو سکتی۔ اے بے نیازوں کے بے نیاز! ہاں تو پھر ہم سب تیرے بندے ہیں جو تیرے حضور کھڑے ہیں، اور میں سب محتاجوں سے بڑھ کر تیرا محتاج ہوں۔ لہٰذا اپنے بھرے خزانے سے ہمارے دامن فقر و احتیاج کو بھر دے، اور اپنے دروازے سے رد کر کے ہماری امیدوں کو قطع نہ کر۔ ورنہ جو تجھ سے خوش حالی کا طالب تھا وہ تیرے ہاں سے حرماں نصیب ہو گا، اور جو تیرے فضل سے بخشش و عطا کا خواستگار تھا وہ تیرے در سے محروم رہے گا۔ تو اب ہم تجھے چھوڑ کر کس کے پاس جائیں اور تیرا در چھوڑ کر کدھر کا رخ کریں۔ تو اس سے منزہ ہے (کہ ہمیں ٹھکرا دے جبکہ) ہم ہی وہ عاجز و بے بس ہیں جن کی دُعائیں قبول کرنا تو نے اپنے اوپر لازم کر لیا ہے، اور وہ درد مند ہیں جن کے دکھ دور کرنے کا تو نے وعدہ کیا ہے، اور تمام چیزوں میں تیرے مقتضائے مشیت کے مناسب اور تمام امور میں تیری بزرگی و عظمت کے شایان یہ ہے کہ جو تجھ سے رحم کی درخواست کرے تو اس پر رحم فرمائے اور جو تجھ سے فریاد رسی چاہے تو اس کی فریاد رسی کرے۔ تو اب اپنی بارگاہ میں ہماری تضرع و زاری پر رحم فرما، اور جبکہ ہم نے اپنے کو تیرے آگے (خاک مذلّت پر) ڈال دیا ہے تو ہمیں (فکر و غم سے) نجات دے۔ بار الٰہا! جب ہم نے تیری معصیت میں شیطان کی پیروی کی تو اس نے (ہماری اس کمزوری پر) اظہار مسرت کیا۔ تو محمدﷺ اور ان کی آل اطہارؑ پر درود بھیج اور جب ہم نے تیری خاطر اسے چھوڑ دیا، اور اس سے روگردانی کر کے تجھ سے لو لگا چکے ہیں تو کوئی ایسی افتاد نہ پڑے کہ وہ ہم پر شماتت کرے۔

  11. دعاء 11 انجام بخیر ہونے کی دعا

    11

    يا مَنْ ذِكْرُهُ شَرَفٌ لِلذَّاكِرِينَ وَيَا مَنْ شُكْرُهُ فَوْزٌ لِلشَّاكِرِينَ، وَيَا مَنْ طَاعَتُهُ نَجَاةٌ لِلْمُطِيعِينَ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَاشْغَلْ قُلُوبَنَا بِذِكْرِكَ عَنْ كُلِّ ذِكْر، وَأَلْسِنَتَنَا بِشُكْرِكَ عَنْ كُلِّ شُكْر وَجَوَارِحَنَا بِطَاعَتِكَ عَنْ كُلِّ طَاعَة. فَإنْ قَدَّرْتَ لَنَا فَرَاغاً مِنْ شُغُل فَاجْعَلْهُ فَرَاغَ سَلاَمَة لا تُدْرِكُنَا فِيهِ تَبِعَةٌ وَلاَ تَلْحَقُنَا فِيهِ سَاَمَةٌ حَتَّى يَنْصَرِفَ عَنَّا كُتَّابُ السَّيِّئَاتِ بِصَحِيفَة خَالِيَة مِنْ ذِكْرِ سَيِّئاتِنَا َو يَتَوَلّى كُتَّابُ الْحَسَنَاتِ عَنَّا مَسْرُورِينَ بِمَا كَتَبُوا مِنْ حَسَنَاتِنَا . وَإذَا انْقَضَتْ أَيَّامُ حَيَاتِنَـا وَتَصَرَّمَتْ مُـدَدُ أَعْمَارِنَـا، وَاسْتَحْضَرَتْنَا دَعْوَتُكَ الَّتِي لاَ بُدَّ مِنْهَا وَمِنْ إجَابَتِهَا ، فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ، وَاجْعَلْ خِتَامَ مَا تُحْصِي عَلَيْنَا كَتَبَةُ أَعْمَالِنَا تَوْبَةً مَقْبُولَةً لا تُوقِفُنَا بَعْدَهَا عَلَى ذَنْب اجْتَرَحْنَاهُ، وَلاَ مَعْصِيَة اقْتَرَفْنَاهَا، وَلاَ تَكْشِفْ عَنَّا سِتْراً سَتَرْتَهُ عَلَى رُؤُوسِ الأشْهَادِ يَوْمَ تَبْلُو أَخْبَارَ عِبَادِكَ إنَّكَ رَحِيمٌ بِمَنْ دَعَاكَ، وَمُسْتَجيبٌ لِمَنْ نَادَاكَ .

    انجام بخیر ہونے کی دُعا: اے وہ ذات! جس کی یاد، یاد کرنے والوں کیلئے سرمایۂ عزت، اے وہ جس کا شکر، شکر گزاروں کیلئے وجۂ کامرانی، اے وہ جس کی فرمانبرداری فرمانبرداروں کیلئے ذریعہ نجات ہے، رحمت نازل فرما محمدﷺ اور ان کی آلؑ پر اور ہمارے دلوں کو اپنی یاد میں، اور ہماری زبانوں کو اپنے شکریہ میں، اور ہمارے اعضاء کو اپنی فرمانبرداری میں مصروف رکھ کر، ہر یاد، ہر شکر یہ اور ہر فرمانبرداری سے بے نیاز کر دے۔ اور اگر تُو نے ہماری مصروفیتوں میں کوئی فراغت کا لمحہ رکھا ہے تو اسے سلامتی سے ہمکنار کر، اس طرح کہ نتیجہ میں کوئی گناہ دامن گیر نہ ہو اور نہ خستگی رونما ہو، تاکہ برُائیوں کو لکھنے والے فرشتے اس طرح پلٹیں کہ نامۂ اعمال ہماری برائیوں کے ذکر سے خالی ہو، اور نیکیوں کو لکھنے والے فرشتے ہماری نیکیوں کو لکھ کر مسرور و شاداں واپس ہوں۔ اور جب ہماری زندگی کے دن بیت جائیں اور سلسلۂ حیات قطع ہو جائے، اور تیری بارگاہ میں حاضر ہونے کا بلاوا آئے، جسے بہرحال آنا اور جس پر بہر صورت لبیک کہنا ہے، تو محمدﷺ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور ہمارے کاتبانِ اعمال ہمارے جن اعمال کا شمار کریں ان میں آخری عمل مقبول توبہ کو قرار دے کہ اس کے بعد ہمارے ان گناہوں اور ہماری ان معصیتوں پر جن کے ہم مرتکب ہوئے ہیں سرزنش نہ کرے، اور جب اپنے بندوں کے حالات جانچے تو اس پردہ کو جو تو نے ہمارے گناہوں پر ڈالا ہے سب کے رو برو چاک نہ کرے۔ بیشک جو تجھے بلائے تو اس پر مہربانی کرتا ہے، اور جو تجھے پکارے تو اس کی سنتا ہے۔

  12. دعاء 12 اعتراف گناہ اور طلب توبہ کے سلسلہ میں حضرت کی دعا

    12

    أَللَّهُمَّ إنَّهُ يَحْجُبُنِي عَنْ مَسْأَلَتِكَ خِلاَلٌ ثَلاثٌ وَتَحْدُونِي عَلَيْهَا خَلَّةٌ وَاحِدَةٌ ، يَحْجُبُنِي أَمْرٌ أَمَرْتَ بِهِ فَأَبْطَأتُ عَنْهُ، وَنَهْيٌ نَهَيْتَنِي عَنْهُ فَأَسْرَعْتُ إلَيْهِ، وَنِعْمَةٌ أَنْعَمْتَ بِهَا عَلَيَّ فَقَصَّرْتُ فِي شُكْرِهَـا. وَيَحْدُونِي عَلَى مَسْأَلَتِكَ تَفَضُّلُكَ عَلَى مَنْ أَقْبَلَ بِوَجْهِهِ إلَيْكَ، وَوَفَدَ بِحُسْنِ ظَنِّـهِ إلَيْكَ، إذْ جَمِيعُ إحْسَانِكَ تَفَضُّلٌ، وَإذْ كُلُّ نِعَمِكَ ابْتِدَاءٌ. فَهَا أَنَا ذَا يَا إلهِيْ وَاقِفٌ بِبَابِ عِزِّكَ وُقُوفَ المُسْتَسْلِمِ الذَّلِيْل، وَسَائِلُكَ عَلَى الْحَيَاءِ مِنّي سُؤَالَ الْبَائِسِ الْمُعِيْلِ. مُقـرٌّ لَكَ بأَنّي لَمْ أَسْتَسْلِمْ وَقْتَ إحْسَانِـكَ إلاَّ بِالاِقْلاَعِ عَنْ عِصْيَانِكَ، وَلَمْ أَخْلُ فِي الْحَالاتِ كُلِّهَا مِنِ امْتِنَانِكَ. فَهَلْ يَنْفَعُنِي يَا إلهِي إقْرَارِي عِنْدَكَ بِسُوءِ مَا اكْتَسَبْتُ؟ وَهَلْ يُنْجِيْنِي مِنْكَ اعْتِرَافِي لَكَ بِقَبِيْحِ مَا ارْتَكَبْتُ؟ أَمْ أَوْجَبْتَ لِي فِي مَقَامِي هَذَا سُخْطَكَ؟ أَمْ لَزِمَنِي فِي وَقْتِ دُعَائِي مَقْتُكَ؟ سُبْحَانَكَ! لاَ أَيْأَسُ مِنْكَ وَقَدْ فَتَحْتَ لِيَ بَابَ التَّوْبَةِ إلَيْكَ، بَلْ أَقُولُ مَقَالَ الْعَبْدِ الذَّلِيلِ الظَّالِمِ لِنَفْسِهِ الْمُسْتَخِفِّ بِحُرْمَةِ رَبِّهِ الَّذِي عَظُمَتْ ذُنُوبُهُ فَجَلَّتْ وَأَدْبَرَتْ أَيّامُهُ فَوَلَّتْ حَتَّى إذَا رَأى مُدَّةَ الْعَمَلِ قَدِ انْقَضَتْ وَغَايَةَ الْعُمُرِ قَدِ انْتَهَتْ ، وَأَيْقَنَ أَنَّهُ لا مَحيصَ لَهُ مِنْكَ ،وَلاَ مَهْرَبَ لَهُ عَنْكَ تَلَقَّاكَ بِالإنَابَةِ ،وَأَخْلَصَ لَكَ التَّوْبَةَ ، فَقَامَ إلَيْكَ بِقَلْبِ طَاهِر نَقِيٍّ ثُمَّ دَعَاكَ بِصَوْت حَائِل خَفِيٍّ ، قَدْ تَطَأطَأَ لَكَ فَانْحَنى، وَنَكَّسَ رَأسَهُ فَانْثَنَى ، قَدْ أَرْعَشَتْ خَشْيَتُهُ رِجْلَيْهِ، وَغَرَّقَتْ دُمُوعُهُ خَدَّيْهِ ، يَدْعُوكَ بِيَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ وَيَا أَرْحَمَ مَنِ انْتَابَهُ الْمُسْتَرْحِمُونَ، وَيَا أَعْطَفَ مَنْ أَطَافَ بِهِ الْمُسْتَغْفِرُونَ ، وَيَا مَنْ عَفْوُهُ أكْثَرُ مِنْ نِقْمَتِهِ، وَيَا مَنْ رِضَاهُ أَوْفَرُ مِنْ سَخَطِهِ، وَيَا مَنْ تَحَمَّدَ إلَى خَلْقِهِ بِحُسْنِ التَّجاوُزِ ، وَيَا مَنْ عَوَّدَ عِبادَهُ قَبُولَ الإنَابَةِ ، وَيَا مَنِ اسْتَصْلَحَ فَاسِدَهُمْ بِالتَّوْبَةِ وَيَا مَنْ رَضِيَ مِنْ فِعْلِهِمْ بِالْيَسيرِ، وَيَا مَنْ كَافى قَلِيْلَهُمْ بِالْكَثِيرِ، وَيَا مَنْ ضَمِنَ لَهُمْ إجَابَةَ الدُّعاءِ، وَيَا مَنْ وَعَدَهُمْ عَلَى نَفْسِهِ بِتَفَضُّلِهِ حُسْنَ الْجَزاءِ، مَا أَنَا بِأَعْصَى مَنْ عَصَاكَ فَغَفَرْتَ لَهُ، وَمَا أَنَا بِأَلْوَمِ مَنِ اعْتَذَرَ إلَيْكَ فَقَبِلْتَ مِنْهُ، وَمَا أَنَا بِأَظْلَمِ مَنْ تَابَ إلَيْكَ فَعُدْتَ عَلَيْهِ ، أَتُوبُ إلَيْكَ فِي مَقَامِي هَذَا تَوْبَةَ نَادِم عَلَى مَا فَرَطَ مِنْهُ مُشْفِق مِمَّا اجْتَمَعَ عَلَيْهِ خَالِصِ الْحَيَاءِ مِمَّا وَقَعَ فِيْهِ ، عَالِم بِأَنَّ الْعَفْوَ عَنِ الذَّنْبِ الْعَظِيمِ لاَ يَتَعـاظَمُكَ، وَأَنَّ التَّجَـاوُزَ عَنِ الإثْمِ الْجَلِيْلِ لا يَسْتَصْعِبُكَ ، وَأَنَّ احْتِمَالَ الْجنَايَاتِ الْفَـاحِشَةِ لا يَتَكَأَّدُكَ، وَأَنَّ أَحَبَّ عِبَادِكَ إلَيْكَ مَنْ تَرَكَ الاسْتِكْبَارَ عَلَيْكَ، وَجَانَبَ الإِصْرَارَ، وَلَزِمَ الاسْتِغْفَارَ. وَأَنَا أَبْرَأُ إلَيْكَ مِنْ أَنْ أَسْتَكْبِرَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أصِـرَّ. وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا قَصَّرْتُ فِيهِ ، وَأَسْتَعِينُ بِكَ عَلَى مَا عَجَزْتُ عَنْهُ. اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَهَبْ لِي مَا يَجبُ عَلَيَّ لَكَ ، وَعَافِنِي مِمَّا أَسْتَوْجِبُهُ مِنْكَ، وَأجِرْنِي مِمَّا يَخَافُهُ أَهْلُ الإساءَةِ فَإنَّكَ مَلِيءٌ بِالْعَفْوِ، مَرْجُوٌّ لِلْمَغْفِرَةِ، مَعْرُوفٌ بِالتَّجَاوُزِ ، لَيْسَ لِحَاجَتِي مَطْلَبٌ سِوَاكَ ، وَلا لِذَنْبِي غَافِرٌ غَيْرُكَ، حاشَاكَ وَلاَ أَخَافُ عَلَى نَفْسِي إلاّ إيَّاكَ إنَّكَ أَهْلُ التَّقْوَى وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ . صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِ مُحَمَّد، وَاقْض حَاجَتِي وَأَنْجِحْ طَلِبَتِي، وَاغْفِرْ ذَنْبِي، وَآمِنْ خَوْفَ نَفْسِيْ إنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْء قَدِيرٌ وَذلِكَ عَلَيْكَ يَسِيرٌ آمِينَ رَبَّ الْعَالَمِينَ .

    اعترافِ گناہ اور طلبِ توبہ کے سلسلہ میں حضرتؑ کی دُعا: اے اللہ! مجھے تین باتیں تیری بارگاہ میں سوال کرنے سے روکتی ہیں، اور ایک بات اس پر آمادہ کرتی ہے: جو باتیں روکتی ہیں ان سے میں ایک یہ ہے کہ جس امر کا تو نے حکم دیا میں نے اس کی تعمیل میں سستی کی، دوسرے یہ کہ جس چیز سے تو نے منع کیا اس کی طرف تیزی سے بڑھا، تیسرے جو نعمتیں تو نے مجھے عطا کیں ان کا شکریہ ادا کرنے میں کوتاہی کی۔ اور جو بات مجھے سوال کرنے کی جرأت دلاتی ہے وہ تیرا تفضل و احسان ہے جو تیری طرف رجوع ہونے والوں اور حسن ظن کے ساتھ آنے والوں کے ہمیشہ شریک حال رہا ہے۔ کیونکہ تیرے تمام احسانات صرف تیرے تفضل کی بنا پر ہیں، اور تیری ہر نعمت بغیر کسی سابقہ استحقاق کے ہے۔ اچھا پھر اے میرے معبود! میں تیرے دروازۂ عزّ و جلال پر ایک عبد مطیع و ذلیل کی طرح کھڑا ہوں، اور شرمندگی کے ساتھ ایک فقیر و محتاج کی حیثیت سے سوال کرتا ہوں، اس امر کا اقرار کرتے ہوئے کہ تیرے احسانات کے وقت ترکِ معصیت کے علاوہ اور کوئی اطاعت (از قبیل حمد و شکر) نہ کر سکا، اور میں کسی حالت میں تیرے انعام و احسان سے خالی نہیں رہا۔ تو کیا اے میرے معبود! یہ بد اعمالیوں کا اقرار تیری بارگاہ میں میرے لئے سود مند ہو سکتا ہے؟ اور وہ برائیاں جو مجھ سے سرزد ہوئی ہیں ان کا اعتراف تیرے عذاب سے نجات کا باعث قرار پا سکتا ہے؟ یا یہ کہ تو نے اس مقام پر مجھ پر غضب کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور دُعا کے وقت اپنی ناراضگی کو میرے لئے برقرار رکھا ہے؟ تو پاک و منزہ ہے، میں تیری رحمت سے مایوس نہیں ہوں، اس لئے کہ تو نے اپنی بارگاہ کی طرف میرے لئے توبہ کا دروازہ کھول دیا ہے، بلکہ میں اس بندۂ ذلیل کی سی بات کہہ رہا ہوں جس نے اپنے نفس پر ظلم کیا اور اپنے پروردگار کی حرمت کا لحاظ نہ رکھا، جس کے گناہ عظیم اور روز افزوں ہیں، جس کی زندگی کے دن گزر گئے اور گزرتے جا رہے ہیں، یہاں تک کہ جب اس نے دیکھا کہ مدتِ عمل تمام ہو گئی اور عمر اپنی آخری حد کو پہنچ گئی اور یہ یقین ہو گیا کہ اب تیرے ہاں حاضر ہوئے بغیر کوئی چارہ اور تجھ سے نکل بھاگنے کی کوئی صورت نہیں ہے تو وہ ہمہ تن تیری طرف رجوع ہوا، اور صدق نیت سے تیری بارگاہ میں توبہ کی۔ اب وہ بالکل پاک و صاف دل کے ساتھ تیرے حضور کھڑا ہوا، پھر کپکپاتی آواز سے اور دبے لہجے میں تجھے پکارا، اس حالت میں کہ خشوع و تذلل کے ساتھ تیرے سامنے جھک گیا اور سر کو نیوڑھا کر تیرے آگے خمیدہ ہو گیا، خوف سے اس کے دونوں پاؤں تھرا رہے ہیں، اور سیلِ اشک اس کے رخساروں پر رواں ہے۔ اور تجھے اس طرح پکار رہا ہے: اے سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والے، اے ان سب سے بڑھ کر رحم کرنے والے جن سے طلبگاران رحم و کرم بار بار رحم کی التجائیں کرتے ہیں، اے ان سب سے زیادہ مہربانی کرنے والے جن کے گرد معافی چاہنے والے گھیرا ڈالے رہتے ہیں۔ اے وہ جس کا عفو و درگزر اس کے انتقام سے فزوں تر ہے، اے وہ جس کی خوشنودی اس کی ناراضگی سے زیادہ ہے، اے وہ جو بہترین عفوو درگزر کے باعث مخلوقات کے نزدیک حمد و ستائش کا مستحق ہے، اے وہ جس نے اپنے بندوں کو قبول توبہ کا خوگر کیا ہے اور توبہ کے ذریعہ ان کے بگڑے ہوئے کاموں کی درستگی چاہی ہے، اے وہ جو ان کے ذرا سے عمل پر خوش ہو جاتا ہے اور تھوڑے سے کام کا بدلہ زیادہ دیتا ہے، اے وہ جس نے ان کی دُعاؤں کو قبول کرنے کا ذمہ لیا ہے، اے وہ جس نے از روئے تفضل و احسان بہترین جزا کا وعدہ کیا ہے۔ جن لوگوں نے تیری معصیت کی اور تو نے انہیں بخش دیا میں ان سے زیادہ گنہگار نہیں ہوں، اور جنہوں نے تجھ سے معذرت کی اور تو نے ان کی معذرت کو قبول کر لیا ان سے زیادہ قابل سرزنش نہیں ہوں، اور جنہوں نے تیری بارگاہ میں توبہ کی اور تو نے (توبہ کو قبول فرما کر) ان پر احسان کیا ان سے زیادہ ظالم نہیں ہوں۔ لہٰذا میں اپنے اس موقف کو دیکھتے ہوئے تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں اس شخص کی سی توبہ جو اپنے پچھلے گناہوں پر نادم، اور خطاؤں کے ہجوم سے خوف زدہ، اور جن برائیوں کا مرتکب ہوتا رہا ہے ان پر واقعی شرمسار ہو، اور جانتا ہو کہ بڑے سے بڑے گناہ کو معاف کر دینا تیرے نزدیک کوئی بڑی بات نہیں ہے، اور بڑی سے بڑی خطا سے درگزر کرنا تیرے لئے کوئی مشکل نہیں ہے، اور سخت سے سخت جرم سے چشم پوشی کرنا تجھے ذرا گراں نہیں ہے، یقیناً تمام بندوں میں سے وہ بندہ تجھے زیادہ محبوب ہے جو تیرے مقابلہ میں سرکشی نہ کرے، گناہوں پر مصر نہ ہو اور توبہ و استغفار کی پابندی کرے۔ اور میں تیرے حضور غرور و سرکشی سے دست بردار ہوتا ہوں، اور گناہوں پر اصرار سے تیرے دامن میں پناہ مانگتا ہوں، اور جہاں جہاں کوتاہی کی ہے اس کیلئے عفو و بخشش کا طلبگار ہوں، اور جن کاموں کے انجام دینے سے عاجز ہوں ان میں تجھ سے مدد کا خواستگار ہوں۔ اے اللہ! تو رحمت نازل فرما محمدﷺ اور ان کی آلؑ پر اور تیرے جو جو حقوق میرے ذمہ عائد ہوتے ہیں انہیں بخش دے، اور جس پاداش کا میں سزاوار ہوں اس سے معافی دے، اور مجھے اس عذاب سے پناہ دے جس سے گنہگار ہراساں ہیں۔ اس لئے کہ تو معاف کر دینے پر قادر ہے، اور تجھ ہی سے مغفرت کی امید کی جا سکتی ہے، اور تو اس صفت عفو و درگزر میں معروف ہے، اور تیرے سوا حاجت کے پیش کرنے کی کوئی جگہ نہیں ہے، اور نہ تیرے علاوہ کوئی میرے گناہوں کا بخشنے والا ہے، حاشا و کلا کوئی اور بخشنے والا نہیں ہے، اور مجھے اپنے بارے میں ڈر ہے تو بس تیرا۔ اس لئے کہ تو ہی اس کا سزا وار ہے کہ تجھ سے ڈرا جائے، اور تو ہی اس کا اہل ہے کہ بخشش و آمرزش سے کام لے۔ تو محمدﷺ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور میری حاجت بَر لا، اور میری مراد پوری کر، میرے گناہ بخش دے، اور میرے دل کو خوف سے مطمئن کر دے۔ اس لئے کہ تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، اور یہ کام تیرے لئے سہل و آسان ہے۔ میری دُعا قبول فرما اے تمام جہان کے پروردگار۔

  13. دعاء 13 طلب حاجات کے سلسلہ میں حضرت کی دعا

    13

    أللَّهُمَّ يَا مُنْتَهَى مَطْلَبِ الْحَاجَاتِ وَيَا مَنْ عِنْدَه نَيْلُ الطَّلِبَاتِ وَيَا مَنْ لا يَبِيْعُ نِعَمَهُ بالأثْمَانِ وَيَا مَنْ لا يُكَدِّرُ عَطَايَاهُ بِالامْتِنَانِ وَيَا مَنْ يُسْتَغْنَى بِهِ وَلاَ يُسْتَغْنَى عَنْهُ وَيَا مَنْ يُرْغَبُ إلَيْهِ وَلا يُرْغَبُ عَنْهُ. وَيَا مَنْ لا تُفنى خَزَآئِنَهُ الْمَسَائِلُ وَيَا مَنْ لاَ تُبَدِّلُ حِكْمَتَهُ الْوَسَائِلُ. وَيَا مَنْ لاَ تَنْقَطِعُ عَنْهُ حَوَائِجُ الْمُحْتَاجِينَ وَيَا مَنْ لاَ يُعَنِّيهِ دُعَاءُ الدَّاعِينَ تَمَدَّحْتَ بِالْغَنَاءِ عَنْ خَلْقِكَ وَأَنْتَ أَهْلُ الْغِنَى عَنْهُمْ وَنَسَبْتَهُمْ إلَى الفَقْرِ وَهُمْ أَهْلُ الْفَقْرِ إلَيْكَ. فَمَنْ حَاوَلَ سَدَّ خَلَّتِهِ مِنْ عِنْدِكَ وَرَامَ صَرْفَ الْفَقْر عَنْ نَفْسِهِ بِكَ فَقَدْ طَلَبَ حَاجَتَهُ فِي مَظَانِّها وَأَتَى طَلِبَتَهُ مِنْ وَجْهِهَا وَمَنْ تَوَجَّهَ بِحَاجَتِهِ إلَى أَحَد مِنْ خَلْقِكَ أَوْ جَعَلَهُ سَبَبَ نُجْحِهَا دُونَكَ فَقَدْ تَعَرَّضَ لِلْحِرْمَانِ وَاسْتَحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَوْتَ الاِحْسَانِ أللَّهُمَّ وَلِي إلَيْكَ حَاجَةٌ قَـدْ قَصَّرَ عَنْهَـا جُهْدِي وَتَقَطَّعَتْ دُونَهَا حِيَلِي وَسَوَّلَتْ لِيْ نَفْسِي رَفْعَهَا إلَى مَنْ يَرْفَعُ حَوَائِجَهُ إلَيْكَ وَلاَ يَسْتَغْنِي فِي طَلِبَاتِهِ عَنْكَ وَهِيَ زَلَّةٌ مِنْ زَلَلِ الْخَاطِئِينَ وَعَثْرَةٌ مِنْ عَثَراتِ الْمُذْنِبِينَ ثُمَّ انْتَبَهْتُ بِتَذْكِيرِكَ لِي مِنْ غَفْلَتِي وَنَهَضْتُ بِتَوْفِيقِكَ مِنْ زَلَّتِي وَ رَجَعتُ وَنَكَصْتُ بِتَسْـدِيدِكَ عَنْ عَثْـرَتِي وَقُلْتُ: سُبْحَانَ رَبّي كَيْفَ يَسْأَلُ مُحْتَاجٌ مُحْتَاجـاً وَأَنَّى يَرْغَبُ مُعْدِمٌ إلَى مُعْدِم؟ فَقَصَدْتُكَ يا إلهِي بِالرَّغْبَةِ وَأَوْفَدْتُ عَلَيْكَ رَجَائِي بِالثِّقَةِ بِكَ وَعَلِمْتُ أَنَّ كَثِيرَ مَا أَسْأَلُكَ يَسِيرٌ فِي وُجْدِكَ وَأَنَّ خَطِيرَ مَا أَسْتَوْهِبُكَ حَقِيرٌ فِيْ وُسْعِكَ وَأَنَّ كَرَمَكَ لاَ يَضِيقُ عَنْ سُؤَال أحَد وَأَنَّ يَدَكَ بِالْعَطايا أَعْلَى مِنْ كُلِّ يَد. أللَهُمَّ فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَاحْمِلْنِي بِكَرَمِكَ عَلَى التَّفَضُّلِ وَلاَ تَحْمِلْنِي بِعَدْلِكَ عَلَى الاسْتِحْقَاقِ فَما أَنَا بِأَوَّلِ رَاغِبِ رَغِبَ إلَيْكَ فَأَعْطَيْتَهُ وَهُوَ يَسْتَحِقُّ الْمَنْعَ وَلاَ بِأَوَّلِ سَائِل سَأَلَكَ فَأَفْضَلْتَ عَلَيْهِ وَهُوَ يَسْتَوْجِبُ الْحِرْمَانَ. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَكُنْ لِدُعَائِي مُجِيباً وَمِنْ نِدائِي قَرِيباً وَلِتَضَرُّعِي رَاحِماً وَلِصَوْتِي سَامِعاً وَلاَ تَقْطَعْ رَجَائِي عَنْكَ وَلا تَبُتَّ سَبَبِي مِنْكَ وَلاَ تُوَجِّهْنِي فِي حَاجَتيْ هَذِهِ وَغَيْرِهَا إلى سِوَاكَ وَتَوَلَّنِي بِنُجْحِ طَلِبَتِي وَقَضاءِ حَاجَتِي وَنَيْلِ سُؤْلِي قَبْلَ زَوَالِي عَنْ مَوْقِفِي هَذَا بِتَيسِيرِكَ لِيَ الْعَسِيْرَ وَحُسْنِ تَقْدِيرِكَ لِي فِي جَمِيعِ الأُمُورِ. وَصَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ صَلاَةً دَائِمَةً نَامِيَةً لاَ انْقِطَاعَ لأِبَدِهَا وَلا مُنْتَهَى لأِمَدِهَا وَاجْعَلْ ذَلِكَ عَوْناً لِيْ وَسَبَباً لِنَجَاحِ طَلِبَتِي إنَّكَ وَاسِعٌ كَرِيْمٌ. وَمِنْ حَاجَتِي يَا رَبِّ كَذَا وَكَذَا وَتَذْكُرُ حَاجَتَكَ ثمّ تَسْجُـدُ وَتَقُولُ فِي سُجُودِكَ: فَضْلُكَ آنَسَنِي وَإحْسَانُكَ دَلَّنِي فَأَسْأَلُكَ بِكَ وَبِمُحَمَّـد وَآلِهِ صَلَواتُكَ عَلَيْهمْ أَنْ لاَ تَرُدَّنِي خَائِباً.

    خداوند عالم سے طلبِ حاجات کے سلسلہ میں حضرتؑ کی دُعا: اے معبود! اے وہ جو طلب حاجات کی منزلِ منتہیٰ ہے، اے وہ جس کے یہاں مرادوں تک رسائی ہوتی ہے، اے وہ جو اپنی نعمتیں قیمتوں کے عوض فروخت نہیں کرتا، اور نہ اپنے عطیوں کو احسان جتا کر مکدر کرتا ہے، اے وہ جس کے ذریعہ بے نیازی حاصل ہوتی ہے اور جس سے بے نیاز نہیں رہا جا سکتا، اے وہ جس کی خواہش و رغبت کی جاتی ہے اور جس سے منہ موڑا نہیں جا سکتا، اے وہ جس کے خزانے طلب و سوال سے ختم نہیں ہوتے، اور جس کی حکمت و مصلحت کو وسائل و اسباب کے ذریعہ تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ اے وہ جس سے حاجت مندوں کا رشتۂ احتیاج قطع نہیں ہوتا، اور جسے پکارنے والوں کی صدا خستہ و ملول نہیں کرتی، تو نے خلق سے بے نیاز ہونے کی صفت کا مظاہرہ کیا ہے اور تو یقیناً ان سے بے نیاز ہے اور تو نے ان کی طرف فقر و احتیاج کی نسبت دی ہے اور وہ بیشک تیرے محتاج ہیں۔ لہٰذا جس نے اپنے افلاس کے رفع کرنے کیلئے تیرا ارادہ کیا، اور اپنی احتیاج کے دور کرنے کیلئے تیرا قصد کیا اس نے اپنی حاجت کو اس کے محل و مقام سے طلب کیا، اور اپنے مقصد تک پہنچنے کا صحیح راستہ اختیار کیا اور جو اپنی حاجت کو لے کر مخلوقات میں سے کسی ایک طرف متوجہ ہوا، یا تیرے علاوہ دوسرے کو اپنی حاجت برآوری کا ذریعہ قرار دیا وہ حرماں نصیبی سے دوچار، اور تیرے احسان سے محرومی کا سزا وار ہوا۔ بارالٰہا! میری تجھ سے ایک حاجت ہے جسے پورا کرنے سے میری طاقت جواب دے چکی ہے، اور میری تدبیر و چارہ جوئی بھی ناکام ہو کر رہ گئی ہے، اور میرے نفس نے مجھے یہ بات خوش نما صورت میں دکھائی کہ میں اپنی حاجت کو اس کے سامنے پیش کروں جو خود اپنی حاجتیں تیرے سامنے پیش کرتا ہے اور اپنے مقاصد میں تجھ سے بے نیاز نہیں ہے، یہ سراسر خطا کاروں کی خطاؤں میں سے ایک خطا اور گنہگاروں کی لغزشوں میں سے ایک لغزش تھی۔ لیکن تیرے یاد دلانے سے میں اپنی غفلت سے ہوشیار ہوا، اور تیری توفیق نے سہارا دیا تو ٹھوکر کھانے سے سنبھل گیا، اور تیری رہنمائی کی بدولت اس غلط اقدام سے باز آیا اور واپس پلٹ آیا، اور میں نے کہا: واہ سبحان اللہ! کس طرح ایک محتاج دوسرے محتاج سے سوال کر سکتا ہے، اور کہاں ایک نادار دوسرے نادار سے رجوع کر سکتا ہے۔ (جب یہ حقیقت واضح ہو گئی ) تو میں نے اے میرے معبود! پوری رغبت کے ساتھ تیرا ارادہ کیا، اور تجھ پر بھروسا کرتے ہوئے اپنی امیدیں تیرے پاس لایا ہوں، اور میں نے اس امر کو بخوبی جان لیا ہے کہ میری کثیر حاجتیں تیری تو نگری کے آگے کم، اور میری عظیم خواہشیں تیری وسعت رحمت کے سامنے ہیچ ہیں، تیرے دامن کرم کی وسعت کسی کے سوال کرنے سے تنگ نہیں ہوتی اور تیرا دست کرم عطا و بخشش میں ہر ہاتھ سے بلند ہے۔ اے اللہ! محمدﷺ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور اپنے کرم سے میرے ساتھ تفضل و احسان کی روش اختیار کر، اور اپنے عدل سے کام لیتے ہوئے میرے استحقاق کی رُو سے فیصلہ نہ کر، کیونکہ میں پہلا وہ حاجت مند نہیں ہوں جو تیری طرف متوجہ ہوا اور تو نے اسے عطا کیا ہو حالانکہ وہ رد کئے جانے کا مستحق ہو، اور پہلا وہ سائل نہیں ہوں جس نے تجھ سے مانگا ہو اور تو نے اس پر اپنا فضل کیا ہو حالانکہ وہ محروم کئے جانے کے قابل ہو۔ اے اللہ ! محمدﷺ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور میری دُعا کا قبول کرنے والا، میری پکار پر التفات فرمانے والا، میری عجز و زاری پر رحم کرنے والا، اور میری آواز کا سننے والا ثابت ہو، اور میری امید جو تجھ سے وابستہ ہے اسے نہ توڑ، اور میرا وسیلہ اپنے سے قطع نہ کر، اور مجھے اس مقصد اور دوسرے مقاصد میں اپنے سوا دوسرے کی طرف متوجہ نہ ہونے دے، اور اس مقام سے الگ ہونے سے پہلے میری مشکل کشائی، اور تمام معاملات میں حسن تقدیر کی کارفرمائی سے میرے مقصد کے برلانے، میری حاجت کے روا کرنے، اور میرے سوال کے پورا کرنے کا خود ذمہ لے۔ اور محمدﷺ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما، ایسی رحمت جو دائمی اور روز افزوں ہو، جس کا زمانہ غیر مختتم اور جس کی مدت بے پایاں ہو، اور اسے میرے لئے معین اور مقصد برآوری کا ذریعہ قرار دے، بیشک تو وسیع رحمت اور جود و کرم کی صفت کا مالک ہے۔ اے میرے پروردگار! میری کچھ حاجتیں یہ ہیں۔ (اس مقام پر اپنی حاجتیں بیان کرو، پھر سجدہ کرو اور سجدہ کی حالت میں یہ کہو): تیرے فضل و کرم نے میری دل جمعی اور تیرے احسان نے رہنمائی کی، اس وجہ سے میں تجھ سے تیرے ہی وسیلہ سے اور محمدﷺ و آل محمد علیہم السلام کے ذریعہ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے (اپنے دَر سے) ناکام و نامراد نہ پھیر۔

  14. دعاء 14 دادخواہی کی بابت کی دعا

    14

    يَامَنْ لاَ يَخْفَى عَلَيْهِ أَنْبَآءُ الْمُتَظَلِّمِينَ وَيَا مَنْ لاَ يَحْتَاجُ فِي قِصَصِهِمْ إلَى شَهَادَاتِ الشَّاهِدِينَ وَيَا مَنْ قَرُبَتْ نُصْرَتُهُ مِنَ الْمَظْلُومِينَ وَيَا مَنْ بَعُدَ عَوْنُهُ عَنِ الظَّالِمِينَ قَدْ عَلِمْتَ يَا إلهِي مَا نالَنِي مِنْ [فُلاَنِ بْنِ فُلاَن] مِمَّا حَظَرْتَ وَانْتَهَكَهُ مِنّي مِمَّا حَجَزْتَ عَلَيْهِ بَطَراً فِي نِعْمَتِكَ عِنْدَهُ وَاغْتِرَاراً بِنَكِيرِكَ عَلَيْهِ أللَّهُمَّ فَصَلِّ اللَّهُمَّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَخُذْ ظَالِمِي وَعَدُوِّي عَنْ ظُلْمِي بِقُوَّتِكَ وَافْلُلْ حَدَّهُ عَنِّي بِقُدْرَتِكَ وَاجْعَلْ لَهُ شُغْلاً فِيَما يَلِيهِ وَعَجْزاً عَمَّا يُناوِيْهِ أللَّهُمَّ وَصَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَلاَ تُسَوِّغْ لَهُ ظُلْمِي وَأَحْسِنْ عَلَيْـهِ عَوْنِي، وَاعْصِمْنِي مِنْ مِثْـلِ أَفْعَالِهِ، وَلا تَجْعَلْنِي فِي مِثْلِ حَالِهِ. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ ، وَأَعِدْنِي عَلَيْهِ عَدْوى حَاضِرَةً تَكُونُ مِنْ غَيْظِي بِهِ شِفَاءً، وَمِنْ حَنَقِي عَلَيْهِ وَفَاءً. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَعَوِّضْنِي مِنْ ظُلْمِهِ لِي عَفْوَكَ، وَأَبْدِلْنِي بِسُوْءِ صنِيعِهِ بِيْ رَحْمَتَكَ، فَكُلُّ مَكْرُوه جَلَلٌ دُونَ سَخَطِكَ، وَكُلُّ مُرْزِئَةٍ سَوَاءٌ مَعَ مَوْجِدَتِكَ. أللَّهُمَّ فَكَمَا كَـرَّهْتَ إلَيَّ أَنْ أَظْلِمَ فَقِنِي مِنْ أَنْ أُظْلَمَ. أللَّهُمَّ لاَ أَشْكُو إلَى أَحَد سِوَاكَ، وَلاَ أَسْتَعِينُ بِحَاكِم غَيْرِكَ حَاشَاكَ فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ، وَصِلْ دُعَائِي بِالإِجَابَةِ، وَأَقْرِنْ شِكَايَتِي بِالتَّغْيِيرِ. أَللَّهُمَّ لا تَفْتِنِّي بِالْقُنُوطِ مِنْ إنْصَافِكَ، وَلاَ تَفْتِنْـهُ بِالأَمْنِ مِنْ إنْكَارِكَ، فَيُصِرَّ عَلَى ظُلْمِي وَيُحَاضِرَنِي بِحَقِّيْ وَعَرِّفْهُ عَمَّا قَلِيْل مَا أَوْعَدْتَ الظَّالِمِينَ، وَعَرِّفْنِي مَا وَعَدْتَ مِنْ إجَابَةِ الْمُضْطَرِّينَ. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ، وَوَفِّقْنِي لِقَبُولِ مَا قَضَيْتَ لِيْ وَعَليَّ، وَرَضِّنِيْ بِمَا أَخَذْتَ لي وَمِنِّي وَاهْـدِنِي لِلَّتِيْ هِي أَقْوَمُ وَاسْتَعْمِلْنِي بِمَا هُوَ أَسْلَمُ. أللَّهُمَّ وَإنْ كَانَتِ الْخِيَرَةُ لِيْ عِنْدَكَ فِي تَأْخِيرِ الأَخْذِ لِي وَتَرْكِ الانْتِقَامِ مِمَّنْ ظَلَمَنِيْ إلَى يَوْمِ الْفَصْلِ وَمَجْمَعِ الْخَصْمِ، فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ ، وَأَيِّدْنِي مِنْكَ بِنِيَّة صَادِقَة وَصَبْر دَائِم، وَأَعِذْنِي مِنْ سُوءِ الرَّغْبَةِ، وَهَلَعِ أَهْلِ الْحِرْصِ، وَصَوِّرْ فِي قَلْبِي مِثَالَ مَا ادَّخَـرْتَ لِي مِنْ ثَوَابِـكَ، وَأَعْدَدْتَ لِخَصْمِي مِنْ جَزَائِكَ وَعِقَابِكَ ، وَاجْعَلْ ذَلِكَ سَبَباً لِقَنَاعَتِي بِمَا قَضَيْتَ ، وَثِقَتِي بِمَا تَخَيَّرْتَ، آمِينَ رَبَّ الْعَالَمِينَ ، إنَّكَ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ ، وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْء قَدِيرٌ .

    جب آپؑ پر کوئی زیادتی ہوتی یا ظالموں سے کوئی ناگوار بات دیکھتے تو یہ دُعا پڑھتے: اے وہ جس سے فریاد کرنے والوں کی فریادیں پوشیدہ نہیں ہیں، اے وہ جو اُن کی سرگزشتوں کے سلسلہ میں گواہوں کی گواہی کا محتاج نہیں ہے، اے وہ جس کی نصرت مظلوموں کے ہمرکاب اور جس کی مدد ظالموں سے کوسوں دور ہے۔ اے میرے معبود! تیرے علم میں ہیں وہ ایذائیں جو مجھے فلاں ابن فلاں سے اس کے تیری نعمتوں پر اترانے اور تیری گرفت سے غافل ہونے کے باعث پہنچی ہیں جنہیں تو نے اس پر حرام کیا تھا، اور میری ہتک عزت کا مرتکب ہوا جس سے تو نے اسے روکا تھا۔ اے اللہ رحمت نازل فرما محمدﷺ اور ان کی آلؑ پر اور اپنی قوت و توانائی سے مجھ پر ظلم کرنے والے اور مجھ سے دشمنی کرنے والے کو ظلم و ستم سے روک دے، اور اپنے اقتدار کے ذریعہ اس کے حربے کند کر دے، اور اسے اپنے ہی کاموں میں الجھائے رکھ، اور جس سے آمادۂ دشمنی ہے اس کے مقابلہ میں اسے بے دست و پا کر دے۔ اے معبود! رحمت نازل فرما محمدﷺ اور ان کی آلؑ پر اور اسے مجھ پر ظلم کرنے کی کھلی چھٹی نہ دے، اور اس کے مقابلہ میں اچھے اسلوب سے میری مدد فرما، اور اس کے برے کاموں جیسے کاموں سے مجھے محفوظ رکھ، اور اس کی حالت ایسی حالت نہ ہونے دے۔ اے اللہ! محمدﷺ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور اس کے مقابلہ میں ایسی بر وقت مدد فرما جو میرے غصہ کو ٹھنڈا کر دے، اور میرے غیظ و غضب کا بدلہ چکائے۔ اے اللہ! رحمت نازل فرما محمدﷺ اور ان کی آلؑ پر اور اس کے ظلم و ستم کے عوض اپنی معافی، اور اس کی بدسلوکی کے بدلے میں اپنی رحمت عطا فرما، کیونکہ ہر ناگوار چیز تیری ناراضی کے مقابلہ میں ہیچ ہے، اور تیری ناراضی ہو تو ہر (چھوٹی بڑی) مصیبت آسان ہے۔ بارالٰہا! جس طرح ظلم سہنا تو نے میری نظروں میں ناپسند کیا ہے، یونہی ظلم کرنے سے بھی مجھے بچائے رکھ۔ اے اللہ ! میں تیرے سوا کسی سے شکوہ نہیں کرتا، اور تیرے علاوہ کسی حاکم سے مدد نہیں چاہتا، حاشا کہ میں ایسا چاہوں، تو رحمت نازل فرما محمدﷺ اور ان کی آلؑ پر اور میری دُعا کو قبولیت سے، اور میرے شکوہ کو صورت حال کی تبدیلی سے جلد ہمکنار کر۔ (خدایا!) اور میرا اس طرح امتحان نہ کرنا کہ تیرے عدل و انصاف سے مایوس ہو جاؤں، اور میرے دشمن کو اس طرح نہ آزمانا کہ وہ تیری سزا سے بے خوف ہو کر مجھ پر برابر ظلم کرتا رہے، اور میرے حق پر چھایا رہے، اور اسے جلد از جلد اس عذاب سے روشناس کر جس سے تو نے ستمگروں کو ڈرایا دھمکایا ہے، اور مجھے قبولیت دُعا کا وہ اثر دکھا جس کا تو نے بے بسوں سے وعدہ کیا ہے۔ اے اللہ! محمدﷺ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور مجھے توفیق دے کہ جو سُود و زیاں تو نے میرے لئے مقدر کر دیا ہے اسے (بطیبِ خاطر) قبول کروں، اور جو کچھ تو نے دیا ہے اور جو کچھ لیا ہے اس پر مجھے راضی و خوشنود رکھ، اور مجھے سیدھے راستہ پر لگا، اور ایسے کام میں مصروف رکھ جو آفت و زیاں سے بری ہو۔ اے اللہ! اگر تیرے نزدیک میرے لئے یہی بہتر ہو کہ میری داد رسی کو تاخیر میں ڈال دے، اور مجھ پر ظلم ڈھانے والے سے انتقام لینے کو فیصلہ کے دن اور دعویداروں کے محل اجتماع کیلئے اٹھا رکھے، تو پھر محمدﷺ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل کر اور اپنی جانب سے نیت کی سچائی اور صبر کی پائیداری سے میری مدد فرما، اور بری خواہش اور حریصوں کی بے صبری سے بچائے رکھ، اور جو ثواب تو نے میرے لئے ذخیرہ کیا ہے، اور جو سزا و عقوبت میرے دشمن کیلئے مہیا کی ہے اس کا نقشہ میرے دل میں جما دے، اور اسے اپنے فیصلۂ قضا و قدر پر راضی رہنے کا ذریعہ اور اپنی پسندیدہ چیزوں پر اطمینان و وثوق کا سبب قرار دے۔ میری دُعا کو قبول فرما! اے تمام جہان کے پالنے والے۔ بیشک تو فضل عظیم کا مالک ہے، اور تیری قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں ہے۔

  15. دعاء 15 مرض کے دفعیہ کی دعا

    15

    أللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى مَا لَمْ أَزَلْ أَتَصَرَّفُ فِيهِ مِنْ سَلاَمَةِ بَدَنِي، وَلَكَ الْحَمْدُ عَلَى مَا أَحْدَثْتَ بِيْ مِنْ عِلَّة فِي جَسَـدِي. فَمَا أَدْرِي يَـا إلهِي، أَيُّ الْحَالَيْنِ أَحَقُّ بِالشُّكْرِ لَكَ، وَأَيُّ الْوَقْتَيْنِ أوْلَى بِالْحَمْدِ لَكَ، أَوَقْتُ الصِّحَةِ الَّتِي هَنَّـأْتَنِي فِيهَا طَيِّبَاتِ رِزْقِكَ، وَنَشَّطْتَنِي بِهَا لابْتِغاءِ مَرْضَاتِكَ وَفَضْلِكَ، وَقَوَّيْتَنِي مَعَهَا عَلَى مَـا وَفَّقْتَنِي لَهُ مِنْ طَـاعَتِـكَ أَمْ وَقْتُ الْعِلَّةِ الَّتِي مَحَّصْتَنِي بِهَا، وَالنِّعَمِ الَّتِي أَتْحَفْتَنِي بِهَا تَخْفِيفاً لِمَا ثَقُلَ بِهِ عَلَى ظَهري مِنَ الْخَطِيئاتِ وَتَطْهيراً لِمَا انْغَمَسْتُ فيهِ مِنَ السَّيِّئاتِ ، وَتَنْبِيهاً لِتَنَاوُلِ التَّوْبَةِ، وَتَذْكِيراً لِمَحْوِ الْحَوْبَةِ بِقَدِيمِ النِّعْمَةِ، وَفِي خِلاَلِ ذَلِكَ مَا كَتَبَ لِيَ الْكَاتِبَانِ مِنْ زَكِيِّ الأعْمَالِ، مَا لا قَلْبٌ فَكَّرَ فِيهِ، وَلا لِسَانٌ نَطَقَ بِهِ وَلاَ جَارِحَةٌ تَكَلَّفَتْهُ بَلْ إفْضَالاً مِنْكَ عَلَيَّ، وَإحْسَاناً مِنْ صَنِيعِـكَ إلَيَّ. أللَّهُمَّ فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّـد وَآلِـهِ وَحَبِّبْ إلَيّ مَـا رَضِيتَ لِي ، وَيَسِّرْ لِي مَا أَحْلَلْتَ بِيْ، وَطَهِّرْنِي مِنْ دَنَسِ مَا أَسْلَفْتُ ، وَامْحُ عَنِّي شَرَّ مَا قَـدَّمْتُ، وَأَوْجِدْنِي حَلاَوَةَ الْعَافِيَةِ ، وَأَذِقْنِي بَرْدَ السَّلاَمَةِ وَاجْعَلْ مَخْرَجِي عَنْ عِلَّتِي إلَى عَفْوِكَ، وَمُتَحَوَّلِي عَنْ صَرْعَتِي إلَى تَجَاوُزِكَ، وَخَلاصِي مِنْ كَرْبِي إلَى رَوْحِكَ، وَسَلاَمَتِي مِنْ هَذِهِ الشِّدَّةِ إلَى فَرَجِكَ، إنَّكَ الْمُتَفَضِّلُ بِالإِحْسَانِ، الْمُتَطَوِّلُ بِالامْتِنَانِ، الْوَهَّابُ الْكَرِيمُ، ذُو الْجَلاَلِ وَالإكْرَامِ

    جب کسی بیماری یا کرب و اذیت میں مبتلا ہوتے تو یہ دُعا پڑھتے: اے معبود! تیرے ہی لئے حمد و سپاس ہے اس صحت و سلامتی بدن پر جس میں ہمیشہ زندگی بسر کرتا رہا، اور تیرے ہی لئے حمد و سپاس ہے اس مرض پر جو اَب میرے جسم میں تیرے حکم سے رونما ہوا ہے۔ اے معبود! مجھے نہیں معلوم کہ ان دونوں حالتوں میں سے کون سی حالت پر تو شکریہ کا زیادہ مستحق ہے اور ان دونوں وقتوں میں سے کون سا وقت تیری حمد و ستائش کے زیادہ لائق ہے۔ آیا صحت کے لمحے جن میں تو نے اپنی پاکیزہ روزی کو میرے لئے خوشگوار بنایا، اور اپنی رضا و خوشنودی اور فضل و احسان کے طلب کی اُمنگ میرے دل میں پیدا کی، اور اس کے ساتھ اپنی اطاعت کی توفیق دے کر اس سے عہدہ برآ ہونے کی قوت بخشی۔ یا یہ بیماری کا زمانہ، جس کے ذریعے میرے گناہوں کو دور کیا، اور نعمتوں کے تحفے عطا فرمائے، تاکہ ان گناہوں کا بوجھ ہلکا کر دے جو میری پیٹھ کو گراں بار بنائے ہوئے ہیں، اور ان برائیوں سے پاک کر دے جن میں ڈوبا ہوا ہوں، اور توبہ کرنے پر متنبہ کر دے، اور گزشتہ نعمت (تندرستی) کی یاد دہانی سے (کفرانِ نعمت کے) گناہ کو محو کر دے، اور اس بیماری کے اثنا میں کاتبانِ اعمال میرے لئے وہ پاکیزہ اعمال بھی لکھتے رہے جن کا نہ دل میں تصور ہوا تھا نہ زبان پر آئے تھے اور نہ کسی عضو نے اس کی تکلیف گوارا کی تھی۔ یہ صرف تیرا تفضل و احسان تھا جو مجھ پر ہوا۔ اے اللہ! رحمت نازل فرما محمدﷺ اور ان کی آلؑ پر اور جو کچھ تو نے میرے لئے پسند کیا ہے وہی میری نظروں میں پسندیدہ قرار دے، اور جو مصیبت مجھ پر ڈال دی ہے اسے سہل و آسان کر دے، اور مجھے گزشتہ گناہوں کی آلائش سے پاک اور سابقہ برائیوں کو نیست و نابود کر دے، اور تندرستی کی لذت سے کامران اور صحت کی خوشگواری سے بہرہ اندوز کر، اور مجھے اس بیماری سے چھڑا کر اپنے عفو کی جانب لے آ، اور اس حالتِ اُفتادگی سے بخشش و درگزر کی طرف پھیر دے، اور اس بے چینی سے نجات دے کر اپنی راحت تک اور اس شدت و سختی کو دور کر کے کشائش و وسعت کی منزل تک پہنچا دے۔ اس لئے کہ تو بے استحقاق احسان کرنے والا اور گرانبہا نعمتیں بخشنے والا ہے اور تو ہی بخشش و کرم کا مالک اور عظمت و بزرگی کا سرمایہ دار ہے۔

  16. دعاء 16 عذر وعفو تقصیر کے سلسلے میں دعا

    16

    أللَّهُمَّ يَا مَنْ بِرَحْمَتِهِ يَسْتَغِيثُ الْمُذْنِبُونَ، وَيَا مَنْ إلَى ذِكْرِ إحْسَانِهِ يَفْزَعُ الْمُضْطَرُّونَ، وَيَا مَنْ لِخِيفَتِهِ يَنْتَحِبُ الْخَاطِئُونَ، يَا اُنْسَ كُلِّ مُسْتَوْحِشٍ غَرِيبٍ، وَيَا فَرَجَ كُلِّ مَكْرُوبٍ كَئِيبٍ، وَيَا غَوْثَ كُلِّ مَخْذُوَلٍ فَرِيدٍ، وَيَا عَضُدَ كُلِّ مُحْتَاجٍ طَرِيدٍ . أَنْتَ الَّذِي وَسِعْتَ كُلَّ شَيْء رَحْمَةً وَعِلْماً، وَأَنْتَ الَّذِي جَعَلْتَ لِكُلِّ مَخْلُوق فِي نِعَمِكَ سَهْماً، وَأَنْتَ الَّذِيْ عَفْوُهُ أَعْلَى مِنْ عِقَابِهِ، وَأَنْتَ الَّذِي تَسْعَى رَحْمَتُهُ أَمَامَ غَضَبِهِ، وَأَنْتَ الَّذِي عَطَآؤُهُ أكْثَرُ مِنْ مَنْعِهِ، وَأَنْتَ الَّذِيْ اتَّسَعَ الْخَلاَئِقُ كُلُّهُمْ فِي رَحمَتِهِ، وَأَنْتَ الَّذِي لا يَرْغَبُ فِي جَزَاءِ مَنْ أَعْطَاهُ، وَأَنْتَ الَّذِي لا يُفْرِطُ فِي عِقَابِ مَنْ عَصَاهُ. وَأَنَا يَا إلهِي عَبْدُكَ الَّذِي أَمَرْتَهُ بِالدُّعاءِ فَقَالَ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، هَا أَنَا ذَا يَا رَبِّ مَطْرُوحٌ بَيْنَ يَدَيْكَ، أَنَا الَّذِي أَوْقَرَتِ الْخَطَايَا ظَهْرَهُ، وَأَنا الَّذِي أَفْنَتِ الذُّنُوبُ عُمْرَهُ، وَأَنَا الَّذِي بِجَهْلِهِ عَصاكَ وَلَمْ تَكُنْ أَهْلاً مِنْهُ لِذَاكَ. هَلْ أَنْتَ يَا إلهِي رَاحِمٌ مَنْ دَعَاكَ فَأُبْلِغَ فِي الدُّعَاءِ أَمْ أَنْتَ غَافِرٌ لِمَنْ بَكَاكَ فَأُسْرِعَ فِي الْبُكَاءِ أَمْ أَنْتَ مُتَجَاوِزٌ عَمَّنْ عَفَّرَ لَكَ وَجْهَهُ تَذَلُّلاً أَم أَنْتَ مُغْن مَنْ شَكَا إلَيْكَ فَقْرَهُ تَوَكُّلاً؟ إلهِي لاَ تُخيِّبْ مَنْ لا يَجدُ مُعْطِياً غَيْرَكَ، وَلاَ تَخْذُلْ مَنْ لا يَسْتَغْنِي عَنْكَ بِأَحَدٍ دُونَكَ. إلهِي فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَلاَ تُعْرِضْ عَنِّي وَقَدْ أَقْبَلْتُ عَلَيْكَ ، وَلا تَحْرِمْنِي وَقَـدْ رَغِبْتُ إلَيْكَ، وَلا تَجْبَهْنِي بِالرَّدِّ وَقَدْ انْتَصَبْتُ بَيْنَ يَدَيْكَ. أَنْتَ الَّذِي وَصَفْتَ نَفْسَكَ بِالرَّحْمَةِ، فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَارْحَمْنِي، وَأَنْتَ الَّذِي سَمَّيْتَ نَفْسَكَ بِالعَفْوِ، فَاعْفُ عَنِّي. قَـدْ تَرَى يَـا إلهِي فَيْضَ دَمْعِي مِنْ خِيفَتِكَ، وَوَجِيبَ قَلْبِي مِنْ خَشْيَتِكَ، وَانْتِفَاضَ جَوَارِحِي مِنْ هَيْبَتِكَ، كُلُّ ذَلِكَ حَيآءً مِنِّي لِسُوءِ عَمَلِي، وَلِذَاكَ خَمَدَ صَوْتِي عَنِ الْجَارِ إلَيْكَ، وَكَلَّ لِسَانِي عَنْ مُنَاجَاتِكَ يَا إلهِي فَلَكَ الْحَمْدُ، فَكَم مِنْ عَائِبَةٍ سَتَرْتَهَا عَلَيَّ فَلَم تَفْضَحْنِي، وَكَمْ مِنْ ذنْبِ غَطَّيْتَهُ عَلَيَّ فَلَمْ تَشْهَرْنِي، وَكَمْ مِنْ شَائِبَة أَلْمَمْتُ بِهَا فَلَمْ تَهْتِكْ عَنِّي سِتْرَهَا، وَلَمْ تُقَلِّدْنِي مَكْرُوهَ شَنَارِهَا، وَلَمْ تُبْدِ سَوْأَتِهَا لِمَنْ يَلْتَمِسُ مَعَايِبِي مِنْ جِيْرَتِي، وَحَسَدَةِ نِعْمَتِكَ عِنْدِي، ثُمَّ لَمْ يَنْهَنِي ذَلِكَ عَنْ أَنْ جَرَيْتُ إلَى سُوءِ مَا عَهِدْتَ مِنّي فَمَنْ أَجْهَلُ مِنِّي يَا إلهِيْ بِرُشْدِهِ وَمَنْ أَغْفَلُ مِنِّي عَنْ حَظِّهِ وَمَنْ أَبْعَدُ مِنِّي مِنِ اسْتِصْلاَحِ نَفْسِهِ حِيْنَ اُنْفِقُ مَا أَجْرَيْتَ عَلَيَّ مِنْ رِزْقِكَ فِيمَا نَهَيْتَنِي عَنْهُ مِنْ مَعْصِيَتِكَ وَمَنْ أَبْعَدُ غَوْراً فِي الْبَاطِلِ وَأَشَدُّ إقْدَاماً عَلَى السُّوءِ مِنّي حِينَ أَقِفُ بَيْنَ دَعْوَتِكَ وَدَعْوَةِ الشَّيْطَانِ، فَـأتَّبعُ دَعْوَتَهُ عَلَى غَيْرِ عَمىً مِنّي فِيْ مَعْرِفَة بِهِ، وَلا نِسْيَان مِنْ حِفْظِي لَهُ وَأَنَا حِينَئِذ مُوقِنٌ بِأَنَّ مُنْتَهَى دَعْوَتِكَ إلَى الْجَنَّةِ وَمُنْتَهَى دَعْوَتِهِ إلَى النَّارِ سُبْحَانَكَ مَا أَعْجَبَ مَا أَشْهَدُ بِهِ عَلَى نَفْسِي وَاُعَدِّدُهُ مِنْ مَكْتُوْمِ أَمْرِي، وَأَعْجَبُ مِنْ ذلِكَ أَنَاتُكَ عَنِّي وَإبْطآؤُكَ عَنْ مُعَاجَلَتِي وَلَيْسَ ذلِكَ مِنْ كَرَمِي عَلَيْكَ بَلْ تَأَنِّياً مِنْكَ لِي، وَتَفَضُّلاً مِنْكَ عَلَيَّ، لانْ أَرْتَـدِعَ عَنْ مَعْصِيَتِكَ الْمُسْخِطَةِ وَاُقْلِعَ عَنْ سَيِّئَـاتِي الْمُخْلِقَةِ . وَلِاَنَّ عَفْوَكَ عَنّي أَحَبُّ إلَيْكَ مِنْ عُقُوبَتِي، بَلْ أَنَا يَا إلهِي أكْثَرُ ذُنُوباً وَأَقْبَحُ آثاراً وَأَشْنَعُ أَفْعَالاً وَأَشَدُّ فِي الْباطِلِ تَهَوُّراً وَأَضْعَفُ عِنْدَ طَاعَتِكَ تَيَقُّظاً، وَأَقَلُّ لِوَعِيْدِكَ انْتِبَاهاً وَارْتِقَاباً مِنْ أَنْ أُحْصِيَ لَكَ عُيُوبِي، أَوْ أَقْدِرَ عَلَى ذِكْرِ ذُنُوبِي وَإنَّمَا أُوبِّخُ بِهَذا نَفْسِي طَمَعَـاً فِي رَأْفَتِكَ الَّتِي بِهَـا صَلاَحُ أَمْرِ الْمُذْنِبِينَ، وَرَجَاءً لِرَحْمَتِكَ الَّتِي بِهَا فَكَاكُ رِقَابِ الْخَاطِئِينَ. اللَّهُمَّ وَهَذِهِ رَقَبَتِي قَدْ أَرَقَّتْهَا الذُّنُوبُ، فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَأَعْتِقْهَا بِعَفْوِكَ، وَهَذَا ظَهْرِي قَدْ أَثْقَلَتْهُ الْخَطَايَـا، فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَخَفِّفْ عَنْهُ بِمَنِّكَ. يَا إلهِي لَوْ بَكَيْتُ إلَيْكَ حَتَّى تَسْقُطَ أَشْفَارُ عَيْنَيَّ ، وَانْتَحَبْتُ حَتَّى يَنْقَطِعَ صَوْتِي، وَقُمْتُ لَكَ حَتَّى تَتَنَشَّرَ قَدَمَايَ، وَرَكَعْتُ لَكَ حَتَّى يَنْخَلِعَ صُلْبِي، وَسَجَدْتُ لَكَ حَتَّى تَتَفَقَّأَ حَدَقَتَايَ، وَأكَلْتُ تُرَابَ الأرْضِ طُولَ عُمْرِي، وَشَرِبْتُ مَاءَ الرَّمَادِ آخِرَ دَهْرِي وَذَكَرْتُكَ فِي خِلاَلِ ذَلِكَ حَتَّى يَكِلَّ لِسَانِي ثُمَّ لَمْ أَرْفَعْ طَرْفِي إلَى آفَاقِ السَّمَاءِ اسْتِحْيَاءً مِنْكَ مَا اسْتَوْجَبْتُ بِذَلِكَ مَحْوَ سَيِّئَة وَاحِـدَة مِنْ سَيِّئـاتِي، وَإنْ كُنْتَ تَغْفِـرُ لِي حِيْنَ أَسْتَوْجِبُ مَغْفِرَتَكَ وَتَعْفُو عَنِّي حِينَ أَسْتَحِقُّ عَفْوَكَ فَإنَّ ذَلِكَ غَيْرُ وَاجِب لِيْ بِاسْتِحْقَاق، وَلا أَنَا أَهْلٌ لَهُ بِـاسْتِيجَاب إذْ كَـانَ جَزَائِي مِنْكَ فِي أَوَّلِ مَا عَصَيْتُكَ النَّارَ; فَإنْ تُعَذِّبْنِي، فَأَنْتَ غَيْرُ ظَالِم لِيْ. إلهِي فَـإذْ قَـدْ تَغَمَّـدْتَنِي بِسِتْـرِكَ فَلَمْ تَفْضَحْنِي وَتَـأَنَّيْتَنِي بِكَـرَمِـكَ فَلَمْ تُعَـاجِلْنِي، و حَلُمْتَ عَنِّي بِتَفَضُّلِكَ فَلَمْ تُغَيِّـرْ نِعْمَتَـكَ عَلَيَّ، وَلَمْ تُكَـدِّرْ مَعْرُوفَكَ عِنْدِي فَارْحَمْ طُولَ تَضَرُّعِيْ وَشِـدَّةَ مَسْكَنَتِي وَسُوءَ مَوْقِفِيْ. اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَقِنِي مِنَ الْمَعَاصِي وَاسْتَعْمِلْنِي بِالطَّاعَةِ، وَارْزُقْنِي حُسْنَ الإِنابَةِ وَطَهِّرْنِي بِالتَّـوْبَةِ، وَأَيِّـدْنِي بِالْعِصْمَةِ وَاسْتَصْلِحْنِي بِالْعَافِيَةِ وَأَذِقْنِي حَلاَوَةَ الْمَغْفِـرَةِ، وَاجْعَلْنِي طَلِيقَ عَفْـوِكَ، وَعَتِيقَ رَحْمَتِكَ وَاكْتُبْ لِي أَمَاناً مِنْ سَخَطِكَ وَبَشِّرْنِي بِذلِكَ فِي الْعَاجِلِ دُونَ الآجِلِ بُشْرى أَعْرِفُهَا وَعَرِّفْنِي فِيهِ عَلاَمَةً أَتَبَيَّنُهَا إنَّ ذلِكَ لاَ يَضيقُ عَلَيْكَ فِي وُسْعِكَ ، وَلا يَتَكَأَّدُكَ فِي قُدْرَتِكَ، وَلا يَتَصَعَّدُكَ فِي أناتِكَ ، وَلا يَؤودُك فِي جَزِيلِ هِباتِكَ الَّتِي دَلَّتْ عَلَيْهَا آيَاتُكَ إنَّكَ تَفْعَلُ مَا تَشَاءُ وَتَحكُمُ مَا تُرِيدُ، إنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْء قَدِيرٌ.

    جب گناہوں سے معافی چاہتے یا اپنے عیبوں سے درگزر کی التجا کرتے تو یہ دُعا پڑھتے: اے خدا! اے وہ جسے گنہگار اس کی رحمت کے وسیلہ سے فریاد رسی کیلئے پکارتے ہیں، اے وہ جس کے تفضل و احسان کی یاد کا سہارا بےکس و لاچار ڈھونڈتے ہیں، اے وہ جس کے خوف سے عاصی و خطاکار نالہ و فریاد کرتے ہیں، اے ہر وطن آوارہ و دل گرفتہ کے سرمایۂ انس، ہر غمزدہ و دل شکستہ کے غمگسار، ہر بے کس و تنہا کے فریاد رس اور ہر راندہ و محتاج کے دست گیر۔ تو وہ ہے جو اپنے علم و رحمت سے ہر چیز پر چھایا ہوا ہے اور تو وہ ہے جس نے اپنی نعمتوں میں ہر مخلوق کا حصہ رکھا ہے، تو وہ ہے جس کا عفو و درگزر اس کے انتقام پر غالب ہے، تو وہ ہے جس کی رحمت اس کے غضب سے آگے چلتی ہے، تو وہ ہے جس کی عطائیں فیض و عطا کے روک لینے سے زیادہ ہیں، تو وہ ہے جس کے دامن وسعت میں تمام کائناتِ ہستی کی سمائی ہے، تو وہ ہے کہ جس کسی کو عطا کرتا ہے اس سے عوض کی توقع نہیں رکھتا اور تو وہ ہے کہ جو تیری نافرمانی کرتا ہے اسے حد سے بڑھ کر سزا نہیں دیتا۔ خدایا! میں تیرا وہ بندہ ہوں جسے تو نے دُعا کا حکم دیا تو وہ لبیک لبیک پکار اٹھا۔ ہاں تو وہ میں ہوں اے میرے معبود! جو تیرے آگے خاک مذلت پر پڑا ہے، میں وہ ہوں جس کی پشت گناہوں سے بوجھل ہو گئی ہے، میں وہ ہوں جس کی عمر گناہوں میں بیت چکی ہے، میں وہ ہوں جس نے اپنی نادانی و جہالت سے تیری نافرمانی کی، حالانکہ تو میری جانب سے نافرمانی کا سزاوار نہ تھا۔ اے میرے معبود! جو تجھ سے دُعا مانگے آیا تو اس پر رحم فرمائے گا؟ تاکہ میں لگاتار دُعا مانگوں، یا جو تیرے آگے روئے اسے بخش دے گا؟ تاکہ میں رونے پر جلد آمادہ ہو جاؤں، یا جو تیرے سامنے عجز و نیاز سے اپنا چہرہ خاک پر ملے اس سے درگزر کرے گا؟ یا جو تجھ پر بھروسا کرتے ہوئے اپنی تہی دستی کا شکوہ کرے اسے بے نیاز کر دے گا؟ بارالٰہا! جس کا دینے والا تیرے سوا کوئی نہیں ہے اُسے نا امید نہ کر اور جس کا تیرے علاوہ اور کوئی ذریعہ بے نیازی نہیں ہے اُسے محروم نہ کر۔ خداوندا! رحمت نازل فرما محمدؐ اور ان کی آلؑ پر اور مجھ سے روگردانی اختیار نہ کر جبکہ میں تیری طرف متوجہ ہو چکا ہوں، اور مجھے ناامید نہ کر جبکہ تیری طرف خواہش لے کر آیا ہوں، اور مجھے سختی سے دھتکار نہ دے جبکہ میں تیرے سامنے کھڑا ہوں۔ تو وہ ہے جس نے اپنی توصیف رحم و کرم سے کی ہے، لہٰذا محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور مجھ پر رحم فرما اور تو نے اپنا نام درگزر کرنے والا رکھا ہے لہٰذا مجھ سے درگزر فرما۔ بار الٰہا! تو میرے اشکوں کی روانی کو جو تیرے خوف کے باعث ہے، میرے دل کی دھڑکن کو جو تیرے ڈر کی وجہ سے ہے اور میرے اعضاء کی تھرتھری کو جو تیری ہیبت کے سبب سے ہے، دیکھ رہا ہے۔ یہ سب اپنی بداعمالیوں کو دیکھتے ہوئے تجھ سے شرم و حیا محسوس کرنے کا نتیجہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تضرع و زاری کے وقت میری آواز رک جاتی ہے اور مناجات کے موقع پر زبان کام نہیں دیتی۔ اے خدا تیرے ہی لئے حمد و سپاس ہے کہ تو نے میرے کتنے ہی عیبوں پر پردہ ڈالا اور مجھے رسوا نہیں ہونے دیا، اور کتنے ہی میرے گناہوں کو چھپا یا اور مجھے بدنام نہیں کیا، اور کتنی ہی برائیوں کا میں مرتکب ہوا مگر تو نے پردہ فاش نہ کیا اور نہ میرے گلے میں ننگ و عار کی ذلت کا طوق ڈالا اور نہ میرے عیبوں کی جستجو میں رہنے والے ہمسایوں اور ان نعمتوں پر جو مجھے عطا کی ہیں حسد کرنے والوں پر ان برائیوں کو ظاہر کیا۔ پھر بھی تیری مہربانیاں مجھے ان برائیوں کے ارتکاب سے جن کا تو میرے بارے میں علم رکھتا ہے، روک نہ سکیں۔ تو اے میرے معبود! مجھ سے بڑھ کر کون اپنی اصلاح و بہبود سے بے خبر، اپنے حظ و نصیب سے غافل اور اصلاح نفس سے دور ہو گا، جبکہ میں اس روزی کو جسے تو نے میرے لئے قرار دیا ہے، ان گناہوں میں صرف کرتا ہوں جن سے تو نے منع کیا ہے، اور مجھ سے زیادہ کون باطل کی گہرائی تک اترنے والا اور برائیوں پر اقدام کی جرأت کرنے والا ہو گا، جبکہ میں ایسے دو راہے پر کھڑا ہوں کہ جہاں ایک طرف تُو دعوت دے اور دوسری طرف شیطان آواز دے، تو میں اس کی کارستانیوں سے واقف ہوتے ہوئے اور اس کی شرانگیزیوں کو ذہن میں محفوظ رکھتے ہوئے اس کی آواز پر لبیک کہتا ہوں، حالانکہ مجھے اس وقت بھی یقین ہوتا ہے کہ تیری دعوت کا مآل جنت اور اس کی آواز پر لبیک کہنے کا انجام دوزخ ہے۔ اللہ اکبر! کتنی یہ عجیب بات ہے جس کی گواہی میں خود اپنے خلاف دے رہا ہوں، اور اپنے چھپے ہوئے کاموں کو ایک ایک کر کے گن رہا ہوں، اور اس سے زیادہ عجیب تیرا مجھے مہلت دینا اور عذاب میں تاخیر کرنا ہے۔ یہ اس لئے نہیں کہ میں تیری نظروں میں باوقار ہوں بلکہ یہ میرے معاملہ میں تیری بردباری اور مجھ پر تیرا لطف و احسان ہے تاکہ میں تجھے ناراض کرنے والی نافرمانیوں سے باز آجاؤں اور ذلیل و رسوا کرنے والے گناہوں سے دست کش ہو جاؤں، اور اس لئے ہے کہ مجھ سے درگزر کرنا سزا دینے سے تجھے زیادہ پسند ہے۔ بلکہ میں تو اے میرے معبود! بہت گنہگار، بہت بد صفات و بد اعمال اور غلط کاریوں میں بیباک اور تیری اطاعت کے وقت سست گام اور تیری تہدید و سرزنش سے غافل اور اس کی طرف بہت کم نگران ہوں، تو کس طرح میں اپنے عیوب تیرے سامنے شمار کر سکتا ہوں یا اپنے گناہوں کا ذکر و بیان سے احاطہ کر سکتا ہوں۔ اور جو اس طرح میں اپنے نفس کو ملامت و سرزنش کر رہا ہوں تو تیری اس شفقت و مرحمت کے لالچ میں جس سے گنہگاروں کے حالات اصلاح پذیر ہوتے ہیں اور تیری اس رحمت کی توقع میں جس کے ذریعہ خطاکاروں کی گردنیں (عذاب سے) رہا ہوتی ہیں۔ بار الٰہا! یہ میری گردن ہے جسے گناہوں نے جکڑ رکھا ہے، تو رحمت نازل فرما محمدؐ اور ان کی آلؑ پر اور اپنے عفو و درگزر سے اسے آزاد کر دے، اور یہ میری پشت ہے جسے گناہوں نے بوجھل کر دیا ہے، تو رحمت نازل فرما محمدؐ اور ان کی آلؑ پر اور اپنے لطف و انعام کے ذریعہ اسے ہلکا کر دے۔ بارالٰہا! اگر میں تیرے سامنے اتنا روؤں کہ میری آنکھوں کی پلکیں جھڑ جائیں اور اتنا چیخ چیخ کر گریہ کروں کہ آواز بند ہو جائے اور تیرے سامنے اتنی دیر کھڑا رہوں کہ دونوں پیروں پر ورم آجائے اور اتنے رکوع کروں کہ ریڑھ کی ہڈیاں اپنی جگہ سے اکھڑ جائیں اور اس قدر سجدے کروں کہ آنکھیں اندر کو دھنس جائیں اور عمر بھر خاک پھانکتا رہوں اور زندگی بھر گندلا پانی پیتا رہوں اور اس اثنا میں تیرا ذکر اتنا کروں کہ زبان تھک کر جواب دے جائے، پھر شرم و حیا کی وجہ سے آسمان کی طرف نگاہ نہ اٹھاؤں تو اس کے باوجود میں اپنے گناہوں میں سے ایک گناہ کے بخشے جانے کا بھی سزا وار نہ ہوں گا۔ اور اگر تو مجھے بخش دے جبکہ میں تیری مغفرت کے لائق قرار پاؤں اور مجھے معاف کر دے جبکہ میں تیری معافی کے قابل سمجھا جاؤں تو یہ میرے استحقاق کی بنا پر لازم نہیں ہو گا اور نہ میں استحقاق کی بنا پر اس کا اہل ہوں، کیونکہ جب میں نے پہلے پہل تیری معصیت کی تو میری سزا جہنم طے تھی، لہٰذا تو مجھ پر عذاب کرے تو میرے حق میں ظالم نہیں ہو گا۔ اے میرے معبود! جبکہ تو نے میری پردہ پوشی کی اور مجھے رسوا نہیں کیا اور اپنے لطف و کرم سے نرمی برتی اور عذاب میں جلدی نہیں کی اور اپنے فضل سے میرے بارے میں حلم سے کام لیا اور اپنی نعمتوں میں تبدیلی نہیں کی اور نہ اپنے احسان کو مکدّر کیا ہے تو میری اس طویل تضرع و زاری اور سخت احتیاج اور موقف کی بد حالی پر رحم فرما۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور مجھے گناہوں سے محفوظ اور اطاعت میں سرگرم عمل رکھ اور مجھے حسن رجوع کی توفیق دے اور توبہ کے ذریعہ پاک کر دے اور اپنی حسن نگہداشت سے نصرت فرما اور تندرستی سے میری حالت سازگار کر اور مغفرت کی شیرینی سے کام و دہن کو لذت بخش اور مجھے اپنے عفو کا رہا شدہ اور اپنی رحمت کا آزاد کردہ قرار دے اور اپنے عذاب سے رہائی کا پروانہ لکھ دے اور آخرت سے پہلے دنیا ہی میں نجات کی ایسی خوش خبری سنا دے جسے واضح طور سے سمجھ لوں اور اس کی ایسی علامت دکھا دے جسے کسی شائبہ ابہام کے بغیر پہچان لوں، اور یہ چیز تیرے ہمہ گیر اقتدار کے سامنے مشکل اور تیری قدرت کے مقابلہ میں دشوار نہیں ہے، بے شک تیری قدرت ہر چیز پر محیط ہے۔

  17. دعاء 17 شر شیطان کے دفیعہ کی دعا

    17

    أَللَّهُمَّ إنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ نَزَغَـاتِ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ وَكَيْدِهِ وَمَكَائِدِهِ، وَمِنَ الثِّقَةِ بِأَمَـانِيِّهِ وَمَوَاعِيدِهِ وَغُرُورِهِ وَمَصَائِدِهِ، وَأَنْ يُطْمِعَ نَفْسَهُ فِي إضْلاَلِنَا عَنْ طَاعَتِكَ وَامْتِهَانِنَا بِمَعْصِيَتِكَ، أَوْ أَنْ يَحْسُنَ عِنْدَنَا مَا حَسَّنَ لَنَا، أَوْ أَنْ يَثْقُلَ عَلَيْنَا مَا كَرَّهَ إلَيْنَا. أللَّهُمَّ اخْسَأْهُ عَنَّا بِعِبَادَتِكَ، وَاكْبِتْهُ بِدُؤوبِنَا فِي مَحَبَّتِكَ، وَاجْعَلْ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ سِتْراً لاَ يَهْتِكُهُ، وَرَدْماً مُصْمِتاً لا يَفْتُقُهُ. أللَّهُمَّ صَـلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِـهِ، وَاشْغَلْهُ عَنَّا بِبَعْضِ أَعْدَائِكَ، وَاعْصِمْنَا مِنْهُ بِحُسْنِ رِعَايَتِكَ، وَاكْفِنَا خَتْرَهُ، وَوَلِّنَا ظَهْرَهُ، وَاقْطَعْ عَنَّا إثْرَهُ. اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَأَمْتِعْنَا مِنَ الْهُدَى، بِمِثْلِ ضَلاَلَتِهِ، وَزَوِّدْنَا مِنَ التَّقْوَى ضِدَّ غَوَايَتِهِ، وَاسْلُكْ بِنَـا مِنَ التُّقى خِـلافَ سَبِيلِهِ مِنَ الـرَّدى. أللَّهُمَّ لاَ تَجْعَلْ لَهُ فِي قُلُوبِنَا مَدْخَلاً وَلاَ تُوطِنَنَّ لَهُ فِيمَا لَدَيْنَا مَنْزِلاً. اللَّهُمَّ وَمَا سَوَّلَ لَنَا مِنْ بَاطِل فَعَرِّفْنَاهُ وَإذَا عَرَّفْتَنَاهُ فَقِنَاهُ، وَبَصِّرْنَا مَا نُكَايِدُهُ بِهِ، وَأَلْهِمْنَا مَا نُعِدُّهُ لَهُ، وَأَيْقِظْنَا عَنْ سِنَةِ الْغَفْلَةِ بِالرُّكُونِ إلَيْهِ وَأَحْسِنْ بِتَوْفِيقِكَ عَوْنَنَا عَلَيْهِ. اللَّهُمَّ وَأَشْرِبْ قُلُوبَنَـا إنْكَارَ عَمَلِهِ، وَالْـطُفْ لَنَا فِي نَقضِ حِيَلِهِ. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَحَوِّلْ سُلْطَانَهُ عَنَّا، وَاقْطَعْ رَجَاءَهُ مِنَّا ، وادْرَأْه عَنِ الْوُلُوعِ بِنَا. اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَاجْعَلْ آباءَنَا وَأُمَّهَاتِنَا وَأَوْلاَدَنَا وَأَهَالِينَا وَذَوِي أَرْحَامِنَا وَقَرَابَاتِنَا وَجِيْرَانَنَا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَـاتِ مِنْهُ فِي حِرْز حَـارِز، وَحِصْن حَافِظ ، وَكَهْف مَانِع، وَألْبِسْهُمْ مِنْهُ جُنَناً وَاقِيَةً، وَأَعْطِهِمْ عَلَيْهِ أَسْلِحَةً مَاضِيَةً أللَّهُمَّ وَاعْمُمْ بِذلِكَ مَنْ شَهِدَ لَكَ بِالرُّبُوبِيَّةِ، وَأَخْلَصَ لَكَ بِالْوَحْدَانِيَّةِ، وَعَادَاهُ لَكَ بِحَقِيقَةِ الْعُبُودِيَّة، وَاسْتَظْهَرَ بِكَ عَلَيْهِ فِي مَعْرِفَةِ الْعُلُومِ الرَّبَّانِيَّةِ. اللَّهُمَّ احْلُلْ مَا عَقَدَ، وَافْتقْ مَا رَتَقَ، وَافسَخ مَا دَبَّرَ، وَثَبِّطْهُ إذَا عَزَمَ، وَانْقُضْ مَا أَبْرَمَ. اللَّهُمَّ وَاهْزِمْ جُنْدَهُ وَأَبْطِلْ كَيْدَهُ وَاهْدِمْ كَهْفَهُ وَأَرْغِمْ أَنْفَهُ. اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا فِي نَظْم أَعْدَآئِهِ وَاعْزِلْنَا عَنْ عِدَادِ أَوْلِيَائِهِ، لا نُطِيعُ لَهُ إذَا اسْتَهْوَانَا، وَلا نَسْتَجِيبُ لَهُ إذَا دَعَانَا نَأْمُرُ بِمُنَاوَاتِهِ مَنْ أَطَاعَ أَمْرَنَا وَنَعِظُ عَنْ مُتَابَعَتِهِ مَنِ اتَّبَعَ زَجْرَنَا. اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد خَاتَمِ النَّبِيِّينَ وَسَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ وَعَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ الطَّيِّبِينَ الـطَّاهِرِينَ وَأَعِذْنَا وَأَهَـالِينَا وَإخْـوَانَنَا وَجَمِيـعَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ مِمَّا اسْتَعَذْنَا مِنْهُ، وَأَجِرْنَا مِمَّا اسْتَجَرْنَا بِكَ مِنْ خَوْفِهِ وَاسْمَعْ لَنَا مَا دَعَوْنَا بِهِ وَأَعْطِنَا مَا أَغْفَلْنَاهُ وَاحْفَظْ لَنَا مَا نَسِيْنَاهُ، وَصَيِّرْنَا بِذَلِكَ فِي دَرَجَاتِ الصَّالِحِينَ وَمَـرَاتِبِ الْمُؤْمِنِينَ آمينَ رَبَّ ا لْعَالَمِينَ .

    جب شیطان کا ذکر آتا تو اُس سے اور اُس کے مکر و عداوت سے بچنے کیلئے یہ دُعا پڑھتے: اے اللہ! ہم شیطان مردود کے وسوسوں، مکروں اور حیلوں سے اور اس کی جھوٹی طفل تسلیوں پر اعتماد کرنے اور اس کے ہتھکنڈوں سے تیرے ذریعہ پناہ مانگتے ہیں، اور اس بات سے کہ اس کے دل میں یہ طمع و خواہش پیدا ہو کہ وہ ہمیں تیری اطاعت سے بہکائے اور تیری معصیت کے ذریعہ ہماری رسوائی کا سامان کرے، یا یہ کہ جس چیز کو وہ رنگ و روغن سے آراستہ کرے وہ ہماری نظروں میں کھب جائے، یا جس چیز کو وہ بدنما ظاہر کرے وہ ہمیں شاق گزرے۔ اے اللہ! تو اپنی عبادت کے ذریعہ اسے ہم سے دور کر دے اور تیری محبت میں محنت و جانفشانی کرنے کے باعث اسے ٹھکرا دے، اور ہمارے اور اس کے درمیان ایک ایسا پردہ جسے وہ چاک نہ کر سکے اور ایک ایسی ٹھوس دیوار جسے وہ توڑ نہ سکے، حائل کر دے۔ اے اللہ! رحمت نازل فرما محمدؐ اور ان کی آلؑ پر، اور اسے ہمارے بجائے اپنے کسی دشمن کے بہکانے میں مصروف رکھ، اور ہمیں اپنے حسن نگہداشت کے ذریعہ اس سے محفوظ کر دے، اس کے مکر و فریب سے بچا لے اور ہم سے رو گرداں کر دے اور ہمارے راستے سے اس کے نقش قدم مٹا دے۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور ہمیں ویسی ہی (محفوظ) ہدایت سے بہرہ مند فرما جیسی اس کی گمراہی (مستحکم) ہے، اور ہمیں اس کی گمراہی کے مقابلہ میں تقویٰ و پرہیز گاری کا زادِ راہ دے اور اس کی ہلاکت آفرین راہ کے خلاف رشد اور تقویٰ کے راستے پر لے چل۔ اے اللہ! ہمارے دلوں میں اسے عمل دخل کا موقع نہ دے اور ہمارے پاس کی چیزوں میں اس کیلئے منزل مہیا نہ کر۔ اے اللہ! وہ جس بیہودہ بات کو خوشنما بنا کے ہمیں دکھائے وہ ہمیں پہچنوا دے، اور جب پہچنوا دے تو اس سے ہماری حفاظت بھی فرما، اور ہمیں اس کو فریب دینے کے طور طریقوں میں بصیرت اور اس کے مقابلہ میں سرو سامان کی تیاری کی تعلیم دے، اور اس خواب غفلت سے جو اس کی طرف جھکاؤ کا باعث ہو ہوشیار کر دے اور اپنی توفیق سے اس کے مقابلہ میں کامل نصرت عطا فرما۔ بارالٰہا! اس کے اعمال سے ناپسندیدگی کا جذبہ ہمارے دلوں میں بھر دے اور اس کے حیلوں کو توڑنے کی توفیق کرامت فرما۔ اے اللہ! رحمت نازل فرما محمدؐ اور ان کی آلؑ پر اور شیطان کے تسلط کو ہم سے ہٹا دے، اور اس کی امیدیں ہم سے قطع کر دے، اور ہمیں گمراہ کرنے کی حرص و آز سے اسے دور کر دے۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور ہمارے باپ داداؤں، ہماری ماؤں،ہماری اولادوں، ہمارے قبیلہ والوں، عزیزوں، رشتہ داروں اور ہمسایہ میں رہنے والے مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کو اس کے شر سے ایک محکم جگہ، حفاظت کرنے والے قلعہ اور روک تھام کرنے والی پناہ میں رکھ، اور اس سے بچالے جانے والی زرہیں انہیں پہنا، اور اس کے مقابلہ میں تیز دھار والے ہتھیار انہیں عطا کر۔ بارالٰہا! اس دُعا میں ان لوگوں کو بھی شامل کر جو تیری ربوبیت کی گواہی دیں، اور دوئی کے تصور کے بغیر تجھے یکتا سمجھیں، اور حقیقتِ عبودیت کی روشنی میں تیری خاطر اسے دشمن رکھیں، اور الٰہی علوم کے سیکھنے میں اس کے برخلاف تجھ سے مدد چاہیں۔ اے اللہ! جو گِرہ وہ لگائے اسے کھول دے، جسے جوڑے اسے توڑ دے، اور جو تدبیر کرے اسے ناکام بنا دے، اور جب کوئی ارادہ کرے اسے روک دے، اور جسے فراہم کرے اُسے درہم و برہم کر دے۔ خدایا! اس کے لشکر کو شکست دے، اس کے مکر و فریب کو ملیا میٹ کر دے، اس کی پناہ گاہ کو ڈھا دے، اور اس کی ناک رگڑ دے۔ اے اللہ! ہمیں اس کے دشمنوں میں شامل کر، اور اس کے دوستوں میں شمار ہونے سے علیحدہ کر دے، تاکہ وہ ہمیں بہکائے تو اس کی اطاعت نہ کریں، اور جب ہمیں پکارے تو اس کی آواز پر لبیک نہ کہیں، اور جو ہمارا حکم مانے ہم اسے اس سے دشمنی رکھنے کا حکم دیں، اور جو ہمارے روکنے سے باز آئے اسے اس کی پیروی سے منع کریں۔ اے اللہ! رحمت نازل فرما محمدؐ پر جو تمام نبیوں کے خاتم اور سب رسولوں کے سرتاج ہیں، اور ان کے اہل بیتؑ پر جو طیب و طاہر ہیں، اور ہمارے عزیزوں، بھائیوں اور تمام مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کو اس چیز سے پناہ میں رکھ جس سے ہم نے پناہ مانگی ہے اور جس چیز سے خوف کھاتے ہوئے ہم نے تجھ سے امان چاہی ہے اس سے امان دے، اور جو درخواست کی ہے اسے منظور فرما، اور جس کے طلب کرنے میں غفلت ہو گئی ہے اسے مرحمت فرما، اور جسے بھول گئے ہیں اسے ہمارے لئے محفوظ رکھ، اور اس وسیلہ سے ہمیں نیکوکاروں کے درجوں اور اہل ایمان کے مرتبوں تک پہنچا دے، ہماری دُعا قبول فرما، اے تمام جہان کے پروردگار۔

  18. دعاء 18 دفع بلیات کے سلسلے میں دعا

    18

    أَللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى حُسْنِ قَضَائِكَ، وَبِمَا صَرَفْتَ عَنِّي مِنْ بَلائِكَ، فَلاَ تَجْعَـلْ حَظِّي مِنْ رَحْمَتِكَ مَا عَجَّلْتَ لِي مِنْ عَافِيَتِكَ فَأكُونَ قَدْ شَقِيتُ بِمَا أَحْبَبْتُ وَسَعِدَ غَيْرِي بِمَا كَرِهْتُ، وَإنْ يَكُنْ مَا ظَلِلْتُ فِيهِ أَوْ بِتُّ فِيهِ مِنْ هَذِهِ الْعَافِيَةِ بَيْنَ يَدَيْ بَلاء لاَ يَنْقَطِعُ، وَوِزْر لاَ يَرْتَفِعُ فَقَدِّمْ لِي مَا أَخَّرْتَ وَأَخِّرْ عَنّي مَا قَدَّمْتَ فَغَيْرُ كَثِير مَا عَاقِبَتُهُ الْفَنَاءُ، وَغَيْرُ قَلِيل مَا عَاقِبَتُهُ الْبَقَاءُ. وَصَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ.

    جب کوئی مصیبت بر طرف ہوتی یا کوئی حاجت پوری ہوتی تو یہ دُعا پڑھتے: اے اللہ! تیرے ہی لئے حمد و ستائش ہے تیرے بہترین فیصلہ پر اور اس بات پر کہ تو نے بلاؤں کا رخ مجھ سے موڑ دیا، تو میرا حصہ اپنی رحمت میں سے صرف اس دنیوی تندرستی میں منحصر نہ کر دے کہ میں اپنی اس پسندیدہ چیز کی وجہ سے (آخرت کی) سعادتوں سے محروم رہوں اور دوسرا میری ناپسندیدہ چیز کی وجہ سے خوش بختی و سعادت حاصل کر لے جائے، اور اگر یہ تندرستی کہ جس میں دن گزارا ہے یا رات بسر کی ہے کسی لا زوال مصیبت کا پیش خیمہ اور کسی دائمی وبال کی تمہید بن جائے تو جس (زحمت و اندوہ) کو تو نے مؤخر کیا ہے اسے مقدم کر دے، اور جس ( صحت و عافیت) کو مقدم کیا اسے مؤخر کر دے، کیونکہ جس چیز کا نتیجہ فنا ہو وہ زیادہ نہیں، اور جس کا انجام بقا ہو وہ کم نہیں۔ اے اللہ! تو محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما۔

  19. دعاء 19 طلب باراں کی دعا

    19

    أللَّهُمَّ اسْقِنَـا الْغَيْثَ، وَانْشُرْ عَلَيْنَا رَحْمَتَـكَ بِغَيْثِكَ الْمُغْدِقِ مِنَ الْسَّحَابِ الْمُنْسَـاقِ لِنَبَاتِ أَرْضِكَ الْمُونِقِ فِي جَمِيـعِ الآفَاقِ، وَامْنُنْ عَلَى عِبَادِكَ بِإينَاعِ الثَّمَرَةِ، وأَحْيِ بِلاَدَكَ بِبُلُوغِ الزَّهَرَةِ. وَأَشْهِدْ مَلائِكَتَكَ الْكِرَامَ السَّفَرَةَ بِسَقْي مِنْكَ نَافِع دَائِم غُزْرُهُ واسِعٌ دِرَرُهُ وَابِل سَرِيع عَاجِل تُحْيِي بِهِ مَا قَدْ مَات، وَتَرُدُّ بهِ مَا قَدْ فَاتَ، وَتُخْرِجُ بِهِ مَا هُوَ آت، وَتُوَسِّعُ بِهِ فِي الأَقْوَاتِ، سَحَاباً مُتَرَاكِماً هَنِيئاً مَرِيئاً طَبَقاً مُجَلْجَلاً غَيْرَ مُلِثٍّ وَدْقُهُ، وَلاَ خُلَّب بَرْقُهُ. أللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثاً مَغيثَاً مَرِيعاً مُمْرِعاً عَرِيْضَاً، وَاسِعاً غَزِيراً تَرُدُّ بِهِ النَّهِيضَ وَتَجْبُرُ بِهِ الْمَهِيضَ. أللَّهُمَّ اسْقِنَا سَقْياً تُسِيلُ مِنْهُ الظِّرابَ، وَتَمْلاءُ مِنْهُ الْجِبَابَ، وَتُفَجِّرُ بِهِ الأنْهَارَ، وَتُنْبِتُ بِهِ الأشْجَارَ وَتُرْخِصُ بِهِ الأسْعَارَ فِي جَمِيع الأمْصَارِ، وَتَنْعَشُ بِهِ البَهَائِمَ وَالْخَلْقَ، وَتُكْمِلُ لَنَا بِهِ طَيِّبَاتِ الرِّزْقِ، وَتُنْبِتُ لَنَا بِهِ الزَّرْعَ، وَتُدِرُّ بِهِ الضَّرْعَ، وَتَزِيدُنَا بِهِ قُوَّةً إلَى قُوَّتِنَا. أللَّهُمَّ لا تَجْعَلْ ظِلَّهُ عَلَيْنَا سَمُوماً وَلاَ تَجْعَلْ بَرْدَهُ عَلَيْنَا حُسُوماً، وَلاَ تَجْعَلْ صَوْبَهُ عَلَيْنَا رُجُوماً، وَلا تَجْعَلْ مَاءَهُ عَلَيْنَا أُجَاجـاً. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِ مُحَمَّد، وَارْزُقْنَا مِنْ بَرَكَاتِ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ، إنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْء قَدِيرٌ .

    قحط سالی کے موقع پر طلبِ باراں کی دُعا: بارالٰہا! ابرِ باراں سے ہمیں سیراب فرما، اور ان ابروں کے ذریعہ ہم پر دامن رحمت پھیلا جو موسلادھار بارشوں کے ساتھ زمین کے سبزۂ خوش رنگ کی روئیدگی کا سرو سامان لئے ہوئے اطراف عالم میں روانہ کئے جاتے ہیں۔ اور پھلوں کے پختہ ہونے سے اپنے بندوں پر احسان فرما، اور شگوفوں کے کھلنے سے اپنے شہروں کو زندگیٔ نو بخش اور اپنے معزز و باوقار فرشتوں اور سفیروں کو ایسی نفع رساں بارش پر آمادہ کر جس کی فراوانی دائم اور روانی ہمہ گیر ہو، اور بڑی بوندوں والی، تیزی سے آنے والی اور جلد برسنے والی ہو، جس سے تو مردہ چیزوں میں زندگی دوڑا دے، گزری ہوئی بہاریں پلٹا دے اور جو چیزیں آنے والی ہیں انہیں نمودار کر دے، اور سامان معیشت میں وسعت پیدا کر دے، ایسا ابر چھائے جو تہہ بہ تہہ، خوش آئند و خوشگوار، زمین پر محیط اور گھن گرج والا ہو، اور اس کی بارش لگاتار نہ برسے (کہ کھیتوں اور مکانوں کو نقصان پہنچے) اور نہ اس کی بجلی دھوکا دینے والی ہو (کہ چمکے، گرجے اور برسے نہیں)۔ بارالٰہا! ہمیں اس بارش سے سیراب کر جو خشک سالی کو دور کرنے والی، (زمین سے) سبزہ اُگانے والی، (دشت و صحرا کو) سر سبز کرنے والی، بڑے پھیلاؤ اور بڑھاؤ اور ان تھاہ گہراؤ والی ہو، جس سے تو مرجھائی ہوئی گھاس کی رونق پلٹا دے، اور سوکھے سڑے سبزے میں جان پیدا کر دے۔ خدایا! ہمیں ایسی بارش سے سیراب کر جس سے تو ٹیلوں پر سے پانی کے دھارے بہا دے، کنویں چھلکا دے، نہریں جاری کر دے، درختوں کو تر و تازہ و شاداب کر دے، شہروں میں نرخوں کی ارزانی کر دے، چوپاؤں اور انسانوں میں نئی روح پھونک دے، پاکیزہ روزی کا سرو سامان ہمارے لئے مکمل کر دے، کھیتوں کو سر سبز و شاداب کر دے اور چوپاؤں کے تھنوں کو دودھ سے بھر دے اور اس کے ذریعہ ہماری قوت و طاقت میں مزید قوت کا اضافہ کر دے۔ بارالٰہا! اس ابر کی سایہ افگنی کو ہمارے لئے جھلسا دینے والا لو کا جھونکا، اس کی خنکی کو نحوست کا سرچشمہ اور اس کے برسنے کو عذاب کا پیش خیمہ اور اس کے پانی کو (ہمارے کام و دہن کیلئے) شور نہ قرار دینا۔ بار الٰہا! رحمت نازل فرما محمدؐ اور ان کی آلؑ پر اور ہمیں آسمان و زمین کی برکتوں سے بہرہ مند کر، اس لئے کہ تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

  20. دعاء 20 پاکیزہ اخلاق سے آراستگی کی دعا

    20

    بسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّآلِهِ وَبَلِّغْ بِإِيمَانِي أَكْمَلَ الإِيمَانِ وَاجْعَلْ يَقِينِي أَفْضَلَ الْيَقِينِ وَانتَهِ بِنِيَّتِي إِلَى أَحْسَنِ النِّيَّاتِ، وَبِعَمَلِي إِلَى أَحْسَنِ الأَعْمَاِل اللَّهُمَّ وَفِّرْ بِلُطْفِكَ نِيَّتِي وَصَحِّحْ بِمَا عِندَكَ يَقِينِي وَاسْتَصْلِحْ بِقُدْرَتِكَ مَا فَسَدَ مِنِّي اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّآلِهِ وَاكْفِنِي مَا يَشْغَلُنِي الإِهْتِمَامُ بِهِ وَاسْتَعْمِلْنِي بِمَا تَسْألُنِي غَداً عَنْهُ وَاسْتَفْرِغْ أَيَّامِي فِيمَا خَلَقْتَنِي لَهُ وَاغْنِنِي وَأَوْسِعْ عَلَيَّ فِي رِزْقِكَ وَلا تَفْتِنِّي بِالنَّظَرِ وَأَعِزَّنِي وَلا تَبْتَلِيَنِّي بِالْكِبْرِ وَعَبِّدْنِي لَكَ وَلا تُفْسِدْ عِبِادَتِي بِالعُجْبِ وَأَجْرِ لِلنَّاسِ عَلَى يَدَيَّ الْخَيْرَ وَلا تَمْحَقْهُ بِالْمَنِّ وَهَبْ لِي مَعَاِلي الأَخْلاَقِ وَاعْصِمْنِي مِنَ الْفَخْرِ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّآلِهِ وَلا تَرْفَعْنِي فِي النَّاسِ دَرَجَةً إِلا حَطَطْتَنِي عِندَ نَفْسِي مِثْلَهَا وَلا تُحْدِثْ لِي عِزّاً ظَاهِراً إِلاَّ أَحْدَثْتَ لِي ذِلَّةً بَاطِنَةً عِندَ نَفْسِي بِقَدَرِهَا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَّآلِ مُحَمَّدٍ وَمَتِّعْنِي بِهُدَىً صَاِلحٍ لا أَسْتَبْدِلُ بِهِ، وَطَرِيقَةِ حَقٍّ لا أَزِيغُ عَنْهَا، وَنِيَّةِ رَشْدٍ لا أَشُكُّ فِيهَا وَعَمِّرْنِي مَا كَانَ عُمْرِي بِذْلَةً فِي طَاعَتِكَ، فَإِذَا كَانَ عُمْرِي مَرْتَعاً لِلشَّيْطَانِ فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ، قَبْلَ أَن يَّسْبِقَ مَقْتُكَ إِلَيَّ، أَوْ يَسْتَحْكِمَ غَضَبُكَ عَلَيَّ اللَّهُمَّ لا تَدَعْ خِصْلَةً تُعَابُ مِنِّي إِلاَّ أَصْلَحْتَهَا وَلا عَائِبَةً أُؤَنَّبُ بِهَا إِلاَّ حَسَّنتَهَا، وَلا أُكْرُومَةً فِيَّ نَاقِصَةً إِلاَّ أَتْمَمْتَهَا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّآلِ مُحَمَّدٍ وَأَبْدِلْنِي مِنْ بُغْضَةِ أَهْلِ الشَّنَانَ الْمَحَبَّةَ وَمِنْ حَسَدِ أَهْلِ الْبَغْيِ الْمَوَدَّةَ، وَمِن ظِنَّةِ أَهْلِ الصَّلاَحِ الثِّقَةَ، وَمِنْ عَدَاوَةِ الأَدْنَيْنَ الْوَلايَةَ، وَمِنْ عُقُوقِ ذَوِي الأَرْحَامِ الْمَبَرَّةَ، وَمِنْ خِذْلانِ الأَقْرَبِينَ النُّصْرَةَ، وَمِنْ حُبِّ الْمُدَارِينَ تَصْحِيحَ الْمِقَةِ، وَمِن رَّدِّ الْمُلاَبِسِينَ كَرَمَ الْعِشْرَةِ، وَمِن مَّرَارَةِ خَوْفِ الظَّالِمِينَ حَلاَوَةَ الأَمنَةَ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّآلِهِ وَاجْعَل لِّي يَداً عَلى مَن ظَلَمَنِي، وَلِسَاناً عَلَى مَنْ خَاصَمَنِي، وَظَفَراً بِمَنْ عَانَدَنِي وَهَبْ لِي مَكْراً عَلَى مَن كَايَدَنِي، وَقُدْرَةً عَلَى مَنِ اضْطَهَدَنِي، وَتَكْذِيباً لِمَن قَصَبَنِي، وَسَلاَمَةً مِّمَّن تَوَعَّدَنِي وَوَفِّقْنِي لِطَاعَةِ مَن سَدَّدَنِي، وَمُتَابَعَةِ مَنْ أَرْشَدَنِي اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّآلِهِ وَسَدِّدْنِي لأَنْ أُعَارِضَ مَنْ غَشَّنِي بِالنُّصْحِ، وَأَجْزِي مَنْ هَجَرَنِي بِالْبِرِّ، وَأُثِيبَ مَنْ حَرَمَنِي بِالْبَذْلِ، وَأُكَافِئَ مَن قَطَعَنِي بِالصِّلَةِ، وَأُخَاِلفَ مَنْ اغْتَابَنِي إِلَى حُسْنِ الذِّكْرِ، وَأَنْ أَشْكُرَ الْحَسَنَةَ، وَأُغْضِي عَنِ السَّيِّئَةِ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَّآلِهِ وَحَلِّنِي بِحِلْيَةِ الصَّاِلحِينَ وَأَلْبِسْنِي زِينَةَ المُتَّقِينَ فِي بَسْطِ الْعَدْلِ وَكَظْمِ الْغَيْظِ وَإِطْفَاءِ النَّائِرَةِ وَضَمِّ أَهْلِ الْفُرْقَةِ وَإِصْلاَحِ ذَاتِ الْبَيْنِ وَإِفْشِاءِ الْعَارِفَةِ وَسَتْرِ الْعَائِبَةِ وَلِينِ الْعَرِيكَةِ وَخَفْضِ الْجَنَاحِ وَحُسْنِ السِّيرَةِ وَسُكُونِ الرِّيحِ وَطِيبِ الْمُخَالَفَةِ وَالسَّبْقِ إِلَى الْفَضِيلَةِ وَإِيثَارِ التَّفَضُّلِ وَتَرْكِ التَّعْيِيرِ وَالإِفْضَاِل عَلَى غَيْرِ الْمُسْتَحِقِّ وَالْقَوْلِ بِالْحَقِّ وَإِنْ عَزَّ وَاسْتِقْلاَلِ الْخَيْرِ وَإِن كَثُرَ مِن قَوْلِي وَفِعْلِي وَاسْتِكْثَارِ الْشَّرِ وَإِن قلَّ مِن قَوْلِي وَفِعْلِي وَأَكْمِلْ ذَلِكَ لِي بِدَوَامِ الطَّاعَةِ، وَلُزُومِ الْجَمَاعَةِ، وَرَفْضِ أَهْلِ الْبِدَعِ، وَمُسْتَعْمِلِي الرَّأْيِ الْمُخْتَرَعِ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّآلِهِ وَاجْعَلْ أَوْسَعَ رِزْقِكَ عَلَيَّ إِذَا كَبِرْتُ، وَأَقْوَى قُوَّتِكَ فِيَّ إِذَا نَصِبْتُ وَلا تَبْتَلِيَنِي بِالْكَسَلِ عَنْ عِبَادَتِكَ، وَلا الْعَمى عَن سَبِيلِكَ، وَلا بِالتَّعَرُّضِ لِخِلاَفِ مَحَبَّتِكَ، وَلا مُجَامَعَةِ مَن تَفَرَّقَ عَنْكَ، وَلا مُفَارَقَةِ مَنِ اجْتَمَعَ إِلَيْكَ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي أَصُولُ بِكَ عِندَ الضَّرُورَةِ، وَأَسْألُكَ عِندَ الْحَاجَةِ، وَأَتَضَرَّعُ إِلَيْكَ عِندَ الْمَسْكَنَةِ وَلا تَفْتِنِّي بِالإِسْتِعَانَةِ بِغَيْرِكَ إِذَا اضْطُرِرْتُ، وَلا بِالْخُضُوعِ لِسُؤَاِل غَيْرِكَ إِذَا افْتَقَرْتُ، وَلا بِالتَّضَرُّعِ إِلَى مَن دُونِكَ إِذَارَهِبْتُ فَأَسْتَحِقُّ بِذَلِكَ خِذْلانَكَ وَمَنْعَكَ وَإِعْرَاضَكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحَمِينَ اللَّهُمَّ اجْعَلْ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ فِي رَوْعِي منِ التَّمَنِّي وَالتَّظَنِّي وَالْحَسَدِذِكْراً لِعَظَمَتِكَ، وَتَفَكُّراً فِي قُدْرَتِكَ، وَتَدْبِيراً عَلَى عَدُوِّكَ، وَمَا أَجْرَى عَلَى لِسَانِى مِن لَّفْظَةِ فُحْشٍ أَوْ هَجْرٍ أَوْ شَتْمِ عِرْضٍ أَوْ شَهَادَةِ بَاطِلٍ أَوِ اغْتِيَابِ مُؤْمِنٍ غَائِبٍ أَوْ سَبِّ حَاضِرٍ أَوْ مَا أَشْبَهَ ذَلِكَ، نُطْقاً بِالْحَمْدِ لَكَ، وَإِغْرَاقاً فِي الثَّنَاءِ عَلَيْكَ وَذَهَاباً فِي تَمْجِيدِكَ وَشُكْراً لِّنِعْمَتِكَ وَاعْتِرَافاً بِإِحْسَانِكَ وَإِحْصَاءاً لِّمِنَنِكَ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّآلِهِ وَلا أُظْلَمَنَّ وَأَنتَ مُطِيقٌ لِّلدَّفْعِ عَنِّي وَلا أَظْلِمَنَّ وَأَنتَ الْقَادِرُ عَلى الْقَبْضِ مِنِّي وَلا أَضِلَّنَّ وَقَدْ أَمْكَنَتْكَ هِدَايَتِي وَلا أَفْتَقِرَنَّ وَمِنْ عِندِكَ وُسْعِي وَلا أَطْغَيَنَّ وَمِنْ عِندِكَ وُجْدِي اللَّهُمَّ إِلَى مَغْفِرَتِكَ وَفَدتُّ وَإِلَى عَفْوِكَ قَصَدتُّ وَإِلَى تَجَاوُزِكَ اشْتَقْتُ وَبِفَضْلِكَ وَثِقْتُ وَلَيْسَ عِندِي مَا يُوجِبُ لِي مَغْفِرَتَكَ وَلا فِي عَمَلِي مَا أَسْتَحِقُّ بِهِ عَفْوَكَ وَمَا لِي بَعْدَ أَنْ حَكَمْتُ عَلَى نَفْسِي إلاَّ فَضْلُكَ فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّآلِهِ وَتَفَضَّلْ عَلَيَّ اللَّهُمَّ وَأَنطِقْنِي بِالْهُدَى وَأَلْهِمْنِي التِّقْوَى وَوَفِّقْنِي للَّتِي هِي أَزْكَى وَاسْتَعْمِلْنِي بِمَا هُوَ أَرْضَى اللَّهُمَّ اسْلُكْ بِي الطَّرِيقَةَ الْمُثْلَى وَاجْعَلْنِي عَلَى مِلَّتِكَ أَمُوتُ وَأَحْيَا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّآلِهِ وَمَتِّعْنِي بِالإقْتِصَادِ وَاجْعَلْنِي مِنْ أَهْلِ السَّدَادِ، وَمِنْ أَدِلَّةِ الرَّشَادِ، وَمِن صَاِلحِي الْعِبَادِ وَارْزُقْنِي فَوْزَ الْمَعَادِ، وَسَلاَمَةَ الْمِرْصَادِ اللَّهُمَّ خُذْ لِنَفْسِكَ مِن نَّفْسِي مَا يُخَلِّصُهَا وَأَبْقِ لِنَفْسِي مِن نَّفْسِي مَا يُصْلِحُهَا، فَإِنَّ نَفْسِي هَاِلكَةً أَوْ تَعْصِمَهَا اللَّهُمَّ أَنتَ عُدَّتِي إِنْ حَزِنتُ وَأَنتَ مُنتَجَعِي إِنْ حُرِمْتُ وَبِكَ اسْتِغَاثَتِي إِن كُرِثْتُ وَعِندَكَ مِمَّا فَاتَ خَلَفٌ، وَلِمَا فَسَدَ صَلاَحٌ، وَفِيمَا أَنكَرْتَ تَغْيِيرٌ فَامْنُنْ عَلَيَّ قَبْلَ الْبَلاءِ بِالْعَافِيَةِ، وَقَبْلَ الطَّلَبِ بِالْجِدَةِ، وَقَبْلَ الضَّلاَلِ بِالرَّشَادِ وَاكْفِنِي مَؤُونَةَ مَعَرَّةِ الْعِبَادِ وَهَبْ لِي أَمْنَ يَوْمِ الْمَعَادِ وَامْنَحْنِي حُسْنَ الإِرْشَادِ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّآلِهِ وَادْرَأْ عَنِّي بِلُطْفِكَ وَاغْذُنِي بِنِعْمَتِكَ وَأَصْلِحْنِي بِكَرَمِكَ وَدَاوِنِي بِصُنعِكَ وَأَظِلَّنِي فِي ذَرَاكَ وَجَلِّلْنِي رِضَاكَ وَوَفِّقْنِي إِذَا اشْتَكَلَتْ عَلَيَّ الأُمُورُ لأَهْدَاهَا، وَإِذَا تَشَابَهَتِ الأَعْمَالُ لأَزْكَاهَا وَإِذَا تَنَاقَضَتِ المِلَلُ لأَرْضَاهَا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّآلِهِ وَتَوِّجْنِي بِالْكِفَايَةِ وَسُمْنِي حُسْنَ الْوِلاَيةِ وَهَبْ لِي صِدْقَ الْهِدَايَةِ وَلا تَفْتِنِّي بِالسَّعَةِ وَامْنَحْنِي حُسْنَ الدَّعَةِ وَلا تَجْعَلْ عَيْشِي كَداًّ كَداًّ وَلا تَرُدَّ دُعَائِي عَلَيَّ رَدّاً فَإِنِّي لا أَجْعَلُ لَكَ ضِدّاً وَلا أَدْعُو مَعَكَ نِدّاً اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّآلِهِ وَامْنَعْنِي مِنَ السَّرَفِ وَحَصِّن رِّزْقِي مِنَ التَّلَفِ وَوَفِّرْ مَلَكَتِي بِالْبَرَكَةِ فِيهِ وَأَصِبْ بِي سَبِيلَ الْهِدَايَةِ لِلْبِرِّ فِيمَا أُنفِقُ مِنْهُ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّآلِهِ وَاكْفِنِي مَؤُونَةَ الإكْتِسَابِ، وَارْزُقْنِي مِنْ غَيْرِ احْتِسَابٍ فَلا أَشْتَغِلَ عَنْ عِبَادَتِكَ بِالطَّلَبِ، وَلا أَحْتَمِلَ إِصْرَ تَبِعَاتِ الْمَكْسَبِ اللَّهُمَّ فَأَطْلِبْنِي بِقُدْرَتِكَ مَا أَطْلُبُ وَأَجِرْنِي بِعِزَّتِكَ مِمَّا أَرْهَبُ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّآلِهِ وَصُن وَّجْهِي بِالْيَسَارِ، وَلا تَبْتَذِلْ جَاهِي بِالإِقْتَارِ فَأَسْتَرْزِقَ أَهْلَ رِزْقِكَ، وَأَسْتَعْطِي شِرَارَ خَلْقِكَ فَأَفْتَتِنَ بِحَمْدِ مَنْ أَعْطَانِي، وَأُبْتَلي بِذَمِّ مَن مَّنَعَنِي وَأَنتَ مِن دُونِهِمْ وَلِيُّ الإِعْطَاءِ وَالْمَنْعِ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّآلِهِ وَارْزُقْنِي صِحَّةً فِي عِبَادَةٍ، وَفَرَاغاً فِي زَهَادَةٍ، وَعِلْماً فِي اسْتِعْمَالٍ، وَوَرَعاً فِي إِجْمَالٍ اللَّهُمَّ اخْتِم بِعَفْوِكَ أَجَلِي وَحَقِّقْ فِي رَجَاءِ رَحْمَتِكَ أَمَلِي وَسَهِّلْ إِلَى بُلُوغِ رِضَاكَ سُبُلِي وَحَسِّن فِي جَمِيعِ أَحْوَاِلي عَمَلِي اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّآلِهِ وَنَبِّهْنِي لِذِكْرِكَ فِي أَوْقَاتِ الْغَفْلَةِ وَاسْتَعْمِلْنِي بِطَاعَتِكَ في أَيَّامِ الْمُهْلَةِ وَانْهَجْ لِي إِلَى مَحَبَّتِكَ سَبِيلاً سَهْلَةً أَكْمِلْ لِي بِهَا خَيْرَ الدُّنيَا وَالآخِرَةِ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّآلِهِ كَأَفْضَلِ مَا صَلَّيْتَ عَلَى أَحَدٍ مِّنْ خَلْقِكَ قَبْلَهُ وَأَنتَ مُصَلٍّ عَلى أَحَدٍ بَعْدَهُ وَآتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنِي بِرَحْمَتِكَ عَذَابَ النَّارِ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، وَهُوَ عَلَيْكَ يَسِيرٌ

    پسندیدہ اخلاق و شائستہ کردار کے سلسلہ میں حضرت ؑکی دُعا: بارِالٰہا! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور میرے ایمان کو کامل ترین ایمان کی حد تک پہنچا دے، اور میرے یقین کو بہترین یقین قرار دے، اور میری نیت کو پسندیدہ ترین نیت، اور میرے اعمال کو بہترین اعمال کے پایہ تک بلند کر دے۔ خداوندا! اپنے لطف سے میری نیت کو خالص و بے ریا، اور اپنی رحمت سے میرے یقین کو استوار، اور اپنی قدرت سے میری خرابیوں کی اصلاح کر دے۔ بارِالٰہا! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما، اور مجھے ان مصروفیتوں سے جو عبادت میں مانع ہیں بے نیاز کر دے، اور انہی چیزوں پر عمل پیرا ہونے کی توفیق دے جن کے بارے میں مجھ سے کل کے دن سوال کرے گا، اور میرے ایام زندگی کو غرض خلقت کی انجام دہی کیلئے مخصوص کر دے اور مجھے (دوسروں سے) بے نیاز کر دے، اور میرے رزق میں کشائش و وسعت عطا فرما، احتیاج و دست نگری میں مبتلا نہ کر، عزت و توقیر دے، کبر و غرور سے دو چار نہ ہونے دے، میرے نفس کو بندگی و عبادت کیلئے رام کر، اور خود پسندی سے میری عبادت کو فاسد نہ ہونے دے، اور میرے ہاتھوں سے لوگوں کو فیض پہنچا، اور اسے احسان جتانے سے رائیگاں نہ ہونے دے، مجھے بلند پایہ اخلاق مرحمت فرما اور غرور اور تفاخر سے محفوظ رکھ۔ بارِالٰہا! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور لوگوں میں میرا درجہ جتنا بلند کرے اتنا ہی مجھے خود اپنی نظروں میں پست کر دے، اور جتنی ظاہری عزت مجھے دے اتنا ہی میرے نفس میں باطنی بے وقعتی کا احساس پیدا کر دے۔ بارِالٰہا! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور مجھے ایسی نیک ہدایت سے بہرہ مند فرما کہ جسے دوسری چیز سے تبدیل نہ کروں، اور ایسے صحیح راستہ پر لگا جس سے کبھی منہ نہ موڑوں، اور ایسی پختہ نیّت دے جس میں ذرا شبہ نہ کروں، اور جب تک میری زندگی تیری اطاعت و فرمانبرداری کے کام آئے مجھے زندہ رکھ، اور جب وہ شیطان کی چراگاہ بن جائے تو اس سے پہلے کہ تیری ناراضگی سے سابقہ پڑے یا تیرا غضب مجھ پر یقینی ہو جائے مجھے اپنی طرف اٹھا لے۔ اے معبود! کوئی ایسی خصلت جو میرے لئے معیوب سمجھی جاتی ہو اس کی اصلاح کئے بغیر نہ چھوڑ، اور کوئی ایسی بری عادت جس پر میری سرزنش کی جا سکے اسے درست کئے بغیر نہ رہنے دے، اور جو پاکیزہ خصلت ابھی مجھ میں ناتمام ہو، اسے تکمیل تک پہنچا دے۔ اے اللہ! رحمت نازل فرما محمدؐ اور ان کی آلؑ پر اور میری نسبت کینہ توز دشمنوں کی دشمنی کو الفت سے، سرکشوں کے حسد کو محبت سے، نیکوں سے بے اعتمادی کو اعتماد سے، قریبیوں کی عداوت کو دوستی سے، عزیزوں کی قطع تعلقی کو صلہ رحمی سے، قرابتداروں کی بے اعتنائی کو نصرت و تعاون سے، خوشامدیوں کی ظاہری محبت کو سچی محبت سے، اور ساتھیوں کے اہانت آمیز برتاؤ کو حسن معاشرت سے، اور ظالموں کے خوف کی تلخی کو امن کی شیرینی سے بدل دے۔ خداوندا! رحمت نازل فرما محمدؐ اور ان کی آلؑ پر اور جو مجھ پر ظلم کرے اس پر مجھے غلبہ دے، جو مجھ سے جھگڑا کرے اس کے مقابلہ میں زبان (حجت شکن) دے، جو مجھ سے دشمنی کرے اس پر مجھے فتح و کامرانی بخش، جو مجھ سے مکر کرے اس کے مکر کا توڑ عطا کر، جو مجھے دبائے اس پر قابو دے، جو میری بدگوئی کرے اسے جھٹلانے کی طاقت دے، اور جو ڈرائے دھمکائے اس سے مجھے محفوظ رکھ، جو میری اصلاح کرے اس کی اطاعت اور جو راہِ راست دکھائے اس کی پیروی کی توفیق عطا فرما۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور مجھے اس امر کی توفیق دے کہ جو مجھ سے غش و فریب کرے میں اس کی خیر خواہی کروں، جو مجھے چھوڑ دے اس سے حسن سلوک سے پیش آؤں، جو مجھے محروم کرے اسے عطا و بخشش کے ساتھ عوض دوں، اور جو قطع رحمی کرے اسے صلہ رحمی کے ساتھ بدلہ دوں، اور جو پس پشت میری برائی کرے میں اس کے بر خلاف اس کا ذکرِ خیر کروں اور حسن سلوک پر شکریہ بجا لاؤں اور بدی سے چشم پوشی کروں۔ بارِالٰہا! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور عدل کے نشر، غصّہ کے ضبط، اور فتنہ کے فروکرنے، متفرق و پراگندہ لوگوں کو ملانے، آپس میں صلح صفائی کرانے، نیکی کے ظاہر کرنے، عیب پر پردہ ڈالنے، نرم خوئی و فروتنی اور حسن سیرت کے اختیار کرنے، رکھ رکھاؤ رکھنے، حسن اخلاق سے پیش آنے، فضیلت کی طرف پیش قدمی کرنے، تفضّل و احسان کو ترجیح دینے، خوردہ گیری سے کنارا کرنے اور غیر مستحق کے ساتھ حسن سلوک کے ترک کرنے اور حق بات کے کہنے میں اگرچہ وہ گراں گزرے، اور اپنی گفتار و کردار کی بھلائی کو کم سمجھنے میں اگرچہ وہ زیادہ ہو، اور اپنے قول و عمل کی برائی کو زیادہ سمجھنے میں اگرچہ وہ کم ہو، مجھے نیکوکاروں کے زیور اور پرہیزگاروں کی سج دھج سے آراستہ کر، اور ان تمام چیزوں کو دائمی اطاعت اور جماعت سے وابستگی، اور اہل بدعت اور ایجاد کردہ رایوں پر عمل کرنے والوں سے علیحدگی کے ذریعہ پایۂ تکمیل تک پہنچا دے۔ بارِالٰہا! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور جب میں بوڑھا ہو جاؤں تو اپنی وسیع روزی میرے لئے قرار دے، اور جب عاجز و درماندہ ہو جاؤں تو اپنی قوی طاقت سے مجھے سہارا دے، اور مجھے اس بات میں مبتلا نہ کر کہ تیری عبادت میں سستی و کوتاہی کروں، تیری راہ کی تشخیص میں بھٹک جاؤں، تیری محبت کے تقاضوں کی خلاف ورزی کروں، اور جو تجھ سے متفرق و پراگندہ ہوں ان سے میل جول رکھوں، اور جو تیری جانب بڑھنے والے ہیں ان سے علیحدہ رہوں۔ خداوندا! مجھے ایسا قرار دے کہ ضرورت کے وقت تیرے ذریعہ حملہ کروں، حاجت کے وقت تجھ سے سوال کروں، اور فقر و احتیاج کے موقع پر تیرے سامنے گڑگڑاؤں، اور اس طرح مجھے نہ آزمانا کہ اضطرار میں تیرے غیر سے مدد مانگوں، اور فقر و ناداری کے وقت تیرے غیر کے آگے عاجزانہ درخواست کروں، اور خوف کے موقع پر تیرے سوا کسی دوسرے کے سامنے گِڑگڑاؤں کہ تیری طرف سے محرومی، ناکامی اور بے اعتنائی کا مستحق قرار پاؤں، اے تمام رحم کرنے والوں میں سے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔ خدایا! جو حرص، بدگمانی اور حسد کے جذبات شیطان میرے دل میں پیدا کرے انہیں اپنی عظمت کی یاد، اپنی قدرت میں تفکر اور دشمن کے مقابلہ میں تدبیر و چارہ سازی کے تصورات سے بدل دے، اور فحش کلامی، یا بےہودہ گوئی، یا دُشنام طرازی، یا جھوٹی گواہی، یا غائب مومن کی غیبت، یا موجود سے بد زبانی، اور اس قبیل کی جو باتیں میری زبان پر لانا چاہے، انہیں اپنی حمد سرائی، مدح میں کوشش و انہماک، تمجید و بزرگی کے بیان، شکر نعمت و اعتراف احسان اور اپنی نعمتوں کے شمار سے تبدیل کر دے۔ اے اللہ ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور مجھ پر ظلم نہ ہونے پائے جبکہ تو اس کے دفع کرنے پر قادر ہے، اور کسی پر ظلم نہ کروں جبکہ تو مجھے ظلم سے روک دینے کی طاقت رکھتا ہے، اور گمراہ نہ ہو جاؤں جبکہ میری راہنمائی تیرے لئے آسان ہے، اور محتاج نہ ہوں جبکہ میری فارغ البالی تیری طرف سے ہے، اور سرکش نہ ہو جاؤں جبکہ میری خوشحالی تیری جانب سے ہے۔ بارِالٰہا! میں تیری مغفرت کی جانب آیا ہوں، اور تیری معافی کا طلبگار اور تیری بخشش کا مشتاق ہوں، میں صرف تیرے فضل پر بھروسا رکھتا ہوں، اور میرے پاس کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو میرے لئے مغفرت کا باعث بن سکے، اور نہ میرے عمل میں کچھ ہے کہ تیرے عفو کا سزاوار قرار پاؤں، اور اب اس کے بعد کہ میں خود ہی اپنے خلاف فیصلہ کر چکا ہوں تیرے فضل کے سوا میرا سرمایۂ امید کیا ہو سکتا ہے؟ لہٰذا محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل کر اور مجھ پر تفضّل فرما۔ خدایا! مجھے ہدایت کے ساتھ گویا کر، میرے دل میں تقویٰ و پرہیزگاری کا القاء فرما، پاکیزہ عمل کی توفیق دے، پسندیدہ کام میں مشغول رکھ۔ خدایا! مجھے بہترین راستہ پر چلا اور ایسا کر کہ تیرے دین و آئین پر مروں اور اسی پر زندہ رہوں۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور مجھے (گفتار و کردار میں) میانہ روی سے بہرہ مند فرما، اور درست کاروں اور ہدایت کے رہنماؤں اور نیک بندوں میں سے قرار دے، اور آخرت کی کامیابی اور جہنم سے سلامتی عطا کر۔ خدایا! میرے نفس کا ایک حصہ اپنی (ابتلاء و آزمائش کیلئے) مخصوص کر دے تاکہ اسے (عذاب سے ) رہائی دلا سکے، اور ایک حصہ کہ جس سے اس کی (دنیوی) اصلاح و درستی وابستہ ہے، میرے لئے رہنے دے، کیونکہ میرا نفس تو ہلاک ہونے والا ہے مگر یہ کہ تو اسے بچا لے جائے۔ اے اللہ! اگر میں غمگین ہوں تو میرا ساز و سامان (تسکین) تو ہے، اور اگر (ہر جگہ سے) محروم رہوں تو میری امید گاہ تو ہے، اور اگر مجھ پر غموں کا ہجوم ہو تو تجھ ہی سے داد فریاد ہے، جو چیز جا چکی اس کا عوض اور جو شے تباہ ہو گئی اس کی درستی اور جسے تو ناپسند کرے اس کی تبدیلی تیرے ہاتھ میں ہے، لہٰذا بلا کے نازل ہونے سے پہلے عافیت، مانگنے سے پہلے خوشحالی اور گمراہی سے پہلے ہدایت سے مجھ پر احسان فرما، اور لوگوں کی سخت و درشت باتوں کے رنج سے محفوظ رکھ، اور قیامت کے دن امن و اطمینان عطا فرما، اور حسن ہدایت و ارشاد کی توفیق مرحمت فرما۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور اپنے لطف سے (برائیوں کو) مجھ سے دور کر دے، اور اپنی نعمت سے میری پرورش اور اپنے کرم سے میری اصلاح فرما اور اپنے فضل و احسان سے (جسمانی و نفسانی امراض سے) میرا مداوا کر، مجھے اپنی رحمت کے سایہ میں جگہ دے اور اپنی رضامندی میں ڈھانپ لے، اور جب امور مشتبہ ہو جائیں تو جو اُن میں زیادہ قرین صواب ہو، اور جب اعمال میں اشتباہ واقع ہو جائے تو جو اُن میں پاکیزہ تر ہو، اور جب مذاہب میں اختلاف پڑ جائے تو جو اُن میں پسندیدہ تر ہو، اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرما۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور مجھے بے نیازی کا تاج پہنا، اور متعلقہ کاموں کو احسن طریق سے انجام دینے پر مامور فرما، اور ایسی ہدایت سے سرفراز فرما جو دوام و ثبات لئے ہوئے ہو، اور غنا و خوشحالی سے مجھے بے راہ نہ ہونے دے، اور آسودگی و آسائش عطا فرما، اور زندگی کو سخت دشوار نہ بنا دے، میری دُعا کو ردنہ کر، کیونکہ میں کسی کو تیرا مدّ مقابل نہیں قرار دیتا، اور نہ تیرے ساتھ کسی کو تیرا ہمسر سمجھتے ہوئے پکارتا ہوں۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور مجھے فضول خرچی سے باز رکھ، اور میری روزی کو تباہ ہونے سے بچا، اور میرے مال میں برکت دے کر اس میں اضافہ کر، اور مجھے اس میں سے امور خیر میں خرچ کرنے کی وجہ سے راہ حق و صواب تک پہنچا۔ بارالٰہا! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور مجھے کسب معیشت کے رنج و غم سے بے نیاز کر دے، اور بے حساب روزی عطا فرما، تاکہ تلاشِ معاش میں الجھ کر تیری عبادت سے روگرداں نہ ہو جاؤں اور (غلط و نامشروع) کا رو کسب کا خمیازہ نہ بھگتوں۔ اے اللہ! میں جو کچھ طلب کرتا ہوں اسے اپنی قدرت سے مہیا کر دے، اور جس چیز سے خائف ہوں اس سے اپنی عزت و جلال کے ذریعہ پناہ دے۔ خدایا! میری آبرو کو غنا و تو نگری کے ساتھ محفوظ رکھ، اور فقر و تنگ دستی سے میری منزلت کو نظروں سے نہ گرا کہ تجھ سے رزق پانے والوں سے رزق مانگنے لگوں، اور تیرے پست بندوں کی نگاہِ لطف و کرم کو اپنی طرف موڑنے کی تمنّا کروں، اور جو مجھے دے اس کی مدح و ثنا اور جو نہ دے اس کی برائی کرنے میں مبتلا ہو جاؤں اور تو ہی عطا کر نے اور روک لینے کا اختیار رکھتا ہے نہ کہ وہ۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور مجھے ایسی صحت دے جو عبادت میں کام آئے، اور ایسی فرصت جو دنیا سے بے تعلقی میں صرف ہو، اور ایسا علم جو عمل کیساتھ ہو، اور ایسی پرہیزگاری جو حد اعتدال میں ہو (کہ وسواس میں مبتلا نہ ہو جاؤں)۔ اے اللہ! میری مدت حیات کو اپنے عفو و درگزر کے ساتھ ختم کر، اور میری آرزو کو رحمت کی امید میں کامیاب فرما، اور اپنی خوشنودی تک پہنچنے کیلئے راہ آسان کر، اور ہر حالت میں میرے عمل کو بہتر قرار دے۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور مجھے غفلت کے لمحات میں اپنے ذکر کیلئے ہوشیار کر، اور مہلت کے دنوں میں اپنی اطاعت میں مصروف رکھ، اور اپنی محبت کی سہل و آسان راہ میرے لئے کھول دے، اور اس کے ذریعہ میرے لئے دنیا و آخرت کی بھلائی کو کامل کر دے۔ اے اللہ!محمدؐ اور ان کی اولادؑ پر بہترین رحمت نازل فرما، ایسی رحمت جو اس سے پہلے تو نے مخلوقات میں سے کسی ایک پر نازل کی ہو، اور اس کے بعد کسی پر نازل کرنے والا ہو، اور ہمیں دنیا میں بھی نیکی عطا کر اور آخرت میں بھی، اور اپنی رحمت سے ہمیں دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھ۔

  21. دعاء 21 رنج و اندوہ کے موقع کی دعا

    21

    أَللَّهُمَّ يَا كَافِيَ الْفَرْدِ الضَعِيْفِ، وَوَاقِيَ الامْرِ الْمَخُوْفِ، أَفْرَدَتْنِي الْخَـطَايَا; فَـلاَ صَاحِبَ مَعِي، وَضَعُفْتُ عَنْ غَضَبِكَ; فَلاَ مُؤَيِّدَ لِي، وَأَشْرَفْتُ عَلَى خَوْفِ لِقَائِكَ; فَلاَ مُسَكِّنَ لِرَوْعَتِي، وَمَنْ يُؤْمِنُنِي مِنْكَ وَأَنْتَ أَخَفْتَنِي؟ وَمَن يساعِدُنِي وَأَنْتَ أَفْرَدْتَنِي؟ وَمَنْ يُقَوِّيْنِي وَأَنْتَ أَضْعَفْتَنِي؟ لاَ يُجيرُ يا إلهي إلاّ رَبٌّ عَلَى مَرْبُوب، وَلاَ يُؤْمِنُ إلاّ غالِبٌ عَلَى مَغْلُوب، وَلاَ يُعِينُ إِلاّ طالِبٌ عَلَى مَطْلُوب، وَبِيَـدِكَ يَـاَ إلهِي جَمِيعُ ذلِكَ السَّبَبِ، وَإلَيْكَ الْمَفَرُّ وَالْمَهْربُ. فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَأَجِرْ هَرَبِي وَأَنْجِحْ مَطْلَبِي. أللَّهُمَّ إنَّكَ إنْ صَرَفْتَ عَنِّي وَجْهَكَ الْكَرِيْمَ، أَوْ مَنَعْتَنِي فَضْلَكَ الْجَسِيمَ، أَوْ حَظَرْتَ عَلَيَّ رِزْقَكَ أَوْ قَطَعْتَ عَنِّي سَبَبَـكَ لَمْ أَجِدِ السَّبِيـلَ إلَى شَيْء مِنْ أَمَلِي غَيْرَكَ، وَلَمْ أَقْدِرْ عَلَى مَا عِنْدَكَ بِمَعُونَةِ سِوَاكَ; فَإنِّي عَبْدُكَ، وَفِي قَبْضَتِكَ نَاصِيَتِي بِيَدِكَ، لاَ أَمْرَ لِي مَعَ أَمْرِكَ، مَاض فِيَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ، وَلاَ قُوَّةَ لِي عَلَى الْخُـرُوجِ مِنْ سُلْطَانِـكَ، وَلاَ أَسْتَطِيـعُ مُجَاوَزَةَ قُدْرَتِكَ، وَلاَ أَسْتَـمِيلُ هَوَاكَ، وَلاَ أبْلُغُ رِضَاكَ، وَلاَ أَنَالُ مَا عِنْدَكَ إلاَّ بِطَاعَتِكَ وَبِفَضْل رَحْمَتِكَ. إلهِي أَصْبَحْتُ وَأَمْسَيْتُ عَبْداً دَاخِراً لَكَ، لا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعاً وَلاَ ضَرّاً إلاَّ بِكَ أَشْهَدُ بِذَلِكَ عَلَى نَفْسِي وَأَعْتَـرِفُ بِضَعْفِ قُـوَّتِي وَقِلَّةِ حِيْلَتِي فَأَنْجزْ لِي مَا وَعَدْتَنِي، وَتَمِّمْ لِي مَا آتَيْتَنِي; فَإنِّي عَبْـدُكَ الْمِسْكِينُ الْمُسْتكِينُ الضَّعِيفُ الضَّـرِيـرُ الذَّلِيلُ الْحَقِيرُ الْمَهِينُ الْفَقِيرُ الْخَائِفُ الْمُسْتَجِيرُ. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَلاَ تَجْعَلْنِي نَاسِيَاً لِذِكْرِكَ فِيمَا أَوْلَيْتَنِي، وَلاَ غافِلاً لإحْسَانِكَ فِيمَا أَبْلَيْتَنِي، وَلا آيسَاً مِنْ إجَابَتِكَ لِي وَإنْ أَبْطَأتَ عَنِّي فِي سَرَّاءَ كُنْتُ أَوْ ضَرَّاءَ، أَوْ شِدَّة أَوْ رَخَاء، أَوْ عَافِيَة أَوْ بَلاء، أَوْ بُؤْس أَوْ نَعْمَاءَ، أَوْ جِدَة أَوْ لأوَاءَ، أَوْ فَقْر أَوْ غِنىً. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَاجْعَلْ ثَنائِي عَلَيْكَ وَمَدْحِي إيَّاكَ وَحَمْدِي لَكَ فِي كُلِّ حَالاَتِي حَتَّى لاَ أَفْرَحَ بِمَا آتَيْتَنِي مِنَ الدُّنْيَا، وَلاَ أَحْـزَنَ عَلَى مَا مَنَعْتَنِي فِيهَا، وَأَشْعِرْ قَلْبِي تَقْوَاكَ، وَاسْتَعْمِلْ بَدَنِي فِيْمَا تَقْبَلُهُ مِنِّي، وَاشْغَلْ بِطَاعَتِكَ نَفْسِي عَنْ كُلِّ مَايَرِدُ عَلَىَّ حَتَّى لاَ اُحِبَّ شَيْئَاً مِنْ سُخْطِكَ، وَلا أَسْخَطَ شَيْئـاً مِنْ رِضَـاكَ. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَفَرِّغْ قَلْبِي لِمَحَبَّتِكَ ، وَاشْغَلْهُ بِذِكْرِكَ، وَانْعَشْهُ بِخَوْفِكَ ، وَبِالْوَجَلِ مِنْكَ، وَقَوِّهِ بِالرَّغْبَةِ إلَيْكَ، وَأَمِلْهُ إلَى طَاعَتِكَ، وَأَجْرِ بِهِ فِي أَحَبِّ السُّبُلِ إلَيْكَ، وَذَلِّلْهُ بِالرَّغْبَةِ فِيمَا عِنْدَكَ أَيَّامَ حَيَاتِي كُلِّهَا، وَاجْعَلْ تَقْوَاكَ مِنَ الدُّنْيَا زَادِي، وَإلَى رَحْمَتِكَ رِحْلَتِي، وَفِي مَرْضَاتِكَ مَدْخَلِي. وَاجْعَلْ فِي جَنَّتِكَ مَثْوَايَ، وَهَبْ لِي قُوَّةً أَحْتَمِلُ بِهَا جَمِيعَ مَرْضَاتِكَ، وَاجْعَلْ فِرَارِي إلَيْكَ، وَرَغْبَتِي فِيمَا عِنْدَكَ، وَأَلْبِسْ قَلْبِي الْوَحْشَةَ مِنْ شِرارِ خَلْقِكَ. وَهَبْ لِي الأُنْسَ بِكَ وَبِأَوْلِيَـآئِكَ وَأَهْلِ طَاعَتِكَ، وَلاَ تَجْعَلْ لِـفَاجِـر وَلا كَافِر عَلَيَّ مِنَّةً، وَلاَ لَـهُ عِنْدِي يَداً، وَلا بِي إلَيْهِمْ حَاجَةً، بَل اجْعَـلْ سُكُـونَ قَلْبِي وَاُنْسَ نَفْسِي وَاسْتِغْنَـائِي وَكِفَايَتِي بِكَ وَبِخِيَـارِ خَلْقِكَ. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ، وَاجْعَلْنِي لَهُمْ قَـرِيناً، وَاجْعَلْنِي لَهُمْ نَصِيْراً، وَامْنُنْ عَلَيَّ بِشَوْق إلَيْكَ، وَبِالْعَمَلِ لَكَ بِمَا تُحِبُّ وَتَرْضَى إنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْء قَدِيرٌ، وَذَلِكَ عَلَيْكَ يَسِيرٌ .

    جب کسی بات سے غمگین یا گناہوں کہ وجہ سے پریشان ہوتے تو یہ دُعا پڑھتے: اے اللہ! اے یکہ و تنہا اور کمزور و ناتواں کی(مہموں میں) کفایت کرنے والے اور خطرناک مرحلوں سے بچا لے جانے والے! گناہوں نے مجھے بے یار و مددگار چھوڑ دیا ہے، اب کوئی ساتھی نہیں ہے، اور تیرے غضب کے برداشت کرنے سے عاجز ہوں، اب کوئی سہارا دینے والا نہیں ہے، تیری طرف بازگشت کا خطرہ درپیش ہے۔ اب اس دہشت سے کوئی تسکین دینے والا نہیں ہے، اور جبکہ تو نے مجھے خوف زدہ کیا ہے تو کون ہے جو مجھے تجھ سے مطمئن کرے، اور جبکہ تو نے مجھے تنہا چھوڑ دیا ہے تو کون ہے جو میری دستگیری کرے اور جبکہ تو نے مجھے ناتواں کر دیا ہے تو کون ہے جو مجھے قوت دے؟ اے میرے معبود! پروردہ کو کوئی پناہ نہیں دے سکتا سوائے اس کے پروردگار کے، اور شکست خوردہ کو کوئی امان نہیں دے سکتا سوائے اس پر غلبہ پانے والے کے، اور طلب کردہ کی کوئی مدد نہیں کر سکتا سوائے اس کے طالب کے، یہ تمام وسائل اے میرے معبود تیرے ہی ہاتھ میں ہیں اور تیری ہی طرف راہ فرار و گریز ہے، لہٰذا تو محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور میرے گریز کو اپنے دامن میں پناہ دے، اور میری حاجت برلا۔ اے اللہ! اگر تو نے اپنا پاکیزہ رُخ مجھ سے موڑ لیا اور اپنے احسان عظیم سے دریغ کیا، یا اپنے رزق کو بند کر دیا، یا اپنے رشتۂ رحمت کو مجھ سے قطع کر لیا تو میں اپنی آرزوؤں تک پہنچنے کا وسیلہ تیرے سوا کوئی پا نہیں سکتا، اور تیرے ہاں کی چیزوں پر تیری مدد کے سوا دسترس حاصل نہیں کر سکتا، کیونکہ میں تیرا بندہ اور تیرے قبضۂ قدرت میں ہوں، اور تیرے ہی ہاتھ میں میری باگ ڈور ہے، تیرے حکم کے آگے میرا حکم نہیں چل سکتا، میرے بارے میں تیرا فرمان جاری اور میرے حق میں تیرا فیصلہ عدل و انصاف پر مبنی ہے، تیرے قلمر وِ سلطنت سے نکل جانے کا مجھے یارا نہیں، اور تیرے احاطۂ قدرت سے قدم باہر رکھنے کی طاقت نہیں، اور نہ تیری محبت کو حاصل کر سکتا ہوں، نہ تیری رضا مندی تک پہنچ سکتا ہوں، اور نہ تیرے ہاں کی نعمتیں پا سکتا ہوں، مگر تیری اطاعت اور تیری رحمت فراواں کے وسیلہ سے۔ اے اللہ! میں ہر حال میں تیرا ذلیل بندہ ہوں، تیری مدد کے بغیر میں اپنے سود و زیاں کا مالک نہیں، میں اس عجز و بے بضاعتی کی اپنے بارے میں گواہی دیتا ہوں اور اپنی کمزوری و بے چارگی کا اعتراف کرتا ہوں، لہٰذا جو وعدہ تو نے مجھ سے کیا ہے اسے پورا کر اور جو دیا ہے اسے تکمیل تک پہنچا دے، اس لئے کہ میں تیرا وہ بندہ ہوں جو بے نوا، عاجز، کمزور، بے سروسامان، حقیر، ذلیل، نادار، خوفزدہ اور پناہ کا خواستگار ہے۔ اے اللہ! رحمت نازل فرما محمدؐ اور ان کی آلؑ پر اور مجھے ان عطیوں میں جو تو نے بخشے ہیں فراموش کار اور ان نعمتوں میں جو تو نے عطا کی ہیں احسان ناشناس نہ بنا دے، اور مجھے دُعا کی قبولیت سے ناامید نہ کر اگرچہ اس میں تاخیر ہو جائے، آسائش میں ہوں یا تکلیف میں، تنگی میں ہوں یا فارغ البالی میں، تندرستی کی حالت میں ہوں یا بیماری کی، بدحالی میں ہوں یا خوشحالی میں، تونگری میں ہوں یا عسرت میں، فقر میں ہوں یا دولتمندی میں۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور مجھے ہر حالت میں مدح و ستائش و سپاس میں مصروف رکھ، یہاں تک کہ دنیا میں سے جو کچھ تو دے اس پر خوش نہ ہونے لگوں اور جو روک لے اس پر رنجیدہ نہ ہوں، اور پرہیزگاری کو میرے دل کا شعار بنا، اور میرے جسم سے وہی کام لے جسے تو قبول فرمائے، اور اپنی اطاعت میں انہماک کے ذریعہ تمام دنیوی علائق سے فارغ کر دے، تاکہ اس چیز کو جو تیری ناراضی کا سبب ہے، دوست نہ رکھوں اور جو چیز تیری خوشنودی کا باعث ہے اسے ناپسند نہ کروں۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور زندگی بھر میرے دل کو اپنی محبت کیلئے فارغ کر دے،اپنی یاد میں اسے مشغول رکھ، اپنے خوف و ہراس کے ذریعہ (گناہوں کی) تلافی کا موقع دے، اپنی طرف رجوع ہونے سے اس کو قوت و توانائی بخش، اپنی اطاعت کی طرف اسے مائل کر اور اپنے پسندیدہ ترین راستہ پر چلا اور اپنی نعمتوں کی طلب پر اسے تیار کر اور پرہیزگاری کو میرا توشہ،اپنی رحمت کی جانب میرا سفر، اپنی خوشنودی میں میرا گزر اور اپنی جنت میں میری منزل قرار دے۔ اور مجھے ایسی قوت عطا فرما جس سے تیری رضامندیوں کا بوجھ اٹھالوں، اور میرے گریز کو اپنی جانب اور میری خواہش کو اپنے ہاں کی نعمتوں کی طرف قرار دے، اور برے لوگوں سے میرے دل کو متوحش اور اپنے اور اپنے دوستوں اور فرمانبرداروں سے مانوس کر دے۔ اور کسی بدکار اور کافر کا مجھ پر احسان نہ ہو، نہ اس کی نگاہِ کرم مجھ پر ہو اور نہ اس کی مجھے کوئی احتیاج ہو، بلکہ میرے دلی سکون، قلبی لگاؤ اور میری بے نیازی و کارگزاری کو اپنے اور اپنے برگزیدہ بندوں سے وابستہ کر۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور مجھے ان کا ہم نشین و مددگار قرار دے، اور اپنے شوق و وارفتگی اور ان اعمال کے ذریعے جنہیں تو پسند کرتا اور جن سے خوش ہوتا ہے، مجھ پر احسان فرما، اس لئے کہ تو ہر چیز پر قادر ہے، اور یہ کام تیرے لئے آسان ہے۔

  22. دعاء 22 شدت و سختی کے وقت کی دعا

    22

    أَللَّهُمَّ إنَّكَ كَلَّفْتَنِي مِنْ نَفْسِي مَا أَنْتَ أَمْلَكُ بِهِ مِنِّي، وَقُدْرَتُكَ عَلَيْهِ وَعَلَيَّ أَغْلَبُ مِنْ قُدْرَتِي، فَأَعْطِنِي مِنْ نَفْسِي مَا يُرْضِيْكَ عَنِّي، وَخُذْ لِنَفْسِكَ رِضَاهَا مِنْ نَفْسِي فِي عَافِيَة. أللَّهُمَّ لاَ طَاقَةَ لِي بِالجَهْدِ ، وَلاَ صَبْرَ لِي عَلَى البَلاَءِ، وَلاَ قُوَّةَ لِي عَلَى الْفَقْرِ، فَلاَ تَحْظُرْ عَلَيَّ رِزْقِي، وَلاَ تَكِلْنِيْ إلَى خَلْقِكَ بَلْ تَفَرَّدْ بِحَاجَتِي، وَتَولَّ كِفَايَتِي، وَانْظُرْ إلَيَّ وَانْظُرْ لِي فِي جَمِيْعِ اُمُورِي، فَإنَّكَ إنْ وَكَلْتَنِي إلَى نَفْسِي عَجَزْتُ عَنْهَا، وَلَمْ اُقِمْ مَا فِيهِ مَصْلَحَتُهَا، وَإنْ وَكَلْتَنِي إلَى خَلْقِكَ تَجَهَّمُونِي، وَإنْ أَلْجَأتَنِيْ إلَى قَرَابَتِي حَرَمُونِي، وَإنْ أَعْطَوْا أَعْطَوْا قَلِيْلاً نَكِداً، وَمَنُّوا عَلَيَّ طَوِيلاً وَذَمُّوا كَثِيراً. فَبِفَضْلِكَ أللَّهُمَّ فَأَغْنِنِي، وَبِعَظَمَتِكَ فَانْعَشنِي، وَبِسَعَتِكَ فَابْسُطْ يَدِي، وَبِمَا عِنْدَكَ فَاكْفِنِي. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ، وَخَلِّصْنِي مِنَ الْحَسَدِ، وَاحْصُرْنِي عَن الذُّنُوبِ، وَوَرِّعْنِي عَنِ الْمَحَارِمِ، وَلا تُجَرِّئْنِي عَلَى الْمَعَاصِي، وَاجْعَلْ هَوايَ عِنْدَكَ، وَرِضَايَ فِيمَا يَرِدُ عَلَيَّ مِنْكَ، وَبَارِكْ لِي فِيْمَا رَزَقْتَنِي، وَفِيمَا خَوَّلْتَنِي، وَفِيمَا أَنْعَمْتَ بِهِ عَلَيَّ، وَاجْعَلْنِي فِي كُلِّ حَالاَتِي مَحْفُوظَاً مَكْلُوءاً مَسْتُوراً مَمْنُوعاً مُعَاذاً مُجَاراً. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَاقْضِ عَنِّي كُلّ مَا أَلْزَمْتَنِيهِ وَفَرَضْتَهُ عَلَيَّ لَكَ فِي وَجْه مِنْ وُجُوهِ طَاعَتِكَ، أَوْ لِخَلْق مِنْ خَلْقِكَ وَإنْ ضَعُفَ عَنْ ذَلِكَ بَدَنِي، وَوَهَنَتْ عَنْهُ قُـوَّتِي، وَلَمْ تَنَلْهُ مَقْدِرَتِي، وَلَمْ يَسَعْهُ مَالِي وَلاَ ذَاتُ يَدِي، ذَكَرْتُهُ أَوْ نَسِيتُهُ هُوَ يَا رَبِّ مِمَّا قَدْ أَحْصَيْتَهُ عَلَيَّ وَأَغْفَلْتُهُ أَنَا مِنْ نَفْسِي، فَأَدِّهِ عَنِّي مِنْ جَزِيْلِ عَطِيَّتِكَ وَكَثِيرِ مَا عِنْدَكَ، فَإنَّكَ وَاسِعٌ كَرِيمٌ حَتَّى لاَ يَبْقَى عَلَيَّ شَيْ مِنْهُ تُرِيدُ أَنْ تُقَاصَّنِي بِهِ مِنْ حَسَنَاتِي، أَوْ تُضَاعِفَ بِهِ مِنْ سَيِّئاتِي يَوْمَ أَلْقَاكَ يَا رَبِّ. أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَارْزُقْنِي الرَّغْبَةَ فِي الْعَمَـلِ لَكَ لآخِـرَتِي، حَتَّى أَعْرِفَ صِدْقَ ذلِكَ مِنْ قَلْبِي، وَحَتَّى يَكُونَ الْغَالِبُ عَلَيَّ الزُّهْدُ فِي دُنْيَايَ، وَحَتَّى أَعْمَلَ الْحَسَنَاتِ شَوْقاً، وَآمَنَ مِنَ السَّيِّئاتِ فَرَقاً وَخَوْفاً، وَهَبْ لِي نُوراً أَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ، وَأَهْتَدِي بِهِ فِي الظُّلُماتِ، وَأَسْتَضِيءُ بِهِ مِنَ الشَّكِّ وَالشُّبُهَـاتِ . اللّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَارْزُقْنِي خَوْفَ غَمِّ الْوَعِيْـدِ، وَشَوْقَ ثَوَابِ الْمَوْعُودِ حَتَّى أَجِدَ لَذَّةَ مَا أَدْعُوكَ لَهُ، وَكَأْبَةَ مَا أَسْتَجِيرُ بِكَ مِنْهُ. أللَّهُمَّ قَـدْ تَعْلَمُ مَا يُصْلِحُنِي مِنْ أَمْرِ دُنْيَايَ وَآخِـرَتِي، فَكُنْ بِحَوَائِجِيْ حَفِيّاً. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِ مُحَمَّد وَارْزُقْنِي الْحَقَّ عِنْدَ تَقْصِيرِي فِي الشُّكْرِ لَكَ بِمَا أَنْعَمْتَ عَلَيَّ فِي اليُسـرِ وَالْعُسْرِ وَالصِّحَّـةِ وَالسَّقَمِ حَتَّى أَتَعَرَّفَ مِنْ نَفْسِي رَوْحَ الرِّضَا وَطُمَأنِينَةَ النَّفْسِ مِنِّي بِمَا يَجِبُ لَكَ فِيمَا يَحْدُثُ فِي حَالِ الْخَوْفِ وَالاَمْنِ، وَالرِّضَا وَالسُّخْطِ، وَالضَّرِّ وَالنَّفْعِ. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَارْزُقْنِي سَلاَمَةَ الصَّدْرِ مِنَ الْحَسَدِ حَتَّى لاَ أَحْسُدَ أَحَداً مِنْ خَلْقِكَ عَلَى شَيْء مِنْ فَضْلِكَ، وَحَتَّى لاَ أَرى نِعْمَـةً مِنْ نِعَمِـكَ عَلَى أَحَد مِنْ خَلْقِكَ فِي دِيْن أَوْ دُنْيا، أَوْ عَافِيَة أَوْ تَقْوَى، أَوْ سَعَة أَوْ رَخاء، إلاّ رَجَوْتُ لِنَفْسِي أَفْضَلَ ذلِكَ، بِكَ وَمِنْكَ وَحْدَكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّـد وَآلِـهِ وَارْزُقْنِي التَّحَفُّظَ مِن الْخَطَايَا، وَالاحْتِرَاسَ مِنَ الزَّلَلِ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، فِي حَالِ الرِّضَا وَالْغَضَبِ، حَتَّى أكُونَ بِمَا يَرِدُ عَلَيَّ مِنْهُمَا بِمَنْزِلَة سَوَاء، عَامِلاً بِطَاعَتِكَ مُؤْثِراً لِرِضَاكَ عَلَى مَا سِوَاهُمَا فِي الأَوْلِياءِ وَالأعْدَاءِ حَتّى يَأْمَنَ عَدُوِّي مِنْ ظُلْمِي وَجَوْرِي، وَيَيْأَسَ وَلِيِّي مِنْ مَيْلِي وَانْحِطَاطِ هَوَايَ، وَاجْعَلنِي مِمَّنْ يَدْعُوكَ مُخْلِصاً في الرَّخَاءِ دُعَـاءَ الْمُخْلِصِينَ الْمُضْطَرِّينَ لَـكَ فِي الدُّعَاءِ إنَّكَ حَمِيدٌ مَجيدٌ .

    شدائد و مشکلات کے موقع پر یہ دُعا پڑھتے: اے میرے معبود! تو نے(اصلاح و تہذیب نفس کے بارے میں) جو تکلیف مجھ پر عائد کی ہے اس پر تو مجھ سے زیادہ قدرت رکھتا ہے، اور تیری قوت و توانائی اس امر پر اور خود مجھ پر میری قوت و طاقت سے فزوں تر ہے، لہٰذا مجھے ان اعمال کی توفیق دے جو تیری خوشنودی کا باعث ہوں، اور صحت و سلامتی کی حالت میں اپنی رضامندی کے تقاضے مجھ سے پورے کر لے۔ بارِالہا !مجھ میں مشقت کے مقابلہ میں ہمت، مصیبت کے مقابلہ میں صبر اور فقر و احتیاج کے مقابلہ میں قوت نہیں ہے، لہٰذا میری روزی کو روک نہ لے، اور مجھے اپنی مخلوق کے حوالے نہ کر، بلکہ بلا واسطہ میری حاجت برلا، اور خود ہی میرا کارساز بن، اور مجھ پر نظر شفقت فرما، اور تمام کاموں کے سلسلہ میں مجھ پر نظر کرم رکھ، اس لئے کہ اگر تو نے مجھے میرے حال پر چھوڑ دیا تو میں اپنے امور کی انجام دہی سے عاجز رہوں گا، اور جن کاموں میں میری بہبودی ہے انہیں انجام نہ دے سکوں گا، اور اگر تو نے مجھے لوگوں کے حوالے کر دیا تو وہ تیوریوں پر بل ڈال کر مجھے دیکھیں گے، اور اگر عزیزوں کی طرف ڈھکیل دیا تو وہ مجھے ناامید رکھیں گے، اور اگر کچھ دیں گے تو قلیل و ناخوشگوار اور اس کے مقابلہ میں احسان زیادہ رکھیں گے اور برائی بھی حد سے بڑھ کر کریں گے، لہٰذا اے میرے معبود! تو اپنے فضل و کرم کے ذریعہ مجھے بے نیاز کر، اور اپنی بزرگی و عظمت کے وسیلہ سے میری احتیاج کو برطرف فرما، اور اپنی تونگری و وسعت سے میرا ہاتھ کشادہ کر دے، اور اپنے ہاں کی نعمتوں کے ذریعہ مجھے (دوسروں سے) بے نیاز بنا دے۔ اے اللہ! رحمت نازل فرما محمدؐ اور ان کی آلؑ پر اور مجھے حسد سے نجات دے، اور گناہوں کے ارتکاب سے روک دے، اور حرام کاموں سے بچنے کی توفیق دے، اور گناہوں پر جرأت پیدا نہ ہونے دے، اور میری خواہش و رغبت اپنے سے وابستہ رکھ، اور میری رضامندی انہی چیزوں میں قرار دے جو تیری طرف سے مجھ پر وارد ہوں، اور رزق و بخشش و انعام میں میرے لئے افزائش فرما، اور مجھے ہر حال میں اپنے حفظ و نگہداشت، حجاب و نگرانی اور پناہ و امان میں رکھ۔ اے اللہ! رحمت نازل فرما محمدؐ اور ان کی آلؑ پر اور مجھے ہر قسم کی اطاعت کے بجا لانے کی توفیق عطا فرما جو تو نے اپنے لئے یا مخلوقات میں سے کسی کیلئے مجھ پر لازم و واجب کی ہو، اگرچہ اسے انجام دینے کی سکت میرے جسم میں نہ ہو، اور میری قوت اس کے مقابلہ میں کمزور ثابت ہو، اور میری مقدرت سے باہر ہو، اور میرا مال و اثاثہ اس کی گنجائش نہ رکھتا ہو، وہ مجھے یاد ہو یا بھول گیا ہوں، وہ تو اے میرے پروردگار! ان چیزوں میں سے ہے جنہیں تو نے میرے ذمہ شمار کیا ہے اور میں اپنی سہل انگاری کی وجہ سے اسے بجا نہ لایا، لہٰذا اپنی وسیع بخشش اور کثیر رحمت کے پیش نظر اس (کمی) کو پورا کر دے، اس لئے کہ تو تونگر و کریم ہے، تاکہ اے میرے پروردگار! جس دن میں تیری ملاقات کروں اس میں سے کوئی ایسی بات میرے ذمہ باقی نہ رہے کہ تو اس کے مقابلہ میں یہ چاہے کہ میری نیکیوں میں کمی یا میری بدیوں میں اضافہ کر دے۔ اے اللہ! رحمت نازل فرما محمدؐ اور ان کی آلؑ پر اور آخرت کے پیش نظر صرف اپنے لئے عمل کی رغبت عطا کر یہاں تک کہ میں اپنے دل میں اس کی صحت کا احساس کر لوں، اور دنیا میں زہد و بے رغبتی کا جذبہ مجھ پر غالب آجائے اور نیک کام شوق سے کروں اور خوف و ہراس کی وجہ سے برے کاموں سے محفوظ رہوں، اور مجھے ایسا نور (علم و دانش) عطا کر جس کے پرتو میں لوگوں کے درمیان(بے کھٹکے) چلوں پھروں اور اس کے ذریعہ تاریکیوں میں ہدایت پاؤں اور شکوک و شبہات کے دھندلکوں میں روشنی حاصل کروں۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور اندوہِ عذاب کا خوف اور ثواب آخرت کا شوق میرے اندر پیدا کر دے، تاکہ جس چیز کا تجھ سے طالب ہوں اس کی لذت اور جس سے پناہ مانگتا ہوں اس کی تلخی محسوس کر سکوں۔ بار الٰہا! جن چیزوں سے میرے دینی اور دنیوی امور کی بہبودی وابستہ ہے تو انہیں خوب جانتا ہے، لہٰذا میری حاجتوں کی طرف خاص توجہ فرما۔ اے اللہ! رحمت نازل فرما محمدؐ اور ان کی آلؑ پر اور خوشحالی و تنگدستی اور صحت و بیماری میں جو نعمتیں تو نے بخشی ہیں ان پر ادائے شکر میں کوتاہی کے وقت مجھے اعتراف حق کی توفیق عطا کر، تاکہ میں خوف و امن، رضا و غضب اور نفع و نقصان کے موقع پر تیرے حقوق و وظائف کے انجام دینے میں مسرت قلبی و اطمینانِ نفس محسوس کروں۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور میرے سینہ کو حسد سے پاک کر دے تاکہ میں مخلوقات میں سے کسی ایک پر اس چیز کی وجہ سے جو تو نے اسے اپنے فضل و کرم سے عطا کی ہے حسد نہ کروں، یہاں تک کہ میں تیری نعمتوں میں سے کوئی نعمت، وہ دین سے متعلق ہو یا دنیا سے، عافیت سے متعلق ہو یا تقویٰ سے، وسعت رزق سے متعلق ہو یا آسائش سے، مخلوقات میں سے کسی ایک کے پاس نہ دیکھوں مگر یہ کہ تیرے وسیلہ سے، اور تجھ سے اے خدائے یگانہ و لا شریک اس سے بہتر کی اپنے لئے آرزو کروں۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور دنیا و آخرت کے امور میں خواہ خوشنودی کی حالت ہو یا غضب کی، مجھے خطاؤں سے تحفظ اور لغزشوں سے اجتناب کی توفیق عطا فرما، یہاں تک کہ غضب و رضا کی جو حالت پیش آئے میری حالت یکساں رہے اور تیری اطاعت پر عمل پیرا رہوں، اور دوست و دشمن کے بارے میں تیری رضا اور اطاعت کو دوسری چیزوں پر مقدم کروں، یہاں تک کہ دشمن کو میرے ظلم و جور کا کوئی اندیشہ نہ رہے، اور میرے دوست کو بھی جنبہ داری اور دوستی کی رو میں بہ جانے سے مایوسی ہو جائے، اور مجھے ان لوگوں میں قرار دے جو راحت و آسائش کے زمانہ میں پورے اخلاص کے ساتھ ان مخلصین کی طرح دُعا مانگتے ہیں جو اضطرار و بیچارگی کے عالم میں دست بہ دُعا رہتے ہیں، بے شک تو قابل ستائش اور بزرگ و برتر ہے۔

  23. دعاء 23 طلب عافیت کی دعا

    23

    أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ، وَأَلْبِسْنِي عَافِيَتَكَ، وَجَلِّلْنِي عَـافِيَتَكَ، وَحَصِّنِّي بِعَـافِيَتِـكَ، وَأكْـرِمْنِي بِعَافِيَتِكَ، وَأغْنِنِي بِعَافِيَتِكَ، وَتَصَدَّقْ عَلَيَّ بِعَافِيَتِكَ، وَهَبْ لِي عَافِيَتَكَ، وَأَفْرِشْنِي عَافِيَتَكَ، وَأَصْلِحْ لِي عَافِيَتَكَ، وَلا تُفَرِّقْ بَيْنِي وَبَيْنَ عَافِيَتِكَ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ، وَعَافِنِي عَافِيَةً كَافِيَةً شَافِيَةً عَالِيَةً نَامِيةً، عَافِيَةً تُوَلِّدُ فِي بَدَنِي الْعَافِيَةَ، عَافِيَةَ الدُّنْيَا والآخِرَةِ، وَامْنُنْ عَلَيَّ بِالصِّحَّةِ وَالأمْنِ وَالسَّلاَمَةِ فِي دِيْنِي وَبَـدَنِي، وَالْبَصِيرَةِ فِي قَلْبِي وَالنَّفَاذِ فِي أمُورِيْ وَالْخَشْيَةِ لَكَ، وَالْخَوْفِ مِنْكَ وَالْقُوَّةِ عَلَى مَا أَمَرْتَنِي بِهِ مِنْ طَاعَتِكَ وَالاجْتِنَابِ لِمَـا نَهَيْتَنِي عَنْهُ مِنْ مَعْصِيَتِـكَ. أللَّهُمَّ وَامْنُنْ عَلَيَّ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، وَزِيَارَةِ قَبْرِ رَسُولِكَ صَلَوَاتُكَ عَلَيْهِ وَرَحْمَتُكَ وَبَرَكَاتُكَ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ، وَآلِ رَسُولِكَ عَلَيْهِمُ السَّلاَمُ أَبَداً مَا أَبْقَيْتَنِي، فِي عَامِي هَذَا وَفِي كُلِّ عَام، وَاجْعَلْ ذَلِكَ مَقْبُولاً مَشْكُوراً مَذْكُوراً لَدَيْكَ، مَذْخُوراً عِنْدَكَ، وَأَنْطِقْ بِحَمْدِكَ وَشُكْرِكَ وَذِكْرِكَ وَحُسْنِ الثَّناءِ عَلَيْكَ لِسَانِي، وَاشْرَحْ لِمَرَاشِدِ دِينِكَ قَلْبِي، وَأَعِذْنِي وَذُرِّيَّتِي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيم وَمِنْ شَرِّ السَّامَّةِ وَالْهَامَّةِ وَالْعَامَّةِ وَاللاَّمَّةِ وَمِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْطَان مَرِيد ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ سُلْطَان عَنِيد ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ مُتْرَف حَفِيد، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ ضَعِيف وَشَدِيد، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ شَرِيف وَوَضِيع، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ صَغِير وَكَبِير، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ قَرِيْب وَبَعِيد، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ مَنْ نَصَبَ لِرَسُولِكَ وَلأهْلِ بَيْتِهِ حَرْبَـاً مِنَ الْجِنِّ وَالإنْسِ، وَمِنْ شَرّ كُلِّ دَابَّة أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إنَّكَ عَلَى صِرَاط مُسْتَقِيم. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وآلِهِ وَمَنْ أَرَادَنِي بِسُوء فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَادْحَرْ عَنِّي مَكْرَهُ، وَادْرَأ عَنِّي شَرَّهُ، وَرُدَّ كَيْدَهُ فِي نَحْرِهِ، وَاجْعَلْ بَيْنَ يَدَيْهِ سَدّاً حَتَّى تُعْمِيَ عَنِّي بَصَرَهُ، وَتُصِمَّ عَنْ ذِكْري سَمْعَهُ، وَتُقْفِلَ دُونَ إخْطَارِي قَلْبَهُ، وَتُخْرِسَ عَنَي لِسَانَهُ، وَتَقْمَعَ رَأسَهُ، وَتُذِلَّ عِزَّهُ، وَتَكْسِرَ جَبَرُوتَهُ، وَتُذِلَّ رَقَبَتَهُ، وَتَفْسَخَ كِبْرَهُ، وَتُؤْمِنَنِي مِنْ جَمِيْعِ ضَرِّهِ وَشَرِّهِ وَغَمْزِهِ وَهَمْزِهِ وَلَمْزِهِ وَحَسَدِهِ وَعَدَاوَتِهِ وَحَبَائِلِهِ وَمَصَائِدِهِ وَرَجْلِهِ وَخَيْلِهِ إنَّكَ عَزِيز قَدِيرٌ.

    جب طلبِ عافیت کرتے اور اس پر شکر ادا کرتے تو یہ دُعا پڑھتے: اے اللہ! رحمت نازل فرما محمدؐ اور ان کی آلؑ پر اور مجھے اپنی عافیت کا لباس پہنا، اپنی عافیت کی ردا اوڑھا، اپنی عافیت کے ذریعہ محفوظ رکھ،اپنی عافیت کے ذریعہ عزت و وقار دے، اپنی عافیت کے ذریعہ بے نیاز کر دے، اپنی عافیت کی بھیک میری جھولی میں ڈال دے، اپنی عافیت مجھے مرحمت فرما، اپنی عافیت کو میرا اوڑھنا بچھونا قرار دے، اپنی عافیت کی میرے لئے اصلاح و درستی فرما، اور دنیا و آخرت میں میرے اور اپنی عافیت کے درمیان جدائی نہ ڈال۔ اے میرے معبود! رحمت نازل فرما محمدؐ اور ان کی آلؑ پر اور مجھے ایسی عافیت دے جو بے نیاز کرنے والی، شفا بخشنے والی (امراض کے دسترس سے) بالا اور روز افزوں ہو، ایسی عافیت جو میرے جسم میں دنیا و آخرت کی عافیت کو جنم دے اور صحت، امن، جسم و ایمان کی سلامتی، قلبی بصیرت، نفاذ امور کی صلاحیت، بیم و خوف کا جذبہ اور جس اطاعت کا حکم دیا ہے اس کے بجا لانے کی قوت، اور جن گناہوں سے منع کیا ہے، ان سے اجتناب کی توفیق بخش کر مجھ پر احسان فرما۔ بارالٰہا! مجھ پر یہ احسان بھی فرما کہ جب تک تو مجھے زندہ رکھے ہمیشہ اس سال بھی اور ہر سال حج و عمرہ اور قبر رسولﷺ اور قبور آل رسول علیہم السلام کی زیارت کرتا رہوں ،اور ان عبادات کو مقبول و پسندیدہ، قابل التفات اور اپنے ہاں ذخیرہ قرار دے، اور حمد و شکر و ذکر اور ثنائے جمیل کے نغموں سے میری زبان کو گویا رکھ، اور دینی ہدایتوں کیلئے میرے دل کی گرہیں کھول دے، اور مجھے اور میری اولاد کو شیطان مردود اور زہریلے جانوروں، ہلاک کرنے والے حیوانوں اور دوسرے جانوروں کے گزند، اور چشم بد سے پناہ دے، اور ہر سرکش شیطان، ہر ظالم حکمران، ہر جمع جتھے والے مغرور، ہر کمزور اور طاقتور، ہر اعلیٰ و ادنیٰ، ہر چھوٹے بڑے، اور ہر نزدیک اور دور والے، اور جن و انس میں سے تیرے پیغمبرﷺ اور ان کے اہل بیت علیہم السلام سے برسر پیکار ہونے والے، اور ہر حیوان کے شر سے جن پر تجھے تسلط حاصل ہے، محفوظ رکھ، اس لئے کہ تو حق و عدل کی راہ پر ہے۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور جو مجھ سے برائی کرنا چاہے اسے مجھ سے روگردان کر دے، اس کا مکر مجھ سے دور، اس کا اثر مجھ سے دفع کر دے، اور اس کے مکر و فریب (کے تیر) اسی کے سینے کی طرف پلٹا دے، اور اس کے سامنے ایک دیوار کھڑی کر دے، یہاں تک کہ اس کی آنکھوں کو مجھے دیکھنے سے نابینا اور اس کے کانوں کو میرا ذکر سننے سے بہرا کر دے، اور اس کے دل پر قفل چڑھا دے، تاکہ میرا اسے خیال نہ آئے، اور میرے بارے میں کچھ کہنے سننے سے اس کی زبان کو گنگ کر دے، اس کا سر کچل دے، اس کی عزت پامال کر دے، اس کی تمکنت کو توڑ دے، اس کی گردن میں ذلت کا طوق ڈال دے، اس کا تکبر ختم کر دے، اور مجھے اس کی ضرر رسانی، شر پسندی، طعنہ زنی، غیبت، عیب جوئی، حسد، دشمنی اور اس کے پھندوں، ہتھکنڈوں، پیادوں اور سواروں سے اپنے حفظ و امان میں رکھ، یقیناً تو غلبہ و اقتدار کا مالک ہے۔

  24. دعاء 24 والدین کے حق میں دعا

    24

    أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد عَبْـدِكَ وَرَسُولِـكَ وَأَهْلِ بَيْتِهِ الطَّاهِرِينَ، وَاخْصُصْهُمْ بِأَفْضَلِ صَلَوَاتِكَ وَرَحْمَتِكَ وَبَرَكَاتِكَ وَسَلاَمِكَ، وَاخْصُصِ اللَّهُمَّ وَالِدَيَّ بِالْكَرَامَةِ لَدَيْكَ، وَالصَّلاَةِ مِنْكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَأَلْهِمْنِي عِلْمَ مَا يَجبُ لَهُمَا عَلَىَّ إلْهَاماً، وَاجْمَعْ لِي عِلْمَ ذلِكَ كُلِّهِ تَمَامـاً، ثُمَّ اسْتَعْمِلْنِي بِمَا تُلْهِمُنِي مِنْـهُ، وَوَفِّقْنِي لِلنُّفُوذِ فِيمَا تُبَصِّـرُنِيْ مِنْ عِلْمِهِ، حَتَّى لاَ يَفُوتَنِي اسْتِعْمَالُ شَيْء عَلَّمْتَنِيْهِ، وَلاَ تَثْقُلَ أَرْكَانِي عَنِ الْحُفُوفِ فِيمَا أَلْهَمْتَنِيهِ. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ كَمَا شَرَّفْتَنَا بِهِ وَصَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ كَمَا أَوْجَبْتَ لَنَا الْحَقَّ عَلَى الْخَلْقِ بِسَبَبِهِ. أللَّهُمَّ اجْعَلْنِي أَهَابُهُمَا هَيْبَةَ السُّلْطَانِ الْعَسُوفِ، وَأَبَرُّهُمَا بِرَّ الأُمِّ الرَّؤُوفِ، وَاجْعَلْ طَاعَتِي لِوَالِدَيَّ وَبِرِّيْ بِهِمَا أَقَرَّ لِعَيْنِي مِنْ رَقْدَةِ الْوَسْنَانِ، وَأَثْلَجَ لِصَدْرِي مِنْ شَرْبَةِ الظَّمْآنِ حَتَّى أوثِرَ عَلَى هَوَايَ هَوَاهُمَا وَأُقَدِّمَ عَلَى رِضَاىَ رِضَاهُمَا وَأَسْتَكْثِرَ بِرَّهُمَا بِي وَإنْ قَلَّ وَأَسْتَقِلَّ بِرِّي بِهِمَا وَإنْ كَثُرَ. أللَّهُمَّ خَفِّضْ لَهُمَا صَوْتِي، وَأَطِبْ لَهُمَا كَلاَمِي، وَأَلِنْ لَهُمَا عَرِيْكَتِي، وَاعْطِفْ عَلَيْهِمَا قَلْبِي، وَصَيِّرْنِي بِهِمَا رَفِيقاً، وَعَلَيْهِمَا شَفِيقاً. أللَّهُمَّ اشْكُرْ لَهُمَا تَرْبِيَتِي وَأَثِبْهُمَا عَلَى تَكْرِمَتِي، وَاحْفَظْ لَهُمَا مَا حَفِظَاهُ مِنِّي فِي صِغَرِي. اللَّهُمَّ وَمَا مَسَّهُمَا مِنِّي مِنْ أَذَىً أَوْ خَلَصَ إلَيْهِمَا عَنِّي مِنْ مَكْرُوه أَوْ ضَاعَ قِبَلِي لَهُمَا مِنْ حَقٍّ فَاجْعَلْهُ حِطَّةً لِذُنُوبِهِمَا وَعُلُوّاً فِي دَرَجَاتِهِمَا وَزِيَادَةً فِي حَسَنَاتِهِمَا يَا مُبَدِّلَ السَّيِّئاتِ بِأَضْعَافِهَا مِنَ الْحَسَنَاتِ. أللَّهُمَّ وَمَا تَعَدَّيَا عَلَيَّ فِيهِ مِنْ قَوْل، أَوْ أَسْرَفَا عَلَىَّ فِيْهِ مِنْ فِعْل، أَوْ ضَيَّعَاهُ لِي مِنْ حَقٍّ أَوْ قَصَّرا بِي عَنْهُ مِنْ وَاجِب فَقَدْ وَهَبْتُهُ وَجُدْتُ بِهِ عَلَيْهِمَا، وَرَغِبْتُ إلَيْكَ فِي وَضْعِ تَبِعَتِهِ عَنْهُمَا فَإنِّي لا أَتَّهِمُهُمَا عَلَى نَفْسِي، وَلاَ أَسْتَبْطِئُهُمَا فِي بِرِّي، وَلا أكْرَهُ مَا تَوَلَّياهُ مِنْ أَمْرِي يَا رَبِّ فَهُمَا أَوْجَبُ حَقّاً عَلَيَّ، وَأَقْدَمُ إحْسَانـاً إلَيَّ وَأَعْظَمُ مِنَّةً لَـدَيَّ مِنْ أَنْ أقَاصَّهُمَا بِعَدْل، أَوْ أُجَازِيَهُمَا عَلَى مِثْل، أَيْنَ إذاً يَا إلهِيْ طُولُ شُغْلِهِمَا بِتَرْبِيَتِي ؟ وَأَيْنَ شِدَّةُ تَعَبِهِمَا فِي حِرَاسَتِيْ ؟ وَأَيْنَ إقْتَارُهُمَا عَلَى أَنْفُسِهِمَا لِلتَّوْسِعَةِ عَلَيَّ؟ هَيْهَاتَ مَا يَسْتَوْفِيَانِ مِنِّي حَقَّهُمَا، وَلاَ اُدْرِكُ مَا يَجِبُ عَلَيَّ لَهُمَا وَلا أَنَا بِقَاض وَظِيفَةَ خِدْمَتِهِمَا. فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَأَعِنِّي يَا خَيْرَ مَنِ اسْتُعِينَ بِهِ. وَوَفِّقْنِي يَا أَهْدَى مَنْ رُغِبَ إلَيْهِ، وَلاَ تَجْعَلْنِي فِي أَهْلِ الْعُقُوقِ لِلآباءِوَالأُمَّهاتِ يَوْمَ تُجْزى كُلُّ نَفْس بِمَا كَسَبَتْ وَهُمْ لاَيُظْلَمُونَ. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِـهِ وَذُرِّيَّتِهِ، وَاخْصُصْ أَبَوَيَّ بِأَفْضَلِ مَا خَصَصْتَ بِهِ آبَاءَ عِبَادِكَ الْمُؤْمِنِينَ وَاُمَّهَاتِهِمْ يَا أَرْحَمَ الـرَّاحِمِينَ. أللَّهُمَّ لاَ تُنْسِنِي ذِكْرَهُمَا فِي أَدْبَارِ صَلَوَاتِي وَفِي أَناً مِنْ آناءِ لَيْلِي، وَفِي كُلِّ سَاعَة مِنْ سَاعَاتِ نَهَارِي. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَاغْفِرْ لِي بِدُعَائِي لَهُمَا، وَاغْفِرْ لَهُمَـا بِبِرِّهِمَـا بِي، مَغْفِرَةً حَتْمـاً وَارْضَ عَنْهُمَا بِشَفَاعَتِي لَهُمَا رِضَىً عَزْماً، وَبَلِّغْهُمَا بِالْكَرَامَةِ مَوَاطِنَ السَّلاَمَةِ. أللَّهُمَّ وَإنْ سَبَقَتْ مَغْفِرَتُكَ لَهُمَا فَشَفِّعْهُمَا فِيَّ، وَإنْ سَبَقَتْ مَغْفِرَتُـكَ لِي فَشَفِّعْنِي فِيْهِمَا، حَتّى نَجْتَمِعَ بِرَأفَتِكَ فِي دَارِ كَرَامَتِكَ وَمَحَلِّ مَغْفِرَتِكَ وَرَحْمَتِكَ، إنَّكَ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ وَالْمَنِّ الْقَدِيْمِ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ .

    اپنے والدین کے حق میں حضرتؑ کی دُعا: اے اللہ! اپنے عبد خاص اور رسول محمدﷺ اور ان کے پاک و پاکیزہ اہل بیت علیہم السلام پر رحمت نازل فرما، اور انہیں بہترین رحمت و برکت اور درود و سلام کے ساتھ خصوصی امتیاز بخش، اور اے معبود! میرے ماں باپ کو بھی اپنے نزدیک عزت و کرامت اور اپنی رحمت سے مخصوص فرما، اے سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والے۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور ان کے جو حقوق مجھ پر واجب ہیں ان کا علم بذریعہ الہام عطا کر، اور ان تمام واجبات کا علم بے کم و کاست میرے لئے مہیا فرما دے، پھر جو مجھے بذریعہ الہام بتائے اس پر کاربند رکھ، اور اس سلسلہ میں جو بصیرت علمی عطا کرے اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق دے، تاکہ ان باتوں میں سے جو تو نے مجھے تعلیم کی ہیں کوئی بات عمل میں آئے بغیر نہ رہ جائے، اور اس خدمت گزاری سے جو تو نے مجھے بتلائی ہے میرے ہاتھ پیر تھکن محسوس نہ کریں۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما کیونکہ تو نے ان کی طرف انتساب سے ہمیں شرف بخشا ہے، محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما کیونکہ تو نے ان کی وجہ سے ہمارا حق مخلوقات پر قائم کیا ہے۔ اے اللہ! مجھے ایسا بنا دے کہ میں ان دونوں سے اس طرح ڈروں جس طرح کسی جابر بادشاہ سے ڈرا جاتا ہے، اور اس طرح ان کے حال پر شفیق و مہربان رہوں جس طرح شفیق ماں (اپنی اولاد پر) شفقت کرتی ہے، اور ان کی فرمانبرداری اور ان سے حسن سلوک کے ساتھ پیش آنے کو میری آنکھوں کیلئے اس سے زیادہ کیف افزا قرار دے جتنا چشم خواب آلود میں نیند کا خمار، اور میرے قلب و روح کیلئے اس سے بڑھ کر مسرت انگیز قرار دے جتنا پیاسے کیلئے جرعۂ آب، تاکہ میں اپنی خواہش پر ان کی خواہش کو ترجیح دوں، اور اپنی خوشی پر ان کی خوشی کو مقدم رکھوں، اور ان کے تھوڑے احسان کو بھی جو مجھ پر کریں زیادہ سمجھوں، اور میں جو نیکی ان کے ساتھ کروں وہ زیادہ بھی ہو تو اسے کم تصور کروں۔ اے اللہ! میری آواز کو ان کے سامنے آہستہ، میرے کلام کو ان کیلئے خوشگوار، میری طبیعت کو نرم اور میرے دل کو مہربان بنا دے اور مجھے ان کے ساتھ نرمی و شفقت سے پیش آنے والا قرار دے۔ اے اللہ! انہیں میری پرورش کی جزائے خیر دے، اور میری حسن نگہداشت پر اجر و ثواب عطا کر، اور کم سنی میں میری خبر گیری کا انہیں صلہ دے۔ اے اللہ! انہیں میری طرف سے کوئی تکلیف پہنچی ہو، یا میری جانب سے کوئی ناگوار صورت پیش آئی ہو، یا ان کی حق تلفی ہوئی ہو تو اسے ان کے گناہوں کا کفارہ، درجات کی بلندی اور نیکیوں میں اضافہ کا سبب قرار دے،اے برائیوں کو کئی گنا نیکیوں سے بدل دینے والے۔ بارالٰہا! اگر انہوں نے میرے ساتھ گفتگو میں سختی، یا کسی کام میں زیادتی، یا میرے کسی حق میں فرو گذاشت، یا اپنے فرض منصبی میں کوتاہی کی ہو تو میں ان کو بخشتا ہوں اور اسے نیکی و احسان کا وسیلہ قرار دیتا ہوں، اور پالنے والے! تجھ سے خواہش کرتا ہوں کہ اس کا مؤاخذہ ان سے نہ کرنا، اس لئے کہ میں اپنی نسبت ان سے کوئی بدگمانی نہیں رکھتا، اور نہ تربیت کے سلسلہ میں انہیں سہل انگار سمجھتا ہوں، اور نہ ان کی دیکھ بھال کو ناپسند کرتا ہوں، اس لئے کہ ان کے حقوق مجھ پر لازم و واجب، ان کے احسانات دیرینہ اور ان کے انعامات عظیم ہیں، وہ اس سے بالاتر ہیں کہ میں ان کو برابر کا بدلہ یا ویسا ہی عوض دے سکوں، اگر ایسا کر سکوں تو اے میرے معبود! وہ ان کا ہمہ وقت میری تربیت میں مشغول رہنا، میری خبر گیری میں رنج و تعب اٹھانا، اور خود عسرت و تنگی میں رہ کر میری آسودگی کا سامان کرنا کہاں جائے گا، بھلا کہاں ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے حقوق کا صلہ مجھ سے پا سکیں، اور نہ میں خود ہی ان کے حقوق سے سبکدوش ہو سکتا ہوں، اور نہ ان کی خدمت کا فریضہ انجام دے سکتا ہوں، رحمت نازل فرما محمدؐ اور ان کی آلؑ پر اور میری مدد فرما اے بہتر ان سب سے جن سے مدد مانگی جاتی ہے، اور مجھے توفیق دے اے زیادہ رہنمائی کرنے والے ان سب سے جن کی طرف (ہدایت کیلئے) توجہ کی جاتی ہے، اور مجھے اس دن جبکہ ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا اور کسی پر زیادتی نہ ہو گی، ان لوگوں میں سے قرار نہ دینا جو ماں باپ کے عاق و نافرمان بردار ہوں۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ و اولاد پر رحمت نازل فرما اور میرے ماں باپ کو اس سے بڑھ کر امتیاز دے جو مومن بندوں کے ماں باپ کو تو نے بخشا ہے، اے سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والے۔ اے اللہ! ان کی یاد کو نمازوں کے بعد رات کی ساعتوں اور دن کے تمام لمحوں میں کسی وقت فراموش نہ ہونے دے۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور مجھے ان کے حق میں دُعا کرنے کی وجہ سے، اور انہیں میرے ساتھ نیکی کرنے کی وجہ سے لازمی طور پر بخش دے، اور میری سفارش کی وجہ سے ان سے قطعی طور پر راضی و خوشنود ہو، اور انہیں عزّت و آبرو کے ساتھ سلامتی کی منزلوں تک پہنچا دے۔ اے اللہ! اگر تو نے انہیں مجھ سے پہلے بخش دیا تو انہیں میرا شفیع بنا، اور اگر مجھے پہلے بخش دیا تو مجھے ان کا شفیع قرار دے، تاکہ ہم سب تیرے لطف و کرم کی بدولت تیرے بزرگی کے گھر اور بخشش و رحمت کی منزل میں ایک ساتھ جمع ہو سکیں، یقیناً تو بڑے فضل والا، قدیم احسان والا اور سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔

  25. دعاء 25 اولاد کے حق میں حضرت کی دعا

    25

    أللَّهُمَّ وَمُنَّ عَلَيَّ بِبَقَاءِ وُلْدِي، وَبِإصْلاَحِهِمْ لِي، وَبِإمْتَاعِي بِهِمْ. إلهِي أمْدُدْ لِي فِي أَعْمَارِهِمْ، وَزِدْ لِي فِي آجَالِهِمْ، وَرَبِّ لِي صَغِيرَهُمْ وَقَوِّ لِي ضَعِيْفَهُمْ، وَأَصِحَّ لِي أَبْدَانَهُمْ وَأَدْيَانَهُمْ وَأَخْلاَقَهُمْ ، وَعَافِهِمْ فِي أَنْفُسِهِمْ وَفِي جَوَارِحِهِمْ وَفِي كُلِّ مَا عُنِيْتُ بِهِ مِنْ أَمْرِهِمْ، وَأَدْرِرْ لِي وَعَلَى يَـدِي أَرْزَاقَهُمْ، وَاجْعَلْهُمْ أَبْرَاراً أَتْقِيَاءَ بُصَراءَ سَامِعِينَ مُطِيعِينَ لَكَ وَلأوْلِيَائِكَ مُحِبِّينَ مُنَاصِحِينَ، وَلِجَمِيْعِ أَعْدَآئِكَ مُعَانِدِينَ وَمُبْغِضِينَ آمِينَ. أللَّهُمَّ اشْدُدْ بِهِمْ عَضُدِي، وَأَقِمْ بِهِمْ أَوَدِيْ، وَكَثِّرْ بِهِمْ عَدَدِي، وَزَيِّنْ بِهِمْ مَحْضَرِي، وَأَحْييِ بِهِمْ ذِكْرِي، وَاكْفِنِي بِهِمْ فِي غَيْبَتِي وَأَعِنِّي بِهِمْ عَلَى حَاجَتِي، وَاجْعَلْهُمْ لِي مُحِبِّينَ، وَعَلَيَّ حَدِبِينَ مُقْبِلِينَ مُسْتَقِيمِينَ لِيْ، مُطِيعِينَ غَيْرَ عَاصِينَ وَلاَ عَاقِّينَ وَلا مُخَالِفِينَ وَلاَ خـاطِئِينَ، وَأَعِنِّي عَلَى تَرْبِيَتِهِمْ وَتَأدِيْبِهِمْ وَبِرِّهِمْ، وَهَبْ لِيْ مِنْ لَدُنْكَ مَعَهُمْ أَوْلاداً ذُكُوراً ، وَاجْعَلْ ذَلِكَ خَيْراً لي وَاجْعَلْهُمْ لِي عَوناً عَلَى مَا سَأَلْتُكَ، وَأَعِذْنِي وَذُرِّيَّتِي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، فَإنَّكَ خَلَقْتَنَا وَأَمَرْتَنَا وَنَهَيْتَنَا وَرَغّبْتَنَا فِي ثَوَابِ ما أَمَرْتَنَا وَرَهَّبْتَنَا عِقَابَهُ، وَجَعَلْتَ لَنَا عَدُوّاً يَكِيدُنَا، سَلَّطْتَهُ مِنَّا عَلَى مَا لَمْ تُسَلِّطْنَا عَلَيْهِ مِنْهُ، أَسْكَنْتَهُ صُدُورَنَا، وَأَجْرَيْتَهُ مَجَارِيَ دِمَائِنَا، لاَ يَغْفُلُ إنْ غَفَلْنَا، وَلاَ يَنْسَى إنْ نَسِينَا، يُؤْمِنُنَا عِقَابَكَ، وَيَخَوِّفُنَا بِغَيْرِكَ، إنْ هَمَمْنَا بِفَاحِشَة شَجَّعَنَا عَلَيْهَا، وَإنْ هَمَمْنَا بِعَمَل صَالِح ثَبَّطَنَا عَنْهُ، يَتَعَرَّضُ لَنَا بِالشَّهَوَاتِ، وَيَنْصِبُ لَنَا بِالشَّبُهَاتِ، إنْ وَعَدَنَا كَذَبَنَا وَإنْ مَنَّانا، أَخْلَفَنَا وَإلاّ تَصْرِفْ عَنَّا كَيْدَهُ يُضِلَّنَا، وَإلاّ تَقِنَا خَبالَهُ يَسْتَزِلَّنَا. أللَّهُمَّ فَاقْهَرْ سُلْطَانَهُ عَنَّا بِسُلْطَانِكَ حَتَّى تَحْبِسَهُ عَنَّا بِكَثْرَةِ الدُّعَاءِ لَكَ، فَنُصْبحَ مِنْ كَيْدِهِ فِي الْمَعْصُومِينَ بِكَ. أللَّهُمَّ أَعْطِنِي كُلَّ سُؤْلِي، وَاقْضِ لِي حَوَائِجِي، وَلاَ تَمْنَعْنِي الإجَابَةَ وَقَدْ ضَمِنْتَهَا لِي، وَلا تَحْجُبْ دُعَائِي عَنْكَ وَقَدْ أَمَرْتَنِي بِهِ، وَامْنُنْ عَلَيَّ بِكُلِّ مَا يُصْلِحُنِيْ فِيْ دُنْيَايَ وَآخِرَتِي مَا ذَكَرْتُ مِنْهُ وَمَـا نَسِيتُ، أَوْ أَظْهَـرتُ أَوْ أَخْفَيْتُ، أَوْ أَعْلَنْتُ أَوْ أَسْرَرْتُ، وَاجْعَلْنِي فِي جَمِيعِ ذلِكَ مِنَ الْمُصْلِحِينَ بِسُؤَالِي إيَّـاكَ، الْمُنْجِحِينَ بِالـطَّلَبِ إلَيْـكَ، غَيْـرِ الْمَمْنُوعِينَ بِالتَّوَكُّلِ عَلَيْكَ، الْمُعَوَّدِينَ بِالتَّعَوُّذِ بِكَ، الرَّابِحِينَ فِي التِّجَارَةِ عَلَيْـكَ، الْمُجَارِيْنَ بِعِـزِّكَ، الْمُـوَسَّـعِ عَلَيْهِمُ الـرِّزْقُ الْحَـلاَلُ مِنْ فَضْلِكَ الْوَاسِعِ بِجُودِكَ وَكَرَمِكَ، الْمُعَزِّينَ مِنَ الذُّلِّ بِكَ، وَالْمُجَارِينَ مِن الظُّلْمِ بِعَدْلِكَ، وَالْمُعَافَيْنَ مِنَ الْبَلاءِ بِرَحْمَتِكَ، وَالْمُغْنَيْنَ مِنَ الْفَقْرِ بِغِنَاكَ، وَالْمَعْصومِينَ مِنَ الذُّنُوبِ وَالزَّلَلِ وَالْخَطَأِ بِتَقْوَاكَ، وَالْمُوَفَّقِينَ لِلْخَيْرِ وَالرُّشْدِ وَالصَّوَابِ بِطَاعَتِكَ، وَالْمُحَالِ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الذُّنُوبِ بِقُدْرَتِكَ، التَّـارِكِينَ لِكُلِّ مَعْصِيَتِكَ، السَّاكِنِينَ فِي جِوَارِكَ. أللَّهُمَّ أَعْطِنَا جَمِيعَ ذلِكَ بِتَوْفِيقِكَ وَرَحْمَتِكَ وَأَعِذْنَا مِنْ عَذَابِ السَّعِيرِ، وَأَعْطِ جَمِيعَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَـاتِ وَالْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ مِثْلَ الَّذِي سَأَلْتُكَ لِنَفْسِي وَلِوُلْدِي فِي عَاجِلِ الدُّنْيَا وَآجِلِ الآخِرَةِ، إنَّكَ قَرِيبٌ مُجِيبٌ سَمِيعٌ عَلِيمٌ عَفُوٌّ غَفُـورٌ رَؤُوفٌ رَحِيمٌ. وَآتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ.

    اولاد کے حق میں حضرتؑ کی دُعا: اے میرے معبود! میری اولاد کی بقا اور ان کی اصلاح اور ان سے بہرہ مندی کے سامان مہیا کر کے مجھے ممنون احسان فرما۔ (اے میرے معبود!) میرے سہارے کیلئے ان کی عمروں میں برکت اور زندگیوں میں طول دے، اور ان میں سے چھوٹوں کی پرورش فرما، اور کمزوروں کو توانائی دے، اور ان کی جسمانی، ایمانی اور اخلاقی حالت کو درست فرما، اور ان کے جسم و جان اور ان کے دوسرے معاملات میں جن میں مجھے اہتمام کرنا پڑے انہیں عافیت سے ہمکنار رکھ، اور میرے لئے اور میرے ذریعہ ان کیلئے رزق فراواں جاری کر، اور انہیں نیکوکار، پرہیزگار، روشن دل، حق نیوش اور اپنا فرمانبردار، اور اپنے دوستوں کا دوست و خیر خواہ، اور اپنے تمام دشمنوں کا دشمن و بدخواہ قرار دے، آمین! اے اللہ! ان کے ذریعہ میرے بازؤوں کو قوی، اور میری پریشان حالی کی اصلاح، اور ان کی وجہ سے میری جمعیت میں اضافہ، اور میری مجلس کی رونق دوبالا فرما، اور ان کی بدولت میرا نام زندہ رکھ، اور میری عدم موجودگی میں انہیں میرا قائم مقام قرار دے، اور ان کے وسیلہ سے میری حاجتوں میں میری مدد فرما، اور انہیں میرے لئے دوست، مہربان، ہمہ تن متوجہ ،ثابت قدم اور فرمانبردار قرار دے، وہ نافرمان، سرکش، مخالف و خطاکار نہ ہوں، اور ان کی تربیت و تادیب اور ان سے اچھے برتاؤ میں میری مدد فرما، اور ان کے علاوہ بھی مجھے اپنے خزانۂ رحمت سے نرینہ اولاد عطا کر، اور انہیں میرے لئے سراپا خیر و برکت قرار دے، اور انہیں ان چیزوں میں جن کا میں طلبگار ہوں میرا مدد گار بنا۔ اور مجھے اور میری ذریت کو شیطان مردود سے پناہ دے، اس لئے کہ تو نے ہمیں پیدا کیا اور امر و نہی کی، اور جو حکم دیا اس کے ثواب کی طرف راغب کیا، اور جس سے منع کیا اس کے عذاب سے ڈرایا، اور ہمارا ایک دشمن بنایا جو ہم سے مکر کرتا ہے اور جتنا ہماری چیزوں پر اسے تسلط دیا ہے، اتنا ہمیں اس کی کسی چیز پر تسلط نہیں دیا، اس طرح کہ اسے ہمارے سینوں میں ٹھہرا دیا، اور ہمارے رگ و پے میں دوڑا دیا، ہم غافل ہو جائیں مگر وہ غافل نہیں ہوتا، ہم بھول جائیں مگر وہ نہیں بھولتا، وہ ہمیں تیرے عذاب سے مطمئن کرتا اور تیرے علاوہ دوسروں سے ڈراتا ہے۔ اگر ہم کسی برائی کا ارادہ کرتے ہیں تو وہ ہماری ہمت بندھاتا ہے، اور اگر کسی عمل خیر کا ارادہ کرتے ہیں تو ہمیں اس سے باز رکھتا ہے، اور گناہوں کی دعوت دیتا اور ہمارے سامنے شبہے کھڑے کر دیتا ہے، اگر وعدہ کرتا ہے تو جھوٹا، اور امید دلاتا ہے تو خلاف ورزی کرتا ہے، اگر تو اس کے مکر کو نہ ہٹائے تو وہ ہمیں گمراہ کر کے چھوڑے گا، اور اس کے فتنوں سے نہ بچائے تو وہ ہمیں ڈگما دے گا۔ خدایا! اس (لعین) کے تسلط کو اپنی قوت و توانائی کے ذریعہ ہم سے دفع کر دے تاکہ کثرت دُعا کے وسیلہ سے اسے ہماری راہ ہی سے ہٹا دے، اور ہم اس کی مکاریوں سے محفوظ ہو جائیں۔ اے اللہ! میری ہر درخواست کو قبول فرما، اور میری حاجتیں برلا، اور جبکہ تو نے استجابتِ دُعا کا ذمہ لیا ہے تو میری دُعا کو رد نہ کر، اور جبکہ تو نے مجھے دُعا کا حکم دیا ہے تو میری دُعا کو اپنی بارگاہ سے روک نہ دے، اور جن چیزوں سے میرا دینی و دنیوی مفاد وابستہ ہے ان کی تکمیل سے مجھ پر احسان فرما، جو یاد ہوں اور جو بھول گیا ہوں، ظاہر کی ہوں، یا پوشیدہ رہنے دی ہوں، علانیہ طلب کی ہوں یا در پردہ، ان تمام صورتوں میں اس وجہ سے کہ تجھ سے سوال کیا ہے (نیت و عمل کی) اصلاح کرنے والوں، اور اس بنا پر کہ تجھ سے طلب کیا ہے کامیاب ہونے والوں، اور اس سبب سے کہ تجھ پر بھروسا کیا ہے غیر مسترد ہونے والوں میں سے قرار دے، اور (ان لوگوں میں شمار کر) جو تیرے دامن میں پناہ لینے کے خوگر، تجھ سے بیوپار میں فائدہ اٹھانے والے، اور تیرے دامن عزت میں پناہ گزیں ہیں، جنہیں تیرے ہمہ گیر فضل اور جود و کرم سے رزق حلال میں فراوانی حاصل ہوئی ہے، اور تیری وجہ سے ذلت سے عزت تک پہنچے ہیں، اور تیرے عدل و انصاف کے دامن میں ظلم سے پناہ لی ہے، اور رحمت کے ذریعہ بلا و مصیبت سے محفوظ ہیں، اور تیری بے نیازی کی وجہ سے فقیر سے غنی ہو چکے ہیں، اور تیرے تقویٰ کی وجہ سے گناہوں، لغزشوں اور خطاؤں سے معصوم ہیں، اور تیری اطاعت کی وجہ سے خیر و رشد و صواب کی توفیق انہیں حاصل ہے، اور تیری قدرت سے ان کے اور گناہوں کے درمیان پردہ حائل ہے، اور جو تمام گناہوں سے دست بردار اور تیرے جوارِ رحمت میں مقیم ہیں۔ بارالٰہا! اپنی توفیق و رحمت سے یہ تمام چیزیں ہمیں عطا فرما، اور دوزخ کے آزار سے پناہ دے، اور جن چیزوں کا میں نے اپنے لئے اور اپنی اولاد کیلئے سوال کیا ہے ایسی ہی چیزیں تمام مسلمین و مسلمات اور مؤمنین و مومنات کو دنیا و آخرت میں مرحمت فرما، اس لئے کہ تُو نزدیک اور دُعا کا قبول کرنے والا ہے، سننے والا اور جاننے والا ہے، معاف کرنے والا اور بخشنے والا اور شفیق و مہربان ہے، اور ہمیں دُنیا میں نیکی (توفیق عبادت) اور آخرت میں نیکی (بہشت جاوید) عطا کر، اور دوزخ کے عذاب سے بچائے رکھ۔ --٭٭-- دُعا (۲۶) جب ہمسایوں اور دوستوں کو یاد کرتے تو ان کیلئے یہ دُعا فرماتے: اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور میری اس سلسلہ میں بہترین نصرت فرما کہ میں اپنے ہمسایوں اور ان دوستوں کے حقوق کا لحاظ رکھوں جو ہمارے حق کے پہنچاننے والے اور ہمارے دشمنوں کے مخالف ہیں، اور انہیں اپنے طریقوں کے قائم کرنے، اور عمدہ اخلاق و آداب سے آراستہ ہونے کی توفیق دے، اس طرح کہ وہ کمزوروں کے ساتھ نرم رویہ رکھیں، اور ان کے فقر کا مداوا کریں، مریضوں کی بیمار پرسی، طالبان ہدایت کی ہدایت، مشورہ کرنے والوں کی خیر خواہی اور تازہ وارد کی ملاقات کریں، رازوں کو چھپائیں، عیبوں پر پردہ ڈالیں، مظلوم کی نصرت اور گھریلو ضروریات کے ذریعہ حسن مواسات کریں، اور بخشش و انعام سے فائدہ پہنچائیں، اور سوال سے پہلے ان کے ضروریات مہیا کریں۔ اے اللہ! مجھے ایسا بنا کہ میں ان میں سے برے کے ساتھ بھلائی سے پیش آؤں، اور ظالم سے چشم پوشی کر کے درگزر کروں، اور ان سب کے بارے میں حسن ظن سے کام لوں، اور نیکی و احسان کے ساتھ سب کی خبر گیری کروں، اور پرہیز گاری و عفت کی بنا پر ان (کے عیوب) سے آنکھیں بند رکھوں، تواضع و فروتنی کی رو سے ان سے نرم رویہ اختیار کروں، اور شفقت کی بنا پر مصیبت زدہ کی دلجوئی کروں، ان کی غیبت میں بھی ان کی محبت کو دل میں لئے رہوں، اور خلوص کی بنا پر ان کے پاس سدا نعمتوں کا رہنا پسند کروں، اور جو چیزیں اپنے خاص قریبیوں کیلئے ضروری سمجھوں ان کیلئے بھی ضروری سمجھوں، اور جو مراعات اپنے مخصوصین سے کروں وہی مراعات ان سے بھی کروں۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور مجھے بھی ان سے ویسے ہی سلوک کا روادار قرار دے، اور جو چیزیں ان کے پاس ہیں ان میں میرا حصہ وافر قرار دے، اور انہیں میرے حق کی بصیرت اور میرے فضل و برتری کی معرفت میں افزائش و ترقی دے، تاکہ وہ میری وجہ سے سعادت مند اور میں ان کی وجہ سے مثاب و ماجور قرار پاؤں، آمین، اے تمام جہاں کے پروردگار۔

  26. دعاء 26 جب ہمسایوں اور دوستوں کو یاد کرتے تو ان کے لیے یہ دعا فرماتے

    26

    أللَّهُمَّ صَـلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِـهِ وَتَـوَلَّنِي فِي جيرَانِي وَمَوَالِيَّ وَالْعَارِفِينَ بحَقِّنَا وَالْمُنَابِذِينَ لأِعْدَائِنَا بِأَفْضَلِ وَلاَيَتِكَ، وَوَفِّقْهُمْ لإقَامَةِ سُنَّتِكَ وَالأَخْذِ بِمَحَاسِنِ أَدَبِكَ فِي إرْفَاقِ ضَعِيفِهِمْ، وَسَدِّ خَلَّتِهِمْ، وَعِيَادَةِ مَرِيضِهِمْ، وَهِدَايَةِ مُسْتَرْشِدِهِمْ، وَمُنَاصَحَةِ مُسْتَشِيرِهِمْ، وَتَعَهُّدِ قَادِمِهِمْ، وَكِتْمَانِ أَسْرَارِهِمْ، وَسَتْرِ عَوْرَاتِهِمْ، وَنُصْرَةِ مَظْلُومِهِمْ، وَحُسْنِ مُوَاسَاتِهِمْ بِالْمَاعُونِ، وَالْعَوْدِ عَلَيْهِمْ بِـالْجِـدَةِ وَالإِفْضَـالِ، وَإعْطَآءِ مَـا يَجِبُ لَهُمْ قَبْلَ السُّؤالِ واجْعَلْنِي اللَّهُمَّ أَجْزِي بِالإحْسَانِ مُسِيْئَهُمْ، وَاعْرِضُ بِالتَّجَاوُزِ عَنْ ظَالِمِهِمْ، وَأَسْتَعْمِلْ حُسْنَ الظّنِّ فِي كَافَّتِهِمْ، وَأَتَوَلَّى بِالْبِرِّ عَامَّتَهُمْ، وَأَغُضُّ بَصَرِي عَنْهُمْ عِفَّةً، وَألِينُ جَانِبِيْ لَهُمْ تَوَاضُعاً، وَأَرِقُّ عَلَى أَهْلِ الْبَلاءِ مِنْهُمْ رَحْمَةً، وَأسِرُّ لَهُمْ بِالْغَيْبِ مَوَدَّةً، وَأُحِبُّ بَقَاءَ النِّعْمَةِ عِنْدَهُمْ نُصْحاً، وَاُوجِبُ لَهُمْ مَا اُوجِبُ لِحَامَّتِي، وَأَرْعَى لَهُمْ مَا أَرْعَى لِخَاصَّتِي. أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمِّد وَآلِهِ ، وَارْزُقْنِي مِثْلَ ذَلِكَ مِنْهُمْ، وَاجْعَلْ لِي أَوْفَى الْحُظُوظِ فِيمَا عِنْدَهُمْ ، وَزِدْهُمْ بَصِيْرَةً فِي حَقِّي، وَمَعْرِفَةً بِفَضْلِي، حَتَّى يَسْعَدُوا بِي وَأَسْعَدَ بِهِمْ آمِينَ رَبَّ الْعَالَمِينَ.

