TheShia

الصحيفة السجادية - 44

Sahifa Sajjadiya 44: For the Coming of the Month of Ramadan

1 بند ماخذ: Sahifa al-Sajjadiya

یہ ترجمہ مشینی معاونت سے ہوا اور علمی نظرثانی کا منتظر ہے۔ اوپر کا عربی متن ہی معتبر ہے۔

  1. 1

    الْحَمْدُ للهِ الَّذِي هَدَانَا لِحَمْدِهِ وَجَعَلَنَا مِنْ أَهْلِهِ، لِنَكُونَ لِإِحْسَانِهِ مِنَ الشَّاكِرِينَ وَلِيَجْزِيَنَا عَلَى ذلِكَ جَزَآءَ الْمُحْسِنِينَ وَالْحَمْدُ للهِ الَّذِي حَبَانَا بِدِينِهِ، وَاخْتَصَّنَا بِمِلَّتِهِ، وَسَبَّلَنَا فِي سُبُلِ إحْسَانِهِ، لِنَسْلُكَهَا بِمَنِّهِ إلَى رِضْوَانِهِ، حَمْدَاً يَتَقَبَّلُهُ مِنَّا، وَيَرْضَى بِهِ عَنَّا. وَالْحَمْدُ لِلّه الَّذِي جَعَلَ مِنْ تِلْكَ السُّبُلِ شَهْرَهُ شَهْرَ رَمَضَانَ، شَهْرَ الصِّيَامِ، وَشَهْرَ الإِسْلاَم، وَشَهْرَ الطَّهُورِ، وَشَهْرَ التَّمْحِيْصِ، وَشَهْرَ الْقِيَامِ، الَّذِي أُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْآنُ هُدىً لِلنَّاسِ، وَبَيِّنَات مِنَ الْهُدى وَالْفُرْقَانِ، فَأَبَانَ فَضِيْلَتَهُ عَلَى سَائِرِ الشُّهُورِ بِمَا جَعَلَ لَهُ مِنَ الْحُرُمَاتِ الْمَوْفُورَةِ وَالْفَضَائِلِ الْمَشْهُورَةِ، فَحَرَّمَ فِيْهِ ما أَحَلَّ فِي غَيْرِهِ إعْظَاماً، وَحَجَرَ فِيْهِ الْمَطَاعِمَ وَالْمَشَارِبَ إكْرَاماً، وَجَعَلَ لَهُ وَقْتاً بَيِّناً لاَ يُجِيزُ جَلَّ وَعَزَّ أَنْ يُقَدَّمَ قَبْلَهُ، وَلا يَقْبَـلُ أَنْ يُؤَخَّرَ عَنْهُ، ثُمَّ فَضَّلَ لَيْلَةً وَاحِدَةً مِنْ لَيَالِيهِ عَلَى لَيَالِي أَلْفِ شَهْر، وَسَمَّاهَا لَيْلَةَ الْقَدْرِ، تَنَزَّلُ الْمَلائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْر، سَلاَمٌ دَائِمُ الْبَرَكَةِ إلَى طُلُوعِ الْفَجْرِ، عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ بِمَا أَحْكَمَ مِنْ قَضَائِهِ. اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ، وَأَلْهِمْنَا مَعْرِفَةَ فَضْلِهِ وَإِجْلاَلَ حُرْمَتِهِ وَالتَّحَفُّظَ مِمَّا حَظَرْتَ فِيهِ وَأَعِنَّـا عَلَى صِيَامِـهِ بِكَفِّ الْجَـوَارِحِ عَنْ مَعَاصِيْكَ، وَاسْتِعْمَالِهَا فِيهِ بِمَا يُرْضِيْكَ حَتَّى لاَ نُصْغِىَ بِأَسْمَاعِنَا إلَى لَغْو، وَلا نُسْرِعَ بِأَبْصَارِنَا إلَى لَهْو، وَحَتَّى لاَ نَبْسُطَ أَيْدِيَنَا إلَى مَحْظُور، وَلاَ نَخْطُوَ بِأَقْدَامِنَا إلَى مَحْجُور، وَحَتَّى لاَ تَعِيَ بُطُونُنَا إلاَّ مَا أَحْلَلْتَ، وَلا تَنْطِقَ أَلْسِنَتُنَا إلاَّ بِمَا مَثَّلْتَ وَلا نَتَكَلَّفَ إلاَّ ما يُدْنِي مِنْ ثَوَابِكَ، وَلاَ نَتَعَاطَى إلاّ الَّذِي يَقِيْ مِنْ عِقَابِكَ، ثُمَّ خَلِّصْ ذَلِكَ كُلَّهُ مِنْ رِئآءِ الْمُرَائِينَ وَسُمْعَةِ الْمُسْمِعِينَ، لاَ نَشْرَكُ فِيهِ أَحَداً دُونَكَ، وَلا نَبْتَغِيْ فِيهِ مُرَاداً سِوَاكَ. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ، وَقِفْنَـا فِيْـهِ عَلَى مَـوَاقِيْتِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْس بِحُدُودِهَا الَّتِي حَدَّدْتَ، وَفُرُوضِهَا الَّتِي فَرَضْتَ وَوَظَائِفِهَا الَّتِي وَظَّفْتَ، وَأَوْقَاتِهَا الَّتِي وَقَّتَّ، وَأَنْزِلْنَا فِيهَا مَنْزِلَةَ الْمُصِيْبينَ لِمَنَازِلِهَا الْحَافِظِينَ لاِرْكَانِهَا الْمُؤَدِّينَ لَهَـا فِي أَوْقَاتِهَـا عَلَى مَا سَنَّـهُ عَبْدُكَ وَرَسُـولُكَ صَلَوَاتُـكَ عَلَيْهِ وَآلِـهِ فِي رُكُوعِهَا وَسُجُودِهَا وَجَمِيْعِ فَوَاضِلِهَا عَلى أَتَمِّ الطَّهُورِ، وَأَسْبَغِهِ وَأَبْيَنِ الْخُشُوعِ وَأَبْلَغِهِ، وَوَفِّقْنَا فِيهِ لاِنْ نَصِلَ أَرْحَامَنَا بِالبِرِّ وَالصِّلَةِ وَأَنْ نَتَعَاهَدَ جِيرَانَنَابِالاِفْضَالِ وَالْعَطِيَّةِ وَأَنْ نُخَلِّصَ أَمْوَالَنَا مِنَ التَّبِعَاتِ، وَأَنْ نُطَهِّرَهَا بِإخْرَاجِ الزَّكَوَاتِ، وَأَنْ نُرَاجِعَ مَنْ هَاجَرَنَـا وَأَنْ نُنْصِفَ مَنْ ظَلَمَنَا وَأَنْ نُسَـالِمَ مَنْ عَادَانَا حَاشَا مَنْ عُودِيَ فِيْكَ وَلَكَ، فَإنَّهُ الْعَدُوُّ الَّذِي لاَ نُوالِيهِ، وَالحِزْبُ الَّذِي لاَ نُصَافِيهِ. وَأَنْ نَتَقَرَّبَ إلَيْكَ فِيْهِ مِنَ الأَعْمَالِ الزَّاكِيَةِ بِمَا تُطَهِّرُنا بِهِ مِنَ الذُّنُوبِ، وَتَعْصِمُنَا فِيهِ مِمَّا نَسْتَأنِفُ مِنَ الْعُيُوبِ، حَتَّى لا يُورِدَ عَلَيْكَ أَحَدٌ مِنْ مَلاَئِكَتِكَ إلاّ دُونَ مَا نُورِدُ مِنْ أَبْوابِ الطَّاعَةِ لَكَ، وَأَنْوَاعِ القُرْبَةِ إلَيْكَ. أللَّهُمَّ إنِّي أَسْأَلُكَ بِحَقِّ هَذَا الشَّهْرِ، وَبِحَقِّ مَنْ تَعَبَّدَ لَكَ فِيهِ مِنِ ابْتِدَائِهِ إلَى وَقْتِ فَنَائِهِ مِنْ مَلَك قَرَّبْتَهُ أَوْ نَبِيٍّ أَرْسَلْتَهُ أَوْ عَبْد صَالِح اخْتَصَصْتَهُ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ، وَأَهِّلْنَا فِيهِ لِمَا وَعَدْتَ أَوْلِياءَكَ مِنْ كَرَامَتِكَ، وَأَوْجِبْ لَنَا فِيهِ مَا أَوْجَبْتَ لأِهْلِ الْمُبَالَغَةِ فِي طَاعَتِكَ، وَاجْعَلْنَا فِي نَظْمِ مَنِ اسْتَحَقَّ الرَّفِيْعَ الأعْلَى بِرَحْمَتِكَ. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ، وَجَنِّبْنَا الإلْحَادَ فِي تَوْحِيدِكَ وَالتَّقْصِيرَ فِي تَمْجِيدِكَ وَالشَّكَّ فِي دِينِـكَ وَالْعَمَى عَنْ سَبِيْلِكَ وَالاغْفَالَ لِحُرْمَتِكَ، وَالانْخِدَاعَ لِعَدُوِّكَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَإذَا كَانَ لَكَ فِيْ كُلِّ لَيْلَة مِنْ لَيَالِيْ شَهْرِنَا هَذَا رِقَابٌ يُعْتِقُهَا عَفْوُكَ أَوْ يَهَبُهَا صَفْحُكَ فَاجْعَلْ رِقَابَنَا مِنْ تِلْكَ الرِّقَابِ وَاجْعَلْنَا لِشَهْرِنَا مِنْ خَيْرِ أَهْل وَأَصْحَاب. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ وَامْحَقْ ذُنُوبَنَا مَعَ امِّحاقِ هِلاَلِهِ وَاسْلَخْ عَنَّا تَبِعَاتِنَا مَعَ انْسِلاَخِ أَيَّامِهِ حَتَّى يَنْقَضِي عَنَّا وَقَدْ صَفَّيْتَنَا فِيهِ مِنَ الْخَطِيئاتِ وَأَخْلَصْتَنَا فِيهِ مِنَ السَّيِّئاتِ أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ، وَإنْ مِلْنَا فِيهِ فَعَدِّلْنا، وَإنْ زِغْنَا فِيهِ فَقَوِّمْنَا وَإنِ اشْتَمَلَ عَلَيْنَا عَدُوُّكَ الشَّيْطَانُ فَاسْتَنْقِذْنَا مِنْهُ أللَهُمَّ اشْحَنْهُ بِعِبَادَتِنَا إيَّاكَ وَزَيِّنْ أَوْقَاتَهُ بِطَاعَتِنَا لَكَ، وَأَعِنَّا فِي نَهَـارِهِ عَلَى صِيَـامِـهِ، وَفِي لَيْلِهِ عَلَى الصَّـلاَةِ وَالتَّضَرُّعِ إلَيْكَ وَالخُشُوعِ لَكَ، وَالذِّلَّةِ بَيْنَ يَدَيْكَ حَتَّى لا يَشْهَدَ نَهَارُهُ عَلَيْنَا بِغَفْلَة، وَلا لَيْلُهُ بِتَفْرِيط. أللَّهُمَّ وَاجْعَلْنَا فِي سَائِرِ الشُّهُورِ وَالأَيَّامِ كَذَلِكَ مَا عَمَّرْتَنَا، وَاجْعَلْنَا مِنْ عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ الَّذِينَ يَرِثُونَ الْفِرْدَوْسَ، هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ، وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ أَنَّهُمْ إلَى رَبِّهِمْ رَاجِعُـونَ، وَمِنَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَهُمْ لَهَا سَابِقُونَ. أللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِهِ، فِي كُلِّ وَقْت وَكُلِّ أَوَان وَعَلَى كُـلِّ حَال عَـدَدَ مَا صَلَّيْتَ عَلَى مَنْ صَلَّيْتَ عَلَيْهِ، وَأَضْعَافَ ذَلِكَ كُلِّهِ بِالاضْعافِ الَّتِي لا يُحْصِيهَا غَيْرُكَ، إنَّكَ فَعَّالٌ لِمَا تُرِيدُ.