    جب ہمسایوں اور دوستوں کو یاد کرتے تو ان کیلئے یہ دُعا فرماتے: اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور میری اس سلسلہ میں بہترین نصرت فرما کہ میں اپنے ہمسایوں اور ان دوستوں کے حقوق کا لحاظ رکھوں جو ہمارے حق کے پہنچاننے والے اور ہمارے دشمنوں کے مخالف ہیں، اور انہیں اپنے طریقوں کے قائم کرنے، اور عمدہ اخلاق و آداب سے آراستہ ہونے کی توفیق دے، اس طرح کہ وہ کمزوروں کے ساتھ نرم رویہ رکھیں، اور ان کے فقر کا مداوا کریں، مریضوں کی بیمار پرسی، طالبان ہدایت کی ہدایت، مشورہ کرنے والوں کی خیر خواہی اور تازہ وارد کی ملاقات کریں، رازوں کو چھپائیں، عیبوں پر پردہ ڈالیں، مظلوم کی نصرت اور گھریلو ضروریات کے ذریعہ حسن مواسات کریں، اور بخشش و انعام سے فائدہ پہنچائیں، اور سوال سے پہلے ان کے ضروریات مہیا کریں۔ اے اللہ! مجھے ایسا بنا کہ میں ان میں سے برے کے ساتھ بھلائی سے پیش آؤں، اور ظالم سے چشم پوشی کر کے درگزر کروں، اور ان سب کے بارے میں حسن ظن سے کام لوں، اور نیکی و احسان کے ساتھ سب کی خبر گیری کروں، اور پرہیز گاری و عفت کی بنا پر ان (کے عیوب) سے آنکھیں بند رکھوں، تواضع و فروتنی کی رو سے ان سے نرم رویہ اختیار کروں، اور شفقت کی بنا پر مصیبت زدہ کی دلجوئی کروں، ان کی غیبت میں بھی ان کی محبت کو دل میں لئے رہوں، اور خلوص کی بنا پر ان کے پاس سدا نعمتوں کا رہنا پسند کروں، اور جو چیزیں اپنے خاص قریبیوں کیلئے ضروری سمجھوں ان کیلئے بھی ضروری سمجھوں، اور جو مراعات اپنے مخصوصین سے کروں وہی مراعات ان سے بھی کروں۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور مجھے بھی ان سے ویسے ہی سلوک کا روادار قرار دے، اور جو چیزیں ان کے پاس ہیں ان میں میرا حصہ وافر قرار دے، اور انہیں میرے حق کی بصیرت اور میرے فضل و برتری کی معرفت میں افزائش و ترقی دے، تاکہ وہ میری وجہ سے سعادت مند اور میں ان کی وجہ سے مثاب و ماجور قرار پاؤں، آمین، اے تمام جہاں کے پروردگار۔

  27. دعاء 27 سرحدوں کی حفاظت کرنے والوں کے لۓ دعا

    27

    أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ، وَحَصِّنْ ثُغُورَ الْمُسْلِمِينَ بِعِزَّتِكَ، وَأَيِّدْ حُمَاتَهَا بِقُوَّتِكَ، وَأَسْبغَ عَطَايَاهُمْ مِنْ جِدَتِكَ. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ، وَكَثِّرْ عِدَّتَهُمْ، وَاشْحَذْ أَسْلِحَتَهُمْ، وَاحْرُسْ حَوْزَتَهُمْ، وَامْنَعْ حَوْمَتَهُمْ، وَأَلِّفْ جَمْعَهُمْ، وَدَبِّرْ أَمْرَهُمْ، وَوَاتِرْ بَيْنَ مِيَرِهِمْ، وَتَوَحَّدْ بِكِفَايَةِ مَؤَنِهِمْ، وَاعْضُدْهُمْ بِالنَّصْرِ، وَأَعْنِهُمْ بِالصَّبْرِ، وَالْطُفْ لَهُمْ فِي الْمَكْرِ. أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ، وَعَرِّفْهُمْ مَا يَجْهَلُونَ، وَعَلِّمْهُمْ مَا لاَ يَعْلَمُونَ، وَبَصِّرْهُمْ مَا لاَ يُبْصِرُونَ أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ، وَأَنْسِهِمْ عِنْدَ لِقَآئِهِمُ الْعَدُوَّ ذِكْرَ دُنْيَاهُمُ الْخَدَّاعَةِ الْغَرُورِ، وَامْحُ عَنْ قُلُوبِهِمْ خَطَرَاتِ الْمَالِ الْفَتُونِ، وَاجْعَلِ الْجَنَّةَ نَصْبَ أَعْيُنِهِمْ وَلَوِّحْ مِنْهَا لأِبْصَارِهِمْ مَا أَعْدَدْتَ فِيهَا مِنْ مَسَاكِنِ الْخُلْدِ وَمَنَازِلِ الْكَرَامَةِ وَالْحُورِ الْحِسَانِ وَالأَنْهَارِ الْمُطَّرِدَةِ بِأَنْوَاعِ الأَشْرِبَـةِ ، وَالأَشْجَارِ الْمُتَدَلِّيَةِ بِصُنُوفِ الثَّمَرِ، حَتَّى لاَ يَهُمَّ أَحَدٌ مِنْهُمْ بِالأدْبَارِ، وَلا يُحَدِّثَ نَفْسَهُ عَنْ قِرْنِهِ بِفِرَار. أللَّهُمَّ افْلُلْ بِذَلِـكَ عَدُوَّهُمْ، وَاقْلِمْ عَنْهُمْ أَظْفَارَهُمْ، وَفَرِّقْ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ أَسْلِحَتِهِمْ ، وَاخْلَعْ وَثَائِقَ أَفْئِدَتِهِمْ، وَبَاعِدْ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ أَزْوِدَتِهِمْ، وَحَيِّرْهُمْ فِي سُبُلِهِمْ، وَضَلِّلْهُمْ عَنْ وَجْهِهِمْ، وَاقْـطَعْ عَنْهُمُ الْمَدَدَ وَانْقُصْ مِنْهُمُ الْعَدَدَ، وَامْلاْ أَفْئِدَتَهُمُ الرُّعْبَ، وَاقْبِضْ أَيْـدِيَهُمْ عَنِ البَسْطِ، وَاخْـزِمْ أَلْسِنَتَهُمْ عَنِ النُّطْقِ، وَشَرِّدْ بهِمْ مَنْ خَلْفَهُمْ، وَنَكِّلْ بِهِمْ مَنْ وَرَاءَهُمْ، وَاقْـطَعْ بِخِزْيِهِمْ أَطْمَـاعَ مَنْ بَعْدَهُمْ. أللَّهُمَّ عَقِّمْ أَرْحَامَ نِسَائِهِمْ، وَيَبِّسْ أَصْلاَبَ رِجَالِهِمْ، وَاقْطَعْ نَسْلَ دَوَابِّهِمْ وَأَنْعَامِهِمْ، لاَ تَأذَنْ لِسَمَائِهِمْ فِي قَطْر وَلاَ لارْضِهِمْ فِي نَبَات. أللَّهُمَّ وَقَوِّ بِذَلِكَ مِحَالَّ أَهْلِ الإسْلاَمِ ، وَحَصِّنْ بِهِ دِيَارَهُمْ ، وَثَمِّرْ بِـهِ أَمْوَالَهُمْ ، وَفَرِّغْهُمْ عَنْ مُحَارَبَتِهِمْ لِعِبَادَتِكَ وَعَنْ مُنَابَذَتِهِمْ للْخَلْوَةِ بِكَ، حَتَّى لا يُعْبَدَ فِي بِقَاعِ الارْضِ غَيْرُكَ وَلاَ تُعَفَّرَ لِاَحَد مِنْهُمْ جَبْهَةٌ دُونَكَ. أللَّهُمَّ اغزُ بِكُلِّ نَـاحِيَـة مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى مَنْ بِـإزَائِهِمْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، وَأَمْدِدْهُمْ بِمَلائِكَة مِنْ عِنْدِكَ مُرْدِفِينَ حَتَّى يَكْشِفُـوهُمْ إلَى مُنْقَطَعِ التُّـرابِ قَتْـلاً فِي أَرْضِكَ وَأَسْراً أَوْ يُقِرُّوا بِأَنَّكَ أَنْتَ اللهُ الَّذِي لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ وَحْدَكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ. أللَّهُمَّ وَاعْمُمْ بِذَلِكَ أَعْدَاءَكَ فِي أَقْطَارِ الْبِلاَدِ مِنَ الْهِنْدِ وَالرُّومِ وَالتُّـرْكِ وَالْخَزَرِ وَالْحَبَشِ وَالنُّـوبَةِ وَالـزَّنْج والسَّقَالِبَةِ وَالدَّيَالِمَةِ وَسَائِرِ أُمَمِ الشِّرْكِ الَّذِي تَخْفَى أَسْمَاؤُهُمْ وَصِفاتُهُمْ، وَقَدْ أَحْصَيْتَهُمْ بِمَعْرِفَتِكَ، وَأَشْرَفْتَ عَلَيْهِمْ بِقُدْرَتِكَ. أللَّهُمَّ اشْغَلِ الْمُشْرِكِينَ بِالمُشْرِكِينَ عَنْ تَنَاوُلِ أَطْرَافِ الْمُسْلِمِينَ، وَخُذْهُمْ بِـالنَّقْصِ عَنْ تَنَقُّصِهِمْ، وَثَبِّطْهُمْ بِـالْفُـرْقَـةِ عَنِ الاحْتِشَادِ عَلَيْهِمْ. أللَّهُمَّ أَخْلِ قُلُوبَهُمْ مِنَ الأَمَنَـةِ وَأَبْدَانَهُمْ مِنَ الْقُوَّةِ وَأَذْهِلْ قُلُوبَهُمْ عَنِ الاحْتِيَالِ وَأَوْهِنْ أَرْكَانَهُمْ عَنْ مُنَازَلَةِ الرِّجَالِ وَجَبِّنْهُمْ عَنْ مُقَارَعَةِ الأَبْطَالِ، وَابْعَثْ عَلَيْهِمْ جُنْداً مِنْ مَلاَئِكَتِكَ بِبَأس مِنْ بَأْسِكَ كَفِعْلِكَ يَوْمَ بَدْر تَقْطَعُ بِهِ دَابِرَهُمْ وَتَحْصُدُ بِهِ شَوْكَتَهُمْ، وَتُفَرِّقُ بهِ عَدَدَهُمْ. اللَّهُمَّ وَامْزُجْ مِيَاهَهُمْ بِالْوَبَاءِ وَأطْعِمَتَهُمْ بِالأَدْوَاءِ وَارْمِ بِلاَدَهُمْ بِالْخُسُوفِ وَأَلِـحَّ عَلَيْهَا بِـالْقُذُوفِ وَافْـرَعْهَا بِالْمُحُولِ. وَاجْعَلْ مِيَرَهُمْ فِي أَحَصِّ أَرْضِكَ وَأَبْعَـدِهَا عَنْهُمْ، وَامْنَـعْ حُصُونَهَا مِنْهُمْ، أَصِبْهُمْ بِالْجُوعِ الْمُقِيمِ وَالسُّقْمِ الالِيمِ. أللَّهُمَّ وَأَيُّمَا غَاز غَزَاهُمْ مِنْ أَهْلِ مِلَّتِكَ أَوْ مُجَاهِد جَاهَدَهُمْ مِنْ أَتْبَاعِ سُنَّتِكَ لِيَكُونَ دِينُكَ الاعْلَى وَحِزْبُكَ الأقوَى وَحَظُّكَ الأوْفَى فَلَقِّهِ الْيُسْرَ، وَهَيِّئْ لَهُ الأمْرَ، وَتَوَلَّهُ بِالنُّجْحِ، وَتَخَيَّرْ لَهُ الأصْحَابَ، وَاسْتَقْوِ لَهُ الظَّهْرَ، وَأَسْبِغْ عَلَيْهِ فِي النَّفَقَةِ وَمَتِّعْهُ بِالنَّشَاطِ، وَأَطْفِ عَنْهُ حَرَارَةَ الشَّوْقِ، وَأَجِرْهُ مِنْ غَمِّ الْوَحْشَةِ، وَأَنْسِهِ ذِكْرَ الاهْلِ وَالْوَلَدِ وَأَثُرْ لَهُ حُسْنَ النِّيَّةِ وَتَوَلَّه بِالْعَافِيَةِ، وَأَصْحِبْهُ السَّلاَمَةَ، وَأَعْفِهِ مِنَ الْجُبْنِ، وَأَلْهِمْهُ الْجُرْأَةَ وَارْزُقْهُ الشِّدَّةَ وَأَيِّدْهُ بِالنُّصْرَةِ، وَعَلِّمْهُ السِّيَرَ وَالسُّنَنَ، وَسَدِّدْهُ فِي الْحُكْمِ، وَاعْزِلْ عَنْهُ الرِّياءَ، وخَلِّصْهُ مِنَ السُّمْعَةِ وَاجْعَلْ فِكْرَهُ وَذِكْرَهُ وَظَعْنَهُ وَإقَامَتَهُ فِيْكَ وَلَكَ، فَإذا صَافَّ عَدُوَّكَ وَعَدُوَّهُ فَقَلِّلْهُمْ فِي عَيْنِهِ وَصَغِّرْ شَأنَهُمْ فِي قَلْبِهِ وَأَدِلْ لَهُ مِنْهُـمْ وَلاَ تُدِلْهُمْ مِنْهُ فَإنْ خَتَمْتَ لَهُ بِالسَّعَادَةِ وَقَضَيْتَ لَهُ بِالشَّهَادَةِ فَبَعْدَ أَنْ يَجْتَاحَ عَدُوَّكَ بِالْقَتْلِ وَبَعْدَ أنْ يَجْهَدَ بِهِمُ الأسْرُ وَبَعْدَ أن تَأمَنَ أطرَافُ المُسْلِمِينَ وَبَعْدَ أَنْ يُوَلِّيَ عَدُوُّكَ مُدْبِرِينَ. أللَّهُمَّ وَأَيُّمَا مُسْلِم خَلَفَ غَازِياً أَوْ مُرَابِطاً فِي دَارِهِ أَوْ تَعَهَّدَ خَالِفِيْهِ فِيْ غَيْبَتِهِ، أَوْ أَعَانَهُ بِطَائِفَة مِنْ مَالِهِ، أَوْ أَمَدَّهُ بِعِتَاد، أَوْ شَحَذَهُ عَلَى جِهَاد، أَوْ أَتْبَعَهُ فِي وَجْهِهِ دَعْوَةً، أَوْ رَعَى لَهُ مِنْ وَرَآئِهِ حُرْمَةً. فَأْجِرْ لَهُ مِثْلَ أَجْرِهِ وَزْناً بِوَزْن وَمِثْلاً بِمِثْل وَعَوِّضْهُ مِنْ فِعْلِهِ عِوَضاً حَاضِراً يَتَعَجَّلُ بِهِ نَفْعَ مَا قَدَّمَ، وَسُرُورَ مَا أَتَى به، إلَى أَنْ يَنْتَهِيَ بِهِ الْوَقْتُ إلَى مَاأَجْرَيْتَ لَـهُ مِنْ فَضْلِكَ، وَأَعْدَدْتَ لَهُ مِنْ كَرَامَتِكَ. أللَّهُمَّ وَأَيُّمَا مُسْلِم أَهَمَّهُ أَمْرُ الإِسْلاَمِ وَأَحْزَنَهُ تَحَزُّبُ أَهْلِ ألشِّرْكِ عَلَيْهِمْ فَنَوَى غَزْواً أَوْ هَمَّ بِجهَـاد فَقَعَدَ بِـهِ ضَعْفٌ أَوْ أَبطَأَتْ بِهِ فَاقَةٌ، أَوْ أَخَّرَهُ عَنْهُ حَادِثٌ، أَوْ عَرَضَ لَهُ دُونَ إرَادَتِهِ مَانِعٌ، فَاكْتُبِ اسْمَـهُ فِي الْعَابِدِينَ وَأوْجبْ لَهُ ثَوَابَ الْمُجَاهِدِينَ وَاجْعَلْهُ فِي نِظَامِ الشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ . أللَّهُمَّ صَـلِّ عَلَى مُحَمَّد عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ وَآلِ مُحَمَّد صَلاَةً عَالِيَةً عَلَى الصَّلَوَاتِ مُشْرِفَةً فَوْقَ التَّحِيَّاتِ، صَلاَةً لاَ يَنْتَهِي أَمَدُهَا وَلا يَنْقَطِعُ عَدَدُهَا كَأَتَمِّ مَـا مَضَى مِنْ صَلَوَاتِكَ عَلَى أَحَد مِنْ أَوْلِيـائِكَ، إنَّـكَ الْمَنَّانُ الْحَمِيدُ الْمُبْدِئُ الْمُعِيدُ الفَعَّالُ لِمَا تُرِيْدُ.

    سرحدوں کی نگہبانی کرنے والوں کیلئے حضرتؑ کی دُعا: بارالٰہا! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور اپنے غلبہ و اقتدار سے مسلمانوں کی سرحدوں کو محفوظ رکھ، اور اپنی قوت و توانائی سے ان کی حفاظت کرنے والوں کو تقویت دے، اور اپنے خزانۂ بے پایاں سے انہیں مالا مال کر دے۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور ان کی تعداد بڑھا دے، ان کے ہتھیاروں کو تیز کر دے، ان کے حدود و اطراف اور مرکزی مقامات کی حفاظت و نگہداشت کر، ان کی جمعیت میں انس و یکجہتی پیدا کر، ان کے امور کی درستی فرما، رسد رسانی کے ذرائع مسلسل قائم رکھ، ان کی مشکلات کے حل کرنے کا خود ذمہ لے، ان کے بازو قوی کر، صبر کے ذریعہ ان کی اعانت فرما، اور دشمن سے چھپی تدبیروں میں انہیں باریک نگاہی عطا کر۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور جس شے کو وہ نہیں پہچانتے وہ انہیں پہچنوا دے، اور جس بات کا علم نہیں رکھتے وہ انہیں بتا دے، اور جس چیز کی بصیرت انہیں نہیں ہے وہ انہیں سجھا دے۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور دشمن سے مد مقابل ہوتے وقت غدار و فریب کار دنیا کی یاد ان کے ذہنوں سے مٹا دے، اور گمراہ کرنے والے مال کے اندیشے ان کے دلوں سے نکال دے، اور جنت کو ان کی نگاہوں کے سامنے کر دے، اور جو دائمی قیام گاہیں، عزت و شرف کی منزلیں اور (پانی، دودھ، شراب اور صاف و شفاف شہد کی) بہتی ہوئی نہریں اور طرح طرح کے پھلوں (کے بار) سے جھکے ہوئے اشجار وہاں فراہم کئے ہیں، انہیں دکھا دے، تاکہ ان میں سے کوئی پیٹھ پھرانے کا ارادہ اور اپنے حریف کے سامنے سے بھاگنے کا خیال نہ کرے۔ اے اللہ! اس ذریعہ سے ان کے دشمنوں کے حربے کند اور انہیں بے دست و پا کر دے، اور ان میں اور ان کے ہتھیاروں میں تفرقہ ڈال دے، (یعنی ہتھیار چھوڑ کر بھاگ جائیں)، اور ان کے رگ دل کی طنابیں توڑ دے، اور ان میں اور ان کے آذوقہ میں دوری پیدا کر دے، اور ان کی راہوں میں انہیں بھٹکنے کیلئے چھوڑ دے، اور ان کے مقصد سے انہیں بے راہ کر دے، ان کی کمک کا سلسلہ قطع کر دے، ان کی گنتی کم کر دے، ان کے دلوں میں دہشت بھر دے، ان کی دراز دستیوں کو کوتاہ کر دے، ان کی زبانوں میں گرہ لگا دے کہ بول نہ سکیں اور انہیں سزا دے کر ان کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کو بھی تتر بتر کر دے جو ان کے پس پشت ہیں، اور پس پشت والوں کو ایسی شکست دے کہ جو ان کے پشت پر ہیں انہیں عبرت حاصل ہو، اور ان کی ہزیمت و رسوائی سے ان کے پیچھے والوں کے حوصلے توڑ دے۔ اے اللہ! ان کی عورتوں کے شکم بانجھ، ان کے مردوں کے صلب خشک اور ان کے گھوڑوں، اونٹوں، گائیوں، بکریوں کی نسل قطع کر دے، اور ان کے آسمان کو برسنے کی اور زمین کو روئیدگی کی اجازت نہ دے۔ بارالٰہا! اس ذریعہ سے اہل اسلام کی تدبیروں کو مضبوط، ان کے شہروں کو محفوظ اور ان کی دولت و ثروت کو زیادہ کر دے، اور انہیں عبادت و خلوت گزینی کیلئے جنگ و جدال اور لڑائی جھگڑے سے فارغ کر دے، تاکہ روئے زمین پر تیرے علاوہ کسی کی پرستش نہ ہو، اور تیرے سوا کسی کے آگے خاک پر پیشانی نہ رکھی جائے۔ اے اللہ! تو مسلمانوں کو ان کے ہر ہر علاقہ میں بر سر پیکار ہونے والے مشرکوں پر غلبہ دے، اور صف در صف فرشتوں کے ذریعہ ان کی امداد فرما، تاکہ اس خطہ زمین میں انہیں قتل و اسیر کرتے ہوئے اس کے آخری حدود تک پسپا کر دیں، یا یہ کہ وہ اقرار کریں کہ تو وہ خدا ہے جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یکتا و لا شریک ہے۔ خدایا! مختلف اطراف و جوانب کے دشمنان دین کو بھی اس قتل و غارت کی لپیٹ میں لے لے،وہ ہندی ہوں یا رومی، ترکی ہوں یا خزری، حبشی ہوں یا نوبی، زنگی ہوں یا صقلبی و دیلمی اور نیز ان مشرک جماعتوں کو جن کے نام اور صفات ہمیں معلوم نہیں اور تو اپنے علم سے ان پر محیط اور اپنی قدرت سے ان پر مطلع ہے۔ اے اللہ! مشرکوں کو مشرکوں سے الجھا کر مسلمانوں کے حدود مملکت پر دست درازی سے باز رکھ، اور ان میں کمی واقع کر کے مسلمانوں میں کمی کرنے سے روک دے، اور ان میں پھوٹ ڈلوا کر اہل اسلام کے مقابلہ میں صف آرائی سے بٹھا دے۔ اے اللہ! ان کے دلوں کو تسکین و بے خوفی سے، ان کے جسموں کو قوت و توانائی سے خالی کر دے، ان کی فکروں کو تدبیر و چارہ جوئی سے غافل اور مردان کارزار کے مقابلہ میں ان کے دست و بازو کو کمزور کر دے، اور دلیران اسلام سے ٹکر لینے میں انہیں بزدل بنا دے، اور اپنے عذابوں میں سے ایک عذاب کے ساتھ ان پر فرشتوں کی سپاہ بھیج، جیسا کہ تو نے بدر کے دن کیا تھا، اسی طرح تو ان کی جڑ بنیادیں کاٹ دے، ان کی شان و شوکت مٹا دے، اور ان کی جمعیت کو پراگندہ کر دے۔ اے اللہ! ان کے پانی میں وبا اور ان کے کھانوں میں امراض (کے جراثیم)کی آمیزش کر دے، ان کے شہروں کو زمین میں دھنسا دے، انہیں ہمیشہ پتھروں کا نشانہ بنا، اور قحط سالی ان پر مسلط کر دے، ان کی روزی ایسی سر زمین میں قرار دے جو بنجر اور ان سے کوسوں دور ہو، زمین کے محفوظ قلعے ان کیلئے بند کر دے، اور انہیں ہمیشہ کی بھوک اور تکلیف دہ بیماریوں میں مبتلا رکھ۔ بارالٰہا! تیرے دین و ملت والوں میں سے جو غازی ان سے آمادۂ جنگ ہو یا تیرے طریقہ کی پیروی کرنے والوں میں سے جو مجاہد قصد جہاد کرے، اس غرض سے کہ تیرا دین بلند، تیرا گروہ قوی اور تیرا حصہ و نصیب کامل تر ہو، تو اس کیلئے آسانیاں پیدا کر، تکمیل کار کے سامان فراہم کر، اس کامیابی کا ذمہ لے، اس کیلئے بہترین ہمراہی انتخاب فرما، قوی و مضبوط سواری کا بندوبست کر، ضروریات پورا کرنے کیلئے وسعت و فراخی دے، دل جمعی و نشاط خاطر سے بہرہ مند فرما، اس کے اشتیاق (وطن) کا ولولہ ٹھنڈا کر دے، تنہائی کے غم کا اسے احساس نہ ہونے دے، زن و فرزند کی یاد اسے بھلا دے، قصد خیر کی طرف رہنمائی فرما، اس کی عافیت کا ذمہ لے، سلامتی کو اس کا ساتھی قرار دے، بزدلی کو اس کے پاس نہ پھٹکنے دے، اس کے دِل میں جرأت پیدا کر، زور و قوت اسے عطا فرما، اپنی مدد گاری سے اسے توانائی بخش، راہ و روش (جہاد) کی تعلیم دے، اور حکم میں صحیح طریق کار کی ہدایت فرما، ریا و نمود کو اس سے دور رکھ، ہوسِ شہرت کا کوئی شائبہ اس میں نہ رہنے دے، اس کے ذکر و فکر اور سفر و قیام کو اپنی راہ میں اور اپنے لئے قرار دے۔ اور جب وہ تیرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں سے مدّ مقابل ہو تو اس کی نظروں میں ان کی تعداد تھوڑی کر کے دکھا، اس کے دل میں ان کے مقام و منزلت کو پست کر دے، اسے ان پر غلبہ دے اور ان کو اس پر غالب نہ ہونے دے، اگر تو نے اس مرد مجاہد کے خاتمہ بالخیر اور شہادت کا فیصلہ کر دیا ہے تو یہ شہادت اس وقت واقع ہو جب وہ تیرے دشمنوں کو قتل کر کے کیفر کردار تک پہنچا دے، یا اسیری انہیں بے حال کر دے اور مسلمانوں کے اطراف مملکت میں امن برقرار ہو جائے اور دشمن پیٹھ پھرا کر چل دے۔ بارالٰہا! وہ مسلمان جو کسی مجاہد یا نگہبان سرحد کے گھر کا نگران ہو، یا اس کے اہل و عیال کی خبر گیری کرے، یا تھوڑی بہت مالی اعانت کرے، یا آلات جنگ سے مدد دے، یا جہاد پر ابھارے، یا اس کے مقصد کے سلسلہ میں دُعائے خیر کرے، یا اس کے پس پشت اس کی عزت و ناموس کا خیال رکھے، تو اسے بھی اس کے اجر کے برابر بے کم و کاست اجر اور اس کے عمل کا ہاتھوں ہاتھ بدلہ دے، جس سے وہ اپنے پیش کئے ہوئے عمل کا نفع اور اپنے بجا لائے ہوئے کام کی مسرت دنیا میں فوری طور سے حاصل کر لے، یہاں تک کہ زندگی کی ساعتیں اسے تیرے فضل و احسان کی اس نعمت تک جو تو نے اس کیلئے جاری کی ہے اور اس عزت و کرامت تک جو تو نے اس کیلئے مہیا کی ہے، پہنچا دیں۔ پروردگار! جس مسلمان کو اسلام کی فکر پریشان اور مسلمانوں کے خلاف مشرکوں کی جتھہ بندی غمگین کرے، اس حد تک کہ وہ جنگ کی نیت اور جہاد کا ارادہ کرے مگر کمزوری اسے بٹھا دے، یا بے سروسامانی اسے قدم نہ اٹھانے دے، یا کوئی حادثہ اس مقصد سے تاخیر میں ڈال دے، یا کوئی مانع اس کے ارادہ میں حائل ہو جائے، تو اس کا نام عبادت گزاروں میں لکھ، اور اسے مجاہدوں کا ثواب عطا کر، اور اسے شہیدوں اور نیکوکاروں کے زمرہ میں شمار فرما۔ اے اللہ! محمدﷺ پر جو تیرے عبد خاص اور رسول ہیں اور ان کی اولاد علیہم السلام پر ایسی رحمت نازل فرما جو شرف و رتبہ میں تمام رحمتوں سے بلند تر اور تمام درودوں سے بالاتر ہو، ایسی رحمت جس کی مدت اختتام پذیر نہ ہو، جس کی گنتی کا سلسلہ کہیں قطع نہ ہو، ایسی کامل و اکمل رحمت جو تیرے دوستوں میں سے کسی ایک پر نازل ہوئی ہو، اس لئے کہ تو عطا و بخشش کرنے والا، ہر حال میں قابل ستائش، پہلی دفعہ پیدا کرنے والا، اور دوبارہ زندہ کرنے والا، اور جو چاہے وہ کرنے والا ہے۔

  28. دعاء 28 اللہ سے تضرع و زاری کے سلسلے میں دعا

    28

    اللَهُمَّ إنِّي أَخْلَصْتُ بِانْقِطَاعِي إلَيْكَ، وَأَقْبَلْتُ بِكُلِّي عَلَيْـكَ، وَصَـرَفْتُ وَجْهِي عَمَّنْ يَحْتَاجُ إلَى رِفْدِكَ، وَقَلَبْتُ مَسْأَلَتِي عَمَّنْ لَمْ يَسْتَغْنِ عَنْ فَضْلِكَ، وَرَأَيْتُ أَنَّ طَلَبَ الْمُحْتَاجِ إلَى الْمُحْتَاجِ سَفَهٌ مِنْ رَأيِهِ وَضَلَّةٌ مِنْ عَقْلِهِ، فَكَمْ قَدْ رَأَيْتُ يَـا إلهِيْ مِنْ أُناس طَلَبُوا الْعِزَّ بِغَيْرِكَ فَذَلُّوا، وَرَامُوا الثَّرْوَةَ مِنْ سِوَاكَ فَافْتَقَرُوا، وَحَاوَلُوا الارْتِفَاعَ فَاتَّضَعُوا، فَصحَّ بِمُعَايَنَةِ أَمْثَالِهِمْ حَازِمٌ وَفَّقَهُ اعْتِبَارُهُ وَأَرْشَدَهُ إلَى طَرِيقِ صَوَابِهِ بِاخْتِبَارِهِ فَأَنْتَ يَا مَوْلايَ دُونَ كُلِّ مَسْؤُول مَوْضِعُ مَسْأَلَتِي وَدُونَ كُلِّ مَطْلُوب إلَيْهِ وَلِيُّ حَاجَتِي. الْمَخْصُوصُ قَبْلَ كُلِّ مَدْعُوٍّ بِدَعْوَتِي لاَ يَشْرَكُكَ أَحَدٌ فِي رَجَائِي، وَلاَ يَتَّفِقُ أَحَدٌ مَعَكَ فِي دُعَائِي، وَلاَ يَنْظِمُهُ وَإيَّاكَ نِدَائِي لَكَ يَا إلهِي وَحْدَانِيَّةُ الْعَدَدِ، وَمَلَكَةُ الْقُدْرَةِ الصَّمَدِ، وَفَضِيلَةُ الْحَوْلِ وَالْقُوَّةِ، وَدَرَجَةُ الْعُلُوِّ وَالرِّفْعَةِ وَمَنْ سِوَاكَ مَرْحُومٌ فِي عُمْرِهِ، مَغْلُوبٌ عَلَى أَمْرِهِ، مَقْهُورٌ عَلَى شَأنِهِ، مُخْتَلِفُ الْحَالاَتِ، مُتَنَقِّلٌ فِي الصِّفَاتِ. فَتَعَالَيْتَ عَنِ الأشْبَاهِ وَالاضْـدَادِ، وَتَكَبَّـرْتَ عَنِ الأمْثَـالِ وَالأنْدَادِ، فَسُبْحَانَكَ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ.

    اللہ تعالیٰ سے طلب و فریاد کے سلسلہ میں حضرتؑ کی دُعا: اے اللہ! میں پورے خلوص کے ساتھ دوسروں سے منہ موڑ کر تجھ سے لو لگائے ہوں، اور ہمہ تن تیری طرف متوجہ ہوں، اور اس شخص سے جو خود تیری عطا و بخشش کا محتاج ہے منہ پھیر لیا ہے، اور اس شخص سے جو تیرے فضل و احسان سے بے نیاز نہیں ہے سوال کا رخ موڑ لیا ہے، اور اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ محتاج کا محتاج سے مانگنا سراسر سمجھ بوجھ کی سبکی اور عقل کی گمراہی ہے۔ کیونکہ اے میرے اللہ! میں نے بہت سے ایسے لوگوں کو دیکھا ہے جو تجھے چھوڑ کر دوسروں کے ذریعہ عزت کے طلبگار ہوئے تو وہ ذلیل و رسوا ہوئے، اور دوسروں سے نعمت و دولت کے خواہشمند ہوئے تو فقیر و نادار ہی رہے، اور بلندی کا قصد کیا تو پستی پر جا گرے، لہٰذا ان جیسوں کو دیکھنے سے ایک دور اندیش کی دور اندیشی بالکل بر محل ہے کہ عبرت کے نتیجہ میں اسے توفیق حاصل ہوئی، اور اس کے(صحیح) انتخاب نے اسے سیدھا راستہ دکھایا۔ جب حقیقت یہی ہے تو پھر اے میرے مالک! تو ہی میرے سوال کا مرجع ہے، نہ وہ جس سے سوال کیا جاتا ہے، اور تو ہی میرا حاجت روا ہے، نہ وہ جن سے حاجت طلب کی جاتی ہے، اور ان تمام لوگوں سے پہلے جنہیں پکارا جاتا ہے تو میری دُعا کیلئے مخصوص ہے، اور میری اُمید میں تیرا کوئی شریک نہیں ہے، اور میری دُعا میں تیرا کوئی ہم پایہ نہیں ہے، اور میری آواز تیرے ساتھ کسی اور کو شریک نہیں کرتی۔ اے اللہ! عدد کی یکتائی، قدرت کاملہ کی کارفرمائی اور کمال قوت و توانائی اور مقام رفعت و بلندی تیرے لئے ہے، اور تیرے علاوہ جو ہے وہ اپنی زندگی میں تیرے رحم و کرم کا محتاج، اپنے امور میں درماندہ اور اپنے مقام پر بے بس و لاچار ہے، جس کے حالات گوناگوں ہیں، اور ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹتا رہتا ہے، تو مانند و ہمسر سے بلند تر، اور مثل و نظیر سے بالاتر ہے، تو پاک ہے، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔

  29. دعاء 29 تنگی رزق کے موقع پر پڑھنے کی دعا

    29

    أَللَّهُمَّ إنَّكَ ابْتَلَيْتَنَا فِي أَرْزَاقِنَا بِسُوءِ الظَّنِّ وَفِي آجَالِنَا بِطُولِ الأمَلِ حَتَّى الْتَمَسْنَا أَرْزَاقَكَ مِنْ عِنْدِ الْمَرْزُوقِينَ، وَطَمِعْنَا بِآمَالِنَا فِي أَعْمَارِ الْمُعَمَّرِينَ. فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ، وَهَبْ لَنَا يَقِيناً صَادِقاً تَكْفِينا بِهِ مِنْ مَؤونَةِ الطَّلَبِ، وَأَلْهِمْنَا ثِقَةً خَالِصَةً تُعْفِينَا بِهَا مِنْ شِدَّةِ النَّصَبِ، وَاجْعَلْ مَا صَرَّحتَ بِهِ مِنْ عِدَتِكَ فِي وَحْيِكَ، وَأَتْبَعْتَهُ مِنْ قَسَمِكَ فِي كِتَابِكَ قَاطِعاً لاهْتِمَامِنَا بِالرِّزْقِ الَّـذِيْ تَكَفَّلْتَ بِهِ وَحَسْمَاً لِلاشْتِغَالِ بِمَا ضَمِنْتَ الْكِفَايَةَ لَهُ، فَقُلْتَ وَقَوْلُكَ الْحَقُّ الاصْـدَقُ وَأَقْسَمْتَ وَقَسَمُكَ الأَبَرُّ الأَوْفى: ( وَفِي السَّمَاءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوعَدُونَ ) ثُمَّ قُلْتَ: ( فَوَرَبِّ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ إنَّهُ لَحَقٌّ مِثْلَ مَا أَنَّكُمْ تَنْطِقُوْنَ ).

    جب رزق کی تنگی ہوتی تو یہ دُعا پڑھتے: اے اللہ! تو نے رزق کے بارے میں بے یقینی سے اور زندگی کے بارے میں طول عمل سے ہماری آزمائش کی ہے، یہاں تک کہ ہم ان سے رزق طلب کرنے لگے جو تجھ سے رزق پانے والے ہیں، اور عمر رسیدہ لوگوں کی عمریں دیکھ کر ہم بھی درازی عمر کی آرزوئیں کرنے لگے۔ اے اللہ !محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور ہمیں ایسا پختہ یقین عطا کر جس کے ذریعہ تو ہمیں طلب و جستجو کی زحمت سے بچالے، اور خالص اطمینانی کیفیت ہمارے دلوں میں پیدا کر دے جو ہمیں رنج و سختی سے چھڑا لے، اور وحی کے ذریعہ جو واضح اور صاف وعدہ تو نے فرمایا ہے اور اپنی کتاب میں اس کے ساتھ ساتھ قسم بھی کھائی ہے، اسے اس روزی کے اہتمام سے جس کا تو ضامن ہے، سبکدوشی کا سبب قرار دے، اور جس روزی کا ذمہ تو نے لیا ہے اس کی مشغولیتوں سے علیحدگی کا وسیلہ بنا دے، چنانچہ تو نے فرمایا ہے اور تیرا قول حق اور بہت سچا ہے، اور تو نے قسم کھائی ہے اور تیری قسم سچی اور پوری ہونے والی ہے کہ: ”تمہاری روزی اور وہ کہ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے آسمان میں ہے“، پھر تیرا ارشاد ہے: ”زمین و آسمان کے مالک کی قسم! یہ امر یقینی و قطعی ہے جیسے یہ کہ تم بول رہے ہو“۔

  30. دعاء 30 قرض کی دعا

    30

    أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَهَبْ لِيَ الْعَافِيَةَ مِنْ دَيْن تُخْلِقُ بِهِ وَجْهِي، وَيَحَارُ فِيهِ ذِهْنِي، وَيَتَشَعَّبُ لَهُ فِكْرِي، وَيَطُولُ بِمُمَارَسَتِهِ شُغْلِي، وَأَعُوذُ بِكَ يَا رَبِّ مِنْ هَمِّ الدَّيْنِ وَفِكْرِهِ، وَشُغْلِ الدَّيْنِ وَسَهَرِهِ. فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَأَعِذْنِي مِنْهُ. وَأَسْتَجيرُ بِكَ يَا رَبِّ مِنْ ذِلَّتِهِ فِي الْحَيَاةِ وَمِنْ تَبِعَتِهِ بَعْدَ الْوَفَاةِ. فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَأَجِرْنِي مِنْهُ بِوُسْع فاضِل أَوْ كَفَاف وَاصِل. أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِـهِ وَاحْجُبْنِي عَنِ السَّرَفِ وَالازْدِيَادِ، وَقَوِّمْنِي بِالْبَذْلِ وَالاقْتِصَـادِ، وَعَلِّمْنِي حُسْنَ التَّقْدِيرِ، وَاقْبِضْنِي بِلُطْفِكَ عَنِ التَّبْذِيرِ وَأَجْرِ مِنْ أَسْبَابِ الْحَلاَلِ أَرْزَاقِي، وَوَجِّهْ فِي أَبْوَابِ الْبِرِّ إنْفَاقِي، وَازْوِ عَنِّي مِنَ الْمَالِ مَا يُحْدِثُ لِي مَخِيلَةً أَوْ تَأَدِّياً إلَى بَغْي، أَوْ مَا أَتَعَقَّبُ مِنْهُ طُغْيَـاناً. أللَّهُمَّ حَبِّبْ إلَيَّ صُحْبَـةَ الْفُقَرَاءِ، وَأَعِنِّي عَلَى صُحْبَتِهِمْ بِحُسْنِ الْصَّبْرِ، وَمَـا زَوَيْتَ عَنِّي مِنْ مَتَاعِ الدُّنْيَاالفَانِيَةِ فَاذْخَرْهُ لِيْ فِي خَزَائِنِكَ البَاقِيَةِ، وَاجْعَلْ مَا خَوَّلْتَنِي مِنْ حُطَامِهَا، وَعَجَّلْتَ لِي مِنْ مَتَاعِهَا بُلْغَةً إلَى جِوَارِكَ، وَوُصْلَةً إلَى قُرْبِكَ، وَذَرِيعَةً إلَى جَنَّتِكَ إنَّكَ ذو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ، وَأَنْتَ الْجَوَادُ الْكَرِيْمُ.

    ادا‎ئے قرض کے سلسہ میں اللہ تعالی سے طلب اعانت کی دُعا: اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور مجھے ایسے قرض سے نجات دے جس سے تو میری آبرو پر حرف آنے دے، اور میرا ذہن پریشان اور فکر پراگندہ رہے، اور اس کی فکر و تدبیر میں ہمہ وقت مشغول رہوں۔ اے میرے پروردگار! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں قرض کے فکر و اندیشہ سے، اور اس کے جھمیلوں سے، اور اس کے باعث بے خوابی سے، تو محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور مجھے اس سے پناہ دے۔ پروردگار! میں تجھ سے زندگی میں اس کی ذلت اور مرنے کے بعد اس کے وبال سے پناہ مانگتا ہوں، تو محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور مجھے مال و دولت کی فراوانی اور پیہم رزق رسانی کے ذریعہ اس سے چھٹکارا دے۔ اے اللہ!محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور مجھے فضول خرچی اور مصارف کی زیادتی سے روک دے، اور عطا و میانہ روی کے ساتھ نقطہ اعتدال پر قائم رکھ، اور میرے لئے حلال طریقوں سے روزی کا سامان کر، اور میرے مال کا مصرف امور خیر میں قرار دے، اور اس مال کو مجھ سے دور ہی رکھ جو میرے اندر غرور و تمکنت پیدا کرے، یا ظلم کی راہ پر ڈال دے، یا اس کا نتیجہ طغیان و سرکشی ہو۔ اے اللہ! درویشوں کی ہم نشینی میری نظروں میں پسندیدہ بنا دے، اور اطمینان افزا صبر کے ساتھ ان کی رفاقت اختیار کرنے میں میری مدد فرما، دنیائے فانی کے مال میں سے جو تو نے مجھ سے روک لیا ہے اسے اپنے باقی رہنے والے خزانوں میں میرے لئے ذخیرہ کر دے، اور اس کے ساز و برگ میں سے جو تو نے دیا ہے اور اس کے سر و سامان میں سے جو بہم پہنچایا ہے اسے اپنے جوار (رحمت) تک پہنچنے کا زادِ راہ، حصول تقرب کا وسیلہ اور جنّت تک رسائی کا ذریعہ قرار دے۔ اس لئے کہ تو فضل عظیم کا مالک اور سخی و کریم ہے۔

  31. دعاء 31 دعاۓ توبہ

    31

    أَللَّهُمَّ يَا مَنْ لا يَصِفُهُ نَعْتُ الْوَاصِفِينَ ، وَيَا مَنْ لاَ يُجَاوِزُهُ رَجَاءُ الرَّاجِينَ ، وَيَا مَنْ لاَ يَضِيعُ لَدَيْهِ أَجْرُ الْمُحْسِنِينَ، وَيَا مَنْ هُوَ مُنْتَهَى خَوْفِ الْعَابِدِيْنَ، وَيَا مَنْ هُوَ غَايَةُ خَشْيَةِ الْمُتَّقِينَ. هَذا مَقَامُ مَنْ تَدَاوَلَتْهُ أَيْدِي الذُّنُوبِ ، وَقَادَتْهُ أَزِمَّةُ الْخَطَايَا ، وَاسْتَحْوَذَ عَلَيْهِ الشَّيْطَانُ، فَقَصَّرَ عَمَّا أَمَرْتَ بِهِ تَفْرِيطَاً، وَتَعَاطى مَا نَهَيْتَ عَنْهُ تَغْرِيراً، كَالْجاهِلِ بِقُدْرَتِكَ عَلَيْهِ، أَوْ كَالْمُنْكِرِ فَضْلَ إحْسَانِكَ إلَيْهِ، حَتَّى إذَا انْفَتَحَ لَهُ بَصَرُ الْهُدَى، وَتَقَشَّعَتْ عَنْهُ سَحَائِبُ الْعَمَى أَحْصَى مَا ظَلَمَ بِهِ نَفْسَهُ، وَفَكَّرَ فِيمَا خَالَفَ بِهِ رَبَّهُ، فَرَأى كَبِيْرَ عِصْيَانِهِ كَبِيْراً، وَجَلِيل مُخالفَتِهِ جَلِيْلاً، فَأَقْبَلَ نَحْوَكَ مُؤَمِّلاً لَكَ، مُسْتَحْيِيَاً مِنْكَ، وَوَجَّهَ رَغْبَتَهُ إلَيْكَ ثِقَةً بِكَ، فَأَمَّكَ بِطَمَعِهِ يَقِيناً، وَقَصَدَكَ بِخَوْفِهِ إخْلاَصَاً، قَدْ خَلاَ طَمَعُهُ مِنْ كُلِّ مَطْمُوع فِيهِ غَيْرِكَ، وَأَفْرَخَ رَوْعُهُ مِنْ كُلِّ مَحْذُور مِنْهُ سِوَاكَ، فَمَثَّلَ بَيْنَ يَدَيْـكَ مُتَضَرِّعـاً، وَغَمَّضَ بَصَرَهُ إلَى الأرْضِ مُتَخَشِّعَاً، وَطَأطَأَ رَأسَهُ لِعِزَّتِكَ مُتَذَلِّلاً، وَأَبَثَّكَ مِنْ سِرِّهِ مَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنْهُ خَضُوعاً، وَعَدَّدَ مِنْ ذُنُوبِهِ مَا أَنْتَ أَحْصَى لَهَا خُشُوعاً وَاسْتَغَاثَ بِكَ مِنْ عَظِيمِ مَاوَقَعَ بِهِ فِي عِلْمِكَ وَقَبِيحِ مَا فَضَحَهُ فِي حُكْمِكَ مِنْ ذُنُوب أدْبَرَتْ لَذَّاتُهَا فَذَهَبَتْ، وَأَقَامَتْ تَبِعَاتُهَا فَلَزِمَتْ، لا يُنْكِرُ يَا إلهِي عَدْلَكَ إنْ عَاقَبْتَهُ، وَلا يَسْتَعْظِمُ عَفْوَكَ إنْ عَفَوْتَ عَنْهُ وَرَحِمْتَهُ; لأِنَّكَ الرَّبُّ الْكَرِيمُ الَّذِي لا يَتَعَاظَمُهُ غُفْرَانُ الذَّنْبِ الْعَظِيم. أَللَّهُمَّ فَهَا أَنَا ذَا قَدْ جئْتُكَ مُطِيعاً لاِمْرِكَ فِيمَا أَمَرْتَ بِهِ مِنَ الدُّعَاءِ، مَتَنَجِّزاً وَعْدَكَ فِيمَا وَعَدْتَ بِهِ مِنَ الإجَابَةِ إذْ تَقُولُ (اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ). أللَّهُمَّ فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَالْقَنِي بِمَغْفِـرَتِكَ كَمَا لَقِيتُكَ بِإقْرَارِي وَارْفَعْنِي عَنْ مَصَارعِ الذُّنُوبِ كَمَا وَضَعْتُ لَكَ نَفْسِي وَاسْتُرْنِي بِسِتْرِكَ كَمَا تَأَنَّيْتَنِي عَنِ الانْتِقَامِ مِنِّي. أللَّهُمَّ وَثَبِّتْ فِي طَاعَتِكَ نِيَّتِيْ، وَأَحْكِمْ فِي عِبَادَتِكَ بَصِيـرَتِي، وَوَفِّقْنِي مِنَ الأَعْمَالِ لِمَا تَغْسِلُ بِهِ دَنَسَ الخَطَايَا عَنِّي، وَتَوَفَّنِي عَلَى مِلَّتِكَ وَمِلَّةِ نَبِيِّكَ مُحَمَّد عَلَيْهِ السَّـلامُ إذَا تَوَفَّيْتَنِي. أللَّهُمَّ إنِّي أَتُوبُ إلَيْـكَ فِي مَقَامِي هَذَا مِنْ كَبَائِرِ ذُنُوبِي وَصَغَائِرِهَا وَبَوَاطِنِ سَيِّئآتِي وَظَوَاهِرِهَا، وَسَوالِفِ زَلاَّتِي وَحَوَادِثِهَا، تَوْبَةَ مَنْ لا يُحَدِّثُ نَفْسَهُ بِمَعْصِيَةٍ وَلاَ يُضْمِرُ أَنْ يَعُودَ فِي خَطِيئَةٍ، وَقَدْ قُلْتَ يَا إلهِي فِي مُحْكَمِ كِتابِكَ إنَّكَ تَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِكَ، وَتَعْفُو عَنِ السَّيِّئاتِ، وَتُحِبُّ التَّوَّابِينَ، فَاقْبَلْ تَوْبَتِي كَمَا وَعَدْتَ وَأعْفُ عَنْ سَيِّئاتِي كَمَا ضَمِنْتَ، وَأَوْجِبْ لِي مَحَبَّتَكَ كَمَا شَـرَطْتَ، وَلَـكَ يَـا رَبِّ شَـرْطِي أَلاّ أَعُودَ فِي مَكْرُوهِكَ، وَضَمَانِي أَلاّ أَرْجِعَ فِي مَذْمُومِكَ، وَعَهْدِي أَنْ أَهْجُرَ جَمِيعَ مَعَاصِيكَ. أللَّهُمَّ إنَّكَ أَعْلَمُ بِمَا عَمِلْتُ فَاغْفِرْ لِي مَا عَلِمْتَ، وَاصْرِفْنِي بِقُدْرَتِكَ إلَى مَا أَحْبَبْتَ. أللَّهُمَّ وَعَلَيَّ تَبِعَاتٌ قَدْ حَفِظْتُهُنَّ، وَتَبِعَاتٌ قَدْ نَسيتُهُنَّ، وَكُلُّهُنَّ بِعَيْنِكَ الَّتِي لاَ تَنَـامُ، وَعِلْمِكَ الَّذِي لا يَنْسَى فَعَوِّضْ مِنْهَا أَهْلَهَا وَاحْطُطْ عَنّي وِزْرَهَا، وَخَفِّفْ عَنِّي ثِقْلَهَا، وَاعْصِمْنِي مِنْ أَنْ اُقَارِفَ مِثْلَهَا. أللَّهُمَّ وَإنَّهُ لاَ وَفَاءَ لِي بِالتَّوْبَةِ إلاَّ بِعِصْمَتِكَ، وَلا اسْتِمْسَاكَ بِي عَنِ الْخَطَايَا إلاَّ عَنْ قُوَّتِكَ، فَقَوِّنِي بِقُوَّة كَافِيَة، وَتَوَلَّنِي بِعِصْمَة مَانِعَة. أللَّهُمَّ أَيُّما عَبْد تَابَ إلَيْكَ وَهُوَ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ فَاسِخٌ لِتَوْبَتِهِ وَعَائِدٌ فِي ذَنْبِهِ وَخَطِيئَتِهِ فَإنِّي أَعُوذُ بِكَ أنْ أَكُوْنَ كَذلِكَ، فَاجْعَلْ تَوْبَتِي هَذِهِ تَوْبَةً لا أَحْتَاجُ بَعْدَهَا إلَى تَوْبَة، تَوْبَةً مُوجِبَةً لِمَحْوِ مَا سَلَفَ، وَالسَّلاَمَةِ فِيمَـا بَقِيَ. أللَّهُمَّ إنِّي أَعْتَـذِرُ إلَيْـكَ مِنْ جَهْلِي، وَأَسْتَـوْهِبُـكَ سُوْءَ فِعْلِي، فَـاضْمُمْنِي إلَى كَنَفِ رَحْمَتِكَ تَطَوُّلاً، وَاسْتُرْنِي بِسِتْرِ عَافِيَتِكَ تَفَضُّلاً. أللَّهُمَّ وَإنِّي أَتُوبُ إلَيْكَ مِنْ كُلِّ مَا خَالَفَ إرَادَتَكَ أَوْ زَالَ عَنْ مَحَبَّتِـكَ مِنْ خَـطَرَاتِ قَلْبِي وَلَحَـظَاتِ عَيْنِي وَحِكَايَاتِ لِسَانِي، تَوْبَةً تَسْلَمُ بِهَا كُلُّ جَارِحَة عَلَى حِيَالِهَا مِنْ تَبِعَاتِكَ، وَتَأْمَنُ مِمَّا يَخَافُ الْمُعْتَدُونَ مِنْ أَلِيْمِ سَطَوَاتِكَ. أَللَّهُمَّ فَارْحَمْ وَحْدَتِي بَيْنَ يَدَيْكَ، وَوَجِيبَ قَلْبِي مِنْ خَشْيَتِكَ، وَاضْطِرَابَ أَرْكَانِي مِنْ هَيْبَتِكَ، فَقَدْ أَقَامَتْنِي يَا رَبِّ ذُنُوبِي مَقَامَ الْخِزْيِ بِفِنَائِكَ، فَإنْ سَكَتُّ لَمْ يَنْطِقْ عَنِّي أَحَدٌ، وَإنْ شَفَعْتُ فَلَسْتُ بِأَهْلِ الشَّفَاعَةِ. أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَشَفِّعْ فِي خَطَايَـايَ كَرَمَكَ، وَعُدْ عَلَى سَيِّئاتِي بِعَفْوِكَ، وَلاَ تَجْزِنِي جَزَآئِي مِنْ عُقُوبَتِكَ وَابْسُطْ عَلَيَّ طَوْلَكَ وَجَلِّلْنِي بِسِتْرِكَ، وَافْعَلْ بِي فِعْلَ عَزِيز تَضَرَّع إلَيْهِ عَبْدٌ ذَلِيلٌ فَرَحِمَهُ، أَوْ غَنِيٍّ تَعَرَّضَ لَهُ عَبْدٌ فَقِيرٌ فَنَعَشَهُ. أللَّهُمَّ لاَ خَفِيرَ لِي مِنْكَ فَلْيَخْفُرْنِيْ عِزُّكَ، وَلا شَفِيعَ لِيْ إلَيْكَ فَلْيَشْفَعْ لِي فَضْلُكَ، وَقَدْ أَوْجَلَتْنِي خَطَايَايَ فَلْيُؤْمِنِّي عَفْوُكَ، فَمَا كُلُّ مَا نَطَقْتُ بِهِ عَنْ جَهْل مِنِّي بِسُوْءِ أَثَرِي، وَلاَ نِسيَان لِمَا سَبَقَ مِنْ ذَمِيمِ فِعْلِي، وَلكِنْ لِتَسْمَعَ سَمَاؤُكَ وَمَنْ فِيْهَـا، وَأَرْضُكَ وَمَنْ عَلَيْهَا مَا أَظْهَرْتُ لَكَ مِنَ النَّدَمِ، وَلَجَـأتُ إلَيْكَ فِيـهِ مِنَ التَّوْبَـةِ، فَلَعَـلَّ بَعْضَهُمْ بِرَحْمَتِكَ يَرْحَمُنِي لِسُوءِ مَوْقِفِي، أَوْ تُدْرِكُهُ الرِّقَّةُ عَلَىَّ لِسُوءِ حَالِي فَيَنَالَنِي مِنْهُ بِدَعْوَةٍ أَسْمَعُ لَدَيْكَ مِنْ دُعَائِي، أَوْ شَفَاعَـةٍ أَوْكَدُ عِنْدَكَ مِنْ شَفَاعَتِي تَكُونُ بِهَا نَجَاتِي مِنْ غَضَبِكَ وَفَوْزَتِي بِرضَاكَ. أللَّهُمَّ إنْ يَكُنِ النَّدَمُ تَوْبَةً إلَيْكَ فَأَنَا أَنْدَمُ اْلنَّادِمِينَ، وَإنْ يَكُنِ التَّرْكُ لِمَعْصِيَتِكَ إنَابَةً فَأَنَا أَوَّلُ الْمُنِيبينَ، وَإنْ يَكُنِ الاسْتِغْفَارُ حِطَّةً لِلذُّنُوبِ فَإنَي لَكَ مِنَ الْمُسْتَغْفِرِينَ. اللَّهُمَّ فَكَمَا أَمَرْتَ بِالتَّوْبَةِ وَضَمِنْتَ الْقَبُولَ وَحَثَثْتَ عَلَى الدُّعَـاءِ وَوَعَدْتَ الإجَابَةَ، فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّدِ وَآلِهِ وَاقْبَلْ تَوْبَتِي وَلاَ تَرْجِعْني مَرجَعَ الخَيبَةِ منْ رَحْمَتِك إنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ عَلَى الْمُذْنِبِينَ، وَالرَّحِيمُ لِلْخَاطِئِينَ الْمُنِيبِينَ. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ كَمَا هَدَيْتَنَا بِهِ وَصَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ كَمَا اسْتَنْقَذْتَنَا بِهِ، وَصَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ صَلاَةً تَشْفَعُ لَنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَوْمَ الْفَاقَةِ إلَيْكَ، إنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْء قَدِيرٌ وَهُوَ عَلَيْكَ يَسِيرٌ .

    دُعائے توبہ: اے معبود! اے وہ جس کی توصیف سے وصف کرنے والوں کے توصیفی الفاظ قاصر ہیں، اے وہ جو امیدواروں کی امیدوں کا مرکز ہے، اے وہ جس کے ہاں نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں ہوتا، اے وہ جو عبادت گزاروں کے خوف کی منزل منتہا ہے، اے وہ جو پرہیزگاروں کے بیم و ہراس کی حد آخر ہے۔ یہ اس شخص کا موقف ہے جو گناہوں کے ہاتھوں میں کھیلتا ہے، اور خطاؤں کی باگوں نے جسے کھینچ لیا ہے، اور جس پر شیطان غالب آ گیا ہے، اس لئے تیرے حکم سے لاپرواہی کرتے ہوئے اس نے (ادائے فرض) میں کوتاہی کی، اور فریب خوردگی کی وجہ سے تیرے منہیات کا مرتکب ہوتا ہے، گویا وہ اپنے کو تیرے قبضۂ قدرت میں سمجھتا ہی نہیں ہے، اور تیرے فضل و احسان کو جو تو نے اس پر کئے ہیں مانتا ہی نہیں ہے۔ مگر جب اس کی چشم بصیرت وا ہوئی اور اس کوری و بے بصری کے بادل اس کے سامنے سے چھٹے تو اس نے اپنے نفس پر کئے ہوئے ظلموں کا جائزہ لیا، اور جن جن موارد پر اپنے پروردگار کی مخالفتیں کی تھیں ان پر نظر دوڑائی تو اپنے بڑے گناہوں کو (واقعاً) بڑا اور اپنی عظیم مخالفتوں کو (حقیقتاً) عظیم پایا تو وہ اس حالت میں کہ تجھ سے امیدوار بھی ہے اور شرمسار بھی، تیری جانب متوجہ ہوا، اور تجھ پر اعتماد کرتے ہوئے تیری طرف راغب ہوا، اور یقین و اطمینان کے ساتھ اپنی خواہش و آرزو کو لے کر تیرا قصد کیا، اور (دل میں) تیرا خوف لئے ہوئے خلوص کے ساتھ تیری بارگاہ کا ارادہ کیا، اس حالت میں کہ تیرے علاوہ اسے کسی سے غرض نہ تھی اور تیرے سوا اسے کسی کا خوف نہ تھا۔ چنانچہ وہ عاجزانہ صورت میں تیرے سامنے آکھڑا ہوا، اور فروتنی سے اپنی آنکھیں زمین میں گاڑ لیں، اور تذلل و انکسار سے تیری عظمت کے آگے سر جھکا لیا، اور عجز و نیاز مندی سے اپنے راز ہائے درون پردہ جنہیں تو اس سے بہتر جانتا ہے تیرے آگے کھول دیئے، اور عاجزی سے اپنے وہ گناہ جن کا تو اس سے زیادہ حساب رکھتا ہے ایک ایک کر کے شمار کئے، اور ان بڑے گناہوں سے جو تیرے علم میں اس کیلئے مہلک اور ان بداعمالیوں سے جو تیرے فیصلہ کے مطابق اس کیلئے رسوا کُن ہیں، داد و فریاد کرتا ہے، وہ گناہ کہ جن کی لذت جاتی رہی ہے اور ان کا وبال ہمیشہ کیلئے باقی رہ گیا ہے۔ اے میرے معبود! اگر تو اس پر عذاب کرے تو وہ تیرے عدل کا منکر نہیں ہو گا، اور اگر اس سے درگزر کرے اور ترس کھائے تو وہ تیرے عفو کو کوئی عجیب اور بڑی بات نہیں سمجھے گا۔ اس لئے کہ تو وہ پروردگار کریم ہے، جس کے نزدیک بڑے سے بڑے گناہ کو بھی بخش دینا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ اچھا تو اے میرے معبود! میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں، تیرے حکم دُعا کی اطاعت کرتے ہوئے اور تیرے وعدہ کا ایفا چاہتے ہوئے جو قبولیت دُعا کے متعلق تو نے اپنے اس ارشاد میں کیا ہے: ”مجھ سے دُعا مانگو تو میں تمہاری دُعا قبول کروں گا“۔ خداوندا! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور اپنی مغفرت میرے شامل حال کر جس طرح میں (اپنے گناہوں کا) اقرار کرتے ہوئے تیری طرف متوجہ ہوا ہوں، اور ان مقامات سے جہاں گناہوں سے مغلوب ہونا پڑتا ہے مجھے (سہارا دے کر) اوپر اٹھا لے جس طرح میں نے اپنے نفس کو تیرے آگے (خاک مذلت پر) ڈال دیا ہے، اور اپنے دامن رحمت سے میری پردہ پوشی فرما، جس طرح مجھ سے انتقام لینے میں صبر و حلم سے کام لیا ہے۔ اے اللہ! اپنی اطاعت میں میری نیت کو استوار، اور اپنی عبادت میں میری بصیرت کو قوی کر، اور مجھے ان اعمال کے بجالانے کی توفیق دے جن کے ذریعہ تو میرے گناہوں کے میل کو دھو ڈالے، اور جب مجھے دنیا سے اٹھائے تو اپنے دین اور اپنے نبی محمدﷺ کے آئین پر اٹھا۔ اے معبود! میں اس مقام پر اپنے چھوٹے بڑے گناہوں، پوشیدہ و آشکار معصیتوں اور گزشتہ و موجودہ لغزشوں سے توبہ کرتا ہوں، اس شخص کی سی توبہ جو دل میں معصیت کا خیال بھی نہ لائے اور گناہ کی طرف پلٹنے کا تصور بھی نہ کرے۔ خداوندا! تو نے اپنی محکم کتاب میں فرمایا ہے کہ: تو بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور گناہوں کو معاف کرتا ہے اور توبہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے، لہٰذا تو میری توبہ قبول فرما جیسا کہ تو نے وعدہ کیا ہے، اور میرے گناہوں کو معاف کر دے جیسا کہ تو نے ذمہ لیا ہے، اور حسب قرار داد اپنی محبت کو میرے لئے ضروری قرار دے، اور میں تجھ سے اے میرے پروردگار! یہ اقرار کرتا ہوں کہ تیری ناپسندیدہ باتوں کی طرف رخ نہیں کروں گا، اور یہ قول و قرار کرتا ہوں کہ قابلِ مذمت چیزوں کی طرف رجوع نہ کروں گا، اور یہ عہد کرتا ہوں کہ تیری تمام نافرمانیوں کو یکسر چھوڑ دوں گا۔ بارالٰہا! تو میرے عمل و کردار سے خوب آگاہ ہے، اب جو بھی تو جانتا ہے اسے بخش دے، اور اپنی قدرت کاملہ سے پسندیدہ چیزوں کی طرف مجھے موڑ دے۔ اے اللہ! میرے ذمہ کتنے ایسے حقوق ہیں جو مجھے یاد ہیں، اور کتنے ایسے مظلمے ہیں جن پر نسیان کا پردہ پڑا ہوا ہے، لیکن وہ سب کے سب تیری آنکھوں کے سامنے ہیں،ایسی آنکھیں جو خواب آلودہ نہیں ہوتیں، اور تیرے علم میں ہیں، ایسا علم جس میں فرو گزاشت نہیں ہوتی، لہٰذا جن لوگوں کا مجھ پر کوئی حق ہے اس کا انہیں عوض دے کر اس کا بوجھ مجھ سے برطرف اور اس کا بار ہلکا کر دے اور مجھے پھر ویسے گناہوں کے ارتکاب سے محفوظ رکھ۔ اے اللہ! میں توبہ پر قائم نہیں رہ سکتا مگر تیری ہی نگرانی سے، اور گناہوں سے باز نہیں آسکتا مگر تیری ہی قوت و توانائی سے، لہٰذا مجھے بے نیاز کرنے والی قوت سے تقویت دے اور (گناہوں سے) روکنے والی نگرانی کا ذمہ لے۔ اے اللہ! وہ بندہ جو تجھ سے توبہ کرے اور تیرے علم غیب میں وہ توبہ شکنی کرنے والوں اور گناہ و معصیت کی طرف دو بارہ پلٹنے والا ہو تو میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں کہ اس جیسا ہوں، میری توبہ کو ایسی توبہ قرار دے کہ اس کے بعد پھر توبہ کی احتیاج نہ رہے، جس سے گزشتہ گناہ محو ہو جائیں اور زندگی کے باقی دنوں میں (گناہوں سے) سلامتی کا سامان ہو۔ اے اللہ! میں اپنی جہالتوں سے عذر خواہ اور اپنی بداعمالیوں سے بخشش کا طلبگار ہوں، لہٰذا اپنے لطف و احسان سے مجھے پناہ گاہ رحمت میں جگہ دے، اور اپنے تفضل سے اپنی عافیت کے پردہ میں چھپا لے۔ اے اللہ! میں دل میں گزرنے والے خیالات اور آنکھ کے اشاروں اور زبان کی گفتگوؤں، غرض ہر اس چیز سے جو تیرے ارادہ و رضا کے خلاف ہو اور تیری محبت کے حدود سے باہر ہو، تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں، ایسی توبہ جس سے میرا ہر ہر عضو اپنی جگہ پر تیری عقوبتوں سے بچا رہے، اور ان تکلیف دہ عذابوں سے جن سے سر کش لوگ خائف رہتے ہیں محفوظ رہے۔ اے معبود! یہ تیرے سامنے میرا عالم تنہائی، تیرے خوف سے میرے دل کی دھڑکن، تیری ہیبت سے میرے اعضاء کی تھر تھری، ان حالتوں پر رحم فرما۔ پروردگارا! مجھے گناہوں نے تیری بارگاہ میں رسوائی کی منزل پر لا کھڑا کیا ہے، اب اگر چپ رہوں تو میری طرف سے کوئی بولنے والا نہیں ہے، اور کوئی وسیلہ لاؤں تو شفاعت کا سزاوار نہیں ہوں۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور اپنے کرم و بخشش کو میری خطاؤں کا شفیع قرار دے، اور اپنے فضل سے میرے گناہوں کو بخش دے، اور جس سزا کا میں سزاوار ہوں وہ سزا نہ دے، اور اپنا دامن کرم مجھ پر پھیلا دے، اور اپنے پردۂ عفو و رحمت میں مجھے ڈھانپ لے، اور مجھ سے اس ذی اقتدار شخص کا سا برتاؤ کر جس کے آگے کوئی بندہ ذلیل گڑگڑائے تو وہ اس پر ترس کھائے، یا اس دولتمند کا سا جس سے کوئی بندہ محتاج لپٹے تو وہ اسے سہارا دے کر اٹھا لے۔ بارالٰہا! مجھے تیرے (عذاب) سے کوئی پناہ دینے والا نہیں ہے، اب تیری قوت و توانائی ہی پناہ دے تو دے، اور تیرے یہاں کوئی میری سفارش کرنے والا نہیں، اب تیرا فضل ہی سفارش کرے تو کرے، اور میرے گناہوں نے مجھے ہراساں کر دیا ہے، اب تیرا عفو و درگزر ہی مجھے مطمئن کرے تو کرے، یہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں اس لئے نہیں کہ میں اپنی بداعمالیوں سے ناواقف اور اپنی گزشتہ بدکردار یوں کو فراموش کر چکا ہوں، بلکہ اس لئے کہ تیرا آسمان اور جو اس میں رہتے سہتے ہیں اور تیری زمین اور جو اس پر آباد ہیں، میری ندامت کو جس کا میں نے تیرے سامنے اظہار کیا ہے اور میری توبہ کو جس کے ذریعہ تجھ سے پناہ مانگی ہے سن لیں، تاکہ تیری رحمت کی کارفرمائی کی وجہ سے کسی کو میرے حال زار پر رحم آجائے، یا میری پریشان حالی پر اس کا دل پسیجے، تو میرے حق میں دُعا کرے جس کی تیرے ہاں میری دُعا سے زیادہ شنوائی ہو، یا کوئی ایسی سفارش حاصل کر لوں جو تیرے ہاں میری درخواست سے زیادہ مؤثر ہو، اور اس طرح تیرے غضب سے نجات کی دستاویز اور تیری خوشنودی کا پروانہ حاصل کر سکوں۔ اے اللہ! اگر تیری بارگاہ میں ندامت و پشیمانی ہی توبہ ہے تو میں پشیمان ہونے والوں میں سب سے زیادہ پشیمان ہوں، اور اگر ترک معصیت ہی توبہ و انابت ہے تو میں توبہ کرنے والوں میں اول درجہ پر ہوں، اور اگر طلب مغفرت گناہوں کو زائل کرنے کا سبب ہے تو مغفرت کرنے والوں میں سے ایک میں بھی ہوں۔ خدایا! جبکہ تو نے توبہ کا حکم دیا اور قبول کرنے کا ذمہ لیا ہے اور دُعا پر آمادہ کیا ہے اور قبولیت کا وعدہ فرمایا ہے تو رحمت نازل فرما محمدؐ اور ان کی آلؑ پر اور میری توبہ کو قبول فرما، اور مجھے اپنی رحمت سے ناامیدی کے ساتھ نہ پلٹا، کیونکہ تو گنہگاروں کی توبہ قبول کرنے والا اور رجوع ہونے والے خطاکاروں پر رحم کرنے والا ہے۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما جس طرح تو نے ان کے وسیلہ سے ہماری ہدایت فرمائی ہے، تو محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل کر جس طرح ان کے ذریعہ ہمیں (گمراہی کے بھنور سے) نکالا ہے، تو محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل کر ایسی رحمت جو قیامت کے روز اور تجھ سے احتیاج کے دن ہماری سفارش کرے، اس لئے کہ تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور یہ امر تیرے لئے سہل و آسمان ہے۔

  32. دعاء 32 نماز شب کے بعد کی دعا

    32

    أَللَّهُمَّ يَا ذَا الْمُلْكِ الْمُتأبِّدِ بِالْخُلُودِ وَالْسُلْطَانِ الْمُمْتَنِعِ بِغَيْرِ جُنُود وَلاَ أَعْوَان، وَالْعِزِّ الْبَاقِي عَلَى مَرِّ الدُّهُورِ، وَخَوَالِي الأَعْوَامِ، وَمَوَاضِي الأَزْمَانِ وَالأيَّامِ، عَزَّ سُلْطَانُكَ عِزّاً لا حَدَّ لَهُ بِأَوَّلِيَّةٍ وَلاَ مُنْتَهَى لَهُ بِآخِرِيَّةٍ، وَاسْتَعْلَى مُلْكُكَ عُلُوّاً سَقَطَتِ الأشْيَاءُ دُونَ بُلُوغِ أَمَدِهِ وَلاَ يَبْلُغُ أَدْنَى مَا اسْتَأثَرْتَ بِـهِ مِنْ ذَلِكَ أَقْصَى نَعْتِ النَّـاعِتِينَ. ضَلَّتْ فِيْـكَ الصِّفَاتُ وَتَفَسْخَتْ دُونَكَ النُّعُوتُ وَحَارَتْ فِي كِبْرِيِائِكَ لَطَائِفُ الأوْهَامِ، كَذلِكَ أَنْتَ اللهُ الأَوَّلُ فِي أَوَّلِيَّتِكَ، وَعَلَى ذَلِكَ أَنْتَ دَائِمٌ لا تَزُولُ، وَأَنَا الْعَبْدُ الضَّعِيْفُ عَمَلاً الجَسِيْمُ أَمَلاً، خَرَجَتْ مِنْ يَدِي أَسْبَابُ الْوُصُلاَت إلاّ مَا وَصَلَهُ رَحْمَتُكَ ، وَتَقَطَّعَتْ عَنِّي عِصَمُ الآمَالِ إلاّ مَا أَنَا مُعْتَصِمٌ بِهِ مِنْ عَفْوِكَ، قَلَّ عِنْدِي مَا أَعْتَدُّ بِهِ مِنْ طَاعَتِكَ وَكَثُرَ عَلَيَّ مَا أَبُوءُ بِهِ مِنْ مَعْصِيَتِكَ، وَلَنْ يَضِيْقَ عَلَيْكَ عَفْوٌ عَنْ عَبْدِكَ وَإنْ أَسَاءَ فَاعْفُ عَنِّي. أللَّهًمَّ وَقَدْ أَشْرَفَ عَلَى خَفَايَا الأَعْمَالِ عِلْمُكَ وَانْكَشَفَ كُلُّ مَسْتُور دُونَ خُبْرِكَ وَلاَ تَنْطَوِي عَنْكَ دَقَائِقُ الأُمُورِ وَلاَ تَعْزُبُ عَنْكَ غَيِّبَاتُ السَّرَائِرِ، وَقَدِ اسْتَحْوَذَ عَلَيَّ عَدُوُّكَ الَّذِي اسْتَنْظَرَكَ لِغِوَايتِي فَأَنْظَرْتَهُ، وَاسْتَمْهَلَكَ إلَى يَوْمِ الدِّيْنِ لاِضْلاَلِي فَأَمْهَلْتَهُ، فَأوْقَعَنِيْ وَقَدْ هَرَبْتُ إلَيْكَ مِنْ صَغَائِرِ ذُنُوبٍ مُوبِقَةٍ وَكَبَائِرِ أَعْمَالٍ مُرْدِيَـةٍ حَتَّى إذَا قَارَفْتُ مَعْصِيَتَـكَ وَاسْتَوْجَبْتُ بِسُوءِ سَعْيِي سَخْطَتَكَ فَتَلَ عَنِّي عِذَارَ غَدْرِهِ، وَتَلَقَّانِي بكَلِمَةِ كُفْرهِ، وَتَوَلَّى الْبَراءَةَ مِنِّي وَأَدْبَرَ مُوَلِّيَاً عَنِّي، فَأَصْحَرنِي لِغَضَبِكَ فَرِيداً، وَأَخْرَجَني إلى فِنَاءِ نَقِمَتِكَ طَرِيداً لاَ شَفِيعٌ يَشْفَعُ لِيْ إلَيْـكَ، وَلاَ خَفِيـرٌ يُؤْمِنُنِي عَلَيْـكَ وَلاَ حِصْنٌ يَحْجُبُنِي عَنْكَ وَلاَ مَلاَذٌ أَلْجَأُ إلَيْهِ مِنْكَ. فَهَذَا مَقَامُ الْعَائِذِ بِكَ، وَمَحَلُّ الْمُعْتَرِفِ لَكَ، فَلاَ يَضِيقَنَّ عَنِّي فَضْلُكَ، وَلا يَقْصُـرَنَّ دونِي عَفْوُكَ، وَلا أكُنْ أَخْيَبَ عِبَادِكَ التَّائِبِينَ، وَلاَ أَقْنَطَ وفُودِكَ الآمِلِينَ وَاغْفِرْ لِي إنَّكَ خَيْرُ الْغَافِرِينَ. أللَّهُمَّ إنَّكَ أَمَرْتَنِي فَتَرَكْتُ، وَنَهَيْتَنِي فَرَكِبْتُ، وَسَوَّلَ لِيَ الْخَطَأَ خَاطِرُ السُّوءِ فَفَرَّطْتُ، وَلا أَسْتَشْهِدُ عَلَى صِيَامِي نَهَـاراً، وَلاَ أَسْتَجِيرُ بِتَهَجُّدِي لَيْلاً، وَلاَ تُثْنِي عَلَيَّ بِإحْيَائِهَا سُنَّةٌ حَـاشَا فُرُوضِـكَ الَّتِي مَنْ ضَيَّعَها هَلَكَ، وَلَسْتُ أَتَوَسَّلُ إلَيْكَ بِفَضْلِ نَافِلَة مَعَ كَثِيرِ مَا أَغْفَلْتُ مِنْ وَظَائِفِ فُرُوضِكَ، وَتَعَدَّيْتُ عَنْ مَقَامَاتِ حُدُودِكَ إلَى حُرُمَات انْتَهَكْتُهَا، وَكَبَائِرِ ذُنُوب اجْتَرَحْتُهَا كَانَتْ عَافِيَتُكَ لِي مِنْ فَضَائِحِهَا سِتْراً. وَهَذَا مَقَامُ مَنِ اسْتَحْيَى لِنَفْسِهِ مِنْكَ، وَسَخِطَ عَلَيْهَا، وَرَضِيَ عَنْكَ فَتَلَقَّاكَ بِنَفْس خَاشِعَة، وَرَقَبَة خَاضِعَة، وَظَهْر مُثْقَل مِنَ الْخَطَايَا وَاقِفاً بَيْنَ الرَّغْبَةِ إلَيْكَ وَالرَّهْبَةِ مِنْكَ، وَأَنْتَ أَوْلَى مَنْ رَجَـاهُ، وَأَحَقُّ مَنْ خَشِيَـهُ وَاتّقـاهُ، فَاعْطِنِي يَا رَبِّ مَا رَجَوْتُ، وَآمِنِّي مَا حَذِرْتُ، وَعُدْ عَلَيَّ بِعَائِدَةِ رَحْمَتِكَ إنَّكَ أكْرَمُ الْمَسْؤُولِينَ. أللَّهُمَّ وَإذْ سَتَـرْتَنِي بِعَفْوِكَ وَتَغَمَّـدْتَنِي بِفَضْلِكَ فِي دَارِ الْفَنَاءِ بِحَضرَةِ الأكْفَاءِ فَأَجِرْنِي مِنْ فَضِيحَاتِ دَارِ الْبَقَاءِ عِنْدَ مَوَاقِفِ الأشْهَادِ مِنَ المَلائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ وَالرُّسُلِ الْمُكَرَّمِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ، مِنْ جَار كُنْتُ أُكَاتِمُهُ سَيِّئاتِي وَمِنْ ذِي رَحِم كُنْتُ أَحْتَشِمُ مِنْهُ فِي سَرِيرَاتِي، لَمْ أَثِقْ بِهِمْ رَبِّ فِي السِّتْرِ عَلَيَّ، وَوَثِقْتُ بِكَ رَبِّ فِي الْمَغفِرَةِ لِيْ، وَأَنْتَ أوْلَى مَنْ وُثِقَ بِهِ وَأَعْطَى مَنْ رُغِبَ إلَيْهِ وَأَرْأَفُ مَنِ اسْتُرْحِمَ فَارْحَمْنِي. أللهُمَّ وَأنتَ حَدَرْتَنِي مَاءً مَهِيناً مِنْ صُلب، مُتَضَائِقِ الْعِظَامِ حَرِجِ الْمَسَالِكِ إلَى رَحِم ضَيِّقَة سَتَرْتَهَا بِالْحُجُبِ تُصَرِّفُنِي حَالاً عَنْ حَال حَتَّى انْتَهَيْتَ بِيْ إلَى تَمَامِ الصُّورَةِ وَأَثْبَتَّ فِيَّ الْجَوَارحَ كَمَا نَعَتَّ فِي كِتَابِكَ نُطْفَةً ثُمَّ عَلَقَةً ثُمَّ مُضْغَةً ثُمَّ عِظَاماً ثُمَّ كَسَوْتَ الْعِظَامَ لَحْماً ثُمَّ أَنْشَأتَنِي خَلْقَاً آخَرَ كَمَا شِئْتَ، حَتَّى إذَا احْتَجْتُ إلَى رِزْقِكَ، وَلَمْ أَسْتَغْنِ عَنْ غِيَـاثِ فَضْلِكَ جَعَلْتَ لِي قُـوتـاً مِنْ فَضْلِ طَعَام وَشَرَاب أَجْرَيْتَهُ لاِمَتِكَ الَّتِيْ أَسْكَنْتَنِي جَوْفَهَا وَأَوْدَعْتَنِي قَرَارَ رَحِمِهَا، وَلَوْ تَكِلُنِي يَا رَبِّ فِي تِلْكَ الْحَـالاتِ إلَى حَوْلِي، أَوْ تَضْطَرُّنِي إلَى قُوّتي لَكَانَ الْحَوْلُ عَنِّي مُعْتَزِلاً، وَلَكَانَتِ الْقُوَّةُ مِنِّي بَعِيدَةً، فَغَذَوْتَنِي بِفَضْلِكَ غِذَاءَ البَرِّ اللَّطِيفِ ، تَفْعَلُ ذَلِكَ بِي تَطَوُّلاً عَلَيَّ إلَى غَايَتِي هَذِهِ، لاَ أَعْدَمُ بِرَّكَ وَلاَ يُبْطِئُ بِي حُسْنُ صَنِيعِكَ، وَلاَ تَتَأكَّدُ مَعَ ذَلِكَ ثِقَتِي، فَأَتَفَرَّغَ لِمَا هُوَ أَحْظَى لِيْ عِنْدَكَ، قَدْ مَلَكَ الشَّيْطَانُ عِنَانِي فِي سُوءِ الظَّنِّ وَضَعْفِ الْيَقِينِ، فَأَنَا أَشْكُو سُوْءَ مُجَاوَرَتِهِ لِي وَطَـاعَةَ نَفْسِي لَـهُ، وَأَسْتَعْصِمُـكَ مِنْ مَلَكَتِهِ، وَأَتَضَـرَّعُ إلَيْكَ في صَرفِ كَيدِهِ عَنّي و أسأَلُكَ فِي أَنْ تُسَهِّلَ إلَى رِزْقِي سَبِيلاً، فَلَكَ الْحَمْدُ عَلَى ابْتِدَائِكَ بِالنِّعَمِ الْجِسَامِ، وَإلْهَامِكَ الشُّكْرَ عَلَى الإحْسَانِ وَالإِنْعَامِ ، فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَسَهِّلْ عَلَيَّ رِزْقِي وَأَنْ تُقَنِّعَنِي بِتَقْدِيرِكَ لِيْ ، وَأَنْ تُرْضِيَنِي بِحِصَّتِيْ فِيمَا قَسَمْتَ لِيْ، وَأَنْ تَجْعَـلَ مَـا ذَهَبَ مِنْ جِسْمِيْ وَعُمُرِيْ فِي سَبِيْلِ طَاعَتِكَ إنَّكَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ. أللَهُمَّ إنِّي أَعُوذُ بِكَ مَنْ نَارٍ تَغَلَّظْتَ بِهَا عَلَى مَنْ عَصَاكَ، وَتَوَعَّدْتَ بِهَا مَنْ صَدَفَ عَنْ رِضَاكَ، وَمِنْ نَارٍ نورُهَا ظُلْمَة وَهَيِّنُهَا أَلِيمٌ، وَبَعِيدُهَا قَرِيبٌ، وَمِنْ نَارٍ يَأْكُلُ بَعْضَهَا بَعْضٌ، وَيَصُولُ بَعْضُهَا عَلَى بَعْض، وَمِنْ نَارٍ تَذَرُ الْعِظَامَ رَمِيماً، وَتَسْقِي أَهْلَهَا حَمِيماً ، وَمِنْ نَارٍ لاَ تُبْقِي عَلَى مَنْ تَضَرَّعَ إلَيْهَا، وَلاَ تَرْحَمُ مَنِ اسْتَعْطَفَهَا، وَلاَ تَقْدِرُ عَلَى التَّخْفِيفِ عَمَّنْ خَشَعَ لَهَا وَاسْتَسْلَمَ إلَيْهَا، تَلْقَى سُكَّانَهَا بِأَحَرِّ مَا لَدَيْهَا مِنْ أَلِيْمِ النَّكَالِ وَشَدِيدِ الْوَبَالِ، وَأَعُوذُ بكَ مِنْ عَقَارِبِهَا الْفَاغِرَةِ أَفْوَاهُهَا، وَحَيّاتِهَا الصَّالِقَةِ بِأَنْيَابِهَا، وَشَرَابِهَا الَّذِي يُقَطِّعُ أَمْعَاءَ وَأَفْئِدَةَ سُكَّانِهَا، وَيَنْزِعُ قُلُوبَهُمْ، وَأَسْتَهْدِيْكَ لِمَا باعَدَ مِنْهَا وَأَخَّرَ عَنْهَا. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِـهِ وَأَجِرْنِي مِنْهَا بِفَضْل رَحْمَتِكَ، وَأَقِلْنِي عَثَرَاتِي بِحُسْنِ إقَالَتِكَ ، وَلاَ تَخْذُلْنِي يَا خَيْرَ الْمُجيرِينَ أللَّهُمَّ إنَّكَ تَقِي الْكَرِيهَةَ ، وَتُعْطِي الْحَسَنَةَ ، وَتَفْعَلُ مَا تُرِيـدُ وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْء قَدِيرٌ. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ، إذَا ذُكِرَ الأبْرَارُ، وَصَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ مَا اخْتَلَفَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ صَلاَةً لاَ يَنْقَطِعُ مَدَدُهَا، وَلاَ يُحْصَى عَدَدُهَا صَلاَةً تَشْحَنُ الْهَوَاءَ، وَتَمْلاُ الأرْضَ وَالسَّماءَ. صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ حَتَّى يَرْضَى، وَصَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ بَعْدَ الرِّضَا صَلاَةً لا حَدَّ لَها وَلاَ مُنْتَهَى يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ.

    اعترافِ گناہ کے سلسلہ میں حضرتؑ کی دُعا جسے نمازِ شب کے بعد پڑھتے: اے اللہ! اے دائمی و ابدی بادشاہی والے اور لشکر و اعوان کے بغیر مضبوط فرمانروائی والے اور ایسی عزت و رفعت والے جو صدیوں، سالوں، زمانوں اور دنوں کے بیتنے گزرنے کے باوجود پائندہ و برقرار ہے، تیری بادشاہی ایسی غالب ہے جس کی ابتدا کی کوئی حد ہے اور نہ انتہا کا کوئی آخری کنارا ہے، اور تیری جہانداری کا پایہ اتنا بلند ہے کہ تمام چیزیں اس کی بلندی کو چھونے سے قاصر ہیں، اور تعریف کرنے والوں کی انتہائی تعریف تیری اس بلندی کے پست ترین درجہ تک بھی نہیں پہنچ سکتی جسے تو نے اپنے لئے مخصوص کیا ہے، صفتوں کے کارواں تیرے بارے میں سرگردان ہیں، اور توصیفی الفاظ تیرے لائق حال مدح تک پہنچنے سے عاجز ہیں، اور نازک تصورات تیرے مقام کبریائی میں ششدر و حیران ہیں۔ تو وہ خدائے ازلی ہے جو ازل ہی سے ایسا ہے، اور ہمیشہ بغیر زوال کے ایسا ہی رہے گا، میں تیرا وہ بندہ ہوں جس کا عمل کمزور اور سرمایۂ امید زیادہ ہے، میرے ہاتھ سے تعلق و وابستگی کے رشتے جاتے رہے ہیں مگر وہ رشتہ جسے تیری رحمت نے جوڑ دیا ہے، اور امیدوں کے وسیلے بھی ایک ایک کر کے ٹوٹ گئے ہیں مگر تیرے عفو و درگزر کا وسیلہ جس پر سہارا کئے ہوئے ہوں، تیری اطاعت جسے کسی شمار میں لا سکوں نہ ہونے کے برابر ہے، اور وہ معصیت جس میں گرفتار ہوں بہت زیادہ ہے، تجھے اپنے کسی بندے کو معاف کر دینا اگرچہ وہ کتنا ہی برا کیوں نہ ہو دشوار نہیں ہے، تو پھر مجھے بھی معاف کر دے۔ اے اللہ تیرا علم تمام پوشیدہ اعمال پر محیط ہے، اور تیرے علم و اطلاع کے آگے ہر مخفی چیز ظاہر و آشکار اہے، اور باریک سے باریک چیزیں بھی تیری نظر سے پوشیدہ نہیں ہیں، اور نہ راز ہائے درون پردہ تجھ سے مخفی ہیں، تیرا وہ دشمن جس نے میرے بے راہرو ہونے کے سلسلہ میں تجھ سے مہلت مانگی اور تو نے اسے مہلت دی، اور مجھے گمراہ کرنے کیلئے روز قیامت تک فرصت طلب کی اور تو نے اسے فرصت دی، مجھ پر غالب آگیا ہے، اور جبکہ میں ہلاک کرنے والے صغیرہ گناہوں اور تباہ کرنے والے کبیرہ گناہوں سے تیرے دامن میں پناہ لینے کیلئے بڑھ رہا تھا اس نے مجھے آ گرایا، اور جب میں گناہ کا مرتکب ہوا اور اپنی بداعمالی کی وجہ سے تیری ناراضی کا مستحق بنا تو اس نے اپنے حیلہ و فریب کی باگ مجھ سے موڑ لی، اور اپنے کلمۂ کفر کے ساتھ میرے سامنے آ گیا، اور مجھ سے بیزاری کا اظہار کیا، اور میری جانب سے پیٹھ پھرا کر چل دیا، اور مجھے کھلے میدان میں تیرے غضب کے سامنے اکیلا چھوڑ دیا، اور تیرے انتقام کی منزل میں مجھے کھینچ تان کر لے آیا۔ اس حالت میں کہ نہ کوئی سفارش کرنے والا تھا جو تجھ سے میری سفارش کرے، اور نہ کوئی پناہ دینے والا تھا جو مجھے تیرے عذاب سے ڈھارس دے، اور نہ کوئی چار دیواری تھی جو مجھے تیری نگاہوں سے چھپا سکے، اور نہ کوئی پناہ گاہ تھی جہاں تیرے خوف سے پناہ لے سکوں۔ اب یہ منزل میرے پناہ مانگنے اور یہ مقام میرے گناہوں کے اعتراف کرنے کا، لہٰذا ایسا نہ ہو کہ تیرے دامن فضل (کی وسعتیں) میرے لئے تنگ ہو جائیں اور عفو و درگزر مجھ تک پہنچنے ہی نہ پائے، اور نہ توبہ گزار بندوں میں سب سے زیادہ ناکام ثابت ہوں، اور نہ تیرے پاس امیدیں لے کر آنے والوں میں سب سے زیادہ ناامید رہوں، (بارالٰہا!) مجھے بخش دے، اس لئے کہ تو بخشنے والوں میں سب سے بہتر ہے۔ اے اللہ! تو نے مجھے (اطاعت کا) حکم دیا مگر میں اسے بجا نہ لایا، اور (برے اعمال سے) مجھے روکا مگر ان کا مرتکب ہوتا رہا، اور برے خیالات نے جب گناہ کو خوشنما کر کے دکھایا تو (تیرے احکام میں) کوتاہی کی، میں نہ روزہ رکھنے کی وجہ سے دن کو گواہ بنا سکتا ہوں، اور نہ نماز شب کی وجہ سے رات کو اپنی سپر بنا سکتا ہوں، اور نہ کسی سنّت کو میں نے زندہ کیا ہے کہ اس سے تحسین و ثنا کی توقع کروں سوائے تیرے واجبات کے کہ جو انہیں ضائع کرے، وہ بہرحال ہلاک و تباہ ہو گا اور نوافل کے فضل و شرف کی وجہ سے بھی تجھ سے توسل نہیں کر سکتا، درصورتیکہ تیرے واجبات کے بہت سے شرائط سے غفلت کرتا رہا، اور تیرے احکام کے حدود سے تجاوز کرتا ہوا محارم شریعت کا دامن چاک کرتا رہا، اور کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہوتا رہا جن کی رسوائیوں سے صرف تیرا دامن عفو رحمت پردہ پوش رہا۔ یہ (میرا موقف) اس شخص کا موقف ہے جو تجھ سے شرم و حیا کرتے ہوئے اپنے نفس کو برائیوں سے روکتا ہو، اور اس پر ناراض ہو اور تجھ سے راضی ہو، اور تیرے سامنے خوفزدہ دل، خمیدہ گردن اور گناہوں سے بوجھل پیٹھ کے ساتھ امید و بیم کی حالت میں ایستادہ ہو، اور تو ان سب سے زیادہ سزاوار ہے جن سے اس نے آس لگائی، اور ان سب سے زیادہ حقدار ہے جن سے وہ ہراساں و خائف ہوا، اے میرے پروردگار ! جب یہی حالت میری ہے تو مجھے بھی وہ چیز مرحمت فرما جس کا میں امیدوار ہوں، اور اس چیز سے مطمئن کر جس سے خائف ہوں، اور اپنی رحمت کے انعام سے مجھ پر احسان فرما۔ اس لئے کہ تو ان تمام لوگوں سے جن سے سوال کیا جاتا ہے زیادہ سخی و کریم ہے۔ اے اللہ! جبکہ تو نے مجھے اپنے دامن عفو میں چھپا لیا ہے، اور ہمسروں کے سامنے اس دار فنا میں فضل و کرم کا جامہ پہنایا ہے، تو دار بقا کی رسوائیوں سے بھی پناہ دے، اس مقام پر کہ جہاں مقرب فرشتے، معزز و باوقار پیغمبرؑ، شہیدو صالح افراد سب حاضر ہوں گے، کچھ تو ہمسائے ہوں گے جن سے میں اپنی برائیوں کو چھپاتا رہا ہوں، اور کچھ خویش و اقارب ہوں گے جن سے میں اپنے پوشیدہ کاموں میں شرم و حیا کرتا رہا ہوں، اے میرے پروردگار! میں نے اپنی پردہ پوشی میں ان پر بھروسا نہیں کیا، اور مغفرت کے بارے میں پروردگارا تجھ پر اعتماد کیا ہے، اور تو ان تمام لوگوں سے جن پر اعتماد کیا جاتا ہے زیادہ سزاوار اعتماد ہے، اور ان سب سے زیادہ عطا کرنے والا ہے جن کی طرف رجوع ہوا جاتا ہے، اور ان سب سے زیادہ مہربان ہے جن سے رحم کی التجا کی جاتی ہے، لہٰذا مجھ پر رحم فرما۔ اے اللہ! تو نے مجھے باہم پیوستہ ہڈیوں اور تنگ راہوں والی صلب سے تنگ نائے رحم میں کہ جسے تو نے پردوں میں چھپا رکھا ہے ایک ذلیل پانی (نطفہ) کی صورت میں اتارا، جہاں تو مجھے ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقل کرتا رہا، یہاں تک کہ تو نے مجھے اس حد تک پہنچا دیا جہاں میری صورت کی تکمیل ہو گئی، پھر مجھ میں اعضاء و جوارح ودیعت کئے، جیسا کہ تو نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے کہ (میں) پہلے نطفہ تھا، پھر منجمد خون ہوا، پھر گوشت کا ایک لوتھڑا، پھر ہڈیوں کا ایک ڈھانچہ، پھر ان ہڈیوں پر گوشت کی تہیں چڑھا دیں، پھر جیسا تو نے چاہا ایک دوسری طرح کی مخلوق بنا دیا، اور جب میں تیری روزی کا محتاج ہوا اور تیرے لطف و احسان کی دستگیری سے بے نیاز نہ رہ سکا تو تو نے اس بچے ہوئے کھانے پانی میں سے جسے تو نے اس کنیز کیلئے جاری کیا تھا جس کے شکم میں تو نے مجھے ٹھہرا دیا اور جس کے رحم میں مجھے ودیعت کیا تھا، میری روزی کا سر و سامان کر دیا۔ اے میرے پروردگار ان حالات میں اگر تو خود میری تدبیر پر مجھے چھوڑ دیتا، یا میری ہی قوت کے حوالے کر دیتا تو تدبیر مجھ سے کنارا کش اور قوت مجھ سے دور رہتی، مگر تو نے اپنے فضل و احسان سے ایک شفیق و مہربان کی طرح میری پرورش کا اہتمام کیا، جس کا تیرے فضل بے پایاں کی بدولت اس وقت تک سلسلہ جاری ہے کہ نہ تیرے حسن سلوک سے کبھی محروم رہا، اور نہ تیرے احسانات میں کبھی تاخیر ہوئی، لیکن اس کے باوجود یقین و اعتماد قوی نہ ہوا کہ میں صرف اسی کام کیلئے وقف ہو جاتا جو تیرے نزدیک میرے لئے زیادہ سو مند ہے،(اس بے یقینی کا سبب یہ ہے کہ) بدگمانی اور کمزوریٔ یقین کے سلسلہ میں میری باگ شیطان کے ہاتھ میں ہے، اس لئے میں اس کی بد ہمسائیگی اور اپنے نفس کی فرمانبرداری کا شکوہ کرتا ہوں، اور اس کے تسلط سے تیرے دامن میں حفظ و نگہداشت کا طالب ہوں، اور تجھ سے عاجزی کے ساتھ التجا کرتا ہوں کہ اس کے مکر و فریب کا رخ مجھ سے موڑ دے، اور تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میری روزی کی آسان سبیل پیدا کر دے۔ تیرے ہی لئے حمد و ستائش ہے کہ تو نے از خود بلند پایہ نعتیں عطا کیں، اور احسان و انعام پر (دل میں) شکر کا القاء کیا، تو محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور میرے لئے روزی کو سہل و آسان کر دے، اور جو اندازہ میرے لئے مقرر کیا ہے اس پر قناعت کی توفیق دے، اور جو حصہ میرے لئے معین کیا ہے اس پر مجھے راضی کر دے، اور جو جسم کام میں آ چکا اور جو عمر گزر چکی ہے اسے اپنی اطاعت کی راہ میں محسوب فرما، بلاشبہ تو اسباب رزق مہیا کرنے والوں میں سب سے بہتر ہے۔ بارالٰہا! میں اس آگ سے پناہ مانگتا ہوں جس کے ذریعہ تو نے اپنے نافرمانوں کی سخت گرفت کی ہے، اور جس سے تو نے ان لوگوں کو جنہوں نے تیری رضا و خوشنودی سے رخ موڑ لیا ڈرایا دھمکایا ہے، اور اس آتش جہنم سے پناہ مانگتا ہوں جس میں روشنی کے بجائے اندھیرا، جس کا خفیف لپکا بھی انتہائی تکلیف دہ اور جو کوسوں دور ہونے کے باوجود (گرمی و تپش کے لحاظ سے) قریب ہے، اور اس آگ سے پناہ مانگتا ہوں جو آپس میں ایک دوسرے کو کھا لیتی ہے اور ایک دوسرے پر حملہ آور ہوتی ہے، اور اس آگ سے پناہ مانگتا ہوں جو ہڈیوں کو خاکستر کر دے گی اور دوزخیوں کو کھولتا ہوا پانی پلائے گی، اور اس آگ سے کہ جو اس کے آگے گڑ گڑائے گا اس پر ترس نہیں کھائے گی، اور جو اس سے رحم کی التجا کرے گا اس پر رحم نہیں کرے گی، اور جو اس کے سامنے فروتنی کرے گا اور خود کو اس کے حوالے کر دے گا اس پر کسی طرح کی تخفیف کا اسے اختیار نہیں ہو گا، وہ درد ناک عذاب اور شدید عقاب کی شعلہ سامانیوں کے ساتھ اپنے رہنے والوں کا سامنا کرے گی۔ (بارالٰہا!) میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں جہنم کے بچھوؤں سے جن کے منہ کھلے ہوئے ہوں گے، اور ان سانپوں سے جو دانتوں کو پیس پیس کر پھنکار رہے ہوں گے، اور اس کے کھولتے ہوئے پانی سے جو انتڑیوں اور دلوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا، اور (سینوں کو چیر کر ) دلوں کو نکال لے گا۔ خدایا! میں تجھ سے توفیق مانگتا ہوں ان باتوں کی جو اس آگ سے دور کریں اور اسے پیچھے ہٹا دیں۔ خداوندا ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور مجھے اپنی رحمت فراواں کے ذریعہ اس آگ سے پناہ دے، اور حسن درگزر سے کام لیتے ہوئے میری لغزشوں کو معاف کر دے، اور مجھے محروم و ناکام نہ کر، اے پناہ دینے والوں میں سب سے بہتر پناہ دینے والے۔ خدایا تو سختی و مصیبت سے بچاتا اور اچھی نعمتیں عطا کرتا اور جو چاہے وہ کرتا ہے اور تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ اے اللہ! جب بھی نیکو کاروں کا ذکر آئے تو محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور جب تک شب و روز کے آنے جانے کا سلسلہ قائم رہے تو محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما، ایسی رحمت جس کا ذخیرہ ختم نہ ہو اور جس کی گنتی شمار نہ ہو سکے، ایسی رحمت جو فضائے عالم کو پر کر دے اور زمین و آسمان کو بھر دے۔ خدا ان پر رحمت نازل کرے اس حد تک کہ وہ خوشنود ہو جائیں، اور خوشنودی کے بعد بھی انؐ پر اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل کرتا رہے، ایسی رحمت جس کی نہ کوئی حد ہو اور نہ کوئی انتہا، اے تمام رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔

  33. دعاء 33 دعائے استخارہ

    33

    أَللَّهُمَّ إنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَاقْضِ لِيْ بِالْخِيَرَةِ وَأَلْهِمْنَا مَعْرِفَةَ الاخْتِيَارِ، وَاجْعَلْ ذَلِكَ ذَرِيعَةً إلَى الرِّضَا بِمَا قَضَيْتَ لَنَا وَالتَّسْلِيْمِ لِمَا حَكَمْتَ. فَأَزِحْ عَنَّا رَيْبَ الارْتِيَابِ، وَأَيِّدْنَا بِيَقِينِ الْمُخْلِصِينَ، وَلاَ تَسُمْنَا عَجْزَ الْمَعْرِفَةِ عَمَّا تَخَيَّرْتَ، فَنَغْمِطَ قَدْرَكَ، وَنَكْرَهَ مَوْضِعَ رِضَاكَ، وَنَجْنَحَ إلَى الَّتِي هِيَ أَبْعَدُ مِنْ حُسْنِ الْعَاقِبَةِ وَأَقْرَبُ إلَى ضِدِّ الْعَافِيَةِ. حَبِّبْ إلَيْنَا مَا نَكْرَهُ مِنْ قَضَائِكَ وَسَهِّلْ عَلَيْنَا مَا نَسْتَصْعِبُ مِنْ حُكْمِكَ، وَأَلْهِمْنَـا الانْقِيَـادَ لِمَا أَوْرَدْتَ عَلَيْنَـا مِنْ مَشِيَّتِكَ حَتَّى لاَ نُحِبَّ تَأخِيْرَ مَا عَجَّلْتَ، وَلاَ تَعْجيْلَ مَا أَخَّرْتَ، وَلا نَكْرَهَ مَا أَحْبَبْتَ، وَلا نَتَخَيَّرَ مَا كَرِهْتَ، وَاخْتِمْ لَنَا بِالَّتِي هِيَ أَحْمَدُ عَاقِبةً وَأكْرَمُ مَصِيراً إنَّكَ تُفِيدُ الْكَرِيمَةَ وَتُعْطِي الْجَسِيمَةَ، وَتَفْعَلُ مَا تُرِيدُ وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْء قَدِيرٌ .

    دُعائے استخارہ: بارالٰہا! میں تیرے علم کے ذریعہ تجھ سے خیر و بہبود چاہتا ہوں، تو محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل کر اور میرے لئے اچھائی کا فیصلہ صادر فرما، اور ہمارے دل میں اپنے فیصلہ (کی حکمت و مصلحت) کا القا کر، اور اسے ایک ذریعہ قرار دے کہ ہم تیرے فیصلہ پر راضی رہیں، اور تیرے حکم کے آگے سر تسلیم خم کریں، اس طرح ہم سے شک کی خلش دور کر دے، اور مخلصین کا یقین ہمارے اندر پیدا کر کے ہمیں تقویت دے۔ اور ہمیں خود ہمارے حوالے نہ کر دے کہ جو تو نے فیصلہ کیا ہے اس کی معرفت سے عاجز رہیں، اور تیری قدر و منزلت کو سبک سمجھیں، اور جس چیز سے تیری رضا وابستہ ہے اسے ناپسند کریں، اور جو چیز انجام کی خوبی سے دور اور عافیت کی ضد سے قریب ہو اس کی طرف مائل ہو جائیں۔ تیرے جس فیصلہ کو ہم ناپسند کریں وہ ہماری نظروں میں پسندیدہ بنا دے، اور جسے ہم دشوار سمجھیں اسے ہمارے لئے سہل و آسان کر دے، اور جس مشیت و ارادہ کو ہم سے متعلق کیا ہے اس کی اطاعت ہمارے دل میں القا کر، یہاں تک کہ جس چیز میں تو نے تعجیل کی ہے اس میں تاخیر اور جس میں تاخیر کی ہے اس میں تعجیل نہ چاہیں، اور جسے تو نے پسند کیا ہے اسے ناپسند اور جسے ناگوار سمجھا ہے اسے اختیار نہ کریں، اور ہمارے کاموں کا اس چیز پر خاتمہ کر جو انجام کے لحاظ سے پسندیدہ اور مآل کے اعتبار سے بہتر ہو۔ اس لئے کہ تو نفیس و پاکیزہ چیزیں عطا کرتا اور بڑی نعمتیں بخشتا ہے اور جو چاہتا ہے وہی کرتا ہے، اور تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

  34. دعاء 34 گناہوں کی رسوائی سے بچنے کی دعا

    34

    أَللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى سِتْرِكَ بَعْدَ عِلْمِكَ ، وَمُعَافَاتِكَ بَعْدَ خُبْرِكَ، فَكُلُّنَا قَدِ اقْتَرَفَ الْعَائِبَةَ فَلَمْ تَشْهَرْهُ ، وَارْتَكَبَ الْفَاحِشَةَ فَلَم تَفْضَحْهُ وَتَسَتَّـرَ بِالْمَسَاوِي فَلَمْ تَدْلُلْ عَلَيْهِ، كَمْ نهْي لَكَ قَدْ أَتَيْنَاهُ، وَأَمْر قَدْ وَقَفْتَنَا عَلَيْهِ فَتَعَدَّيْنَاهُ، وَسَيِّئَة اكْتَسَبْنَاهَا، وَخَطِيئَة ارْتَكَبْنَـاهَا، كُنْتَ الْمُطَّلِعَ عَلَيْهَا دُونَ النَّاظِرِينَ، وَالْقَادِرَ عَلَى إعْلاَنِهَا فَوْقَ الْقَادِرِينَ، كَانَتْ عَافِيَتُكَ لَنَا حِجَاباً دُونَ أَبْصَارِهِمْ، وَرَدْماً دُونَ أَسْمَاعِهِمْ، فَاجْعَلْ مَا ستَرْتَ مِنَ الْعَوْرَةِ، وَأَخْفَيْتَ مِنَ الدَّخِيلَةِ وَاعِظاً لَنَا، وَزَاجِراً عَنْ سُوْءِ الْخُلْقِ وَاقْتِرَافِ الخَطِيئَـةِ، وَسَعْياً إلَى التَّوْبَةِ الْمَاحِيَةِ وَالطَّرِيْقِ الْمَحْمُودَةِ، وقَرِّبِ الْوَقْتَ فِيهِ ، وَلاَ تَسُمْنَا الْغَفْلَةَ عَنْكَ إنَّا إلَيْكَ رَاغِبُونَ ، وَمِنَ الذُّنُوبِ تَائِبُونَ. وَصَلِّ عَلَى خِيَرَتِكَ اللَّهُمَّ مِنْ خَلْقِكَ مُحَمَّد وَعِتْرَتِهِ الصِّفْـوَةِ مِنْ بَرِيَّتِـكَ الطَّاهِرِينَ ، وَاجْعَلْنَا لَهُمْ سَامِعِينَ وَمُطِيعِينَ كَمَا أَمَرْتَ .

    دُعا (۳۴) جب خود مبتلا ہوتے یا کسی کو گناہوں کی رسوائی میں مبتلا دیکھتے تو یہ دعا پڑھتے: اے معبود! تیرے ہی لئے تمام تعریف ہے اس بات پر کہ تو نے (گناہوں کے) جاننے کے بعد پردہ پوشی کی، اور (حالات پر) اطلاع کے بعد عافیت و سلامتی بخشی، یوں تو ہم میں سے ہر ایک ہی عیوب و نقائص کے در پے ہوا مگر تو نے اسے مشتہر نہ کیا، اور افعال بد کا مرتکب ہوا مگر تو نے اس کو رسوا نہ ہونے دیا، اور پردۂ خفا میں برائیوں سے آلودہ رہا مگر تو نے اس کی نشان دہی نہ کی۔ کتنے ہی تیرے منہیات تھے جن کے ہم مرتکب ہوئے، اور کتنے ہی تیرے احکام تھے جن پر تو نے کاربند رہنے کا حکم دیا تھا مگر ہم نے ان سے تجاوز کیا، اور کتنی ہی برائیاں تھیں جو ہم سے سر زد ہوئیں، اور کتنی ہی خطائیں تھیں جن کا ہم نے ارتکاب کیا، درآنحالیکہ دوسرے دیکھنے والوں کے بجائے تو ان پر آگاہ تھا، اور دوسرے (گناہوں کی تشہیرپر) قدرت رکھنے والوں سے تو زیادہ ان کے افشا پر قادر تھا، مگر اس کے باوجود ہمارے بارے میں تیری حفاظت و نگہداشت ان کی آنکھوں کے سامنے پردہ، اور ان کے کانوں کے بالمقابل دیوار بن گئی۔ تو پھر اس پردہ داری و عیب پوشی کو ہمارے لئے ایک نصیحت کرنے والا، اور بدخوئی و ارتکاب گناہ سے روکنے والا، اور (گناہوں کو) مٹانے والی راہِ توبہ، اور طریق پسندیدہ پر گامزنی کا وسیلہ قرار دے، اور اس راہ پیمائی کے لمحے (ہم سے) قریب کر، اور ہمارے لئے ایسے اسباب مہیا نہ کر جو تجھ سے ہمیں غافل کر دیں۔ اس لئے کہ ہم تیری طرف رجوع ہونے والے اور گناہوں سے توبہ کرنے والے ہیں۔ بارالٰہا! محمدﷺ پر جو مخلوقات میں تیرے برگزیدہ اور ان کی پاکیزہ عترتؑ پر جو کائنات میں تیری منتخب کردہ ہے رحمت نازل فرما اور ہمیں اپنے فرمان کے مطابق ان کی بات پر کان دھرنے والا اور ان کے احکام کی تعمیل کرنے والا قرار دے۔

  35. دعاء 35 رضاۓ الہی پر خوش رہنے کی دعا

    35

    الْحَمْدُ للهِ رِضىً بِحُكْمِ اللهِ ، شَهِدْتُ أَنَّ اللهَ قَسَمَ مَعَايِشَ عِبَادِهِ بِالْعَدْلِ ، وَأَخَذَ عَلَى جَمِيْعِ خَلْقِهِ بِالْفَضْلِ. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ، وَلاَ تَفْتِنِّي بِمَا أَعْطَيْتَهُمْ وَلا تَفْتِنْهُمْ بِمَا مَنَعْتَنِي فَأحْسُدَ خَلْقَكَ، وَأَغْمِطَ حُكْمَكَ. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِـهِ، وَطَيِّبْ بِقَضَائِـكَ نَفْسِي وَوَسِّعْ بِمَـواقِعِ حُكْمِكَ صَدْرِي وَهَبْ لِي الثِّقَةَ لأُقِرَّ مَعَهَا بِأَنَّ قَضَاءَكَ لَمْ يَجْرِ إلاَّ بِالْخِيَرَةِ وَاجْعَلْ شُكْرِي لَكَ عَلَى مَا زَوَيْتَ عَنّي أَوْفَرَ مِنْ شُكْرِي إيَّاكَ عَلَى مَا خَوَّلْتَنِي وَاعْصِمْنِي مِن أنْ أظُنَّ بِذِي عَدْم خَسَاسَةً، أَوْ أَظُنَّ بِصَاحِبِ ثَرْوَة فَضْلاً، فَإنَّ الشَّرِيفَ مَنْ شَرَّفَتْهُ طَاعَتُكَ، وَالْعَزِيزَ مَنْ أَعَزَّتْهُ عِبَادَتُكَ. فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَمَتِّعْنَا بِثَرْوَة لاَ تَنْفَدُ، وَأَيِّدْنَا بِعِزٍّ لاَ يُفْقَدُ وَأَسْرِحْنَا فِيْ مُلْكِ الأَبَدِ إنَّكَ الْوَاحِدُ الأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ تَلِدْ وَلَمْ تُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَكَ كُفُواً أَحَدٌ.