    دُعائے استقبال ماہ رمضان: تمام تعریف اس اللہ کیلئے ہے جس نے اپنی حمد و سپاس کی طرف ہماری رہنمائی کی، اور ہمیں حمد گزاروں میں سے قرار دیا، تاکہ ہم اس کے احسانات پر شکر کرنے والوں میں محسوب ہوں، اور ہمیں اس شکر کے بدلہ میں نیکو کاروں کا اجر دے۔ اس اللہ کیلئے حمد و ستائش ہے جس نے ہمیں اپنا دین عطا کیا، اور اپنی ملت میں سے قرار دے کر امتیاز بخشا، اور اپنے لطف و احسان کی راہوں پر چلایا، تاکہ ہم اس کے فضل و کرم سے ان راستوں پر چل کر اس کی خوشنودی تک پہنچیں، ایسی حمد جسے وہ قبول فرمائے اور جس کی وجہ سے ہم سے وہ راضی ہو جائے۔ تمام تعریف اس اللہ کیلئے ہے جس نے اپنے لطف و احسان کے راستوں میں سے ایک راستہ اپنے مہینہ کو قرار دیا، یعنی رمضان کا مہینہ، صیام کا مہینہ، اسلام کا مہینہ، پاکیزگی کا مہینہ، تصفیہ و تطہیر کا مہینہ، عبادت و قیام کا مہینہ، وہ مہینہ جس میں قرآن نازل ہوا، جو لوگوں کیلئے رہنما ہے، ہدایت اور حق و باطل کے امتیاز کی روشن صداقتیں رکھتا ہے۔ چنانچہ تمام مہینوں پر اس کی فضیلت و برتری کو آشکارا کیا، ان فراواں عزتوں اور نمایاں فضیلتوں کی وجہ سے جو اس کیلئے قرار دیں، اور اس کی عظمت کے اظہار کیلئے جو چیزیں دوسرے مہینوں میں جائز کی تھیں اس میں حرام کر دیں، اور اس کے احترام کے پیش نظر کھانے پینے کی چیزوں سے منع کر دیا، اور ایک واضح زمانہ اس کیلئے معین کر دیا، خدائے بزرگ و برتر یہ اجازت نہیں دیتا کہ اسے اس کے معینہ وقت سے آگے بڑھا دیا جائے، اور نہ یہ قبول کرتا ہے کہ اس سے مؤخر کر دیا جائے۔ پھر یہ کہ اس کی راتوں میں سے ایک رات کو ہزار مہینوں کی راتوں پر فضیلت دی اور اس کا نام ’’شب قدر‘‘ رکھا، اس رات میں فرشتے اور روح القدس ہر اس امر کے ساتھ جو اس کا قطعی فیصلہ ہوتا ہے اس کے بندوں میں سے جس پر وہ چاہتا ہے نازل ہوتے ہیں، وہ رات سراسر سلامتی کی رات ہے جس کی برکت طلوع فجر تک دائم و برقرار ہے۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور ہمیں ہدایت فرما کہ ہم اس مہینہ کے فضل و شرف کو پہچانیں، اس کی عزت و حرمت کو بلند جانیں، اور اس میں ان چیزوں سے جن سے تو نے منع کیا ہے اجتناب کریں، اور اس کے روزے رکھنے میں ہمارے اعضاء کو نافرمانیوں سے روکنے اور ان کاموں میں مصروف رکھنے سے جو تیری خوشنودی کا باعث ہوں ہماری اعانت فرما، تاکہ ہم نہ بیہودہ باتوں کی طرف کان لگائیں، نہ فضول چیزوں کی طرف بے محابا نگاہیں اٹھائیں، نہ حرام کی طرف ہاتھ بڑھائیں نہ امر ممنوع کی طرف پیش قدمی کریں، نہ تیری حلال کی ہوئی چیزوں کے علاوہ کسی چیز کو ہمارے شکم قبول کریں، اور نہ تیری بیان کی ہوئی باتوں کے سوا ہماری زبانیں گویا ہوں، صرف ان چیزوں