    جب اہل دنیا کو دیکھتے تو راضی برضا رہنے کیلئے یہ دُعا پڑھتے: اللہ تعالیٰ کے حکم پر رضا و خوشنودی کی بنا پر اللہ تعالیٰ کیلئے حمد و ستائش ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اس نے اپنے بندوں کی روزیاں آئین عدل کے مطابق تقسیم کی ہیں، اور تمام مخلوقات سے فضل و احسان کا رویہ اختیار کیا ہے۔ اے اللہ ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور مجھے ان چیزوں سے جو دوسروں کو دی ہیں آشفتہ و پریشان نہ ہونے دے کہ میں تیری مخلوق پر حسد کروں، اور تیرے فیصلہ کو حقیر سمجھوں،اور جن چیزوں سے مجھے محروم رکھا ہے انہیں دوسروں کیلئے فتنہ و آزمائش نہ بنا دے (کہ وہ ازروئے غرور مجھے بہ نظر حقارت دیکھیں)۔ اے اللہ ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور مجھے اپنے فیصلۂ قضا و قدر پر شادماں رکھ، اور اپنے مقدرات کی پذیرائی کیلئے میرے سینہ میں وسعت پیدا کر دے، اور میرے اندر وہ روح اعتماد پھونک دے کہ میں یہ اقرار کروں کہ تیرا فیصلہ قضا و قدر و خیر و بہبودی کے ساتھ نافذ ہوا ہے، اور ان نعمتوں پر ادائے شکر کی بہ نسبت جو مجھے عطا کی ہیں ان چیزوں پر میرے شکریہ کو کامل و فزوں تر قرار دے جو مجھ سے روک لی ہیں، اور مجھے اس سے محفوظ رکھ کہ میں کسی نادار کو ذلت و حقارت کی نظر سے دیکھوں، یا کسی صاحب ثروت کے بارے میں (اس کی ثروت کی بنا پر) فضیلت و برتری کا گمان کروں۔ اس لئے کہ صاحب شرف و فضیلت وہ ہے جسے تیری اطاعت نے شرف بخشا ہو، اور صاحب عزت وہ ہے جسے تیری عبادت نے عزت و سربلندی دی ہو۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور ہمیں ایسی ثروت و دولت سے بہرہ اندوز کر جو ختم ہونے والی نہیں، اور ایسی عزت و بزرگی سے ہماری تائید فرما جو زائل ہونے والی نہیں، اور ہمیں ملکِ جاوداں کی طرف رواں دواں کر۔ بیشک تو یکتا و یگانہ اور ایسا بے نیاز ہے کہ نہ تیری کوئی اولاد ہے، اور نہ تو کسی کی اولاد ہے، اور نہ تیرا کوئی مثل و ہمسر ہے۔

  36. دعاء 36 جب بادل اور بجلی کو دیکھتے اور رعد کی آواز سنتے تو یہ دعا پڑھتے

    36

    أَللَّهُمَّ إنَّ هذَيْن آيَتَانِ مِنْ آياتِكَ، وَهذَين عَوْنَانِ مِنْ أَعْوَانِكَ يَبْتَدِرَانِ طَاعَتَكَ بِرَحْمَة نَافِعَة أَوْ نَقِمَة ضَارَّة، فَلاَ تُمْطِرْنَا بِهِمَا مَطَرَ السَّوْءِ، وَلا تُلْبِسْنَـا بِهِمَا لِبَاسَ الْبَلاَءِ. صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَأَنْزِلْ عَلَيْنَا نَفْعَ هَذِهِ السَّحَائِبِ وَبَرَكَتَهَا، وَاصْرِفْ عَنَّا أَذَاهَا وَمَضَرَّتَهَا، وَلا تُصِبْنَا فِيْهَا بآفَة، وَلا تُرْسِلْ عَلَى مَعَايِشِنَا عَاهَةً. أللَّهُمَّ وَإنْ كُنْتَ بَعَثْتَهَا نَقِمَةً وَأَرْسَلْتَهَا سَخْطَةً فَإنَّا نَسْتَجِيْرُكَ مِنْ غَضَبِكَ، وَنَبْتَهِلُ إلَيْكَ فِي سُؤَالِ عَفْوِكَ، فَمِلْ بِالْغَضَبِ إلَى الْمُشْـركِينَ، وَأَدِرْ رَحَى نَقِمَتِـكَ عَلَى الْمُلْحِـدينَ. أللَّهُمَّ أَذْهِبْ مَحْلَ بِلاَدِنَا بِسُقْيَاكَ، وَأَخْرِجْ وَحَرَ صُدُورِنَا بِرِزْقِكَ، وَلاَ تَشْغَلْنَا عَنْكَ بِغَيْرِكَ، وَلاَ تَقْطَعْ عَنْ كَافَّتِنَا مَادَّةَ بِرِّكَ، فَإنَّ الغَنِيَّ مَنْ أَغْنَيْتَ، وَإنَّ السَّالِمَ مَنْ وَقَيْتَ، مَا عِنْدَ أَحَد دُونَكَ دِفَـاعٌ، وَلاَ بِأَحَد عَنْ سَطْوَتِكَ امْتِنَاعٌ، تَحْكُمُ بِمَا شِئْتَ عَلَى مَنْ شِئْتَ، وَتَقْضِي بِمَـا أَرَدْتَ فِيمَنْ أَرَدْتَ. فَلَكَ الْحَمْدُ عَلَى مَا وَقَيْتَنَا مِنَ الْبَلاءِ، وَلَكَ الشُّكْرُ عَلَى مَا خَوَّلْتَنَا مِنَ النّعْمَاءِ حَمْداً يُخَلِّفُ حَمْدَ الْحَامِدِينَ وَرَاءَهُ، حَمْداً يَمْلاُ أَرْضَهُ وَسَمَاءَهُ إنَّـكَ الْمَنَّانُ بِجَسِيمِ الْمِنَنِ، الْوَهَّابُ لِعَظِيمِ النِّعَمِ، القَابِلُ يَسِيْرَ الْحَمْدِ، الشَّاكِرُ قَلِيْلَ الشُّكْرِ، الْمُحْسِنُ الْمُجْمِلُ ذُو الطَّوْلِ لا إلهَ إلاّ أَنْتَ إلَيْكَ الْمَصِيرُ.

    جب بادل اور بجلی کو دیکھتے اور رعد کی آواز سنتے تو یہ دُعا پڑھتے: بارالٰہا! یہ (ابرو برق) تیری نشانیوں میں سے دو نشانیاں اور تیرے خدمت گزاروں میں سے دو خدمت گزار ہیں ،جو نفع رساں رحمت یا ضرر رساں عقوبت کے ساتھ تیرے حکم کی بجاآوری کیلئے رواں دواں ہیں، تو اب ان کے ذریعہ ایسی بارش نہ برسا جو ضرر و زیاں کا باعث ہو اور نہ ان کی وجہ سے ہمیں بلا و مصیبت کا لباس پہنا۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور ان بادلوں کی منفعت و برکت ہم پر نازل کر، اور ان کے ضرور و آزار کا رخ ہم سے موڑ دے، اور ان سے ہمیں کوئی گزند نہ پہنچانا، اور نہ ہمارے سامان معیشت پر تباہی وارد کرنا۔ بارالٰہا! اگر ان گھٹاؤں کو تو نے بطور عذاب بھیجا ہے اور بصورت غضب روانہ کیا ہے تو پھر ہم تیرے غضب سے تیرے ہی دامن میں پناہ کے خواستگار ہیں اور عفو و درگزر کیلئے تیرے سامنے گڑگڑا کر سوال کرتے ہیں، تو مشرکوں کی جانب اپنے غضب کا رخ موڑ دے، اور کافروں پر آسیائے عذاب کو گردش دے۔ اے اللہ! ہمارے شہروں کی خشک سالی کو سیرابی کے ذریعہ دور کر دے، اور ہمارے دل کے وسوسوں کو رزق کے وسیلہ سے برطرف کر دے، اور اپنی بارگاہ سے ہمارا رخ موڑ کر ہمیں دوسروں کی طرف متوجہ نہ فرما، اور ہم سب سے اپنے احسانات کا سر چشمہ قطع نہ کر، کیونکہ بے نیاز وہی ہے جسے تو بے نیاز کرے اور سالم و محفوظ وہی ہے جس کی تو نگہداشت کرے۔ اس لئے کہ تیرے علاوہ کسی کے پاس (مصیبتوں کا) دفعیہ اور کسی کے ہاں تیری سطوت و ہیبت سے بچاؤ کا سامان نہیں ہے۔ تو جس کی نسبت جو چاہتا ہے حکم فرماتا ہے اور جس کے بارے میں جو فیصلہ کرتا ہے، وہ صادر کر دیتا ہے۔ تیرے ہی لئے تمام تعریفیں ہیں کہ تو نے ہمیں مصیبتوں سے محفوظ رکھا، اور تیرے ہی لئے شکر ہے کہ تو نے ہمیں نعمتیں عطا کیں، ایسی حمد جو تمام حمد گزاروں کی حمد کو پیچھے چھوڑ دے، ایسی حمد جو خدا کے آسمان و زمین کی فضاؤں کو چھلکا دے، اس لئے کہ تو بڑی سے بڑی نعمتوں کا عطا کرنے والا اور بڑے سے بڑے انعامات کا بخشنے والا ہے، مختصر سی حمد کو بھی قبول کرنے والا اور تھوڑے سے شکریے کی بھی قدر کرنے والا ہے، اور احسان کرنے والا، اور بہت نیکی کرنے والا، اور صاحب کرم و بخشش ہے۔ تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور تیری ہی طرف (ہماری) بازگشت ہے۔

  37. دعاء 37 جب ادائے شکر میں کوتاہی کا اعتراف کرتے تو یہ دعا پڑھتے

    37

    أللَّهُمَّ إنَّ أَحَداً لاَ يَبْلُغُ مِنْ شُكْرِكَ غَايَةً إلاّ حَصَلَ عَلَيْهِ مِنْ إحْسَانِكَ مَا يُلْزِمُهُ شُكْرَاً، وَلا يَبْلُغُ مَبْلَغاً مِنْ طَاعَتِكَ وَإن اجْتَهَدَ إلاَّ كَانَ مُقَصِّراً دُونَ اسْتِحْقَاقِكَ بِفَضْلِكَ، فَأَشْكَرُ عِبَادِكَ عَاجِزٌ عَنْ شُكْرِكَ وَأَعْبَدُهُمْ مُقَصِّرٌ عَنْ طَاعَتِكَ، لا يَجبُ لأِحَد أَنْ تَغْفِرَ لَهُ بِاسْتِحْقَاقِهِ، وَلا أَنْ تَرْضَى عَنْهُ بِاسْتِيجَابِهِ، فَمَنْ غَفَرْتَ لَهُ فَبِطَولِكَ، وَمَنْ رَضِيْتَ عَنْهُ فَبِفَضْلِكَ تَشْكُرُ يَسِيرَ مَا شُكِرْتَهُ وَتُثِيبُ عَلَى قَلِيلِ مَا تُطَاعُ فِيهِ حَتَّى كَأَنَّ شُكْـرَ عِبَادِكَ الَّذِيْ أَوْجَبْتَ عَلَيْهِ ثَوَابَهُمْ وَأَعْظَمْتَ عَنْهُ جَزَاءَهُمْ أَمْرٌ مَلَكُوا اسْتِطَاعَةَ الامْتِنَاعِ مِنْهُ دُونَكَ فَكَافَيْتَهُمْ أَوْ لَمْ يَكُنْ سَبَبُهُ بِيَدِكَ فَجَازَيْتَهُمْ، بَـلْ مَلَكْتَ يَا إلهِي أَمْرَهُمْ قَبْلَ أَنْ يَمْلِكُوا عِبَادَتَكَ، وَأَعْدَدْتَ ثَوَابَهُمْ قَبْلَ أَنْ يُفِيضُوا فِي طَاعَتِكَ، وَذَلِكَ أَنَّ سُنَّتَكَ الأِفْضَالُ، وَعَادَتَكَ الإحْسَانُ، وَسَبِيلَكَ الْعَفْوُ، فَكُلُّ الْبَرِيِّةِ مًعْتَرِفَةٌ بِأَنَّكَ غَيْرُ ظَالِم لِمَنْ عَاقَبْتَ، وَشَاهِدَةٌ بِأَنَّكَ مُتَفَضِّلٌ عَلَى مَنْ عَافَيْتَ، وَكُلٌّ مُقِرٌّ عَلَى نَفْسِهِ بِالتَّقْصِيْرِ عَمَّا اسْتَوْجَبْتَ، فَلَوْلا أَنَّ الشَّيْطَانَ يَخْتَدِعُهُمْ عَنْ طَاعَتِكَ ما عَصاكَ عاصٍ وَلَوْلا أَنَّهُ صَوَّرَ لَهُمُ البَاطِلَ فِي مِثَالِ الْحَقِّ مَا ضَلَّ عَنْ طَرِيْقِكَ ضَالٌّ. فَسُبْحَانَكَ مَا أَبْيَنَ كَرَمَكَ فِي مُعَامَلَةِ مَنْ أَطَاعَكَ أَوْ عَصَاكَ، تَشْكُرُ للْمُطِيْعِ مَا أَنْتَ تَوَلَّيْتَهُ لَهُ، وَتُمْلِي لِلْعَاصِي فِيْمَا تَمْلِكُ مُعَاجَلَتَهُ فِيْهِ، أَعْطَيْتَ كُلاًّ مِنْهُمَا مَا لَمْ يَجِبْ لَهُ، وَتَفَضَّلْتَ عَلَى كُلٍّ مِنْهُمَا بِمَا يَقْصُرُ عَمَلُهُ عَنْهُ وَلَوْ كَافَأْتَ الْمُطِيعَ عَلَى مَا أَنْتَ تَوَلَّيْتَهُ لاَوْشَكَ أَنْ يَفْقِدَ ثَوَابَكَ، وَأَنْ تَزُولَ عَنْهُ نِعْمَتُكَ وَلكِنَّكَ بِكَرَمِكَ جَازَيْتَهُ عَلَى الْمُدَّةِ الْقَصِيرَةِ الفَانِيَةِ بِالْمُدَّةِ الطَّوِيلَةِ الْخَالِدَةِ، وَعَلَى الْغَايَةِ الْقَرِيبَةِ الزَّائِلَةِ بِالْغايَةِ الْمَدِيدَةِ الْبَاقِيَةِ، ثُمَّ لَمْ تَسُمْهُ الْقِصَاصَ فِيمَا أَكَلَ مِنْ رِزْقِكَ الَّذِي يَقْوَى بِهِ عَلَى طَاعَتِكَ، وَلَـمْ تَحْمِلْهُ عَلَى الْمُنَاقَشَاتِ فِي الآلاتِ الَّتِي تَسَبَّبَ بِاسْتِعْمَالِهَا إلَى مَغْفِـرَتِكَ، وَلَـوْ فَعَلْتَ ذلِكَ بِهِ لَذَهَبَ بِجَمِيْعِ مَا كَدَحَ لَهُ وَجُمْلَةِ مَا سَعَى فِيهِ، جَزَاءً لِلصُّغْرى مِنْ أَيادِيْكَ وَمِنَنِكَ، وَلَبَقِيَ رَهيناً بَيْنَ يَدَيْكَ بِسَائِرِ نِعَمِكَ فَمَتَى كَانَ يَسْتَحِقُّ شَيْئاً مِنْ ثَوَابِكَ ، لا ، مَتَى؟. هَذَا يا إلهِي حَالُ مَنْ أَطَاعَكَ وَسَبِيلُ مَنْ تَعَبَّدَ لَكَ، فَأَمَّا الْعَاصِيْ أَمْرَكَ وَالْمُوَاقِـعُ نَهْيَكَ فَلَمْ تُعَاجِلْهُ بِنَقِمَتِكَ لِكَيْ يَسْتَبْدِلَ بِحَالِهِ فِي مَعْصِيَتِكَ حَالَ الاِنَابَـةِ إلَى طَـاعَتِـكَ، وَلَقَـدْ كَـانَ يَسْتَحِقُّ فِي أَوَّلِ مَـا هَمَّ بِعِصْيَانِكَ كُلَّ مَا أَعْدَدْتَ لِجَمِيعِ خَلْقِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، فَجَمِيعُ مَا أَخَّرْتَ عَنْهُ مِنْ الْعَذَابِ، وَأَبْطَأتَ بِهِ عَلَيْهِ مِنْ سَطَوَاتِ النَّقِمَةِ وَالْعِقَابِ تَرْكٌ مِنْ حَقِّكَ، وَرِضىً بِدُونِ وَاجِبِكَ، فَمَنْ أكْرَمُ يَا إلهِي مِنْكَ وَمَنْ أَشْقَى مِمَّنْ هَلَكَ عَلَيْـكَ، لا ، مَنْ؟ فَتَبَارَكْتَ أَنْ تُوصَفَ إلاّ بِالإحْسَانِ، وَكَـرُمْتَ أَنْ يُخَافَ مِنْكَ إلاّ الْعَدْلُ، لا يُخْشَى جَوْرُكَ عَلَى مَنْ عَصَاكَ، وَلاَ يُخَافُ إغْفَالُكَ ثَوَابَ مَنْ أَرْضَاكَ. فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَهَبْ لِيْ أَمَلِي، وَزِدْنِي مِنْ هُدَاكَ مَا أَصِلُ بِهِ إلَى التَّوْفِيقِ فِي عَمَلِي، إنَّكَ مَنَّانٌ كَرِيمٌ.

    جب ادائے شکر میں کوتاہی کا اعتراف کرتے تو یہ دُعا پڑھتے: بارالٰہا! کوئی شخص تیرے شکر کی کسی منزل تک نہیں پہنچتا مگر یہ کہ تیرے اتنے احسانات مجتمع ہو جاتے ہیں کہ وہ اس پر مزید شکریہ لازم و واجب کر دیتے ہیں، اور کوئی شخص تیری اطاعت کے کسی درجہ پر چاہے وہ کتنی ہی سرگرمی دکھائے نہیں پہنچ سکتا، اور تیرے اس استحقاق کے مقابلہ میں جو بر بنائے فضل و احسان ہے قاصر ہی رہتا ہے۔ جب یہ صورت ہے تو تیرے سب سے زیادہ شکر گزار بندے بھی ادائے شکر سے عاجز اور سب سے زیادہ عبادت گزار بھی درماندہ ثابت ہوں گے، کوئی استحقاق ہی نہیں رکھتا کہ تو اس کے استحقاق کی بنا پر بخش دے، یا اس کے حق کی وجہ سے اس سے خوش ہو۔ جسے تو نے بخش دیا تو یہ تیرا انعام ہے، اور جس سے تو راضی ہو گیا تو یہ تیرا تفضل ہے۔ جس عمل قلیل کو تو قبول فرماتا ہے اس کی جزا فراواں دیتا ہے، اور مختصر عبادت پر بھی ثواب مرحمت فرماتا ہے، یہاں تک کہ گویا بندوں کا وہ شکر بجا لانا جس کے مقابلہ میں تو نے اجر و ثواب کو ضروری قرارد یا اور جس کے عوض ان کو اجر عظیم عطاکیا، ایک ایسی بات تھی کہ اس شکر سے دست بردار ہونا ان کے اختیار میں تھا تو اس لحاظ سے تو نے اجر دیا (کہ انہوں نے باختیارِ خود شکر ادا کیا) یا یہ کہ ادائے شکر کے اسباب تیرے قبضۂ قدرت میں نہ تھے (اور انہوں نے خود اسباب شکر مہیا کئے) جس پر تو نے انہیں جزا مرحمت فرمائی (ایسا تو نہیں ہے)، بلکہ اے میرے معبود! تو ان کے جملہ امور کا مالک تھا، قبل اس کے کہ وہ تیری عبادت پر قادر و توانا ہوں، اور تو نے ان کیلئے اجر و ثواب کو مہیا کر دیا تھا قبل اس کے کہ وہ تیری اطاعت میں داخل ہوں، اور یہ اس لئے کہ تیرا طریقہ انعام و اکرام، تیری عادت تفضل و احسان اور تیری روش عفو و درگزر ہے۔ چنانچہ تمام کائنات اس کی معترف ہے کہ تو جس پر عذاب کرے اس پر کوئی ظلم نہیں کرتا، اور گواہ ہے اس بات کی کہ جس کو تو معاف کر دے اس پر تفضل و احسان کرتا ہے، اور ہر شخص اقرار کرے گا اپنے نفس کی کوتاہی کا اس (اطاعت) کے بجا لانے میں جس کا تو مستحق ہے، اگر شیطان انہیں تیری عبادت سے نہ بہکاتا تو پھر کوئی شخص تیری نافرمانی نہ کرتا، اور اگر باطل کو حق کے لباس میں ان کے سامنے پیش نہ کرتا تو تیرے راستہ سے کوئی گمراہ نہ ہوتا۔ پاک ہے تیری ذات! تیرا لطف و کرم، فرمانبردار ہو یا گنہگار، ہر ایک کے معاملہ میں کس قدر آشکارا ہے، یوں کہ اطاعت گزار کو اس عمل خیر پر جس کے اسباب تو نے خود فراہم کئے ہیں جزا دیتا ہے اور گنہگار کو فوری سزا دینے کا اختیار رکھتے ہوئے پھر مہلت دیتا ہے، تو نے فرمانبردار و نافرمان دونوں کو وہ چیزیں دی ہیں جن کا انہیں استحقاق نہ تھا، اور ان میں سے ہر ایک پر تو نے وہ فضل و احسان کیا ہے جس کے مقابلہ میں ان کا عمل بہت کم تھا، اور اگر تو اطاعت گزار کو صرف ان اعمال پر جن کا سر و سامان تو نے مہیا کیا ہے جزا دیتا تو قریب تھا کہ وہ ثواب کو اپنے ہاتھ سے کھو دیتا اور تیری نعمتیں اس سے زائل ہو جاتیں، لیکن تو نے اپنے جود و کرم سے فانی و کوتاہ مدت کے اعمال کے عوض طولانی و جاویدانی مدت کا اجر و ثواب بخشا اور قلیل و زوال پذیر اعمال کے مقابلہ میں دائمی و سرمدی جزا مرحمت فرمائی۔ پھر یہ کہ تیرے خوان نعمت سے جو رزق کھا کر اس نے تیری اطاعت پر قوت حاصل کی اس کا کوئی عوض تو نے نہیں چاہا، اور جن اعضاء و جوارح سے کام لے کر تیری مغفرت تک راہ پیدا کی اس کا سختی سے کوئی محاسبہ نہیں کیا، اور اگر تو ایسا کرتا تو اس کی تمام محنتوں کا حاصل اور سب کوششوں کا نتیجہ تیری نعمتوں اور احسانوں میں سے ایک ادنیٰ و معمولی قسم کی نعمت کے مقابلہ میں ختم ہو جاتا، اور بقیہ نعمتوں کیلئے تیری بارگاہ میں گروی ہو کر رہ جاتا ( یعنی اس کے پاس کچھ نہ ہوتا کہ اپنے کو چھڑاتا)، تو ایسی صورت میں وہ کہاں تیرے کسی ثواب کا مستحق ہو سکتا تھا؟ نہیں! وہ کب مستحق ہو سکتا تھا؟۔ اے میرے معبود! یہ تو تیری اطاعت کرنے والے کا حال اور تیری عبادت کرنے والے کی سرگزشت ہے، اور وہ جس نے تیرے احکام کی خلاف ورزی کی اور تیرے منہیات کا مرتکب ہوا اسے بھی سزا دینے میں تو نے جلدی نہیں کی، تاکہ وہ معصیت و نافرمانی کی حالت کو چھوڑ کر تیری اطاعت کی طرف رجوع ہو سکے۔ سچ تو یہ ہے کہ جب پہلے پہل اس نے تیری نافرمانی کا قصد کیا تھا جب ہی وہ ہر اس سزا کا جسے تو نے تمام خلق کیلئے مہیا کیا ہے مستحق ہو چکا تھا، تو ہر وہ عذاب جسے تو نے اس سے روک لیا اور سزا و عقوبت کا ہر وہ جملہ جو اس سے تاخیر میں ڈال دیا، یہ تیرا اپنے حق سے چشم پوشی کرنا اور استحقاق سے کم پر راضی ہونا ہے۔ اے میرے معبود! ایسی حالت میں تجھ سے بڑھ کے کون کریم ہو سکتا ہے؟ اور اس سے بڑھ کے جو تیری مرضی کے خلاف تباہ و برباد ہو، کون بدبخت ہو سکتا ہے؟ نہیں! کون ہے جو اس سے زیادہ بدبخت ہو؟ تو مبارک ہے کہ تیری توصیف لطف و احسان ہی کے ساتھ ہو سکتی ہے، اور تو بلند تر ہے اس سے کہ تجھ سے عدل و انصاف کے خلاف کا اندیشہ ہو، جو شخص تیری نافرمانی کرے تجھ سے یہ اندیشہ ہو ہی نہیں سکتا کہ تو اس پر ظلم و جور کرے گا، اور نہ اس شخص کے بارے میں جو تیری رضا و خوشنودی کو ملحوظ رکھے تجھ سے حق تلفی کا خوف ہو سکتا ہے۔ تو محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور میری آرزوؤں کو برلا، اور میرے لئے ہدایت اور رہنمائی میں اتنا اضافہ فرما کہ میں اپنے کاموں میں توفیق سے ہمکنار رہوں۔ اس لئے کہ تو نعمتوں کا بخشنے والا اور لطف و کرم کرنے والا ہے۔

  38. دعاء 38 عذر و طلب مغفرت کے سلسلہ میں دعا

    38

    أَللَّهُمَّ إنِّي أَعْتَـذِرُ إلَيْـكَ مِنْ مَـظْلُوم ظُلِمَ بِحَضْرَتِي فَلَمْ أَنْصُرْهُ، وَمِنْ مَعْرُوف أُسْدِيَ إلَيَّ فَلَمْ أَشْكُرْهُ، وَمِنْ مُسِيء أعْتَذَرَ إلَيَّ فَلَمْ أَعْذِرْهُ، وَمِنْ ذِيْ فَاقَة سَأَلَنِي فَلَمْ اُوثِرْهُ، وَمِنْ حَقِّ ذي حَقٍّ لَزِمَنِي لِمُؤْمِن فَلَمْ أوَفِّـرْهُ، وَمِنْ عَيْبِ مُؤْمِن ظَهَر لِي فَلَمْ أَسْتُرْهُ، وَمِنْ كُلِّ إثْم عَرَضَ لِيْ فَلَمْ أَهْجُرْهُ. أَعْتَذِرُ إلَيْكَ يَا إلهِي مِنْهُنَّ وَمِنْ نَظَائِرِهِنَّ اعْتِذَارَ نَدَامَة يَكُونُ وَاعِظاً لِمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنْ أَشْبَاهِهِنَّ. فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَاجْعَلْ نَدَامَتِي عَلَى مَا وَقَعْتُ فِيهِ مِنَ الـزَّلاّتِ وَعَزْمِي عَلَى تَـرْكِ مَا يَعْـرِضُ لِيْ مِنَ السَّيِّئـاتِ تَوبَةً تُوجِبُ لِيْ مَحَبَّتَـكَ يا مُحِبَّ التَّوَّابِيْنَ.

    بندوں کی حق تلفی اور ان کے حقوق میں کوتاہی سے معذرت طلبی اور دوزخ سے گلو خلاصی کیلئے یہ دُعا پڑھتے: بارِالٰہا! میں اس مظلوم کی نسبت جس پر میرے سامنے ظلم کیا گیا ہو اور میں نے اس کی مدد نہ کی ہو، اور میرے ساتھ کوئی نیکی کی گئی ہو اور میں نے اس کا شکریہ ادا نہ کیا ہو، اور اس بدسلوکی کرنے والے کی بابت جس نے مجھ سے معذرت کی ہو اور میں نے اس کے عذر کو نہ مانا ہو، اور اس فاقہ کش کے بارے میں جس نے مجھ سے مانگا ہو اور میں نے اسے ترجیح نہ دی ہو، اور اس حقدار مومن کے حق کے متعلق جو میرے ذمہ ہو اور میں نے ادا نہ کیا ہو، اور اس مرد مومن کے بارے میں جس کا کوئی عیب مجھ پر ظاہر ہوا ہو اور میں نے اس پر پردہ نہ ڈالا ہو، اور ہر اس گناہ سے جس سے مجھے واسطہ پڑا ہو اور میں نے اس سے کنارہ کشی نہ کی ہو، تجھ سے عذر خواہ ہوں۔ بار الٰہا! میں ان تمام باتوں سے اور ان جیسی دوسری باتوں سے شرمساری و ندامت کے ساتھ ایسی معذرت کرتا ہوں جو میرے لئے ان جیسی پیش آیند چیزوں کیلئے پند و نصیحت کرنے والی ہو۔ تو محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور ان لغزشوں سے جن سے میں دوچار ہوا ہوں میری پشیمانی کو، اور پیش آنے والی برائیوں سے دست بردار ہونے کے ارادہ کو ایسی توبہ قرار دے جو میرے لئے تیری محبت کا باعث ہو۔ اے توبہ کرنے والوں کو دوست رکھنے والے۔

  39. 39۔ طلب عفو و رحمت کی دعا

    39

    أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَاكْسِرْ شَهْوَتِي عَنْ كُـلِّ مَحْرَم، وَازْوِ حِـرْصِي عَنْ كُلِّ مَأثَم، وَامْنَعْنِي عَنْ أَذَى كُـلِّ مُؤْمِن وَمُؤْمِنَـة وَمُسْلِم وَمُسْلِمَة، أللَّهُمَّ وَأَيُّمَا عَبْد نالَ مِنِّي مَا حَظَرْتَ عَلَيْهِ، وَانْتَهَكَ مِنِّي مَا حَجَرْتَ عَلَيْهِ، فَمَضَى بِظُلاَمَتِي مَيِّتاً، أَوْ حَصَلَتْ لِيْ قِبَلَهُ حَيّاً، فَاغْفِرْ لَهُ مَا أَلَمَّ بِهِ مِنِّي، وَاعْفُ لَهُ عَمَّا أَدْبَرَ بِهِ عَنِّي، وَلاَ تَقِفْـهُ عَلَى مَا ارْتَكَبَ فِيَّ، وَلاَ تَكْشِفْهُ عَمَّا اكْتَسَبَ بِيْ، وَاجْعَلْ مَا سَمَحْتُ بِهِ مِنَ الْعَفْـوِ عَنْهُمْ وَتَبَرَّعْتُ بِـهِ مِنَ الصَّدَقَةِ عَلَيْهِمْ أَزْكَى صَدَقَاتِ الْمُتَصَدِّقِينَ وَأَعْلَى صِلاَتِ الْمُتَقَرِّبِينَ، وَعَوِّضْنِي مِنْ عَفْوِي عَنْهُمْ عَفْوَكَ وَمِنْ دُعَائِي لَهُمْ رَحْمَتَكَ حَتَّى يَسْعَدَ كُلُّ وَاحِد مِنَّا بِفَضْلِكَ وَيَنْجُوَ كُلٌّ مِنَّا بِمَنِّكَ. أللَّهُمَّ وَأَيُّما عَبْد مِنْ عَبِيْدِكَ أدرَكَهُ مِنِّي دَرَكٌ أَوْ مَسَّهُ مِنْ نَاحِيَتِي أَذَىً، أَوْ لَحِقَـهُ بِي أَوْ بِسَبَبي ظُلْمٌ فَفُتُّهُ بِحَقِّـهِ، أَوْسَبَقْتُهُ بِمَظْلَمَتِهِ، فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ، وَأَرْضِهِ عَنِّي مِنْ وُجْدِكَ، وَأَوْفِهِ حَقَّهُ مِنْ عِنْدِكَ، ثُمَّ قِنيْ مَا يُوجِبُ لَهُ حُكْمُكَ، وَخَلِّصْنِي مِمَّا يَحْكُمُ بِهِ عَدْلُكَ، فَإنَّ قُوَّتِي لا تَسْتَقِلُّ بِنَقِمَتِكَ، وَإنَّ طَاقتِي لا تَنْهَضُ بِسُخْطِكَ، فَإنَّكَ إنْ تُكَـافِنِي بِالْحَقِّ تُهْلِكْنِي، وَإلاّ تَغَمَّـدْنِي بِرَحْمَتِكَ تُوبِقْنِي. أللَّهُمَّ إنِّي أَسْتَوْهِبُكَ يَا إلهِي مَا لا يَنْقُصُكَ بَذْلُهُ، وَأَسْتَحْمِلُكَ مَا لا يَبْهَظُكَ حَمْلُهُ، أَسْتَوْهِبُكَ يَا إلهِي نَفْسِيَ الَّتِيْ لَمْ تَخْلُقْهَا لِتَمْتَنِعَ بِهَا مِنْ سُوء، أَوْ لِتَطَرَّقَ بِهَا إلى نَفْع، وَلكِنْ أَنْشَأتَهَا إثْبَاتاً لِقُدْرَتِكَ عَلَى مِثْلِهَا، وَاحْتِجَاجاً بِهَا عَلَى شَكْلِهَا، وَأَسْتَحْمِلُكَ مِنْ ذُنُوبِي مَا قَدْ بَهَظَنِي حَمْلُهُ، وَأَسْتَعِينُ بِكَ عَلَى مَا قَدْ فَدَحَنِي ثِقْلُهُ. فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ، وَهَبْ لِنَفْسِي عَلَى ظُلْمِهَا نَفْسِيْ، وَوَكِّلْ رَحْمَتَكَ بِاحْتِمَالِ إصْرِي، فَكَمْ قَدْ لَحِقَتْ رَحْمَتُكَ بِالْمُسِيئِينَ، وَكَمْ قَدْ شَمِلَ عَفْوُكَ الظَّالِمِينَ. فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ، وَاجْعَلْنِي أُسْوَةَ مَنْ قَدْ أَنْهَضْتَهُ بِتَجَاوُزِكَ عَنْ مَصَارِعِ الْخَاطِئِينَ، وَخَلَّصْتَهُ بِتَوْفِيقِكَ مِنْ وَرَطَاتِ الْمُجْرِمِينَ، فَأَصْبَحَ طَلِيقَ عَفْوِكَ مِنْ إسَارِ سُخْطِكَ، وَعَتِيقَ صُنْعِكَ مِنْ وَثَاقِ عَدْلِكَ، إنَّكَ إنْ تَفْعَلْ ذَلِكَ يَا إلهِي تَفْعَلْهُ بِمَنْ لاَ يَجْحَدُ اسْتِحْقَاقَ عُقُوبَتِكَ، وَلاَ يُبَرِّئُ نَفْسَهُ مِنِ اسْتِيجَابِ نَقِمَتِكَ، تَفْعَلُ ذلِكَ يَا إلهِي بِمَنْ خَوْفُهُ مِنْكَ أَكْثَرُ مِنْ طَمَعِهِ فِيكَ، وَبِمَنْ يَأْسُهُ مِنَ النَّجَاةِ أَوْكَدُ مِنْ رَجَائِهِ لِلْخَلاَصِ، لاَ أَنْ يَكُونَ يَأْسُهُ قُنُوطَاً أَوْ أَنْ يَكُونَ طَمَعُهُ اغْتِرَاراً بَلْ لِقِلَّةِ حَسَنَاتِهِ بَيْنَ سَيِّئاتِهِ، وَضَعْفِ حُجَجِهِ فِي جَمِيعِ تَبِعَاتِهِ، فَأَمَّا أَنْتَ يَا إلهِي فَأَهْلٌ أَنْ لاَ يَغْتَرَّ بِكَ الصِّدِّيقُونَ، وَلاَ يَيْأَسَ مِنْكَ الْمُجْرِمُونَ، لِاَنَّكَ ألرَّبُّ الْعَظِيمُ الَّذِيْ لاَ يَمْنَعُ أَحَداً فَضْلَهُ وَلاَ يَسْتَقْصِي مِنْ أَحَد حَقَّـهُ. تَعَالى ذِكْرُكَ عَنِ الْمَذْكُورِينَ، وَتَقَدَّست أَسْمَاؤُكَ عَنِ الْمَنْسُوبِينَ، وَفَشَتْ نِعْمَتُكَ فِيْ جَمِيْعِ الْمَخْلُوقِينَ، فَلَكَ الْحَمْدُ عَلَى ذَلِكَ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ .

    طلب عفو و رحمت کیلئے یہ دُعا پڑھتے: بارالٰہا ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور ہر امر حرام سے میری خواہش (کا زور) توڑ دے، اور ہر گناہ سے میری حرص کا رخ موڑ دے، اور ہر مومن اور مومنہ ، مسلم اور مسلمہ کی ایذا رسانی سے مجھے باز رکھ۔ اے میرے معبود! جو بندہ بھی میرے بارے میں ایسے امر کا مرتکب ہو جسے تو نے اس پر حرام کیا تھا، اور میری عزت پر حملہ آور ہوا ہو جس سے تو نے اسے منع کیا تھا، میرا مظلمہ لے کر دُنیا سے اٹھ گیا ہو یا حالت حیات میں اس کے ذمہ باقی ہو، تو اس نے مجھ پر جو ظلم کیا ہے اسے بخش دے، اور میرا جو حق لے کر چلا گیا ہے، اسے معاف کر دے، اور میری نسبت جس امر کا مرتکب ہوا ہے اس پر اسے سرزنش نہ کر، اور مجھے آزردہ کرنے کے باعث اسے رسوا نہ فرما، اور جس عفو و درگزر کی میں نے ان کیلئے کوشش کی ہے اور جس کرم و بخشش کو میں نے ان کیلئے روا رکھا ہے، اسے صدقہ کرنے والوں کے صدقہ سے پاکیزہ تر اور تقرب چاہنے والوں کے عطیوں سے بلند تر قرار دے، اور اس عفو و درگزر کے عوض تو مجھ سے درگزر کر، اور ان کیلئے دُعا کرنے کے صلہ میں مجھے اپنی رحمت سے سرفراز فرما، تاکہ ہم میں سے ہر ایک تیرے فضل و کرم کی بدولت خوش نصیب ہو سکے، اور تیرے لطف و احسان کی وجہ سے نجات پا جائے۔ اے اللہ! تیرے بندوں میں سے جس کسی کو مجھ سے کوئی ضرر پہنچا ہو، یا میری جانب سے کوئی اذیت پہنچی ہو، یا مجھ سے یا میری وجہ سے اس پر ظلم ہوا ہو، اس طرح کہ میں نے اس کے کسی حق کو ضائع کیا ہو، یا اس کے کسی مظلمہ کی داد خواہی نہ کی ہو۔ تو محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور اپنی غنا و تونگری کے ذریعہ اسے مجھ سے راضی کر دے، اور اپنے پاس سے اس کا حق بے کم و کاست ادا کر دے، پھر یہ کہ اس چیز سے جس کا تیرے حکم کے تحت سزاوار ہوں بچا لے، اور جو تیرے عدل کا تقاضا ہے اس سے نجات دے، اس لئے کہ مجھے تیرے عذاب کے برداشت کرنے کی تاب نہیں، اور تیری ناراضگی کے جھیل لے جانے کی ہمت نہیں۔ لہٰذا اگر تو مجھے حق و انصاف کی رو سے بدلہ دے گا تو مجھے ہلاک کر دے گا، اور اگر دامن رحمت میں نہیں ڈھانپے گا تو مجھے تباہ کر دے گا۔ اے اللہ! اے میرے معبود! میں تجھ سے اس چیز کا طالب ہوں جس کے عطا کرنے سے تیرے ہاں کچھ کمی نہیں ہوتی، اور وہ بار تجھ پر رکھنا چاہتا ہوں جو تجھے گرانبار نہیں بناتا، اور تجھ سے اس جان کی بھیک مانگتا ہوں جسے تو نے اس لئے پیدا نہیں کیا کہ اس کے ذریعہ ضرر و زیاں سے تحفظ کرے یا منفعت کی راہ نکالے، بلکہ اس لئے پیدا کیا تاکہ اس امر کا ثبوت بہم پہنچائے، اور اس بات پر دلیل لائے کہ تو اس جیسی اور اس طرح کی مخلوق پیدا کرنے پر قادر و توانا ہے، اور تجھ سے اس امر کا خواستگار ہوں کہ مجھے ان گناہوں سے سبکبار کر دے جن کا بار مجھے ہلکان کئے ہوئے ہے، اور تجھ سے مدد مانگتا ہوں اس چیز کی نسبت جس کی گرانباری نے مجھے عاجز کر دیا ہے۔ تو محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور میرے نفس کو باوجودیکہ اس نے خود اپنے اوپر ظلم کیا ہے بخش دے، اور اپنی رحمت کو میرے گناہوں کا بارگراں اٹھانے پر مامور کر، اس لئے کہ کتنی ہی مرتبہ تیری رحمت گنہگاروں کے ہمکنار اور تیرا عفو و کرم ظالموں کے شامل حال رہا ہے۔ تو محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور مجھے ان لوگوں کیلئے نمونہ بنا جنہیں تو نے اپنے عفو کے ذریعہ خطاکاروں کے گرنے کے مقامات سے اوپر اٹھا لیا، اور جنہیں تو نے اپنی توفیق سے گنہگاروں کے مہلکوں سے بچا لیا، تو وہ تیرے عفو و بخشش کے وسیلہ سے تیری ناراضگی کے بندھنوں سے چھوٹ گئے، اور تیرے احسان کی بدولت عدل کی بندشوں سے آزاد ہو گئے۔ اے میرے اللہ! اگر تو مجھے معاف کر دے تو تیرا یہ سلوک اس کے ساتھ ہو گا جو سزاوار عقوبت ہونے سے انکاری نہیں ہے، اور نہ مستحق سزا ہونے سے اپنے کو بری سمجھتا ہے، یہ تیرا برتاؤ اس کے ساتھ ہو گا اے میرے معبود! جس کا خوف امید عفو سے بڑھا ہوا ہے، اور جس کی نجات سے ناامیدی رہائی کی توقع سے قوی تر ہے۔ یہ اس لئے نہیں کہ اس کی نا امیدی رحمت سے مایوسی ہو، یا یہ کہ اس کی امید فریب خودردگی کا نتیجہ ہو، بلکہ اس لئے کہ اس کی برائیاں نیکیوں کے مقابلہ میں کم اور گناہوں کے تمام موارد میں عذر خواہی کے وجوہ کمزور ہیں۔ لیکن اے میرے معبود! تو اس کا سزاوار ہے کہ راست باز لوگ بھی تیری رحمت پر مغرور ہو کر فریب نہ کھائیں، اور گنہگار بھی تجھ سے ناامید نہ ہوں، اس لئے کہ تو وہ رب عظیم ہے کہ کسی پر فضل و احسان سے دریغ نہیں کرتا، اور کسی سے اپنا حق پورا پورا وصول کرنے کے درپے نہیں ہوتا۔ تیرا ذکر تمام نام آوروں (کے ذکر) سے بلند تر ہے، اور تیرے اسماء اس سے کہ دوسرے حسب و نسب والے ان سے موسوم ہوں منزہ ہیں، تیری نعمتیں تمام کائنات میں پھیلی ہوئی ہیں، لہٰذا اس سلسلہ میں تیرے ہی لئے حمد و ستائش ہے، اے تمام جہان کے پروردگار۔

  40. 40۔ موت کو یاد کرنے کے وقت کی دعا

    40

    أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ، وَاكْفِنَا طُـولَ الأمَـلِ، وَقَصِّرْهُ عَنَّا بِصِدْقِ الْعَمَلِ حَتَّى لا نُؤَمِّلَ اسْتِتْمَامَ سَاعَةٍ بَعْدَ سَاعَةٍ وَلاَ اسْتِيفَاءَ يَوْمٍ بَعْدَ يَوْمٍ، وَلاَ اتِّصَالَ نَفَسٍ بِنَفَس، وَلا لُحُـوقَ قَدَمٍ بِقَـدَم. وَسَلِّمْنَا مِنْ غُرُورِهِ، وَآمَنَّا مِنْ شُـرُوْرِهِ، وَانْصِبِ المَوْتَ بَيْنَ أَيْدِينَا نَصْباً، وَلاَ تَجْعَلْ ذِكْرَنَا لَهُ غِبّاً، وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ صَالِحِ الأعْمَـالِ عَمَلاً نَسْتَبْطِئُ مَعَهُ الْمَصِيرَ إلَيْكَ، وَنحْـرِصُ لَهُ عَلَى وَشْكِ اللِّحَاقِ بِكَ حَتَّى يَكُونَ الْمَوْتُ مَأنَسَنَا الَّذِي نَأنَسُ بِهِ، وَمَألَفَنَا الَّذِي نَشْتَاقُ إلَيْهِ، وَحَامَّتَنَا الَّتِي نُحِبُّ الدُّنُوَّ مِنْهَا فَإذَا أَوْرَدْتَهُ عَلَيْنَا، وَأَنْزَلْتَهُ بِنَا فَأسْعِدْنَا بِهِ زَائِراً، وَآنِسْنَا بِهِ قَادِماً، وَلاَ تُشْقِنَا بِضِيافَتِهِ، وَلا تُخْزِنَا بِزِيارَتِهِ، وَاجْعَلْهُ بَاباً مِنْ أَبْوَابِ مَغْفِرَتِكَ، وَمِفْتَاحاً مِنْ مَفَاتِيحِ رَحْمَتِكَ. أَمِتْنَا مُهْتَدِينَ غَيْرَ ضَالِّينَ طائِعِينَ غَيْرَ مُسْتَكْرِهِينَ تَائِبينَ غَيْرَ عاصِينَ وَلا مُصِرِّينَ يَا ضَامِنَ جَزَاءِ الْمُحْسِنِينَ، وَمُسْتَصْلِحَ عَمَلِ الْمُفْسِدِينَ.

    جب کسی کی خبر مرگ سنتے یا موت کو یاد کرتے تو یہ دُعا پڑھتے: اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور ہمیں طول طویل امیدوں سے بچائے رکھ، اور پر خلوص اعمال کے بجا لانے سے دامن امید کو کوتاہ کر دے، تاکہ ہم ایک گھڑی کے بعد دوسری گھڑی کے تمام کرنے، ایک دن کے بعد دوسرے دن کے گزارنے، ایک سانس کے بعد دوسری سانس کے آنے اور ایک قدم کے بعد دوسرے قدم کے اٹھنے کی آس نہ رکھیں۔ ہمیں فریب، آرزو اور فتنۂ امید سے محفوظ و مامون رکھ اور موت کو ہمارا نصب العین قرار دے اور کسی دن بھی ہمیں اس کی یاد سے خالی نہ رہنے دے، اور نیک اعمال میں سے ہمیں ایسے عمل خیر کی توفیق دے جس کے ہوتے ہوئے ہم تیری جانب بازگشت میں دیری محسوس کریں، اور جلد سے جلد تیری بارگاہ میں حاضر ہونے کے آرزو مند ہوں، اس حد تک کہ موت ہمارے انس کی منزل ہو جائے جس سے ہم جی لگائیں، اور الفت کی جگہ بن جائے جس کے ہم مشتاق ہوں، اور ایسی عزیز ہو جس کے قرب کو ہم پسند کریں۔ جب تو اسے ہم پر وارد کرے اور ہم پر لا اتارے تو اس کی ملاقات کے ذریعہ ہمیں سعادت مند بنانا، اور جب وہ آئے تو ہمیں اس سے مانوس کرنا، اور اس کی مہمانی سے ہمیں بدبخت نہ قرار دینا، اور نہ اس کی ملاقات سے ہم کو رسوا کرنا، اور اسے اپنی مغفرت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ اور رحمت کی کنجیوں میں سے ایک کلید قرار دے۔ اور ہمیں اس حالت میں موت آئے کہ ہم ہدایت یافتہ ہوں گمراہ نہ ہوں، فرمانبردار ہوں اور( موت سے) نفرت کرنے والے نہ ہوں، توبہ گزار ہوں خطا کار اور گناہ پر اصرار کرنے والے نہ ہوں، اے نیکو کاروں کے اجر و ثواب کا ذمہ لینے والے، اور بدکرداروں کے عمل و کردار کی اصلاح کرنے والے۔

  41. دعاء 39 پردہ پوشی و نگہداشت کی دعا

    41

    أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ، وَأَفْرِشْنِي مِهَادَ كَـرَامَتِـكَ، وَأَوْرِدْنِي مَشَارِعَ رَحْمَتِـكَ، وَأَحْلِلْنِي بُحْبُوحَةَ جَنَّتِكَ، وَلاَ تَسُمْنِي بِالرَّدِّ عَنْكَ، وَلا تَحْرِمْنِي بِـالْخَيْبَةِ مِنْـكَ، وَلاَ تُقَاصَّنِي بِمَـا اجْتَرَحْتُ، وَلاَ تُنَاقِشْنِي بِمَا اكْتَسَبْتُ، وَلا تُـبْرِزْ مَكْتُوْمِي، وَلاَ تَكْشِفْ مَسْتُورِي، وَلاَ تَحْمِلْ عَلَى مِيزانِ الأنْصَافِ عَمَلِي، وَلاَ تُعْلِنْ عَلَى عُيُونِ الْمَلاَءِ خَبَـرِي. أَخْفِ عَنْهُمْ مَا يَكُونُ نَشْرُهُ عَلَيَّ عَاراً، وَاطْوِ عَنْهُمْ مَا يُلْحِقُنِي عِنْدَكَ شَنَاراً، شَرِّفْ دَرَجَتِي بِرِضْوَانِكَ، وَأكْمِلْ كَرَامَتِي بِغُفْرَانِكَ، وَانْظِمْنِي فِي أَصْحَابِ الْيَمِينِ، وَوَجِّهْنِي فِي مَسَالِكِ الآمِنِينَ، وَاجْعَلْنِي فِي فَوْجِ الْفَائِزِينَ، وَاعْمُرْ بِي مَجَالِسَ الصَّالِحِينَ، آمِينَ رَبَّ الْعَالَمِينَ .

    پردہ پوشی اور حفظ و نگہداشت کیلئے یہ دُعا پڑھتے: بار الٰہا! رحمت نازل فرما محمدؐ اور ان کی آلؑ پر اور میرے لئے اعزاز و اکرام کی مسند بچھا دے، مجھے رحمت کے سرچشموں پر اتار دے، وسط بہشت میں جگہ دے، اور اپنے ہاں سے ناکام پلٹا کر رنجیدہ نہ کر، اور اپنی رحمت سے ناامید کر کے حرماں نصیب نہ بنا دے۔ میرے گناہوں کا قصاص نہ لے، اور میرے کاموں کا سختی سے محاسبہ نہ کر، میرے چھپے ہوئے رازوں کو ظاہر نہ فرما، اور میرے مخفی حالات پر سے پردہ نہ اٹھا، اور میرے اعمال کو عدل و انصاف کے ترازو پر نہ تول، اور اشراف کی نظروں کے سامنے میری باطنی حالت کو آشکارا نہ کر، جس کا ظاہر ہونا میرے لئے باعث ننگ و عار ہو وہ ان سے چھپائے رکھ، اور تیرے حضور جو چیز ذلت و رسوائی کا باعث ہو وہ ان سے پوشیدہ رہنے دے۔ اپنی رضا مندی کے ذریعہ میرے درجہ کو بلند اور اپنی بخشش کے وسیلہ سے میری بزرگی و کرامت کی تکمیل فرما، اور ان لوگوں کے گروہ میں مجھے داخل کر جو دائیں ہاتھ سے نامۂ اعمال لینے والے ہیں، اور ان لوگوں کی راہ پر لے چل جو (دنیا و آخرت میں) امن و عافیت سے ہمکنار ہیں، اور مجھے کامیاب لوگوں کے زمرہ میں قرار دے، اور نیکو کاروں کی محفلوں کو میری وجہ سے آباد و پر رونق بنا، میری دُعا کو قبول فرما، اے تمام جہانوں کے پروردگار۔

  42. دعاء 40 دعاۓ ختم القرآن

    42

    أَللَّهُمَّ إنَّكَ أَعَنْتَنِي عَلَى خَتْمِ كِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَهُ نُوراً وَجَعَلْتَهُ مُهَيْمِناً عَلَى كُلِّ كِتَاب أَنْزَلْتَهُ، وَفَضَّلْتَهُ عَلَى كُلِّ حَدِيث قَصَصْتَهُ، وَفُرْقاناً فَرَقْتَ بِهِ بَيْنَ حَلالِكَ وَحَرَامِكَ، وَقُرْآناً أَعْرَبْتَ بِهِ عَنْ شَرَائِعِ أَحْكَامِكَ، وَكِتَاباً فَصَّلْتَهُ لِعِبَادِكَ تَفْصِيلاً، وَوَحْياً أَنْزَلْتَهُ عَلَى نَبِيِّكَ مُحَمَّد صَلَوَاتُكَ عَلَيْهِ وَآلِهِ تَنْزِيلاً، وَجَعَلْتَهُ نُوراً نَهْتَدِي مِنْ ظُلَمِ الضَّلاَلَةِ وَالْجَهَـالَةِ بِـاتِّبَاعِـهِ، وَشِفَـاءً لِمَنْ أَنْصَتَ بِفَهْم التَّصْدِيقِ إلَى اسْتِمَاعِهِ، وَمِيزَانَ قِسْط لاَ يَحِيْفُ عَنِ الْحَقِّ لِسَانُهُ، وَنُورَ هُدىً لاَ يُطْفَأُ عَنِ الشَّاهِدِينَ بُرْهَانُهُ، وَعَلَمَ نَجَاة لاَ يَضِلُّ مَنْ أَمَّ قَصْدَ سُنَّتِهِ وَلاَ تَنَالُ أَيْدِي الْهَلَكَاتِ مَنْ تَعَلَّقَ بِعُرْوَةِ عِصْمَتِهِ، أَللَّهُمَّ فَإذْ أَفَدْتَنَا الْمعُونَةَ عَلَى تِلاَوَتِهِ، وَسَهَّلْتَ جَوَاسِيَ أَلْسِنَتِنَا بِحُسْنِ عِبَارَتِهِ، فَاجْعَلْنَا مِمَّنْ يَرْعَاهُ حَقَّ رِعَايَتِهِ، وَيَدِينُ لَكَ بِاعْتِقَادِ التَّسْلِيْمِ لِمُحْكَمِ آياتِهِ، وَيَفْزَعُ إلى الإِقْرَارِ بِمُتَشَابِهِهِ وَمُوضَحَاتِ بَيِّناتِهِ. أللَّهُمَّ إنَّكَ أَنْزَلْتَهُ عَلَى نَبِيِّكَ مُحَمَّد صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ مُجْمَلاً، وَأَلْهَمْتَهُ عِلْمَ عَجَائِبِهِ مُكَمَّلاً، وَوَرَّثْتَنَا عِلْمَهُ مُفَسَّراً، وَفَضَّلْتَنَا عَلَى مَنْ جَهِلَ عِلْمَهُ، وَقَوَّيْتَنَا عَلَيْهِ لِتَرْفَعَنَا فَوْقَ مَنْ لَمْ يُطِقْ حَمْلَهُ. أللَّهُمَّ فَكَمَا جَعَلْتَ قُلُوبَنَا لَهُ حَمَلَةً، وَعَرَّفْتَنَا بِرَحْمَتِكَ شَرَفَهُ وَفَضْلَهُ، فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّد الْخَطِيْبِ بِهِ، وَعَلَى آلِهِ الْخُزّانِ لَهُ، وَاجْعَلْنَا مِمَّنْ يَعْتَرِفُ بِأَنـَّهُ مِنْ عِنْدِكَ حَتَّى لاَ يُعَارِضَنَا الشَّكُّ فِي تَصْدِيقِهِ وَلاَ يَخْتَلِجَنَا الزَّيْغُ عَنْ قَصْدِ طَرِيقِهِ. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِـهِ، وَاجْعَلْنَا مِمَّنْ يَعْتَصِمُ بِحَبْلِهِ، وَيَـأْوِي مِنَ الْمُتَشَـابِهَاتِ إلَى حِرْزِ مَعْقِلِهِ، وَيَسْكُنُ فِي ظِـلِّ جَنَاحِهِ، وَيَهْتَدِي بِضَوْءِ صَباحِهِ، وَيَقْتَدِي بِتَبَلُّج إسْفَارِهِ، وَيَسْتَصْبحُ بِمِصْباحِهِ، وَلا يَلْتَمِسُ ألْهُدَى فِي غَيْرِهِ. أللَّهُمَّ وَكَمَا نَصَبْتَ بِهِ مُحَمَّداً عَلَماً لِلدَّلالَةِ عَلَيْكَ، وَأَنْهَجْتَ بِآلِهِ سُبُلَ الرِّضَا إلَيْكَ. فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَاجْعَلِ القُرْآنَ وَسِيلَةً لَنَا إلَى أَشْرَفِ مَنَازِلِ الْكَرَامَةِ، وَسُلَّماً نَعْرُجُ فِيهِ إلَى مَحَلِّ السَّلامَةِ، وَسَبَباً نُجْزَى بِهِ النَّجاةَ فِي عَرْصَةِ الْقِيَامَةِ، وَذَرِيعَةً نُقْدِمُ بِهَا عَلَى نَعِيْمِ دَارِ الْمُقَامَةِ. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَاحْطُطْ بالْقُرْآنِ عَنَّا ثِقْلَ الأوْزَارِ، وَهَبْ لَنَا حُسْنَ شَمَائِلِ الأَبْرَارِ وَاقْفُ بِنَا آثَارَ الَّذِينَ قَامُوا لَكَ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَأَطْرَافَ النَّهَارِ حَتَّى تُطَهِّرَنَا مِنْ كُلِّ دَنَس بِتَطْهِيرِهِ، وَتَقْفُوَ بِنَا آثَارَ الَّذِينَ اسْتَضَـآءُوْا بِنُورِهِ، وَلَمْ يُلْهِهِمُ الأَمَلُ عَنِ الْعَمَـل فَيَقْطَعَهُمْ بِخُدَعِ غُرُورِهِ. أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ واجْعَلِ القُرْآنَ لنا فِي ظُلَمِ اللَّيالِي مُونِساً وَمِنْ نَزَغَاتِ الشَّيْطَانِ وَخَطَرَاتِ الْوَسَاوِسِ حَارِساً، وَلأقْدَامِنَا عَنْ نَقْلِهَا إلَى الْمَعَاصِيْ حَابِساً، وَلأِلْسِنَتِنَا عَنِ الْخَوْضِ فِي الباطِلِ مِنْ غَيْرِ مَا آفَة مُخْرِساً، وَلِجَوَارِحِنَا عَنِ اقْتِرَافِ الآثامِ زَاجِراً، وَلِمَا طَوَتِ الغَفْلَةُ عَنَّا مِنْ تَصَفُّحِ الاعْتِبَارِ نَاشِراً حَتَّى تُوصِلَ إلَى قُلُوبِنَا فَهْمَ عَجَائِبِهِ وَزَوَاجِرَ أَمْثَـالِهِ الَّتِي ضَعُفَتِ الْجِبَالُ الرَّوَاسِي عَلَى صَلاَبَتِهَا عَنِ احْتِمَالِهِ. اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَأَدِمْ بِالْقُرْانِ صَلاَحَ ظاهِرِنا، وَاحْجُبْ بِهِ خَطَراتِ الْوَسَاوِسِ عَنْ صِحَّةِ ضَمَائِرِنَا، وَاغْسِلْ بِهِ دَرَنَ قُلُوبِنَا وَعَلاَئِقَ أَوْزَارِنَا، وَاجْمَعْ بِهِ مُنْتَشَرَ أُمُورِنَا، وَأَرْوِ بِهِ فِي مَـوْقِفِ الْعَرْضِ عَلَيْكَ ظَمَأ هَوَاجِرِنَا، وَاكْسُنَا بِهِ حُلَلَ الأَمَانِ يَوْمَ الْفَزَعِ الأكْبَرِ فِي نشُورِنَا. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَاجْبُرْ بِالْقُرْآنِ خَلَّتَنَا مِنْ عَدَمِ الإمْلاَقِ، وَسُقْ إلَيْنَا بِهِ رَغَدَ الْعَيْشِ وَخِصْبَ سَعَةِ الأرْزَاقِ، وَجَنِّبْنَا بِهِ الضَّرَائِبَ الْمَذْمُومَةَ وَمَدَانِيَ الأخْلاَقِ، وَاعْصِمْنَا بِهِ مِنْ هُوَّةِ الكُفْرِ وَدَوَاعِـي النِّفَاقِ حَتَّى يَكُوْنَ لَنَا فِي الْقِيَامَةِ إلَى رِضْوَانِكَ وَجِنَانِكَ قَائِداً وَلَنَا فِي الدُّنْيا عَنْ سَخَطِكَ وَتَعَدِّي حُدُودِكَ ذَائِداً، وَلِمَا عِنْدَكَ بِتَحْلِيلِ حَلاَلِهِ وَتَحْرِيم حَرَامِهِ شَاهِداً. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَهَوِّنْ بِالْقُرْآنِ عِنْدَ الْمَوْتِ عَلَى أَنْفُسِنَا كَرْبَ السِّيَاقِ، وَجَهْدَ الأنِينِ، وَتَرادُفَ الْحَشَارِجِ إذَا بَلَغَتِ ألنُّفُوسُ التَّراقِيَ وَقِيلَ مَنْ رَاق وَتَجَلَّى مَلَكُ الْمَوْتِ لِقَبْضِهَا مِنْ حُجُبِ الْغُيُوبِ، وَرَمَاهَا عَنْ قَوْسِ الْمَنَايَا بِأَسْهُمِ وَحْشَةِ الْفِرَاقِ، وَدَافَ لَهَا مِنْ ذَعَافِ الْمَوْتِ كَأْساً مَسْمُومَةَ الْمَذَاقِ، وَدَنا مِنَّا إلَى الآخِرَةِ رَحِيلٌ وَانْطِلاَقٌ، وَصَارَتِ الأعْمَالُ قَلاَئِـدَ فِي الأَعْنَاقِ، وَكَانَتِ الْقُبُورُ هِيَ الْمَأوَى إلَى مِيقَاتِ يَوْمِ التَّلاَقِ. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَبَارِكْ لَنَا فِي حُلُولِ دَارِ البِلَى وَطُولِ الْمُقَامَـةِ بَيْنَ أَطْبَـاقِ الثَّـرى، وَاجْعَلِ القبُورَ بَعْدَ فِرَاقِ الدُّنْيَا خَيْرَ مَنَازِلِنَا، وَافْسَحْ لَنَا بِرَحْمَتِكَ فِي ضِيقِ مَلاَحِدِنَا، وَلا تَفْضَحْنَا فِي حَاضِرِي الْقِيَامَةِ بِمُوبِقَاتِ آثامِنَا، وَارْحَمْ بِالْقُرْانِ فِيْ مَوْقِفِ الْعَرْضِ عَلَيْكَ ذُلَّ مَقَامِنَا، وَثَبِّتْ بِهِ عِنْدَ اضْطِرَابِ جِسْرِ جَهَنَّمَ يَوْمَ الْمَجَازِ عَلَيْهَـا زَلَلَ أَقْدَامِنَا، وَنَوِّرْ بِهِ قَبْلَ الْبَعْثِ سُدَفَ قُبُورنا، وَنَجِّنَا بِهِ مِنْ كُلِّ كَرْب يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَشَدَائِدِ أَهْوَالِ يَوْمِ الطَّامَّةِ وَبَيِّضْ وُجُوهَنَا يَوْمَ تَسْوَدُّ وُجُوهُ الظَّلَمَةِ فِي يَوْمِ الْحَسْرَةِ وَالنَّدَامَةِ، وَاجْعَلْ لَنَا فِي صُدُورِ الْمُؤْمِنِينَ وُدّاً، وَلاَ تَجْعَلِ الْحَيَاةَ عَلَيْنَا نَكَداً. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ كَمَا بَلَّغَ رِسَالَتَكَ، وَصَدَعَ بِأَمْرِكَ، وَنَصَحَ لِعِبَادِكَ. أللَّهُمَّ اجْعَلْ نَبِيَّنا صَلَواتُكَ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَقْرَبَ النِّبِيِّينَ مِنْكَ مَجْلِساً، وَأَمْكَنَهُمْ مِنْكَ شَفَاعَةً، وَأَجَلَّهُمْ عِنْدَكَ قَدْراً، وَأَوْجَهَهُمْ عِنْدَكَ جَاهَاً. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِ مُحَمَّد وَشَرِّفْ بُنْيَانَهُ، وَعَظِّمْ بُرْهَانَهُ، وَثَقِّلْ مِيزَانَهُ، وَتَقَبَّلْ شَفَاعَتَهُ وَقَرِّبْ وَسِيلَتَهُ، وَبَيِّضْ وَجْهَهُ، وَأَتِمَّ نُورَهُ، وَارْفَعْ دَرَجَتَهُ، وَأَحْيِنَا عَلَى سُنَّتِهِ، وَتَوَفَّنَا عَلَى مِلَّتِهِ، وَخُذْ بِنَـا مِنْهَاجَـهُ، وَاسْلُكْ بِنَا سَبِيلَهُ، وَاجْعَلْنَا مِنْ أَهْلِ طَاعَتِهِ، وَاحْشُرْنَا فِي زُمْرَتِهِ، وَأَوْرِدْنَا حَوْضَهُ، وَاسْقِنَا بِكَأسِهِ. أللَّهُمَّ وَصَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ صَلاةً تُبَلِّغُهُ بِهَا أَفْضَلَ مَا يَأْمُلُ مِنْ خَيْرِكَ وَفَضْلِكَ وَكَرَامَتِكَ إنَّكَ ذُوْ رَحْمَة وَاسِعَة وَفَضْل كَرِيم. أللَّهُمَّ اجْزِهِ بِمَا بَلَّغَ مِنْ رِسَالاتِكَ وَأَدَّى مِنْ آيَاتِكَ وَنَصَحَ لِعِبَادِكَ وَجَاهَدَ فِي سَبِيلِكَ أَفْضَلَ مَا جَزَيْتَ أَحَداً مِنْ مَلائِكَتِكَ الْمُقَرَّبِينَ وَأَنْبِيَائِكَ الْمُرْسَلِينَ الْمُصْطَفَيْنَ. وَالسَّلاَمُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ الطَّيِّبِينَ الطَّاهِرِينَ وَرَحْمَةُ الله وَبَرَكَاتُهُ.

    دُعائے ختم القرآن: بارالٰہا ! تو نے اپنی کتاب کے ختم کرنے پر میری مدد فرمائی، وہ کتاب جسے تو نے نور بناکر اتارا، اور تمام کتب سماویہ پر اسے گواہ بنایا، اور ہر اس کلام پر جسے تو نے بیان فرمایا اسے فوقیت بخشی، اور (حق و باطل میں) حد فاصل قرار دیا، جس کے ذریعہ حلال و حرام الگ الگ کر دیا، وہ قرآن جس کے ذریعہ شریعت کے احکام واضح کئے، وہ کتاب جسے تو نے اپنے بندوں کیلئے شرح و تفصیل سے بیان کیا، اور وہ وحی (آسمانی) جسے اپنے پیغمبر محمدﷺ پر نازل فرمایا۔ جسے وہ نور بنایا جس کی پیروی سے ہم گمراہی و جہالت کی تاریکیوں میں ہدایت حاصل کرتے ہیں، اور اس شخص کیلئے اسے شفا قرار دیا جو اس پر اعتقاد رکھتے ہوئے اسے سمجھنا چاہے اور خاموشی کے ساتھ اسے سنے، اور وہ عدل و انصاف کا ترازو بنایا جس کا کانٹا حق سے ادھر ادھر نہیں ہوتا، اور وہ نورِ ہدایت قرار دیا جس کی دلیل و برہان کی روشنی (توحید و نبوت کی) گواہی دینے والوں کیلئے بجھتی نہیں، اور وہ نجات کا نشان بنایا کہ جو اس کے سیدھے طریقہ پر چلنے کا ارادہ کرے وہ گمراہ نہیں ہوتا، اور جو اس کی ریسمان کے بندھن سے وابستہ ہو، وہ (خوف و فقر و عذاب کی) ہلاکتوں کے دسترس سے باہر ہو جاتا ہے۔ بار الٰہا! جبکہ تو نے اس کی تلاوت کے سلسلہ میں ہمیں مدد پہنچائی، اور اس کی حسن ادائیگی کیلئے ہماری زبان کی گرہیں کھول دیں، تو پھر ہمیں ان لوگوں میں سے قرار دے جو اس کی پوری طرح حفاظت و نگہداشت کرتے ہوں، اور اس کی محکم آیتوں کے اعتراف و تسلیم کی پختگی کے ساتھ تیری اطاعت کرتے ہوں، اور متشابہ آیتوں اور روشن و واضح دلیلوں کے اقرار کے سایہ میں پناہ لیتے ہوں۔ اے اللہ! تو نے اسے اپنے پیغمبر محمدﷺ پر اجمال کے طور پر اتارا، اور اس کے عجائب و اسرار کا پورا پورا علم نہیں القا کیا، اور اس کے علم تفصیلی کا ہمیں وارث قرار دیا، اور جو اس کا علم نہیں رکھتے ان پر ہمیں فضیلت دی، اور اس کے مقتضیات پر عمل کرنے کی قوت بحشی، تاکہ جو اس کے حقائق کے متحمل نہیں ہو سکتے ان پر ہماری فوقیت و برتری ثابت کر دے۔ اے اللہ! جس طرح تو نے ہمارے دلوں کو قرآن کا حامل بنایا، اور اپنی رحمت سے اس کے فضل و شرف سے آگاہ کیا، یونہی محمدﷺ پر جو قرآن کے خطبہ خواں اور ان کی آلؑ پر جو قرآن کے خزینہ دار ہیں رحمت نازل فرما، اور ہمیں ان لوگوں میں سے قرار دے جو یہ اقرار کرتے ہیں کہ یہ تیری جانب سے ہے، تاکہ اس کی تصدیق میں ہمیں شک و شبہ لا حق نہ ہو، اور اس کے سیدھے راستہ سے روگردانی کا خیال بھی نہ آنے پائے۔ اے اللہ ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور ہمیں ان لوگوں میں سے قرار دے جو اس کی ریسمان سے وابستہ، اور مشتبہ امور میں اس کی محکم پناہ گاہ کا سہارا لیتے، اور اس کے پروں کے زیر سایہ منزل کرتے، اس کی صبح درخشاں کی روشنی سے ہدایت پاتے، اور اس کے نور کی درخشندگی کی پیروی کرتے، اور اس کے چراغ سے چراغ جلاتے ہیں، اور اس کے علاوہ کسی سے ہدایت کے طالب نہیں ہوتے۔ بار الٰہا! جس طرح تو نے اس قرآن کے ذریعہ محمدﷺ کو اپنی رہنمائی کا نشان بنایا ہے، اور ان کی آل علیہم السلام کے ذریعہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہیں آشکارا کی ہیں، یونہی محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور ہمارے لئے قرآن کو عزت و بزرگی کی بلند پایہ منزلوں تک پہنچنے کا وسیلہ، اور سلامتی کے مقام تک بلند ہونے کا زینہ، اور میدان حشر میں نجات کو جزا میں پانے کا سبب، اور محل قیام (جنت) کی نعمتوں تک پہنچے کا ذریعہ قرار دے۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور قرآن کے ذریعہ گناہوں کا بھاری بوجھ ہمارے سر سے اتار دے، اور نیکوکاروں کے اچھے خصائل و عادات ہمیں مرحمت فرما، اور ان لوگوں کے نقش قدم پر چلا جو تیرے لئے رات کے لمحوں اور صبح و شام ( کی ساعتوں ) میں اسے اپنا دستوار العمل بناتے ہیں، تاکہ اس کی تطہیر کے وسیلہ سے تو ہمیں ہر آلودگی سے پاک کر دے، اور ان لوگوں کے نقش قدم پر چلائے جنہوں نے اس کے نور سے روشنی حاصل کی ہے، اور امیدوں نے انہیں عمل سے غافل نہیں ہونے دیا کہ انہیں اپنے فریب کی نیزنگیوں سے تباہ کر دیں۔ اے اللہ ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور قرآن کو رات کی تاریکیوں میں ہمارا مونس، اور شیطان کے مفسدوں اور دل میں گزرنے والے وسوسوں سے نگہبانی کرنے، اور ہمارے قدموں کو نافرمانیوں کی طرف بڑھنے سے روک دینے والا، اور ہماری زبانوں کو باطل پیمائیوں سے بغیر کسی مرض کے گنگ کر دینے والا، اور ہمارے اعضاء کو ارتکاب گناہ سے باز رکھنے والا، اور ہماری غفلت و مدہوشی نے جس دفتر عبرت و پند اندوزی کو تہ کر رکھا ہے اسے پھیلانے والا قرار دے، تاکہ اس کے عجائب و رموز کی حقیقتوں اور اس کی متنبہ کرنے والی مثالوں کو کہ جنہیں اٹھانے سے پہاڑ اپنے استحکام کے باوجود عاجز آ چکے ہیں ہمارے دلوں میں اتار دے۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور قرآن کے ذریعہ ہمارے ظاہر کو ہمیشہ صلاح و رشد سے آراستہ رکھ، اور ہمارے ضمیر کی فطری سلامتی سے غلط تصورات کی دخل دراندازی کو روک دے، اور ہمارے دلوں کی کثافتوں اور گناہوں کی آلودگیوں کو دھو دے، اور اس کے ذریعہ ہمارے پراگندہ امور کی شیرازہ بندی کر، اور میدان حشر میں ہماری جھلستی ہوئی دوپہروں کی تپش و تشنگی بجھا دے، اور سخت خوف و ہراس کے دن جب قبروں سے اٹھیں تو ہمیں امن و عافیت کے جامے پہنا دے۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور قرآن کے ذریعہ فقر و احتیاج کی وجہ سے ہماری خستگی و بدحالی کا تدارک فرما، اور زندگی کی کشائش اور فراخ روزی کی آسودگی کا رخ ہماری جانب پھیر دے، اور بُرے عادات اور پست اخلاق سے ہمیں دور کر دے، اور کفر کے گڑھے (میں گرنے) اور نفاق انگیز چیزوں سے بچالے، تاکہ وہ ہمیں قیامت میں تیری خوشنودی و جنت کی طرف بڑھانے والا، اور دنیا میں تیری ناراضگی اور حدود شکنی سے روکنے والا ہو، اور اس امر پر گواہ ہو کہ جو چیز تیرے نزدیک حلال تھی اسے حلال جانا، اور جو حرام تھی اسے حرام سمجھا۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور اس قرآن کے وسیلہ سے موت کے ہنگام نزع کی اذیتوں، کراہنے کی سختیوں، اور جان کنی کی لگاتار ہچکیوں کو ہم پر آسان فرما، جبکہ جان گلے تک پہنچ جائے، اور کہا جائے کہ کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا ہے (جو کچھ تدراک کرے)، اور ملک الموت غیب کے پردے چیر کر قبض روح کیلئے سامنے آئے، اور موت کی کمان میں فراق کی دہشت کے تیر جوڑ کر اپنے نشانہ کی زد پر رکھ لے، اور موت کے زہریلے جام میں زہر ہلاہل گھول دے، اور آخرت کی طرف ہمارا چل چلاؤ اور کوچ قریب ہو، اور ہمارے اعمال ہماری گردن کا طوق بن جائیں، اور قبریں روز حشر کی ساعت تک آرام گاہ قرار پائیں۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور کہنگی و بوسیدگی کے گھر میں اترنے، اور مٹی کی تہوں میں مدت تک پڑے رہنے کو ہمارے لئے مبارک کرنا، اور دنیا سے منہ موڑنے کے بعد قبروں کو ہمارا اچھا گھر بنانا، اور اپنی رحمت سے ہمارے لئے گور کی تنگی کو کشادہ کر دینا، اور حشر کے عام اجتماع کے سامنے ہمارے مہلک گناہوں کی وجہ سے ہمیں رسوا نہ کرنا، اور اعمال کے پیش ہونے کے مقام پر ہماری ذلت و خواری کی وضع پر رحم فرمانا، اور جس دن جہنم کے پل پر سے گزرنا ہو گا تو اس کے لڑکھڑانے کے وقت ہمارے ڈگمگاتے ہوئے قدموں کو جما دینا، (اور اس کے ذریعہ قیامت سے پہلے ہماری قبروں کی تاریکی کو روشنی میں بدل دے) اور قیامت کے دن ہمیں اس کے ذریعہ ہر اندوہ اور روز حشر کی سخت ہولناکیوں سے نجات دینا، اور جبکہ حسرت و ندامت کے دن ظالموں کے چہرے سیاہ ہوں گے ہمارے چہروں کو نورانی کرنا، اور مومنین کے دلوں میں ہماری محبت پیدا کر دے، اور زندگی کو ہمارے لئے دشوار گزار نہ بنا۔ اے اللہ! محمد ﷺ جو تیرے خاص بندے اور رسول ہیں ان پر رحمت نازل فرما جس طرح انہوں نے تیرا پیغام پہنچایا، تیری شریعت کو واضح طور سے پیش کیا اور تیرے بندوں کو پند و نصیحت کی۔ اے اللہ! ہمارے نبی ﷺ کو قیامت کے دن تمام نبیوں سے منزلت کے لحاظ سے مقرب تر، شفاعت کے لحاظ سے برتر، قدرو منزلت کے اعتبار سے بزرگ تر اور جاہ و مرتبت کے اعتبار سے ممتاز تر قرار دے۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور ان کے ایوان (عزو شرف) کو بلند، ان کی دلیل و برہان کو عظیم، اور ان کے میزان (عمل کے پلہ) کو بھاری کر دے، ان کی شفاعت کو قبول فرما، اور ان کی منزلت کو اپنے سے قریب کر، ان کے چہرے کو روشن، ان کے نور کو کامل اور ان کے درجہ کو بلند فرما، اور ہمیں انہی کے آئین پر زندہ رکھ، اور انہی کے دین پر موت دے، اور انہی کی شاہراہ پر گامزن کر، اور انہی کے راستہ پر چلا، اور ہمیں ان کے فرمانبرداروں میں سے قرار دے، اور ان کی جماعت میں محشور کر، اور ان کے حوض پر اتار، اور ان کے ساغر سے سیراب فرما۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر ایسی رحمت نازل فرما جس کے ذریعہ انہیں بہترین نیکی، فضل اور عزت تک پہنچا دے جس کے وہ امیدوار ہیں، اس لئے کہ تو وسیع رحمت اور عظیم فضل و احسان کا مالک ہے۔ اے اللہ! انہوں نے جو تیرے پیغامات کی تبلیغ کی، تیری آیتوں کو پہنچایا، تیرے بندوں کو پند و نصیحت کی اور تیری راہ میں جہاد کیا، ان سب کی انہیں جزا دے، جو ہر اس جزا سے بہتر ہو، جو تو نے مقرب فرشتوں اور برگزیدہ مرسل نبیوں کو عطا کی ہو، ان پر اور ان کی پاک و پاکیزہ آلؑ پر سلام ہو، اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں ان کے شامل حال ہوں۔

  43. دعاء 41 دعاۓ رویت ہلال

    43

    أَيُّهَا ٱلْخَلْقُ ٱلْمُطِيعُ ٱلدَّائِبُ ٱلسَّرِيعُ ٱلْمُتَرَدِّدُ فِي مَنَازِلِ ٱلتَّقْدِيرِ ٱلْمُتَصَرِّفُ فِي فَلَكِ ٱلتَّدْبِيرِ آمَنْتُ بِمَنْ نَوَّرَ بِكَ ٱلظُّلَمَ وَأَوْضَحَ بِكَ ٱلْبُهَمَ وَجَعَلَكَ آيَةً مِنْ آيَاتِ مُلْكِهِ وَعَلاَمَةً مِنْ عَلاَمَاتِ سُلْطَانِهِ فَحَدَّ بِكَ ٱلزَّمَانَ وَٱمْتَهَنَكَ بِٱلْكَمَالِ وَٱلنُّقْصَانِ وَٱلطُّلُوعِ وَٱلأُفُولِ وَٱلإِنَارَةِ وَٱلْكُسُوفِ فِي كُلِّ ذٰلِكَ أَنْتَ لَهُ مُطِيعٌ وَإِلَىٰ إِرَادَتِهِ سَرِيعٌ سُبْحَانَهُ مَا أَعْجَبَ مَا دَبَّرَ مِنْ أَمْرِكَ وَأَلْطَفَ مَا صَنَعَ فِي شَأْنِكَ جَعَلَكَ مِفْتَاحَ شَهْرٍ حَادِثٍ لأَمْرٍ حَادِثٍ فَأَسْأَلُ ٱللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكَ وَخَالِقِي وَخَالِقَكَ وَمُقَدِّرِي وَمُقَدِّرَكَ وَمُصَوِّرِي وَمُصَوِّرَكَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَنْ يَجْعَلَكَ هِلاَلَ بَرَكَةٍ لاَ تَمْحَقُهَا ٱلأَيَّامُ وَطَهَارَةٍ لاَ تُدَنِّسُهَا ٱلآثَامُ هِلاَلَ أَمْنٍ مِنَ ٱلآفَاتِ وَسَلاَمَةٍ مِنَ ٱلسَّيِّئَاتِ هِلاَلَ سَعْدٍ لاَ نَحْسَ فِيهِ وَيُمْنٍ لاَ نَكَدَ مَعَهُ وَيُسْرٍ لاَ يُمَازِجُهُ عُسْرٌ وَخيْرٍ لاَ يَشُوبُهُ شَرٍّ هِلالَ أَمْنٍ وَإِيـمَانٍ وَنِعْمَةٍ وَإِحْسَانٍ وَسَلاَمَةٍ وَإِسْلاَمٍ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَٱجْعَلْنَا مِنْ أَرْضَىٰ مَنْ طَلَعَ عَلَيْهِ وَأَزْكَىٰ مَنْ نَظَرَ إِلَيْهِ وَأَسْعَدَ مَنْ تَعَبَّدَ لَكَ فِيهِ وَوَفِّقْنَا ٱللَّهُمَّ فِيهِ لِلطَّاعَةِ وَٱلتَّوْبَةِ وَٱعْصِمْنَا فِيهِ مِنَ ٱلآثَامِ وَٱلْحَوْبَةِ وَأَوْزِعْنَا فِيهِ شُكْرَ ٱلنِّعْمَةِ وَأَلْبِسْنَا فِيهِ جُنَنَ ٱلْعَافِيَةِ وَأَتْمِمْ عَلَيْنَا بِٱسْتِكْمَالِ طَاعَتِكَ فِيهِ ٱلْمِنَّةَ إِنَّكَ أَنْتَ ٱلْمَنَّانُ ٱلْحَمِيدُ وَصَلَّىٰ ٱللَّهُ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ ٱلطَّيِّبِينَ وَٱجْعَلْ لَنَا فِيهِ عَوْناً مِنْكَ عَلَىٰ مَا نَدَبْتَنَا إِلَيْهِ مِنْ مُفْتَرَضِ طَاعَتِكَ وَتَقَبَّلْهَا إِنَّكَ ٱلأَكْرَمُ مِنْ كُلِّ كَرِيمٍ وَٱلأَرْحَمُ مِنْ كُلِّ رَحِيمٍ آمِينَ آمِينَ رَبَّ ٱلْعَالَمِينَ

    دُعائے رویت ہلال: اے فرمانبردار، سرگرم عمل اور تیزرَو مخلوق اور مقررہ منزلوں میں یکے بعد دیگرے وارد ہونے اور فلک نظم و تدبیر میں تصرف کرنے والے! میں اس ذات پر ایمان لایا جس نے تیرے ذریعہ تاریکیوں کو روشن اور ڈھکی چھپی چیزوں کو آشکارا کیا، اور تجھے اپنی شاہی و فرماں روائی کی نشانیوں میں سے ایک نشانی، اور اپنے غلبہ و اقتدار کی علامتوں میں سے ایک علامت قرار دیا، اور تجھے بڑھنے، گھٹنے ، نکلنے، چھپنے اور چمکنے گہنانے سے تسخیر کیا، ان تمام حالات میں تو اس کے زیر فرمان اور اس کے ارادہ کی جانب رواں دواں ہے، تیرے بارے میں اس کی تدبیر و کارسازی کتنی عجیب اور تیری نسبت اس کی صناعی کتنی لطیف ہے، تجھے پیش آیند حالات کیلئے نئے مہینہ کی کلید قرار دیا۔ تو اب میں اللہ تعالیٰ سے جو میرا پروردگار اور تیرا پروردگار، میرا خالق اور تیرا خالق، میرا نقش آرا اور تیرا نقش آرا، اور میرا صورت گر اور تیرا صورت گر ہے سوال کرتا ہوں کہ وہ رحمت نازل کرے محمدؐ اور ان کی آلؑ پر اور تجھے ایسی برکت والا چاند قرار دے جسے دنوں کی گردشیں زائل نہ کر سکیں، اور ایسی پاکیزگی والا جسے گناہ کی کثافتیں آلودہ نہ کر سکیں، ایسا چاند جو آفتوں سے بری اور برائیوں سے محفوظ ہو، سراسر یمن و سعادت کا چاند جس میں ذرا نحوست نہ ہو، اور سراپا خیر و برکت کا چاند جسے تنگی و عسرت سے کوئی لگاؤ نہ ہو، اور ایسی آسانی و کشائش کا جس میں دشواری کی آمیزش نہ ہو، اور ایسی بھلائی کا جس میں برائی کا شائبہ نہ ہو، غرض سر تا پا امن، ایمان، نعمت، حسن عمل، سلامتی اور اطاعت و فرمانبرداری کا چاند ہو۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور جن جن پر یہ اپنا پرتو ڈالے ان سے بڑھ کر ہمیں خوشنود، اور جو جو اسے دیکھے ان سب سے زیادہ درست کار، اور جو جو اس مہینہ میں تیری عبادت کرے ان سب سے زیادہ خوش نصیب قرار دے، اور ہمیں اس میں توبہ کی توفیق دے اور گناہوں سے دور اور معصیت کے ارتکاب سے محفوظ رکھ، اور ہمارے دل میں اپنی نعمتوں پر ادائے شکر کا ولولہ پیدا کر، اور ہمیں امن و عافیت کی سپر میں ڈھانپ لے، اور اس طرح ہم پر اپنی نعمت کو تمام کر کہ تیرے فرائض اطاعت کو پورے طور سے انجام دیں، بیشک تو نعمتوں کا بخشنے والا اور قابل ستائش ہے، رحمت فراواں نازل کرے اللہ محمدﷺ اور ان کی پاک و پاکیزہ آلؑ پر۔

  44. دعاء 42 استقبال ماہ رمضان کی دعا

    44

    الْحَمْدُ للهِ الَّذِي هَدَانَا لِحَمْدِهِ وَجَعَلَنَا مِنْ أَهْلِهِ، لِنَكُونَ لِإِحْسَانِهِ مِنَ الشَّاكِرِينَ وَلِيَجْزِيَنَا عَلَى ذلِكَ جَزَآءَ الْمُحْسِنِينَ وَالْحَمْدُ للهِ الَّذِي حَبَانَا بِدِينِهِ، وَاخْتَصَّنَا بِمِلَّتِهِ، وَسَبَّلَنَا فِي سُبُلِ إحْسَانِهِ، لِنَسْلُكَهَا بِمَنِّهِ إلَى رِضْوَانِهِ، حَمْدَاً يَتَقَبَّلُهُ مِنَّا، وَيَرْضَى بِهِ عَنَّا. وَالْحَمْدُ لِلّه الَّذِي جَعَلَ مِنْ تِلْكَ السُّبُلِ شَهْرَهُ شَهْرَ رَمَضَانَ، شَهْرَ الصِّيَامِ، وَشَهْرَ الإِسْلاَم، وَشَهْرَ الطَّهُورِ، وَشَهْرَ التَّمْحِيْصِ، وَشَهْرَ الْقِيَامِ، الَّذِي أُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْآنُ هُدىً لِلنَّاسِ، وَبَيِّنَات مِنَ الْهُدى وَالْفُرْقَانِ، فَأَبَانَ فَضِيْلَتَهُ عَلَى سَائِرِ الشُّهُورِ بِمَا جَعَلَ لَهُ مِنَ الْحُرُمَاتِ الْمَوْفُورَةِ وَالْفَضَائِلِ الْمَشْهُورَةِ، فَحَرَّمَ فِيْهِ ما أَحَلَّ فِي غَيْرِهِ إعْظَاماً، وَحَجَرَ فِيْهِ الْمَطَاعِمَ وَالْمَشَارِبَ إكْرَاماً، وَجَعَلَ لَهُ وَقْتاً بَيِّناً لاَ يُجِيزُ جَلَّ وَعَزَّ أَنْ يُقَدَّمَ قَبْلَهُ، وَلا يَقْبَـلُ أَنْ يُؤَخَّرَ عَنْهُ، ثُمَّ فَضَّلَ لَيْلَةً وَاحِدَةً مِنْ لَيَالِيهِ عَلَى لَيَالِي أَلْفِ شَهْر، وَسَمَّاهَا لَيْلَةَ الْقَدْرِ، تَنَزَّلُ الْمَلائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْر، سَلاَمٌ دَائِمُ الْبَرَكَةِ إلَى طُلُوعِ الْفَجْرِ، عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ بِمَا أَحْكَمَ مِنْ قَضَائِهِ. اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ، وَأَلْهِمْنَا مَعْرِفَةَ فَضْلِهِ وَإِجْلاَلَ حُرْمَتِهِ وَالتَّحَفُّظَ مِمَّا حَظَرْتَ فِيهِ وَأَعِنَّـا عَلَى صِيَامِـهِ بِكَفِّ الْجَـوَارِحِ عَنْ مَعَاصِيْكَ، وَاسْتِعْمَالِهَا فِيهِ بِمَا يُرْضِيْكَ حَتَّى لاَ نُصْغِىَ بِأَسْمَاعِنَا إلَى لَغْو، وَلا نُسْرِعَ بِأَبْصَارِنَا إلَى لَهْو، وَحَتَّى لاَ نَبْسُطَ أَيْدِيَنَا إلَى مَحْظُور، وَلاَ نَخْطُوَ بِأَقْدَامِنَا إلَى مَحْجُور، وَحَتَّى لاَ تَعِيَ بُطُونُنَا إلاَّ مَا أَحْلَلْتَ، وَلا تَنْطِقَ أَلْسِنَتُنَا إلاَّ بِمَا مَثَّلْتَ وَلا نَتَكَلَّفَ إلاَّ ما يُدْنِي مِنْ ثَوَابِكَ، وَلاَ نَتَعَاطَى إلاّ الَّذِي يَقِيْ مِنْ عِقَابِكَ، ثُمَّ خَلِّصْ ذَلِكَ كُلَّهُ مِنْ رِئآءِ الْمُرَائِينَ وَسُمْعَةِ الْمُسْمِعِينَ، لاَ نَشْرَكُ فِيهِ أَحَداً دُونَكَ، وَلا نَبْتَغِيْ فِيهِ مُرَاداً سِوَاكَ. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ، وَقِفْنَـا فِيْـهِ عَلَى مَـوَاقِيْتِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْس بِحُدُودِهَا الَّتِي حَدَّدْتَ، وَفُرُوضِهَا الَّتِي فَرَضْتَ وَوَظَائِفِهَا الَّتِي وَظَّفْتَ، وَأَوْقَاتِهَا الَّتِي وَقَّتَّ، وَأَنْزِلْنَا فِيهَا مَنْزِلَةَ الْمُصِيْبينَ لِمَنَازِلِهَا الْحَافِظِينَ لاِرْكَانِهَا الْمُؤَدِّينَ لَهَـا فِي أَوْقَاتِهَـا عَلَى مَا سَنَّـهُ عَبْدُكَ وَرَسُـولُكَ صَلَوَاتُـكَ عَلَيْهِ وَآلِـهِ فِي رُكُوعِهَا وَسُجُودِهَا وَجَمِيْعِ فَوَاضِلِهَا عَلى أَتَمِّ الطَّهُورِ، وَأَسْبَغِهِ وَأَبْيَنِ الْخُشُوعِ وَأَبْلَغِهِ، وَوَفِّقْنَا فِيهِ لاِنْ نَصِلَ أَرْحَامَنَا بِالبِرِّ وَالصِّلَةِ وَأَنْ نَتَعَاهَدَ جِيرَانَنَابِالاِفْضَالِ وَالْعَطِيَّةِ وَأَنْ نُخَلِّصَ أَمْوَالَنَا مِنَ التَّبِعَاتِ، وَأَنْ نُطَهِّرَهَا بِإخْرَاجِ الزَّكَوَاتِ، وَأَنْ نُرَاجِعَ مَنْ هَاجَرَنَـا وَأَنْ نُنْصِفَ مَنْ ظَلَمَنَا وَأَنْ نُسَـالِمَ مَنْ عَادَانَا حَاشَا مَنْ عُودِيَ فِيْكَ وَلَكَ، فَإنَّهُ الْعَدُوُّ الَّذِي لاَ نُوالِيهِ، وَالحِزْبُ الَّذِي لاَ نُصَافِيهِ. وَأَنْ نَتَقَرَّبَ إلَيْكَ فِيْهِ مِنَ الأَعْمَالِ الزَّاكِيَةِ بِمَا تُطَهِّرُنا بِهِ مِنَ الذُّنُوبِ، وَتَعْصِمُنَا فِيهِ مِمَّا نَسْتَأنِفُ مِنَ الْعُيُوبِ، حَتَّى لا يُورِدَ عَلَيْكَ أَحَدٌ مِنْ مَلاَئِكَتِكَ إلاّ دُونَ مَا نُورِدُ مِنْ أَبْوابِ الطَّاعَةِ لَكَ، وَأَنْوَاعِ القُرْبَةِ إلَيْكَ. أللَّهُمَّ إنِّي أَسْأَلُكَ بِحَقِّ هَذَا الشَّهْرِ، وَبِحَقِّ مَنْ تَعَبَّدَ لَكَ فِيهِ مِنِ ابْتِدَائِهِ إلَى وَقْتِ فَنَائِهِ مِنْ مَلَك قَرَّبْتَهُ أَوْ نَبِيٍّ أَرْسَلْتَهُ أَوْ عَبْد صَالِح اخْتَصَصْتَهُ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ، وَأَهِّلْنَا فِيهِ لِمَا وَعَدْتَ أَوْلِياءَكَ مِنْ كَرَامَتِكَ، وَأَوْجِبْ لَنَا فِيهِ مَا أَوْجَبْتَ لأِهْلِ الْمُبَالَغَةِ فِي طَاعَتِكَ، وَاجْعَلْنَا فِي نَظْمِ مَنِ اسْتَحَقَّ الرَّفِيْعَ الأعْلَى بِرَحْمَتِكَ. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ، وَجَنِّبْنَا الإلْحَادَ فِي تَوْحِيدِكَ وَالتَّقْصِيرَ فِي تَمْجِيدِكَ وَالشَّكَّ فِي دِينِـكَ وَالْعَمَى عَنْ سَبِيْلِكَ وَالاغْفَالَ لِحُرْمَتِكَ، وَالانْخِدَاعَ لِعَدُوِّكَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَإذَا كَانَ لَكَ فِيْ كُلِّ لَيْلَة مِنْ لَيَالِيْ شَهْرِنَا هَذَا رِقَابٌ يُعْتِقُهَا عَفْوُكَ أَوْ يَهَبُهَا صَفْحُكَ فَاجْعَلْ رِقَابَنَا مِنْ تِلْكَ الرِّقَابِ وَاجْعَلْنَا لِشَهْرِنَا مِنْ خَيْرِ أَهْل وَأَصْحَاب. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَامْحَقْ ذُنُوبَنَا مَعَ امِّحاقِ هِلاَلِهِ وَاسْلَخْ عَنَّا تَبِعَاتِنَا مَعَ انْسِلاَخِ أَيَّامِهِ حَتَّى يَنْقَضِي عَنَّا وَقَدْ صَفَّيْتَنَا فِيهِ مِنَ الْخَطِيئاتِ وَأَخْلَصْتَنَا فِيهِ مِنَ السَّيِّئاتِ أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ، وَإنْ مِلْنَا فِيهِ فَعَدِّلْنا، وَإنْ زِغْنَا فِيهِ فَقَوِّمْنَا وَإنِ اشْتَمَلَ عَلَيْنَا عَدُوُّكَ الشَّيْطَانُ فَاسْتَنْقِذْنَا مِنْهُ أللَهُمَّ اشْحَنْهُ بِعِبَادَتِنَا إيَّاكَ وَزَيِّنْ أَوْقَاتَهُ بِطَاعَتِنَا لَكَ، وَأَعِنَّا فِي نَهَـارِهِ عَلَى صِيَـامِـهِ، وَفِي لَيْلِهِ عَلَى الصَّـلاَةِ وَالتَّضَرُّعِ إلَيْكَ وَالخُشُوعِ لَكَ، وَالذِّلَّةِ بَيْنَ يَدَيْكَ حَتَّى لا يَشْهَدَ نَهَارُهُ عَلَيْنَا بِغَفْلَة، وَلا لَيْلُهُ بِتَفْرِيط. أللَّهُمَّ وَاجْعَلْنَا فِي سَائِرِ الشُّهُورِ وَالأَيَّامِ كَذَلِكَ مَا عَمَّرْتَنَا، وَاجْعَلْنَا مِنْ عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ الَّذِينَ يَرِثُونَ الْفِرْدَوْسَ، هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ، وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ أَنَّهُمْ إلَى رَبِّهِمْ رَاجِعُـونَ، وَمِنَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَهُمْ لَهَا سَابِقُونَ. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ، فِي كُلِّ وَقْت وَكُلِّ أَوَان وَعَلَى كُـلِّ حَال عَـدَدَ مَا صَلَّيْتَ عَلَى مَنْ صَلَّيْتَ عَلَيْهِ، وَأَضْعَافَ ذَلِكَ كُلِّهِ بِالاضْعافِ الَّتِي لا يُحْصِيهَا غَيْرُكَ، إنَّكَ فَعَّالٌ لِمَا تُرِيدُ.

    دُعائے استقبال ماہ رمضان: تمام تعریف اس اللہ کیلئے ہے جس نے اپنی حمد و سپاس کی طرف ہماری رہنمائی کی، اور ہمیں حمد گزاروں میں سے قرار دیا، تاکہ ہم اس کے احسانات پر شکر کرنے والوں میں محسوب ہوں، اور ہمیں اس شکر کے بدلہ میں نیکو کاروں کا اجر دے۔ اس اللہ کیلئے حمد و ستائش ہے جس نے ہمیں اپنا دین عطا کیا، اور اپنی ملت میں سے قرار دے کر امتیاز بخشا، اور اپنے لطف و احسان کی راہوں پر چلایا، تاکہ ہم اس کے فضل و کرم سے ان راستوں پر چل کر اس کی خوشنودی تک پہنچیں، ایسی حمد جسے وہ قبول فرمائے اور جس کی وجہ سے ہم سے وہ راضی ہو جائے۔ تمام تعریف اس اللہ کیلئے ہے جس نے اپنے لطف و احسان کے راستوں میں سے ایک راستہ اپنے مہینہ کو قرار دیا، یعنی رمضان کا مہینہ، صیام کا مہینہ، اسلام کا مہینہ، پاکیزگی کا مہینہ، تصفیہ و تطہیر کا مہینہ، عبادت و قیام کا مہینہ، وہ مہینہ جس میں قرآن نازل ہوا، جو لوگوں کیلئے رہنما ہے، ہدایت اور حق و باطل کے امتیاز کی روشن صداقتیں رکھتا ہے۔ چنانچہ تمام مہینوں پر اس کی فضیلت و برتری کو آشکارا کیا، ان فراواں عزتوں اور نمایاں فضیلتوں کی وجہ سے جو اس کیلئے قرار دیں، اور اس کی عظمت کے اظہار کیلئے جو چیزیں دوسرے مہینوں میں جائز کی تھیں اس میں حرام کر دیں، اور اس کے احترام کے پیش نظر کھانے پینے کی چیزوں سے منع کر دیا، اور ایک واضح زمانہ اس کیلئے معین کر دیا، خدائے بزرگ و برتر یہ اجازت نہیں دیتا کہ اسے اس کے معینہ وقت سے آگے بڑھا دیا جائے، اور نہ یہ قبول کرتا ہے کہ اس سے مؤخر کر دیا جائے۔ پھر یہ کہ اس کی راتوں میں سے ایک رات کو ہزار مہینوں کی راتوں پر فضیلت دی اور اس کا نام ’’شب قدر‘‘ رکھا، اس رات میں فرشتے اور روح القدس ہر اس امر کے ساتھ جو اس کا قطعی فیصلہ ہوتا ہے اس کے بندوں میں سے جس پر وہ چاہتا ہے نازل ہوتے ہیں، وہ رات سراسر سلامتی کی رات ہے جس کی برکت طلوع فجر تک دائم و برقرار ہے۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور ہمیں ہدایت فرما کہ ہم اس مہینہ کے فضل و شرف کو پہچانیں، اس کی عزت و حرمت کو بلند جانیں، اور اس میں ان چیزوں سے جن سے تو نے منع کیا ہے اجتناب کریں، اور اس کے روزے رکھنے میں ہمارے اعضاء کو نافرمانیوں سے روکنے اور ان کاموں میں مصروف رکھنے سے جو تیری خوشنودی کا باعث ہوں ہماری اعانت فرما، تاکہ ہم نہ بیہودہ باتوں کی طرف کان لگائیں، نہ فضول چیزوں کی طرف بے محابا نگاہیں اٹھائیں، نہ حرام کی طرف ہاتھ بڑھائیں نہ امر ممنوع کی طرف پیش قدمی کریں، نہ تیری حلال کی ہوئی چیزوں کے علاوہ کسی چیز کو ہمارے شکم قبول کریں، اور نہ تیری بیان کی ہوئی باتوں کے سوا ہماری زبانیں گویا ہوں، صرف ان چیزوں کے بجا لانے کا بار اٹھائیں جو تیرے ثواب سے قریب کریں، اور صرف ان کاموں کو انجام دیں جو تیرے عذاب سے بچا لے جائیں، پھر ان تمام اعمال کو ریاکاروں کی ریاکاری اور شہرت پسندوں کی شہرت پسندی سے پاک کر دے، اس طرح کہ تیرے علاوہ کسی کو ان میں شریک نہ کریں، اور تیرے سوا کسی سے کوئی مطلب نہ رکھیں۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور ہمیں اس میں نماز ہائے پنچگانہ کے اوقات سے ان حدود کے ساتھ جو تو نے معین کئے ہیں، اور ان واجبات کے ساتھ جو تو نے عائد کئے ہیں، اور ان آداب کے ساتھ جو تو نے قرار دئیے ہیں، اور ان لمحات کے ساتھ جو تو نے مقرر کئے ہیں آگاہ فرما، اور ہمیں ان نمازوں میں ان لوگوں کے مرتبہ پر فائز کر جو ان نمازوں کے درجات عالیہ حاصل کرنے والے، ان کے واجبات کی نگہداشت کرنے والے، اور انہیں ان کے اوقات میں اسی طریقہ پر جو تیرے عبد خاص اور رسولؐ نے رکوع و سجود اور ان کے تمام فضیلت و برتری کے پہلوؤں میں جاری کیا تھا، کامل اور پوری پاکیزگی اور نمایاں و مکمل خشوع و فروتنی کے ساتھ ادا کرنے والے ہیں۔ اور ہمیں اس مہینہ میں توفیق دے کہ نیکی و احسان کے ذریعہ عزیزوں کے ساتھ صلہ رحمی، اور انعام و بخشش سے ہمسایوں کی خبر گیری کریں، اور اپنے اموال کو مظلوموں سے پاک و صاف کریں، اور زکوٰۃ دے کر انہیں پاکیزہ و طیب بنا لیں، اور یہ کہ جو ہم سے علیحدگی اختیار کرے اس کی طرف دستِ مصالحت بڑھائیں، جو ہم پر ظلم کرے اس سے انصاف برتیں، جو ہم سے دشمنی کرے اس سے صلح و صفائی کریں، سوائے اس کے جس سے تیرے لئے اور تیری خاطر دشمنی کی گئی ہو، کیونکہ وہ ایسا دشمن ہے جسے ہم دوست نہیں رکھ سکتے، اور ایسے گروہ کا (فرد) ہے جس سے ہم صاف نہیں ہو سکتے۔ اور ہمیں اس مہینہ میں ایسے پاک و پاکیزہ اعمال کے وسیلہ سے تقرب حاصل کرنے کی توفیق دے جن کے ذریعہ تو ہمیں گناہوں سے پاک کر دے، اور از سر نو برائیوں کے ارتکاب سے بچالے جائے، یہاں تک کہ فرشتے تیری بارگاہ میں جو اعمال نامے پیش کریں وہ ہماری ہر قسم کی اطاعتوں اور ہر نوع کی عبادت کے مقابلہ میں سبک ہوں۔ اے اللہ! میں تجھ سے اس مہینہ کے حق و حرمت اور نیز ان لوگوں کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں جنہوں نے اس مہینہ میں شروع سے لے کر اس کے ختم ہونے تک تیری عبادت کی ہو، وہ مقرب بارگاہ فرشتہ ہو یا بنی مرسل یا کوئی مرد صالح و برگزیدہ، کہ تو محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرمائے اور جس عزت و کرامت کا تو نے اپنے دوستوں سے وعدہ کیا ہے اس کا ہمیں اہل بنا، اور جو انتہائی اطاعت کرنے والوں کیلئے تو نے اجر مقرر کیا ہے وہ ہمارے لئے بھی مقرر فرما، اور ہمیں اپنی رحمت سے ان لوگوں میں شامل کر جنہوں نے بلند ترین مرتبہ کا استحقاق پیدا کیا۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور ہمیں اس چیز سے بچائے رکھ کہ ہم توحید میں کج اندیشی، تیری تمجید و بزرگی میں کوتاہی، تیرے دین میں شک تیرے راستے سے بے راہ روی اور تیری حرمت سے لاپرواہی کریں، اور تیرے دشمن شیطان مردود سے فریب خوردگی کا شکار ہوں۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور جبکہ اس مہینے کی راتوں میں ہر رات میں تیرے کچھ ایسے بندے ہوتے ہیں جنہیں تیرا عفو و کرم آزاد کرتا ہے، یا تیری بخشش و درگزر انہیں بخش دیتی ہے، تو ہمیں بھی انہی بندوں میں داخل کر، اور اس مہینہ کے بہترین اہل و اصحاب میں قرار دے۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور اس چاند کے گھنٹے کے ساتھ ہمارے گناہوں کو بھی محو کر دے، اور جب اس کے دن ختم ہونے پر آئیں تو ہمارے گناہوں کا وبال ہم سے دور کر دے، تاکہ یہ مہینہ اس طرح تمام ہو کہ تو ہمیں خطاؤں سے پاک اور گناہوں سے بری کر چکا ہو۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور اس مہینہ میں اگر ہم حق سے منہ موڑیں تو ہمیں سیدھے راستہ پر لگا دے، اور کجروی اختیار کریں تو ہماری اصلاح و درستگی فرما، اور اگر تیرا دشمن شیطان ہمارے گرد احاطہ کرے تو اس کے پنجے سے چھڑا لے۔ بار الٰہا! اس مہینہ کا دامن ہماری عبادتوں سے جو تیرے لئے بجا لائی گئی ہوں بھر دے، اور اس کے لمحات کو ہماری اطاعتوں سے سجا دے، اور اس کے دنوں میں روزے رکھنے اور اس کی راتوں میں نمازیں پڑھنے، تیرے حضور گڑگڑانے، تیرے سامنے عجز و الحاح کرنے اور تیرے روبرو ذلت و خواری کا مظاہرہ کرنے، ان سب میں ہماری مدد فرما تاکہ اس کے دن ہمارے خلاف غفلت کی اور اس کی راتیں کوتاہی و تقصیر کی گواہی نہ دیں۔ اے اللہ! تمام مہینوں اور دنوں میں جب تک تو ہمیں زندہ رکھے ایسا ہی قرار دے، اور ہمیں ان بندوں میں شامل فرما جو فردوس بریں کی زندگی کے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے وارث ہوں گے، اور وہ کہ جو کچھ وہ خدا کی راہ میں دے سکتے ہیں دیتے ہیں پھر بھی ان کے دلوں کو یہ کھٹکا لگا رہتا ہے کہ انہیں اپنے پروردگار کی طرف پلٹ کر جانا ہے، اور ان لوگوں میں سے جو نیکیوں میں جلدی کرتے ہیں، اور وہی تو وہ لوگ ہیں جو بھلائیوں میں آگے نکل جانے والے ہیں۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر ہر وقت اور ہر گھڑی اور ہر حال میں اس قدر رحمت نازل فرما جتنی تو نے کسی پر نازل کی ہو، اور ان سب رحمتوں سے دوگنی چوگنی کہ جسے تیرے علاوہ کوئی شمار نہ کر سکے، بیشک تو جو چاہتا ہے وہی کرنے والا ہے۔

  45. دعاء 43 وداع ماہ رمضان کی دعا

    45

    أللَّهُمَّ يَا مَنْ لا يَرْغَبُ فِي الْجَزَاءِ، وَلاَ يَنْدَمُ عَلَى الْعَطَآءِ، وَيَا مَنْ لاَ يُكَافِئُ عَبْدَهُ عَلَى السَّوآءِ، مِنَّتُكَ ابْتِدَاءٌ، وَعَفْوُكَ تَفَضُّلٌ، وَعُقُوبَتُكَ عَـدْلٌ، وَقَضَاؤُكَ خِيَرَةٌ، إنْ أَعْطَيْتَ لَمْ تَشُبْ عَطَآءَكَ بِمَنٍّ، وَإنْ مَنَعْتَ لَمْ يَكُنْ مَنْعُكَ تَعَدِّيا تَشْكُرُ مَنْ شَكَرَكَ وَأَنْتَ أَلْهَمْتَهُ شُكْرَكَ، وَتُكَافِئُ مَنْ حَمِدَكَ وَأَنْتَ عَلَّمْتَهُ حَمْدَكَ، تَسْتُرُ عَلَى مَنْ لَوْ شِئْتَ فَضَحْتَهُ وَتَجُودُ عَلَى مَنْ لَوْ شِئْتَ مَنَعْتَهُ، وَكِلاَهُمَا أَهْلٌ مِنْكَ لِلْفَضِيحَةِ وَالْمَنْعِ، غَيْرَ أَنَّكَ بَنَيْتَ أَفْعَالَكَ عَلَى التَّفَضُّلِ، وَأَجْرَيْتَ قُدْرَتَكَ عَلَى التَّجَاوُزِ، وَتَلَقَّيْتَ مَنْ عَصَاكَ بِالحِلْمِ، وَأمْهَلْتَ مَنْ قَصَدَ لِنَفْسِهِ بِالظُّلْمِ تَسْتَنْظِرُهُمْ بِأناتِكَ إلى الإنَابَةِ وَتَتْرُكُ مُعَاجَلَتَهُمْ إلَى التَّوْبَةِ لِكَيْلاَ يَهْلِكَ عَلَيْكَ هَالِكُهُمْ، وَلا يَشْقَى بِنِعْمَتِكَ شَقِيُّهُمْ إلاَّ عَنْ طُولِ الإِعْذَارِ إلَيْهِ، وَبَعْدَ تَرَادُفِ الْحُجَّةِ عَلَيْهِ كَرَماً مِنْ عَفْوِكَ يَا كَرِيْمُ، وَعَائِدَةً مِنْ عَطْفِكَ يَا حَلِيمُ. أَنْتَ الَّذِيْ فَتَحْتَ لِعِبَادِكَ بَاباً إلَى عَفْوِكَ وَسَمَّيْتَهُ التَّوْبَـةَ، وَجَعَلْتَ عَلَى ذلِكَ البَابِ دَلِيلاً مِنْ وَحْيِكَ لِئَلاَّ يَضِلُّوا عَنْهُ فَقُلْتَ تَبَارَكَ اسْمُكَ : (تُوبُوا إلَى الله تَوْبَةً نَصُوحاً عَسَى رَبُّكُمْ أَنْ يُكَفِّـرَ عَنْكُمْ سَيِّئاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّات تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأنْهَارُ يَوْمَ لاَ يُخْزِي اللهُ النَّبِيَّ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا إنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْء قَدِيرٌ) فَمَا عُذْرُ مَنْ أَغْفَلَ دُخُولَ ذلِكَ الْمَنْزِلِ بَعْدَ فَتْحِ الْبَابِ وَإقَامَةِ الدَّلِيْلِ، وَأَنْتَ الَّذِي زِدْتَ فِي السَّوْمِ عَلَى نَفْسِكَ لِعِبَادِكَ تُرِيدُ رِبْحَهُمْ فِي مُتَاجَرَتِهِمْ لَكَ، وَفَوْزَهُمْ بِالْوِفَادَةِ عَلَيْكَ وَالزِّيادَةِ مِنْكَ فَقُلْتَ تَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَيْتَ: (مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا وَمَنْ جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلاَ يُجْزى إلاّ مِثْلَهَا) وَقُلْتَ: (مَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ الله كَمَثَلِ حَبَّة أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنْبُلَة مَائَةُ حَبَّة وَالله يُضَاعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ) وَقُلْتَ: (مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ الله قَرْضاً حَسَنَاً فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أضْعَافاً كَثِيرَةً) وَمَا أَنْزَلْتَ مِنْ نَظَائِرِهِنَّ فِي الْقُرْآنِ مِنْ تَضَاعِيفِ الْحَسَنَاتِ، وَأَنْتَ الَّذِي دَلَلْتَهُمْ بِقَوْلِكَ مِنْ غَيْبِكَ وَتَرْغِيْبِكَ الَّذِي فِيهِ حَظُّهُمْ عَلَى مَا لَوْ سَتَرْتَهُ عَنْهُمْ لَمْ تُدْرِكْهُ أَبْصَارُهُمْ وَلَمْ تَعِـهِ أَسْمَاعُهُمْ وَلَمْ تَلْحَقْـهُ أَوْهَامُهُمْ فَقُلْتَ: (اذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِيْ وَلا تَكْفُرُونِ) وَقُلْتَ: (لَئِنْ شَكَـرْتُمْ لازِيدَنَّكمْ وَلَئِنْ كَفَـرْتُمْ إنَّ عَذابِيْ لَشَدِيدٌ) وَقُلْتَ : (ادْعُونِيْ أَسْتَجِبْ لَكُمْ إنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ) فَسَمَّيْتَ دُعَاءَكَ عِبَادَةً، وَتَرْكَهُ اسْتِكْبَاراً، وَتَوَعَّدْتَ عَلَى تَرْكِهِ دُخُولَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ، فَذَكَرُوكَ بِمَنِّكَ وَشَكَرُوكَ بِفَضْلِكَ، وَدَعَوْكَ بِأَمْرِكَ، وَتَصَدَّقُوا لَكَ طَلَباً لِمَزِيدِكَ، وَفِيهَا كَانَتْ نَجَاتُهُمْ مِنْ غَضَبِكَ، وَفَوْزُهُمْ بِرِضَاكَ، وَلَوْ دَلَّ مَخْلُوقٌ مَخْلُوقاً مِنْ نَفْسِهِ عَلَى مِثْلِ الَّذِيْ دَلَلْتَ عَلَيْهِ عِبَادَكَ مِنْكَ كَانَ مَوْصُوْفَاً بالإحْسَان وَمَنْعُوتاً بِالامْتِثَال ومحمُوداً بكلِّ لِسَان، فَلَكَ الْحَمْدُ مَا وُجِدَ فِي حَمْدِكَ مَذْهَبٌ، وَمَا بَقِيَ لِلْحَمْدِ لَفْظٌ تُحْمَدُ بِهِ وَمَعْنىً يَنْصَرفُ إلَيْهِ يَـا مَنْ تَحَمَّدَ إلَى عِبَـادِهِ بِالإِحْسَـانِ وَالْفَضْل، وَغَمَرَهُمْ بِالْمَنِّ وَالطَّوْلِ، مَا أَفْشَى فِيْنَا نِعْمَتَكَ وَأَسْبَغَ عَلَيْنَا مِنَّتَكَ، وَأَخَصَّنَا بِبِرِّكَ هَدْيَتَنَا لِدِيْنِكَ الَّـذِي اصْطَفَيْتَ، وَمِلَّتِـكَ الَّتِي ارْتَضَيْتَ، وَسَبِيلِكَ الَّذِي سَهَّلْتَ، وَبَصَّرْتَنَا الزُّلْفَةَ لَدَيْكَ وَالوُصُولَ إلَى كَـرَامَتِكَ. أللَّهُمَّ وَأَنْتَ جَعَلْتَ مِنْ صَفَـايَـا تِلْكَ الْوَظَائِفِ وَخَصَائِصِ تِلْكَ الْفُرُوضِ شَهْرَ رَمَضَانَ الَّذِي اخْتَصَصْتَهُ مِنْ سَائِرِ الشُّهُورِ، وَتَخَيَّرْتَهُ مِن جَمِيعِ الأزْمِنَةِ وَالدُّهُورِ، وَآثَرْتَهُ عَلَى كُلِّ أَوْقَاتِ السَّنَةِ بِمَا أَنْزَلْتَ فِيهِ مِنَ الْقُرْآنِ وَالنُّورِ، وَضَاعَفْتَ فِيهِ مِنَ الإيْمَانِ، وَفَرَضْتَ فِيْهِ مِنَ الصِّيَامِ، وَرَغَّبْتَ فِيهِ مِنَ القِيَامِ، وَأَجْلَلْتَ فِيهِ مِنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ الَّتِي هِيَ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْر، ثُمَّ آثَرْتَنَا بِهِ عَلَى سَائِرِ الأُمَمِ وَاصْطَفَيْتَنَا بِفَضْلِهِ دُوْنَ أَهْلِ الْمِلَلِ، فَصُمْنَا بِأَمْرِكَ نَهَارَهُ، وَقُمْنَا بِعَوْنِكَ لَيْلَهُ مُتَعَرِّضِينَ بِصِيَامِهِ وَقِيَامِهِ لِمَا عَرَّضْتَنَا لَهُ مِنْ رَحْمَتِكَ، وَتَسَبَّبْنَا إلَيْـهِ مِنْ مَثُوبَتِكَ، وَأَنْتَ الْمَليءُ بِمَا رُغِبَ فِيهِ إلَيْكَ، الْجَوَادُ بِمـا سُئِلْتَ مِنْ فَضْلِكَ، الْقَـرِيبُ إلَى مَنْ حَـاوَلَ قُرْبَكَ، وَقَدْ أَقَامَ فِينَا هَذَا الشَّهْرُ مَقَامَ حَمْد وَصَحِبَنَا صُحْبَةَ مَبْرُور، وَأَرْبَحَنَا أَفْضَلَ أَرْبَاحِ الْعَالَمِينَ، ثُمَّ قَدْ فَارَقَنَا عِنْدَ تَمَامِ وَقْتِهِ وَانْقِطَاعِ مُدَّتِهِ وَوَفَاءِ عَدَدِهِ، فَنَحْنُ مُوَدِّعُوهُ وِدَاعَ مَنْ عَزَّ فِرَاقُهُ عَلَيْنَا وَغَمَّنَا وَأَوْحَشَنَا انْصِرَافُهُ عَنَّا وَلَزِمَنَا لَهُ الذِّمَامُ الْمَحْفُوظُ، وَالْحُرْمَةُ الْمَرْعِيَّةُ، وَالْحَقُّ الْمَقْضِيُّ، فَنَحْنُ قَائِلُونَ: السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا شَهْرَ اللهِ الأكْبَرَ، وَيَا عِيْدَ أَوْلِيَائِهِ. السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَـا أكْرَمَ مَصْحُـوب مِنَ الأوْقَاتِ، وَيَا خَيْرَ شَهْر فِي الأيَّامِ وَالسَّاعَاتِ. السَّلاَمُ عَلَيْكَ مِنْ شَهْر قَرُبَتْ فِيهِ الآمالُ وَنُشِرَتْ فِيهِ الأَعْمَالُ. السَّلاَمُ عَلَيْكَ مِنْ قَرِين جَلَّ قَدْرُهُ مَوْجُوداً، وَأَفْجَعَ فَقْدُهُ مَفْقُوداً، وَمَرْجُوٍّ آلَمَ فِرَاقُهُ. السَّلاَمُ عَلَيْكَ مِنْ أَلِيف آنَسَ مُقْبِلاً فَسَرَّ وَأَوْحَشَ مُنْقَضِياً فَمَضَّ. السَّلاَمُ عَلَيْكَ مِنْ مُجَاوِر رَقَّتْ فِيهِ الْقُلُوبُ، وَقَلَّتْ فِيهِ الذُّنُوبُ. السَّلاَمُ عَلَيْكَ مِنْ نَاصِر أَعَانَ عَلَى الشَّيْطَانِ وَصَاحِب سَهَّلَ سُبُلَ الإحْسَانِ. أَلسَّلاَمُ عَلَيْكَ مَا أكْثَرَ عُتَقَاءَ اللهِ فِيكَ وَمَا أَسْعَدَ مَنْ رَعَى حُرْمَتَكَ بكَ!. أَلسَّلاَمُ عَلَيْكَ مَا كَانَ أَمْحَاكَ لِلذُّنُوبِ، وَأَسْتَرَكَ لِأنْوَاعِ الْعُيُوبِ! أَلسَّلاَمُ عَلَيْكَ مَا كَانَ أَطْوَلَكَ عَلَى الْمُجْرِمِينَ، وَأَهْيَبَكَ فِي صُدُورِ الْمُؤْمِنِينَ! أَلسَّلاَمُ عَلَيْكَ مِنْ شَهْر لا تُنَافِسُهُ الأيَّامُ. أَلسَّلاَمُ عَلَيْكَ مِنْ شَهْر هُوَ مِنْ كُلِّ أَمْر سَلاَمٌ. أَلسَّلاَمُ عَلَيْكَ غَيْرَ كَرِيهِ الْمُصَاحَبَةِ وَلاَ ذَمِيمِ الْمُلاَبَسَةِ. أَلسَّلاَمُ عَلَيْكَ كَمَا وَفَدْتَ عَلَيْنَا بِالْبَرَكَاتِ، وَغَسَلْتَ عَنَّا دَنَسَ الْخَطِيئاتِ. أَلسَّلاَمُ عَلَيْكَ غَيْرَ مُوَدَّع بَرَماً وَلاَ مَتْرُوك صِيَامُهُ سَأَماً. أَلسَّلاَمُ عَلَيْكَ مِنْ مَطْلُوبِ قَبْلَ وَقْتِهِ وَمَحْزُون عَلَيْهِ قَبْلَ فَوْتِهِ. أَلسَّلاَمُ عَلَيْكَ كَمْ مِنْ سُوء صُرِفَ بِكَ عَنَّا وَكَمْ مِنْ خَيْر أُفِيضَ بِكَ عَلَيْنَا. أَلسَّلاَمُ عَلَيْـكَ وَعَلَى لَيْلَةِ الْقَدْرِ الَّتِي هِيَ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْر. أَلسَّلاَمُ عَلَيْكَ ما كَانَ أَحْرَصَنَا بِالأمْسِ عَلَيْكَ وَأَشَدَّ شَوْقَنَا غَدَاً إلَيْكَ. أَلسَلاَمُ عَلَيْكَ وَعَلَى فَضْلِكَ الَّذِي حُرِمْنَاهُ ، وَعَلَى مَاض مِنْ بَرَكَاتِكَ سُلِبْنَاهُ. أَللَّهُمَّ إنَّا أَهْلُ هَذَا الشَّهْرِ الِّذِي شَرَّفْتَنَا بِهِ وَوَفّقتَنَا بِمَنِّكَ لَهُ حِينَ جَهِلَ الاَشْقِيَا وَقْتَهُ وَحُرِمُوا لِشَقَائِهِم فَضْلَهُ، أَنْتَ وَلِيُّ مَا اثَرْتَنَا بِهِ مِنْ مَعْرِفَتِهِ، وَهَدَيْتَنَا مِنْ سُنَّتِهِ، وَقَدْ تَوَلَّيْنَا بِتَوْفِيقِكَ صِيَامَهُ وَقِيَامَهُ عَلى تَقْصِير، وَأَدَّيْنَا فِيهِ قَلِيلاً مِنْ كَثِيـر. اللَّهُمَّ فَلَكَ الْحمدُ إقْـرَاراً بِـالإسَاءَةَ وَاعْتِرَافاً بِالإضَاعَةِ، وَلَك مِنْ قُلُوبِنَا عَقْدُ النَّدَمِ، وَمِنْ أَلْسِنَتِنَا صِدْقُ الاعْتِذَارِ، فَاْجُرْنَا عَلَى مَا أَصَابَنَا فِيهِ مِنَ التَّفْرِيطِ أَجْرَاً نَسْتَدْركُ بِهِ الْفَضْلَ الْمَرْغُوبَ فِيهِ، وَنَعْتَاضُ بِهِ مِنْ أَنْوَاعِ الذُّخْرِ الْمَحْرُوصِ عَلَيْهِ ، وَأَوْجِبْ لَنَا عُذْرَكَ عَلَى مَا قَصَّرْنَا فِيهِ مِنْ حَقِّكَ، وَابْلُغْ بِأَعْمَارِنَا مَا بَيْنَ أَيْديْنَا مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ الْمُقْبِلِ، فَإذَا بَلَّغْتَنَاهُ فَأَعِنَّا عَلَى تَنَاوُلِ مَا أَنْتَ أَهْلُهُ مِنَ الْعِبَادَةِ وَأَدِّنَا إلَى الْقِيَامِ بِمَا يَسْتَحِقُّهُ مِنَ الطَّاعَةِ وَأجْرِ لنا مِنْ صَالِحِ العَمَلِ مَا يَكون دَرَكاً لِحَقِّكَ فِي الشَّهْرَيْنِ مِنْ شُهُورِ الدَّهْرِ. أللَّهُمَّ وَمَا أَلْمَمْنَا بِهِ فِي شَهْرِنَا هَذَا مِنْ لَمَم أَوْ إثْم، أَوْ وَاقَعْنَا فِيهِ مِنْ ذَنْبِ وَاكْتَسَبْنَا فِيهِ مِنْ خَطِيئَة عَلَى تَعَمُّد مِنَّا أو عَلى نِسيانٍ ظَلَمنا فيه أنفُسَنا أَوِ انْتَهَكْنَا بِهِ حُرْمَةً مِنْ غَيْرِنَا فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَاسْتُرْنَا بِسِتْرِكَ، وَاعْفُ عَنَّا بِعَفْوِكَ، وَلاَ تَنْصِبْنَا فِيهِ لاِعْيُنِ الشَّامِتِينَ، وَلاَ تَبْسُطْ عَلَيْنَا فِيهِ أَلْسُنَ الطَّاعِنينَ، وَاسْتَعْمِلْنَا بِمَا يَكُونُ حِطَّةً وَكَفَّارَةً لِمَا أَنْكَرْتَ مِنَّا فِيهِ بِرَأْفَتِكَ الَّتِي لاَ تَنْفَدُ، وَفَضْلِكَ الَّذِي لا يَنْقُصُ. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَاجْبُرْ مُصِيبَتنَا بِشَهْرِنَا وَبَارِكْ فِي يَوْمِ عِيْدِنَا وَفِطْرِنَا وَاجْعَلْهُ مِنْ خَيْرِ يَوْم مَرَّ عَلَيْنَا أَجْلَبِهِ لِعَفْو، وَأَمْحَاهُ لِذَنْبِ، وَاغْفِرْ لَنا ما خَفِيَ مِنْ ذُنُوبِنَا وَمَا عَلَنَ. أللَّهُمَّ اسلَخْنَا بِانْسِلاَخِ هَذَا الشَّهْرِ مِنْ خَطَايَانَا وَأَخْرِجْنَا بُخُرُوجِهِ مِنْ سَيِّئاتِنَا وَاجْعَلْنَا مِنْ أَسْعَدِ أَهْلِهِ بِهِ وَأَجْزَلِهِمْ قِسَمَاً فِيـهِ وَأَوْفَـرِهِمْ حَظّاً مِنْـهُ. أللّهُمَّ وَمَنْ رَعَى حَقّ هَذَا الشَّهْرِ حَقَّ رِعَايَتِهِ وَحَفِظَ حُرْمَتَهُ حَقَّ حِفْظِهَا وَقَامَ بِحُدُودِهِ حَقَّ قِيَامِهَا، وَأتَّقَى ذُنُوبَهُ حَقَّ تُقَاتِهَا أَوْ تَقَرَّبَ إلَيْكَ بِقُرْبَة أَوْجَبَتْ رِضَاكَ لَهُ وَعَطَفَتْ رَحْمَتَكَ عَلَيْهِ، فَهَبْ لَنَا مِثْلَهُ مِنْ وُجْدِكَ وَأَعْطِنَا أَضْعَافَهُ مِنْ فَضْلِكَ فَإنَّ فَضْلَكَ، لا يَغِيْضُ وَإنَّ خَـزَائِنَكَ لا تَنْقُصُ، بَـلْ تَفِيضُ وَإنَّ مَعَـادِنَ إحْسَانِكَ لا تَفْنَى، وَإنَّ عَطَاءَكَ لَلْعَطَآءُ الْمُهَنَّا، أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَاكْتُبْ لَنَا مِثْلَ أجُورِ مَنْ صَامَهُ أَوْ تَعَبَّدَ لَكَ فِيْهِ إلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ. أللَّهُمَّ إنَّا نَتُوبُ إلَيْكَ فِي يَوْمِ فِطْرِنَا الّذِي جَعَلْتَهُ لِلْمُؤْمِنِينَ عِيداً وَسُـرُوراً. وَلأِهْلِ مِلَّتِكَ مَجْمَعاً وَمُحْتشداً مِنْ كُلِّ ذَنْب أَذْنَبْنَاهُ، أَوْ سُوْء أَسْلَفْنَاهُ، أَوْ خَاطِرِ شَرٍّ أَضْمَرْنَاهُ، تَوْبَةَ مَنْ لاَ يَنْطَوِيْ عَلَى رُجُوع إلَى ذَنْب وَلا يَعُودُ بَعْدَهَا فِي خَطِيئَة، تَوْبَةً نَصوحاً خَلَصَتْ مِنَ الشَّكِّ وَالارْتِيَابِ، فَتَقَبَّلْهَا مِنَّا وَارْضَ عَنَّا وَثَبِّتنَا عَلَيْهَا. أللَّهُمَّ ارْزُقْنَا خَوْفَ عِقَابِ الْوَعِيدِ، وَشَوْقَ ثَوَابِ الْمَوْعُودِ حَتّى نَجِدَ لَذَّةَ مَا نَدْعُوكَ بِهِ، وكَأْبَةَ مَا نَسْتَجِيْرُكَ مِنْهُ، وَاجْعَلْنَا عِنْدَكَ مِنَ التَّوَّابِيْنَ الَّذِينَ أَوْجَبْتَ لَهُمْ مَحَبَّتَكَ، وَقَبِلْتَ مِنْهُمْ مُرَاجَعَةَ طَاعَتِكَ، يَا أَعْدَلَ الْعَادِلِينَ. أللَّهُمَّ تَجَاوَزْ عَنْ آبآئِنَا وَأُمَّهَاتِنَا وَأَهْلِ دِيْنِنَا جَمِيعاً مَنْ سَلَفَ مِنْهُمْ وَمَنْ غَبَرَ إلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد نَبِيِّنَا وَآلِهِ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى مَلائِكَتِكَ الْمُقَرَّبِينَ. وَصَلِّ عَلَيْهِ وَآلِهِ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى أَنْبِيَائِكَ الْمُرْسَلِينَ، وَصَلِّ عَلَيْهِ وَآلِهِ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ، وَأَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ، صَلاَةً تَبْلُغُنَا بَرَكَتُهَا، وَيَنَالُنَا نَفْعُهَا، وَيُسْتَجَابُ لَهَا دُعَاؤُنَا، إنَّكَ أكْرَمُ مَنْ رُغِبَ إلَيْهِ وَأكْفَى مَنْ تُوُكِّلَ عَلَيْهِ وَأَعْطَى مَنْ سُئِلَ مِنْ فَضْلِهِ، وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْء قَدِيرٌ.

    دُعائے وداع ماہ رمضان: اے اللہ! اے وہ جو (اپنے احسانات کا) بدلہ نہیں چاہتا، اے وہ جو عطا و بخشش پرپشیمان نہیں ہوتا، اے وہ جو اپنے بندوں کو (ان کے عمل کے مقابلہ میں) نپا تلا اجر نہیں دیتا، تیری نعمتیں بغیر کسی سابقہ استحقاق کے ہیں، اور تیرا عفو و درگزر تفضل و احسان ہے، تیرا سزا دینا عین عدل اور تیرا فیصلہ خیر و بہبودی کا حامل ہے، تو اگر دیتا ہے تو اپنی عطا کو منت گزاری سے آلودہ نہیں کرتا، اور اگر منع کر دیتا ہے تو یہ ظلم و زیادتی کی بنا پر نہیں ہوتا، جو تیرا شکر ادا کرتا ہے تو اس کے شکر کی جزا دیتا ہے حالانکہ تو ہی نے اس کے دل میں شکر گزاری کا القا کیا ہے،اور جو تیری حمد کرتا ہے اسے بدلہ دیتا ہے حالانکہ تو ہی نے اسے حمد کی تعلیم دی ہے، اور ایسے شخص کی پردہ پوشی کرتا ہے کہ اگر چاہتا تو اسے رسوا کر دیتا، اور ایسے شخص کو دیتا ہے کہ اگر چاہتا تو اسے نہ دیتا، حالانکہ وہ دونوں تیری بارگاہ عدالت میں رسوا و محروم کئے جانے ہی کے قابل تھے، مگر تو نے اپنے افعال کی بنیاد تفضل و احسان پر رکھی ہے، اور اپنے اقتدار کو عفو و درگزر کی راہ پر لگایا ہے، اور جس کسی نے تیری نافرمانی کی تو نے اس سے بردباری کا رویہ اختیار کیا، اور جس کسی نے اپنے نفس پر ظلم کا ارادہ کیا تو نے اسے مہلت دی، تُو ان کے رجوع ہونے تک اپنے حلم کی بنا پر مہلت دیتا ہے، اور توبہ کرنے تک انہیں سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا، تاکہ تیری منشاء کے خلاف تباہ ہونے والا تباہ نہ ہو، اور تیری نعمت کی وجہ سے بدبخت ہونے والا بدبخت نہ ہو، مگر اس وقت کہ جب اس پر پوری عذرداری اور اتمام حجت ہو جائے اے کریم! (یہ اتمام جحت) تیرے عفو و درگزر کا کرم اور اے بردبار! تیری شفقت و مہربانی کا فیض ہے۔ تو ہی ہے وہ جس نے اپنے بندوں کیلئے عفو و بحشش کا دروازہ کھولا ہے اور اس کا نام توبہ رکھا ہے، اور تو نے اس دروازہ کی نشاندہی کیلئے اپنی وحی کو رہبر قرار دیا ہے تاکہ وہ اس دروازہ سے بھٹک نہ جائیں، چنانچہ اے مبارک نام والے تو نے فرمایا ہے کہ: ”خدا کی بارگاہ میں سچے دل سے توبہ کرو، امید ہے کہ تمہارا پروردگار تمہارے گناہوں کو محو کر دے اور تمہیں اس بہشت میں داخل کرے جس کے (محلاّت و باغات کے) نیچے نہریں بہتی ہیں، اس دن جب خدا اپنے رسولؐ اور ان لوگوں کو جو اس پر ایمان لائے ہیں رسوا نہیں کرے گا بلکہ ان کا نور ان کے آگے آگے اور ان کی دائیں جانب چلتا ہو گا اور وہ لوگ یہ کہتے ہوں گے کہ: اے ہمارے پروردگار! ہمارے لئے ہمارے نور کو کامل فرما اور ہمیں بخش دے، اس لئے کہ تو ہر چیز پر قادر ہے“۔ تو اب جو اس گھر میں داخل ہونے سے غفلت کرے جبکہ دروازہ کھولا اور رہبر مقرر کیا جاچکا ہے تو اس کا عذر و بہانہ کیا ہو سکتا ہے؟ تو وہ ہے جس نے اپنے بندوں کیلئے لین دین میں اونچے نرخوں کا ذمہ لے لیا ہے، اور یہ چاہا ہے کہ وہ جو سودا تجھ سے کریں اس میں انہیں نفع ہو، اور تیری طرف بڑھنے اور زیادہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوں، چنانچہ تو نے کہ جو مبارک نام والا اور بلند مقام والا ہے فرمایا ہے: ”جو میرے پاس نیکی لے کر آئے گا اسے اس کا دس گنا اجر ملے گا اور جو برائی کا مرتکب ہو گا تو اس کو برائی کا بدلہ بس اتنا ہی ملے گا جتنی بُرائی ہے“، اور تیرا ارشاد ہے کہ: ”جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال اس بیج کی سی ہے جس سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سو سو دانے ہوں اور خدا جس کیلئے چاہتا ہے دگنا کر دیتا ہے“، اور تیرا ارشاد ہے کہ: ”کون ہے جو اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دے تاکہ خدا اس کے مال کو کئی گنا زیادہ کر کے ادا کرے“ اور ایسی ہی افزائش حسنات کے وعدہ پر مشتمل دوسری آیتیں کہ جو تو نے قرآن مجید میں نازل کی ہیں۔ اور تو ہی وہ ہے جس نے وحی و غیب کے کلام اور ایسی ترغیب کے ذریعہ کہ جو ان کے فائدہ پر مشتمل ہے ایسے امور کی طرف ان کی رہنمائی کی کہ اگر ان سے پوشیدہ رکھتا تو نہ ان کی آنکھیں دیکھ سکتیں، نہ ان کے کان سن سکتے، اور نہ ان کے تصورات وہاں تک پہنچ سکتے۔ چنانچہ تیرا ارشاد ہے کہ: ”تم مجھے یاد رکھو! میں بھی تمہاری طرف سے غافل نہیں ہوں گا اور میرا شکر ادا کرتے رہو اور ناشکری نہ کرو“ اور تیرا ارشاد ہے کہ: ”اگر میرا شکر کرو گے تو میں یقینا تمہیں زیادہ دوں گا اور اگر ناشکری کی تو یاد رکھو کہ میرا عذاب سخت عذاب ہے “اور تیرا ارشاد ہے کہ: ”مجھ سے دُعا مانگو تو میں قبول کروں گا، وہ لوگ جو غرور کی بنا پر میری عبادت سے منہ موڑ لیتے ہیں وہ عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے“۔ چنانچہ تو نے دُعا کا نام عبادت رکھا اور اس کے ترک کو غرور سے تعبیر کیا اور اس کے ترک پر جہنم میں ذلیل ہو کر داخل ہونے سے ڈرایا۔ اس لئے انہوں نے تیری نعمتوں کی وجہ سے تجھے یاد کیا، تیرے فضل و کرم کی بنا پر تیرا شکریہ ادا کیا، اور تیرے حکم سے تجھے پکارا، اور (نعمتوں میں) طلب افزائش کیلئے تیری راہ میں صدقہ دیا، اور تیری یہ رہنمائی ہی ان کیلئے تیرے غضب سے بچاؤ اور تیری خوشنودی تک رسائی کی صورت تھی، اور جن باتوں کی تو نے اپنی جانب سے اپنے بندوں کی رہنمائی کی ہے، اگر کوئی مخلوق اپنی طرف سے دوسرے مخلوق کی ایسی ہی چیزوں کی طرف رہنمائی کرتا تو وہ قابل تحسین ہوتا، تو پھر تیرے ہی لئے حمد و ستائش ہے، جب تک تیری حمد کیلئے راہ پیدا ہوتی رہے، اور جب تک حمد کے وہ الفاظ جن سے تیری تحمید کی جا سکے، اور حمد کے وہ معنی جو تیری حمد کی طرف پلٹ سکیں باقی رہیں۔ اے وہ جو اپنے فضل و احسان سے بندوں کی حمد کا سزاوار ہوا ہے اور انہیں اپنی نعمت و بخشش سے ڈھانپ لیا ہے، ہم پر تیری نعمتیں کتنی آشکارا ہیں، اور تیرا انعام کتنا فراواں ہے، اور کس قدر ہم تیرے انعام و احسان سے مخصوص ہیں، تو نے اس دین کی جسے منتخب فرمایا، اور اس طریقہ کی جسے پسند فرمایا، اور اس راستہ کی جسے آسان کر دیا، ہمیں ہدایت کی، اور اپنے ہاں قرب حاصل کرنے اور عزت و بزرگی تک پہنچنے کیلئے بصیرت دی۔ بارالٰہا! تو نے ان منتخب فرائض اور مخصوص واجبات میں سے ماہ رمضان کو قرار دیا ہے، جسے تو نے تمام مہینوں میں امتیاز بخشا، اور تمام وقتوں اور زمانوں میں اسے منتخب فرمایا ہے، اور اس میں قرآن اور نور کو نازل فرما کر اور ایمان کو فروغ و ترقی بخش کر اسے سال کے تمام اوقات پر فضیلت دی، اور اس میں روزے واجب کئے اور نمازوں کی ترغیب دی، اور اس میں شب قدر کو بزرگی بخشی جو خود ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ پھر اس مہینہ کی وجہ سے تو نے ہمیں تمام امتوں پر ترجیح دی، اور دوسری امتوں کے بجائے ہمیں اس کی فضیلت کے باعث منتخب کیا، چنانچہ ہم نے تیرے حکم سے اس کے دنوں میں روزے رکھے اور تیری مدد سے اس کی راتیں عبادت میں بسر کیں، اس حالت میں کہ ہم اس روزہ نماز کے ذریعہ تیری اس رحمت کے خواستگار تھے جس کا دامن تو نے ہمارے لئے پھیلایا ہے، اور اسے تیرے اجر و ثواب کا وسیلہ قرار دیا، اور تو ہر اس چیز کے عطا کرنے پر قادر ہے جس کی تجھ سے خواہش کی جائے، اور ہر اس چیز کا بخشنے والا ہے جس کا تیرے فضل سے سوال کیا جائے، تو ہر اس شخص سے قریب ہے جو تجھ سے قرب حاصل کرنا چاہے۔ اس مہینہ نے ہمارے درمیان قابل ستائش دن گزارے، اور اچھی طرح حق رفاقت ادا کیا، اور دنیا جہان کے بہترین فائدوں سے ہمیں مالا مال کیا، پھر جب اس کا زمانہ ختم ہو گیا، مدت بیت گئی اور گنتی تمام ہو گئی تو وہ ہم سے جدا ہو گیا۔ اب ہم اسے رخصت کرتے ہیں اس شخص کے رخصت کرنے کی طرح جس کی جدائی ہم پر شاق ہو، اور جس کا جانا ہمارے لئے غم افزا اور وحشت انگیز ہو، اور جس کے عہد و پیمان کی نگہداشت عزت و حرمت کا پاس اور اس کے واجب الاداء حق سے سبکدوشی از بس ضروری ہو۔ اس لئے ہم کہتے ہیں: اے اللہ کے بزرگ ترین مہینے، تجھ پر سلام! اے دوستان خدا کی عید تجھ پر سلام! اے اوقات میں بہترین رفیق اور دنوں اور ساعتوں میں بہترین مہینے تجھ پر سلام! اے وہ مہینے جس میں امیدیں بر آتی ہیں اور اعمال کی فروانی ہوتی ہے، تجھ پر سلام! اے وہ ہم نشین کہ جو موجود ہو تو اس کی بڑی قدرو منزلت ہوتی ہے، اور نہ ہونے پر بڑا دکھ ہوتا ہے، اور اے وہ سر چشمہ امید و رجا جس کی جدائی الم انگیز ہے، تجھ پر سلام! اے وہ ہمدم جو انس و دل بستگی کا سامان لئے ہوئے آیا تو شادمانی کا سبب ہوا اور واپس گیا تو وحشت بڑھا کر غمگین بنا گیا، تجھ پر سلام! اے وہ ہمسائے جس کی ہمسائیگی میں دل نرم اور گناہ کم ہو گئے، تجھ پر سلام! اے وہ مددگار جس نے شیطان کے مقابلہ میں مدد و اعانت کی، اے وہ ساتھی جس نے حسن عمل کی راہیں ہموار کیں، تجھ پر سلام! (اے ماہ رمضان) تجھ میں اللہ تعالیٰ کے آزاد کئے ہوئے بندے کس قدر زیادہ ہیں، اور جنہوں نے تیری حرمت و عزت کا پاس و لحاظ رکھا وہ کتنے خوش نصیب ہیں، تجھ پر سلام! تو کس قدر گناہوں کو محو کرنے والا اور قسم قسم کے عیبوں کو چھپانے والا ہے، تجھ پر سلام! تو گنہگاروں کیلئے کتنا طویل اور مومنوں کے دلوں میں کتنا پر ہیبت ہے، تجھ پر سلام! اے وہ مہینے جس سے دوسرے ایام ہمسری کا دعویٰ نہیں کر سکتے، تجھ پر سلام! اے وہ مہینے جو ہر امر سے سلامتی کا باعث ہے، تجھ پر سلام! اے وہ جس کی ہم نشینی بار خاطر اور معاشرت ناگوار نہیں، تجھ پر سلام! جبکہ تو برکتوں کے ساتھ ہمارے پاس آیا اور گناہوں کی آلودگیوں کو دھو دیا، تجھ پر سلام! اے وہ جسے دل تنگی کی وجہ سے رخصت نہیں کیا گیا اور نہ خستگی کی وجہ سے اس کے روزے چھوڑے گئے، تجھ پر سلام! اے وہ کہ جس کے آنے کی پہلے سے خواہش تھی اور جس کے ختم ہونے سے قبل ہی دل رنجیدہ ہیں، تجھ پر سلام! تیری وجہ سے کتنی برائیاں ہم سے دور ہو گئیں اور کتنی بھلائیوں کے سرچشمے ہمارے لئے جاری ہو گئے، تجھ پر سلام! (اے ماہِ رمضان!) تجھ پر اور اس شب قدر پر جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے سلام ہو! ابھی کل ہم کتنے تجھ پر وارفتہ تھے اور آنے والے کل میں ہمارے شوق کی کتنی فراوانی ہو گی، تجھ پر سلام! (اے ماہِ مبارک تجھ پر) اور تیری ان فضیلتوں پر جن سے ہم محروم ہو گئے اور تیری گزشتہ برکتوں پر جو ہمارے ہاتھ سے جاتی رہیں، سلام ہو! اے اللہ! ہم اس مہینہ سے مخصوص ہیں جس کی وجہ سے تو نے ہمیں شرف بخشا، اور اپنے لطف و احسان سے اس کی حق شناسی کی توفیق دی، جبکہ بدنصیب لوگ اس کے وقت (کی قدر و قیمت) سے بے خبر تھے، اور اپنی بدبختی کی وجہ سے اس کے فضل سے محروم رہ گئے، اور تو ہی ولی و صاحب اختیار ہے کہ ہمیں اس کی حق شناسی کیلئے منتخب کیا، اور اس کے احکام کی ہدایت فرمائی، بیشک تیری توفیق سے ہم نے اس ماہ میں روزے رکھے، عبادت کیلئے قیام کیا، مگر کمی و کوتاہی کے ساتھ اور مشتے از خروار سے زیادہ نہ بجا لا سکے۔ اے اللہ! ہم اپنی بد اعمالی کا اقرار اور سہل انگاری کا اعتراف کرتے ہوئے تیری حمد کرتے ہیں، اور اب تیرے لئے کچھ ہے تو وہ ہمارے دلوں کی واقعی شرمساری اور ہماری زبانوں کی سچی معذرت ہے، لہٰذا اس کمی و کوتاہی کے باوجود جو ہم سے ہوئی ہے ہمیں ایسا اجر عطا کر کہ ہم اس کے ذریعہ دلخواہ فضیلت و سعادت کو پا سکیں، اور طرح طرح کے اجر و ثواب کے ذخیرے جن کے ہم آرزومند تھے اس کے عوض حاصل کر سکیں، اور ہم نے تیرے حق میں جو کمی و کوتاہی کی ہے اس میں ہمارے عذر کو قبول فرما، اور ہماری عمر آئندہ کا رشتہ آنے والے ماہِ رمضان سے جوڑ دے، اور جب اس تک پہنچا دے تو جو عبادت تیرے شایان شان ہو اس کے بجا لانے پر ہماری اعانت فرمانا، اور اس اطاعت پر جس کا وہ مہینہ سزاوار ہے عمل پیرا ہونے کی توفیق دینا، اور ہمارے لئے ایسے نیک اعمال کا سلسلہ جاری رکھنا کہ جو زمانۂ زیست کے مہینوں میں ایک کے بعد دوسرے ماہ، ماہِ رمضان میں تیری حق ادائیگی کا باعث ہوں۔ اے اللہ! ہم نے اس مہینہ میں جو صغیرہ یا کبیرہ معصیت کی ہو، یا کسی گناہ سے آلودہ اور کسی خطا کے مرتکب ہوئے ہوں، جان بوجھ کر یا بھولے چوکے، خود اپنے نفس پر ظلم کیا ہو یا دوسرے کا دامن حرمت چاک کیا ہو، تو محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور ہمیں اپنے پردہ میں ڈھانپ لے، اور اپنے عفو و درگزر سے کام لیتے ہوئے معاف کر دے، اور ایسا نہ ہو کہ اس گناہ کی وجہ سے طنز کرنے والوں کی آنکھیں ہمیں گھوریں، اور طعنہ زنی کرنے والوں کی زبانیں ہم پر کھلیں، اور اپنی شفقت بے پایاں اور مرحمت روز افزوں سے ہمیں ان اعمال پر کار بند کر کہ جو ان چیزوں کو برطرف کریں، اور ان باتوں کی تلافی کریں جنہیں تو اس ماہ میں ہمارے لئے ناپسند کرتا ہے۔ اے اللہ ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور اس مہینہ کے رخصت ہونے سے جو قلق ہمیں ہوا ہے اس کا چارہ کر، اور عید اور روزہ چھوڑنے کے دن کو ہمارے لئے مبارک قرار دے، اور اسے ہمارے گزرے ہوئے دنوں میں بہترین دن قرار دے، جو عفو و درگزر کو سمیٹنے والا، اور گناہوں کو محو کرنے والا ہو، اور تو ہمارے ظاہر و پوشیدہ گناہوں کو بخش دے۔ بار الٰہا! اس مہینہ کے الگ ہونے کے ساتھ تو ہمیں گناہوں سے الگ کر دے، اور اس کے نکلنے کے ساتھ تو ہمیں برائیوں سے نکال لے، اور اس مہینہ کی بدولت اس کو آباد کرنے والوں میں ہمیں سب سے بڑھ کر خوشبخت، بانصیب اور بہرمند قرار دے۔ اے اللہ! جس کسی نے جیسا چاہیے اس مہینے کا پاس و لحاظ کیا ہو، اور کماحقہ اس کا احترام ملحوظ رکھا ہو، اور اس کے احکام پر پوری طرح عمل پیرا رہا ہو، اور گناہوں سے جس طرح بچنا چاہیے اس طرح بچا ہو، یا بہ نیت تقرب ایسا عمل خیر بجا لایا ہو جس نے تیری خوشنودی اس کیلئے ضروری قرار دی ہو، اور تیری رحمت کو اس کی طرف متوجہ کر دیا ہو، تو جو اسے بخشے ویسا ہی ہمیں بھی اپنی دولت بے پایاں میں سے بخش، اور اپنے فضل و کرم سے اس سے بھی کئی گنا زائد عطا کر۔ اس لئے کہ تیرے فضل کے سوتے خشک نہیں ہوتے، اور تیرے خزانے کم ہونے میں نہیں آتے بلکہ بڑھتے ہی جاتے ہیں، اور نہ تیرے احسانات کی کانیں فنا ہوتی ہیں، اور تیری بخشش و عطا تو ہر لحاظ سے خوشگوار بخشش و عطا ہے۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور جو لوگ روز قیامت تک اس ماہ کے روزے رکھیں یا تیری عبادت کریں ان کے اجر و ثواب کے مانند ہمارے لئے اجر و ثواب ثبت فرما۔ اے اللہ! ہم اس روز فطر میں جسے تو نے اہل ایمان کیلئے عید و مسرت کا روز اور اہل اسلام کیلئے اجتماع و تعاون کا دن قرار دیا ہے، ہر اس گناہ سے جس کے ہم مرتکب ہوئے ہوں، اور ہر اس برائی سے جسے پہلے کر چکے ہوں، اور ہر بری نیت سے جسے دل میں لئے ہوئے ہوں، اس شخص کی طرح توبہ کرتے ہیں جو گناہ کی طرف دوبارہ پلٹنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو، اور نہ توبہ کے بعد خطا کا مرتکب ہوتا ہو، ایسی سچی توبہ جو ہر شک و شبہ سے پاک ہو، تو اب ہماری توبہ کو قبول فرما، ہم سے راضی و خوشنود ہو جا، اور ہمیں اس پر ثابت قدم رکھ۔ اے اللہ! گناہوں کی سزا کا خوف اور جس ثواب کا تو نے وعدہ کیا ہے اس کا شوق ہمیں نصیب فرما، تاکہ جس ثواب کے تجھ سے خواہشمند ہیں اس کی لذت اور جس عذاب سے پناہ مانگ رہے ہیں اس کی تکلیف و اذیت پوری طرح جان سکیں، اور ہمیں اپنے نزدیک ان توبہ گزاروں میں سے قرار دے جن کیلئے تو نے اپنی محبت کو لازم کر دیا ہے، اور جن سے فرمانبرداری و اطاعت کی طرف رجوع ہونے کو تو نے قبول فرمایا ہے، اے عدل کرنے والوں میں سب سے زیادہ عدل کرنے والے۔ اے اللہ! ہمارے ماں باپ اور ہمارے تمام اہل مذہب و ملت، خواہ وہ گزر چکے ہوں یا قیامت کے دن تک آیندہ آنے والے ہوں، سب سے در گزر فرما۔ اے اللہ! ہمارے نبی محمدؐ اور ان کی آلؑ پر ایسی رحمت نازل فرما جیسی رحمت تو نے اپنے مقرب فرشتوں پر کی ہے، اور ان پر اور ان کی آلؑ پر ایسی رحمت نازل فرما جیسی تو نے اپنے فرستادہ نبیوں پر نازل فرمائی ہے، اور ان پر اور ان کی آلؑ پر ایسی رحمت نازل فرما جیسی تو نے اپنے نیکو کار بندوں پر نازل کی ہے، (بلکہ) اس سے بہتر و برتر، اے تمام جہان کے پروردگار! ایسی رحمت جس کی برکت ہم تک پہنچے، جس کی منفعت ہمیں حاصل ہو، اور جس کی وجہ سے ہماری دُعائیں قبول ہوں۔ اس لئے کہ تو ان لوگوں سے جن کی طرف رجوع ہوا جاتا ہے زیادہ کریم، اور ان لوگوں سے جن پر بھروسا کیا جاتا ہے زیادہ بے نیاز کرنے والا ہے، اور ان لوگوں سے جن کے فضل کی بنا پر سوال کیا جاتا ہے، زیادہ عطا کرنے والا ہے، اور تو ہر چیز پر قادر و توانا ہے۔

  46. دعاء 44 عیدین اور جمعہ کی دعا

    46

    يَا مَنْ يَرْحَمُ مَنْ لا يَرْحَمُهُ الْعِبَادُ. وَيَا مَنْ يَقْبَلُ مَنْ لا تَقْبَلُهُ الْبِلاَدُ. وَيَا مَن لاَ يَحْتَقِرُ أَهْلَ الْحَاجَةِ إلَيْهِ. وَيَا مَنْ لا يُخَيِّبُ المَلِحِّيْنَ عَلَيْـهِ، وَيَا مَنْ لاَ يَجْبَهُ بِالرَّدِّ أَهْلَ الدَّالَّةِ عَليهِ، وَيَا مَنْ يَجْتَبِي صَغِيرَ مَايُتْحَفُ بِهِ، وَيَشْكُرُ يَسِيرَ مَا يُعْمَلُ لَهُ. وَيَامَنْ يَشْكُرُ عَلَى الْقَلِيْلِ، وَيُجَازيْ بِالْجَلِيلِ، وَيَا مَنْ يَدْنُو إلَى مَنْ دَنا مِنْهُ وَيَا مَنْ يَدعُو إلَى نَفْسِهِ مَنْ أَدْبَرَ عَنْهُ، وَيَا مَنْ لا يُغَيِّرُ النِّعْمَةَ، وَلا يُبَادِرُ بِالنَّقِمَةِ، وَيَا مَنْ يُثْمِرُ الْحَسَنَةَ حَتَّى يُنْمِيَهَا، وَيَتَجَاوَزُ عَنِ السَّيِّئَةِ حَتَّى يُعَفِّيَهَا. انْصَرَفَتِ الآمَالُ دُونَ مَدى كَرَمِكَ بِالحَاجَاتِ وَامْتَلاَتْ بِفَيْضِ جُودِكَ أَوْعِيَةُ الطَّلِبات، وَتَفَسَّخَتْ دُونَ بُلُوغِ نَعْتِـكَ الصِّفَاتُ، فَلَكَ الْعُلُوُّ الأعْلَى فَوْقَ كُلِّ عَال، وَالْجَلاَلُ الأمْجَدُ فَوْقَ كُلِّ جَلاَل، كُلُّ جَلِيْل عِنْدَكَ صَغِيرٌ، وَكُلُّ شَرِيف فِي جَنْبِ شَرَفِكَ حَقِيرٌ، خَابَ الْوَافِدُونَ عَلَى غَيْرِكَ، وَخَسِرَ الْمُتَعَرِّضُونَ إلاَّ لَكَ، وَضَاعَ الْمُلِمُّونَ إلاّ بِكَ، وَأَجْدَبَ الْمُنْتَجِعُـونَ إلاَّ مَنِ انْتَجَعَ فَضْلَكَ، بَابُكَ مَفْتُوحٌ لِلرَّاغِبِينَ، وَجُودُكَ مُبَاحٌ لِلسَّائِلِينَ، وَإغاثَتُكَ قَرِيبَةٌ مِنَ الْمُسْتَغِيْثِينَ، لاَ يَخِيبُ مِنْـكَ الآمِلُونَ، وَلاَ يَيْأَسُ مِنْ عَطَائِكَ الْمُتَعَرِّضُونَ، وَلا يَشْقَى بِنَقْمَتِكَ الْمُسْتَغْفِرُونَ. رِزْقُكَ مَبْسُوطٌ لِمَنْ عَصَاكَ، وَحِلْمُكَ مُعْتَـرِضٌ لِمَنْ نَاوَاكَ، عَادَتُكَ الإحْسَـانُ إلَى الْمُسِيئينَ، وَسُنَّتُـكَ الإبْقَاءُ عَلَى الْمُعْتَدِينَ حَتَّى لَقَدْ غَرَّتْهُمْ أَنَاتُكَ عَنِ الرُّجُوعِ، وَصَدَّهُمْ إمْهَالُكَ عَن النُّزُوعِ. وَإنَّمَا تَأَنَّيْتَ بهمْ لِيَفِيئُوا إلَى أَمْرِكَ، وَأَمْهَلْتَهُمْ ثِقَةً بِدَوَامِ مُلْكِكَ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ خَتَمْتَ لَهُ بِهَا، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشَّقَاوَةِ خَذَلْتَهُ لَهَا، كُلُّهُمْ صَائِرُونَ إلَى حُكْمِكَ وَأُمُورُهُمْ آئِلَةٌ إلَى أَمْـرِكَ، لَمْ يَهِنْ عَلَى طُـولِ مُـدَّتِهِمْ سُلْطَانُـكَ وَلَمْ يَـدْحَضْ لِتَـرْكِ مُعَاجَلَتِهِمْ بُرْهَانُكَ. حُجَّتُكَ قَائِمَةٌ لاَ تُدْحَضُ، وَسُلْطَانُكَ ثَابِتٌ لا يَزُولُ، فَالْوَيْلُ الدَّائِمُ لِمَنْ جَنَحَ عَنْكَ، وَالْخَيْبَةُ الْخَاذِلَةُ لِمَنْ خَابَ مِنْكَ، وَالشَّقاءُ الاشْقَى لِمَنِ اغْتَرَّ بِكَ. مَا أكْثَرَ تَصَرُّفَهُ فِي عَذَابِكَ، وَمَا أَطْوَلَ تَرَدُّدَهُ فِيْ عِقَابِكَ، وَمَا أَبْعَدَ غَايَتَهُ مِنَ الْفَرَجِ، وَمَا أَقْنَطَهُ مِنْ سُهُولَةِ الْمَخْرَجِ عَدْلاً مِنْ قَضَائِكَ لاَ تَجُورُ فِيهِ، وَإنْصَافاً مِنْ حُكْمِكَ لاَ تَحِيفُ عَلَيْهِ، فَقَدْ ظَاهَرْتَ الْحُجَجَ، وَأَبْلَيْتَ الاعْذَارَ، وَقَـدْ تَقَدَّمْتَ بِـالْوَعِيْـدِ وَتَلَطَّفْتَ فِي التَّرْغِيْبِ، وَضَرَبْتَ الامْثَالَ، وَأَطَلْتَ الاِمْهَالَ، وَأَخَّرْتَ وَأَنْتَ مُسْتَطِيعٌ لِلْمُعَاجَلَةِ، وَتَأَنَّيْتَ وَأَنْتَ مَليءٌ بِالْمُبَادَرَةِ، لَمْ تَكُنْ أَنَاتُكَ عَجْزاً، وَلا إمْهَالُكَ وَهْناً، وَلاَ إمْسَاكُكَ غَفْلَةً، وَلاَ انْتِظَارُكَ مُدَارَاةً، بَلْ لِتَكُونَ حُجَّتُكَ أَبْلَغَ، وَكَرَمُكَ أكمَلَ، وَإحْسَانُكَ أَوْفَى وَنِعْمَتُكَ أَتَمَّ، كُلُّ ذلِكَ كَانَ وَلَمْ تَزَلْ، وَهُوَ كائِنٌ وَلاَ تَزَالُ ، حُجَّتُكَ أَجَلُّ مِنْ أَنْ توصَفَ بِكُلِّهَا، وَمَجْدُكَ أَرْفَـعُ مِنْ أَنْ يُحَدَّ بِكُنْهِهِ، وَنِعْمَتُكَ أكْثَرُ مِنْ أَنْ تُحْصَى بِأَسْرِهَا، وَإحْسَانُكَ أكْثَرُ مِنْ أَنْ تُشْكَرَ عَلَى أَقَلِّهِ، وَقَدْ قَصَّرَ بِيَ السُّكُوتُ عَنْ تَحْمِيدِكَ، وَفَهَّهَنِي الإمْسَاكُ عَنْ تَمْجيدِكَ، وَقُصَارَايَ الإقْرَارُ بِالْحُسُورِ لاَ رَغْبَةً ـ يا إلهِي ـ بَلْ عَجْزاً، فَهَا أَنَا ذَا أَؤُمُّكَ بِالْوِفَادَةِ، وَأَسأَلُكَ حُسْنَ الرِّفَادَةِ، فَصلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِـهِ وَاسْمَعْ نَجْوَايَ، وَاسْتَجِبْ دُعَائِي وَلاَ تَخْتِمْ يَوْمِيَ بِخَيْبَتِي، وَلاَ تَجْبَهْنِي بِالرَّدِّ فِي مَسْأَلَتِي، وَأكْرِمْ مِنْ عِنْدِكَ مُنْصَرَفِي وَإلَيْكَ مُنْقَلَبِي، إنَّكَ غَيْرُ ضَائِق بِمَا تُرِيْدُ وَلاَ عَاجِزٍ عَمَّا تُسْأَلُ، وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْء قَدِيْرٌ، وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إلاَّ بِاللهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ.

    جب نمازِ عید الفطر سے فارغ ہو کر پلٹتے تو (رو بہ قبلہ کھڑے ہو کر) یہ دُعا پڑھتے اور جمعہ کے دن بھی یہ دُعا پڑھتے: اے وہ جو ایسے شخص پر رحم کرتا ہے جس پر بندے رحم نہیں کرتے، اے وہ جو ایسے (گنہگار) کو قبول کرتا ہے جسے کوئی قطعہ زمین (اس کے گناہوں کے باعث) قبول نہیں کرتا، اے وہ جو اپنے حاجتمند کو حقیر نہیں سمجھتا، اے وہ جو گڑگڑانے والوں کو ناکام نہیں پھیرتا، اے وہ جو نازش بے جا کرنے والوں کو ٹھکراتا نہیں، اے وہ جو چھوٹے سے چھوٹے تحفہ کو بھی پسندیدگی کی نظروں سے دیکھتا ہے، اور جو معمولی سے معمولی عمل اس کیلئے بجا لایا گیا ہو اس کی جزا دیتا ہے، اے وہ جو اس سے قریب ہو وہ اس سے قریب ہوتا ہے، اے وہ کہ جو اس سے رو گردانی کرے اسے اپنی طرف بلاتا ہے، اور وہ جو نعمت کو بدلتا نہیں اور نہ سزا دینے میں جلدی کرتا ہے، اے وہ جو نیکی کے نہال کو بار آور کرتا ہے تاکہ اسے بڑھا دے، اور گناہوں سے درگزر کرتا ہے تاکہ انہیں ناپید کر دے۔ امیدیں تیری سرحد کرم کو چھونے سے پہلے کامران ہو کر پلٹ آئیں، اور طلب و آرزو کے ساغر تیرے فیضان جود سے چھلک اٹھے، اور صفتیں تیرے کمال ذات کی منزل تک پہنچنے سے درماندہ ہو کر منتشر ہو گئیں، اس لئے کہ بلند ترین رفعت جو ہر کنگرۂ بلند سے بالاتر ہے، اور بزرگ ترین عظمت جو ہر عظمت سے بلند تر ہے، تیرے لئے مخصوص ہے، ہر بزرگ تیری بزرگی کے سامنے چھوٹا، اور ہر ذی شرف تیرے شرف کے مقابلہ میں حقیر ہے۔ جنہوں نے تیرے غیر کا رخ کیا وہ ناکام ہوئے، جنہوں نے تیرے سوا دوسروں سے طلب کیا وہ نقصان میں رہے، جنہوں نے تیرے سوا دوسروں کے ہاں منزل کی وہ تباہ ہوئے، جو تیرے فضل کے بجائے دوسروں سے رزق و نعمت کے طلبگار ہوئے وہ قحط و مصیبت سے دوچار ہوئے۔ تیرا دروازہ طلبگاروں کیلئے وا ہے اور تیرا جود و کرم سائلوں کیلئے عام ہے، تیری فریاد رسی داد خواہوں سے نزدیک ہے۔ امید وار تجھ سے محروم نہیں رہتے، اور طلبگار تیری عطا و بخشش سے مایوس نہیں ہوتے، اور مغفرت چاہنے والے پر تیرے عذاب کی بدبختی نہیں آتی۔ تیرا خوان نعمت ان کیلئے بھی بچھا ہوا ہے جو تیری نافرمانی کرتے ہیں، اور تیری بُردباری ان کے بھی آڑے آتی ہے جو تجھ سے دشمنی رکھتے ہیں، بُروں سے نیکی کرنا تیری روش، اور سرکشوں پر مہربانی کرنا تیرا طریقہ ہے، یہاں تک کہ نرمی و حلم نے انہیں (حق کی طرف) رجوع ہونے سے غافل کر دیا، اور تیری دی ہوئی مہلت نے انہیں اجتنابِ معاصی سے روک دیا، حالانکہ تو نے ان سے نرمی اس لئے کی تھی کہ وہ تیرے فرمان کی طرف پلٹ آئیں اور مہلت اس لئے دی تھی کہ تجھے اپنے تسلط و اقتدار کے دوام پر اعتماد تھا (کہ جب چاہے انہیں اپنی گرفت میں لے سکتا ہے)، اب جو خوش نصیب تھا اس کا خاتمہ بھی خوش نصیبی پر کیا اور جو بدنصیب تھا اسے ناکام رکھا۔ (وہ خوش نصیب ہوں یا بد نصیب) سب کے سب تیرے حکم کی طرف پلٹنے والے ہیں اور ان کا مآل تیرے امر سے وابستہ ہے، ان کی طویل مدت مہلت سے تیری دلیل و حجت میں کمزوری رُونما نہیں ہوتی (جیسے اس شخص کی دلیل کمزور ہو جاتی ہے جو اپنے حق کے حاصل کرنے میں تاخیر کرے) اور فوری گرفت کو نظر انداز کرنے سے تیری حجت و برہان باطل نہیں قرار پائی (کہ یہ کہا جائے کہ اگر اس کے پاس ان کے خلاف دلیل و برہان ہوتی تو وہ مہلت کیوں دیتا)، تیری حجت برقرار ہے جو باطل نہیں ہو سکتی اور تیری دلیل محکم ہے جو زائل نہیں ہو سکتی۔ لہٰذا دائمی حسرت و اندوہ اسی شخص کیلئے ہے جو تجھ سے روگردان ہوا، اور رسوا کن نامرادی اسی کیلئے ہے جو تیرے ہاں سے محروم رہا، اور بدترین بدبختی اسی کیلئے ہے جس نے تیری چشم پوشی سے فریب کھایا۔ ایسا شخص کس قدر تیرے عذاب میں الٹے پلٹے کھاتا، اور کتنا طویل زمانہ تیرے عقاب میں گردش کرتا رہے گا، اور اس کی رہائی کا مرحلہ کتنی دور، اور بآسانی نجات حاصل کرنے سے کتنا مایوس ہو گا، یہ تیرا فیصلہ ازروئے عدل ہے جس میں ذرا بھی ظلم نہیں کرتا اور تیرا یہ حکم مبنی بر انصاف ہے جس میں اس پر زیادتی نہیں کرتا۔ اس لئے کہ تو نے پے درپے دلیلیں قائم اور قابل قبول حجتیں آشکارا کر دی ہیں، اور پہلے سے ڈرانے والی چیزوں کے ذریعہ آگاہ کر دیا ہے، اور لطف و مہربانی سے (آخرت کی) ترغیب دلائی ہے، اور طرح طرح کی مثالیں بیان کی ہیں، مہلت کی مدت بڑھا دی ہے، اور (عذاب میں) تاخیر سے کام لیا ہے حالانکہ تو فوری گرفت پر اختیار رکھتا تھا، اور نرمی و مدارات سے کام لیا ہے باوجودیکہ تو تعجیل کرنے پر قادر تھا، یہ نرم روی، عاجزی کی بنا پر اور مہلت دہی کمزوری کی وجہ سے نہ تھی، اور نہ عذاب میں توقف کرنا غفلت و بے خبری کے باعث اور نہ تاخیر کرنا نرمی و ملاطفت کی بنا پر تھا، بلکہ یہ اس لئے تھا کہ تیری حجت ہر طرح سے پوری ہو، تیرا کرم کامل تر، تیرا احسان فراواں اور تیری نعمت تمام تر ہو، یہ تمام چیزیں تھیں اور رہیں گی درآنحالیکہ تو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ تیری حجت اس سے بالا تر ہے کہ اس کے تمام گوشوں کو پوری طرح بیان کیا جا سکے، اور تیری عزّت و بزرگی اس سے بلند تر ہے کہ اس کی کنہ و حقیقت کی حدیں قائم کی جائیں، اور تیری نعمتیں اس سے فزوں تر ہیں کہ ان سب کا شمار ہو سکے، اور تیرے احسانات اس سے کہیں زیادہ تر ہیں کہ ان میں کے ادنیٰ احسان پر بھی تیرا شکریہ ادا کیا جا سکے، (میں تیری حمد و سپاس سے عاجز اور درماندہ ہوں، گویا) خاموشی نے تیری پے در پے حمد و سپاس سے مجھے ناتواں کر دیا ہے، اور توقف نے تیری تمجید و ستائش سے مجھے گنگ کر دیا ہے، اور اس سلسلہ میں میری توانائی کی حدیہ ہے کہ اپنی درماندگی کا اعتراف کروں، یہ بے رغبتی کی وجہ سے نہیں ہے اے میرے معبود! بلکہ عجز و ناتوانی کی بنا پر ہے۔ اچھا تو میں اب تیری بارگاہ میں حاضر ہونے کا قصد کرتا ہوں اور تجھ سے حسن اعانت کا خواستگار ہوں، تو محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور میری راز و نیاز کی باتوں کو سن، اور میری دُعا کو شرف قبولیت بخش، اور میرے دن کو ناکامی کے ساتھ ختم نہ کر، اور میرے سوال میں مجھے ٹھکرا نہ دے، اور اپنی بارگاہ سے پلٹنے اور پھر پلٹ کر آنے کو عزت و احترام سے ہمکنار فرما۔ اس لئے کہ تجھے تیرے ارادہ میں کوئی دشواری حائل نہیں ہوتی، اور جو چیز تجھ سے طلب کی جائے اس کے دینے سے عاجز نہیں ہوتا، اور تو ہر چیز پر قادر ہے، اور قوت و طاقت نہیں سوا اللہ کے سہارے کے جو بلند مرتبہ عظیم ہے۔

  47. دعاء 45 روزعرفہ کی دعا

    47

    الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ. أللَّهُمَّ لَـكَ الْحَمْدُ بَدِيْعَ السَّموَاتِ وَالأَرْضِ، ذَا الْجَلاَلِ وَالإكْرَامِ، رَبَّ الاَرْبَابِ وَإلهَ كُلِّ مَألُوه، وَخَالِقَ كُلِّ مَخْلُوق، وَوَارِثَ كُلِّ شَيْء، لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَـيْءٌ، وَلا يَعْزُبُ عَنْهُ عِلْمُ شَيْء، وَهُوَ بِكُلِّ شَيْء مُحِيطٌ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْء رَقِيبٌ، أَنْتَ الله لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ الاَحَـدُ الْمُتَوَحِّدُ الْفَرْدُ الْمُتَفَرِّدُ، وَأَنْتَ اللهُ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ الْكَرِيمُ الْمُتَكَرِّمُ، الْعَظِيمُ الْمُتَعَظِّمُ، الْكَبِيرُ الْمُتَكَبِّرُ. وَأَنْتَ اللهُ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ العَلِيُّ الْمُتَعَالِ، الْشَدِيْدُ الْمِحَـالِ. وَأَنْتَ اللهُ لا إلهَ إلاَّ أَنْتَ الـرَّحْمنُ الرَّحِيمُ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ. وَأَنْتَ اللهُ لا إلهَ إلاّ أَنْتَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ الْقَدِيمُ الْخَبِيرُ، وَأَنْتَ اللهُ لاَ إلهَ إلاّ أَنْتَ الْكَرِيمُ الاَكْرَمُ الدَّائِمُ الادْوَمُ، وَأَنْتَ اللهُ لا إلهَ إلاّ أَنْتَ الاوَّلُ قَبْلَ كُلِّ أَحَد وَالاخِرُ بَعْدَ كُلِّ عَدَد، وَأَنْتَ اللهُ لا إلهَ إلاّ أَنْتَ الدَّانِي فِي عُلُوِّهِ، وَالْعَالِي فِي دُنُوِّهِ، وَأَنْتَ اللهُ لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ ذُو الْبَهَاءِ وَالْمَجْدِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْحَمْدِ. وَأَنْتَ اللهُ لاَ إلهَ إلاّ أَنْتَ الَّذِي أَنْشَأْتَ الاشْيَاءَ مِنْ غَيْرِ سِنْخ، وَصَوَّرْتَ مَا صَوَّرْتَ مِنْ غَيْرِ مِثال، وَابْتَدَعْتَ الْمُبْتَدَعَاتِ بِلاَ احْتِذَآء. أَنْتَ الَّذِي قَدَّرْتَ كُلَّ شَيْء تَقْدِيراً وَيَسَّرْتَ كُلَّ شَيْء تَيْسِيراً، وَدَبَّرْتَ مَا دُونَكَ تَدْبِيْراً. وَأَنْتَ الَّذِي لَمْ يُعِنْكَ عَلَى خَلْقِكَ شَرِيكٌ وَلَمْ يُؤازِرْكَ فِي أَمْرِكَ وَزِيرٌ، وَلَمْ يَكُنْ لَكَ مُشَاهِدٌ وَلا نَظِيرٌ. أَنْتَ الَّذِي أَرَدْتَ فَكَانَ حَتْماً مَا أَرَدْتَ، وَقَضَيْتَ فَكَانَ عَدْلاً مَا قَضَيْتَ، وَحَكَمْتَ فَكَانَ نِصْفاً مَا حَكَمْتَ، أَنْتَ الَّـذِي لا يَحْوِيْـكَ مَكَانٌ وَلَمْ يَقُمْ لِسُلْطَانِكَ سُلْطَانٌ، وَلَمْ يُعْيِكَ بُرْهَانٌ وَلا بَيَانٌ. أَنْتَ الَّذِي أَحْصَيْتَ كُلَّ شَيْء عَدَدَاً، وَجَعَلْتَ لِكُلِّ شَيْء أَمَداً، وَقَدَّرْتَ كُلَّ شَيْء تَقْدِيْراً. أَنْتَ الَّذِي قَصُرَتِ الاوْهَامُ عَنْ ذَاتِيَّتِكَ، وَعَجَزَتِ الافْهَامُ عَنْ كَيْفِيَّتِكَ ، وَلَمْ تُدْرِكِ الابْصَارُ مَوْضِعَ أَيْنِيَّتِكَ. أَنْتَ الَّذِي لا تُحَدُّ فَتَكُونَ مَحْدُوداً، وَلَمْ تُمَثَّلْ فَتَكُونَ مَوْجُوداً، وَلَمْ تَلِدْ فَتَكُونَ مَوْلُوداً. أَنْتَ الَّذِي لا ضِدَّ مَعَكَ فَيُعَانِدَكَ، وَلا عِدْلَ فَيُكَاثِرَكَ، وَلاَ نِدَّ لَكَ فَيُعَارِضَكَ. أَنْتَ الَّـذِي ابْتَدَأ وَاخْتَـرَعَ وَاسْتَحْدَثَ وَابْتَـدَعَ وَأَحْسَنَ صُنْعَ مَا صَنَعَ، سُبْحانَكَ! مَا أَجَلَّ شَأنَكَ، وَأَسْنَى فِي الامَاكِنِ مَكَانَكَ، وَأَصْدَعَ بِالْحَقِّ فُرقَانَكَ. سُبْحَانَكَ مِنْ لَطِيفٍ مَا أَلْطَفَكَ، وَرَؤُوفٍ مَا أَرْأَفَكَ، وَحَكِيمٍ مَا أَعْرَفَكَ! سُبْحَانَكَ مِنْ مَلِيْكٍ مَا أَمْنَعَكَ، وَجَوَادٍ مَا أَوْسَعَكَ، وَرَفِيعٍ مَا أَرْفَعَكَ، ذُو الْبَهاءِ وَالْمَجْدِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْحَمْدِ . سُبْحَانَكَ بَسَطْتَ بِالْخَيْرَاتِ يَدَكَ وَعُرِفَتِ الْهِدَايَةُ مِنْ عِنْدِكَ، فَمَنِ الْتَمَسَكَ لِدِينٍ أَوْ دُنْيا وَجَدَكَ. سُبْحَانَكَ خَضَعَ لَكَ مَنْ جَرى فِي عِلْمِكَ، وَخَشَعَ لِعَظَمَتِكَ مَا دُونَ عَرْشِكَ، وَانْقَادَ لِلتَّسْلِيْمِ لَكَ كُلُّ خَلْقِكَ. سُبْحَانَكَ لاَ تُحَسَّ، وَلاَ تُجَسُّ، وَلاَ تُمَسُّ، وَلاَ تُكَادُ، وَلاَ تُمَاطُ، وَلاَ تُنَازَعُ، وَلاَ تُجَارى، وَلاَ تُمارى، وَلاَ تُخَادَعُ، وَلاَ تُمَاكَرُ. سُبْحَانَكَ سَبِيلُكَ جَدَدٌ، وَأَمْرُكَ رَشَدٌ، وَأَنْتَ حَيٌّ صَمَدٌ. سُبْحَانَكَ قَوْلُكَ حُكْمٌ، وَقَضَآؤُكَ حَتْمٌ، وَإرَادَتُكَ عَزْمٌ. سُبْحَانَكَ لاَ رَادَّ لِمَشِيَّتِكَ، وَلاَ مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِكَ. سُبْحَانَكَ بَاهِرَ الايآتِ، فَاطِرَ السَّمَوَاتِ بَارِئ، النَّسَماتِ. لَكَ الْحَمْدُ حَمْدَاً يَدُومُ بِدَوامِكَ، وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْداً خَالِداً بِنِعْمَتِكَ، وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْداً يُوَازِي صُنْعَكَ، وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْداً يَزِيدُ عَلَى رِضَاكَ، وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْداً مَعَ حَمْدِ كُلِّ حَامِد، وَشُكْراً يَقْصُرُ عَنْهُ شُكْرُ كُلِّ شَاكِر، حَمْداً لاَ يَنْبَغِي إلاَّ لَكَ، وَلاَ يُتَقَرَّبُ بِهِ إلاَّ إلَيْكَ، حَمْداً يُسْتَدَامُ بِهِ الاَوَّلُ، وَيُسْتَدْعَى بِهِ دَوَامُ الاخِرِ، حَمْداً يَتَضَاعَفُ عَلَى كُرُورِ الاَزْمِنَةِ، وَيَتَزَايَدُ أَضْعَافَاً مُتَرَادِفَةً، حَمْداً يَعْجِزُ عَنْ إحْصَآئِهِ الْحَفَظَةُ، وَيَزِيدُ عَلَى مَا أَحْصَتْهُ فِي كِتابِكَ الْكَتَبَةُ، حَمْداً يُوازِنُ عَرْشَكَ المَجِيْدَ، وَيُعَادِلُ كُرْسِيَّكَ الرَّفِيعَ، حَمْداً يَكْمُلُ لَدَيْكَ ثَوَابُهُ، وَيَسْتَغْرِقُ كُلَّ جَزَآء جَزَآؤُهُ، حَمْداً ظَاهِرُهُ وَفْقٌ لِبَاطِنِهِ، وَبَاطِنُهُ وَفْقٌ لِصِدْقِ النِّيَّةِ، حَمْداً لَمْ يَحْمَدْكَ خَلْقٌ مِثْلَهُ، وَلاَ يَعْرِفُ أَحَدٌ سِوَاكَ فَضْلَهُ، حَمْداً يُعَانُ مَنِ اجْتَهَدَ فِي تَعْدِيْدِهِ، وَيُؤَيَّدُ مَنْ أَغْرَقَ نَزْعَاً فِي تَوْفِيَتِهِ، حَمْداً يَجْمَعُ مَا خَلَقْتَ مِنَ الْحَمْدِ، وَيَنْتَظِمُ مَا أَنْتَ خَالِقُهُ مِنْ بَعْدُ، حَمْداً لاَ حَمْدَ أَقْرَبُ إلَى قَوْلِكَ مِنْهُ، وَلاَ أَحْمَدَ مِمَّنْ يَحْمَدُكَ بِهِ، حَمْداً يُوجِبُ بِكَرَمِكَ الْمَزِيدَ بِوُفُورِهِ وَتَصِلُهُ بِمَزِيْد بَعْدَ مَزِيْد طَوْلاً مِنْكَ، حَمْداً يَجِبُ لِكَرَمِ وَجْهِكَ، وَيُقَابِلُ عِزَّ جَلاَلِكَ. رَبِّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِ مُحَمَّد الْمُنْتَجَبِ، الْمُصْطَفَى، الْمُكَرَّمِ، الْمُقَرَّبِ، أَفْضَلَ صَلَوَاتِكَ، وَبارِكْ عَلَيْهِ أَتَمَّ بَرَكاتِكَ، وَتَرَحَّمْ عَلَيْهِ أَمْتَعَ رَحَمَاتِكَ. رَبِّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ، صَلاَةً زَاكِيَةً، لاَ تَكُونُ صَلاَةٌ أَزْكَى مِنْهَا، وَصَلِّ عَلَيْهِ صَلاَةً نَامِيَةً، لاَ تَكُونُ صَلاةٌ أَنْمَى مِنْهَا، وَصَلِّ عَلَيْهِ صَلاةً رَاضِيَةً، لاَ تَكُونُ صَلاةٌ فَوْقَهَا. رَبِّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ، صَلاَةً تُرْضِيهِ وَتَزِيدُ عَلَى رِضَاهُ، وَصَلِّ عَلَيْهِ صَلاَةً تُرْضِيكَ وَتَزِيدُ عَلَى رِضَاكَ لَهُ، وَصَلِّ عَلَيْهِ صَلاَةً لاَ تَرْضَى لَهُ إلاَّ بِهَا، وَلاَ تَرى غَيْرَهُ لَهَا أَهْلاً. رَبِّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ، صَلاَةً تُجَاوِزُ رِضْوَانَكَ، وَيَتَّصِلُ اتِّصَالُهَا بِبَقَآئِكَ، وَلاَ يَنْفَدُ كَمَا لاَ تَنْفَدُ كَلِماتُكَ. رَبِّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَآلِهِ صَلاَةً تَنْتَظِمُ صَلَوَاتِ مَلائِكَتِكَ وَأَنْبِيآئِكَ وَرُسُلِكَ وَأَهْلِ طَاعَتِكَ. وَتَشْتَمِلُ عَلَى صَلَوَاتِ عِبَادِكَ مِنْ جِنّكَ وَإنْسِكَ وَأَهْلِ إجَابَتِكَ، وَتَجْتَمِعُ عَلَى صَلاَةِ كُلِّ مَنْ ذَرَأْتَ وَبَرَأْتَ مِنْ أَصْنَافِ خَلْقِكَ. رَبِّ صَلِّ عَلَيْهِ وَآلِهِ صَلاَةً تُحِيطُ بِكُلِّ صَلاَة سَالِفَة وَمُسْتَأْنَفَة، وَصَلِّ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ صَلاَةً مَرْضِيَّةً لَكَ وَلِمَنْ دُونَكَ، وَتُنْشِئُ مَعَ ذَلِكَ صَلَوَات تُضَاعِفُ مَعَهَا تِلْكَ الصَّلَوَاتِ عِنْدَهَا، وَتَزِيدُهَا عَلَى كُرُورِ الاَيَّامِ زِيَادَةً فِي تَضَاعِيفَ لاَ يَعُدُّهَا غَيْرُكَ. رَبِّ صَلِّ عَلَى أَطَائِبِ أَهْلِ بَيْتِهِ الَّذِينَ اخْتَرْتَهُمْ لِاَمْرِكَ، وَجَعَلْتَهُمْ خَزَنَةَ عِلْمِكَ، وَحَفَظَةَ دِيْنِكَ، وَخُلَفَآءَكَ فِي أَرْضِكَ، وَحُجَجَكَ عَلَى عِبَادِكَ، وَطَهَّرْتَهُمْ مِنَ الرِّجْسِ وَالدَّنَسِ تَطْهِيراً بِإرَادَتِكَ، وَجَعَلْتَهُمُ الْوَسِيْلَةَ إلَيْكَ وَالْمَسْلَكَ إلَى جَنَّتِكَ، رَبِّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ صَلاةً تُجْزِلُ لَهُمْ بِهَا مِنْ نِحَلِكَ وَكَرَامَتِكَ، وَتُكْمِلُ لَهُمُ الاَشْيَآءَ مِنْ عَطَاياكَ وَنَوَافِلِكَ، وَتُوَفِّرُ عَلَيْهِمُ الْحَظَّ مِنْ عَوَائِدِكَ وَفَوائِدِكَ. رَبِّ صَلِّ عَلَيْهِ وَعَلَيْهِمْ صَلاَةً لاَ أَمَدَ فِي أَوَّلِهَا، وَلاَ غَايَةَ لِاَمَدِهَا، وَلاَ نِهَايَةَ لاِخِرِهَا. رَبِّ صَلِّ عَلَيْهِمْ زِنَةَ عَرْشِكَ وَمَا دُونَهُ، وَمِلءَ سَموَاتِكَ وَمَا فَوْقَهُنَّ، وَعَدَدَ أَرَضِيْكَ، وَمَا تَحْتَهُنَّ، وَمَا بَيْنَهُنَّ، صَلاَةً تُقَرِّبُهُمْ مِنْكَ زُلْفى وَتَكُونُ لَكَ وَلَهُمْ رِضَىً، وَمُتَّصِلَةٌ بِنَظَائِرِهِنَّ أَبَداً. أللَّهُمَّ إنَّكَ أَيَّدْتَ دِينَكَ فِي كُلِّ أَوَان بِإمَام أَقَمْتَهُ عَلَماً لِعِبَادِكَ وَّمَنارَاً فِي بِلاَدِكَ، بَعْدَ أَنْ وَصَلْتَ حَبْلَهُ بِحَبْلِكَ، وَجَعَلْتَهُ الذَّرِيعَةَ إلَى رِضْوَانِكَ، وَافْتَرَضْتَ طَاعَتَهُ، وَحَذَّرْتَ مَعْصِيَتَهُ، وَأَمَرْتَ بِامْتِثَالِ أوَاِمِرِه وَالانْتِهَآءِ عِنْدَ نَهْيِهِ، وَأَلاَّ يَتَقَدَّمَهُ مُتَقَدِّمٌ، وَلاَ يَتَأَخَّرَ عَنْهُ مُتَأَخِّرٌ،فَهُوَ عِصْمَةُ اللاَّئِذِينَ ، وَكَهْفُ الْمُؤْمِنِينَ، وَعُرْوَةُ الْمُتَمَسِّكِينَ، وَبَهَآءُ الْعَالَمِينَ. أللَّهُمَّ فَأَوْزِعْ لِوَلِيِّكَ شُكْرَ مَا أَنْعَمْتَ بِهِ عَلَيْهِ، وَأَوْزِعْنَا مِثْلَهُ فِيهِ، وَآتِهِ مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَاناً نَصِيراً، وَافْتَحْ لَهُ فَتْحاً يَسِيراً، وَأَعِنْهُ بِرُكْنِكَ الاعَزِّ، وَاشْدُدْ أَزْرَهُ، وَقَوِّ عَضُدَهُ، وَرَاعِهِ بِعَيْنِكَ، وَاحْمِهِ بِحِفْظِكَ، وَانْصُرْهُ بِمَلائِكَتِكَ، وَامْدُدْهُ بِجُنْدِكَ الاَغْلَبِ وَأَقِمْ بِهِ كِتَابَكَ وَحُدُودَكَ، وَشَرَائِعَكَ وَسُنَنَ رَسُولِكَ صَلَوَاتُكَ اللَّهُمَّ عَلَيْهِ وَآلِهِ، وَأَحْيِ بِهِ مَا أَمَاتَهُ الظَّالِمُونَ مِنْ مَعَالِمِ دِينِكَ، وَاجْلُ بِهِ صَدَآءَ الْجَوْرِ عَنْ طَرِيقَتِكَ، وَأَبِنْ بِهِ الضَّرَّآءَ مِنْ سَبِيلِكَ، وَأَزِلْ بِهِ النَّاكِبِينَ عَنْ صِرَاطِكَ، وَامْحَقْ بِهِ بُغَاةَ قَصْدِكَ عِوَجاً، وَأَلِنْ جَانِبَهُ لِاَوْلِيَآئِكَ، وَابْسُطْ يَدَهُ عَلَى أَعْدَائِكَ، وَهَبْ لَنا رَأْفَتَهُ وَرَحْمَتَهُ وَتَعَطُّفَهُ وَتَحَنُّنَهُ، وَاجْعَلْنَا لَهُ سَامِعِينَ مُطِيعِينَ، وَفِي رِضَاهُ سَاعِينَ، وَإلَى نُصْرَتِهِ وَالْمُدَافَعَةِ عَنْهُ مُكْنِفِينَ، وَإلَيْكَ وَإلَى رَسُولِكَ صَلَواتُكَ اللَّهُمَّ عَلَيْهِ وَآلِهِ بِذَلِكَ مُتَقَرِّبِينَ. أللَّهُمَّ وَصَلِّ عَلَى أَوْلِيآئِهِمُ الْمُعْتَرِفِينَ بِمَقَامِهِمْ، الْمُتَّبِعِينَ مَنْهَجَهُمْ، الْمُقْتَفِيْنَ آثَارَهُمْ، الْمُسْتَمْسِكِينَ بِعُرْوَتِهِمْ، الْمُتَمَسِّكِينَ بِوَلاَيَتِهِمْ، الْمُؤْتَمِّينَ بِإمَامَتِهِمْ، الْمُسَلِّمِينَ لِاَمْرِهِمْ الْمُجْتَهِدِيْنَ فِي طاعَتِهِمْ، الْمُنْتَظِرِيْنَ أَيَّامَهُمْ، الْمَادِّينَ إلَيْهِمْ أَعْيُنَهُمْ، الصَّلَوَاتِ الْمُبَارَكَاتِ الزَّاكِيَاتِ النَّامِيَاتِ الغَادِيَاتِ، الرَّائِحاتِ. وَسَلِّمْ عَلَيْهِمْ وَعَلَى أَرْوَاحِهِمْ، وَاجْمَعْ عَلَى التَّقْوَى أَمْرَهُمْ، وَأَصْلِحْ لَهُمْ شُؤُونَهُمْ، وَتُبْ عَلَيْهِمْ إنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ وَخَيْرُ الْغَافِرِينَ، وَاجْعَلْنَا مَعَهُمْ فِي دَارِ السَّلاَمِ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ. أللَّهُمَّ هَذَا يَوْمُ عَرَفَةَ، يَوْمٌ شَرَّفْتَهُ وَكَرَّمْتَهُ وَعَظَّمْتَهُ، نَشَرْتَ فِيهِ رَحْمَتَكَ، وَمَنَنْتَ فِيهِ بِعَفْوِكَ وَأَجْزَلْتَ فِيهِ عَطِيَّتَكَ، وَتَفَضَّلْتَ بِهِ عَلَى عِبَادِكَ. أللَّهُمَّ وَأَنَا عَبْدُكَ الَّذِي أَنْعَمْتَ عَلَيْهِ قَبْلَ خَلْقِكَ لَهُ، وَبَعْدَ خَلْقِكَ إيَّاهُ، فَجَعَلْتَهُ مِمَّنْ هَدَيْتَهُ لِدِينِكَ، وَوَفَّقْتَهُ لِحَقِّكَ، وَعَصَمْتَهُ بِحَبْلِكَ، وَأَدْخَلْتَهُ فِيْ حِزْبِكَ، وَأَرْشَدْتَهُ لِمُوَالاَةِ أَوْليآئِكَ، وَمُعَادَاةِ أَعْدَائِكَ، ثُمَّ أَمَرْتَهُ فَلَمْ يَأْتَمِرْ، وَزَجَرْتَهُ فَلَمْ يَنْزَجِرْ، وَنَهَيْتَهُ عَنْ مَعْصِيَتِكَ فَخَالَفَ أَمْرَكَ إلَى نَهْيِكَ، لاَ مُعَانَدَةً لَكَ وَلاَ اسْتِكْبَاراً عَلَيْكَ، بَلْ دَعَاهُ هَوَاهُ إلَى مَا زَيَّلْتَهُ، وَإلَى مَا حَذَّرْتَهُ، وَأَعَانَهُ عَلَى ذالِكَ عَدُوُّكَ وَعَدُوُّهُ، فَأَقْدَمَ عَلَيْهِ عَارِفاً بِوَعِيْدِكَ، رَاجِياً لِعَفْوِكَ، وَاثِقاً بِتَجَاوُزِكَ، وَكَانَ أَحَقَّ عِبَادِكَ ـ مَعَ مَا مَنَنْتَ عَلَيْهِ ـ أَلاَّ يَفْعَلَ، وَهَا أَنَا ذَا بَيْنَ يَدَيْكَ صَاغِراً، ذَلِيلاً، خَاضِعَاً، خَاشِعاً، خَائِفَاً، مُعْتَرِفاً بِعَظِيم مِنَ الذُّنُوبِ تَحَمَّلْتُهُ، وَجَلِيْل مِنَ الْخَطَايَا اجْتَرَمْتُهُ، مُسْتَجِيراً بِصَفْحِكَ، لائِذاً بِرَحْمَتِكَ، مُوقِناً أَنَّهُ لاَ يُجِيرُنِي مِنْكَ مُجِيرٌ، وَلاَ يَمْنَعُنِي مِنْكَ مَانِعٌ . فَعُدْ عَلَيَّ بِمَا تَعُودُ بِهِ عَلَى مَنِ اقْتَرَفَ مِنْ تَغَمُّدِكَ، وَجُدْ عَلَيَّ بِمَا تَجُودُ بِهِ عَلَى مَنْ أَلْقَى بِيَدِهِ إلَيْكَ مِنْ عَفْوِكَ، وَامْنُنْ عَلَيَّ بِمَا لاَ يَتَعَاظَمُكَ أَنْ تَمُنَّ بِهِ عَلَى مَنْ أَمَّلَكَ مِنْ غُفْرَانِكَ، وَاجْعَلْ لِي فِي هَذَا الْيَوْمِ نَصِيباً أَنَالُ بِهِ حَظّاً مِنْ رِضْوَانِكَ، وَلاَ تَرُدَّنِي صِفْراً مِمَّا يَنْقَلِبُ بِهِ الْمُتَعَبِّدُونَ لَكَ مِنْ عِبَادِكَ، وَإنِّي وَإنْ لَمْ أُقَدِّمْ مَا قَدَّمُوهُ مِنَ الصَّالِحَاتِ، فَقَد قَدَّمْتُ تَوْحِيدَكَ، وَنَفْيَ الاَضْدَادِ وَالاَنْدَادِ وَالاشْبَاهِ عَنْكَ، وَأَتَيْتُكَ مِنَ الاَبْوَابِ الَّتِي أَمَرْتَ أَنْ تُؤْتى مِنْها، وَتَقَرَّبْتُ إلَيْكَ بِمَا لاَ يَقْرُبُ ، أَحَدٌ مِنْكَ إلاَّ بِالتَّقَرُّبِ بِهِ ثُمَّ أَتْبَعْتُ ذلِكَ بِالاِنابَةِ إلَيْكَ، وَالتَّذَلُّلِ وَالاسْتِكَانَةِ لَكَ، وَحُسْنِ الظَّنِّ بِكَ، وَالثِّقَةِ بِمَا عِنْدَكَ، وَشَفَعْتُهُ بِرَجآئِكَ الَّذِي قَلَّ مَا يَخِيبُ عَلَيْهِ رَاجِيْكَ، وَسَأَلْتُكَ مَسْأَلَةَ الْحَقِيرِ الذّلِيلِ الْبَائِسِ الْفَقِيْرِ الْخَائِفِ الْمُسْتَجِيرِ، وَمَعَ ذَلِكَ خِيفَةً وَتَضَرُّعاً وَتَعَوُّذاً وَتَلَوُّذاً، لاَ مُسْتَطِيلاً بِتَكبُّرِ الْمُتَكَبِّرِينَ، وَلاَ مُتَعَالِياً بِدالَّةِ الْمُطِيعِينَ، وَلاَ مُسْتَطِيلاً بِشَفَاعَةِ الشَّافِعِينَ، وَأَنَا بَعْدُ أَقَلُّ الاَقَلِّيْنَ، وَأَذَلُّ الاَذَلِّينَ، وَمِثْلُ الذَّرَّةِ أَوْ دُونَهَا. فَيَا مَنْ لَمْ يَعَاجِلِ الْمُسِيئِينَ، وَلاَ يَنْدَهُ الْمُتْرَفِينَ، وَيَا مَنْ يَمُنُّ بِإقَالَةِ الْعَاثِرِينَ، وَيَتَفَضَّلُ بإنْظَارِ الْخَاطِئِينَ، أَنَا الْمُسِيءُ الْمُعْتَرِفُ الْخَاطِئُ الْعَاثِرُ، أَنَا الَّذِيْ أَقْدَمَ عَلَيْكَ مُجْتَرِئاً، أَنَا الَّذِي عَصَاكَ مُتَعَمِّداً، أَنَا الَّذِي اسْتَخْفى مِنْ عِبَادِكَ وَبَارَزَكَ، أَنَا الَّذِي هَابَ عِبَادَكَ وَأَمِنَكَ أَنَا الَّذِي لَمْ يَرْهَبْ سَطْوَتَكَ وَلَمْ يَخَفْ بَأْسَكَ أَنَا الْجَانِي عَلَى نَفْسِهِ، أَنَا الْمُرْتَهَنُ بِبَلِيَّتِهِ، الْقَلِيلُ الْحَيَاءِ، أَنَا الطَّوِيلُ الْعَنآءِ، بِحَقِّ مَنِ انْتَجَبْتَ مِنْ خَلْقِكَ، وَبِمَنِ اصْطَفَيْتَهُ لِنَفْسِكَ، بِحَقِّ مَنِ اخْتَرْتَ مِنْ بَريَّتِكَ، وَمَنِ اجْتَبَيْتَ لِشَأْنِكَ، بِحَقِّ مَنْ وَصَلْتَ طَاعَتَهُ بِطَاعَتِكَ، وَمَنْ جَعَلْتَ مَعْصِيَتَهُ كَمَعْصِيَتِكَ بِحَقِّ مَنْ قَرَنْتَ مُوَالاَتَهُ بِمُوالاتِكَ، وَمَنْ نُطْتَ مُعَادَاتَهُ بِمُعَادَاتِكَ. تَغَمَّدْنِي فِي يَوْمِيَ هَذَا بِمَا تَتَغَمَّدُ بِهِ مَنْ جَارَ إلَيْكَ مُتَنَصِّلاً، وَعَاذَ بِاسْتِغْفَارِكَ تَائِباً، وَتَوَلَّنِي بِمَا تَتَوَلَّى بِهِ أَهْلَ طَاعَتِكَ، وَالزُّلْفَى لَدَيْكَ، وَالْمَكَانَةِ مِنْكَ، وَتَوَحَّدْنِي بِمَا تَتَوَحَّدُ بِهِ مَنْ وَفى بِعَهْدِكَ، وَأَتْعَبَ نَفْسَهُ فِيْ ذَاتِكَ، وَأَجْهَدَهَا فِي مَرْضَاتِكَ، وَلاَ تُؤَاخِذْنِي بِتَفْرِيطِيْ فِي جَنْبِكَ، وَتَعَدِّي طَوْرِيْ فِي حُدودِكَ، وَمُجَاوَزَةِ أَحْكَامِكَ. وَلاَ تَسْتَدْرِجْنِي بِإمْلائِكَ لِي اسْتِدْرَاجَ مَنْ مَنَعَنِي خَيْرَ مَا عِنْدَهُ، وَلَمْ يَشْرَكْكَ فِي حُلُولِ نِعْمَتِهِ بِي، وَنَبِّهْنِي مِنْ رَقْدَةِ الْغَافِلِينَ، وَسِنَةِ الْمُسْرِفِينَ، وَنَعْسَةِ الْمَخْذُولِينَ. وَخُذْ بِقَلْبِي إلَى مَا اسْتَعْمَلْتَ بِهِ القَانِتِيْنَ، وَاسْتَعْبَدْتَ بِهِ الْمُتَعَبِّدِينَ، وَاسْتَنْقَذْتَ بِهِ الْمُتَهَاوِنِينَ، وَأَعِذْنِي مِمَّا يُبَاعِدُنِي عَنْكَ، وَيَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ حَظِّي مِنْكَ، وَيَصُدُّنِي عَمَّا أُحَاوِلُ لَدَيْكَ. وَسَهِّلْ لِي مَسْلَكَ الْخَيْرَاتِ إلَيْكَ، وَالْمُسَابَقَةِ إلَيْهَا مِنْ حَيْثُ أَمَرْتَ، وَالْمُشَاحَّةَ فِيهَا عَلَى مَا أَرَدْتَ. وَلاَ تَمْحَقْنِي فِيمَنْ تَمْحَقُ مِنَ الْمُسْتَخِفِّينَ بِمَا أَوْعَدْتَ، وَلاَ تُهْلِكْنِي مَعَ مَنْ تُهْلِكُ مِنَ الْمُتَعَرِّضِينَ لِمَقْتِكَ، وَلاَ تُتَبِّرْني فِيمَنْ تُتَبِّرُ مِنَ الْمُنْحَرِفِينَ عَنْ سُبُلِكَ. وَنَجِّنِيْ مِنْ غَمَرَاتِ الْفِتْنَةِ، وَخَلِّصْنِي مِنْ لَهَوَاتِ الْبَلْوى، وَأَجِرْنِي مِنْ أَخْذِ الاِمْلاءِ، وَحُلْ بَيْنِي وَبَيْنَ عَدُوٍّ يُضِلُّنِي، وَهَوىً يُوبِقُنِي، وَمَنْقَصَة تَرْهَقُنِي. وَلاَ تُعْرِضْ عَنِّي إعْرَاضَ مَنْ لاَ تَرْضَى عَنْهُ بَعْدَ غَضَبِكَ، وَلاَ تُؤْيِسْنِي مِنَ الامَلِ فِيكَ، فَيَغْلِبَ عَلَيَّ الْقُنُوطُ مِنْ رَحْمَتِكَ، وَلاَ تَمْنَحْنِي بِمَا لاَ طَاقَةَ لِيْ بِهِ، فَتَبْهَظَنِي مِمَّا تُحَمِّلُنِيهِ مِنْ فَضْلِ مَحَبَّتِكَ، وَلاَ تُرْسِلْنِي مِنْ يَدِكَ إرْسَالَ مَنْ لاَ خَيْرَ فِيهِ، وَلاَ حَاجَةَ بِكَ إلَيْهِ، وَلاَ إنابَةَ لَهُ، وَلاَ تَرْمِ بِيَ رَمْيَ مَنْ سَقَطَ مِنْ عَيْنِ رِعَايَتِكَ، وَمَنِ اشْتَمَلَ عَلَيْهِ الْخِزْيُ مِنْ عِنْدِكَ، بَلْ خُذْ بِيَدِيْ مِنْ سَقْطَةِ الْمُتَرَدِّدِينَ، وَوَهْلَةِ الْمُتَعَسِّفِيْنَ، وَزَلّةِ الْمَغْرُورِينَ، وَوَرْطَةِ الْهَالِكِينَ. وَعَافِنِي مِمَّا ابْتَلَيْتَ بِهِ طَبَقَاتِ عَبِيدِكَ وَإمآئِكَ، وَبَلِّغْنِي مَبَالِغَ مَنْ عُنِيتَ بِهِ، وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ، وَرَضِيتَ عَنْهُ، فَأَعَشْتَهُ حَمِيداً، وَتَوَفَّيْتَهُ سَعِيداً، وَطَوِّقْنِي طَوْقَ الاِقْلاَعِ عَمَّا يُحْبِطُ الْحَسَنَاتِ، وَيَذْهَبُ بِالْبَرَكَاتِ، وَأَشْعِرْ قَلْبِيَ الازْدِجَارَ عَنْ قَبَائِحِ السَّيِّئاتِ، وَفَوَاضِحِ الْحَوْبَاتِ، وَلاَ تَشْغَلْنِي بِمَا لاَ أُدْرِكُهُ إلاَّ بِكَ عَمَّا لا يُرْضِيْكَ عَنِّي غَيْرُهُ، وَانْزَعْ مِنْ قَلْبِي حُبَّ دُنْيَا دَنِيَّة تَنْهى عَمَّا عِنْدَكَ، وَتَصُدُّ عَنِ ابْتِغَآءِ الْوَسِيلَةِ إلَيْكَ، وَتُذْهِلُ عَنِ التَّقَرُبِ مِنْكَ، وَزَيِّنَ لِيَ التَّفَرُّدَ بِمُنَاجَاتِكَ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَهَبْ لِي عِصْمَةً تُدْنِينِي مِنْ خَشْيَتِكَ، وَتَقْطَعُنِي عَنْ رُكُوبِ مَحَارِمكَ، وَتَفُكُّنِي مِنْ أَسْرِ الْعَظَائِمِ، وَهَبْ لِي التَّطْهِيرَ مِنْ دَنَسِ الْعِصْيَانِ، وَأَذْهِبْ عَنِّي دَرَنَ الْخَطَايَا، وَسَرْبِلْنِي بِسِرْبالِ عَافِيَتِكَ، وَرَدِّنِي رِدَآءَ مُعَافاتِكَ، وَجَلِّلْنِي سَوابِغَ نَعْمَائِكَ، وَظَاهِرْ لَدَيَّ فَضْلَكَ وَطَوْلَكَ، وَأَيْدْنِي بِتَوْفِيقِكَ وَتَسْدِيْدِكَ، وَأَعِنِّي عَلَى صالِحِ النِّيَّةِ وَمَرْضِيِّ الْقَوْلِ وَمُسْتَحْسَنِ الْعَمَلِ. وَلاَ تَكِلْنِي إلَى حَوْلِي وَقُوَّتِي دُونَ حَوْلِكَ وَقُوَّتِكَ، وَلاَ تَخْزِنِي يَوْمَ تَبْعَثُنِي لِلِقائِكَ، وَلاَ تَفْضَحْنِي بَيْنَ يَدَيْ أَوْلِياِئكَ، وَلاَ تُنْسِنِي ذِكْرَكَ، وَلاَ تُذْهِبْ عَنِّي شُكْرَكَ، بَلْ أَلْزِمْنِيهِ فِي أَحْوَالِ السَّهْوِ عِنْدَ غَفَلاَتِ الْجَاهِلِينَ لاِلائِكَ، وَأَوْزِعْنِي أَنْ أُثْنِيَ بِمَا أَوْلَيْتَنِيهِ، وَأَعْتَرِفِ بِمَا أَسْدَيْتَهُ إلَيَّ، وَاجْعَلْ رَغْبَتِي إلَيْكَ فَوْقَ رَغْبَةِ الْرَّاغِبِينَ، وَحَمْدِي إيَّاكَ فَوْقَ حَمْدِ الْحَامِدِيْنَ، وَلاَ تَخْذُلْنِي عِنْدَ فاقَتِي إلَيْكَ، وَلاَ تُهْلِكْنِي بِمَا أَسْدَيْتُهُ إلَيْكَ، وَلاَ تَجْبَهْنِي بِمَا جَبَهْتَ بِهِ لْمَعَانِدِينَ لَكَ، فَإنِّي لَكَ مُسَلِّمٌ، أَعْلَمُ أَنَّ الْحُجَّةَ لَكَ، وَأَنَّكَ أَوْلَى بِالْفَضْلِ، وَأَعْوَدُ بِالاحْسَانِ، وَأَهْلُ التَّقْوَى، وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ، وَأَنَّكَ بِأَنْ تَعْفُوَ أَوْلَى مِنْكَ بِأَنْ تُعَاقِبَ، وَأَنَّكَ بِأَنْ تَسْتُرَ أَقْرَبُ مِنْكَ إلَى أنْ تَشْهَرَ، فَأَحْيِنِي حَياةً طَيِّبَةً تَنْتَظِمُ بِما أُرِيدُ وَتَبْلُغُ مَا أُحِبُّ مِنْ حَيْثُ لاَ آتِي مَا تَكْرَهُ وَلاَ أَرْتَكِبُ مَا نَهَيْتَ عَنْهُ، وَأَمِتْنِي مِيْتَةَ مَنْ يَسْعَى نُورُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَعَنْ يِمِيِنهِ، وَذَلِّلْنِي بَيْنَ يَدَيْكَ، وَأَعِزَّنِيْ عِنْدَ خَلْقِكَ، وَضَعْنِي إذَا خَلَوْتُ بِكَ، وَارْفَعْنِي بَيْنَ عِبادِكَ، وَأَغْنِنِي عَمَّنْ هُوَ غَنِيٌّ عَنِّي، وَزِدْنِي إلَيْكَ فَاقَةً وَفَقْراً، وَأَعِذْنِي مِنْ شَمَاتَةِ الاَعْدَاءِ، وَمِنْ حُلُولِ الْبَلاءِ، وَمِنَ الذُّلِّ وَالْعَنَآءِ، تَغَمَّدني فِيمَا اطَّلَعْتَ عَلَيْهِ مِنِّي بِمَا يَتَغَمَّدُ بِهِ الْقَادِرُ عَلَى الْبَطْشِ لَوْلاَ حِلْمُهُ، وَالاخِذُ عَلَى الْجَرِيرَةِ لَوْلاَ أَناتُهُ، وَإذَا أَرَدْتَ بِقَوْم فِتْنَةً أَوْ سُوءً فَنَجِّنِي مِنْهَا لِواذاً بِكَ، وَإذْ لَمْ تُقِمْنِي مَقَامَ فَضِيحَة فِي دُنْيَاكَ فَلاَ تُقِمْنِي مِثْلَهُ فِيْ آخِرَتِكَ، وَاشْفَعْ لِي أَوَائِلَ مِنَنِكَ بِأَوَاخِرِهَا، وَقَدِيمَ فَوَائِدِكَ بِحَوَادِثِهَا. وَلاَ تَمْدُدْ لِيَ مَدّاً يَقْسُو مَعَهُ قَلْبِي، وَلاَ تَقْرَعْنِي قَارِعَةً يَذْهَبُ لَها بَهَآئِي، وَلاَ تَسُمْنِي خَسِيْسَةً يَصْغُرُ لَهَا قَدْرِي، وَلاَ نَقِيصَةً يُجْهَلُ مِنْ أَجْلِهَا مَكَانِي، وَلاَ تَرُعْنِي رَوْعَةً أُبْلِسُ بِها، وَلاَ خِيْفةً أوجِسُ دُونَهَا. اجْعَلْ هَيْبَتِي في وَعِيدِكَ، وَحَذَرِي مِنْ إعْذارِكَ وَإنْذَارِكَ، وَرَهْبَتِي عِنْدَ تِلاَوَةِ آياتِكَ، وَاعْمُرْ لَيْلِي بِإيقَاظِي فِيهِ لِعِبَادَتِكَ، وَتَفَرُّدِي بِالتَّهَجُّدِ لَكَ، وَتَجَرُّدِي بِسُكُونِي إلَيْكَ، وَإنْزَالِ حَوَائِجِي بِكَ، وَمُنَازَلَتِي إيَّاكَ فِي فَكَاكِ رَقَبَتِي مِنْ نَارِكَ، وَإجَارَتِي مِمَّا فِيهِ أَهْلُهَا مِنْ عَذَابِكَ. وَلاَ تَذَرْنِي فِي طُغْيَانِي عَامِهاً، وَلاَ فِي غَمْرَتِي سَاهِياً حَتَّى حِين، وَلاَ تَجْعَلْنِي عِظَةً لِمَنِ اتَّعَظَ، وَلاَ نَكَالاً لِمَنِ اعْتَبَرَ، وَلاَ فِتْنَةً لِمَن نَظَرَ، وَلاَ تَمْكُرْ بِيَ فِيمَنْ تَمْكُرُ بِهِ، وَلاَ تَسْتَبْدِلْ بِيَ غَيْرِي، وَلاَ تُغَيِّرْ لِيْ إسْماً، وَلاَ تُبدِّلْ لِي جِسْماً، وَلاَ تَتَّخِذْنِي هُزُوَاً لِخَلْقِكَ، وَلاَ سُخْرِيّاً لَكَ، وَلاَ تَبَعاً إلاَّ لِمَرْضَاتِكَ، وَلاَ مُمْتَهَناً إلاَّ بِالانْتِقَامِ لَكَ، وَأَوْجِدْنِي بَرْدَ عَفْوِكَ، و حَلاَوَةَ رَحْمَتِكَ وَرَوْحِكَ وَرَيْحَانِكَ وَجَنَّةِ نَعِيْمِكَ، وَأَذِقْنِي طَعْمَ الْفَرَاغِ لِمَا تُحِبُّ بِسَعَة مِنْ سَعَتِكَ، وَالاجْتِهَادِ فِيمَا يُزْلِفُ لَدَيْكَ وَعِنْدَك، وَأَتْحِفْنِي بِتُحْفَة مِنْ تُحَفَاتِكَ، وَاجْعَلْ تِجَارَتِي رَابِحَةً، وَكَرَّتِي غَيْرَ خَاسِرَة، وَأَخِفْنِي مَقَامَكَ، وَشَوِّقْنِي لِقاءَكَ، وَتُبْ عَلَيَّ تَوْبَةً نَصُوحاً لاَ تُبْقِ مَعَهَا ذُنُوباً صِغِيرَةً وَلا كَبِيرَةً، وَلاَ تَذَرْ مَعَهَا عَلاَنِيَةً وَلاَ سَرِيرَةً، وَانْزَعِ الْغِلَّ مِنْ صَدْرِي لِلْمُؤْمِنِينَ، وَاعْطِفْ بِقَلْبِي عَلَى الْخَاشِعِيْنَ، وَكُنْ لِي كَمَا تَكُونُ لِلصَّالِحِينَ، وَحَلِّنِي حِلْيَةَ الْمُتَّقِينَ، وَاجْعَلْ لِيَ لِسَانَ صِدْق فِي الْغَابِرِيْنَ، وَذِكْراً نامِياً فِي الاخِرِينَ، وَوَافِ بِيَ عَرْصَةَ الاَوَّلِينَ، وَتَمِّمْ سُبُوغَ نِعْمَتِكَ عَلَيَّ، وَظَاهِرْ كَرَامَاتِهَا لَدَيَّ، و امْلاْ مِنْ فَوَائِدِكَ يَدَيَّ، وَسُقْ كَرَائِمَ مَوَاهِبِكَ إلَيَّ، وَجَاوِرْ بِيَ الاَطْيَبِينَ مِنْ أَوْلِيَآئِكَ فِي الْجِنَاْنِ الَّتِي زَيَّنْتَهَا لِاَصْفِيآئِكَ، وَجَلِّلْنِي شَرَآئِفَ نِحَلِكَ فِي الْمَقَامَاتِ الْمُعَدَّةِ لِاَحِبَّائِكَ، وَاجْعَلْ لِيَ عِنْدَكَ مَقِيْلاً آوِي إلَيْهِ مُطْمَئِنّاً، وَمَثابَةً أَتَبَوَّأُهَا وَأَقَرُّ عَيْناً. وَلاَ تُقَايِسْنِي بِعَظِيمَاتِ الْجَرَائِرِ، وَلاَ تُهْلِكْنِي يَوْمَ تُبْلَى السَّرَائِرُ، وَأَزِلْ عَنِّي كُلَّ شَكٍّ وَشُبْهَة، وَاجْعَلْ لِي فِي الْحَقِّ طَرِيقاً مِنْ كُلِّ رَحْمَة، وأَجْزِلْ لِي قِسَمَ الْمَواهِبِ مِنْ نَوَالِكَ، وَوَفِّرْ عَلَيَّ حُظُوظَ الاِحْسَانِ مِنْ إفْضَالِكَ، وَاجْعَلْ قَلْبِي وَاثِقاً بِمَا عِنْدَكَ، وَهَمِّيَ مُسْتَفْرَغاً لِمَا هُوَ لَكَ، وَاسْتَعْمِلْنِي بِما تَسْتَعْمِلُ بِهِ خَالِصَتَكَ، وَأَشْرِبْ قَلْبِي عِنْدَ ذُهُولِ العُقُولِ طَاعَتَكَ، وَاجْمَعْ لِي الْغِنى، وَالْعَفَافَ، وَالدَّعَةَ، وَالْمُعَافَاةَ، وَالصِّحَّةَ، وَالسَّعَةَ، وَالطُّمَأْنِيْنَةَ، وَالْعَافِيَةَ، وَلاَ تُحْبِطْ حَسَنَاتِي بِمَا يَشُوبُهَا مِنْ مَعْصِيَتِكَ، وَلاَ خَلَواتِي بِمَا يَعْرِضُ لِيَ مِنْ نَزَغَاتِ فِتْنَتِكَ، وَصُنْ وَجْهِي عَنِ الطَّلَبِ إلَى أَحَد مِنَ الْعَالَمِينَ، وَذُبَّنِي عَنِ التِماسِ مَا عِنْدَ الفَاسِقِينَ، وَلاَ تَجْعَلْنِي لِلظَّالِمِينَ ظَهِيراً، وَلاَ لَهُمْ عَلى مَحْوِ كِتَابِكَ يَداً وَنَصِيراً، وَحُطْنِي مِنْ حَيْثُ لاَ أَعْلَمُ حِيَاطَةً تَقِيْنِي بِهَا، وَافْتَحْ لِيَ أَبْوَابَ تَوْبَتِكَ وَرَحْمَتِكَ وَرَأْفَتِكَ وَرِزْقِكَ الواسِعِ، إنِّي إلَيْكَ مِنَ الرَّاغِبِينَ، وَأَتْمِمْ لِي إنْعَامَكَ، إنَّكَ خَيْرُ الْمُنْعِمِيْنَ، وَاجْعَلْ باقِيَ عُمْرِيْ فِي الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ابْتِغَآءَ وَجْهِكَ يَاربَّ الْعَالَمِينَ، وَصَلَّى اللهُ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ الطَّيِّبِينَ الطَّاهِرِينَ، وَالسَّلاَمُ عَلَيْهِ وَعَلَيْهِمْ أَبَدَ الابِدِينَ.