کے بجا لانے کا بار اٹھائیں جو تیرے ثواب سے قریب کریں، اور صرف ان کاموں کو انجام دیں جو تیرے عذاب سے بچا لے جائیں، پھر ان تمام اعمال کو ریاکاروں کی ریاکاری اور شہرت پسندوں کی شہرت پسندی سے پاک کر دے، اس طرح کہ تیرے علاوہ کسی کو ان میں شریک نہ کریں، اور تیرے سوا کسی سے کوئی مطلب نہ رکھیں۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور ہمیں اس میں نماز ہائے پنچگانہ کے اوقات سے ان حدود کے ساتھ جو تو نے معین کئے ہیں، اور ان واجبات کے ساتھ جو تو نے عائد کئے ہیں، اور ان آداب کے ساتھ جو تو نے قرار دئیے ہیں، اور ان لمحات کے ساتھ جو تو نے مقرر کئے ہیں آگاہ فرما، اور ہمیں ان نمازوں میں ان لوگوں کے مرتبہ پر فائز کر جو ان نمازوں کے درجات عالیہ حاصل کرنے والے، ان کے واجبات کی نگہداشت کرنے والے، اور انہیں ان کے اوقات میں اسی طریقہ پر جو تیرے عبد خاص اور رسولؐ نے رکوع و سجود اور ان کے تمام فضیلت و برتری کے پہلوؤں میں جاری کیا تھا، کامل اور پوری پاکیزگی اور نمایاں و مکمل خشوع و فروتنی کے ساتھ ادا کرنے والے ہیں۔ اور ہمیں اس مہینہ میں توفیق دے کہ نیکی و احسان کے ذریعہ عزیزوں کے ساتھ صلہ رحمی، اور انعام و بخشش سے ہمسایوں کی خبر گیری کریں، اور اپنے اموال کو مظلوموں سے پاک و صاف کریں، اور زکوٰۃ دے کر انہیں پاکیزہ و طیب بنا لیں، اور یہ کہ جو ہم سے علیحدگی اختیار کرے اس کی طرف دستِ مصالحت بڑھائیں، جو ہم پر ظلم کرے اس سے انصاف برتیں، جو ہم سے دشمنی کرے اس سے صلح و صفائی کریں، سوائے اس کے جس سے تیرے لئے اور تیری خاطر دشمنی کی گئی ہو، کیونکہ وہ ایسا دشمن ہے جسے ہم دوست نہیں رکھ سکتے، اور ایسے گروہ کا (فرد) ہے جس سے ہم صاف نہیں ہو سکتے۔ اور ہمیں اس مہینہ میں ایسے پاک و پاکیزہ اعمال کے وسیلہ سے تقرب حاصل کرنے کی توفیق دے جن کے ذریعہ تو ہمیں گناہوں سے پاک کر دے، اور از سر نو برائیوں کے ارتکاب سے بچالے جائے، یہاں تک کہ فرشتے تیری بارگاہ میں جو اعمال نامے پیش کریں وہ ہماری ہر قسم کی اطاعتوں اور ہر نوع کی عبادت کے مقابلہ میں سبک ہوں۔ اے اللہ! میں تجھ سے اس مہینہ کے حق و حرمت اور نیز ان لوگوں کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں جنہوں نے اس مہینہ میں شروع سے لے کر اس کے ختم ہونے تک تیری عبادت کی ہو، وہ مقرب بارگاہ فرشتہ ہو یا بنی مرسل یا کوئی مرد صالح و برگزیدہ، کہ تو محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرمائے اور جس عزت و کرامت کا تو نے اپنے دوستوں سے وعدہ کیا ہے اس کا ہمیں اہل بنا، اور جو انتہائی اطاعت کرنے والوں کیلئے تو نے اجر مقرر کیا ہے وہ ہمارے لئے بھی مقرر فرما، اور ہمیں اپنی رحمت سے ان