    دُعائے روزِ عرفہ: سب تعریف اس اللہ کیلئے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، بارالٰہا! تیرے ہی لئے تمام تعریفیں ہیں، اے آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے، اے بزرگی و اعزاز والے، اے پالنے والوں کے پالنے والے، اے ہر پرستار کے معبود، اے ہر مخلوق کے خالق، اور ہر چیز کے مالک و وارث، اس کے مثل کوئی چیز نہیں ہے، اور نہ کوئی چیز اس کے علم سے پوشیدہ ہے، وہ ہر چیز پر حاوی اور ہر شے پر نگران ہے۔ تو ہی وہ اللہ ہے کہ تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں، جو ایک اکیلا اور یکتا و یگانہ ہے۔ اور تو ہی وہ اللہ ہے کہ تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں جو بخشنے والا اور انتہائی بخشنے والا، عظمت والا اور انتہائی عظمت والا اور بڑا اور انتہائی بڑا ہے۔ اور تو ہی وہ اللہ ہے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں جو بلند و برتر اور بڑی قوت و تدبیر والا ہے۔ اور تو ہی وہ اللہ ہے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں جو فیض رساں، مہربان اور علم و حکمت والا ہے۔ اور تو ہی وہ معبود ہے کہ تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں، جو سننے والا، دیکھنے والا، قدیم و ازلی اور ہر چیز سے آگاہ ہے۔ اور تو ہی وہ معبود ہے کہ تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں، جو کریم اور سب سے بڑھ کر کریم، اور دائم و جاوید ہے۔ اور تو ہی وہ معبود ہے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، جو ہر شے سے پہلے، اور ہر شمار میں آنے والی شے کے بعد ہے۔ اور تو ہی وہ معبود ہے کہ تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں جو (کائنات کے دسترس سے) بالا ہونے کے باوجود نزدیک اور نزدیک ہونے کے باوجود (فہم و ادراک سے) بلند ہے۔ اور تو ہی وہ معبود ہے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں جو جمال و بزرگی اور عظمت و ستائش والا ہے۔ اور تو ہی وہ اللہ ہے کہ تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں، جس نے بغیر مواد کے تمام چیزوں کو پیدا کیا، اور بغیر کسی نمونہ و مثال کے صورتوں کی نقش آرائی کی، اور بغیر کسی کی پیروی کئے موجودات کو خلعت وجود بخشا۔ تو ہی وہ ہے جس نے ہر چیز کا ایک اندازہ ٹھہرایا ہے، اور ہر چیز کو اس کے وظائف کی انجام دہی پر آمادہ کیا ہے، اور کائنات عالم میں سے ہر چیز کی تدبیر و کارسازی کی ہے۔ تو وہ ہے کہ آفرینش عالم میں کسی شریک کار نے تیرا ہاتھ نہیں بٹایا، اور نہ کسی معاون نے تیرے کام میں تجھے مدد دی ہے، اور نہ کوئی تیرا دیکھنے والا، اور نہ کوئی تیرا مثل و نظیر تھا۔ اور تو نے جو ارادہ کیا وہ حتمی و لازمی، اور جو فیصلہ کیا وہ عدل کے تقاضوں سے عین مطابق، اور جو حکم دیا وہ انصاف پر مبنی تھا۔ تو وہ ہے جسے کوئی جگہ گھیرے ہوئے نہیں ہے، اور نہ تیرے اقتدار کا کوئی اقتدار مقابلہ کر سکتا ہے، اور نہ تو دلیل و برہان اور کسی چیز کو واضح طور پر پیش کرنے سے عاجز ہے۔ تو وہ ہے جس نے ایک ایک چیز کو شمار کر رکھا ہے، اور ہر چیز کی ایک مدت مقرر کر دی ہے، اور ہر شے کا ایک اندازہ ٹھہرا دیا ہے۔ تو وہ ہے کہ تیری کنہ ذات کو سمجھنے سے واہمے قاصر، اور تیری کیفیت کو جاننے سے عقلیں عاجز ہیں، اور تیری کوئی جگہ نہیں ہے کہ آنکھیں اس کا کھوج لگا سکتیں۔ تو وہ ہے کہ تیری کوئی حد و نہایت نہیں ہے کہ تو محدود قرار پائے، اور نہ تیرا تصور کیا جا سکتا ہے کہ تو تصور کی ہوئی صورت کے ساتھ ذہن میں موجود ہو سکے، اور نہ تیرے کوئی اولاد ہے کہ تیرے متعلق کسی کی اولاد ہونے کا احتمال ہو۔ تو وہ ہے کہ تیرا کوئی مد مقابل نہیں ہے کہ تجھ سے ٹکرائے، اور نہ تیرا کوئی ہمسر ہے کہ تجھ پر غالب آئے، اور نہ تیرا کوئی مثل و نظیر ہے کہ تجھ سے برابری کرے۔ تو وہ ہے جس نے خلق کائنات کی ابتدا کی، عالم کو ایجاد کیا اور اس کی بنیاد قائم کی، اور بغیر کسی مادہ و اصل کے اسے وجود میں لایا، اور جو بنایا اسے اپنی حسن صنعت کا نمونہ بنایا۔ تو ہر عیب سے منزہ ہے! تیری شان کس قدر بزرگ، اور تمام جگہوں میں تیرا پایہ کتنا بلند، اور تیری حق و باطل میں امتیاز کرنے والی کتاب کس قدر حق کو آشکارا کرنے والی ہے۔ تو منزہ ہے! اے صاحب لطف و احسان! تو کس قدر لطف فرمانے والا ہے، اے مہربان! تو کس قدر مہربانی کرنے والا ہے، اے حکمت والے! تو کتنا جاننے والا ہے۔ پاک ہے تیری ذات! اے صاحب اقتدار! تو کس قدر قوی و توانا ہے، اے کریم! تیرا دامن کرم کتنا وسیع ہے، اے بلند مرتبہ تیرا مرتبہ کتنا بلند ہے، تو حسن و خوبی، شرف و بزرگی، عظمت و کبریائی اور حمد و ستائش کا مالک ہے۔ پاک ہے تیری ذات! تو نے بھلائیوں کیلئے اپنا ہاتھ بڑھایا ہے، تجھ ہی سے ہدایت کا عرفان حاصل ہوا ہے، لہٰذا جو تجھے دین یا دنیا کیلئے طلب کرے تجھے پا لے گا۔ تو منزہ و پاک ہے! جو بھی تیرے علم میں ہے وہ تیرے سامنے سرنگوں، اور جو کچھ عرش کے نیچے ہے وہ تیری عظمت کے آگے سر بہ خم، اور جملہ مخلوقات تیری اطاعت کا جوا اپنی گردن میں ڈالے ہوئے ہے۔ پاک ہے تیری ذات! کہ نہ حواس سے تجھے جانا جا سکتا ہے، نہ تجھے ٹٹولا اور چھوا جا سکتا ہے، نہ تجھ پر کسی کا حیلہ چل سکتا ہے، نہ تجھے دور کیا جا سکتا ہے، نہ تجھ سے نزاع ہو سکتی ہے، نہ مقابلہ، نہ تجھ سے جھگڑا کیا جا سکتا ہے اور نہ تجھے دھوکا اور فریب دیا جا سکتا ہے۔ پاک ہے تیری ذات! تیرا راستہ سیدھا اور ہموار، تیرا فرمان سراسر حق و صواب، اور تو زندہ و بے نیاز ہے۔ پاک ہے تو! تیری گفتار حکمت آمیز، تیرا فیصلہ قطعی اور تیرا ارادہ حتمی ہے۔ پاک ہے تو! نہ تو کوئی تیری مشیت کو رد کر سکتا ہے، اور نہ کوئی تیری باتوں کو بدل سکتا ہے۔ پاک ہے تو! اے درخشندہ نشانیوں والے! اے آسمانوں کے خلق فرمانے والے! اور ذی روح چیزوں کے پیدا کرنے والے!۔ تیرے ہی لئے تمام تعریفیں ہیں، ایسی تعریفیں جن کی ہمیشگی تیری ہمیشگی سے سے وابستہ ہے، اور تیرے ہی لئے ستائش ہے، ایسی ستائش جو تیری نعمتوں کے ساتھ ہمیشہ باقی رہے اور تیرے ہی لئے حمد و ثنا ہے، ایسی جو تیرے کرم و احسان کے برابر ہو، اور تیرے ہی لئے حمد ہے، ایسی جو تیری رضا مندی سے بڑھ جائے، اور تیرے ہی لئے حمد و سپاس ہے، ایسی جو ہر حمد گزار کی حمد پر مشتمل ہو، اور جس کے مقابلہ میں ہر شکر گزار کا شکر پیچھے رہ جائے۔ ایسی حمد جو تیرے علاوہ کسی کیلئے سزا وار نہ ہو، اور نہ تیرے سوا کسی کے تقرب کا وسیلہ بنے۔ ایسی حمد جو پہلی حمد کے دوام کا سبب قرار پائے اور اس کے ذریعہ آخری حمد کے دوام کی التجا کی جائے۔ ایسی حمد جو زمانہ کی گردشوں کے ساتھ بڑھتی جائے اور پے در پے اضافوں سے زیادہ ہوتی رہے۔ ایسی حمد کہ نگبہانی کرنے والے فرشتے اس کے شمار سے عاجز آ جائیں، ایسی حمد کہ جو کاتبان اعمال نے تیری کتاب میں لکھ دیا ہے اس سے بڑھ جائے۔ ایسی حمد جو تیرے عرش بزرگ کے ہم وزن اور تیری بلند پایہ کرسی کے برابر ہو۔ ایسی حمد جس کا اجر و ثواب تیری طرف سے کامل اور جس کی جزا تمام جزاؤں کو شامل ہو۔ ایسی حمد جس کا ظاہر باطن سے ہمنوا اور باطن صدق نیت سے ہم آہنگ ہو۔ ایسی حمد کہ کسی مخلوق نے ویسی تیری حمد نہ کی ہو، اور تیرے سوا کوئی اس کی فضیلت و برتری سے آشنانہ ہو۔ ایسی حمد کہ جو اسے بکثرت بجالانے کیلئے کوشاں ہو اسے (تیری طرف سے) مدد حاصل ہو، اور جو اسے انجام تک پہنچانے کیلئے سعی بلیغ کرے اسے توفیق و تائید نصیب ہو۔ ایسی حمد جو تمام اقسام حمد کی جامع ہو جنہیں تو موجود کر چکا ہے، اور ان اقسام کو بھی شامل ہو جنہیں تو بعد میں موجود کرے گا۔ ایسی حمد کہ اس سے بڑھ کر کوئی حمد تیری مراد سے قریب تر نہ ہو، اور جو شخص اس طرح کی حمد کرے اس سے بڑھ کر کوئی حمد گزار نہ ہو۔ ایسی حمد جو تیرے فضل و کرم سے اپنی فراوانی کے باعث افزائش نعمت کا سبب ہو، اور تو اپنے لطف و احسان سے اس کے ساتھ پیہم اضافہ کا سلسلہ قائم رکھے۔ ایسی حمد جو تیری بزرگی ذات کے شایاں اور تیرے شرف جلال کے ہمدوش ہو۔ پرودگارا! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر سب رحمتوں سے افضل و برتر رحمت نازل فرما، وہ محمدﷺ جو برگزیدہ، معزز و گرامی اور مقرب ہیں، اور ان پر اپنی کامل ترین برکتوں کا اضافہ فرما اور اپنی نفع رساں رحمتوں کے ساتھ ان پر رحم و کرم فرما۔ پروردگارا! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت فراواں نازل کر جس سے فراوانی میں کوئی رحمت نہ بڑھ سکے، اور ان پر ایسی بڑھنے والی رحمت نازل فرما جس سے زیادہ کوئی رحمت بڑھنے والی نہ ہو، اور ان پر ایسی پسندیدہ رحمت نازل فرما جس سے بالاتر کوئی رحمت نہ ہو۔ پروردگارا! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر ایسی رحمت نازل فرما جو انہیں خوش و خوشنود کرے، اور ان کی خوشنودی سے بڑھ جائے، اور ان پر ایسی رحمت نازل فرما کہ تو ان کیلئے اس کے سوا کسی رحمت کو پسند نہ کرے، اور نہ ان کے علاوہ کسی کو اس رحمت کا سزاوار سمجھے۔ پروردگارا! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر ایسی رحمت نازل فرما کہ تیری جانب سے جس رضا مندی کے وہ مستحق ہیں اس سے بڑھ جائے، اور اس کا پیوند تیرے بقا و دوام سے جڑا رہے، اور اس کا سلسلہ کہیں ختم نہ ہو جس طرح تیرے کلمے ختم نہ ہوں گے۔ پروردگارا! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر ایسی رحمت نازل فرما جو تیرے فرشتوں، نبیوں، رسولوں اور اطاعت کرنے والوں کے درود و رحمت کو شامل ہو، اور تیرے بندوں میں سے جنوں، انسانوں اور تیری دعوت کو قبول کرنے والوں کے درود و سلام پر مشتمل ہو، اور تیری ہر قسم کی مخلوقات کہ جنہیں تو نے خلق کیا اور عالم وجود میں لایا سب کی رحمتوں پر حاوی ہو۔ پروردگارا! آنحضرتﷺ پر اور ان کی آلؑ پر ایسی رحمت نازل فرما جو گزشتہ و آیندہ سب رحمتوں کو محیط ہو، ان پر اور ان کی آل پر ایسی رحمت نازل فرما جو تیرے نزدیک اور تیرے علاوہ دوسروں کے نزدیک پسندیدہ ہو، اور ان رحمتوں کے ساتھ ایسی رحمتیں بھیجتا رہے کہ ان کے بھیجنے کے وقت تو پہلی رحمتوں کو دگنا کر دے، اور انہیں زمانہ کے گزرنے کے ساتھ ساتھ دو چند کر کے اتنا بڑھاتا جائے کہ جنہیں تیرے علاوہ کوئی شمار نہ کر سکے۔ پروردگارا! ان کے اہل بیت اطہار علیہم السلام پر رحمت نازل فرما جنہیں تو نے امر (دین و شریعت) کیلئے منتخب فرمایا، اپنے علم کا خزینہ دار اور اپنے دین کا محافظ اور زمین میں اپنا خلیفہ و جانشین اور بندوں پر اپنی حجت بنایا، اور جنہیں اپنے ارادہ (ازلی) سے ہر قسم کی نجاست و آلودگی سے پاک و صاف رکھا، اور جنہیں اپنے تک پہنچنے کا وسیلہ، اور جنت تک آنے کا راستہ قرار دیا ہے۔ پروردگارا! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر ایسی رحمت نازل فرما جس کے ذریعے تو ان کیلئے اپنی بخشش و کرامت کو فراواں، اور ان کیلئے عطایا و انعامات کامل کرے، اور اپنے تحائف و منافع میں سے انہیں وافر حصہ بخشے۔ پروردگارا! ان پر اور ان کے اہل بیت علیہم السلام پر ایسی رحمت نازل فرما کہ نہ اس کی ابتدا کی کوئی مدت، نہ اس مدت کی کوئی انتہا اور نہ اس کا کوئی آخری کنارا ہو۔ پروردگارا! ان پر ایسی رحمت نازل فرما کہ تیرے عرش اور جو کچھ زیر عرش ہے سب کے ہم وزن ہو، اور اس مقدار میں ہو کہ آسمانوں اور جو کچھ آسمانوں کے اوپر ہے سب کو بھر دے، اور زمینوں اور جو کچھ زمینوں کے نیچے اور ان کے اندر ہے ان کے شمار کے برابر ہو، ایسی رحمت جو انہیں تیرے تقرب کی منزل اعلیٰ پر پہنچا دے، اور تیرے لئے اور ان کیلئے سرمایہ خوشنودی ہو، اور اپنے ایسی دوسری رحمتوں سے ہمیشہ متصل رہے۔ بار الٰہا! تو نے ہر زمانہ میں ایک ایسے امام کے ذریعہ اپنے دین کی تائید فرمائی ہے جسے تو نے اپنے بندوں کیلئے نشان راہ قرار دیا، اور شہروں میں منار ہدایت بنا کر قائم کیا، جبکہ تو نے اپنے پیمان اطاعت کو اس کے پیمان اطاعت سے وابستہ کر دیا، جسے اپنی رضا و خوشنودی کا ذریعہ قرار دیا، جس کی اطاعت فرض کر دی، جس کی نافرمانی سے ڈرایا، جس کے احکام کی بجا آوری اور جس کے منع کرنے پر باز رہنے کا حکم دیا، اور یہ کہ کوئی آگے بڑھنے والا اس سے آگے نہ بڑھے، اور کوئی پیچھے رہ جانے والا اس سے پیچھے نہ رہے، وہ پناہ طلب کرنے والوں کیلئے سرو سامان حفاظت، اہل ایمان کیلئے جائے پناہ، وابستگان دامن کیلئے مضبوط سہارا اور تمام جہان کی رونق و زیبائش ہے۔ بار الٰہا! اپنے ولی و پیشوا کے دل میں اس انعام پر جو اسے بخشا ہے ادائے شکر کا الہام فرما، اور اس کے وجود کے باعث ویسا ہی ادائے شکر کا جذبہ ہمارے دل میں پیدا کر، اور اسے اپنی طرف سے ایسا تسلط عطا فرما جس سے ہر طرح کی مدد پہنچے، اور اس کیلئے کامیابی و کامرانی کی راہ بآسانی کھول دے، اور اپنے مضبوط سہارے سے اس کی مدد فرما، اس کی پشت کو مضبوط، اور بازو کو قوی کر، اور اپنی نظر توجہ سے اس کی حفاظت اور اپنی نگہداشت سے اس کی حمایت فرما، اور اپنے فرشتوں کے ذریعہ اس کی مدد اور اپنے غالب آنے والے سپاہ و لشکر سے اس کی کمک فرما، اور اس کے ذریعہ اپنی کتاب اور حدود و احکام اور اپنے رسول (ان پر اے اللہ تیری طرف سے درود و رحمت ہو) کی روشوں کو قائم کر، اور ان کے ذریعہ ظالموں نے دین کے جن نشانات کو مٹا ڈالا ہے ازسر نو زندہ کر دے، اور ظلم و جور کے زنگ کو اپنی شریعت سے دور، اور اپنی راہ کی دشواریوں کو برطرف کر دے، اور جو لوگ تیرے راہ صواب سے رو گردانی کرنے والے ہیں انہیں ختم اور جو تیرے راہ راست میں کجی پیدا کرتے ہیں انہیں نیست و نابود کر دے، اور اسے اپنے دوستوں کیلئے نرم و بردبار قرار دے، اور دشمنوں (پر غلبہ و تسلط) کیلئے اس کے ہاتھوں کو کھول دے، اور ہمیں اس کی طرف سے رأفت و رحمت اور شفقت و مہربانی عطا فرما، اور اس کی بات پر کان دھرنے والا، اور اطاعت کرنے والا، اور اس کی خوشنودی کیلئے کوشاں رہنے والا، اور اس کی نصرت و تائید اور دشمنوں سے دفاع کے سلسلہ میں مدد دینے والا، اور اس وسیلہ سے تجھ سے اور تیرے رسول (اے خدا ان پر تیرا درود و سلام ہو) سے تقرب چاہنے والا قرار دے۔ اے اللہ! ان کے دوستوں پر بھی رحمت نازل فرما جو ان کے مرتبہ و مقام کے معترف، ان کے طریق و مسلک کے تابع، ان کے نقش قدم پر گامزن، ان کے سر رشتہ دین سے وابستہ، ان کی دوستی و ولایت سے متمسک، ان کی امامت کے پیرو، ان کے احکام کے فرمانبردار، ان کی اطاعت میں سر گرم عمل، ان کے زمانہ اقتدار کے منتظر اور ان کیلئے چشم براہ ہیں، ایسی رحمت جو بابرکت، پاکیزہ اور بڑھنے والی اور ہر صبح و شام نازل ہونے والی ہو، اور ان پر اور ان کے ارواح (طیبہ) پر سلامتی نازل فرما، اور ان کے کاموں کو صلاح و تقویٰ کی بنیادوں پر قائم کر، اور ان کے حالات کی اصلاح فرما، اور ان کی توبہ قبول فرما، بیشک تو توبہ قبول کرنے والا، رحم کرنے والا، اور سب سے بہتر بخشنے والا ہے، اور ہمیں اپنی رحمت کے وسیلہ سے ان کے ساتھ دارالسلام (جنت) میں جگہ دے، اے سب رحیموں سے زیادہ رحیم۔ پروردگارا! یہ روز عرفہ وہ دن ہے جسے تو نے شرف، عزت اور عظمت بخشی ہے، جس میں اپنی رحمتیں پھیلا دیں اور اپنے عفو و درگزر سے احسان فرمایا، اپنے عطیوں کو فراواں کیا اور اس کے وسیلہ سے اپنے بندوں پر تفضل فرمایا ہے۔ اے اللہ! میں تیرا وہ بندہ ہوں جس پر تو نے اس کی خلقت سے پہلے اور خلقت کے بعد انعام و احسان فرمایا ہے، اس طرح کہ اسے ان لوگوں میں سے قرار دیا جنہیں تو نے اپنے دین کی ہدایت کی، اپنے ادائے حق کی توفیق بخشی، جن کی اپنی ریسماں کے ذریعہ حفاظت کی، جنہیں اپنی جماعت میں داخل کیا، اور اپنے دوستوں کی دوستی اور دشمنوں کی دشمنی کی ہدایت فرمائی ہے۔ باایں ہمہ تو نے اسے حکم دیا تو اس نے حکم نہ مانا، اور منع کیا تو وہ باز نہ آیا، اور اپنی معصیت سے روکا تو وہ تیرے حکم کے خلاف امر ممنوع کا مرتکب ہوا، یہ تجھ سے عناد اور تیرے مقابلہ میں تکبر کی رو سے نہ تھا، بلکہ خواہش نفس نے اسے ایسے کاموں کی دعوت دی جن سے تو نے روکا اور ڈرایا تھا، اور تیرے دشمن اور اس کے دشمن (شیطان ملعون) نے ان کاموں میں اس کی مدد کی، چنانچہ اس نے تیری دھمکی سے آگاہ ہونے کے باوجود تیرے عفو کی امید کرتے ہوئے اور تیرے درگزر پر بھروسا رکھتے ہوئے گناہ کی طرف اقدام کیا، حالانکہ ان احسانات کی وجہ سے جو تو نے اس پر کئے تھے تمام بندوں میں وہ اس کا سزاوار تھا کہ ایسا نہ کرتا۔ اچھا پھر میں تیرے سامنے کھڑا ہوں بالکل خوار و ذلیل، سراپا عجز و نیاز اور لرزاں و ترساں، ان عظیم گناہوں کا جن کا بوجھ اپنے سراٹھایا ہے، اور ان بڑی خطاؤں کا جن کا ارتکاب کیا ہے، اعتراف کرتا ہوا، تیرے دامن عفو میں پناہ چاہتا ہوا، اور تیری رحمت کا سہارا ڈھونڈتا ہوا، اور یہ یقین رکھتا ہوا کہ کوئی پناہ دینے والا (تیرے عذاب سے) مجھے پناہ نہیں دے سکتا، اور کوئی بچانے والا (تیرے غضب سے) مجھے بچا نہیں سکتا۔ لہٰذا (اس اعتراف گناہ و اظہار ندامت کے بعد) تو میری پردہ پوشی فرما جس طرح گنہگاروں کی پردہ پوشی فرماتا ہے، اور مجھے معافی عطا کر جس طرح ان لوگوں کو معافی عطا کرتا ہے جنہوں نے اپنے آپ کو تیرے حوالے کر دیا ہو، اور مجھ پر اس بخشش و آمرزش کے ساتھ احسان فرما کہ جس بخشش و آمرزش سے تو اپنے امیدوار پر احسان کرتا ہے تو تجھے بڑی نہیں معلوم ہوتی۔ اور میرے لئے آج کے دن ایسا حظ و نصیب قرار دے کہ جس کے ذریعہ تیری رضا مندی کا کچھ حصہ پا سکوں، اور تیرے عبادت گزار بندے جو ( اجر و ثواب کے) تحائف لے کر پلٹے ہیں مجھے ان سے خالی ہاتھ نہ پھیر، اگرچہ وہ نیک اعمال جو انہوں نے آگے بھیجے ہیں میں نے آگے نہیں بھیجے، لیکن میں نے تیری وحدت و یکتائی کا عقیدہ اور یہ کہ تیرا کوئی حریف، شریک کار اور مثل و نظیر نہیں ہے پیش کیا ہے، اور انہی دروازوں سے جن دروازوں سے تو نے آنے کا حکم دیا ہے آیا ہوں، اور ایسی چیز کے ذریعہ جس کے بغیر کوئی تجھ سے تقرب حاصل نہیں کر سکتا تقرب چاہا ہے۔ پھر تیری طرف رجوع و بازگشت، تیری بارگاہ میں تذلل و عاجزی، اور تجھ سے نیک گمان، اور تیری رحمت پر اعتماد کو طلب تقرب کے ہمراہ رکھا ہے، اور اس کے ساتھ ایسی امید کا ضمیمہ بھی لگا دیا ہے جس کے ہوتے ہوئے تجھ سے امید رکھنے والا محروم نہیں رہتا، اور تجھ سے اسی طرح سوال کیا ہے جس طرح کوئی بے قدر، ذلیل ،شکستہ حال، تہی دست، خوف زدہ اور طلبگارِ پناہ سوال کرتا ہے، اور اس حالت کے باوجود میرا یہ سوال خوف، عجز و نیاز مندی، پناہ طلبی اور امان خواہی کی رو سے ہے، نہ متکبروں کے تکبر کے ساتھ برتری جتلاتے، نہ اطاعت گزاروں کے (اپنی عبادت پر) فخر و اعتماد کی بنا پر اتراتے اور نہ سفارش کرنے والوں کی سفارش پر سربلندی دکھاتے ہوئے اور میں اس اعتراف کے ساتھ تمام کمتروں سے کمتر، خوار و ذلیل لوگوں سے ذلیل تر، اور ایک چیونٹی کے مانند بلکہ اس سے بھی پست تر ہوں۔ اے وہ جو گنہگاروں پر عذاب کرنے میں جلدی نہیں کرتا اور نہ سرکشوں کو (اپنی نعمتوں سے) روکتا ہے! اے وہ جو لغزش کرنے والوں سے درگزر فرما کر احسان کرتا ہے اور گنہگاروں کو مہلت دے کر تفضل فرماتا ہے! میں وہ ہوں جو گنہگار گناہ کا معترف، خطاکار اور لغزش کرنے والا ہوں، میں وہ ہوں جس نے تیرے مقابلہ میں جرأت سے کام لیتے ہوئے پیش قدمی کی، میں وہ ہوں جس نے دیدہ دانستہ گناہ کئے، میں وہ ہوں جس نے (اپنے گناہوں کو) تیرے بندوں سے چھپایا اور تیرے سامنے کھلم کھلا مخالفت کی، میں وہ ہوں جو تیرے بندوں سے ڈرتا رہا اور تجھ سے بے خوف رہا، میں وہ ہوں جو تیری ہیبت سے ہراساں اور تیرے عذاب سے خوف زدہ نہ ہوا، میں خود ہی اپنے حق میں مجرم اور بلا و مصیبت کے ہاتھوں میں گروی ہوں، میں ہی شرم و حیا سے عاری اور طویل رنج و تکلیف میں مبتلا ہوں۔ میں تجھے اس کے حق کا واسطہ دیتا ہوں جسے تو نے مخلوقات میں سے منتخب کیا، اس کے حق کا واسطہ دیتا ہوں جسے تو نے اپنے لئے پسند فرمایا، اس کے حق کا واسطہ دیتا ہوں جسے تو نے کائنات میں سے برگزیدہ کیا اور جسے اپنے احکام (کی تبلیغ) کیلئے چن لیا، اس کے حق کا واسطہ دیتا ہوں جس کی اطاعت کو اپنی اطاعت سے ملا دیا اور جس کی نافرمانی کو اپنی نافرمانی کے مانند قرار دیا، اس کے حق کا واسطہ دیتا ہوں جس کی محبت کو اپنی محبت سے مقرون اور جس کی دشمنی کو اپنی دشمنی سے وابستہ کیا ہے۔ مجھے آج کے دن اس دامن رحمت میں ڈھانپ لے جس سے ایسے شخص کو ڈھانپتا ہے جو گناہوں سے دست بردار ہو کر تجھ سے نالہ و فریاد کرے، اور تائب ہو کر تیرے دامنِ مغفرت میں پناہ چاہے، اور جس طرح اپنے اطاعت گزاروں اور قرب و منزلت والوں کی سر پرستی فرماتا ہے اسی طرح میری سرپرستی فرما، اور جس طرح ان لوگوں پر جنہوں نے تیرے عہد کو پورا کیا، تیری خاطر اپنے کو تعب و مشقت میں ڈالا اور تیری رضامندیوں کیلئے سختیوں کو جھیلا، خود تن تنہا احسان کرتا ہے اسی طرح مجھ پر بھی تن تنہا احسان فرما، اور تیرے حق میں کوتاہی کرنے، تیرے حدود سے متجاوز ہونے، اور تیرے احکام کے پس پشت ڈالنے پر میرا مؤاخذہ نہ کر، اور مجھے اس شخص کے مہلت دینے کی طرح مہلت دے کر رفتہ رفتہ اپنے عذاب کا مستحق نہ بنا جس نے اپنی بھلائی کو مجھ سے روک لیا، اور سمجھتا یہ ہے کہ بس وہی نعمت کا دینے والا ہے، یہاں تک کہ تجھے بھی ان نعمتوں کے دینے میں شریک نہ سمجھا ہو۔ مجھے غفلت شعاروں کی نیند، بے راہرؤوں کے خواب اور حرماں نصیبوں کی غفلت سے ہوشیار کر دے، اور میرے دل کو اس راہ عمل پر لگا جس پر تو نے اطاعت گزاروں کو لگایا ہے، اور اس عبادت کی طرف مائل فرما جو عبادت گزاروں سے تو نے چاہی ہے، اور ان چیزوں کی ہدایت کر جن کے وسیلہ سے سہل انگاروں کو رہائی بخشی ہے۔ اور جو باتیں تیری بارگاہ سے دور کر دیں اور میرے اور تیرے ہاں کے حظ و نصیب کے درمیان حائل اور تیرے ہاں کے مقصد و مراد سے مانع ہو جائیں ان سے محفوظ رکھ، اور نیکیوں کی راہ پیمائی اور ان کی طرف سبقت، جس طرح تو نے حکم دیا ہے اور ان کی بڑھ چڑھ کر خواہش جیسا کہ تو نے چاہا ہے، میرے لئے سہل و آسان کر۔ اور اپنے عذاب و وعید کو سبک سمجھنے والوں کے ساتھ کہ جنہیں تو تباہ کرے گا مجھے تباہ نہ کرنا، اور جنہیں دشمنی پر آمادہ ہونے کی وجہ سے ہلاک کرے گا ان کے ساتھ مجھے ہلاک نہ کرنا، اور اپنی سیدھی راہوں سے انحراف کرنے والوں کے زمرہ میں کہ جنہیں تو برباد کرے گا مجھے برباد نہ کرنا، اور فتنہ و فساد کے بھنور سے مجھے نجات دے، اور بلا کے منہ سے چھڑا لے، اور زمانۂ مہلت (کی بداعمالیوں) پر گرفت سے پناہ دے، اور اس دشمن کے درمیان جو مجھے بہکائے، اور اس خواہش نفس کے درمیان جو مجھے تباہ و برباد کرے، اور اس نقص و عیب کے درمیان جو مجھے گھیر لے، حائل ہو جا۔ اور جیسے اس شخص سے کہ جس پر غضب ناک ہونے کے بعد تو راضی نہ ہو رخ پھیر لیتا ہے اسی طرح مجھ سے رخ نہ پھیر، اور جو امیدیں تیرے دامن سے وابستہ کئے ہوئے ہوں ان میں مجھے بے آس نہ کر کہ تیری رحمت سے یاس و ناامیدی مجھ پر غالب آجائے، اور مجھے اتنی نعمتیں بھی نہ بخش کہ جن کے اٹھانے کی میں طاقت نہیں رکھتا کہ تو فراوانی محبت سے مجھ پر وہ بار لاد دے جو مجھے گرانبار کر دے، اور مجھے اس طرح اپنے ہاتھ سے نہ چھوڑ دے جس طرح اسے چھوڑ دیتا ہے جس میں کوئی بھلائی نہ ہو، اور نہ تجھے اس سے کوئی مطلب ہو اور نہ اس کیلئے توبہ و بازگشت ہو اور مجھے اس طرح نہ پھینک دے جس طرح اسے پھینک دیتا ہے جو تیری نظر توجہ سے گر چکا ہو اور تیری طرف سے ذلّت و رسوائی اس پر چھائی ہوئی ہو، بلکہ گِرنے والوں کے گرنے سے اور کجرؤوں کے خوف و ہراس سے اور فریب خوردہ لوگوں کے لغزش کھانے سے اور ہلاک ہونے والوں کے ورطہ ہلاکت میں گرنے سے میرا ہاتھ تھام لے۔ اور اپنے بندوں اور کنیزوں کے مختلف طبقوں کو جن چیزوں میں مبتلا کیا ہے ان سے مجھے عافیت و سلامتی بخش، اور جنہیں تو نے مورد عنایت قرار دیا، جنہیں نعمتیں عطا کیں، جن سے راضی و خوشنود ہوا، جنہیں قابل ستائش زندگی بخشی اور سعادت و کامرانی کے ساتھ موت دی، ان کے مراتب و درجات پر مجھے فائز کر، اور وہ چیزیں جو نیکیوں کو محو اور برکتوں کو زائل کر دیں ان سے کنارہ کشی اس طرح میرے لئے لازم کر دے جس طرح گردن میں پڑا ہوا طوق، اور برے گناہوں اور رسوا کرنے والی معصیتوں سے علیحدگی و نفرت کو میرے دل کیلئے اس طرح ضروری قرار دے جس طرح بدن سے چمٹا ہوا لباس، اور مجھے دنیا میں مصروف کر کے کہ جسے تیری مدد کے بغیر حاصل نہیں کر سکتا ان اعمال سے کہ جن کے علاوہ تجھے کوئی اور چیز مجھ سے خوش نہیں کر سکتی، روک نہ دے، اور اس پست دنیا کی محبت کہ جو تیرے ہاں کی سعادت ابدی کی طرف متوجہ ہونے سے مانع اور تیری طرف وسیلہ طلب کرنے سے سد راہ اور تیرا تقرب حاصل کرنے سے غافل کرنے والی ہے، میرے دل سے نکال دے، اور میرے لئے شب و روز تیری مناجات کیلئے تنہائی کو خوش نما بنا دے، اور مجھے وہ ملکہ عصمت عطا فرما جو مجھے تیرے خوف سے قریب، ارتکاب محرمات سے الگ اور کبیرہ گناہوں کے بندھنوں سے رہا کر دے۔ اور مجھے گناہوں کی آلودگی سے پاکیزگی عطا فرما، اور معصیت کی کثافتوں کو مجھ سے دور کر دے، اور اپنی عافیت کا جامہ مجھے پہنا دے، اور اپنی سلامتی کی چادر اوڑھا دے، اور اپنی وسیع نعمتوں سے مجھے ڈھانپ لے، اور میرے لئے اپنے عطایا و انعامات کا سلسلہ پیہم جاری رکھ، اور اپنی توفیق و راہ حق کی راہ نمائی سے مجھے تقویت دے، اور پاکیزہ نیت، پسندیدہ گفتار اور شائستہ کردار کے سلسلہ میں میری مدد فرما، اور اپنی قوت و طاقت کے بجائے مجھے میری قوت و طاقت کے حوالے نہ کر۔ اور جس دن مجھے اپنی ملاقات کیلئے اٹھائے مجھے ذلیل و خوار اور اپنے دوستوں کے سامنے رسوا نہ کرنا، اور اپنی یاد میرے دل سے فراموش نہ ہونے دے، اور اپنا شکر و سپاس مجھ سے زائل نہ کر، بلکہ جب تیری نعمتوں سے بے خبر، سہو و غفلت کے عالم میں ہوں میرے لئے ادائے شکر لازم قرار دے، اور میرے دل میں یہ بات ڈال دے کہ جو نعمتیں تو نے بخشی ہیں ان پر حمد و توصیف، اور جو احسانات مجھ پر کئے ہیں ان کا اعتراف کروں۔ اور اپنی طرف میری توجہ کو تمام توجہ کرنے والوں سے بالاتر، اور میری حمد سرائی کو تمام حمد کرنے والوں سے بلند تر قرار دے، اور جب مجھے تیری احتیاج ہو تو مجھے اپنی نصرت سے محروم نہ کرنا، اور جن اعمال کو تیری بارگاہ میں پیش کیا ہے ان کو میرے لئے وجہ ہلاکت نہ قرار دینا، اور جس عمل و کردار کے پیش نظر تو نے اپنے نافرمانوں کو دھتکارا ہے یوں مجھے اپنی بارگاہ سے دھتکار نہ دینا۔ اس لئے کہ میں تیرا مطیع و فرمانبردارہوں، اور یہ جانتا ہوں کہ حجت و برہان تیرے ہی لئے ہے، اور تو فضل و بخشش کا زیادہ سزا وار اور لطف و احسان کے ساتھ فائدہ رساں اور اس لائق ہے کہ تجھ سے ڈرا جائے، اور اس کا اہل ہے کہ مغفرت سے کام لے، اور اس کا زیادہ سزاوار ہے کہ سزا دینے کے بجائے معاف کر دے، اور تشہیر کرنے کے بجائے پردہ پوشی تیری روش سے قریب تر ہے۔ تو پھر مجھے ایسی پاکیزہ زندگی دے جو میرے حسب دلخواہ امور پر مشتمل اور میری دل پسند چیزوں پر منتہی ہو، اس طرح کہ جس کام کو تو ناپسند کرے اسے بجا نہ لاؤں، اور جس سے منع کرے اس کا ارتکاب نہ کروں، اور مجھے اس شخص کی سی موت دے جس کا نور اس کے آگے اور اس کے داہنی طرف چلتا ہو۔ اور مجھے اپنی بارگاہ میں عاجز و نگوں سار اور لوگوں کے نزدیک باوقار بنا دے، اور جب تجھ سے تخلیہ میں راز و نیاز کروں تو مجھے پست و سرافگندہ اور اپنے بندوں میں بلند مرتبہ قرار دے، اور جو مجھ سے بے نیاز ہو اس سے مجھے بے نیاز کر دے اور میرے فقر و احتیاج کو اپنی طرف بڑھا دے، اور دشمنوں کے خندۂ زیر لب، بلاؤں کے ورود اور ذلت و سختی سے پناہ دے۔ اور میرے ان گناہوں کے بارے میں کہ جن پر تو مطلع ہے اس شخص کے مانند میری پردہ پوشی فرما کہ اگر اس کا حلم مانع نہ ہوتا تو وہ سخت گرفت پر قادر ہوتا، اور اگر اس کی روش میں نرمی نہ ہوتی تو وہ گناہوں پر مؤاخذہ کرتا، اور جب کسی جماعت کو تو مصیبت میں گرفتار یا بلا و نکبت سے دو چار کرنا چاہے تو در صورتیکہ میں تجھ سے پناہ طلب ہوں اس مصیبت سے نجات دے، اور جبکہ تو نے مجھے دنیا میں رسوائی کے مؤقف میں کھڑا نہیں کیا تو اسی طرح آخرت میں بھی رسوائی کے مقام پر کھڑا نہ کرنا، اور میرے لئے دنیوی نعمتوں کو اخروی نعمتوں سے اور قدیم فائدوں کو جدید فائدوں سے ملا دے، اور مجھے اتنی مہلت نہ دے کہ اس کے نتیجہ میں میرا دل سخت ہو جائے، اور ایسی مصیبت میں مبتلا نہ کر جس سے میری عزت و آبرو جاتی رہے، اور ایسی ذلّت سے دوچار نہ کر جس سے میری قدرو منزلت کم ہو جائے، اور ایسے عیب میں گرفتار نہ کر جس سے میرا مرتبہ و مقام جانا نہ جا سکے۔ اور مجھے اتنا خوف زدہ نہ کر کہ میں مایوس ہو جاؤں، اور ایسا خوف نہ دلا کہ ہراساں ہو جاؤں، میرے خوف کو اپنی وعید و سرزنش میں اور میرے اندیشہ کو تیرے عذر تمام کرنے اور ڈرانے میں منحصر کر دے، اور میرے خوف و ہراس کو آیات (قرآنی) کی تلاوت کے وقت قرار دے۔ اور مجھے اپنی عبادت کیلئے بیدار رکھنے، خلوت و تنہائی میں دُعا و مناجات کیلئے جاگنے، سب سے الگ رہ کر تجھ سے لو لگانے، تیرے سامنے اپنی حاجتیں پیش کرنے، دوزخ سے گلو خلاصی کیلئے بار بار التجا کرنے اور تیرے اس عذاب سے جس میں اہل دوزخ گرفتار ہیں پناہ مانگنے کے وسیلہ سے میری راتوں کو آباد کر۔ اور مجھے سرکشی میں سرگردان چھوڑ نہ دے، اور نہ غفلت میں ایک خاص وقت تک غافل و بے خبر پڑا رہنے دے، اور مجھے نصیحت حاصل کرنے والوں کیلئے نصیحت، عبرت حاصل کرنے والوں کیلئے عبرت اور دیکھنے والوں کیلئے فتنہ و گمراہی کا سبب نہ قرار دے، اور مجھے ان لوگوں میں جن سے تو (ان کے مکر کی پاداش میں) مکر کرے گا شمار نہ کر، اور (انعام و بخشش کیلئے) میرے عوض دوسرے کو انتخاب نہ کر، میرے نام میں تغیر اور جسم میں تبدیلی نہ فرما، اور مجھے مخلوقات کیلئے مضحکہ اور اپنی بارگاہ میں لائق استہزا نہ قرار دے، مجھے صرف ان چیزوں کا پابند بنا جن سے تیری رضا مندی وابستہ ہے، اور صرف اس زحمت سے دو چار کر جو (تیرے دشمنوں سے) انتقام لینے کے سلسلہ میں ہو۔ اور اپنے عفو و درگزر کی لذت اور رحمت، راحت و آسائش گل و ریحان اور جنت نعیم کی شیرینی سے آشنا کر، اور اپنی وسعت و تونگری کی بدولت ایسی فراغت سے روشناس کر جس میں تیرے پسندیدہ کاموں کو بجا لا سکوں، اور ایسی سعی و کوشش کی توفیق دے جو تیری بارگاہ میں تقرب کا باعث ہو، اور اپنے تحفوں میں سے مجھے نت نیا تحفہ دے۔ اور میری اخروی تجارت کو نفع بخش اور میری بازگشت کو بے ضرر قرار دے، اور مجھے اپنے مقام و موقف سے ڈرا اور اپنی ملاقات کا مشتاق بنا، اور ایسی سچی توبہ کی توفیق عطا فرما کہ جس کے ساتھ میرے چھوٹے اور بڑے گناہوں کو باقی نہ رکھے، اور کھلی اور ڈھکی معصیتوں کو محو کر دے۔ اور اہل ایمان کی طرف سے میرے دل سے کینہ و بغض کو نکال دے، اور انکسار و فروتنی کرنے والوں پر میرے دل کو مہربان بنا دے، اور میرے لئے تو ایسا ہو جا جیسا نیکو کاروں کیلئے ہے، اور پرہیزگاروں کے زیور سے مجھے آراستہ کر دے، اور آیندہ آنے والوں میں میرا ذکر خیر اور بعد میں آنے والی نسلوں میں میرا ذکر روز افزوں برقرار رکھ، اور سابقون الاولون کے محل و مقام میں مجھے پہنچا دے، اور فراخی نعمت کو مجھ پر تمام کر، اور اس کی منفعتوں کا سلسلہ پہیم جاری رکھ، اپنی نعمتوں سے میرے ہاتھوں کو بھر دے اور اپنی گراں قدر بخششوں کو میری طرف بڑھا دے۔ اور جنت میں جسے تو نے اپنے برگزیدہ بندوں کیلئے سجایا ہے مجھے اپنے پاکیزہ دوستوں کا ہمسایہ قرار دے، اور ان جگہوں میں جنہیں اپنے دوستداروں کیلئے مہیا کیا ہے مجھے عمدہ و نفیس عطیوں کے خلعت اوڑھا دے،اور میرے لئے وہ آرامگاہ کہ جہاں میں اطمینان سے بے کھٹکے رہوں اور وہ منزل کہ جہاں میں ٹھہروں اور اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کروں، اپنے نزدیک قرار دے اور مجھے میرے عظیم گناہوں کے لحاظ سے سزا نہ دینا اور جس دن دلوں کے بھید جانچے جائیں گے مجھے ہلاک نہ کرنا، ہر شک و شبہ کو مجھ سے دور کر دے، اور میرے لئے ہر سمت سے حق تک پہنچنے کی راہ پیدا کر دے، اور اپنی عطا و بخشش کے حصے میرے لئے زیادہ کر دے، اور اپنے فضل سے نیکی و احسان سے حظ فراواں عطا کر۔ اور اپنے ہاں کی چیزوں پر میرا دل مطمئن اور اپنے کاموں کیلئے میری فکر کو یک سو کر دے، اور مجھ سے وہی کام لے جو اپنے مخصوص بندوں سے لیتا ہے، اور جب عقلیں غفلت میں پڑ جائیں اس وقت میرے دل میں اطاعت کا ولولہ سمو دے، اور میرے لئے تو نگری، پاکدامنی، آسائش، سلامتی، تندرستی، فراخی، اطمینان اور عافیت کو جمع کر دے۔ اور میری نیکیوں کو گناہوں کی آمیزش کی وجہ سے اور میری تنہائیوں کو ان مفسدوں کے باعث جو از راہ امتحان پیش آتے ہیں تباہ نہ کر، اور اہل عالم میں سے کسی ایک کے آگے ہاتھ پھیلانے سے میری عزت و آبرو کو بچائے رکھ، اور ان چیزوں کی طلب و خواہش سے جو بدکرداروں کے پاس ہیں مجھے روک دے، اور مجھے ظالموں کا پشت پناہ نہ بنا، اور نہ (احکام) کتاب کے محو کرنے پر ان کا ناصر و مددگار قرار دے، اور میری اس طرح نگہداشت کر کہ مجھے خبر بھی نہ ہونے پائے، ایسی نگہداشت کہ جس کے ذریعہ تو مجھے (ہلاکت و تباہی ) سے بچالے جائے۔ اور میرے لئے توبہ و رحمت، لطف و رأفت اور کشادہ روزی کے دروازے کھول دے، اس لئے کہ میں تیری جانب رغبت و خواہش کرنے والوں میں سے ہوں، اور میرے لئے اپنی نعمتوں کو پایہ تکمیل تک پہنچا دے، اس لئے کہ تو انعام و بخشش کرنے والوں میں سب سے بہتر ہے، اور میری بقیہ عمر کو حج و عمرہ اور اپنی رضا جوئی کیلئے قرار دے۔ اے تمام جہانوں کے پالنے والے! رحمت نازل کرے اللہ محمدﷺ اور ان کی پاک و پاکیزہ آلؑ پر اور ان پر، اور ان کی اولاد پر ہمیشہ ہمیشہ درود و سلام ہو۔

  48. دعاء 46 عید قربان اور جمعہ کی دعا

    48

    اللَّهُمَّ هَذَا يَوْمٌ مُبَارَكٌ مَيْمُونٌ وَ الْمُسْلِمُونَ فِيهِ مُجْتَمِعُونَ فِي أَقْطَارِ أَرْضِكَ، يَشْهَدُ السَّائِلُ مِنْهُمْ وَ الطَّالِبُ وَ الرَّاغِبُ وَ الرَّاهِبُ وَ أَنْتَ النَّاظِرُ فِي حَوَائِجِهِمْ فَأَسْأَلُكَ بِجُودِكَ وَ كَرَمِكَ وَ هَوَانِ مَا سَأَلْتُكَ عَلَيْكَ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ وَ أَسْأَلُكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا بِأَنَّ لَكَ الْمُلْكَ وَ لَكَ الْحَمْدَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ الْحَنَّانُ الْمَنَّانُ ذُو الْجَلَالِ وَ الْإِكْرَامِ، بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضِ، ، مَهْمَا قَسَمْتَ بَيْنَ عِبَادِكَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْ خَيْرٍ أَوْ عَافِيَةٍ أَوْ بَرَكَةٍ أَوْ هُدًى أَوْ عَمَلٍ بِطَاعَتِكَ ،أَوْ خَيْرٍ تَمُنُّ بِهِ عَلَيْهِمْ تَهْدِيهِمْ بِهِ إِلَيْكَ أَوْ تَرْفَعُ لَهُمْ عِنْدَكَ دَرَجَةً ، أَوْ تُعْطِيهِمْ بِهِ خَيْراً مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ .أَنْ تُوَفِّرَ حَظِّي وَ نَصِيبِي مِنْهُ وَ أَسْأَلُكَ اللَّهُمَّ بِأَنَّ ,لَكَ الْمُلْكَ وَ الْحَمْدَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَ رَسُولِكَ وَ حَبِيبِكَ وَ صِفْوَتِكَ ,وَ خِيَرَتِكَ مِنْ خَلْقِكَ وَ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ الْأَبْرَارِ الطَّاهِرِينَ الْأَخْيَارِ ,صَلَاةً لَا يَقْوَى عَلَى إِحْصَائِهَا إِلَّا أَنْتَ وَ أَنْ تُشْرِكَنَا فِي صَالِحِ مَنْ دَعَاكَ فِي هَذَا الْيَوْمِ مِنْ عِبَادِكَ الْمُؤْمِنِينَ ،يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ ,وَ أَنْ تَغْفِرَ لَنَا وَ لَهُمْ .إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَدِيرٌ اللَّهُمَّ إِلَيْكَ تَعَمَّدْتُ بِحَاجَتِي وَ بِكَ أَنْزَلْتُ الْيَوْمَ فَقْرِي ،وَ فَاقَتِي وَ مَسْكَنَتِي وَ إِنِّي بِمَغْفِرَتِكَ وَ رَحْمَتِكَ أَوْثَقُ مِنِّي بِعَمَلِي وَ لَمَغْفِرَتُكَ وَ رَحْمَتُكَ أَوْسَعُ مِنْ ذُنُوبِي فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ ، وَ تَوَلَّ قَضَاءَ كُلِّ حَاجَةٍ هِيَ لِي بِقُدْرَتِكَ عَلَيْهَا ، وَ تَيْسِيرِ ذَلِكَ عَلَيْكَ وَ بِفَقْرِي إِلَيْكَ وَ غِنَاكَ عَنِّي ، فَإِنِّي لَمْ أُصِبْ خَيْراً قَطُّ إِلَّا مِنْكَ ، وَ لَمْ يَصْرِفْ عَنِّي سُوءاً قَطُّ أَحَدٌ غَيْرُكَ وَ لَا أَرْجُو لِأَمْرِ آخِرَتِي وَ دُنْيَايَ سِوَاكَ اللَّهُمَّ مَنْ تَهَيَّأَ وَ تَعَبَّأَ وَ أَعَدَّ وَ اسْتَعَدَّ لِوِفَادَةٍ إِلَى مَخْلُوقٍ رَجَاءَ رِفْدِهِ وَ نَوَافِلِهِ وَ طَلَبَ نَيْلِهِ وَ جَائِزَتِهِ فَإِلَيْكَ يَا مَوْلَايَ كَانَتِ الْيَوْمَ تَهْيِئَتِي وَ تَعْبِئَتِي وَ إِعْدَادِي وَ اسْتِعْدَادِي رَجَاءَ عَفْوِكَ وَ رِفْدِكَ وَ طَلَبَ نَيْلِكَ وَ جَائِزَتِكَ اللَّهُمَّ فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ لَا تُخَيِّبِ الْيَوْمَ ذَلِكَ مِنْ رَجَائِي، يَا مَنْ لَا يُحْفِيهِ سَائِلٌ وَ لَا يَنْقُصُهُ نَائِلٌ فَإِنِّي لَمْ آتِكَ ثِقَةً مِنِّي بِعَمَلٍ صَالِحٍ قَدَّمْتُهُ وَ لَا شَفَاعَةِ مَخْلُوقٍ رَجَوْتُهُ إِلَّا شَفَاعَةَ مُحَمَّدٍ وَ أَهْلِ بَيْتِهِ عَلَيْهِ وَ عَلَيْهِمْ سَلَامُكَ أَتَيْتُكَ مُقِرّاً بِالْجُرْمِ وَ الْإِسَاءَةِ إِلَى نَفْسِي أَتَيْتُكَ أَرْجُو عَظِيمَ عَفْوِكَ الَّذِي عَفَوْتَ بِهِ عَنِ الْخَاطِئِينَ ثُمَّ لَمْ يَمْنَعْكَ طُولُ عُكُوفِهِمْ عَلَى عَظِيمِ الْجُرْمِ أَنْ عُدْتَ عَلَيْهِمْ بِالرَّحْمَةِ وَ الْمَغْفِرَةِ فَيَا مَنْ رَحْمَتُهُ وَاسِعَةٌ وَ عَفْوُهُ عَظِيمٌ ، يَا عَظِيمُ يَا عَظِيمُ يَا كَرِيمُ يَا كَرِيمُ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ عُدْ عَلَيَّ بِرَحْمَتِكَ وَ تَعَطَّفْ عَلَيَّ بِفَضْلِكَ وَ تَوَسَّعْ عَلَيَّ بِمَغْفِرَتِكَ . اللَّهُمَّ إِنَّ هَذَا الْمَقَامَ لِخُلَفَائِكَ وَ أَصْفِيَائِكَ وَ مَوَاضِعَ أُمَنَائِكَ فِي الدَّرَجَةِ الرَّفِيعَةِ الَّتِي اخْتَصَصْتَهُمْ بِهَا قَدِ ابْتَزُّوهَا وَ أَنْتَ الْمُقَدِّرُ لِذَلِكَ لَا يُغَالَبُ أَمْرُكَ وَ لَا يُجَاوَزُ الْمَحْتُومُ مِنْ تَدْبِيرِكَ كَيْفَ شِئْتَ وَ أَنَّى شِئْتَ وَ لِمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ غَيْرُ مُتَّهَمٍ عَلَى خَلْقِكَ وَ لَا لِإِرَادَتِكَ حَتَّى عَادَ صِفْوَتُكَ وَ خُلَفَاؤُكَ مَغْلُوبِينَ مَقْهُورِينَ مُبْتَزِّينَ يَرَوْنَ حُكْمَكَ مُبَدَّلًا وَ كِتَابَكَ مَنْبُوذاً ، وَ فَرَائِضَكَ مُحَرَّفَةً عَنْ جِهَاتِ أَشْرَاعِكَ وَ سُنَنَ نَبِيِّكَ مَتْرُوكَةً اللَّهُمَّ الْعَنْ أَعْدَاءَهُمْ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَ الْآخِرِينَ وَ مَنْ رَضِيَ بِفِعَالِهِمْ وَ أَشْيَاعَهُمْ وَ أَتْبَاعَهُمْ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ كَصَلَوَاتِكَ وَ بَرَكَاتِكَ وَ تَحِيَّاتِكَ عَلَى أَصْفِيَائِكَ إِبْرَاهِيمَ وَ آلِ إِبْرَاهِيمَ وَ عَجِّلِ الْفَرَجَ وَ الرَّوْحَ وَ النُّصْرَةَ وَ التَّمْكِينَ وَ التَّأْيِيدَ لَهُمْ اللَّهُمَّ وَ اجْعَلْنِي مِنْ أَهْلِ التَّوْحِيدِ وَ الْإِيمَانِ بِكَ وَ التَّصْدِيقِ بِرَسُولِكَ وَ الْأَئِمَّةِ الَّذِينَ حَتَمْتَ طَاعَتَهُمْ مِمَّنْ يَجْرِي ذَلِكَ بِهِ وَ عَلَى يَدَيْهِ آمِينَ رَبَّ الْعَالَمِينَ اللَّهُمَّ لَيْسَ يَرُدُّ غَضَبَكَ إِلَّا حِلْمُكَ ، وَ لَا يَرُدُّ سَخَطَكَ إِلَّا عَفْوُكَ وَ لا يُجِيرُ مِنْ عِقَابِكَ إِلَّا رَحْمَتُكَ وَ لَا يُنْجِينِي مِنْكَ إِلَّا التَّضَرُّعُ إِلَيْكَ وَ بَيْنَ يَدَيْكَ فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ هَبْ لَنَا يَا إِلَهِي مِنْ لَدُنْكَ فَرَجاً بِالْقُدْرَةِالَّتِي بِهَا تُحْيِي أَمْوَاتَ الْعِبَادِ وَ بِهَا تَنْشُرُ مَيْتَ الْبِلَادِ . وَ لَا تُهْلِكْنِي يَا إِلَهِي غَمّاً حَتَّى تَسْتَجِيبَ لِي وَ تُعَرِّفَنِي الْإِجَابَةَ فِي دُعَائِي وَ أَذِقْنِي طَعْمَ الْعَافِيَةِ إِلَى مُنْتَهَى أَجَلِي وَ لَا تُشْمِتْ بِي عَدُوِّي وَ لَا تُمَكِّنْهُ مِنْ عُنُقِي وَ لَا تُسَلِّطْهُ عَلَيَّ إِلَهِي إِنْ رَفَعْتَنِي فَمَنْ ذَا الَّذِي يَضَعُنِي وَ إِنْ وَضَعْتَنِي فَمَنْ ذَا الَّذِي يَرْفَعُنِي وَ إِنْ أَكْرَمْتَنِي فَمَنْ ذَا الَّذِي يُهِينُنِي وَ إِنْ أَهَنْتَنِي فَمَنْ ذَا الَّذِي يُكْرِمُنِي وَ إِنْ عَذَّبْتَنِي فَمَنْ ذَا الَّذِي يَرْحَمُنِي وَ إِنْ أَهْلَكْتَنِي فَمَنْ ذَا الَّذِي يَعْرِضُ لَكَ فِي عَبْدِكَ أَوْ يَسْأَلُكَ عَنْ أَمْرِهِ وَ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّهُ لَيْسَ فِي حُكْمِكَ ظُلْمٌ وَ لَا فِي نَقِمَتِكَ عَجَلَةٌ وَ إِنَّمَا يَعْجَلُ مَنْ يَخَافُ الْفَوْتَ وَ إِنَّمَا يَحْتَاجُ إِلَى الظُّلْمِ الضَّعِيفُ وَ قَدْ تَعَالَيْتَ يَا إِلَهِي عَنْ ذَلِكَ عُلُوّاً كَبِيراً اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ لَا تَجْعَلْنِي لِلْبَلَاءِ غَرَضاً ، وَ لَا لِنَقِمَتِكَ نَصَباً وَ مَهِّلْنِي، وَ نَفِّسْنِي وَ أَقِلْنِي عَثْرَتِي وَ لَا تَبْتَلِيَنِّي بِبَلَاءٍ عَلَى أَثَرِ بَلَاءٍ فَقَدْ تَرَى ضَعْفِي وَ قِلَّةَ حِيلَتِي وَ تَضَرُّعِي إِلَيْكَ أَعُوذُ بِكَ اللَّهُمَّ الْيَوْمَ مِنْ غَضَبِكَ فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ وَ أَعِذْنِي. ، وَ أَسْتَجِيرُ بِكَ الْيَوْمَ مِنْ سَخَطِكَ فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ وَ أَجِرْنِي وَ أَسْأَلُكَ أَمْناً مِنْ عَذَابِكَ فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ آمِنِّي وَ أَسْتَهْدِيكَ فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ وَ اهْدِنِي وَ أَسْتَنْصِرُكَ فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ انْصُرْنِي وَ أَسْتَرْحِمُكَ فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ ارْحَمْنِي وَ أَسْتَكْفِيكَ فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ اكْفِنِي وَ أَسْتَرْزِقُكَ فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ ارْزُقْنِي وَ أَسْتَعِينُكَ فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ وَ أَعِنِّي وَ أَسْتَغْفِرُكَ لِمَا سَلَفَ مِنْ ذُنُوبِي فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ اغْفِرْ لِي وَ أَسْتَعْصِمُكَ فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ اعْصِمْنِي فَإِنِّي لَنْ أَعُودَ لِشَيْ‏ءٍ كَرِهْتَهُ مِنِّي إِنْ شِئْتَ ذَلِكَ يَا رَبِّ يَا رَبِّ، يَا حَنَّانُ يَا مَنَّانُ يَا ذَا الْجَلَالِ وَ الْإِكْرَامِ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ وَ اسْتَجِبْ لِي جَمِيعَ مَا سَأَلْتُكَ وَ طَلَبْتُ إِلَيْكَ وَ رَغِبْتُ فِيهِ إِلَيْكَ وَ أَرِدْهُ وَ قَدِّرْهُ وَ اقْضِهِ وَ أَمْضِهِ وَ خِرْ لِي فِيمَا تَقْضِي مِنْه وَ بَارِكْ لِي فِي ذَلِكَ وَ تَفَضَّلْ عَلَيَّ بِهِ وَ أَسْعِدْنِي بِمَا تُعْطِينِي مِنْهُ وَ زِدْنِي مِنْ فَضْلِكَ وَ سَعَةِ مَا عِنْدَكَ فَإِنَّكَ وَاسِعٌ كَرِيمٌ وَ صِلْ ذَلِكَ بِخَيْرِ الْآخِرَةِ وَ نَعِيمِهَا يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ تَدْعُو بِمَا بَدَا لَكَ، وَ تُصَلِّي عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ أَلْفَ مَرَّةٍ هَكَذَا كَانَ يَفْعَلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ

    عید الاضحیٰ اور روز جمعہ کی دُعا: بار الٰہا! یہ مبارک و مسعود دن ہے جس میں مسلمان معمورۂ زمین کے ہر گوشہ میں مجتمع ہیں، ان میں سائل بھی ہیں اور طلبگار بھی، ملتجی بھی ہیں اور خوف زدہ بھی، وہ سب ہی تیری بارگاہ میں حاضر ہیں اور تو ہی ان کی حاجتوں پر نگاہ رکھنے والا ہے۔ لہٰذا میں تیرے جود و کرم کو دیکھتے ہوئے اور اس خیال سے کہ میری حاجت براری تیرے لئے آسان ہے تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو رحمت نازل فرما محمدؐ اور ان کی آلؑ پر۔ اے اللہ! اے ہم سب کے پروردگار! جبکہ تیرے ہی لئے بادشاہی، اور تیرے ہی لئے حمد و ستائش ہے، اور کوئی معبود نہیں تیرے علاوہ، جو بردبار، کریم، مہربانی کرنے والا، نعمت بخشنے والا، بزرگی و عظمت والا اور زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے، تو میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ جب بھی تو اپنے ایمان والے بندوں میں نیکی یا عافیت یا خیر و برکت یا اپنی اطاعت پر عمل پیرا ہونے کی توفیق تقسیم فرمائے، یا ایسی بھلائی جس سے تو ان پر احسان کرے اور انہیں اپنی طرف رہنمائی فرمائے، یا اپنے ہاں ان کا درجہ بلند کرے یا دنیا و آخرت کی بھلائی میں سے کوئی بھلائی انہیں عطا کرے، تو اس میں میرا حصہ و نصیب فراواں کر۔ اے اللہ! تیرے ہی لئے جہاں داری اور تیرے ہی لئے حمد و ستائش ہے، اور کوئی معبود نہیں تیرے سوا، لہٰذا میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو رحمت نازل فرما اپنے عبد، رسول، حبیب، منتخب اور بر گزیدہ خلائق محمدﷺ پر اور ان کے اہل بیت علیہم السلام پر، جو نیکو کار، پاک و پاکیزہ اور بہترین خلق ہیں، ایسی رحمت جس کے شمار پر تیرے علاوہ کوئی قادر نہ ہو، اور آج کے دن تیرے ایمان لانے والے بندوں میں سے جو بھی تجھ سے کوئی نیک دُعا مانگے تو ہمیں اس میں شریک کر دے اے تمام جہانوں کے پروردگار، اور ہمیں اور ان سب کو بخش دے اس لئے کہ تو ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! میں اپنی حاجتیں تیری طرف لایا ہوں، اور اپنے فقر و فاقہ و احتیاج کا بارگراں تیرے در پر لا اتارا ہے، اور میں اپنے عمل سے کہیں زیادہ تیری آمرزش و رحمت پر مطمئن ہوں، اور بے شک تیری مغفرت و رحمت کا دامن میرے گناہوں سے کہیں زیادہ وسیع ہے، لہٰذا تو محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور میری ہر حاجت تو ہی بر لا، اپنی اس قدرت کی بدولت جو تجھے اس پر حاصل ہے، اور یہ تیرے لئے سہل و آسان ہے، اور اس لئے کہ میں تیرا محتاج اور تو مجھ سے بے نیاز ہے، اور اس لئے کہ میں کسی بھلائی کو حاصل نہیں کر سکا مگر تیری جانب سے، اور تیرے سوا کوئی مجھ سے دکھ درد دور نہیں کر سکا، اور میں دنیا و آخرت کے کاموں میں تیرے علاوہ کسی سے امید نہیں رکھتا۔ اے اللہ! جو کوئی صلہ و عطا کی امید اور بخشش و انعام کی خواہش لے کر کسی مخلوق کے پاس جانے کیلئے کمر بستہ و آمادہ اور تیار و مستعد ہو تو اے میرے مولا و آقا! آج کے دن میری آمادگی و تیاری اور سر و سامان کی فراہمی و مستعدی تیرے عفو و عطا کی امید اور بخشش و انعام کی طلب کیلئے ہے۔ لہٰذا اے میرے معبود! تو محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور آج کے دن میری امیدوں میں مجھے ناکام نہ کر، اے وہ جو مانگنے والے کے ہاتھوں تنگ نہیں ہوتا، اور نہ بخشش و عطا سے جس کے ہاں کمی ہوتی ہے، میں اپنے کسی عمل خیر پر جسے آگے بھیجا ہو اور سوائے محمدﷺ اور ان کے اہل بیت علیہم السلام کی شفاعت کے کسی مخلوق کی سفارش پر جس کی امید رکھی ہو اطمینان کرتے ہوئے تیری بارگاہ میں حاضر نہیں ہوا، میں تو اپنے گناہ اور اپنے حق میں برائی کا اقرار کرتے ہوئے تیرے پاس حاضر ہوا ہوں، درآنحالیکہ میں تیرے اس عفو عظیم کا امیدوار ہوں جس کے ذریعہ تو نے خطاکاروں کو بخش دیا، پھر یہ کہ ان کا بڑے بڑے گناہوں پر عرصہ تک جمے رہنا تجھے ان پر مغفرت و رحمت کی احسان فرمائی سے مانع نہ ہوا۔ اے وہ جس کی رحمت وسیع اور عفو و بخشش عظیم ہے! اے بزرگ! اے عظیم! اے بخشندہ! اے کریم! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور اپنی رحمت سے مجھ پر احسان، اور اپنے فضل و کرم کے ذریعہ مجھ پر مہربانی فرما، اور میرے حق میں اپنے دامن مغفرت کو وسیع کر۔ بار الٰہا!یہ مقام( خطبہ و امامت نماز جمعہ) تیرے جانشینوں اور برگزیدہ بندوں کیلئے تھا، اور تیرے امانتداروں کا محل تھا، درآنحالیکہ تو نے اس بلند منصب کے ساتھ انہیں مخصوص کیا تھا (غصب کرنے والوں نے ) اسے چھین لیا، اور تو ہی روز ازل سے اس چیز کا مقدر کرنے والا ہے، نہ تیرا امرو فرمان مغلوب ہو سکتا ہے اور نہ تیری قطعی تدبیر (قضا و قدر) سے جس طرح تو نے چاہا ہو اور جس وقت چاہا ہو تجاوز ممکن ہے، اس مصلحت کی وجہ سے جسے تو ہی بہتر جانتا ہے، بہرحال تیری تقدیر اور تیرے ارادہ و مشیت کی نسبت تجھ پر الزام عائد نہیں ہو سکتا، یہاں تک کہ (اس غصب کے نتیجہ میں) تیرے برگزیدہ اور جانشین مغلوب و مقہور ہو گئے، اور ان کا حق ان کے ہاتھ سے جاتا رہا، وہ دیکھ رہے ہیں کہ تیرے احکام بدل دیئے گئے، تیری کتاب پس پشت ڈال دی گئی، تیرے فرائض و واجبات تیرے واضح مقاصد سے ہٹا دیئے گئے، اور تیرے نبیؐ کے طور و طریقے متروک ہو گئے۔ بارالٰہا! تو ان برگزیدہ بندوں کے اگلے اور پچھلے دشمنوں پر، اور ان پر جو ان دشمنوں کے عمل و کردار پر راضی و خوشنود ہوں، اور جو ان کے تابع اور پیروکار ہوں لعنت فرما۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر ایسی رحمت نازل فرما، بیشک تو قابل حمد و ثنا بزرگی والا ہے، جیسی رحمتیں، برکتیں اور سلام تو نے اپنے منتخب و برگزیدہ ابراہیمؑ اور آل ابراہیمؑ پر نازل کئے ہیں، اور ان کیلئے کشائش، راحت، نصرت، غلبہ اور تائید میں تعجیل فرما۔ بار الٰہا! مجھے توحید کا عقیدہ رکھنے والوں، تجھ پر ایمان لانے والوں، اور تیرے رسولؐ اور ان آئمہ ؑکی تصدیق کرنے والوں میں سے قرار دے، جن کی اطاعت کو تو نے واجب کیا ہے، ان لوگوں میں سے جن کے وسیلہ اور جن کے ہاتھوں سے (توحید، ایمان اور تصدیق) یہ سب چیزیں جاری کرے، میری دُعا کو قبول فرما اے تمام جہانوں کے پروردگار!۔ بار الٰہا! تیرے حلم کے سوا کوئی چیز تیرے غضب کو ٹال نہیں سکتی، اور تیرے عفو و درگزر کے سوا کوئی چیز تیری ناراضگی کو پلٹا نہیں سکتی، اور تیری رحمت کے سوا کوئی چیز تیرے عذاب سے پناہ نہیں دے سکتی، اور تیری بارگاہ میں گڑگڑاہٹ کے علاوہ کوئی چیز تجھ سے رہائی نہیں دے سکتی، لہٰذا تو محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور اپنی اس قدرت سے جس سے تو مُردوں کو زندہ اور بنجر زمینوں کو شاداب کرتا ہے مجھے اپنی جانب سے غم اندوہ سے چھٹکارا دے، بارالٰہا! جب تک تو میری دُعا قبول نہ فرمائے اور اس کی قبولیت سے آگاہ نہ کر دے مجھے غم و اندوہ سے ہلاک نہ کرنا، اور زندگی کے آخری لمحوں تک مجھے صحت و عافیت کی لذت سے شاد کام رکھنا، اور دشمنوں کو (میری حالت پر) خوش ہونے اور میری گردن پر سوار اور مجھ پر مسلط ہونے کا موقعہ نہ دینا۔ بارالٰہا! اگر تو مجھے بلند کرے تو کون پست کر سکتا ہے؟ اور تو پست کرے تو کون بلند کر سکتا ہے؟ اور تو عزّت بخشے تو کون ذلیل کر سکتا ہے؟ اور تو ذلیل کرے تو کون عزّت دے سکتا ہے؟ اور تو مجھ پر عذاب کرے تو کون مجھ پر ترس کھا سکتا ہے؟ اور اگر تو ہلاک کرے تو کون تیرے بندے کے بارے میں تجھ پر معترض ہو سکتا ہے یا اس کے متعلق تجھ سے کچھ پوچھ سکتا ہے۔ اور مجھے خوب علم ہے کہ تیرے فیصلہ میں نہ ظلم کا شائبہ ہوتا ہے اور نہ سزا دینے میں جلدی ہوتی ہے، جلدی تو وہ کرتا ہے جسے موقع کے ہاتھ سے نکل جانے کا اندیشہ ہو، اور ظلم کی اسے حاجت ہوتی ہے جو کمزور و ناتواں ہو، اور تو اے میرے معبود ! ان چیزوں سے بہت بلند و بر تر ہے۔ اے اللہ! تو محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور مجھے بلاؤں کا نشانہ اور اپنی عقوبتوں کا ہدف نہ قرار دے، مجھے مہلت دے اور میرے رنج و غم کو دور کر، میری لغزشوں کو معاف کر دے، اور مجھے ایک مصیبت کے بعد دوسری مصیبت میں مبتلا نہ کر، کیونکہ تو میری ناتوانی، بے چارگی اور اپنے حضور میری گڑگڑاہٹ کو دیکھ رہا ہے۔ بارالٰہا ! میں آج کے دن تیرے غضب سے تیرے ہی دامن میں پناہ مانگتا ہوں، تو محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور مجھے پناہ دے۔ اور میں آج کے دن تیری ناراضگی سے امان چاہتا ہوں، تو محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور مجھے امان دے۔ اور تیرے عذاب سے امن کا طلبگار ہوں، تو رحمت نازل فرما محمدؐ اور ان کی آلؑ پر اور مجھے (عذاب سے ) مطمئن کر دے۔ اور تجھ سے ہدایت کا خواستگار ہوں، تو رحمت نازل فرما محمدؐ اور ان کی آلؑ پر اور مجھے ہدایت فرما۔ اور تجھ سے مدد چاہتا ہوں، تو رحمت نازل فرما محمدؐ اور ان کی آلؑ پر اور میری مدد فرما۔ اور تجھ سے رحم کی درخواست کرتا ہوں، تو رحمت نازل فرما محمدؐ اور ان کی آلؑ پر اور مجھ پر رحم کر۔ اور تجھ سے بے نیازی کا سوال کرتا ہوں، تو رحمت نازل فرما محمدؐ اور ان کی آلؑ پر اور مجھے بے نیاز کر دے۔ اور تجھ سے روزی کا سوال کرتا ہوں، تو رحمت نازل فرما محمدؐ اور ان کی آلؑ پر اور مجھے روزی دے۔ اور تجھ سے کمک کا طالب ہوں، تو رحمت نازل فرما محمدؐ اور ان کی آلؑ پر اور میری کمک فرما۔ اور گزشتہ گناہوں کی آمرزش کا خواستگار ہوں، تو رحمت نازل فرما محمدؐ اور ان کی آل ؑپر اور مجھے بخش دے۔ اور تجھ سے (گناہوں کے بارے میں) بچاؤ کا خواہاں ہوں، تو رحمت نازل فرما محمدؐ اور ان کی آلؑ پر اور مجھے (گناہوں سے) بچائے رکھ۔ اس لئے کہ اگر تیری مشیت شامل حال رہی تو کسی ایسے کام کا جسے تو مجھ سے ناپسند کرتا ہو مرتکب نہ ہوں گا۔ اے میرے پروردگار! اے میرے پروردگار! اے مہربان، اے نعمتوں کے بخشنے والے! اے جلالت و بزرگی کے مالک! تو رحمت نازل فرما محمدؐ اور ان کی آلؑ پر اور جو کچھ میں نے مانگا اور جو کچھ طلب کیا ہے اور جن چیزوں کے حصول کیلئے تیری بارگاہ کا رخ کیا ہے ،ان سے اپنا ارادہ، حکم اور فیصلہ متعلق کر، اور انہیں جاری کر دے، اور جو بھی فیصلہ کرے اس میں میرے لئے بھلائی قرار دے، اور مجھے اس میں برکت عطا کر، اور اس کے ذریعہ مجھ پر احسان فرما، اور جو عطا فرمائے اس کے وسیلہ سے مجھے خوش بخت بنا دے، اور میرے لئے اپنے فضل و کشائش کو جو تیرے پاس ہے زیادہ کر دے، اس لئے کہ تو تونگر و کریم ہے، اور اس کا سلسلہ آخرت کی خیر و نیکی اور وہاں کی نعمت فراواں سے ملا دے، اے تمام رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والے۔ اس کے بعد جو چاہو دُعا مانگو اور ہزار مرتبہ محمدؐ اور ان کی آلؑ پر درود بھیجو کہ امام علیہم السلام ایسا ہی کیا کرتے تھے۔

  49. دعاء 47 دشمن کے مکر و فریب کی دعا

    49

    إلهِي هَدَيْتَنِي فَلَهَوْتُ، وَوَعَظْتَ فَقَسَوْتُ، وَأَبْلَيْتَ الْجَمِيلَ فَعَصَيْتُ، ثُمَّ عَرَفْتُ مَا أَصْدَرْتَ؟ إذْ عَرَّفْتَنِيهِ فَاسْتَغْفَرْتُ، فَأَقَلْتَ فَعُدتُ، فَسَتَرْتَ فَلَكَ إلهِي الْحَمْدُ. تَقَحَّمْتُ أَوْدِيَةَ الْهَلاَكِ، وَحَلَلْتُ شِعَابَ تَلَف تَعَرَّضْتُ فِيهَا لِسَطَوَاتِكَ، وَبِحُلُولِهَا عُقُوبَاتِكَ، وَوَسِيلَتِي إلَيْكَ التَّوْحِيدُ، وَذَرِيْعَتِي أَنِّي لَمْ أُشْرِكْ بِكَ شَيْئاً، وَلَمْ أَتَّخِذْ مَعَكَ إلهاً، وَقَدْ فَرَرْتُ إلَيْكَ بِنَفْسِي، وَإلَيْكَ مَفَرُّ الْمُسِيءِ، وَمَفْزَعُ الْمُضَيِّعِ لِحَظِّ نَفْسِهِ، الْمُلْتَجِئِ. فَكَمْ مِنْ عَدُوٍّ انْتَضى عَلَيَّ سَيْفَ عَدَاوَتِهِ، وَشَحَذَ لِيْ ظُبَةَ مُدْيَتِهِ، وَأَرْهَفَ لِي شَبَا حَدِّهِ، وَدَافَ لِيْ قَوَاتِلَ سُمُومِهِ، وَسَدَّدَ نَحْوِي صَوَائِبَ سِهَامِهِ، وَلَمْ تَنَمْ عَنِّي عَيْنُ حِرَاسَتِهِ، وَأَضْمَرَ أَنْ يَسُومَنِي الْمَكْرُوهَ وَيُجَرِّ عَنِّي زُعَافَ مَرَارَتِهِ ، فَنَظَرْتَ يا إلهِيْ إلَى ضَعْفِي عَنِ احْتِمَـالِ الْفَـوَادِحِ ، وَعَجْزِي عَنِ الانْتِصَارِ مِمَّنْ قَصَدَنِيْ بِمُحَارَبَتِهِ، وَوَحْدَتِي فِي كَثِيرِ عَدَدِ مَنْ نَاوَانِيْ وَأَرْصَدَ لِيْ بِالْبَلاءِ فِيمَا لَمْ أُعْمِلْ فِيهِ فِكْرِي، فَابْتَدَأْتَنِي بِنَصْرِكَ، وَشَدَدْتَ أَزْرِي بِقُوَّتِكَ، ثُمَّ فَلَلْتَ لِيَ حَدَّهُ، وَصَيَّرْتَهُ مِنْ بَعْدِ جَمْع عَدِيْد وَحْدَهُ، وَأَعْلَيْتَ كَعْبِي عَلَيْهِ، وَجَعَلْتَ مَا سَدَّدَهُ مَرْدُوداً عَلَيْهِ، فَرَدَدْتَهُ لَمْ يَشْفِ غَيْظَهُ، وَلَمْ يَسْكُنْ غَلِيلُهُ، قَدْ عَضَّ عَلَى شَوَاهُ، وَأَدْبَرَ مُوَلِّياً قَدْ أَخْلَفَتَ سَرَاياهُ. وَكَمْ مِنْ باغ بَغانِيْ بِمَكَائِدِهِ، وَنَصَبَ لِيْ شَرَكَ مَصَائِدِهِ، وَوَكَّلَ بِيْ تَفَقُّدَ رِعَايَتِهِ، وَأَظْبَأَ إلَيَّ إظْبَآءَ السَّبُعِ لِطَرِيْدَتِهِ، انْتِظَـاراً لانْتِهَازِ الْفُرْصَةِ لِفَرِيسَتِهِ، وَهُوَ يُظْهِرُ لِيْ بَشَاشَةَ المَلَقِ، وَيَنْظُـرُنِي عَلَى شِدَّةِ الْحَنَقِ، فَلَمَّا رَأَيْتَ يَا إلهِي تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ دَغَلْ سَرِيرَتِهِ، وَقُبْحَ مَا انْطَوى عَلَيْهِ، أَرْكَسْتَهُ لِاُمِّ رَأْسِهِ فِي زُبْيَتِهِ، وَرَدَدْتَهُ فِي مَهْوى حُفْرَتِهِ، فَانْقَمَعَ بَعْدَ اسْتِطَالَتِهِ ذَلِيلاً فِي رِبَقِ حِبالتِهِ الَّتِي كَانَ يُقَدِّرُ أَنْ يَرَانِي فِيهَا، وَقَدْ كَادَ أَنْ يَحُلَّ بِيْ لَوْلاَ رَحْمَتُكَ مَا حَلَّ بِسَاحَتِهِ. وَكَمْ مِنْ حَاسِد قَدْ شَرِقَ بِي بِغُصَّتِهِ، وَشَجِيَ مِنِّي بِغَيْظِهِ، وَسَلَقَنِي بِحَدِّ لِسَانِهِ، وَوَحَرَنِي بِقَرْفِ عُيُوبِهِ، وَجَعَلَ عِرْضِيْ غَرَضاً لِمَرَامِيهِ، وَقَلَّدَنِي خِلاَلاً لَمْ تَزَلْ فِيهِ، وَوَحَرنِي بِكَيْدِهِ، وَقَصَدَنِي بِمَكِيدَتِهِ، فَنَادَيْتُكَ يَا إلهِي مُسْتَغِيْثاً بِكَ، وَاثِقاً بِسُرْعَةِ إجَابَتِكَ، عَالِماً أَنَّهُ لاَ يُضْطَهَدُ مَنْ آوى إلَى ظِلِّ كَنَفِكَ، وَلاَ يَفْزَعُ مَنْ لَجَأَ إلَى مَعْقِل انْتِصَارِكَ، فَحَصَّنْتَنِي مِنْ بَأْسِهِ بِقُدْرَتِكَ. وَكَمْ مِنْ سَحَائِبِ مَكْرُوه جَلَّيْتَهَا عَنِّي، وَسَحَائِبِ نِعَم أَمْطَرْتَهَا عَلَيَّ، وَجَدَاوِلِ رَحْمَة نَشَرْتَهَا، وَعَافِيَة أَلْبَسْتَهَا، وَأَعْيُنِ أَحدَاث طَمَسْتَهَا، وَغَواشي كُرُبَات كَشَفْتَهَا، وَكَمْ مِنْ ظَنٍّ حَسَن حَقَّقْتَ، وَعَدَم جَبَرْتَ، وَصَرْعَة أَنْعَشْتَ وَمَسْكَنَة، حَوَّلْتَ، كُلُّ ذَلِكَ إنْعَامَاً وَتَطَوُّلاً مِنْكَ، وَفِي جَمِيعِهِ انْهِمَاكاً مِنِّي عَلَى مَعَاصِيْكَ، لَمْ تَمْنَعْكَ إساءَتِي عَنْ إتْمَامِ إحْسَانِكَ، وَلاَ حَجَرَنِي ذالِكَ عَنِ ارْتِكَابِ مَسَاخِطِكَ، لاَ تُسْأَلُ عَمَّا تَفْعَلُ، وَلَقَدْ سُئِلْتَ فَأَعْطَيْتَ، وَلَمْ تُسْأَلْ فابْتَدَأْتَ، وَاسْتُمِيحَ فَضْلُكَ فَمَا أَكْدَيْتَ، أَبَيْتَ يَا مَوْلاَيَ إلاَّ إحْسَانَـاً وَامْتِنَاناً وَتَطوُّلاً وَإنْعَامـاً ، وَأَبَيْتُ إلاَّ تَقَحُّماً لِحُرُماتِكَ، وَتَعَدِّياً لِحُدُودِكَ، وَغَفْلَةً عَنْ وَعِيدِكَ. فَلَكَ الْحَمْدُ إلهِي مِنْ مُقْتَدِر لاَ يُغْلَبُ، وَذِي أَناة لاَ تَعْجَلُ. هَذَا مَقَامُ مَنِ اعْتَرَفَ بِسبوغِ النِّعَمِ، وَقَابَلَهَا بِالتَّقْصِيرِ، وَشَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ بِالتَّضْيِيْعِ. أللَّهُمَّ فَإنِّي أَتَقَرَّبُ إلَيْكَ بِالْمُحَمَّدِيَّةِ الرَّفِيعَةِ، وَالْعَلَوِيَّةِ الْبَيْضَآءِ، وَأَتَـوَجَّهُ إلَيْكَ بِهِمَا، تُعِيذَنِيْ مِنْ شَرِّ [كَذَا وَكَذَا] فَإنَّ ذَالِكَ لا يَضِيْقُ عَلَيْكَ فِي وُجْدِكَ، وَلاَ يَتَكَأدُّكَ فِي قُدْرَتِكَ، وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْء قَدِيرٌ، فَهَبْ لِي يا إلهِي مِنْ رَحْمَتِكَ وَدَوَامِ تَوْفِيقِكَ، مَا أَتَّخِذُهُ سُلَّماً أَعْرُجُ بِهِ إلى رِضْوَانِكَ، وَآمَنُ بِهِ مِنْ عِقَابِكَ، يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ.

    دشمنوں کے مکر و فریب کے دفعیہ اور ان کی شدت و سختی کو دور کرنے کیلئے حضرتؑ کی دُعا: اے میرے معبود! تو نے میری رہنمائی کی مگر میں غافل رہا، تو نے پند و نصیحت کی مگر میں سخت دلی کے باعث متاثر نہ ہوا، تو نے مجھے عمدہ نعمتیں بخشیں مگر میں نے نافرمانی کی، پھر یہ کہ جن گناہوں سے تو نے میرا رخ موڑا جبکہ تو نے مجھے اس کی معرفت عطا کی تو میں نے (گناہوں کی برائی کو) پہچان کر توبہ و استغفار کی جس پر تو نے مجھے معاف کر دیا، اور پھر گناہوں کا مرتکب ہوا تو تو نے پردہ پوشی سے کام لیا، اے میرے معبود! تیرے ہی لئے حمد و ثنا ہے، میں ہلاکت کی وادیوں میں پھاندا، اور تباہی و بربادی کی گھاٹیوں میں اترا، ان ہلاکت خیز گھاٹیوں میں تیری قہرمانی سخت گیریوں اور ان میں در آنے سے تیری عقوبتوں کا سامنا کیا۔ تیری بارگاہ میں میرا وسیلہ تیری وحدت و یکتائی کا اقرار ہے، اور میرا ذریعہ صرف یہ ہے کہ میں نے کسی چیز کو تیرا شریک نہیں جانا، اور تیرے ساتھ کسی کو معبود نہیں ٹھہرایا، اور میں اپنی جان کو لئے تیری رحمت و مغفرت کی جانب گریزاں ہوں، اور ایک گنہگار تیری ہی طرف بھاگ کر آتا ہے، اور ایک التجا کرنے والا جو اپنے حظ و نصیب کو ضائع کر چکا ہو تیرے ہی دامن میں پناہ لیتا ہے۔ کتنے ہی ایسے دشمن تھے جنہوں نے شمشیر عداوت کو مجھ پر بے نیام کیا، اور میرے لئے اپنی چھری کی دھار کو باریک اور اپنی تندی و سختی کی باڑ کو تیز کیا، اور پانی میں میرے لئے مہلک زہروں کی آمیزش کی، اور کمانوں میں تیروں کو جوڑ کر مجھے نشانہ کی زد پر رکھ لیا، اور ان کی تعاقب کرنے والی نگاہیں مجھ سے ذرا غافل نہ ہوئیں، اور دل میں میری ایذارسانی کے منصوبے باندھتے اور تلخ جرعوں کی تلخی سے مجھے پیہم تلخ کام بناتے رہے۔ تو اے میرے معبود! ان رنج و آلام کی برداشت سے میری کمزوری، اور مجھ سے آمادہ پیکار ہونے والوں کے مقابلہ میں انتقام سے میری عاجزی، اور کثیر التعداد دشمنوں اور ایذا رسانی کیلئے گھات لگانے والوں کے مقابلہ میں میری تنہائی، تیری نظر میں تھی جس کی طرف سے میں غافل اور بے فکر تھا کہ تو نے میری مدد میں پہل اور اپنی قوت اور طاقت سے میری کمر مضبوط کی، پھر یہ کہ اس کی تیزی کو توڑ دیا، اور اس کے کثیر ساتھیوں (کو منتشر کرنے) کے بعد اسے یکہ و تنہا کر دیا، اور مجھے اس پر غلبہ و سربلندی عطا کی، اور جو تیر اس نے اپنی کمان میں جوڑے تھے وہ اسی کی طرف پلٹا دیئے، چنانچہ اس حالت میں تو نے اسے پلٹا دیا کہ نہ تو وہ اپنا غصہ ٹھنڈا کر سکا اور نہ اس کے دل کی تپش فرو ہو سکی، اس نے اپنی بوٹیاں کاٹیں، اور پیٹھ پھرا کر چلا گیا، اور اس کے لشکر والوں نے بھی اسے دغا دی۔ اور کتنے ہی ایسے ستمگر تھے جنہوں نے اپنے مکر و فریب سے مجھ پر ظلم و تعدی کی، اور اپنے شکار کے جال میرے لئے بچھائے، اور اپنی نگاہ جستجو کا مجھ پر پہرا لگا دیا، اور اس طرح گھات لگا کر بیٹھ گئے جس طرح درندہ اپنے شکار کے انتظار میں موقع کی تاک میں گھات لگا کر بیٹھتا ہے، درآنحالیکہ وہ میرے سامنے خوشامدانہ طور پر خندہ پیشانی سے پیش آتے، اور (در پردہ) انتہائی کینہ توز نظروں سے مجھے دیکھتے، تو جب اے خدائے بزرگ و برتر تو نے ان کی بد باطنی و بدسرشتی کو دیکھا تو انہیں سر کے بل انہی کے گڑھے میں الٹ دیا، اور انہیں انہی کے غار کے گہراؤ میں پھینک دیا، اور جس جال میں مجھے گرفتار دیکھنا چاہتے تھے خود ہی غرور و سربلندی کا مظاہرہ کرنے کے بعد ذلیل ہو کر اس کے پھندوں میں جا پڑے، اور سچ تو یہ ہے کہ اگر تیری رحمت شریک حال نہ ہوتی تو کیا بعید تھا کہ جو بلا و مصیبت ان پر ٹوٹ پڑی ہے وہ مجھ پر ٹوٹ پڑتی۔ اور کتنے ہی ایسے حاسد تھے جنہیں میری وجہ سے غم و غصہ کے اچھو اور غیظ و غضب کے گلو گیر پھندے لگے، اور اپنی تیز زبانی سے مجھے اذیت دیتے رہے، اور اپنے عیوب کے ساتھ مجھے متہم کر کے طیش دلاتے رہے، اور میری آبرو کو اپنے تیروں کا نشانہ بنایا، اور جن بری عادتوں میں وہ خود ہمیشہ مبتلا رہے وہ میرے سر منڈھ دیں، اور اپنی فریب کاریوں سے مجھے مشتعل کرتے، اور اپنی دغا بازیوں کے ساتھ میری طرف پر تولتے رہے، تو میں نے اے میرے اللہ تجھ سے فریاد رسی چاہتے ہوئے اور تیری جلد حاجت روائی پر بھروسا کرتے ہوئے تجھے پکارا، درآنحالیکہ یہ جانتا تھا کہ جو تیرے سایہ حمایت میں پناہ لے گا وہ شکست خوردہ نہیں ہو گا، اور جو تیرے انتقام کی پناہ گاہ محکم میں پناہ گزیں ہو گا وہ ہراساں نہیں ہو گا، چنانچہ تو نے اپنی قدرت سے ان کی شدت و شرانگیزی سے مجھے محفوظ کر دیا۔ اور کتنے ہی مصیبتوں کے ابر (جو میرے افق زندگی پر چھائے ہوئے) تھے تو نے چھانٹ دیئے، اور کتنے ہی نعمتوں کے بادل برسا دیئے، اور کتنی ہی رحمت کی نہریں بہا دیں، اور کتنے ہی صحت و عافیت کے جامے پہنا دیئے، اور کتنی ہی آلام و حوادث کی آنکھیں (جو میری طرف نگران تھیں) تو نے بے نور کر دیں، اور کتنے ہی غموں کے تاریک پردے (میرے دل پر سے) اٹھا دیئے۔ اور کتنے ہی اچھے گمانوں کو تو نے سچ کر دیا، اور کتنی ہی تہی دستیوں کا تو نے چارہ کیا، اور کتنی ہی ٹھوکروں کو تو نے سنبھالا، اور کتنی ہی ناداریوں کو تو نے (ثروت سے) بدل دیا۔ (بارالٰہا!) یہ سب تیری طرف سے انعام و احسان ہے، اور میں ان تمام واقعات کے باوجود تیری معصیتوں میں ہمہ تن منہمک رہا، (لیکن) میری بداعمالیوں نے تجھے اپنے احسانات کی تکمیل سے روکا نہیں، اور نہ تیرا فضل و احسان مجھے ان کاموں سے جو تیری ناراضگی کا باعث ہیں باز رکھ سکا، اور جو کچھ تو کرے اس کی بابت تجھ سے پوچھ گچھ نہیں ہو سکتی۔ تیری ذات کی قسم! جب بھی تجھ سے مانگا گیا تو نے عطا کیا، اور جب نہ مانگا گیا تو تو نے ازخود دیا، اور جب تیرے فضل و کرم کیلئے جھولی پھیلائی گئی تو تو نے بخل سے کام نہیں لیا، اے میرے مولا و آقا! تو نے کبھی احسان و بخشش اور تفضّل و انعام سے دریغ نہیں کیا، اور میں تیرے محرمات میں پھاندتا تیرے حدود و احکام سے متجاوز ہوتا، اور تیری تہدید و سرزنش سے ہمیشہ غفلت کرتا رہا۔ اے میرے معبود! تیرے ہی لئے حمد و ستائش ہے جو ایسا صاحب اقتدار ہے جو مغلوب نہیں ہو سکتا اور ایسا بردبار ہے جو جلدی نہیں کرتا۔ یہ اس شخص کا موقف ہے جس نے تیری نعمتوں کی فراوانی کا اعتراف کیا ہے، اور ان نعمتوں کے مقابلہ میں کوتاہی کی ہے، اور اپنے خلاف اپنی زیاں کاری کی گواہی دی ہے۔ اے میرے معبود! میں محمدﷺ کی منزلت بلند پایہ اور علی علیہ السلام کے مرتبہ روشن و درخشاں کے واسطہ سے تجھ سے تقرب کا خواستگار ہوں، اور ان دونوں کے وسیلہ سے تیری طرف متوجہ ہوں، تاکہ مجھے ان چیزوں کی برائی سے پناہ دے جن سے پناہ طلب کی جاتی ہے، اس لئے کہ یہ تیری تونگری و وسعت کے مقابلہ میں دشوار اور تیری قدرت کے آگے کوئی مشکل کام نہیں ہے، اور تو ہر چیز پر قادر ہے۔ لہٰذا تو اپنی رحمت اور دائمی توفیق سے مجھے بہرہ مند فرما کہ جسے زینہ قرار دے کہ تیری رضا مندی کی سطح پر بلند ہو سکوں، اور اس کے ذریعہ تیرے عذاب سے محفوظ رہوں، اے تمام رحم کرنے والوں میں سب سے بڑھ کر رحم کرنے والے!۔

  50. دعاء 48 خوف الہی کے سلسلے میں دعا

    50

    أَللَّهُمَّ إنَّكَ خَلَقْتَنِي سَوِيّاً، وَرَبَّيْتَنِي صَغِيراً، وَرَزَقْتَنِي مَكْفِيّاً. أَللَّهُمَّ إنِّي وَجَدْتُ فِيمَا أَنْزَلْتَ مِنْ كِتَابِكَ، وَبَشَّرْتَ بِهِ عِبَادِكَ، أَنْ قُلْتَ: (يا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لاَ تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللهِ إنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعاً) وَقَدْ تَقَدَّمَ مِنِّي مَا قَدْ عَلِمْتَ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، فَيَا سَوْأَتا مِمَّا أَحْصَاهُ عَلَيَّ كِتَابُكَ، فَلَوْلاَ الْمَوَاقِفُ الَّتِي أُؤَمِّلُ مِنْ عَفْوِكَ الَّذِي شَمِلَ كُلَّ شَيْء لاَلْقَيْتُ بِيَدِي، وَلَوْ أَنَّ أَحَداً اسْتَطاعَ الْهَرَبَ مِنْ رَبِّهِ لَكُنْتُ أَنَا أَحَقُّ بِالهَرَبِ، وَأَنْتَ لاَ تَخْفَى عَلَيْكَ خَافِيَةٌ فِي الاَرْضِ وَلاَ فِي السَّمَآءِ إلاَّ أَتَيْتَ بِهَا، وَكَفى بِكَ جَازِياً، وَكَفى بِكَ حَسِيباً. أللَّهُمَّ إنَّكَ طَالِبِي إنْ أَنَا هَرَبْتُ، وَمُدْرِكِي إنْ أَنَا فَرَرْتُ، فَهَا أَنَا ذَا بَيْنَ يَدَيْكَ خَاضِعٌ ذَلِيلٌ رَاغِمٌ، إنْ تُعَذِّبْنِي فَإنّي لِذلِكَ أَهْلٌ، وَهُوَ يَارَبِّ مِنْكَ عَدْلٌ، وَإنْ تَعْفُ عَنِّي فَقَدِيماً شَمَلَنِي عَفْوُكَ، سْتَنِي عَافِيَتَكَ. فَأَسْأَلُكَ اللَّهُمَّ بِالْمَخْزونِ مِنْ أَسْمائِكَ، وَبِمَا وَارتْهُ الْحُجُبُ مِنْ بَهَائِكَ، إلاَّ رَحِمْتَ هذِهِ النَّفْسَ الْجَزُوعَةَ، وَهَذِهِ الرِّمَّةَ الْهَلُوعَةَ، الَّتِي لاَ تَسْتَطِيعُ حَرَّ شَمْسِكَ، فَكَيْفَ تَسْتَطِيعُ حَرَّ نارِكَ؟ وَالَّتِي لاَ تَسْتَطِيعُ صَوْتَ رَعْدِكَ، فَكَيْفَ تَسْتَطِيعُ صَوْتَ غَضَبِكَ؟ فَارْحَمْنِي اللَّهُمَّ فَإنِّي امْرُؤٌ حَقِيرٌ، وَخَطَرِي يَسِيرٌ، وَلَيْسَ عَذَابِي مِمَّا يَزِيدُ فِي مُلْكِكَ مِثْقَالَ ذَرَّة، وَلَوْ أَنَّ عَذَابِي مِمَّا يَزِيدُ فِي مُلْكِكَ لَسَأَلْتُكَ الصَّبْرَ عَلَيْهِ، وَأَحْبَبْتُ أَنْ يَكُونَ ذلِكَ لَكَ، وَلكِنْ سُلْطَانُكَ اللَّهُمَّ أَعْظَمُ، وَمُلْكُكَ أَدْوَمُ مِنْ أَنْ تَزِيـدَ فِيْهِ طَاعَةُ الْمُطِيعِينَ، أَوْ تُنْقِصَ مِنْهُ مَعْصِيَةُ الْمُذْنِبِينَ. فَارْحَمْنِي يا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ، وَتَجاوَزْ عَنِّي يا ذَا الْجَلاَلِ وَالإكْرَامِ، وَتُبْ عَلَيَّ إنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ.

    خوف خدا کے سلسلہ میں حضرتؑ کی دُعا: بار الٰہا! تو نے مجھے اس طرح پیدا کیا کہ میرے اعضاء بالکل صحیح و سالم تھے، اور جب کم سن تھا تو میری پرورش کا سامان کیا، اور بے رنج و کاوش رزق دیا۔ بار الٰہا! تو نے جس کتاب کو نازل کیا اور جس کے ذریعے اپنے بندوں کو نوید و بشارت دی اس میں تیرے اس ارشاد کو دیکھا ہے کہ: ”اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، تم اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہونا۔ یقینا اللہ تمہارے تمام گناہ معاف کر دے گا“، اور اس سے پیشتر مجھ سے ایسے گناہ سرزد ہو چکے ہیں جن سے تو واقف ہے، اور جنہیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، وائے بدبختی و رسوائی ان گناہوں کے ہاتھوں جنہیں تیری کتاب قلمبند کئے ہوئے ہے، اگر تیرے ہمہ گیر عفو و درگزر کے وہ مواقع نہ ہوتے جن کا میں امیدوار ہوں تو میں اپنے ہاتھوں اپنی ہلاکت کا سامان کر چکا تھا، اگر کوئی ایک بھی اپنے پروردگار سے نکل بھاگنے پر قادر ہوتا تو میں تجھ سے بھاگنے کا زیادہ سزاوار تھا، اور تو وہ ہے جس سے زمین و آسمان کے اندر کا کوئی راز مخفی نہیں ہے مگر یہ کہ تو (قیامت کے دن) اسے لا حاضر کرے گا، تو جزا دینے اور حساب کرنے کیلئے بہت کافی ہے۔ اے اللہ! میں اگر بھاگنا چاہوں تو تو مجھے ڈھونڈ لے گا، اگر راہ گریز اختیار کروں تو تو مجھے پا لے گا، لے دیکھ میں عاجز، ذلیل اور شکستہ حال تیرے سامنے کھڑا ہوں، اگر تو عذاب کرے تو میں اس کا سزاوار ہوں، اے میرے پروردگار! یہ تیری جانب سے عین عدل ہے، اور اگر تو معاف کر دے تو تیرا عفو و درگزر ہمیشہ میرے شامل حال رہا ہے، اور تو نے صحت و سلامتی کے لباس مجھے پہنائے ہیں۔ بار الٰہا! میں تیرے ان پوشیدہ ناموں کے وسیلہ سے اور تیری اس بزرگی کے واسطہ سے جو (جلال و عظمت کے) پردوں میں مخفی ہے، تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ اس بے تاب نفس اور بے قرار ہڈیوں کے ڈھانچہ پر ترس کھا، (اس لئے کہ) جو تیرے سورج کی تپش کو برداشت نہیں کر سکتا وہ تیرے جہنم کی تیزی کو کیسے برداشت کرے گا، اور جو تیرے بادل کی گرج سے کانپ اٹھتا ہے وہ تیرے غضب کی آواز کو کیسے سن سکتا ہے۔ لہٰذا میرے حالِ زار پر رحم فرما اس لئے کہ اے میرے معبود! میں ایک حقیر فرد ہوں جس کا مرتبہ پست تر ہے، اور مجھ پر عذاب کرنا تیری سلطنت میں ذرّہ بھر اضافہ نہیں کر سکتا،اور اگر مجھے عذاب کرنا تیری سلطنت کو بڑھا دیتا تو میں تجھ سے عذاب پر صبر و شکیبائی کا سوال کرتا اور یہ چاہتا کہ وہ اضافہ تجھے حاصل ہو، لیکن اے میرے معبود! تیری سلطنت اس سے زیادہ عظیم اور اس سے زیادہ دوام پذیر ہے کہ فرمانبرداروں کی اطاعت اس میں کچھ اضافہ کر سکے، یا گنہگاروں کی معصیت اس میں سے کچھ گھٹا سکے، تو پھر اے تمام رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والے! مجھ پر رحم فرما، اور اے جلال و بزرگی والے! مجھ سے درگزر کر اور میری توبہ قبول فرما، بے شک تو توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

  51. دعاء 49 عجز و زاری کے سلسلہ میں دعا

    51

    إلهِي أَحْمَـدُكَ ـ وَأَنْتَ لِلْحَمْدِ أَهْلٌ ـ عَلَى حُسْنِ صَنِيعِكَ إلَيَّ، وَسُبُـوغِ نَعْمَآئِكَ عَلَيَّ، وَجَزِيْلِ عَطَآئِكَ عِنْدِي، وَعَلَى ما فَضَّلْتَنِي مِنْ رَحْمَتِكَ، وَأَسْبَغْتَ عَلَيَّ مِنْ نِعْمَتِكَ، فَقَدِ اصْطَنَعْتَ عِنْدِي ما يَعْجِزُ عَنُهُ شُكْرِي، وَلَوْلاَ إحْسَانُكَ، إلَيَّ وَسُبُوغُ نَعْمَآئِـكَ عَلَيَّ مَا بَلَغْتُ إحْرازَ حَظِّي، وَلاَ إصْلاَحَ نَفْسِي، وَلكِنَّكَ ابْتَدَأْتَنِي بِالإحْسَانِ، وَرَزَقْتَنِي فِي أُمُورِي كُلِّهَا الْكِفَايَةَ، وَصَرَفْتَ عَنِّي جَهْدَ الْبَلاءِ، وَمَنَعْتَ مِنِّي مَحْذُورَ الْقَضَآءِ إلهِي فَكَمْ مِنْ بَلاء جَاهِد قَدْ صَرَفْتَ عَنِّي، وَكَمْ مِنْ نِعْمَة سَابِغَة أَقْرَرْتَ بِهَا عَيْنِي، وَكَمْ مِنْ صَنِيعَة كَرِيمَة لَكَ عِنْدِي. أَنْتَ الَّذِي أَجَبْتَ عِنْدَ الاضْطِرَارِ دَعْوَتِي، وَأَقَلْتَ عِنْدَ الْعِثَارِ زَلَّتِي، وَأَخَذْتَ لِي مِنَ الاَعْدَآءِ بِظُلاَمَتِي. إلهِي مَا وَجَدْتُكَ بَخِيلاً حِينَ سَأَلْتُكَ، وَلاَ مُنْقَبِضاً حِينَ أَرَدْتُكَ، بل وَجَدْتُكَ لِدُعَآئِي سَامِعاً، وَلِمَطَالِبِي مُعْطِياً، وَوَجَدْتُ نُعْمَاكَ عَلَيَّ سَابِغَةً، فِي كُلِّ شَأْن مِنْ شَأْنِي، وَكُلِّ زَمَان مِنْ زَمَانِي، فَأَنْتَ عِنْدِي مَحْمُودٌ، وَصَنِيعُكَ لَدَيَّ مَبْرُورٌ، تَحْمَدُكَ نَفْسِي وَلِسَانِيْ وَعَقْلِي حَمْداً يَبْلُغُ الوَفَآءَ وَحَقِيقَةَ الشُّكْرِ، حَمْداً يَكُونُ مَبْلَغَ رِضَاكَ عَنِّي، فَنَجِّنِي مِنْ سَخَطِكَ يَا كَهْفِي حِينَ تُعْيينِي الْمَذَاهِبُ، وَيَا مُقيلِي عَثْرَتِي، فَلَوْلاَ سَتْرُكَ عَوْرَتِي لَكُنْتُ مِنَ الْمَفْضُوحِينَ، وَيَا مُؤَيِّدِي بِالنَّصْرِ، فَلَوْلاَ نَصْرُكَ إيَّايَ لَكُنْتُ مِنَ الْمَغْلُوبِينَ، وَيَا مَنْ وَضَعَتْ لَهُ الْمُلُوكُ نِيرَ الْمَذَلَّةِ عَلى أَعْنَاقِهَا، فَهُمْ مِنْ سَطَواتِهِ خَائِفُونَ، وَيَا أَهْلَ التَّقْوَى، وَيَا مَنْ لَهُ الأَسْمَآءُ الْحُسْنى أَسْأَلُكَ أَنْ تَعْفُوَ عَنِّي، وَتَغْفِرَ لِي فَلَسْتُ، بَرِيئاً فَأَعْتَذِرَ، وَلاَ بِذِي قُوَّة فَأَنْتَصِرَ، وَلاَ مَفَرَّ لِي فَأَفِرَّ. وَأَسْتَقِيْلُكَ عَثَراتِي، وَأَتَنَصَّلُ إلَيْكَ مِنْ ذُنُوبِي الَّتِي قَدْ أَوْبَقَتْنِي، وَأَحَاطَتْ بِي فَأَهْلَكَتْنِي، مِنْهَا فَرَرْتُ إلَيْكَ رَبِّ تَائِباً، فَتُبْ عَلَيَّ مُتَعَوِّذاً، فَأَعِذْنِي مُسْتَجِيراً، فَلاَ تَخْذُلْنِي سَآئِلاً، فَلاَ تَحْرِمْنِي مُعْتَصِماً، فَلاَ تُسْلِمْنِي دَاعِياً، فَلاَ تَرُدَّنِي خَائِباً، دَعوْتُكَ يَارَبِّ مِسْكِيناً، مُسْتَكِيناً، مُشْفِقاً، خَائِفاً، وَجِلاً، فَقِيراً، مُضْطَرّاً، إلَيْكَ أَشْكُو إلَيْكَ يَا إلهِي ضَعْفَ نَفْسِي عَنِ الْمُسَارَعَةِ فِيمَا وَعَدْتَهُ أَوْلِيَآءَكَ، وَالْمُجَانَبَةِ عَمَّا حَذَّرْتَهُ أَعْدَآءَكَ، وَكَثْرَةَ هُمُومِي وَوَسْوَسَةَ نَفْسِي . إلهِي لَمْ تَفْضَحْنِي بِسَرِيرَتِي، وَلَمْ تُهْلِكْنِي بِجَرِيرَتِي، أَدْعُوكَ فَتُجِيبُنِي وَإنْ كُنْتُ بَطِيئاً حِيْنَ تَدْعُونِي. وَأَسْأَلُكَ كُلَّمَا شِئْتُ مِنْ حَوَائِجِي، وَحَيْثُ مَا كُنْتُ وَضَعْتُ عِنْدَكَ سِرِّي، فَلاَ أَدْعُو سِوَاكَ، وَلاَ أَرْجُو غَيْرَكَ، لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ، تَسْمَعُ مَنْ شَكَا إلَيْكَ، وَتَلْقى مَنْ تَوَكَّلَ عَلَيْكَ، وَتُخَلِّصُ مَنِ اعْتَصَمَ بِكَ، وَتُفَرِّجُ عَمَّنْ لاذَ بِكَ. إلهِي فَلاَ تَحْرِمْنِي خَيْرَ الآخِرَةِ وَالأُولى لِقِلَّةِ شُكْرِي، وَاغْفِرْ لِي مَا تَعْلَمُ مِنْ ذُنُوبِي، إنْ تُعَذِّبْ فَأَنَا الظَّالِمُ، الْمُفَرِّطُ، الْمُضَيِّعُ، الاثِمُ، الْمُقَصِّرُ، الْمُضْجِعُ، الُمُغْفِلُ حَظَّ نَفْسِي، وَإنْ تَغْفِرْ فَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ.

    تضرع و فروتنی کے سلسلہ میں حضرت ؑ کی دُعا: اے میرے معبود! میں تیری حمد و ستائش کرتا ہوں اور تو حمد و ستائش کا سزاوار ہے، اس بات پر کہ تو نے میرے ساتھ اچھا سلوک کیا، مجھ پر اپنی نعمتوں کو کامل اور اپنے عطیوں کو فراواں کیا، اور اس بات پر کہ تو نے اپنی رحمت کے ذریعہ مجھے زیادہ سے زیادہ دیا، اور اپنی نعمتوں کو مجھ پر تمام کیا، چنانچہ تو نے مجھ پر وہ احسانات کئے ہیں۔ جن کے شکریہ سے قاصر ہوں، اور اگر تیرے احسانات مجھ پر نہ ہوتے اور تیری نعمتیں مجھ پر فراواں نہ ہوتیں تو میں نہ اپنا حظ و نصیب فراہم کر سکتا تھا اور نہ نفس کی اصلاح و درستی کی حد تک پہنچ سکتا تھا، لیکن تو نے میرے حق میں اپنے احسانات کا آغاز فرمایا اور میرے تمام کاموں میں مجھے ( دوسروں سے) بے نیازی عطا کی، رنج و بلا کی سختی مجھ سے ہٹا دی اور جس حکم قضا کا اندیشہ تھا اسے مجھ سے روک دیا۔ اے میرے معبود! کتنی بلا خیز مصیبتیں تھیں جنہیں تو نے مجھ سے دور کر دیا، اور کتنی ہی کامل نعمتیں تھیں جن سے تو نے میری آنکھوں کی خنکی و سرور کا سامان کیا، اور کتنے ہی تو نے مجھ پر بڑے احسانات فرمائے ہیں، تو وہ ہے جس نے حالت اضطرار میں میری دُعا قبول کی، اور (گناہوں میں) گرنے کے موقع پر میری لغزش سے درگزر کیا، اور دشمنوں سے میرے ظلم و ستم سے چھنے ہوئے حق کو لے لیا۔ بار الٰہا!میں نے جب بھی تجھ سے سوال کیا تجھے بخیل اور جب بھی تیری بارگاہ کا قصد کیا تجھے رنجیدہ نہیں پایا، بلکہ تجھے اپنی دُعا کی نسبت سننے والا اور اپنے مقاصد کا بر لانے والا ہی پایا، اور میں نے اپنے احوال میں سے ہر حال میں اور اپنے زمانۂ (حیات) کے ہر لمحہ میں تیری نعمتوں کو اپنے لئے فراواں پایا، لہٰذا تو میرے نزدیک قابل تعریف اور تیرا احسان لائق شکریہ ہے، میرا جسم (عملاً)، میری زبان (قولاً) اور میری عقل ( اعتقاداً) تیری حمد و سپاس کرتی ہے، ایسی حمد جو حد کمال اور انتہائے شکر پر فائز ہو، ایسی حمد جو میرے لئے تیری خوشنودی کے برابر ہو، لہٰذا مجھے اپنی ناراضگی سے بچا۔ اے میرے پناہ گاہ جبکہ (متفرق)راستے مجھے خستہ و پریشان کر دیں، اے میری لغزشوں کے معاف کرنے والے! اگر تو میری پردہ پوشی نہ کرتا تو میں یقیناً رسوا ہونے والوں میں سے ہوتا، اے اپنی مدد سے مجھے تقویت دینے والے! اگر تیری مدد شریک حال نہ ہوتی تو میں مغلوب و شکست خوردہ لوگوں میں سے ہوتا۔ اے وہ جس کی بارگاہ میں شاہوں نے ذلت و خواری کا جوا اپنی گردن میں ڈال لیا ہے اور وہ اس کے غلبہ و اقتدار سے خوف زدہ ہیں! اے وہ جو تقویٰ کا سزاوار ہے!اے وہ کہ حسن و خوبی والے نام بس اسی کیلئے ہیں! میں تجھ سے خواستگار ہوں کہ مجھ سے درگزر فرما اور مجھے بخش دے، کیونکہ میں بے گناہ نہیں ہوں کہ عذر خواہی کروں، اور نہ طاقتور ہوں کہ غلبہ پا سکوں، اور نہ گریز کی کوئی جگہ ہے کہ بھاگ سکوں، میں تجھ سے اپنی لغزشوں کی معافی چاہتا ہوں اور ان گناہوں سے جنہوں نے مجھے ہلاک کر دیا ہے اور مجھے اس طرح گھیر لیا ہے کہ مجھے تباہ کر دیا ہے، توبہ و معذرت کرتا ہوں، میں اے میرے پروردگار! ان گناہوں سے توبہ کرتے ہوئے تیری طرف بھاگ کھڑا ہوں، تو اب میری توبہ قبول فرما، تجھ سے پناہ چاہتا ہوں مجھے پناہ دے، تجھ سے امان مانگتا ہوں مجھے خوار نہ کر، تجھ سے سوال کرتا ہوں مجھے محروم نہ کر، تیرے دامن سے وابستہ ہوں مجھے میرے حال پر چھوڑ نہ دے، اور تجھ سے دُعا مانگتا ہوں لہٰذا مجھے ناکام نہ پھیر۔ اے میرے پروردگار! میں نے ایسے حال میں کہ میں بالکل مسکین، عاجز، خوف زدہ، ترساں، ہراساں، بے سرو سامان اور لاچار ہوں تجھے پکارا ہے، اے میرے معبود! میں اس اجر و ثواب کی جانب جس کا تو نے اپنے دوستوں سے وعدہ کیا ہے جلدی کرنے، اور اس عذاب سے جس سے تو نے اپنے دشمنوں کو ڈرایا ہے دوری اختیار کرنے سے اپنی کمزوری اور ناتوانی کا گلہ کرتا ہوں، نیز افکار کی زیادتی اور نفس کی پریشان خیالی کا شکوہ کرتا ہوں۔ اے میرے معبود! تو میری باطنی حالت کی وجہ سے مجھے رسوا نہ کرنا، اور میرے گناہوں کے باعث مجھے تباہ و برباد نہ ہونے دینا، میں تجھے پکارتا ہوں تو تو مجھے جواب دیتا ہے، اور جب تو مجھے بلاتا ہے تو میں سستی کرتا ہوں، اور میں جو حاجت رکھتا ہوں تجھ سے طلب کرتا ہوں، اور جہاں کہیں ہوتا ہوں اپنے راز دلی تیرے سامنے آشکارا کرتا ہوں، اور تیرے سوا کسی کو نہیں پکارتا، اور نہ تیرے علاوہ کسی سے آس رکھتا ہوں، حاضر ہوں، میں حاضر ہوں! جو تجھ سے شکوہ کرے تو اس کا شکوہ سنتا ہے، اور جو تجھ پر بھروسا کرے اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے، اور جو تیرا دامن تھام لے اسے (غم و فکر سے) رہائی دیتا ہے، اور جو تجھ سے پناہ چاہے اس سے غم و اندوہ کو دور کر دیتا ہے۔ اے میرے معبود! میرے ناشکرے پن کی وجہ سے مجھے دنیا و آخرت کی بھلائی سے محروم نہ کر، اور میرے وہ گناہ جو تیرے علم میں ہیں بخش دے، اور اگر تو سزا دے تو اس لئے کہ میں ہی حد سے تجاوز کرنے والا، سست قدم، زیاں کار، عاصی، تقصیر پیشہ، غفلت شعار اور اپنے حظ و نصیب میں لاپرواہی کرنے والا ہوں، اور اگر تو بخش دے تو اس لئے کہ تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔

  52. دعاء 50 تضرع و الحاح کے سلسلہ میں دعا

    52

    يَا أَللهُ الَّذِي لاَ يَخْفَى عَلَيْهِ شَيْءٌ فِي الأَرْضِ وَلاَ فِي السَّمَآءِ، وَكَيْفَ يَخْفى عَلَيْكَ يَا إلهِي مَا أَنْتَ خَلَقْتَهُ؟ وَكَيْفَ لاَ تُحْصِي مَا أَنْتَ صَنَعْتَهُ؟ أَوْ كَيْفَ يَغِيبُ عَنْكَ مَا أَنْتَ تُدَبِّرُهُ؟ أَوْ كَيْفَ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَهْرُبَ مِنْكَ مَنْ لاَ حَياةَ لَهُ إلاَّ بِرِزْقِكَ؟ أَوْ كَيْفَ يَنْجُو مِنْكَ مَنْ لاَ مَذْهَبَ لَهُ فِي غَيْرِ مُلْكِكَ؟ سُبْحَانَكَ! أَخْشى خَلْقِكَ لَكَ أَعْلَمُهُمْ بِكَ، وَأَخْضَعُهُمْ لَكَ أَعْمَلُهُمْ بِطَاعَتِكَ، وَأَهْوَنُهُمْ عَلَيْكَ مَنْ أَنْتَ تَرْزُقُهُ وَهُوَ يَعْبُدُ غَيْرَكَ، سُبْحَانَكَ! لاَ يُنْقِصُ سُلْطَانَكَ مَنْ أَشْرَكَ بِكَ، وَكَذَّبَ رُسُلَكَ، وَلَيْسَ يَسْتَطِيعُ مَنْ كَرِهَ قَضَآءَكَ أَنْ يَرُدَّ أَمْرَكَ، وَلاَ يَمْتَنِعُ مِنْكَ مَنْ كَذَّبَ بِقُدْرَتِكَ، وَلاَ يَفُوتُكَ مَنْ عَبَدَ غَيْرَكَ، وَلاَ يُعَمَّرُ فِي الدُّنْيَا مَنْ كَرِهَ لِقَآءَكَ. سُبْحَانَكَ! مَا أَعْظَمَ شَأْنَكَ، وَأَقْهَرَ سُلْطَانَكَ، وَأَشَدَّ قُوَّتَكَ، وَأَنْفَذَ أَمْرَكَ! سُبْحَانَكَ! قَضَيْتَ عَلَى جَمِيعِ خَلْقِكَ الْمَوْتَ: مَنْ وَحَّدَكَ وَمَنْ كَفَرَ بِكَ، وَكُلٌّ ذَائِقُ المَوْتِ، وَكُلٌّ صَائِرٌ إلَيْكَ، فَتَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، لاَ إلهَ إلاَّ أَنْتَ، وَحْدَكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ، آمَنْتُ بِكَ، وَصَدَّقْتُ رُسُلَكَ وَقَبِلْتُ كِتَابَكَ، وَكَفَرْتُ بِكُلِّ مَعْبُود غَيْرِكَ، وَبَرِئْتُ مِمَّنْ عَبَدَ سِوَاكَ. أللَّهُمَّ إنِّي أُصْبحُ وَأُمْسِي مُسْتَقِلاًّ لِعَمَلِي، مُعْتَرِفاً بِذَنْبِي، مُقِرَّاً بِخَطَايَايَ، أَنَا بِإسْرَافِي عَلَى نَفْسِي ذَلِيلٌ، عَمَلِي أَهْلَكَنِي، وَهَوَايَ أَرْدَانِي، وَشَهَوَاتِي حَرَمَتْنِي. فَأَسْأَلُكَ يَا مَوْلاَيَ سُؤالَ مَنْ نَفْسُهُ لاَهِيَةٌ لِطُولِ أَمَلِهِ، وَبَدَنُهُ غَافِلٌ لِسُكُونِ عُرُوقِهِ، وَقَلْبُهُ مَفْتُونٌ بِكَثْرَةِ النِّعَمِ عَلَيْهِ، وَفِكْرُهُ قَلِيلٌ لِمَا هُوَ صَائِرٌ إلَيْهِ، سُؤَالَ مَنْ قَدْ غَلَبَ عَلَيْهِ الاَمَلُ، وَفَتَنَهُ الْهَوى، وَاسْتَمْكَنَتْ مِنْهُ الدُّنْيَا، وَأَظَلَّهُ الاَجَلُ، سُؤَالَ مَنِ اسْتَكْثَرَ ذُنُوبَهُ، وَاعْتَرَفَ بِخَطِيئَتِهِ، سُؤَالَ مَنْ لاَ رَبَّ لَهُ غَيْرُكَ، وَلاَ وَلِيَّ لَهُ دُونَكَ، وَلاَ مُنْقِذَ لَهُ مِنْكَ، وَلاَ مَلْجَأَ لَهُ مِنْكَ إلاَّ إلَيْكَ . إلهِي أسْأَلُكَ بِحَقِّكَ الْـوَاجِبِ عَلَى جَمِيعِ خَلْقِكَ، وَبِاسْمِكَ الْعَظِيْمِ الَّذِي أَمَرْتَ رَسُولَكَ أَنْ يُسَبِّحَكَ بِهِ، وَبِجَلاَلِ وَجْهِكَ الْكَرِيمِ الذِي لاَ يَبْلى وَلاَ يَتَغَيَّرُ، وَلاَ يَحُولُ وَلاَ يَفْنى، أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى مُحَمَّد وَآلِ مُحَمَّد، وَأَنْ تُغْنِيَنِي عَنْ كُلِّ شَيْء بِعِبادَتِكَ، وَأَنْ تُسَلِّيَ نَفْسِيْ عَنِ الدُّنْيَا بِمَخَافَتِكَ، وَأَنْ تُثْنِيَنِي بِالْكَثِيْرِ مِنْ كَرَامَتِكَ بِرَحْمَتِكَ، فَإلَيْكَ أَفِرُّ، و مِنْكَ أَخَافُ، وَبِكَ أَسْتَغِيثُ، وَإيَّاكَ أَرْجُو، وَلَكَ أَدْعُو، وَإلَيْكَ أَلْجَأُ، وَبِكَ أَثِقُ، وَإيَّاكَ أَسْتَعِينُ، وَبِكَ أُؤمِنُ، وَعَلَيْكَ أَتَوَكَّلُ، وَعَلَى جُودِكَ وَكَرَمِكَ أَتَّكِلُ.

    اللہ تعالی سے طلب و الحاح کے سلسلہ میں حضرت ؑدُعا: اے وہ معبود! جس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے، چاہے زمین میں ہو چاہے آسمان میں، اور اے میرے معبود! وہ چیزیں جنہیں تو نے پیدا کیا ہے وہ تجھ سے کیونکر پوشیدہ رہ سکتی ہیں؟ اور جن چیزوں کو تو نے بنایا ہے ان پر کس طرح تیرا علم محیط نہ ہو گا؟ اور جن چیزوں کی تو تدبیر و کارسازی کرتا ہے وہ تیری نظروں سے کس طرح اوجھل رہ سکتی ہیں؟ اور جس کی زندگی تیرے رزق سے وابستہ ہو وہ تجھ سے کیونکر راہ گریز اختیار کر سکتا ہے؟ یا جسے تیرے ملک کے علاوہ کہیں راستہ نہ ملے وہ کس طرح تجھ سے آزاد ہو سکتا ہے؟۔ پاک ہے تو! جو تجھے زیادہ جاننے والا ہے وہی سب مخلوقات سے زیادہ تجھ سے ڈرنے والا ہے، اور جو تیرے سامنے سرافگندہ ہے وہی سب سے زیادہ تیرے فرمان پر کاربند ہے، اور تیری نظروں میں سب سے زیادہ ذلیل و خوار وہ ہے جسے تو روزی دیتا ہے اور وہ تیرے علاوہ دوسرے کی پرستش کرتا ہے۔ پاک ہے تو! جو تیرا شریک ٹھہرائے اور تیرے رسولوں کو جھٹلائے وہ تیری سلطنت میں کمی نہیں کر سکتا، اور جو تیرے حکم قضا و قدر کو ناپسند کرے وہ تو تیرے فرمان کو پلٹا نہیں سکتا، اور جو تیری قدرت کا انکار کرے وہ تجھ سے اپنا بچاؤ نہیں کر سکتا، اور جو تیرے علاوہ کسی اور کی عبادت کرے وہ تجھ سے بچ نہیں سکتا، اور جو تیری ملاقات کو ناگوار سمجھے وہ دنیا میں زندگی جاوید حاصل نہیں کر لیتا۔ پاک ہے تو! تیری شان کتنی عظیم، تیرا اقتدار کتنا غالب، تیری قوت کتنی مضبوط اور تیرا فرمان کتنا نافذ ہے۔ تو پاک و منزہ ہے! تو نے تمام خلق کیلئے موت کا فیصلہ کیا ہے، کیا کوئی تجھے یکتا جانے اور کیا کوئی تیرا انکار کرے، سب ہی موت کی تلخی چکھنے والے اور سب ہی تیری طرف پلٹنے والے ہیں، تو بابرکت اور بلند و برتر ہے، کوئی معبود نہیں مگر تو، تو ایک اکیلا ہے اور تیرا کوئی شریک نہیں ہے،میں تجھ پر ایمان لایا ہوں، تیرے رسولوں کی تصدیق کی ہے، تیری کتاب کو مانا ہے، تیرے علاوہ ہر معبود کا انکار کیا ہے، اور جو تیرے علاوہ دوسرے کی پرستش کرے اس سے بیزاری اختیار کی ہے۔ بار الٰہا! میں اس عالم میں صبح و شام کرتا ہوں کہ اپنے اعمال کو کم تصور کرتا، اپنے گناہوں کا اعتراف اور اپنی خطاؤں کا اقرار کرتا ہوں، میں اپنے نفس پر ظلم و زیادتی کے باعث ذلیل و خوار ہوں، میرے کردار نے مجھے ہلاک اور ہوائے نفس نے تباہ کر دیا ہے اور خواہشات نے (نیکی و سعادت سے) بے بہرہ کر دیا ہے۔ اے میرے مالک !میں تجھ سے ایسے شخص کی طرح سوال کرتا ہوں جس کا نفس طولانی امیدوں کے باعث غافل، جسم صحت و تن آسانی کی وجہ سے بے خبر، دل نعمت کی فراوانی کے سبب خواہشوں پر وارفتہ اور فکر انجام کار کی نسبت کم ہو، میرا سوال اس شخص کے مانند ہے جس پر آرزوؤں نے غلبہ پا لیا ہو، جسے خواہشات نفس نے ورغلایا ہو، جس پر دنیا مسلط ہو چکی ہو اور جس کے سر پر موت نے سایہ ڈال دیا ہو، میرا سوال اس شخص کے سوال کے مانند ہے جو اپنے گناہوں کو زیادہ سمجھتا اور اپنی خطاؤں کا اعتراف کرتا ہو، میرا سوال اس شخص کا سا سوال ہے جس کا تیرے علاوہ کوئی پروردگار اور تیرے سوا کوئی ولی و سرپرست نہ ہو، اور جس کا تجھ سے کوئی بچانے والا، اور نہ اس کیلئے تجھ سے سوا تیری طرف رجوع ہونے کے کوئی پناہ گاہ ہو۔ بار الٰہا! میں تیرے اس حق کے واسطہ سے جو تیرے مخلوقات پر لازم و واجب ہے، اور تیرے اس بزرگ نام کے واسطہ سے جس کے ساتھ تو نے اپنے رسول کو تسبیح کرنے کا حکم دیا، اور تیری ذات بزرگوار کی بزرگی و جلالت کے وسیلہ سے کہ جو نہ کہنہ ہوتی ہے نہ متغیر نہ تبدیل ہوتی ہے نہ فنا، تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ تو محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور مجھے اپنی عبادت کے ذریعہ ہر چیز سے بے نیاز کر دے، اور اپنے خوف کی وجہ سے دنیا سے دل برداشتہ بنا دے، اور اپنی رحمت سے بخشش و کرامت کی فراوانی کے ساتھ مجھے واپس کر، اس لئے کہ میں تیری ہی طرف گریزاں، اور تجھ ہی سے ڈرتا ہوں، اور تجھ ہی سے فریاد رسی چاہتا ہوں، اور تجھ ہی سے امید رکھتا ہوں، اور تجھے ہی پکارتا ہوں، اور تجھ ہی سے پناہ چاہتا ہوں، اور تجھ ہی پر بھروسا کرتا ہوں، اور تجھ ہی سے مدد چاہتا ہوں، اور تجھ ہی پر ایمان لایا ہوں، اور تجھ ہی پر توکل رکھتا ہوں، اور تیرے ہی جود و کرم پر اعتماد کرتا ہوں۔

  53. دعاء 51 عجز و فروتنی کے سلسلہ میں دعا

    53

    رَبِّ أَفْحَمَتْنِيْ ذُنُوبِي، وَانْقَطَعَتْ مَقَالَتِي، فَلاَ حُجَّةَ لِي، فَأَنَا الأَسِيـرُ بِبَلِيَّتِي، الْمُـرْتَهَنُ بِعَمَلِي، الْمُتَرَدِّدُ فِي خَطِيئَتِي، الْمُتَحَيِّرُ عَنْ قَصْدِي، الْمُنْقَطَعُ بِي، قَدْ أَوْقَفْتُ نَفْسِي مَوْقِفَ الأَذِلاَّءِ الْمُذْنِبِينَ، مَوْقِفَ الأَشْقِيآءِ الْمُتَجَرِّينَ عَلَيْكَ، الْمُسْتَخِفِّينَ بِوَعْدِكَ. سُبْحَانَكَ! أَيَّ جُرْأَة اجْتَرَأْتُ عَلَيْكَ؟ وَأَيَّ تَغْرِير غَرَّرْتُ بِنَفْسِي مَوْلاَيَ إرْحَمْ كَبْوَتِيْ لِحُرِّ وَجْهِي، وَزَلَّةَ قَدَمِي، وَعُدْ بِحِلْمِكَ عَلَى جَهْلِي، وَبِإحْسَانِكَ عَلَى إسَآءَتِي، فَأَنَا الْمُقِرُّ بِذَنْبِي، الْمُعْتَرِفُ بِخَطِيئَتِي، وَهَذِهِ يَدِيْ وَنَاصِيَتِي، أَسْتَكِينُ بِالْقَـوْدِ مِنْ نَفْسِي . إرْحَمْ شَيْبَتِي، وَنَفَادَ أَيَّامِي، وَاقْتِرَابَ أَجَلِي، وَضَعْفِي، وَمَسْكَنَتِي، وَقِلَّةَ حِيلَتِي. مَوْلاَيَ وَارْحَمْنِي إذَا انْقَطَعَ مِنَ الدُّنْيَا أَثَرِي، وَامَّحى مِنَ الْمَخْلُوقِينَ ذِكْرِي، وَكُنْتُ فِي الْمَنْسِيِّينَ، كَمَنْ قَدْ نُسِيَ. مَوْلاَيَ وَارْحَمْنِي عِنْدَ تَغَيُّرِ صُورَتِي وَحَالِي إذَا بَلِيَ جِسْمِي، وَتَفَرَّقَتْ أَعْضَائِي، وَتَقَطَّعَتْ أَوْصَالِيْ، يا غَفْلَتِي عَمَّا يُرَادُ بِيَ. مَوْلاَيَ وَارْحَمْنِي فِي حَشْرِي وَنَشْرِي، وَاجْعَل فِي ذَلِكَ الْيَومِ مَعَ أَوْلِيَآئِكَ مَوْقِفِي، وَفِي أَحِبَّائِكَ مَصْدَرِي، وَفِي جِوَارِكَ مَسْكَنِي يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ.

    اللہ تعالیٰ کے حضور تذلل و عاجزی کے سلسلہ میں حضرت ؑکی دُعا: اے میرے پروردگار! میرے گناہوں نے مجھے (عذر خواہی سے ) چپ کر دیا ہے، میری گفتگو بھی دم توڑ چکی ہے، تو اب میں کوئی عذر و حجت نہیں رکھتا، اس طرح میں اپنے رنج و مصیبت میں گرفتار اپنے اعمال کے ہاتھوں میں گروی، اپنے گناہوں میں حیران و پریشان، مقصد سے سرگردان اور منزل سے دور افتادہ ہوں، میں نے اپنے کو ذلیل گنہگاروں کے موقف پر لاکھڑا کیا ہے، ان بدبختوں کے موقف پر جو تیرے مقابلہ میں جرأت دکھانے والے، اور تیرے وعدہ کو سرسری سمجھنے والے ہیں۔ پاک ہے تیری ذات! میں نے کس جرأت و دلیری کے ساتھ تیرے مقابلہ میں جرأت کی ہے، اور کس تباہی و بربادی کے ساتھ اپنی ہلاکت کا سامان کیا ہے۔ اے میرے مالک! میرے منہ کے بل گرنے اور قدموں کے ٹھوکر کھانے پر رحم فرما، اور اپنے حلم سے میری جہالت و نادانی کو اور اپنے احسان سے میری خطا و بداعمالی کو بخش دے، اس لئے کہ میں اپنے گناہوں کا مقر اور اپنی خطاؤں کا معترف ہوں، یہ میرا ہاتھ اور یہ میری پیشانی کے بال (تیرے قبضۂ قدرت میں) ہیں، میں نے عجز و سرافگندگی کے ساتھ اپنے کو قصاص کیلئے پیش کر دیا ہے، بارالٰہا! میرے بڑھاپے، زندگی کے دنوں کے بیت جانے، موت کے سر پر منڈ لانے اور میری ناتوانی، عاجزی اور بیچارگی پر رحم فرما۔ اے میرے مالک! جب دنیا سے میرا نام و نشان مٹ جائے، اور لوگوں (کے دلوں) سے میری یاد محو ہو جائے، اور ان لوگوں کی طرح جنہیں بھلا دیا جاتا ہے میں بھی بھلا دیئے جانے والوں میں سے ہو جاؤں، تو مجھ پر رحم فرمانا۔ اے میرے مالک! میری صورت و حالت کے بدل جانے کے وقت جب میرا جسم کہنہ، اعضاء درہم و برہم اور جوڑ و بند الگ الگ ہو جائیں تو مجھ پر ترس کھانا، ہائے میری غفلت و بے خبری اس سے جو اب میرے لئے چاہا جا رہا ہے۔ اے میرے مولا! حشر و نشر کے ہنگام مجھ پر رحم کرنا، اور اس دن میرا قیام اپنے دوستوں کے ساتھ، اور (موقف حساب سے محل جزا کی طرف) میری واپسی اپنے دوستداروں کے ہمراہ، اور میری منزل اپنی ہمسائیگی میں قرار دینا، اے تمام جہانوں کے پروردگار۔

  54. دعاء 52 رنج و اندوہ کے دور ہونے کی دعا

    54

    يَا فَارِجَ الْهَمِّ وَكَاشِفَ الغَمِّ، يَا رَحْمنَ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَرَحِيمَهُمَا، صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِ مُحَمَّد، وَافْرُجْ هَمِّيَ، وَاكْشِفْ غَمِّيَ، يَا وَاحِدُ يَا أَحَدُ، يَا صَمَدُ، يَامَنْ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُواً أَحَدٌ، اعْصِمْنِي وَطَهِّرْنِي، وَاْذهِبْ بِبَلِيَّتِي. [وَاقْرَأْ آيَةَ الْكُرسِيّ وَالْمُعَوِّذَتَيْنِ وَقُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ وَقُلْ:] أَللَّهُمَّ إنِّيْ أَسْأَلُكَ سُؤَالَ مَنِ اشْتَدَّتْ فَاقَتُهُ، وَضَعُفَتْ قُوَّتُهُ، وَكَثُرَتْ ذُنُوبُهُ، سُؤَالَ مَنْ لاَ يَجِدُ لِفَاقَتِهِ مُغِيْثاً، وَلاَ لِضَعْفِهِ مُقَوِّياً، وَلاَ لِذَنْبِهِ غَافِراً غَيْرَكَ، يَا ذَا الْجَلاَلِ وَالإكْرَامِ. أَسْأَلُكَ عَمَلاً تُحِبُّ بِهِ مَنْ عَمِلَ بِهِ، وَيَقِيناً تَنْفَعُ بِهِ مَنِ اسْتَيْقَنَ بِهِ حَقَّ الْيَقِينِ فِيْ نَفَاذِ أَمْرِكَ. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِ مُحَمَّد، وَاقْبِضَ عَلَى الصِّدْقِ نَفْسِي، وَاقْطَعْ مِنَ الدُّنْيَا حَاجَتِي، وَاجْعَلْ فِيمَا عِنْدَكَ رَغْبَتِي، شَوْقاً إلَى لِقَائِكَ، وَهَبْ لِي صِدْقَ التَّوَكُّلِ عَلَيْكَ . أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ كِتَاب قَدْ خَلاَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كِتَاب قَدْ خَلاَ أَسْأَلُكَ خَوْفَ الْعَابِدِينَ لَكَ، وَعِبَادَةَ الْخَاشِعِينَ لَكَ، وَيَقِيْنَ الْمُتَوَكِّلِينَ عَلَيْكَ، وَتَوَكُّلَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَيْكَ. أَللَّهُمَّ اجْعَلْ رَغْبَتِي فِي مَسْأَلَتِي مِثْلَ رَغْبَةِ أَوْلِيَآئِكَ فِي مَسَائِلِهِمْ، وَرَهْبَتِيْ مِثْلَ رَهْبَةِ أَوْلِيَآئِكَ، وَاسْتَعْمِلْنِي فِي مَرْضَاتِكَ، عَمَلاً لاَ أَتْرُكُ مَعَهُ شَيْئاً مِنْ دِيْنِكَ مَخَافَةَ أَحْد مِنْ خَلْقِكَ. أللَّهُمَّ هَذِهِ حَاجَتِي، فَأَعْظِمْ فِيهَا رَغْبَتِي، وَأَظْهِرْ فِيهَا عُذْرِي، وَلَقِّنِي فِيهَا حُجَّتِي وَعَافِ فِيْهَا جَسَدِيْ. أللَّهُمَّ مَنْ أَصْبَحَ لَهُ ثِقَةٌ أَوْ رَجَآءٌ غَيْرُكَ، فَقَدْ أَصْبَحْتُ وَأَنْتَ ثِقَتِي وَرَجَآئِي فِي الأُمُورِ كُلِّهَا، فَاقْضِ لِيْ بِخَيْرِهَا عَاقِبَةً، وَنَجِّنِيْ مِنْ مُضِلاَّتِ الْفِتَنِ، بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ. وَصَلَّى اللهُ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّد رُسُولِ اللهِ المُصْطَفَى، وَعَلَى آلِهِ الطَّاهِرِينَ.

    غم و اندوہ سے نجات حاصل کرنے کیلئے حضرت ؑ کی دُعا: اے رنج و اندوہ کے برطرف کرنے والے اور غم و الم کے دور کرنے والے! اے دُنیا و آخرت میں رحم کرنے والے اور دونوں جہانوں میں مہربانی فرمانے والے! تو محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور میری بےچینی کو دور اور میرے غم کو برطرف کر دے۔ اے اکیلے! اے یکتا! اے بے نیاز! اے وہ جس کی کوئی اولاد نہیں اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ اس کا کوئی ہمسر ہے! میری حفاظت فرما، اور مجھے (گناہوں سے) پاک رکھ، اور میرے رنج و الم کو دور کر دے۔ {اس مقام پر آیت الکرسی، قُل اعوذ بربّ النّاس، قل اعوذ بربّ الفلق اور قل ھو اللہ احد پڑھو اور یہ کہو:} بار الٰہا! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس شخص کا سا سوال جس کی احتیاج شدید، قوت و توانائی ضعیف اور گناہ فراوان ہوں، اس شخص کا سا سوال جسے اپنی حاجت کے موقع پر کوئی فریاد رس، جسے اپنی کمزوری کے عالم میں کوئی پشت پناہ، اور جسے تیرے علاوہ اے جلالت و بزرگی والے! کوئی گناہوں کا بخشنے والا دستیاب نہ ہو، (بار الٰہا!) میں تجھ سے اس عمل (کی توفیق) کا سوال کرتا ہوں کہ جو اس پر عمل پیرا ہو تو اسے دوست رکھے، اور ایسے یقین کا کہ جو اس کے ذریعہ تیرے فرمان قضا پر پوری طرح متیقن ہو تو اس کے باعث تو اسے فائدہ و منفعت پہنچائے۔ اے اللہ محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور مجھے حق و صداقت پر موت دے، اور دنیا سے میری حاجت و ضرورت کا سلسلہ ختم کر دے، اور اپنی ملاقات کے جذبہ اشتیاق کی بنا پر اپنے ہاں کی چیزوں کی طرف میری خواہش و رغبت قرار دے، اور مجھے اپنی ذات پر صحیح اعتماد و توکل کی توفیق عطا فرما، میں تجھ سے سابقہ نوشتہ تقدیر کی بھلائی کا طالب ہوں اور سابقہ سرنوشتِ تقدیر کی برائی سے پناہ مانگتا ہوں، میں تیرے عبادت گزار بندوں کے خوف، عجز و فروتنی کرنے والوں کی عبادت، توکل کرنے والوں کے یقین اور ایمان داروں کے اعتماد و توکل کا تجھ سے خواستگار ہوں۔ بار الٰہا! طلب و سوال میں میری خواہش و رغبت کو ایسا ہی قرار دے جیسی طلب و سوال میں تیرے دوستوں کی تمنا و خواہش ہوتی ہے، اور میرے خوف کو بھی اپنے دوستوں کے خوف کے مانند قرار دے، اور مجھے اپنی رضا و خوشنودی میں اس طرح بر سر عمل رکھ کہ میں تیرے مخلوقات میں سے کسی ایک کے خوف سے تیرے دین کی کسی بات کو ترک نہ کروں۔ اے اللہ! یہ میری حاجت ہے اس میں میری توجہ و رغبت کو عظیم کر دے، میرے عذر کو آشکارا کر، اور اس کے بارے میں مجھے دلیل و حجت کی تعلیم کر، اور اس میں میرے جسم کو صحت و سلامتی بخش۔ اے اللہ! جسے بھی تیرے سوا دوسرے پر بھروسا یا امید ہو تو میں اس عالم میں صبح کرتا ہوں کہ تمام امور میں تو ہی اعتماد و امید کا مرکز ہوتا ہے، لہٰذا جو امور بلحاظ انجام بہتر ہوں وہ میرے لئے نافذ فرما، اور مجھے اپنی رحمت کے وسیلہ سے گمراہ کرنے والے فتنوں سے چھٹکارا دے، اے تمام رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔ اور اللہ رحمت نازل کرے ہمارے سیّد و سردار، فرستادۂ خدا محمد مصطفیٰ ﷺ پر اور ان کی پاک و پاکیزہ آلؑ پر۔

  55. 55-تسبیح و تقدیس کے سلسلہ میں

    55

    سُبْحَانَكَ اَللّٰهُمَّ وَحَنَانَيْكَ سُبْحَانَكَ اَللّٰهُمَّ وَتَعَالَيْتَ سُبْحَانَكَ اَللّٰهُمَّ وَ الْعِزُّ اِزَارُكَ سُبْحَانَكَ اَللّٰهُمَّ وَالْعَظَمَةُ رِدآؤُكَ سُبْحَانَكَ اَللّٰهُمَّ وَالْكِبْرِيَآءُ سُلْطَانُكَ سُبْحَانَكَ مِنْ عَظِيْمِ مَا أَعْظَمَكَ سُبْحَانَكَ سُبِّحْتَ فِيْ الْمَلَاِ الْأَعْلٰى، تَسْمَعُ وَتَرٰى مَا تَحْتَ الثَّرٰى سُبْحَانَكَ اَنْتَ شَاهِدُ كُلِّ نَجْوٰى سُبْحَانَكَ مَوْضِعُ كُلِّ شَكْوٰى سُبْحَانَكَ حَاضِرُ كُلِّ مَلَاٍ سُبْحَانَكَ عَظِيمُ الرَّجآءِ سُبْحَانَكَ تَرٰى مَا فِيْ قَعْرِ الْمَآءِ سُبْحَانَكَ تَسْمَعُ أَنْفَاسَ الْحِيْتَانِ فِيْ قُعُوْرِ الْبِحَارِ سُبْحَانَكَ تَعْلَمُ وَزْنَ السَّمَوَاتِ سُبْحَانَكَ تَعْلَمُ وَزْنَ الْاَرَضِيْنَ سُبْحَانَكَ تَعْلَمُ وَزْنَ الشَّمْسِ وَ الْقَمَرِ سُبْحَانَكَ تَعْلَمُ وَزْنَ الظُّلْمَةِ وَالنُّوْرِ سُبْحَانَكَ تَعْلَمُ وَزْنَ الْفَيْءِ وَالْهَوَآءِ سُبْحَانَكَ تَعْلَمُ وَزْنَ الرِّيْحِ كَمْ هِيَ مِنْ مِثْقَالِ ذَرَّةٍ سُبْحَانَكَ قُدُّوْسٌ قُدُّوْسٌ قُدُّوْسٌ سُبْحَانَكَ عَجَبًا مَنْ عَرَفَكَ كَيْفَ لَا يَخَافُكَ سُبْحَانَكَ اَللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ سُبْحَانَكَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ. رَوَى الزُّهْرِيْ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قالَ كَانَ الْقَوْمُ لَا يَخْرُجُوْنَ مِنْ مَكَّةَ حَتّٰى يَخْرُجَ عَلِيٌّ بْنُ الْحُسَيْنِ سَيِّدُ الْعَابِدِيْنَ، فَخَرَجَ وَ خَرَجْتُ مَعَهٗ فَنَزَلَ فِيْ بَعْضِ الْمَنَازِلِ فَصَلّٰى رَكْعَتَيْنِ، فَسَبَّحَ فِيْ سُجُوْدِهٖ - يَعْنِيْ بِهٰذَا التَّسْبِيْحِ فَلَمْ يَبْقَ شَجَرٌ وَ لَا مَدَرٌ اِلاَّ سَبَّحَ مَعَهٗ، فَفَزِعْنَا، فَرَفَعَ رَأسَهٗ، فَقَالَ: يَا سَعِيْدُ أَ فَزِعْتَ فَقُلْتُ: نَعَمْ يَا ابْنَ رَسُولِ اللهِ فَقَالَ: هٰذَا التَّسْبِيْحُ الْاَعْظَمُ، حَدَّثَنِيْ أَبِيْ عَنْ جَدِّيْ عَنْ رَسُوْلِ اللهِ: لَا تَبْقَى الذُّنُوْبُ مَعَ هٰذَا التَّسْبِيْحِ، وَ أَنَّ اللهَ جَلَّ جَلَالُهٗ لَمَّا خَلَقَ جَبْرَئِيْلَ أَلْهَمَهٗ هٰذَا التَّسْبِيْحَ، وَ هُوَ اسْمُ اللهِ الْأَكْبَرُ.

    اے میرے معبود! میں تیری تسبیح کرتا ہوں تو مجھ پر کرم بالائے کرم فرما،بارِ الٰہا! میں تیری تسبیح کرتا ہوں اور تو بلند و برتر ہے، خدایا! میں تیری تسبیح کرتا ہوں اور عزت تیرا ہی جامہ ہے، بارِ الٰہا! میں تیری تسبیح کرتا ہوں اور عظمت تیری ہی ردا ہے، اے پروردگار !میں تیری تسبیح کرتا ہوں اور کبریائی تیری دلیل و حجت ہے، پاک ہے تو اے عظیم و برتر تو کتنا عظمت والا ہے۔ پاک ہے تو! اے وہ کہ ملاء اعلیٰ کے رہنے والوں میں تیری تسبیح کی گئی ہے، جو کچھ تہِ خاک ہے تو اُسے سنتا اور دیکھتا ہے۔ پاک ہے تیری ذات! تو ہر راز دارانہ گفتگو پر مطلع ہے، پاک ہے تو! اے وہ جو ہر رنج و شکوہ کے پیش کرنے کی جگہ ہے۔ پاک ہے تو! اے وہ جو ہر اجتماع میں موجود ہے، پاک ہے تو اے وہ جس سے بڑی سے بڑی امیدیں باندھی جاتی ہیں، پاک ہے تو! جو کچھ پانی کی گہرائی میں ہے اُسے تو دیکھتا ہے، پاک ہے تیری ذات! تو سمندروں کی گہرائیوں میں مچھلیوں کے سانس لینے کی آواز سنتا ہے۔ پاک ہے تیری ذات! تو آسمانوں کا وزن جانتا ہے، پاک ہے تیری ذات! تو زمینوں کے وزن سے باخبر ہے، پاک ہے تیری ذات! تو سورج اور چاند کے وزن سے واقف ہے، پاک ہے تیری ذات! تو تاریکی اور روشنی کے وزن سے آگاہ ہے، پاک ہے تیری ذات تو سایہ اور ہوا کا وزن جانتا ہے، پاک ہے تیری ذات! تو ہوا کے(ہر جھونکے کے) وزن سے آگاہ ہے کہ وہ وزن میں کتنے ذرّوں کے برابر ہے۔ پاک ہے تیری ذات! تو (تصور و خیال و وہم میں آنے سے) پاک، منزہ اور بری ہے، میں تیری تسبیح کرتا ہوں، تعجب ہے کہ جس نے تجھے پہچانا وہ کیونکر تجھ سے خوف نہیں کھاتا، اے اللہ! میں حمد و ثنا کے ساتھ تیری پاکیزگی بیان کرتا ہوں، پاک ہے وہ پروردگار جو علو و عظمت والا ہے۔

  56. 56-بزرگی و عظمت الٰہی کے بیان میں

    56

    اَلْحَمْدُ لِلهِ الَّذِيْ تَجَلّٰى لِلْقُلُوْبِ بِالْعَظَمَةِ وَ احْتَجَبَ عَنِ الْاَبْصَارِ بِالْعِزَّةِ وَاقْتَدَرَ عَلَى الْاَشْيآءِ بِالْقُدْرَةِ فَلَا الْاَبْصَارُ تَثْبُتُ لِرُؤْيَتِهٖ وَ لَا الْاَوْهَامُ تَبْلُغُ كُنْهَ عَظَمَتِهٖ تَجَبَّرَ بالْعَظَمَةِ وَ الْكِبْرِيآءِ وَ تَعَطَّفَ بِالْعِزِّ وَ الْبِرِّ وَ الْجَلَالِ وَ تَقَدَّسَ بِالْحُسْنِ وَ الْجَمَالِ وَ تَمَجَّدَ بِالْفَخْرِ وَ الْبَهآءِ وَ تَجَلَّلَ بِالْمَجْدِ وَ الْآلَآءِ وَ اسْتَخْلَصَ بِالنَّوْرِ وَ الضِّيَآءِ خَالِقٌ لَا نَظِيْرَ لَهٗ وَ اَحَدٌ لَا نِدَّ لَهٗ وَ وَاحِدٌ لَا ضِدَّ لَهٗ وَ صَمَدٌ لَا كُفْوَ لَهٗ وَ اِلٰهٌ لَا ثَانِيَ مَعَهٗ وَ فَاطِرٌ لَا شَرِيْكَ لَهٗ وَ رَازِقٌ لَا مُعِيْنَ لَهٗ وَ الْاَوَّلُ بِلَا زَوَالٍ وَ الدَّآئِمُ بِلَا فَنَاءٍ وَ الْقَائِمُ بِلَا عَنَآءٍ وَ الْمُؤْمِنُ بِلَا نِهَايَةٍ وَ الْمُبْدِئُ بِلَا اَمَدٍ وَ الصَّانِعُ بِلَا اَحَدٍ وَ الرَّبُّ بِلَا شَرِيْكٍ وَ الْفَاطِرُ بِلَا كُلْفَةٍ وَ الْفَعَّالُ بِلَا عَجْزٍ لَيْسَ لَهٗ حَدٌّ فِيْ مَكَانٍ وَ لَا غَايَةٌ فِيْ زَمَانٍ لَمْ يَزَلْ وَ لَا يَزُوْلُ وَ لَنْ يَزَالَ كَذٰلِكَ اَبَدًا هُوَ الْاِلٰهُ الْحَيُّ الْقَيُّوْمُ الدَّآئِمُ الْقَدِيْمُ الْقَادِرُ الْحَكِيْمُ اِلٰهِيْ عُبَيْدُكَ بِفِنَآئِكَ سَآئِلُكَ بِفِنَآئِكَ فَقِيْرُكَ بِفِنَآئِكَ (ثَلَاثًا) اِلٰهِيْ لَكَ يَرْهَبُ الْمُتَرَهِّبُوْنَ وَ اِلَيْكَ اَخْلَصَ الْمُسْتَهِلُّوْنَ رَهْبَةً لَكَ وَ رَجَآءً لِعَفْوِكَ يَا اِلٰهَ الْحَقِّ ارْحَمْ دُعَآءَ الْمُسْتَصْرِخِيْنَ وَاعْفُ عَنْ جَرَآئِمِ الْغَافِلِيْنَ وَ زِدْ فِيْ اِحْسَانِ الْمُنِيْبِيْنَ يَوْمَ الْوُفُوْدِ عَلَيْكَ يَا كَرِيْمُ

    تمام تعریف اس اللہ کیلئے ہے جو اپنی عظمت کے ساتھ دلوں پر روشن و درخشاں ہے، اور اپنی عزت کے ساتھ آنکھوں سے پنہاں ہے، اور تمام چیزوں پر اپنے اقتدار سے قابو رکھتا ہے، نہ آنکھیں اس کے دیدار کی تاب لا سکتی ہیں اور نہ عقلیں اس کی عظمت کی حد تک پہنچ سکتی ہیں۔ وہ اپنی عظمت و بزرگی کے ساتھ ہر چیز پر غالب ہے، اور عزت و احسان و جلالت کی رِدا اوڑھے ہوئے ہے، حسن و جمال کے ساتھ نقائص سے بری ہے، اور فخر و سر بلندی کے ساتھ شرف و بزرگی کا مالک ہے، اور خیر و بخشش کی فراوانی اور (عطائے) نعمات سے خوش ہوتا ہے، اور نور و روشنی کے ساتھ (تمام عالم سے) امتیاز رکھتا ہے۔ وہ ایسا خالق ہے جس کا کوئی نظیر نہیں، وہ ایسا یکتا ہے جس کا کوئی مثل نہیں، وہ ایسا یگانہ ہے جس کا کوئی مد مقابل نہیں، وہ ایسا بے نیاز ہے جس کا کوئی ہمسر نہیں، وہ خدا جس کا کوئی دوسرا نہیں، وہ پیدا کرنے والا ہے جس کا کوئی شریکِ کار نہیں،وہ رزق دینے والا ہے جس کا کوئی مددگار نہیں۔ وہ ایسا اوّل ہے جسے زوال نہیں، وہ ایسا باقی و جاوید ہے جسے فنا نہیں، وہ دائم و قائم ہے بغیر کسی رنج و مشقت کے، وہ امن و امان کا بخشنے والا ہے بغیر کسی حد و نہایت کے، وہ ایجاد کرنے والا ہے بغیر کسی مدت کی حد بندی کے، وہ صانع و بغیر کسی ایک (کی اعانت) کے، وہ پروردگار ہے بغیر کسی شریک کے، وہ پیدا موجد ہے کرنے والا ہے بغیر کسی زحمت و دشواری کے، وہ کام کرنے والا ہے بغیر عجز و درماندگی کے۔ اس کی کوئی حد نہیں مکان میں، اور نہ اس کی کوئی انتہا ہے زمانہ میں، وہ ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گا، یونہی ہمیشہ ہمیشہ، اسے کبھی زوال نہ ہو گا، وہی خدا ہے جو زندہ،قائم و دائم، قدیم، قادر اور علم و حکمت والا ہے۔ بار الٰہا! تیرا ایک بندۂ حقیر تیرے ساحتِ قدس میں حاضر ہے، تیرا سائل تیرے آستانہ پر حاضر ہے، تیرا محتاج و دست نگر تیری بارگاہ میں حاضر ہے۔ {ان تینوں جملوں کو تین مرتبہ دہرائے} اے میرے اللہ! تجھ ہی سے عبادت گزار ڈرتے ہیں، اور تیرے خوف اور اُمید و عفو و بخشش کے پیش نظر عاجزی سے التجا کرنے والے تجھ سے لو لگاتے ہیں۔ اے سچے معبود! استغاثہ و فریاد کرنے والوں کی پکار پر رحم فرما، اور غفلت میں گرفتار ہونے والوں کے گناہوں سے درگزر فرما، اور اے کریم! اپنی بارگاہ میں توبہ کرنے والوں کے ساتھ اس دن کہ جب وہ تیرے سامنے پیش ہوں نیکی اور احسان میں اضافہ فرما۔

  57. 58-حضرتؑ کی دُعا جو ذکر آلِ محمد (ع) پر مشتمل ہے:

    57

    اَللّٰهُمَّ يَامَن خَصَّ مُحَمَّدًا وَآلَهٗ بِالْكَرَامَةِ وَ حَبَاهُمْ بِالرِّسَالَةِ وَ خَصَّصْهُمْ بِالْوَسِيْلَةِ وَ جَعَلَهُمْ وَرَثَةَ الْاَنْبِيَآءِ وَ خَتَمَ بِهِمُ الْاَوْصِيَآءَ وَ الْاَئِمَّةَ وَ عَلَّمَهُمْ عِلْمَ مَا كَانَ وَ عِلْمَ مَا بَقِيَ وَ جَعَلَ أَفْئِدَةً مِنَ النَّاسِ تَهْوِي اِلَيْهِمْ فَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الطَّاهِرِيْنَ وَ افْعَلْ بِنَا مَا اَنْتَ أَهْلُهٗ فِي الدِّيْنِ وَ الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ.

    اے اللہ! اے وہ جس نے محمدﷺ اور اُن کی آلؑ کو عزت و بزرگی کے ساتھ مخصوص کیا، اور جنہیں منصبِ رسالت عطا کیا، اور وسیلہ بنا کر امتیازِ خاص بخشا، جنہیں انبیاء علیہم السلام کا وارث قرار دیا، اور جن کے ذریعہ اوصیاء اور آئمہ علیہم السلام کا سلسلہ ختم کیا، جنہیں گزشتہ و آئندہ کا علم سکھایا، اور لوگوں کے دلوں کو جن کی طرف مائل کیا۔ بار الٰہا! محمدﷺ اور اُن کی پاک و پاکیزہ آلؑ پر رحمت نازل فرما اور ہمارے ساتھ دین، دنیا اور آخرت میں وہ برتاؤ کر جس کا تو سزاوار ہے، یقیناً تو ہر چیز پر قادر و توانا ہے۔

  58. 59-حضرت آدم (ع) پر درود و صلوات کے سلسلہ میں

    58

    اَللّٰهُمَّ وَآدَمُ بَدِيْعُ فِطْرَتِكَ وَ أَوَّلُ مُعْتَرِفٍ مِّنَ الطِّيْنِ بِرُبُوْبِيَّتِكَ وَبَدْوُ حُجَّتِكَ عَلٰى عِبَادِكَ وَبَرِيَّتِكَ وَالدَّلِيْلُ عَلَى الْاِسْتِجَارَةِ بِعَفْوِكَ مِنْ عُقُوْبَتِكَ وَ النَّاهِجُ سُبُلَ تَوْبَتِكَ وَ الْمُوَسَّلُ بَيْنَ الْخَلْقِ وَ بَيْنَ مَعْرِفَتِكَ وَ الَّذِيْ لَقَّنْتَهٗ مَا رَضَيْتَ بِهٖ عَنْهُ بِمَنِّكَ عَلَيْهِ وَ رَحْمَتِكَ وَ الْمُنِيْبُ الَّذِيْ لَمْ يُصِرَّ عَلٰى مَعْصِيَتِكَ وَ سَآبِقُ الْمُتَذَلِّلِيْنَ بِحَلْقِ رَأْسِهٖ فِيْ حَرَمِكَ وَ الْمُتَوَسِّلُ بَعْدَ الْمَعْصِيَةِ بِالطَّاعَةِ اِلٰى عَفْوِكَ وَ أَبُوْ الْاَنْبِيَآءِ الَّذِيْنَ اُوْذُوْا فِي جَنْبِكَ وَ اَكْثَرُ سُكَّانِ الْاَرْضِ سَعْيًا فِي طَاعَتِكَ فَصَلِّ عَلَيْهِ اَنْتَ يَا رَحْمٰنُ وَ مَلَائِكَتُكَ وَ سُكَّانُ سَمٰوَاتِكَ وَ أَرْضِكَ كَمَا عَظَّمَ حُرُمَاتِكَ وَ دَلَّنَا عَلٰى سَبِيْلِ مَرْضَاتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ.

    بار الٰہا! وہ آدمؑ جو تیری آفرینش کے نقش بدیع، اور خاک سے پیدا ہونے والوں میں تیری ربوبیت کے پہلے معترف، اور تیرے بندوں اور تیری مخلوقات پر تیری پہلی حجت، اور تیرے عذاب سے تیرے دامن عفو میں پناہ مانگنے کی راہ دکھانے والے، اور تیری بارگاہ میں توبہ کی راہیں آشکارا کرنے والے، اور تیری معرفت اور تیرے مخلوقات کے درمیان وسیلہ بننے والے ہیں۔ وہ کہ جن پر خصوصی کرم و احسان اور مہربانی کرتے ہوئے انہیں وہ تمام باتیں بتلا دیں جن کے ذریعے تُو ان سے راضی و خوشنود ہوا، وہ کہ جو توبہ و انابت کرنے والے ہیں، جنہوں نے تیری معصیت پر اصرار نہیں کیا، جو تیرے حرم میں سر منڈوا کر عجز و فروتنی کرنے والوں میں سابق ہیں، وہ جو مخالفت کے بعد اطاعت کے وسیلہ سے تیرے عفو و کرم کے خواہشمند ہوئے، اور اُن تمام انبیاء علیہ السلام کے باپ ہیں جنہوں نے تیری راہ میں اذیتیں اٹھائیں، اور زمین پر بسنے والوں میں سب سے زیادہ تیری اطاعت و بندگی میں سعی و کوشش کرنے والے ہیں۔ ان پر اے مہربانی کرنے والے تو اپنی جانب سے، اور اپنے فرشتوں اور زمین و آسمان میں بسنے والوں کی طرف سے، رحمت نازل فرما، جس طرح انہوں نے تیری قابلِ احترام چیزوں کی عظمت ملحوظ رکھی، اور تیری خوشنودی و رضامندی کی طرف ہماری رہنمائی کی، اے تمام رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔

  59. 60-کرب و مصیبت سے تحفظ اور لغزش و خطا سے معافی کیلئے

    59

    اِلٰهِيْ لَا تُشْمِتْ بِي عَدُوِّي وَلَا تَفْجَعْ بِيْ حَمِيْمِيْ وَ صَدِيْقِيْ اِلٰهِيْ هَبْ لِي لَحْظَةً مِنْ لَحَظَاتِكَ تَكْشِفُ عَنِّيْ مَا ابْتَلَيْتَنِيْ بِهٖ وَتُعِيدُنِي إلَى أَحْسَنِ عَادَاتِكَ عِنْدِيْ وَاسْتَجِبْ دُعَائِيْ وَدُعَاءَ مَنْ أَخْلَصَ لَكَ دُعآءَهٗ فَقَدْ ضَعُفَتْ قُوَّتِيْ وَقَلَّتْ حِيْلَتِيْ وَاشْتَدَّتْ حَالِيْ وَأَيِسْتُ مِمَّا عِنْدَ خَلْقِكَ فَلَمْ يَبْقَ لِيْ اِلَّا رَجَآؤُكَ عَلَيَّ اِلٰهِيْ اِنَّ قُدْرَتَكَ عَلٰى كَشْفِ مَا اَنَا فِيْهِ كَقُدْرَتِكَ عَلٰى مَا ابْتَلَيْتَنِيْ بِهٖ وَ اِنَّ ذِكْرَ عَوَآئِدِكَ يُوْنِسُنِيْ وَالرَّجآءُ فِيْ اِنْعَامِكَ وَفَضْلِكَ يُقَوِّيْنِيْ لاَِنِّيْ لَمْ أَخْلُ مِنْ نِعْمَتِكَ مُنْذُ خَلَقْتَنِيْ وَ اَنْتَ اِلٰهِيْْ مَفْزَعِيْ وَمَلْجَايَ وَالْحَافِظُ لِيْ وَالذَّآبُّ عَنِّيْ الْمُتَحَنِّنُ عَلَيَّ الرَّحِيْمُ بِيَ الْمُتَكَفِّلُ بِرِزْقِيْ فِيْ قَضَآئِكَ كَانَ مَا حَلَّ بِيْ وَ بِعِلْمِكَ مَا صِرْتُ اِلَيْهِ فَاجْعَلْ يا وَلِيِّيْ وَ سَيِّدِيْ فِيْمَا قَدَّرْتَ وَ قَضَيْتَ عَلَيَّ وَحَتَمْتَ عَافِيَتِيْ وَ مَا فِيْهِ صَلَاحِيْ وَ خَلَاصِيْ مِمَّا اَنَا فِيْهِ فَاِنِّيْ لَا اَرْجُو لِدَفْعِ ذلِكَ غَيْرَكَ وَلَا أَعْتَمِدُ فِيْهِ اِلَّا عَلَيْكَ فَكُنْ يا ذَا الْجَلَالِ وَالاِكْرَامِ عِنْدَ اَحْسَنِ ظَنِّيْ بِكَ وَ ارْحَمْ ضَعْفِيْ وَقِلَّةَ حِيْلَتِيْ وَ اكْشِفْ كُرْبَتِيْ وَ اسْتَجِبْ دَعْوَتِيْ وَ اَقِلْنِيْ عَثْرَتِيْ وَ امْنُنْ عَلَيَّ بِذٰلِكَ وَ عَلٰى كُلِّ دَاعٍ لَكَ اَمَرْتَنِيْ يَا سَيِّدِيْ بِالدُّعَآءِ وَ تَكَفَّلْتَ بِالْاِجَابَةِ وَوَعْدُكَ الْحَقُّ الَّذِيْ لَا خُلْفَ فِيْهِ وَلا تَبْدِيْلَ فَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ نَبِيِّكَ وَ عَبْدِكَ وَعَلَى الطَّاهِرِيْنَ مِنْ اَهْلِ بَيْتِهٖ وَ اَغِثْنِيْ فَإنَّكَ غِيَاثُ مَنْ لَا غِيَاثَ لَهٗ وَحِرْزُ مَنْ لَا حِرْزَ لَهٗ وَ اَنَا الْمُضْطَرُّ الَّذِيْ اَوْجَبْتَ اِجَابَتَهُ وَكَشْفَ مَا بِهٖ مِنَ السُّوْ ءِ فَاَجِبْنِيْ وَاكْشِفْ هَمِّيْ وَفَرِّجْ غَمِّيْ وَ اَعِدْ حَالِيْ اِلٰى اَحْسَنِ مَا كَانَتْ عَلَيْهِ وَ لَا تُجَازِنِيْ بِالْاِسْتِحْقَاقِ وَ لٰكِنْ بِرَحْمَتِكَ الَّتِيْ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ يَا ذَا الْجَلَالِ وَ الْاِكْرَامِ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَ اسْمَعْ وَ اَجِبْ يَا عَزِيْزُ

    اے میرے معبود! میرے دشمنوں کو میری حالت پر دل میں خوش ہونے کا موقع نہ دے اور میری وجہ سے میرے کسی مخلص و دوست کو رنجیدہ خاطر نہ کر۔ بارالٰہا! اپنی نظر عنایات میں سے ایسی نظر توجہ میرے شاملِ حال فرما جس سے تو ان مصیبتوں کو مجھ سے ٹال دے جن میں مجھے مبتلا کیا ہے، اور ان احسانات کی طرف مجھے پلٹا دے جن کا مجھے خوگر بنایا ہے، اور میری دُعا اور ہر اُس شخص کی دُعا کو جو صدقِ نیت سے تجھے پکارے قبول فرما، کیونکہ میری قوت کمزور، چارہ جوئی کی صورت ناپید اور حالت سخت سے سخت تر ہو گئی ہے، اور جو کچھ تیرے مخلوقات کے پاس ہے اس سے میں بالکل نا اُمید ہوں، اب تو تیری پہلی نعمتوں کے دوبارہ حاصل ہونے میں تیری اُمید کے علاوہ کوئی صورت باقی نہیں رہی۔ اے میرے معبود! جن رنج و آلام میں گرفتار ہوں ان سے چھٹکارا دلانے پر تو ایسا ہی قادر ہے جیسا ان چیزوں پر قدرت رکھتا ہے جن میں مجھے مبتلا کیا ہے، بے شک تیرے احسانات کی یاد میرا دل بہلاتی اور تیرے انعام و تفضل کی اُمید میری ہمت بندھاتی ہے، اس لئے کہ جب سے تو نے مجھے پیدا کیا ہے میں تیری نعمتوں سے محروم نہیں رہا، اور تو ہی اے میرے معبود! میری پناہ گاہ، میرا ملجاء، میرا محافظ و پشت پناہ،میرے حال پر شفیق و مہربان اور میرے رزق کا ذمہ دار ہے، جو مصیبت مجھ پر وارد ہوئی ہے وہ تیرے فیصلہ قضاء و قدر میں اور جو میری موجودہ حالت ہے وہ تیرے علم میں گزر چکی تھی۔ تو اے میرے مالک و سردار! جن چیزوں کو تیرے فیصلہ قضاء و قدر نے میرے حق میں طے کیا اور لازم و ضروری قرار دیا ہے، ان چیزوں میں سے میری عافیت، اور وہ چیز جس سے میری بہبودی اور جس حالت میں ہوں اس سے رہائی وابستہ ہے، قرار دے، کیونکہ میں اس مصیبت کے ٹالنے میں کسی پر اُمید نہیں رکھتا، اور نہ اس سلسلہ میں تیرے علاوہ کسی پر بھروسا کرتا ہوں۔ تو اے جلالت و بزرگی کے مالک! میرے اس حسنِ ظن کے مطابق ثابت ہو جو مجھے تیرے بارے میں ہے، اور میری کمزوری و بے چارگی پر رحم فرما، میری بے چینی کو دور کر، میری دُعا قبول فرما، میری خطا و لغزش کو معاف کر دے، اور مجھ پر اور جو بھی تجھ سے دُعا مانگے عفو و درگزر کر کے احسان فرما۔ اے میرے مالک! تو نے مجھے دُعا کا حکم دیا اور قبولیتِ دُعا کا ذمہ لیا، اور تیرا وعدہ ایسا سچا ہے جس میں خلاف ورزی و تبدیلی کی گنجائش نہیں ہے۔ تو اپنے نبی اور عبدِ خاص محمد ﷺ اور اُن کے اہل بیت اطہارؑ پر رحمت نازل فرما اور میری فریاد کو پہنچ، کیونکہ تو ان کا فریاد رس ہے جن کا کوئی فریاد رس نہ ہو، اور ان کیلئے پناہ ہے جن کیلئے کوئی پناہ نہ ہو، میں ہی وہ مضطر و لاچار ہوں جس کی دُعا قبول کرنے اور اس کے دکھ درد کے دور کرنے کا تو نے التزام کیا ہے، لہٰذا میری دُعا کو قبول فرما، میرے غم کو دور اور میرے رنج و اندوہ کو برطرف فرما، اور میری حالت کو پہلی حالت سے بھی بہتر حالت کی طرف پلٹا دے، اور مجھے استحقاق کے بقدر اجر نہ دے، بلکہ اپنی اس رحمت کے لحاظ سے جزا دے جو تمام چیزوں پر چھائی ہوئی ہے۔ اے جلالت و بزرگی کے مالک! تو رحمت نازل فرما محمدؐ اور آل محمدؑ پر اور میری دُعا کو سن اور اسے قبول فرما، اے غالب! اے صاحب اقتدار!

  60. 61-خوف و خطر کے موقع پر

    60

    اِلٰهِيْ اِنَّهٗ لَيْسَ يَرُدُّ غَضَبَكَ اِلَّا حِلْمُكَ وَلَا يُنْجِيْ مِنْ عِقَابِكَ اِلَّا عَفْوُكَ وَلَا يُخَلِّصُ مِنْكَ اِلَّا رَحْمَتُكَ وَ التَّضَرُّعُ اِلَيْكَ فَهَبْ لِيْ يَا اِلٰهِيْ فَرَحًا بِالْقُدْرَةِ الَّتِيْ بِهَا تُحْيِيْ مَيْتَ الْبِلَادِ وَ بِهَا تَنْشُرُ اَرْوَاحَ الْعِبَادِ وَلا تُهْلِكْنِيْ وَ عَرِّفْنِيْ الْاِجَابَةَ يَارَبِّ وَ ارْفَعْنِيْ وَ لَا تَضَعْنِيْ وَ انْصُرْنِيْ وَ ارْزُقْنِيْ وَ عَافِنِيْ مِنَ الْآفَاتِ يَا رَبِّ اِنْ تَرْفَعْنِيْ فَمَنْ يَضَعُنِيْ وَ اِنْ تَضَعْنِيْ فَمَنْ يَرْفَعُنِيْ وَقَدْ عَلِمْتُ يا اِلٰهِيْ اَنْ لَيْسَ فِيْ حُكْمِكَ ظُلْمٌ وَلَا فِيْ نَقِمَتِكَ عَجَلَةٌ اِنَّمَا يَعْجَلُ مَنْ يَخَافُ الْفَوْتَ وَ يَحْتَاجُ اِلَى الظُّلْمِ الضَّعِيْفُ وَ قَدْ تَعالَيْتَ عَنْ ذٰلِكَ يا سَيِّدِيْ عُلُوًّا كَبِيْرًا رَبِّ لَا تَجْعَلْنِيْ لِلْبَلَاءِ غَرَضًا وَ لَا لِنَقِمَتِكَ نَصَبًا وَ مَهِّلْنِيْ وَنَفِّسْنِيْ وَ اَقِلْنِيْ عَثْرَتِيْ وَ لَا تُتْبِعْنِيْ بِالْبَلَاءِ فَقَدْ تَرٰى ضَعْفِيْ وَ قِلَّةَ حِيْلَتِيْ فَصَبِّرْنِيْ فَاِنّيْ يَا رَبِّ ضَعِيْفٌ مُتَضَرِّعٌ اِلَيْكَ يا رَبِّ وَ اَعُوْذُ بِكَ مِنْكَ فَاَعِذْنِيْ وَ اَسْتَجِيْرُ بِكَ مِنْ كُلِّ بَلَاءٍ فَاَجِرْنِيْ وَ اَسْتَتِرُ بِكَ فَاسْتُرْنِيْ يَا سَيِّدِيْ مِمَّا اََخَافُ وَ اََحْذَرُ وَ اَنْتَ الْعَظِيْمُ اَعْظَمُ مِنْ كُلِّ عَظِيْمٍ بِكَ بِكَ بِكَ اسْتَتَرْتُ يا اَللَّهُ يا اَللَّهُ يا اَللَّهُ يا اَللَّهُ يا اَللَّهُ يا اَللَّهُ يا اَللَّهُ يا اَللَّهُ يا اَللَّهُ يا اَللَّهُ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ الطَّيِّبِيْنَ الطَّاهِرِيْنَ

    اے میرے معبود! تیرے غضب کو کوئی چیز روک نہیں سکتی سوا تیرے حلم کے، اور تیرے عذاب سے کوئی چیز چھڑا نہیں سکتی سوا تیرے عفو و کرم کے، اور تجھ سے کوئی چیز بچا نہیں سکتی سوا تیری رحمت اور تیری بارگاہ میں تضرع و زاری کے۔ اے میرے معبود! تو اس قدرت کے ذریعہ جس سے مردہ زمینوں کو زندہ کرے گا اور بندوں کی (مردہ) روحوں کو زندگی دے گا مجھے کشائش و فارغ البالی عطا کر اور تباہ و برباد نہ ہونے دے اور( موت سے پہلے) قبولیت دُعا سے آگاہ کر دے، اے میرے پروردگار! اور مجھے رفعت و سربلندی دے اور پست و نگوں سار نہ کر، اور میری امداد فرما اور مجھے روزی دے، اور آفتوں سے حفظ و امان میں رکھ۔ پروردگار! اگر تو مجھے بلند کرے تو پھر کون مجھے پست کر سکتا ہے؟ اور اگر تو پست کرے تو کون بلند کر سکتا ہے؟ اور اے میرے معبود! مجھے بخوبی علم ہے کہ تیرے حکم میں ظلم کا شائبہ نہیں ہے، اور نہ تیرے انتقام میں جلدی، جلدی تو وہ کرتا ہے جسے موقع کے ہاتھ سے نکل جانے کا اندیشہ ہوتا ہے، اور ظلم کرنے کی ضرورت اُسے پڑتی ہے جو کمزور و ناتواں ہوتا ہے، اور تو اے میرے مالک! اس سے کہیں زیادہ بلند و برتر ہے۔ اے میرے پروردگار! مجھے بلا و مصیبت کا ہدف اور اپنے عذاب کا نشانہ نہ بنا، اور مجھے مہلت دے، اور میرے غم اندوہ کو دور کر، میری لغزش سے درگزر فرما، اور مصیبت میرے پیچھے نہ لگا، کیونکہ میری کمزوری و بے چارگی تیرے سامنے ہے، تو مجھے صبر و ثبات کی ہمت دے، کیونکہ اے میرے پروردگار! میں کمزور اور تیرے آگے گڑگڑانے والا ہوں۔ اے میرے پروردگار! میں تجھ سے تیرے ہی دامن رحمت میں پناہ مانگتا ہوں لہٰذا مجھے پناہ دے اور ہر مصیبت و ابتلاء سے تیرے ہی دامن میں امان کا طلبگار ہوں لہٰذا مجھے امان دے، اور تجھ سے پردہ پوشی چاہتا ہوں لہٰذا جن چیزوں سے میں خوف و ہراس محسوس کرتا ہوں اُن سے اے میرے مالک اپنے دامن حفظ و حمایت میں چھپا لے ،اور تو عظیم اور ہر عظیم سے عظیم تر ہے۔ میں تیرے اور صرف تیرے اور محض تیرے ذریعہ (پردہ ٔ حفظ و امان میں) چھپا ہوا ہوں، اے اللہ! اے اللہ! اے اللہ! اے اللہ! اے اللہ! اے اللہ! اے اللہ! اے اللہ! اے اللہ! اے اللہ! تو محمدؐ اور اُن کی پاک و پاکیزہ آلؑ پر رحمت اور کثیر سلامتی نازل فرما۔

  61. 57-تذلل و عاجزی کے سلسلہ میں

    61

    مَوْلَايَ مَوْلَايَ اَنْتَ الْمَوْلٰى وَ اَنَا الْعَبْدُ وَ هَلْ يَرْحَمُ الْعَبْدَ اِلَّا الْمَوْلٰى مَوْلَايَ مَوْلَايَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ وَ اَنَا الذَّلِيْلُ وَ هَلْ يَرْحَمُ الذَّلِيْلَ اِلَّا الْعَزِيْزُ مَوْلَايَ مَوْلَايَ اَنْتَ الْخَالِقُ وَ اَنَا الْمَخْلُوقُ وَ هَلْ يَرْحَمُ الْمَخْلُوقَ اِلَّا الْخَالِقُ مَوْلَايَ مَوْلَايَ اَنْتَ الْمُعْطِيْ وَ اَنَا السَّائِلُ وَ هَلْ يَرْحَمُ السَّائِلَ اِلَّا الْمُعْطِيْ مَوْلَايَ مَوْلَايَ اَنْتَ الْمُغِيْثُ وَ اَنَا الْمُسْتَغِيْثُ وَ هَلْ يَرْحَمُ الْمُسْتَغِيْثَ اِلَّا الْمُغِيْثُ مَوْلَايَ مَوْلَايَ اَنْتَ الْباقِيْ وَ اَنَا الْفَانِيْ وَ هَلْ يَرْحَمُ الْفانِيْ اِلَّا الْباقِيْ مَوْلَايَ مَوْلَايَ اَنْتَ الدَّائِمُ وَ اَنَا الزَّائِلُ وَ هَلْ يَرْحَمُ الزَّآئِلَ اِلَّا الدَّآئِمُ مَوْلَايَ مَوْلَايَ اَنْتَ الْحَيُّ وَ اَنَا الْمَيِّتُ وَ هَلْ يَرْحَمُ الْمَيِّتَ اِلَّا الْحَيُّ مَوْلَايَ مَوْلَايَ اَنْتَ الْقَوِيُّ وَ اَنَا الضَّعِيْفُ وَ هَلْ يَرْحَمُ الضَّعِيْفَ اِلَّا الْقَوِيُّ مَوْلَايَ مَوْلَايَ اَنْتَ الْغَنِيُّ وَ اَنَا الْفَقِيْرُ وَ هَلْ يَرْحَمُ الْفَقِيْرَ اِلَّا الْغَنِيُّ مَوْلَايَ مَوْلَايَ اَنْتَ الْكَبِيْرُ وَ اَنَا الصَّغِيْرُ وَ هَلْ يَرْحَمُ الصَّغِيْرَ اِلَّا الْكَبِيْرُ مَوْلَايَ مَوْلَايَ اَنْتَ الْمَالِكُ وَ اَنَا الْمَمْلُوكَ وَ هَلْ يَرْحَمُ الْمَمْلُوكَ اِلَّا الْمالِكُ

    اے میرے آقا! اے میرے مالک! تو آقا ہے اور میں بندہ، اور بندے پر آقا کے سوا کون رحم کھائے گا؟ میرے مولا! میرے آقا! تو عزت والا ہے اور میں ذلیل، اور ذلیل پر عزت دار کے علاوہ اور کون رحم کرے گا؟ میرے مالک! میرے مالک! تو خالق ہے اور میں مخلوق، اور مخلوق پر خالق کے سوا کون ترس کھائے گا؟ میرے مولا! میرے مولا! تو عطا کرنے والاہے اور میں سوالی، اور سائل پر عطا کرنے والے کے علاوہ کون مہربانی کرے گا؟ میرے آقا! میرے آقا! تو فریاد رس ہے اور میں فریادی، اور فریادی پر فریادرس کے علاوہ کون رحم کرے گا؟ میرے مالک! میرے مالک! تو باقی ہے اور میں فانی، اور فانی پر باقی کے علاوہ کون رحم کرے گا؟ میرے آقا! میرے آقا! تو دائم و جاوید ہے اور میں مٹ جانے والا، اور مٹ جانے والے پر دائم و جاوید کے علاوہ کون رحم کرے گا؟ میرے مولا! میرے مولا! تو زندہ ہے اور میں مُردہ، اور مُردہ پر زندہ کے سوا کون ترس کھائے گا؟ میرے مالک! میرے مالک! تو طاقتور ہے اور میں کمزور، اور کمزور پر طاقتور کے علاوہ کون رحم کرے گا؟ میرے مولا! میرے مالک! تو غنی ہے اور میں تہی دست، اور تہی دست پر غنی کے علاوہ کون رحم کھائے گا؟ میرے آقا! میرے آقا !تو بڑا ہے اور میں چھوٹا، اور چھوٹے پر بڑے کی سوا کون نظر شفقت کرے گا؟ میرے مولا! میرے مولا! تو مالک ہے اور میں غلام، اور غلام پر مالک کے سوا کون مہربانی فرمائے گا۔

  62. مناجات تائبین

    62

    إلـٰهِي أَلْبَسَتْنِي الْخَطايا ثَوْبَ مَذَلَّتِي، وَجَلَّلَنِي التَّباعُدُ مِنْكَ لِباسَ مَسْكَنَتِي، وَأَماتَ قَلْبِي عَظِيمُ جِنايَتِي، فَأَحْيِه بِتَوْبَةٍ مِنْكَ يا أَمَلِي وَبُغْيَتِي، وَيا سُؤْلِي وَمُنْيَتِي، فَوَعِزَّتِكَ ما أَجِدُ لِذُنُوبِي سِواكَ غافِراً، وَلا أَرَىٰ لِكَسْرِي غَيْرَكَ جابِراً، وَقَدْ خَضَعْتُ بِالإِنابَةِ إلَيْكَ وَعَنَوْتُ بِالاسْتِكانَةِ لَدَيْكَ، فَإنْ طَرَدْتَنِي مِنْ بابِكَ فَبِمَنْ أَلُوذُ؟ وَإنْ رَدَدْتَنِي عَنْ جَنابِكَ فَبِمَنْ أَعُوذُ؟ فَوَا أَسَفاهُ مِنْ خَجْلَتِي وَافْتِضَاحِي، وَوا لَهْفاهُ مِنْ سُوءِ عَمَلِي وَاجْتِراحِي. أَسْأَلُكَ يا غافِرَ الذَّنْبِ الْكَبِيرِ وَيا جابِرَ الْعَظْمِ الْكَسِيرِ، أَنْ تَهَبَ لِي مُوبِقاتِ الْجَرائِرِ، وَتَسْتُرَ عَلَيَّ فاضِحاتِ السَّرائِرِ، وَلا تُخْلِنِي فِي مَشْهَدِ الْقِيامَةِ مِنْ بَرْدِ عَفْوِكَ وَغَفْرِكَ، وَلا تُعْرِنِي مِنْ جَمِيلِ صَفْحِكَ وَسَتْرِكَ. إِلـٰهِي ظَلِّلْ عَلَىٰ ذُنُوبِي غَمامَ رَحْمَتِكَ، وَأَرْسِلْ عَلىٰ عُيُوبِي سَحابَ رَأْفَتِكَ إِلـٰهِي هَلْ يَرْجِعُ الْعَبْدُ الأَبِقُ إلاَّ إلَىٰ مَوْلاهُ أَمْ هَلْ يُجِيرُهُ مِنْ سَخَطِهِ أَحَدٌ سِواهُ؟ إِلـٰهِي إنْ كانَ النَّدَمُ عَلَىٰ الذَّنْب تَوْبَةً، فَإِنِّي وَعِزَّتِكَ مِنَ النَّادِمِينَ، وَإِنْ كَانَ الاسْتِغْفارُ مِنَ الْخَطيئَةِ حِطَّةً، فَإِنِّي لَكَ مِنَ الُمُسْتَغْفِرِينَ، لَكَ الْعُتْبىٰ حَتَّىٰ تَرْضَىٰ. إِلـٰهِي بِقُدْرَتِكَ عَلَيَّ تُبْ عَلَيَّ، وَبِحِلْمِكَ عَنِّي اعْفُ عَنِّي، وَبِعِلْمِكَ بِي ارْفَقْ بِي. إِلـٰهِي أَنْتَ الَّذِي فَتَحْتَ لِعِبادِكَ بَابَاً إلَىٰ عَفْوِكَ سَمَّيْتَهُ التَّوْبَةَ، فَقُلْتَ: ( تُوبُوا إلَىٰ اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحَاً )، فَما عُذْرُ مَنْ أَغْفَلَ دُخُولَ الْبابِ بَعْدَ فَتْحِهِ. إِلـٰهِي إنْ كانَ قَبُحَ الذَّنْبُ مِنْ عَبْدِكَ فَلْيَحْسُنِ الْعَفْوُ مِنْ عِنْدِكَ. إِلـٰهِي ما أَنَا بِأَوَّلِ مَنْ عَصاكَ، فَتُبْتَ عَلَيْهِ، وَتَعَرَّضَ بِمَعْرُوفِكَ، فَجُدْتَ عَلَيْهِ، يا مُجِيبَ الْمُضْطَرِّ، يا كَاشِفَ الضُّرِّ، يا عَظِيمَ الْبِرِّ، يا عَليمَاً بِما فِي السِّرِّ، يا جَمِيلَ السِّتْرِ اسْتَشْفَعْتُ بِجُودِكَ وَكَرَمِكَ إلَيْكَ، وَتَوَسَّلْتُ بِجَنابِكَ وَتَرَحُّمِكَ لَدَيْكَ، فَاسْتَجِبْ دُعائِي، وَلا تُخَيِّبْ فِيكَ رَجَائِي وَتَقَبَّلْ تَوْبَتِي وَكَفِّرْ خَطيئَتِي، بِمَنِّكَ وَرَحْمَتِكَ يا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ.

    شروع خدا کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے اے معبود میرے گناہوںنے مجھے ذلت کا لباس پہنا دیا تجھ سے دوری کے باعث بے چارگی نے مجھے ڈھانپ لیا بڑے بڑے بڑے بڑے جرائم نے میرے دل کو مردہ بنادیا پس توفیق توبہ سے اس کو زندہ کردے اے میری امید اے میری طلب اے میری چاہت اے میری آرزو مجھے تیری عزت کی قسم کہ سوائے تیرے میرے گناہوں کو بخشنے والا کوئی نہیں اور تیرے سوا کوئی میری کمی پوری کرنے والا نظر نہیں آتا میں تیرے حضور جھک کر توبہ و استغفار کرتا ہوں اور درماندہ ہو کر تیرے سامنے آپڑا ہوں اگر تو مجھے اپنی بارگاہ سے نکال دے تو میںکس کا سہارا لوں گا اور اگر تو نے مجھے اپنے آستانے سے دھتکار دیا تو کس کی پناہ لوں گا پس وائے ہو میری شرمساری و رسوائی پر اور صد افسوس میری اس بد عملی اور آلودگی پر، سوال کرتا ہوں تجھ سے اے گناہان کبیرہ کو بخشنے والے اور ٹوٹی ہڈی کو جوڑنے والے کہ میرے سخت ترین جرائم کو بخش دے اور رسوا کرنے والے بھیدوں کی پردہ پوشی فرما میدان قیامت میںمجھے اپنی بخشش اور مغفرت سے محروم نہ فرما اور اپنی بہترین پردہ داری و چشم پوشی سے محروم نہ کر اے معبود میرے گناہوں پر اپنے ابر رحمت کا سایہ ڈال دے اور میرے عیبوں پر اپنی مہربانی کا مینہ برسادے اے معبود کیا بھاگا ہوا غلام سوائے اپنے آقا کے کسی کے پاس لوٹتا ہے یا یہ کہ آقا کی ناراضی پرسوائے اسکے کوئی اسے پناہ دے سکتا ہے میرے معبود اگر گناہ پر پشیمانی کا مطلب توبہ ہی ہے تو مجھے تیری عزت کی قسم کہ میں پشیمان ہونے والواں میں ہوں اور اگر خطا کی معافی مانگنے سے خطا معاف ہوجاتی ہے تو بے شک میں تجھ سے معافی مانگنے والوں میں ہوں تیری چوکھٹ پر ہوں حتیٰ کہ تو راضی ہوجائے اے معبود اپنی قدرت سے میری توبہ قبول فرما اور اپنی ملائمت سے مجھے معاف فرما اور میرے متعلق اپنے علم سے مجھ پر مہربانی کر اے معبود تو وہ ہے جس نے اپنے بندوں کے لیے عفو و درگذر کا دروازہ کھولا کہ جسے تو نے توبہ کا نام دیا تو نے ہی فرما یا کہ توبہ کرو خدا کے حضور مؤثر توبہ پس کیا عذر ہے اس کا جو کھلے ہوئے دروازے سے داخل ہونے میں غفلت کرے اے معبود اگرچہ تیرے بندے سے گناہ ہوجانا بری بات ہے لیکن تیری طرف سے معافی تو اچھی ہے اے معبود میں ہی وہ پہلا نافرمان کہ جسکی توبہ تونے قبول کی ہو اور وہ تیرے احسان کا طالب ہوا تو تو نے اس پر عطا کی ہو اے بے قرار کی دعا قبول کرنے والے اے سختی ٹالنے والے اے بہت احسان کرنے والے اے پوشیدہ باتوں کے جاننے والے اے بہتر پردہ پوشی کرنے والے میں تیری جناب میں تیری بخشش و احسان کو شفیع بناتا ہوںاور تیرے سامنے تیری ذات اور تیرے رحم کو وسیلہ قرار دیتا ہوں پس میری دعا قبول فرما اور تجھ سے میری جو امید ہے اسے نہ توڑ میری توبہ قبول فرما اور اپنے رحم و کرم سے میری خطائیں معاف کردے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے

  63. مناجات شاکین

    63

    بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ إِلٰهِي إِلَيْكَ أَشْكُو نَفْساً بِٱلسُّوءِ أَمَّارَةً وَإِلَىٰ ٱلْخَطِيئَةِ مُبَادِرَةً وَبِمَعَاصِيكَ مُولَعَةً وَلِسَخَطِكَ مُتَعَرِّضَةً تَسْلُكُ بِي مَسَالِكَ ٱلْمَهَالِكِ وَتَجْعَلُنِي عِنْدَكَ أَهْوَنَ هَالِكٍ كَثيرَةَ ٱلْعِلَلِ طَويلَةَ ٱلأَمَلِ إِنْ مَسَّهَا ٱلشَّرُّ تَجْزَعْ وَإِنْ مَسَّهَا ٱلْخَيْرُ تَمْنَعْ مَيَّالَةً إِلَىٰ ٱللَّعِبِ وَٱللَّهْوِ مَمْلُوءَةً بِٱلْغَفْلَةِ وَٱلسَّهْوِ تُسْرِعُ بِي إِلَىٰ ٱلْحَوْبَةِ وَتُسَوِّفُنِي بِٱلتَّوْبَةِ إِلٰهِي أَشْكُو إِلَيْكَ عَدُوّاً يُضِلُّنِي وَشَيْطَاناً يُغْوينِي قَدْ مَلأَ بِٱلْوَسْوَاسِ صَدْرِي وَأَحَاطَتْ هَوَاجِسُهُ بِقَلْبِي يُعَاضِدُ لِيَ ٱلْهَوَىٰ وَيُزَيِّنُ لِي حُبَّ ٱلدُّنْيَا وَيَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ ٱلطَّاعَةِ وَٱلزُّلْفَىٰ إِلٰهِي إِلَيْكَ أَشْكُو قَلْباً قَاسِياً مَعَ ٱلْوَسْوَاسِ مُتَقَلِّباً وَبِٱلرَّيْنِ وَٱلطَّبْعِ مُتَلَبِّساً وَعَيْناً عَنِ ٱلْبُكَاءِ مِنْ خَوْفِكَ جَامِدَةً وَإِلَىٰ مَا تَسُرُّهَا طَامِحَةً إِلٰهِي لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِقُدْرَتِكَ وَلاَ نَجَاةَ لِي مِنْ مَكَارِهِ ٱلدُّنْيَا إِلاَّ بِعِصْمَتِكَ فَأَسْأَلُكَ بِبَلاغَةِ حِكْمَتِكَ وَنَفَاذِ مَشِيَّتِكَ أَنْ لاَ تَجْعَلْنِي لِغَيْرِ جُودِكَ مُتَعَرِّضاً وَلاَ تُصَيِّرْنِي لِلْفِتَنِ غَرَضاً وَكُنْ لِي عَلَىٰ ٱلأَعْدَاءِ نَاصِراً وَعَلَىٰ ٱلْمَخَازِي وَٱلْعُيُوبِ سَاتِراً وَمِنَ ٱلْبَلاءِ وَاقِياً وَعَنِ ٱلْمَعَاصِي عَاصِماً بِرَأْفَتِكَ وَرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ ٱلرَّاحِمِينَ

    خدا کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے اے معبود میں تجھ سے اپنے نفس کی شکایت کرتا ہوں جو برائی پر اکسانے والا اور خطاکیطرف بڑھنے والا ہے وہ تیری نافرمانی کا شائق اور تیری ناراضی سے ٹکر لیتا ہے وہ مجھے تباہی کی راہوں پر لے جاتا ہے اور اس نے مجھے تیرے سامنے ذلیل اور تباہ حال بنادیا ہے یہ بڑا بہانہ ساز اور لمبی امیدوں والا ہے اگر اسے تکلیف ہو تو چلاتا ہے اور اگر آرام پہنچے تو چپ رہتا ہے وہ کھیل تماشے کی طرف زیادہ مائل اورغفلت اور بھول چوک سے بھرا پڑا ہے مجھے تیزی سے گناہ کی طرف لے جاتاہے اور توبہ کرنے میں تاخیر کرتا ہے میرے معبود میںتجھ سے شکایت کرتا ہوں اس دشمن کی جو گمراہ کرتا ہے اور شیطان کی جو بہکاتا ہے اس نے میرے سینے کو برے خیالوں سے بھرد یا اسکی خواہشوں نے میرے دل کو گھیرلیا ہے بری خواہشوںمیں مدد کرتا ہے اوردنیاکی محبت کواچھا بنا کر دکھاتا ہے وہ میرے اور تیری بندگی اور قرب کے درمیان حائل ہوگیاہے اے معبود میں تجھ سے دل کی سختی کی شکایت کرتا ہوںاورمسلسل وسواسوں شکایت کرتا ہوں جورنگ و تیرگی سے آلودہ ہے اس آنکھ کی شکایت کرتا ہوںجو تیرے خوف میں گریہ نہیں کرتی اور جو چیز اچھی لگے اس سے خوش ہے اے معبود نہیں میری حرکت اور نہیں طاقت مگر جو تیری قدرت سے ملتی ہے میں بچ نہیں سکتا دنیا کی برائیوں سے مگرصرف تیری نگہداشت سے پس تجھ سے سوال کرتا ہوںتیری گہری حکمت اور تیری پوری ہونے والی مرضی کے واسطے سے کہ مجھے اپنی بخشش کے سوا کسی طرف نہ جانے دے اور مجھے فتنوں کا ہدف نہ بننے دے اور دشمنوں کے مقابل میرا مددگار بن میرے عیبوں اور رسوائیوں کی پردہ پوشی فرما مجھ سے مصیبتیں دور کر اور گناہوں سے بچائے رکھ اپنی رحمت و نوازش سے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے

  64. مناجات خائفین

    64

    بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرّحِيمِ إِلٰهِي أَتَرَاكَ بَعْدَ ٱلْإِيـمَانِ بِكَ تُعَذِّبُنِي أَمْ بَعْدَ حُبِّي إِيَّاكَ تُبَعِّدُنِي أَمْ مَعَ رَجَائِي لِرَحْمَتِكَ وَصَفْحِكَ تَحْرِمُنِي أَمْ مَعَ ٱسْتِجَارَتِي بِعَفْوِكَ تُسْلِمُنِي حَاشَا لِوَجْهِكَ ٱلْكَرِيمِ أَنْ تُخَيِّبَنِي لَيْتَ شِعْرِي! أَلِلشَّقَاءِ وَلَدَتْنِي أُمِّي أَمْ لِلْعَنَاءِ رَبَّتْنِي فَلَيْتَهَا لَمْ تَلِدْنِي وَلَمْ تُرَبِّنِي وَلَيْتَنِي عَلِمْتُ أَمِنْ أَهْلِ ٱلسَّعادَةِ جَعَلْتَنِي وَبِقُرْبِكَ وَجِوَارِكَ خَصَصْتَنِي فَتَقَرَّ بِذٰلِكَ عَيْنِي وَتَطْمَئِنَّ لَهُ نَفْسِي إِلٰهِي هَلْ تُسَوِّدُ وُجُوهاً خَرَّتْ سَاجِدَةً لِعَظَمَتِكَ أَوْ تُخْرِسُ أَلْسِنَةً نَطَقَتْ بِٱلثَّنَاءِ عَلَىٰ مَجْدِكَ وَجَلاَلَتِكَ أَوْ تَطْبَعُ عَلَىٰ قُلُوبٍ ٱنْطَوَتْ عَلَىٰ مَحَبَّتِكَ أَوْ تُصِمُّ أَسْمَاعاً تَلَذَّذَتْ بِسَمَاعِ ذِكْرِكَ فِي إِرَادَتِكَ أَوْ تَغُلُّ أَكُفّاً رَفَعَتْهَا الآمَالُ إِلَيْكَ رَجَاءَ رَأْفَتِكَ أَوْ تُعَاقِبُ أَبْدَاناً عَمِلَتْ بِطَاعَتِكَ حَتَّىٰ نَحِلَتْ فِي مُجَاهَدَتِكَ أَوْ تُعَذِّبُ أَرْجُلاً سَعَتْ فِي عِبَادَتِكَ إِلٰهِي لاَ تُغْلِقْ عَلَىٰ مُوَحِّدِيكَ أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ وَلاَ تحْجُبْ مُشْتَاقِيكَ عَنِ ٱلنَّظَرِ إِلَىٰ جَمِيلِ رُؤْيَتِكَ إِلٰهِي نَفْسٌ أَعْزَزْتَهَا بِتَوحِيدِكَ كَيْفَ تُذِلُّهَا بِمَهَانَةِ هِجْرَانِكَ وَضَمِيرٌ ٱنْعَقَدَ عَلَىٰ مَوَدَّتِكَ كَيْفَ تُحْرِقُهُ بِحَرَارَةِ نِيرَانِكَ إِلٰهِي أَجِرْنِي مِنَ أَلِيمِ غَضَبِكَ وَعَظِيمِ سَخَطِكَ يَا حَنَّانُ يَا مَنَّانُ يَا رَحِيمُ يَا رَحْمٰنُ يَا جَبَّارُ يَا قَهَّارُ يَا غَفَّارُ يَا سَتَّارُ نَجِّنِي بِرَحْمَتِكَ مِنْ عَذَابِ ٱلنَّارِ وَفَضِيحَةِ ٱلْعَارِ إِذَا ٱمْتَازَ ٱلأَخْيَارُ مِنَ ٱلأَشْرَارِ وَحَالَتِ ٱلأَحْوَالُ وَهَالَتِ ٱلأَهْوَالُ وَقَرُبَ ٱلْمُحْسِنُونَ وَبَعُدَ ٱلْمُسِيئُونَ (وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَا كَسَبَتْ وَهُمْ لاَ يُظْلَمُونَ)

    خدا کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے میرے معبود کیا تجھے ایسا سمجھوں کہ تجھ پر ایمان رکھنے کے باوجود مجھے عذاب دے گا یا تجھ سے محبت کروں تو بھی مجھے دورکرے گا یا تیری رحمت و چشم پوشی کی امید رکھوں تو بھی محروم کرے گا یا تیرے عفو کی پناہ لوں تو بھی مجھے آگ کے سپرد کرے گانہیں تیری ذات کریم ہے بعید ہے کہ مجھے نا امید کرے کاش میں جان سکتا کہ آیا میری ماں نے مجھے بدبختی کے لیے جنا یا دکھ کے لیے پالا کاش وہ مجھے نہ جنتی اور مجھے نہ پالتی اور کاش مجھے یہ علم ہوتا کہ آیاتو نے مجھے نیک بختوں میں قرار دیا اور قرب و نزدیکی کے لیے مجھے خاص کیا ہے تو اس سے میری آنکھیںروشن اور دل مطمئن ہوجاتا میرے معبود آیا توان چہروں کو سیاہ کردے گا جو تیری عظمت کو سجدے کرتے ہیں یا ان زبانوںکو گنگ کرے گا جو تیری اونچی شان اور جلالت کی تعریف میں تر ہیں یا ان دلوںپر مہر لگائے گا جو اپنے اندر تیری محبت لیے ہوئے ہیں یا ان کانوں کو بہرا کرے گاجو تیرا ذکر سننے کا شرف حاصل کرتے ہیں یاان ہاتھوںکو باندھے گاجن کو تیری رحمت کی امید نے تیرے حضور پھیلایا ہے یا ان بدنوں کو عذاب دے گا جنہوں نے تیری اطاعت کی حتیٰ کہ اس کوشش میںلاغر ہوگئے یا ان پاؤں کو عذاب کرے گا جو عبادت کیلئے دوڑتے ہیں میرے معبود جو تیری توحید کے پرستار ہیں ان پر رحمت کے دروازے بند نہ کر اور جو تیرا شوق دیدار رکھتے ہیں ان کو اپنی تجلیوں پر نظر کرنے سے محروم نہ کرنا میرے معبود جس جان کو تو نے اپنی توحید پر ایمان کی عزت دی کیونکراسے ہجر کی اہانت سے ذلیل کرے گا اور جس دل میں تیری محبت سمائی ہوئی ہے اسکو اپنی آگ کی تپش میں کسطرح جلائے گا میرے معبود مجھے دردناک غضب اور سخت ناراضی سے بچانا اے محبت والے اے احسان والے اے مہربان اے رحم والے اے زبردست اے غلبے والے اے بخشنے والے اے پردہ پوش مجھے اپنی رحمت سے عذاب جہنم سے نجات دے رسوائی پر شرمندگی سے بچا جب نیک لوگ الگ ہوں گے برے لوگوں سے جب حالات دگرگوں ہوںگے اور خوف و خطر گھیر لیںگے اچھے لوگ قریب کیے جائیں گے اور برے لوگ دھتکارے جائیں گے اور ہر نفس نے جو کیا وہ پورا پورا پائے گا اور ان پر ظلم نہیں ہوگا

  65. مناجات راجین

    65

    بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ يَا مَنْ إِذا سَأَلَهُ عَبْدٌ أَعْطَاهُ وَإِذَا أَمَّلَ مَا عِنْدَهُ بَلَّغَهُ مُنَاهُ وَإِذَا أَقْبَلَ عَلَيْهِ قَرَّبَهُ وَأَدْنَاهُ وَإِذا جَاهَرَهُ بِٱلْعِصْيَانِ سَتَرَ عَلَىٰ ذَنْبِهِ وَغَطَّاهُ وَإِذا تَوَكَّلَ عَلَيْهِ أَحْسَبَهُ وَكَفَاهُ إِلٰهِي مَنِ ٱلَّذِي نَزَلَ بِكَ مُلْتَمِساً قِرَاكَ فَمَا قَرَيْتَهُ وَمَنِ ٱلَّذِي أَناخَ بِبَابِكَ مُرْتَجِياً نَدَاكَ فمَا أَوْلَيْتَهُ أَيَحْسُنُ أَنْ أَرْجِعَ عَنْ بَابِكَ بِٱلْخَيْبَةِ مَصْرُوفاً وَلَسْتُ أَعْرِفُ سِوَاكَ مَوْلًىٰ بِٱلإِحْسَانِ مَوْصُوفاً كَيفَ أَرْجُو غَيْرَكَ وَٱلْخَيْرُ كُلُّهُ بِيَدِكَ وَكَيْفَ أُؤَمِّلُ سِوَاكَ وَٱلْخَلْقُ وَٱلأَمْرُ لَكَ أَأَقْطَعُ رَجَائِي مِنْكَ وَقَدْ أَوْلَيْتَنِي مَا لَمْ أَسْأَلْهُ مِنْ فَضْلِكَ أَمْ تُفْقِرُنِي إِلَىٰ مِثْلِي وَأَنَا أَعْتَصِمُ بِحَبْلِكَ يَا مَنْ سَعِدَ بِرَحْمَتِهِ ٱلْقَاصِدُونَ وَلَمْ يَشْقَ بِنَقِمَتِهِ ٱلْمُسْتَغْفِرُونَ كَيْفَ أَنْسَاكَ وَلَمْ تَزَلْ ذَاكِرِي وَكَيْفَ أَلْهُو عَنْكَ وَأَنْتَ مُرَاقِبِي إِلٰهِي بِذَيْلِ كَرَمِكَ أَعْلَقْتُ يَدِي وَلِنَيْلِ عَطَايَاكَ بَسَطْتُ أَمَلِي فَأَخْلِصْنِي بِخَالِصَةِ تَوْحِيدِكَ وَٱجْعَلْنِي مِنْ صَفْوَةِ عَبِيدِكَ يَا مَنْ كُلُّ هَارِبٍ إِلَيْهِ يَلْتَجِئُ وَكُلُّ طَالِبٍ إِيَّاهُ يَرْتجِي يَا خَيْرَ مَرْجُوٍّ وَيَا أَكْرَمَ مَدْعُوٍّ وَيَا مَنْ لاَ يُرَدُّ سَائِلُهُ وَلاَ يُخَيَّبُ آمِلُهُ يَا مَنْ بَابُهُ مَفْتُوحٌ لِدَاعِيهِ وَحِجَابُهُ مَرْفُوعٌ لِرَاجِيهِ أَسْأَلُكَ بِكَرَمِكَ أَنْ تَمُنَّ عَلَيَّ مِنْ عَطَائِكَ بِما تَقَرُّ بِهِ عَيْنِي وَمِنْ رَجَائِكَ بِما تَطْمَئِنُّ بِهِ نَفْسِي وَمِنَ ٱلْيَقِينِ بِما تُهَوِّنُ بِهِ عَلَيَّ مُصِيبَاتِ ٱلدُّنْيَا وَتَجْلُو بِهِ عَن بَصِيرَتِي غَشَوَاتِ ٱلْعَمَىٰ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ ٱلرَّاحِمِينَ

    خداکے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے اے وہ کہ جب بندہ اس سے مانگے تو اسے دیتا ہے اور جب وہ کسی چیز کی امید رکھے تو اسکی آرزو پوری کرتا ہے جب وہ اسکی طرف بڑھے تو اسے قریب کرلیتا ہے جب وہ کھلم کھلا نافرمانی کرے تو اسکے گناہ پر پردہ ڈالتا اور چھپا لیتاہے اور جب وہ اس پر بھروسہ کرے تو اس کی ضرورت پوری کرتا ہے میرے معبود کون ہے جو تیری بارگاہ میںمہمانی کا طالب ہو تو تو اسکی مہمانی نہ کرے؟ کون ہے؟ جو بخشش کی آس لے کر تیرے دروازے پرآئے تو تو اس پر احسان نہ کرے کیا یہ مناسب ہے کہ میںتیرے دروازے سے مایوسی کے ساتھ پلٹ جاؤں جبکہ میںتیرے سوا کوئی مولا نہیںپاتا جو احسان و کرم کرنے والا ہو پھر کیوں تیرے سوا کسی سے امید رکھوں جب کہ ہر بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے اور کیوں تیرے سوا کسی سے آرزو کروںجب کہ تو ہی خلق و امر کا مالک ہے آیا تجھ سے امید توڑلوں جبکہ تو مجھے بن مانگے ہی اپنے کرم سے ہر چیز عطا فرماتا ہے تو کیا تو مجھ جیسے شخص کوکسی کا محتاج کرے گا جب کہ میں تیرا دامن پکڑے ہوںاے وہ جس نے اپنی رحمت سے قصد کرنے والوں کو بھلائی عطا کی اور جو معافی مانگنے والوںکو اپنے انتقام سے تنگی نہیں دیتا کیسے تجھے بھول سکتا ہوں جب کہ تیرے ذکر میںلگا رہتا ہوںکیسے تجھ سے غافل رہ سکتا ہوںجبکہ تو میرا نگہبان ہے میرے معبود میں نے اپنے ہاتھ سے تیرے دامن کرم کو پکڑ لیا ہوا ہے اور تیری عطاؤںکی آرزو کیئے ہوئے ہوںپس مجھے اپنی توحید کے سچے پرستاروں میں شامل کرلے اور مجھے اپنے چنے ہوئے بندوں میں سے قرار دے اے وہ کہ ہر بھاگ کر آنے والا جس کی پناہ لیتا ہے اور ہر سائل جس سے امید رکھتا ہے اے بہترین امید برلانے والے اے بہترین پکارے جانے والے اے وہ جو سائل کو نہیں ہٹکاتا اور وہ آرزومند کو مایوس نہیں کرتا اے وہ جس کادروازہ پکارنے والے کے لیے کھلا ہے اور امیدوار کے لیے پردہ اٹھا ہؤا ہے میں بواسطہ تیرے کرم کے سوال کرتا ہوں کہ مجھ پر اپنی عطا سے ایسا احسان فرما جس سے میری آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں اور ایسی امید دے کہ جس سے میرے دل کو چین آجائے ایسا یقین عطا کر کہ جس سے دنیا کی مصیبتیںمیرے لیے ہلکی ہوجائیں اور میری سمجھ بوجھ پرسے نادانی کے پردے دور ہوجائیں تیری رحمت کے واسطے سے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے

  66. مناجات راغبین

    66

    بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ إِلٰهِي إِنْ كَانَ قَلَّ زَادِي فِي ٱلْمَسِيرِ إِلَيْكَ فَلَقَدْ حَسُنَ ظَنِّي بِٱلتَّوَكُّلِ عَلَيْكَ وَإِنْ كَانَ جُرْمِي قَدْ أَخَافَنِي مِنْ عُقُوبَتِكَ فَإِنَّ رَجَائِي قَدْ أَشْعَرَنِي بِٱلأَمْنِ مِنْ نَقِمَتِكَ وَإِنْ كَانَ ذَنْبِي قَدْ عَرَّضَنِي لِعِقَابِكَ فَقَدْ آذَنَنِي حُسْنُ ثِقَتِي بِثَوَابِكَ وَإِنْ أَنامَتْنِي ٱلْغَفْلَةُ عَنِ ٱلاِسْتِعْدَادِ لِلِقَائِكَ فَقَدْ نَبَّهَتْنِي ٱلْمَعْرِفَةُ بِكَرَمِكَ وَآلاَئِكَ وَإِنْ أَوْحَشَ مَا بَيْنِي وَبَيْنَكَ فَرْطُ ٱلْعِصْيَانِ وَٱلطُّغْيَانِ فَقَدْ آنَسَنِي بُشْرَىٰ ٱلْغُفْرَانِ وَٱلرِّضْوَانِ أَسْأَلُكَ بِسُبُحَاتِ وَجْهِكَ وَبِأَنْوارِ قُدْسِكَ وَأَبْتَهِلُ إِلَيْكَ بِعَوَاطِفِ رَحْمَتِكَ وَلَطَائِفِ بِرِّكَ أَنْ تُحَقِّقَ ظَنِّي بِمَا أُؤَمِّلُهُ مِنْ جَزِيلِ إِكْرَامِكَ وَجَمِيلِ إِنْعَامِكَ فِي ٱلْقُرْبَىٰ مِنْكَ وَٱلزُّلْفَىٰ لَدَيْكَ وَٱلتَّمَتُّعِ بِٱلنَّظَرِ إِلَيْكَ وَهَا أَنا مُتَعَرِّضٌ لِنَفَحَاتِ رَوْحِكَ وَعَطْفِكَ وَمُنْتَجِعٌ غَيْثَ جُودِكَ وَلُطْفِكَ فَارُّ مِنْ سَخَطِكَ إِلَىٰ رِضَاكَ هَارِبٌ مِنْكَ إِلَيْكَ رَاجٍ أَحْسَنَ مَا لَدَيْكَ مُعَوِّلٌ عَلَىٰ مَواهِبِكَ مُفْتَقِرٌ إِلَىٰ رِعَايَتِكَ إِلٰهِي مَا بَدَأْتَ بِهِ مِنْ فَضْلِكَ فَتَمِّمْهُ وَمَا وَهَبْتَ لِي مِنْ كَرَمِكَ فَلاَ تَسْلُبْهُ وَمَا سَتَرْتَهُ عَلَيَّ بِحِلْمِكَ فَلاَ تَهْتِكْهُ وَمَا عَلِمْتَهُ مِنْ قَبِيحِ فِعْلِي فَٱغْفِرْهُ إِلٰهِي ٱسْتَشْفَعْتُ بِكَ إِلَيْكَ وَٱسْتَجَرْتُ بِكَ مِنْكَ أَتَيْتُكَ طَامِعاً فِي إِحْسَانِكَ راغِباً فِي ٱمْتِنانِكَ مُسْتَسْقِياً وَابِلَ طَوْلِكَ مُسْتَمْطِراً غَمَامَ فَضْلِكَ طَالِباً مَرْضَاتَكَ قَاصِداً جَنَابَكَ وَارِداً شَرِيعَةَ رِفْدِكَ مُلْتَمِساً سَنِيَّ الْخَيْراتِ مِنْ عِنْدِكَ، وافِداً إلىٰ حَضْرَةِ جَمالِكَ، مُرِيداً وَجْهَكَ، طارِقاً بابَكَ، مُسْتَكِيناً لِعَظَمَتِكَ وَجَلالِكَ، فَافْعَلْ بِي ما أَنْتَ أَهْلُهُ مِنَ الْمَغْفِرَةِ وَالرَّحْمَةِ، وَلا تَفْعَلْ بِي ما أَنَا أَهْلُهُ مِنَ الْعَذابِ وَالنّـِقْمَةِ بِرَحْمَتِكَ يا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ

    خداکے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والاہے میرے معبود اگرچہ تیری راہ میں سفر کیلئے میرا زاد راہ کم ہے تو پھربھی مجھے جوتجھ پر بھروسہ ہے اسکے باعث میں پر امید ہوں اور اگرچہ میرا جرم مجھے تیری طرف کی سزا سے خوف دلاتا ہے تا ہم تجھ سے میری امید مجھے تیرے انتقام سے بچ جانے کی نوید دیتی ہے اور اگرچہ میرا گناہ مجھے تیری طرف کے عذاب کے سامنے لے آیا ہے لیکن تجھ پر میرا اعتماد تیرے ثواب سے آگاہ کرتا ہے اگرچہ غفلت نے مجھے تیری ملاقات کے لائق نہیںرہنے دیا لیکن تیری نوازش اور تیری نعمتوںسے واقفیت نے مجھے بیدار کردیا ہے اور اگرچہ میرے اور تیرے درمیان میرے گناہوں اور سرکشیوں نے دوری پیدا کردی ہے تب بھی تیری بخشش اور مہربانی کی خوشخبری نے مجھے تجھ سے مانوس کردیا ہے میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری ذات کی پاکیزگیوںاور تیرے انوار کی روشنیوں کے واسطے سے اورتیرے حضور زاری کرتا ہوں تیری رحمت کی نرمیوں احسان کی لطافتوں کے واسطے کہ میرے خیال کو جمادے اس پر جس کی آرزو کرتا ہوں تیرے بڑے بڑے احسانوں اور پسندیدہ انعاموںمیں سے کہ میںتیرے قریب ہوجاؤں اور تیرے نزدیک ہوجاؤں اور تیرے آستاںپر نظر ڈالوںاورہاںاب میںتیرے نسیم راحت کے انوار اور تیری مہربانی کا طالب ہوںا اور تیری بخشائش اور لطف کے مینہ کا طلب گار ہوںمیں تیری ناراضی سے تیری رضا کی طرف دوڑنے والا ہوںتجھ سے بھاگ کر تیری درگاہ میں امید لگائے ہوں اس چیز کی جو تیرے ہاں بہتر ہے مجھے تیری عطاؤں پر اعتمادہے اور میںتیری رعایت کا محتاج ہوںمیرے معبود تو نے جس مہربانی کا آغاز کیا ہے اسے پورا فرما اور تو نے جس نوازش سے جو کچھ مجھے عطا فرمایا ہے اسے نہ چھین اور اپنی ملائمت سے جو پردہ پوشی کی ہے وہ فاش نہ کر میرے جن برے کاموں کاتجھے علم ہے انکی معافی دے میرے معبود میں تیرے سامنے تجھی سے شفاعت کراتا ہوں اور تجھ سے تیری ہی ذات کی پناہ لیتا ہوں میں تیرے احسان کی خواہش میں تیرے پاس آیاہوںتیری بخشش کی رغبت رکھتا ہوں میں تیرے فضل کے بادلوں سے تیری سخاوت کی بارش کا طلبگار ہوں تیری رضاؤں کا طالب، تیری طرف قدم بڑھانے والا ہوں تیری قبولیت کے گھاٹ پر آیا ہوں تجھ سے روشن بھلائیاں مانگنے کو حاضر ہوا ہوں تیرے حضور جمال میں تیری ذات کی خاطر پیش ہؤا ہوں تیرا دروازہ کھٹکھٹاتا ہوں تیری بڑائی و بزرگی کے سامنے عاجز ہوں پس میرے ساتھ وہ سلوک فرما جو تیرے لائق ہے وہ بخشش و مہربانی ہے اور مجھ سے وہ نہ کر جس کا میں اہل ہوں جو عذاب اور گناہوں کی سزا ہے تیری رحمت کا واسطہ اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے

  67. مناجات شاکرین

    67

    بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ إِلٰهِي أَذْهَلَنِي عَنْ إِقَامَةِ شُكْرِكَ تَتَابُعُ طَوْلِكَ وَأَعْجَزَنِي عَنْ إِحْصَاءِ ثَنَائِكَ فَيْضُ فَضْلِكَ وَشَغَلَنِي عَنْ ذِكْرِ مَحَامِدِكَ تَرَادُفُ عَوَائِدِكَ وَأَعْيَانِي عَنْ نَشْرِ عَوَارِفِكَ تَوَالِي أَيَادِيكَ وَهٰذَا مَقَامُ مَنِ ٱعْتَرَفَ بِسُبُوغِ النَّعْمَاءِ وَقَابَلَهَا بِٱلتَّقْصِيرِ وَشَهِدَ عَلَىٰ نَفْسِهِ بِٱلإِهْمَالِ وَٱلتَّضْيِيعِ وَأَنْتَ ٱلرَّءُوفُ ٱلرَّحِيمُ ٱلْبَرُّ ٱلْكَرِيمُ ٱلَّذِي لاَ يُخَيِّبُ قَاصِدِيهِ وَلاَ يَطْرُدُ عَنْ فِنَائِهِ آمِلِيهِ بِسَاحَتِكَ تَحُطُّ رِحَالُ ٱلرَّاجِينَ وَبِعَرْصَتِكَ تَقِفُ آمَالُ ٱلْمُسْتَرْفِدِينَ فَلاَ تُقَابِلْ آمَالَنَا بِٱلتَّخْيِيبِ وَٱلإِيَاسِ وَلاَ تُلْبِسْنَا سِرْبَالَ ٱلْقُنُوطِ وَٱلإِبْلاَسِ إِلٰهِي تَصَاغَرَ عِنْدَ تَعَاظُمِ آلائِكَ شُكْرِي وَتَضَاءَلَ فِي جَنْبِ إِكْرَامِكَ إِيَّايَ ثَنَائِي وَنَشْرِي جَلَّلَتْنِي نِعَمُكَ مِنْ أَنْوَارِ الإِيـمَانِ حُلَلاً وَضَرَبَتْ عَلَيَّ لَطَائِفُ بِرِّكَ مِنَ ٱلْعِزِّ كِلَلاً وَقَلَّدَتْنِي مِنَنُكَ قَلائِدَ لاَ تُحَلُّ وَطَوَّقَتْنِي أَطْوَاقاً لاَ تُفَلُّ فَآلاَؤُكَ جَمَّةٌ ضَعُفَ لِسَانِي عَنْ إِحْصَائِهَا وَنَعْمَاؤُكَ كَثِيرَةٌ قَصُرَ فَهْمِي عَنْ إِدْرَاكِهَا فَضْلاً عَنِ ٱسْتِقْصَائِهَا فَكَيْفَ لِي بِتَحْصِيلِ ٱلشُّكْرِ وَشُكرِي إِيَّاكَ يَفْتَقِرُ إِلَىٰ شُكْرٍ فَكُلَّمَا قُلْتُ لَكَ ٱلْحَمْدُ وَجَبَ عَلَيَّ لِذٰلِكَ أَنْ أَقولَ لَكَ ٱلْحَمْدُ إِلٰهِي فَكَمَا غَذَّيْتَنَا بِلُطْفِكَ وَرَبَّيْتَنَا بِصُنْعِكَ فَتَمِّمْ عَلَيْنَا سَوَابِغَ ٱلنِّعَمِ وَٱدْفَعْ عَنَّا مَكَارِهَ ٱلنِّقَمِ وَآتِنَا مِنْ حُظُوظِ ٱلدَّارَيْنِ أَرْفَعَهَا وَ جَلَّهَا عَاجِلاً وَآجِلاً وَلَكَ ٱلْحَمْدُ عَلَىٰ حُسْنِ بَلائِكَ وَسُبُوغِ نَعْمائِكَ حَمْداً يُوافِقُ رِضاكَ، وَيَمْتَرِي الْعَظِيمَ مِنْ بِرّ ِكَ وَنَداكَ، يا عَظِيمُ يا كَرِيمُ، بِرَحْمَتِكَ يا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ.