لوگوں میں شامل کر جنہوں نے بلند ترین مرتبہ کا استحقاق پیدا کیا۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور ہمیں اس چیز سے بچائے رکھ کہ ہم توحید میں کج اندیشی، تیری تمجید و بزرگی میں کوتاہی، تیرے دین میں شک تیرے راستے سے بے راہ روی اور تیری حرمت سے لاپرواہی کریں، اور تیرے دشمن شیطان مردود سے فریب خوردگی کا شکار ہوں۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور جبکہ اس مہینے کی راتوں میں ہر رات میں تیرے کچھ ایسے بندے ہوتے ہیں جنہیں تیرا عفو و کرم آزاد کرتا ہے، یا تیری بخشش و درگزر انہیں بخش دیتی ہے، تو ہمیں بھی انہی بندوں میں داخل کر، اور اس مہینہ کے بہترین اہل و اصحاب میں قرار دے۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور اس چاند کے گھنٹے کے ساتھ ہمارے گناہوں کو بھی محو کر دے، اور جب اس کے دن ختم ہونے پر آئیں تو ہمارے گناہوں کا وبال ہم سے دور کر دے، تاکہ یہ مہینہ اس طرح تمام ہو کہ تو ہمیں خطاؤں سے پاک اور گناہوں سے بری کر چکا ہو۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور اس مہینہ میں اگر ہم حق سے منہ موڑیں تو ہمیں سیدھے راستہ پر لگا دے، اور کجروی اختیار کریں تو ہماری اصلاح و درستگی فرما، اور اگر تیرا دشمن شیطان ہمارے گرد احاطہ کرے تو اس کے پنجے سے چھڑا لے۔ بار الٰہا! اس مہینہ کا دامن ہماری عبادتوں سے جو تیرے لئے بجا لائی گئی ہوں بھر دے، اور اس کے لمحات کو ہماری اطاعتوں سے سجا دے، اور اس کے دنوں میں روزے رکھنے اور اس کی راتوں میں نمازیں پڑھنے، تیرے حضور گڑگڑانے، تیرے سامنے عجز و الحاح کرنے اور تیرے روبرو ذلت و خواری کا مظاہرہ کرنے، ان سب میں ہماری مدد فرما تاکہ اس کے دن ہمارے خلاف غفلت کی اور اس کی راتیں کوتاہی و تقصیر کی گواہی نہ دیں۔ اے اللہ! تمام مہینوں اور دنوں میں جب تک تو ہمیں زندہ رکھے ایسا ہی قرار دے، اور ہمیں ان بندوں میں شامل فرما جو فردوس بریں کی زندگی کے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے وارث ہوں گے، اور وہ کہ جو کچھ وہ خدا کی راہ میں دے سکتے ہیں دیتے ہیں پھر بھی ان کے دلوں کو یہ کھٹکا لگا رہتا ہے کہ انہیں اپنے پروردگار کی طرف پلٹ کر جانا ہے، اور ان لوگوں میں سے جو نیکیوں میں جلدی کرتے ہیں، اور وہی تو وہ لوگ ہیں جو بھلائیوں میں آگے نکل جانے والے ہیں۔ اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر ہر وقت اور ہر گھڑی اور ہر حال میں اس قدر رحمت نازل فرما جتنی تو نے کسی پر نازل کی ہو، اور ان سب رحمتوں سے دوگنی چوگنی کہ جسے تیرے علاوہ کوئی شمار نہ کر سکے، بیشک تو جو چاہتا ہے وہی کرنے والا ہے۔

لنک کاپی ہو گیا

← لائبریری پر واپس