    خدا کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے میرے معبود تیری لگاتار بخششوں نے مجھے تیرا شکر ادا کرنے سے غافل کردیا ہے اور تیرے فضل کے تسلسل نے مجھے تیری ثنائ کا احاطہ کرنے سے عاجز کردیا ہے اور تیری پے در پے ہونے والی مہربانیوں نے مجھے تیری تعریفوں کے بیان سے بے دھیان کردیا اور تیری مسلسل نعمتوں نے مجھے تیرے احسانات کے ذکر سے تکھاکر رکھ دیا یہی مقام ہے اس شخص کا جو تیری نعمتوں کا معترف ہے اور ان پر شکر سے قاصر ہے وہ اپنی اس بے دھیانی اور نافکری پر خود ہی گواہ ہے اور تو ہی وہ شفیق و مہربان نیک نام سخی ہے جو اپنی درگاہ کا قصد کرنے والوں کو ناامید نہیں کرتا اور آرزومندوںکو اپنے آستانے سے دور نہیںکرتا تیرے ہی در پر امیدواروں کے کارواں اترتے ہیں اور تیرے ہی میدان میں طالبان نعمت کی تمنائیںجگہ پاتی ہیںپس ہماری چاہتوں کے مقابلے میں ناامیدی و یاس نہ دے اور ہمیں ناامیدی اور پشیمانی کا پیراہن نہ پہنا میرے معبود تیری بزرگتر نعمتوں کے سامنے میرا شکر و سپاس ہیچ ہے تیری عظمتوں کے مقابل میری زبان سے تیری تعریف و ذکر بے مایہ ہے تیری نعمتوںنے مجھے ایمان کے نورانی پوشاکوں سے ڈھانپ دیا اور تیری خوش آیند بھلائی نے مجھے عزت کے تاج پہنائے ہیںتو نے مجھے فخر کے وہ زیور پہنائے جو اترتے نہیں اور گردن میںوہ ہار ڈالا جو ٹوٹتا نہیںتیری مہربانیاںزیادہ ہیںمیری زبان انکو شمار کرنے سے عاجز ہے اور تیری نعمتیں کثیر ہیں میرا فہم ان کو سمجھنے سے قاصر ہے چہ جائیکہ ان کی تعداد کو جان سکے تو میں کیسے مقام شکر حاصل کروں کہ میرا شکر کرنا بھی محتاج شکر ہے تو جب میں کہوں کہ تیرے لیے حمد ہے اس کے لیے مجھ پر واجب ہے کہ میں کہوں تیرے لیے حمد ہے پس جیسے تو نے ہمیں اپنے لطف سے غذا دی اور اپنے احسان سے پرورش کی ہے تو ہم پر اپنی کثیر نعمتیں بھی تمام فرما اور عذاب کی سختیاں ہم سے دور کردے اور ہمیں دنیا و آخرت میں بہتر اور بیشتر حصہ عطا فرما اب بھی اور تب بھی تیرے لیے حمد ہے تیری بہترین آزمائش اور کثیر نعمتوں پرایسی حمد جو تیری رضا کے موافق ہو اور تیرے عظیم احسان و بخشش کو حاصل کرے اے عظیم اے کریم تیری رحمت کا واسطہ اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے

  68. مناجات مطِیعِین للہ

    68

    بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ اللَّهُمَّ أَلْهِمْنَا طَاعَتَكَ وَجَنِّبْنَا مَعْصِيَتَكَ وَيَسِّرْ لَنا بُلُوغَ مَا نَتَمَنَّىٰ مِنِ ٱبْتِغَاءِ رِضْوَانِكَ وَأَحْلِلْنَا بُحْبُوحَةَ جِنَانِكَ وَٱقْشَعْ عَنْ بَصَائِرِنَا سَحَابَ ٱلاِرْتِيَابِ وَٱكْشِفْ عَنْ قُلُوبِنَا أَغْشِيَةَ ٱلْمِرْيَةِ وَٱلْحِجَابِ وَأَزْهِقِ ٱلْبَاطِلَ عَنْ ضَمَائِرِنَا وَأَثْبِتِ ٱلْحَقَّ فِي سَرَائِرِنَا فَإِنَّ ٱلشُّكُوكَ وَٱلظُّنُونَ لَوَاقِحُ ٱلْفِتَنِ وَمُكَدِّرَةٌ لِصَفْوِ ٱلْمَنَائِحِ وَٱلْمِنَنِ اَللَّهُمَّ ٱحْمِلْنَا فِي سُفُنِ نَجَاتِكَ وَمَتِّعْنَا بِلَذِيذِ مُناجَاتِكَ وَأَوْرِدْنَا حِيَاضَ حُبِّكَ وَأَذِقْنَا حَلاوَةَ وُدِّكَ وَقُرْبِكَ وَٱجْعَلْ جِهَادَنا فِيكَ وَهَمَّنَا فِي طَاعَتِكَ وَأَخْلِصْ نِيَّاتِنَا فِي مُعَامَلَتِكَ فَإِنَّا بِكَ وَلَكَ وَلاَ وَسيلَةَ لَنَا إِلَيْكَ إِلاَّ أَنْتَ إِلٰهِي ٱجْعَلْنِي مِنَ ٱلْمُصْطَفَيْنَ ٱلأَخْيَارِ وَأَلْحِقْنِي بِٱلصَّالِحِينَ ٱلأَبْرَارِ ٱلسَّابِقِينَ إِلَىٰ ٱلْمَكْرُمَاتِ ٱلْمُسَارِعِينَ إِلَىٰ ٱلْخَيْراتِ ٱلْعَامِلِينَ لِلْبَاقِيَاتِ ٱلصَّالِحَاتِ ٱلسَّاعِينَ إِلىٰ رَفِيعِ ٱلدَّرَجَاتِ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَبِٱلإِجَابَةِ جَدِيرٌ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ ٱلرَّاحِمِينَ

    خدا کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے اے معبود ہمیںاپنی فرمانبرداری کی تعلیم دے اور اپنی نافرمانی سے بچائے رکھ ہمارے لیے ان تمناؤں تک پہنچنا آسان فرما جو تیری رضا حاصل کرنے کا ذریعہ ہوں ہمیں اپنی جنت کے وسط میںجگہ دے ہماری آنکھوں سے شک کے بادل دور کردے ہمارے دلوں سے شبہ و حجاب کے پردے ہٹا دے اور ہمارے ضمیروں سے باطل کو مٹادے ہمارے باطن میں حق کو قائم کردے کیونکہ شکوک اور گمان فتنہ پیدا کرتے ہیں اور بخششوں اور احسانوں کی چمک پر داغ دار کرتے ہیں اے معبود ہمیں نجات کی کشتیوںمیں جگہ دے اپنے حضور مناجات کی لذت نصیب فرما ہمیںاپنی محبت کے حوضوں میں داخل کر اور اپنی محبت اور قرب کی مٹھاس چکھا دے ہماری کوشش اپنی راہ میں قرار دے اور اپنی اطاعت کی ہمت عطا کر اپنے ساتھ معاملے میں ہماری نیتوں کو خالص فرما کہ ہم تیرے ساتھ اور تیرے لیے ہیںتیرے بارگاہ میںہمارا وسیلہ کوئی نہیںمگر خود تو ہی ہے میرے معبود مجھے چنے ہوئے نیک لوگوں میں سے قرار دے اور مجھے نیکوکار پاک دل لوگوںمیں شامل فرما جو خوبیوں میں آگے بڑھنے اور نیکیوں میں جلدی کرنے والے ہیں جو اچھے آثار پر عمل کرنے والے اونچے درجوں کی طرف جانے میں کوشاں ہیں بے شک تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور قبول کرنے کا اہل ہے تیری رحمت کا واسطہ اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے

  69. مناجات مریدین

    69

    بِسْمِ اللّهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ سُبْحَانَكَ! مَا أَضْيَقَ ٱلطُّرُقَ عَلَىٰ مَنْ لَمْ تَكُنْ دَلِيلَهُ وَمَا أَوْضَحَ ٱلْحَقَّ عِنْدَ مَنْ هَدَيْتَهُ سَبِيلَهُ إِلٰهِي فَٱسْلُكْ بِنَا سُبُلَ ٱلْوُصُولِ إِلَيْكَ وَسَيِّرْنَا فِي أَقْرَبِ ٱلطُّرُقِ لِلْوُفُودِ عَلَيْكَ قَرِّبْ عَلَيْنَا ٱلْبَعِيدَ وَسَهِّلْ عَلَيْنَا ٱلْعَسِيرَ ٱلشَّدِيدَ وَأَلْحِقْنَا بِعِبَادِكَ ٱلَّذِينَ هُمْ بِٱلْبِدَارِ إِلَيْكَ يُسَارِعُونَ وَبَابَكَ عَلَىٰ ٱلدَّوَامِ يَطْرُقُونَ وَإِيَّاكَ فِي ٱللَّيلِ وَٱلنَّهَارِ يَعبُدُونَ وَهُمْ مِنْ هَيْبَتِكَ مُشْفِقُونَ ٱلَّذِينَ صَفَّيْتَ لَهُمُ ٱلْمَشَارِبَ وَبَلَّغْتَهُمُ ٱلرَّغَائِبَ وَأَنْجَحْتَ لَهُمُ ٱلْمَطَالِبَ وَقَضَيْتَ لَهُمْ مِنْ فَضْلِكَ ٱلْمَآرِبَ وَمَلَأْتَ لَهُمْ ضَمَائِرَهُمْ مِنْ حُبِّكَ وَرَوَّيتَهُمْ مِنْ صَافِي شِرْبِكَ فَبِكَ إِلَىٰ لَذِيذِ مُنَاجَاتِكَ وَصَلُوٱ وَمِنْكَ أَقْصَىٰ مَقَاصِدِهِمْ حَصَّلُوٱ فَيَا مَنْ هُوَ عَلَىٰ ٱلْمُقْبِلِينَ عَلَيْهِ مُقْبِلٌ وَبِٱلْعَطْفِ عَلَيْهِمْ عَائِدٌ مُفْضِلٌ وَبِٱلْغَافِلِينَ عَنْ ذِكْرِهِ رَحِيمٌ رَءُوفٌ وَبِجَذْبِهِمْ إِلَىٰ بَابِهِ وَدُودٌ عَطُوفٌ أَسْأَلُكَ أَنْ تَجْعَلَنِي مِنْ أَوْفَرِهِمْ مِنْكَ حَظّاً وَأَعْلاهُمْ عِنْدَكَ مَنْزِلاً وَأَجْزَلِهِمْ مِنْ وُدِّكَ قِسْماً وَأَفْضَلِهِمْ فِي مَعْرِفَتِكَ نَصِيباً فَقَدِ ٱنْقَطَعَتْ إِلَيْكَ هِمَّتِي وَٱنْصَرَفَتْ نَحْوَكَ رَغْبَتِي فَأَنْتَ لاَ غَيْرُكَ مُرَادِي وَلَكَ لاَ لِسِوَاكَ سَهَرِي وَسُهَادِي وَلِقَاؤُكَ قُرَّةُ عَيْنِي وَوَصْلُكَ مُنَىٰ نَفْسِي وَإِلَيْكَ شَوْقِي وَفِي مَحَبَّتِكَ وَلَهِي وَإِلَىٰ هَوَاكَ صَبَابَتِي وَرِضَاكَ بُغْيَتِي وَرُؤْيَتُكَ حَاجَتِي وَجِوَارُكَ طَلَبِى وَقُرْبُكَ غايَةُ سُؤْلِي وَفِي مُناجَاتِكَ رَوْحِي وَرَاحَتِي وَعِنْدَكَ دَوَاءُ عِلَّتِي وَشِفَاءُ غُلَّتِي وَبَرْدُ لَوْعَتِي وَكَشْفُ كُرْبَتِي فَكُنْ أَنِيسِي فِي وَحْشَتِي وَمُقِيلَ عَثْرَتِي وَغَافِرَ زَلَّتِي وَقَابِلَ تَوْبَتِي وَمُجِيبَ دَعْوَتِي وَوَلِيَّ عِصْمَتِي وَمُغْنِيَ فَاقَتِي وَلاَ تَقْطَعْنِي عَنْكَ وَلاَ تُبْعِدْنِي مِنْكَ يَا نَعِيمِي وَجَنَّتِي وَيَا دُنْيَايَ وَآخِرَتِي يَا أَرْحَمَ ٱلرَّاحِمِينَ

    خدا کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے تو پاک ہے اس کیلئے راستے کتنے تنگ ہیں جس کا رہبر تو نہ ہو اور اس کے لیے حق کتنا واضح ہے جسے تو راستہ بتائے میرے معبود ہمیں اپنی درگاہ تک پہنچانے والے راستوں پر چلا اور ہمیں اپنی طرف لے جانے والے قریب ترین راستوں پر رواں فرما جو دور ہے وہ ہمارے قریب لے آ اور جو مشکل اور کٹھن ہے وہ ہمارے لیے آسان فرمادے ہمیں اپنے ان بندوں سے ملحق کردے جو تیری طرف بڑھنے میں جلدی کرنے والے ہیں اور تیرے دروازہ رحمت کو ہمیشہ کھٹکھٹاتے ہیں رات دن تیری عبادت میں مشغول رہتے ہیں اور تیرے دبدبہ سے خائف و ترساں رہتے ہیں وہ وہی ہیں جن کی سیرابی کی جگہوں کو تو نے صاف کیا اور انہیں ان کی چاہتوں تک پہنچایا ہے انہیں اپنے مقاصد میں کامیاب بنایااور اپنے کرم سے انکی حاجات پوری فرمائی ہیں ان کے دلوں کو اپنی محبت سے لبریز کر دیا ہے اور انہیں شفاف گھاٹ سے سیراب کیا ہے وہ تجھ سے مناجات کی لذت سے تیری بارگاہ میں پہنچے ہیں اور تجھی سے انہوں نے اپنے تمام مقاصد حاصل کیے ہیں پس اے وہ جو اپنی طرف رخ کرنے والوں کی جانب متوجہ ہے اور اپنی مہربانی سے انہیں متواتر نعمت دینے اور بخشنے والا ہے اور اپنے ذکر سے غفلت کرنے والوں پر نرم اور مہربان ہے اور انہیں اپنے دروازے پر لانے میں پیار کرنیوالا مہربان ہے میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے ان لوگوں میں رکھ جو تیرے ہاں زیادہ حصہ رکھتے ہیں اور تیرے حضور ان کا مقام بلند ہے اور انہوں نے تیری رحمت کا زیادہ حصہ پایا ہے اور وہ تیری معرفت میں سے بہت زیادہ حصہ لے چکے ہیں پس میری ہمت تجھ تک آکر قطع ہوگئی ہے اور میں نے اپنی چاہت تیری طرف پھیر دی ہے تو ہی ہے کہ تیرے سوا میرا کوئی مطلوب نہیں میری نیند اور بیداری تیرے ہی لیے ہے کسی اور کے لیے نہیںتیری ملاقات میری آنکھوں کی ٹھنڈک اور تجھ سے ملنا میری دلی آرزو ہے مجھے تیرا ہی شوق ہے اور تیری ہی محبت کا جنون ہے تیری چاہت میرا عشق ہے اور تیری رضا میرا مقصود ہے تیرا نظارہ ہی میری ضرورت ہے تیرا ساتھ میری طلب ہے تیرا قرب میری انتہائی خواہش ہے اور تجھ سے راز و نیاز میں میری خوشی و مسرت ہے تو ہی میری بیماری و علت کی دوا میرے سوز جگر کی شفا سوز دل کی ٹھنڈک ہے اور میری سختی کادور ہونا ہے پس تو میری تنہائی کا ساتھی بن جا میری خطاؤں کو معاف کرنے والا میری کوتاہیوں کو بخشنے والا میری توبہ قبول کرنے والا میری دعا قبول کرنے والا میری نگہداری کا ذمہ داراور کمی کو پورا کرنے والا بن جا مجھے خود سے الگ نہ فرما اور نہ خود سے دور ہٹا اے میرے لیے نعمت اے میری جنت اے میری دنیا و آخرت اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔

  70. مناجات محبین

    70

    بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ إِلٰهِي مَنْ ذَا ٱلَّذِي ذَاقَ حَلاوَةَ مَحَبَّتِكَ فَرَامَ مِنْكَ بَدَلاً وَمَنْ ذَا ٱلَّذِي أَنِسَ بِقُرْبِكَ فَٱبْتَغَىٰ عَنْكَ حِوَلاً إِلٰهِي فَٱجْعَلْنَا مِمَّنِ ٱصْطَفَيْتَهُ لِقُرْبِكَ وَوِلايَتِكَ وَأَخْلَصْتَهُ لِوُدِّكَ وَمَحَبَّتِكَ وَشَوَّقْتَهُ إِلَىٰ لِقَائِكَ وَرَضَّيْتَهُ بِقَضَائِكَ وَمَنَحْتَهُ بِٱلنَّظَرِ إِلَىٰ وَجْهِكَ وَحَبَوْتَهُ بِرِضَاكَ وَأَعَذْتَهُ مِنْ هَجْرِكَ وَقِلاكَ وَبَوَّأْتَهُ مَقْعَدَ ٱلصِّدْقِ فِي جِوَارِكَ وَخَصَصْتَهُ بِمَعْرِفَتِكَ وَأَهَّلْتَهُ لِعِبَادَتِكَ وَهَيَّمْتَ قَلْبَهُ لإِرَادَتِكَ وَٱجْتَبَيْتَهُ لِمُشَاهَدَتِكَ وَأَخْلَيْتَ وَجْهَهُ لَكَ وَفَرَّغْتَ فُؤَادَهُ لِحُبِّكَ وَرَغَّبْتَهُ فِيمَا عِنْدَكَ وَأَلْهَمْتَهُ ذِكْرَكَ وَأَوْزَعْتَهُ شُكْرَكَ وَشَغَلْتَهُ بِطَاعَتِكَ وَصَيَّرْتَهُ مِنْ صَالِحِي بَرِيَّتِكَ وَٱخْتَرْتَهُ لِمُنَاجَاتِكَ وَقَطَعْتَ عَنْهُ كُلَّ شَيْءٍ يَقْطَعُهُ عَنْكَ اَللَّهُمَّ ٱجْعَلْنَا مِمَّنْ دَأْبُهُمُ ٱلاِرْتِيَاحُ إِلَيْكَ وَٱلْحَنِينُ وَدَهْرُهُمُ ٱلزَّفْرَةُ وَٱلأَنِينُ جِبَاهُهُمْ سَاجِدَةٌ لِعَظَمَتِكَ وَعُيُونُهُمْ سَاهِرَةٌ فِي خِدْمَتِكَ وَدُمُوعُهُمْ سَائِلَةٌ مِنْ خَشْيَتِكَ وَقُلُوبُهُمْ مُتَعَلِّقَةٌ بِمَحَبَّتِكَ وَأَفْئِدَتُهُمْ مُنْخَلِعَةٌ مِنْ مَهَابَتِكَ يَا مَنْ أَنْوَارُ قُدْسِهِ لِأَبْصَارِ مُحِبِّيهِ رَائِقَةٌ وَسُبُحَاتُ وَجْهِهِ لِقُلُوبِ عَارِفِيهِ شَائِقَةٌ يَا مُنَىٰ قُلُوبِ ٱلْمُشْتَاقِينَ وَيَا غَايَةَ آمَالِ ٱلْمُحِبِّينَ أَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ وَحُبَّ كُلِّ عَمَلٍ يُوصِلُنِي إِلىٰ قُرْبِكَ وَأَنْ تَجْعَلَكَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا سِوَاكَ وَأَنْ تَجْعَلَ حُبِّي إِيَّاكَ قَائِداً إِلَىٰ رِضْوَانِكَ وَشَوْقِي إِلَيْكَ ذَائِداً عَنْ عِصْيَانِكَ وَٱمْنُنْ بِٱلنَّظَرِ إِلَيْكَ عَلَيَّ وَٱنْظُرْ بِعَيْنِ ٱلْوُدِّ وَٱلْعَطْفِ إِلَيَّ وَلاَ تَصْرِفْ عَنِّي وَجْهَكَ وَٱجْعَلْنِي مِنْ أَهْلِ ٱلإِسْعَادِ وَٱلْحُظْوَةِ عِنْدَكَ يَا مُجِيبُ يَا أَرْحَمَ ٱلرَّاحِمِينَ

    خدا کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے میرے معبود کون ہے جو تیری صحبت کی شیرینی کامزہ چکھے اور پھر اس میں تبدیلی کی خواہش کرے اور کون ہے جو تیری نزدیکی سے مانوس ہو اور پھر اس سے دوری چاہے میرے معبود مجھے ان لوگوں میں قرار دے جن کو تو نے قرب و دوستی کے لیے پسند فرمایا اور جن کے لیے اپنی چاہت اور محبت کو خالص کیا ہے جنہیں اپنی ملاقات کا شوق دلایاہے اور جن کو اپنی قضا پر راضی کیا اور اپنی ذات کا نظارہ کرنے کا شرف بخشا ہے جنہیں اپنی رضا سے نوازا ہے خود سے دوری اور علیحدگی سے پناہ میں رکھا ہے اور اپنی خوشنودی کے مقام کے قریب رکھا ہے اور انہیں اپنی معرفت کے لیے خاص کیا اپنی عبادت کا اہل بنایا ان کے دلوںمیں اپنی ارادت پیدا کی اور ان کو اپنے جلووں کے مشاہدے کے لیے چن لیا ان کے چہروںکو اپنے حضور جھکایا ان کے دلوں کو اپنی محبت کیلئے فارغ کیا اور جو کچھ تیرے پاس ہے اس کی چاہت دی انہیں اپنا ذکر تعلیم کیا ان کو اپنے شکر کی توفیق دی اور اپنی اطاعت میں مشغول کیا انہیں اپنی نیک مخلوق میں سے قرار دیا اور انہیں اپنی مناجات کے لیے چنا تو نے ان سے وہ تمام چیزیں الگ کردیں جو انہیں تجھ سے جدا کرسکتی تھیں اے معبود ہمیں ان لوگوں میں قرار دے جو تیری بارگاہ کا شوق و خوشدلی رکھتے ہیں جن کی زندگی آہ و زاری سے عبارت ہے ان کی پیشانیاں تیری بڑائی کے آگے جھکی ہوئی ہیں ان کی آنکھیں تیرے حضور بیدار رہتی ہیں تیرے خوف میں ان کے آنسو رواں ہیں انکے دل تیری محبت میں لگے بندھے ہیں ان کے باطن تیرے رعب سے پگھلے ہوئے ہیں اے وہ جس کی پاکیزگی کے انوار محبوں کو بھلے لگتے ہیں اور اس کی ذات کے جلوے سے عارفوںکے دلوں کو کھولنے والے ہیں اے شوق رکھنے والے دلوں کی آرزو اے محبوں کے ارمانوں کی انتہا میں تجھ سے تیری محبت اور تجھ سے محبت کرنے والوں کی محبت مانگتا ہوں اور ہر اس عمل کی محبت جو مجھے تیرے نزدیک کرنے والا ہے میں چاہتا ہوں کہ دوسروں سے زیادہ اپنی ذات کو میرا محبوب بنا اور یہ کہ میں تجھ سے جو محبت کرتا ہوں اسے میرے لیے دخول جنت کا ذریعہ بنا اور تیرے لیے میرا جو شوق ہے اسے نافرمانیوں سے مانع بنا اور اپنی نظر عنایت کرکے مجھ پر احسان فرما مجھ کو نرمی اور محبت کی نظروں سے دیکھ اور مجھ سے اپنی توجہ نہ ہٹا مجھے اپنے نزدیک اہل سعادت اور بہرہ مندوں میں قرار دے اے دعا قبول کرنے والے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ۔

  71. مناجات متوسلین

    71

    بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ إِلٰهِي لَيْسَ لِي وَسِيلَةٌ إِلَيْكَ إِلاَّ عَوَاطِفُ رَأْفَتِكَ وَلاَ لِي ذَرِيعَةٌ إِلَيْكَ إِلاَّ عَوَارِفُ رَحْمَتِكَ وَشَفَاعَةُ نَبِيِّكَ نَبِيِّ ٱلرَّحْمَةِ وَمُنْقِذِ ٱلأُمَّةِ مِنَ ٱلْغُمَّةِ فَٱجْعَلْهُمَا لِي سَبَباً إِلَىٰ نَيْلِ غُفْرَانِكَ وَصَيِّرْهُمَا لِي وُصْلَةً إِلَىٰ ٱلْفَوْزِ بِرِضْوَانِكَ وَقَدْ حَلَّ رَجَائِي بِحَرَمِ كَرَمِكَ وَحَطَّ طَمَعِي بِفِنَاءِ جُودِكَ فَحَقِّقْ فِيكَ أَمَلِي وَٱخْتِمْ بِٱلْخَيْرِ عَمَلِي وَٱجْعَلْنِي مِنْ صَفْوَتِكَ ٱلَّذِينَ أَحْلَلْتَهُمْ بُحْبُوحَةَ جَنَّتِكَ وَبَوَّأْتَهُمْ دَارَ كَرَامَتِكَ وَأَقْرَرْتَ أَعْيُنَهُمْ بِٱلنَّظَرِ إِلَيْكَ يَوْمَ لِقَائِكَ وَأَوْرَثْتَهُمْ مَنَازِلَ ٱلصِّدْقِ فِي جِوَارِكَ يَا مَنْ لاَ يَفِدُ ٱلْوَافِدُونَ عَلَىٰ أَكْرَمَ مِنْهُ وَلاَ يَجِدُ ٱلْقَاصِدُونَ أَرْحَمَ مِنْهُ يَا خَيْرَ مَنْ خَلا بِهِ وَحِيدٌ وَيَا أَعْطَفَ مَنْ أَوَىٰ إِلَيْهِ طَرِيدٌ إِلَىٰ سَعَةِ عَفْوِكَ مَدَدْتُ يَدِي وَبِذَيْلِ كَرَمِكَ أَعْلَقْتُ كَفِّي فَلاَ تُولِنِي ٱلْحِرْمَانَ وَلاَ تُبْلِنِي بِٱلْخَيْبَةِ وَٱلْخُسْرَانِ يَا سَمِيعَ ٱلدُّعَاءِ يَا أَرْحَمَ ٱلرَّاحِمِينَ

    خدا کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے میرے معبود تیری درگاہ تک تیرے کرم اور مہربانیوں کے علاوہ میرا کوئی وسیلہ نہیں مگر تیرا کرم اور مہربانیاں اور تجھ تک پہنچنے کا میرا کوئی ذریعہ نہیں مگر تیری رحمت اور احسان اور تیرے نبیٔ رحمت کی شفاعت جو امت کو گمراہی سے نکالنے والے ہیں ان دونوں کو میرے لیے اپنی بخشش کے حصول کا ذریعہ بنا اور انہی دونوں کو میرے لیے اپنی رضاتک پہنچنے کا وسیلہ قرار دے میری امیدیں تیری بارگاہ کرم سے وابستہ ہیں اور میری خواہش مجھے تیرے آستان سخاوت پر لائی ہے پس میری امید پوری فرما میرے عمل کا انجام بہ خیر کر مجھے اہل صفا میں قرار دے جن کو تو نے اپنی جنت کے بیچوںبیچ جگہ عطا کی ہے اور انہیں اپنے کرامت والے گھر میں رکھا تو نے یوم ملاقات اپنی درگاہ کی طرف نظر کرنے سے ان کی آنکھوںکو روشن کیا اور انہیںاپنے قرب میں صدق کی منزلوں کا وارث بنایا اے وہ کہ وارد ہونے والے اس سے زیادہ کریم کے ہاں وارد نہیں ہوتے اور نہ ہی قصد کرنے والے کوئی اس سے زیادہ رحم والا پاتے ہیں اے ان سب سے بہتر جن سے تنہائی میں ملاقات کی جائے اور اے بہت مہربان کہ ہر دور کیا ہؤا تیرے ہی وسیع دامان عفو میں پناہ حاصل کرتا ہے میں نے اپنا ہاتھ پھیلایا اور تیرے دامن سخاوت کو اپنی ہاتھ سے تھام لیا ہے پس مجھے نا امید نہ فرما اور مجھے رسوائی اور گھاٹے سے دوچار نہ کر اے دعا کے سننے والے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔

  72. مناجات مفتقرین

    72

    بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ إِلٰهِي كَسْرِي لاَ يَجْبُرُهُ إِلاَّ لُطْفُكَ وَحَنَانُكَ وَفَقْرِي لاَ يُغْنِيهِ إِلاَّ عَطْفُكَ وَإِحْسَانُكَ وَرَوْعَتِي لاَ يُسَكِّنُهَا إِلاَّ أَمَانُكَ وَذِلَّتِي لاَ يُعِزُّهَا إِلاَّ سُلْطانُكَ وَأُمْنِيَتِي لاَ يُبَلِّغُنِيهَا إِلاَّ فَضْلُكَ وَخَلَّتِي لاَ يَسُدُّهَا إِلاَّ طَوْلُكَ وَحَاجَتِي لاَ يَقْضِيهَا غَيْرُكَ وَكَرْبِي لاَ يُفَرِّجُهُ سِوَىٰ رَحْمَتِكَ وَضُرِّي لاَ يَكْشِفُهُ غَيْرُ رَأْفَتِكَ وَغُلَّتِي لاَ يُبَرِّدُهَا إِلاَّ وَصْلُكَ وَلَوْعَتِي لاَ يُطْفِيهَا إِلّا لِقَاؤُكَ وَشَوْقِي إِلَيْكَ لاَ يَبُلُّهُ إِلّا ٱلنَّظَرُ إِلَىٰ وَجْهِكَ وَقَرَارِي لاَ يَقِرُّ دُونَ دُنُوِّي مِنْكَ وَلَهْفَتِي لاَ يَرُدُّهَا إِلّا رَوْحُكَ وَسُقْمِى لاَ يَشْفِيهِ إِلّا طِبُّكَ وَغَمِّي لاَ يُزِيلُهُ إِلّا قُرْبُكَ وَجُرْحِي لاَ يُبْرِئُهُ إِلّا صَفْحُكَ وَرَيْنُ قَلْبِي لاَ يَجْلُوهُ إِلّا عَفْوُكَ وَوَسْوَاسُ صَدْرِي لاَ يُزِيحُهُ إِلّا أَمْرُكَ فَيَا مُنْتَهَىٰ أَمَلِ ٱلآمِلِينَ وَيَا غَايَةَ سُؤْلِ ٱلسَّائِلينَ وَيَا أَقْصَىٰ طَلِبَةِ ٱلطَّالِبِينَ وَيَا أَعْلَىٰ رَغْبَةِ ٱلرَّاغِبِينَ وَيَا وَلِيَّ ٱلصَّالِحِينَ وَيَا أَمَانَ ٱلْخَائِفِينَ وَيَا مُجِيبَ دَعْوَةِ ٱلْمُضْطَرِّينَ وَيَا ذُخْرَ ٱلْمُعْدَمِينَ وَيَا كَنْزَ ٱلْبَائِسِينَ وَيَا غِيَاثَ ٱلْمُسْتَغِيثِينَ وَيَا قَاضِيَ حَوَائِجِ ٱلْفُقَرَاءِ وَٱلْمسَاكِينِ وَيَا أَكْرَمَ ٱلأَكْرَمِينَ وَيَا أَرْحَمَ ٱلرَّاحِمِينَ لَكَ تَخَضُّعِي وَسُؤَالِي وَإِلَيْكَ تَضَرُّعِي وَٱبْتِهَالِي أَسْأَلُكَ أَنْ تُنِيلَنِي مِنْ رَوْحِ رِضْوَانِكَ وَتُدِيمَ عَلَيَّ نِعَمَ ٱمْتِنَانِكَ وَهَا أَنَا بِبَابِ كَرَمِكَ وَاقِفٌ وَلِنَفَحَاتِ بِرِّكَ مُتَعَرِّضٌ وَبِحَبْلِكَ ٱلشَّدِيدِ مُعْتَصِمٌ وَبِعُرْوَتِكَ ٱلْوُثْقَىٰ مُتَمَسِّكٌ إِلٰهِي ٱرْحَمْ عَبْدَكَ ٱلذَّلِيلَ ذَا ٱللِّسَانِ ٱلْكَلِيلِ وَٱلْعَمَلِ ٱلْقَلِيلِ وَٱمْنُنْ عَلَيْهِ بِطَوْلِكَ ٱلْجَزِيلِ وَٱكْنُفْهُ تَحْتَ ظِلِّكَ ٱلظَّلِيلِ يَا كَرِيمُ يَا جَمِيلُ يَا أَرْحَمَ ٱلرَّاحِمِينَ

    خدا کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے میرے معبود کوئی میری شکستگی کو بحال نہیں سکتا مگر تیرا لطف و مہربانی اور مجھے محتاجی سے کوئی نہیں نکال سکتا مگرتیری نوازش اور تیرا احسان کوئی میرے خوف کو سکون میں نہیں بدل سکتا مگر تیری پناہ کوئی میری ذلت کو عزت سے نہیں بدل سکتا مگر تیری قوت کوئی میری آرزو پوری نہیں ہوسکتی مگر تیرے فضل سے کوئی میری حاجت بر نہیں آتی مگر تیری بخشش سے کوئی میری ضرورت پوری نہیں کرسکتا سوائے تیرے میری مصیبت نہیں کٹتی بجز اس کے کہ تو رحمت فرمائے میری بے چارگی رفع نہیں ہوتی سوائے تیری مہربانی کے میرے سینے کی جلن کو تیرا ہی وصال ٹھنڈک پہنچا سکتا ہے میرے سوزدل کو تیری ملاقات ہی خنک کرسکتی ہے میرے شوق کو تیرے جلوے کا نظارہ ہی تسکین دے سکتا ہے سوائے تیرے قرب کے مجھے قرار نہیں مل سکتا میرے رنج و غم کو تیری خوشنودی ہی مٹا سکتی ہے اورمیری بیماری دور نہیں ہوتی مگر تیری دوا سے میرا غم نہیں جاتا مگر تیرے قرب سے تیری ہی چشم پوشی میرے زخم کو اچھا کرسکتی ہے تیرا عفو ہی میرے دل کے میل کو صاف کرسکتا ہے تیرے ہی حکم سے میرے سینے کا وسواس دور ہوسکتا ہے پس اے امید کرنے والوں کی امید کی انتہا اے سوالیوں کی انتہا اے طلب کرنے والوںکی انتہائی طلب اے رغبت کرنے والوں کی رغبت سے بالاتر اے نیکوکاروں کے سرپرست اے ڈرے ہوؤں کی پناہ گاہ اے بے قراروں کی دعائیں قبول کرنے والے اے ناداروں کے سرمایہ اے درماندوں کے خزانے اے داد خواہوں کے داد رس اے فقرائ و مساکین کی حاجتیں پوری کرنے والے اے عزت داروںمیں بڑے عزت دار اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے تیرے آگے عاجزی کرتا ہوں اور تجھی سے ہی سوال کرتا ہوں تیرے ہی سامنے فریاد و زاری کرتا ہوں میں سوال کرتا ہوں کہ اپنی نسیم رضا مجھ تک پہنچا دے اور ہمیشہ مجھ پراحسان و کرم فرما ہاں اب میں تیرے در سخاوت پر آکھڑا ہوں اور تیرے بہترین عطیات کا منتظر ہوں اور تیری مضبوط رسی کو پکڑے ہوئے ہوں اور تیری محکم ڈوری کو تھامے ہوئے ہوں میرے معبود اپنے اس پست بندے پر رحم فرما جس کی زبان گنگ اور عمل بہت کم ہے اس پر اپنی فزوں تر سخاوت سے احسان فرما اوراپنے بلندتر سائے تلے پناہ دے اے کریم اے جمیل اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔

  73. مناجات عارفین

    73

    بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ إِلٰهِي قَصُرَتِ ٱلأَلْسُنُ عَنْ بُلُوغِ ثَنَائِكَ كَما يَلِيقُ بِجَلالِكَ وَعَجَزَتِ ٱلْعُقُولُ عَنْ إِدْرَاكِ كُنْهِ جَمَالِكَ وَٱنْحَسَرَتِ ٱلأَبْصَارُ دُونَ ٱلنَّظَرِ إِلَىٰ سُبُحَاتِ وَجْهِكَ وَلَمْ تَجْعَلْ لِلْخَلْقِ طَرِيقاً إِلَىٰ مَعْرِفَتِكَ إِلاَّ بِٱلْعَجْزِ عَنْ مَعْرِفَتِكَ إِلٰهِي فَٱجْعَلْنَا مِنَ ٱلَّذِينَ تَرَسَّخَتْ أَشْجَارُ ٱلشَّوْقِ إِلَيْكَ فِي حَدَائِقِ صُدُورِهِمْ وَأَخَذَتْ لَوْعَةُ مَحَبَّتِكَ بِمَجَامِعِ قُلُوبِهِمْ فَهُمْ إِلَىٰ أَوْكَارِ ٱلأَفْكَارِ يَأْوُونَ وَفِي رِيَاضِ ٱلْقُرْبِ وَٱلْمُكَاشَفَةِ يَرْتَعُونَ وَمِنْ حِيَاضِ ٱلْمَحَبَّةِ بِكَأْسِ ٱلْمُلاطَفَةِ يَكْرَعُونَ وَشَرَائِعَ ٱلْمُصَافَاةِ يَرِدُونَ قَدْ كُشِفَ ٱلْغِطَاءُ عَنْ أَبْصَارِهِمْ وَٱنْجَلَتْ ظُلْمَةُ ٱلرَّيْبِ عَنْ عَقَائِدِهِمْ وَضَمَائِرِهِمْ وَٱنْتَفَتْ مُخَالَجَةُ ٱلشَّكِّ عَنْ قُلُوبِهِمْ وَسَرَائِرِهِمْ وَٱنْشَرَحَتْ بِتَحْقِيقِ ٱلْمَعْرِفَةِ صُدُورُهُمْ وَعَلَتْ لِسَبْقِ ٱلسَّعَادَةِ فِي ٱلزَّهَادَةِ هِمَمُهُمْ وَعَذُبَ فِي مَعينِ ٱلْمُعَامَلَةِ شِرْبُهُمْ وَطَابَ فِي مَجْلِسِ ٱلأُنْسِ سِرُّهُمْ وَأَمِنَ فِي مَوْطِنِ ٱلْمَخَافَةِ سِرْبُهُم وَٱطْمَأَنَّتْ بِٱلرُّجُوعِ إِلَىٰ رَبِّ ٱلأَرْبَابِ أَنْفُسُهُمْ وَتَيَقَّنَتْ بِٱلْفَوْزِ وَٱلْفَلاحِ أَرْوَاحُهُمْ وَقَرَّتْ بِٱلنَّظَرِ إِلَىٰ مَحْبُوبِهِمْ أَعْيُنُهُمْ وَٱسْتَقَرَّ بِإِدْرَاكِ ٱلسُّؤْلِ وَنَيْلِ ٱلْمَأْمُولِ قَرَارُهُمْ وَرَبِحَتْ فِي بَيْعِ ٱلدُّنْيَا بِٱلآخِرَةِ تِجَارَتُهُمْ إِلٰهِي مَا أَلَذَّ خَوَاطِرَ ٱلإِلْهَامِ بِذِكْرِكَ عَلَىٰ ٱلْقُلُوبِ وَمَا أَحْلَىٰ ٱلْمَسِيرَ إِلَيْكَ بِٱلأَوْهَامِ فِي مَسَالِكِ ٱلْغُيُوبِ وَمَا أَطْيَبَ طَعْمَ حُبِّكَ وَمَا أَعْذَبَ شِرْبَ قُرْبِكَ فَأَعِذْنا مِنْ طَرْدِكَ وَإِبْعَادِكَ وَٱجْعَلْنَا مِنْ أَخَصِّ عَارِفِيكَ وَأَصْلَحِ عِبَادِكَ وَأَصْدَقِ طَائِعِيكَ وَأَخْلَصِ عُبَّادِكَ يَا عَظِيمُ يَا جَلِيلُ يَا كَرِيمُ يَا مُنِيلُ بِرَحْمَتِكَ وَمَنِّكَ يَا أَرْحَمَ ٱلرَّاحِمِينَ

    خدا کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے میرے معبود تیری جلالت شان کے مناسب تیری تعریف کرنے میں زبانیںگنگ ہیں اور تیرے جمال کی حقیقت کو سمجھنے سے لوگوں کی عقلیں عاجز ہیں تیری ذات کے جلووں کی طرف نظر کرنے سے آنکھیں درماندہ ہو کر رہ جاتی ہیں لوگوں کے لیے تیری معرفت کا حصول بس یہی ہے کہ وہ تیری معرفت سے قاصر ہیں میرے معبود مجھے ان لوگوں میں سے قرار دے جن کے سینوں کے باغیچوں میں تیرے شوق کے درخت جڑیں پکڑ چکے ہیں اور تیرے سوز محبت نے ان کے دلوں کو گھیرا ہؤا ہے اب وہ یادوں کے آشیانے میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور تیرے قرب اور جلوے کے باغوں میں سیر کر رہے ہیں وہ تیری محبت کے چشموں سے جام الفت کے گھونٹ پی رہے ہیں اور صاف ستھرے گھاٹوں پر وارد ہیں ان کی آنکھوں سے پردہ اٹھ چکا ہے اور شک کی کالک ان کے عقیدوں اور ضمیروںسے دور ہوگئی ہے ان کے دلوں اور باطنوں سے شبہ کے اثرات ختم ہوگئے ہیں صحیح معرفت حاصل ہونے سے ان کے سینے کھل چکے ہیں حصول سعادت کے لیے زہد میں ان کی ہمتیں بلند ہوگئی ہیں کردار کے چشمہ میں ان کا پینا شیریں ہے انس و محبت کی محفل میں ان کا باطن صاف ہے خوفناک جگہوں پر ان کا گروہ امن میں ہے اور پالنے والوں کے پالنے والے کی طرف بازگشت سے ان کے نفس مطمئن ہیں ان کی روحوں کو بخشش و کامیابی کا یقین ہے ان کی آنکھیں دیدار محبوب سے خنک ہیں ان کو حاجتیں پوری ہونے اور مرادیں بر آنے سے قرار حاصل ہے آخرت کے بدلے دنیا بیچنے سے ان کا سودا نفع بخش ہے میرے معبود کیا ہی مزہ ہے ان خیالوں میں جو تیرے ذکر سے دلوں میں آتے ہیں اور کتنا شرین ہے تیری طرف وہ سفر جو بخیال خود غیب کے راستوں پر جاری ہے کتنا اچھا ہے تیری محبت کا ذائقہ اور کتنا میٹھا ہے تیرے قرب کا شربت پس بچا ہمیں کہ تیرے ہاںسے ہانکے جائیں اور تجھ سے دور رہیں ہمیں اپنے خصوصی عارفوں اور صالح ترین بندوں میںقرار دے اور اپنے سچے فرمانبرداروں اور کھرے عبادت گزاروں میں رکھ اے عظمت والے اے جلال والے اے مہربان اے عطا کرنے والے تجھے تیری رحمت و احسان کا واسطہ اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے

  74. مناجات ذاکرین

    74

    بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ إِلٰهِي لَوْلاَ ٱلْوَاجِبُ مِنْ قَبُولِ أَمْرِكَ لَنَزَّهْتُكَ مِنْ ذِكْرِي إِيَّاكَ عَلَىٰ أَنَّ ذِكْرِي لَكَ بِقَدْرِي لاَ بِقَدْرِكَ وَمَا عَسَىٰ أَنْ يَبْلُغَ مِقْدَارِي حَتَّىٰ أَجْعَلَ مَحَلاًّ لِتَقْدِيسِكَ وَمِنْ أَعْظَمِ ٱلنِّعَمِ عَلَيْنَا جَرَيَانُ ذِكْرِكَ عَلَىٰ أَلْسِنَتِنَا وَإِذْنُكَ لَنَا بِدُعَائِكَ وَتَنْزِيهِكَ وَتَسْبِيحِكَ إِلٰهِي فَأَلْهِمْنَا ذِكْرَكَ فِي ٱلْخَلاءِ وَٱلْمَلاءِ وَٱللَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ وَٱلإِعْلانِ وَٱلإِسْرَارِ وَفِي ٱلسَّرَّاءِ وَٱلضَّرَّاءِ وَآنِسْنَا بِٱلذِّكْرِ ٱلْخَفِيِّ وَٱسْتَعْمِلْنَا بِٱلْعَمَلِ ٱلزَّكِيِّ وَٱلسَّعْيِ ٱلْمَرْضِيِّ وَجَازِنَا بِٱلْمِيزَانِ ٱلْوَفِيِّ إِلٰهِي بِكَ هَامَتِ ٱلْقُلُوبُ ٱلْوَالِهَةُ وَعَلَىٰ مَعْرِفَتِكَ جُمِعَتِ ٱلْعُقُولُ ٱلْمُتَبَايِنَةُ فَلاَ تَطْمَئِنُّ ٱلْقُلُوبُ إِلاَّ بِذِكْرَاكَ وَلاَ تَسْكُنُ ٱلنُّفُوسُ إِلاَّ عِنْدَ رُؤْيَاكَ أَنْتَ ٱلْمُسَبَّحُ فِي كُلِّ مَكَانٍ وَٱلْمَعْبُودُ فِي كُلِّ زَمَانٍ وَٱلْمَوْجُودُ فِي كُلِّ أَوَانٍ وَٱلْمَدْعُوُّ بِكُلِّ لِسَانٍ وَٱلْمُعَظَّمُ فِي كُلِّ جَنَانٍ وَأَسْتَغْفِرُكَ مِنْ كُلِّ لَذَّةٍ بِغَيْرِ ذِكْرِكَ وَمِنْ كُلِّ رَاحَةٍ بِغَيْرِ أُنْسِكَ وَمِنْ كُلِّ سُرُورٍ بِغَيْرِ قُرْبِكَ وَمِنْ كُلِّ شُغْلٍ بِغَيْرِ طَاعَتِكَ إِلٰهِي أَنْتَ قُلْتَ وَقَوْلُكَ ٱلْحَقُّ: (يَا أَيُّهَا ٱلَّذِينَ آمَنُوا ٱذْكُرُوا ٱللَّهَ ذِكْراً كَثِيراً وَسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلاً) وَقُلْتَ وَقَوْلُكَ ٱلْحَقُّ: (فَٱذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ) فَأَمَرْتَنَا بِذِكْرِكَ وَوَعَدْتَنا عَلَيْهِ أَنْ تَذْكُرَنا تَشْرِيفاً لَنَا وَتَفْخِيماً وَإِعْظَاماً وَهَا نَحْنُ ذَاكِرُوكَ كَمَا أَمَرْتَنَا فَأَنْجِزْ لَنَا مَا وَعَدْتَنَا يَا ذَاكِرَ ٱلذَّاكِرِينَ وَيَا أَرْحَمَ ٱلرَّاحِمِينَ

    خدا کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے میرے معبود اگر تیرا حکم ماننا واجب نہ ہوتا تو میںتیرا ذکر اپنی زبان پر نہ لاتا کیونکہ میں تیرا جو ذکر کرتا ہوں وہ میرے اندازے سے ہے نہ تیری شان کے مطابق اور میری کیا بساط کہ میں تیری تقدیس و پاکیزگی کا محل قرار پا سکوں یہ چیز ہم پر تیری عظیم نعمتوں میں سے ہے کہ تیرا ذکر ہماری زبانوں پر جاری ہے اور ہمیںتجھ سے دعا مانگنے اور تیری پاکیزگی و نظافت بیان کرنے کی اجازت ہے میرے معبود ہمیں اپنے ذکر کی توفیق دے کہ ہم نہاں اور عیاں، رات اور دن، ظاہر و باطن اور خوشی و غمی میں تیرا ذکر کیا کریں ہمیں اپنے پوشیدہ ذکر سے مانوس فرما ہمیں پاکیزہ عمل اور پسندیدہ کوشش میں لگا اور پوری میزان سے ہمیں جزا دے میرا محبت بھرا دل تجھ سے لگاؤ رکھے ہوئے ہے تیری معرفت میں مختلف قسم کی عقلیں اتفاق رکھتی ہیں پس دل چین نہیں پکڑتے مگر تیرے ذکر سے اور تیری ذات پر یقین سے نفسوں کو سکوں ملتا ہے تو ہی ہے جس کی تسبیح ہر جگہ ہوتی ہے اور جو ہر زمانے میں معبود ہے اور ہر وقت ہر جگہ موجود ہے اور ہر زبان سے پکارا جاتا ہے اور ہر دل میں تیری عظمت قائم ہے میںمعافی چاہتا ہوں تجھ سے تیرے ذکر کے سوا ہر لذت سے تیری محبت کے سوا ہر راحت سے تیری قربت کے سوا ہر خوشی پر اور معافی چاہتا ہوں تجھ سے تیری اطاعت کے سوا ہر کام سے میرے معبود تو نے ہی کہا ہے اور تیرا قول حق ہے کہ اے ایمان لانے والو ذکر کرو اللہ کا بہت زیادہ ذکر اور صبح و شام اس کی پاکیزگی بیان کرو نیز تو نے ہی کہا اور تیرا قول حق ہے پس تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کرونگا تو نے ہمیں اپنی یاد کا حکم دیا اور ہم سے وعدہ کیا اس پرکہ تو بھی ہمیںیاد کرے گا یہ ہمارے لیے شرف و احترام اور بڑائی ہے تو اب ہم تجھے یاد کررہے ہیں جیسے تو نے حکم دیا ہے پس تو بھی ہم سے کیا ہؤا وعدہ پورا کر اے یاد کرنے والوں کو یاد کرنے والے اور اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔

  75. مناجات معتصمین

    75

    بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ اَللَّهُمَّ يَا مَلاذَ ٱللَّائِذِينَ وَيَا مَعَاذَ ٱلْعَائِذِينَ وَيَا مُنْجِيَ ٱلْهَالِكينَ وَيَا عَاصِمَ ٱلْبَائِسِينَ وَيَا رَاحِمَ ٱلْمَسَاكِينَ وَيَا مُجِيبَ ٱلْمُضْطَرِّينَ وَيَا كَنْزَ ٱلْمُفْتَقِرِينَ وَيَا جَابِرَ ٱلْمُنْكَسِرِينَ وَيَا مَأْوَىٰ ٱلْمُنْقَطِعِينَ وَيَا نَاصِرَ ٱلْمُسْتَضْعَفِينَ وَيَا مُجِيرَ ٱلْخَائِفِينَ وَيَا مُغِيثَ ٱلْمَكْرُوبِينَ وَيَا حِصْنَ ٱللَّاجِئِينَ إِنْ لَمْ أَعُذْ بِعِزَّتِكَ فَبِمَنْ أَعُوذُ وَإِنْ لَمْ أَلُذْ بِقُدْرَتِكَ فَبِمَنْ أَلُوذُ وَقَدْ أَلْجَأَتْنِي ٱلذُّنُوبُ إِلَىٰ ٱلتَّشَبُّثِ بِأَذْيَالِ عَفْوِكَ وَأَحْوَجَتْنِي ٱلْخَطَايَا إِلَىٰ ٱسْتِفْتَاحِ أَبْوَابِ صَفْحِكَ وَدَعَتْنِي ٱلْإِسَاءَةُ إِلَىٰ ٱلْإِنَاخَةِ بِفِنَاءِ عِزِّكَ وَحَمَلَتْنِي ٱلْمَخَافَةُ مِنْ نَقِمَتِكَ عَلَىٰ ٱلتَّمَسُّكِ بِعُرْوَةِ عَطْفِكَ وَمَا حَقُّ مَنِ ٱعْتَصَمَ بِحَبْلِكَ أَنْ يُخْذَلَ وَلاَ يَلِيقُ بِمَنِ ٱسْتَجَارَ بِعِزِّكَ أَنْ يُسْلَمَ أَوْ يُهْمَلَ إِلٰهِي فَلاَ تُخْلِنَا مِنْ حِمَايَتِكَ وَلاَ تُعْرِنَا مِنْ رِعَايَتِكَ وَذُدْنَا عَنْ مَوَارِدِ ٱلْهَلَكَةِ فَإِنَّا بِعَيْنِكَ وَفِي كَنَفِكَ وَلَكَ أَسْأَلُكَ بِأَهْلِ خَاصَّتِكَ مِنْ مَلائِكَتِكَ وَٱلصَّالِحِينَ مِنْ بَرِيَّتِكَ أَنْ تَجْعَلَ عَلَيْنَا وَاقِيَةً تُنْجِينَا مِنَ ٱلْهَلَكاتِ وَتُجَنِّبُنَا مِنَ ٱلآفَاتِ وَتُكِنُّنَا مِنْ دَوَاهِي ٱلْمُصِيبَاتِ وَأَنْ تُنْزِلَ عَلَيْنَا مِنْ سَكِينَتِكَ وَأَنْ تُغَشِّيَ وُجُوهَنَا بِأَنْوَارِ مَحَبَّتِكَ وَأَنْ تُؤْوِيَنَا إِلَىٰ شَدِيدِ رُكْنِكَ وَأَنْ تَحْوِيَنَا فِي أَكْنَافِ عِصْمَتِكَ بِرَأْفَتِكَ وَرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ ٱلرَّاحِمِينَ

    خدا کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ میرے معبود اے پناہ دینے والوں کی پناہ اے پناہ لینے والوں کی پناہ گاہ اے ہلاکت والوں کو نجات دینے والے اے بے چاروں کے نگہدار اے بے کسوںپر رحم کرنے والے اے پریشانوں کی دعا قبول کرنے والے اے محتاجوں کے خزانے اے ٹوٹے ہوؤں کے جوڑنے والے اے بے ٹھکانوں کی جائے پناہ اور اے کمزوروں کی مدد کرنے والے اے خوف زدوں کی پناہ گاہ اے دکھیاروں کے فریاد رس اے پناہ خواہوں کی محکم جائے پناہ اگر میں تیری عزت کی پناہ نہ لوں تو کس کی پناہ لوں اور اگر تیری قدرت سے التجا نہ کروں تو کس سے التجا کروں میرے گناہوں نے مجھے مجبور کردیا ہے کہ میں تیرے دامان عفو کو تھام لوں اور میری خطاؤں نے مجھے تیری چشم پوشی کے دروازوں کے کھلنے کا طلبگار بنا دیا ہے میری بدعملی نے مجھے تیرے آستان عزت پرڈیرہ ڈال دینے کو کہا ہے اور تیرے عذاب کے خوف نے مجھے تیری مہربانی کی ڈوری پکڑ لینے پر آمادہ کیا ہے اور حق یہ نہیں کہ جو تیری رسی کو پکڑ لے تو اسے رسوا کیا جائے اور یہ مناسب نہیں کہ جو تیری عزت کی پناہ لے اس کو بے سہارا چھوڑا جائے میرے معبود ہمیں اپنی حمایت کے بغیر چھوڑ نہ دے اور ہمیں اپنی نگاہ سے محروم نہ فرما اور ہمیں ہلاکت کی جگہوں سے دور رکھ کیونکہ ہم تیرے زیر نظر اور تیری پناہ میں ہیں میں تیرے مخصوص فرشتوں اور تیری مخلوق میں سے صالح بندوں کا واسطہ دے کر تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ ہم پر ایسی سپر ڈال دے جو ہمیں ہلاکتوں سے بچائے اور آفتوں سے محفوظ رکھے اور تو ہمیں بڑی بڑی مصیبتوں سے نجات عطا فرما میں چاہتا ہوں کہ تو ہم پر اپنی طرف سے تسکین نازل کر اور ہمارے چہروں کا اپنی محبت کے انوار سے احاطہ فرما ہمیں اپنے محکم و پائیدار رکن کا سہارا دے اور اپنی عصمت کے سایوں میں لے لے واسطہ ہے تیری رحمت و ملائمت کا اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔

  76. مناجات زاہدین

    76

    بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ إِلٰهِي أَسْكَنْتَنَا دَاراً حَفَرَتْ لَنَا حُفَرَ مَكْرِهَا وَعَلَّقْتَنَا بِأَيْدِي ٱلْمَنَايَا فِي حَبَائِلِ غَدْرِهَا فَإِلَيْكَ نَلْتَجِئُ مِنْ مَكَائِدِ خُدَعِهَا وَبِكَ نَعْتَصِمُ مِنَ ٱلاِغْتِرَارِ بِزَخَارِفِ زينَتِهَا فَإِنَّهَا ٱلْمُهْلِكَةُ طُلاَّبَهَا ٱلْمُتْلِفَةُ حُلاّلَهَا ٱلْمَحْشُوَّةُ بِٱلآفَاتِ ٱلْمَشْحُونَةُ بِٱلنَّكَبَاتِ إِلٰهِي فَزَهِّدْنا فِيهَا وَسَلِّمْنَا مِنْهَا بِتَوْفِيقِكَ وَعِصْمَتِكَ وَٱنْزَعْ عَنَّا جَلابِيبَ مُخَالَفَتِكَ وَتَوَلَّ أُمُورَنَا بِحُسْنِ كِفَايَتِكَ وَأَوْفِرْ مَزِيدَنَا مِنْ سَعَةِ رَحْمَتِكَ وَأَجْمِلْ صِلاتِنَا مِنْ فَيْضِ مَوَاهِبِكَ وَٱغْرِسْ فِي أَفْئِدَتِنَا أَشْجَارَ مَحَبَّتِكَ وَأَتْمِمْ لَنَا أَنْوَارَ مَعْرِفَتِكَ وَأَذِقْنَا حَلاوَةَ عَفْوِكَ وَلَذَّةَ مَغْفِرَتِكَ وَأَقْرِرْ أَعْيُنَنَا يَوْمَ لِقَائِكَ بِرُؤْيَتِكَ وَأَخْرِجْ حُبَّ ٱلدُّنْيَا مِنْ قُلُوبِنَا كَما فَعَلْتَ بِٱلصَّالِحِينَ مِنْ صَفْوَتِكَ وَٱلأَبْرَارِ مِنْ خَاصَّتِكَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ ٱلرَّاحِمِينَ وَيَا أَكْرَمَ ٱلأَكْرَمِينَ

    خدا کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے میرے معبودتو نے ہمیں ایسے گھر میںرکھا جس کو فریب کے کدال نے ہمارے لیے کھودا ہے اور تو نے ہمیں آرزوؤں کے ہاتھوںاسکے فریب کی رسیوںمیں جکڑ دیا ہے پس ہم اس دنیا کے فریبوںاور مکاریوںسے تیری پناہ چاہتے ہیںاور ہم اس کی جھوٹی زینتوں کے دھوکوں سے بچنے کے لیے تیرا مضبوط دامن پکڑتے ہیں کہ یہ اپنے طلبگاروں کو ہلاک کرنے والی یہاں آنے والوں کو تلف کرنے والی آفتوں سے بھری بدحالیوں سے پر ہے میرے معبود ہمیں اس میں زہد عطا فرما اور اپنی مدد اور حفاظت کے ساتھ اس سے بچائے رکھ اپنی مخالفت کی چادروں کو ہم سے جدا کر دے اپنی بہترین کفایت سے ہمارے امور کی سرپرستی فرما ہمارے لیے اپنی وسیع رحمت فراواں اور زیادہ کردے اپنی عطاؤں کے فیض سے ہمیں بہترین جزائیں دے ہمارے دلوں میں اپنی محبت کے درخت لگا دے ہمیں اپنی معرفت کے سبھی انوار عطا کر دے اور اپنے عفو کی شیرینی اور بخشش کی لذت کا ذائقہ چکھا اپنی ملاقات کے دن اپنے جمال سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی فرما اور ہمارے دلوں سے دنیا کی محبت نکال دے جیسا کہ تو نے اپنے مخصوص نیکو کاروں اور اپنے چنے ہوئے خوش کردار لوگوں کے لیے کیا تجھے واسطہ تیری رحمت کا اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اور اے سب سے زیادہ کرم کرنے والے۔

  77. اتوار کی دعا

    77

    بسم الله الرحمن الرحيم بِسْمِ اللهِ الَّذِي لاَ أَرْجُو إِلاَّ فَضْلَهُ، وَلاَ أَخْشَى إلاَّ عَدْلَهُ، وَلا أَعْتَمِدُ إلاَّ قَوْلَهُ، وَلا أَتَمَسَّكُ إلاَّ بِحَبْلِهِ. بِكَ أَسْتَجِيرُ يا ذَا الْعَفْوِ وَالرِّضْوانِ مِنَ الظُّلْمِ وَالْعُدْوانِ، وَمِنْ غِيَرِ الزَّمانِ، وَتَواتُرِ الاَحْزانِ، وَمِنْ طَوارِقِ الْحَدَثَانِ ، وَمِنِ انْقِضآءِ الْمُدَّةِ قَبْلَ التَّأَهُّبِ وَالْعُدَّةِ. وَإيَّاكَ أَسْتَرْشِدُ لِما فِيهِ الصَّلاحُ وَالاِصْلاحُ، وَبِكَ أَسْتَعِينُ فِيما يَقْتَرِنُ بِهِ النَّجاحُ وَالاِنْجاحُ. وَإيَّاكَ أَرْغَبُ فِي لِباسِ الْعافِيَةِ وَتَمامِها، وَشُمُولِ السَّلامَةِ وَدَوامِها، وَأَعُوذُ بِكَ يارَبِّ مِنْ هَمَزاتِ الشَّياطِينِ، وَأَحْتَرِزُ بِسُلْطانِكَ مِنْ جَوْرِ السَّلاطِينِ، فَتَقَبَّلْ ما كانَ مِنْ صَلاتِي وَصَوْمِي، واجْعَلْ غدي وَمَا بَعْدَهُ أفَضَلَ من سَاعَتي وَيَوْمِي، وَأَعِزَّنِي فِي عَشِيرَتِي وَقَوْمِي، وَاحْفَظْنِي فِي يَقْظَتِي وَنَوْمِي، فَأَنْتَ اللَّهُ خَيْرٌ حافِظاً، وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ. أَللَّهُمَّ إنِّي أَبْرَأُ إلَيْكَ فِي يَوْمِي هذا وَ ما بَعْدَهُ مِنَ الاحادِ مِنَ الشِّرْكَ وَالالْحَادِ، وَأُخْلِصُ لَكَ دُعآئِي تَعَرُّضَاً لِلاِجابَةِ فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِ مُحَمَّد خَيْرِ خَلْقِكَ،الدَّاعِي إلَى حَقِّكَ، وَأَعِزَّنِي بِعِزِّكَ الَّذِي لا يُضامُ، وَاحْفَظْنِي بِعَيْنِك الَّتِي لاتَنامُ، وَاخْتِمْ بِالانْقِطَاعِ إلَيْكَ أَمْرِي، وَبِالْمَغْفِرَةِ عُمْرِي، إنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ.

    اس اللہ کے نام سے مدد مانگتا ہوں جس کے فضل و کرم ہی کا امیدوار ہوں، اور جس کے عدل ہی سے اندیشہ ہے، اسی کی بات پر مجھے بھروسا ہے، اور اس کی رسی سے وابستہ ہوں۔ اے عفو و خوشنودی کے مالک! میں تجھ سے ظلم و جور، زمانہ کے انقلابات، غموں کے پہیم ہجوم اور نازل ہونے والی مصیبتوں سے پناہ مانگتا ہوں، اور اس بات سے کہ آخرت کا ساز و سامان اور زادِ راہ مہیّا کرنے سے پہلے ہی مدت حیات ختم ہو جائے۔ اور تجھ ہی سے ان چیزوں کی رہنمائی چاہتا ہوں جن میں اپنی بہبودی اور دوسروں کی فلاح و درستی کا سامان ہو، اور تجھ ہی سے مدد مانگتا ہوں ان باتوں کی جن میں اپنی فلاح و کامرانی اور دوسرے کو کامیاب بنانے کی صورت مضمر ہو، اور تجھ ہی سے خواہشمند ہوں لباس عافیت (کے پہنانے) اور اسے اتمام تک پہنچانے کا اور سلامتی کے شامل حال ہونے اور اس کے دائم و بر قرار رہنے کا۔ اور تیرے ہی ذریعہ اے میرے پروردگار! پناہ مانگتا ہوں شیطان کے وسوسوں سے، اور تیرے ہی تسلط و اقتدار کے ذریعہ تحفظ چاہتا ہوں فرمانرواؤں کے ظلم و جور سے۔ تو میری گزشتہ نمازوں اور روزوں کو قبول فرما، اور کل کے دن اور اس کے بعد کے دنوں کو آج کی گھڑی اور آج کے دن سے بہتر قرار دے، اور مجھے اپنے قوم و قبیلہ میں عزت و توقیر دے، اور خواب و بیداری کی حالت میں میری حفاظت فرما۔ تو ہی وہ اللہ ہے جو سب سے بہتر نگران و محافظ ہے، اور تو ہی سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ اے اللہ ! میں تیری بارگاہ میں اس اتوار اور بعد کے اتواروں میں شرک و بےدینی سے بیزاری کا اظہار کرتا ہوں، اور قبولیت کی خاطر خلوص نیت کے ساتھ تجھ سے دُعا کرتا ہوں، اور بامید ثواب تیری اطاعت و فرمانبرداری پر بر قرار ہوں۔ لہٰذا تو بہترين خلائق اور حق کے نمائندے (حضرت) محمد ﷺ پر رحمت نازل فرما اور اپنی اس عزت کے وسیلہ سے جسے مغلوب نہیں کیا جا سکتا مجھے عزت و بزرگی دے، اور اپنی اس آنکھ سے میری حفاظت فرما جو خواب آلودہ نہیں ہوتی، اور میرے ہر کام کا انجام اپنے دامن سے وابستگی اور میری عمر کا خاتمہ اپنی مغفرت و آمرزش پر قرار دے، بلا شبہ تو بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

  78. پیر کی دعا

    78

    بسم الله الرحمن الرحيم أَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يُشْهِدْ أَحَدَاً حِينَ فَطَرَ السَّمواتِ وَالاَرْضَ، وَلاَ اتَّخَذَ مُعِيناً حِينَ بَرَأَ النَّسَماتِ. لَمْ يُشارَكْ فِي الالهِيَّةِ، وَلَمْ يُظَاهَرْ فِي الْوَحْدانِيَّةِ. كَلَّتِ الاَلْسُنُ عَنْ غايَةِ صِفَتِهِ، وَ انْحَسَرَتِ الْعُقُولُ عَنْ كُنْهِ مَعْرِفَتِهِ، وَتَوَاضَعَتِ الْجَبابِرَةُ لِهَيْبَتِهِ، وَعَنَتِ الْوُجُوهُ لِخَشْيَتِهِ، وَانْقَادَ كُلُّ عَظِيم لِعَظَمَتِهِ. فَلَكَ الْحَمْدُ مُتَوَاتِراً مُتَّسِقاً، وَمُتَوَالِياً مُسْتَوْسِقَاً. وَصَلَواتُهُ عَلَى رَسُولِهِ أَبَدَاً، وَسَلامُهُ دَآئِماً سَرْمَدَاً. أَللَّهُمَّ اجْعَلْ أَوَّلَ يَوْمِي هذَا صَلاحَاً، وَأَوْسَطَهُ فَلاحَاً، وَآخِرَهُ نَجاحَاً، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ يَوْم أَوَّلُهُ فَزَعُ، وَأَوْسَطُهُ جَزَعٌ، وَآخِرُهُ وَجَعٌ. أَللَّهُمَّ إنِّي أَسْتَغْفِرُكَ لِكُلِّ نَذْر نَذَرْتُهُ، وَلِكُلِّ وَعْد وَعَدْتُهُ، وَلِكُلِّ عَهْد عاهَدْتُهُ، ثُمَّ لَمْ أَفِ لَكَ بِهِ. وَأَسْأَلُكَ فِي مَظالِمِ عِبادِكَ عِنْدِي، فَأَيُّما عَبْد مِنْ عَبِيدِكَ، أَوْ أَمَة مِنْ إمآئِكَ، كَانَتْ لَهُ قِبَلِي مَظْلَمَةٌ ظَلَمْتُها إيَّاهُ فِي نَفْسِهِ، أَوْ فِي عِرْضِهِ، أَوْ فِي مالِهِ، أَوْ فِي أَهْلِهِ وَوَلَدِهِ، أَوْ غَيْبَةٌ اغْتَبْتَهُ بِها، أَوْ تَحامُلٌ عَلَيْهِ بِمَيْل أَوْ هَوَىً، أَوْ أَنَفَة، أَوْ حَمِيَّة، أَوْ رِيآء، أَوْ عَصَبِيَّة غائِباً كانَ أَوْ شاهِداً، وَحَيّاً كانَ أَوْ مَيِّتاً، فَقَصُرَتْ يَدِي، وَضاقَ وُسْعِي عَنْ رَدِّها إلَيْهِ، وَالتَّحَلُّلِ مِنْهُ. فَأَسْأَلُكَ يا مَنْ يَمْلِكُ الْحاجاتِ، وَهِيَ مُسْتَجِيبَةٌ بِمَشِيَّتِهِ، وَمُسْرِعَةٌ إلى إرادَتِهِ، أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى مُحَمَّد وَآلِ مُحَمَّد ، وَأَنْ تُرْضِيَهُ عَنِّي بِما شِئْتَ، وَتَهَبَ لِي مِنْ عِنْدِكَ رَحْمَةً، إنَّهُ لا تَنْقُصُكَ الْمَغْفِرَةُ، وَلا تَضُرُّكَ المَوْهِبَةُ يا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ. أَللَّهُمَّ أَوْلِنِي فِي كُلِّ يَوْمِ اثْنَيْنِ نِعْمَتَيْنِ مِنْكَ ثِنْتَيْنِ: سَعادَةً فِي أَوَّلِهِ بِطاعَتِكَ، وَنِعْمَةً فِي آخِرِهِ بِمَغْفِرَتِكَ يامَنْ هُوَ الاِلهُ، وَلا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ سِواهُ.

    تمام تعریفیں اس اللہ کیلئے ہیں کہ جب اس نے زمین و آسمان کو خلق فرمایا تو کسی کو گواہ نہیں بنایا، اور جب جانداروں کو پیدا کیا تو اپنا کوئی مدد گار نہیں ٹھہرایا، اُلوہیت میں کوئی اس کا شریک اور وحدت (و انفرادیت سے مخصوص ہونے) میں کوئی اس کا معاون نہیں ہے۔ زبانیں اس کے انتہائے صفات کے بیان کرنے سے گنگ اور عقلیں اس کی معرفت کی تہہ تک پہنچنے سے عاجز ہیں، جابر و سرکش اس کی ہیبت کے سامنے جھکے ہوئے، چہرے نقابِ خشیت اوڑھے ہوئے، اور عظمت والے اس کی عظمت کے آگے سرافگندہ ہیں۔ تو بس تیرے ہی لئے حمد و ستائش ہے پے در پے، لگاتار، مسلسل و پہیم، اور اس کے رسولﷺ پر اللہ کی ابدی رحمت اور دائم و جاودانی سلام ہو۔ بار الٰہا! میرے اس دن کے ابتدائی حصہ کو صلاح و درستی، درميانی حصہ کو فلاح و بہودی اور آخری حصہ کو کامیابی و کامرانی سے ہمکنار قرار دے۔ اور اس دن سے جس کا پہلا حصہ خوف ،درمیانی حصہ بے تابی اور آخری حصہ درد و الم لئے ہو، تجھ سے پناہ مانگتا ہوں۔ بار الٰہا! ہر اس نذر کیلئے جو میں نے مانی ہو، ہر اس وعدہ کی نسبت جو میں نے کیا ہو، اور ہر اس عہد و پیمان کی بابت جو میں نے باندھا ہو، پھر کسی ایک کو بھی تیرے لئے پورا نہ کیا ہو، تجھ سے عفو وبخشش کا خواستگار ہوں۔ اور تیرے بندوں کے ان حقوق و مظالم کی بابت جو مجھ پر عائد ہوتے ہیں، تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تیرے بندوں میں سے جس بندے کا اور تیری کنیزوں میں سے جس کنیز کا کوئی حق مجھ پر ہو، اس طرح کہ خود اس کی ذات یا اس کی عزت یا اس کے مال یا اس کے اہل و اولاد کی نسبت میں مظلمہ کا مرتکب ہوا ہوں، یا غیبت کے ذریعہ اس کی بد گوئی کی ہو، یا(اپنے ذاتی ) رحجان، یا کسی خواہش، یا رعونت، یا خود پسندی، یا ریا، یا عصبیت سے، اس پر ناجائز دباؤ ڈالا ہو، چاہے وہ غائب ہو یا حاضر، زنده ہو یا مر گیا ہو، اور اب اس کا حق ادا کرنا یا اسے بحل کرانا، میرے دسترس سے باہر اور میری طاقت سے بالا ہو۔ تو اے وہ جو حاجتوں کے بر لانے پر قادر ہے، اور وہ حاجتیں اس کی مشیت کے زیر فرمان اور اس کے ارادہ کی جانب تیزی سے بڑھتی ہیں، میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو محمد ﷺ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرمائے، اور ایسے شخص کو جس طرح تو چاہے مجھ سے راضی کر دے، اور مجھے اپنے پاس سے رحمت عطا کر، بلا شبہ مغفرت و آمرزش سے تیرے ہاں کوئی کمی نہیں ہوتی، اور نہ بخشش و عطا سے تجھے کوئی نقصان پہنچ سکتا ہے، اے رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔ بار الٰہا! تو مجھے دو شنبہ کے دن اپنی جانب سے دو نعمتیں مرحمت فرما: ایک یہ کہ اس دن کے ابتدائی حصہ میں تیری اطاعت کے ذریعہ سعادت حاصل ہو ،اور دوسرے یہ کہ اس کے آخری حصہ میں تیری مغفرت کے باعث نعمت سے بهره مند ہوں، اے وہ کہ وہی معبود ہے اور اس کے علاوہ کوئی گناہوں کو بخش نہیں سکتا۔

  79. منگل کی دعا

    79

    بسم الله الرحمن الرحيم أَلْحَمْدُ للّهِ وَالْحَمْدُ حَقُّهُ كَما يَسْتَحِقُّهُ حَمْداً كَثِيراً. وَأَعُوذُ بِهِ مِنْ شَرِّ نَفْسِي، إنَّ النَّفْسَ لاَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إلاَّ ما رَحِمَ رَبِّي، وَأَعُوذُ بِهِ مِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ الَّذِي يَزِيدُنِي ذَنْباً إلَى ذَنْبِي، وَأَحْتَرِزُ بِهِ مِنْ كُلِّ جَبَّار فاجِر، وَسُلْطان جآئر، وَعَدُوٍّ قاهِر. أَللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنْ جُنْدِكَ فَإنَّ جُنْدَكَ هُمُ الْغالِبُونَ، وَاجْعَلْنِي مِنْ حِزْبِكَ فَإنَّ حِزْبَكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ، وَاجْعَلْنِي مِنْ أَوْلِيآئِكَ; فَإنَّ أَوْلِيَاءَكَ لا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ. أَللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِيْنِي فَإنَّهُ عِصْمَةُ أَمْرِي، وَأَصْلِحْ لِي آخِرَتِي فَإنَّهَا دارُ مَقَرِّي، وَإلَيْها مِنْ مُجاوَرَةِ اللِّئامِ مَفَرِّي، وَاجْعَلِ الْحَياةَ زِيادَةً لِي فِي كُلِّ خَيْر، وَالْوَفاةَ رَاحَةً لِي مِنْ كُلِّ شَرٍّ. أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد خاتَمِ النَّبِيِّينَ وَتَمَامِ عِدَّةِ الْمُرْسَلِينَ وَعَلَى آلِهِ الطَّيِّبِينَ الطَّاهِرِينَ، وَأَصْحَابِهِ الْمُنْتَجَبِينَ وَهَبْ لِي فِي الثُلُثآءِ ثَلاثاً: لا تَدَعْ لِي ذَنْباً إلاَّ غَفَرْتَهُ، وَلا غَمّاً إلاَّ أَذْهَبْتَهُ، وَلا عَدُوّاً إلاَّ دَفَعْتَهُ .بِسْمِ اللهِ خَيْرِ الاَسْمآءِ، بِسْمِ اللهِ رَبِّ الاَرْضِ وَالسَّمآءِ، أَسْتَدْفِعُ كُلَّ مَكْرُوه أَوَّلُهُ سَخَطُهُ، وَأَسْتَجْلِبُ كُلَّ مَحْبُوب أَوَّلُهُ رِضاهُ. فَاخْتِمْ لِي مِنْكَ بِالْغُفْرانِ يا وَلِيَّ الاِحْسانِ

    سب تعریف اللہ کیلئے ہے، اور وہی تعریف کا حقدار، اور وہی اس کا مستحق ہے، ایسی تعریف جو کثیر و فراواں ہو۔ اور میں اپنے ضمیر کی برائی سے اس کے دامن میں پناہ مانگتا ہوں، اور بے شک نفس بہت زیادہ برائی پر ابھارنے والا ہے مگر یہ کہ میرا پروردگار رحم کرے، اور میں اللہ ہی کے ذریعہ اس شیطان کے شر و فساد سے پناہ چاہتا ہوں جو میرے لئے گناہ پر گناہ بڑھاتا جا رہا ہے، اور میں ہر سرکش، بدکار اور ظالم بادشاہ اور چیرہ دست دشمن سے اُس کے دامن حمایت میں پناہ گزیں ہوں۔ بار الٰہا! مجھے اپنے لشکر میں قرار دے کیونکہ تیرا لشکر ہی غالب و فتح مند ہے، اور مجھے اپنے گروہ میں قرار دے کیونکہ تیرا گروہ ہی ہر لحاظ سے بہتری پانے والا ہے، اور مجھے اپنے دوستوں میں سے قرار دے کیونکہ تیرے دوستوں کو نہ کوئی اندیشہ ہوتا ہے اور نہ وہ افسرده و غمگین ہوتے ہیں۔ اے اللہ! میرے لئے میرے دین کو آراستہ کر دے اس لئے کہ وہ میرے ہر معاملہ میں حفاظت کا ذریعہ ہے، اور میری آخرت کو بھی سنوار دے کیونکہ وہ میری مستقل منزل اور دنی و فرومایہ لوگوں سے (پیچھا چھڑا کر) نکل بھاگنے کی جگہ ہے، اور میری زندگی کو ہر نیکی میں اضافہ کا باعث اور میری موت کو ہر رنج و تکلیف سے راحت و سکون کا ذریعہ قرار دے۔ اے اللہ! محمدﷺ جو نبیوں کے خاتم اور پیغمبروں کے سلسلہ کے فردِ آخر ہیں، ان پر اور اُن کی پاک و پاکیزہ آلؑ اور برگزیدہ اصحاب پر رحمت نازل فرما۔ اور مجھے اس روز سه شنبہ میں تین چیزیں عطا فرما: وہ یہ کہ میرے کسی گناہ کو باقی نہ رہنے دے مگر یہ کہ اسے بخش دے، اور نہ کسی غم کو مگر یہ کہ اسے بر طرف کر دے، اور نہ کسی دشمن کو مگر یہ کہ اسے دور کر دے۔ بسم اللہ کے واسطہ سے جو(اللہ تعالیٰ کے) تمام ناموں میں سے بہتر نام (پر مشتمل )ہے، اور اللہ کے نام کے واسطہ سے جو زمین و آسمان کا پروردگار ہے، میں تمام نا پسندیدہ چیزوں کا دفعیہ چاہتا ہوں جن میں اول درجہ پر اس کی ناراضی ہے، اور تمام پسندیدہ چیزوں کو سمیٹ لینا چاہتا ہوں جن میں سب سے مقدم اس کی رضا مندی ہے، اے فضل و احسان کے مالک! تو اپنی جانب سے میرا خاتمه بخشش و مغفرت پر فرما۔

  80. بدھ کی دعا

    80

    بسم الله الرحمن الرحيم أَلْحَمْدُ لِلّهِ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ لِباساً، وَالنَّوْمَ سُباتَاً، وَجَعَلَ النَّهارَ نُشُوراً. لَكَ الْحَمْدُ أَنْ بَعَثْتَنِي مِنْ مَرْقَدِي، وَلَوْ شِئْتَ جَعَلْتَهُ سَرْمَداً حَمْداً دَائِمَاً لا يَنْقَطِعُ أَبَداً، وَلا يُحْصِي لَهُ الْخَلائِقُ عَدَدَاً. أَللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْ خَلَقْتَ فَسَوَّيْتَ، وَقَدَّرْتَ وَقَضَيْتَ، وَأَمَتَّ وَأَحْيَيْتَ، وَأَمْرَضْتَ وَشَفَيْتَ، وَعافَيْتَ وَأَبْلَيْتَ، وَعَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَيْتَ، وَعَلَى الْمُلْكِ احْتَوَيْتَ. أَدْعُوكَ دُعآءَ مَنْ ضَعُفَتْ وَسِيلَتُهُ، وَانْقَطَعَتْ حِيلَتُهُ، وَاقْتَرَبَ أَجَلُهُ، وَتَدانى فِي الدُّنْيا أَمَلُهُ، وَاشْتَدَّتْ إلى رَحْمَتِكَ فاقَتُهُ، وَعَظُمَتْ لِتَفْرِيطِهِ حَسْرَتُهُ، وَكَثُرَتْ زَلَّتُهُ وَعَثْرَتُهُ، وَخَلُصَتْ لِوَجْهِكَ تَوْبَتُهُ. فَصَلِّ عَلى مُحَمَّد خاتَمِ النَّبِيِّينَ، وَعَلى أَهْلِ بَيْتِهِ الطَّيِّبِينَ الطَّاهِرِينَ، وَارْزُقْنِي شَفاعَةَ مُحَمَّد صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ، وَلا تَحْرِمْنِي صُحْبَتَهُ إنَّكَ أَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ. أَللَّهُمَّ اقْضِ لِي فِي الاَرْبِعآءِ أَرْبَعَا: إجْعَلْ قُوَّتِي فِي طاعَتِكَ، وَنَشاطِي فِي عِبادَتِكَ، وَرَغْبَتِي فِي ثَوَابِكَ، وَزُهْدِي فِيما يُوجِبُ لِي أَلِيمَ عِقابِكَ، إنَّكَ لَطِيفٌ لِما تَشآءُ.

    تمام تعریف اس اللہ کیلئے ہے جس نے رات کو پر دہ بنایا اور نیند کو آرام و راحت کا ذریعہ، اور دن کو حرکت و عمل کیلئے قرار دیا۔ تمام تعریف تیرے ہی لئے ہے کہ تو نے مجھے میری خواب گاہ سے زندہ اور سلامت اٹھایا، اور اگر تو چاہتا تو اسے دائمی خواب گاہ بنا دیتا، ایسی حمد جو ہمیشہ ہمیشہ رہے، جس کا سلسلہ قطع نہ ہو، اور نہ مخلوق اس کی گنتی کا شمار کر سکے۔ بار الٰہا! تمام تعریف تیرے ہی لئے ہے کہ تو نے پیدا کیا تو ہر لحاظ سے درست پیدا کیا، اندازہ مقرر کیا اور حکم نافذ کیا، موت دی اور زندہ کیا، بیمار ڈالا اور شفا بھی بخشی، عافیت دی اور مبتلا بھی کیا، اور تو عرش پر متمکن ہوا اور ملک پر چھا گیا۔ میں تجھ سے دُعا مانگنے میں اس شخص کا سا طرز عمل اختیار کرتا ہوں جس کا وسیلہ کمزور، چارۂ کار ختم اور موت کا ہنگام نزدیک ہو، دنیا میں اس کی امیدوں کا دامن سمٹ چکا ہو، اور تیری رحمت کی جانب اس کی احتیاج شدید ہو، اور اپنی کوتاہیوں کی وجہ سے اسے بڑی حسرت، اور اس کی لغزشوں اور خطاؤں کی کثرت ہو، اور تیری بارہ گاہ میں صدقِ نیت سے اس کی توبہ ہو چکی ہو۔ تو اب خاتم الانبیاء محمد ﷺ اور ان کی پاک و پاکیزہ آلؑ پر رحمت نازل فرما اور مجھے حضرت محمدﷺ کی شفاعت نصیب کر، اور مجھے ان کی ہم نشینی سے محروم نہ کر، اس لئے کہ تو تمام رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ بار الٰہا! اس روز چهار شنبہ میں میری چار حاجتیں پوری کر دے: یہ کہ اطمینان ہو تو تیری فرمانبرداری میں، سرور ہو تو تیری عبادت میں، خواہش ہو تو تیرے ثواب کی جانب اور کنارہ کشی ہو تو ان چیزوں سے جو تیرے دردناک عذاب کا باعث ہیں۔ بیشک تو جس چیز کیلئے چاہے اپنے لطف کو کار فرما کرتا ہے۔

  81. جمعرات کی دعا

    81

    بسم الله الرحمن الرحيم أَلْحَمْدُ لِلّهِ الَّذِي أَذْهَبَ اللَّيْلَ مُظْلِمَاً بِقُدْرَتِهِ، وَجآءَ بِالنَّهارِ مُبْصِراً بِرَحْمَتِهِ، وَكَسانِي ضِيآءَهُ وَآتانِي نِعْمَتَهُ. أَللَّهُمَّ فَكَما أَبْقَيْتَنِي لَهُ فَأَبْقِنِي لاِمْثالِهِ، وَصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ مُحَمَّد وَآلِهِ، وَلا تَفْجَعْنِي فِيهِ وَفِي غَيْرِهِ مِنَ اللَّيالِي وَالاَيَّامِ بِارْتِكابِ الْمَحارِمِ، وَاكْتِسابِ الْمَاثِمِ، وَارْزُقْنِي خَيْرَهُ، وَخَيْرَ ما فِيهِ، وَخَيْرَ ما بَعْدَهُ، وَاصْرِفْ عَنِّي شَرَّهُ، وَشَرَّ ما فِيهِ، وَشَرَّ ما بَعْدَهُ. أَللَّهُمَّ إنِّي بِذِمَّةِ الاِسْلامِ أَتَوَسَّلُ إلَيْكَ، وَبِحُرْمَةِ الْقُرْآنِ أَعْتَمِدُ عَلَيْكَ، وَبِمُحَمَّد الْمُصْطَفى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وآلِهِ أَسْتَشْفِعُ لَدَيْكَ، فَاعْرِفِ اللَّهُمَّ ذِمَّتِي الَّتِي رَجَوْتُ بِها قَضآءَ حاجَتِي، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ. أَللَّهُمَّ اقْضِ لِي فِي الخَمِيسِ خَمْساً لا يَتَّسِعُ لَها إلاَّ كَرَمُكَ وَلا يُطِيقُها إلاَّ نِعَمُكَ: سَلامَةً أَقْوى بِها عَلَى طاعَتِكَ وَعِبادَةً أَسْتَحِقُّ بِها جَزِيلَ مَثُوبَتِكَ، وَسَعَةً فِي الْحالِ مِنَ الرِّزْقِ الْحَلالِ، وَأَنْ تُؤْمِنَنِي فِي مَواقِفِ الْخَوْفِ بِأَمْنِكَ، وَتَجْعَلَنِي مِنْ طَوارِقِ الْهُمُومِ وَالْغُمُومِ فِي حِصْنِكَ، صَلِّ عَلى مُحَمَّد وَآلِهِ، وَاجْعَل تَوَسُّلِي بِهِ شافِعَاً يَوْمَ الْقِيامَةِ نافِعاً، إنَّكَ أَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ.

    سب تعریف اس اللہ کیلئے ہے جس نے اپنی قدرت سے اندھیری رات کو رخصت کیا، اور اپنی رحمت سے روشن دن نکالا، اور اس کی روشنی کا زر تار جامہ مجھے پہنایا، اور اس کی نعمت سے بہرہ مند کیا۔ بار الٰہا! جس طرح تو نے اس دن کیلئے مجھے باقی رکھا اسی طرح اس جیسے دوسرے دنوں کیلئے زندہ رکھ، اور اپنے پیغمبر محمدﷺ اور اُن کی آلؐ پر رحمت نازل فرما اور اس دن میں اور اس کے علاوہ اور راتوں اور دنوں میں حرام امور کے بجا لانے اور گناہ و معاصی کے ارتکاب کرنے سے رنجیدہ خاطر نہ کر، اور مجھے اس دن کی بھلائی اور جو اس کے بعد ہے اس کی بھلائی عطا کر، اور اس دن کی برائی اور جو کچھ اس دن میں ہے اس کی برائی اور جو اس کے بعد ہے اس کی برائی مجھ سے دور کر دے۔ اے اللہ! میں اسلام کے عہد و پیمان کے ذریعہ تجھ سے توسل چاہتا ہوں، اور قرآن کی عزت و حرمت کے واسطہ سے تجھ پر بھروسا کر تا ہوں، اور محمد مصطفیٰ ﷺ کے وسیلہ سے تیری بارگاہ میں شفاعت کا طلبگار ہوں، تو اے میرے معبود! میرے اس عہد و پیمان پر نظر کر جس کے وسیلہ سے حاجت بر آوری کا امیدوار ہوں، اے رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔ بار الٰہا! اس روز پنجشنبه میں میری پانچ حاجتیں بر لا، جن کی سمائی تیرے ہی دامن کرم میں ہے اور تیری ہی نعمتوں کی فراوانی ان کی متحمل ہو سکتی ہے: ایسی سلامتی دے جس سے تیری فرمانبرداری کی قوت حاصل کر سکوں، ایسی توفیق عبادت دے جس سے تیرے ثوابِ عظیم کا مستحق قرار پاؤں، اور سر دست رزق حلال کی فراوانی اور خوف و خطر کے مواقع پر اپنے امن کے ذریعہ مطمئن کر دے،اور غموں اور فکروں کے ہجوم سے اپنی پناہ میں رکھ۔ محمدﷺ اور اُن کی آل پر رحمت نازل فرما اور ان سے میرے توسل کو قیامت کے دن سفارش کرنے والا، نفع بخشنے والا قرار دے، بے شک تو رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔

  82. جمعہ کی دعا

    82

    بسم الله الرحمن الرحيم أَلْحَمْدُ لِلّهِ الاَوَّلِ قَبْلَ الانْشآءِ وَالاحْيآءِ، وَالاخِرِ بَعْدَ فَنآءِ الاَشْيَآءِ، الْعَلِيمِ الَّذِي لا يَنْسَى مَنْ ذَكَرَهُ، وَلا يَنْقُصُ مَنْ شَكَرَه، وَلا يُخَيِّبُ مَنْ دَعاهُ، وَلا يَقْطَعُ رَجآءَ مَنْ رَجاهُ. أَللَّهُمَّ إنِّي أُشْهِدُكَ وَكَفى بِكَ شَهِيداً، وَأُشْهِدُ جَمِيعَ مَلائِكَتِكَ، وَسُكَّانَ سَمواتِكَ، وَحَمَلَةَ عَرْشِكَ، وَمَنْ بَعَثْتَ مِنْ أَنْبِيآئِكَ وَرُسُلِكَ وَأَنْشَأْتَ مِنْ أَصْنافِ خَلْقِكَ، أَنِّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لا إلهَ إلاَّ أَنْتَ، وَحْدَكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ، وَلا عَدِيلَ وَلا خُلْفَ لِقَوْلِكَ وَلا تَبْدِيْلَ، وَأَنَّ مُحَمَّداً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وآلِهِ عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، أَدَّى ما حَمَّلْتَهُ إلَى الْعِبادِ، وَجاهَدَ فِي اللَّهِ عزّوجل حَقَّ الْجِهادِ، وَأَنَّهُ بَشَّرَ بِما هُوَ حَقٌّ مِنَ الثَّوابِ، وَأَنْذَرَ بِما هُوَ صِدْقٌ مِنَ الْعِقابِ. أَللَّهُمَّ ثَبِّتْنِي عَلى دِينِكَ ما أَحْيَيْتَنِي، وَلا تُزِغْ قَلْبِي بَعْدَ إذْ هَدَيْتَنِي، وَهَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً، إنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ، صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِ مُحَمَّد وَاجْعَلْنِي مِنْ أَتْباعِهِ وَشِيعَتِهِ وَاحْشُرْنِي فِي زُمْرَتِهِ وَوَفِّقْنِي لاَداءِ فَرْضِ الْجُمُعاتِ، وَما أَوْجَبْتَ عَلَيَّ فِيها مِنَ الطَّاعاتِ، وَقَسَمْتَ لاِهْلِها مِنَ الْعَطآءِ فِي يَوْمِ الْجَزآءِ، إنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ.

    تمام تعریف اس اللہ تعالی کیلئے ہے جو پیدا کرنے اور زندگی بخشنے سے پہلے موجود تھا، اور تمام چیزوں کے فنا ہونے کے بعد باقی رہے گا، وہ ایسا علم والا ہے کہ جو اسے یاد رکھے اسے بھولتا نہیں، جو اس کا شکر ادا کرے اس کے ہاں کمی نہیں ہونے دیتا، جو اسے پکارے اسے محروم نہیں کرتا، جو اس سے امید رکھے اس کی امید نہیں توڑتا۔ بار الٰہا! میں تجھے گواہ کرتا ہوں اور تو گواہ ہونے کے لحاظ سے بہت کافی ہے، اور تیرے تمام فرشتوں اور تیرے آسمانوں میں بسنے والوں اور تیرے عرش کے اٹھانے والوں اور تیرے فرستاده نبیوں اور رسولوں اور تیری پیدا کی ہوئی قسم قسم کی مخلوقات کو اپنی گواہی پر گواہ کرتا ہوں کہ تو ہی معبود ہے اور تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں، تو وحدہ لا شریک ہے، تیرا کوئی ہمسر نہیں ہے، تیرے قول میں نہ وعدہ خلافی ہوتی ہے اور نہ کوئی تبدیلی۔ اور یہ کہ محمد ﷺ تیرے خاص بندے اور رسول ہیں، جن چیزوں کی ذمہ داری تو نے ان پر عائد کی وہ (انہوں نے) بندوں تک پہنچا دیں، انہوں نے خدائے بزرگ و برترکی راہ میں جہاد کر کے حق جہاد ادا کیا، اور صحیح صحیح ثواب کی خوشخبری دی، اور واقعی عذاب سے ڈرایا۔ بار الٰہا! جب تک تو مجھے زندہ رکھے اپنے دین پر ثابت قدم رکھ، اور جبکہ تو نے مجھے ہدایت کر دی تو میرے دل کو بے راہ نہ ہونے دے، اور مجھے اپنے پاس سے رحمت عطا کر، بےشک تو ہی (نعمتوں کا) بخشنے والا ہے۔ محمدﷺ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور ہمیں ان کے اتباع اور ان کی جماعت میں سے قرار دے، اور ان کے گروہ میں محشور فرما، اور نماز جمعہ کے فریضہ اور اس دن کی دوسری عبادتوں کے بجا لانے اور ان فرائض پر عمل کرنے والوں پر قیامت کے دن جو عطائیں تو نے تقسیم کی ہیں انہیں حاصل کرنے کی توفیق مرحمت فرما، بے شک تو صاحب اقتدار اور حکمت والا ہے۔

  83. ہفتہ کی دعا

    83

    بسم الله الرحمن الرحيم بِسْمِ الِلّهِ كَلِمَةِ الْمُعْتَصِمِينَ، وَمَقالَةِ الْمُتَحَرِّزِينَ، وَأَعُوذُ بِالِلّه تَعالى مِنْ جَوْرِ الْجآئِرِينَ، وَكَيْدِ الْحاسِدِينَ، وَبَغْيِ الظَّالِمِينَ، وَأَحْمَدُهُ فَوْقَ حَمْدِ الْحامِدِينَ. أَللَّهُمَّ أَنْتَ الْواحِدُ بِلا شَرِيك، وَالْمَلِكُ بِلا تَمْلِيك، لا تُضَادُّ فِي حُكْمِكَ، وَلا تُنازَعُ فِي مُلْكِكَ. أَسْأَلُكَ أَنْ تُصَلِّىَ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ، عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ، وَأَنْ تُوزِعَنِي مِنْ شُكْرِ نُعْماكَ ما تَبْلُغُ بِي غايَةَ رِضاكَ، وَأَنْ تُعِينَنِي عَلى طاعَتِكَ، وَلُزُومِ عِبادَتِكَ، وَاسْتِحْقاقِ مَثُوبَتِكَ بِلُطْفِ عِنايَتِكَ، وَتَرْحَمَنِي، وَتَصُدَّنِي عَنْ مَعَاصِيكَ مَا أَحْيَيْتَنِي، وَتُوَفِّقَنِي لِما يَنْفَعُنِي ما أَبْقَيْتَنِي، وَأَنْ تَشْرَحَ بِكِتابِكَ صَدْرِي، وَتَحُطَّ بِتِلاوَتِهِ وِزْرِي، وَتَمْنَحَنِي السَّلامَةَ فِي دِينِي وَنَفْسِي، وَلا تُوحِشَ بِي أَهْلَ أُنْسِي، وَتُتِمَّ إحْسَانَكَ فِيما بَقِيَ مِنْ عُمُرِي كَما أَحْسَنْتَ فِيما مَضَى مِنْهُ يا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ.

    مدد اللہ تعالیٰ کے نام سے جو حفاظت چاہنے والوں کا کلمۂ کلام اور پناہ ڈھونڈنے والوں کا وردِ زبان ہے، اور خداوند تعالیٰ سے پناہ چاہتا ہوں ستمگروں کی ستم رانی، حاسدوں کی فریب کاری اور ظالموں کے ظلم ناروا سے، میں اس کی حمد کرتا ہوں(اور سوال کرتا ہوں کہ وہ اس حمد کو) تمام حمد کرنے والوں کی حمد پر فوقیت دے۔ بار الٰہا! تو ایک اکیلا ہے جس کا کوئی شریک نہیں، اور بغیر کسی کے مالک بنائے تو مالک و فرمانروا ہے، تیرے حکم کے آگے کوئی روک کھڑی نہیں کی جا سکتی، اور نہ تیری سلطنت و فرمانروائی میں تجھ سے ٹکر لی جا سکتی ہے۔ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو اپنے عبد خاص اور رسول حضرت محمد ﷺ پر رحمت نازل فرما اور اپنی نعمتوں پر ایسا شکر میرے دل میں ڈال دے جس سے تو اپنی خوشنودی کی آخری حد تک مجھے پہنچا دے، اور اپنی نظر عنایت سے اطاعت، عبادت کی پابندی اور ثواب کا استحقاق حاصل کرنے میں میری مدد فرمائے، اور جب تک مجھے زندہ رکھے گناہوں سے باز رکھنے میں مجھ پر رحم کرے، اور جب تک مجھے باقی رکھے ان چیزوں کی توفیق دے جو میرے لئے سود مند ہوں، اور اپنی کتاب کے ذریعہ میرا سینہ کھول دے، اور اس کی تلاوت کے وسیلہ سے میرے گناہ چھانٹ دے، اور جان و ایمان کی سلامتی عطا فرمائے، اور میرے دوستوں کو (میرے گناہوں کے باعث) وحشت میں نہ ڈالے، اور جس طرح میری گزشته زندگی میں احسانات کئے ہیں اسی طرح بقیه زندگی میں مجھ پر اپنے احسانات کی تکمیل فرمائے، اے رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔

لنک کاپی ہو گیا

← لائبریری پر واپس